Ayah 32:2سورة السَّجْدَة 1
قرآن مجید کی متعدد سورتیں اس طرح کے کسی نہ کسی تعارفی فقرہ سے شروع ہوتی ہیں جس سے مقصود آغاز کلام ہی میں یہ بتانا ہوتا ہے کہ یہ کلام کہاں سے آ رہا ہے۔ یہ بظاہر اسی طرز کا ایک تمہیدی فقرہ ہے جیسے ریڈیو پر اعلان کرنے والا پروگرام کے آغاز میں کہتا ہے کہ ہم فلاں اسٹیشن سے بول رہے ہیں۔ لیکن ریڈیو کے اس معمولی سے اعلان کے برعکس قرآن مجید کی کسی سورت کا آغاز جب اس غیر معمولی اعلان سے ہوتا ہے کہ یہ پیغام فرمانروائے کائنات کی طرف سے آ رہا ہے تو یہ محض مصدر کلام کا بیان ہی نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھ اس میں ایک بہت بڑا دعویٰ ، ایک عظیم چیلنج اور ایک سخت انذار بھی شامل ہوتا ہے۔ اس لئے کہ وہ چھوٹتے ہی اتنی بڑی خبر دیتا ہے کہ یہ انسانی کلام نہیں ہے، خدا وند عالم کا کلام ہے۔ یہ اعلان فوراً ہی یہ بھاری سوال آدمی کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے کہ اس دعوے کو تسلیم کروں یا نہ کروں۔ تسلیم کرتا ہوں تو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کے آگے سر اطاعت جھکا دینا ہوگا، پھر میرے لیے اس کے مقابلہ میں کوئی آزادی باقی نہیں رہ سکتی۔ تسلیم نہیں کرتا تو لا محالہ یہ خطرۂ عظیم مول لیتا ہوں کہ اگر واقعی یہ خداوند عالم کا کلام ہے تو اسے رد کرنے کا نتیجہ مجھ کو ابدی شقاوت و بد بختی کی صورت میں دیکھنا پڑے گا۔ اس بنا پر یہ تمہیدی فقرہ مجرد اپنی اس غیر معمولی نوعیت ہی کی بنا پر آدمی کو مجبور کردیتا ہے کہ چوکنا ہو کر انتہائی سنجیدگی کے ساتھ اس کلام کو سنے اور یہ فیصلہ کرے کہ اس کو کلام الہٰی ہونے کی حیثیت سے تسلیم کرنا ہے یا نہیں۔
یہاں صرف اتنی بات کہنے پر اکتفا نہیں کیا گیا ہے کہ یہ کتاب رب العالمین کی طرف سے نازل ہوئی ہے، بلکہ مزید براں پورے زور کے ساتھ یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ لَا رَیْبَ فِیْہِ ، بیشک یہ خدا کی کتاب ہے، اس کے مَنَزَّل مِنَ اللہ ہونے میں قطعاً کسی شک کی گنجائش نہیں ہے اس تاکیدی فقرے کو اگر نزول قرآن کے واقعاتی پس منظر اور خود قرآن کے اپنے سیاق میں دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اس کے اندر دعوے کے ساتھ دلیل بھی مضمر ہے، اور یہ دلیل مکہ معظمہ کے ان باشندوں سے پوشیدہ نہ تھی جن کے سامنے یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا۔ اس کتاب کے پیش کرنے والے کی پوری زندگی ان کے سامنے تھی، کتاب پیش کرنے سے پہلے کی بھی اور اس کے بعد کی بھی۔ وہ جانتے تھے کہ جو شخص اس دعوے کے ساتھ یہ کتاب پیش کر رہا ہے وہ ہماری قوم کا سب سے زیادہ راستباز، سنجیدہ اور پاک سیرت ہے۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ دعوائے نبوت سے ایک دن پہلے تک بھی کسی نے اس سے وہ باتیں کبھی نہ سنی تھیں جو نبوت کے بعد یکایک اس نے بیان کرنی شروع کردیں۔ وہ اس کتاب کی زبان اور طرز بیان میں اور خود محمد ﷺ کی زبان اور طرز بیان میں نمایاں فرق پاتے تھے اور اس بات کو بداہۃً جانتے تھے کہ ایک ہی شخص کے دو اسٹائل اتنے صریح فرق کے ساتھ نہیں ہو سکتے۔ وہ اس کتاب کے انتہائی معجزانہ ادب کو بھی دیکھ رہے اور اہل زبان کی حیثیت سے خود جانتے تھے کہ ان کے سارے ادیب اور شاعر اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہیں۔ وہ اس سے بھی ناواقف نہ تھے کہ ان کی قوم کے شاعروں، کاہنوں اور خطیبوں کے کلام میں اور اس کلام میں کتنا عظیم فرق ہے اور جو پاکیزہ مضامین اس کلام میں بیان کئے جا رہے ہیں وہ کتنے بلند پایہ ہیں۔ انہیں اس کتاب میں، اور اس کے پیش کرنے والے کی دعوت میں کہیں دور دور بھی اس خود غرضی کا ادنیٰ شائبہ تک نظر نہیں آتا جس سے کسی جھوٹے مدعی کا کام اور کلام کبھی خالی نہیں ہو سکتا۔ وہ خوردبین لگا کر بھی اس امر کی نشان دہی نہیں کرسکتے تھے کہ نبوت کا یہ دعویٰ کر کے محمد ﷺ اپنی ذات کے لئے یا اپنے خاندان کے لئے یا اپنی قوم کے لئے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اس کام میں ان کی اپنی کیا غرض پوشیدہ ہے۔ پھر وہ یہ بھی دیکھ رہے تھے کہ اس دعوت کی طرف ان کی قوم کے کیسے لوگ کھنچ رہے ہیں اور اس سے وابستہ ہو کر ان کی زندگیوں میں کتنا بڑا انقلاب واقع ہو رہا ہے۔ یہ ساری باتیں مل جل کر خود دلیل دعویٰ بنی ہوئی تھیں اسی لئے اس پس منظر میں یہ کہنا بالکل کافی تھا کہ اس کتاب کا رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہونا ہر شک و شبہ سے بالا تر ہے۔ اس پر کسی دلیل کے اضافے کی کوئی حاجت نہ تھی۔
Ayah 32:3سورة السَّجْدَة 2
اوپر کے تمہیدی فقرے کے بعد مشرکین مکہ کے پہلے اعتراض کو لیا جا رہا ہے جو وہ محمد ﷺ کی رسالت پر کرتے تھے۔
سورة السَّجْدَة 3
یہ محض سوال و استفہام نہیں ہے بلکہ اس میں سخت تعجب کا انداز پایا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان ساری باتوں کے باوجود، جن کی بنا پر اس کتاب کا منزَّل من اللہ ہونا ہر شک و شبہ سے بالا تر ہے، کیا یہ لوگ ایسی صریح ہٹ دھرمی کی بات کہہ رہے ہیں کہ محمد ﷺ اسے خود تصنیف کر کے جھوٹ موٹ اللہ رب العالمین کی طرف منسوب کردیا ہے ؟ اتنا لغو اور بےسرو پا الزام رکھتے ہوئے کوئی شرم ان کو نہیں آتی ؟ انہیں کچھ محسوس نہیں ہوتا کہ جو لوگ محمد ﷺ کو اور ان کے کام اور کلام کو جانتے ہیں اور اس کتاب کو بھی سمجھتے ہیں، وہ اس بیہودہ الزام کو سن کر کیا رائے قائم کریں گے ؟
سورة السَّجْدَة 4
جس طرح پہلی آیت میں لَا رَیْبَ فِیْہِ ، کہنا کافی سمجھا گیا تھا اور اس سے بڑھ کر کوئی استدلال قرآن کے کلام الٰہی ہونے کے حق میں پیش کرنے کی ضرورت نہ سمجھی گئی تھی، اسی طرح اب اس آیت میں بھی کفار مکہ کے الزام افترا پر صرف اتنی بات ہی کہنے پر اکتفا کیا جا رہا ہے کہ " یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے " اس کی وجہ وہی ہے جو اوپر 1 میں ہم بیان کرچکے ہیں۔ کون، کس ماحول میں، کس شان کے ساتھ یہ کتاب پیش کر رہا تھا، یہ سب کچھ سامعین کے سامنے موجود تھا۔ اور یہ کتاب بھی اپنی زبان اور اپنے ادب اور مضامین کے ساتھ سب کے سامنے تھی۔ اور اس کے اثرات و نتائج بھی مکہ کی اس سوسائٹی میں سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ اس صورت حال میں اس کتاب کا رب العالمین سے آیا ہوا حق ہونا ایسا صریح امر واقعہ تھا جسے صرف نعمتی طور پر بیان کردینا ہی کفار کے الزام کی تردید کے لیے کافی تھا۔ اس پر کسی استدلال کی کوشش بات کو مضبوط کرنے کے بجائے الٹی اس کمزور کرنے کی موجب ہوتی۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے دن کے وقت سورج چمک رہا ہو اور کوئی ڈھیٹ آدمی کہے کہ یہ اندھیری رات ہے۔ اس کے جواب میں صرف یہی کہنا کافی ہے کہ تم اسے رات کہتے ہو ؟ یہ روز روشن تو سامنے موجود ہے۔ اس کے بعد دن کے موجود ہونے پر اگر آپ منطقی دلیلیں قائم کریں گے تو اپنے جواب کے زور میں کوئی اضافہ نہیں کریں گے بلکہ درحقیقت اس کے زور کو کچھ کم ہی کردیں گے۔
سورة السَّجْدَة 5
یعنی جس کا حق ہونا اور من جانب اللہ ہونا قطعی و یقینی امر ہے اسی طرح اس کا مبنی بر حکمت ہونا اور خود تم لوگوں کے لیے خدا کی ایک رحمت ہونا بھی ظاہر ہے۔ تم خود جانتے کہ صدہا برس سے تمہارے اندر کوئی پیغمبر نہیں آیا ہے۔ تم خود جانتے ہو کہ تمہاری ساری قوم جہالت اور اخلاقی پستی اور سخت پسماندگی میں مبتلا ہے۔ اس حالت میں اگر تمہیں بیدار کرنے اور راہ راست دکھانے کے لیے ایک پیغمبر تمہارے درمیان بھیجا گیا ہے تو اس پر حیران کیوں ہوتے ہو۔ یہ تو ایک بڑی ضرورت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے پورا کیا ہے اور تمہاری اپنی بھلائی کے لیے کیا ہے۔
واضح رہے کہ عرب میں دین حق کی روشنی سب سے پہلے حضرت ہود ؑ اور حضرت صالح ؑ کے ذریعہ سے پہنچی تھی جو زمانۂ قبل تاریخ میں گزرے ہیں۔ پھر حضرت ابراہیم و اسماعیل (علیہما السلام) آئے جن کا زمانہ حضور ﷺ سے ڈھائی ہزار برس قبل گزرا ہے۔ اس کے بعد آخری پیغمبر جو عرب کی سر زمین میں نبی ﷺ سے پہلے بھیجے گئے وہ حضرت شعیب ؑ تھے۔ اور ان کی آمد پر بھی دو ہزار برس گزر چکے تھے۔ یہ اتنی طویل مدت ہے کہ اس کے لحاظ سے یہ کہنا بالکل بجا تھا کہ اس قوم کے اندر کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا۔ اس ارشاد کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس قوم میں کبھی کوئی متنبہ کرنے والا نہ آیا تھا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مدت دراز سے یہ قوم ایک متنبہ کرنے والے کی محتاج چلی آ رہی ہے۔
یہاں ایک اور سوال سامنے آجاتا ہے جس کو صاف کردینا ضروری ہے۔ اس آیت کو پڑھتے ہوئے آدمی کے ذہن میں یہ کھٹک پیدا ہوتی ہے کہ جب نبی ﷺ سے پہلے صدہا برس تک عربوں میں کوئی نبی نہیں آیا تو اس جاہلیت کے دور میں گزرے ہوئے لوگوں سے آخر باز پرس کس بنیاد پر ہوگی ؟ انہیں معلوم ہی کب تھی کہ ہدایت کیا ہے اور ضلالت کیا ہے ؟ پھر اگر وہ گمراہ تھے تو اپنی اس گمراہی کے ذمہ دار وہ کیسے قرار دیے جاسکتے ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دین کا تفصیلی علم چاہے اس جاہلیت کے زمانہ میں لوگوں کے پاس نہ رہا ہو، مگر یہ بات اس زمانے میں بھی لوگوں سے پوشیدہ نہ تھی کہ اصل دین توحید ہے اور انبیاء (علیہم السلام) نے کبھی بت پرستی نہیں سکھائی ہے۔ یہ حقیقت ان روایات میں بھی محفوظ تھی جو عرب کے لوگوں کو اپنی سر زمین کے انبیاء سے پہنچی تھیں، اور اسے قریب کی سرزمین میں آئے ہوئے انبیاء حضرت موسیٰ ، حضرت داؤد، حضرت سلیمان اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کی تعلیمات کے واسطے سے بھی وہ جانتے تھے۔ عرب کی روایات میں یہ بات بھی مشہور و معروف تھی کہ قدیم زمانہ میں اہل عرب کا اصل دین، دین ابراہیمی ؑ تھا اور بت پرستی ان کے ہاں عمرو بن لحیّ نامی ایک شخص نے شروع کی تھی۔ شرک و بت پرستی کے رواج عام کے باوجود عرب کے مختلف حصوں میں جگہ جگہ ایسے لوگ موجود تھے جو شرک سے انکار کرتے تھے، توحید کا اعلان کرتے تھے اور بتوں پر قربانیاں کرنے کی علانیہ مذمت کرتے تھے خود نبی ﷺ کے عہد سے بالکل قریب زمانے میں قُسّ بن ساعِدۃ الایاوی، اُمَیَّہ بن ابی الصَّلْت، سُوْید بن عمرو المُصْطَلِقی، وکیع بن سَعَمہ بن زُہَیر الاِیاوی، عمرو بن جندُب الجُہنِی، ابو قیس صرمہ بن ابی انَس، زید بن عمرو بن نُفَیل، ورقہ بن نوفَل، عثمان بن الحُوَیزِث، عبیداللہ بن جحش، عامر بن الظَّرب العَدْوانی، عَلّاف بن شہاب التَّمیمی، المُتَلَمِسّ بن اُمَیّۃ الکنانی، زُہَیر بن ابی سَلْمیٰ ، خالد بن سنان بن غیث، العَبُسی، عبداللہ القُضَاعِی اور ایسے ہی بہت سے لوگوں کے حالات ہمیں تاریخوں میں ملتے ہیں جنہیں حُنَفَاء کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ سب لوگ علی الا علان توحید کو اصل دین کہتے تھے اور مشرکین کے مذہب سے اپنی بےتعلقی کا صاف صاف اظہار کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ ان لوگوں کے ذہن میں یہ تخیل انبیاء (علیہم السلام) کی سابقہ تعلیمات کے باقی ماندہ اثرات ہی سے آیا تھا۔ اس کے علاوہ یمن میں چوتھی پانچویں صدی عیسوی کے جو کتبات آثار قدیمہ کی جدید تحقیقات کے سلسلے میں برآمد ہوئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں وہاں ایک توحیدی مذہب موجود تھا جس کے پیرو الرحمان اور رب السّماء والارض ہی کو اِلٰہ واحد تسلیم کرتے تھے۔ 378 عیسوی کا ایک کتبہ ایک عبادت گاہ کے کھنڈر سے ملا ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ یہ معبد " الٰہ ذو سموی " یعنی الٰہ السماء کی عبادت کے لئے بنایا گیا ہے۔ 465 عیسوی کے ایک کتبہ میں بنصر وردا الٰھن بعل سمین وارضین (بنصر و بعون الالٰہ رب السماء والارْض) کے الفاظ لکھے ہیں جو عقیدۂ توحید پر صریح دلالت کرتے ہیں۔ اسی دور کا ایک اور کتبہ ایک قبر پر ملا ہے جس میں بِخَیل رحمنن (یعنی استعین بحول الرحمٰن) کے الفاظ لکھے ہوئے ہیں، اسی طرح شمال عرب میں دریائے فرات اور قِنَّسرین کے درمیان زَبَد کے مقام پر 512 عیسوی کا ایک کتبہ ملا ہے جس میں بسْم الالٰہ لَا عِزَّ اِلَّا لَہ لَا شُکرَ اِلَّا لَہ کے الفاظ پائے جاتے ہیں۔ یہ ساری باتیں بتاتی ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی بعثت سے پہلے انبیاء سابقین کی تعلیمات کے آثار عرب سے بالکل مٹ نہیں گئے تھے اور کم از کم اتنی بات یاد دلانے کے لیے بہت سے ذرائع موجود تھے کہ " تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے "۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم، صفحات 464۔ 465)
Ayah 32:4سورة السَّجْدَة 6
اب مشرکین کے دوسرے اعتراض کو لیا جاتا ہے جو وہ نبی ﷺ کی دعوت توحید پر کرتے تھے۔ ان کو اس بات پر سخت اعتراض تھا کہ نبی ﷺ ان کے دیوتاؤں، اور بزرگوں کی معبودیت سے انکار کرتے ہیں اور ہانکے پکارے یہ دعوت دیتے ہیں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود کوئی کار ساز، کوئی حاجت روا، کوئی دعائیں سننے والا، اور بگڑی بنانے والا، اور کوئی حاکم ذی اختیار نہیں ہے۔
سورة السَّجْدَة 7
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم ص 36۔ 261۔ 262۔ 441۔ 442۔
Ayah 32:5سورة السَّجْدَة 8
یعنی تمہارا اصل خدا تو خالق زمین و آسمان ہے۔ تم کس خیال خام میں مبتلا ہو کہ کائنات کی اس عظیم الشان سلطنت میں اس کے سوا دوسروں کو کار ساز سمجھ بیٹھے ہو۔ اس پوری کائنات کا اور اس کی ہر چیز کا پیدا کرنے والا اللہ ہے۔ اس کی ذات کے سوا ہر دوسری چیز جو یہاں پائی جاتی ہے، مخلوق ہے۔ اور اللہ اس دنیا کو بنا دینے کے بعد کہیں جا کر سو بھی نہیں گیا ہے، بلکہ اپنی اس سلطنت کا تخت نشین اور حاکم و فرماروا بھی وہ آپ ہی ہے۔ پھر تمہاری عقل آخر کہاں چرنے چلے گئی ہے کہ تم مخلوقات میں سے چند ہستیوں کو اپنی قسمتوں کا مالک قرار دے رہے ہو ؟ اگر اللہ تمہاری مدد نہ کرے تو ان میں سے کس کی یہ طاقت ہے کہ تمہاری مدد کرسکے ؟ اگر اللہ تمہیں پکڑے تو ان میں سے کس کا یہ زور ہے کہ تمہیں چھڑا سکے ؟ اگر اللہ سفارش نہ سنے تو ان میں سے کون یہ بل بوتا رکھتا ہے کہ اس سے اپنی سفارش منوا لے ؟
سورة السَّجْدَة 9
یعنی تمہارے نزدیک جو ایک ہزار برس کی تاریخ ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں گویا ایک دن کا کام ہے جس کی اسکیم آج کارکنان قضا و قدر کے سپرد کی جاتی ہے اور کل وہ اس کی روداد اس کے حضور پیش کرتے ہیں تاکہ دوسرے دن (یعنی تمہارے حساب سے ایک ہزار برس) کا کام ان کے سپرد کیا جائے۔ قرآن مجید میں یہ مضمون دو مقامات پر اور بھی آیا ہے جنہیں نگاہ میں رکھنے سے اس کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ کفار عرب کہتے تھے کہ محمد ﷺ کو نبوت کا دعویٰ لے کر سامنے آئے کئی برس گزر چکے ہیں۔ وہ بار بار ہم سے کہتے ہیں کہ اگر میری اس دعوت کو تم لوگ قبول نہ کرو گے اور مجھے جھٹلاؤ گے تو تم پر خدا کا عذاب آجائے گا۔ مگر کئی برس سے وہ اپنی یہ بات دوہرائے جا رہے ہیں اور آج تک عذاب نہ آیا، حالانکہ ہم ایک دفعہ نہیں ہزاروں مر تبہ انہیں صاف صاف جھٹلا چکے ہیں۔ ان کی یہ دھمکیاں واقعی سچی ہوتیں تو ہم پر نہ معلوم کبھی کا عذاب آ چکا ہوتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ سُورۂ حج میں فرماتا ہے
وَیَسْتَعْجِلُوْنَکَ بالْعَذَابِ وَلَنْ یُّخْلِفَ اللہُ وَعْدَہٗ وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّکَ کَاَلْفِ سَنَۃٍ مِمَّا تَعُدُّوْنَ۔ (آیت 47)
یہ لوگ عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں۔ اللہ ہرگز اپنے وعدے کے خلاف نہ کرے گا۔ مگر تیرے رب کے ہاں کا ایک دن تم لوگوں کے شمار سے ہزار برس جیسا ہوا کرتا ہے۔
دوسری جگہ اسی بات کا جواب یہ دیا گیا ہے
سَاَلَ سَآئِلٌ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ (۔ لا) لِلْکٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَہٗ دَافِعٌ (۔ لا) مِّنَ اللّٰہ ذِی الْمَعَارِجِ۔ تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِکَۃُ والرُّوْحُ اِلَیْہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ۔ فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیلاً ا ِنَّھُمْ یَرَوْنَہ بَعِیْدًا (۔ لا) وَّنَرٰہ قَرِیْباً ط (المعارج۔ آیات 1۔ 7)
پوچھنے والا پوچھتا ہے اس عذاب کو جو واقع ہونے والا ہے کافروں کے لیے جس کو دفع کرنے والا کوئی نہیں ہے، اس خدا کی طرف سے جو چڑھتے درجوں والا ہے (یعنی درجہ بدرجہ کام کرنے والا)۔ چڑھتے ہیں اس کی طرف ملائکہ اور روح ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہے۔ پس اے نبی ! صبر جمیل سے کام لو۔ یہ لوگ اسے دور سمجھتے ہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں۔
ان تمام ارشادات سے جو بات ذہن نشین کرائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ انسانی تاریخ میں خدا کے فیصلے دنیا کی گھڑیوں اور جنتریوں کے لحاظ سے نہیں ہوتے۔ کسی قوم سے اگر کہا جائے کہ تم فلاں روش اختیار کرو گے تو اس کا انجام تمہیں یہ کچھ دیکھنا ہوگا، تو وہ قوم سخت احمق ہوگی اگر اس کا مطلب سمجھے کہ آج وہ روش اختیار کی جائے اور کل اس کے برے نتائج سامنے آجائیں۔ ظہور نتائج کے لیے دن اور مہینے اور سال تو کیا چیز ہیں، صدیاں بھی کوئی بڑی مدت نہیں ہیں۔
Ayah 32:6سورة السَّجْدَة 10
یعنی دوسرے جو بھی ہیں ان کے لیے ایک چیز ظاہر ہے تو بیشمار چیزیں ان سے پوشیدہ ہیں۔ فرشتے ہوں یا جن، یا نبی اور ولی اور برگزیدہ انسان، ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو سب کچھ جاننے والا ہو۔ یہ صفت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے کہ اس پر ہر چیز عیاں ہے۔ جو کچھ گزر چکا ہے، جو کچھ موجود ہے، اور جو کچھ آنے والا ہے، سب اس پر روشن ہے۔
سورة السَّجْدَة 11
یعنی ہر چیز پر غالب۔ کائنات میں کوئی طاقت ایسی نہیں جو اس کے ارادے میں مزاحم ہوسکے اور اس کے حکم کو نافذ ہونے سے روک سکے۔ ہر شے اس سے مغلوب ہے اور کسی میں اس کے مقابلے کا بل بوتا نہیں ہے۔
سورة السَّجْدَة 12
یعنی اس غلبے اور قوت قاہرہ کے باوجود وہ ظالم نہیں ہے بلکہ اپنی مخلوق پر رحیم و شفیق ہے۔
Ayah 32:7سورة السَّجْدَة 13
یعنی اس عظیم الشان کائنات میں اس نے بےحد و حساب چیزیں بنائی ہیں، مگر کوئی ایک چیز بھی ایسی نہیں ہے جو بےڈھنگی اور بےتکی ہو۔ ہر شے اپنا ایک الگ حسن رکھتی ہے۔ ہر شے اپنی جگہ متناسب اور موزوں ہے۔ جو چیز جس کام کے لیے بھی اس نے بنائی ہے اس کے لیے موزوں ترین شکل پر، مناسب ترین صفات کے ساتھ بنائی ہے۔ دیکھنے کے لیے آنکھ اور سننے کے لیے کان کی ساخت سے زیادہ موزوں کسی ساخت کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا۔ ہوا اور پانی جن مقاصد کے لیے بنائے گئے ہیں ان کے لئے ہوا ٹھیک ویسی ہی ہے جیسی ہونی چاہیے، اور پانی وہی اوصاف رکھتا ہے جیسے ہونے چاہییں۔ تم خدا کی بنائی ہوئی کسی چیز کے تقشے میں کسی کوتاہی کی نشاندہی نہیں کرسکتے ہو۔
Ayah 32:8سورة السَّجْدَة 14
یعنی پہلے اس نے براہ راست اپنے تخلیقی عمل (Direct Creation) سے انسان کو پیدا کیا، اور اس کے بعد خود اسی انسان کے اندر تناسل کی یہ طاقت رکھ دی کہ اس کے نطفہ سے ویسے ہی انسان پیدا ہوتے چلے جائیں۔ ایک کمال یہ تھا کہ زمین کے مواد کو جمع کر کے ایک تخلیقی حکم سے اس میں وہ زندگی اور وہ شعور و تعقل پیدا کردیا جس سے انسان جیسی ایک حیرت انگیز مخلوق وجود میں آگئی۔ اور دوسرا کمال یہ ہے کہ آئندہ مزید انسانوں کی پیدائش کے لیے ایک ایسی عجیب مشینری خود انسانی ساخت کے اندر رکھ دی جس کی ترکیب اور کارگزاری کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
یہ آیت قرآن مجید کی ان آیات میں سے ہے جو انسان اول کی براہ راست تخلیق کی تصریح کرتی ہیں۔ ڈارون کے زمانہ سے سائنس داں حضرات اس تصور پر بہت ناک بھوں چڑھاتے ہیں اور بڑی حقارت کے ساتھ وہ اس کو ایک غیر سائنٹیفک نظریہ قرار دے کر گویا پھینک دیتے ہیں۔ لیکن انسان کی نہ سہی، تمام انواع حیوانی کی نہ سہی، اولین جرثومۂ حیات کی براہ راست تخلیق سے تو وہ کسی طرح پیچھا نہیں چھڑا سکتے۔ اس تخلیق کو نہ مانا جائے تو پھر یہ انتہائی لغو بات ماننی پڑے گی کہ زندگی کی ابتدا محض ایک حادثہ کے طور پر ہوئی ہے، حالانکہ صرف ایک خلیّہ (Cell) والے حیوان میں زندگی کی سادہ ترین صورت بھی اتنی پیچیدہ اور نازک حکمتوں سے لبریز ہے کہ اسے حادثہ کا نتیجہ قرار دینا اس سے لاکھوں درجہ غیر سائنٹیفک بات ہے جتنا نظریۂ ارتقاء کے قائلین نظریۂ تخلیق کو ٹھہراتے ہیں۔ اور اگر ایک دفعہ آدمی یہ مان لے کہ حیات کا پہلا جرثومہ براہ راست تخلیق سے وجود میں آیا تھا، پھر آخر یہی ماننے میں کیا قباحت ہے کہ ہر نوع حیوانی کا پہلا فرد خالق کے تخلیقی عمل سے پیدا ہوا ہے، اور پھر اس نسل تناسل (Procreation) کی مختلف صورتوں سے چلی ہے۔ اس بات کو مان لینے سے وہ بہت سی گتھیاں حل ہوجاتی ہیں جو ڈارونیت کے علمبرداروں کی ساری سائنٹیفک شاعری کے باوجود ان کے نظریۂ ارتقاء میں غیر حل شدہ رہ گئی ہیں۔ (مزید تشریح کے لئے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اوّل، صفحات 259۔ 319۔ 566۔ جلد دوم، صفحات 10۔ 11۔ 106۔ 504۔ جلد سوّم، صفحات 201۔ 269)۔
Ayah 32:9سورة سجدۃ حاشیۃ 15
یعنی انتہائی باریک خورد بینی وجود سے بڑھا کر اسے پوری انسانی شکل تک پہنچایا اور اس کا جسم سارے اعضاء وجوارح کے ساتھ مکمل کردیا۔
سورة السَّجْدَة 16
روح سے مراد محض وہ زندگی نہیں ہے جس کی بدولت ایک ذی حیات جسم کی مشین متحرک ہوتی ہے، بلکہ اس سے مراد وہ خاص جوہر ہے جو فکر و شعور اور عقل وتمیز اور فیصلہ و اختیار کا حامل ہوتا ہے، جس کی بدولت انسان تمام دوسری مخلوقات ارضی سے ممتاز ایک صاحب شخصیت ہستی، صاحب انا ہستی، اور حامل خلافت ہستی بنتا ہے۔ اس روح کو اللہ تعالیٰ نے اپنی روح یا تو اس معنی میں فرمایا ہے کہ وہ اسی کی ملک ہے اور اس کی ذات پاک کی طرف اس کا انتساب اسی طرح کا ہے جس طرح ایک چیز اپنے مالک کی طرف منسوب ہو کر اس کی چیز کہلاتی۔ یا پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر علم، فکر، شعور، ارادہ، فیصلہ، اختیار اور ایسے ہی دوسرے جو اوصاف پیدا ہوئے ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کی صفات کے پر تو ہیں۔ ان کا سر چشمہ مادے کی کوئی ترکیب نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اللہ کے علم سے اس کو علم ملا ہے، اللہ کی حکمت سے اس کی دانائی ملی ہے، اللہ کے اختیار سے اس کو اختیار ملا ہے۔ یہ اوصاف کسی بےعلم، بےدانش اور بےاختیار ماخذ سے انسان کے اندر نہیں آئے ہیں۔ (مزید تشریح کے لئے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوّم، صفحات 504۔ 505)۔
سورة السَّجْدَة 17
یہ ایک لطیف انداز بیان ہے۔ روح پھونکنے سے پہلے انسان کا سارا ذکر صیغۂ غائب میں کیا جاتا رہا۔ " اس کی تخلیق کی "، " اس کی نسل چلائی "، " اس کو نِک سک سے درست کیا "، " اس کے اندر روح پھونکی "۔ اس لیے اس وقت تک وہ خطاب کے لائق نہ تھا۔ پھر جب روح پھونک دی گئی تو اب اس سے فرمایا جا رہا ہے کہ " تم کو کان دیے "، " تم کو آنکھیں دیں "، " تم کو دل دیے " اس لیے کہ حامل روح ہوجانے کے بعد ہی وہ اس قابل ہوا کہ اسے مخاطب کیا جائے۔
کان اور آنکھوں سے مراد وہ ذرائع ہیں جن سے انسان علم حاصل کرتا ہے۔ اگرچہ حصول علم کے ذرائع ذائقہ اور لامسہ اور شامہ بھی ہیں، لیکن سماعت و بینائی تمام دوسرے حواس سے زیادہ بڑے اور اہم ذرائع ہیں، اس لیے قرآن جگہ جگہ انہی دو کو خدا کے نمایاں عطیوں کی حیثیت سے پیش کرتا ہے۔ اس کے بعد " دل " سے مراد وہ ذہن (Mind) ہے جو حواس کے ذریعہ سے حاصل شدہ معلومات کو مرتب کر کے ان سے نتائج نکالتا ہے اور عمل کی مختلف امکانی راہوں میں سے کوئی ایک راہ منتخب کرتا اور اس پر چلنے کا فیصلہ کرتا ہے۔
سورة السَّجْدَة 18
یعنی یہ عظیم القدر انسانی روح اتنے بلند پایہ اوصاف کے ساتھ تم کو اس لیے تو عطا نہیں کی گئی تھی کہ تم دنیا میں جانوروں کی طرح رہو اور اپنے لیے بس وہی زندگی کا نقشہ بنا لو جو کوئی حیوان بنا سکتا ہے۔ یہ آنکھیں تمہیں چشم بصیرت سے دیکھنے کے لیے دی گئی تھیں نہ کہ اندھے بن کر رہنے کے لیے۔ یہ کان تمہیں گوش ہوش سے سننے کے لیے دیے گئے تھے نہ کہ بہرے بن کر رہنے کے لیے۔ یہ دل تمہیں اس لیے دیے گئے تھے کہ حقیقت کو سمجھو اور صحیح راہ فکر و عمل اختیار کرو، نہ اس لیے کہ اپنی ساری صلاحیتیں صرف اپنی حیوانیت کی پرورش کے وسائل فراہم کرنے میں صرف کردو، اور اس سے کچھ اونچے اٹھو تو اپنے خالق سے بغاوت کے فلسفے اور پروگرام بنانے لگو۔ یہ بیش قیمت نعمتیں خدا سے پانے کے بعد جب تم دہریت یا شرک اختیار کرتے ہو، جب تم خود خدا یا دوسرے خداؤں کے بندے بنتے ہو، جب تم خواہشات کے غلام بن کر جسم و نفس کی لذتوں میں غرق ہوجاتے ہو، تو گویا اپنے خدا سے یہ کہتے ہو کہ ہم ان نعمتوں کے لائق نہ تھے، ہمیں انسان بنانے کے بنائے تجھے ایک بندر، یا ایک بھیڑیا، یا ایک مگر مچھ یا ایک کوا بنانا چاہیے تھا۔
Ayah 32:10سورة السَّجْدَة 19
رسالت اور توحید پر کفار کے اعتراضات کا جواب دینے کے بعد اب اسلام کے تیسرے بنیادی عقیدے یعنی آخرت پر ان کے اعتراض کو لے کر اس کا جواب دیا جاتا ہے۔ آیت میں وَقَالُوْا کا واؤ عطف مضمون ماسبق سے اس پیراگراف کا تعلق جوڑتا ہے۔ گویا ترتیب کلام یوں ہے کہ " وہ کہتے ہیں محمد ﷺ اللہ کے رسول نہیں ہیں "، اور " وہ کہتے ہیں کہ ہم مر کر دوبارہ نہ اٹھیں گے "۔
سورة السَّجْدَة 20
اوپر کے فقرے اور اس فقرے کے درمیان پوری ایک داستان کی داستان ہے جسے سامع کے ذہن پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ کفار کا جو اعتراض پہلے فقرے میں نقل گیا ہے وہ اتنا مہمل ہے کہ اس کی تردید کی حاجت محسوس نہیں کی گئی۔ اس کا محض نقل کردینا ہی اس کی لغویت ظاہر کرنے کے لیے کافی سمجھا گیا۔ اس لیے کہ ان کا اعتراض جن دو اجزاء پر مشتمل ہے وہ دونوں ہی سراسر غیر معقول ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ " ہم مٹی میں رَل مِل چکے ہوں گے " آخر کیا معنی رکھتا ہے۔ " ہم " جس چیز کا نام ہے وہ مٹی میں کب رلتی ملتی ہے ؟ (مٹی میں تو صرف وہ جسم ملتا ہے جس سے " ہم " نکل چکا ہوتا ہے۔ اس جسم کا نام " ہم " نہیں ہے۔ زندگی کی حالت میں جب اس جسم کے اعضاء کاٹے جاتے ہیں تو عضو پر عضو کٹتا چلا جاتا ہے مگر " ہم " ہم پورا کا پورا اپنی جگہ موجود رہتا ہے۔ اس کا کوئی جز بھی کسی کٹے ہوئے عضو کے ساتھ نہیں جاتا۔ اور جب یہ " ہم " کسی جسم میں سے نکل جاتا ہے تو پورا جسم موجود ہوتے ہوئے بھی اس پر اس " ہم " کے کسی ادنی شائبے تک کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اسی لیے تو ایک عاشق جاں نثار اپنے معشوق کے مردہ جسم کو لے جا کر دفن کردیتا ہے، کیونکہ معشوق اس جسم سے نکل چکا ہوتا ہے۔ اور وہ معشوق نہیں بلکہ اس خالی جسم کو دفن کرتا ہے جس میں کبھی اس کا معشوق رہتا تھا۔ پس معترضین کے اعتراض کا پہلا مقدمہ ہی بےبنیاد ہے۔ رہا اس کا دوسرا جز " کیا ہم پھر نئے سرے سے پیدا کیے جائیں گے " ؟ تو یہ انکار و تعجب کے انداز کا سوال سرے سے پیدا ہی نہ ہوتا اگر معترضین نے بات کرنے سے پہلی اس " ہم " اور اس کے پیدا کیے جانے کے مفہوم پر ایک لمحہ کے لیے کچھ غور کرلیا ہوتا۔ اس " ہم " کی موجودہ پیدائش اس کے سوا کیا ہے کہ کہیں کوئلہ اور کہیں سے لوہا اور کہیں سے چونا اور اسی طرح کے دوسرے اجزاء جمع ہوئے اور اس کا لبد خاکی میں یہ " ہم " براجمان ہوگیا۔ پھر اس کی موت کے بعد کیا ہوتا ہے ؟ اس لبد خاکی میں سے جب " ہم " نکل جاتا ہے تو اس کا مکان تعمیر کرنے کے لیے جو اجزاء زمین کے مختلف حصوں سے فراہم کیے گئے تھے وہ سب اسی زمین میں واپس چلے جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جس نے پہلے اس " ہم " کو یہ مکان بنا کردیا تھا، کیا وہ دوبارہ اسی سر و سامان سے وہی مکان بنا کر اسے از سرنو اس میں نہیں بسا سکتا ؟ یہ چیز جب پہلے ممکن تھی اور واقعہ کی صورت میں رونما ہوچکی ہے، تو دوبارہ اس کے ممکن ہونے اور واقعہ بننے میں آخر کیا امر مانع ہے ؟ یہ باتیں ایسی ہیں جنہیں ذرا سی عقل آدمی استعمال کرے تو خود ہی سمجھ سکتا ہے۔ لیکن وہ اپنی عقل کو اس رخ پر کیوں نہیں جانے دیتا ؟ کیا وجہ ہے کہ وہ بےسوچے سمجھے حیات بعد الموت اور آخرت پر اس طرح کے لایعنی اعتراضات جڑتا ہے ؟ بیچ کی ساری بحث چھوڑ کر اللہ تعالیٰ دوسرے فقرے میں اسی سوال کا جواب دیتا ہے کہ " دراصل یہ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں "۔ یعنی اصل بات یہ نہیں ہے کہ دوبارہ پیدائش کوئی بڑی ہی انوکھی اور بعید از امکان بات ہے جو ان کی سمجھ میں نہ آسکتی ہو، بلکہ دراصل جو چیز انہیں یہ بات سمجھنے سے روکتی ہے وہ ان کی یہ خواہش ہے کہ ہم زمین میں چھوٹے پھریں اور دل کھول کر گناہ کریں اور پھر نِلُوہ (Scot-ires) یہاں سے نکل جائیں۔ پھر ہم سے کوئی پوچھ گچھ نہ ہو۔ پھر اپنے کرتوتوں کا کوئی حساب ہمیں نہ دینا پڑے۔
Ayah 32:11سورة السَّجْدَة 21
یعنی تمہارا " ہم " مٹی میں رَل مِل نہ جائے گا، بلکہ اس کی مہلت عمل ہوتے ہی خدا کا فرشتہ موت آئے گا اور اسے جسم سے نکال کر سَمُوچا اپنے قبضے میں لے لے گا۔ اس کا کوئی ادنیٰ جز بھی جسم کے ساتھ مٹی میں نہ جاسکے گا۔ اور وہ پورا کا پورا حراست (Custody) میں لے لیا جائے گا اور اپنے رب کے حضور پیش کردیا جائے گا۔
اس مختصر سی آیت میں بہت سے حقائق پر روشنی ڈالی گئی ہے جن پر سے سرسری طور پر نہ گزر جائیے
1)۔ اس میں تصریح ہے کہ موت کچھ یوں ہی نہیں آجاتی کہ ایک گھڑی چل رہی تھی، کوک ختم ہوئی اور وہ چلتے چلتے یکایک بند ہوگئی۔ بلکہ دراصل اس کام کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک خاص فرشتہ مقرر کر رکھا ہے جو آ کر باقاعدہ روح کو ٹھیک اسی طرح وصول کرتا ہے جس طرح ایک سرکاری امین (Official Receiver) کسی چیز کو اپنے قبضے میں لے لیتا ہے۔ قرآن کے دوسرے مقامات پر اس کی مزید تفصیلات جو بیان کی گئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس افسر موت کے ماتحت فرشتوں کا ایک پورا عملہ ہے جو موت وارد کرنے اور روح کو جسم سے نکالنے اور اس کو قبضے میں لینے کی بہت سی مختلف النوع خدمات انجام دیتا ہے۔ نیز یہ کہ اس عملے کا برتاؤ مجرم روح کے ساتھ کچھ اور ہوتا ہے اور مومن صالح روح کے ساتھ کچھ اور۔ (ان تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو سورة نساء، آیت 97۔ الانعام، 93۔ النحل، 28۔ الواقعہ، 83۔ 94۔
2)۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ موت سے انسان معدوم نہیں ہوجاتا بلکہ اس کی روح جسم سے نکل کر باقی رہتی ہے۔ قرآن کے الفاظ " موت کا فرشتہ تم کو پورا کا پورا اپنے قبضے میں لے لیگا۔ " اسی حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کیونکہ کوئی معدوم چیز قبضے میں لینے کا تو مطلب ہی یہ ہے کہ مقبوضہ چیز قابض کے پاس رہے۔
3) اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ موت کے وقت جو چیز قبضے میں لی جاتی ہے وہ آدمی کی حیوانی زندگی (Biological life) نہیں بلکہ اس کی وہ خودی ‘ اس کی وہ انا (ego) ہے جو " میں " اور " ہم " اور " تم " کے الفاظ سے تعبیر کی جاتی ہے۔ یہ انا دنیا میں کام کر کے جیسی کچھ شخصیت بھی بنتی ہے وہ پوری جوں کی توں (Intact) نکال لی جاتی ہے بغیر اس کے کہ اس کے اوصاف میں کوئی کمی بیشی ہو۔ اور ہی چیز موت کے بعد اپنے رب کی طرف پلٹائی جاتی ہے۔ اسی کو آخرت میں نیا جنم اور نیا جسم دیا جائے گا اسی پر مقدمہ قائم کیا جائے گا ‘ اسی سے حساب لیا جائے گا اور اسی کو جزا و سزا دیکھنی ہوگی۔
Ayah 32:12سورة السَّجْدَة 22
اب اس حالت کا نقشہ پیش کیا جاتا ہے جب اپنے رب کی طرف پلٹ کر یہ انسانی " اَنا " اپنا حساب دینے کے لئے اس کے حضور کھڑی ہوگی۔
Ayah 32:13سورة السَّجْدَة 23
یعنی اس طرح حقیقت کا مشاہدہ اور تجربہ کرا کر ہی لوگوں کو ہدایت دینا ہمارے پیش نظر ہوتا تو دنیا کی زندگی میں اتنے بڑے امتحان سے گزار کر تم کو یہاں لانے کی کیا ضرورت تھی ‘ ایسی ہدایت تو ہم پہلے ہی تم کو دے سکتے تھے لیکن تمہارے لیے تو آغاز ہی سے ہماری اسکیم یہ نہ تھی ہم تو حقیقت کو نگاہوں سے اوجھل اور حواس سے مخفی رکھ کر تمہارا امتحان لینا چاہتے تھے کہ تم براہ راست اس کو بےنقاب دیکھنے کے بجائے کائنات میں اور خود اپنے نفس میں اس کی علامات دیکھ کر اپنی عقل سے اس کو پہچانتے ہو یا نہیں، ہم اپنے انبیاء اور اپنی کتابوں کے ذریعہ سے اس حقیقت شناسی میں تمہاری جو مدد کرتے ہیں اس سے فائدہ اٹھاتے ہو یا نہیں، اور حقیقت جان لینے کے بعد اپنے نفس پر اتنا قابو پاتے ہو یا نہیں کہ خواہشات اور اغراض کی بندگی سے آزاد ہو کر اس حقیقت کو مان جاؤ اور اس کے مطابق اپنا طرز عمل درست کرلو۔ اس امتحان میں تم ناکام ہوچکے ہو۔ اب دوبارہ اسی امتحان کا سلسلہ شروع کرنے سے کیا حاصل ہوگا۔ دوسرا امتحان اگر اس طرح لیا جائے کہ تمہیں وہ سب کچھ یاد ہو جو تم نے یہاں دیکھ اور سن لیا ہے تو یہ سرے سے کوئی امتحان ہی نہ ہوگا۔ اگر پہلے کی طرح تمہیں خالی الذہن کر کے اور حقیقت کو نگاہوں سے اوجھل رکھ کر تمہیں پھر دنیا میں پیدا کردیا جائے اور نئے سرے سے تمہارا اسی طرح امتحان لیا جائے جیسے پہلے لیا گیا تھا، تو نتیجہ پچھلے امتحان سے کچھ بھی مختلف نہ ہوگا۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اوّل، صفحات 160۔ 161۔ 565۔ 625۔ 532۔ 603۔ 604۔ جلد دوّم ص، 276۔ جلد سوّم ص 300)
سورة السَّجْدَة 24
اشارہ ہے اس قول کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے تخلیق آدم ؑ کے وقت ابلیس کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا تھا۔ سورة ص کے آخری رکوع میں اس وقت کا پورا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ ابلیس نے آدم ؑ کو سجدہ کرنے سے انکار کیا اور نسل آدم کو بہکانے کے لیے قیامت تک کی مہلت مانگی۔ جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ اَقُوْلُ لَاَمْلَئَنَّ جَھَنَّمَ مِنْکَ وَمِمَّنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ اَجْمَعِیْنَ " پس حق یہ ہے اور میں حق ہی کہا کرتا ہوں کہ جہنم کو بھر دوں گا تجھ سے اور ان لوگوں سے جو انسانوں میں سے تیری پیروی کریں گے۔ "
اَجْمَعِیْنَ کا لفظ یہاں اس معنی میں استعمال نہیں کیا گیا ہے کہ تمام جن اور تمام انسان جہنم میں ڈال دیے جائیں گے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے شیاطین اور ان شیاطین کے پیرو انسان سب ایک ساتھ ہی وصل جہنم ہوں گے۔
Ayah 32:14سورة السَّجْدَة 25
یعنی دنیا کے عیش میں گم ہو کر تم نے اس بات کو بالکل بھلا دیا کہ کبھی اپنے رب کے سامنے بھی جانا ہے۔
Ayah 32:15سورة السَّجْدَة 26
بالفاظ دیگر وہ اپنے غلط خیالات کو چھوڑ کر اللہ کی بات مان لینے اور اللہ کی بندگی اختیار کر کے اس کی عبادت کو چھوڑ کر اللہ کی بات مان لینے اور اللہ کی بندگی اختیار کر کے اس کی عبادت بجا لانے اپنی شان سے گری ہوئی بات نہیں سمجھتے نفس کی کبریائی انہیں قبول حق اور اطاعت رب سے مانع نہیں ہوتی۔
Ayah 32:16سورة السَّجْدَة 27
یعنی راتوں کو داد عیش دیتے پھرنے کے بجائے وہ اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں۔ ان کا حال ان دنیا پرستوں کا سا نہیں ہے جنہیں دن کی محنتوں کی کلفت دور کرنے کے لیے راتوں کو ناچ گانے اور شراب نوشی اور کھیل تماشوں کی تفریحات درکار ہوتی ہیں۔ اس کے بجائے ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ دن بھر اپنے فرائض انجام دے کر جب وہ فارغ ہوتے ہیں تو اپنے رب کے حضور کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اس کی یاد میں راتیں گزارتے ہیں۔ اس کے خوف سے کانپتے ہیں اور اسی سے اپنی ساری امیدیں وابستہ کرتے ہیں۔
بستروں سے پیٹھیں الگ رہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ راتوں کو سوتے ہی نہیں ہیں، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ راتوں کا ایک حصہ خدا کی عبادت میں صرف کرتے ہیں۔
سورة السَّجْدَة 28
رزق سے مراد ہے رزق حلال۔ مال حرام کو اللہ تعالیٰ اپنے دیے ہوئے رزق سے تعبیر نہیں فرماتا۔ لہٰذا اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو تھوڑا یا بہت پاک رزق ہم نے انہیں دیا ہے اسی میں سے خرچ کرتے ہیں۔ اس سے تجاوز کر کے اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے حرام مال پر ہاتھ نہیں مارتے۔
Ayah 32:17سورة السَّجْدَة 29
بخاری، مسلم، ترمذی اور مسند احمد میں متعدد طریقوں سے حضرت ابوہریرہ ؓ کی یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا قال اللہ تعالیٰ اعددت لعبادی الصالحین ما لا عین رأت ولا اذن سمعت ولا خطر علیٰ قلب بشرٍ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ کچھ فراہم کر رکھا ہے جسے نہ کبھی کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کبھی کسی کان نے سنا، نہ کوئی انسان کبھی اس کا تصور کرسکا ہے "۔ یہی مضمون تھوڑے سے لفظی فرق کے ساتھ حضرت ابو سعید خدری، حضرت مغیرہ بن شُعْبہ اور حضرت سہل بن سعد ساعدی نے بھی حضور ﷺ سے روایت کیا ہے جسے مسلم، احمد، ابن جریر اور ترمذی نے صحیح سندوں کے ساتھ نقل کیا ہے۔
Ayah 32:18سورة السَّجْدَة 30
یہاں مومن اور فاسق کی دو متقابل اصطلاحیں استعمال کی گئی ہیں۔ مومن سے مراد وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کو اپنا رب واحد مان کر اس قانون کی اطاعت اختیار کرلے جو اللہ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ سے بھیجا ہے۔ اس کے برعکس فاسق وہ ہے جو فسق (خروج از طاعت، یا با الفاظ دیگر بغاوت، خود مختاری اور اطاعت غیر اللہ) کا رویہ اختیار کرے۔
سورة السَّجْدَة 31
یعنی نہ دنیا میں ان کا طرز فکر و طرز حیات یکساں ہوسکتا ہے اور نہ آخرت میں ان کے ساتھ خدا کا معاملہ یکساں ہوسکتا ہے۔
Ayahs 32:19–20سورة السَّجْدَة 32
یعنی وہ جنتیں ان کی سیر گاہیں نہیں ہوں گی بلکہ وہی ان کی قیام گاہیں بھی ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
Ayah 32:21سورة السَّجْدَة 33
" عذاب اکبر " سے مراد آخرت کا عذاب ہے جو کفر و فسق کی پاداش میں دیا جائے گا۔ اس کے مقابلہ میں " عذاب ادنیٰ " کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس سے مراد وہ تکلیفیں ہیں جو اسی دنیا میں انسان کو پہنچتی ہیں۔ مثلاً افراد کی زندگی میں سخت بیماریاں، اپنے عزیز ترین لوگوں کی موت، المناک حادثے، نقصانات، ناکامیاں وغیرہ۔ اور اجتماعی زندگی میں طوفان، زلزلے، سیلاب، وبائیں، قحط، فسادات، لڑائیاں اور دوسری بہت سی بلائیں جو ہزاروں، لاکھوں، کروڑوں انسانوں کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہیں۔ ان آفات کے نازل کرنے کی مصلحت یہ بیان کی گئی ہے کہ عذاب اکبر میں مبتلا ہونے سے پہلے ہی لوگ ہوش میں آجائیں اور اس طرز فکر و عمل کو چھوڑ دیں جس کی پاداش میں آخر کار انہیں وہ بڑا عذاب بھگتنا پڑے گا۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو بالکل بخیریت ہی نہیں رکھا ہے کہ پورے آرام و سکون سے زندگی کی گاڑی چلتی رہے اور آدمی اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجائے کہ اس سے بالا کوئی طاقت نہیں ہے جو اس کا کچھ بگاڑ سکتی ہو۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام کر رکھا ہے کہ وقتاً فوقتاً افراد پر بھی اور قوموں اور ملکوں پر بھی ایسی آفات بھیجتا رہتا ہے جو اسے اپنی بےبسی کا اور اپنے سے بالا تر ایک ہمہ گیر سلطنت کی فرمانروائی کا احساس دلاتی ہیں۔ یہ آفات ایک ایک شخص کو، ایک ایک گروہ کو اور ایک ایک قوم کو یہ یاد دلاتی ہیں کہ اوپر تمہاری قسمتوں کو کوئی اور کنٹرول کر رہا ہے۔ سب کچھ تمہارے ہاتھ میں نہیں دے دیا گیا ہے۔ اصل طاقت اسی کارفرما اقتدار کے ہاتھ میں ہے۔ اس کی طرف سے جب کوئی آفت تمہارے اوپر آئے تو نہ تمہاری کوئی تدبیر اسے دفع کرسکتی ہے، اور نہ کسی جن، یا روح، یا دیوی اور دیوتا، یا نبی اور ولی سے مدد مانگ کر تم اس کو روک سکتے ہو۔ اس لحاظ سے یہ آفات محض آفات نہیں ہیں بلکہ خدا کی تنبیہات ہیں جو انسان کو حقیقت سے آگاہ کرنے اور اس کی غلط فہمیاں رفع کرنے کے لیے بھیجی جاتی ہیں۔ ان سے سبق لے کر دنیا ہی میں آدمی اپنا عقیدہ اور عمل ٹھیک کرلے تو آخرت میں خدا کا بڑا عذاب دیکھنے کی نوبت ہی کیوں آئے۔
Ayah 32:22سورة السَّجْدَة 34
" رب کی آیات " یعنی اس کی نشانیوں کے الفاظ بہت جامع ہیں جن کے اندر تمام اقسام کی نشانیاں آجاتی ہیں۔ قرآن مجید کے جملہ بیانات کو نگاہ میں رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ نشانیاں حسب ذیل چھ قسموں پر مشتمل ہیں
1۔ وہ نشانیاں جو زمین سے لے کر آسمان تک ہر چیز میں اور کائنات کے مجموعی نظام میں پائی جاتی ہیں۔
2۔ وہ نشانیاں جو انسان کی اپنی پیدائش اور اس کی ساخت اور اس کے وجود میں پائی جاتی ہے۔
3۔ وہ نشانیاں جو انسان کے وجدان میں، اسکے لاشعور میں، اور اس کے اخلاقی تصورات میں پائی جاتی ہیں۔
4۔ وہ نشانیاں جو انسانی تاریخ کے مسلسل تجربات میں پائی جاتی ہیں۔
5۔ وہ نشانیاں جو انسان پر آفات ارضی و سماوی کے نزول میں پائی جاتی ہیں۔
6۔ اور ان سب کے بعد وہ آیات جو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کے ذریعہ سے بھیجیں تاکہ معقول طریقے سے انسان کو انہی حقائق سے آگاہ کیا جائے جن کی طرف اوپر کی تمام نشانیاں اشارہ کر رہی ہیں۔
یہ ساری نشانیاں پوری ہم آہنگی اور بلند آہنگی کے ساتھ انسان کو یہ بتارہی ہیں کہ تو بے خدا نہیں ہے، نہ بہت سے خداؤں کا بندہ ہے، بلکہ تیرا خدا صرف ایک ہی ہے جس کی عبادت و اطاعت کے سوا تیرے لیے کوئی دوسرا راستہ صحیح نہیں ہے۔ تو اس دنیا میں آزاد و خود مختار اور غیر ذمہ دار بنا کر نہیں چھوڑ دیا گیا ہے بلکہ تجھے اپنا کارنامۂ حیات ختم کرنے کے بعد اپنے خدا کے سامنے حاضر ہو کر جواب دہی کرنی ہے اور اپنے عمل کے لحاظ سے جزا اور سزا پانی ہے۔ پس تیری اپنی خیر اسی میں ہے کہ تیرے خدا نے تیری رہنمائی کے لیے اپنے انبیاء اور اپنی کتابوں کے ذریعہ سے جو ہدایت بھیجی ہے اس کی پیروی کر اور خود مختاری کی روش سے باز آجا۔ اب یہ ظاہر ہے کہ جس انسان کو اتنے مختلف طریقوں سے سمجھایا گیا ہو، جس کی فہمائش کے لیے طرح طرح کی اتنی بیشمار نشانیاں فراہم کی گئی ہوں، اور جسے دیکھنے کے لیے آنکھیں سننے کے لیے کان، اور سوچنے سمجھنے کے لیے دل کی نعمتیں بھی دی گئی ہوں، وہ اگر ان ساری نشانیوں کی طرف سے آنکھیں بند کرلیتا ہے، سمجھانے والوں کی تذکیر و نصیحت کے لیے بھی اپنے کان بند کرلیتا ہے، اور اپنے دل و دماغ سے بھی اوندھے فلسفے ہی گھڑنے کا کام لیتا ہے، اس سے بڑا ظالم کوئی نہیں ہوسکتا۔ وہ پھر اسی کا مستحق ہے کہ دنیا میں اپنے امتحان کی مدت ختم کرنے کے بعد جب وہ اپنے خدا کے سامنے حاضر ہو تو بغاوت کی بھر پور سزا پائے۔
Ayah 32:23سورة السَّجْدَة 35
خطاب بظاہر نبی ﷺ سے ہے، مگر دراصل مخاطب وہ لوگ ہیں جو حضور ﷺ کی رسالت میں، اور آپ کے اوپر کتاب اِلٰہی کے نازل ہونے میں شک کر رہے تھے۔ یہاں سے کلام کا رخ اسی مضمون کی طرف پھر رہا ہے جو آغاز سورة (آیات نمبر 2 اور 3) میں بیان ہوا تھا۔ کفار مکہ کہہ رہے تھے کہ محمد ﷺ پر خدا کی طرف سے کوئی کتاب نہیں آئی ہے انہوں نے اسے خود گھڑ لیا ہے اور دعویٰ یہ کر رہے ہیں کہ خدا نے اسے نازل کیا ہے۔ اس کا ایک جواب ابتدائی آیات میں دیا گیا تھا۔ اب اس کا دوسرا جواب دیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں پہلی بات جو فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اے نبی یہ نادان لوگ تم پر کتاب الٰہی کے نازل ہونے کو اپنے نزدیک بعید از امکان سمجھ رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہر دوسرا شخص بھی اگر اس کا انکار نہ کرے تو کم از کم اس کے متعلق شک ہی میں پڑجائے۔ لیکن ایک بندے پر خدا کی طرف سے کتاب نازل ہونا ایک نرالا واقعہ تو نہیں ہے جو انسانی تاریخ میں آج پہلی مرتبہ ہی پیش آیا ہو۔ اس سے پہلے متعدد انبیاء پر کتابیں نازل ہوچکی ہیں جن میں سے مشہور ترین کتاب وہ ہے جو حضرت موسیٰ ؑ کو دی گئی تھی۔ لہٰذا اسی نوعیت کی ایک چیز آج تمہیں دی گئی ہے تو آج آخر اس میں انوکھی بات کیا ہے جس پر خواہ مخواہ شک کیا جائے۔
سورة السَّجْدَة 36
یعنی وہ کتاب بنی اسرائیل کے لئے رہنمائی کا ذریعہ بنائی گئی تھی اور یہ کتاب اسی طرح تم لوگوں کی رہنمائی کے لئے بھیجی گئی ہے جیسا کہ آیت نمبر 3 میں پہلے بیان کیا جا چکا ہے۔ اس ارشاد کی پوری معنویت اس کے تاریخی پس منظر کو نگاہ میں رکھنے سے ہی سمجھ میں آسکتی ہے۔ یہ بات تاریخ سے ثابت ہے اور کفار مکہ بھی اس سے ناواقف نہ تھے بنی اسرائیل کئی صدی تک مصر میں انتہائی ذلت و نکبت کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ اس حالت میں اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان موسیٰ ؑ کو پیدا کیا ان کے ذریعہ سے اس قوم کو غلامی کی حالت سے نکالا پھر ان پر کتاب نازل کی اور اس کے فیض سے وہی دبی اور پسی ہوئی قوم ہدایت پاکر دنیا میں ایک نامور قوم بن گئی۔ اس تاریخ کی طرف اشارہ کر کے اہل عرب سے فرمایا جا رہا ہے کہ جس طرح بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے وہ کتاب بھیجی گئی ہے، اسی طرح تمہاری ہدایت کے لئے یہ کتاب بھیجی گئ ہے۔
Ayah 32:24سورة السَّجْدَة 37
یعنی بنی اسرائیل کو اس کتاب نے جو کچھ بنایا اور جن مدارج پر ان کو پہنچایا وہ محض ان کے درمیان کتاب کے آجانے کا کرشمہ نہ تھا گویا یہ کوئی تعویذ ہو جو باندھ کر اس قوم کے گلے میں لٹکا دیا گیا ہو اور اس کے لٹکتے ہی قوم نے بام عروج پر چڑھنا شروع کردیا ہو بلکہ یہ ساری کرامت اس یقین کی تھی جو وہ اللہ کی آیات پر لائے اور اس صبر اور ثابت قدمی کی تھی جو انہوں نے احکام الہٰی کی پیروی میں دکھائی۔ خود بنی اسرائیل کے اندر بھی پیشوائی انہی کو نصیب ہوئی جو ان میں سے کتاب اللہ کے سچے مومن تھے اور دنیوی فائدوں اور لذتوں کی طمع میں پھسل جانے والے نہ تھے۔ انہوں نے جب حق پرستی میں ہر خطرے کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہر نقصان اور ہر تکلیف کو بر داشت کیا اور اپنے نفس کی شہوات سے لے کر باہر کے اعدائے دین تک ہر ایک کے خلاف مجاہدہ کا حق ادا کردیا تب ہی وہ دنیا کے امام بنے اس سے مقصود کفار عرب کو متنبہ کرنا ہے کہ جس طرح خدا کی کتاب کے نزول نے بنی اسرائیل کے اندر قسمتوں کے فیصلے کیے تھے اسی طرح اب اس کتاب کا نزول تمہارے درمیان بھی قسمتوں کا فیصلہ کر دے گا۔ اب وہی لوگ امام بنیں گے جو اس کو مان کر صبر و ثبات کے ساتھ حق کی پیروی کریں گے اس سے منہ موڑنے والوں کی تقدیر گردش میں آ چکی ہے۔
Ayah 32:25سورة السَّجْدَة 38
یہ اشارہ ہے ان اختلافات اور فرقہ بندیوں کی طرف جن کے اندر بنی اسرائیل ایمان و یقین کی دولت سے محروم ہونے اور اپنے راست رو ائمہ کی پیروی چھوڑ دینے اور دنیا پرستی میں پڑجانے کے بعد مبتلا ہوئے۔ اس حالت کا ایک نتیجہ تو ظاہر ہے جسے ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ بنی اسرائیل ذلت و نکبت میں گرفتار ہیں۔ دوسرا وہ ہے جو دنیا نہیں جانتی اور وہ قیامت کے روز ظاہر ہوگا۔
Ayah 32:26سورة السَّجْدَة 39
یعنی کیا تاریخ کے اس مسلسل تجربے سے ان لوگوں نے کوئی سبق نہیں لیا کہ جس قوم میں بھی خدا کا رسول آیا ہے اس کی قسمت کا فیصلہ اس رویے کے ساتھ معلق ہوگیا ہے جو اپنے رسول کے معاملہ میں اس نے اختیار کیا۔ رسول کو جھٹلا دینے کے بعد پھر کوئی قوم بچ نہیں سکی ہے۔ اس میں سے بچے ہیں تو صرف وہی لوگ جو اس پر ایمان لائے۔ انکار کردینے والے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سامان عبرت بن کر رہ گئے۔
Ayah 32:27سورة السَّجْدَة 40
سیاق وسباق کو نگاہ میں رکھنے سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہاں یہ ذکر حیات بعدالموت پر استدلال کرنے کے لیے نہیں کیا گیا ہے، جیسا کہ قرآن میں بالعموم ہوتا ہے، بلکہ اس سلسلۂ کلام میں یہ بات ایک اور ہی مقصد کے لیے فرمائی گئی ہے۔ اس میں دراصل ایک لطیف اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ جس طرح ایک بنجر پڑی ہوئی زمین کو دیکھ کر آدمی یہ گمان نہیں کرسکتا کہ یہ بھی کبھی لہلہاتی کشت زار بن جائے گی، مگر خدا کی بھیجی ہوئی برسات کا ایک ہی ریلا اس کا رنگ بدل دیتا ہے، اسی طرح یہ دعوت اسلام بھی اس وقت تم کو ایک نہ چلنے والی چیز نظر آتی ہے، لیکن خدا کی قدرت کا ایک ہی کرشمہ اس کو وہ فروغ دے گا کہ تم دنگ رہ جاؤ گے۔
Ayah 32:28سورة السَّجْدَة 41
یعنی تم جو کہتے ہو کہ آخر کار اللہ کی مدد آئے گی اور ہمیں جھٹلانے والوں پر اس کا غضب ٹوٹ پڑے گا، تو بتاؤ وہ وقت کب آئے گا ؟ کب ہمارا تمہارا فیصلہ ہوگا ؟
Ayahs 32:29–30سورة السَّجْدَة 42
یعنی یہ کونسی ایسی چیز ہے جس کے لیے تم بےچین ہوتے ہو۔ خدا کا عذاب آگیا تو پھر سنبھلنے کا موقع تم کو نصیب نہ ہوگا۔ اس مہلت کو غنیمت جانو جو عذاب آنے سے پہلے تم کو ملی ہوئی ہے۔ عذاب سامنے دیکھ کر ایمان لاؤ گے تو کچھ حاصل نہ ہوگا۔