34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsتفہیم القرآن

Ayah 34:19

فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا وَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ وَ مَزَّقْنٰهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 34:19 in the Quran reader

مگر انہوں نے کہا”اے ہمارے ربّ، ہمارے سفر کی مسافتیں لمبی کردے۔ 32“ انہوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا۔ آخر کار ہم نے انہیں افسانہ بنا کر رکھ دیا اور انہیں بالکل تِتّر بِتّر کر ڈالا 33۔ یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ہر اُس شخص کے لیے جو بڑا صابر و شاکر ہو 34

سورة سَبـَا 32 ضروری نہیں ہے کہ انہوں نے زبان ہی سے یہ دعا کی ہو۔ دراصل جو شخص بھی خدا کی دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ گویا زبان حال سے یہ کہتا ہے کہ خدایا، میں ان نعمتوں کا مستحق نہیں ہوں۔ اور اسی طرح جو قوم اللہ کے فضل سے غلط فائدہ اٹھاتی ہے وہ گویا اپنے رب سے یہ دعا کرتی ہے کہ اے پروردگار، یہ نعمتیں ہم سے سلب کرلے کیونکہ ہم ان کے قابل نہیں ہیں۔ علاوہ بریں آیت (رَبَّنَا بٰعِدْ بَيْنَ اَسْفَارِنَا) (خدایا ہمارے سفر دور دراز کردے) کے الفاظ سے کچھ یہ بات بھی مترشح ہوتی ہے کہ شاید سبا کی قوم کو اپنی آبادی کی کثرت کھلنے لگی تھی اور دوسری نادان قوموں کی طرح اس نے بھی اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کو خطرہ سمجھ کر انسانی نسل کی افزائش کو روکنے کی کوشش کی تھی۔ سورة سَبـَا 33 یعنی سبا کی قوم ایسی منتشر ہوئی کہ اس کی پراگندگی ضرب المثل ہوگئی۔ آج بھی اہل عرب اگر کسی گروہ کے انتشار کا ذکر کرتے ہیں تو کہتے ہیں " تفرقوا ایدی سبا " وہ تو ایسے پراگندہ ہوگئے جیسے سبا کی قوم پراگندہ ہوئی تہی۔ " اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب زوال نعمت کا دور شروع ہوا تو سبا کے مختلف قبیلے اپنا وطن چھوڑ چھوڑ کر عرب کے مختلف علاقوں میں چلے گئے۔ غسانیوں نے اردن اور شام کا رخ کیا۔ اوس و خزرج کے قبیلے یثرب میں جا بسے۔ خزاعہ نے جدے کے قریب تہامہ کے علاقہ میں سکونت اختیار کی۔ اَزد کا قبیلہ عمان میں جا کر آباد ہوا۔ لخم اور جذام اور کندہ بھی نکلنے پر مجبور ہوئے۔ حتی کہ " سبا " نام کی کوئی قوم ہی دنیا میں باقی نہ رہی۔ صرف اس کا ذکر افسانوں میں رہ گیا۔ سورة سَبـَا 34 اس سیاق وسباق میں صابر و شاکر سے مراد ایسا شخص یا گروہ ہے جو اللہ کی طرف سے نعمتیں پاکر آپے سے باہر نہ ہوجائے، نہ خوشحالی پر پھولے اور نہ اس خدا کو بھول جائے جس نے یہ سب کچھ اسے عطا کیا ہے۔ ایسا انسان ان لوگوں کے حالات سے بہت کچھ سبق لے سکتا ہے جنہوں نے عروج و ترقی کے مواقع پاکر نافرمانی کی روش اختیار کی اور اپنے انجام بد سے دوچار ہو کر رہے۔
Ayah 34:20

وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْهِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:20 in the Quran reader

اُن کے معاملہ میں ابلیس نے اپنا گمان صحیح پایا او ر انہوں نے اُسی کی پیروی کی ، بجُز ایک تھوڑے سے گروہ کے جو مومن تھا 35

سورة سَبـَا 35 تاریخ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ قدیم زمانے سے قوم سبا میں ایک عنصر موجود تھا جو دوسرے معبودوں کو ماننے کے بجائے خدائے واحد کو مانتا تھا۔ موجودہ زمانے کی اثری تحقیقات کے سلسلے میں یمن کے کھنڈروں سے جو کتبات ملے ہیں ان میں سے بعض اس قلیل عنصر کی نشان دہی کرتے ہیں۔ 650 قبل مسیح کے لگ بھگ زمانے کے بعض کتبات بتاتے ہیں کہ مملکت سبا کے متعدد مقامات پر ایسی عبادت گاہیں بنی ہوئی تھیں جو ذسموی یا ذو سماوی (یعنی رب السماء) کی عبادت کے لیے مخصوص تھیں۔ بعض مقامات پر اس معبود کا نام ملکن ذسموی (وہ بادشاہ جو آسمانوں کا مالک ہے) لکھا گیا ہے۔ یہ عنصر مسلسل صدیوں تک یمن میں موجود رہا۔ چناچہ 378 کے ایک کتبے میں بھی الٰہ ذو سموی کے نام سے ایک عبادت گاہ کی تعمیر کا ذکر ملتا ہے۔ پھر 465 کے ایک کتبے میں یہ الفاظ پائے جاتے ہیں بنصر وردا الٰھن بعل سمین وارضین (یعنی اس خدا کی مدد اور تائید سے جو آسمانوں اور زمین کا مالک ہے)۔ اسی زمانہ کے ایک اور کتبے میں جس کی تاریخ 458 قبل مسیح ہے اسی خدا کے لیے رحمان کا لفظ بھی استعمال کیا گیا ہے۔ اصل الفاظ ہیں بردا رحمنن (یعنی رحمان کی مدد سے)۔
Ayah 34:21

وَ مَا كَانَ لَهٗ عَلَیْهِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِیْ شَكٍّ١ؕ وَ رَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ۠ Open ayah 34:21 in the Quran reader

ابلیس کو اُن پر کوئی اقتدار حاصل نہ تھا مگر جو کچھ ہوا وہ اس لیے ہوا کہ ہم یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ کون آخرت کا ماننے والا ہے اور کون اس کی طرف سے شک میں پڑا ہوا ہے 36۔ تیرا ربّ ہر چیز پر نگران ہے۔ 37

سورة سَبـَا 36 یعنی ابلیس کو یہ طاقت حاصل نہ تھی کہ ان کا ارادہ تو خدا کی فرمانبرداری کرنے کا ہو مگر وہ زبردستی ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں نافرمانی کی راہ پر کھینچ لے گیا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بھی قدرت اس کو دی تھی کہ وہ انہیں بہکائے اور ایسے تمام لوگوں کو اپنے پیچھے لگا لے جو خود اس کی پیروی کرنا چاہیں۔ اور اس اغوا کے مواقع ابلیس کو اس لیے عطا کیے گئے تاکہ آخرت کے ماننے والوں اور اس کی آمد میں شک رکھنے والوں کا فرق کھل جائے۔ دوسرے الفاظ میں یہ ارشاد ربانی اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ عقیدہ آخرت کے سوا کوئی دوسری چیز ایسی نہیں ہے جو اس دنیا میں انسان کو راہ راست پر قائم رکھنے کی ضامن ہو سکتی ہو۔ اگر کوئی شخص یہ نہ مانتا ہو کہ اسے مر کر دوبارہ اٹھنا ہے اور اپنے خدا کے حضور اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہے، تو وہ لازماً گمراہ و بد راہ ہو کر رہے گا، کیونکہ اس کے اندر سرے سے وہ احساس ذمہ داری پیدا ہی نہ ہو سکے گا جو آدمی کو راہ راست پر ثابت قدم رکھتا ہے۔ اسی لیے شیطان کا سب سے بڑا حربہ، جس سے وہ آدمی کو اپنے پھندے میں پھانستا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے آخرت سے غافل کرتا ہے۔ اس کے اس فریب سے جو شخص بچ نکلے وہ کبھی اس بات پر راضی نہ ہوگا کہ اپنی اصل دائمی زندگی کے مفاد کو دنیا کی اس عارضی زندگی کے مفاد پر قربان کر دے۔ بخلاف اس کے جو شخص شیطان کے دام میں آ کر آخرت کا منکر ہوجائے، یا کم از کم اس کی طرف سے شک میں پڑجائے، اسے کوئی چیز اس بات پر آمادہ نہیں کرسکتی کہ جو نقد سودا اس دنیا میں ہو رہا ہے اس سے صرف اس لیے ہاتھ اٹھا لے کہ اس سے کسی بعد کی زندگی میں نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ دنیا میں جو شخص بھی گمراہ ہوا ہے اسی انکار آخرت یا شک فی الآخرۃ کی وجہ سے ہوا ہے، اور جس نے بھی راست روی اختیار کی ہے اس کے صحیح طرز عمل کی بنیاد ایمان بالآخرۃ ہی پر قائم ہوئی ہے۔ سورة سَبـَا 37 قوم سبا کی تاریخ کی طرف یہ اشارات جو قرآن مجید میں کیے گئے ہیں ان کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ معلومات بھی ہماری نگاہ میں رہیں جو اس قوم کے متعلق دوسرے تاریخی ذرائع سے فراہم ہوئی ہیں۔ تاریخ کی رو سے " سبا " جنوبی عرب کی ایک بہت بڑی قوم کا نام ہے جو چند بڑے بڑے قبائل پر مشتمل تھی۔ امام احمد، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن عبدالبرّ اور ترمذی نے رسول اللہ ﷺ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ سبا عرب کے ایک شخص کا نام تھا جس کی نسل سے عرب میں حسب ذیل قبیلے پیدا ہوئے کِنْدَہ۔ حِمْرَ۔ اَزْد۔ اَشْعَریین۔ مَذْحِج۔ اَنْمار) جس کی دو شاخیں ہیں خَثْعَمْ اور بجیْلَہ)۔ عامِلہ۔ جُدّام۔ لَحْم اور غسان۔ بہت قدیم زمانے سے دنیا میں عرب کی اس قوم کا شہرہ تھا۔ 2500 قبل مسیح میں اور کے کتبات اس کا ذکر سابوم کے نام سے کرتے ہیں۔ اس کے بعد بابل اور آشور (اسیریا) کے کتبات میں اور اسی طرح بائیبل میں بھی کثرت سے اس کا ذکر آیا ہے، (مثال کے طور پر ملاحظہ ہو زبور، 72 15۔ یرمیاہ 620۔ حذقی ایل 2722۔ 3813۔ ایوب 619) یونان و روم کے مورخین و جغرافیہ نویس تھیو فراسٹس (288 قبل مسیح) کے وقت سے مسیح کے بعد کی کئی صدیوں تک مسلسل اس کا ذکر کرتے چلے گئے ہیں۔ اس کا وطن عرب کا جنوبی کونا تھا جو آج یمن کے نام سے مشہور ہے۔ اس کے عروج کا دور گیارہ سو برس قبل مسیح سے شروع ہوتا ہے۔ حضرت داؤد و سلیمان (علیہما السلام) کے زمانے میں ایک دولت مند قوم کی حیثیت سے اس کا شہرہ آفاق میں پھیل چکا تھا۔ آغاز میں یہ ایک آفتاب پرست قوم تھی۔ پھر جب اس کی ملکہ حضرت سلیمان (965۔ 926 قبل مسیح) کے ہاتھ پر ایمان لے آئی تو اغلب یہ ہے کہ اس کی غالب اکثریت مسلمان ہوگئی تھی۔ لیکن بعد میں نہ معلوم کس وقت اس کے اندر شرک و بت پرستی کا پھر زور ہوگیا اور اس نے اَلْمقہ (چاند دیوتا) ، عَشْتَر (زُہرہ) ذات حمیم اور ذاب بعدان (سورج دیوی) ہوبس، حرمتم یا حریمت اور ایسے ہی دوسرے بہت سے دیوتاؤں اور دیویوں کو پوجنا شروع کردیا۔ اَلْمقہ اس قوم کا سب سے بڑا دیوتا تھا، اور اس کے بادشاہ اپنے آپ کو اسی دیوتا کے وکیل کی حیثیت سے اطاعت کا حق دار قرار دیتے۔ یمن میں بکثرت کتبات ملے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ سارا ملک ان دیوتاؤں، اور خصوصاً اَلمقہ کے مندروں سے بھرا ہوا تھا اور ہر اہم واقعہ پر ان کے شکریے ادا کیے جاتے تھے۔ آثار قدیمہ کی جدید تحقیقات کے سلسلے میں یمن سے تقریباً 3 ہزار کتبات فراہم ہوئے ہیں جو اس قوم کی تاریخ پر اہم روشنی ڈالتے ہیں۔ اس کے ساتھ عربی روایات اور رومی و یونانی تواریخ کی فراہم کردہ معلومات کو اگر جمع کرلیا جائے تو اچھی خاصی تفصیل کے ساتھ اس کی تاریخ مرتب کی جاسکتی ہے۔ ان معلومات کی رو سے اس کی تاریخ کے اہم ادوار حسب ذیل ہیں 1۔ 650 قبل مسیح سے پہلے کا دور۔ اس زمانے میں ملوک سبا کا لقب مُکَرِّبِ سبا تھا۔ اغلب یہ ہے کہ یہ لفظ مُقَرِّب کا ہم معنی تھا اور اس کا مطلب یہ تھا کہ یہ بادشاہ انسانوں اور خداؤں کے درمیان اپنے آپ کو واسطہ قرار دیتے تھے، یا دوسرے الفاظ میں یہ کاہن بادشاہ (Priest-Kings) تھے۔ اس زمانے میں ان کا پایہ تخت صرواح تھا جس کے کھنڈر آج بھی مارب سے مغرب ایک دن کی راہ پر پائے جاتے ہیں اور خربیہ کے جام سے مشہور ہیں۔ اسی دور میں مارب کے چند بند کی بنا رکھی گئی اور وقتاً فوقتاً مختلف بادشاہوں نے اسے وسیع کیا۔ 2۔ 650 قبل مسیح سے 115 قبل مسیح تک کا دور۔ اس دور میں سبا کے بادشاہوں نے مکرب کا لقب چھوڑ کر مَلِک (بادشاہ) کا لقب اختیار کرلیا، جس کے معنی یہ ہیں کہ حکومت میں مذہبیت کی جگہ سیاست اور سیکولرازم کا رنگ غالب ہوگیا اس زمانے میں ملوک سبا نے صرواح کو چھوڑ کر مارب کو اپنا دار السلطنت بنایا اور اسے غیر معمولی ترقی دی۔ یہ مقام سمندر سے 3900 فیٹ کی بلندی پر صنعاء سے 60 میل جانب مشرق واقع اور آج تک اس کے کھنڈر شہادت دے رہے ہیں کہ یہ کبھی ایک بڑی متمدن قوم کا مرکز تھا۔ 3۔ 115 ق م سے 300 عیسوی تک کا دور۔ اس زمانے میں سبا کی مملکت پر حمیر کا قبیلہ غالب ہوگیا جو قوم سبا ہی کا ایک قبیلہ تھا اور تعداد میں دوسرے تمام قبائل سے بڑھا ہوا تھا۔ اس دور میں مارب کو اجاڑ کر ریدان پایہ تخت بنایا گیا جو قبیلہ حمیر کا مرکز تھا۔ بعد میں یہ شہر ظفار کے نام سے موسوم ہوا۔ آج کل موجودہ شہر یریم کے قریب ایک مدوَّر پہاڑی پر اس کے کھنڈر ملتے ہیں اور اسی کے قریب علاقہ میں ایک چھوٹا سا قبیلہ حمیر کے نام سے آباد ہے جسے دیکھ کر کوئی شخص تصور تک نہیں کرسکتا کہ یہ اسی قوم کی یاد گار ہے جس کے ڈنکے کبھی دنیا بھر میں بجتے تھے۔ اسی زمانے میں سلطنت کے ایک حصہ کی حیثیت سے پہلی مرتبہ لفظ یمنت اور یمینات کا استعمال ہونا شروع ہوا اور رفتہ رفتہ یمن اس پورے علاقے کا نام ہوگیا جو عرب کے جنوبی مغربی کونے پر عسیر سے عدن تک اور باب المندب سے حضرموت تک واقع ہے۔ یہی دور ہے جس میں سبائیوں کا زوال شروع ہوا۔ 4۔ 300 کے بعد سے آغاز اسلام تک کا دور۔ یہ قوم سبا کی تباہی کا دور ہے۔ اس دور میں ان کے ہاں مسلسل خانہ جنگیاں ہوئیں۔ بیرونی قوموں کی مداخلت شروع ہوئی۔ تجارت برباد ہوئی۔ زراعت نے دم توڑا اور آخر کار آزادی تک ختم ہوگئی۔ پہلے ریدانیوں، حمیریوں، اور ہمدانیوں کی باہمی نزاعات سے فائدہ اٹھا کر 340 سے 378 تک یمن پر حبشیوں کا قبضہ رہا۔ پھر آزادی تو بحال ہوگئی مگر مارب کے مشہور بند میں رخنے پڑنے شروع ہوگئے یہاں تک کہ آخر کار 450 یا 451 میں بند کے ٹوٹنے سے وہ عظیم سیلاب آیا جس کا ذکر قرآن مجید کی آیات میں کیا گیا ہے۔ اگرچہ اس کے بعد ابرہہ کے زمانے تک اس بند کی مسلسل مرمتیں ہوتی رہیں، لیکن جو آبادی منتشر ہوچکی تھی وہ پھر جمع نہ ہوسکی اور نہ آب پاشی اور زراعت کا وہ نظام جو درہم برہم ہوچکا تھا، دوبارہ بحال ہوسکا۔ 523 میں یمن کے یہودی بادشاہ ذونواس نے نجران کے عیسائیوں پر وہ ظلم و ستم برپا کیا جس کا ذکر قرآن مجید میں اصحاب الاخدود کے نام سے کیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں حبش کی عیسائی سلطنت یمن پر انتقاماً حملہ آور ہوگئی اور اس نے سارا ملک فتح کرلیا۔ اس کے بعد یمن کے حبشی وائسرائے ابرہہ نے کعبہ کی مرکزیت ختم کرنے اور عرب کے پورے مغربی علاقے کو رومی حبشی اثر میں لانے کے لیے 570 یا 571 میں (نبی ﷺ کی پیدائش سے چند روز قبل) مکہ معظمہ پر حملہ کیا اور اس کی پوری فوج پر وہ تباہی آئی جسے قرآن مجید میں اصحاب الفیل کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے۔ آخر کار 575 میں یمن پر ایرانیوں کا قبضہ ہوا، اور اس کا خاتمہ اس وقت ہوا جب 628 میں ایرانی گورنر باذان نے اسلام قبول کرلیا۔ قوم سبا کا عروج دراصل دو بنیادوں پر قائم تھا۔ ایک زراعت۔ دوسرے تجارت۔ زراعت کو انہوں نے آب پاشی کے ایک بہترین نظام کے ذریعہ سے ترقی دی تھی جس کے مثل کوئی دوسرا نظام آب پاشی بابل کے سوا قدیم زمانے میں کہیں نہ پایا جاتا تھا۔ ان کی سر زمین میں قدرتی دریا نہ تھے۔ بارش کے زمانے میں پہاڑوں سے برساتی نالے بہ نکلتے تھے۔ انہی نالوں پر سارے ملک میں جگہ جگہ بند باندھ کر انہوں نے تالاب بنا لیے تھے اور ان سے نہریں نکال نکال کر پورے ملک کو اس طرح سیراب کردیا تھا کہ قرآن مجید کی تعبیر کے مطابق ہر طرف ایک باغ ہی باغ نظر آتا تھا۔ اس نظام آب پاشی کا سب سے بڑا مخزن آب وہ تالاب تھا جو شہر مارب کے قریب کوہ بلق کی درمیانی وادی پر بند باندھ کر تیار کیا گیا تھا مگر جب اللہ کی نظر عنایت ان سے پھر گئی تو پانچویں صدی عیسوی کے وسط میں یہ عظیم الشان بند ٹوٹ گیا اور اس سے نکلنے والا سیلاب راستے میں بند توڑتا چلا گیا یہاں تک کہ ملک کا پورا نظام آب پاشی تباہ ہو کر رہ گیا۔ پھر کوئی اسے بحال نہ کرسکا۔ تجارت کے لیے اس قوم کو خدا نے بہترین جغرافی مقام عطا کیا تھا جس سے اس نے خوب فائدہ اٹھایا۔ ایک ہزار برس سے زیادہ مدت تک یہی قوم مشرق اور مغرب کے درمیان تجارت کا واسطہ بنی رہی۔ ایک طرف ان کے بندرگاہوں میں چین کا ریشم، انڈونیشیا اور مالا بار کے گرم مسالے، ہندوستان کے کپڑے اور تلواریں، مشرقی افریقہ کے زنگی غلام، بندر شتر مرغ کے پر اور ہاتھی دانت پہنچتے تھے اور دوسری طرف یہ ان چیزوں کو مصر اور شام کی منڈیوں میں پہنچاتے تھے جہاں سے روم و یونان تک یہ مال روانہ کیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ خود ان کے علاقے میں لوبان، عود، عنبر، مشک، مُرّ ، قرفہ، قصب الذَّرِیرہ، سلیخہ اور دوسری ان خوشبو دار چیزوں کی بڑی پیداوار تھی جنہیں مصر و شام اور روم و یونان کے لوگ ہاتھوں ہاتھ لیتے تھے۔ اس عظیم الشان تجارت کے دو بڑے راستے تھے۔ ایک بحری۔ دوسری بری۔ بحری تجارت کا اجارہ ہزار سال تک انہی سبائیوں کے ہاتھ میں تھا، کیونکہ بحر احمر کی موسمی ہواؤں، زیر آپ چٹانوں، اور لنگر اندازی کے مقامات کا راز یہی لوگ جانتے تھے اور دوسری کوئی قوم اس خطرناک سمندر میں جہاز چلانے کی ہمت نہ رکھتی تھی۔ اس بحری راستے سے یہ لوگ اردن اور مصر کی بندرگاہوں تک اپنا مال پہنچایا کرتے تھے۔ بری راستے عدن اور حضرموت سے مارب پر جا کر ملتے تھے اور پھر وہاں سے ایک شاہراہ مکہ، جدہ، یثرب، العُلاء، تبوک اور ایلہ سے گزرتے ہوئی پَٹرا تک پہنچتی تھی۔ اس کے بعد ایک راستہ مصر کی طرف اور دوسرا راستہ شام کی طرف جاتا تھا۔ اس بری راستے پر، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے، یمن سے حدود شام تک سبائیوں کی نو آبادیاں مسلسل قائم تھیں اور شب و روز ان کے تجارتی قافلے یہاں سے گزرتے رہتے تھے۔ آج تک ان میں سے بہت سی نو آبادیوں کے آثار اس علاقے میں موجود ہیں اور وہاں سبائی و حمیری زبان کے کتبات مل رہے ہیں۔ پہلی صدی عیسوی کے لگ بھگ زمانے میں اس تجارت پر زوال آنا شروع ہوگیا۔ مشرق اوسط میں جب یونانیوں اور پھر رومیوں کی طاقتور سلطنتیں قائم ہوئیں تو شور مچنا شروع ہوا کہ عرب تاجر اپنی اجارہ داری کے باعث مشرق کے اموال تجارت کی من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں اور ضرورت ہے کہ ہم خود اس میدان میں آگے بڑھ کر اس تجارت پر قبضہ کریں۔ اس غرض کے لیے سب سے پہلے مصر کے یونانی الاصل فرمانروا بطلیموس ثانی (285۔ 246 قبل مسیح) نے اس قدیم نہر کو پھر سے کھولا جو 17 سو برس پہلے فرعون سسوسترِیس نے دریائے نیل کو بحر احمر سے ملانے کے لیے کھدوائی تھی۔ اس نہر کے ذریعہ سے مصر کا بحری بیڑا پہلی مرتبہ بحر احمر میں داخل ہوا۔ لیکن سبائیوں کے مقابلے میں یہ کوشش زیادہ کارگر نہ ہوسکی۔ پھر جب مصر پر روم کا قبضہ ہوا تو رومی زیادہ طاقتور تجارتی بیڑا بحر احمر میں لے آئے اور اس کی پشت پر انہوں نے ایک جنگی بیڑا بھی لا کر ڈال دیا۔ اس طاقت کا مقابلہ سبائیوں کے بس میں نہ تھا۔ رومیوں نے جگہ جگہ بندرگاہوں پر اپنی تجارتی نو آبادیاں قائم کیں، ان میں جہازوں کی ضروریات فراہم کرنے کا انتظام کیا، اور جہاں ممکن ہو وہاں اپنے فوجی دستے بھی رکھ دیئے۔ حتیٰ کہ ایک وقت وہ آ گیا کہ عدن پر رومیوں کا فوجی تسلط قائم ہوگیا۔ اسی سلسلے میں رومی اور حبشی سلطنتوں نے سبائیوں کے مقابلے میں باہم ساز باز بھی کرلیا جس کی بدولت بالآخر اس قوم کی آزادی تک ختم ہوگئی۔ بحری تجارت ہاتھ سے نکل جانے کے بعد صرف بری تجارت سبائیوں کے پاس رہ گئی تھی۔ مگر بہت سے اسباب نے رفتہ رفتہ اس کی کمر بھی توڑ دی۔ پہلے نبطیوں نے پیڑا سے العلا تک بالائی حجاز اور اردن کی تمام نو آبادیوں سے سبائیوں کو نکال باہر کیا۔ پھر 106 میں رومیوں نے نبطی سلطنت کا خاتمہ کردیا اور حجاز کی سرحد تک شام و اردن کے تمام علاقے ان کے مضبوط ہاتھوں میں چلے گئے۔ اس کے بعد حبش اور روم کی متحدہ کوشش یہ رہی کہ سبائیوں کی باہمی کشمکش سے فائدہ اٹھا کر ان کی تجارت کو بالکل تباہ کردیا جائے۔ اسی بنا پر حبشی بار بار یمن میں مداخلت کرتے رہے یہاں تک کہ آخر کار انہوں نے پورے ملک پر قبضہ کرلیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کے غضب نے اس قوم کو انتہائی عروج سے گرا کر اس گڑھے میں پھینک دیا جہان سے پھر کوئی مغضوب قوم کبھی سر نہیں نکال سکی ہے۔ ایک وقت تھا کہ اس کی دولت کے افسانے سن سن کر یونان و روم والوں کے منہ میں پانی بھر آتا تھا۔ اسٹرابو لکھتا ہے کہ یہ لوگ سونے اور چاندی کے برتن استعمال کرتے ہیں، اور ان کے مکانوں کی چھتوں، دیواروں اور دروازوں تک میں ہاتھی دانت، سونے، چاندی اور جواہر کا کام بنا ہوا ہوتا ہے۔ پلینی کہتا ہے کہ روم اور فارس کی دولت ان کی طرف بہی چلی جا رہی ہے، یہ اس وقت دنیا کی سب سے زیادہ مالدار قوم ہیں، اور ان کا سر سبز و شاداب ملک باغات، کھیتوں اور مواشی سے بھرا ہوا ہے۔ آرٹی میڈورس کہتا ہے کہ یہ لوگ عیش میں مست ہو رہے ہیں اور جلانے کی لکڑی کے بجائے دار چینی، صندل اور دوسری خوشبو دار لکڑیاں جلاتے ہیں۔ اسی طرح دوسرے یونانی مورخین روایت کرتے ہیں کہ ان کے قریب سواحل سے گزرتے ہوئے تجارتی جہازوں تک خوشبو کی لپیٹیں پہنچتی ہیں۔ انہوں نے تاریخ میں پہلی مرتبہ صنعا کے بلند پہاڑی مقام پر وہ فلک شگاف عمارت (Skyscraper) تعمیر کی جو قصر غمدان کے نام سے صدیوں تک رہا جب تک اللہ کا فضل ان کے شامل حال رہا۔ آخر کار جب انہوں نے کفران نعمت کی حد کردی تو رب قدیر کی نظر عنایت ہمیشہ کے لیے ان سے پھر گئی اور ان کا نام و نشان تک باقی نہ رہا۔
Ayah 34:22

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۚ لَا یَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا لَهُمْ فِیْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِیْرٍ Open ayah 34:22 in the Quran reader

38 (اے نبیؐ ، اِن مشرکین سے)کہو کہ پکار دیکھو اپنے اُن معبُودوں کو جنہیں تم اللہ کے سوا اپنا معبُود سمجھے بیٹھے ہو 39۔ وہ نہ آسمانوں میں کسی ذرّہ برابر چیز کے مالک ہیں نہ زمین میں۔ وہ آسمان و زمین کی ملکیّت میں شریک بھی نہیں ہیں۔ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار بھی نہیں ہے

سورة سَبـَا 38 پچھلے دو رکوعوں میں آخرت کے متعلق مشرکین کے غلط تصورات پر کلام فرمایا گیا تھا۔ اب تقریر کا رخ تردید شرک کے مضمون کی طرف پھر رہا ہے۔ سورة سَبـَا 39 یعنی اللہ تو یوں اشخاص اور اقوام اور سلطنتوں کی قسمتیں بناتا اور بگاڑتا ہے، جیسا کہ ابھی تم داؤد و سلیمان (علیہما السلام) اور قوم سبا کے ذکر میں سن چکے ہو۔ اب ذرا اپنے ان بناوٹی معبودوں کو پکار کر دیکھ لو، کیا ان میں بھی یہ طاقت ہے کہ کسی کے اقبال کو ادبار سے، یا ادبار کو اقال سے بدل سکیں ؟
Ayah 34:23

وَ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَا ذَا١ۙ قَالَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوا الْحَقَّ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 34:23 in the Quran reader

اور اللہ کے حضور کوئی شفاعت بھی کسی کے لیے نافع نہیں ہو سکتی بجُز اُس شخص کے جس کے لیے اللہ نے سفارش کی اجازت دی ہو 40۔ حتٰی کہ جب لوگوں کے دلوں سے گھبراہٹ دُور ہوگی تو وہ (سفارِش کرنے والوں سے)پوچھیں گے کہ تمہارے ربّ نے کیا جواب دیا۔ وہ کہیں گے کہ ٹھیک جواب ملا ہے اور وہ بزرگ و برتر ہے۔ 41

سورة سَبـَا 40 یعنی کسی کا خود مالک ہونا، یا ملکیت میں شریک ہونا، یا مددگار خدا ہونا تو درکنار، ساری کائنات میں کوئی ایسی ہستی تک نہیں پائی جاتی جو اللہ تعالیٰ کے حضور کسی کے حق میں بطور خود سفارش کرسکے۔ تم لوگ اس غلط فہمی میں پڑے ہوئے ہو کہ کچھ خدا کے پیارے ایسے ہیں، یا خدا کی خدائی میں کچھ بندے ایسے زور آور ہیں کہ وہ اڑ بیٹھیں تو خدا کو ان کی سفارش ماننی ہی پڑے گی۔ حالانکہ وہاں حال یہ ہے کہ اجازت لیے بغیر کوئی زبان کھولنے کی جرأت نہیں کرسکتا۔ جس کو اجازت ملے گی صرف وہی کچھ عرض کرسکے گا۔ اور جس کے حق میں سفارش کرنے کی اجازت ملے گی اسی کے حق میں عرض معروض کی جاسکے گی۔ (اسلامی عقیدہ شفاعت اور مشرکانہ عقیدہ شفاعت کے فرق کو سمجھنے کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، ص 262۔ 275۔ 356۔ 368۔ 556۔ 562۔ جلد سوم، ص 162۔ 155۔ 252)۔ سورة سَبـَا 41 یہاں اس وقت کا نقشہ کھینچا گیا ہے جب قیامت کے روز کوئی سفارش کرنے والا کسی کے حق میں سفارش کی اجازت طلب کرے گا۔ اس نقشے میں یہ کیفیت ہمارے سامنے آتی ہے کہ طلب اجازت کی درخواست بھیجنے کے بعد شافع اور مشفوع دونوں نہایت بےچینی کے عالم میں ڈرتے اور کانپتے ہوئے جواب کے منتظر کھڑے ہیں۔ آخر کار جب اوپر سے اجازت آجاتی ہے اور شافع کے چہرے سے مشفوع بھانپ جاتا ہے کہ معاملہ کچھ اطمینان بخش ہے تو اس کی جان میں جان آتی ہے اور وہ آگے بڑھ کر شافع سے پوچھتا ہے " کیا جواب آیا " ؟ شافع جواب دیتا ہے کہ ٹھیک ہے، اجازت مل گئی ہے۔ اس بیان سے جو بات ذہن نشین کرنی مقصود ہے وہ یہ ہے کہ نادانو ! جس بڑے دربار کی شان یہ ہے اس کے متعلق تم کس خیال خام میں پڑے ہوئے ہو کہ وہاں کوئی اپنے زور سے تم کو بخشوا لے گا یا کسی کی یہ مجال ہوگی کہ وہاں مچل کر بیٹھ جائے اور اللہ سے کہے کہ یہ تو میرے متوسّل ہیں، انہیں تو بخشنا ہی پڑے گا۔
Ayah 34:24

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّاۤ اَوْ اِیَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 34:24 in the Quran reader

(اے نبیؐ)اِن سے پوچھو”کون تم کو آسمانوں اور زمین سے رزق دیتا ہے؟“کہو”اللہ 42۔ اب لامحالہ ہم میں اور تم میں سے کوئی ایک ہی ہدایت پر ہے یا کھُلی گمراہی میں پڑا ہوا ہے۔ 43“

سورة سَبـَا 42 سوال اور جواب کے درمیان ایک لطیف خلا ہے۔ مخاطب مشرکین تھے جو صرف یہی نہیں کہ اللہ کی ہستی کے منکر نہ تھے بلکہ یہ بھی جانتے تھے کہ رزق کی کنجیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ مگر اس کے باوجود وہ دوسروں کو خدائی میں شریک ٹھہراتے تھے۔ اب جو ان کے سامنے یہ سوال پیش کیا گیا کہ بتاؤ کون تمہیں آسمان و زمین سے رزق دیتا ہے، تو وہ مشکل میں پڑگئے۔ اللہ کے سوا کسی کا نام لیتے ہیں تو خود اپنے اور اپنی قوم کے عقیدے کے خلاف بات کہتے ہیں۔ ہٹ دھرمی کی بنا پر ایسی بات کہہ بھی دیں تو ڈرتے ہیں کہ خود اپنی قوم کے لوگ ہی اس کی تردید کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اور اگر تسلیم کرلیتے ہیں کہ اللہ ہی رزق دینے والا ہے تو فوراً دوسرا سوال یہ سامنے آجاتا ہے کہ پھر یہ دوسرے کس مرض کی دوا ہیں جنہیں تم نے خدا بنا رکھا ہے ؟ رزق تو دے اللہ، اور پوجے جائیں یہ، آخر تمہاری عقل کہاں ماری گئی ہے کہ اتنی بات بھی نہیں سمجھتے۔ اس دو گونہ مشکل میں پڑ کر وہ دم بخود رہ جاتے ہیں۔ نہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ ہی رزق دینے والا ہے۔ نہ یہ کہتے ہیں کہ کوئی دوسرا معبود رازق ہے۔ پوچھنے والا جب دیکھتا ہے کہ یہ لوگ کچھ نہیں بولتے، تو وہ خود اپنے سوال کا جواب دیتا ہے کہ " اللہ "۔ سورة سَبـَا 43 اس فقرے میں حکمت تبلیغ کا ایک اہم نکتہ پوشیدہ ہے۔ اوپر کے سوال و جواب کا منطقی نتیجہ یہ تھا کہ جو اللہ ہی کی بندگی و پرستش کرتا ہے وہ ہدایت پر ہو اور جو اس کے سوا دوسروں کی بندگی بجا لاتا ہے وہ گمراہی میں مبتلا ہو۔ اس بنا پر بظاہر تو اس کے بعد کہنا یہ چاہیے تھا کہ ہم ہدایت پر ہیں اور تم گمراہ ہو۔ لیکن اس طرح دو ٹوک بات کہہ دینا حق گوئی کے اعتبار سے خواہ کتنا ہی درست ہوتا حکمت تبلیغ کے لحاظ سے درست نہ ہوتا۔ کیونکہ جب کسی شخص کو مخاطب کر کے آپ صاف صاف گمراہ کہہ دیں اور خود اپنے برسر ہدایت ہونے کا دعویٰ کریں تو وہ ضد میں مبتلا ہوجائے گا اور سچائی کے لیے اس کے دل کے دروازے بند ہوجائیں گے۔ اللہ کے رسول ﷺ چونکہ مجرد حق گوئی کے لیے نہیں بھیجے جاتے بلکہ ان کے سپرد یہ کام بھی ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ حکیمانہ طریقے سے بگڑے ہوئے لوگوں کی اصلاح کریں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ اے نبی، اس سوال و جواب کے بعد اب تم ان لوگوں سے صاف کہہ دو کہ تم سب گمراہ ہو اور ہدایت پر صرف ہم ہیں۔ اس کے بجائے تلقین یہ فرمائی گئی کہ انہیں اب یوں سمجھاؤ۔ ان سے کہو ہمارے اور تمہارے درمیان یہ فرق تو کھل گیا کہ ہم اسی کو معبود مانتے جو رزق دینے والا ہے، اور تم ان کو معبود بنا رہے ہو جو رزق دینے والے نہیں ہیں۔ اب یہ کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ ہم اور تم دونوں بیک وقت راہ راست پر ہوں۔ اس صریح فرق کے ساتھ تو ہم میں سے ایک ہی راہ راست پر ہوسکتا ہے، اور دوسرا لامحالہ گمراہ ٹھہرتا ہے۔ اس کے بعد یہ سوچنا تمہارا اپنا کام ہے کہ دلیل کے برسر ہدایت ہونے کا فیصلہ کر رہی ہے اور کون اس کی رو سے گمراہ ہے۔
Ayah 34:25

قُلْ لَّا تُسْئَلُوْنَ عَمَّاۤ اَجْرَمْنَا وَ لَا نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:25 in the Quran reader

ان سے کہو”جو قصُور ہم نے کیا ہواس کی کوئی باز پرس تم سے نہ ہوگی اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس کی کوئی جواب طلبی ہم سے نہیں کی جائے گی 44۔“

سورة سَبـَا 44 اوپر کی بات سامعین کو پہلے ہی سوچنے پر مجبور کرچکی تھی۔ اس پر مزید ایک فقرہ یہ فرما دیا گیا تاکہ وہ اور زیادہ تفکر سے کام لیں۔ اس سے ان کو یہ احساس دلایا گیا کہ ہدایت اور گمراہی کے اس معاملے کا ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرنا ہم میں سے ہر ایک کے اپنے مفاد کا تقاضا ہے۔ فرض کرو کہ ہم گمراہ ہیں تو اپنی اس گمراہی کا خمیازہ ہم ہی بھگتیں گے، تم پر اس کی کوئی پکڑ نہ ہوگی۔ اس لیے یہ ہمارے اپنے مفاد کا تقاضا ہے کہ کوئی عقیدہ اختیار کرنے سے پہلے خوب سوچ لیں کہ کہیں ہم غلط راہ پر تو نہیں جا رہے ہیں۔ اسی طرح تم کو بھی ہماری کسی غرض کے لیے نہیں بلکہ خود اپنی ہی خیر خواہی کی خاطر ایک عقیدے پر جمنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لینا چاہیے کہ کہیں تم کسی باطل نظریے پر تو اپنی زندگی کی ساری پونجی نہیں لگا رہے ہو۔ اس معاملے میں اگر تم نے ٹھوکر کھائی تو تمہارا اپنا ہی نقصان ہوگا، ہمارا کچھ نہ بگڑے گا۔
Ayah 34:26

قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ هُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ Open ayah 34:26 in the Quran reader

کہو”ہمارا ربّ ہم کو جمع کرے گا، پھر ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے گا۔ وہ ایسا زبردست حاکم ہے جو سب کچھ جانتا ہے۔ 45“

سورة سَبـَا 45 یہ اس معاملہ پر غور کرنے کے لیے آخری اور سب سے بڑا محرک ہے جس کی طرف سامعین کی توجہ دلائی گئی ہے۔ بات اسی حد پر ختم نہیں ہوجاتی کہ اس زندگی میں ہمارے اور تمہارے درمیان حق و باطل کا اختلاف ہے اور ہم میں سے کوئی ایک ہی حق پر ہے، بلکہ اس کے آگے حقیقت نفس الامری یہ بھی ہے کہ ہمیں اور تمہیں، دونوں ہی کو اپنے رب کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ اور رب وہ ہے جو حقیقت کو بھی جانتا ہے اور ہم دونوں گروہوں کے حالات سے بھی پوری طرح باخبر ہے۔ وہاں جا کر نہ صرف اس امر کا فیصلہ ہوگا کہ ہم میں اور تم میں سے حق پر کون تھا اور باطل پر کون۔ بلکہ اس مقدمے کا فیصلہ بھی ہوجائے گا کہ ہم نے تم پر حق واضح کرنے کے لیے کیا کچھ کیا اور تم نے باطل پرستی کی ضد میں آ کر ہماری مخالفت کس کس طرح کی۔
Ayah 34:27

قُلْ اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِهٖ شُرَكَآءَ كَلَّا١ؕ بَلْ هُوَ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 34:27 in the Quran reader

اِن سے کہو”ذرامجھے دکھاوٴ تو سہی وہ کون ہستیاں ہیں جنہیں تم نے اس کے ساتھ شریک لگا رکھا ہے۔ 46“ ہر گز نہیں، زبردست اور دانا تو بس وہ اللہ ہی ہے

سورة سَبـَا 46 یعنی قبل اس کے کہ تم ان معبودوں کے بھروسے پر اتنا بڑا خطرہ مول لو، ذرا مجھے یہیں بتادو کہ ان میں کون اتنا زور آور ہے کہ اللہ کی عدالت میں وہ تمہارا حمایتی بن کر اٹھ سکتا ہو اور تمہیں اس کی گرفت سے بچا سکتا ہو۔
Ayah 34:28

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 34:28 in the Quran reader

اور (اے نبیؐ)ہم نے تم کو تمام ہی انسانوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ 47

سورة سَبـَا 47 یعنی تم صرف اسی شہر، یا اسی ملک، یا اسی زمانے کے لوگوں کے لیے نہیں بلکہ تمام دنیا کے انسانوں کے لیے اور ہمیشہ کے لیے نبی بنا کر بھیجے گئے ہو۔ مگر یہ تمہارے ہم عصر اہل وطن تمہاری قدر و منزلت کو نہیں سمجھتے اور ان کو احساس نہیں ہے کہ کیسی عظیم ہستی کی بعثت سے ان کو نوازا گیا ہے۔ یہ بات کہ نبی ﷺ صرف اپنے ملک یا اپنے زمانے کے لیے نہیں بلکہ قیامت تک پوری نوع بشری کے لیے مبعوث فرمائے گئے ہیں، قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان کی گئی ہے۔ مثلاً وَاُحِیَ اِلَیَّ ھٰذَا القرآنُ لِاُنْذِرَکُم بِہ وَمَنْ بَلَغَ (لانعام 197) اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے میں تم کو متنبہ کروں اور ہر اس شخص کو جسے یہ پہنچے۔ قُلْ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعاً (الاعراف۔ 158) اے نبی کہہ دو کہ اے انسانو، میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔ وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃ لِّلعٰلَمِیْنَ (الانبیاء۔ 107) اور اے نبی، ہم نے نہیں بھیجا تم کو مگر تمام ایمان والوں کے لیے رحمت کے طور پر۔ تَبٰرَ کَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلیٰ عَبْدِہ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِیْنَ نَذِیْراً۔ (الفرقان۔ 1) بڑی برکت والا ہے وہ جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیا تاکہ وہ تمام جہان والوں کے لیے متنبہ کرنے والا ہو۔ یہی مضمون نبی ﷺ نے خود بھی بہت سی احادیث میں مختلف طریقوں سے بیان فرمایا ہے۔ مثلاً بُعِثْتُ اِلَی الْاَحْمَرِ وَالْاَسْوَدِ (مسند احمد، مرویات ابو موسیٰ اشعری) میں کالے اور گورے سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ امّا انا فارسلت الی الناس کلھم عامۃ وکان من قبلی انما یُرْسَلُ الیٰ قومہ (مسند احمد، مرویات عبداللہ بن عمرو بن عاص) میں عمومیت کے ساتھ تمام انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ حالانکہ مجھ سے پہلے جو نبی بھی گزرا ہے وہ اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا۔ وکان النبی یبعث الیٰ قومہ خاصۃ وبعثت الی الناس عامۃ (بخاری و مسلم، من حدیث جابر بن عبداللہ) پہلے ہر نبی خاص اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوتا تھا اور میں تمام انسانوں کے لیے مبعوث ہوا ہوں۔ بعثت انا والساعۃ کھاتین یعنی اصبعین۔ (بخاری و مسلم) میری بعثت اور قیامت اس طرح ہیں، یہ فرماتے ہوئے نبی ﷺ نے اپنی دو انگلیاں اٹھائیں۔ مطلب یہ تھا کہ جس طرح ان دو انگلیوں کے درمیان کوئی تیسری انگلی حائل نہیں ہے اسی طرح میرے اور قیامت کے درمیان بھی کوئی نبوت نہیں ہے۔ میرے بعد بس قیامت ہی ہے اور قیامت تک میں ہی نبی رہنے والا ہوں۔
Ayah 34:29

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 34:29 in the Quran reader

یہ لوگ تم سے کہتے ہیں کہ (قیامت کا)وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو 48 ؟

سورة سَبـَا 48 یعنی جس وقت کے متعلق ابھی تم نے کہا ہے کہ " ہمارا رب ہم کو جمع کرے گا اور ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے گا "، وہ وقت آخر کب آئے گا ؟ ایک مدت سے ہمارا مقدمہ چل رہا ہے۔ ہم تمہیں بار بار جھٹلا چکے ہیں اور کھلم کھلا تمہاری مخالفت کیے جا رہے ہیں۔ اب اس کا فیصلہ کیوں نہیں کر ڈالا جاتا ؟
Ayah 34:30

قُلْ لَّكُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْهُ سَاعَةً وَّ لَا تَسْتَقْدِمُوْنَ۠ Open ayah 34:30 in the Quran reader

کہو تمہارے لیے ایک ایسے دن کی میعاد مقرر ہے جس کے آنے میں نہ ایک گھڑی بھر کی تاخیر تم کر سکتے ہو اور نہ ایک گھڑی بھر پہلے اُسے لاسکتے ہو۔ 49

سورة سَبـَا 49 دوسرے الفاظ میں اس جواب کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے تمہاری خواہشات کے تابع نہیں ہیں کہ کسی کام کے لیے جو وقت تم مقرر کرو اسی وقت پر وہ اس کام کو کرنے کا پابند ہو۔ اپنے معاملات کو وہ اپنی ہی صوابدید کے مطابق انجام دیتا ہے۔ تم اسے کیا سمجھ سکتے ہو کہ اللہ کی اسکیم میں نوع انسانی کو کب تک اس دنیا کے اندر کام کرنے کا موقع ملنا ہے، کتنے اشخاص اور کتنی قوموں کی کس کس طرح آزمائش ہونی ہے، اور کونسا وقت اللہ ہی کی اسکیم میں مقرر ہے اسی وقت پر یہ کام ہوگا۔ نہ تمہارے تقاضوں سے وہ وقت ایک سکنڈ پہلے آئے گا اور نہ تمہاری التجاؤں سے وہ ایک سکنڈ کے لیے ٹل سکے گا۔
Ayah 34:31

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ لَا بِالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۖۚ یَرْجِعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِ اِ۟لْقَوْلَ١ۚ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لَوْ لَاۤ اَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:31 in the Quran reader

یہ کافر کہتے ہیں کہ ”ہم ہرگز اِس قرآن کو نہ مانیں گے اور نہ اس سے پہلے آئی ہوئی کسی کتاب کو تسلیم کریں گے 50۔“ کاش تم دیکھو اِن کا حال اُس وقت جب یہ ظالم اپنے ربّ کے حضُور کھڑے ہوں گے۔ اُس وقت یہ ایک دُوسرے پر الزام دھریں گے۔ جو لوگ دنیا میں دبا کر رکھے گئے تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے کہ ”اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے 51۔“

سورة سَبـَا 50 مراد ہیں کفار عرب جو کسی آسمانی کتاب کو نہیں مانتے تھے۔ سورة سَبـَا 51 یعنی عوام الناس، جو آج دنیا میں اپنے لیڈروں، سرداروں، پیروں اور حاکموں کے پیچھے آنکھیں بند کیے چلے جا رہے ہیں، اور ان کے خلاف کسی ناصح کی بات پر کان دھرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، یہی عوام جب اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ حقیقت کیا تھی اور ان کے یہ پیشوا انہیں کیا باور کرا رہے تھے، اور جب انہیں یہ پتہ چل جائے گا کہ ان رہنماؤں کی پیروی انہیں کس انجام سے دوچار کرنے والی ہے، تو یہ اپنے ان بزرگوں پر پلٹ پڑیں گے اور چیخ چیخ کر کہیں گے کہ کم بختو، تم نے ہمیں گمراہ کیا، تم ہماری ساری مصیبتوں کے ذمہ دار ہو، تم ہمیں نہ بہکاتے تو ہم خدا کے رسولوں کی بات مان لیتے۔
Ayah 34:32

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْۤا اَنَحْنُ صَدَدْنٰكُمْ عَنِ الْهُدٰى بَعْدَ اِذْ جَآءَكُمْ بَلْ كُنْتُمْ مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 34:32 in the Quran reader

وہ بڑے بننے والے ان دبے ہوئے لوگوں کو جواب دیں گے”کیا ہم نے تمہیں اُس ہدایت سے روکا تھا جو تمہارے پاس آئی تھی؟نہیں، بلکہ تم خود مجرم تھے 52۔“

سورة سَبـَا 52 یعنی وہ کہیں گے کہ ہمارے پاس ایسی کوئی طاقت نہ تھی جس سے ہم چند انسان تم کروڑوں انسانوں کو زبردستی اپنی پیروی پر مجبور کردیتے۔ اگر تم ایمان لانا چاہتے تو ہماری سرداریوں اور پیشوائیوں اور حکومتوں کا تختہ الٹ سکتے تھے۔ ہماری فوج تو تم ہی تھے۔ ہماری دولت اور طاقت کا سر چشمہ تو تمہارے ہی ہاتھ میں تھا۔ تم نذرانے اور ٹیکس نہ دیتے تو ہم مفلس تھے۔ تم ہمارے ہاتھ پر بیعت نہ کرتے تو ہماری پیری ایک دن نہ چلتی۔ تم زندہ باد کے نعرے نہ مارتے تو کوئی ہمارا پوچھنے والا نہ ہوتا۔ تم ہماری فوج بن کر دنیا بھر سے ہمارے لیے لڑنے پر تیار نہ ہوتے تو ایک انسان پر بھی ہمارا بس نہ چل سکتا تھا۔ اب کیوں نہیں مانتے کہ دراصل تم خود اس راستے پر نہ چلنا چاہتے تھے جو رسولوں نے تمہارے سامنے پیش کیا تھا۔ تم اپنی اغراض اور خواہشات کے بندے تھے اور تمہارے نفس کی یہ مانگ رسولوں کی بتائی ہوئی راہ تقویٰ کے بجائے ہمارے ہاں پوری ہوتی تھی۔ تم حرام و حلال سے بےنیاز ہو کر عیش دنیا کے طالب تھے اور وہ ہمارے پاس ہی تمہیں نظر آتا تھا۔ تم ایسے پیروں کی تلاش میں تھے جو تمہیں ہر طرح کے گناہوں کی کھلی چھوٹ دیں اور کچھ نذرانہ لے کر خدا کے ہاں تمہیں بخشوا دینے کی خود ذمہ داری لے لیں۔ تم ایسے پنڈتوں اور مولویوں کے طلب گار تھے جو ہر شرک اور ہر بدعت اور تمہارے نفس کی ہر دل پسند چیز کو عین حق ثابت کر کے تمہارا دل خوش کریں اور اپنا کام بنائیں۔ تم کو ایسے جعل سازوں کی ضرورت تھی جو خدا کے دین کو بدل کر تمہاری خواہشات کے مطابق ایک نیا دین گھڑیں۔ تم کو ایسے لیڈر درکار تھے جو کسی نہ کسی طرح تمہاری دنیا بنادیں خواہ عاقبت بگڑے یا درست ہو۔ تم کو ایسے حاکم مطلوب تھے جو خود بد کردار اور بد دیانت ہوں اور ان کی سرپرستی میں تمہیں ہر قسم کے گناہوں اور بد کرداریوں کی چھوٹ ملی رہے۔ اس طرح ہمارے اور تمہارے درمیان برابر کا لین دین کا سودا ہوا تھا۔ اب تم کہاں یہ ڈھونگ رچانے چلے ہو کہ گویا تم بڑے معصوم لوگ تھے اور ہم نے زبردستی تمہیں بگاڑ دیا تھا۔
Ayah 34:33

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا بَلْ مَكْرُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ اِذْ تَاْمُرُوْنَنَاۤ اَنْ نَّكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ نَجْعَلَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ؕ وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِیْۤ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:33 in the Quran reader

وہ دبے ہوئے لوگ ان بڑے بننے والوں سے کہیں گے”نہیں، بلکہ شب و روز کی مکّاری تھی جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم اللہ سے کُفر کریں اور دُوسروں کی اس کا ہمسر ٹھہرائیں 53۔“ آخر کار جب یہ لوگ عذاب دیکھیں گے تو اپنے دلوں میں پچھتائیں گے اور ہم اِن مُنکرین کے گلوں میں طَوق ڈال دیں گے۔ کیا لوگوں کو اِس کے سوا اور کوئی بدلہ دیا جا سکتا ہے کہ جیسے اعمال اُن کے تھے ویسی ہی جزا وہ پائیں؟

سورة سَبـَا 53 دوسرے الفاظ میں ان عوام کا جواب یہ ہوگا کہ تم اس ذمہ داری میں ہم کو برابر کا شریک کہاں ٹھہرائے دے رہے ہو۔ کچھ یہ بھی یاد ہے کہ تم نے اپنی چال بازیوں، فریب کاریوں اور جھوٹے پروپیگنڈوں سے کیا طلسم باندھ رکھا تھا، اور رات دن خلق خدا کو پھانسنے کے لیے کیسے کیسے جتن تم کیا کرتے تھے۔ معاملہ صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ تم نے ہمارے سامنے دنیا پیش کی اور ہم اس پر ریجھ گئے۔ امر واقعہ یہ بھی تو ہے کہ تم شب و روز کی مکاریوں سے ہم کو بیوقوف بناتے تھے اور تم میں سے ہر شکاری روز ایک نیا جال بن کر طرح طرح کی تدبیروں سے اللہ کے بندوں کو اس میں پھانستا تھا۔ قرآن مجید میں پیشواؤں اور پیروں کے اس جھگڑے کا ذکر مختلف مقامات پر مختلف طریقوں سے آیا ہے۔ تفصیل کے لیے حسب ذیل مقامات ملاحظہ ہوں اعراف، آیات 38۔ 39۔ ابراہیم، 21۔ القصص، 63۔ الاحزاب، 66۔ 68۔ المومن، 47۔ 48۔ حٰم السجدہ، 29۔
Ayah 34:34

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 34:34 in the Quran reader

کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے کسی بستی میں ایک خبردار کرنے والا بھیجا ہو اور اس بستی کے کھاتے پیتے لوگوں نے یہ نہ کہا ہو جو پیغام تم لے کر آئے ہو اس کو ہم نہیں مانتے 54

سورة سَبـَا 54 یہ بات قرآن مجید میں بکثرت مقامات پر بیان کی گئی ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت کا مقابلہ سب سے پہلے اور سب سے آگے بڑھ کر ان خوشحال طبقوں نے کیا ہے جو دولت و حشمت اور نفوذ و اقتدار کے مالک تھے۔ مثال کے طور پر حسب ذیل مقامات ملاحظہ ہوں الانعام، 123۔ الاعراف، 60۔ 66۔ 75۔ 88۔ 90 ہود، 27۔ بنی اسرائیل، 16۔ المومنون، 24۔ 33 تا 38۔ 46۔ 47۔ الزُخرُف، 23۔
Ayah 34:35

وَ قَالُوْا نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ۙ وَّ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 34:35 in the Quran reader

انہوں نے ہمیشہ یہی کہا کہ ہم تم سے زیادہ مال اولاد رکھتے ہیں اور ہم ہرگز سزا پانے والے نہیں ہیں 55

سورة سَبـَا 55 ان کا استدلال یہ تھا کہ ہم تم سے زیادہ اللہ کے پیارے اور پسندیدہ لوگ ہیں، جبھی تو اس نے ہم کو ان نعمتوں سے نوازا ہے جن سے تم محروم ہو، یا کم از کم ہم سے فروتر ہو۔ اگر اللہ ہم سے راضی نہ ہوتا تو یہ سر و سامان اور یہ دولت و حشمت ہمیں کیوں دیتا۔ اب یہ بات ہم کیسے باور کرلیں کہ اللہ یہاں تو ہم پر نعمتوں کی بارش کر رہا ہے اور آخرت میں جا کر ہمیں عذاب دے گا۔ عذاب ہونا ہے تو ان پر ہونا ہے جو یہاں اس کی نوازشوں سے محروم ہیں۔ قرآن مجید میں دنیا پرستوں کی اس غلط فہمی کا بھی جگہ جگہ ذکر کر کے اس کی تردید کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر حسب ذیل مقامات ملاحظہ ہوں البقرہ، 126۔ 212۔ التوبہ، 55۔ 69۔ ہود، 3۔ 27۔۔ الرعد، 26۔ الکہف، 34 تا 43۔ مریم، 73 تا 77۔ طٰہ، 131۔ المومنون، 55۔ 61۔ الشعراء، 111۔ القصص، 76 تا 83۔ الوم، 9۔ المدثر، 11 تا 26۔ الفجر 15 تا 20۔
Ayah 34:36

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 34:36 in the Quran reader

اے نبیؐ ، اِن سے کہو میرا ربّ جسے چاہتا ہے کشادہ رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نَپا تُلا عطا کرتا ہے ، مگر اکثر لوگ اس کی حقیقت نہیں جانتے۔ 56

سورة سَبـَا 56 یعنی دنیا میں رزق کی تقسیم کا انتظام جس حکمت و مصلحت پر مبنی ہے اس کو یہ لوگ نہیں سمجھتے اور اس غلط فہمی میں پڑجاتے ہیں کہ جسے اللہ کشادہ رزق دے رہا ہے وہ اس کا محبوب ہے، اور جسے تنگی کے ساتھ دے رہا ہے وہ اس کے غضب میں مبتلا ہے۔ حالانکہ اگر کوئی شخص ذرا آنکھیں کھول کر دیکھے تو اسے نظر آسکتا ہے کہ بسا اوقات بڑے ناپاک اور گھناؤنے کردار کے لوگ نہایت خوشحال ہوتے ہیں، اور بہت سے نیک اور شریف انسان، جن کی کردار کی خوبی کا ہر شخص معترف ہوتا ہے، تنگدستی میں مبتلا پائے جاتے ہی۔ اب آخر کون صاحب عقل آدمی یہ کہہ سکتا ہے کہ اللہ کو یہ پاکیزہ اخلاق کے لوگ ناپسند ہیں اور وہ شریر و خبیث لوگ ہی اسے بھلے لگتے ہیں۔
Ayahs 34:37–38

وَ مَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰۤى اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١٘ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَ هُمْ فِی الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ Open ayah 34:37 in the Quran reader

یہ تمہاری دولت اور تمہاری اولاد نہیں ہے جو تمہیں ہم سے قریب کرتی ہو۔ ہاں مگر جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے۔ 57 یہی لوگ ہیں جن کے لیے اُن کے عمل کی دُہری جزا ہے ، اور وہ بلند و بالا عمارتوں میں اطمینان سے رہیں گے 58

وَ الَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 34:38 in the Quran reader

رہے وہ لوگ جو ہماری آیات کو نیچا دکھانے کے لیے دوڑ دھوپ کرتے ہیں، تو وہ عذاب میں مبتلا ہوں گے

سورة سَبـَا 57 اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں اور دونوں ہی صحیح ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ سے قریب کرنے والی چیز مال اور اولاد نہیں ہے بلکہ ایمان و عمل صالح ہے۔ دوسرے یہ کہ مال اور اولاد صرف اس مومن صالح انسان ہی کے لیے ذریعہ تقرُّب بن سکتے ہیں جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرے اور اپنی اولاد کو اچھی تعلیم و تربیت سے خدا شناس اور نیک کردار بنانے کی کوشش کرے۔ سورة سَبـَا 58 اس میں ایک لطیف اشارہ اس امر کی طرف بھی ہے کہ ان کی یہ نعمت لازوال ہوگی اور اس اجر کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا۔ کیونکہ جس عیش کے کبھی ختم ہوجانے کا خطرہ ہو اس سے انسان پوری طرح مطمئن ہو کر لطف اندوز نہیں ہو سکتا۔ اس صورت میں یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ نہ معلوم کب یہ سب کچھ چھن جائے۔
Ayah 34:39

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 34:39 in the Quran reader

اے نبیؐ ، ان سے کہو”میرا ربّ بندوں میں سے جسے چاہتا ہے کُھلا رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نَپا تُلا دیتا ہے۔ 59 جو کچھ تم خرچ کردیتے ہو اُس کی جگہ وہی تم کو اَور دیتا ہے ، وہ سب رازقوں سے بہتر رازق ہے۔ 60“

سورة سَبـَا 59 اس مضمون کو بتکرار بیان کرنے سے مقصود اس بات پر زور دینا ہے کہ رزق کی کمی و بیشی اللہ کی مشیت سے تعلق رکھتی ہے جبکہ اس کی رضا سے۔ مشیت الہٰی کے تحت اچھے اور برے ہر طرح کے انسانوں کو رزق مل رہا ہے۔ خدا کا اقرار کرنے والے بھی رزق پا رہے ہیں اور اس کا انکار کرنے والے بھی۔ نہ رزق کی فراوانی اس بات کی دلیل ہے کہ آدمی خدا کا پسندیدہ بندہ ہے، اور نہ اس کی تنگی اس امر کی علامت ہے کہ آدمی اس کا مغضوب ہے۔ مشیت کے تحت ایک ظالم اور بےایمان آدمی پھلتا پھولتا ہے، حالانکہ ظلم اور بےایمانی خدا کو پسند نہیں ہے۔ اور اس کے برعکس مشیت ہی کے تحت ایک سچا اور ایمان دار آدمی نقصان اٹھاتا اور تکلیفیں سہتا ہے، حالانکہ یہ صفات خدا کو پسند ہیں۔ لہٰذا وہ شخص گمراہ ہے جو مادی فوائد و منافع کو خیر و شر کا پیمانہ قرار دیتا ہے۔ اصل چیز خدا کی رضا ہے اور وہ ان اخلاقی اوصاف سے حاصل ہوتی ہے جو خدا کو محبوب ہیں۔ ان اوصاف کے ساتھ اگر کسی کو دنیا کی نعمتیں حاصل ہوں تو یہ بلاشبہ خدا کا فضل ہے جس پر شکر ادا کرنا چاہیے۔ لیکن اگر ایک شخص اخلاقی اوصاف کے لحاظ سے خدا کا باغی و نافرمان بندہ ہو اور اس کے ساتھ دنیا کی نعمتوں سے نوازا جا رہا ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ سخت باز پرس اور بدترین عذاب کے لیے تیار ہو رہا ہے۔ سورة سَبـَا 60 رازق، صانع، موجِد، مُعطی اور ایسی ہی دوسری بہت سی صفات ایسی ہیں جو اصل میں تو اللہ تعالیٰ ہی کی صفات ہیں مگر مجازاً بندوں کی طرف بھی منسوب ہوجاتی ہیں۔ مثلاً ہم ایک شخص کے متعلق کہتے ہیں کہ اس نے فلاں شخص کے روزگار کا بندوبست کردیا، یا اس نے یہ عطیہ دیا، یا اس نے فلاں چیز بنائی یا ایجاد کی۔ اسی لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے خیر الرازقین کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ یعنی جن جن کے متعلق تم گمان رکھتے ہو کہ وہ روزی دینے والے ہیں ان سب سے بہتر روزی دینے والا اللہ تعالیٰ ہے۔
Ayah 34:40

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ یَقُوْلُ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اَهٰۤؤُلَآءِ اِیَّاكُمْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 34:40 in the Quran reader

اور جس دن وہ تمام انسانوں کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے پوچھے گا”کیا یہ لوگ تمہاری ہی عبادت کیا کرتے تھے 61 ؟“

سورة سَبـَا 61 قدیم ترین زمانے سے آج تک ہر دور کے مشرکین فرشتوں کو دیوی اور دیوتا قرار دے کر ان کے بت بناتے اور ان کی پرستش کرتے رہے ہیں۔ کوئی بارش کا دیوتا ہے تو کوئی بجلی کا اور کوئی ہوا کا۔ کوئی دولت کی دیوی ہے تو کوئی علم کی اور کوئی موت و ہلاکت کی۔ اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ قیامت کے روز ان فرشتوں سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم ہی ان لوگوں کے معبود بنے ہوئے تھے ؟ اس سوال کا مطلب محض دریافت حال نہیں ہے بلکہ اس میں یہ معنی پوشیدہ ہیں کہ کیا تم ان کی اس عبادت سے راضی تھے ؟ کیا تم نے یہ کہا تھا کہ لوگو ہم تمہارے معبود ہیں، تم ہماری پوجا کیا کرو ؟ یا تم نے یہ چاہا کہ یہ لوگ تمہاری پوجا کریں ؟ قیامت میں یہ سوال صرف فرشتوں ہی سے نہیں بلکہ تمام ان ہستیوں سے کیا جائے گا جن کی دنیا میں عبادت کی گئی ہے۔ چناچہ سورة فرقان میں ارشاد ہوا ہے وَیَوْمَ یَحْشُرُھُمْ وَمَا یَعبُدُوْن مِنْ دُوْنِ اللہِ فَیَقُوْلُءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ ھٰٓؤُلَآءِ اَمْ ھُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَ۔ (آیت 17) جس روز اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اور ان ہستیوں کو جن کی یہ اللہ کے سوا عبادت کرتے ہیں جمع کریگا، پھر پوچھے گا کہ تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود راہ راست سے بھٹک گئے تھے ؟
Ayahs 34:41–43

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ اَنْتَ وَلِیُّنَا مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ بَلْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ١ۚ اَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 34:41 in the Quran reader

تو وہ جواب دیں گے”پاک ہے آپ کی ذات، ہمارا تعلق تو آپ سے ہےنہ کہ اِن لوگوں سے 62۔ دراصل یہ ہماری نہیں بلکہ جِنّوں کی عبادت کرتے تھے، ان میں سے اکثر انہی پر ایمان لائے ہوئے تھے 63۔“

فَالْیَوْمَ لَا یَمْلِكُ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ نَّفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ وَ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 34:42 in the Quran reader

(اُس وقت ہم کہیں گے کہ) آج تم میں سے کوئی نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے نہ نقصان اور ظالموں سے ہم کہہ دیں گے کہ اب چکھو اس عذاب جہنم کا مزہ جسے تم جھٹلایا کرتے تھے

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا رَجُلٌ یُّرِیْدُ اَنْ یَّصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُكُمْ١ۚ وَ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكٌ مُّفْتَرًى١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 34:43 in the Quran reader

اِن لوگوں کو جب ہماری صاف صاف آیات سنائی جاتی ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ "یہ شخص تو بس یہ چاہتا ہے کہ تم کو اُن معبودوں سے برگشتہ کر دے جن کی عبادت تمہارے باپ دادا کرتے آئے ہیں" اور کہتے ہیں کہ "یہ (قرآن) محض ایک جھوٹ ہے گھڑا ہوا" اِن کافروں کے سامنے جب حق آیا تو انہیں نے کہہ دیا کہ "یہ تو صریح جادو ہے"

سورة سَبـَا 62 یعنی وہ جواب دیں گے کہ حضور کی ذات اس سے منزہ اور بالا تر ہے کہ کوئی دوسرا خدائی و معبودیت میں آپ کا شریک ہو۔ ہمارا ان لوگوں سے کوئی واسطہ نہیں۔ ہم ان سے اور ان کے افعال سے بری الذمہ ہیں۔ ہم تو حضور کے بندے ہیں۔ سورة سَبـَا 63 اس فقرے میں جن سے مراد شیاطین جن ہیں۔ فرشتوں کے اس جواب کا مطلب یہ ہے کہ بظاہر تو یہ ہمارے نام لے کر، اور اپنے تخیلات کے مطابق ہماری صورتیں بنا کر گویا ہماری عبادت کرتے تھے، لیکن دراصل یہ ہماری نہیں بلکہ شیا طین کی بندگی کر رہے تھے، کیونکہ شیاطین ہی نے ان کو یہ راستہ دکھایا تھا کہ خدا کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا حاجت روا سمجھو اور ان کے آگے نذر و نیاز پیش کیا کرو۔ یہ آیت صریح طور پر ان لوگوں کے خیال کی غلطی واضح کردیتی ہے جو " جن " کو پہاڑی علاقے کے باشندوں یا دہقانوں اور صحرائیوں کے معنی میں لیتے ہیں۔ کیا کوئی صاحب عقل آدمی اس آیت کو پڑھ کر یہ تصور کرسکتا ہے کہ لوگ کوہستانی اور صحرائی اور دیہاتی آدمیوں کی عبادت کیا کرتے تھے اور انہی پر ایمان لائے ہوئے تھے۔ اس آیت سے عبادت کے بھی ایک دوسرے مفہوم پر روشنی پڑتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت صرف پرستش اور پوجا پاٹ ہی کا نام نہیں ہے بلکہ کسی کے حکم پر چلنا اور اس کی بےچون و چرا اطاعت کرنا بھی عبادت ہی ہے۔ حتٰی کہ اگر آدمی کسی پر لعنت بھیجتا ہو (جیسا کہ شیطان پر بھیجتا ہے) اور پھر بھی پیروی اسی کے طریقے کی کیے جا رہا ہو تب بھی وہ اس کی عبادت کا مرتکب ہے۔ اس کی دوسری مثالوں کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول، ص 398۔ 484۔ جلد دوم، ص 189۔ 190۔ جلد سوم، ص 69۔ 656۔
Ayah 34:44

وَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ كُتُبٍ یَّدْرُسُوْنَهَا وَ مَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ قَبْلَكَ مِنْ نَّذِیْرٍؕ Open ayah 34:44 in the Quran reader

حالانکہ نہ ہم نے اِن لوگوں کو پہلے کوئی کتاب دی تھی کہ یہ اسے پڑھتے ہوں اور نہ تم سے پہلے ان کی طرف کوئی متنبّہ کرنے والا بھیجا تھا۔ 64

سورة سَبـَا 64 یعنی اس سے پہلے نہ کوئی کتاب خدا کی طرف سے ایسی آئی ہے اور نہ کوئی رسول ایسا آیا ہے جس نے آ کر ان کو یہ تعلیم دی ہو کہ یہ اللہ کے سوا دوسروں کی بندگی و پرستش کیا کریں۔ اس لیے یہ لوگ کسی علم کی بنا پر نہیں بلکہ سراسر جہالت کی بنا پر قرآن اور محمد ﷺ کی دعوت توحید کا انکار کر رہے ہیں۔ اس کے لیے ان کے پاس کوئی سند نہیں ہے۔
Ayah 34:45

وَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۙ وَ مَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ فَكَذَّبُوْا رُسُلِیْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 34:45 in the Quran reader

اِن سے پہلے گزرے ہوئے لوگ جھُٹلا چکے ہیں۔ جو کچھ ہم نے اُنہیں دیا تھا اُس کی عُشرِ عَشیر کو بھی یہ نہیں پہنچے ہیں۔ مگر جب انہوں نے میرے رسُولوں کو جھُٹلایا تو دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی۔ 65

سورة سَبـَا 65 یعنی مکہ کے لوگ تو اس قوت و شوکت اور اس خوشحالی کے عشر عشیر کو بھی نہیں پہنچے ہیں جو ان قوموں کو حاصل تھی۔ مگر دیکھ لو کہ جب انہوں نے ان حقائق کو ماننے سے انکار کیا جو انبیاء (علیہم السلام) نے ان کے سامنے پیش کیے تھے، اور باطل پر اپنے نظام زندگی کی بنیاد رکھی تو آخر کار وہ کس طرح تباہ ہوئیں اور ان کی قوت و دولت ان کے کسی کام نہ آسکی۔
Ayah 34:46

قُلْ اِنَّمَاۤ اَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ١ۚ اَنْ تَقُوْمُوْا لِلّٰهِ مَثْنٰى وَ فُرَادٰى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوْا١۫ مَا بِصَاحِبِكُمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ لَّكُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ Open ayah 34:46 in the Quran reader

اے نبیؐ ، اِن سے کہوکہ”میں تمہیں بس ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں، خدا کے لیے تم اکیلے اکیلے اور دو دو مِل کر اپنا دماغ لڑاوٴ اور سوچو، تمہارے صاحب میں آخر ایسی کونسی بات ہے جو جُنون کی ہو 66 ؟ وہ تو ایک سخت عذاب کی آمد سے پہلے تم کو متنبّہ کرنے والا ہے۔ 67“

سورة سَبـَا 66 یعنی اغراض اور خواہشات سے پاک ہو کر خالصتہ للہ غور کرو۔ ہر شخص الگ الگ بھی نیک نیتی کے ساتھ سوچے اور دو دو چار چار آدمی سر جوڑ کر بھی بےلاگ طریقے سے ایک دوسرے کے ساتھ بحث کر کے تحقیق کریں کہ آخر وہ کیا بات ہے جس کی بنا پر آج تم اس شخص کو مجنون ٹھہرا رہے ہو جسے کل تک تم اپنے درمیان نہایت دانا آدمی سمجھتے تھے۔ آخر نبوت سے تھوڑی ہی مدت پہلے کا تو واقعہ تھا کہ تعمیر کعبہ کے بعد حجر اسود نصب کرنے کے مسئلے پر جب قبائل قریش باہم لڑ پڑے تھے تو تم ہی لوگوں نے بالاتفاق محمد ﷺ کو حکم تسلیم کیا تھا اور انہوں نے ایسے طریقے سے اس جھگڑے کو چکایا تھا جس پر تم سب مطمئن ہوگئے تھے۔ جس شخص کی عقل و دانش کا یہ تجربہ تمہاری ساری قوم کو ہوچکا ہے، اب کیا بات ایسی ہوگئی کہ تم اسے مجنون کہنے لگے ؟ ہٹ دھرمی کی تو بات ہی دوسری ہے، مگر کیا واقعی تم اپنے دلوں میں بھی وہی کچھ سمجھتے ہو جو اپنی زبانوں سے کہتے ہو ؟ سورة سَبـَا 67 یعنی کیا یہی وہ قصور ہے جس کی بنا پر تم اسے جنون کا مریض ٹھہراتے ہو ؟ کیا تمہارے نزدیک عقلمند وہ ہے جو تمہیں تباہی کے راستے پر جاتے دیکھ کر کہے کہ شاباش، بہت اچھے جا رہے ہو، اور مجنون وہ ہے جو تمہیں برا وقت آنے سے پہلے خبردار کرے اور فساد کی جگہ صلاح کی راہ بتائے۔
Ayah 34:47

قُلْ مَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 34:47 in the Quran reader

اِن سے کہو”اگر میں نے تم سے کوئی اجر مانگا ہے تو وہ تم ہی کو مبارک رہے 68۔ میرا اجر تو اللہ کے ذمّہ ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے۔ 69“

سورة سَبـَا 68 اصل الفاظ ہیں مَا سَاَلْتُکُمْ مِنْ اَجْرٍ فَھُوَ لَکُمْ۔ اس کا ایک مطلب تو وہ ہے جو اوپر ہم نے ترجمہ میں بیان کیا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تمہاری بھلائی کے سوا میں اور کچھ نہیں چاہتا، میرا اجر بس یہی ہے کہ تم درست ہوجاؤ۔ اس مضمون کو دوسری جگہ قرآن مجید میں یوں ادا کیا گیا ہے قُلْ مَآ اَسْاَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ یَّتَّخِذَ الیٰ رَبِّہ سَبِیْلاً۔ (الفرقان 57) اے نبی، ان سے کہو میں اس کام پر تم سے کوئی اجر اس کے سوا نہیں مانگتا کہ جس کا جی چاہے وہ اپنے رب کا راستہ اختیار کرلے۔ سورة سَبـَا 69 یعنی الزام لگانے والے جو کچھ چاہیں الزام لگاتے رہیں، مگر اللہ سب کچھ جانتا ہے، وہ گواہ ہے کہ میں ایک بےغرض انسان ہوں، یہ کام اپنے کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں کر رہا ہوں۔
Ayahs 34:48–49

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَقْذِفُ بِالْحَقِّ١ۚ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 34:48 in the Quran reader

اِن سے کہو”میراربّ (مجھ پر)حق کا اِلقا کرتا ہے 70 اور وہ تمام پوشیدہ حقیقتوں کا جاننے والا ہے۔“

قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ مَا یُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَ مَا یُعِیْدُ Open ayah 34:49 in the Quran reader

کہو "حق آگیا ہے اور اب باطل کے کیے کچھ نہیں ہو سکتا"

سورة سَبـَا 70 اصل الفاظ ہیں یَقْذِفُ بَالْحَقِّ۔ اس کے ایک معنی یہ ہیں کہ وحی کے ذریعہ سے وہ علم حق میرے اوپر القا کرتا ہے اور دوسرے معنی یہ ہیں کہ وہ حق کو غالب کر رہا ہے، باطل کے سر پر حق کی ضرب لگا رہا ہے۔
Ayah 34:50

قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَاۤ اَضِلُّ عَلٰى نَفْسِیْ١ۚ وَ اِنِ اهْتَدَیْتُ فَبِمَا یُوْحِیْۤ اِلَیَّ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ Open ayah 34:50 in the Quran reader

کہو”اگر میں گمراہ ہو گیا ہوں تو میری گمراہی کا وبال مجھ پر ہے، اور اگر میں ہدایت پر ہوں تو اُس وحی کی بنا پر ہوں جو میرا ربّ میرے اُوپر نازل کرتا ہے، وہ سب کچھ سُنتا ہے اور قریب ہی ہے۔ 71

سورة سَبـَا 71 اس زمانے کے بعض لوگوں نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ اس کی رو سے نبی ﷺ گمراہ ہو سکتے تھے، بلکہ ہوجایا کرتے تھے، اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے خود حضور ﷺ ہی کی زبان سے یہ کہلوا دیا کہ اگر میں گمراہ ہوتا ہوں تو اپنی گمراہی کا خود ذمہ دار ہوتا ہوں اور راہ راست پر میں بس اس وقت ہوتا ہوں جب میرا رب مجھ پر وحی (یعنی آیات قرآنی) نازل کرتا ہے۔ اس غلط تاویل سے یہ ظالم گویا یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ حضور ﷺ کی زندگی معاذ اللہ ہدایت و ضلالت کا مجموعہ تھی اور اللہ تعالیٰ نے کفار کے سامنے حضور ﷺ سے یہ اعتراف اس لیے کروا رہا تھا کہ کہیں کوئی شخص آپ ﷺ کو بالکل ہی راہ راست پر سمجھ کر آپ کی مکمل پیروی نہ اختیار کر بیٹھے حالانکہ جو شخص بھی سلسلہ کلام پر غور کرے گا وہ جان لے گا کہ یہاں " اگر میں گمراہ ہوگیا ہوں " کے الفاظ اس معنی میں نہیں کہے گئے ہیں کہ معاذ اللہ حضور ﷺ فی الواقع گمراہ ہوجاتے تھے، بلکہ پوری بات اس معنی میں کہی گئی ہے کہ " اگر میں گمراہ ہوگیا ہوں، جیسا کہ تم مجھ پر الزام لگا رہے ہو، اور میرا یہ نبوت کا دعویٰ اور میری یہ دعوت توحید اسی گمراہی کا نتیجہ ہے جیسا کہ تم گمان کر رہے ہو، تو میری گمراہی کا وبال مجھ پر ہی پڑے گا، اس کی ذمہ داری میں تم نہ پکڑے جاؤ گے۔ لیکن اگر میں ہدایت پر ہوں، جیسا کہ درحقیقت ہوں، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھ پر میرے رب کی طرف سے وحی آتی ہے جس کے ذریعہ سے مجھے راہ راست کا علم حاصل ہوگیا ہے۔ میرا رب قریب ہی موجود ہے اور سب کچھ سن رہا ہے، اسے معلوم ہے کہ میں گمراہ ہوں یا اس کی طرف سے ہدایت یافتہ۔ "
Ayah 34:51

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ فَزِعُوْا فَلَا فَوْتَ وَ اُخِذُوْا مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ Open ayah 34:51 in the Quran reader

کاش تم دیکھو انہیں اُس وقت جب یہ لوگ گھبرائے پھر رہے ہوں گے اور کہیں بچ کر نہ جا سکیں گے، بلکہ قریب ہی سے پکڑ لیے جائیں گے۔ 72

سورة سَبـَا 72 یعنی قیامت کے روز ہر مجرم اس طرح پکڑا جائے گا کہ گویا پکڑنے والا قریب ہی کہیں چھپا کھڑا تھا، ذرا اس نے بھاگنے کی کوشش کی اور فوراً ہی دھر لیا گیا۔
Ayah 34:52

وَّ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖ١ۚ وَ اَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍۚۖ Open ayah 34:52 in the Quran reader

اُس وقت یہ کہیں گے کہ ہم اُس پر ایمان لے آئے۔ 73 حالانکہ اب دُور نکلی ہوئی چیز کہاں ہاتھ آسکتی ہے۔ 74

سورة سَبـَا 73 مراد یہ ہے کہ اس تعلیم پر ایمان لے آئے جو رسول نے دنیا میں پیش کی تھے۔ سورة سَبـَا 74 یعنی ایمان لانے کی جگہ تو دنیا تھی اور وہاں سے اب یہ بہت دور نکل آئے ہیں۔ عالم آخرت میں پہنچ جانے کے بعد اب توبہ و ایمان کا موقع کہاں مل سکتا ہے۔
Ayah 34:53

وَّ قَدْ كَفَرُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ یَقْذِفُوْنَ بِالْغَیْبِ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 34:53 in the Quran reader

اِس سے پہلے یہ کُفر کر چکے تھےاور بلا تحقیق دُور دُور کی کوڑیاں لایا کرتے تھے 75

سورة سَبـَا 75 یعنی رسول ﷺ اور تعلیمات رسول ﷺ اور اہل ایمان پر طرح طرح کے الزامات لگاتے، آوازے کستے اور فقرے چست کرتے تھے۔ کبھی کہتے یہ شخص ساحر ہے۔ کبھی کہتے مجنون ہے۔ کبھی توحید کا مذاق اڑاتے اور کبھی آخرت کے تخیل پر باتیں چھانٹتے۔ کبھی یہ افسانہ تراشتے کہ رسول ﷺ کو کوئی اور سکھاتا پڑھاتا ہے اور کبھی ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے کہ یہ محض اپنی نادانی کی وجہ سے رسول ﷺ کے پیچھے لگ گئے ہیں۔