33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsآسان قرآن

Ayahs 33:40–48

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 33:40 in the Quran reader

(مسلمانو !) محمد ﷺ تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں، اور تمام نبیوں میں سب سے آخری نبی ہیں، (35) اور اللہ ہر بات کو خوب جاننے والا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِیْرًاۙ Open ayah 33:41 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ کو خوب کثرت سے یاد کیا کرو۔

وَّ سَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 33:42 in the Quran reader

اور صبح و شام اس کی تسبیح کرو۔

هُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ وَ مَلٰٓئِكَتُهٗ لِیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا Open ayah 33:43 in the Quran reader

وہی ہے جو خود بھی تم پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی، تاکہ وہ تمہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لے آئے، اور وہ مومنوں پر بہت مہربان ہے۔

تَحِیَّتُهُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ١ۚۖ وَ اَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِیْمًا Open ayah 33:44 in the Quran reader

جس دن مومن لوگ اللہ سے ملیں گے اس دن ان کا استقبال سلام سے ہوگا، اور اللہ نے ان کے لیے باعزت انعام تیار کر رکھا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 33:45 in the Quran reader

اے نبی ! بیشک ہم نے تمہیں ایسا بنا کر بھیجا ہے کہ تم گواہی دینے والے، خوشخبری سنانے والے اور خبردار کرنے والے ہو۔

وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا Open ayah 33:46 in the Quran reader

اور اللہ کے حکم سے لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے والے، اور روشنی پھیلانے والے چراغ ہو۔

وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَضْلًا كَبِیْرًا Open ayah 33:47 in the Quran reader

تم مومنوں کو خوشخبری سنا دو کہ ان پر اللہ کی طرف سے بڑا فضل ہونے والا ہے۔

وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ دَعْ اَذٰىهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:48 in the Quran reader

اور کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانو اور ان کی طرف سے جو تکلیف پہنچے اس کی پرواہ نہ کرو، اور اللہ پر بھروسہ رکھو اور اللہ رکھوالا بننے کے لیے کافی ہے۔

35: چونکہ حضرت زید بن حارثہ کو آنحضرت ﷺ نے اپنا بیٹا قرار دیا تھا، اس لئے لوگ ان کو زید بن محمد ﷺ کہہ کر پکارتے تھے، پچھلی آیتوں میں جب یہ حکم جاری ہوا کہ منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹا قرار نہیں دیا جاسکتا، تو حضرت زید کو زید بن محمد ﷺ کہنے کی بھی ممانعت ہوگئی، چنانچہ اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ آپ کسی مرد کے نسبی باپ نہیں ہیں (کیونکہ آپ کی زندہ رہنے والی اولاد میں صرف بیٹیاں تھیں) لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہونے کی وجہ سے پوری امت کے روحانی باپ ہیں، اور چونکہ آخری نبی ہیں اور قیامت تک کوئی دوسرا نبی آنے والا نہیں، اس جاہلیت کی رسموں کو اپنے عمل سے ختم کرنے کی ذمہ داری آپ ہی پر عائد ہوتی ہے۔
Ayah 33:49

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَیْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا١ۚ فَمَتِّعُوْهُنَّ وَ سَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:49 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تم نے مومن عورتوں سے نکاح کیا ہو، پھر تم نے انہیں چھونے سے پہلے ہی طلاق دے دی ہو، تو ان کے ذمہ تمہاری کوئی عدت واجب نہیں ہے جس کی گنتی تمہیں شمار کرنی ہو۔ (36) لہذا انہیں کچھ تحفہ دے دو ، (37) اور انہیں خوبصورتی سے رخصت کردو۔

36: اگر رخصتی کے بعد طلاق ہو تو عورت کو عدت گزارنے کا حکم ہے جو سورة بقرۃ (2: 228) میں گزرا ہے کہ ایسی عورت تین مرتبہ ایام ماہواری گزرنے تک عدت میں بیٹھے گی، اور اس کے بعد نکاح کرسکے گی، لیکن اگر رخصتی نہ ہوئی ہو تو اس کا حکم اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے کہ ایسی صورت میں عورت پر عدت گزارنا واجب نہیں ہے، بلکہ وہ طلاق کے فوراً بعد بھی نکاح کرسکتی ہے، آیت میں چھونے کا جو لفظ استعمال ہوا ہے اس سے مراد رخصتی ہے یعنی میاں بیوی کو ایسی تنہائی میسر آجائے کہ اگر وہ ہم بستری کرنا چاہیں تو کوئی رکاوٹ نہ ہو، اگر ایسی تنہائی میسر آجائے تو عدت واجب ہوجاتی ہے، چاہے ہم بستری ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔ 37: متاع (تحفے) سے مراد یہ ہے کہ بیوی کو طلاق کے ذریعے رخصت کرتے وقت ایک جوڑا دیا جائے جسے اصطلاح میں متعہ کہا جاتا ہے، اور یہ جوڑا مہر کے علاوہ ہے، اور ہر صورت میں مرد کو دینا چاہیے، چاہے رخصتی سے پہلے طلاق ہو یا رخصتی کے بعد، آیت کا منشاء یہ ہے کہ اگر کسی وجہ سے آپس میں نبھاؤ ممکن نہ رہا ہو اور طلاق دینی ہی ہو تو دونوں کے درمیان جدائی بھی لڑائی اور دشمنی کی فضا کے بجائے خوش اسلوبی کے ساتھ ہونی چاہیے۔
Ayah 33:50

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِیْۤ اٰتَیْتَ اُجُوْرَهُنَّ وَ مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَیْكَ وَ بَنٰتِ عَمِّكَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِكَ وَ بَنٰتِ خَالِكَ وَ بَنٰتِ خٰلٰتِكَ الّٰتِیْ هَاجَرْنَ مَعَكَ١٘ وَ امْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْكِحَهَا١ۗ خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْهِمْ فِیْۤ اَزْوَاجِهِمْ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ لِكَیْلَا یَكُوْنَ عَلَیْكَ حَرَجٌ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:50 in the Quran reader

اے نبی ! ہم نے تمہارے لیے وہ بیویاں حلال کردی ہیں جن کو تم نے ان کا مہرا دا کردیا ہے۔ (38) نیز اللہ نے غنیمت کا جو مال تمہیں عطا کیا ہے اس میں سے جو کنیزیں تمہاری ملکیت میں آچکی ہیں وہ بھی (تمہارے لیے حلال ہیں) اور تمہاری وہ چچا کی بیٹیاں اور پھوپی کی بیٹیاں اور ماموں کی بیٹیاں اور خالاؤں کی بیٹیاں بھی جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی ہے۔ (39) نیز کوئی مسلمان عورت جس نے مہر کے بغیر نبی کو اپنے آپ (سے نکاح کرنے) کی پیش کش کی ہو، (40) بشرطیکہ نبی اس سے نکاح کرنا چاہے۔ یہ سارے احکام خاص تمہارے لیے ہیں، دوسرے مومنوں کے لیے نہیں۔ ہمیں وہ احکام خوب معلوم ہیں جو ہم نے ان کی بیویوں اور کنیزوں کے بارے میں ان پر عائد کیے ہیں۔ (اور تمہیں ان سے مستثنی کیا ہے) تاکہ تم پر کوئی تنگی نہ رہے اور اللہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔

38:ٓآیت نمبر 50 اور 51 میں اللہ تعالیٰ نے نکاح کے بارے میں وہ احکام بیان فرمائے ہیں جو صرف آنحضرت ﷺ کے ساتھ مخصوص ہیں۔ ان میں سے پہلا حکم یہ ہے کہ عام مسلمانوں کے لیے چار سے زیادہ نکاح کرنے کی اجازت نہیں ہے، لیکن آنحضرت ﷺ کو چار سے زیادہ نکاح کی اجازت ہے۔ اس اجازت میں بہت سی حکمتیں تھیں جن کی تفصیل دیکھنی ہو تو ”معارف القرآن“ میں ملاحظہ فرمائیں۔ 39: یہ دوسرا حکم ہے جو آنحضرت ﷺ کے ساتھ مخصوص ہے، عام مسلمان اس میں شریک نہیں ہیں۔ اور وہ یہ کہ عام مسلمانوں کے لیے جائز ہے کہ وہ کسی بھی مسلمان عورت سے یا اہل کتاب (یعنی عیسائیوں اور یہودیوں) میں سے کسی عورت سے بھی نکاح کرسکتے ہیں، لیکن حضور نبی کریم ﷺ کے لیے یہ جائز قرار نہیں دیا گیا کہ آپ کسی یہودی یا عیسائی عورت سے نکاح کریں، نیز مسلمان عورتوں میں سے بھی جنہوں نے مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت نہ کی ہو، ان سے بھی آپ کے لیے نکاح جائز نہیں کیا گیا۔ 40: یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تیسرا خصوصی حکم ہے۔ یعنی عام مسلمانوں کے لیے کسی عورت سے مہر کے بغیر نکاح کرنا جائز نہیں ہے، لیکن آنحضرت ﷺ کے لیے جائز قرار دیا گیا ہے کہ اگر کوئی عورت خود سے یہ پیشکش کرے کہ وہ آپ سے مہر کے بغیر نکاح کرنا چاہتی ہے، اور آپ بھی اس سے نکاح کرنا چاہیں تو ایسا کرسکتے ہیں۔ اگرچہ قرآن کریم کی اس آیت نے آپ کے لیے یہ خصوصی اجازت دے دی تھی لیکن حضور نبی کریم ﷺ نے عملی طور پر اس اجازت سے کبھی فائدہ نہیں اٹھایا۔
Ayah 33:51

تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَ تُئْوِیْۤ اِلَیْكَ مَنْ تَشَآءُ١ؕ وَ مَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكَ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُهُنَّ وَ لَا یَحْزَنَّ وَ یَرْضَیْنَ بِمَاۤ اٰتَیْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا Open ayah 33:51 in the Quran reader

ان بیویوں میں سے تم جس کی باری چاہو ملتوی کردو، اور جس کو چاہو، اپنے پاس رکھو، اور جن کو تم نے الگ کردیا ہو ان میں سے اگر کسی کو واپس بلانا چاہو تو اس میں بھی تمہارے لیے کوئی گناہ نہیں ہے۔ (41) اس طریقے میں اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ ان سب کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی، اور انہیں رنج نہیں ہوگا اور تم انہیں جو کچھ دے دو گے اس پر وہ سب کی سب راضی رہیں گی۔ (42) اور اللہ ان سب باتوں کو جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہیں اور اللہ علم اور حلم کا مالک ہے۔

41: عام مسلمانوں پر یہ بات فرض ہے کہ اگر ان کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوں تو وہ ہر معاملے میں ان کے ساتھ برابری کا سلوک کریں، چنانچہ جتنی راتیں ایک بیوی کے ساتھ گزاریں اتنی ہی راتیں دوسری بیوی کے ساتھ گزارنا فرض ہے، لیکن اس آیت میں آنحضرت ﷺ کے لئے باریاں مقرر کرنے کی یہ پابندی اٹھالی گئی ہے، چنانچہ آپ کو یہ اجازت دی گئی ہے کہ آپ اپنی ازواج مطہرات میں سے کسی کی باری ملتوی فرماسکتے ہیں، لیکن یہ بھی وہ سہولت ہے جس سے آنحضرت ﷺ نے زندگی بھر فائدہ نہیں اٹھایا اور ہمیشہ تمام ازواج مطہرات سے مکمل برابری کا معاملہ فرمایا۔ 42: مطلب یہ ہے کہ جب ازواج مطہرات پر یہ بات واضح ہوجائے گی کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ پر برابری کا معاملہ کرنے کی ذمہ داری عائد نہیں فرمائی، تو آپ کی طرف سے ان کے ساتھ جتنا بھی حسن سلوک ہوگا، وہ اسے اپنے استحقاق سے زیادہ سمجھ کر خوش ہوں گی۔
Ayah 33:52

لَا یَحِلُّ لَكَ النِّسَآءُ مِنْۢ بَعْدُ وَ لَاۤ اَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ اِلَّا مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ رَّقِیْبًا۠ Open ayah 33:52 in the Quran reader

اس کے بعد دوسری عورتیں تمہارے لیے حلال نہیں ہیں، اور نہ یہ جائز ہے کہ تم ان کے بدلے کوئی دوسری بیویاں لے آؤ، چاہے ان کی خوبی تمہیں پسند آئی ہو۔ (43) البتہ جو کنیزیں تمہاری ملکیت میں ہوں (وہ تمہارے لیے حلال ہیں) اور اللہ ہر چیز کی پوری نگرانی کرنے والا ہے۔

43: یہ آیت پچھلی دو آیتوں کے کچھ عرصے کے بعد نازل ہوئی ہے، پیچھے آیات نمبر 28، 29 میں ازواج مطہرات کو جو اختیار دیا گیا تھا، اس کے جواب میں تمام ازواج مطہرات نے دنیا کی زیب وزینت کے بجائے آخرت کو اور آنحضرت ﷺ کی رفاقت کو ترجیح دی تھی، اس کے انعام کے طور پر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں آنحضرت ﷺ کو کسی عورت سے نکاح کرنے سے منع فرمادیا، اور موجودہ ازواج مطہرات میں سے کسی کو طلاق دے کر ان کی جگہ کسی اور سے نکاح کرنا بھی ممنوع قراردے دیا (بعض مفسرین نے اس آیت کی کسی اور طرح بھی تفسیر کی ہے، لیکن جو تفسیر اوپر ذکر کی گئی، وہ حضرت انس اور حضرت ابن عباس وغیرہ سے منقول ہے (روح المعانی بحوالہ ٔ بیہقی وغیرہ) اور زیادہ واضح معلوم ہوتی ہے، واللہ سبحانہ اعلم۔
Ayahs 33:53–54

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُ١ۙ وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ١٘ وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ١ؕ وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ١ؕ ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَ قُلُوْبِهِنَّ١ؕ وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا Open ayah 33:53 in the Quran reader

اے ایمان والو ! نبی کے گھروں میں (بلا اجازت) داخل نہ ہو، الا یہ کہ تمہیں کھانے پر آنے کی اجازت دے دی جائے، وہ بھی اس طرح کہ تم اس کھانے کی تیاری کے انتظار میں نہ بیٹھے رہو، لیکن جب تمہیں دعوت دی جائے تو جاؤ، پھر جب کھانا کھا چکو تو اپنی اپنی راہ لو، اور باتوں میں جی لگا کر نہ بیٹھو۔ (44) حقیقت یہ ہے کہ اس بات سے نبی کو تکلیف پہنچتی ہے اور وہ تم سے (کہتے ہوئے) شرماتے ہیں، اور اللہ حق بات میں کسی سے نہیں شرماتا اور جب تمہیں نبی کی بیویوں سے کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگو۔ (45) یہ طریقہ تمہارے دلوں کو بھی اور ان کے دلوں کو بھی زیادہ پاکیزہ رکھنے کا ذریعہ ہوگا۔ اور تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ تم اللہ کے رسول کو تکلیف پہنچاؤ، اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد ان کی بیویوں سے کبھی بھی نکاح کرو۔ یہ اللہ کے نزدیک بڑی سنگین بات ہے۔

اِنْ تُبْدُوْا شَیْئًا اَوْ تُخْفُوْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 33:54 in the Quran reader

چاہے تم کوئی بات ظاہر کرو، یا اسے چھپاؤ، اللہ ہر چیز کا پورا پورا علم رکھنے والا ہے۔

44: ان آیات میں معاشرت کے کچھ آداب بتائے گئے ہیں اور یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں جب حضور اقدس ﷺ نے حضرت زینب ؓ کے ساتھ نکاح کے موقع پر ولیمے کا اہتمام فرمایا، اس وقت کچھ حضرات کھانے کے وقت سے کافی پہلے آبیٹھے جبکہ ابھی کھانا تیار نہیں ہوا تھا، اور کچھ حضرات کھانے کے بعد دیر تک آپ کے مکان مبارک میں بیٹھے باتیں کرتے رہے، آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ کا ایک ایک لمحہ قیمتی تھا، اور ان حضرات کے دیر تک بیٹھے رہنے کی وجہ سے آپ کو ان کے ساتھ مشغول رہنا پڑا، جس سے آپ کو تکلیف ہوئی، یہ واقعہ تو چونکہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ پیش آیا تھا، اس لئے اس آیت میں آپ کے گھروں کا خاص طور پر ذکر فرمایا گیا ہے، لیکن ان آیتوں کے احکام عام ہیں، ادب یہ سکھایا گیا ہے کہ اول تو کسی کے گھر میں بلا اجازت جانا منع ہے، دوسرے اگر کسی نے کھانے کی دعوت کی ہے تو کوئی ایسا طریقہ اختیار کرنا جائز نہیں ہے جس سے میزبان کو تکلیف ہو، چنانچہ کھانے کے وقت سے بہت پہلے جا بیٹھنا یا کھانے کے بعد دیر تک بیٹھے رہنا، جس سے میز بان کی آزادی میں خلل آئے، اسلامی تہذیب کے خلاف ہے۔ 45: اسلامی معاشرت کا یہ دوسرا حکم ہے اور اس کے ذریعے خواتین کے لئے پردہ واجب کیا گیا ہے، یہاں اگرچہ براہ راست خطاب ازواج مطہرات کو ہے لیکن حکم عام ہے جیسا کے آگے آیت نمبر 59 میں اس کی صراحت آرہی ہے۔
Ayahs 33:55–58

لَا جُنَاحَ عَلَیْهِنَّ فِیْۤ اٰبَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَ لَا نِسَآئِهِنَّ وَ لَا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ١ۚ وَ اتَّقِیْنَ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا Open ayah 33:55 in the Quran reader

نبی کی بیویوں کے لیے اپنے اپنے باپ (کے سامنے بےپردہ آنے) میں کوئی گناہ نہیں ہے، نہ اپنے بیٹوں کو، نہ اپنے بھائیوں کے، نہ اپنے بھتیجوں کے، نہ اپنے بھانجوں کے، اور نہ اپنی عورتوں کے۔ (46) اور نہ اپنی کنیزوں کے (سامنے آنے میں کوئی گناہ ہے) اور (اے خواتین !) تم اللہ سے ڈرتی رہو۔ یقین جانو کہ اللہ ہر بات کا مشاہدہ کرنے والا ہے۔

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓئِكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 33:56 in the Quran reader

بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود بھیجو، اور خوب سلام بھیجا کرو۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 33:57 in the Quran reader

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچاتے ہیں اللہ نے دنیا اور آخرت میں ان پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے ایسا عذاب تیار کر رکھا ہے جو ذلیل کر کے رکھ دے گا۔

وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 33:58 in the Quran reader

اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ان کے کسی جرم کے بغیر تکلیف پہنچاتے ہیں، انہوں نے بہتان طرازی اور کھلے گناہ کا بوجھ اپنے اوپر لاد لیا ہے۔

46: جیسا کہ سورة نور : 31 میں گذر چکا ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے مراد مسلمان عورتیں ہیں، لہذا غیر مسلم عورتوں سے بھی پردہ ضروری ہے، لیکن چونکہ متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ غیر مسلم عورتیں ازواج مطہرات کے پاس جایا کرتی تھیں، اس لئے امام رازی اور علامہ آلوسی نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ اپنی عورتوں سے مراد اپنے میل جول کی عورتیں ہیں چاہے مسلمان ہوں یا کافر، ان سے پردہ واجب نہیں ہے۔ ان کی تفصیل سورة نور کی مذکورہ آیت میں گذر چکی ہے۔
Ayahs 33:59–60

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:59 in the Quran reader

اے نبی ! تم اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی چادریں اپنے (منہ کے) اوپر جھکا لیا کریں۔ (47) اس طریقے میں اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ وہ پہچان لی جائیں گی، تو ان کو ستایا نہیں جائے گا۔ (48) اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَةِ لَنُغْرِیَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَكَ فِیْهَاۤ اِلَّا قَلِیْلًا٤ۖۛۚ Open ayah 33:60 in the Quran reader

اگر وہ لوگ باز نہ آئے جو منافق ہیں جن کے دلوں میں روگ ہے اور جو شہر میں شرانگیز افواہیں پھیلاتے ہیں تو ہم ضرور ایسا کریں گے کہ تم ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوگے، پھر وہ اس شہر میں تمہارے ساتھ نہیں رہ سکیں گے، البتہ تھوڑے دن۔

47: اس آیت نے واضح فرما دیا ہے کہ پردے کا حکم صرف ازواج مطہرات کے ساتھ مخصوص نہیں ہے، بلکہ تمام مسلمان عورتوں کے لیے ہے۔ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ جب وہ کسی ضرورت کے لیے گھر سے باہر نکلیں تو اپنی چادروں کو اپنے چہروں پر جھکا کر انہیں چھپالیا کریں۔ مقصد یہ ہے کہ راستہ دیکھنے کے لیے آنکھوں کو چھوڑ کر چہرے کا باقی حصہ چھپالیا جائے۔ اس کی صورت یہ بھی ممکن ہے کہ جس چادر سے پورا جسم ڈھکا ہوا ہے، اس کو چہرے پر اس طرح لپیٹ لیا جائے کہ آنکھوں کے سوا باقی چہرہ نظر نہ آئے، اور یہ صورت بھی ممکن ہے کہ چہرے پر الگ سے نقاب ڈال لیا جائے۔ 48: بعض منافقین عورتوں کو راستے میں چھیڑا کرتے تھے، اس آیت میں پردے کے ساتھ نکلنے کی یہ حکمت بیان فرمائی گئی ہے کہ جب عورتیں پردے کے ساتھ باہر نکلیں گی تو ہر دیکھنے والا یہ سمجھ جائے گا کہ یہ شریف اور پاک دامن عورتیں ہیں، اس لئے منافقین کو انہیں چھیڑنے اور ستانے کی جرأت نہیں ہوگی، اس کے برخلاف بےپردہ بن ٹھن کر باہر نکلنے والی خواتین ان کی چھیڑ چھاڑ کا زیادہ نشانہ بن سکتی ہیں، علامہ ابوحیان نے اس آیت کی یہی تفسیر کی ہے۔ (البحر المحیط)۔
Ayah 33:61

مَّلْعُوْنِیْنَ١ۛۚ اَیْنَمَا ثُقِفُوْۤا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا Open ayah 33:61 in the Quran reader

جن میں وہ پھٹکارے ہوئے ہوں گے۔ (پھر) جہاں کہیں ملیں گے، پکڑ لیے جائیں گے، اور انہیں ایک ایک کر کے قتل کردیا جائے گا۔ (49)

49: یہاں منافقین کو خبر دار کیا گیا ہے کہ اس وقت ان کی منافقت چھپی ہوئی ہے، لیکن اگر انہوں نے اپنی نازیبا حرکتیں نہ چھوڑیں جن میں عورتوں کو چھیڑنے اور بےبنیاد افواہیں پھیلانے کا خاص طور پر حوالہ دیا گیا ہے تو ان کی منافقت صاف واضح ہوجائے گی، اور اس صورت میں ان کے ساتھ غیر مسلم دشمنوں جیسا سلوک کیا جائے گا۔
Ayahs 33:62–68

سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 33:62 in the Quran reader

یہ اللہ کا وہ معمول ہے جس پر ان لوگوں کے معاملے میں بھی عمل ہوتا رہا ہے جو پہلے گزر چکے ہیں۔ اور تم اللہ کے معمول میں کوئی تبدیلی ہرگز نہیں پاؤ گے۔ (50)

یَسْئَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا Open ayah 33:63 in the Quran reader

لوگ تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے۔ اور تمہیں کیا پتہ شاید قیامت قریب ہی آگئی ہو۔

اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الْكٰفِرِیْنَ وَ اَعَدَّ لَهُمْ سَعِیْرًاۙ Open ayah 33:64 in the Quran reader

اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ نے کافروں کو رحمت سے دور کردیا ہے اور ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کی ہے۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ۚ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۚ Open ayah 33:65 in the Quran reader

جس میں وہ ہمیشہ اس طرح رہیں گے کہ انہیں نہ کوئی حمایتی مل سکے گا، اور نہ کوئی مددگار۔

یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوْلَا Open ayah 33:66 in the Quran reader

جس دن ان کے چہروں کو آگ میں الٹا پلٹا جائے گا، وہ کہیں گے کہ : اے کاش ! ہم نے اللہ کی اطاعت کرلی ہوتی اور رسول کا کہنا مان لیا ہوتا۔

وَ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا Open ayah 33:67 in the Quran reader

اور کہیں گے کہ : اے ہمارے پروردگار ! حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کا کہنا مانا، اور انہوں نے ہمیں راستے سے بھٹکا دیا۔

رَبَّنَاۤ اٰتِهِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَ الْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 33:68 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ! ان کو دوگنا عذاب دے، اور ان پر ایسی لعنت کر جو بڑی بھاری لعنت ہو۔

50: جو لوگ زمین میں فساد مچاتے ہیں ان کو پہلے خبردار کیا جاتا ہے پھر بھی اگر وہ باز نہیں آتے تو انہیں سزا دی جاتی ہے۔
Ayahs 33:69–71

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا١ؕ وَ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِیْهًاؕ Open ayah 33:69 in the Quran reader

اے ایمان والو ! ان لوگوں کی طرح نہ بن جانا جنہوں نے موسیٰ کو ستایا تھا، پھر اللہ نے ان کو ان باتوں سے بری کردیا جو ان لوگوں نے بنائی تھیں (51) اور وہ اللہ کے نزدیک بڑے رتبے والے تھے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ Open ayah 33:70 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو، اور سیدھی سچی بات کہا کرو۔

یُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 33:71 in the Quran reader

اللہ تمہارے فائدے کے لیے تمہارے کام سنوار دے گا، اور تمہارے گناہوں کی مغفرت کردے گا۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے، اس نے وہ کامیابی حاصل کرلی جو زبردست کامیابی ہے۔

51: بنو اسرائیل نے حضرت موسیٰ ؑ پر طرح طرح کے الزامات لگا کر انہیں بہت ستایا تھا۔ حضور سرور عالم ﷺ کی امت سے فرمایا جا رہا ہے کہ وہ ایسی حرکت نہ کریں۔
Ayahs 33:72–73

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًاۙ Open ayah 33:72 in the Quran reader

ہم نے یہ امانت آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش کی، تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا، اور اس سے ڈر گئے، اور انسان نے اس کا بوجھ اٹھا لیا۔ (52) حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ظالم، بڑا نادان ہے۔ (53)

لِّیُعَذِّبَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ وَ یَتُوْبَ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 33:73 in the Quran reader

نتیجہ یہ ہے کہ اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں کو، نیز مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے گا، اور مومن مردوں اور مومن عورتوں پر رحمت کے ساتھ توجہ فرمائے گا۔ اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

52: یہاں ”امانت“ کا مطلب ہے : ”اپنی آزاد مرضی سے اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کی ذمہ داری لینا“۔ اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کے بہت سے تکوینی احکام تو وہ ہیں جنہیں ماننے پر تمام مخلوقات مجبور ہیں، اور وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف کر ہی نہیں سکتیں، مثلاً موت اور زندگی کا فیصلہ وغیرہ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی مختلف مخلوقات کو یہ پیشکش فرمائی کہ بعض احکام کے معاملے میں انہیں یہ اختیار دیا جائے گا کہ اگر وہ چاہیں تو اللہ تعالیٰ کا حکم مان کر اس پر عمل کریں، اور اگر چاہیں تو حکم پر عمل نہ کریں۔ پہلی صورت میں ان کو جنت کی ابدی نعمتیں حاصل ہوں گی، اور دوسری صورت میں انہیں دوزخ کا عذاب دیا جائے گا۔ جب یہ پیشکش آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کو کی گئی تو وہ یہ ذمہ داری اٹھانے سے ڈر گئے، اور انہوں نے ایسی ذمہ داری لینے سے انکار کردیا جس کے نتیجے میں انہیں دوزخ کے عذاب کا خطرہ ہو۔ لیکن جب انسان کو یہ پیشکش کی گئی تو اس نے یہ ذمہ داری اٹھالی۔ آسمان، زمین اور پہاڑ اگرچہ دیکھنے میں ایسے نظر آتے ہیں جیسے ان میں شعور نہیں ہے، لیکن قرآن کریم کی کئی آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں کسی نہ کسی درجے میں شعور موجود ہے، جیسا کہ سورة بنی اسرائیل آیت 44 میں گذرا ہے اس لیے ان مخلوقات کو یہ پیشکش حقیقی معنی میں ہوئی ہو، اور انہوں نے انکار کیا ہو تو اس میں کوئی اشکال کی بات نہیں ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ امانت کی پیشکش اور اس سے انکار مجازی معنی میں ہو، یعنی اس امانت کے اٹھانے کی صلاحیت نہ ہونے کو انکار سے تعبیر فرمایا گیا ہو، اس موقع پر سورة اعراف کی آیت : 172 اور اس پر ہمارا تشریحی حاشیہ بھی ملاحظہ فرما لیا جائے۔ 53: یہ جملہ ان لوگوں کے لیے فرمایا گیا ہے جنہوں نے امانت کا یہ بوجھ اٹھانے کے بعد اس کا حق ادا نہیں کیا، اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہ کی، یعنی کافر اور منافق لوگ۔ چنانچہ اگلی آیت میں انہی کا انجام بیان ہوا ہے۔