33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتفہیم القرآن

تعارف

نام

آیت ٢٠ کے فقرہ یَحْسَبُونَ الْاَحْزَابَ لَمْ یَذْھَبُوْا سے ماخوذ ہے۔

زمانۂ نزول

اس سورة کے مضامین تین اہم واقعات سے بحث کرتے ہیں۔ ایک غزوۂ احزاب جو شوال ٥ ھجری میں پیش آیا۔ دوسرے غزوۂ بنی قُرَیْظَہ جو ذی القعدہ ٥ ھجری میں پیش آیا۔ تیسرے حضرت زینب سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نکاح جو اسی سال ذی القعدہ میں ہوا۔ ان تاریخی واقعات سے سورة کا زمانۂ نزول ٹھیک متعین ہوجاتا ہے۔

تاریخی پس منظر

جنگ اُحُد (شوال ٣ ھ) میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقرر کیے ہوئے تیر اندازوں کی غلطی سے لشکر اسلام کو جو شکست نصیب ہوگئی تھی اس کی وجہ سے مشرکین عرب، یہود اور منافقین کی ہمتیں بہت بڑھ گئی تھیں اور نہیں امید بندھ چلی تھی کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کا قلع قمع کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ ان بڑھتے ہوئے حوصلوں کا اندازہ ان واقعات سے ہوسکتا ہے جو احد کے بعد پہلے ہی سال میں پیش آئے۔ جنگ احد پر دو مہینوں سے زیادہ نہ گزرے تھے کہ نجد کے قبیلۂ بنی اَسَدْ نے مدینہ طیبہ پر چھاپا مارنے کی تیاریاں کیں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کی روک تھام کے لیے سَرِیَّۂ ابو سَلَمہ (اصطلاح میں سَرِیہ اس فوجی مہم کو کہتے ہیں جس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود شریک نہ ہوتے تھے۔ اور غزْوہ اس جنگ یا مہم کو کہا جاتا ہے جس میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود قیادت فرماتے تھے) بھیجنا پڑا۔ پھر صفر ٤ ھ میں قبائل عَضَل اور قارہ نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے چند آدمی مانگے تاکہ وہ ان علاقہ میں جا کر لوگوں کو دین اسلام کی تعلیم دیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چھ اصحاب کو ان کے ساتھ کردیا۔ مگر رجیع (جدہ اور رابغ کے درمیان) پہنچ کر وہ لوگ قبیلۂ ھُذَیل کے کفار کو ان بےبس مبلغین پر چڑھا لائے، ان میں سے چار کو قتل کردیا، اور دو صاحبوں (حضرت خُبَیب بن عَدِی اور حضرت زید بن الدَّثِنَّہ) کو لے جا کر مکۂ معظمہ میں دشمنوں کے ہاتھ فروخت کردیا۔ پھر اسی ماہ صفر میں بنی عامر کے ایک سردار کی درخواست پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک اور وفد جو چالیس (یا بقول بعض ٧٠) انصاری نوجوانوں پر مشتمل تھا، نجد کی طرف روانہ کیا۔ مگر ان کے ساتھ بھی غداری کی گئی اور بنی سلیم کے قبائل عُصَیَّہ اور رِعْل اور ذکْوان نے بِئر مَعُونہ کے مقام پر اچانک نرغہ کر کے ان سب کو قتل کردیا۔ اسی دوران میں مدینے کا یہودی قبیلہ بنی النَّضِیر دلیر ہو کر مسلسل بد عہدیاں کرتا رہا، یہاں تک کہ ربیع الاوّل ٤ ھ میں اس نے خود نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شہید کردینے کی سازش تک کر ڈالی۔ پھر جمادی الاولیٰ ٤ ھ میں بنی غَطَفان کے دو قبیلوں، بنو ثَعْلَبَہ اور بنو مُحَارِب نے مدینہ پر حملے کی تیاریاں کیں اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خود ان کی روک تھام کے لیے جانا پڑا۔ اس طرح جنگ اُحْد کی شکست سے جو ہوا اکھڑی تھی وہ مسلسل سات آٹھ مہینے تک اپنا رنگ دکھاتی رہی۔ لیکن وہ صرف محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا عزم و تدبر اور صحابۂ کرام کا جذبۂ فدا کاری تھا جس نے تھوڑی مدت کے اندر ہی حالات کا رخ بدل کر رکھ دیا۔ عربوں کے معاشی مقاطعہ نے اہل مدینہ کے لیے جینا دشوار کر رکھا تھا۔ گرد و پیش کے تمام مشرک قبائل چیرہ دست ہو رہے تھے۔ خود مدینہ کے اندر یہود اور منافقین مار آستین بنے ہوئے تھے۔ مگر ان مٹھی بھر مومنین صادقین نے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خدا کی قیادت میں پے درپے ایسے اقدامات کیے جن سے عرب میں اسلام کا رعب صرف بحال ہی نہیں ہوگیا، بلکہ پہلے سے زیادہ بڑھ گیا۔ جنگ احزاب سے پہلے کے غزوات : ان میں سے اولین اقدام وہ تھا جو جنگ اُحُد کے فوراً ہی بعد کیا گیا۔ جنگ کے ٹھیک دوسرے روز جبکہ بکثرت مسلمان زخمی تھے اور بہت سے عزیز ترین اقارب کی شہادت پر کہرام برپا تھا اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود بھی زخمی اور حضرت حمزہ کی شہادت پر دلفگار تھے، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسلام کے فدائیوں کو پکارا کہ لشکر کفار کے تعاقب میں چلنا ہے تاکہ وہ کہیں راستے سے پلٹ کر پھر مدینے پر حملہ آور نہ ہوجائیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اندازہ بالکل صحیح تھا کہ کفار قریش ہاتھ آئی ہوئی فتح کا کوئی فائدہ اٹھائے بغیر واپس تو چلے گئے ہیں، لیکن راستے میں جب کسی جگہ ٹھہریں گے تو اپنی اس حماقت پر نادم ہوں گے اور دوبارہ مدینے پر چڑھ آئیں گے۔ اس بناء پر آپ نے ان کے تعاقب کا فیصلہ کیا اور فوراً ٣٦٠ جاں نثار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہوگئے۔ مکہ کے راستے میں جب حَمْرأ الاسد پہنچ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین روز تک پڑاؤ کیا تو ایک ہمدرد غیر مسلم کے ذریعہ سے آپ کو معلوم ہوگیا کہ ابو سُفْیان اپنے ٢٩٧٨ آدمیوں کے ساتھ مدینے سے ٣٦ میل دور الرَّوحأ کے مقام پر ٹھہرا ہوا تھا اور یہ لوگ فی الواقع اپنی غلطی کو محسوس کر کے پھر پلٹ آنا چاہتے تھے، لیکن یہ سن کر ان کی ہمت ٹوٹ گئی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک لشکر لیے ہوئے ان کے تعاقب میں چلے آ رہے ہیں۔ اس کارروائی کا صرف یہی فائدہ نہیں ہوا کہ قریش کے بڑھے ہوئے حوصلے پست ہوگئے، بلکہ گرد و پیش کے دشمنوں کو بھی یہ معلوم ہوگیا کہ مسلمانوں کی قیادت ایک انتہائی بیدار مغز اور اولوالعزم ہستی کر رہی ہے اور مسلمان اس کے اشارے پر کٹ مرنے کے لیے ہر وقت تیا رہیں۔ (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول، صفحات ٢٢٩۔ ٢٣٠۔ ٣٠٣) پھر جوں ہی بنی اسد نے مدینے پر چھاپہ مارنے کی تیاریاں شروع کیں، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مخبروں نے بروقت آپ کو ان کے ارادوں سے باخبر کردیا۔ قبل اس کے کہ وہ چڑھ آتے، آپ نے حضرت ابو سَلَمہ (اُمّ المومنین حضرت ام سلمہ کے پہلے شوہر) کی قیادت میں ڈیڑھ سو آدمیوں کا ایک لشکر ان کی سرکوبی کے لیے بھیج دیا۔ یہ فوج اچانک ان کے سر پر پہنچ گئی۔ بدحواسی کے عالم میں وہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر بھاگ نکلے اور ان کا سارا مال اسباب مسلمانوں کے ہاتھ لگ گیا۔ اس کے بعد بنی النَّضیر کی باری آئی۔ جس روز انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شہید کرنے کی سازش کی اور اس کا راز فاش ہوا اسی روز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو نوٹس دے دیا کہ دس دن کے اندر مدینے سے نکل جاؤ، اس کے بعد تم میں سے جو یہاں پایا جائے گا قتل کردیا جائے گا۔ منافقین مدینہ کے سردار عبداللہ بن ابیّ نے ان کو تڑی دی کہ ڈٹ جاؤ اور مدینہ چھوڑنے سے انکار کردو، میں دو ہزار آدمیوں کے ساتھ تمہاری مدد کروں گا، بنی قُرَیظہ تمہاری مدد کریں گے اور نجد سے بنی غَطَفان بھی تمہاری مدد کے لیے آئیں گے۔ ان باتوں میں آ کر انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہلا بھیجا کہ ہم اپنا علاقہ نہیں چھوڑیں گے، آپ سے جو کچھ ہوسکے کرلیجئے، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نوٹس کی میعاد ختم ہوتے ہی ان کا محاصرہ کرلیا اور ان کے حامیوں میں سے کسی کی یہ ہمت نہ پڑی کہ مدد کو آتا۔ آخر کار انہوں نے اس شرط پر ہتھیار ڈال دیئے کہ ان میں سے ہر تین آدمی ایک اونٹ پر جو کچھ لاد کرلے جاسکتے ہیں لے جائیں اور باقی سب کچھ مدینہ ہی میں چھوڑ جائیں گے۔ اس طرح مضافات مدینہ کا وہ پورا محلہ جس میں بنی نضیر رہتے تھے، ان کے باغات اور گڑھیوں اور سر و سامان سمیت مسلمانوں کے ہاتھ آگیا اور اس بد عہد قبیلے کے لوگ خیبر، وادی القریٰ اور شام میں تتّر بتّر ہوگئے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنی غَطَفان کی طرف توجہ کی جو مدینے پر حملہ آور ہونے کے لیے پر تول رہے تھے۔ آپ چار سو کا لشکر لے کر نکلے اور ذات الرِّقاع کے مقام پر اس کو جالیا۔ اس اچانک حملے نے ان کے حواس باختہ کردیے اور کسی جنگ کے بغیر وہ اپنے گھر بار اور مال اسباب چھوڑ کر پہاڑوں میں منتشر ہوگئے۔ اس کے بعد شعبان ٤ ہجری میں آپ ابو سفیان کے اس چیلنج کا جواب دینے کے لیے نکلے جو اس نے احد سے پلٹتے ہوئے دیا تھا۔ خاتمۂ جنگ پر اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کی طرف رخ کر کے اعلان کیا تھا کہ ان موعدکم بدر للعام المقبل (آئندہ سال بدر کے مقام پر ہمارا تمہارا پھر مقابلہ ہوگا) اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب میں ایک صحابی کے ذریعہ سے یہ اعلان کرا دیا تھا کہ نعم، ھی بیننا وبینک موعد (ٹھیک ہے، یہ بات ہمارے اور تیرے درمیان طے ہوگئی ) ۔ اس قرارداد کے مطابق طے شدہ وقت پر آپ ١٥ سو صحابیوں کو لے کر بدر کے مقام پر پہنچ گئے۔ ادھر سے ابو سفیان دو ہزار کا لشکر لے کر چلا مگر مُرَّ الظَّہران (موجودہ وادی فاطمہ) سے آگے بڑھنے کی ہمت نہ کرسکا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر میں آٹھ دن اس کا انتظار کیا اور اس دوران میں مسلمان تجارت کر کے ایک درہم کے دو درہم کماتے رہے۔ اس واقعہ سے وہ دھاک جو اُحُد میں اکھڑی تھی پہلے سے زیادہ جم گئی۔ اس نے پورے عرب پر یہ بات کھول دی کہ اب تنہا قریش محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقابلے کی طاقت نہیں رکھتے۔ (اس کی مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اوّل، ص ٣٠٤) اس دھاک میں ایک اور واقعہ نے مزید اضافہ کیا۔ عرب اور شام کی سرحد پر دومتہ الجَنْدَل (موجودہ الجَوف) ایک اہم مقام تھا جہاں سے عراق اور مصر و شام کے درمیان عرب کے تجارتی قافلے گزرتے تھے۔ اس مقام کے لوگ قافلوں کو تنگ کرتے اور اکثر لوٹ لیتے تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ربیع الاول ٥ ھ میں ایک ہزار کا لشکر لے کر ان کی تادیب کے لیے خود تشریف لے گئے۔ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقابلے کی ہمت نہ کرسکے اور بستی چھوڑ کر بھاگ نکلے۔ اس سے پورے شمالی عرب پر اسلام کی ہیبت بیٹھ گئی اور قبائل نے یہ سمجھ لیا کہ مدینے میں جو زبردست طاقت پیدا ہوئی ہے اس کا مقابلہ اب ایک دو قبیلوں کے بس کا کام نہیں ہے۔

غزوۂ احزاب

یہ حالات تھے جن میں غزوۂ احزاب پیش آیا، یہ غزوہ دراصل عرب کے بہت سے قبائل کا ایک مشترک حملہ تھا جو مدینے کی اس طاقت کو کچل دینے کے لئے کیا گیا تھا۔۔۔ اس کے تحریک بنی النَّضِیر کے ان لیڈروں نے کے تھی جو جلا وطن ہو کر خیبر میں مقیم ہوگئے تھے۔ انہوں نے دورہ کر کے قریش اور غطفان اور ہُذَیل اور دوسرے بہت سے قبائل کو اس بات پر آمادہ کیا کہ اب مل کر بہت بڑی جمیعت کے ساتھ مدینے پر ٹوٹ پڑیں۔ چناچہ ان کی کوششوں سے شوال ٥ ھ میں قبائل عرب کی اتنی بڑی جمیعت اس چھوٹی سی بستی پر حملہ آور ہوگئی جو اس سے پہلے عرب میں کبھی جمع نہ ہوئی تھی۔ اس میں شمال کی طرف بنی النَّضِیر اور قَیْنقُاع کے وہ یہودی آئے جو مدینے سے جلا وطن ہو کر خیبر اور وادی القریٰ میں آباد ہوئے تھے۔ مشرق کی طرف سے غَطَفان کے قبائل (بنو سُلَیم، فَزارہ، مُرَّہ، اَشجع، سَعد اور اَسَد وغیرہ) نے پیش قدمی کی۔ اور جنوب کی طرف سے قریش اپنے حلیفوں کی ایک بھاری جمیعت لے کر آگے بڑھے۔ مجموعی طور پر ان کی تعداد دس بارہ ہزار تھی۔ یہ حملہ اگر اچانک ہوتا تو سخت تباہ کن ہوتا۔ لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ طیبہ میں بیخبر بیٹھے ہوئے نہ تھے بلکہ آپ کے خبر رساں اور تحریک اسلامی کے ہمدرد اور متاثرین جو تمام قبائل میں موجود تھے، آپ کو دشمنوں کی نقل و حرکت سے برابر مطلع کرتے رہتے تھے (یہ قوم پرست جتھوں کے مقابلے میں ایک نظریاتی تحریک کی فوقیت کا ایک اہم سبب ہوتا ہے۔ قوم پرست جتھے صرف اپنی قوم کے افراد کی تائید و حمایت ہی پر انحصار رکھتے ہیں۔ لیکن ایک اصولی و نظریاتی تحریک اپنی دعوت سے ہر سمت میں بڑھتی ہے اور خود ان جتھوں کے اندر سے اپنے حامی نکال لاتی ہے۔ ) قبل اس کے کہ یہ جم غفیر آپ کے شہر پہنچتا، آپ نے چھ دن کے اندر مدینہ کے شمال غربی رخ پر ایک خندق کھدوا لی اور کوہ سَلْع کو پشت پر لے کر تین ہزار فوج کے ساتھ خندق کی پناہ میں مدافعت کے لیے تیار ہوگئے۔ مدینہ کے جنوب میں باغات اس کثرت سے تھے (اور اب بھی ہیں) کہ اس جانب سے کوئی حملہ اس پر نہ ہوسکتا تھا۔ مشرق میں حرات (لادے کی چٹانیں) ہیں جن پر سے کوئی اجتماعی فوج کشی آسانی کے ساتھ نہیں ہو سکتی۔ یہی کیفیت مغربی جنوبی گوشے کی بھی ہے۔ اس لیے حملہ صرف اُحُد کے مشرقی اور مغربی گوشوں سے ہوسکتا تھا اور اسی جانب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خندق کھدوا کر شہر کو محفوظ کرلیا تھا۔ یہ چیز سرے سے کفار کے جنگی نقشے میں تھی ہی نہیں کہ انہیں مدینے کے باہر خندق سے سابقہ پیش آئے گا، کیونکہ اہل عرب اس طریق دفاع سے ناآشنا تھے۔ ناچار انہیں جاڑے کے زمانے میں ایک طویل محاصرے کے لیے تیار ہونا پڑا جس کے لیے وہ گھروں سے تیار ہو کر نہیں آئے تھے۔ اس کے بعد کفار کے لیے صرف ایک ہی تدبیر باقی رہ گئی تھی، اور وہ یہ کہ بنی قریظہ کے یہودی قبیلے کو غداری پر آمادہ کریں جو مدینہ طیبہ کے جنوب مشرقی گوشے میں رہتا تھا۔ چونکہ اس قبیلے سے مسلمانوں کا باقاعدہ حلیفانہ معاہدہ تھا جس کی رو سے مدینہ پر حملہ ہونے کی صورت میں وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر مدافعت کرنے کا پابند تھا، اس لیے مسلمانوں نے اس طرف سے بےفکر ہو کر اپنے بال بچے ان گڑھیوں میں بھجوا دیے تھے جو بنی قریظہ کی جانب تھیں اور ادھر مدافعت کا کوئی انتظام نہ کیا تھا۔ کفار نے اسلامی دفاع کے اس کمزور پہلو کو بھانپ لیا۔ ان کی طرف سے بنی النَّضیر کا یہودی سردار حُیّی بن اَخْطَب بنی قریظہ کے پاس بھیجا گیا تاکہ انہیں معاہدہ توڑ کر جنگ میں شامل ہونے پر آمادہ کرے۔ ابتداءً انہوں نے اس سے انکار کیا اور صاف صاف کہہ دیا کہ ہمارا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے معاہدہ ہے اور آج تک کبھی ہمیں ان سی کوئی شکایت پیدا نہیں ہوئی ہے۔ لیکن جب ابن اخطب نے ان سے کہا کہ " دیکھو، میں اس وقت عرب کی متحدہ طاقت اس شخص پر چڑھا لایا ہوں، یہ اسے ختم کردینے کا نادر موقع ہے، اس کو اگر تم نے کھو دیا تو پھر دوسرا کوئی موقع نہ مل سکے گا "، تو یہودی ذہن کی اسلام دشمنی اخلاق کے پاس ولحاظ پر غالب آگئی اور بنی قریظہ عہد توڑنے پر آمادہ ہوگئے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس معاملے سے بھی بیخبر نہ تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بر وقت اس کی اطلاع مل گئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فوراً انصار کے سرداروں (سعد بن غُبّادہ، سعد بن معاذ، عبداللہ بن رواعہ اور خَوّات بن جبیر) کو ان کے پاس تحقیق حال اور فہمائش کے لیے بھیجا۔ چلتے وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو ہدایت فرمائی کہ اگر بنی قریظہ عہد پر قائم رہیں تو آ کر سارے لشکر کے سامنے علی الاعلان یہ خبر سنا دینا۔ لیکن اگر وہ نقض عہد پر مصر ہوں صرف مجھ کو اشارۃً اس کی اطلاع دے دینا تاکہ عام مسلمان یہ بات سن کر پست ہمت نہ ہوجائیں۔ یہ حضرات وہاں پہنچے تو بنی قریظہ کو پوری خباثت پر آمادہ پایا اور انہوں نے برملا ان سے کہہ دیا کہ لا عقد بیننا وبین محمد ولا عھد۔ " ہمارے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان کوئی عہد پیما نہیں ہے " ،۔ اس جواب کو سن کر وہ لشکر اسلام میں واپس آئے اور اشارۃً حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کردیا : عَضَل وقارَہ۔ یعنی قبیلہ عَضَل وقارَہ نے رجیع کے مقام پر مبلغین اسلام کے وفد سے جو غداری کی تھی، وہی کچھ اب بنی قریظہ کر رہے ہیں۔ یہ خبر بہت جلدی مدینہ کے مسلمانوں میں پھیل گئی اور ان کے اندر اس سے سخت اضطراب پیدا ہوگیا۔ کیونکہ اب وہ دونوں طرف سے گھیرے میں آگئے تھے اور ان کے شہر کا وہ حصہ خطرے میں پڑگیا تھا جدھر دفاع کا بھی کوئی انتظام نہ تھا اور سب کے بال بچے بھی اسی جانب تھے۔ اس پر منافقین کی سرگرمیاں اور تیز ہوگئیں اور انہوں نے اہل ایمان کے حوصلے پست کرنے کے لیے طرح طرح کے نفسیاتی حملے شروع کردیے۔ کسی نے کہا کہ " ہم سے تو وعدے تو قیصر و کسریٰ کے ملک فتح ہوجانے کے کیے جا رہے تھے، اور حال یہ ہے کہ ہم رفع حاجت کے لیے بھی نہیں نکل سکتے۔ " کسی نے یہ کہہ کر خندق کے محاذ سے رخصت مانگی کہ اب تو ہمارے گھر ہی خطرے میں پڑگئے ہیں ہمیں جا کر ان کی حفاظت کرنی ہے۔ کسی نے یہاں تک خفیہ پروپیگنڈا شروع کردیا کہ حملہ آوروں سے اپنا معاملہ درست کرلو اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے حوالے کردو۔ یہ ایسی شدید آزمائش کا وقت تھا جس میں ہر اس شخص کا پردہ فاش ہوگیا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی نفاق موجود تھا۔ صرف صادق و مخلص اہل ایمان ہی تھے جو اس کڑے وقت میں بھی فدا کاری کے عزم پر ثابت قدم رہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس نازک موقع پر بنی غطفان سے صلح کی بات چیت شروع کی اور ان کو اس بات پر آمادہ کرنا چاہا کہ مدینے کے پھلوں کی پیداوار کا تیسرا حصہ لے کر واپس چلے جائیں۔ لیکن جب انصار کے سرداروں (سعد بن عبادہ اور سعد بن معاذ) سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان شرائط صلح کے متعلق مشورہ طلب کیا تو انہوں نے عرض کیا " یا رسول اللہ، یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خواہش ہے کہ ہم ایسا کریں ؟ یا یہ اللہ کا حکم ہے کہ ہمارے لیے اسے قبول کرنے کے سوا چارہ نہیں ہے ؟ یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں بچانے کے لیے یہ تجویز فرما رہے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا " میں صرف تم لوگوں کو بچانے کے لیے ایسا کر رہا ہوں، کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ سارا عرب متحد ہو کر تم پر پل پڑا ہے، میں چاہتا ہوں کہ ان کو ایک دوسرے سے توڑ دوں۔ " اس پر دونوں سرداروں نے بالاتفاق کہا کہ " اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہماری خاطر یہ معاہدہ کر رہے ہیں تو اسے ختم کردیجیے۔ یہ قبیلے ہم سے اس وقت بھی ایک حبہ خراج کے طور پر کبھی نہ لے سکے تھے جب ہم مشرک تھے۔ اور اب تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کا شرف ہمیں حاصل ہے۔ کیا اب یہ ہم سے خراج لیں گے ؟ ہمارے اور ان کے درمیان اب صرف تلوار ہی ہے، یہاں تک کہ اللہ ہمارا اور ان کا فیصلہ کر دے "۔ یہ کہہ کر انہوں نے معاہدے کے اس مسودے کو چاک کردیا جس پر ابھی دستخط نہ ہوئے تھے۔ اسی دوران میں قبیلۂ غَطَفان کی شاخ اشجع کے ایک صاحب نعیم بن مسعود مسلمان ہو کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ابھی تک کسی کو بھی میرے قبول اسلام کا علم نہیں ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ سے اس وقت جو خدمت لینا چاہیں میں اسے انجام دے سکتا ہوں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، تم جا کر دشمنوں میں پھوٹ ڈالنے کی کوئی تدبیر کرو (اسی موقعہ پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا اَلْحَرْبُ خُدْعَۃ۔ یعنی جنگ میں دھوکہ دینا جائز ہے۔ ) چناچہ وہ پہلے بنی قریظہ کے پاس گئے جن سے ان کا بہت میل جول تھا، اور ان سے کہا کہ قریش اور غطفان تو محاصرے سے تنگ آ کر واپس بھی جاسکتے ہیں، ان کا کچھ نہ بگڑے گا، مگر تمہیں مسلمانوں کے ساتھ اسی جگہ رہنا ہے، وہ لوگ اگر چلے گئے تو تمہارا کیا بنے گا۔ میری رائے یہ ہے کہ تم اس وقت تک جنگ میں حصہ نہ لو جب تک ان باہر سے آئے ہوئے قبائل کے چند نمایاں آدمی تمہارے پاس یرغمال کے طور پر نہ بھیج دیے جائیں۔ یہ بات بنی قریظہ کے دل میں اتر گئی اور انہوں نے متحدہ محاذ کے قبائل سے یرغمال طلب کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ پھر یہ صاحب قریش اور غطفان کے سرداروں کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ بنی قریظہ کچھ ڈھیلے پڑتے نظر آ رہے ہیں، بعید نہیں کہ وہ تم سے یرغمال کے طور پر کچھ آدمی مانگیں اور انہیں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے کر کے اپنا معاملہ صاف کرلیں۔ اس لیے ذرا ان کے ساتھ ہوشیاری سے معاملہ کرنا۔ اس سے متحدہ محاذ کے لیڈر بنی قریظہ کی طرف سے کھٹک گئے اور انہوں نے قرظی سرداروں کو پیغام بھیجا کہ اس طویل محاصرے سے اب ہم تنگ آگئے ہیں، اب ایک فیصلہ کن لڑائی ہوجانی چاہیے، کل تم ادھر سے حملہ کرو اور ہم ادھر سے یکبارگی مسلمانوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ بنی قریظہ نے جواب میں کہلا بھیجا کہ آپ لوگ اپنے چند نمایاں آدمی یرغمال کے طور پر ہمارے حوالہ نہ کردیں، ہم جنگ کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ اس جواب سے متحدہ محاذ کے لیڈروں کو یقین آگیا کہ نعیم کی بات سچی تھی۔ انہوں نے یرغمال دینے سے انکار کردیا اور اس سے بنی قریظہ نے سمجھ لیا کہ نعیم نے ہم کو ٹھیک مشورہ دیا تھا۔ اس طرح یہ جنگی چال بہت کامیاب ثابت ہوئی اور اس نے دشمنوں کے کیمپ میں پھوٹ ڈال دی۔ اب محاصرہ پچیس دن سے زیادہ طویل ہوچکا تھا۔ سردی کا زمانہ تھا۔ اتنے بڑے لشکر کے لیے پانی اور غذا اور چارے کی فراہمی بھی مشکل تر ہوتی چلی جا رہی تھی۔ اور پھوٹ پڑجانے سی بھی محاصرین کے حوصلے پست ہوچکے تھے۔ اس حالت میں یکایک ایک رات سخت آندھی آئی جس میں سردی اور کڑک اور چمک تھی، اور اتنا اندھیرا تھا کہ ہاتھ کو ہاتھ نہ سوجھائی دیتا تھا۔ آندھی کے زور سے دشمنوں کے خیمے الٹ گئے اور ان کے اندر شدید افراتفری برپا ہوگئی۔ قدرت خداوندی کا یہ کاری وار وہ نہ سہہ سکے۔ راتوں رات ہر ایک نے اپنے گھر کی راہ لی اور صبح جب مسلمان اٹھے تو میدان میں ایک دشمن بھی موجود نہ تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میدان کو دشمنوں سے خالی دیکھ کر فوراً ارشاد فرمایا : لن تغزوکم قریش بعد عامکم ھٰذا ولکنکم تغزونھم۔ یعنی " اب قریش کے لوگ تم پر کبھی چڑھائی نہ کرسکیں گے۔ اب تم ان پر چڑھائی کرو گے "۔ یہ حالات کا بالکل صحیح اندازہ تھا۔ قریش ہی نہیں، سارے دشمن قبائل متحد ہو کر اسلام کے خلاف اپنا آخری داؤ چل چکے تھے۔ اس میں ہار جانے کے بعد اب ان میں یہ ہمت ہی باقی نہ رہی تھی کہ مدینے پر حملہ آور ہونے کی جرأت کرسکتے۔ اب حملے (offensive) کی قوت دشمنوں سے مسلمانوں کی طرف منتقل ہوچکی تھی۔

غزوؤ بنی قریظہ

خندق سے پلٹ کر جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر پہنچے تو ظہر کے وقت جبرئیل (علیہ السلام) نے آ کر حکم سنایا کہ ابھی ہتھیار نہ کھولے جائیں، بنی قریظہ کا معاملہ باقی ہے، ان سے بھی اسی وقت نمٹ لینا چاہئے۔ یہ حکم پاتے ہی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فوراً اعلان فرمایا کہ " جو کوئی سمع وطاعت پر قائم ہو وہ عصر کی نماز اس وقت تک نہ پڑھے جب تک دیار بنی قریظہ پر نہ پہنچ جائے "۔ اس اعلان کے ساتھ ہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو ایک دستے کے ساتھ مقدمۃ الجیش کے طور پر بنی قریظہ کی طرف روانہ کردیا۔ وہ جب وہاں پہنچے تو یہودیوں نے کوٹھوں پر چڑھ کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں پر گالیوں کی بوچھاڑ کردی، لیکن یہ بدزبانی ان کو اس جرم عظیم کے خمیازے سے کیسے بچا سکتی تھی کہ انہوں نے عین لڑائی کے وقت معاہدہ توڑ ڈالا اور حملہ آوروں سے مل کر مدینے کی پوری آبادی کو ہلاکت کے خطرے میں مبتلا کردیا۔ حضرت علی (رض) کے دستے کو دیکھ کر وہ سمجھے تھے کہ یہ محض دھمکانے آئے ہیں۔ لیکن جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قیادت میں پورا اسلامی لشکر وہاں پہنچ گیا اور ان کی بستی کا محاصرہ کرلیا گیا تو ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ محاصرہ کی شدت کو وہ دو تین ہفتوں سے زیادہ برداشت نہ کرسکے اور آخر کار انہوں نے اس شرط پر اپنے آپ کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے کردیا کہ وہ قبیلہ اوس کے سردار حضرت سعد بن معاذ (رض) ان کے حق میں جو فیصلہ بھی کردیں گے اسے فریقین مان لیں گے۔ انہوں نے حضرت سعد (رض) کو اس امید پر حکم بنایا تھا کہ زمانۂ جاہلیت میں اوس اور بنی قریظہ کے درمیان جو حلیفانہ تعلقات مدتوں سے چلے آ رہے تھے وہ ان کا لحاظ کریں گے اور انہیں بھی اسی طرح مدینہ سے نکل جانے دیں گے جس طرح پہلے بنی قَیْنقُاع اور بنی النضیر کو نکل جانے دیا گیا تھا۔ خود قبیلۂ اَوس کے لوگ بھی حضرت سعد (رض) سے تقاضا کر رہے تھے کہ اپنے حلیفوں کے ساتھ نرمی برتیں۔ لیکن حضرت سعد (رض) ابھی بھی دیکھ چکے تھے کہ پہلے جن دو یہودی قبیلوں کو مدینہ سے نکل جانے کا موقع دیا تھا وہ کس طرح سارے گرد و پیش کے قبائل کو بھڑکا کر مدینے پر دس بارہ ہزار کا لشکر چڑھا لائے تھے۔ اور یہ معاملہ بھی ان کی سامنے تھا کہ اس آخری یہودی قبیلے نے عین بیرونی حملے کے موقع پر بد عہدی کر کے اہل مدینہ کو تباہ کردینے کا کیا سامان کیا تھا۔ اس لیے انہوں نے فیصلہ دیا کہ بنی قریظہ کے تمام مرد قتل کردیے جائیں، عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا جائے، اور ان کی تمام املاک مسلمانوں میں تقسیم کردی جائیں۔ اس فیصلے پر عمل کیا گیا اور جب بنی قریظہ کی گڑھیوں میں مسلمان داخل ہوئے تو انہیں پتہ چلا کہ جنگ احزاب میں حصہ لینے کے لیے ان غداروں نے پندرہ سو تلواریں، تین سو زرہیں، دو ہزار نیزے اور پندرہ سو ڈھالیں فراہم کی تھیں۔ اگر اللہ کی تائید مسلمانوں کے شامل حال نہ ہوتی تو یہ سارا جنگی سامان عین وقت مدینہ پر عقب سے حملہ کرنے کے لیے استعمال ہوتا جبکہ مشرکین یکبارگی خندق پار کر کے ٹوٹ پڑنے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ اس انکشاف کے بعد تو اس امر میں شک کرنے کی کوئی گنجائش ہی نہ رہی کہ حضرت سعد (رض) نے ان لوگوں کے معاملہ میں جو فیصلہ دیا وہ بالکل حق تھا۔ معاشرتی اصلاحات : جنگ اُحُد اور جنگ احزاب کے درمیان، دو سال کا یہ زمانہ اگرچہ ایسے ہنگاموں کا زمانہ تھا جن کی بدولت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کو ایک دن کے لیے بھی امن اور اطمینان نصیب نہ ہوا۔ لیکن اس پوری مدت میں نئے مسلم معاشرے کی تعمیر، اور ہر پہلو میں زندگی کی اصلاح کا کام برابر جاری رہا یہی زمانہ تھا جس میں مسلمانوں کے قوانین نکاح و طلاق قریب قریب مکمل ہوگئے اور وراثت کا قانون بنا، شراب اور جوئے کو حرام کیا گیا، اور معیشت و معاشرت کے دوسرے بہت سے پہلوؤں میں نئے ضابطے نافذ کئے گئے۔ اس سلسلے کا ایک اہم مسئلہ جو اصلاح کا تقاضا کر رہا تھا تَبْنِیتْ (گود لینے یا بیٹا بنانے) کا مسئلہ تھا۔ عرب کے لوگ جس بچے کو متبنیٰ بنا لیتے تھے وہ بالکل ان کی حقیقی اولاد کی طرح سمجھا جاتا تھا۔ اسے وراثت ملتی تھی۔ اس سے منہ بولی ماں اور منہ بولی بہنیں وہی خلا ملا رکھتی تھیں جو حقیقی بیٹے اور بھائی سے رکھا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ منہ بولے باپ کے مر جانے کے بعد اس کی بیوہ کا نکاح اسی طرح ناجائز سمجھا جاتا تھا جس طرح سگی بہن اور حقیقی ماں کے ساتھ کسی کا نکاح حرام ہوتا ہے۔ اور یہی معاملہ اس صورت میں بھی کیا جاتا تھا جب منہ بولا بیٹا مر جائے یا اپنی بیوی کو طلاق دے دے۔ منہ بولے باپ کے لیے وہ عورت سگی بہو کی طرح سمجھی جاتی تھی۔ یہ رسم قدم قدم پر نکاح اور طلاق اور وراثت کے ان قوانین سے ٹکراتی تھی جو اللہ تعالیٰ نے سورة بقرہ اور سورة نساء میں مقرر فرمائے تھے ان کی رو سے جو لوگ حقیقت میں وراثت کے حق دار تھے یہ رسم ان کا حق مار کر ایک ایسے شخص کو دلواتی تھی جو سرے سے کوئی حق نہ رکھتا تھا۔ ان کی رو سے جن عورتوں اور مردوں کے درمیان رشتۂ نکاح حلال تھا، یہ رسم ان کے باہمی نکاح کو حرام کرتی تھی۔ اور سب سے زیادہ یہ کہ اسلامی قانون جن بد اخلاقیوں کا سد باب کرنا چاہتا تھا، یہ رسم ان کے پھیلنے میں مددگار تھی کیونکہ رسم کے طور پر منہ بولے رشتے میں خواہ کتنا ہی تقدُّس پیدا کردیا جائے، بہرحال منہ بولی ماں، منہ بولی بہن اور منہ بولی بیٹی حقیقی ماں اور بیٹی کی طرح نہیں ہو سکتی۔ ان مصنوعی رشتوں کے رسمی تقدس پر بھروسہ کر کے مردوں اور عورتوں کے درمیان جب حقیقی رشتہ داروں کا سا خلا ملا ہو تو وہ برے نتائج پیدا کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ان وجوہ سے اسلامی قانون نکاح و طلاق، قانون وراثت اور قانون حرمت زنا کا یہ تقاضا تھا کہ متبنّیٰ کو حقیقی اولاد کی طرح سمجھنے کے تخیل کا قطعی استیصال کردیا جائے۔ لیکن یہ تخیل محض ایک قانونی حکم کے طور پر اتنی سی بات کردینے سے ختم نہیں ہوسکتا تھا کہ۔۔ " منہ بولا رشتہ کوئی حقیقی رشتہ نہیں ہے۔ " صدیوں کے جمے ہوئے تعصبات اور اوہام محض اقوال سے نہیں بدل جاتے۔ حکماً لوگ اس بات کو مان بھی لیتے کہ یہ رشتے حقیقی رشتے نہیں ہیں، پھر بھی منہ بولی ماں اور منہ بولے بیٹے کے درمیان منہ بولے بھائی اور بہن کے درمیان، منہ بولے باپ اور بیٹی کے درمیان، منہ بولے خسر اور بہو کے درمیان نکاح کو لوگ مکروہ سمجھتے رہتے۔ نیز ان کے درمیان خلا ملا بھی کچھ نہ کچھ باقی رہ جاتا۔ اس لیے ناگزیر تھا کہ یہ رسم عملاً توڑی جائے، اور خود رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنفس نفیس اس کو توڑیں۔ کیونکہ جو کام حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود کیا ہو، اور اللہ کے حکم سے کیا ہو، اس کے متعلق کسی مسلمان کے ذہن میں کراہت کا تصور باقی نہ رہ سکتا تھا۔ اسی بنا پر جنگ احزاب سے کچھ پہلے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اشارہ کیا گیا کہ آپ اپنے منہ بولے بیٹے زید بن حارثہ (رض) کی مطلقہ بیوی سے خود نکاح کرلیں، اور اس حکم کی تعمیل آپ نے محاصرۂ بنی قریظہ کے زمانہ میں فرمائی۔ (غالباً تاخیر کی وجہ یہ تھی کہ عدت ختم ہونے کا انتظار تھا، اور اسی دوران میں جنگی مصروفیات پیش آگئی تھیں)۔

نکاحِ زینب ؓ پر پروپیگنڈے کا طوفان

یہ کام ہونا تھا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف پروپیگنڈے کا ایک طوفان یکلخت اٹھ کھڑا ہوا۔ مشرکین اور منافقین اور یہود سب آپ کی پے در پے کامیابیوں سے جلے بیٹھے تھے۔ اُحُد کے بعد احزاب اور بنی قریظہ تک دو سال کی مدت میں جس طرح وہ زک پر زک اٹھاتے چلے گئے تھے اس کی وجہ سے ان کے دلوں میں آگ لگ رہی تھی۔ وہ اس بات سے بھی مایوس ہوچکے تھے کہ اب وہ کھلے میدان میں لڑ کر کبھی آپ کو زیر کرسکیں گے۔ اس لیے انہوں نے اس نکاح کے معاملے کو اپنے لیے ایک خدا داد موقع سمجھا اور خیال کیا کہ اب ہم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس اخلاقی برتری کو ختم کرسکیں گے جو ان کی طاقت اور ان کی کامیابیوں کا اصل راز ہے چناچہ یہ افسانے تراشے کہ (معاذاللہ) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہو کو دیکھ کر عاشق ہوگئے تھے، بیٹے کو اس تعلق خاطر کا علم ہوگیا، اس نے بیوی کو طلاق دے دی، اور باپ نے اس کے بعد بہو سے بیاہ رچا لیا۔ حالانکہ یہ بات صریحاً لغو تھی۔ حضرت زینب (رض) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پھوپھی زاد بہن تھیں۔ بچپن سے جوانی تک ان کی ساری عمر آپ کے سامنے گزری تھی۔ کسی وقت ان کو دیکھ کر عاشق ہوجانے کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا تھا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود اصرار کر کے حضرت زید (رض) سے ان کا نکاح کرایا تھا۔ ان کا سارا خاندان اس پر راضی نہ تھا کہ قریش کے اتنے اونچے گھرانے کی لڑکی ایک آزاد کردہ غلام سے بیاہی جائے۔ خود حضرت زینب (رض) بھی اس رشتے سے ناخوش تھیں۔ مگر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے سب مجبور ہوگئے، اور حضرت زید (رض) کے ساتھ ان کی شادی کر کے عرب میں اس امر کی پہلی مثال پیش کردی گئی کہ اسلام ایک آزاد کردہ غلام کو اٹھا کر شرفائے قریش کے برابر لے آیا ہے۔ اگر فی الواقع حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کوئی میلان حضرت زینب (رض) کی جانب ہوتا تو زید بن حارثہ سے ان کا نکاح کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی، آپ خود ان سے نکاح کرسکتے تھے۔ لیکن بےحیا مخالفین نے ان سارے حقائق کے موجود ہوتے یہ عشق کے افسانے تصنیف کیے، خوب نمک مرچ لگا لگا کر ان کو پھیلایا اور اس پروپیگنڈے کا صور اس زور سے پھونکا کہ خود مسلمانوں کے اندر بھی ان کی گھڑی ہوئی روایات پھیل گئیں۔

پردہ کے ابتدائی احکام

یہ بات کہ دشمنوں کے تصنیف کیے ہوئے یہ افسانے مسلمانوں کی زبانوں پر چڑھنے سے بھی نہ رکے اس امر کی کھلی ہوئی علامت تھی کہ معاشرے میں شہوانیت کا عنصر حد اعتدال سے بڑھا ہوا تھا۔ یہ خرابی اگر موجود نہ ہوتی تو ممکن نہ تھا کہ ذہن ایسی پاک ہستی کے متعلق ایسے بےسرو پا اور اس قدر گھناؤنے افسانوں کی طرف ادنیٰ التفات بھی کرتے، کجا کہ زبانیں ان کو دہرانے لگتیں۔ یہ ٹھیک موقع تھا جبکہ اسلامی معاشرے میں ان اصلاحی احکام کے نفاذ کی ابتدا کی گئی جو " حجاب " (پردے) کے عنوان سے بیان کیے جاتے ہیں۔ ان اصلاحات کا آغاز اس سورے سے کیا گیا، اور ان کی تکمیل ایک سال بعد سورة نور میں کی گئی، جبکہ حضرت عائشہ پر بہتان کا فتنہ کھڑا ہوا۔ ( مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفسیر سورة نور، دیباچہ) ۔ حضور کی خانگی زندگی کے معاملات : اسی زمانہ میں دو مسئلے اور بھی توجہ طلب تھے۔ اگرچہ بظاہر ان کا تعلق نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خانگی زندگی سے تھا، مگر جو ذات اپنی جان خدا کے دین کو پروان چڑھانے کے لیے کھپا رہی تھی اور ہمہ تن اس کار عظیم میں منہمک تھی اس کے لیے خانگی زندگی کا سکون فراہم کرنا، اور اس کو پریشانیوں سے بچانا، اور اس کو لوگوں کے شکوک و شبہات سے محفوظ رکھنا بھی خود دین ہی کے مفاد کے لیے ضروری تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نی سرکاری طور پر ان دونوں مسئلوں کو بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ پہلا مسئلہ یہ تھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت مالی حیثیت سے تنگ حال تھے۔ ابتدائی چار سال تک تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کوئی ذریعۂ آمدنی تھا ہی نہیں۔ ٤ ھ میں بنی النضیر کی جلا وطنی کے بعد ان کی متروکہ زمینوں کا ایک حصہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ضروریات کے لیے مخصوص کردیا گیا۔ مگر وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کنبے کے لیے کافی نہ تھا۔ ادھر منصب رسالت کے فرائض اتنے بھاری تھے کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جسم اور دل و دماغ کی ساری طاقتیں اور آپ کے اوقات کا ایک ایک لمحہ سونتے ڈال رہے تھے اور آپ اپنی معاش کے لیے ذرہ برابر بھی کوئی فکر یا کوشش نہ کرسکتے تھے۔ ان حالات میں جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات خرچ کی تنگی کے باعث آپ کے سکون طبع میں خلل انداز ہوتی تھیں تو اس سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذہن پر دہرا بار پڑجاتا تھا۔ دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ حضرت زینب (رض) کے ساتھ نکاح کرنے سے پہلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چار بیویاں موجود تھیں۔ حضرت سودہ (رض) ، حضرت عائشہ (رض) ، حضرت حَفْصہ (رض) اور حضرت اُمِّ سَلَمہ (رض) اُمّ المومنین حضرت زینب (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پانچویں بیوی تھیں۔ اس پر مخالفین نے یہ اعتراض اٹھایا، اور مسلمانوں کے دلوں میں بھی اس سے شبہات ابھرنے لگے کہ دوسروں کے لیے تو بیک وقت چار بیویاں رکھنا ممنوع ٹھہرا دیا گیا ہے، مگر خود نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ پانچویں بیوی کیسے کرلی۔

موضوع اور مباحث

یہ مسائل تھے جو سورة احزاب کے نزول کے زمانے میں پیش آئے تھے اور انہی پر اس سورے میں کلام فرمایا گیا ہے۔ اس کے مضامین پر غور کرنے، اور پس منظر کو نگاہ میں رکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ پوری سورة ایک خطبہ نہیں ہے جو بیک وقت نازل ہوا ہو، بلکہ یہ متعدد احکام و فرامین اور خطبات پر مشتمل ہے جو اس زمانہ کے اہم واقعات کے سلسلے میں یکے بعد دیگرے نازل ہوئے اور پھر یکجا جمع کر کے ایک سورة کی شکل میں مرتب کردیے گئے۔ اس کے حسب ذیل اجزاء صاف طور پر ممیز نظر آتے ہیں۔ ١۔ پہلا رکوع غزوۂ احزاب سے کچھ پہلے نازل شدہ معلوم ہوتا ہے۔ تاریخی پس منظر کو نگاہ میں رکھ کر دیکھا جائے تو اس رکوع کو پڑھتے ہوئے صاف محسوس ہوتا ہے کہ اس کے نزول کے وقت حضرت زید (رض) حضرت زینب (رض) کو طلاق دے چکے تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس ضرورت کو محسوس فرما رہے تھے کہ متبنیٰ کے بارے میں جاہلیت کے تصورات اور اوہام و رسوم کو مٹایا جائے، اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بھی محسوس ہو رہا تھا کہ لوگ منہ بولے رشتوں کے معاملے میں محض جذباتی بنیادوں پر جس قسم کے نازک اور گہرے تصورات رکھتے ہیں وہ اس وقت تک ہرگز نہ مٹ سکیں گے جب تک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود آگے بڑھ کر اس رسم کو نہ توڑ دیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس بنا پر سخت متردد تھے اور قدم بڑھاتے ہوئے ہچکچا رہے تھے کہ اگر اس موقع پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زید (رض) کی مطلقہ بیوی سے نکاح کیا تو اسلام کے خلاف ہنگامہ اٹھانے کے لیے منافقین اور یہود اور مشرکین کو، جو پہلے ہی بھرے بیٹھے ہیں، ایک زبردست شوشہ ہاتھ آجائے گا۔ اس موقع پر رکوع اول کی آیات نازل ہوئیں۔ ٢۔ رکوع دوم و سوم میں غزوۂ احزاب اور غزوۂ بنی قریظہ پر تبصرہ فرمایا گیا ہے۔ یہ اس بات کی کھلی علامت ہے کہ یہ دونوں رکوع ان لڑائیوں کے بعد نازل ہوئے ہیں۔ ٣۔ چوتھے رکوع کے آغاز سے آیت ٣٥ تک کی تقریر دو مضامین پر مشتمل ہے۔ پہلے حصہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج کو، جو اس تنگی و عسرت کے زمانے میں بےصبر ہو رہی تھیں، اللہ تعالیٰ نے نوٹس دیا ہے کہ دنیا اور اس کی زینت، اور خدا و رسول اور آخرت میں سے کسی ایک کو انتخاب کرلو۔ اگر تمہیں پہلی چیز مطلوب ہے تو صاف کہہ دو ، تمہیں ایک دن کے لیے بھی اس تنگی میں مبتلا نہ رکھا جائے گا بلکہ بخوشی رخصت کردیا جائے گا۔ اور اگر دوسری چیز پسند ہے تو صبر کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کا ساتھ دو ۔ دوسرے حصے میں اس معاشرتی اصلاح کی طرف پہلا قدم اٹھایا گیا جس کی ضرورت اسلام کے سانچے میں ڈھلے ہوئے ذہن اب خود محسوس کرنے لگے تھے۔ اس سلسلہ میں اصلاح کی ابتدا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر سے کرتے ہوئے ازواج مطہرات کو حکم دیا گیا کہ تبرُّجِ جاہلیّت سے پرہیز کریں، وقار کے ساتھ اپنے گھروں میں بیٹھیں اور غیر مردوں کے ساتھ بات چیت کرنے میں سخت احتیاط ملحوظ رکھیں۔ یہ پردے کے احکام کا آغاز تھا۔ ٤۔ آیت ٣٦ سے ٤٨ تک کا مضمون حضرت زینب (رض) کے ساتھ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نکاح کے سلسلہ میں ہے۔ اس میں ان تمام اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے جو مخالفین کی طرف سے اس نکاح پر کیے جا رہے تھے، ان تمام شبہات کو رفع کیا گیا ہے جو مسلمانوں کے دلوں میں ڈالنے کی کوشش کی جا رہی تھی، مسلمانوں کو بتایا گیا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مرتبہ و مقام کیا ہے، اور خود حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفار و منافقین کے جھوٹے پروپیگنڈے پر صبر کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ ٥۔ آیت ٤٩ میں طلاق کے قانون کی ایک دفعہ بیان ہوئی ہے۔ یہ ایک منفرد آیت ہے جو غالباً انہی واقعات کے سلسلے میں کسی موقع پر نازل ہوئی تھی۔ ٦۔ آیت ٥٠۔ ٥٢ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے نکاح کا خاص ضابطہ بیان کیا گیا ہے۔ اس میں یہ بات واضح کردی گئی کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان متعدد پابندیوں سے مستثنیٰ ہیں جو ازدواجی زندگی کے معاملہ میں عام مسلمانوں پر عائد کی گئی ہیں۔ ٧۔ آیت ٥٣۔ ٥٥ میں معاشرتی اصلاح کا دوسرا قدم اٹھایا گیا۔ یہ حسب ذیل احکام پر مشتمل ہے : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھروں میں غیر مردوں کی آمد و رفت پر پابندی۔ ملاقات اور دعوت کا ضابطہ۔ ازواج مطہرات کے بارے میں یہ قانون کہ گھروں میں صرف ان کے قریبی رشتہ دار آسکتے ہیں، باقی رہے غیر مرد، تو انہیں اگر کوئی بات کہنی ہو یا کوئی چیز مانگنی ہو تو پردے کے پیچھے سے کہیں یا مانگیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج کے بارے میں یہ حکم کہ وہ مسلمانوں کے لیے ماں کی طرح حرام ہیں اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد بھی ان میں سے کسی کے ساتھ کسی مسلمان کا نکاح نہیں ہو سکتا۔ ٨۔ آیت ٥٦۔ ٥٧ میں ان چہ میگوئیوں پر سخت تنبیہ کی گئی ہے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نکاح اور آپ کی خانگی زندگی پر کی جا رہی تھیں اور اہل ایمان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دشمنوں کی اس عیب چینی سے اپنے دامن بچائیں اور اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجیں۔ نیز یہ تلقین بھی کی گئی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو درکنار، اہل ایمان کو تو عام مسلمانوں پر بھی تہمتیں لگانے اور الزامات عائد کرنے سے کلی اجتناب کرنا چاہیے۔ ٩۔ آیت ٥٩ میں معاشرتی اصلاح کا تیسرا قدم اٹھایا گیا ہے۔ اس میں تمام مسلمان عورتوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ جب گھروں سے باہر نکلیں تو چادروں سے اپنے آپ کو ڈھانک کر اور گھونگٹ ڈال کر نکلیں۔ اس کے بعد آخر سورة تک افواہ بازی کی اس مہم (Whispering Campaign) پر سخت زجر و توبیخ کی گئی ہے جو منافقین اور اراذل نے اس وقت برپا کر رکھی تھی۔

Ayah 33:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 33:1 in the Quran reader

1 اے نبیؐ! اللہ سے ڈرو اور کفّار اور منافقین کی اطاعت نہ کرو، حقیقت میں علیم اور حکیم تو اللہ ہی ہے۔ 2

سورة الْاَحْزَاب 1 جیسا کہ ہم اس سورة کے دیباچے میں بیان کرچکے ہیں، یہ آیات اس وقت نازل ہوئی تھیں جب حضرت زید ؓ حضرت زینب ؓ کو طلاق دے چکے تھے۔ اس وقت نبی ﷺ خود بھی یہ محسوس فرماتے تھے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد بھی یہی تھا کہ منہ بولے رشتوں کے معاملہ میں جاہلیت کے رسوم و اوہام پر ضرب لگانے کا یہ ٹھیک موقع ہے، اب آپ خود آگے بڑھ کر اپنے منہ بولے بیٹے (زید ؓ کی مطلقہ سے نکاح کرلینا چاہیے تاکہ یہ رسم قطعی طور پر ٹوٹ جائے۔ لیکن جس وجہ سے حضور ﷺ اس معاملہ میں قدم اٹھاتے ہوئے جھجک رہے تھے وہ یہ خوف تھا کہ اس سے کفار و منافقین کو، جو پہلے ہی آپ ﷺ کی پے در پے کامیابیوں سے جلے بیٹھے تھے، آپ ﷺ کے خلاف پروپیگینڈا کرنے کے لیے زبردست ہتھیار مل جائے گا۔ یہ خوف کچھ اپنی بدنامی کے اندیشے سے نہ تھا کہ اس سے اسلام کو زک پہنچے گی، دشمنوں کے پروپیگینڈے سے متاثر ہو کر بہت سے لوگ جو اسلام کی طرف میلان رکھتے ہیں بدگمان ہوجائیں گے، بہت سے غیر جانبدار لوگ دشمنوں میں شامل ہوجائیں گے، اور خود مسلمانوں میں سے کمزور عقل و ذہن کے لوگ شکوک و شبہات میں پڑجائیں گے۔ اس لیے حضور ﷺ یہ خیال کرتے تھے کہ جاہلیت کی ایک رسم کو توڑنے کی خاطر ایسا قدم اٹھانا خلاف مصلحت ہے جس سے اسلام کے عظیم تر مقاصد کو نقصان پہنچ جائے۔ سورة الْاَحْزَاب 2 تقریر کا آغاز کرتے ہوئے پہلے ہی فقرے میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے ان اندیشوں کو رفع فرما دیا۔ ارشاد کا منشا یہ ہے کہ ہمارے دین کی مصلحت کس چیز میں ہے اور کس چیز میں نہیں ہے، اس کو ہم زیادہ جانتے ہیں۔ ہم کو معلوم ہے کہ کس وقت کیا کام کرنا چاہیے اور کونسا کام خلاف مصلحت ہے۔ لہٰذا تم وہ طرز عمل اختیار نہ کرو جو کفار و منافقین کی مرضی کے مطابق ہو۔ ڈرنے کے لائق ہم ہیں نہ کہ کفار و منافقین۔
Ayah 33:2

وَّ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًاۙ Open ayah 33:2 in the Quran reader

پیروی کرو اس بات کی جس کا اشارہ تمہارے ربّ کی طرف سے تمہیں کیا جارہا ہے، اللہ ہر اُس بات سے باخبر ہے جو تم لوگ کرتے ہو۔ 3

سورة الْاَحْزَاب 3 اس فقرے میں خطاب نبی ﷺ سے بھی ہے اور مسلمانوں سے بھی اور مخالفین اسلام سے بھی۔ مطلب یہ ہے کہ نبی اگر اللہ کے حکم پر عمل کر کے بدنامی کا خطرہ مول لے گا اور اپنی عزت پر دشمنوں کے حملے صبر کے ساتھ برداشت کرے گا تو اللہ سے اس کی یہ وفا دارانہ خدمت چھپی نہ رہے گی۔ مسلمانوں میں سے جو لوگ نبی کی عقیدت میں ثابت قدم رہیں گے اور جو شکوک و شبہات میں مبتلا ہوں گے، دونوں ہی کا حال اللہ سے مخفی نہ رہے گا۔ اور کفار و منافقین اس کو بدنام کرنے کے لیے جو دوڑ دھوپ کریں گے اس سے بھی اللہ بیخبر نہ رہے گا۔ لہٰذا گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ ہر ایک اپنے عمل کے لحاظ سے جس جزا یا سزا کا مستحق ہوگا وہ اسے مل کر رہے گی۔
Ayah 33:3

وَّ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:3 in the Quran reader

اللہ پر توکّل کرو، اور اللہ ہی وکیل ہونے کے لیے کافی ہے۔4

سورة الْاَحْزَاب 4 اس فقرے کے مخاطب پھر نبی ﷺ ہیں۔ حضور ﷺ کو ہدایت فرمائی جا رہی ہے کہ جو فرض تم پر عائد کیا گیا ہے اسے اللہ کے بھروسے پر انجام دو اور دنیا بھر بھی اگر مخالف ہو تو اس کی پروا نہ کرو۔ جب آدمی کو یقین کے ساتھ یہ معلوم ہو کہ فلاں حکم اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ہے تو پھر اسے بالکل مطمئن ہوجانا چاہیے کہ ساری خیر اور مصلحت اسی حکم کی تعمیل میں ہے۔ اس کے بعد حکمت و مصلحت دیکھنا اس شخص کا اپنا کام نہیں ہے، بلکہ اسے اللہ کے اعتماد پر صرف تعمیل ارشاد کرنی چاہیے۔ اللہ اس کے لیے بالکل کافی ہے کہ بندہ اپنے معاملات اس کے سپرد کر دے۔ وہ رہنمائی کے لیے کافی ہے اور مدد کے لیے بھی، اور وہی اس امر کا ضامن بھی ہے کہ اس کی رہنمائی میں کام کرنے والا آدمی کبھی نتائج بد سے دو چار نہ ہو۔
Ayah 33:4

مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِهٖ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ الّٰٓئِیْ تُظٰهِرُوْنَ مِنْهُنَّ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَ هُوَ یَهْدِی السَّبِیْلَ Open ayah 33:4 in the Quran reader

اللہ نے کسی شخص کے دھڑ میں دو دل نہیں رکھے ہیں 5 ، نہ اس نے تم لوگوں کی اُن بیویوں کو جن سے تم ظہار کرتے ہو تمہاری ماں بنا دیا ہے 6 ، اور نہ اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہار حقیقی بیٹا بنایا ہے۔ 7 یہ تو وہ باتیں ہیں جو تم لوگ اپنے منہ سے نکال دیتے ہو،مگر اللہ وہ بات کہتا ہے جو مبنی بر حقیقت ہے، اور وہی صحیح طریقے کی طرف رہنمائی کرتا ہے

سورة الْاَحْزَاب 5 یعنی ایک آدمی بیک وقت مومن اور منافق، سچا اور جھوٹا، بدکار اور نیکو کار نہیں ہو سکتا۔ اس کے سینے میں دو دل نہیں ہیں کہ ایک دل میں اخلاص ہو اور دوسرے میں خدا سے بےخوفی۔ لہٰذا ایک وقت میں آدمی کی ایک ہی حیثیت ہو سکتی ہے۔ یا تو وہ مومن ہوگا یا منافق۔ یا تو وہ کافر ہوگا یا مسلم۔ اب اگر تم کسی مومن کو منافق کہہ دو یا منافق تو اس سے حقیقت نفس الامری نہ بدل جائے گی۔ اس شخص کی اصل حیثیت لازماً ایک ہی رہے گی۔ سورة الْاَحْزَاب 6 " ظِہار " عرب کی ایک خاص اصطلاح ہے۔ قدیم زمانے میں عرب کے لوگ بیوی سے لڑتے ہوئے کبھی یہ کہہ بیٹھتے تھے کہ " تیری پیٹھ میری لئے میری ماں کی پیٹھ جیسی ہے "۔ اور یہ بات جب کسی کے منہ سے نکل جاتی تھی تو یہ سمجھتا جاتا تھا کہ اب یہ عورت اس پر حرام ہوگئی ہے کیونکہ وہ اسے ماں سے تشبیہ دے چکا ہے۔ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بیوی کو ماں کہنے یا ماں کے ساتھ تشبیہ دے دینے سے وہ ماں نہیں بن جاتی۔ ماں تو وہی ہے جس نے آدمی کو جنا ہے۔ محض زبان سے ماں کہہ دینا حقیقت کو نہیں بدل دیتا کہ جو بیوی تھی وہ تمہارے کہنے سے ماں بن جائے۔ (یہاں ظہار کے متعلق شریعت کا قانون بیان کرنا مقصود نہیں ہے۔ اس کا قانون سورة مجادلہ۔ آیات 2۔ 4 میں بیان کیا گیا ہے)۔ سورة الْاَحْزَاب 7 یہ اصل مقصود کلام ہے۔ اوپر کے دونوں فقرے اسی تیسری بات کو ذہن نشین کرنے کے لئے بطور دلیل ارشاد ہوئے تھے۔
Ayah 33:5

اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآئِهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ مَوَالِیْكُمْ١ؕ وَ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ فِیْمَاۤ اَخْطَاْتُمْ بِهٖ١ۙ وَ لٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:5 in the Quran reader

منہ بولے بیٹو ں کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو،یہ اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ بات ہے۔ 8 اور اگے تمہیں معلوم نہ ہو کہ ان کے باپ کون ہے تو وہ تمہارے دینی بھائی اور رفیق ہیں۔ 9 نادانستہ جو بات تم کہو اس کے لیے تم پر کوئی گرفت نہیں ہے،لیکن اس بات پر ضرور گرفت ہے جس کا تم دل سے ارادہ کرو۔ 10 اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔ 11

سورة الْاَحْزَاب 8 اس حکم کی تعمیل میں سب سے پہلے جو اصلاح نافذ کی گئی وہ یہ تھی کہ نبی ﷺ کے منہ بولے بیٹے حضرت زید کو زید بن محمد کہنے کے بجائے ان کے حقیقی باپ کی نسبت سے زید بن حارثہ کہنا شروع کردیا گیا۔ بخاری ‘ مسلم ‘ ترمذی ‘ اور نسائی نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے یہ روایات نقل کی ہے کہ زید بن حارثہ کو پہلے سب لوگ زید بن محمد کہتے تھے۔ یہ آیت نازل ہونے کے بعد انہیں زید بن حارثہ کہنے لگے۔ مزید برآں اس آیت کے نزول کے بعد یہ بات حرام قرار دے دی گئی کہ کوئی شخص اپنے حقیقی باپ کے سوا کسی اور کی طرف اپنا نسب منسوب کرے۔ بخاری و مسلم اور ابو داؤد نے حضرت سعد بن ابی وقاص کی روایت نقل کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا من ادعیٰ الیٰ غیر ابیہ وھو یعلم انہ غیر ابیہ فالجنۃ علیہ حرام۔ " جس نے اپنے آپ کو اپنے باپ کے سوا کسی اور کا بیٹا کہا ‘ درآنحالیکہ وہ جانتا ہو کہ وہ شخص اس کا باپ نہیں ہے ‘ اس پر جنت حرام ہے "۔ اسی مضمون کی دوسری روایات بھی احادیث میں ملتی ہیں۔ جن میں اس فعل کو سخت گناہ قرار دیا گیا ہے۔ سورة الْاَحْزَاب 9 یعنی اس صورت میں بھی یہ درست نہ ہوگا کہ کسی شخص سے خواہ مخواہ اس کا نسب ملایا جائے۔ سورة الْاَحْزَاب 10 مطلب یہ ہے کہ کسی کو پیار سے بیٹا کہہ دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اسی طرح ماں، بیٹی، بہن، بھائی وغیرہ الفاظ میں بھی اگر کسی کے لیے محض اخلاقاً استعمال کرلیے جائیں تو کوئی گناہ نہیں۔ لیکن اس ارادے سے یہ بات کہنا کہ جسے بیٹا یا بیٹی وغیرہ کہا جائے اس کو واقعی وہی حیثیت دے دی جائے جو ان رشتوں کی ہے، اور اس کے لیے وہی حقوق ہوں جو ان رشتہ داروں کے ہیں، اور اس کے ساتھ ویسے ہی تعلقات ہوں جیسے ان رشتہ داروں کے ساتھ ہوتے ہیں، یہ یقیناً قابل اعتراض ہے اور اس پر گرفت ہوگی۔ سورة الْاَحْزَاب 11 اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ پہلے اس سلسلے میں جو غلطیاں کی گئی ہیں ان کو اللہ نے معاف کیا۔ ان پر اب کوئی باز پرس نہ ہوگی۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ نادانستہ افعال پر گرفت کرنے والا نہیں ہے۔ اگر بلا ارادہ کوئی ایسی بات کی جائے جس کی ظاہری صورت ایک ممنوع فعل کی سی ہو، مگر اس میں درحقیقت اس ممنوع فعل کی نیت نہ ہو، تو محض فعل کی ظاہری شکل پر اللہ تعالیٰ سزا نہ دے گا۔
Ayah 33:6

اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَفْعَلُوْۤا اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِكُمْ مَّعْرُوْفًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 33:6 in the Quran reader

بلاشبہ نبی تو اہلِ ایمان کےلیے اُن کی اپنی ذات پر مقّدم ہے 12 ، اور نبی کی بیویاں اُن کی مائیں ہیں 13 ، مگر کتاب اللہ کی رو عام مومنین ومہاجرین کی بہ بسبت رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں، البتہ اپنے رفیقوں کے ساتھ تم کوئی بھلائی (کرنا چاہو تو) کرسکتے ہو۔ 14 یہ حکم کتابِ الٰہی میں لکھا ہوا ہے

سورة الْاَحْزَاب 12 یعنی نبی ﷺ کا مسلمانوں سے جو تعلق ہے وہ تو تمام دوسرے انسانی تعلقات سے ایک بالا تر نوعیت رکھتا ہے۔ کوئی رشتہ اس رشتے سے اور کوئی تعلق اس تعلق سے جو نبی اور اہل ایمان کے درمیان ہے، ذرہ برابر بھی کوئی نسبت نہیں رکھتا۔ نبی ﷺ مسلمانوں کے لیے ان کے ماں باپ سے بھی بڑھ کر شفیق و رحیم اور ان کی اپنی ذات سے بڑھ کر خیر خواہ ہیں۔ ان کے ماں باپ اور ان کے بیوی بچے ان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، ان کے ساتھ خود غرضی برت سکتے ہیں، ان کو گمراہ کرسکتے ہیں، ان سے غلطیوں کا ارتکاب کرا سکتے ہیں، ان کو جہنم میں دھکیل سکتے ہیں، مگر نبی ﷺ ان کے حق میں صرف وہی بات کرنے والے ہیں جس میں ان کی حقیقی فلاح ہو۔ وہ خود اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی مار سکتے ہیں، حماقتیں کر کے اپنے ہاتھوں اپنا نقصان کرسکتے ہیں، لیکن نبی ﷺ ان کے لیے وہی کچھ تجویز کریں گے جو فی الواقعی ان کے حق میں نافع ہو۔ اور جب معاملہ یہ ہے تو نبی ﷺ کا بھی مسلمانوں پر یہ حق ہے کہ وہ آپ کو اپنے ماں باپ اور اولاد اور اپنی جان سے بڑھ کر عزیز رکھیں، دنیا کی ہر چیز سے زیادہ آپ ﷺ سے محبت رکھیں، اپنی رائے پر آپ کی رائے کو اور اپنے فیصلے پر آپ کے فیصلے کو مقدم رکھیں، اور آپ ﷺ کے ہر حکم کے آگے سر تسلیم خم کردیں۔ اسی مضمون کو نبی ﷺ نے اس حدیث میں ارشاد فرمایا ہے جسے بخاری و مسلم وغیرہ نے تھوڑے سے لفظی اختلاف کے ساتھ روایت کیا ہے کہ لا یؤمن احدُکم حتیٰ اکون احبَّ الیہ من والدہ و ولدہ والنّاس اجمعین۔ " تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اس کو اس کے باپ اور اولاد سے اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوں۔ سورة الْاَحْزَاب 13 اسی خصوصیت کی بنا پر جو اوپر مذکور ہوئی، نبی ﷺ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کی اپنی منہ بولی مائیں تو کسی معنی میں بھی ان کی ماں نہیں ہیں، لیکن نبی ﷺ کی بیویاں اسی طرح ان کے لیے حرام ہیں جس طرح ان کی حقیقی مائیں حرام ہیں۔ یہ مخصوص معاملہ نبی کریم ﷺ کے سوا دنیا میں اور کسی انسان کے ساتھ نہیں ہے۔ اس سلسلے میں یہ بھی جان لینا چاہیے کہ ازواج نبی ﷺ صرف اس معنی میں امہات مومنین ہیں کہ ان کی تعظیم و تکریم مسلمانوں پر واجب ہے اور ان کے ساتھ کسی مسلمان کا نکاح نہیں ہوسکتا تھا۔ باقی دوسرے احکام میں وہ ماں کی طرح نہیں ہیں۔ مثلاً ان کے حقیقی رشتہ داروں کے سوا باقی سب مسلمان ان کے لیے غیر محرم تھے جن سے پردہ واجب تھا۔ ان کی صاحبزادیاں مسلمانوں کے لیے ماں جائی بہنیں نہ تھیں کہ ان سے بھی مسلمانوں کا نکاح ممنوع ہوتا۔ ان کے بھائی بہن مسلمانوں کے لیے خالہ اور ماموں کے حکم میں نہ تھے۔ ان سے کسی غیر رشتہ دار مسلمان کو وہ میراث نہیں پہنچتی تھی جو ایک شخص کو اپنی ماں سے پہنچتی ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ قرآن مجید کی رو سے یہ مرتبہ تمام ازواج نبی ﷺ کو حاصل ہے جن میں لا محالہ حضرت عائشہ ؓ بھی شامل ہیں۔ لیکن ایک گروہ نے جب حضرت علی و فاطمہ ؓ اور ان کی اولاد کو مرکز دین بنا کر سارا نظام دین انہی کے گرد گھما دیا، اور اس بنا پر دوسرے بہت سے صحابہ کے ساتھ حضرت عائشہ ؓ کو بھی ہدف لعن و طعن بنایا، تو ان کی راہ میں قرآن مجید کی یہ آیت حائل ہوگئی جس کی رو سے ہر اس شخص کو انہیں اپنی ماں تسلیم کرنا پڑتا ہے جو ایمان کا مدعی ہو۔ آخر کار اس شکل کو رفع کرنے کے لیے یہ عجیب و غریب دعویٰ کیا گیا کہ حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ؓ کو یہ اختیار دے دیا تھا کہ آپ کی وفات کے بعد آپ کی ازواج مطہرات میں سے جس کو چاہیں آپ کی زوجیت پر باقی رکھیں اور جسے چاہیں آپ کی طرف سے طلاق دے دیں۔ ابو منصور احمد بن ابو طالب طَبْرَسِی نے کتاب الاحتجاج میں یہ بات لکھی ہے اور سلیمان بن عبد اللہ البحرانی نے اسے نقل کیا ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا یا ابا الحَسَنَ انّ ھٰذا الشرف باقٍ ما دمنا علیٰ طاعۃ اللہ تعالیٰ فایّتھن عصت اللہ تعالیٰ بعدی بالخروج علیک فطلّقھا من الازواج واسقطھا من شرف امّھات المؤمنین، (اے ابوالحسَن ! یہ شرف تو اسی وقت تک باقی ہے جب تک ہم لوگ اللہ کی اطاعت پر قائم رہیں۔ لہٰذا میری بیویوں میں سے جو بھی میرے بعد تیرے خلاف خروج کر کے اللہ کی نافرمانی کرے اسے تو طلاق دے دیجیو اور اس کو اُمّہات المؤمنین کے شرف سے ساقط کر دیجیو)۔ اصول روایت کے اعتبار سے تو یہ روایت سراسر بےاصل ہے ہی لیکن اگر آدمی اسی سورة احزاب کی آیات 28۔ 29 اور 51۔ 52 پر غور کرے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ روایت قرآن کے بھی خلاف پڑتی ہے۔ کیونکہ آیت تخییر کے بعد جن ازواج مطہرات نے ہر حال میں رسول ﷺ ہی کی رفاقت کو اپنے لیے پسند کیا تھا انہیں طلاق دینے کا اختیار حضور ﷺ کو باقی نہ رہا تھا۔ اس مضمون کی تشریح آگے 42 و 93 میں ہم نے کردی ہے۔ علاوہ بریں ایک غیر متعصب آدمی اگر محض عقل ہی سے کام لے کر اس رویت کے مضمون پر غور کرے تو صاف نظر آتا ہے کہ یہ انتہائی لغو، اور رسول پاک ﷺ کے حق میں سخت توہین آمیز افترا ہے۔ رسول کا مقام تو بہت بالاتر و برتر ہے، ایک معمولی شریف آدمی سے بھی یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اپنی وفات کے بعد اپنی بیوی کو طلاق دینے کی فکر کرے گا اور دنیا سے رخصت ہوتے وقت اپنے داماد کو یہ اختیار دے جائے گا کہ اگر کبھی تیرا اس کے ساتھ جھگڑا ہو تو میری طرف سے تو اسے طلاق دے دیجیو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ اہل البیت کی محبت کے مدعی ہیں ان کے دلوں میں صاحب البیت کی عزت و ناموس کا پاس کتنا کچھ ہے، اور اس سے بھی گزر کر خود اللہ تعالیٰ کے ارشادات کا وہ کتنا احترام کرتے ہیں۔ سورة الْاَحْزَاب 14 اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ جہاں تک نبی ﷺ کا معاملہ ہے، ان کے ساتھ تو مسلمانوں کے تعلق کی نوعیت سب سے الگ ہے۔ لیکن عام مسلمانوں کے درمیان آپس کے تعلقات اس اصول پر قائم ہوں گے کہ رشتہ داروں کے حقوق ایک دوسرے پر عام لوگوں کی بہ نسبت مقدم ہیں۔ کوئی خیرات اس صورت میں صحیح نہیں ہے کہ آدمی اپنے ماں باپ، بال بچوں، اور بھائی بہنوں کی ضروریات تو پوری نہ کرے اور باہر خیرات کرتا پھرے۔ زکوٰۃ سے بھی آدمی کو پہلے اپنے غریب رشتہ داروں کی مدد کرنی ہوگی، پھر وہ دوسرے مستحقین کو دے گا۔ میراث لازماً ان لوگوں کو پہنچے گی جو رشتے میں آدمی سے قریب تر ہوں۔ دوسرے لوگوں کو اگر وہ چاہے تو ہبہ یا وقف یا وصیت کے ذریعہ سے اپنا مال دے سکتا ہے، مگر اس طرح نہیں کہ وارث محروم رہ جائیں اور سب کچھ دوسروں کو دے ڈالا جائے۔ اس حکم الٰہی سے وہ طریقہ بھی موقوف ہوگیا جو ہجرت کے بعد مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم کرنے سے شروع ہوا تھا، جس کی رو سے محض دینی برادری کے تعلق کی بنا پر مہاجرین اور انصار ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے صاف فرما دیا کہ وراثت تو رشتہ داری کی بنا پر ہی تقسیم ہوگی، البتہ ایک شخص ہدیے، تحفے یا وصیت کے ذریعہ سے اپنے کسی دینی بھائی کی کوئی مدد کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔
Ayah 33:7

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَهُمْ وَ مِنْكَ وَ مِنْ نُّوْحٍ وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١۪ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًاۙ Open ayah 33:7 in the Quran reader

اور (اے نؐبی)یاد رکھو اُس عہد وپیمان کو جو ہم نے سب پیغمبروں سے لیا ہے، تم سے بھی اور اور نوحؑ اور ابراھیمؑ اور موسیٰؑ اور عیسیٰؑ ابن مریم سے بھی۔ سب سے ہم پختہ عہد لے چکے ہیں۔ 15

سورة الْاَحْزَاب 15 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو یہ بات یاد دلاتا ہے کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کی طرح آپ سے بھی اللہ تعالیٰ ایک پختہ عہد لے چکا ہے جس کی آپ کو سختی کے ساتھ پابندی کرنی چاہیے۔ اس عہد سے کونسا عہد مراد ہے ؟ اوپر سے جو سلسلۂ کلام چلا آر ہا ہے اس پر غور کرنے سے صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ اس سے مراد یہ عہد ہے کہ پیغمبر اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کی خود اطاعت کرے گا اور دوسروں سے کرائے گا، اللہ کی باتوں کو بےکم وکاست پہنچائے گا اور انہیں عملاً نافذ کرنے کی سعی و جہد میں کوئی دریغ نہ کرے گا۔ قرآن مجید میں اس عہد کا ذکر متعدد مقامات پر کیا گیا ہے۔ مثلاً شَرَعَ لَکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہ نُوْحاً وَّالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہٓ اِبْرٰھِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسٰٓی اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ۔ ط (الشُورٰی۔ آیت 13) اللہ تعالیٰ نے مقرر کردیا تمہارے لیے وہ دین جس کی ہدایت کی تھی اس نے نوح ؑ کو، اور جس کی وحی کی گئی (اے محمد) تمہاری طرف، اور جس کی ہدایت کی گئی ابراہیم ؑ اور موسیٰ ؑ اور عیسیٰ ؑ کو۔ اس تاکید کے ساتھ کہ تم لوگ قائم کرو اس دین کو اور اس میں تفرقہ نہ کرو۔ وَاِذْ اَخَذَ اللہُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْکِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّہٗ للنَّاسِ وَلَا تَکْتُمُوْنَہٗ۔ ق (آل عمران۔ 187) اور یاد کرو اس بات کو کہ اللہ نے عہد لیا تھا ان لوگوں سے جن کو کتاب دی گئی تھی کہ تم لوگ اس کی تعلیم کو بیان کرو گے اور اسے چھپاؤ گے نہیں۔ وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللہَ۔ (البقرہ۔ 83) اور یاد کرو کہ ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا تھا کہ تم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو گے۔ اَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْھِمْ مِّیْثَاقُ الْکِتٰبِ۔۔۔۔۔ خُذُوْا مَٓا اٰتَیْنٰکُمْ بِقُوَّۃٍ وَّاذْکُرُوْا مَا فِیْہِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔۔ (الاعراف۔ آیات 169۔ 171) کیا ان سے کتاب کا عہد نہیں لیا گیا تھا ؟۔۔۔ مضبوطی کے ساتھ تھامو اس چیز کو جو ہم نے تمہیں دی ہے اور یاد رکھو اس ہدایت کو جو اس میں ہے۔ توقع ہے کہ تم اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہو گے۔ وَاذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللہِ عَلَیْکُمْ وَمِیْثَاقَہُ الَّذِیْ وَاثَقَکُمْ بِہ۔ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا۔۔۔ (المائدہ۔ 7) اور اے مسلمانو ! یاد رکھو اللہ کے اس احسان کو جو اس نے تم پر کیا ہے اور اس عہد کو جو اس نے تم سے لیا ہے جبکہ تم نے کہا " ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ " اس عہد کو اس سیاق وسباق میں اللہ تعالیٰ جس وجہ سے یاد دلا رہا ہے وہ یہ ہے کہ نبی ﷺ شماتت اعداء کے اندیشے سے منہ بولے رشتوں کے معاملہ میں جاہلیت کی رسم کو توڑتے ہوئے جھجک رہے تھے۔ آپ کو بار بار یہ شرم لاحق ہو رہی تھی کہ معاملہ ایک خاتون سے شادی کرنے کا ہے۔ میں خواہ کتنی ہی نیک نیتی کے ساتھ محض اصلاح معاشرہ کی خاطر یہ کام کروں، مگر دشمن یہی کہیں گے کہ یہ کام دراصل نفس پرستی کی خاطر کیا گیا ہے اور مصلح کا لبادہ اس شخص نے محض فریب دینے کے لیے اوڑھ رکھا ہے۔ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ حضور ﷺ سے فرما رہا ہے کہ تم ہمارے مقرر کیے ہوئے پیغمبر ہو، تمام پیغمبروں کی طرح تم سے بھی ہمارا یہ پختہ معاہدہ ہے کہ جو کچھ بھی حکم ہم دیں گے اس کو خود بجا لاؤ گے اور دوسروں کو اس کی پیروی کا حکم دو گے، لہٰذا تم کسی کے طعن وتشنیع کی پروا نہ کرو، کسی سے شرم اور خوف نہ کرو، اور خدمت ہم تم سے لینا چاہتے ہیں اسے بلا تأمّل انجام دو۔ ایک گروہ اس میثاق سے وہ میثاق مراد لیتا ہے جو نبی ﷺ سے پہلے کے تمام انبیاء اور ان کی امتوں سے اس بات کے لیے لیا گیا تھا کہ وہ بعد کے آنے والے نبی پر ایمان لائیں گے اور اس کا ساتھ دیں گے۔ اس تاویل کی بنیاد پر اس گروہ کا دعویٰ یہ ہے کہ نبی ﷺ کے بعد بھی نبوت کا دروازہ کھلا ہوا ہے اور حضور ﷺ سے بھی یہ میثاق لیا گیا ہے کہ آپ کے بعد جو نبی آئے آپ ﷺ کی امت اس پر ایمان لائے گی۔ لیکن آیت کا سیاق وسباق صاف بتارہا ہے کہ یہ تاویل بالکل غلط ہے۔ جس سلسلۂ کلام میں یہ آیت آئی ہے اس میں یہ کہنے کا سرے سے کوئی موقع ہی نہیں ہے کہ آپ ﷺ کے بعد بھی انبیاء آئیں گے اور آپ کی امت کو ان پر ایمان لانا چاہیے۔ یہ مفہوم اس کا لیا جائے تو یہ آیت یہاں بالکل بےمحل ہوجاتی ہے۔ علاوہ بریں آیت کے الفاظ میں کوئی صراحت ایسی نہیں ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ یہاں میثاق سے کونسا میثاق مراد ہے۔ لامحالہ اس کی نوعیت معلوم کرنے کے لیے ہم کو قرآن مجید کے دوسرے مقامات کی طرف رجوع کرنا ہوگا جہاں انبیاء سے لیے ہوئے مواثیق کا ذکر کیا گیا ہے۔ اب اگر سارے قرآن میں صرف ایک ہی میثاق کا ذکر ہوتا اور وہ بعد کے آنے والے انبیاء پر ایمان لانے کے بارے میں ہوتا تو یہ خیال کرنا درست ہوتا کہ یہاں بھی میثاق سے مراد ہی میثاق ہے۔ لیکن قرآن پاک کو جس شخص نے بھی آنکھیں کھول کر پڑھا ہے وہ جانتا ہے کہ اس کتاب میں بہت سے میثاقوں کا ذکر ہے جو انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی امتوں سے لیے گئے ہیں۔ لہٰذا ان مختلف مواثیق میں سے وہ میثاق یہاں مراد لینا صحیح ہوگا جو اس سیاق وسباق سے مناسبت رکھتا ہو، نہ کہ وہ میثاق جس کے ذکر کا یہاں کوئی موقع نہ ہو۔ اسی طرح کی غلط تاویلوں سے یہ بات کھل جاتی ہے کہ بعض لوگ قرآن سے ہدایت لینے نہیں بیٹھتے بلکہ اسے ہدایت دینے بیٹھ جاتے ہیں۔
Ayah 33:8

لِّیَسْئَلَ الصّٰدِقِیْنَ عَنْ صِدْقِهِمْ١ۚ وَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 33:8 in the Quran reader

تاکہ سچّے لوگوں سے (ان کا ربّ)ان کی سچّائی کے بارے میں سوال کرے 16 ، اور کافروں کےلیے تو اُس نے درد ناک عذاب مہیّا کر ہی رکھا ہے۔17

سورة الْاَحْزَاب 16 یعنی اللہ تعالیٰ محض عہد لے کر نہیں رہ گیا ہے بلکہ اس عہد کے بارے میں وہ سوال کرنے والا ہے کہ اس کی کہاں تک پابندی کی گئی۔ پھر جن لوگوں نے سچائی کے ساتھ اللہ سے کیے ہوئے عہد کو وفا کیا ہوگا وہی صادق العہد قرار پائیں گے۔ سورة الْاَحْزَاب 17 اس رکوع کے مضمون کو پوری طرح سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو اسی سورة کی آیات 36۔ 41 کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے۔
Ayahs 33:9–10

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَآءَتْكُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا وَّ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًاۚ Open ayah 33:9 in the Quran reader

18 اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، یاد کرو اللہ کے احسا ن کو جو (ابھی ابھی) اُس نے تم کیا ہے۔ جب لشکر تم پر چڑھ آئے تو ہم نے ان پر ایک سخت آندھی بھیج دی اور ایسی فوجیں روانہ کیں جو تم کو نظر نہ آتی تھیں۔19 اللہ وہ سب کچھ دیکھ رہا تھا جو تم لوگ اُس وقت کررہے تھے

اِذْ جَآءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا Open ayah 33:10 in the Quran reader

جب وہ اُوپر سے اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے۔20 جب خوف کے مارے آنکھیں پتھراگئیں، کلیجے مُنہ کو آگئے، اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے

سورة الْاَحْزَاب 18 یہاں سے رکوع 3 تک کی آیات اس وقت نازل ہوئی تھیں جب نبی ﷺ غزوۂ بنی قریظہ سے فارغ ہوچکے تھے۔ ان دونوں رکوعوں میں غزوۂ احزاب اور غزوۂ بنی قریظہ کے واقعات پر تبصرہ کیا گیا ہے۔ ان کو پڑھتے وقت ان دونوں غزوات کی وہ تفصیلات نگاہ میں رہنی چاہییں جو ہم دیباچے میں بیان کر آئے ہیں۔ سورة الْاَحْزَاب 19 یہ آندھی اسی وقت آگئی تھی جبکہ دشمنوں کے لشکر مدینے پر چڑھ کر آئے تھے بلکہ اس وقت آئی تھی جب محاصرے کو تقریباً ایک مہینہ گزر چکا تھا۔ نظر نہ آنے والی " فوجوں " سے مراد وہ مخفی طاقتیں ہیں جو انسانی معاملات میں اللہ تعالیٰ کے اشارے پر کام کرتی رہتی ہیں اور انسانوں کو ان کی خبر تک نہیں ہوتی۔ انسان واقعات و حوادث کو صرف ان کے ظاہری اسباب پر محمول کرتا ہے۔ لیکن اندر ہی اندر غیر محسوس طور پر جو قوتیں کام کرتی ہیں وہ اس کے حساب میں نہیں آتیں، حالانکہ اکثر حالات میں انہی مخفی طاقتوں کی کار فرمائی فیصلہ کن ثابت ہوتی ہے۔ یہ طاقتیں چونکہ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں کی ماتحتی میں کام کرتی ہیں اس لیے " فوجوں " سے مراد فرشتے بھی لیے جاسکتے ہیں، اگرچہ یہاں فرشتوں کی فوجیں بھیجنے کی صراحت نہیں ہے۔
Ayah 33:11

هُنَالِكَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا Open ayah 33:11 in the Quran reader

اُس وقت ایمان لانے والےخوب آزمائے گئے اور بُری طرح ہلا مارے گئے۔21

سورة الْاَحْزَاب 21 ایمان لانے والوں سے مراد یہاں وہ سب لوگ ہیں جنہوں نے محمد ﷺ کو اللہ کا رسول مان کر اپنے آپ کو حضور ﷺ کے پیروؤں میں شامل کیا تھا، جن میں سچے اہل ایمان بھی شامل تھے اور منافقین بھی۔ اس پیراگراف میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے گروہ کا مجموعی طور پر ذکر فرمایا ہے۔ اس کے بعد کے تین پیرا گرافوں میں منافقین کی روش پر تبصرہ کیا گیا ہے۔ پھر آخر کے دو پیراگراف رسول اللہ ﷺ اور مومنین صادقین کے بارے میں ہیں۔
Ayah 33:12

وَ اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 33:12 in the Quran reader

یاد کرو وہ وقت جب منافقین اور وہ سب لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا صاف صاف کہہ رہے تھے کہ اللہ اور اُس کے رسولؐ نے جو وعدے ہم سے کیے تھے22 وہ فریب کے سِوا کچھ نہ تھے

سورة الْاَحْزَاب 22 یعنی اس امر کے وعدے کہ اہل ایمان کو اللہ کی تائید و نصرت حاصل ہوگی اور آخر کار غلبہ انہی کو بخشا جائے گا۔
Ayah 33:13

وَ اِذْ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ یٰۤاَهْلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوْا١ۚ وَ یَسْتَاْذِنُ فَرِیْقٌ مِّنْهُمُ النَّبِیَّ یَقُوْلُوْنَ اِنَّ بُیُوْتَنَا عَوْرَةٌ١ۛؕ وَ مَا هِیَ بِعَوْرَةٍ١ۛۚ اِنْ یُّرِیْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 33:13 in the Quran reader

جب اُن میں سے ایک گروہ نے کہا کہ ”اے یثرب کے لوگو، تمہارے لیے اب ٹھیرنے کا کوئی موقع نہیں ہے، پلٹ چلو۔23“جب ان کا ایک فریق یہ کہہ کر نبیؐ سے رخصت طلب کررہا تھا کہ ”ہمارے گھر خطرے میں ہیں24 ،“حالانکہ وہ خطرے میں نہ تھے25 ، دراصل وہ (محاذِجنگ سے) بھاگنا چاہتے تھے

سورة الْاَحْزَاب 23 اس فقرے کے دو مطلب ہیں۔ ظاہری مطلب یہ ہے کہ خندق کے سامنے کفار کے مقابلے پر ٹھہرنے کا کوئی موقع نہیں ہے، شہر کی طرف پلٹ چلو۔ اور باطنی مطلب یہ ہے کہ اسلام پر ٹھہرنے کا کوئی موقع نہیں ہے، اب اپنے آبائی مذہب کی طرف پلٹ جانا چاہیے تاکہ سارے عرب کی دشمنی مول لے کر ہم نے جس خطرے میں اپنے آپ کو ڈال دیا ہے اس سے بچ جائیں۔ منافقین اپنی زبان سے اس طرح کی باتیں اس لیے کہتے تھے کہ جو ان کے دام میں آسکتا ہو اس کو تو اپنا باطنی مطلب سمجھا دیں، لیکن جو ان کی بات سن کر چوکنا ہو اور اس پر گرفت کرے اس کے سامنے اپنے ظاہر الفاظ کی آڑ لے کر گرفت سے بچ جائیں۔ سورة الْاَحْزَاب 24 یعنی جب بنو قریظہ بھی حملہ آوروں کے ساتھ مل گئے تو ان منافقین کو رسول اللہ ﷺ کے لشکر سے نکل بھاگنے کے لیے ایک اچھا بہانہ ہاتھ آگیا اور انہوں نے یہ کہہ کر رخصت طلب کرنی شروع کی کہ اب تو ہمارے گھر ہی خطرے میں پڑگئے ہیں، لہٰذا ہمیں جا کر اپنے بال بچوں کی حفاظت کرنے کا موقع دیا جائے۔ حالانکہ اس وقت سارے اہل مدینہ کی حفاظت کے ذمہ دار رسول اللہ ﷺ تھے۔ بنی قریظہ کے بد عہدی سے جو خطرہ بھی پیدا ہوا تھا اس سے شہر اور اس کے باشندوں کو بچانے کی تدبیر کرنا حضور ﷺ کا کام تھا نہ کہ فوج کے ایک ایک فرد کا۔ سورة الْاَحْزَاب 25 یعنی اس خطرے سے بچاؤ کا انتظام تو نبی ﷺ کرچکے تھے۔ یہ انتظام بھی دفاع کی اس مجموعی سکیم ہی کا ایک حصہ تھا جس پر سالار لشکر کی حیثیت سے حضور ﷺ عمل فرما رہے تھے۔ اس لیے کوئی فوری خطرہ اس وقت نہ تھا جس کی بنا پر ان کا یہ عذر کسی درجے میں بھی معقول ہوتا۔
Ayah 33:14

وَ لَوْ دُخِلَتْ عَلَیْهِمْ مِّنْ اَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَةَ لَاٰتَوْهَا وَ مَا تَلَبَّثُوْا بِهَاۤ اِلَّا یَسِیْرًا Open ayah 33:14 in the Quran reader

اگر شہر کے اطراف سے دشمن گھُس آئے ہوتے اور اُس وقت اِنہیں فتنے کی طرف دعوت دی جاتی26 تو یہ اس میں جا پڑتے اور مشکل ہی سے انہیں شریکِ فتنہ ہونے میں کوئی تامّل ہوتا

سورة الْاَحْزَاب 26 یعنی اگر شہر میں داخل ہو کر فاتح کفار ان منافقین کو دعوت دیتے کہ آؤ ہمارے ساتھ مل کر مسلمانوں کو ختم کردو۔
Ayah 33:15

وَ لَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ لَا یُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ١ؕ وَ كَانَ عَهْدُ اللّٰهِ مَسْئُوْلًا Open ayah 33:15 in the Quran reader

ن لوگوں نے اس سے پہلے اللہ سے عہد کیا تھا کہ یہ پیٹھ نہ پھیریں گے، اور اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی باز پُرس تو ہونی ہی تھی۔27

سورة الْاَحْزَاب 27 یعنی جنگ اُحُد کے موقع پر جو کمزوری انہوں نے دکھائی تھی اس کے بعد شرمندگی و ندامت کا اظہار کر کے ان لوگوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اب آزمائش کا کوئی موقع پیش آیا تو ہم اپنے اس قصور کی تلافی کردیں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو محض باتوں سے دھوکا نہیں دیا جاسکتا۔ جو شخص بھی اس سے کوئی عہد باندھتا اس کے سامنے کوئی نہ کوئی آزمائش کا موقع وہ ضرور لے آتا ہے تاکہ اس کا جھوٹ سچ کھل جائے۔ اس لیے وہ جنگ احد کے دو ہی سال بعد اس سے بھی زیادہ بڑا خطرہ سامنے لے آیا۔
Ayahs 33:16–17

قُلْ لَّنْ یَّنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ اِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ اَوِ الْقَتْلِ وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 33:16 in the Quran reader

اے نبیؐ ! ان سے کہو، اگر تم موت یا قتل سے بھاگو تو یہ بھاگنا تمہارے لیے کچھ بھی نفع بخش نہ ہوگا۔ اس کے بعد زندگی کے مزے لُوٹنے کا تھوڑا ہی موقع مل سکے گا۔ 28

قُلْ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَعْصِمُكُمْ مِّنَ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَ بِكُمْ سُوْٓءًا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً١ؕ وَ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 33:17 in the Quran reader

اِن سے کہو، کون ہے جو تمہیں اللہ سے بچا سکتا ہو اگر وہ تمہیں نقصان پہنچانا چاہے؟ اور کون اس کی رحمت کو روک سکتا ہے اگر وہ تم پر مہربانی کرنا چاہے؟ اللہ کے مقابلے میں تو یہ لوگ کوئی حامی و مدد گار نہیں پا سکتے ہیں

سورة الْاَحْزَاب 28 یعنی اس فرار سے کچھ تمہاری عمر بڑھ نہیں جائے گی۔ اس کا نتیجہ بہرحال یہ نہیں ہوگا کہ تم قیامت تک جیو اور روئے زمین کی دولت پالو۔ بھاگ کر جیو گے بھی تو زیادہ سے زیادہ چند سال ہی جیو گے اور اتنا ہی کچھ دنیا کی زندگی کا لطف اٹھا سکو گے جتنا تمہارے لیے مقدر ہے۔
Ayah 33:18

قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِیْنَ مِنْكُمْ وَ الْقَآئِلِیْنَ لِاِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ اِلَیْنَا١ۚ وَ لَا یَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 33:18 in the Quran reader

اللہ تم میں سے اُن لوگوں کو خوب جانتا ہے جو (جنگ کے کام میں)رُکاوٹیں ڈالنے والے ہیں،جو اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ ”آوٴ ہماری طرف29“جو لڑائی میں حصہ لیتے بھی ہیں تو بس نام گنانے کو

سورة الْاَحْزَاب 29 یعنی چھوڑو اس پیغمبر کا ساتھ۔ کہاں دین و ایمان اور حق و صداقت کے چکر میں پڑے ہو ؟ اپنے آپ کو خطرے اور مصائب میں مبتلا کرنے کے بجائے وہی عافیت کوشی کی پالیسی اختیار کرو جو ہم نے اختیار کر رکھی ہے۔
Ayahs 33:19–20

اَشِحَّةً عَلَیْكُمْ١ۖۚ فَاِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَاَیْتَهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ تَدُوْرُ اَعْیُنُهُمْ كَالَّذِیْ یُغْشٰى عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ۚ فَاِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْكُمْ بِاَلْسِنَةٍ حِدَادٍ اَشِحَّةً عَلَى الْخَیْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَمْ یُؤْمِنُوْا فَاَحْبَطَ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:19 in the Quran reader

جوتمہارا ساتھ دینے میں سخت بخیل ہیں۔30 خطرے کا وقت آجائے تو اسطرح دِیدے پھراپھراکر تمہاری طرف دیکھتے ہیں جیسے کسی مرنے والے پر غشی طاری ہورہی ہو، مگر جب خطرہ گزر جاتا ہے تو یہی لوگ فائدوں کے حریص بن کر قینچی کی طرح چلتی ہوئی زبانیں لیے تمہارے استقبال کو آجاتے ہیں۔31 یہ لوگ ہرگز ایمان نہیں لائے ،اسی لیے اللہ نے ان کے سارے اعمال ضائع کردیے۔ 32 اور ایسا کرنا اللہ کےلیے بہت آسان ہے۔33

یَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ یَذْهَبُوْا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِ الْاَحْزَابُ یَوَدُّوْا لَوْ اَنَّهُمْ بَادُوْنَ فِی الْاَعْرَابِ یَسْاَلُوْنَ عَنْ اَنْۢبَآئِكُمْ١ؕ وَ لَوْ كَانُوْا فِیْكُمْ مَّا قٰتَلُوْۤا اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 33:20 in the Quran reader

یہ سمجھ رہے ہیں کہ حملہ آور گروہ ابھی گئے نہیں ہیں اور اگر وہ پھر حملہ آور ہو جائیں تو ان کا جی چاہتا ہے کہ اُس موقع پر یہ کہیں صحرا میں بدوؤں کے درمیان جا بیٹھیں اور وہیں سے تمہارے حالات پوچھتے رہیں تاہم اگر یہ تمہارے درمیان رہے بھی تو لڑائی میں کم ہی حصہ لیں گے

سورة الْاَحْزَاب 30 یعنی اپنی محنتیں، اپنے اوقات، اپنی فکر، اپنے مال، غرض کوئی چیز بھی وہ اس راہ میں صرف کرنے کے لیے بخوشی تیار نہیں ہیں جس میں مومنین صادقین اپنا سب کچھ جھونکے دے رہے ہیں۔ جان کھپانا اور خطرے انگیز کرنا تو بڑی چیز ہے، وہ کسی کام میں بھی کھلے دل سے اہل ایمان کا ساتھ نہیں دینا چاہتے۔ سورة الْاَحْزَاب 31 لغت کے اعتبار سے اس آیت کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ لڑائی سے جب تم کامیاب پلٹے ہو تو وہ بڑے تپاک سے تمہارا استقبال کرتے ہیں اور چرب زبانی سے کام لے کر یہ دھونس جمانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم بھی بڑے مومن ہیں اور ہم نے بھی اس کام کو فروغ دینے میں حصہ لیا ہے، لہٰذا ہم بھی مال غنیمت کے حق دار ہیں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر فتح نصیب ہوتی ہے تو مال غنیمت کی تقسیم کے موقع پر یہ لوگ زبان کی بڑی تیزی دکھاتے ہیں اور بڑھ بڑھ کر مطالبے کرتے ہیں کہ لاؤ ہمارا حصہ، ہم نے بھی خدمات انجام دی ہیں، سب کچھ تم ہی لوگ نہ لوٹ لے جاؤ۔ سورة الْاَحْزَاب 32 یعنی اسلام قبول کرنے کے بعد جو نمازیں انہوں نے پڑھیں، جو روزے رکھے، جو زکوٰتیں دیں، اور بظاہر جو نیک کام بھی کیے ان سب کو اللہ تعالیٰ کالعدم قرار دے دیگا اور ان کا کوئی اجر انہیں نہ دے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں فیصلہ اعمال کی ظاہری شکل پر نہیں ہوتا بلکہ یہ دیکھ کر ہوتا ہے کہ اس ظاہر کی تہہ میں ایمان اور خلوص ہے یا نہیں۔ جب یہ چیز سرے سے ان کے اندر موجود ہی نہیں ہے تو یہ دکھاوے کے اعمال سراسر بےمعنی ہیں۔ اس مقام پر یہ امر گہری توجہ کا طالب ہے کہ جو لوگ اللہ اور رسول ﷺ کا اقرار کرتے تھے، نمازیں پڑھتے تھے، روزے رکھتے تھے، زکوٰۃ بھی دیتے تھے، اور مسلمانوں کے ساتھ ان کے دوسرے نیک کاموں میں بھی شریک ہوتے تھے، ان کے بارے میں صاف صاف فیصلہ دے دیا گیا ہے کہ یہ سرے سے ایمان لائے ہی نہیں۔ اور یہ فیصلہ صرف اس بنیاد پر دیا گیا ہے کہ کفر اور اسلام کی کشمکش میں جب کڑی آزمائش کا وقت آیا تو انہوں نے دوغلے پن کا ثبوت دیا، دین کے مفاد یا اپنے مفاد کو ترجیح دی اور اسلام کی حفاظت کے لیے جان، مال اور محنت صرف کرنے میں دریغ کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ فیصلے کا اصل مدار یہ ظاہری اعمال نہیں ہیں، بلکہ یہ سوال ہے کہ آدمی کی وفاداریاں کس طرف ہیں۔ جہاں خدا اور اس کے دین سے وفاداری نہیں ہے وہاں اقرار ایمان اور عبادات اور دوسری نیکیوں کی کوئی قیمت نہیں۔ سورة الْاَحْزَاب 33 یعنی ان کے اعمال کوئی وزن اور قیمت نہیں رکھتے کہ ان کو ضائع کردینا اللہ کو گراں گزرے۔ اور یہ لوگ کوئی زور بھی نہیں رکھتے کہ ان کے اعمال کو ضائع کرنا اس کے لیے دشوار ہو۔
Ayah 33:21

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 33:21 in the Quran reader

درحقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ تھا34 ، ہر اُس شخص کے لیے جو اللہ اور یومِ آخر کا اُمید وار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے۔ 35

سورة الْاَحْزَاب 34 جس سیاق وسباق میں یہ آیت ارشاد ہوئی ہے اس کے لحاظ سے رسول پاک ﷺ کے طرز عمل کو اس جگہ نمونہ کے طور پر پیش کرنے سے مقصود ان لوگوں کو سبق دینا تھا جنہوں نے جنگ احزاب کے موقع پر مفاد پرستی و عافیت کوشی سے کام لیا تھا۔ ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ تم ایمان و اسلام اور اتباع رسول کے مدعی تھے۔ تم کو دیکھنا چاہیے تھا کہ جس رسول ﷺ کے پیروؤں میں تم شامل ہوئے ہو اس کا اس موقع پر کیا رویہ تھا۔ اگر کسی گروہ کا لیڈر خود عافیت کوش ہو۔ خود آرام طلب ہو، خود اپنے ذاتی مفاد کی حفاظت کو مقدم رکھتا ہو، خطرے کے وقت خود بھاگ نکلنے کی تیاریاں کر رہا ہو، پھر تو اس کی پیروؤں کی طرف سے ان کمزوریوں کا اظہار معقول ہوسکتا ہے۔ مگر یہاں تو رسول اللہ ﷺ کا حال یہ تھا کہ ہر مشقت جس کا آپ ﷺ نے دوسروں سے مطالبہ کیا، اسے برداشت کرنے میں آپ ﷺ خود سب کے ساتھ شریک تھے، بلکہ دوسروں سے بڑھ کر ہی آپ ﷺ نے حصہ لیا، کوئی تکلیف ایسی نہ تھی جو دوسروں نے اٹھائی ہو اور آپ ﷺ نے نہ اٹھائی ہو۔ خندق کھودنے والوں میں آپ ﷺ خود شامل تھے۔ بھوک اور سردی کی تکلیفیں اٹھانے میں ایک ادنیٰ مسلمان کے ساتھ آپ ﷺ کا حصہ بالکل برابر کا تھا۔ محاصرے کے دوران میں آپ ﷺ ہر وقت محاذ جنگ پر موجود رہے اور ایک لمحے کے لیے بھی دشمن کے مقابلے سے نہ ہٹے۔ بنی قریظہ کی غداری کے بعد جس خطرے میں سب مسلمانوں کے بال بچے مبتلا تھے اسی میں آپ ﷺ کے بال بچے بھی مبتلا تھے۔ آپ ﷺ نے اپنی حفاظت اور اپنے بال بچوں کی حفاظت کے لیے کوئی خاص اہتمام نہ کیا جو دوسرے مسلمانوں کے لیے نہ ہو۔ جس مقصد عظیم کے لیے آپ ﷺ دوسروں سے قربانیوں کا مطالبہ کر رہے تھے اس پر سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر آپ ﷺ خود اپنا سب کچھ قربان کردینے کو تیار تھے۔ اس لیے جو کوئی بھی آپ ﷺ کے اتباع کا مدعی تھا اسے یہ نمونہ دیکھ کر اس کی پیروی کرنی چاہیے تھی۔ یہ تو موقع و محل کے لحاظ سے اس آیت کا مفہوم ہے۔ مگر اس کے الفاظ عام ہیں اور اس کے منشا کو صرف اسی معنی تک محدود رکھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ صرف اسی لحاظ سے اس کے رسول ﷺ کی زندگی مسلمانوں کے لیے نمونہ ہے، بلکہ مطلقاً اسے نمونہ قرار دیا ہے۔ لہٰذا اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان ہر معاملہ میں آپ ﷺ کی زندگی کو اپنے لیے نمونے کی زندگی سمجھیں اور اس کے مطابق اپنی سیرت و کردار کو ڈھالیں۔ سورة الْاَحْزَاب 35 یعنی اللہ سے غافل آدمی کے لیے تو یہ زندگی نمونہ نہیں ہے مگر اس شخص کے لیے ضرور نمونہ ہے جو کبھی کبھار اتفاقاً خدا کا نام لے لینے والا نہیں بلکہ کثرت سے اس کو یاد کرنے اور یاد رکھنے والا ہو۔ اسی طرح یہ زندگی اس شخص کے لیے تو نمونہ نہیں ہے جو اللہ سے کوئی امید اور آخرت کے آنے کی کوئی توقع نہ رکھتا ہو، مگر اس شخص کے لیے ضرور نمونہ ہے جو اللہ کے فضل اور اس کی عنایات کا امیدوار ہو اور جسے یہ بھی خیال ہو کہ کوئی آخرت آنے والی ہے جہاں اس کی بھلائی کا سارا انحصار ہی اس پر ہے کہ دنیا کی زندگی میں اس کا رویہ رسول خُدا ﷺ کے رویے سے کس حد تک قریب تر رہا ہے۔
Ayah 33:22

وَ لَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ١ۙ قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١٘ وَ مَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِیْمَانًا وَّ تَسْلِیْمًاؕ Open ayah 33:22 in the Quran reader

اور سچّے مومنوں (کا حال اُس وقت یہ تھا کہ 36)جب تم نے حملہ آور لشکروں کو دیکھا تو پُکار اٹھے کہ”یہ وہی چیز ہے جس کا اللہ اور اُس کے رسولؐ نے ہم سے وعدہ کیا تھا، اللہ اور اُس کے رسولؐ کی بات بالکل سچّی تھی37۔“اِس واقعہ نے اُن کے ایمان اور ان کی سپُردگی کو اور زیادہ بڑھا دیا۔ 38

سورة الْاَحْزَاب 36 رسول ﷺ کے نمونے کی طرف توجہ دلانے کے بعد اب اللہ تعالیٰ صحابۂ کرام کے طرز عمل کو نمونے کے طور پر پیش فرماتا ہے تاکہ ایمان کے جھوٹے مدعیوں اور سچے دل سے رسول ﷺ کی پیروی اختیار کرنے والوں کا کردار ایک دوسرے کے مقابلہ میں پوری طرح نمایاں کردیا جائے۔ اگرچہ ظاہری اقرار ایمان میں وہ اور یہ یکساں تھے۔ مسلمانوں کے گروہ میں دونوں کا شمار ہوتا تھا اور نمازوں میں دونوں شریک ہوتے تھے۔ لیکن آزمائش کی گھڑی پیش آنے پر دونوں ایک دوسرے سے چھٹ کر الگ ہوگئے اور صاف معلوم ہوگیا کہ اللہ اور اس کے رسول کے مخلص وفادار کون ہیں اور محض نام کے مسلمان کون۔ سورة الْاَحْزَاب 37 اس موقع پر آیت نمبر 12 کو نگاہ میں رکھنا چاہیے۔ وہاں بتایا گیا تھا کہ جو لوگ منافق اور دل کے روگی تھے انہوں نے دس بارہ ہزار کے لشکر کو سامنے سے اور بنی قریظہ کو پیچھے سے حملہ آور ہوتے دیکھا تو پکار پکار کر کہنے لگے کہ " سارے وعدے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ہم سے کیے تھے محض جھوت اور فریب نکلے کہا تو ہم سے یہ گیا تھا کہ دین خدا پر ایمان لاؤ گے تو خدا کی تائید تمہاری پشت پر ہوگی، عرب و عجم پر تمہارا سکہ رواں ہوگا، اور قیصر و کسریٰ کے خزانے تمہارے لیے کھل جائیں گے۔ مگر ہو یہ رہا ہے کہ سارا عرب ہمیں مٹا دینے پر تل گیا ہے اور کہیں سے فرشتوں کی وہ فوجیں آتی نظر نہیں آرہیں جو ہمیں اس سیلاب بلا سے بچا لیں۔ " اب بتایا جا رہا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے وعدوں کا ایک مطلب تو وہ تھا جو ان جھوٹے مدعیان ایمان نے سمجھا تھا۔ دوسرا مفہوم وہ ہے جو ان صادق الایمان مسلمانوں نے سمجھا۔ خطرات امنڈتے دیکھ کر اللہ کے وعدے تو ان کو بھی یاد آئے، مگر یہ وعدے نہیں کہ ایمان لاتے ہی انگلی ہلائے بغیر تم دنیا کے فرمانروا ہوجاؤ گے اور فرشتے آ کر تمہاری تاجپوشی کی رسم ادا کریں گے، بلکہ یہ وعدے کہ سخت آزمائشوں سے تم کو گزرنا ہوگا، مصائب کے پہاڑ تم پر ٹوٹ پڑیں گے، گراں ترین قربانیاں تمہیں دینی ہوں گی، تب کہیں جا کر اللہ کی عنایات تم پر ہوں گی اور تمہیں دنیا اور آخرت کی وہ سرفرازیاں بخشی جائیں گی جن کا وعدہ اللہ نے اپنے مومن بندوں سے کیا ہے اَمْ حَسِبْتُمْ اَن تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَاْتِکُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ۔ ط مَسَّتْھُمُ الْبَاْسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰی یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہ مَتٰی نَصْرُاللہِ۔ ط۔ اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ۔ (البقرہ۔ آیت 214) کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت میں بس یونہی داخل ہوجاؤ گے ؟ حالانکہ ابھی وہ حالات تو تم پر گزرے ہی نہیں جو تم سے پہلے ایمان لانے والوں پر گزر چکے ہیں۔ ان پر سختیاں اور مصیبتیں آئیں اور وہ ہلا مارے گئے یہاں تک کہ رسول اور اس کے ساتھی پکار اٹھے کہ کب آئے گی اللہ کی مدد۔۔ سنو، اللہ کی مدد قریب ہے۔ اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْٓا اَنْ یَّقُوُلُوْٓا اٰمَنَّا وَھُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْکٰذِبِیْنَ (العنکبوت 2۔ 3) کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ بس یہ کہنے پر وہ چھوڑ دیے جائیں گے کہ " ہم ایمان لائے " اور انہیں آزمایا نہ جائیگا ؟ حالانکہ ہم نے ان سب لوگوں کو آزمایا ہے جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔ اللہ کو تو یہ ضرور دیکھنا ہے کہ سچے کون ہیں اور جھوٹے کون۔ سورة الْاَحْزَاب 38 یعنی اس سیلاب بلا کو دیکھ کر ان کے ایمان متزلزل ہونے کے بجائے اور زیادہ بڑھ گئے، اور اللہ کی فرماں برداری سے بھاگ نکلنے کے بجائے وہ اور زیادہ یقین و اطمینان کے ساتھ اپنا سب کچھ اس کے حوالے کردینے پر آمادہ ہوگئے۔ اس مقام پر یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ ایمان و تسلیم دراصل نفس کی ایک ایسی کیفیت ہے جو دین کے ہر حکم اور ہر مطالبے پر امتحان میں پڑجاتی ہے۔ دنیا کی زندگی میں ہر ہر قدم پر آدمی کے سامنے وہ مواقع آتے ہیں جہاں دین یا تو کسی چیز کا حکم دیتا ہے، یا کسی چیز سے منع کرتا ہے، یا جان اور مال اور وقت اور محنت اور خواہشات نفس کی قربانیوں کا مطالبہ کرتا ہے۔ ایسے ہر موقع پر جو شخص اطاعت سے انحراف کرے گا اس کے ایمان و تسلیم میں کمی واقع ہوگی، اور جو شخص بھی حکم کے آگے سر جھکا دے گا اس کے ایمان و تسلیم میں اضافہ ہوگا۔ اگرچہ ابتداءً آدمی صرف کلمۂ اسلام کو قبول کرلینے سے مومن و مسلم ہوجاتا ہے۔ لیکن یہ کوئی ساکن و جامد حالت نہیں ہے جو بس ایک ہی مقام پر ٹھہری رہتی ہو، بلکہ اس میں تنزل اور ارتقاء دونوں کے امکانات ہیں۔ خلوص اور اطاعت میں کمی اس کے تنزل کی موجب ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ ایک شخص پیچھے ہٹتے ہٹتے ایمان کی اس آخری سرحد پر پہنچ جاتا ہے جہاں سے یک سر مو بھی تجاوز کر جائے تو مومن کے بجائے منافق ہوجائے اس کے برعکس خلوص جتنا زیادہ ہو، اطاعت جتنی مکمل ہو اور دین حق کی سر بلندی کے لیے لگن اور دھن جتنی بڑھتی چلی جائے، ایمان اسی نسبت سے بڑھتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ آدمی صدّیقیّت کے مقام تک پہنچ جاتا ہے لیکن یہ کمی و بیشی جو کچھ بھی ہے اخلاقی مراتب میں ہے جس کا حساب اللہ کے سوا کوئی نہیں لگا سکتا بندوں کے لیے ایمان بس ایک ہی اقرار تصدیق ہے جس سے ہر مسلمان داخل اسلام ہوتا ہے اور جب تک اس پر قائم رہے۔ مسلمان مانا جاتا ہے۔ اس کے متعلق ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ آدھا مسلمان ہے اور یہ پاؤ، یا یہ دوگنا مسلمان ہے اور یہ تین گنا۔ اسی طرح قانونی حقوق میں سب مسلمان یکساں ہیں، یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی کو ہم زیادہ مومن کہیں اور اس کے حقوق زیادہ ہوں، اور کسی کو کم مومن قرار دیں اور اس کے حقوق کم ہوں۔ ان اعتبارات سے ایمان کی کمی و بیشی کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا اور دراصل اسی معنی میں امام ابوحنیفہ نے یہ فرمایا ہے کہ الایمان لا یزید ولا ینقص، " ایمان کم و بیش نہیں ہوتا "۔ (مزید تشریح کے لئے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد 2، الانفال، حاشیہ 2، جلد پنجم، الفتح، حاشیہ 7۔
Ayahs 33:23–25

مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ١ۖ٘ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاۙ Open ayah 33:23 in the Quran reader

ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچّا کر دکھایا ہے۔ ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کر چکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے۔39 انہوں نے اپنے رویےمیں کوئی تبدیلی نہیں کی

لِّیَجْزِیَ اللّٰهُ الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِهِمْ وَ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآءَ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 33:24 in the Quran reader

(یہ سب کچھ اس لیے ہوا) تاکہ اللہ سچوں کو اُن کی سچائی کی جزا دے اور منافقوں کو چاہے تو سزا دے اور چاہے تو ان کی توبہ قبول کر لے، بے شک اللہ غفور و رحیم ہے

وَ رَدَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِغَیْظِهِمْ لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًا١ؕ وَ كَفَى اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ قَوِیًّا عَزِیْزًاۚ Open ayah 33:25 in the Quran reader

اللہ نے کفار کا منہ پھیر دیا، وہ کوئی فائدہ حاصل کیے بغیر اپنے دل کی جلن لیے یونہی پلٹ گئے، اور مومنین کی طرف سے اللہ ہی لڑنے کے لیے کافی ہو گیا، اللہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے

سورة الْاَحْزَاب 39 یعنی کوئی اللہ کی راہ میں جان دے چکا ہے اور کوئی اس کے لیے تیار ہے کہ وقت آئے تو اس کے دین کی خاطر اپنے خون کا نذرانہ پیش کر دے۔
Ayahs 33:26–27

وَ اَنْزَلَ الَّذِیْنَ ظَاهَرُوْهُمْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ صَیَاصِیْهِمْ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ وَ تَاْسِرُوْنَ فَرِیْقًاۚ Open ayah 33:26 in the Quran reader

پھر اہلِ کتاب میں سے جن لوگوں نے ان حملہ آوروں کا ساتھ دیا تھا40 ، اللہ اُن کی گڑھیوں سے انہیں اُتار لایا اور ان کے دلوں میں اُس نے ایسا رُعب ڈال دیا کہ آج ان میں سے ایک گروہ کو تم قتل کر رہے ہو اور دوسرے گروہ کو قید کررہے ہو

وَ اَوْرَثَكُمْ اَرْضَهُمْ وَ دِیَارَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ وَ اَرْضًا لَّمْ تَطَئُوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا۠ Open ayah 33:27 in the Quran reader

اس نے تم کو ان کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے اموال کا وارث بنا دیا اور وہ علاقہ تمہیں دیا جسے تم نے کبھی پامال نہ کیا تھا اللہ ہر چیز پر قادر ہے

سورة الْاَحْزَاب 40 یعنی یہود بنی قریظہ۔
Ayah 33:28

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَ اُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:28 in the Quran reader

41 اے نبیؐ! اپنی بیویوں سے کہو ، اگر تم دنیا اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمہیں کچھ دے دلا کر بھلے طریقے سے رخصت کر دوں

سورة الْاَحْزَاب 41 یہاں سے نمبر 35 تک کی آیات جنگ احزاب اور بنی قریظہ سے متصل زمانے میں نازل ہوئی تھیں۔ ان کا پس منظر ہم دیباچہ میں مختصراً بیان کر آئے ہیں۔ صحیح مسلم میں حضرت جابر بن عبد اللہ اس زمانے کا یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دیکھا کہ آپ ﷺ کی ازواج آپ ﷺ کے گرد بیٹھی ہیں اور آپ ﷺ خاموش ہیں۔ آپ ﷺ نے حضرت عمر ؓ کو خطاب کر کے فرمایا " ھُنَّ کَمَا تَرٰی یَسْألْنَنِی النفقۃ، " یہ میرے گرد بیٹھی ہیں جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو۔ یہ مجھ سے خرچ کے لیے روپیہ مانگ رہی ہیں "۔ اس پر دونوں صاحبوں نے اپنی اپنی بیٹیوں کو ڈانٹا اور ان سے کہا کہ تم رسول اللہ ﷺ کو تنگ کرتی ہو اور وہ چیز مانگتی ہو جو آپ ﷺ کے پاس نہیں ہے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ اس وقت کیسی مالی مشکلات میں مبتلا تھے اور کفر و اسلام کی انتہائی شدید کشمکش کے زمانے میں خرچ کے تقاضے مزاج مبارک پر کیا اثر ڈال رہے تھے۔
Ayah 33:29

وَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:29 in the Quran reader

اور اگر تم اللہ اور اس کے رسولؐ اور دارِ آخرت کی طالب ہو تو جان لو کہ تم میں سے جو نیکوکار ہیں اللہ نے ان کے لیے بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے۔42

سورة الْاَحْزَاب 42 اس آیت کے نزول کے وقت حضور ﷺ کے نکاح میں چار بیویاں تھیں، حضرت سودہ ؓ ، حضرت حفصہ ؓ ، اور حضرت ام سلمہ ؓ۔ ابھی حضرت زینب ؓ سے حضور ﷺ کا نکاح نہیں ہوا تھا۔ (احکام لابن العربی طبع مصر 1958 عیسوی، جلد 3، ص 13۔ 1512)۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے سب سے پہلے حضرت عائشہ ؓ سے گفتگو کی اور فرمایا " میں تم سے ایک بات کہتا ہوں، جواب دینے میں جلدی نہ کرنا، اپنے والدین کی رائے لے لو، پھر فیصلہ کرو " پھر حضور ﷺ نے ان کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم آیا ہے اور یہ آیت ان کو سنا دی۔ انھوں نے عرض کیا، " کیا اس معاملہ کو میں اپنے والدین سے پوچھوں ؟ میں تو اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو چاہتی ہوں۔ " اس کے بعد حضور ﷺ باقی ازواج مطہرات میں سے ایک ایک کے ہاں گئے اور ہر ایک سے یہی بات فرمائی، اور ہر ایک نے وہی جواب دیا جو حضرت عائشہ ؓ نے دیا تھا۔ مسند احمد، مسلم، نَسائی) اصطلاح میں اس کو تخییر کہتے ہیں، یعنی بیوی کو اس امر کا اختیار دینا کہ وہ شوہر کے ساتھ رہنے یا اس سے جدا ہوجانے کے درمیان کسی ایک چیز کا خود فیصلہ کرلے۔ یہ تخییر نبی ﷺ پر واجب تھی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کا حضور ﷺ کو حکم دیا تھا۔ اگر ازواج مطہرات میں سے کوئی خاتون علیٰحدگی کا پہلو اختیار کرتیں تو آپ سے آپ جدا نہ ہوجاتیں بلکہ حضور ﷺ کے جدا کرنے سے ہوتیں، جیسا کہ آیت کے الفاظ " آؤ میں تمہیں کچھ دے دلا کر بھلے طریقے سے رخصت کر دوں " سے ظاہر ہوتا ہے۔ لیکن حضور ﷺ پر یہ واجب تھا کہ اس صورت میں ان کو جدا کردیتے، کیونکہ نبی کی حیثیت سے آپ کا یہ منصب نہ تھا کہ اپنا وعدہ پورا نہ فرماتے۔ جدا ہوجانے کے بعد بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ اُمّہات المومنین کے زمرے سے خارج ہوجاتیں اور ان سے کسی دوسرے مسلمان کا نکاح حرام نہ ہوتا، کیونکہ وہ دنیا اور اس کی زینت ہی کے لیے تو رسول پاک ﷺ سے علیٰحدگی اختیار کرتیں جس کا حق انہیں دیا گیا تھا، اور ظاہر ہے کہ ان کا یہ مقصد نکاح سے محروم ہوجانے کی صورت میں پورا نہ ہوسکتا تھا۔ دوسری طرف آیت کا منشا یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جن ازواج نے اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو پسند کرلیا انہیں طلاق دینے کا اختیار حضور ﷺ کے لیے باقی نہ رہا، کیونکہ تخییر کے دو ہی پہلو تھے۔ ایک یہ کہ دنیا کو اختیار کرتی ہو تو تمہیں جدا کردیا جائے۔ دوسرے یہ کہ اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو اختیار کرتی ہو تو تمہیں جدا نہ کیا جائے۔ اب ظاہر ہے کہ ان میں سے جو پہلو بھی کوئی خاتون اختیار کرتیں ان کے حق میں دوسرا پہلو آپ سے آپ ممنوع ہوجاتا تھا۔ اسلامی فقہ میں تخییر دراصل تفویض طلاق کی حیثیت رکھتی ہے۔ یعنی شوہر اس ذریعہ سے بیوی کو اختیار دے دیتا ہے کہ چاہے تو اس کے نکاح میں رہے ورنہ الگ ہوجائے۔ اس مسئلہ میں قرآن و سنت سے استنباط کر کے فقہاء نے جو احکام بیان کیے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے 1۔ یہ اختیار ایک دفعہ عورت کو دے دینے کے بعد شوہر نہ تو اسے واپس لے سکتا ہے اور نہ عورت کو اس کے استعمال سے روک سکتا ہے۔ البتہ عورت کے لیے یہ لازم نہیں ہے کہ وہ اس اختیار کو استعمال ہی کرے۔ وہ چاہے تو شوہر کے ساتھ رہنے پر رضا مندی ظاہر کر دے، چاہے علیٰحدگی کا اعلان کر دے، اور چاہے تو کسی چیز کا اظہار نہ کرے اور اس اختیار کو یونہی ضائع ہوجانے دے۔ 2۔ اس اختیار کے عورت کی طرف منتقل ہونے کے لیے دو شرطیں ہیں۔ اول یہ کہ شوہر نے یا تو اسے صریح الفاظ میں طلاق کا اختیار دیا ہو، یا اگر طلاق کی تصریح نہ کی ہو تو پھر اس کی نیت یہ اختیار دینے کی ہو۔ مثلاً اگر وہ کہے " تجھے اختیار ہے " یا " تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے۔ " تو اس طرح کے کنایات میں شوہر کی نیت کے بغیر طلاق کا اختیار عورت کی طرف منتقل نہ ہوگا۔ اگر عورت اس کا دعویٰ کرے اور شوہر بحلف یہ بیان دے کہ اس کی نیت طلاق کا اختیار دینے کی نہ تھی تو شوہر کا بیان قبول کیا جائے گا۔ اِلّا یہ کہ عورت اس امر کی شہادت پیش کر دے کہ یہ الفاظ ناچاقی اور جھگڑے کی حالت میں، یا طلاق کی باتیں کرتے ہوئے کہے گئے تھے، کیونکہ اس سیاق وسباق میں اختیار دینے کے معنی یہی سمجھے جائیں گے کہ شوہر کی نیت طلاق کا اختیار دینے کی تھی۔۔ دوم یہ کہ عورت کو معلوم ہو کہ یہ اختیار اسے دیا گیا ہے۔ اگر وہ غائب ہو تو اسے اس کی اطلاع ملنی چاہیے، اور اگر موجود ہو تو اسے یہ الفاظ سننے چاہییں۔ جب تک وہ سنے نہیں، یا اسے اس کی خبر نہ پہنچے اختیار اس کی طرف منتقل نہ ہوگا۔ 3۔ اگر شوہر کسی وقت کی تعیین کے بغیر مطلقاً اس کو اختیار دے تو عورت اس اختیار کو کب تک استعمال کرسکتی ہے ؟ اس مسئلے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ جس نشست میں شوہر اس سے یہ بات کہے اسی نشست میں عورت اپنا اختیار استعمال کرسکتی ہے۔ اگر وہ کوئی جواب دیے بغیر وہاں سے اٹھ جائے، یا کسی ایسے کام میں مشغول ہوجائے جو اس بات پر دلالت کرتا ہو کہ وہ جواب نہیں دینا چاہتی، تو اس کا اختیار باطل ہوجائے گا۔ یہ رائے حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت ابن مسعود، حضرت جابر بن عبد اللہ، جابر بن زید، عطاء، مجاہر، شَعبِی، نَخَعِی، امام مالک، امام مالک، امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام اوزاعی، سفیان ثوری اور ابو ثور ؓ کی ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ اس کا اختیار اس نشست تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ اس کے بعد بھی اسے استعمال کرسکتی ہے۔ یہ رائے حضرت حَسَن بصری، قتَادہ اور زُہْری کی ہے۔ 4۔ اگر شوہر وقت کی تعیین کر دے، مثلاً کہے کہ ایک مہینے یا ایک سال تک تجھے اختیار ہے، یا اتنی مدت تک تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے تو یہ اختیار اسی مدت تک اس کو حاصل رہے گا۔ البتہ اگر وہ کہے کہ تو جب چاہے اس اختیار کو استعمال کرسکتی ہے تو اس صورت میں اس کا اختیار غیر محدود ہوگا۔ 5۔ عورت اگر علیٰحدگی اختیار کرنا چاہے تو اسے واضح اور قطعی الفاظ میں اس کا اظہار کرنا چاہیے۔ مبہم الفاظ جن سے مدعا واضح نہ ہوتا ہو، مؤثر نہیں ہو سکتے۔ 6۔ قانوناً شوہر کی طرف سے عورت کو اختیار دینے کے تین صیغے ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ کہے " تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے۔ " دوسرے یہ کہ وہ کہے " تجھے اختیار ہے " تیسرے یہ کہ وہ کہے " تجھے طلاق ہے اگر تو چاہے۔ " ان میں سے ہر ایک کے قانونی نتائج الگ الگ ہیں الف۔ " تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے " کے الفاظ اگر شوہر نے کہے ہوں اور عورت اس کے جواب میں کوئی صریح بات ایسی کہے جس سے ظاہر ہو کہ وہ علیٰحدگی اختیار کرتی ہے تو حنفیہ کے نزدیک ایک طلاق بائن پڑجائے گی (یعنی اس کے بعد شوہر کو رجوع کا حق نہ ہوگا، لیکن عدت گزر جانے پر یہ دونوں پھر چاہیں تو باہم نکاح کرسکتے ہیں)۔ اور اگر شوہر نے کہا ہو کہ " ایک طلاق کی حد تک تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے " تو اس صورت میں ایک طلاق رجعی پڑے گی (یعنی عدت کے اندر شوہر رجوع کرسکتا ہے) لیکن اگر شوہر نے معاملہ عورت کے ہاتھ میں دیتے ہوئے تین طلاق کی نیت کی ہو، یا اس کی تصریح کی ہو تو اس صورت میں عورت کا اختیار طلاق ہی کا ہم معنی ہوگا خواہ وہ بصراحت اپنے اوپر تین طلاق وارد کرے یا صرف ایک بار کہے کہ میں نے علیٰحدگی اختیار کی یا اپنے آپ کو طلاق دی۔ ب۔ " تجھے اختیار ہے " کے الفاظ کے ساتھ اگر شوہر نے عورت کو علیٰحدگی کا اختیار دیا ہو اور عورت علیٰحدگی اختیار کرنے کی تصریح کر دے تو حنفیہ کے نزدیک ایک ہی طلاق بائن پڑے گی خواہ شوہر کی نیت تین طلاق کا اختیار دینے کی ہو، البتہ اگر شوہر کی طرف سے تین طلاق کا اختیار دینے کی تصریح ہو تب عورت کے اختیار طلاق سے تین طلاقیں واقع ہوں گی۔ امام شافعی ؒ کے نزدیک اگر شوہر نے اختیار دیتے ہوئے طلاق کی نیت کی ہو اور عورت علیٰحدگی اختیار کرے تو ایک طلاق رجعی واقع ہوگی۔ امام مالک ؒ کے نزدیک مدخولہ بیوی پر تین طلاقیں پڑجائیں گی لیکن اگر غیر مدخولہ کے معاملہ میں شوہر ایک طلاق کی نیت کا دعویٰ کرے تو اسے قبول کرلیا جائے گا۔ ج۔ " تجھے طلاق ہے اگر تو چاہے " کہنے کی صورت میں اگر عورت طلاق کا اختیار استعمال کرے تو طلاق رجعی ہوگی نہ کہ بائن۔ 7۔ اگر مرد کی طرف سے علیٰحدگی کا اختیار دیے جانے کے بعد عورت اسی کی بیوی بن کر رہنے پر اپنی رضا مندی ظاہر کر دے تو کوئی طلاق واقع نہ ہوگی۔ یہی رائے حضرت عمر، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عائشہ، حضرت ابو الدرداء، ابن عباس، اور ابن عمر ؓ ، کی ہے اور اسی رائے کو جمہور فقہاء نے اختیار کیا ہے۔ حضرت عائشہ سے مسروق نے یہ مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا خیّر رسول اللہ ﷺ نساءہ فاخترنہ اکان ذٰلک طلاقاً ؟ " رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کو اختیار دیا تھا اور انہوں نے حضور ہی کے ساتھ رہنا پسند کرلیا تھا، پھر کیا اسے طلاق شمار کیا گیا " ؟ اس معاملہ میں صرف حضرت علی اور زید بن ثابت ؓ کی یہ رائے منقول ہوئی ہے کہ ایک طلاق رجعی واقع ہوگی۔ لیکن دوسری روایت ان دونوں بزرگوں سے بھی یہی ہے کہ کوئی طلاق واقع نہ ہوگی۔
Ayah 33:30

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ یُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:30 in the Quran reader

نبیؐ کی بیویو، تم میں سے جو کسی صریح فحش حرکت کا ارتکاب کرے گی اسے دوہرا عذاب دیا جائے گا 43 ، اللہ کے لیے یہ بہت آسان کام ہے44۔

سورة الْاَحْزَاب 43 اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ نعوذ باللہ نبی ﷺ کی ازواج مطہرات سے کسی فحش حرکت کا اندیشہ تھا۔ بلکہ اس سے مقصود حضور کی ازواج کو یہ احساس دلانا تھا کہ اسلامی معاشرے میں ان کا مقام جس قدر بلند ہے اسی کے لحاظ سے ان کی ذمہ داریاں بھی بہت سخت ہیں، اس لیے ان کا اخلاقی رویہ انتہائی پاکیزہ ہونا چاہیے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے نبی ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لِئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ ، " اگر تم نے شرک کیا تو تمہارا سب کیا کرایا برباد ہوجائے گا " (الزمر۔ آیت 65) اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ معاذاللہ حضور سے شرک کا کوئی اندیشہ تھا، بلکہ اس سے مقصود حضور کو اور آپ کے واسطہ سے عام انسانوں کو یہ احساس دلانا تھا کہ شرک کتنا خطرناک جرم ہے جس سے سخت احتراز لازم ہے۔ سورة الْاَحْزَاب 44 یعنی تم اس بھلاوے میں نہ رہنا کہ نبی کی بیویاں ہونا تمہیں اللہ کی پکڑ سے بچا سکتا ہے، یا تمہارے مرتبے کچھ ایسے بلند ہیں کہ ان کی وجہ سے تمہیں پکڑنے میں اللہ کو کوئی دشواری پیش آسکتی ہے۔