Ayah 34:1سورة سَبـَا 1
حمد کا لفظ عربی زبان میں تعریف اور شکر دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے اور یہاں دونوں معنی مراد ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ ساری کائنات اور اس کی ہر چیز کا مالک ہے تو لامحالہ اس کائنات میں جمال و کمال اور حکمت وقدرت اور صناعی و کاری گری کی جو شان بھی نظر آتی ہے اس کی تعریف کا مستحق وہی ہے۔ اور اس کائنات میں رہنے والا جس چیز سے بھی کوئی فائدہ یا لطف و لذت حاصل کر رہا ہے اس پر خدا ہی کا شکر اسے ادا کرنا چاہئے۔ کوئی دوسرا جب ان اشیاء کی ملکیت میں شریک نہیں ہے تو اسے نہ حمد کا استحقاق پہنچتا ہے نہ شکر کا۔
سورة سَبـَا 2
یعنی اس طرح اس دنیا کی ساری نعمتیں اسی کی بخشش ہیں اسی طرح آخرت میں بھی جو کچھ کسی کو ملے گا اسی کے خزانوں سے اور اسی کی عطا سے ملے گا، اس لیے وہاں بھی وہی تعریف کا مستحق بھی ہے اور شکر کا مستحق بھی۔
سورة سَبـَا 3
یعنی جس کے سارے کام کمال درجہ حکمت و دانائی پر مبنی ہیں، جو کچھ کرتا ہے بالکل ٹھیک کرتا ہے۔ اور اسے اپنی ہر مخلوق کے متعلق پورا علم ہے کہ وہ کہاں ہے، کس حال میں ہے، کیا اس کی ضروریات ہیں، کیا کچھ اس کی مصلحت کے لیے مناسب ہے، کیا اس نے اب تک کیا ہے اور آگے کیا اس سے صادر ہونے والا ہے۔ وہ اپنی بنائی ہوئی دنیا سے بیخبر نہیں ہے بلکہ اسے ذرے ذرے کی حالت پوری طرح معلوم ہے۔
Ayah 34:2سورة سَبـَا 4
یعنی ایسا نہیں ہے کہ اس کی سلطنت میں اگر کوئی شخص یا گروہ اس کے خلاف بغاوت کرنے کے باوجود پکڑا نہیں جا رہا ہے تو اس کی وجہ یہ ہو کہ یہ دنیا اندھیر نگری اور اللہ تعالیٰ اس کا چوپٹ راجہ ہے، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ رحیم ہے اور درگزر سے کام لینا اس کی عادت ہے۔ عاصی اور خاطی کو قصور سرزد ہوتے ہی پکڑ لینا، اس کا رزق بند کردینا، اس کے جسم کو مفلوج کردینا اس کو آناً فاناً ہلاک کردینا، سب کچھ اس کے قبضے میں ہے، مگر وہ ایسا کرتا نہیں ہے۔ یہ اس کی شان رحیمی کا تقاضا ہے کہ قادر مطلق ہونے کے باوجود وہ نافرمان بندوں کو ڈھیل دیتا ہے، سنبھلنے کی مہلت عطا کرتا ہے، اور جب بھی وہ باز آجائیں، معاف کردیتا ہے۔
Ayahs 34:3–4سورة سَبـَا 5
یہ بات وہ طنز اور تمسخر کے طور پر چندرا چندرا کر کہتے تھے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ بہت دنوں سے یہ پیغمبر صاحب قیامت کے آنے کی خبر سنا رہے ہیں، مگر کچھ خبر نہیں کہ وہ آتے آتے کہاں رہ گئی۔ ہم نے اتنا کچھ انہیں جھٹلایا، اتنی گستاخیاں کیں، ان کا مذاق تک اڑایا، مگر وہ قیامت ہے کہ کسی طرح نہیں آ چکتی۔
سورة سَبـَا 6
پروردگار کی قسم کھاتے ہوئے اس کے لیے " عالم الغیب " کی صفت استعمال کرنے سے خود بخود اس امر کی طرف اشارہ ہوگیا کہ قیامت کا آنا تو یقینی ہے مگر اس کے آنے کا وقت خدائے عالم الغیب کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ یہی مضمون قرآن مجید میں مختلف مقامات پر مختلف طریقوں سے بیان ہوا ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، 187۔ طٰہٰ ، 15۔ لقمان 34۔ الاحزاب، 63۔ الملک، 25۔ 26۔ النازعات، 42 یا 44۔
سورة سَبـَا 7
یہ امکان آخرت کے دلائل میں سے ایک دلیل ہے۔ جیسا کہ آگے آیت نمبر 7 میں آ رہا ہے، منکرین آخرت جن وجوہ سے زندگی بعد موت کو بعید از عقل سمجھتے تھے ان میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ جب سارے انسان مر کر مٹی میں رل مل جائیں گے اور ان کا ذرہ ذرہ منتشر ہوجائے تو کس طرح یہ ممکن ہے کہ یہ بیشمار اجزا پھر سے اکٹھے ہوں اور ان کو جوڑ کر ہم دوبارہ اپنے انہی اجسام کے ساتھ پیدا کردیے جائیں۔ اس شبہ کو یہ کہہ کر رفع کیا گیا ہے کہ ہر ذرہ جو کہیں گیا ہے، خدا کے دفتر میں اس کا اندراج موجود ہے اور خدا کو معلوم ہے کہ کیا چیز کہاں گئی ہے۔ جب وہ دوبارہ پیدا کرنے کا ارادہ کرے گا تو اسے ایک ایک انسان کے اجزائے جسم کو سمیٹ لانے میں کوئی زحمت پیش نہ آئے گی۔
Ayah 34:5سورة سَبـَا 8
اوپر آخرت کے امکان کی دلیل تھی، اور یہ اس کے وجوب کی دلیل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایسا وقت ضرور آنا ہی چاہیے جب ظالموں کو ان کے ظلم کا اور صالحوں کو ان کی نیکی کا بدلہ دیا جائے۔ عقل یہ چاہتی ہے اور انصاف یہ تقاضا کرتا ہے کہ جو نیکی کرے اسے انعام ملے اور جو بدی کرے وہ سزا پائے۔ اب اگر تم دیکھتے ہو کہ دنیا کی موجودگی میں نہ ہر بد کو اس کی بدی کا اور نہ ہر نیک کو اس کی نیکی کا پورا بدلہ ملتا ہے، بلکہ بسا اوقات بدی اور نیکی کے الٹے نتائج بھی نکل آتے ہیں، تو تمہیں تسلیم کرنا چاہیے کہ عقل اور انصاف کا یہ لازمی تقاضا کسی وقت ضرور پورا ہونا چاہیے۔ قیامت اور آخرت اسی وقت کا نام ہے۔ اس کا آنا نہیں بلکہ نہ آنا عقل کے خلاف اور انصاف سے بعید ہے۔
اس سلسلہ میں ایک اور نکتہ بھی اوپر کی آیات سے واضح ہوتا ہے۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ ایمان اور عمل صالح کا نتیجہ مغفرت اور رزق کریم ہے۔ اور جو لوگ خدا کے دین کو نیچا دکھانے کے لیے معاندانہ جدوجہد کریں ان کے لیے بدترین قسم کا عذاب ہے۔ اس سے خود بخود یہ ظاہر ہوگیا کہ جو شخص سچے دل سے ایمان لائے گا اس کے عمل میں اگر کچھ خرابی بھی ہو تو وہ رزق کریم چاہے نہ پائے مگر مغفرت سے محروم نہ رہے گا اور جو شخص کافر تو ہو مگر دین حق کے مقابلے میں عناد و مخالفت کی روش بھی اختیار نہ کرے وہ عذاب سے تو نہ بچے گا مگر بد ترین عذاب اس کے لیے نہیں ہے۔
Ayahs 34:6–7سورة سَبـَا 9
یعنی یہ معاندین تمہارے پیش کردہ حق کو باطل ثابت کرنے کے لیے خواہ کتنا ہی زور لگائیں، ان کی یہ تدبیریں کامیاب نہیں ہو سکتیں، کیونکہ ان باتوں سے وہ جہلا ہی کو دھوکا دے سکتے ہیں۔ علم رکھنے والے لوگ ان کے فریب میں نہیں آتے۔
Ayah 34:8سورة سَبـَا 10
قریش کے سردار اس بات کو خوب جانتے تھے کہ محمد ﷺ کو جھوٹا تسلیم کرنا عوام الناس کے لیے سخت مشکل ہے، کیونکہ ساری قوم آپ کو صادق القول جانتی تھی اور کبھی ساری عمر کسی نے آپ کی زبان سے کوئی جھوٹی بات نہ سنی تھی۔ اس لیے وہ لوگوں کے سامنے اپنا الزام اس شکل میں پیش کرتے تھے کہ یہ شخص جب زندگی بعد موت جیسی انہونی بات زبان سے نکالتا ہے تو لامحالہ اس کا معاملہ دو حال سے خالی نہیں ہو سکتا۔ یا تو (معاذ اللہ) یہ شخص جان بوجھ کر ایک جھوٹی بات کہہ رہا ہے، یا پھر یہ مجنون ہے۔ لیکن یہ مجنون والی بات بھی اتنی ہی بےسرو پا تھی جتنی جھوٹ والی بات تھی۔ اس لیے کہ کوئی عقل کا اندھا ہی ایک کمال درجہ کے عاقل و فہیم آدمی کو مجنون مان سکتا تھا، ورنہ آنکھوں دیکھتے کوئی شخص جیتی مکھی کیسے نگل لیتا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بیہودہ بات کے جواب میں کسی استدلال کی ضرورت محسوس نہ فرمائی اور کلام صرف ان کے اس اچنبھے پر کیا جو موت کے امکان پر وہ ظاہر کرتے تھے۔
سورة سَبـَا 11
یہ ان کی بات کا پہلا جواب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نادانو، عقل تو تمہاری ماری گئی ہے کہ جو شخص حقیقت حال سے تمہیں آگاہ کر رہا ہے اس کی بات نہیں مانتے اور سرپٹ اس راستے پر چلے جا رہے ہو جو سیدھا جہنم کی طرف جاتا ہے، مگر تمہاری حماقت کی طغیانی کا یہ عالم ہے کہ الٹا اس شخص کو مجنون کہتے ہو جو تمہیں بچانے کی فکر کر رہا ہے۔
Ayah 34:9سورة سَبـَا 12
یہ ان کی بات کا دوسرا جواب ہے۔ اس جواب کو سمجھنے کے لیے یہ حقیقت نگاہ میں رہنی چاہیے کہ کفار قریش جن وجوہ سے زندگی بعد موت کا انکار کرتے تھے ان میں تین چیزیں سب سے زیادہ نمایاں تھیں۔ ایک یہ کہ وہ خدا کے محاسبے اور باز پرس کو نہیں ماننا چاہتے تھے کیونکہ اسے مان لینے کے بعد دنیا میں من مانی کرنے کی آزادی ان سے چھن جاتی تھی۔ دوسرے یہ کہ وہ قیامت کے وقوع اور نظام عالم کے درہم برہم ہوجانے اور پھر سے ایک نئی کائنات بننے کو ناقابل تصور سمجھتے تھے۔ تیسرے یہ کہ جن لوگوں کو مرے ہوئے سینکڑوں ہزاروں برس گزر چکے ہوں اور جن کی ہڈیاں تک ریزہ ریزہ ہو کر زمین، ہوا اور پانی میں پراگندہ ہوچکی ہوں ان کا دوبارہ جسم و جان کے ساتھ جی اٹھنا ان کے نزدیک بالکل بعید از امکان تھا۔ اوپر کا جواب ان تینوں پہلوؤں پر حاوی ہے، اور مزید براں اس میں ایک سخت تنبیہ بھی مضمر ہے۔ ان مختصر سے فقروں میں جو مضمون بیان کیا گیا ہے اس کی تفضیل یہ ہے۔
1۔ اس زمین و آسمان کو اگر کبھی تم نے آنکھیں کھول کر دیکھا ہوتا تو تمہیں نظر آتا کہ یہ کوئی کھلونا نہیں ہے، اور نہ یہ نظام اتفاقاً بن گیا ہے، اس کائنات کی ہر چیز اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ اسے ایک قادر مطلق نے کمال درجہ حکمت کے ساتھ بنایا ہے۔ ایسے ایک حکیمانہ نظام میں یہ تصور کرنا کہ یہاں کسی کو عقل وتمیز و اختیارات عطا کرنے کے بعد اسے غیر ذمہ دار اور غیر جواب دہ چھوڑا جاسکتا ہے، سراسر ایک لغو بات ہے۔
2۔ اس نظام کو جو شخص بھی دیدہ بینا کے ساتھ دیکھے گا اسے معلوم ہوجائے گا کہ قیامت کا آجانا کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔ زمین اور آسمان جن بندشوں پر قائم ہیں ان میں ایک ذرا سا الٹ پھیر بھی ہوجائے تو آناً فاناً قیامت برپا ہو سکتی ہے۔ اور یہی نظام اس بات پر بھی گواہ ہے کہ جس نے آج یہ دنیا بنا رکھی ہے وہ ایک دوسری دنیا پھر بنا سکتا ہے۔ اس کے لیے ایسا کرنا مشکل ہوتا تو یہی دنیا کیسے بن کھڑی ہوتی۔
3۔ تم نے آخر خالق ارض و سما کو کیا سمجھ رکھا ہے کہ مرے ہوئے انسانوں کو دوبارہ پیدا کیے جانے کو اسکی قدرت سے باہر خیال کر رہے ہو، جو لوگ مرتے ہیں ان کے جسم پارہ پارہ ہو کر خواہ کتنے ہی منتشر ہوجائیں، رہتے تو اسی زمین و آسمان کے حدود میں ہیں۔ اس سے کہیں باہر تو نہیں چلے جاتے۔ پھر جس خدا کے یہ زمین و آسمان ہیں اس کے لیے کیا مشکل ہے کہ مٹی اور پانی اور ہوا میں جو چیز جہاں بھی ہے اسے وہاں سے نکال لائے۔ تمہارے جسم میں اب جو کچھ موجود ہے وہ بھی اسی کا جمع کیا ہوا ہے اور اسی مٹی، ہوا اور پانی میں سے نکال لایا گیا ہے۔ ان اجزا کی فراہمی اگر آج ممکن ہے تو کل کیوں غیر ممکن ہوجائے گی۔ ان تینوں دلیلوں کے ساتھ اس کلام میں یہ تنبیہ بھی پوشیدہ ہے کہ تم ہر طرف سے خدا کی خدائی میں گھرے ہوئے ہو۔ جہاں بھی جاؤ گے یہی کائنات تم پر محیط ہوگی۔ خدا کے مقابلے میں کوئی جائے پناہ تم نہیں پاسکتے اور خدا کی قدرت کا حال یہ ہے کہ جب وہ چاہے تمہارے قدموں کے نیچے سے یا سر کے اوپر سے جو بلا چاہے تم پر نازل کرسکتا ہے۔ جس زمین کو آغوش مادر کی طرح تم اپنے لیے جائے سکون پاتے ہو اور اطمینان سے اس پر گھر بنائے بیٹھے ہو تمہیں کچھ پتہ نہیں کہ اس کی سطح کے نیچے کیا قوتیں کام کر رہی ہیں اور کب وہ کوئی زلزلے لا کر اسی زمین کو تمہارے لیے مرقد بنا دیتی ہیں۔ جس آسمان کے نیچے تم اس اطمینان کے ساتھ چل پھر رہے ہو گویا کہ یہ تمہارے گھر کی چھت ہے، تمہیں کیا معلوم کہ اسی آسمان سے کب کوئی بجلی گر پڑتی ہے، یا ہلاکت خیز بارش ہوتی ہے، یا اور کوئی ناگہانی آفت آجاتی ہے۔ اس حالت میں تمہاری خدا سے یہ بےخوفی اور فکر عاقبت سے یہ غفلت اور ایک خیر خواہ کی نصیحت کے مقابلے میں یہ یاوہ گوئی بجز اس کے اور کیا معنی رکھتی ہے کہ تم اپنی شامت ہی کو دعوت دے رہے ہو۔
سورة سَبـَا 13
یعنی جو شخص کسی قسم کا تعصب نہ رکھتا ہو، جس میں کوئی ہٹ دھرمی اور ضد نہ پائی جاتی ہو، بلکہ جو اخلاص کے ساتھ اپنے خدا سے طالب ہدایت ہو، وہ تو آسمان و زمین کے اس نظام کو دیکھ کر بڑے سبق لے سکتا ہے۔ لیکن جس کا دل خدا سے پھرا ہوا ہو وہ کائنات میں سب کچھ دیکھے گا مگر حقیقت کی طرف اشارہ کرنے والی کوئی نشانی اسے سجھائی نہ دے گی۔
Ayah 34:10سورة سَبـَا 14
اشارہ ہے ان بیشمار عنایات کی طرف جن سے اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد ؑ کو نوازا تھا۔ وہ بیت اللحم کے رہنے والے قبیلہ یہو واہ کے ایک معمولی نوجوان تھے۔ فلستیوں کے خلاف ایک معرکے میں جالوت جیسے گرانڈیل دشمن کو قتل کر کے یکایک وہ بنی اسرائیل کی آنکھوں کا تارا بن گئے۔ اس واقعہ سے ان کا عروج شروع ہوا یہاں تک کہ طالوت کی وفات کے بعد پہلے وہ خبرون (موجودہ الخلیل) میں یہودیہ کے فرمانروا بنائے گئے، پھر چند سال بعد تمام قبائل بنی اسرائیل نے مل کر ان کو اپنا بادشاہ منتخب کیا، اور انہوں نے یروشلم کو فتح کر کے اسے دولت اسرائیل کا پایہ تخت بنایا۔ یہ انہی کی قیادت تھی جس کی بدولت تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ایسی خدا پرست سلطنت وجود میں آئی جس کے حدود خلیج عقبہ سے دریائے فرات کے مغربی کناروں تک پھیلے ہوئے تھے۔ اس عنایات پر مزید وہ فضل خداوندی ہے جو علم و حکمت، عدل و انصاف، اور خدا ترسی و بندگی حق کی صورت میں ان کو نصیب ہوا (تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول۔ ص 595 تا 598)
سورة سَبـَا 15
یہ مضمون اس سے پہلے سورة انبیا آیت 79 میں گزر چکا ہے اور وہاں ہم اس کی تشریح بھی کرچکے ہیں۔ (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم 174۔ 175)
Ayah 34:11سورة سَبـَا 16
یہ مضمون بھی سورة انبیا آیت 80 میں گزر چکا ہے اور وہاں اس کی تشریح کی جا چکی ہے۔ (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم ص 175۔ 176)
Ayah 34:12سورة سَبـَا 17
یہ مضمون بھی سورة انبیا آیت 81 میں گزر چکا ہے اور اس کی تشریح وہاں کی جا چکی ہے (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم 176۔ 177)
سورة سَبـَا 18
بعض قدیم مفسرین نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ زمین سے ایک چشمہ حضرت سلیمان ؑ کے لیے پھوٹ نکلا تھا جس میں سے پانی کے بجائے پگھلا ہوا تانبہ بہتا تھا۔ لیکن آیت کی دوسری تاویل یہ بھی ہو سکتی ہے کہ حضرت سلیمان ؑ کے زمانے میں تانبے کو پگھلانے اور اس سے طرح طرح کی چیزیں بنانے کا کام بڑے پیمانے پر کیا گیا کہ گویا وہاں تانبے کے چشمے بہ رہے تھے۔ (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، ص 176)
سورة سَبـَا 19
یہ جن جو سلیمان ؑ کے لیے مسخر کیے گئے تھے، آیا یہ دہقانی اور کوہستانی انسان تھے یا واقعی وہی جن تھے جو ایک پوشیدہ مخلوق کی حیثیت سے دنیا بھر میں معروف ہیں، اس مسئلے پر بھی سورة انبیا اور سورة نحل کی تفسیر میں ہم مفصل بحث کرچکے ہیں۔
Ayah 34:13سورة سَبـَا 20
اصل میں لفظ تَمَاثِیل استعمال ہوا ہے جو تمثال کی جمع ہے۔ تمثال عربی زبان میں ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی قدرتی شے کے مشابہ بنائی جائے قطع نظر اس اصل سے کہ وہ کوئی انسان ہو یا حیوان، کوئی درخت ہو یا پھول یا دریا یا کوئی دوسری بےجان چیز۔ التمثال اسم للشئ المصنوع مشبھا بخلق من خلق اللہ (لسان العرب) "" تمثال نام ہے ہر اس مصنوعی چیز کا جو خدا کی بنائی ہوئی کسی چیز کے مانند بنائی گئی ہو " التمثال کل ما صور علی صورۃ غیرہ من حیوان و غیر حیوان۔ (تفسیر کشاف) تمثال ہر اس تصویر کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز کی صورت کے مماثل بنائی گئی ہو، خواہ وہ جان دار ہو یا بےجان "۔ اس بنا پر قرآن مجید کے اس بیان سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضرت سلیمان ؑ کے لیے جو " تماثیل " بنائی جاتی تھیں وہ ضرور انسانوں اور حیوانوں کی تصاویر یا ان کے مجسمے ہی ہوں گے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ پھول پتیاں اور قدرتی مناظر اور مختلف قسم کے نقش و نگار ہوں جن سے حضرت سلیمان نے اپنی عمارتوں کو آراستہ کرایا ہو۔
غلط فہمی کا منشا بعض مفسرین کے یہ بیانات ہیں کہ حضرت سلیمان ؑ نے انبیاء اور ملائکہ کی تصویریں بنوائی تھیں۔ یہ باتیں ان حضرات نے بنی اسرائیل کی روایات سے اخذ کرلیں اور پھر ان کی توجیہ یہ کی کہ پچھلی شریعتوں میں اس قسم کی تصویر بنانا ممنوع نہ تھا لیکن ان روایات کو بلا تحقیق نقل کرتے ہوئے ان بزرگوں کو یہ خیال نہ رہا کہ حضرت سلیمان ؑ جس شریعت موسوی کے پیرو تھے اس میں بھی انسانی اور حیوانی تصاویر اور مجسمے اسی طرح حرام تھے جس طرح شریعت محمدیہ میں حرام ہیں۔ اور وہ یہ بھی بھول گئے کہ بنی اسرائیل کے ایک گروہ کو حضرت سلیمان ؑ سے جو عداوت تھی اس کی بنا پر انہوں نے آنجناب کو شرک و بت پرستی جادوگری اور زنا کے بد ترین الزامات سے متہم کیا ہے، اس لیے ان کی روایات پر اعتماد کر کے اس جلیل القدر پیغمبر کے بارے میں کوئی ایسی بات ہرگز قبول نہ کرنی چاہیے جو خدا کی بھیجی ہوئی کسی شریعت کے خلاف پڑتی ہو۔ یہ بات ہر شخص کو معلوم ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کے بعد حضرت عیسیٰ ؑ تک بنی اسرائیل میں جتنے انبیاء بھی آئے ہیں وہ سب تورات کے پیرو تھے ان میں سے کوئی بھی نئی شریعت نہ لایا تھا جو تورات کے قانون کی ناسخ ہوتی۔ اب تورات کو دیکھیے تو اس میں بار بار بصراحت یہ حکم ملتا ہے کہ انسانی اور حیوانی تصویریں اور مجسمے قطعاً حرام ہیں
" تو اپنے لیے کوئی تراشی ہوئی مورت نہ بنانا نہ کسی چیز کی صورت بنانا جو اوپر آسمان میں یا نیچے زمین پر یا زمین کے نیچے پانی میں ہے " (خروج۔ باب 20۔ آیت 4)۔
تم اپنے لیے بت نہ بنانا اور نہ تراشی ہوئی مورت یا لاٹ اپنے لیے کھڑی کرنا اور نہ اپنے ملک میں کوئی شبیہ دار پتھر رکھنا کہ اسے سجدہ کرو " (احبار۔ باب 26، آیت 1)
" تا نہ ہو کہ تم بگڑ کر کسی شکل یا صورت کی کھودی ہوئی مورت اپنے لیے بنا لو جس کی شبیہ کسی مرد یا عورت یا زمین کے کسی حیوان یا ہوا میں اڑنے والے کسی پرند یا زمین میں رینگنے والے جاندار یا مچھلی سے جو زمین کے نیچے پانی میں رہتی ہے ملتی ہو " (استثنا، باب 4۔ آیت 16۔ 18)۔
لعنت اس آدمی پر جو کاریگری کی صنعت کی طرح کھودی ہوئی یا ڈھالی ہوئی مورت بنا کر جو خداوند کے نزدیک مکروہ ہے اس کو کسی پوشیدہ جگہ میں نصب کرے "" (استثناء، باب 27۔ آیت 15)
ان صاف اور صریح احکام کے بعد یہ بات کیسے مانی جاسکتی ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے انبیاء اور ملائکہ کی تصویریں یا ان کے مجسمے بنانے کا کام جنوں سے لیا ہوگا اور یہ بات آخر ان یہودیوں کے بیان پر اعتماد کر کے کیسے تسلیم کرلی جائے جو حضرت سلیمان ؑ پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ اپنی مشرک بیویوں کے عشق میں مبتلا ہو کر بت پرستی کرنے لگے تھے (1۔ سلاطین۔ باب 11).
تاہم مفسرین نے تو بنی اسرائیل کی یہ روایات نقل کرنے کے ساتھ اس امر کی صراحت کردی تھی کہ شریعت محمدیہ میں یہ فعل حرام ہے اس لیے اب کوئی شخص حضرت سلیمان ؑ کی پیروی میں تصویریں اور مجسمے بنانے کا مجاز نہیں ہے۔ لیکن موجودہ زمانے کے بعض لوگوں نے) جو اہل مغرب کی تقلید میں مصوری و بت تراشی کو حلال کرنا چاہتے ہیں، قرآن مجید کی اس آیت کو دلیل ٹھہرا لیا۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ایک پیغمبر نے یہ کام کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے خود اپنی کتاب میں اس کے اس فعل کا ذکر کیا ہے اور اس پر کسی ناپسندیدگی کا اظہار بھی نہیں فرمایا ہے تو اسے لازماً حلال ہی ہونا چاہیے۔
ان مقلدین مغرب کا یہ استدلال دو وجوہ سے غلط ہے۔ اول یہ کہ لفظ تماثیل جو قرآن مجید میں استعمال کیا گیا ہے، انسانی اور حیوانی تصاویر کے معنی میں صریح نہیں ہے، بلکہ اس کا اطلاق غیر جاندار اشیاء کی تصویروں پر بھی ہوتا ہے، اس لیے محض اس لفظ کے سہارے حکم نہیں لگایا جاسکتا کہ قرآن کی رو سے انسانی اور حیوانی تصاویر حلال ہیں۔ دوسرے یہ کہ نہایت کثیر التعداد اور قوی الاسناد اور متواتر المعنیٰ احادیث سے ہی ثابت ہے کہ نبی ﷺ نے ذی روح اشیاء کی تصویریں بنانے اور رکھنے کو قطعی حرام قرار دیا ہے۔ اس معاملہ میں جو ارشادات حضور ﷺ سے ثابت ہیں اور جو آثار اکابر صحابہ سے منقول ہوئے ہیں انہیں ہم یہاں نقل کرتے ہیں
1۔ عن عائشہ ام المومنین ان ام جیبۃ وام سلمۃ ذکرتا کنیسۃ رأینھا بالحبشۃ فیھا تصاویر فذکرتا للنبی ﷺ فقال ان اولٰٓئِک اذا کان فیھم الرجل الصالح فمات بنوا علیٰ قبرہ مسجد او صوروا فیہ تلک الصور فاولٰٓئِک شرار الخلق عنداللہ یوم القیٰمۃ (بخاری، کتاب المساجد)
ام المومنین حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ حضرت ام حبیبہ اور حضرت ام سلمہ ؓ نے حبش میں ایک کنیسہ دیکھا تھا جس میں تصویریں تھیں۔ اس کا ذکر انہوں نے نبی ﷺ سے کیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا ان لوگوں کا حال یہ تھا کہ جب ان میں کوئی صالح شخص ہوتا تو اس کے مرنے کے بعد وہ اس کی قبر پر ایک عبادت گاہ بناتے اور اس میں یہ تصویریں بنا لیا کرتے تھے۔ یہ لوگ قیامت کے روز اللہ کے نزدیک بدترین خلائق قرار پائیں گے۔
2۔ عن ابی جحیفہ ان رسول اللہ ﷺ لعن المصور (بخاری، کتاب البیوع، کتاب الطلاق و کتاب اللباس)
ابو جحیفہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مصور پر لعنت فرمائی ہے۔
3۔ عن ابی زرعہ قال دخلت مع ابی ہریرہ داراً بالمدینۃ فرأی اعلاھا مصوراً یصور قال سمعت رسول اللہ ﷺ یقول ومن اظلم ممن ذھب یخلق کخلقی فلیخلقوا حبۃ و لیخلقوا ذرۃ (بخاری، کتاب اللباس۔ مُسند احمد اور مسلم کی روایت میں تصریح ہے کہ یہ مروان کا گھر تھا)
ابو زرعہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ کے ساتھ ایک مکان میں داخل ہوا تو دیکھا کہ مکان کے اوپر ایک مصور تصویریں بنا رہا ہے۔ اس پر حضرت ابوہریرہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو میری تخلیق کے مانند تخلیق کی کوشش کرے۔ یہ لوگ ایک دانہ یا ایک چیونٹی تو بنا کردکھائیں۔
4۔ عن ابی محمد الھذلی عن علی قال کان رسول اللہ ﷺ فی جنازۃ فقال ایکم ینطلق الی المدینۃ فلا یَدَع بھا وثناً الا کسرہ ولا قبراً الا سوّاہ ولا صورۃ الا لطخھا۔ فقال رجل انا یا رسول اللہ فانطلق فھاب اھل المدینہ۔ فرجع۔ فقال علی انا انطلق یا رسول اللہ۔ قال فانطلق، فانطلقَ ثم رجع۔ فقال یا رسول اللہ لم ادع بھا وثناً الا کسرتہ ولا قبراً الّا سویتہ ولا صورۃ الا لطخ تھا۔ ثم قال رسول اللہ ﷺ من عاد لصنعۃ شئ من ھٰذا فقد کفر بما انزل علیٰ محمد ﷺ (مسند احمد۔ مسلم، کتاب الجنائر اور نسائی کتاب الجنائیر میں بھی اس مضمون کی ایک حدیث منقول ہوئی ہے)۔
ابو محمد ہُذَلی حضرت علی ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک جنازے میں شریک تھے۔ آپ نے فرمایا تم لوگوں میں سے کون ہے جو جا کر مدینہ میں کوئی بت نہ چھوڑے جسے توڑ نہ دے اور کوئی قبر نہ چھوڑے جسے زمین کے برابر نہ کر دے اور کوئی تصویر نہ چھوڑے جسے مٹا نہ دے۔ ایک شخص نے عرض کیا میں اس کے لیے حاضر ہوں۔ چناچہ وہ گیا مگر اہل مدینہ کے خوف سے یہ کام کیے بغیر پلٹ آیا۔ پھر حضرت علی ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں جاتا ہوں۔ حضور ﷺ نے فرمایا اچھا تم جاؤ۔ حضرت علی ؓ گئے اور واپس آ کر انہوں نے عرض کیا میں نے کوئی بت نہیں چھوڑا جسے توڑ نہ دیا ہو، اور کوئی قبر نہیں چھوڑی جسے زمین کے برابر نہ کردیا ہو اور کوئی تصویر نہ چھوڑی جسے مٹا نہ دیا ہو۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا، اب اگر کسی شخص نے ان چیزوں میں سے کوئی چیز بنائی تو اس نے اس تعلیم سے کفر کیا جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی ہے۔
5۔ عن ابن عباس عن النبی ﷺ ………… ومن صور صورۃ عذب و کلف ان ینفخ فیھا ولیس بنافخ (بخاری۔ کتاب التعبیر۔ ترمذی، ابواب للباس نسائی۔ کتاب الزینۃ۔ مسند احمد)
ابن عباس نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں……اور جس شخص نے تصویر بنائی اسے عذاب دیا جائے گا اور مجبور کیا جائے گا کہ وہ اس میں روح پھونکے اور وہ نہ پھونک سکے گا۔
6۔ عن سعید بن ابی الحسن قال کنت عند ابن عباس ؓ اذا تاہ رجل فقال یا ابا عباس انی انسان انما معیشتی من صنعۃ یدی وانی اصنع ھٰذہ التصاویر۔ فقال ابن عباس لا احدثک الا ما سمعت رسول اللہ ﷺ یقول۔ سمعتہ یقول من صور صورۃً فان اللہ معذبہ حتٰی ینفخ فیھا الروح ولیس بنافخ فیھا ابداً۔ فربا الرجل ربوۃً شدیدۃ واصفر وجھہ۔ فقال ویحک ان ابیت الا ان تصنع فعلیک بھٰذا الشجر کل شئی لیس فیہ روح (بخاری، کتاب البیوع۔ مسلم، کتاب اللباس۔ نسائی، کتاب الزینۃ۔ مسند احمد)۔
سعید بن ابی الحسن کہتے ہیں کہ میں ابن عباس ؓ کے پاس بیٹھا تھا۔ اتنے میں ایک شخص آیا، اور اس نے کہا کہ اے ابو عباس میں ایک ایسا شخص ہوں جو اپنے ہاتھ سے روزی کماتا ہے اور میرا روزگار یہ تصویریں بنانا ہے۔ ابن عباس ؓ نے جواب دیا کہ میں تم سے وہی بات کہوں گا جو میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنی ہے۔ میں نے حضور ﷺ سے یہ بات سنی ہے کہ جو شخص تصویر بنائے گا اللہ اسے عذاب دے گا اور اسے نہ چھوڑے گا جب تک وہ اس میں روح نہ پھونکے، اور وہ کبھی روح نہ پھونک سکے گا۔ یہ بات سن کر وہ شخص سخت برافروختہ ہوا اور اس کے چہرے کا رنگ زرد پڑگیا۔ اس پر ابن عباس ؓ نے کہا بندہ خدا، اگر تجھے تصویر بنانی ہے تو اس درخت کی بنا، یا کسی ایسی چیز کی بنا جس میں روح نہ ہو۔
7۔ عن عبد اللہ بن مسعود قال سمعت النبی ﷺ یقول ان اشد الناس عذابا عنداللہ یوم القیامۃ المصورون (بخاری، کتاب اللباس، مسلم، کتاب اللباس۔ نسائی، کتاب الزینۃ۔ مسند احمد)
عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا قیامت کے روز اللہ کے ہاں سخت ترین سزا پانے والے مصور ہوں گے۔
8۔ عن عبداللہ بن عمران رسول اللہ ﷺ قال ان الذین یصنعون ھٰذہ الصور یعذبون یوم القیٰمۃ یقال لہم احیوا ما خلقتم (بخاری، کتاب اللباس۔ مسلم، کتاب اللباس۔ نسائی، کتاب الزینہ۔ مسند احمد)
عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو لوگ یہ تصویریں بناتے ہیں ان کو قیامت کے روز عذاب دیا جائے گا کہ جو کچھ تم نے بنایا ہے اسے زندہ کرو۔
9۔ عن عائشہ ؓ انھا اشترت نمرقۃ فیھا تصاویر فقام النبی ﷺ بالباب ولم یدخل فقلت اتوب الی اللہ ممّا اذنبت قال ما ھٰذہ النمرقۃ قلت لتجلس علیھا و تو سدھا قال ان اصحاب ھٰذہ الصور یعذبون یوم القیٰمۃ یقال لہم احیوا ما خلقتم و ان الملائکۃ لا تدخل بیتاً فیہ الصورۃ۔ (بخاری، کتاب الباس، مسلم، کتاب اللباس۔ نسائی، کتاب الزینہ، ابن ماجہ، کتاب التجارات۔ موطا، کتاب الاستیذان)
حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک تکیہ خریدا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ پھر نبی ﷺ تشریف لائے اور دروازے ہی میں کھڑے ہوگئے۔ اندر داخل نہ ہوئے۔ میں نے عرض کیا کہ میں خدا سے توبہ کرتی ہوں ہر اس گناہ پر جو میں نے کیا ہو۔ حضور ﷺ نے فرمایا یہ تکیہ کیسا ہے ؟ میں نے عرض کیا یہ اس غرض کے لیے ہے کہ آپ یہاں تشریف رکھیں اور اس پر ٹیک لگائیں۔ فرمایا ان تصویروں کے بنانے والوں کو قیامت کے روز عذاب دیا جائے گا۔ ان سے کہا جائے گا کہ جو کچھ تم نے بنایا ہے اس کو زندہ کرو۔ اس ملائکہ (یعنی ملائکہ رحمت) کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویریں ہوں۔
10۔ عن عائشۃ قالت دخل علَیّ رسول اللہ ﷺ و انا متسترہ بقرام فیہ صورۃ فتلوَّنَ وجھہ ثم تناول الستر فھتکہ ثم قال ان من اشد الناس عذاباً یوم القیٰمۃ الذین یشبہوں بخلق اللہ (مسلم، کتاب اللباس بخاری، کتاب اللباس۔ نسائی، کتاب الزینہ)
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ میرے ہاں تشریف لائے اور میں نے ایک پردہ لٹکا رکھا تھا جس میں تصویر تھی۔ آپ ﷺ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، پھر آپ نے اس پردے کو لے کر پھاڑ ڈالا اور فرمایا قیامت کے روز سخت ترین عذاب جن لوگوں کو دیا جائے گا ان میں سے وہ لوگ بھی ہیں جو اللہ کی تخلیق کے مانند تخلیق کی کوشش کرتے ہیں۔
11۔ عن عائشۃ قالت قدم رسول اللہ ﷺ من سفر وقد سترت علی بابی درنوکا فیہ الخیل ذوات الاجنحۃ فامرنی فنزعتہ (مسلم، کتاب اللباس۔ نسائی، کتاب الزینۃ)
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ سفر سے واپس تشریف لائے اور میں نے اپنے دروازے پر ایک پردہ لٹکا رکھا تھا، جس میں پر دار گھوڑوں کی تصویریں تھیں۔ حضور ﷺ نے حکم دیا کہ اسے اتار دو اور میں نے اتار دیا۔
12۔ عن جابر قال نھیٰ رسول اللہ ﷺ عن الصورۃ فی البیت ونھٰی ان یصنع ذالک۔ (ترمذی، ابواب اللباس)
جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرما دیا کہ گھر میں تصویر رکھی جائے اور اس سے بھی منع فرما دیا کہ کوئی شخص تصویر بنائے۔
13۔ عن ابن عباس عن ابی طلحہ عن النبی ﷺ قال لا تدخل الملائکۃ بیتا فیہ کلب ولا صورۃ۔ (بخاری کتاب اللباس)۔
ابن عباس ؓ ابوطلحہ انصاری سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا ملائکہ (یعنی ملائکہ رحمت) کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا پلا ہوا ہو اور نہ ایسے گھر میں جس میں تصویر ہو۔
14۔ عن عبداللہ بن عمر قال وعد النبی ﷺ جبریل فراث علیہ حتی اشتد علی النبی ﷺ فخرج النبی ﷺ فلقیہ فشکا الیہ ماوجد فقال لہْ انّا لا ندخل بیتاً فیہ صورۃ ولا کلب۔ (بخاری، کتاب اللباس۔ اس مضمون کی متعدد روایات بخاری، مسلم، ابو داوْد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، امام مالک اور امام احمد نے متعدد صحابہ سے نقل کی ہیں)۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جبریل ؑ نے نبی ﷺ کے پاس آنے کا وعدہ کیا مگر بہت دیر لگ گئی اور وہ نہ آئے۔ حضور ﷺ کو اس سے پریشانی ہوئی اور آپ گھر سے نکلے تو وہ مل گئے۔ آپ ﷺ نے ان سے شکایت کی تو انہوں نے کہا ہم کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو یا تصویر ہو۔
ان روایات کے مقابلے میں کچھ روایتیں ایسی پیش کی جاتی ہیں جن میں تصاویر کے معاملہ میں رخصت پائی جاتی ہے مثلاً ابو طلحہ انصاری کی یہ روایت کہ جس کپڑے میں تصویر کڑھی ہوئی ہو اس کا پردہ لٹکانے کی اجازت ہے۔ (بخاری، کتاب اللباس) اور حضرت عائشہ کی یہ روایت کہ تصویر دار کپڑے کو پھاڑ کر جب انہوں نے گدّا بنالیا تو حضور نے اسے بچھانے سے منع نہ فرمایا۔ (مسلم، کتاب اللباس) اور سالم بن عبداللہ بن عمر کی روایت کہ ممانعت اس تصویر کی ہے جو نمایاں مقام پر نصب کی گئی ہو، نہ کہ اس تصویر کی جو فرش کے طور پر بچھا دی گئی ہو (مسند احمد)۔ لیکن ان میں سے کوئی حدیث بھی دراصل ان احادیث کی تردید نہیں کرتی جو اوپر نقل کی گئی ہیں۔ جہاں تک تصویر بنانے کا تعلق ہے اس کا جواز ان میں سے کسی حدیث سے بھی نہیں نکلتا۔ یہ احادیث صرف اس مسئلے سے بحث کرتی ہیں کہ اگر کسی کپڑے پر تصویر بنی ہوئی ہو اور آدمی اس کو لے چکا ہو تو کیا کرے۔ اس باب میں ابو طلحہ انصاری والی روایت کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہے، کیونکہ وہ بکثرت دوسری صحیح احادیث سے ٹکراتی ہے جن میں نبی ﷺ نے تصویر دار کپڑا لٹکانے سے نہ صرف منع فرمایا ہے بلکہ اسے پھاڑ دیا ہے۔ نیز خود حضرت ابو طلحہ کا اپنا عمل جو ترمذی اور موطا میں منقول ہوا ہے وہ یہ ہے کہ تصویر دار پردہ تو درکنار وہ ایسا فرش بچھانے میں بھی کراہت محسوس کرتے تھے جس میں تصاویر ہوں۔ رہیں حضرت عائشہ اور سالم بن عبداللہ کی روایات تو ان سے صرف اتنا جواز نکلتا ہے کہ اگر تصویر احترام کی جگہ پر نہ ہو بلکہ ذلت کے ساتھ فرش میں رکھی جائے اور اسے پامال کیا جائے تو وہ قابل برداشت ہے۔ ان احادیث سے آخر اس پوری ثقافت کا جواز کیسے نکالا جاسکتا ہے جو تصویر کشی اور مجسمہ سازی کے آرٹ کو تہذیب انسانی کا قابل فخر کمال قرار دیتی ہے اور اسے مسلمانوں میں رواج دینا چاہتی ہے۔
تصاویر کے معاملہ میں نبی ﷺ نے آخر کار امت کے لیے جو ضابطہ چھوڑا ہے اس کا پتہ اکابر صحابہ کے اس طرز عمل سے چلتا ہے جو انہوں نے اس باب میں اختیار کیا۔ اسلام میں یہ اصول مسلم ہے کہ معتبر اسلامی ضابطہ وہی ہے جو تمام تدریجی احکام اور ابتدائی رخصتوں کے بعد حضور ﷺ نے اپنے آخر عہد میں مقرر کردیا ہو۔ اور حضور ﷺ کے بعد اکابر صحابہ کا کسی طریقے پر عمل درآمد کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسی طریقے پر حضور ﷺ نے امت کو چھوڑا تھا۔ اب دیکھیے کہ تصویروں کے ساتھ اس مقدس گروہ کا کیا برتاؤ تھا۔
قال عمر ؓ انا لا ندخل کنائسکم من اجل التماثیل التی فیھا الصُّوَر۔ (بخاری، کتاب الصلوٰۃ)
حضرت عمر نے عیسائیوں سے کہا کہ ہم تمہارے کنیسوں میں اس لیے داخل نہیں ہوتے کہ ان میں تصویریں ہیں۔
کان ابن عباس یصلی فی بیعۃ الابیعۃ فیھا تماثیل (بخاری، کتاب الصلوٰۃ)
ابن عباس ؓ گرجا میں نماز پڑھ لیتے تھے، مگر کسی ایسے گرجا میں نہیں جس میں تصویریں ہوں۔
عن ابی الھیاج الاسدی قال لی علی الا ابعثک علیٰ ما بعثنی علیہ رسول اللہ ﷺ ان لا تدع تمثیلاً الا طمستہ ولا قبراً مشرفاً الا سویتہ ولا صورۃ الا طمس تھا۔) مسلم، کتاب الجنائز۔ نسائی، کتاب الجنائز)
ابو الہیاج اسدی کہتے ہیں کہ حضرت علی نے مجھ سے کہا کیا نہ بھیجوں میں تم کو اس مہم پر جس پر رسول اللہ ﷺ نے مجھے بھیجا تھا ؟ اور وہ یہ کہ تم کوئی مجسمہ نہ چھوڑو جسے توڑ نہ دو ، اور کوئی اونچی قبر نہ چھوڑو جسے زمین کے برابر نہ کردو اور کوئی تصویر نہ چھوڑو جسے مٹا نہ دو۔
عن حنش الکنانی عن علی انہ بعث عامل شرطہ فقال لہ اتدری علی ما ابعثک ؟ علی ما بعثنی علیہ رسول اللہ ﷺ ان انحت کل صورۃ و ان اسوی کل قبر (مسند احمد)
حنش الکنانی کہتے ہیں کہ حضرت علی ؓ نے اپنی پولیس کے کو توال سے کہا کہ تم جانتے ہو میں کس مہم پر تمہیں بھیج رہا ہوں ؟ اس مہم پر جس پر رسول اللہ ﷺ نے مجھے بھیجا تھا۔ یہ کہ میں ہر تصویر کو مٹا دوں اور ہر قبر کو زمین کے برابر کر دوں۔
اسی ثابت شدہ اسلامی ضابطہ کو فقہائے اسلام نے تسلیم کیا ہے اور اسے قانون اسلامی کی ایک دفعہ قرار دیا ہے۔ چناچہ علامہ بدر الدین عینی توضیح کے حوالہ سے لکھتے ہیں
" ہمارے اصحاب (یعنی فقہائے احناف) اور دوسرے فقہاء کہتے ہیں کہ کسی جاندار چیز کی تصویر بنانا حرام ہی نہیں، سخت حرام اور کبیرہ گناہوں میں سے ہے، خواہ بنانے والے نے اسے کسی ایسے استعمال کے لیے بنایا ہو جس میں اس کی تذلیل ہو، یا کسی دوسری غرض کے لیے۔ ہر حالت میں تصویر کشی حرام ہے کیونکہ اس میں اللہ کی تخلیق سے مشابہت ہے۔ اسی طرح تصویر خواہ کپڑے میں ہو یا فرش میں یا دینار یا درہم یا پیسے میں، یا کسی برتن میں یا دیوار میں، بہرحال اس کا بنانا حرام ہے۔ البتہ جاندار کے سوا کسی دوسری چیز مثلاً درخت وغیرہ کی تصویر بنانا حرام نہیں ہے۔ ان تمام امور میں تصویر کے سایہ دار ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہی رائے امام مالک، سفیان ثوری، امام ابوحنیفہ اور دوسرے علماء کی ہے۔ قاضی عیاض کہتے ہیں کہ اس سے لڑکیوں کی گڑیاں مستثنی ہیں۔ مگر امام مالک ان کے خریدنے کو بھی ناپسند کرتے تھے۔ (عمدۃ القاری۔ ج 22 ص 70۔ اسی مسلک کو امام ثوری نے شرح مسلم میں زیادہ تفصیل کے ساتھ نقل کیا ہے۔ ملاحظہ ہو شرح نَسَدِی، مطبوعہ مصر، ج 14۔ ص 81۔ 82) "
یہ تو ہے تصویر سازی کا حکم۔ رہا دوسرے کی بنائی ہوئی تصویر کے استعمال کا مسئلہ تو اس کے بارے میں فقہائے اسلام کے مسلک علامہ ابن حجر نے اس طرح نقل کیے ہیں " مالکی فقیہ ابن عربی کہتے ہیں کہ جس تصویر کا سایہ پڑتا ہو اس کے حرام ہونے پر تو اجماع ہے قطع نظر اس سے کہ وہ تحقیر کے ساتھ رکھی گئی ہو یا نہ۔ اس اجماع سے صرف لڑکیوں کی گڑیاں مستثنیٰ ہیں۔۔ ابن عربی یہ بھی کہتے ہیں کہ جس تصویر کا سایہ نہ پڑتا ہو وہ اگر اپنی حالت پر باقی رہے (یعنی آئنہ کی پرچھائیں کی طرح نہ ہو بلکہ چھپی ہوئی تصویر کی طرح ثابت و قائم ہو) تو وہ بھی حرام ہے، خواہ اسے حقارت کے ساتھ رکھا گیا ہو یا نہ۔ البتہ اگر اس کا سر کاٹ دیا گیا ہو یا اس کے اجزاء الگ الگ کردیے گئے ہوں تو اس کا استعمال جائز ہے …… امام الحرمین نے ایک مسلک یہ نقل کیا ہے کہ پردے یا تکیہ پر اگر تصویر ہو تو اس کے استعمال کی اجازت ہے، مگر دیوار یا چھت میں جو تصویر لگائی جائے وہ ممنوع ہے کیونکہ اس صورت میں اس کا اعزاز ہوگا، بخلاف اس کے پردے اور تکیے کی تصویر حقارت سے رہے گی . ابن ابی شیبہ نے عکرمہ سے نقل کیا ہے کہ زمانہ تابعین کے علماء یہ رائے رکھتے تھے کہ فرش اور تکیہ میں تصویر کا ہونا اس کے لیے باعث ذلت ہے۔ نیز ان کا یہ خیال بھی تھا کہ اونچی جگہ پر جو تصویر لگائی گئی ہو وہ حرام ہے اور قدموں میں جسے پامال کیا جاتا ہو وہ جائز ہے۔ یہی رائے ابن سیرین، سالم بن عبداللہ، عِکرمہ بن خالد اور سعید بن جبیر سے بھی منقول ہے۔ " (فتح الباری، ج 10، ص 300)
اس تفصیل سے یہ بات بھی اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام میں تصاویر کی حرمت کوئی مختلف فیہ یا مشکوک مسئلہ نہیں ہے بلکہ نبی ﷺ کے صریح ارشادات صحابہ کرام کے عمل اور فقہائے اسلام کے متفقہ فتاویٰ کی رو سے ایک مسلم قانون ہے جسے آج بیرونی ثقافتوں سے متاثر لوگوں کی موشگافیاں بدل نہیں سکتیں۔
اس سلسلے میں چند باتیں اور بھی سمجھ لینی ضروری ہیں تاکہ کسی قسم کی غلطی فہمی باقی نہ رہے۔
بعض لوگ فوٹو اور ہاتھ سے بنی ہوئی تصویر میں فرق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ شریعت بجائے خود تصویر کو حرام کرتی ہے نہ کہ تصویر سازی کے کسی خاص طریقے کو۔ فوٹو اور دستی تصویر میں تصویر ہونے کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے۔ ان کے درمیان جو کچھ بھی فرق ہے وہ طریق تصویر سازی کے لحاظ سے ہے اور اس لحاظ سے شریعت نے احکام میں کوئی فرق نہیں کیا۔
بعض لوگ یہ استدلال کرتے ہیں کہ اسلام میں تصویر کی حرمت کا حکم محض شرک و بت پرستی کو روکنے کی خاطر دیا گیا تھا، اور اب اس کا کوئی خطرہ نہیں ہے، لہذا یہ حکم باقی نہ رہنا چاہیے، لیکن یہ استدلال بالکل غلط ہے، اول تو احادیث میں کہیں یہ بات نہیں کہی گئی ہے کہ تصاویر صرف شرک و بت پرستی کے خطرے سے بچانے کے لئے حرام کی گئی ہیں۔ دوسرے یہ دعویٰ بھی بالکل بےبنیاد ہے کہ اب دنیا میں شرک و بت پرستی کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ آج خود بر عظیم ہندو پاکستان میں کروڑوں بت پرست مشرکین موجود ہیں، دنیا کے مختلف خطوں میں طرح طرح سے شرک ہورہا ہے، عیسائی اہل کتاب بھی حضرت عیسیٰ ؑ اور حضرت مریم (علیہا السلام) اور اپنے متعدد اولیاء کی تصاویر اور مجسموں کو پوج رہے ہیں، حتی کہ مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد بھی مخلوق پرستی کی آفتوں سے محفوظ نہیں ہے۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ صرف وہ تصویریں ممنوع ہونی چاہییں جو مشرکانہ نوعیت کی ہیں، یعنی ایسے اشخاص کی تصاویر اور مجسمے جن کو معبود بنا لیا گیا ہو، باقی دوسری تصویروں اور مجسموں کے حرام ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ لیکن اس طرح کی باتیں کرنے والے دراصل شارع کے احکام و ارشادات سے قانون اخذ کرنے کے بجائے آپ ہی اپنے شارع بن بیٹھتے ہیں۔ ان کو یہ معلوم نہیں ہے کہ تصویر صرف بڑے ذرائع میں سے ایک ہے جن سے بادشاہوں، ڈکٹیٹروں اور سیاسی لیڈروں کی عظمت کا سکہ عوام الناس کے دماغوں پر بٹھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ تصویر کو دنیا میں شہوانیت پھیلانے کے لیے بھی بہت بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا ہے اور آج یہ فتنہ ہر زمانے سے زیادہ برسر عروج ہے۔ تصاویر قوموں میں نفرت اور عداوت کے بیج بونے، فساد ڈلوانے اور عام لوگوں کو طرح طرح سے گمراہ کرنے کے لیے بھی بکثرت استعمال کی جاتی رہی ہیں اور آج سب سے زیادہ استعمال کی جارہی ہیں۔ اس لیے یہ سمجھنا کہ شارع نے تصویر کی حرمت کا حکم صرف بت پرستی کے استیصال کی خاطر دیا ہے، اصلاً غلط ہے۔ شارع نے مطلقاً جاندار اشیاء کی تصویر کو روکا ہے۔ ہم اگر خود شارع نہیں بلکہ شارع کے متبع ہیں تو ہمیں علی الاطلاق اس سے رک جانا چاہیے، ہمارے لیے یہ کسی طرح جائز نہیں ہے کہ اپنی طرف سے کوئی علت حکم خود تجویز کر کے اس کے لحاظ سے بعض تصویروں کو حرام اور بعض کو حلال قرار دینے لگیں۔
بعض لوگ چند بظاہر بالکل بےضرر قسم کی تصاویر کی طرف اشارہ کر کے کہتے ہیں کہ آخر ان میں کیا خطرہ ہے، یہ تو شرک اور شہوانیت اور فساد انگیزی اور سیادی پروپیگنڈے اور ایسے ہی دوسرے مفسدات سے قطعی پاک ہیں، پھر ان کے ممنوع ہونے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے ؟ اس معاملہ میں لوگ پھر وہی غلطی کرتے ہیں کہ پہلے علت حکم خود تجویز کرلیتے ہیں اور اس کے بعد یہ سوال کرتے ہیں کہ جب فلاں چیز میں یہ علت نہیں پائی جاتی تو وہ کیوں ناجائز ہے۔ علاوہ بریں یہ لوگ اسلامی شریعت کے اس قاعدے کو بھی نہیں سمجھتے کہ وہ حلال اور حرام کے درمیان ایسی دھندلی اور مبہم حد بندیاں قائم نہیں کرتی جن سے آدمی یہ فیصلہ نہ کرسکتا ہو کہ وہ کہاں تک جواز کی حد میں ہے اور کہاں اس حد کو پار کر گیا ہے، بلکہ ایسا واضح خط امتیاز کھینچتی ہے جسے ہر شخص روز روشن کی طرح دیکھ سکتا ہو۔ تصاویر کے درمیان یہ حد بندی قطعی واضح ہے کہ جانداروں کی تصویریں حرام اور بےجان اشیاء کی تصویریں حلال ہیں۔ اس خط امتیاز میں کسی اشتباہ کی گنجائش نہیں ہے جسے احکام کی پیروی کرنی ہو وہ صاف صاف جان سکتا ہے کہ اس کے لئے کیا چیز جائز ہے اور کیا ناجائز۔ لیکن اگر جانداروں کی تصاویر میں سے بعض کو جائز اور بعض ناجائز ٹھہرایا جاتا تو دونوں قسم کی تصاویر کی کوئی بڑی سے بڑی فہرست بیان کردینے کے بعد بھی جواز و عدم جواز کی سرحد کبھی واضح نہ ہوسکتی اور بیشمار تصویروں کے بارے میں یہ اشتباہ باقی رہ جاتا کہ انہیں حد جواز کے اندر سمجھا جائے یا باہر۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے شراب کے بارے میں اسلام کا یہ حکم کہ اس سے قطعی اجتناب کیا جائے ایک صاف حد قائم کردیتا ہے۔ لیکن اگر یہ کہا جاتا ہے کہ اس کی اتنی مقدار استعمال کرنے سے پرہیز کیا جائے جس سے نشہ پیدا ہو تو حلال اور حرام کے درمیان کسی جگہ بھی حد فاصل قائم نہ کی جاسکتی اور کوئی شخص بھی فیصلہ نہ کرسکتا کہ کس حد تک وہ شراب پی سکتا ہے اور کہاں جاکر اسے رک جانا چاہیے۔ (مزید تفصیلی بحث کے لئے ملاحظہ ہو رسائل و مسائل، حصہ اول، ص 152 تا 155)
سورة سَبـَا 21
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ کے ہاں بہت بڑے پیمانے پر مہمان نوازی ہوتی تھی۔ بڑے بڑے حوض جیسے لگن اس لیے بنائے گئے تھے کہ ان میں لوگوں کے لیے کھانا نکال کر رکھا جائے اور بھاری دیگیں اس لیے بنوائی گئی تھیں کہ ان میں بیک وقت ہزاروں آدمیوں کا کھانا پک سکے۔
سورة سَبـَا 22
یعنی شکر گزار بندوں کی طرح کام کرو۔ جو شخص نعمت دینے والے کا احسان محض زبان سے مانتا ہو، مگر اس کی نعمتوں کو اس کی مرضی کے خلاف استعمال کرتا ہو، اس کا محض زبانی شکریہ بےمعنی ہے۔ اصل شکر گزار بندہ وہی ہے جو زبان سے بھی نعمت کا اعتراف کرے، اور اس کے ساتھ منعم کی عطا کردہ نعمتوں سے وہی کام بھی لے جو منعم کی مرضی کے مطابق ہو۔
Ayah 34:14سورة سَبـَا 23
اصل لفظ ہیں تَبَیَّنَتِ الجِنُّ۔۔ اس فقرے کا ایک ترجمہ تو وہ ہے جو ہم نے اوپر متن میں کیا ہے۔ اور دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جنوں کا حال کھل گیا یا منکشف ہوگیا۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ خود جنوں کو پتہ چل گیا کہ غیب دانی کے متعلق ان کا زعم غلط ہے۔ دوسری صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ عام لوگ جو جنوں کو غیب داں سمجھتے تھے ان پر یہ راز فاش ہوگیا کہ وہ علم غیب نہیں رکھتے۔
سورة سَبـَا 24
موجودہ زمانے کے بعض مفسرین نے اس کی یہ تاویل کی ہے کہ حضرت سلیمان کا بیٹا رَجُبعام چونکہ نالائق اور عیش پسند تھا اور خوشامدی مصاحبوں میں گھرا ہوا تھا، اس لیے اپنے جلیل القدر والد کی وفات کے بعد وہ اس بار عظیم کو نہ سنبھال سکا جو اس پر آ پڑا تھا۔ اس کی جانشینی کے تھوڑی مدت بعد ہی سلطنت کا قصر دھڑام سے زمین پر آ رہا اور گرد و پیش کے جن سرحدی قبائل (یعنی جنوں) کو حضرت سلیمان ؑ نے اپنی قوت قاہرہ سے خادم بنا رکھا تھا وہ سب قابو سے نکل گئے۔ لیکن یہ تاویل کسی طرح بھی قرآن کے الفاظ سے مطابقت نہیں رکھتی۔ قرآن کے الفاظ جو نقشہ ہمارے سامنے پیش کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان ؑ پر ایسی حالت میں موت طاری ہوئی جبکہ وہ ایک عصا کے سہارے کھڑے یا بیٹھے تھے۔ اس عصا کی وجہ سے ان کا بےجان جسم اپنی جگہ قائم رہا اور جن یہ سمجھتے ہوئے ان کی خدمت میں لگے رہے کہ وہ زندہ ہیں۔ آخر کار جب عصا کو گھن لگ گیا اور وہ اندر سے کھوکھلا ہوگیا تو ان کا جسم زمین پر گرگیا اور اس وقت جنوں کو پتہ چلا کہ ان کا انتقال ہوگیا ہے۔ اس صاف اور صریح بیان واقعہ کو آخر یہ معنی پہنانے کی کیا معقول وجہ ہے کہ گھن سے مراد حضرت سلیمان کے بیٹے کی نالائقی ہے، اور عصا سے مراد ان کا اقتدار ہے، اور ان کے مردہ جسم کے گر جانے سے مراد ان کی سلطنت کا پارہ پارہ ہوجانا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو اگر یہی مضمون بیان کرنا ہوتا تو کیا اس کے لیے عربی مبین میں الفاظ موجود نہ تھے کہ اس ہیر پھیر کے ساتھ اسے بیان کیا جاتا ؟ یہ پہیلیوں کی زبان آخر قرآن مجید میں کہاں استعمال کی گئی ہے ؟ اور اس زمانے کے عام عرب جو اس کلام کے اولین مخاطب تھے، یہ پہیلی کیسے بوجھ سکتے تھے ؟
پھر اس تاویل کا سب سے زیادہ عجیب حصہ یہ ہے کہ اس میں جنوں سے مراد وہ سرحدی قبائل لیے گئے ہیں جنہیں حضرت سلیمان نے اپنی خدمت میں لگا رکھا تھا۔ سوال یہ ہے کہ آخر ان قبائل میں سے کون غیب دانی کا مدعی تھا اور کس کو مشرکین غیب داں سمجھتے تھے ؟ آیت کے آخری الفاظ کو اگر کوئی شخص آنکھیں کھول کر پڑھے تو وہ خود دیکھ سکتا ہے کہ جن سے مراد یہاں لازماً کوئی ایسا گروہ ہے جو یا تو خود غیب دانی کا دعوی رکھتا تھا، یا لوگ اس کو غیب داں سمجھتے تھے، اور اس گروہ کے غیب سے ناواقف ہونے کا راز اس واقعہ نے فاش کردیا کہ وہ حضرت سلیمان ؑ کو زندہ سمجھتے ہوئے خدمت میں لگے رہے، حالانکہ ان کا انتقال ہوچکا تھا۔ قرآن مجید کا یہ بیان اس کے لیے کافی تھا کہ ایک ایسا ایماندار آدمی اس کو دیکھ کر اپنے اس خیال پر نظر ثانی کرلیتا کہ جن سے مراد سرحدی قبائل ہیں۔ لیکن جو لوگ مادہ پرست دنیا کے سامنے جن نامی ایک پوشیدہ مخلوق کا وجود تسلیم کرتے ہوئے شرماتے ہیں وہ قرآن کی اس تصریح کے باوجود اپنی تاویل پر مصر ہیں۔
قرآن میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ مشرکین عرب جنوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دیتے تھے، انہیں اللہ کی اولاد سمجھتے تھے اور ان سے پناہ مانگا کرتے تھے
وَجَعَلُوا للہِ شُرَکآَءَ الجِنَّ وَخَلَقَھُم۔ (الانعام، 100)
اور انہوں نے جنوں کو اللہ کا شریک ٹھہرا لیا حالانکہ اس نے ان کو پیدا کیا ہے۔
وَجَعَلُوا بینَہْ وَبَیْنَ الجِنّۃِ نَسَبَا۔ (الصّٰفّٰت۔ 158)
اور انہوں نے اللہ کے اور جنوں کے درمیان نسبی تعلق تجویز کرلیا۔
وَاَنَّہْ کَانَ رِجَال مّنَ ا لْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ۔ (الجن۔ 6)
اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے۔
انہی عقائد میں سے ایک عقیدہ یہ بھی تھا کہ وہ جنوں کو عالم الغیب سمجھتے تھے اور غیب کی باتیں جاننے کے لیے ان کی طرف رجوع کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ یہاں اسی عقیدے کی تردید کے لیے یہ واقعہ سنا رہا ہے اور اس سے مقصود کفار عرب کو یہ احساس دلانا ہے کہ تم لوگ خواہ مخواہ جاہلیت کے غلط عقائد پر اصرار کیے چلے جا رہے ہو حالانکہ تمہارے یہ عقائد بالکل بےبنیاد ہیں (مزید توضیح کے لیے آگے 63 ملاحظہ ہو)
Ayah 34:15سورة سَبـَا 25
سلسلۂ بیان کو سمجھنے کے لیے رکوع اول کے مضمون کو نگاہ میں رکھنا ضروری ہے۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ کفار عرب آخرت کی آمد کو بعید از عقل سمجھتے تھے۔ اور جو رسول اس عقیدے کو پیش کر رہا تھا اس کے متعلق کھلم کھلا یہ کہہ رہے تھے کہ ایسی عجیب باتیں کرنے والا آدمی یا تو مجنون ہوسکتا ہے، یا پھر وہ جان بوجھ کر افترا پردازی کر رہا ہے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے پہلے چند عقلی دلائل ارشاد فرمائے جن کی تشریح ہم حواشی نمبر 7۔ 8۔ 12 میں کرچکے ہیں۔ اس کے بعد رکوع دوم میں حضرت داؤد و سلیمان (علیہما السلام) کا قصہ اور پھر سبا کا قصہ ایک تاریخی دلیل کے طور پر بیان کیا گیا ہے جس سے مقصود یہ حقیقت ذہن نشین کرنا ہے کہ روئے زمین پر خود نوع انسانی کی اپنی سرگزشت قانون مکافات کی شہادت دے رہی ہے۔ انسان اپنی تاریخ کو غور سے دیکھے تو اسے معلوم ہوسکتا ہے کہ یہ دنیا کوئی اندھیر نگری نہیں ہے جس کا سارا کارخانہ اندھا دھند چل رہا ہو بلکہ اس پر ایک سمیع وبصیر خدا فرمانروائی کر رہا ہے جو شکر کی راہ اختیار کرنے والوں کے ساتھ ایک معاملہ کرتا ہے اور ناشکری و کافر نعمتی کی راہ چلنے والوں کے ساتھ بالکل ہی ایک دوسرا معاملہ فرماتا ہے۔ کوئی سبق لینا چاہے تو اسی تاریخ سے یہ سبق لے سکتا ہے کہ جس خدا کی سلطنت کا یہ مزاج ہے اس کی خدائی میں نیکی اور بدی کا انجام کبھی یکساں نہیں ہو سکتا۔ اس کے عدل و انصاف کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ ایک وقت ایسا آئے جب نیکی کا پورا اجر اور بدی کا پورا بدلہ دیا جائے۔
سورة سَبـَا 26
یعنی اس امر کی نشانی کہ جو کچھ ان کو میسر ہے وہ کسی کا عطیہ ہے نہ کہ ان کا اپنا آفریدہ۔ اور اس امر کی نشانی کہ ان کی بندگی و عبادت اور شکر وسپاس کا مستحق وہ خدا ہے جس نے ان کو یہ نعمتیں دی ہیں نہ کہ وہ جن کا کوئی حصہ ان نعمتوں کی بخشش میں نہیں ہے۔ اور اس امر کی نشانی کہ ان کی دولت لازوال نہیں ہے بلکہ جس طرح آئی ہے اسی طرح جا بھی سکتی ہے۔
سورة سَبـَا 27
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پورے ملک میں بس دو ہی باغ تھے، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ سبا کی پوری سر زمین گلزار بنی ہوئی تھی۔ آدمی جہاں بھی کھڑا ہوتا اسے اپنے دائیں جانب بھی باغ نظر آتا اور بائیں جانب بھی۔
Ayahs 34:16–17سورة سَبـَا 28
یعنی بندگی و شکر گزاری کے بجائے انہوں نے نافرمانی و نمک حرامی کی روش اختیار کرلی۔
سورة سَبـَا 29
اصل میں لفظ سَیْلُ الْعَرِم استعمال کیا گیا ہے۔ عَرِم جنوبی عرب کی زبان کے لفظ عرمن سے ماخوذ ہے جس کے معنی " بند " کے ہیں۔ یمن کے کھنڈروں میں جو قدیم کتبات موجودہ زمانے میں دستیاب ہوئے ہیں ان میں یہ لفظ اس معنی میں بکثرت استعمال ہوا ہے۔ مثلاً 542 ء یا 543 ء کا ایک کتبہ جو یمن کے حبشی گورنر ابرہہ نے سدّ مارب کی مرمت کرانے کے بعد نصب کرایا تھا اس میں وہ اس لفظ کو بار بار بند کے معنی میں استعمال کرتا ہے۔ لہٰذا سیل العَرِم سے مراد وہ سیلاب ہے جو کسی بند کے ٹوٹنے سے آئے۔
سورة سَبـَا 30
یعنی سیل العَرِم کے آنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ سارا علاقہ برباد ہوگیا۔ سبا کے لوگوں نے پہاڑوں کے درمیان بند باندھ باندھ کر جو نہریں جاری کی تھیں وہ سب ختم ہوگئیں اور آب پاشی کا پورا نظام درہم برہم ہوگیا۔ اس کے بعد وہی علاقہ جو کبھی جنت نظیر بنا ہوا تھا خود رو جنگلی درختوں سے بھر گیا اور اس میں کھانے کے قابل اگر کوئی چیز باقی رہ گئی تو وہ محض جھاڑی بوٹی کے بیر تھے۔
Ayah 34:18سورة سَبـَا 31
" برکت والی بستیوں " سے مراد شام و فلسطین کا علاقہ ہے جسے قرآن مجید میں عموماً اسی لقب سے یاد کیا گیا ہے (مثال کے طور پر ملاحظہ ہو الاعراف، آیت 137۔ بنی اسرائیل، آیت 1۔ الانبیاء، آیات 71 و 81)
نمایاں بستیوں سے رماد ہیں ایسی بستیاں جو شاہراہ عام پر واقع ہوں، گوشوں میں چھپی ہوئی نہ ہوں، اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ وہ بستیاں بہت زیادہ فاصلے پر نہ تھیں بلکہ متصل تھیں۔ ایک بستی کے آثار ختم ہونے کے بعد دوسری بستی کے آثار نظر آنے لگتے تھے۔
سفر کی مسافتوں کو ایک اندازے پر رکھنے سے مراد یہ ہے کہ یمن سے شام تک کا پورا سفر مسلسل آباد علاقے میں طے ہوتا تھا جس کی ہر منزل سے دوسری منزل تک کی مسافت معلوم و متعین تھی۔ آباد علاقوں کے سفر اور غیر آباد صحرائی علاقوں کے سفر میں یہی فرق ہوتا ہے۔ صحراء میں مسافر جب تک چاہتا ہے چلتا ہے اور جب تھک جاتا ہے تو کسی جگہ پڑاؤ کرلیتا ہے۔ بخلاف اس کے آباد علاقوں میں راستے کی ایک بستی سے دوسری بستی تک کی مسافت جانی بوجھی اور متعین ہوتی ہے۔ مسافر پہلے سے پروگرام بنا سکتا ہے کہ راستے کے کن کن مقامات پر وہ ٹھہرتا ہوا جائے گا، کہاں دوپہر گزارے گا اور کہاں رات بسر کرے گا۔