تعارف
نام
پہلی ہی آیت کے لفظ غُلِبَتِ الرُّوم سے ماخوذ ہے۔
زمانۂ نزول
آغاز ہی میں جس تاریخی واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے اس سے زمانہ نزول قطعی طور پر متعین ہوجاتا ہے۔ اس میں ارشاد ہوا ہے کہ ” قریب کی سر زمین میں رومی مغلوب ہوگئے ہیں۔ “ اس زمانے میں عرب سے متصل رومی مقبوضات اردن، شام اور فلسطین تھے اور ان علاقوں میں رومیوں پر ایرانیوں کا غلبہ ٦١٥ ء میں مکمل ہوا تھا۔ اس لئے پوری صحت کے ساتھ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ سورة اسی سال نازل ہوئی تھی، اور یہ وہی سال تھا جس میں ہجرت حبشہ واقع ہوئی تھی۔
تاریخی پس منظر
جو پیش گوئی اس سورة کی ابتدائی آیات میں کی گئی ہے وہ قرآن مجید کے کلام الہٰی ہونے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رسول برحق ہونے کی نمایاں ترین شہادتوں میں سے ایک ہے۔ اسے سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ان تاریخی واقعات پر ایک تفصیلی نگاہ ڈالی جائے جو ان آیات سے تعلق رکھتے ہیں۔
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت سے ٨ سال پہلے کا واقعہ ہے کہ قیصر روم ماریس (Maurice) کے خلاف بغاوت ہوئی اور ایک شخص فوک اس (Phocas) تخت سلطنت پر قابض ہوگیا۔ اس شخص نے پہلے تو قیصر کی آنکھوں کے سامنے اس کے پانچ بیٹوں کو قتل کرایا، پھر خود قیصر کو قتل کرا کے باپ بیٹوں کے سر قسطنطنیہ میں بر سر عام لٹکوا دیے، اور اس کے چند روز بعد اس کی بیوی اور تین لڑکیوں کو بھی مروا ڈالا۔ اس واقعہ سے ایران کے بادشاہ خسرو پرویز کو روم پر حملہ آور ہونے کے لئے بہترین اخلاقی بہانہ مل گیا۔ قیصر ماریس اس کا محسن تھا۔ اسی کی مدد سے پرویز کو ایران کا تخت نصیب ہوا تھا۔ اس بنا پر اس نے اعلان کیا کہ میں غاصب فوک اس سے اس ظلم کا بدلہ لوں گا جو اس نے میرے مجازی باپ اور اس کی اولاد پر ڈھایا ہے۔ ٦٠٣ ء میں اس نے سلطنت روم کے خلاف جنگ کا آغاز کیا اور چند سال کے اندر وہ فوک اس کی فوجوں کو پے در پے شکستیں دیتا ہوا ایک طرف ایشیائے کوچک میں ایڈیسا ﴿موجودہ اورفا﴾ تک اور دوسری طرف شام میں حَلَب اور انطاکیہ تک پہنچ گیا۔ روم کے اعیان سلطنت یہ دیکھ کر کہ فوک اس ملک کو نہیں بچا سکتا، افریقہ کے گورنر سے مدد کے طالب ہوئے۔ اس نے بیٹے ہرقل (Heracllus) کو ایک طاقتور بیڑے کے ساتھ قسطنطنیہ بھیج دیا۔ اس کے پہنچتے ہی فوک اس معزول کردیا گیا، اس کی جگہ ہرقل قیصر بنایا گیا، اور اس نے برسر اقتدار آکر فوک اس کے ساتھ وہی کچھ کیا جو اس نے ماریس کے ساتھ کیا تھا۔ یہ ٦١٠ ء کا واقعہ ہے، اور وہی سال ہے جس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کی طرف سے منصب نبوت پر سرفراز ہوئے۔
خسرو پرویز نے جس اخلاقی بہانے کو بنیاد بنا کر جنگ چھیڑی تھی، فوک اس کا عزل اور قتل کے بعد وہ ختم ہوچکا تھا۔ اگر واقعی اس کی جنگ کا مقصد غاصب فوک اس سے اس کے ظلم کا بدلہ لینا ہوتا تو اس کے مارے جانے پر اسے نئے قیصر سے صلح کر لینی چاہیے تھی۔ مگر اس نے پھر بھی جنگ جاری رکھی، اور اب اس جنگ کو اس نے مجوسیت اور مسیحیت کی مذہبی جنگ کا رنگ دے دیا۔ عیسائیوں کے جن فرقوں کو رومی سلطنت کے سرکاری کلیسا نے ملحد قرار دے کر سالہا سال سے تختہ مشق ستم بنا رکھا تھا ﴿یعنی نسطوری اور یعقوبی وغیرہ ان کی ساری ہمدردیاں بھی مجوسی حملہ آوروں کے ساتھ ہوگئیں۔ اور یہودیوں نے بھی مجوسیوں کا ساتھ دیا، حتیٰ کہ خسرو پرویز کی فوج میں بھرتی ہونے والے یہو ویوں کی تعداد ٢٦ ہزار تک پہنچ گئی۔
ہرقل آکر اس سیلاب کو نہ روک سکا۔ تخت نشین ہوتے ہی پہلی اطلاع جو اسے مشرق سے ملی وہ انطاکیہ پر ایرانی قبضے کی تھی۔ اس کے بعد ٢١٣ ء میں دمشق فتح ہوا۔ پھر ٦١٤ ء میں بیت المقدس پر قبضہ کر کے ایرانیوں نے مسیحی دنیا پر قیامت ڈھادی۔ ٩٠ ہزار عیسائی اس شہر میں قتل کیے گئے۔ ان کا سب سے زیادہ مقدس کلیسا، کینستہ القیامہ (Holy Sepulchre) برباد کردیا گیا۔ اصلی صلیب، جس کے متعلق عیسائیوں کا عقیدہ تھا کہ اسی پر مسیح نے جان دی تھی، مجوسیوں نے چھین کر مدائن پہنچا دی۔ لاٹ پادری زکریاہ کو بھی پکڑ لے گئے اور شہر کے تمام بڑے بڑے گرجوں کو انہوں نے مسمار کردیا۔ اس فتح کا نشہ جس بری طرح خسرو پرویز پر چڑھا تھا اس کا اندازہ اس خط سے ہوتا ہے جو اس نے بیت المقدس سے ہرقل کو لکھا تھا۔ اس میں وہ کہتا ہے :
” سب خداؤں سے بڑے خدا، تمام روئے زمین کے مالک خسرو کی طرف سے اس کے کمینہ اور بےشعور بندے ہرقل کے نام،
تو کہتا ہے کہ تجھے اپنے رب پر بھروسہ ہے۔ کیوں نہ تیرے رب نے یروشلم کو میرے ہاتھ سے بچا لیا ؟ “
اس فتح کے بعد ایک سال کے اندر اندر ایرانی فوجیں اردن، فلسطین اور جزیرہ نمائے سینا کے پورے علاقے پر قابض ہو کر حدود مصر تک پہنچ گئیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مکہ معظمہ میں ایک اور اس سے بدرجہا زیادہ تاریخی اہمیت رکھنے والی جنگ برپا تھی۔ یہاں توحید کے علم بردار سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قیادت میں، اور شرک کے پیرو کار سرداران قریش کی رہنمائی میں ایک دوسرے سے برسر جنگ تھے، اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ ٦١٥ ء میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنا گھر بار چھوڑ کر حبش کی عیسائی سلطنت میں ﴿جو روم کی حلیف تھی﴾ پناہ لینی پڑی۔ اس وقت سلطنت روم پر ایران کے غلبے کا چرچا ہر زبان پر تھا۔ مکہ کے مشرکین اس پر بغلیں بجا رہے تھے اور مسلمانوں سے کہتے تھے کہ دیکھو ایران کے آتش پرست فتح پا رہے ہیں اور وحی اور رسالت کو ماننے والے عیسائی شکست پر شکست کھاتے چلے جا رہے ہیں۔ اسی طرح ہم عرب کے بت پرست بھی تمہیں اور تمہارے دین کو مٹا کر رکھ دیں گے۔
ان حالات میں قرآن مجید کی یہ سورة نازل ہوئی اور اس میں یہ پیشین گوئی کی گئی کہ ” قریب کی سر زمین میں رومی مغلوب ہوگئے ہیں، مگر اس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر اندر ہی وہ غالب آجائیں گے، اور وہ دن وہ ہوگا جبکہ اللہ کی دی ہوئی فتح سے اہل ایمان خوش ہو رہے ہونگے۔ “ اس میں ایک کے بجائے دو پیشین گوئیاں تھیں۔ ایک یہ کہ رومیوں کو غلبہ نصیب ہوگا۔ دوسری یہ کہ مسلمانوں کو بھی اسی زمانے میں فتح حاصل ہوگی۔ بظاہر دور دور تک کہیں اس کے آثار موجود نہ تھے کہ ان میں سے کوئی ایک پیشین گوئی بھی چند سال کے اندر پوری ہوجائے گی۔ ایک طرف مٹھی بھر مسلمان تھے جو مکہ میں مارے اور کھدیڑے جارہے تھے۔ اور اس پیشین گوئی کے بعد بھی آٹھ سال تک ان کے لئے غلبہ و فتح کا کوئی امکان کسی کو نظر نہ آتا تھا۔ دوسری طرف روم کی مغلوبیت روز بروز بڑھتی چلی گئی۔ سن ٦١٩ ء تک پورا مصر ایران کے قبضہ میں چلا گیا اور مجوسی فوجوں نے طرابلس کے قریب پہنچ کر اپنے جھنڈے گاڑ دیئے۔ ایشیائے کوچک میں ایرانی فوجیں رومیوں کو مارتی دباتی باسفورس کے کنارے تک پہنچ گئیں اور سن ٦١٧ ء میں انہوں نے عین قسطنطنیہ کے سامنے خلقدون ﴿Chalcedon، موجودہ قاضی کوئی ﴾ پر قبضہ کرلیا۔ قیصر نے خسرو کے پاس ایلچی بھیج کر نہایت عاجزی کے ساتھ درخواست کی کہ میں ہر قیمت پر صلہ کرنے کے لئے تیار ہوں۔ مگر اس نے جواب دیا کہ ” اب میں قیصر کو اس وقت تک امان نہ دونگا جب تک وہ پابز بخیر میرے سامنے حاضر نہ ہو اور اپنے خدائے مصلوب کو چھوڑ کر خداوند آتش کی بندگی نہ اختیار کرلے۔ “ آخر کار قیصر اس حد تک شکست خوردہ ہوگیا کہ اس نے قسطنطنیہ چھوڑ کر قرطاجنہ ﴿Carthage, موجودہ ٹیونس﴾ منتقل ہوجانے کا ارادہ کرلیا۔ غرض انگریز مؤرخ گبن کے بقول، قرآن مجید کی اس پیشین گوئی کے بعد بھی سات آٹھ برس تک حالات ایسے تھے کہ کوئی شخص یہ تصور تک نہ کرسکتا تھا کہ رومی سلطنت ایران پر غالب آجائے گی، بلکہ غلبہ تو درکنار اس وقت تو کسی کو یہ امید بھی نہ تھی کہ اب یہ سلطنت زندہ رہ جائے گی۔﴿Gibboon, Declineand fall of theRomanempire, Vol. II, p, 788. Modern Library, New York.﴾
قرآن کی یہ آیات جب نازل ہوئیں تو کفار مکہ نے ان کا خوب مذاق اڑایا اور ابی بن خلف نے حضرت ابوبکر سے شرط بدی کہ اگر تین سال کے اندر رومی غالب آگئے تو دس اونٹ میں دوں گا ورنہ دس اونٹ تم کو دینے ہوں گے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس شرط کا علم ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ قرآن میں فِی بضعِ سِنِین کے الفاظ آئے ہیں، اور عربی زبان میں بضع کا اطلاق دس سال سے کم پر ہوتا ہے، اس لئے دس سال کے اندر کی شرط کرو اور اونٹوں کی تعداد بڑھا کر سو ﴿١٠٠﴾کردو۔ چناچہ حضرت ابوبکر (رض) نے اُبَیّ سے پھر بات کی اور نئے سرے سے یہ شرط طے ہوئی کہ دس سال کے اندر فریقین میں سے جس کی بات غلط ثابت ہوگی وہ سو﴿١٠٠﴾ اونٹ دے گا۔
سن ٦٢٤ ء میں ادھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لے گئے، اور ادھر قیصر ہرقل خاموشی کے ساتھ قسطنطنیہ سے بحر اسود کے راستے طرابزون کی طرف روانہ ہوا جہاں اس نے ایران پر پشت کی طرف سے حملہ کرنے کی تیاری کی۔ اس جوابی حملے کی تیاری کے لئے قیصر نے کلیسا سے روپیہ مانگا اور مسیحی کلیسا کے اسقف اعظم سر جیس (Sergius) نے مسیحیت کی مجو سیت سے بچانے کے لئے گرجاؤں کے نذرانوں کی جمع شدہ دولت سود پر قرض دی۔ ہرقل نے اپنا حملہ سن ٦٢٣ ء میں ارمینیا سے شروع کیا اور دوسرے سال سن ٦٢٤ ء میں اس نے آذربیجان میں گھس کر زرتشت کے مقام پیدائش ارمیاہ (Clorumia) کو تباہ کردیا اور ایرانیوں کے سب سے بڑے آتش کدے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ خدا کی قدرت کا کرشمہ دیکھیے کہ یہی وہ سال تھا جس میں مسلمانوں کو بدر کے مقام پر پہلی مرتبہ مشرکین کے مقابلے میں فیصلہ کن فتح نصیب ہوئی۔ اس طرح وہ دونوں پیشین گوئیاں جو سورة روم میں کی گئی تھیں، دس سال کی مدت ختم ہونے سے پہلے بیک وقت پوری ہوگئیں۔
پھر روم کی فوجیں ایرانیوں کو مسلسل دباتی چلی گئیں۔ نینویٰ کی فیصلہ کن لڑائی ﴿سن ٦٢٧ ء﴾ میں انہوں نے سلطنت ایران کی کمر توڑدی۔ اس کے بعد شاہان ایران کی قیام گاہ دستگرد ﴿دَسکرة الملک﴾ کو تباہ کردیا اور آگے بڑھ کر ہرقل کے لشکر طیسفون (Ctesiphon) کے سامنے پہنچ گئے جو اس وقت ایران کا دار السلطنت تھا۔ سن ٦٢٨ ء میں خسرو پرویز کے خلاف گھر میں بغاوت رونما ہوئی، وہ قید کرلیا گیا، اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے ١٨ بیٹے قتل کردیے گئے، اور چند روز بعد وہ خود قید کی سختیوں سے ہلاک ہوگیا۔ یہی سال تھا جس میں صلح حدیبیہ واقع ہوئی جسے قرآن ” فتح عظیم “ کے نام سے تعبیر کرتا ہے، اور یہی سال تھا جس میں خسرو کے بیٹے قباد ثانی نے تمام رومی مقبوضات سے دست بردار ہو کر اور اصلی صلیب واپس کر کے روم سے صلح کرلی۔ سن ٦٢٩ ء میں قیصر ” مقدس صلیب “ کو اس کی جگہ رکھنے کے لئے خود بیت المقدس گیا، اور اسی سال نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عُمرة القضا ادا کرنے کے لئے ہجرت کے بعد پہلی مرتبہ مکہ معظمہ میں داخل ہوئے۔
اس کے بعد کسی کے لئے بھی اس امر میں شبہہ کی گنجائش باقی نہ رہی کہ قرآن کی پیشین گوئی بالکل سچی تھی۔ عرب کے بکثرت مشرکین اس پر ایمان لے آئے۔ اُبَیّ بن خلف کے وارثوں کو ہار مان کر شرط کے اونٹ ابوبکر صدیق (رض) کے حوالے کرنے پڑے۔ وہ انہیں لے کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے حکم دیا کہ انہیں صدقہ کردیا جائے۔ کیونکہ شرط اس وقت ہوئی تھی جب شریعت میں جوئے کی حرمت کا حکم نہیں آیا تھا، مگر اب حرمت کا حکم آچکا تھا، اس لئے حربی کافروں سے شرط کا مال لے لینے کی اجازت تو دے دی گئی مگر ہدایت کی گئی کہ اسے خود استعمال کرنے کے بجائے صدقہ کردیا جائے۔
موضوع اور مضمون
اس سورة میں کلام کا آغاز اس بات سے کیا گیا ہے کہ آج رومی مغلوب ہوگئے ہیں اور ساری دنیا یہ سمجھ رہی ہے کہ اس سلطنت کا خاتمہ قریب ہے، مگر چند سال نہ گزرنے پائیں گے کہ پانسہ پلٹ جائے گا اور جو مغلوب ہے وہ غالب ہوجائے گا۔
اس تمہید سے یہ مضمون نکل آیا کہ انسان اپنی سطح بینی کی وجہ سے وہی کچھ دیکھتا ہے، جو بظاہر اس کی آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے، مگر اس ظاہر کے پردے کے پیچھے جو کچھ ہے اس کی اسے خبر نہیں ہوتی۔ یہ ظاہر بینی جب دنیا کے ذرا ذرا سے معاملات میں غلط فہمیوں اور غلط اندازوں کی موجب ہوتی ہے، اور جبکہ محض اتنی سی بات نہ جاننے کی وجہ سے کہ ” کل کیا ہونے والا ہے “ آدمی غلط تخمینے لگا بیٹھتا ہے، تو پھر بحیثیت مجموعی پوری زندگی کے معاملے میں ظاہر حیات دنیا پر اعتماد کر بیٹھنا اور اسی کی بنیاد پر اپنے پورے سرمایہ حیات کو داؤ پر لگا دینا کتنی بڑی غلطی ہے۔
اس طرح روم اور ایران کے معاملے سے تقریر کا رخ آخرت کے مضمون کی طرف پھرجاتا ہے۔ اور مسلسل تین رکوعوں تک طریقے طریقے سے یہ سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ آخرت ممکن بھی ہے، معقول بھی ہے، اس کی ضرورت بھی ہے، اور انسانی زندگی کے نظام کو درست رکھنے کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ آدمی آخرت کا یقین رکھ کر اپنی موجودہ زندگی کا پروگرام اختیار کرے، ورنہ وہی غلط ہوگی جو ظاہر پر اعتماد کرلینے سے واقع ہوا کرتی ہے۔
اس سلسلے میں آخرت پر استدلال کرتے ہوئے کائنات کے جن آثار کو شہادت میں پیش کیا گیا ہے وہ بعینہ وہی آثار ہیں جو توحید پر بھی دلالت کرتے ہیں۔ اس لئے چوتھے رکوع کے آغاز سے تقریر کا رخ توحید کے اثبات اور شرک کے ابطال کی طرف پھرجاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ انسان کے لئے فطری دین اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ وہ بالکل یکسو ہو کر خدائے واحد کی بندگی کرے۔ شرک فطرت کائنات اور فطرت انسان کے خلاف ہے، اسی لئے جہاں بھی انسان نے اس گمراہی کو اختیار کیا ہے وہاں فساد رونما ہوا ہے۔ اس موقع پر پھر اس فساد عظیم کی طرف، جو اس وقت دنیا کی دو سب سے بڑی سلطنتوں کے درمیان جنگ کی بدولت برپا تھا، اشارہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ فساد شرک کے نتائج میں سے ہے اور پچھلی انسانی تاریخ میں بھی جتنی قومیں مبتلائے فساد ہوئی ہیں وہ سب بھی مشرک ہی تھیں۔
خاتمہ کلام پر تمثیل کے پیرایہ میں لوگوں کو سمجھایا گیا ہے کہ جس طرح مردہ پڑی ہوئی زمین خدا کی بھیجی ہوئی بارش سے یکایک جی اٹھتی ہے اور زندگی و بہار کے خزانے اگلنے شروع کردیتی ہے، اسی طرح خدا کی بھیجی ہوئی وحی اور نبوت بھی مردہ پڑی ہوئی انسانیت کے حق میں ایک باران رحمت ہے جس کا نزول اس کے لئے زندگی اور نشو ونما اور خیر و فلاح کا موجب ہوتا ہے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاؤ گے تو یہی عرب کی سونی زمین رحمت الہٰی سے لہلہا اٹھے گی اور ساری بھلائی تمہارے اپنے لئے ہی ہوگی۔ اس سے فائدہ نہ اٹھاؤ گے تو اپنا ہی نقصان کرو گے، پھر پچھتانے کا کچھ حاصل نہ ہوگا اور تلافی کا کوئی موقع تمہیں میسر نہ آئے گا۔
Ayahs 30:1–2سورة الروم
نام پہلی ہی آیت کے لفظ غُلِبَتِ الرُّوْمُ سے ماخوذ ہے۔
زمانہ نزول آغاز ہی میں جس تاریخی واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے اس سے زمانہ نزول قطعی طور پر متعین ہوجاتا ہے۔ اس میں ارشاد ہوا ہے کہ " قریب کی سرزمین میں رومی مغلوب ہوگئے ہیں "۔ اس زمانے میں عرب سے متصل رومی مقبوضات اردن، شام اور فلسطین تھے اور ان علاقوں میں رومیوں پر ایرانیوں کا غلبہ 615 ء میں مکمل ہوا تھا۔ اس لیے پوری صحت کے ساتھ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ سورة اسی سال نازل ہوئی تھی، اور یہ وہی سال تھا جس میں ہجرت حبشہ واقعہ ہوئی۔
تاریخی پس منظر جو پیشین گوئی اس سورے کی ابتدائی آیات میں کی گئی ہے وہ قرآن مجید کے کلام الہی ہونے اور محمد ﷺ کے رسول برحق ہونے کی نمایاں ترین شہادتوں میں سے ایک ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان تاریخی واقعات پر ایک تفصیلی نگاہ ڈالی جائے تو ان آیات سے تعلق رکھتے ہیں۔
نبی ﷺ کی نبوت سے 8 سال پہلے کا واقعہ ہے کہ قیصر روم ماریس (Mauric) کے خلاف بغاوت ہوئی اور ایک شخص فوک اس (Phocas) تخت سلطنت پر قابض ہوگیا۔ اس شخص نے پہلے تو قیصر کی آنکھوں کے سامنے اس کے پانچ بیٹوں کو قتل کرایا، پھر خود قیصر کو قتل کرا کے باپ بیٹوں کے سر قسطنطنیہ میں برسر عام لٹکوا دیے اور اس کے چند روز بعد اس کی بیوی اور تین لڑکیوں کو بھی مروا ڈالا۔ اس واقعہ سے ایران کے بادشاہ خسرو پرویز کور وم پر حملہ آور ہونے کے لیے بہترین اخلاقی بہانہ مل گیا۔ قیصر ماریس اس کا محسن تھا۔ اسی کی مدد سے پرویز کو ایران کا تخت نصیب ہوا تھا۔ اسے وہ اپنا باپ کہتا تھا۔ اس بنا پر اس نے اعلان کیا کہ میں غاصب فوک اس سے اس ظلم کا بدلہ لوں گا جو اس نے میرے مجازی باپ اور اس کی اولاد پر ڈھایا ہے۔ 603 ء میں اس نے سلطنت روم کے خلاف جنگ کا آغاز کیا اور چند سال کے اندر وہ فوک اس کی فوجوں کو پے در پے شکستیں دیتا ہوا ایک طرف ایشیائے کوچک میں ایڈیسا موجودہ اور فاتک اور دوسری طرف شام میں حلب اور انطاکیہ تک پہنچ گیا۔ روم کے اعیان سلطنت یہ دیکھ کر کہ فوک اس ملک کو نہیں بچا سکتا، افریقہ کے گورنر سے مدد کے طالب ہوئے۔ اس نے اپنے بیٹے ہرقل (Heraclius) کو ایک طاقت اور بیڑے کے ساتھ قسطنطنیہ بھیج دیا۔ اس کے پہنچتے ہی فوک اس معزول کردیا گیا، اس کی جگہ ہرقل قیصر بنایا گیا، اور اس نے برسر اقتدار آکر فوک اس کے ساتھ وہی کچھ کیا جو اس نے ماریس کے ساتھ کیا تھا۔ یہ 610 ء کا واقعہ ہے، اور یہ وہی سال ہے جس میں نبی ﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے منصب نبوت پر سرفراز ہوئے۔
خسرو پرویز نے جس اخلاقی بہانے کو بنیاد بنا کر جنگ چھیڑی تھی، فوک اس کے عزل اور قتل کے بعد وہ ختم ہوچکا تھا، اگر واقعی اس کی جنگ کا مقصد غاصب فوک اس سے اس کے ظلم کا بدلہ لینا ہوتا تو اس کے مارے جانے پر اسے نئے قیصر سے صلح کرلینی چاہیے تھی۔ مگر اس نے پھر بھی جنگ جاری رکھی، اور اب اس جنگ کو اس نے مجوسیت اور مسیحیت کی مذہبی جنگ کا رنگ دے دیا۔ عیسائیوں کے جن فرقوں کو رومی سلطنت کے سرکاری کلیسا نے ملحد قرار دے کر سالہا سال سے تختہ مشق ستم بنا رکھا تھا (یعنی نسطوری اور یعقوبی وغیرہ) ان کی ساری ہمدردیاں بھی مجوسی حملہ آوروں کے ساتھ ہوگئیں۔ اور یہودیوں نے بھی مجوسیوں کا ساتھ دیا، حتی کہ خسرو پرویز کی فوج میں بھرتی ہونے والے یہودیوں کی تعداد 26 ہزار تک پہنچ گئی۔
ہرقل آکر اس سیلاب کو نہ روک سکا۔ تخت نشین ہوتے ہی پہلی اطلاع جو اسے مشرق سے ملی وہ انطاکیہ پر ایرانی قبضے کی تھی۔ اس کے بعد 613 ء میں دمشق فتح ہوا۔ پھر 614 ء میں بیت المقدس پر قبضہ کر کے ایرانیوں نے مسیحی دنیا پر قیامت ڈھا دی۔ 90 ہزار عیسائی اس شہر میں قتل کیے گئے۔ ان کا سب سے زیادہ مقدس کلیسا، کینسۃ القیامہ (Holy Sepulchre) برباد کردیا گیا۔ اصلی صلیب جس کے متعلق عیسائیوں کا عقیدہ تھا کہ اسی پر مسیح نے جان دی تھی، مجوسیوں نے چھین کر مدائن پہنچا دی۔ لاٹ پادری زکریا کو بھی وہ پکڑ لے گئے اور شہر کے تمام بڑے بڑے گرجوں کو انہوں نے مسمار کردیا۔ اس فتح کا نشہ جس بری طرح خسرو پرویز پر چڑھا تھا اس کا اندازہ اس خط سے ہوتا ہے جو اس نے بیت المقدس سے ہرقل کو لکھا تھا اس میں وہ کہتا ہے
" سب خداؤں سے بڑے خدا، تمام روئے زمین کے مالک خسرو کے طرف سے اس کے کمیضہ اور بےشعور بندے ہرقل کے نام،
تو کہتا ہے کہ تجھے اپنے رب پر بھروسہ ہے، کیوں نہ تیرے رب نے یروشلم کو میرے ہاتھ سے بچا لیا " ؟
اس فتح کے بعد ایک سال کے اندر اندر ایرانی فوجیں اردن، فلسطین اور جزیرہ نمائے سینا کے پورے علاقے پر قابض ہو کر حدود مصر تک پہنچ گئیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مکہ معظمہ میں ایک اور اس سے بدرجہا زیادہ تاریخی اہمیت رکھنے والی جنگ برپا تھی۔ یہاں توحید کے علمبردار سیدنا محمد ﷺ کی قیادت میں، اور شرک کے پیروکار سرداران قریش کی رہنمائی میں ایک دوسرے سے برسر جنگ تھے، اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ 615 ء میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنا گھر بار چھوڑ کر حبش کی عیسائی سلطنت میں (جو روم کی حلیف تھی) پناہ لینی پڑی۔ اس وقت سلطنت روم پر ایران کے غلبے کا چرچا ہر زبان پر تھا۔ مکہ کے مشرکین اس پر بغلیں بجا رہے تھے اور مسلمانوں سے کہتے تھے کہ دیکھو ایران کے آتش پرست فتح پا رہے ہیں اور وحی و رسالت کے ماننے والے عیسائی شکست پر شکست کھاتے چلے جارہے ہیں۔ اسی طرح ہم عرب کے بت پرست بھی تمہیں اور تمہارے دین کو مٹا کر رکھ دیں گے۔
ان حالات میں قرآن مجید کی یہ سورة نازل ہوئی اور اس میں یہ پیشین گوئی کی گئی کہ " قریب کی سرزمین میں رومی مغلوب ہوگئے ہیں، مگر اس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر ہی وہ غالب آجائیں گے، اور وہ دن وہ ہوگا جب کہ اللہ کی دی ہوئی فتح سے اہل ایمان خوش ہو رہے ہوں گے "۔ اس میں ایک کے بجائے دو پیشین گوئیاں تھیں۔ ایک یہ کہ رومیوں کو غلبہ نصیب ہوگا۔ دوسری یہ کہ مسلمانوں کو بھی اسی زمانے میں فتح حاصل ہوگی۔ بظاہر دور دور تک کہیں اس کے آثار موجود نہ تھے کہ ان میں سے کوئی ایک پیشین گوئی بھی چند سال کے اندر پوری ہوجائے گی۔ ایک طرف مٹھی بھر مسلمان تھے جو مکہ میں مارے اور کھدیڑے جارہے تھے اور اس پیشین گوئی کے بعد بھی آٹھ سال تک ان کے لیے غلبہ و فتح کا کوئی امکان کسی کو نظر نہ آتا تھا۔ دوسری طرف روم کی مغلوبیت روز بروز بڑھتی چلی گئی۔ 619 ء تک پورا مصر ایران کے قبضہ میں چلا گیا اور مجوسی فوجوں نے طرابلس کے قریب پہنچ کر اپنے جھنڈے گاڑ دیے۔ ایشیائے کوچک میں ایرانی فوجیں رومیوں کو مارتی دباتی باسفورس کے کنارے تک پہنچ گئے اور 617 ء میں انہوں نے عین قسطنطنیہ کے سامنے خلقدون (Chalcedon موجودہ قاضی کوئی) پر قبضہ کرلیا۔ قیصر نے خسرو کے پاس ایلچی بھیج کر نہایت عاجزی کے ساتھ درخواست کی کہ میں ہر قیمت پر صلح کرنے کے لیے تیار ہوں۔ مگر اس نے جواب دیا کہ " اب میں قیصر کو اس وقت تک امان نہ دوں گا جب تک وہ پابزبخیر میرے سامنے حاضر نہ ہو اور اپنے خدائے مصلوب کو چھوڑ کر خداوند آتش کی بندگی نہ اختیار کرلے "۔ آخر کار قیصر اس حد تک شکست خوردہ ہوگیا کہ اس نے قسطنطنیہ چھوڑ کر قرطاجنہ (Carthage موجودہ ٹیونس) منتقل ہوجانے کا ارادہ کرلیا۔ غرض انگریز مورخ گبن کے بقول، قرآن مجید کی اس پیشین گوئی کے بعد بھی سات آٹھ برس تک حالات ایسے تھے کہ کوئی شخص یہ تصور تک نہ کرسکتا تھا کہ رومی سلطنت ایران پر غالب آجائے گی، بلکہ غلبہ تو درکنار اس وقت تو کسی کو یہ امید بھی نہ تھی کہ اب یہ سلطنت زندہ رہ جائے گی۔
قرآن کی یہ آیات جب نازل ہوئیں تو کفار مکہ نے ان کا خوب مذاق اڑایا اور ابی بن خلف نے حضرت ابوبکر سے شرط بدی کہ اگر تین سال کے اندر رومی غالب آگئے تو دس اونٹ میں دوں گا ورنہ دس اونٹ تم کو دینے ہوں گے۔ نبی ﷺ کو اس شرط کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ قرآن میں فِيْ بِضْعِ سِنِيْنَ کے الفاظ آئے ہیں، اور عربی زبان میں بضع کا اطلاق دس سے کم پر ہوتا ہے، اس لیے دس سال کے اندر کی شرط کرو اور اونٹوں کی تعداد بڑھا کر سو کردو۔ چناچہ حضرت ابوبکر نے ابی سے پھر بات کی اور نئے سرے سے یہ شرط طے ہوئے کہ دس سال کے اندر فریقین میں سے جس کی بات غلط ثابت ہوگی وہ سو اونٹ دے گا۔
622 ء میں ادھر نبی ﷺ ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لے گئے اور ادھر قیصر ہرقل خاموشی کے ساتھ قسطنطنیہ سے بحر اسود کے راستے طرابزون کی طرف روانہ ہوا، جہاں اس نے ایران پر پشت کی طرف سے حملہ کرنے کی تیاری کی۔ اس جوابی حملے کی تیاری کے لیے قیصر نے کلیسا سے روپیہ مانگا اور مسیحی کلیسا کے اسقف اعظم سرجیس (Sergius) نے مسیحیت کو مجوسیت سے بچانے کے لیے گرجاؤں کے نذرانوں کی جمع شدہ دولت سود پر قرض دی۔ ہرقل نے اپنا حملہ 623 ء میں ارمینیا سے شروع کیا اور دوسرے سال 624 ء میں اس نے آذر بیجان میں گھس کر زرتشت کے مقام پیدائش ارمیاہ (Clorumia) کو تباہ کردیا اور برائیوں کے سب سے بڑے آتش کدے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ خدا کی قدرت کا کرشمہ دیکھیے کہ یہی وہ سال تھا جس میں مسلمانوں کو بدر کے مقام پر پہلی مرتبہ مشرکین کے مقابلے میں فیصلہ کن فتح نصیب ہوئی۔ اس طرح وہ دونوں پیشین گوئیاں جو سورة روم میں کی گئی تھیں دس سال کی مدت ختم ہونے سے پہلے بیک وقت پوری ہوگئیں۔
پھر روم کی فوجیں ایرانیوں کو مسلسل دباتی چلی گئیں۔ نینوی کی فیصلہ کن لڑائی 627 ء میں انہوں نے سلطنت ایران کی کمر توڑ دی۔ اس کے بعد شاہان ایران کی قیام گاہ دستگرد (دسکرۃ الملک) کو تباہ کردیا گیا اور آگے بڑھ کر ہرقل کے لشکر عین طیسفون (Ctesiphon) کے سامنے پہنچ گئے جو اس وقت ایران کا دار السلطنت تھا۔ 628 ء میں خسرو پرویز کے خلاف گھر میں بغاوت رونما ہوئی۔ وہ قید کیا گیا، اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے 18 بیٹے قتل کردیے گئے۔ اور چند روز بعد وہ خود قید کی سختیوں سے ہلاک ہوگیا۔ یہی سال تھا جس میں صلح حدیبیہ واقع ہوئی جسے قرآن " فتح عظیم " کے نام سے تعبیر کرتا ہے، اور یہی سال تھا جس میں خسرو کے بیٹے قباد ثانی نے تمام رومی مقبوضات سے دست بردار ہو کر اور اصلی صلیب واپس کر کے روم سے صلح کرلی۔ 629 ء میں قصیر " مقدس صلیب " کو اس کی جگہ رکھنے کے لیے خود بیت المقدس گیا، اور اسی سال نبی ﷺ عمرۃ القضا ادا کرنے کے لیے ہجرت کے بعد پہلی مرتبہ مکہ معظمہ میں داخل ہوئے۔
اس کے بعد کسی کے لیے بھی اس امر میں شبہ کی گنجائش باقی نہ رہی کہ قرآن کی پیشین گوئی بالکل سچی تھی۔ عرب کے بکثرت مشرکین اس پر ایمان لے آئے۔ ابی بن خلف کے وارثوں کو ہار مان کر شرط کے اونٹ ابوبکر صدیق کے حوالے کرنے پڑے۔ وہ انہیں لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے حکم دیا کہ انہیں صدقہ کردیا جائے۔ کیونکہ شرط اس وقت ہوئی تھی جب شریعت میں جوئے کی حرمت کا حکم نہیں آیا تھا، مگر اب حرمت کا حکم آچکا تھا، اس لیے حربی کافروں سے شرط کا مال تو لے لینے کی اجازت دے دی گئی مگر ہدایت کی گئی کہ اسے خود استعمال کرنے کے بجائے صدقہ کردیا جائے۔
موضوع اور مضمون
اس سورة میں کلام کا آغاز اس بات سے کیا گیا ہے کہ آج رومی مغلوب ہوگئے ہیں اور ساری دنیا یہ سمجھ رہی ہے کہ اس سلطنت کا خاتمہ قریب ہے۔ مگر چند سال نہ گزرنے پائیں گے کہ پانسہ پلٹ جائے گا اور جو مغلوب ہے وہ غالب ہوجائے گا۔
اس تمہید سے یہ مضمون نکل آیا کہ انسان اپنی سطح بینی کی کی وجہ سے وہی کچھ دیکھتا ہے جو بظاہر اس کی آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے، مگر اس ظاہر کے پردے کے پیچھے جو کچھ ہے اس کی اسے خبر نہیں ہوتی۔ یہ ظاہر بینی جب دنیا کے ذرا ذرا سے معاملات میں غلط فہمیوں اور غلط اندازوں کی موجب ہوتی ہے، اور جبکہ محض اتنی سی بات نہ جاننے کی وجہ سے کل " کل کیا ہونے والا ہے " آدمی غلط تخمینے لگا بیٹھتا ہے تو پھر بحیثیت مجموعی پوری زندگی کے معاملے میں ظاہر حیات دنیا پر اعتماد کر بیٹھنا اور اسی کی بنیاد پر اپنے پورے سرمایہ حیات کو داؤں پر لگا دینا کتنی بڑی غلطی ہے۔
اس طرح روم و ایران کے معاملے سے تقریر کا رخ آخرت کے مضمون کی طرف پھرجاتا ہے اور مسلسل تین رکوعوں تک طریقے طریقے سے یہ سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ آخرت ممکن بھی ہے، معقول بھی ہے، اس کی ضرورت بھی ہے، اور انسانی زندگی کے نظام کو درست رکھنے کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ آدمی آخرت کا یقین رکھ کر اپنی موجودہ زندگی کا پروگرام اختیار کرے، اور نہ وہی غلطی واقع ہوگی جو ظاہر پر اعتماد کرلینے سے واقع ہوا کرتی ہے۔
اس سلسلے میں آخرت پر استدلال کرتے ہوئے کائنات کے جن آثار کو شہادت میں پیش کیا گیا ہے وہ بعینہ وہی آثار ہیں جو توحید پر بھی دلالت کرتے ہیں، اس لیے چوتھے رکوع کے آغاز سے تقریر کا رخ توحید کے اثبات اور شرک کے ابطال کی طرف پھرجاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ انسان کے لیے فطری دین اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ وہ بالکل یکسو ہو کر خدائے واحد کی بندگی کرے۔ شرک فطرت کائنات اور فطرت انسان کے خلاف ہے، اسی لیے جہاں بھی انسان نے اس گمراہی کو اختیار کیا ہے وہاں فساد رونما ہوا ہے۔ اس موقع پر پھر اس فساد عظیم، جو اس وقت دنیا کی دو سب سے بڑی سلطنتوں کے درمیان جنگ کی بدولت برپا تھا، اشارہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ فساد بھی شرک کے نتائج میں سے ہے اور پچھلی انسانی تاریخ میں بھی جتنی قومیں مبتلائے فساد ہوئی ہیں وہ سب بھی مشرک ہی تھیں۔
خاتمہ کلام پر تمثیل کے پیرایہ میں لوگوں کو سمجھایا گیا ہے کہ جس طرح مردہ پڑی ہوئی زمین خدا کی بھیجی ہوئی بھیجی ہوئی بارش سے یکایک جی اٹھتی ہے اور زندگی و بہار کے خزانے اگلنے شروع کردیتی ہے، اسی طرح خدا کی بھیجی ہوئی وحی و نبوت بھی مردہ پڑی ہوئی انسانیت کے حق میں ایک باران رحمت ہے جس کا نزول اس کے لیے زندگی اور نشو و نما اور خیر و فلاح کا موجب ہوتا ہے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاؤ گے تو یہی عرب کی سونی زمین رحمت الہی سے لہلہا اٹھے گی اور ساری بھلائی تمہارے اپنے لیے ہی ہوگی۔ اس سے فائدہ نہ اٹھاؤ گے تو اپنا ہی نقصان کرو گے، پھر پچھتانے کا کچھ حاصل نہ ہوگا اور تلافی کا کوئی موقع تمہیں میسر نہ آئے گا۔
Ayah 30:3سورة الروم 1
ابن عباس ؓ اور دوسرے صحابہ وتابعین کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ روم و ایران کی اس لڑائی میں مسلمانوں کی ہمدردیاں روم کے ساتھ اور کفار مکہ کی ہمدردیاں ایران کے ساتھ تھیں۔ اس کے کئی وجوہ تھے۔ ایک یہ کہ ایرانیوں نے اس لڑائی کو مجوسیت اور مسیحیت کی لڑائی کا رنگ دے دیا تھا اور وہ ملک گیری کے مقصد سے تجاوز کر کے اسے مجوسیت پھیلانے کا ذریعہ بنا رہے تھے۔ بیت المقدس کی فتح کے بعد خسرو پرویز نے جو خط قیصر روم کو لکھا تھا اس میں صاف طور پر وہ اپنی فتح کو مجوسیت کے برحق ہونے کی دلیل قرار دیتا ہے اصولی اعتبار سے مجوسیں کا مذہب مشرکین مکہ کے مذہب سے ملتا جلتا تھا، کیونکہ وہ بھی توحید کے منکر تھے، دو خداؤں کا مانتے تھے اور آگ کی پرستش کرتے تھے۔ اس لیے مشرکین کی ہمدردیاں ان کے ساتھ تھیں۔ ان کے مقابلہ میں مسیحی خواہ کتنے ہی مبتلائے شرک ہوگئے ہوں، مگر وہ خدا کی توحید کو اصل دین مانتے تھے، آخرت کے قائل تھے، اور وحی و رسالت کو سرچشمہ ہدایت تسلیم کرتے تھے۔ اس بنا پر ان کا دین اپنی اصل کے اعتبار سے مسلمانوں کے دین سے مشابہت رکھتا تھا، اور اسی لیے مسلمان قدرتی طور پر ان سے ہمدردی رکھتے تھے اور ان پر مشرک قوم کا غلبہ انہیں ناگوار تھا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ ایک نبی کی آمد سے پہلے جو لوگ سابق نبی کو مانتے ہوں وہ اصولا مسلمان ہی کی تعریف میں آتے ہیں اور جب تک بعد کے آنے والے نبی کی دعوت انہیں نہ پہنچے اور وہ اس اک انکار نہ کردیں، ان کا شمار مسلمانوں ہی میں رہتا ہے۔ (ملاحظہ ہو سورة قصص، حاشیہ 73) اس وقت نبی ﷺ کی بعثت پر صرف پانچ چھ برس ہی گزرے تھے، اور حضور کی دعوت ابھی تک باہر نہیں پہنچی تھی، اس لیے مسلمان عیسائیوں کا شمار کافروں میں نہیں کرتے تھے۔ البتہ یہودی ان کی نگاہ میں کافر تھے، کیونکہ وہ حضرت عیسیٰ ؑ کی نبوت کا انکار کرچکے تھے، تیسری وجہ یہ تھی کہ آغاز اسلام میں عیسائیوں کی طرف سے مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی ہی کا برتاؤ ہوا تھا جیسا کہ سورة قصص آیات 52 تا 55 اور سورة مائدہ آیات 82 تا 85 میں بیان ہوا ہے۔ بلکہ ان میں سے بہت سے لوگ کھلے دل سے دعوت حق قبول کر رہے تھے۔ پھر ہجرت حبشہ کے موقع پر جس طرح حبش کے عیسائی بادشاہ نے مسلمانوں کو پناہ دی اور ان کی واپسی کے لیے کفار مکہ کے مطالبے کو ٹھکرا دیا اس کا بھی یہ تقاضا تھا کہ مسلمان مجوسیوں کے مقابلہ میں عیسائیوں کے خیر خواہ ہوں۔
Ayahs 30:4–6سورة الروم 2
یعنی پہلے جب ایرانی غالب آئے تو اس بنا پر نہیں کہ معاذ اللہ خداوند عالم ان کے مقابلے میں شکست کھا گیا، اور بعد میں جب رومی فتح یاب ہوں گے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو اس کا کھویا ہوا ملک مل جائے گا۔ فرمانروائی تو ہر حال میں اللہ ہی کی ہے۔ پہلے جسے فتح نصیب ہوئی اسے بھی اللہ ہی نے فتح دی اور بعد میں جو فتح پائے گا وہ بھی اللہ ہی کے حکم سے پائے گا۔ اس کی خدائی میں کوئی اپنے زور سے غلبہ حاصل نہیں کرسکتا۔ جسے وہ اٹھاتا ہے وہی اٹھتا ہے اور جسے وہ گراتا ہے وہی گرتا ہے۔
سورة الروم 3
ابن عباس، ابو سعید خدری، سفیان ثوری، سدی ؓ وغیرہ حضرات کا بیان ہے کہ ایرانیوں پر رومیوں کی فتح اور جنگ بدر میں مشرکین پر مسلمانوں کی فتح کا زمانہ ایک ہی تھا، اس لیے مسلمانوں کو دوہری خوشی حاصل ہوئی۔ یہی بات ایران اور روم کی تاریخوں سے بھی ثابت ہے۔ 624 ء ہی وہ سال ہے جس میں جنگ بدر ہوئی اور یہی وہ سال ہے جس میں قیصر روم نے زرتشت کا مولد تباہ کیا اور ایران کے سب سے بڑے آتشکدے کو مسمار کردیا۔
Ayah 30:7سورة الروم 4
یعنی اگرچہ آخرت پر دلالت کرنے والے آثار و شواہد کثرت سے موجود ہیں اور اس سے غفلت کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے، لیکن یہ لوگ اس سے خود ہی غفلت برت رہے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یہ یہ ان کی اپنی کوتاہی ہے کہ دنیوی زندگی کے اس ظاہری پردے پر نگاہ جما کر بیٹھ گئے ہیں اور اس کے پیچھے جو کچھ آنے والا ہے اس سے بالکل بیخبر ہیں، ورنہ خدا کی طرف سے ان کو خبردار کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں ہوئی ہے۔
Ayah 30:8سورة الروم 5
یہ آخرت پر بجائے خود ایک مستقل استدلال ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر یہ لوگ باہر کسی طرف نگاہ دوڑانے سے پہلے خود اپنے وجود پر غور کرتے تو انہیں اپنے اندر ہی وہ دلائل مل جاتے جو موجودہ زندگی کے بعد دوسری زندگی کی ضرورت ثابت کرتے ہیں۔ انسان کی تین امتیازی خصوصیات ایسی ہیں جو اس کو زمین کی دوسری موجودات سے ممیز کرتی ہیں
ایک یہ کہ زمین اور اس کے ماحول کی بیشمار چیزیں اس کے لیے مسخر کردی گئی ہیں، اور ان پر تصرف کے وسیع اختیارات اس کو بخش دیے گئے ہیں۔
دوسرے یہ کہ اسے اپنی راہ زندگی کے انتخاب میں آزاد چھوڑ دیا گیا ہے۔ ایمان اور کفر، طاعت اور معصیت، نیکی اور بدی کی راہوں میں سے جس راہ پر بھی جانا چاہے جاسکتا ہے۔ حق اور باطل، صحیح اور غلط جس طریقے کو بھی اختیار کرنا چاہے کرسکتا ہے۔ ہر راستے پر چلنے کے لیے اسے توفیق دے دی جاتی ہے اور اس پر چلنے میں وہ خدا کے فراہم کردہ ذرائع استعمال کرسکتا ہے، خواہ وہ خدا کی اطاعت کا راستہ ہو یا اس کی نافرمانی کا راستہ۔
تیسرے یہ کہ اس میں پیدائشی طور پر اخلاق کی حس رکھ دی گئی ہے جس کی بنا پر وہ اختیاری اعمال اور غیر اختیار اعمال میں فرق کرتا ہے، اختیاری اعمال پر نیکی اور بدی کا حکم لگاتا ہے اور بداہۃ یہ رائے قائم کرتا ہے کہ اچھا عمل جزا کا اور برا عمل سزا کا مستحق ہونا چاہیے۔
یہ تینوں خصوصیتیں جو انسان کے اپنے وجود میں پائی جاتی ہیں اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ کوئی وقت ایسا ہونا چاہیے جب انسان سے محاسبہ کیا جائے۔ جب اس سے پوچھا جائے کہ جو کچھ دنیا میں اس کو دیا گیا تھا اس پر تصرف کے اختیارات کو اس نے کس طرح استعمال کیا ؟ جب یہ دیکھا جائے کہ اس نے اپنی آزادی انتخاب کو استعمال کر کے صحیح راستہ اختیار کیا یا غلط ؟ جب اس کے اختیاری اعمال کی جانچ کی جائے اور نیک عمل پر جزا اور برے عمل پر سزا دی جائے۔ یہ وقت لا محالہ انسان کا کارنامہ زندگی ختم اور اس کا دفتر عمل بند ہونے کے بعد ہی آسکتا نہ کہ اس سے پہلے۔ اور یہ وقت لازما اسی وقت آنا چاہیے جب کہ ایک فرد یا ایک قوم کا نہیں بلکہ تمام انسانوں کا دفتر عمل بند ہو۔ کیونکہ ایک فرد یا ایک قوم کے مرجانے پر ان اثرات کا سلسلہ ختم نہیں ہوجاتا جو اس نے اپنے اعمال کی بدولت دنیا میں چھوڑے ہیں۔ اس کے چھوڑے ہوئے اچھے یا برے اثرات بھی تو اس کے حساب میں شمار ہونے چاہیں۔ یہ اثرات جب تک مکمل طور پر ظاہر نہ ہولیں انصاف کے مطابق پورا محاسبہ کرنا اور پوری جزا یا سزا دینا کیسے ممکن ہے ؟ اس طرح انسان کا اپنا وجود اس بات کی شہادت دیتا ہے اور زمین میں انسان کو جو حیثیت حاصل ہے وہ آپ سے آپ اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ دنیا کی موجودہ زندگی کے بعد ایک دوسرے زندگی ایسی ہو جس میں عدالت قائم ہو، انصاف کے ساتھ انسان کے کارنامہ زندگی کا محاسبہ کیا جائے، اور ہر شخص کو اس کے کام کے لحاظ سے جزا دی جائے۔
سورة الروم 6
اس فقرے میں آخرت کی دو مزید دلیلیں دی گئی ہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اگر انسان اپنے وجود سے باہر کے نظام کائنات کو بنظر غور دیکھے تو اسے دو حقیقتیں نمایاں نظر آئیں گی۔
ایک یہ کہ یہ کائنات برحق بنائی گئٰ ہے۔ یہ کسی بچے کا کھیل نہیں ہے کہ محض دل بہلانے کے لیے اس نے ایک بےڈھنگا سا گھروندا بنا لیا ہو جس کی تعمیر اور تخریب دونوں ہی بےمعنی ہوں۔ بلکہ یہ ایک سنجیدہ نظام ہے جس کا ایک ایک ذرہ اس بات پر گواہی دے رہا ہے کہ اسے کمال درجہ حکمت کے ساتھ بنایا گیا ہے، جس کی ہر چیز میں ایک قانون کار فرما ہے، جس کی ہر شے با مقصد ہے۔ انسان کا سارا تمدن اور اس کی پوری معیشت اور اس کے تمام علوم و فنون خود اس بات پر گواہ ہیں۔ دنیا کی ہر چیز کے پیچھے کام کرنے والے قوانین کو دریافت کر کے اور ہر شے جس مقصد کے لیے بنائی گئی ہے اسے تلاش کر کے ہی انسان یہاں یہ سب کچھ تعمیر کرسکا ہے۔ ورنہ ایک بےضابطہ اور بےمقصد کھلونے میں اگر ایک پتلے کی حیثیت سے اس کو رکھ دیا گیا ہوتا تو کسی سائنس اور کسی تہذیب و تمدن کا تصور تک نہ کیا جاسکتا تھا۔ اب آخر یہ بات تمہاری عقل میں کیسے سماتی ہے کہ جس حکیم نے اس حکمت اور مقصدیت کے ساتھ یہ دنیا بنائی ہے اور اس کے اندر تم جیسی ایک مخلوق کو اعلی درجہ کی ذہنی و جسمانی طاقتیں دے کر، اختیارات دے کر، آزادی انتخاب دے کر، اخلاق کی حس دے کر اپنی دنیا کا بیشمار سروسمان تمہارے حوالہ کیا ہے، اس نے تمہیں بےمقصد ہی پیدا کردیا ہوگا ؟ تم دنیا میں تعمیر و تخریب اور نیکی و بدی، اور ظلم و عدل اور راستی و ناراستی کے سارے ہنگامے برپا کرنے کے بعد بس یونہی مر کر مٹی میں مل جاؤ گے گے اور تمہارے کسی اچھے یا برے کام کا کوئی نتیجہ نہ ہوگا ؟ تم اپنے ایک ایک عمل سے اپنی اور اپنے جیسے ہزاروں انسانوں کی زندگی پر اور دنیا کی بیشمار اشیاء پر بہت سے مفید یا مضر اثرات ڈال کر چلے جاؤ گے اور تمہارے مرتے ہی یہ سارا دفتر عمل بس یونہی لپیٹ کر دریا برد کردیا جائے گا ؟
دوسری حقیقت جو اس کائنات کے نظام کا مطالعہ کرنے سے صاف نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہاں کسی چیز کے لیے بھی ہمیشگی نہیں ہے۔ ہر شے کے لے ایک عمر مقرر ہے جسے پہنچنے کے بعد وہ ختم ہوجاتی ہے۔ اور یہی معاملہ بحیثیت مجموعی پوری کائنات کا بھی ہے۔ یہاں جتنی طاقتیں کام کر رہی ہیں وہ سب محدود ہیں۔ ایک وقت وقت تک ہی وہ کام کر رہی ہیں، اور کسی وقت پر انہیں لا محالہ خرچ ہوجانا اور اس نظام کو ختم ہوجانا ہے۔ قدیم زمانے میں تو علم کی کمی کے باعث ان فلسفیوں اور سائنسدانوں کی بات کچھ چل بھی جاتی تھی جو دنیا کو ازلی و ابدلی قرار دیتے تھے۔ مگر موجودہ سائنس نے عالم کے حدوث و قدم کی اس بحث میں جو ایک مدت دراز سے دہریوں اور خدا پرستوں کے درمیان چلی آرہی تھی، قریب قریب حتمی طور پر اپنا ووٹ خدا پرستوں کے حق میں ڈال دیا ہے، اب دہریوں کے لیے عقل اور حکمت کا نام لے کر یہ دعوی کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ہے کہ دنیا ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی اور قیامت کبھی نہ آئے گی۔ پرانی مادہ پرستی کا سارا انحصار اس تخیل پر تھا کہ مادہ فنا نہیں ہوسکتا، صرف صورت بدلی جاسکتی ہے، مگر ہر تغیر کے بعد مادہ مادہ ہی رہتا ہے اور اس کی مقدار میں کوئی کمی و بیشی نہیں ہوتی۔ اس بنا پر یہ نتیجہ نکالا جاتا تھا کہ اس عالم مادی کی نہ کوئی ابتدا ہے نہ انتہا۔ لیکن اب جوہری توانائی (Atomicenergy) کے انکشاف نے اس پورے تخیل کی بساط الٹ کر رکھ دی ہے۔ اب یہ بات کھل گئی ہے کہ قوت مادے میں تبدیل ہوتی ہے اور مادہ پھر قوت میں تبدیل ہوجاتا ہے حتی کہ نہ صورت باقی رہتی ہے نہ ہیولی۔ اب حرکیات حرارت کے دوسرے قانون (Second Law of Thermo-Dynamics) نے یہ ثابت کردیا ہے کہ یہ عالم مادی نہ ازلی ہوسکتا ہے نہ ابدی۔ اس کو لازما ایک وقت شروع اور ایک وقت ختم ہونا ہی چاہیے۔ اس لیے سائنس کی بنیاد پر اب قیامت کا انکار ممکن نہیں رہا ہے۔ اور ظاہر بات ہے کہ جب سائنس ہتھیار ڈال دے تو فلسفہ کن ٹانگوں پر اٹھ کر قیامت کا انکار کرے گا ؟
سورة الروم 7
یعنی اس بات کے منکر کہ انہیں مرنے کے بعد اپنے رب کے سامنے حاضر ہونا ہے۔
Ayahs 30:9–10سورة الروم 8
یہ آخرت کے حق میں تاریخی استدلال ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آخرت کا انکار دنیا میں دو چار آدمیوں ہی نے تو نہیں کیا ہے۔ انسانی تاریخ کے دوران میں کثیر التعداد انسان اس مرض میں مبتلا ہوتے رہے ہیں۔ بلکہ پوری پوری قومیں ایسی گزری ہیں جنہوں نے یا تو اس کا انکار کیا ہے، اس سے غافل ہو کر رہی ہیں، یا حیات بعد الموت کے متعلق ایسے غلط عقیدے ایجاد کرلیے ہیں جن سے آخرت کا عقیدہ بےمعنی ہو کر رہ جاتا ہے۔ پھر تاریخ کا مسلسل تجربہ یہ بتاتا ہے کہ انکار آخرت جس صورت میں بھی کیا گیا ہے اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کے اخلاق بگڑے، وہ اپنے آپ کو غیر ذمہ دار سمجھ کر شتر بےمہار بن گئے، انہوں نے ظلم و فساد اور فسق و فجور کی حد کردی، اور اسی چیز کی بدولت قوموں پر قومیں تباہ ہوتی چلی گئیں۔ کیا ہزاروں سال کی تاریخ کا یہ تجربہ، جو پے در پے انسانی نسلوں کو پیش آتا رہا ہے، یہ ثابت نہیں کرتا کہ آخرت ایک حقیقت ہے جس کا انکار انسان کے لیے تباہ کن ہے ؟ انسان کشش ثقل کا اسی لیے تو قائل ہوا ہے کہ تجربے اور مشاہدے سے اس نے مادی اشیاء کو ہمیشہ زمین کی طرف گرتے دیکھا ہے۔ انسان نے زہر کو زہر اسی لیے تو مانا ہے کہ جس نے بھی زہر کھایا وہ ہلاک ہوا۔ اسی طرح جب آخرت کا انکار ہمیشہ انسان کے لیے اخلاقی بگاڑ کا موجب ثابت ہوا ہے تو کیا یہ تجربہ یہ سبق دینے کے لیے کافی نہیں ہے کہ آخرت ایک حقیقت ہے اور اس کو نظر انداز کر کے دنیا میں زندگی بسر کرنا غلط ہے ؟
سورة الروم 9
اصل میں لفظ ّاَثَارُوا الْاَرْضَ استعمال ہوا ہے۔ اس کا اطلاق زراعت کے لیے ہل چلانے پر بھی ہوسکتا ہے اور زمین کھود کر زمین پانی، نہریں، کاریزیں اور معدنیات وغیرہ نکالنے پر بھی۔
سورة الروم 10
اس میں ان لوگوں کے استدلال کا جواب موجود ہے جو محض مادی ترقی کو کسی قسم کے صالح ہونے کی علامت سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جن لوگوں نے زمین کے ذرائع کو اتنے بڑے پیمانے پر استعمال (exploit) کیا ہے، جنہوں نے دنیا میں عظیم الشان تعمیری کام کیے ہیں اور ایک شاندار تمدن کو جنم دیا ہے، بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو جہنم کا ایندھن بنا دے۔ قرآن اس کا جواب یہ دیتا ہے کہ یہ " تعمیری کام " پہلے بھی بہت سی قوموں نے بڑے پیمانے پر کیے ہیں، پھر کیا تمہاری آنکھوں نے نہیں دیکھا کہ وہ قومیں اپنی تہزیب اور اپنے تمدن سمیت پیوند خاک ہوگئیں اور ان کی " تعمیر " کا قصر فلک بوس زمین پر آرہا ؟ جس خدا کے قانون نے یہاں عقیدہ حق اور اخلاق صالحہ کے بغیر محض مادی تعمیر کی یہ قدر کی ہے، آخر کیا وجہ ہے کہ اسی خدا کا قانون دوسرے جہان میں انہیں واصل جہنم نہ کرے ؟
سورة الروم 11
یعنی ایسی نشانیاں لے کر آئے جو ان کے نبی صادق ہونے کا یقین دلانے کے لیے کافی تھیں۔ اس سیاق وسباق میں انبیاء کی آمد کے ذکر کا مطلب یہ ہے کہ ایک طرف انسان کے اپنے وجود میں، اور اس سے باہر ساری کائنات کے نظام میں، اور انسانی تاریخ کے مسلسل تجربے میں آخرت کی شہادتیں موجود تھیں، اور دوسری طرف پے در پے ایسے انبیاء بھی آئے جن کے ساتھ ان کی نبوت کے برحق ہونے کی کھلی کھلی علامتیں پائی جاتی تھیں اور انہوں نے انسانوں کو خبردار کیا کہ فی الواقع آخرت آنے والی ہے۔
سورة الروم 12
یعنی اس کے بعد جو تباہی ان قوموں پر آئی وہ ان پر خدا کا ظلم نہ تھا بلکہ وہ ان کا اپنا طلم تھا جو انہوں نے اپنے اوپر کیا۔ جو شخص یا گروہ نہ خود صحیح سوچے اور نہ کسی سمجھانے والے کے سمجھانے سے صحیح رویہ اختیار کرے اس پر اگر تباہی آتی ہے تو وہ آپ ہی اپنے برے انجام کا ذمہ دار ہے۔ خدا پر اس کا الزام عائد نہیں کیا جاسکتا۔ خدا نے تو اپنی کتابوں اور اپنے انبیاء کے ذریعہ سے انسان کو حقیقت کا علم دینے کا انتظام بھی کیا ہے، اور وہ علمی و عقلی وسائل بھی عطا کیے ہیں جن سے کام لے کر وہ ہر وقت انبیاء اور کتب آسمانی کے دیے ہوئے علم کی صحت جانچ سکتا ہے۔ اس رہنمائی اور ان ذرائع سے اگر خدا نے انسان کو محروم رکھا ہوتا اور اس حالت میں انسان کو غلط روی کے نتائج سے دو چار ہونا پڑتا تب بلا شبہ خدا پر ظلم کے الزام کی گنجائش نکل سکتی تھی۔
Ayah 30:11سورة الروم 13
یہ بات اگرچہ دعوے کے انداز میں بیان فرمائی گئی ہے مگر اس میں خود دلیل دعوی بھی موجود ہے۔ صریح عقل اس بات پر شہادت دیتی ہے کہ جس کے لیے خلق کی ابتدا کرنا ممکن ہو اس کے لیے اسی خلق کا اعادہ کرنا بدرجہ اولی ممکن ہے۔ خلق کی ابتدا تو ایک امر واقعہ ہے جو سب کے سامنے موجود ہے۔ اور کفار و مشرکین بھی مانتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کا فعل ہے۔ اس کے بعد ان کا یہ خیال کرنا سراسر نامعقول بات ہے کہ وہی خدا جس نے اس خلق کی ابتدا کی ہے، اس کا اعادہ نہیں کرسکتا۔
Ayah 30:12سورة الروم 14
یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹنے اور اس کے حضور پیش ہونے کی ساعت۔
سورة الروم 15
اصل میں لفظ ابلا من استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی ہیں سخت مایوسی اور صدمے کی بنا پر کسی شخص کا گم سم ہوجانا، امید کے سارے راستے بند پاکر حیران و ششدر رہ جانا، کوئی حجت نہ پاکر دم بخود رہ جانا۔ یہ لفظ جب مجرم کے لیے استعمال کیا جائے تو ذہن کے سامنے اس کی یہ تصویر آتی ہے کہ ایک شخص عین حالت جرم میں بھرے ہاتھوں (Red- Handed) پکڑا گیا ہے، نہ فرار کی کوئی راہ پاتا ہے، نہ اپنی صفائی میں کوئی چیز پیش کر کے بچ نکلنے کی توقع رکھتا ہے، اس لیے زبان اس کی بند ہے اور وہ انتہائی مایوسی و دل شکستگی کی حالت میں حیران و پریشان کھڑا ہے۔
اس مقام پر یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ یہاں مجرمین سے مراد صرف وہی لوگ نہیں ہیں جنہوں نے دنیا میں قتل، چوری، ڈاکے اور اسی طرح کے دوسرے جرائم کیے ہیں، بلکہ وہ سب لوگ مراد ہیں جنہوں نے خدا سے بغاوت کی ہے، اس کے رسولوں کی تعلیم و ہدایت کو قبول کرنے سے انکار کیا ہے، آخرت کی جواب دہی کے منکر یا اس سے بےفکر رہے ہیں، اور دنیا میں خدا کے بجائے دوسروں کی یا اپنے نفس کی بندگی کرتے رہے ہیں، خواہ اس بنیادی گمراہی کے ساتھ انہوں نے وہ افعال کیے ہوں یا نہ کیے ہوں جنہیں عرف عام میں جرائم کہا جاتا ہے۔ مزید برآں اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے خدا کو مان کر، اس کے رسولوں پر ایمان لاکر، آخرت کا اقرار کر کے پھر دانستہ اپنے رب کی نافرمانیاں کی ہیں اور آخر وقت تک اپنی اس باغیانہ روش پر ڈٹے رہے ہیں۔ یہ لوگ جب اپنی توقعات کے بالکل خلاف عالم آخرت میں یکایک جی اٹھیں گے اور دیکھیں گے کہ یہاں تو واقعی وہ دسری زندگی پیش آگئی ہے جس کا انکار کر کے، یا جسے نظر انداز کر کے وہ دنیا میں کام کرتے رہے تھے تو ان کے حواس باختہ ہوجائیں گے اور وہ کیفیت ان پر طاری ہوگی جس کا نقشہ يُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ کے الفاظ میں کھینچا گیا ہے۔
Ayah 30:13سورة الروم 16
شرکاء کا اطلاق تین قسم کی ہستیوں پر ہوتا ہے۔ ایک ملائکہ، انبیاء، اولیاء اور شہداء و صالحین جن کو مختلف زمانوں میں مشرکین نے خدائی صفات و اختیارات کا حامل قرار دے کر ان کے آگے مراسم عبودیت انجام دیے ہیں۔ وہ قیامت کے روز صاف کہہ دیں گے کہ تم یہ سب کچھ ہماری مرضی کے بغیر، بلکہ ہماری تعلیم و ہدایت کے سراسر خلاف کرتے رہے ہو، اس لیے ہمارا تم سے کوئی واسطہ نہیں، ہم سے کوئی امید نہ رکھو کہ ہم تمہاری شفاعت کے لیے خدائے بزرگ کے سامنے کچھ عرض معروض کریں گے۔ دوسری قسم ان اشیاء کی ہے جو بےشعور یا بےجان ہیں، جیسے چاند، سورج، سیارے، درخت، پتھر اور حیوانات وغیرہ۔ مشرکین نے ان کو خدا بنایا اور ان کی پرستش کی اور ان سے دعائیں مانگیں، مگر وہ بےچارے بیخبر ہیں کہ اللہ میاں کے خلیفہ صاحب یہ ساری نیاز مندیاں ان کے لیے وقف فرما رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان میں سے بھی کوئی وہاں ان کی شفاعت کے لیے آگے بڑھنے والا نہ ہوگا۔ تیسری قسم ان اکابر مجرمین کی ہے جنہوں نے خود کوشش کر کے، مکر و فریب سے کام لے کر، جھوٹ کے جال پھیلا کر، یا طاقت استعمال کر کے دنیا میں خدا کے بندوں سے اپنی بندگی کرائے، مثلا شیطان، جھوٹے مذہبی پیشوا اور ظالم و جابر حکمراں وغیرہ۔ یہ وہاں خود گرفتار بلا ہوں گے، اپنے ان بندوں کی سفارش کے لیے آگے بڑھنا تو درکنار ان کی تو الٹی کوشش یہ ہوگی کہ اپنے نامہ اعمال کا بوجھ ہلکا کریں اور دار محشر کے حضور یہ ثابت کردیں کہ یہ لوگ اپنے جرائم کے خود ذمہ دار ہیں، ان کی گمراہی کا وبال ہم پر نہیں پڑنا چاہیے۔ اس طرح مشرکین کو وہاں کسی طرف سے بھی کوئی شفاعت بہم نہ پہنچے گی۔
سورة الروم 17
یعنی اس وقت یہ مشرکین خود اس بات کا اقرار کریں گے کہ ہم ان کو خدا کا شریک ٹھہرانے میں غلطی پر تھے۔ ان پر یہ حقیقت کھل جائے گی کہ فی الواقع ان میں سے کسی کا بھی خدائی میں کوئی حصہ نہیں ہے، اس لیے جس شرک پر آج وہ دنیا میں اصرار کر رہے ہیں، اسی کا وہ آخرت میں انکار کریں گے۔
Ayah 30:14سورة الروم 18
یعنی دنیا کی وہ تمام جتھ بندیاں جو آج قوم، نسل، وطن، زبان، قبیلہ و برادری، اور معاشی و سیاسی مفادات کی بنیاد پر بنی ہوئی ہیں، اس روز ٹوٹ جائیں گی، اور خالص عقیدے اور اخلاق و کردار کی بنیاد پر نئے سرے سے ایک دوسرے گروہ بندی ہوگی۔ ایک طرف نوع انسانی کی تمام اگلی پچھلی قوموں میں سے مومن و صالح انسان الگ چھانٹ لیے جائیں گے اور ان سب کا ایک گروہ ہوگا۔ دوسری طرف ایک ایک قسم کے گمراہانہ نظریات و عقائد رکھنے والے، اور ایک ایک قسم کے جرائم پیشہ لوگ اس عظیم الشان انسانی بھیڑ میں سے چھانٹ چھانٹ کر الگ نکال لیے جائیں گے اور ان کے الگ الگ گروہ بن جائیں گے۔ دوسرے الفاظ میں یوں سمجھنا چاہیے کہ اسلام جس چیز کو اس دنیا میں تفریق اور اجتماع کی حقیقی بنیاد قرار دیتا ہے اور جسے جاہلیت کے پرستار یہاں ماننے سے انکار کرتے ہیں، آخرت میں اسی بنیاد پر تفریق بھی ہوگی اور اجتماع بھی۔ اسلام کہتا ہے کہ انسانوں کو کاٹنے اور جوڑنے والی اصل چیز عقیدہ اور اخلاق ہے۔ ایمان لانے والے اور خدائی ہدایت پر نظام زندگی کی بنیاد رکھنے والے ایک امت ہیں، خواہ وہ دنیا کے کسی گوشے سے تعلق رکھتے ہوں اور کفر و فسق کی راہ اختیار کرنے والے ایک دوسرے امت میں، خواہ ان کا تعلق کسی نسل و وطن سے ہو۔ ان دونوں کی قومیت ایک نہیں ہوسکتی۔ یہ نہ دنیا میں ایک مشترک راہ زندگی بنا کر ایک ساتھ چل سکتے ہیں اور نہ آخرت میں ان کا انجام ایک ہوسکتا ہے۔ دنیا سے آخرت تک ان کی راہ اور منزل ایک دوسرے سے الگ ہے۔ جاہلیت کے پرستار اس کے برعکس ہر زمانے میں اصرار کرتے رہے ہیں اور آج بھی اسی بات پر مصر ہیں کہ جتھ بندی نسل اور وطن اور زبان کی بنیادوں پر ہونی چاہیے، ان بنیادوں کے لحاظ سے جو لوگ مشترک ہوں انہیں بلا لحاظ مذہب و عقیدہ ایک قوم بن کر دوسرے ایسی ہی قوموں کے مقابلے میں متحد ہونا چاہیے، اور اس قومیت کا ایک ایسا نظام زندگی ہونا چاہیے جس میں توحید اور شرک اور دہریت کے معتقدین سب ایک ساتھ مل کر چل سکیں۔ یہی تخیل ابوجہل اور ابو لہب اور سرداران قریش کا تھا، جب وہ بار بار محمد ﷺ پر الزام رکھتے تھے کہ اس شخص نے آکر ہماری قوم میں تفرقہ ڈال دیا ہے۔ اسی پر قرآن مجید یہاں متنبہ کررہا ہے کہ تمہاری یہ تمام جتھ بندیاں جو تم نے اس دنیا میں غلط بنیادوں پر کر رکھی ہیں آخر کار ٹوٹ جانے والی ہیں، اور نوع انسانی میں مستقل تفریق اسی عقیدے اور نظریہ حیات اور اخلاق و کردار کی بنیاد پر ہونے والی ہے جس پر اسلام دنیا کی اس زندگی میں کرنا چاہتا ہے۔ جن لوگوں کی منزل ایک نہیں ہے ان کی راہ زندگی آخر کیسے ایک ہوسکتی ہے۔
Ayah 30:15سورة الروم 19
" ایک باغ " کا لفظ یہاں اس باغ کی عظمت و شان کا تصور دلانے کے لیے استعمال ہوا ہے۔ عربی زبان کی طرح اردو میں بھی یہ انداز بیان اس غرض کے لیے معروف ہے۔ جیسے کوئی شخص کسی کو ایک بڑا اہم کام کرنے کو کہے اور اس کے ساتھ یہ کہے کہ تم نے یہ کام اگر کردیا تو میں تمہیں " ایک چیز " دوں گا، تو اس سے مراد یہ نہیں ہوتی کہ وہ چیز عدد کے لحاظ سے ایک ہوگی، بلکہ اس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ اس کے انعام میں تم کو ایک بڑی قیمتی چیز دوں گا جسے پا کر تم نہال ہوجاؤ گے۔
سورة الروم 20
اصل میں لفظ يّحْبَرُوْنَ استعمال ہوا ہے جس کے مفہوم میں مسرت، لذت، شان و شوکت اور تکریم کے تصورات شامل ہیں۔ یعنی وہاں بڑی عزت کے ساتھ رکھے جائیں گے، خوش و خرم رہیں گے اور ہر طرح کی لذتوں سے شام کام ہوں گے۔
Ayah 30:16سورة الروم 21
یہ بات قابل توجہ ہے کہ ایمان کے ساتھ تو عمل صالح کا ذکر کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں وہ شاندار انجام نصیب ہوگا، لیکن کفر کا انجام بد بیان کرتے ہوئے عمل بد کا کوئی ذکر نہیں فرمایا گیا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کفر بجائے خود آدمی کے انجام کو خراب کردینے کے لیے کافی ہے خواہ عمل کی خرابی اس کے ساتھ شامل ہو یا نہ ہو۔
Ayah 30:17سورة الروم 22
یہ " پس " اس معنی میں ہے کہ جب تمہیں یہ معلوم ہوگیا کہ ایمان و عمل صالح کا انجام وہ کچھ اور کفر و تکذیب کا انجام یہ کچھ ہے تو تمہیں یہ طرز عمل اختیار کرنا چاہیے۔ نیز یہ " پس " اس معنی میں بھی ہے کہ مشرکین و کفار حیات اخروی کو ناممکن قرار دے کر اللہ تعالیٰ کو دراصل عاجز و درماندہ قرار دے رہے ہیں۔ لہذا تم اس کے مقابلہ میں اللہ کی تسبیح کرو اور اس کمزوری سے اس کے پاک ہونے کا اعلان کرو۔ اس ارشاد کے مخاطب نبی ﷺ اور آپ کے واسطے سے تمام اہل ایمان ہیں۔
سورة الروم 23
اللہ کی تسبیح کرنے سے مراد ان تمام عیوب اور نقائص اور کمزوریوں سے، جو مشرکین اپنے شرک اور انکار آخرت سے اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں، اس ذات بےہمتا کے پاک اور منزہ ہونے کا اعلان و اظہار کرنا ہے۔ اس اعلان و اظہار کی بہترین صورت نماز ہے۔ اسی بنا پر ابن عباس، مجاہد، قتادہ، ابن زید ؓ اور دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ یہاں تسبیح کرنے سے مراد نماز پڑھنا ہے۔ اس تفسیر کے حق میں یہ صریح قرینہ خود اس آیت میں موجود ہے کہ اللہ کی پاکی بیان کرنے کے لیے اس میں چند خاص اوقات مقرر کیے گئے ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ اگر محض یہ عقیدہ رکھنا مقصود ہو کہ اللہ تمام عیوب و نقائص سے منزہ ہے تو اس کے لیے صبح و شام اور ظہر و عصر کے اوقات کی پابندی کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ یہ عقیدہ تو مسلمان کو ہر وقت رکھنا چاہیے۔ اسی طرح اگر محض زبان سے اللہ کی پاکی کا اظہار مقصود ہو، تب بھی ان اوقات کی تخصیص کے کوئی معنی نہیں، کیونکہ یہ اظہار تو مسلمان کو ہر موقع پر کرنا چاہیے۔ اس لیے اوقات کی پابندی کے ساتھ تسبیح کرنے کا حکم لا محالہ اس کی ایک خاص عملی صورت ہی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اور یہ عملی صورت نماز کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔
Ayah 30:18سورة الروم 24
اس آیت میں نماز کے چار اوقات کی طرف صاف اشارہ ہے۔ فجر، مغرب، عصر اور ظہر۔ اس کے علاوہ مزید اشارات جو قرآن مجید میں اوقات نماز کی طرف کیے گئے ہیں، حسب ذیل ہیں
اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ (نبی اسرائیل، آیت 78) " نماز قائم کرو آفتاب ڈھلنے کے بعد سے رات کی تاریکی تک، اور فجر کے وقت قرآن پڑھنے کا اہتمام کرو "۔
وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ (ہود، آیت 114) " اور نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے پر "۔
وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِهَا ۚ وَمِنْ اٰنَاۗئِ الَّيْلِ فَسَبِّحْ وَاَطْرَاف النَّهَارِ (طہ، آیت 130) " اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اور رات کی کچھ گھڑیوں میں پھر تسبیح کرو، اور دن کے کناروں پر "۔
ان میں سے پہلی آیت بتاتی ہے کہ نماز کے اوقات زوال آفتاب کے بعد سے عشا تک ہیں، اور اس کے بعد پھر فجر کا وقت ہے۔ دوسری آیت میں دن کے دونوں سروں سے مراد صبح اور مغرب کے اوقات ہیں اور کچھ رات گزرنے پر سے مراد عشا کا وقت۔ تیسری آیت میں قبل طلوع آفتاب سے مراد فجر اور قبل غروب سے مراد عصر۔ رات کی گھڑیوں میں مغرب اور عشا دونوں شامل ہیں۔ اور دن کے کنارے تین ہیں، ایک صبح، دوسرے زوال آفتاب، تیسرے مغرب۔ اس طرح قرآن مجید مختلف مقامات پر نماز کے ان پانچوں اوقات کی طرف اشارہ کرتا ہے جن پر آج دنیا بھر کے مسلمان نماز پڑھتے ہیں۔ لیکن ظاہر ہے کہ محض ان آیات کو پڑھ کر کوئی شخص بھی اوقات نماز متعین نہ کرسکتا تھا جب تک کہ اللہ کے مقرر کیے ہوئے معلم قرآن محمد ﷺ خود اپنے قول اور عمل سے ان کی طرف رہنمائی نہ فرماتے۔
یہاں ذرا تھوڑی دیر ٹھہر کر منکرین حدیث کی اس جسارت پر غور کیجیے کہ وہ " نماز پڑھنے " کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ نماز جو آج مسلمان پڑھ رہے ہیں یہ سرے سے وہ چیز ہی نہیں ہے جس کا قرآن میں حکم دیا گیا ہے۔ ان کا ارشاد ہے کہ قرآن تو اقامت صلوۃ کا حکم دیتا ہے اور اس سے مراد نماز پڑھنا نہیں بلکہ " نظام ربوبیت " قائم کرنا ہے۔ اب ذرا ان سے پوچھیے کہ وہ کون سا نرالا نظام ربوبیت ہے جسے یا تو طلوع آفتاب سے پہلے قائم کیا جاسکتا ہے یا پھر زوال آفتاب کے بعد سے کچھ رات گزرنے تک ؟ اور وہ کون سا نظام ربوبیت ہے جو خاص جمعہ کے دن قائم کیا جانا مطلوب ہے ؟ اِذَا نُوْدِيَ للصَّلٰوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ (الجمعہ، آیت 9) اور نظام ربوبیت کی آخر وہ کون سی خاص قسم ہے کہ اسے قائم کرنے کے لیے جب آدمی کھڑا ہو تو پہلے منہ اور کہنیوں تک ہاتھ اور ٹخنوں تک پاؤں دھو لے اور سر پر مسح کرلے ورنہ وہ اسے قائم نہیں کرسکتا ؟ اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ (المائدہ، آیت 6) اور نظام ربوبیت کے اندر آخر یہ کیا خصوصیت ہے کہ اگر آدمی حالت جناب میں ہو تو جب تک وہ غسل نہ کرلے اسے قائم نہیں کرسکتا ؟ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا (النساء، آیت 43) اور یہ کیا معاملہ ہے کہ اگر آدمی عورت کو چھو بیٹھا ہو اور پانی نہ ملے تو اس عجیب و غریب نظام ربوبیت کو قائم کرنے کے لیے اسے پاک مٹی پر ہاتھ مار کر اپنے چہرے اور منہ پر ملنا ہوگا ؟ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَاۗءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَاۗءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَاَيْدِيْكُمْ مِّنْهُ (المائدہ، آیت 6) اور یہ کیسا عجیب نظام ربوبیت ہے کہ اگر سفر پیش آجائے تو آدمی اسے پورا قائم کرنے کے بجائے آدھا ہی قائم کرلے ؟ وَاِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْاَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ (النساء، آیت 101) پھر یہ کیا لطیفہ ہے کہ اگر جنگ کی حالت ہو تو فوج کے آدھے سپاہی ہتھیار لیے ہوئے امام کے پیچھے " نظام ربوبیت " قائم کرتے رہیں اور آدھے دشمن کے مقابلے میں ڈٹے رہیں، اس کے بعد جب پہلا گروہ امام کے پیچھے " نظام ربوبیت " قائم کرتے ہوئے ایک سجدہ کرلے تو وہ اٹھ کر دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے چلا جائے اور دوسرا گروہ اس کی جگہ آکر امام کے پیچھے اس " نظام ربوبیت " کو قائم کرنا شروع کردے وَاِذَا كُنْتَ فِيْهِمْ فَاَقَمْتَ لَھُمُ الصَّلٰوةَ فَلْتَقُمْ طَاۗىِٕفَةٌ مِّنْھُمْ مَّعَكَ وَلْيَاْخُذُوْٓا اَسْلِحَتَھُمْ ۣفَاِذَا سَجَدُوْا فَلْيَكُوْنُوْا مِنْ وَّرَاۗىِٕكُمْ ۠ وَلْتَاْتِ طَاۗىِٕفَةٌ اُخْرٰى لَمْ يُصَلُّوْا فَلْيُصَلُّوْا مَعَكَ (النساء، آیت 102) قرآن مجید کی یہ ساری آیات صاف بتارہی ہیں کہ اقامت صلوۃ سے مراد وہی نماز قائم کرنا ہے جو مسلمان دنیا بھر میں پڑھ رہے ہیں، لیکن منکرین حدیث ہیں کہ خود بدلنے کے بجائے قرآن کو بدلنے پر اصرار کیے چلے جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں بالکل ہی بےباک نہ ہوجائے وہ اس کے کلام کے ساتھ یہ مذاق نہیں کرسکتا جو یہ حضرات کر رہے ہیں۔ یا پھر قرآن کے ساتھ یہ کھیل وہ شخص کھیل سکتا ہے جو اپنے دل میں اسے اللہ کا کلام نہ سمجھتا ہو اور محض دھوکا دینے کے لیے قرآن قرآن پکار کر مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہتا ہو۔ (اس سلسلہ میں آگے حاشیہ 50 بھی ملاحظۃ ہو)
Ayah 30:19سورة الروم 25
یعنی جو خد ہر آن تمہاری آنکھوں کے سامنے یہ کام کر رہا ہے وہ آخر انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ زندگی بخشنے سے عاجز کیسے ہوسکتا ہے۔ وہ ہر وقت زندہ انسانوں اور حیوانات میں سے فضلات (WasteMatter) خارج کر رہا ہے جن کے اندر زندگی کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ وہ ہر لمحہ بےجان مادے (dead Matter) کے اندر زندگی کی روح پھونک کر بیشمار جیتے جاگتے حیوانات، نباتات اور انسان وجود میں لارہا ہے، حالانکہ بجائے خود ان مادوں میں جن سے ان زندہ ہستیوں کے جسم مرکب ہوتے ہیں، قطعا کوئی زندگی نہیں ہوتی، وہ ہر آن یہ منظر تمہیں دکھا رہا ہے کہ بنجر پڑی ہوئی زمین کو جہاں پانی میسر آیا اور یکایک وہ حیوانی اور نباتی زندگی کے خزانے اگلنا شروع کردیتی ہے۔ یہ سب کچھ دیکھ کر بھی اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کارخانہ ہستی کو چلانے والا خدا انسان کے مرجانے کے بعد اسے دوبارہ زندہ کرنے سے عاجز ہے تو حقیقت میں وہ عقل کا اندھا ہے۔ اس کے سر میں آنکھیں جن ظاہری مناظر کو دیکھتی ہیں، اس کی عقل کی آنکھیں ان کے اندر نظر آنے والے روشن حقائق کو نہیں دیکھتیں۔
Ayah 30:20سورة الروم 26
خبردار رہنا چاہیے کہ یہاں سے رکوع کے خاتمہ تک اللہ تعالیٰ کی جو نشانیاں بیان کی جارہی ہیں وہ ایک طرف تو اوپر کے سلسلہ کلام کی مناسبت سے حیات اخروی کے امکان و وقوع پر دلالت کرتی ہیں، اور دوسری طرف یہی نشانیاں اس بات پر بھی دلالت کرتی ہیں کہ یہ کائنات نہ بے خدا ہے اور نہ اس کے بہت سے خدا ہیں، بلکہ صرف ایک خدا اس کا تنہا خالق، مدبر، مالک اور فرمانروا ہے جس کے سوا انسانوں کا کوئی معبود نہیں ہونا چاہیے۔ اس طرح یہ رکوع اپنے مضمون کے لحاظ سے تقریر ماسبق ما بعد دونوں کے ساتھ مربوط ہے۔
سورة الروم 27
یعنی انسان کا مایہ تخلیق اس کے سوا کیا ہے کہ چند بےجان مادے ہیں جو زمین میں پائے جاتے ہیں۔ مثلا کچھ کاربن، کچھ کیلشیم، کچھ سوڈیم اور ایسے ہی چند اور عناصر۔ انہی کو ترکیب دے کر وہ حیرت انگیز ہستی بنا کھڑی کی گئی ہے جس کا نام انسان ہے اور اس کے اندر احساسات، جذبات، شعور، تعقل اور تخیل کی وہ عجیب قوتیں پیدا کردی گئی ہیں جن میں سے کسی کا منبع بھی اس کے عناصر ترکیبی میں تلاش نہیں کیا جاسکتا۔ پھر یہی نہیں کہ ایک انسان اتفاقا ایسا بن کھڑا ہوا ہو، بلکہ اس کے اندر وہ عجیب تولیدی قوت بھی پیدا کردی گئی جس کی بدولت کروڑوں اور اربوں انسان وہی ساخت اور وہی صلاحیتیں لیے ہوئے بیشمار موروثی اور بےحد و حساب انفرادی خصوصیات کے حامل نکلتے چلے آرہے ہیں۔ کیا تمہاری عقل یہ گواہی دیتی ہے کہ یہ انتہائی حکیمانہ خلقت کسی صانع حکیم کی تخلیق کے بغیر آپ سے آپ ہوگئی ہے ؟ کیا تم بحالت ہوش و حواس یہ کہہ سکتے ہو کہ تخلیق انسان جیسا عظیم الشان منصوبہ بنانا اور اس کو عمل میں لانا اور زمین و آسمان کی بےحد و حساب قوتوں کو انسانی زندگی کے لیے سازگار کردینا بہت سے خداؤں کی فکر و تدبیر کا نتیجہ ہوسکتا ہے ؟ اور کیا تمہارا دماغ اپنی صحیح حالت میں ہوتا ہے جب تم یہ گمان کرتے ہو کہ جو خدا انسان کو خالص عدم سے وجود میں لایا ہے وہ اسی انسان کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں کرسکتا ؟