Ayahs 31:1–2سورة لُقْمٰن 1
یعنی ایسی کتاب کی آیات جو حکمت سے لبریز ہے، جس کی ہر بات حکیمانہ ہے۔
Ayah 31:3سورة لُقْمٰن 2
یعنی یہ آیات راہ راست کی طرف رہنمائی کرنے والی ہیں اور خدا کی طرف سے رحمت بن کر آئی ہیں، مگر اس رحمت اور ہدایت سے فائدہ اٹھانے والے صرف وہی لوگ ہیں جو حسن عمل کا طریقہ اختیار کرتے ہیں، جو نیک بننا چاہتے ہیں، جنہیں بھلائی کی جستجو ہے، جن کی صفت یہ ہے کہ برائیوں پر جب انہیں متنبہ کردیا جائے تو ان سے رک جاتے ہیں اور خیر کی راہیں جب ان کے سامنے کھول کر رکھ دی جائیں تو ان پر چلنے لگتے ہیں۔ رہے بدکار اور شرپسند لوگ تو وہ نہ اس رہنمائی سے فائدہ اٹھائیں گے نہ اس رحمت میں سے حصہ پائیں گے۔
Ayah 31:4سورة لُقْمٰن 3
یہ مراد نہیں ہے کہ جن لوگوں کو " نیکو کار " کہا گیا ہے وہ بس ان ہی تین صفات کے حامل ہوتے ہیں۔ دراصل پہلے " نیکو کار " کا عام لفظ استعمال کر کے اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا کہ وہ ان تمام برائیوں سے رکنے والے ہیں جن سے یہ کتاب روکتی ہے، اور ان سارے نیک کاموں پر عمل کرنے والے ہیں جن کا یہ کتاب حکم دیتی ہے۔ پھر ان " نیکو کار " لوگوں کی تین اہم صفات کا خاص طور پر ذکر کیا گیا جس سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ باقی ساری نیکیوں کا دارومدار ان ہی تین چیزوں پر ہے۔ وہ نماز قائم کرتے ہیں، جس سے خدا پرستی و خدا ترسی ان کی مستقل عادت بن جاتی ہے۔ وہ زکوٰۃ دیتے ہیں، جس سے ایثار و قربانی کا جذبہ ان کے اندر مستحکم ہوتا ہے، متاع دنیا کی محبت دبتی ہے رضائے اِلٰہی کی طلب ابھرتی ہے۔ اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں، جس سے ان کے اندر ذمہ داری و جواب دہی کا احساس ابھرتا ہے، جس کی بدولت وہ اس جانور کی طرح نہیں رہتے جو چراگاہ میں چھوٹا پھر رہا ہو، بلکہ اس انسان کی طرح ہوجاتے ہیں جسے یہ شعور حاصل ہو کہ میں خود مختار نہیں ہوں، کسی آقا کا بندہ ہوں اور اپنی ساری کار گزاریوں پر اپنے آقا کے سامنے جواب دہی کرنی ہے۔ ان تینوں خصوصیات کی وجہ یہ " نیکوکار " اس طرح کے نیکو کار نہیں رہتے جن سے اتفاقاً نیکی سرزد ہوجاتی ہے اور بدی بھی اسی شان سے سرزد ہو سکتی ہے جس شان سے نیکی سرزد ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس یہ خصوصیات ان کے نفس میں ایک مستقل نظام فکر و اخلاق پیدا کردیتی ہیں جس کے باعث ان سے نیکی کا صدور باقاعدہ ایک ضابطہ کے مطابق ہوتا ہے اور بدی اگر سرزد ہوتی بھی ہے تو محض ایک حادثہ کے طور پر ہوتی ہے۔ کوئی گہرے محرکات ایسے نہیں ہوتے جو ان کے نظام فکر و اخلاق سے ابھرتے اور ان کو اپنے اقتضائے طبع سے بدی کی راہ پر لے جاتے ہوں۔
Ayah 31:5سورة لُقْمٰن 4
جس زمانے میں یہ آیات نازل ہوئی ہیں اس وقت کفّار مکہ یہ سمجھتے تھے اور علانیہ کہتے بھی تھے کہ محمد ﷺ اور ان کی دعوت کو قبول کرنے والے لوگ اپنی زندگی برباد کر رہے ہیں۔ اس لئے حصر کے ساتھ اور پورے زور کے ساتھ فرمایا گیا کہ " یہی فلاح پانے والے ہیں " یعنی یہ برباد ہونے والے نہیں ہیں جیسا کہ تم اپنے خیال خام میں سمجھ رہے ہو بلکہ دراصل فلاح یہی لوگ پانے والے ہیں اور اس سے محروم رہنے والے وہ ہیں جنھوں نے اس راہ کو اختیار کرنے سے انکار کیا ہے۔
یہاں قرآن کے حقیقی مفہوم کو سمجھنے میں وہ شخص سخت غلطی کرے گا جو فلاح کو صرف اس دنیا کی حد تک اور وہ بھی صرف مادی خوشحالی کے معنی میں لے گا۔ فلاح کا قرآنی تصور معلوم کرنے کے لئے حسب ذیل آیات کو تفہیم القرآن کے تشریحی حواشی کے ساتھ بغور دیکھنا چاہیے البقرہ، آیات 2 تا 5۔ آل عمران، آیات 102، 130، 200۔ المائدہ، آیات 35، 90 الانعام، 21۔ الاعراف، آیات 7، 8، 157۔ التوبہ، 88۔ یونس، 17۔ النحل، 116۔ الحج، 77۔ المومنون، 1۔ 117۔ النور، 51۔ الروم، 38۔
Ayah 31:6سورة لُقْمٰن 5
یعنی ایک طرف تو خدا کی طرف سے یہ رحمت اور ہدایت آئی ہوئی ہے جس سے کچھ لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ دوسری طرف انہی خوش نصیب انسانوں کے پہلو بہ پہلو ایسے بدنصیب لوگ بھی موجود ہیں جو اللہ کی آیات کے مقابلہ میں یہ طرز عمل اختیار کر رہے ہیں۔
سورة لُقْمٰن 6
اصل لفظ ہیں " لَھُوَ الْحَدِیث " یعنی ایسی بات جو آدمی کو اپنے اندر مشغول کر کے ہر دوسری چیز سے غافل کر دے۔ لغت کے اعتبار سے تو ان الفاظ میں کوئی ذم کا پہلو نہیں ہے۔ لیکن استعمال میں ان کا اطلاق بری اور فضول اور بےہودہ باتوں پر ہی ہوتا ہے، مثلاً گپ، خرافات، ہنسی مذاق، داستانیں، افسانے اور ناول، گانا بجانا، اور اسی طرح کی دوسری چیزیں۔
لہو الحدیث " خریدنے " کا مطلب یہ بھی لیا جاسکتا ہے کہ وہ حدیث حق کو چھوڑ کر حدیث باطل کو اختیار کرتا ہے اور ہدایت سے منہ موڑ کر ان باتوں کی طرف راغب ہوتا ہے جن میں اس کے لئے نہ دنیا میں کوئی بھلائی ہے نہ آخرت میں۔ لیکن یہ مجازی معنی ہیں۔ حقیقی معنی اس فقرے کے یہی ہیں کہ آدمی اپنا مال صرف کر کے کوئی بیہودہ چیز خریدے۔ اور بکثرت روایات بھی اسی تفسیر کی تائید کرتی ہیں۔ ابن ہشام نے محمد بن اسحاق کی روایت نقل کی ہے کہ جب نبی ﷺ کی دعوت کفار مکہ کی ساری کوششوں کے باوجود پھیلتی چلی جا رہی تھی تو نَضَر بن حارث نے قریش کے لوگوں سے کہا کہ جس طرح تم اس شخص کا مقابلہ کر رہے ہو اس سے کام نہ چلے گا۔ یہ شخص تمہارے درمیان بچپن سے ادھیڑ عمر کو پہنچا ہے۔ آج تک وہ اپنے اخلاق میں تمہارا سب سے بہتر آدمی تھا۔ سب سے زیادہ سچا اور سب سے بڑھ کر امانت دار تھا۔ اب تم کہتے ہو کہ وہ کاہن ہے، ساحر ہے، شاعر ہے، مجنوں ہے۔ آخر ان باتوں کو کون باور کرے گا۔ کیا لوگ ساحروں کو نہیں جانتے کہ وہ کس قسم کی جھاڑ پھونک کرتے ہیں ؟ کیا لوگوں کو معلوم نہیں کہ کاہن کس قسم کی باتیں بنایا کرتے ہیں ؟ کیا لوگ شعر و شاعری سے ناواقف ہیں ؟ کیا لوگوں کو جنون کی کیفیات کا علم نہیں ہے ؟ ان الزامات میں سے کونسا الزام محمد ﷺ پر چسپاں ہوتا ہے کہ اس کا یقین دلا کر تم عوام کو اس کی طرف توجہ کرنے سے روک سکو گے۔ ٹھہرو، اس کا علاج میں کرتا ہوں۔ اس کے بعد وہ مکہ سے عراق گیا اور وہاں سے شاہان عجم کے قصے اور رستم و اسفندیار کی داستانیں لا کر اس نے قصہ گوئی کی محفلیں برپا کرنا شروع کردیں تاکہ لوگوں کی توجہ قرآن سے ہٹے اور ان کہانیوں میں کھو جائیں (سیرۃ ابن ہشام، ج 1، ص 320۔ 321) یہی روایات اسباب النزول میں واحدی نے کَلْبی اور مقاتل سے نقل کی ہے۔ اور ابن عباس ؓ نے اس پر مزید اضافہ کیا ہے کہ نَضْر نے اس مقصد کے لئے گانے والی لونڈیاں بھی خریدی تھیں۔ جس کسی کے متعلق وہ سنتا کہ نبی ﷺ کی باتوں سے متاثر ہو رہا ہے اس پر اپنی لونڈی مسلط کردیتا اور اس سے کہتا کہ اسے خوب کھلا پلا اور گانا سنا تاکہ تیرے ساتھ مشغول ہو کر اس کا دل ادھر سے ہٹ جائے۔ یہ قریب قریب وہی چال تھی جس سے قوموں کے اکابر مجرمین ہر زمانے میں کام لیتے رہے ہیں۔ وہ عوام کو کھیل تماشوں اور رقص و سرود (کلچر) میں غرق کردینے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ انہیں زندگی کے سنجیدہ مسائل کی طرف توجہ کرنے کا ہوش ہی نہ رہے اور اس عالم مستی میں ان کو سرے سے یہ محسوس ہی نہ ہونے پائے کہ انہیں کس تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
لہوالحدیث کی یہی تفسیر بکثرت صحابہ وتابعین سے منقول ہے۔ عبداللہ بن مسعود ؓ سے پوچھا گیا کہ اس آیت میں لہوالحدیث سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے تین مرتبہ زور دے کر فرمایا ھو واللہ الغناء، " خدا کی قسم اس سے مراد گانا ہے "۔ (ابن جریر) ابن ابی شیبہ، حاکم بیہقی)۔ اسی سے ملتے جلتے اقوال حضرت عبداللہ بن عباس، جابر بن عبداللہ، مجاہد، عِکرمہ، سعید بن جبیر، حسن بصری اور مَکُحول ؓ سے مروی ہیں۔ ابن ابی جریر، ابن ابی حاتم اور ترمذی نے حضرت ابو امامہ باہلی کی یہ روایت نقل کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا لا یحل بیع المغنیات ولا شراؤھن ولا التجارۃ فیھن ولا اثمانھن " مغنیہ عورتوں کا بیچنا اور خریدنا اور ان کی تجارت کرنا حلال نہیں ہے اور نہ ان کی قیمت لینا حلال ہے۔ " ایک دوسری روایت میں آخری فقرے کے الفاظ یہ ہیں اکل ثمنھن حرام۔ " ان کی قیمت کھانا حرام ہے "۔ ایک اور روایت انہی ابو امامہ سے ان الفاظ میں منقول ہے کہ لا یحل تعلیم المغنیات ولا بیعھن ولا شراؤھن و ثمنھن حرام۔ " لونڈیوں کو گانے بجانے کی تعلیم دینا اور ان کی خریدو فروخت کرنا حلال نہیں ہے، اور ان کی قیمت حرام ہے۔ " ان تینوں حدیثوں میں یہ صراحت بھی ہے کہ آیت مَنْ یَّشْتَرِیْ لَھْوَ الْحَدِیثِ۔ ان ہی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ قاضی ابوبکر ابن العربی " احکام القرآن " میں حضرت عبداللہ بن مبارک اور امام مالک کے حوالہ سے حضرت انس ؓ کی روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا من جلس الیٰ قینۃ یسمع منھا صُبّ فی اذنیہ الاٰنُک یَوم القیٰمۃ۔ جو شخص گانے والی مجلس میں بیٹھ کر اس کا گانا سنے گا قیامت کے روز اس کے کان میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جائے گا۔ " (اس سلسلے میں یہ بات بھی جان لینی چاہیے کہ اس زمانے میں بجانے کی " ثقافت " تمام تر، بلکہ کلیۃً لونڈیوں کی بدولت زندہ تھی۔ آزاد عورتیں اس وقت تک " آرٹسٹ " نہ بنی تھیں۔ اسی لئے حضور ﷺ نے مغنیات کی بیع و شرا کا ذکر فرمایا اور ان کی فیس کو قیمت کے لفظ سے تعبیر کیا اور گانے والی خاتون کے لئے قَینَہ کا لفظ استعمال کیا جو عربی زبان میں لونڈی کے لئے بولا جاتا ہے)۔
سورة لُقْمٰن 7
" علم کے بغیر " کا تعلق " خریدتا ہے " کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے اور " بھٹکادے " کے ساتھ بھی۔ اگر اس کا تعلق پہلے فقرے سے مانا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ وہ جاہل اور نادان آدمی اس دلفریب چیز کو خریدتا ہے اور کچھ نہیں جانتا کہ کیسی قیمتی چیز کو چھوڑ کر وہ کس تباہ کن چیز کو خرید رہا ہے۔ ایک طرف حکمت اور ہدایت سے لبریز آیات الٰہی ہیں جو مفت اسے مل رہی ہیں مگر وہ ان سے منہ موڑ رہا ہے۔ دوسری طرف یہ بیہودہ چیزیں ہیں جو فکر و اخلاق کو غارت کردینے والی ہیں اور وہ اپنا مال خرچ کر کے انہیں حاصل کر رہا ہے۔ اور اگر اسے دوسرے فقرے سے متعلق سمجھا جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ علم کے بغیر لوگوں کی رہنمائی کرنے اٹھا ہے، اسے یہ شعور نہیں ہے کہ خلق خدا کو راہ خدا سے بھٹکانے کی کوشش کر کے وہ کتنا بڑا مظلمہ اپنی گردن پر لے رہا ہے۔
سورة لُقْمٰن 8
یعنی یہ شخص لوگوں کو قصے کہانیوں اور گانے بجانے میں مشغول کر کے اللہ کی آیات کا منہ چڑانا چاہتا ہے۔ اس کی کوشش یہ ہے کہ قرآن کی اس دعوت کو ہنسی ٹھٹھوں میں اڑا دیا جائے۔ یہ خدا کے دین سے لڑنے کے لیے کچھ اس طرح کا نقشۂ جنگ جمانا چاہتا ہے کہ ادھر محمد ﷺ خدا کی آیات سنانے نکلیں، ادھر کہیں کسی خوش اندام و خوش گل مغنیہ کا مجرا ہو رہا ہو، کہیں کوئی چرب زبان قصہ گو ایران توران کی کہانیاں سنا رہا ہو، اور لوگ ان ثقافتی سرگرمیوں میں غرق ہو کر اس موڈ ہی میں نہ رہیں کہ خدا اور آخرت اور اخلاق کی باتیں انہیں سنائی جاسکیں۔
سورة لُقْمٰن 9
یہ سزا ان کے جرم کی مناسبت سے ہے۔ وہ خدا کے دین اور اس کی آیات اور اس کے رسول کی تذلیل کرنا چاہتے ہیں۔ خدا اس کے بدلے میں ان کو سخت ذلت کا عذاب دے گا۔
Ayahs 31:7–8سورة لُقْمٰن 10
یہ نہیں فرمایا کہ ان کے لئے جنت کی نعمتیں ہیں، بلکہ فرمایا یہ ہے کہ ان کے لئے نعمت بھری جنتیں ہیں۔ اگر پہلی بات فرمائی جاتی تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ وہ ان نعمتوں سے لطف اندوز تو ضرور ہوں گے مگر وہ جنتیں ان کی اپنی نہ ہوں گی۔ اس کے بجائے جب یہ فرمایا گیا کہ " ان کے لئے نعمت بھری جنتیں ہیں، " تو اس سے خود بہ خود یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پوری پوری جنتیں ان کے حوالہ کردی جائیں گی اور وہ ان نعمتوں سے اس طرح مستفید ہوں گے جس طرح ایک مالک اپنی چیز سے مستفید ہوتا ہے، نہ کہ اس طرح جیسے کسی کو حقوق ملکیت دیے بغیر محض ایک چیز سے فائدہ اٹھانے کا موقع دے دیا جائے۔
Ayah 31:9سورة لُقْمٰن 11
یعنی کوئی چیز اس کو اپنا وعدہ پورا کرنے سے باز نہیں رکھ سکتی، اور وہ جو کچھ کرتا ہے ٹھیک ٹھیک حکمت اور عدل کے تقاضوں کے مطابق کرتا ہے " یہ اللہ کا پختہ وعدہ ہے " کہنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی ان دو صفات کو بیان کرنے کا مقصود یہ بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ تو بالارادہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی کرتا ہے اور نہ اس کائنات میں کوئی طاقت ایسی ہے جو اس کا وعدہ پورا ہونے میں مانع ہو سکتی ہو، اس لئے اس امر کا کوئی خطرہ نہیں ہوسکتا کہ ایمان و عمل صالح کے انعام میں جو کچھ اللہ نے دینے کا وعدہ فرمایا ہے وہ کسی کو نہ ملے۔ نیز یہ کہ اللہ کی طرف سے اس انعام کا اعلان سراسر اس کی حکمت اور اس کے عدل پر مبنی ہے۔ اس کے ہاں کوئی غلط بخشی نہیں ہے کہ مستحق کو محروم رکھا جائے اور غیر مستحق کو نواز دیا جائے۔ ایمان و عمل صالح سے متصف لوگ فی الواقع اس انعام کے مستحق ہیں اور اللہ یہ انعام انہی کو عطا فرمائے گا۔
Ayah 31:10سورة لُقْمٰن 12
اوپر کے تمہیدی فقروں کے بعد اب اصل مدعا، یعنی تردید شرک اور دعوت توحید پر کلام شروع ہوتا ہے۔
سورة لُقْمٰن 13
اصل الفاظ ہیں بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَھَا۔ اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ " تم خود دیکھ رہے ہو کہ وہ بغیر ستونوں کے قائم ہیں۔ " دوسرا مطلب یہ کہ " وہ ایسے ستونوں پر قائم ہیں جو تم کو نظر نہیں آتے "۔ ابن عباس ؓ اور مجاہد نے دوسرا مطلب لیا ہے، اور بہت سے دوسرے مفسرین پہلا مطلب لیتے ہیں۔ موجودہ زمانے کے علوم طبیعی کے لحاظ سے اگر اس کا مفہوم بیان کیا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ تمام عالم افلاک میں یہ بےحد و حساب عظیم الشان تارے اور سیارے اپنے اپنے مقام و مدار پر غیر مرئی سہاروں سے قائم کئے گئے ہیں۔ کوئی تار نہیں ہیں جنھوں نے ان کو ایک دوسرے سے باندھ رکھا ہو۔ کوئی سلاخیں نہیں ہیں جو ان کو ایک دوسرے پر گر جانے سے روک رہی ہوں۔ صرف قانون جذب و کشش ہے جو اس نظام کو تھامے ہوئے ہے۔ یہ تعبیر ہمارے آج کے علم کے لحاظ سے ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کل ہمارے علم میں کچھ اور اضافہ ہو اور اس سے زیادہ لگتی ہوئی کوئی دوسری تعبیر اس حقیقت کی کی جاسکے۔
سورة لُقْمٰن 14
تشریح کے لئے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد 2، صفحہ 530، 12۔
Ayah 31:11سورة لُقْمٰن 15
یعنی ان ہستیوں نے جن کو تم اپنا معبود بنائے بیٹھے ہو، جنہیں تم اپنی قسمتوں کا بنانے اور بگاڑنے والا سمجھ رہے ہو، جن کی بندگی بجا لانے پر تمہیں اتنا اصرار ہے۔
Ayah 31:12سورة لُقْمٰن 17
شرک کی تردید میں ایک پر زور عقلی دلیل پیش کرنے کے بعد اب عرب کے لوگوں کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ معقول بات آج کوئی پہلی مرتبہ تمہارے سامنے پیش نہیں کی جا رہی ہے بلکہ پہلے بھی عاقل و دانا لوگ یہی بات کہتے رہے ہیں اور تمہارا اپنا مشہور حکیم، لقمان اب سے بہت پہلے یہی کچھ کہہ گیا ہے۔ اس لئے تم محمد ﷺ کی اس دعوت کے جواب میں یہ نہیں کہہ سکتے کہ اگر شرک کوئی نامعقول عقیدہ ہے تو پہلے کسی کو یہ بات کیوں نہیں سوجھی۔
لقمان کی شخصیت عرب میں ایک حکیم و دانا کی حیثیت سے بہت مشہور تھی۔ شعرائے جاہلیت، مثلاً امراؤ القیس، لَبِید، اَعْشیٰ ، طَرَفہ وغیرہ کے کلام میں ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ اہل عرب میں بعض پڑھے لکھے لوگوں کے پاس صحیفۂ لقمان کے نام سے ان کے حکیمانہ اقوال کا ایک مجموعہ بھی موجود تھا۔ چناچہ روایات میں آیا ہے کہ ہجرت سے تین سال پہلے مدینے کا اولین شخص جو نبی ﷺ سے متاثر ہوا وہ سُوَید بن صامت تھا۔ وہ حج کے لئے مکہ گیا۔ وہاں حضور ﷺ اپنے قاعدے کے مطابق مختلف علاقوں سے آئے ہوئے حاجیوں کی قیام گاہ جا جا کر دعوت اسلام دیتے پھر رہے تھے۔ اس سلسلہ میں سوید نے جب نبی ﷺ کی تقریر سنی تو اس نے آپ سے عرض کیا کہ آپ جو باتیں پیش کر رہے ہیں ایسی ہی ایک چیز میرے پاس بھی ہے۔ آپ نے پوچھا وہ کیا ہے ؟ اس نے کہا مجلّۂ لقمان۔ پھر آپ ﷺ کی فرمائش پر اس نے اس مجلّہ کا کچھ حصہ آپ ﷺ کو سنایا۔ یہ بہت اچھا کلام ہے، مگر میرے پاس ایک اور کلام اس سے بھی بہتر ہے۔ اس کے بعد آپ نے اسے قرآن سنایا اور اس نے اعتراف کیا کہ یہ بلا شبہ مجلّہ لقمان سے بہتر ہے (سیر ۃ ابن ہشام، ج 2، ص 67۔ 69۔ اُسُد الغابہ، ج 2، صفحہ 378) مؤرخین کا بیان ہے کہ یہ شخص (سُوَید بن صامت) مدینہ میں اپنی لیاقت، بہادری، شعر و سخن اور شرف کی بنا پر " کامل " کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔ لیکن نبی ﷺ سے ملاقات کے بعد جب وہ مدینہ واپس ہوا تو کچھ مدت بعد جنگ بعاث پیش آئی اور یہ اس میں مارا گیا۔ اس کے قبیلے کے لوگوں کا عام خیال یہ تھا کہ حضور ﷺ سے ملاقات کے بعد وہ مسلمان ہوگیا تھا۔
تاریخی اعتبار سے لقمان کی شخصیت کے بارے میں بڑے اختلافات ہیں۔ جاہلیت کی تاریک صدیوں میں کئی مدَوَّن تاریخ تو موجود نہ تھی۔ معلومات کا انحصار ان سینہ بسینہ روایات پر تھا جو سینکڑوں برس سے چلی آ رہی تھیں۔ ان روایات کی رو سے بعض لوگ لقمان کو قوم عاد کا ایک فرد اور یمن کا ایک بادشاہ قرار دیتے تھے۔ مولانا سید سلیمان ندوی نے انہی روایات پر اعتماد کر کے ارض القرآن میں یہ رائے ظاہر کی ہے کہ قوم عاد پر خدا کا عذاب آنے کے بعد اس قوم کے جو اہل ایمان حضرت ہود ؑ کے ساتھ بچ رہے تھے، لقمان انہی نسل سے تھا اور یمن میں اس قوم نے جو حکومت قائم کی تھی، یہ اس کے بادشاہوں میں سے ایک تھا۔ لیکن دوسری روایات جو بعض اکابر صحابہ وتابعین سے مروی ہیں اس کے بالکل خلاف ہیں۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ لقمان ایک حبشی غلام تھا۔ یہی قول حضرت ابوہریرہ، مُجاہِد، عکْرِمَہ اور خالد الربعی کا ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری کا بیان ہے کہ وہ نوبہ کا رہنے والا تھا۔ سعید بن مُسَیِّب کا قول ہے کہ وہ مصر کے سیاہ رنگ لوگوں میں سے تھا۔ یہ تینوں اقوال قریب قریب متشابہ ہیں۔ کیونکہ عرب کے لوگ سیاہ رنگ لوگوں کو اس زمانہ میں عموماً حبشی کہتے تھے، اور نوبہ اس علاقہ کا نام ہے جو مصر کے جنوب اور سوڈان کے شمال میں واقع ہے۔ اس لیے تینوں اقوال میں ایک شخص کو مصری، نُوبی اور حبشی قرار دینا محض لفظی اختلاف ہے معنی میں کوئی فرق نہیں ہے، پھر روض الانف میں سُہَیلی اور مُرُوج الذَّہَب میں مسعودی کے بیانات سے اس سوال پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ اس سوڈانی غلام کی باتیں عرب میں کیسے پھیلیں۔ ان دونوں کا بیان ہے کہ یہ شخص اصلاً تو نوبی تھا، لیکن باشندہ مَدْیَن اور ایلہ (موجودہ عَقَبہ) کے علاقے کا تھا۔ اسی وجہ سے اسکی زبان عربی تھی اور اس کی حکمت عرب میں شائع ہوئی۔ مزید براں سُہَیلی نے یہ بھی تصریح کی ہے کہ لقمان حکیم اور لقمان بن عاد دو الگ الگ اشخاص ہیں۔ ان کو ایک شخصیت قرار دینا صحیح نہیں ہے (روض الانف، ج 1، ص 266۔ مسعودی، ج 1۔ ص 57)۔
یہاں اس بات کی تصریح بھی ضروری ہے کہ مستشرق دیر نبورگ (Derenbours) نے پیرس کے کتب خانہ کا ایک عربی مخطوطہ جو " امثال لقمان الحکیم " (Fables DeLoqman LeSage) کے نام سے شائع کیا ہے وہ حقیقت میں ایک موضوع چیز ہے جس کا مجلّٔہ لقمان سے کوئی دور کا واسطہ بھی نہیں ہے۔ یہ امثال تیرھویں صدی عیسوی میں کسی شخص نے مرتب کی تھیں۔ اس کی عربی بہت ناقص ہے اور اسے پڑھنے سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ دراصل کسی اور زبان کی کتاب کا ترجمہ ہے جسے مصنف یا مترجم نے اپنی طرف سے لقمان حکیم کی طرف منسوب کردیا ہے۔ مستشرقین اس قسم کی جعلی چیزیں نکال نکال کر جس مقصد کے لیے سامنے لاتے ہیں وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ کسی طرح قرآن کے بیان کردہ قصوں کو غیر تاریخی افسانے ثابت کر کے ساقط الاعتبار ٹھہرا دیا جائے۔ جو شخص بھی انسائیکلوپیڈیا آف اسلام میں " لقمان " کے عنوان پر ہیلر (B. Heller) کا مضمون پڑھے گا اس سے ان لوگوں کی نیت کا حال مخفی نہ رہے گا۔
سورة لُقْمٰن 18
یعنی اللہ کی بخشی ہوئی اس حکمت و دانائی اور بصیرت و فرزانگی کا اولین تقاضا یہ تھا کہ انسان اپنے رب کے مقابلے میں شکر گزاری و احسان مندی کا رویہ اختیار کرے نہ کہ کفران نعمت اور نمک حرامی کا۔ اور اس کا یہ شکر محض زبانی جمع خرچ ہی نہ ہو بلکہ فکر اور قول اور عمل، تینوں صورتوں میں ہو۔ وہ اپنے قلب و ذہن کی گہرائیوں میں اس بات کا یقین و شعور بھی رکھتا ہو کہ مجھے جو کچھ نصیب ہے خدا کا دیا ہوا ہے۔ اس کی زبان اپنے خدا کے احسانات کا ہمیشہ اعتراف بھی کرتی رہے۔ اور وہ عملاً بھی خدا کی فرماں برداری کر کے، اس کی معصیت سے پرہیز کر کے، اس رضا کی طلب میں دوڑ دھوپ کر کے، اس کے دیے ہوئے انعامات کو اس کے بندوں تک پہنچا کر، اور اس کے خلاف بغاوت کرنے والوں سے مجاہدہ کر کے یہ ثابت کر دے کہ وہ فی الواقع اپنے خدا کا احسان مند ہے۔
سورة لُقْمٰن 19
یعنی جو شخص کفر کرتا ہے اس کا کفر اس کے اپنے لیے نقصان دہ ہے، اللہ تعالیٰ کا اس سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ وہ بےنیاز ہے، کسی کے شکر کا محتاج نہیں ہے۔ کسی کا شکر اس کی خدائی میں کوئی اضافہ نہیں کردیتا، نہ کسی کا کفر اس امر واقعہ کو بدل سکتا ہے کہ بندوں کو جو نعمت بھی نصیب ہے اسی کی عطا کردہ ہے۔ وہ تو آپ سے آپ محمود ہے خواہ کوئی اس کی حمد کرے یا نہ کرے۔ کائنات کا ذرہ ذرہ اس کے کمال و جمال اور اس کی خلاقی و رزاقی پر شہادت دے رہا ہے اور ہر مخلوق زبان حال سے اس کی حمد بجا لا رہی ہے۔
Ayah 31:13سورة لُقْمٰن 20
لقمان کی حکیمانہ باتوں میں سے اس خاص نصیحت کو دو مناسبتوں کی بنا پر یہاں نقل کیا گیا ہے۔ اول یہ کہ انہوں نے یہ نصیحت اپنے بیٹے کو کی تھی اور ظاہر بات ہے کہ آدمی دنیا میں سب سے بڑھ کر اگر کسی کے حق میں مخلص ہوسکتا ہے تو وہ اس کی اپنی اولاد ہی ہے۔ ایک شخص دوسروں کو دھوکا دے سکتا ہے، ان سے منافقانہ باتیں کرسکتا ہے، لیکن اپنی اولاد کو تو ایک برے سے برا آدمی بھی فریب دینے کی کوشش کبھی نہیں کرسکتا۔ اس لیے لقمان کا اپنے بیٹے کو یہ نصیحت کرنا اس بات کی صریح دلیل ہے کہ ان کے نزدیک شرک فی الواقع ایک بد ترین فعل تھا اور اسی بنا پر انہوں نے سب سے پہلی جس چیز کی اپنے لخت جگر کو تلقین کی وہ یہ تھی کہ اس گمراہی سے اجتناب کرے۔ دوسری مناسبت اس حکایت کی یہ ہے کہ کفار مکہ میں سے بہت سے ماں باپ اس وقت اپنی اولاد کو دین شرک پر قائم رہنے اور محمد ﷺ کی دعوت توحید سے منہ موڑ لینے پر مجبور کر رہے تھے، جیسا کہ آگے کی آیات بتارہی ہیں۔ اس لئے ان نادانوں کو سنایا جا رہا ہے کہ تمہاری سرزمین کے مشہور حکیم نے تو اپنی اولاد کی خیر خواہی کا حق یوں ادا کیا تھا کہ اسے شرک سے پرہیز کرنے کی نصیحت کی۔ اب تم جو اپنی اولاد کو اسی شرک پر مجبور کر رہے ہو تو یہ ان کے ساتھ بد خواہی ہے یا خیر خواہی ؟
سورة لُقْمٰن 21
ظلم کے اصل معنی ہیں کسی کا حق مارنا اور انصاف کے خلاف کام کرنا۔ شرک اس وجہ سے ظلم عظیم ہے کہ آدمی ان ہستیوں کو اپنے خالق اور رازق اور منعم کے برابر لا کھڑا کرتا ہے جن کا نہ اس کے پیدا کرنے میں کوئی حصہ، نہ اس کو رزق پہنچانے میں کوئی دخل، اور نہ ان نعمتوں کے عطا کرنے میں کوئی شرکت جن سے آدمی اس دنیا میں متمتع ہو رہا ہے۔ یہ ایسی بےانصافی ہے جس سے بڑھ کر کسی بےانصافی کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ پھر آدمی پر اس کے خالق کا حق ہے کہ وہ صرف اسی کی بندگی و پرستش کرے، مگر وہ دوسروں کی بندگی بجا لا کر اس کا حق مارتا ہے۔ پھر اس بندگی غیر کے سلسلے میں آدمی جو عمل بھی کرتا ہے اس میں وہ اپنے ذہن و جسم سے لے کر زمین و آسمان تک کی بہت سی چیزوں کو استعمال کرتا ہے، حالانکہ یہ ساری چیزیں اللہ وحدہ لا شریک کی پیدا کردہ ہیں اور ان میں سے کسی چیز کو بھی اللہ کے سوا کسی دوسرے کی بندگی میں استعمال کرنے کا اسے حق نہیں ہے۔ پھر آدمی پر خود اس کے اپنے نفس کا یہ حق ہے کہ وہ اسے ذلت اور عذاب میں مبتلا نہ کرے۔ مگر وہ خالق کو چھوڑ کر مخلوق کی بندگی کر کے اپنے آپ کو ذلیل بھی کرتا ہے اور مستحق عذاب بھی بناتا ہے۔ اس طرح مشرک کی پوری زندگی ایک ہر جہتی اور ہمہ وقتی ظلم بن جاتی ہے جس کا کوئی سانس بھی ظلم سے خالی نہیں رہتا۔
Ayah 31:14سورة لُقْمٰن 22
یہاں سے پیراگراف کے آخر تک کی پوری عبارت ایک جملۂ معترضہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے لقمان کے قول کی تشریح مزید کے لیے ارشاد فرمایا ہے۔
سورة لُقْمٰن 23
ان الفاظ سے امام شافعی، امام احمد، امام ابو یوسف اور امام محمد نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ بچے کی مدت رضاعت دو سال ہے۔ اس مدت کے اندر اگر کسی بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہو تب تو حرمت رضاعت ثابت ہوگی، ورنہ بعد کی کسی رضاعت کا کوئی لحاظ نہ کیا جائے گا۔ امام مالک سے بھی ایک روایت اسی قول کے حق میں ہے لیکن امام ابوحنیفہ نے مزید احتیاط کی خاطر ڈھائی سال کی مدت تجویز کی ہے، اور اس کے ساتھ ہی امام صاحب یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر دو سال یا اس سے کم مدت میں بچے کا دودھ چھڑا دیا گیا ہو اور اپنی غذا کے لیے بچہ دودھ کا محتاج نہ رہا ہو تو اس کے بعد کسی عورت کا دودھ پی لینے سے کوئی حرمت ثابت نہ ہوگی۔ البتہ اگر بچے کی اصل غذا دودھ ہی ہو تو دوسری غذا تھوڑی بہت کھانے کے باوجود اس زمانے کی رضاعت سے حرمت ثابت ہوجائے گی۔ اس لیے کہ آیت کا منشا یہ نہیں ہے کہ بچے کو لازماً دو سال ہی دودھ پلایا جائے۔ سورة بقرہ میں ارشاد ہوا ہے والْوَالِدَاتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَۃَ " مائیں بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں اس شخص کے لئے جو رضاعت پوری کرانا چاہتا ہو " (آیت 233)۔
ابن عباس ؓ نے ان الفاظ سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے اور اہل علم نے اس پر ان سے اتفاق کیا ہے کہ حمل کی قلیل ترین مدت چھ ماہ ہے، اس لیے کہ قرآن میں ایک دوسری جگہ فرمایا ہے وَحَمْلُہ وَفِصٰلُہ ثَلٰثُوْنَ شَھْرًا " اس کا پیٹ میں رہنا اور اس کا دودھ چھوٹنا 30 مہینوں میں ہوا۔ " (الاحقاف، آیت 15)۔ یہ ایک اہم قانونی نکتہ ہے جو جائز اور ناجائز ولادت کی بہت سی بحثوں کا فیصلہ کردیتا ہے۔
Ayah 31:15سورة لُقْمٰن 24
یعنی جو تیرے علم میں میرا شریک نہیں ہے۔
سورة لُقْمٰن 25
یعنی اولاد اور والدین، سب کو۔
سورة لُقْمٰن 26
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، سورة عنکبوت، حواشی نمبر 11۔ 12۔
Ayah 31:16سورة لُقْمٰن 27
لقمان کے دوسرے نصائح کا ذکر یہاں یہ بتانے کے لیے کیا جا رہا ہے کہ عقائد کی طرح اخلاق کے متعلق بھی جو تعلیمات نبی ﷺ پیش کر رہے ہیں وہ بھی عرب میں کوئی انوکھی باتیں نہیں ہیں۔
سورة لُقْمٰن 28
یعنی اللہ کے علم سے اور اس کی گرفت سے کوئی چیز بچ نہیں سکتی۔ چٹان کے اندر ایک دانہ تمہارے لیے مخفی ہوسکتا ہے، مگر اس کے لیے عیاں ہے۔ آسمانوں میں کوئی ذرہ تم سے بعید ترین ہوسکتا ہے، مگر اللہ کے لیے وہ بہت قریب ہے۔ زمین کی تہوں میں پڑی ہوئی کوئی چیز تمہارے لیے سخت تاریکی میں ہے مگر اس کے لیے بالکل روشنی میں ہے۔ لہٰذا تم کہیں کسی حال میں بھی نیکی یا بدی کا کوئی کام ایسا نہیں کرسکتے جو اللہ سے مخفی رہ جائے۔ وہ نہ صرف یہ کہ اس سے واقف ہے، بلکہ جب محاسبہ کا وقت آئے گا تو وہ تمہاری ایک ایک حرکت کا ریکارڈ سامنے لا کر رکھ دے گا۔
Ayah 31:17سورة لُقْمٰن 29
اس میں ایک لطیف اشارہ اس امر کی طرف ہے کہ جو شخص بھی نیکی کا حکم دینے اور بدی سے روکنے کا کام کرے گا اس پر مصائب کا نزول ناگزیر ہے۔ دنیا لازماً ایسے شخص کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑجاتی ہے اور اسے ہر قسم کی اذیتوں سے سابقہ پیش آ کر رہتا ہے۔
سورة لُقْمٰن 30
دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ بڑے حوصلے کا کام ہے۔ اصلاح خلق کے لیے اٹھنا اور اس کی مشکلات کو انگیز کرنا کم ہمت لوگوں کے بس کی بات نہیں ہے۔ یہ ان کاموں میں سے ہے جن کے لیے بڑا دل گردہ چاہیے۔
Ayah 31:18سورة لُقْمٰن 31
اصل الفاظ ہیں لَا تُصَعِّرْ خَدَّکَ للنَّاسِ۔ صَعَر عربی زبان میں ایک بیماری کو کہتے ہیں جو اونٹ کی گردن میں ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے اونٹ اپنا منہ ہر وقت ایک ہی طرف پھیرے رکھتا ہے۔ اس سے محاورہ نکلا فلان صعّر خدّہ، " فلاں شخص نے اونٹ کی طرح اپنا کلا پھیرلیا " یعنی تکبر کے ساتھ پیش آیا اور منہ پھیر کر بات کی۔ اسی کے متعلق قبیلۂ تغلب کا ایک شاعر عمرو بن حی کہتا ہے،
وکنّا اذا الجبار صَعَّر خَدَّ ٭ اقمنَا لہ من میْلہ فتقوّ مَا
ہم ایسے تھے کہ جب کبھی کسی جبار نے ہم سے بات کی تو ہم نے اس کی ٹیڑھ ایسی نکالی کہ وہ سیدھا ہوگیا۔ "
سورة لُقْمٰن 32
اصل الفاظ ہیں مختال اور فخور۔ مختال کے معنی ہیں وہ شخص جو اپنی دانست میں اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتا ہو۔ اور فخور اس کو کہتے ہیں جو اپنی بڑائی کا دوسروں پر اظہار کرے۔ آدمی چال میں اکڑ اور اتراہٹ اور تبختر کی شان لازماً اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب اس کے دماغ میں تکبر کی ہوا بھر جاتی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ دوسروں کو اپنی بڑائی محسوس کرائے۔
Ayah 31:19سورة لُقْمٰن 33
بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ " تیز بھی نہ چل اور آہستہ بھی نہ چل، بلکہ میانہ روی اختیار کر " لیکن سیاق کلام سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہاں رفتار کی تیزی و سستی زیر بحث نہیں ہے۔ آہستہ چلنا یا تیز چلنا اپنے اندر کوئی اخلاقی حسن و قبح نہیں رکھتا اور نہ اس کے لیے کوئی ضابطہ مقرر کیا جاسکتا ہے۔ آدمی کو جلدی کا کوئی کام ہو تو تیز کیوں نہ چلے۔ اور اگر وہ محض تفریحاً چل رہا ہو تو آخر آہستہ چلنے میں کیا قباحت ہے میانہ روی کا اگر کوئی معیار ہو بھی تو ہر حالت میں ہر شخص کے لیے اسے ایک قاعدۂ کلیہ کیسے بنایا جاسکتا ہے۔ دراصل جو چیز یہاں مقصود ہے وہ تو نفس کی اس کیفیت کی اصلاح ہے جس کے اثر سے چال میں تبختر اور مسکینی کا ظہور ہوتا ہے۔ بڑائی کا گھمنڈ اندر موجود ہو تو وہ لازماً ایک خاص طرز کی چال میں ڈھل کر ظاہر ہوتا ہے جسے دیکھ کر نہ صرف یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ آدمی کسی گھمنڈ میں مبتلا ہے بلکہ چال کی شان یہ تک بتا دیتی ہے کہ کس گھمنڈ میں مبتلا ہے۔ دولت، اقتدار، حسن، علم، طاقت اور ایسی ہی دوسری جتنی چیزیں بھی انسان کے اندر تکبُّر پیدا کرتی ہیں ان میں سے ہر ایک کا گھمنڈ اس کی چال کا ایک مخصوص ٹائپ پیدا کردیتا ہے۔ اس کے برعکس چال میں مسکینی کا ظہور بھی کسی نہ کسی مذموم نفسی کیفیت کے اثر سے ہوتا ہے۔ کبھی انسان کے نفس کا مخفی تکبُّر ایک نمائشی تواضع اور دکھاوے کی درویشی و خدا رسیدگی کا روپ دھار لیتا ہے اور یہ چیز اس کی چال میں نمایاں نظر آتی ہے۔ اور کبھی انسان واقعی دنیا اور اس کے حالات سے شکست کھا کر اور اپنی نگاہ میں آپ حقیر ہو کر مریل چال چلنے لگتا ہے۔ لقمان کی نصیحت کا منشا یہ ہے کہ اپنے نفس کی ان کیفیات کو دور کرو اور ایک سیدھے سادھے معقول اور شریف آدمی کی سی چال چلو جس میں نہ کوئی اینٹھ اور اکڑ ہو، نہ مریل پن، اور نہ ریا کارانہ زہد و انکسار۔
صحابۂ کرام کا ذوق اس معاملہ میں جیسا کچھ تھا اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے ایک دفعہ ایک شخص کو سر جھکائے ہوئے چلتے دیکھا تو پکار فرمایا " سر اٹھا کر چل، اسلام مریض نہیں ہے "۔ ایک اور شخص کو انہوں نے مریل چال چلتے دیکھا تو فرمایا " ظالم، ہمارے دین کو کیوں مارے ڈالتا ہے۔ " ان دونوں واقعات سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر ؓ کے نزدیک دینداری کا منشا ہرگز یہ نہیں تھا کہ آدمی بیماروں کی طرح پھونک پھونک کر قدم رکھے اور خواہ مخواہ مسکین بنا چلا جائے۔ کسی مسلمان کو ایسی چال چلتے دیکھ کر انہیں خطرہ ہوتا تھا کہ یہ چال دوسروں کے سامنے اسلام کی غلط نمائندگی کرے گی اور خود مسلمانوں کے اندر افسردگی پیدا کر دے گی۔ ایسا ہی واقعہ حضرت عائشہ کو پیش آیا۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک صاحب بہت مضمحل سے بنے ہوئے چل رہے ہیں۔ پوچھا انہیں کیا ہوگیا ؟ عرض کیا گیا کہ یہ قرّاء میں سے ہیں (یعنی قرآن پڑھنے پڑھانے والے اور تعلیم و عبادت میں مشغول رہنے والے)۔ اس پر حضرت عائشہ نے فرمایا " عمر سید القراء تھے، مگر ان کا حال یہ تھا کہ جب چلتے تو زور سے چلتے، جب بولتے تو قوت کے ساتھ بولتے اور جب پیٹتے تو خوب پیٹتے تھے "۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، تفسیر سورة بنی اسرائیل، حاشیہ 43۔ تفسیر سورة الفرقان، حاشیہ 79)
سورة لُقْمٰن 34
اس کا منشا یہ نہیں ہے کہ آدمی ہمیشہ آہستہ بولے اور کبھی زور سے بات نہ کرے، بلکہ گدھے کی آواز سے تشبیہ دے کر واضح کردیا گیا ہے کہ مقصود کس طرح کے لہجے اور کس طرح کی آواز میں بات کرنے سے روکنا ہے۔ لہجے اور آواز کی ایک پستی و بلندی اور سختی ونرمی تو وہ ہوتی ہے جو فطری اور حقیقی ضروریات کے لحاظ سے ہو۔ مثلا قریب کے آدمی یا کم آدمیوں سے آپ مخاطب ہوں تو آہستہ بولیں گے۔ دور کے آدمی سے بولنا ہو یا بہت سے لوگوں سے خطاب کرنا ہو تو لامحالہ زور ہی سے بولنا ہوگا۔ ایسا ہی فرق لہجوں میں بھی موقع و محل کے لحاظ سے لازما ہوتا ہے۔ تعریف کا لہجہ مذمت کے لہجے اور اظہار خوشنودی کا لجہ اظہار ناراضی کے لہجے سے مختلف ہی ہونا چاہیے۔ یہ چیز کسی بھی درجہ میں قابل اعتراض نہیں ہے۔ نہ لقمان کی نصیحت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اس فرق کو مٹا کر بس ہمیشہ ایک ہی طرح نرم آواز اور پست لہجے میں بات کیا کرے۔ قابل اعتراض جو چیز ہے وہ تکبر کا اظہار کرنے اور دھونس جمانے اور دوسرے کو ذلیل ومرعوب کرنے کے لیے گلا پھاڑنا اور گدھے کی سی آواز میں بولنا ہے۔
Ayah 31:20سورة لُقْمٰن 35
کسی چیز کو کسی کے لیے مسخر کرنے کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ چیز اس کے تابع کردی جائے اور اسے اختیار دے دیا جائے کہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرے اور جس طرح چاہے اسے استعمال کرے۔ دوسری یہ کہ اس چیز کو ایسے ضابطہ کا پابند کردیا جائے جس کی بدولت اس شخص کے لیے نافع ہوجائے اور اس کے مفاد کی خدمت کرتی رہے۔ زمین و آسمان کی تمام چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے ایک ہی معنی میں مسخ نہیں کردیا ہے، بلکہ بعض چیزیں پہلے معنی میں مسخر کی ہیں اور بعض دوسرے معنی میں۔ مثلاً ہوا، پانی، مٹی، آگ، نباتات، معدنیات، مویشی وغیرہ بیشمار چیزیں پہلے معنی میں ہمارے لیے مسخر ہیں، اور چاند، سورج، وغیرہ دوسرے معنی میں۔
سورة لُقْمٰن 36
کھلی نعمتوں سے مراد وہ نعمتیں ہیں جو آدمی کو کسی نہ کسی طرح محسوس ہوتی ہیں، یا جو اس کے علم میں ہیں۔ اور چھپی ہوئی نعمتوں سے وہ نعمتیں مراد ہیں جنہیں آدمی نہ جانتا ہے نہ محسوس کرتا ہے۔ بےحد و حساب چیزیں ہیں جو انسان کے اپنے جسم میں اور اس کے باہر دنیا میں اس کے مفاد کے لیے کام کر رہی ہیں، مگر انسان کو ان کا پتہ تک نہیں ہے کہ اس کے خالق نے اس کی حفاظت کے لیے، اس کی رزق رسانی کے لیے، اس کے نشو و نما کے لیے، اور اس کی فلاح کے لیے کیا کیا سر و سامان فراہم کر رکھا ہے۔ سائنس کے مختلف شعبوں میں انسان تحقیق کے جتنے قدم آگے بڑھاتا جا رہا ہے، اس کے سامنے خدا کی بہت سی وہ نعمتیں بےنقاب ہوتی جا رہی ہیں جو پہلے اس سے بالکل مخفی تھیں، اور آج تک جن نعمتوں پر سے پردہ اٹھا ہے وہ ان نعمتوں کے مقابلے میں درحقیقت کسی شمار میں بھی نہیں ہیں جن پر سے اب تک پردہ نہیں اٹھا ہے۔
سورة لُقْمٰن 37
یعنی اس طرح کے مسائل میں جھگڑے اور بحثیں کرتے ہیں کہ مثلاً اللہ ہے بھی یا نہیں ؟ اکیلا وہی ایک خدا ہے یا دوسرے خدا بھی ہیں ؟ اس کی صفات کیا ہیں اور کیسی ہیں ؟ اپنی مخلوقات سے اسکے تعلق کی کیا نوعیت ہے ؟ وغیرہ
سورة لُقْمٰن 38
یعنی نہ تو ان کے پاس کوئی ایسا ذریعۂ علم ہے جس سے انہوں نے براہ راست خود حقیقت کا مشاہدہ یا تجربہ کرلیا ہو، نہ کسی ایسے رہنما کی رہنمائی انہیں حاصل ہے جس نے حقیقت کا مشاہدہ کر کے انہیں بتایا ہو، اور نہ کوئی کتاب الٰہی ان کے پاس ہے جس پر یہ اپنے عقیدے کی بنیاد رکھتے ہوں۔
Ayah 31:21سورة لُقْمٰن 39
یعنی ہر شخص اور ہر خاندان اور ہر قوم کے باپ دادا کا حق پر ہونا کچھ ضروری نہیں ہے۔ محض یہ بات کہ یہ طریقہ باپ دادا کے وقتوں سے چلا آ رہا ہے ہرگز اس امر کی دلیل نہیں ہے کہ یہ حق بھی ہے۔ کوئی عقلمند آدمی یہ نادانی کی حرکت نہیں کرسکتا کہ اگر اس کے باپ دادا گمراہ رہے ہوں تو وہ بھی آنکھیں بند کر کے انہی کی راہ پر چلے جائے اور کبھی یہ تحقیق کرنے کی ضرورت نہ محسوس کرے کہ یہ راہ جا کدھر رہی ہے۔
Ayah 31:22سورة لُقْمٰن 40
یعنی پوری طرح اپنے آپ کو اللہ کی بندگی میں دے دے۔ اپنی کوئی چیز اس کی بندگی سے مستثنیٰ کر کے نہ رکھے۔ اپنے سارے معاملات اس کے سپرد کر دے اور اسی کی دی ہوئی ہدایات کو اپنی پوری زندگی کا قانون بنائے۔
سورة لُقْمٰن 41
یعنی ایسا نہ ہو کہ زبان سے تو وہ حوالگی و سپردگی کا اعلان کر دے مگر عملاً وہ رویہ اختیار نہ کرے جو خدا کے ایک مطیع فرمان بندے کا ہونا چاہیے۔
سورة لُقْمٰن 42
یعنی نہ اس کو اس بات کا کوئی خطرہ کہ اسے غلط رہنمائی ملے گی، نہ اس بات کا کوئی اندیشہ کہ خدا کی بندگی کر کے اس کا انجام خراب ہوگا۔
Ayah 31:23سورة لُقْمٰن 43
خطاب نبی ﷺ کی طرف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اے نبی، جو شخص تمہاری بات ماننے سے انکار کرتا ہے وہ اپنے نزدیک تو یہ سمجھتا ہے کہ اس نے اسلام کو رد کر کے اور کفر پر اصرار کر کے تمہیں زک پہنچائی ہے، لیکن دراصل اس نے اپنے آپ کو پہنچائی ہے۔ اس نے تمہارا کچھ نہیں بگاڑا، اپنا کچھ بگاڑا ہے۔ اگر وہ نہیں مانتا تمہیں پروا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
Ayahs 31:24–25سورة لقمن حاشیہ 44
یعنی شکر ہے تم اتنی بات تو جانتے ہو اور مانتے ہو۔ لیکن جب حقیقت یہ ہے تو پھر حمد ساری کی ساری صرف اللہ ہی کے لیے ہونی چاہیے۔ دوسری کوئی ہستی حمد کی مستحق کیسے ہو سکتی ہے جبکہ تخلیق کائنات میں اس کا کوئی حصہ ہی نہیں ہے۔
سورة لُقْمٰن 45
یعنی اکثر لوگ یہ نہیں جانتے کہ اللہ کو خالق کائنات ماننے کے لازمی نتائج اور تقاضے کیا ہیں، اور کونسی باتیں اس کی نقیض پڑتی ہیں۔ جب ایک شخص یہ مانتا ہے کہ زمین اور آسمانوں کا خالق صرف اللہ ہے تو لازماً اس کو یہ بھی ماننا چاہیے کہ الٰہ اور رب بھی صرف اللہ ہی ہے، عبادت اور طاعت و بندگی کا مستحق بھی تنہا وہی ہے، تسبیح وتحمید بھی اس کے سوا کسی دوسرے کی نہیں کی جاسکتی، دعائیں بھی اس کے سوا کسی اور سے نہیں مانگی جا سکتیں، اور اپنی مخلوق کے لیے شارع اور حاکم بھی اس کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا۔ خالق ایک ہو اور معبود دوسرا، یہ بالکل عقل کے خلاف ہے، سراسر متضاد بات ہے جس کا قائل صرف وہی شخص ہوسکتا ہے جو جہالت میں پڑا ہوا ہو۔ اسی طرح ایک ہستی کو خالق ماننا اور پھر دوسری ہستیوں میں سے کسی کو حاجت روا و مشکل کشا ٹھہرانا، کسی کے آگے سر نیاز جھکانا، اور کسی کو حاکم ذی اختیار اور مطاع مطلق تسلیم کرنا، یہ سب بھی باہم متناقض باتیں ہیں جنہیں کوئی صاحب علم انسان قبول نہیں کرسکتا۔
Ayah 31:26سورة لُقْمٰن 46
یعنی حقیقت صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ زمین اور آسمانوں کا خالق اللہ تعالیٰ ہے بلکہ درحقیقت وہی ان سب چیزوں کا مالک بھی ہے جو زمین و آسمانوں میں پائی جاتی ہیں۔ اللہ نے اپنی یہ کائنات بنا کر یوں ہی نہیں چھوڑ دی ہے کہ جو چاہے اس کا، یا اسکے کسی حصے کا مالک بن بیٹھے۔ اپنی خلق کا وہ آپ ہی مالک ہے اور ہر چیز جو اس کائنات میں موجود ہے وہ اس کی ملک ہے۔ یہاں اس کے سوا کسی کی بھی یہ حیثیت نہیں ہے کہ اسے خداوندانہ اختیارات حاصل ہوں۔
سورة لُقْمٰن 47
اس کی تشریح 19 میں گزر چکی ہے۔
Ayah 31:27سورة لُقْمٰن 48
اللہ کی باتوں سے مراد ہیں اس کے تخلیقی کام اور اس کی قدرت و حکمت کے کرشمے۔ یہ مضمون اس سے ذرا مختلف الفاظ میں سورة کہف آیت 109 میں بھی بیان ہوا ہے۔ بظاہر ایک شخص یہ گمان کرے گا شاید اس قول میں مبالغہ کیا۔ لیکن اگر آدمی تھوڑا سا غور کرے تو محسوس ہوگا کہ درحقیقت اس میں ذرہ برابر مبالغہ نہیں ہے۔ جتنے قلم اس زمین کے درختوں سے بن سکتے ہیں اور جتنی روشنائی زمین کے موجودہ سمندر اور ویسے ہی سات مزید سمندر فراہم کرسکتے ہیں، ان سے اللہ کی قدرت و حکمت اور اس کی تخلیق کے سارے کرشمے تو درکنار، شائد موجودات عالم کی مکمل فہرست بھی نہیں لکھی جاسکتی۔ تنہا اس زمین پر جتنی موجودات پائی جاتی ہیں انہی کا شمار مشکل ہے، کجا کہ اس اتھاہ کائنات کی ساری موجودات ضبط تحریر میں لائی جاسکیں۔
اس بیان سے دراصل یہ تصور دلانا مقصود ہے کہ جو خدا اتنی بڑی کائنات کو وجود میں لایا ہے اور ازل سے ابد تک اس کا سارا نظم و نسق چلا رہا ہے اس کی خدائی میں ان چھوٹی چھوٹی ہستیوں کی حیثیت ہی کیا ہے جنہیں تم معبود بنائے بیٹھے ہو۔ اس عظیم الشان سلطنت کے چلانے میں دخیل ہونا تو درکنار، اس کے کسی اقل قلیل جز سے پوری واقفیت اور محض واقفیت تک کسی مخلوق کے بس کی چیز نہیں ہے۔ پھر بھلا یہ کیسے تصور کیا جاسکتا ہے کہ مخلوقات میں سے کسی کو یہاں خداوندانہ اختیارات کا کوئی ادنیٰ سا حصہ بھی مل سکے جس کی بنا پر وہ دعائیں سننے اور قسمتیں بنانے اور بگاڑنے پر قادر ہو۔
Ayah 31:28سورة لُقْمٰن 49
یعنی وہ بیک وقت ساری کائنات کی آوازیں الگ الگ سن رہا ہے اور کوئی آواز اس کی سماعت کو اس طرح مشغول نہیں کرتی کہ اسے سنتے ہوئے وہ دوسری چیزیں نہ سن سکے۔ اسی طرح وہ بیک وقت ساری کائنات کو اس کی ایک ایک چیز اور ایک ایک واقعہ کی تفصیل کے ساتھ دیکھ رہا ہے اور کسے چیز کے دیکھنے میں اس کی بینائی اس طرح مشغول نہیں ہوتی کہ اسے دیکھتے ہوئے وہ دوسری چیزیں نہ دیکھ سکے۔ ٹھیک ایسا ہی معاملہ انسانوں کے پیدا کرنے اور دوبارہ وجود میں لانے کا بھی ہے۔ ابتدائے آفرینش سے آج تک جتنے آدمی بھی پیدا ہوئے ہیں اور آئندہ قیامت تک ہوں گے ان سب کو وہ ایک آن کی آن میں پھر پیدا کرسکتا ہے۔ اس کی قدرت تخلیق ایک انسان کو بنانے میں اس طرح مشغول نہیں ہوتی کہ اسی وقت وہ دوسرے انسان نہ پیدا کرسکے۔ اس کے لیے ایک انسان کا بنانا اور کھربوں انسانوں کا بنادینا یکساں ہے۔
Ayah 31:29سورة لُقْمٰن 50
یعنی رات اور دن کا پابندی اور باقاعدگی کے ساتھ آنا خود یہ ظاہر کر رہا ہے کہ سورج اور چاند پوری طرح ایک ضابطہ میں کسے ہوئے ہیں۔ سورج اور چاند کا ذکر یہاں محض اس لیے کیا گیا ہے کہ یہ دونوں عالم بالا کی وہ نمایاں ترین چیزیں ہیں جن کو انسان قدیم زمانے سے معبود بناتا چلا آ رہا ہے اور آج بھی بہت سے انسان انہیں دیوتا مان رہے ہیں۔ ورنہ درحقیقت زمین سمیت کائنات کے تمام تاروں اور سیاروں کو اللہ تعالیٰ نے ایک اٹل ضابطے میں کس رکھا ہے جس سے وہ یک سر مو ہٹ نہیں سکتے۔
سورة لقمن حاشیہ 51
یعنی ہر چیز کی جو مدت عمر مقرر کردی گئی ہے اسی وقت تک وہ چل رہی ہے۔ سورج ہو یا چاند، یا کائنات کا کوئی اور تارا یا سیارا، ان میں سے کوئی چیز بھی نہ ازلی ہے نہ ابدی۔ ہر ایک کا ایک وقت آغاز ہے جس سے پہلے وہ موجود نہ تھی، اور ایک وقت اختتام ہے جس کے بعد وہ موجود نہ رہے گی، اس ذکر سے مقصود یہ جتانا ہے کہ ایسی حادث اور بےبس چیزیں آخر معبود کیسے ہوسکتی ہیں۔
Ayah 31:30سورة لُقْمٰن 52
یعنی حقیقی فاعل مختار ہے، خلق و تدبیر کے اختیارات کا اصل مالک ہے۔
سورة لُقْمٰن 53
یعنی وہ سب محض تمہارے تخیلات کے آفریدہ خدا ہیں۔ تم نے فرض کرلیا ہے کہ فلاں صاحب خدائی میں کوئی دخل رکھتے ہیں اور فلاں حضرت کو مشکل کشائی و حاجت روائی کے اختیارات حاصل ہیں۔ حالانکہ فی الواقع ان میں سے کوئی صاحب بھی کچھ نہیں بنا سکتے۔
سورة لُقْمٰن 54
یعنی ہر چیز سے بالا تر جس کے سامنے سب پست ہیں، اور ہر چیز سے بزرگ جس کے سامنے سب چھوٹے ہیں۔
Ayah 31:31سورة لُقْمٰن 55
یعنی ایسی نشانیاں جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اختیارات بالکل اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ انسان خواہ کیسے ہی مضبوط اور بحری سفر کے لیے موزوں جہاز بنا لے اور جہاز رانی کے فن اور اس سے تعلق رکھنے والی معلومات اور تجربات میں کتنا ہی کمال حاصل کرلے، لیکن سمندر میں جن ہولناک طاقتوں سے اس کو سابقہ پیش آتا ہے ان کے مقابلے میں وہ تنہا اپنی تدابیر کے بل بوتے پر بخیریت سفر نہیں کرسکتا جب تک اللہ کا فضل شامل حال نہ ہو۔ اس کی نگاہ کرم پھرتے ہی آدمی کو معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کے ذرائع و وسائل اور کمالات فن کتنے پانی میں ہیں۔ اسی طرح آدمی امن و اطمینان کی حالت میں چاہے کیسا ہی سخت دہریہ یا کٹا مشرک ہو، لیکن سمندر کے طوفان میں جب اس کی کشتی ڈولنے لگتی ہے اس وقت دہریے کو بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ خدا ہے، اور مشرک بھی جان لیتا ہے کہ خدا بس ایک ہی ہے۔
سورة لُقْمٰن 56
یعنی جن لوگوں میں یہ دونوں صفات پائی جاتی ہیں وہ جب ان نشانیوں سے حقیقت کو پہچانتے ہیں تو ہمیشہ کے لیے توحید کا سبق اصل کر کے اس پر مضبوطی کے ساتھ جم جاتے ہیں۔ پہلی صفت یہ کہ وہ صَبّار (بڑے صبر کرنے والے) ہوں۔ ان کے مزاج میں تلوُّن نہ ہو بلکہ ثابت قدمی ہو۔ گوارا اور ناگوار، سخت اور نرم، اچھے اور برے، تمام حالات میں ایک عقیدۂ صالحہ پر قائم رہیں۔ یہ کمزوری ان میں نہ ہو کہ برا وقت آیا تو خدا کے سامنے گڑ گڑانے لگے اور اچھا وقت آتے ہی سب کچھ بھول گئے، یا اس کے برعکس اچھے حالات میں خدا پرستی کرتے رہے اور مصائب کی ایک چوٹ پڑتے ہی خدا کو گالیاں دینا شروع کردیں۔ دوسری صفت یہ کہ وہ شکور (بڑے شکر کرنے والے) ہوں۔ نمک حرام اور احسان فراموش نہ ہوں بلکہ نعمت کی قدر پہچانتے ہوں اور نعمت دینے والے کے لیے ایک مستقل جذبۂ شکر وسپاس اپنے دل میں جاگزیں رکھیں۔
Ayah 31:32سورة لُقْمٰن 57
اس کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں۔ اقتصاد کو اگر راست روی کے معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان میں سے کم ہی ایسے نکلتے ہیں جو وہ وقت گزر جانے کے بعد بھی اس توحید پر ثابت قدم رہتے ہیں جس کا اقرار انہوں نے طوفان میں گھر کر کیا تھا اور یہ سبق ہمیشہ کے لیے ان کو راست رو بنا دیتا ہے۔ اور اگر اقتصاد بمعنی توسُّط و اعتدال لیا جائے تو اس کا ایک مطلب یہ ہوگا کہ ان میں سے بعض لوگ اپنے شر و دہریت کے عقیدے میں اس شدت پر قائم نہیں رہتے جس پر اس تجربے سے پہلے تھے، اور دوسرا مطلب یہ ہوگا کہ وہ وقت گزر جانے کے بعد ان میں سے بعض لوگوں کے اندر اخلاص کی وہ کیفیت ٹھنڈی پڑجاتی ہے جو اس وقت پیدا ہوئی تھی۔ اغلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ ذو معنی فقرہ بیک وقت ان تینوں کیفیتوں کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال فرمایا ہو۔ مدعا غالباً یہ بتانا ہے کہ بحری طوفان کے وقت تو سب کا دماغ درستی پر آجاتا ہے اور شرک و دہریت کو چھوڑ کر سب کے سب خدائے واحد کو مدد کے لیے پکارنا شروع کردیتے ہیں۔ لیکن خیریت سے ساحل پر پہنچ جانے کے بعد ایک قلیل تعداد ہی ایسی نکلتی ہے جس نے اس تجربے سے کوئی پائدار سبق حاصل کیا ہو۔ پھر یہ قلیل تعداد بھی تین قسم کے گروہوں میں بٹ جاتی ہے۔ ایک وہ جو ہمیشہ کے لیے سیدھا ہوگیا۔ دوسرا وہ جس کا کفر کچھ اعتدال پر آگیا۔ تیسری وہ جس کے اندر اس ہنگامی اخلاص میں سے کچھ نہ کچھ باقی رہ گیا۔
سورة لُقْمٰن 58
یہ دو صفات ان دو صفتوں کے مقابلے میں ہیں جن کا ذکر اس سے پہلی کی آیت میں کیا گیا تھا۔ غدار وہ شخص ہے جو سخت بےوفا ہو اور اپنے عہد و پیماں کا کوئی پاس نہ رکھے۔ اور ناشکرا وہ ہے جس پر خواہ کتنی ہی نعمتوں کی بارش کردی جائے وہ احسان مان کر نہ دے اور اپنے محسن کے مقابلے میں سرکشی سے پیش آئے یہ صفات جن لوگوں میں پائی جاتی ہیں وہ خطرے کا وقت ٹل جانے کے بعد بےتکلف اپنے کفر، اپنی دہریت اور اپنے شرک کی طرف پلٹ جاتے ہیں۔ وہ یہ نہیں مانتے کہ انہوں نے طوفان کی حالت میں خدا کے ہونے اور ایک ہی خدا کے ہونے کی کچھ نشانیاں خارج میں بھی اور خود اپنے نفس میں بھی پائی تھیں اور ان کا خدا کو پکارنا اسی وجدان حقیقت کا نتیجہ تھا۔ ان میں سے جو دہریے ہیں وہ اپنے اس فعل کی یہ توجیہ کرتے ہیں کہ وہ تو ایک کمزوری تھی جو بحالت اضطراب ہم سے سرزد ہوگئی، ورنہ درحقیقت خدا ودا کوئی نہ تھا جس نے ہمیں طوفان سے بچایا ہو، ہم تو فلاں فلاں اسباب و ذرائع سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ رہے مشرکین، تو وہ بالعموم یہ کہتے ہیں کہ فلاں بزرگوں، یا دیوی دیوتاؤں کا سایہ ہمارے سر پر تھا جس کے طفیل ہم بچ گئے، چناچہ ساحل پر پہنچتے ہی وہ اپنے معبودان باطل کے شکریے ادا کرنے شروع کردیتے ہیں اور انہی کے آستانوں پر چڑھاوے چڑھانے لگتے ہیں۔ یہ خیال تک انہیں نہیں آتا کہ جب ساری امیدوں کے سہارے ٹوٹ گئے تھے اس وقت اللہ وحدہ لاشریک کے سوا کوئی نہ تھا جس کا دامن انہوں نے تھاما ہو۔