Ayah 30:21سورة الروم 28
یعنی خالق کا کمال حکمت یہ ہے کہ اس نے انسان کی صرف ایک صنف نہیں بنائی بلکہ اسے دو صنفوں (Sexes) کی شکل میں پیدا کیا جو انسانیت میں یکساں ہیں، جن کی بناوٹ کا بنیادی فارمولا بھی یکساں ہے، مگر دونوں ایک دوسرے سے مختلف جسمانی ساخت، مختلف ذہنی و نفسی اوصاف اور مختلف جذبات و داعیات لے کر پیدا ہوتی ہیں۔ اور پھر ان کے درمیان یہ حیرت انگیز مناسبت رکھ دی گئی ہے کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کا پورا جوڑ ہے، ہر ایک کا جسم اور اس کے نفسیات و داعیات دوسرے کے جسمانی و نفسیاتی تقاضوں کا مکمل جواب ہیں۔ مزید برآں وہ خالق حکیم ان دونوں صنفوں کے افراد کو آغاز آفرینش سے برابر اس تناسب کے ساتھ پید کیے چلا جارہا ہے کہ آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ دنیا کی کسی قوم یا کسی خطہ زمین میں صرف لڑکے ہی لڑکے پیدا ہوئے ہوں، یا کہیں کسی قوم میں صرف لڑکیاں ہی لڑکیاں پیدا ہوتی چلی گئی ہوں۔ یہ ایسی چیز ہے جس میں کسی انسانی تدبیر کا قطعا کوئی دخل نہیں ہے۔ انسان ذرہ برابر بھی نہ اس معاملہ میں اثر انداز ہوسکتا ہے کہ لڑکیاں مسلسل ایسی زنانہ خصوصیات اور لڑکے مسلسل ایسی مردانہ خصوصیات لیے ہوئے پیدا رہیں جو ایک دوسرے کا ٹھیک جوڑ ہوں، اور نہ اس معاملہ ہی میں اس کے اپس اثر انداز ہونے کا کوئی ذریعہ ہے کہ عورتوں اور مردوں کی پیدائش اس طرح مسلسل ایک تناسب کے ساتھ ہوتی چلی جائے۔ ہزار ہا سال سے کروڑوں اور اربوں انسانوں کی پیدائش میں اس تدبیر و انتظام کا اتنے متناسب طریقے سے پیہم جاری رہنا اتفاقا بھی نہیں ہوسکتا اور یہ بہت سے خداؤں کی مشترک تدبیر کا نتیجہ بھی نہیں ہوسکتا۔ یہ چیز صریحا اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ ایک خالق حکیم، اور ایک ہی خالق حکیم نے اپنی غالب حکمت وقدرت سے ابتداء مرد اور عورت کا ایک موزوں ترین ڈیزائن بنایا، پھر اس بات کا انتظام کیا کہ اس ڈیزائن کے مطابق بےحد و حساب مرد اور بےحد و حساب عورتیں اپنی الگ الگ انفرادی خصوصیات لیے ہوئے دنیا بھر میں ایک تناسب کے ساتھ پیدا ہوں۔
سورة الروم 29
یعنی یہ انتظام الل ٹپ نہیں ہوگیا ہے بلکہ بنانے والے نے بالارادہ اس غرض کے لیے یہ انتظام کیا ہے کہ مرد اپنی فطرت کے تقاضے عورت کے پاس، اور عورت اپنی فطرت کی مانگ مرد کے پاس پائے، اور دونوں ایک دوسرے سے وابستہ ہو کر ہی سکون و اطمینان حاصل کریں۔ یہی وہ حکیمانہ تدبیر ہے جسے خالق نے ایک طرف انسانی نسل کے برقرار رہنے کا، اور دوسری طرف انسانی تہذیب و تمدن کو وجود میں لانے کا ذریعہ بنایا ہے۔ اگر یہ دونوں صنفیں محض الگ الگ ڈیزائنوں کے ساتھ پیدا کردی جاتیں اور ان میں وہ اضطراب نہ رکھ دیا جاتا جو ان کے باہمی اتصال و وابستگی کے بغیر مدبل بسکون نہیں ہوسکتا، تو انسانی نسل تو ممکن ہے کہ بھیڑ بکریوں کی طرح چل جاتی، لیکن کسی تہذیب و تمدن کے وجود میں آنے کا کوئی امکان نہ تھا۔ تمام انواع حیوانی کے برعکس نوع انسانی میں تہذیب و تمدن کے رونما ہونے کا بنیادی سبب یہی ہے کہ خالق نے اپنی حکمت سے مرد اور عورت میں ایک دوسرے کے لیے وہ امنگ، وہ پیاس، وہ اضطراب کی کیفیت رکھ دیی جسے سکون میسر نہیں آتا جب تک کہ وہ ایک دوسرے سے جڑ کر نہ رہیں۔ یہی سکون کی طلب ہے جس نے انہیں مل کر گھر بنانے پر مجبور کیا۔ اسی کی بدولت خاندان اور قبیلے وجود میں آئے۔ اور اسی کی بدولت انسان کی زندگی میں تمدن کا نشو و نما ہوا۔ اس نشو و نما میں انسان کی ذہنی صلاحیتیں مددگار ضرور ہوئی ہیں مگر وہ اس کی اصلی محرک نہیں ہیں۔ اصل محرک یہی اضطراب ہے جسے مرد و عورت کے وجود میں ودیعت کر کے انہیں " گھر " کی تاسیس پر مجبور کردیا گیا۔ کون صاحب عقل یہ سوچ سکتا ہے کہ دانائی کا یہ شاہکات فطرت کی اندھی طاقتوں سے محض اتفاقا سرزد ہوگیا ہے ؟ یا بہت سے خدا یہ انتظام کرسکتے تھے کہ اس گہرے حکیمانہ مقصد کو ملحوظ رکھ کر ہزارہا برس سے مسلسل بیشمار مردوں کو یہ خاص اضطراب لیے ہوئے پیدا کرتے چلے جائیں ؟ یہ تو ایک حکیم اور ایک حکیم کی حکمت کا صریح نشان ہے جسے صرف عقل کے اندھے ہی دیکھنے سے انکار کرسکتے ہیں۔
سورة الروم 30
محبت سے مراد یہاں جنسی محبت (Sexual Love) ہے جو مرد اور عورت کے اندر جذب و کشش کی ابتدائی محرک بنتی ہے اور پھر انہیں ایک دوسرے سے چسپاں کیے رکھتی ہے۔ اور رحمت سے مراد وہ روحانی تعلق ہے جو ازدواجی زندگی میں بتدریج ابھرتا ہے، جس کی بدولت وہ ایک دوسرے کے خیر خواہ، ہمدرد و غم خوار اور شریک رنج و راحت بن جاتے ہیں، یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آتا ہے جب جنسی محبت پیچھے جا پڑتی ہے اور بڑھاپے میں یہ جیون ساتھی کچھ جوانی سے بھی بڑھ کر ایک دوسرے کے حق میں رحیم و شفیق ثابت ہوتے ہیں۔ یہ دو مثبت طاقتیں ہیں جو خالق نے اس ابتدائی اضطراب کی مدد کے لیے انسان کے اندر پیدا کی ہیں جس کا ذکر اوپر گزرا ہے۔ وہ اضطراب تو صرف سکون چاہتا ہے اور اس کی تلاش میں مرد و عورت کو ایک دوسرے کی طرف لے جاتا ہے۔ اس کے بعد یہ دو طاقتیں آگے بڑھ کر ان کے درمیان مستقل رفاقت کا ایسا رشتہ جوڑ دیتی ہیں جو دو الگ ماحولوں میں پرورش پائے ہوئے اجنبیوں کو ملا کر کچھ اس طرح پیوستہ کرتا ہے کہ عمر بھر وہ زندگی کے منجدھار میں اپنی کشتی ایک ساتھ کھینچتے رہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ محبت و رحمت جس کا تجربہ کروڑوں انسانوں کو اپنی زندگی میں ہو رہا ہے، کوئی مادی چیز نہیں ہے جو وزن اور پیمائش میں آسکے، نہ انسانی جسم کے عناصر ترکیبی میں کہیں اس کے سرچشمے کی نشان دہی کی جاسکتی ہے، نہ کسی لیبارٹری میں اس کی پیدائش اور اس کے نشو و نما کے اسباب کا کھوج لگایا جاسکتا ہے۔ اس کی کوئی توجیہ اس کے سوا نہیں کی جاسکتی کہ ایک خالق حکیم نے بالارادہ ایک مقصد کے لیے پوری مناسبت کے ساتھ اسے نفس انسانی میں ودیعت کردیا ہے۔
Ayah 30:22سورة الروم 31
یعنی ان کا عدم سے وجود میں آنا اور ایک اٹل ضابطے پر ان کا قائم ہونا، اور بیشمار قوتوں کا ان کے اندر انتہائی تناسب و توازن کے ساتھ کام کرنا، اپنے اندر اس بات کی بہت سی نشانیاں رکھتا ہے کہ اس پوری کائنات کو ایک خالق اور ایک ہی خالق وجود میں لایا ہے اور وہی اس عظیم الشان نظام کی تدبیر کر رہا ہے۔ ایک طرف اگر اس بات پر غور کیا جائے کہ کہ وہ ابتدائی قوت (energy) کہاں سے آئی جس نے مادے کی شکل اختیار کی، پھر مادے کے یہ بہت سے عناصر کیسے بنے، پھر ان عناصر کی اس قدر حکیمانہ ترکیب سے اتنی حیرت انگیز مناسبتوں کے ساتھ یہ مدہوش کن نظام عالم کیسے بن گیا، اور اب یہ نظام کروڑہا کروڑ صدیوں سے کس طرح ایک زبردست قانون فطرت کی بندش میں کسا ہوا چل رہا ہے، تو ہر غیر متعصب عقل اس نتیجے پر پہنچے گی کہ یہ سب کچھ کسی علیم و حکیم کے غالب ارادے کے بغیر محض بخت و اتفاق کے نتیجے میں نہیں ہوسکتا۔ اور دوسری طرف اگر یہ دیکھا جائے کہ زمین سے لے کر کائنات کے بعید ترین سیاروں تک سب ایک ہی طرح کے عناصر سے مرکب ہیں اور ایک ہی قانون فطرت ان میں کار فرما ہے تو ہر عقل جو ہٹ دھرم نہیں ہے، بلا شبہ یہ تسلیم کرے گی کہ یہ سب کچھ بہت سے خداؤں کا کرشمہ نہیں ہے بلکہ ایک ہی خدا اس پوری کائنات کا خالق اور رب ہے۔
سورة الروم 32
یعنی باوجودیکہ تمہارے قوائے نطقیہ یکساں ہیں، نہ منہ اور زبان کی ساخت میں کوئی فرق ہے اور نہ دماغ کی ساخت میں، مگر زمین کے مختلف خطوں میں تمہاری زبانیں مختلف ہیں، پھر ایک ہی زبان بولنے والے علاقوں میں شہر شہر اور بستی بستی کی بولیاں مختلف ہیں، اور مزید یہ کہ ہر شخص کا لہجہ اور تلفظ اور طرز گفتگو دوسرے سے مختلف ہے، اسی طرح تمہارا مادہ تخلیق اور تمہاری بناوٹ کا فارمولا ایک ہی ہے، مگر تمہارے رنگ اس قدر مختلف ہیں کہ قوم اور قوم تو درکنا، ایک ماں ماں باپ کے دو بیٹوں کا رنگ بھی بالکل یکساں نہیں ہے۔ یہاں نمونے کے طور پر صرف دو ہی چیزوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ لیکن اسی رخ پر آگے بڑھ کر کر دیکھیے تو دنیا میں آپ ہر طرف اتنا تنوع (Variaty) پائیں گے کہ اس کا احاطہ مشکل ہوجائے گا۔ انسان، حیوان، نباتات اور دوسری تمام اشیاء کی جس نوع کو بھی آپ لے لیں اس کے افراد میں بنیادی یکسانی کے باوجود بیشمار اختلافات موجود ہیں حتی کہ کسی نوع کا بھی کوئی ایک فرد دوسرے سے بالکل مشابہ نہیں ہے، حتی کہ ایک درخت کے دو پتوں میں بھی پوری مشابہت نہیں پائی جاتی۔ یہ چیز صاف بتارہی ہے کہ یہ دنیا کوئی ایسا کارخانہ نہیں ہے جس میں خودکار مشینیں چل رہی ہوں اور کثیر پیدا آوری (Mass Production) کے طریقے پر ہر قسم کی اشیاء کا بس ایک ایک ٹھپہ ہو جس سے ڈھل ڈھول کر ایک ہی طرح کی چیزیں نکلتی چلی آرہی ہوں۔ بلکہ یہاں ایک ایسا زبردست کاریگر کام کررہا ہے جو ہر چیز کو پوری انفرادی توجہ کے ساتھ ایک نئے ڈیزائن، نئے نقش و نگار، نئے تناسب اور نئے اوصاف کے ساتھ بناتا ہے اور اس کی بنائی ہوئی ہر چیز اپنی جگہ منفرد ہے۔ اس کی قوت ایجاد ہر آن ہر چیز کا ایک نیا ماڈل ناکل رہی ہے، اور اس کی صناعی ایک ڈیزائن کو دوسری مرتبہ دوہرانا اپنے کمال کی توہین سمجھتی ہے۔ اس حیرت انگیز منظر کو جو شخص بھی آنکھیں کھول کر دیکھے گا وہ کبھی اس احمقانہ تصور میں مبتلا نہیں ہوسکتا کہ اس کائنات کا بنانے والا ایک دفعہ اس کارخانے کو چلا کر کہیں جا سویا ہے۔ یہ تو اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ وہ ہر وقت کار تخلیق میں لگا ہوا ہے اور اپنی خلق کی ایک ایک چیز پر انفرادی توجہ صرف کر رہا ہے۔
Ayah 30:23سورة الروم 33
فضل کو تلاش کرنے سے مراد رزق کی تلاش میں دوڑ دھوپ کرنا ہے۔ انسان اگرچہ بالعموم رات کو سوتا اور دن کو اپنی معاش کے لیے جدو جہد کرتا ہے، لیکن یہ کلیہ نہیں ہے۔ بہت سے انسان دن کو بھی سوتے اور رات کو بھی معاش کے لیے کام کرتے ہیں۔ اسی لیے رات اور دن کا اکٹھا ذکر کر کے فرمایا کہ ان دونوں اوقات میں تم سوتے بھی ہو اور اپنی معاش کے لیے دوڑ دھوپ بھی کرتے ہو۔
یہ چیز بھی ان نشانیوں میں سے ہے جو ایک خالق حکیم کی تدبیر کا پتہ دیتی ہیں۔ بلکہ مزید برآں یہ چیز اس بات کی نشان دہی بھی کرتی ہے کہ وہ محض خالق ہی نہیں ہے بلکہ اپنی مخلوق پر غایت درجہ رحیم و شفیق اور اس کی ضروریات اور مصلحتوں کے لیے خود اس سے بڑھ کر فکر کرنے والا ہے۔ انسان دنیا میں مسلسل محنت نہیں کرسکتا بلکہ ہرچند گھنٹوں کی محنت کے بعد اسے چند گھنٹوں کے لیے آرام درکار ہوتا ہے تاکہ پھر چند گھنٹے محنت کرنے کے لیے اسے قوت بہم پہنچ جائے۔ اس غرض کے لیے خالق حکیم و رحیم نے انسان کے اندر صرف تکان کا احساس، اور صرف آرام کی خواہش پیدا کردینے ہی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اس نے " نیند " کا ایک ایسا زبردست داعیہ اس کے وجود میں رکھ دیا جو اس کے ارادے کے بغیر، حتی کہ اس کی مزاحمت کے باوجود، خود بخود ہرچند گھنٹوں کی بیداری و محنت کے بعد اسے آ دبوچتا ہے، چند گھنٹے آرام لینے پر اس کو مجبور کردیتا ہے، اور ضرورت پوری ہوجانے کے بعد خودبخود اسے چھوڑ دیتا ہے۔ اس نیند کی ماہیت و کیفیت اور اس کے حقیقی اسباب کو آج تک انسان نہیں سمجھ سکا ہے۔ یہ قطعا ایک پیدائشی چیز ہے جو آدمی کی فطرت اور اس کی ساخت میں رکھ دی گئی ہے۔ اس کا ٹھیک انسان کی ضرورت کے مطابق ہونا ہی اس بات کی شہادت دینے کے لیے کافی ہے کہ یہ ایک اتفاقی حادثہ نہیں ہے بلکہ کسی حکیم نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق یہ تدبیر وضع کی ہے۔ اس میں ایک بڑی حکمت و مصلحت اور مقصدیت صاف طور پر کار فرما نظر آتی ہے۔ مزید برآں یہی نیند اس بات پر بھی گواہ ہے کہ جس نے یہ مجبور کن داعیہ انسان کے اندر رکھا ہے وہ انسان کے حق میں خود اس سے بڑھ کر خیر خواہ ہے ورنہ انسان بالارادہ نیند کی مزاحمت کر کے اور زبردستی جاگ جاگ کر اور مسلسل کام کر کر کے اپنی قوت کار کو ہی نہیں، قوت حیات تک کو ختم کر ڈالتا۔
پھر رزق کی تلاش کے لے " اللہ کے فضل کی تلاش " کا لفظ استعمال کر کے نشانیوں کے ایک دوسرے سلسلے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ آدمی آخر یہ رزق تلاش ہی کہاں کرسکتا تھا اگر زمین و آسمان کی بےحد و حساب طاقتوں کو رزق کے اسباب و ذرائع پیدا کرنے میں نہ لگا دیا گیا ہوتا، اور زمین میں انسان کے لیے رزق کے بیشمار ذرائع نہ پیدا کردیے گئے ہوتے۔ صرف یہی نہیں بلکہ رزق کی یہ تلاش اور اس کا اکتساب اسی صورت میں بھی ممکن نہ ہوتا اگر انسان کو اس کام کے لیے مناسب ترین اعضاء اور مناسب ترین جسمانی اور ذہنی صلاحیتیں نہ دی گئی ہوتیں۔ پس آدمی کے اندر تلاش رزق کی قابلیت اور اس کے وجود سے باہر وسائل رزق کی موجودگی، صاف صاف ایک رب رحیم و کریم کے وجود کا پتہ دیتی ہے۔ جو عقل بیمار نہ ہو وہ کبھی یہ فرض نہیں کرسکتی کہ یہ سب کچھ اتفاقا ہوگیا ہے، یا یہ بہت سے خداؤں کا کرشمہ ہے، یا کوئی بےدرد اندھی قوت اس فضل و کرم کی ذمہ دار ہے۔
Ayah 30:24سورة الروم 34
یعنی اس کی گرج اور چمک سے امید بھی بندھتی ہے کہ بارش ہوگی اور فصلیں تیار ہوں گی، مگر ساتھ ہی خوف بھی لاحق ہوتا ہے کہ کہیں بجلی نہ گر پڑے یا ایسی طوفانی بارش نہ ہوجائے جو سب کچھ بہا لے جائے۔
سورة الروم 35
یہ چیز ایک طرف حیات بعد الموت کی نشان دہی کرتی ہے اور دوسری طرف یہی چیز اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ خدا ہے، اور زمین و آسمان کی تدبیر کرنے والا ایک ہی خدا ہے۔ زمین کی بیشمار مخلوقات کے رزق کا انحصار اسی پیداوار پر ہے جو زمین سے نکلتی ہے۔ اس پیداوار کا انحصار زمین کی صلاحیت بار آوری پر ہے۔ اس صلاحیت کے روبکار آنے کا انحصار بارش پر ہے، خواہ وہ براہ راست زمین پر برسے یا اس کے ذخیرے سطح زمین پر جمع ہوں، یا زیر زمین چشموں اور کنوؤں کی شکل اختیار کریں، یا پہاڑوں پر یخ بستہ ہو کر دریاؤں کی شکل میں بہیں۔ پھر اس بارش کا انحصار سورج کی گرمی پر، موسموں کے ردو بدل پر، فضائی حرارت و برودت پر، ہواؤں کی گردش پر، اور اس بجلی پر ہے جو بادلوں سے بارش برسنے کی محرک بھی ہوتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ بارش کے پانی میں ایک طرح کی قدرتی کھاد بھی شامل کردیتی ہے، زمین سے لے کر آسمان تک کی ان تمام مختلف چیزوں کے درمیان یہ ربط اور مناسبتیں قائم ہونا، پھر ان سب کا بیشمار مختلف النوع مقاصد اور مصلحتوں کے لیے صریحا سازگار ہونا، اور ہزاروں لاکھوں برس تک ان کا پوری ہم آہنگی کے ساتھ مسلسل سازگاری کرتے چلے جانا، کیا یہ سب کچھ محض اتفاقا ہوسکتا ہے ؟ کیا یہ کسی صانع کی حکمت اور اس کے سوچے سمجھے منصوبے اور اس کی غالب تدبیر کے بغیر ہوگیا ہے ؟ اور کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ زمین، سورج، ہوا، پانی، حرارت، برودت اور زمین کی مخلوقات کا خالق اور رب ایک ہی ہے ؟
Ayahs 30:25–26سورة الروم 36
یعنی صرف یہی نہیں کہ وہ اس کے حکم سے ایک دفعہ وجود میں آگئے ہیں، بلکہ ان کا مسلسل قائم رہنا اور ان کے اندر ایک عظیم الشان کارگاہ ہستی کا پیہم چلتے رہنا بھی اسی کے حکم کی بدولت ہے۔ ایک لمحہ کے لیے بھی اگر اس کا حکم انہیں برقرار نہ رکھے تو یہ سارا نظام یک لخت درہم برہم ہوجائے۔
سورة الروم 37
یعنی کائنات کے خالق و مدبر کے لیے تمہیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھانا کوئی ایسا بڑا کام نہیں ہے کہ اسے اس کے لیے بہت بڑی تیاریاں کرنی ہوں گی، بلکہ اس کی صرف ایک پکار اس کے لیے بالکل کافی ہوگی کہ آغاز آفرینش سے آج تک جتنے انسان دنیا میں پیدا ہوئے ہیں اور آئندہ پیدا ہوں گے وہ سب ایک ساتھ زمین کے ہر گوشے سے نکل کھڑے ہوں۔
Ayah 30:27سورة الروم 38
یعنی پہلی مرتبہ پیدا کرنا اگر اس کے لیے مشکل نہ تھا، تو آخر تم نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے مشکل ہوجائے گ ؟ پہلی مرتبہ کی پیدائش میں تو تم خود جیتے جاگتے موجود ہو۔ اس لیے اس کا مشکل نہ ہونا تو ظاہر ہے۔ اب یہ بالکل سیدھی سادھی عقل کی بات ہے کہ ایک دفعہ جس نے کسی چیز کو بنایا ہو اس کے لیے وہی چیز دوبارہ بنانا نسبۃً زیادہ ہی آسان ہونا چاہیے۔
Ayah 30:28سورة الروم 39
یہاں تک توحید اور آخرت کا بیان ملا جلا چل رہا تھا۔ اس میں جن نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ان کے اندر توحید کے دلائل بھی ہیں اور وہی دلائل یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ آخرت کا آنا غیر ممکن نہیں ہے۔ اس کے بعد آگے خالص توحید پر کلام شروع ہورہا ہے۔
سورة الروم 40
مشرکین یہ تسلیم کرنے کے بعد کہ زمین و آسمان اور اس کی سب چیزوں کا خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہے، اس کی مخلوقات میں سے بعض کو خدائی صفات و اختیارات میں اس کا شریک ٹھہراتے تھے، اور ان سے دعائیں مانگتے، ان کے آگے نذریں اور نیازیں پیش کرتے، اور مراسم عبودیت بجا لاتے تھے۔ ان بناوٹی شریکوں کے بارے میں ان کا اصل عقیدہ اس تلبیہ کے الفاظ میں ہم کو ملتا ہے جو خانہ کعبہ کا طواف کرتے وقت وہ زبان سے ادا کرتے تھے۔ وہ اس موقع پر کہتے تھے لبیک اللھم لبیک لا شریک لک الا شریکا ھو لک تملکہ و ما ملک (طبرانی عن ابن عباس) " میں حاضر ہوں، میرے اللہ میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں سوائے اس شریک کے جو تیرا اپنا ہے، تو اس کا بھی مالک ہے اور جو کچھ اس کی ملکیت ہے اس کا بھی تو مالک ہے "۔ اللہ تعالیٰ اس آیت میں اسی شرک کی تردید فرما رہا ہے۔ تمثیل کا منشا یہ ہے کہ خدا کے دیے ہوئے مال میں خدا ہی کے پیدا کیے ہوئے وہ انسان جو اتفاقا تمہاری غلامی میں آگئے ہیں تمہارے تو شریک نہیں قرار پاسکتے، مگر تم نے یہ عجیب دھاندلی مچا رکھی ہے کہ خدا کی پیدا کی ہوئی کائنات میں خدا کی پیدا کردہ مخلوق کو بےتکلف اس کے ساتھ خدائی کا شریک ٹھہراتے ہو۔ اس طرح کی احمقانہ باتیں سوچتے ہوئے آخر تمہاری عقل کہاں ماری جاتی ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم۔ النحل حاشیہ 62)
Ayah 30:29سورة الروم 41
یعنی جب کوئی شخص سیدھی سیدھی عقل کی بات نہ خود نہ سوچے اور نہ کسی کے سمجھانے سے سمجھنے کے لیے تیار ہو تو پھر اس کی عقل پر اللہ کی پھٹکار پڑجاتی ہے اور اس کے بعد ہر وہ چیز جو کسی معقول آدمی کو حق بات تک پہنچنے میں مدد دے سکتی ہے، وہ اس ضدی جہالت پسند انسان کو الٹی مزید گمراہی میں مبتلا کرتی چلی جاتی ہے۔ یہی کیفیت ہے جسے " بھٹکانے " کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ راستی پسند انسان جب اللہ سے ہدایت کی توفیق طلب کرتا ہے تو اللہ اس کی طلب صادق کے مطابق اس کے لیے زیادہ سے زیادہ اسباب ہدایت پیدا فرما دیتا ہے، اور گمراہی پسند انسان جب گمراہ ہی ہونے پر اصرار کرتا ہے تو پھر اللہ اس کے لیے وہی اسباب پیدا کرتا چلا جاتا ہے جو اسے بھٹکا کر روز بروز حق سے دور لیے چلے جاتے ہیں۔
Ayah 30:30سورة الروم 42
یہ " پس " اس معنی میں ہے کہ جب حقیقت تم پر کھل چکی، اور تم کو معلوم ہوگیا کہ اس کائنات اور خود انسان کا خالق ومالک اور حاکم ذی اختیار ایک اللہ کے سوا اور کوئی نہیں ہے تو اس کے بعد لا محالہ تمہارا طرز عمل یہ ہونا چاہیے۔
سورة الروم 43
اس دین سے مراد وہ خاص دین ہے جسے قرآن پیش کر رہا ہے، جس میں بندگی، عبادت اور اطاعت کا مستحق اللہ وحدہ لا شریک کے سوا اور کوئی نہیں ہے، جس میں الوہیت اور اس کی صفات و اختیارات اور اس کے حقوق میں قطعا کسی کو بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک نہیں ٹھہرایا جاتا، جس میں انسان اپنی رضا ورغبت سے اس بات کی پابندی اختیار کرتا ہے کہ وہ اپنی پوری زندگی اللہ کی ہدایت اور اس کے قانون کی پیروی میں بسر کرے گا۔
سورة الروم 44
" یک سو ہو کر اپنا رخ اس طرف جما دو " یعنی پھر کسی اور طرف کا رخ نہ کرو۔ زندگی کے لیے اس راہ کو اختیار کرلینے کے بعد پھر کسی دوسرے راستے کی طرف التفات تک نہ ہونے پائے۔ پھر تمہاری فکر اور سوچ ہو تو مسلمان کی سی اور تمہاری پسند اور ناپسند ہو تو مسلمان کی سی۔ تمہاری قدریں اور تمہارے معیار ہوں تو وہ جو اسلام تمہیں دیتا ہے، تمہارے اخلاق اور تمہاری سیرت و کردار کا ٹھپہ ہو تو اس طرح کا جو اسلام چاہتا ہے اور تمہاری انفرادی و اجتماعی زندگی کے معاملات چلیں تو اس طریقے پر جو اسلام نے تمہیں بتایا ہے۔
سورة الروم 45
یعنی تمام انسان اس فطرت پر پیدا کیے گئے ہیں کہ ان کا کوئی خالق اور کوئی رب اور کوئی معبود اور مطاع حقیقی ایک اللہ کے سوا نہیں ہے۔ اسی فطرت پر تم کو قائم ہوجانا چاہیے، اگر خود مختاری کا رویہ اختیار کروگے تب بھی فطرت کے خلاف چلو گے اور اگر بندگی غیر کا طوق اپنے گلے میں ڈالو گے تب بھی اپنی فطرت کے خلاف کام کرو گے۔
اس مضمون کو متعدد احادیث میں نبی ﷺ نے واضح فرمایا ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ما من مولود یولد الا علی الفطرۃ فابواہ یھودانہ او ینصرانہ او یمجاسنہ کما تنتج البھیمۃ بھیمۃ جمعاء، ھل تحسون فیھا من جدعاء۔ " یعنی ہر بچہ جو کسی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے، اصل انسانی فطرت پر پیدا ہوتا ہے، یہ ماں باپ ہیں جو اسے بعد میں عیسائی یا یہودی یا مجوسی وغیرہ بنا ڈالتے ہیں، اس کی مثال ایسی ہے جیسے ہر جانور کے پیٹ سے پورا کا پورا صحیح وسالم جانور بر آمد ہوتا ہے، کوئی بچہ بھی کٹے ہوئے کان لے کر نہیں آتا، بعد میں مشرکین اپنے اوہام جاہلیت کی بنا پر اس کے کان کاٹتے ہیں "۔
مسند احمد اور نسائی میں ایک اور حدیث ہے کہ ایک جنگ میں مسلمانوں نے دشمنوں کے بچوں تک کو قتل کردیا۔ نبی ﷺ کو خبر ہوئی تو سخت ناراض ہوئے اور فرمایا ما بال اقوام جاوزھم القتل الیوم حتی قتلوا الذریۃ۔ " لوگوں کو کیا ہوگیا کہ آج وہ حد سے گزر گئے اور بچوں تک کو قتل کر ڈالا "۔ ایک شخص نے عرض کیا کیا یہ مشرکین کے بچے نہ تھے ؟ فرمایا انما خیارکم ابناء المشرکین۔ " تمہارے بہترین لوگ مشرکین ہی کی تو اولاد ہیں "۔ پھر فرمایا کل نسمۃ تولد علی الفطرۃ حتی یعرب عنہ لسانھا فابواھا یھودانھا او ینصرانھا۔ " ہر متنفس فطرت پر پیدا ہوتا ہے، یہاں تک کہ جب اس کی زبان کھلنے پر آتی ہے تو ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی بنا لیتے ہیں "۔
ایک اور حدیث جو امام احمد نے عیاض بن حمار المجاشعی سے نقل کی ہے اس میں بیان ہوا ہے کہ ایک روز نبی ﷺ نے اپنے خطبہ کے دوران میں فرمایا ان ربی یقول انی خلقت عبادی حنفاء کلھم وانھم اتتھم الشیاطین فاضلتھم عن دینھم و حرمت علیہم ما احللت لھم و امرتھم ان یشرکوا بی مالم انزل بہ سلطانا۔ " میرا رب فرماتا ہے کہ میں نے اپنے تمام بندوں کو حنیف پیدا کیا تھا، پھر شیاطین نے آکر انیں ان کے دین سے گمراہ کیا، اور جو کچھ میں نے ان کے لیے حلال کیا تھا اسے حرام کیا، اور انہیں حکم دیا کہ میرے ساتھ ان چیزوں کو شریک ٹھہرائیں جن کے شریک ہونے پر میں نے کوئی دلیل نازل نہیں کی ہے "۔
سورة الروم 46
یعنی خدا نے انسان کو اپنا بندہ بنایا ہے اور اپنی ہی بندگی کے لیے پیدا کیا ہے۔ یہ ساخت کسی کے بدلے نہیں بدل سکتی۔ نہ آدمی بندہ سے غیر بندہ بن سکتا ہے، نہ کسی غیر خدا کو خدا بنا لینے سے وہ حقیقت میں اس کا خدا بن سکتا ہے۔ انسان خواہ اپنے کتنے ہی معبود بنا بیٹھے، لیکن یہ امر واقعہ اپنی جگہ اٹل ہے کہ وہ ایک خدا کے سوا کسی کا بندہ نہیں ہے۔ انسان اپنی حماقت اور جہالت کی بنا پر جس کو بھی چاہے خدائی صفات و اختیارات کا حامل قرار دے لے اور جسے بھی چاہے اپنی قسمت کا بنانے اور بگاڑنے والا سمجھ بیٹھے، مگر حقیقت نفس الامری یہی ہے کہ نہ الوہیت کی صفات اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو حاصل نہیں نہ اس کے اختیارات، اور نہ کسی دوسرے کے پاس یہ طاقت ہے کہ انسان کی قسمت بنا سکے یا بگاڑ سکے۔
ایک دوسرا ترجمہ اس آیت کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " اللہ کی بنائی ہوئی ساخت میں تبدیلی نہ کیا جائے " یعنی اللہ نے جس فطرت پر انسان کو پیدا کیا ہے اس کو بگاڑنا اور مسخ کرنا درست نہیں ہے۔
سورة الروم 47
یعنی فطرت سلیمہ پر قائم رہنا ہی سیدھا اور صحیح طریقہ ہے۔
Ayah 30:31سورة الروم 48
اللہ کی طرف رجوع سے مراد یہ ہے کہ جس نے بھی آزادی و خود مختاری کا رویہ اختیار کرکے اپنے مالک حقیقی سے انحراف کیا ہو، یا جس نے بھی بندگی غیر کا طریقہ اختیار کر کے اپنے اصلی و حقیقی رب سے بےوفائی کی ہو، وہ اپنی اس روش سے باز آجائے اور اسی ایک خدا کی بندگی کی طرف پلٹ آئے جس کا بندہ حقیقت میں وہ پیدا ہوا ہے۔
سورة الروم 49
یعنی تمہارے دل میں اس بات کا خوف ہونا چاہیے کہ اگر اللہ کے پیدائشی بندے ہونے کے باوجود تم نے اس کے مقابلے میں خود مختاری کا رویہ اختیار کیا، یا اس کے بجائے کسی اور کی بندگی کی تو اس غداری و نمک حرامی کی سخت سزا تمہیں بھگتنی ہوگی، اس لیے تمہیں ایسی ہر روش سے بچنا چاہیے جو تم کو خدا کے غضب کا مستحق بناتی ہو۔
سورة الروم 50
اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع اور اس کے غضب کا خوف، دونوں قلب کے افعال ہیں۔ اس قلبی کیفیت کو اپنے ظہور اور اپنے استحکام کے لیے لازما کسی ایسے جسمانی فعل کی ضرورت ہے جس سے خارج میں بھی ہر شخص کو معلوم ہوجائے کہ فلاں شخص واقعی اللہ وحدہ لا شریک کی بندگی کی طرف پلٹ آیا ہے، اور آدمی کے اپنے نفس میں بھی اس رجوع وتقوی کی کیفیت کو ایک عملی ممارست کے ذریعہ سے پے در پے نشو ونما نصیب ہوتا چلا جائے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ اس ذہنی تبدیلی کا حکم دینے کے بعد فورا ہی اس جسمانی عمل، یعنی اقامت صلوۃ کا حکم دیتا ہے۔ آدمی کے ذہن میں جب تک کوئی خیال محض خیال کی حد تک رہتا ہے، اس میں استحکام اور پائیداری نہیں ہوتی۔ اس خیال کے ماند پڑجانے کا بھی خطرہ رہتا ہے اور بدل جانے کا بھی امکان ہوتا ہے۔ لیکن جب وہ اس کے مطابق کام کرنے لگتا ہے تو وہ خیال اس کے اندر جڑ پکڑ لیتا ہے، اور جوں جوں وہ اس پر عمل کرتا جاتا ہے، اس کا استحکام بڑھتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ اس عقیدہ و فکر کا بدل جانا یا ماند پڑجانا مشکل سے مشکل تر ہوتا جاتا ہے۔ اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو رجوع الی اللہ اور خوف خدا کو مستحکم کرنے کے لیے ہر روز پانچ وقت پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے سے بڑھ کر کوئی عمل کارگر نہیں ہے۔ کیونکہ دوسرا جو عمل بھی ہو، اس کی نوبت دیر دیر میں آتی ہے یا متفرق صورتوں میں مختلف مواقع پر آتی ہے۔ لیکن نماز ایک ایسا عمل ہے جو ہرچند گھنٹوں کے بعد ایک ہی متعین صورت میں آدمی کو دائما کرنا ہوتا ہے، اور اس میں ایمان و اسلام کا وہ پورا سبق جو قرآن نے اسے پڑھایا ہے، آدمی کو بار بار دہرانا ہوتا ہے تاکہ وہ اسے بھولنے نہ پائے۔ مزید برآں کفار اور اہل ایمان دونوں پر یہ ظاہر ہونا ضروری ہے کہ انسانی آبادی میں سے کس کس نے بغاوت کی روش چھوڑ کر اطاعت رب کی روش اختیار کرلی ہے۔ اہل ایمان پر اس کا ظہور اس لیے درکار ہے کہ ان کی ایک جماعت اور سوسائٹی بن سکے اور وہ خدا کی راہ میں ایک دوسرے سے تعاون کرسکیں اور ایمان و اسلام سے جب بھی ان کے گروہ کے کسی شخص کا تعلق ڈھیلا پڑنا شروع ہو اسی وقت کوئی علامت فورا ہی تمام اہل ایمان کو اس کی حالت سے باخبر کردے۔ کفار پر اس کا ظہور اس لیے ضروری ہے کہ ان کے اندر کی سوئی ہوئی فطرت اپنے ہم جنس انسانوں کو خداوند حقیقی کی طرف بار بار پلٹتے دیکھ کر جاگ سکے، اور جب تک وہ نہ جاگے ان پر خدا کے فرمانبرداروں کی عملی سرگرمی دیکھ دیکھ کر دہشت طاری ہوتی رہے۔ ان دونوں مقاصد کے لیے بھی اقامت صلوۃ ہی سب سے زیادہ موزوں ذریعہ ہے۔
اس مقام پر یہ بات بھی نگاہ میں رہنی چاہیے کہ اقامت صلوۃ کا یہ حکم مکہ معظمہ کے اس دور میں دیا گیا تھا جبکہ مسلمانوں کی ایک مٹھی بھر جماعت کفار قریش کے ظلم و ستم کی چکی میں پس رہی تھی اور اس کے بعد بھی 9 برس تک پستی رہی۔ اس وقت دور دور بھی کہیں اسلامی حکومت کا نام و نشان نہیں تھا۔ اگر نماز اسلامی حکومت کے بغیر بےمعنی ہوتی، جیسا کہ بعض نادان سمجھتے ہیں، یا اقامت صلوۃ سے مراد نماز قائم کرنا سرے سے ہوتا ہی نہیں بلکہ " نظام ربوبیت " چلانا ہوتا، جیسا کہ منکرین سنت کا دعوی ہے، تو اس حالت میں قرآن مجید کا یہ حکم دینا آخر کیا معنی رکھتا ہے ؟ اور یہ حکم آنے کے بعد 9 سال تک نبی ﷺ اور مسلمان اس حکم کی تعمیل آخر کس طرح کرتے رہے ؟
Ayah 30:32سورة الروم 51
یہ اشارہ ہے اس چیز کی طرف کہ نوع انسانی کا اصل دین وہی دین فطرت ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ یہ دین مشرکانہ مذاہب سے بتدریج ارتقاء کرتا ہوا توحید تک نہیں پہنچا ہے، جیسا کہ قیاس و گمان سے ایک فلسفہ مذہب گھڑ لینے والے حضرات سمجھتے ہیں، بلکہ اس کے برعکس یہ جتنے مذاہب دنیا میں پائے جاتے ہیں یہ سب کے سب اس اصلی دین میں بگاڑ آنے سے رونما ہوئے ہیں، اور یہ بگاڑ اس لیے آیا ہے کہ مختلف لوگوں نے فطری حقائق پر اپنی اپنی نو ایجاد باتوں کا اضافہ کر کے اپنے الگ دین بنا ڈالے، اور ہر ایک اصل حقیقت کے بجائے اس اضافہ شدہ چیز کا گرویدہ ہوگیا جس کی بدولت وہ دوسروں سے جدا ہو کر ایک مستقل فرقہ بنا تھا۔ اب جو شخص بھی ہدایت پاسکتا ہے وہ اسی طرح پاسکتا ہے کہ اس اصل حقیقت کی طرف پلٹ جائے جو دین حق کی بنیاد تھی، اور بعد کے ان تمام اضافوں سے اور ان کے گرویدہ ہونے والے گروہوں سے دامن جھاڑ کر بالکل الگ ہوجائے۔ ان کے ساتھ ربط کا جو رشتہ بھی وہ لگائے رکھے گا وہی دین میں خلل کا موجب ہوگا۔
Ayahs 30:33–34سورة الروم 52
یہ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ ان کے دل کی گہرائیوں میں توحید کی شہادت موجود ہے، امیدوں کے سہاروں جب بھی ٹوٹنے لگتے ہیں، ان کا دل خود ہی اندر سے پکارنے لگتا ہے کہ اصل فرمانروائی کائنات کے مالک ہی کی ہے اور اسی کی مدد ان کی بگڑی بنا سکتی ہے۔
سورة الروم 53
یعنی پھر دوسرے معبودوں کی نذریں اور نیازیں چڑھنی شروع ہوجاتی ہیں اور کہا جانے لگتا ہے کہ یہ مصیبت فلاں حضڑت کے طفیل اور فلاں آستانے کے صدقے میں ٹلی ہے۔
Ayah 30:35سورة الروم 54
یعنی آخر کس دلیل سے ان لوگوں کو یہ معلوم ہوا کہ بلائیں خدا نہیں ٹالتا بلکہ حضرت ٹالا کرتے ہیں ؟ کیا عقل اس کی شہادت دیتی ہے ؟ یا کوئی کتاب الہی ایسی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہو کہ میں اپنے خدائی کے اختیارات فلاں فلاں حضرتوں کو دے چکا ہوں اور اب وہ تم لوگوں کے کام بنایا کریں گے ؟
Ayah 30:36سورة الروم 55
اوپر کی آیت میں انسان کی جہالت و حماقت اور اس کا ناشکری و نمک حرامی پر گرفت تھی۔ اس آیت میں اس کے چھچھورپن اور کم ظرفی پر گرفت کی گئی ہے۔ اس تھڑ دلے کو جب دنیا میں کچھ دولت، طاقت، عزت نصیب ہوجاتی ہے اور یہ دیکھتا ہے کہ اس کا کام خوب چل رہا ہے تو اسے یاد نہیں رہتا کہ یہ سب کچھ اللہ کا دیا ہے۔ یہ سمجھتا ہے کہ میرے ہی کچھ سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں جو مجھے وہ کچھ میسر ہوا جس سے دوسرے محروم ہیں۔ اس غلط فہمی میں فخر و غرور کا نشہ اس پر ایسا چڑھتا ہے کہ پھر یہ نہ خدا کو خاطر میں لاتا ہے نہ خلق کو۔ لیکن جونہی کہ اقبال نے منہ موڑا اس کی ہمت جواب دے جاتی ہے اور بد نصیبی کی ایک ہی چوٹ اس پر دل شکستگی کی وہ کیفیت طاری کردیتی ہے جس میں یہ ہر ذلیل سے ذلیل حرکت کر گزرتا ہے حتی کہ کود کشی تک کرجاتا ہے۔
Ayah 30:37سورة الروم 56
یعنی اہل ایمان اس سے سبق حاصل کرسکتے ہیں کہ کفر و شرک کا انسان کے اخلاق پر کیا اثر پڑتا ہے، اور اس کے برعکس ایمان باللہ کے اخلاقی نتائج کیا ہیں۔ جو شخص سچے دل سے خدا پر ایمان رکھتا ہو اور اسی کو رزق کے خزانوں کا مالک سمجھتا ہو، وہ کبھی اس کم ظرفی میں مبتلا نہیں ہوسکتا جس میں خدا کو بھولے ہوئے لوگ مبتلا ہوتے ہیں۔ اسے کشادہ رزق ملے تو پھولے گا نہیں، شکر کرے گا، خلق خدا کے ساتھ تواضع اور فیاضی سے پیش آئے گا، اور خدا کا مال خدا کی راہ میں صرف کرنے سے ہرگز دریغ نہ کرے گا۔ تنگی کے ساتھ رزق ملے، یا فاقے ہی پڑجائیں، تب بھی صبر سے کام لے گا، دیانت و امانت اور خود داری کو ہاتھ سے نہ دے گا، اور اخر وقت تک خدا سے فضل و کرم کی آس لگائے رہے گا۔ یہ اخلاقی بلندی نہ کسی دہریے کو نصیب ہوسکتی ہے نہ مشرک کو۔
Ayah 30:38سورة الروم 57
یہ نہیں فرمایا کہ رشتہ دار، مسکین اور مسافر کو خیرات دے۔ ارشاد یہ ہوا ہے کہ یہ اس کا حق ہے جو تجھے دینا چاہیے، اور حق ہی سمجھ کر تو اسے دے۔ اس کو دیتے ہوئے یہ خیال تیرے دل میں نہ آنے پائے کہ یہ کوئی احسان ہے جو تو اس پر کر رہا ہے، اور تو کوئی بڑٰ ہستی ہے دان کرنے والی، اور وہ کوئی حقیر مخلوق ہے تیرا دیا کھانے والی۔ بلکہ یہ بات اچھی طرح تیرے ذہن نشین رہے کہ مال کے مالک حقیقی نے اگر تجھے زیادہ دیا ہے اور دوسرے بندوں کو کم عطا فرمایا ہے تو یہ زائد مال ان دوسروں کا حق ہے جو تیری آزمائش کے لیے تیرے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے تاکہ تیرا مالک دیکھے کہ تو ان کا حق پہچانتا اور پہنچاتا ہے یا نہیں۔
اس ارشاد الہی اور اس کی اصلی روح پر جو شخص بھی غور کرے گا وہ یہ محسوس کیے بغٰر نہیں رہ سکتا کہ قرآن مجید انسان کے لیے اخلاقی و روحانی ارتقاء کا جو راستہ تجویز کرتا ہے اس کے لیے ایک آزاد معاشرہ اور آزاد معیشت (Free economy) کی موجودگی ناگزیر ہے، یہ ارتقاء کسی ایسے اجتماعی ماحول میں ممکن نہیں ہے جہاں لوگوں کے حقوق ملکیت ساقط کردیے جائیں، ریاست تمام ذرائع کی مالک ہوجائے اور افراد کے درمیان تقسیم رزق کا پورا کاروبار حکومت کی مشینری سنبھال لے، حتی کہ نہ کوئی فرد اپنے اوپر کسی کا کوئی حق پہچان کردے سکے، اور نہ کوئی دوسرا فرد کسی سے کچھ لے کر اس کے لیے اپنے میں کوئی جذبہ خیر سگالی پرورش کرسکے۔ اس طرح کا خالص کمیونسٹ نظام تمدن و معیشت، جسے آج کل ہمارے ملک میں " قرآنی نظام ربوبیت " کے پر فریب نام سے زبردستی قرآن کے سر منڈھا جارہا ہے، قرآن کی اپنی اسکیم کے بالکل خلاف ہے، کیونکہ اس میں انفرادی اخلاق کے نشو و نما اور انفرادی سیرتوں کی تشکیل و ترقی کا دروازہ قطعا بند ہوجاتا ہے۔ قرآن کی اسکیم تو اسی جگہ چل سکتی ہے جہاں افراد کچھ وسائل دولت کے مالک ہوں، ان پر آزادانہ تصرف کے اختیارات رکھتے ہوں، اور پھر اپنی رضا ورغبت سے خدا اور اس کے بندوں کے حقوق اخلاص کے ساتھ ادا کریں۔ اسی قسم کے معاشرے میں یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ فرداً فرداً لوگوں میں ایک طرف ہمدردی، رحم و شفقت، ایثار و قربانی اور حق شناسی و ادائے حقوق کے اعلی اوصاف پیدا ہوں، اور دوسری طرف جن لوگوں کے ساتھ بھلائی کی جائے ان کے دلوں میں بھلائی کرنے والوں کے لیے خیر خواہی، احسان مندی، اور جزاء الاحسان کے پاکیزہ جذبات نشو و نما پائیں، یہاں تک کہ وہ مثالی حالت پیدا ہوجائے جس میں بدی کا رکنا اور نیکی کا فروغ پانا کسی قوت جابرہ کی مداخلت پر موقوف نہ ہو، بلکہ لوگوں کی اپنی پاکیزگی نفس اور ان کے اپنے نیک ارادے اس ذمہ داری کو سنبھال لیں۔
سورة الروم 58
یہ مطلب نہیں ہے کہ فلاح صرف مسکین اور مسافر اور رشتہ دار کا حق ادا کردینے سے حاصل ہوجاتی ہے، اس کے علاوہ اور کوئی چیز حصول فلاح کے لیے درکار نہیں ہے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ انسانوں میں سے جو لوگ ان حقوق کو نہیں پہچانتے اور نہیں ادا کرتے وہ فلاح پانے والے نہیں ہیں، بلکہ فلاح پانے والے وہ ہیں جو خالص اللہ کی خوشنودی کے لیے یہ حقوق پہچانتے اور ادا کرتے ہیں۔
Ayah 30:39سورة الروم 59
قرآن مجید میں یہ پہلی آیت ہے جو سود کی مذمت میں نازل ہوئی۔ اس میں صرف اتنی بات فرمائی گئی ہے کہ تم لوگ تو سود یہ سمجھتے ہوئے دیتے ہو کہ جس کو ہم یہ زائد مال دے رہے ہیں اس کی دولت بڑھے گی، لیکن درحقیقت اللہ کے نزدیک سود سے دولت کی افزائش نہیں ہوتی بلکہ زکوٰۃ سے ہوتی ہے۔ آگے چل کر جب مدینہ طیبہ میں سود کی حرمت کا حکم نازل کیا گیا تو اس پر مزید یہ بات ارشاد فرمائی گئی کہ يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَيُرْبِي الصَّدَقٰتِ (البقرہ، آیت 276) " اللہ سود کا مٹھ مار دیتا ہے اور صدقات کو نشو و نما دیتا ہے " (بعد کے احکام کے لیے ملاحظہ ہو آل عمران، آیت 130۔ البقرہ، آیات 275 تا 281۔
اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کے دو اقوال ہیں۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ یہاں ربو سے مراد وہ سود نہیں ہے جو شرعا حرام کیا گیا ہے، بلکہ وہ عطیہ یا ہدیہ و تحفہ ہے جو اس نیت سے دیا جائے کہ لینے والا بعد میں ا سے زیادہ واپس کرے گا۔ یا معطی کے لیے کوئی مفید خدمت انجام دے گا، یا اس کا خوشحال ہوجانا معطی کی اپنی ذات کے لیے نافع ہوگا۔ یہ ابن عباس، مجاہد، ضحاک، قتادہ، عکرمہ، محمد بن کعب القرظی اور شعبی ؓ کا قول ہے۔ اور غالبا یہ تفسیر ان حضرات نے اس بنا پر فرمائی ہے کہ آیت میں اس فعل کا نتیجہ صرف اتنا ہی بتایا گیا ہے کہ اللہ کے ہاں اس دولت کو کوئی افزائش نصیب نہ ہوگی، حالانکہ اگر معاملہ اس سود کا ہوتا جسے شریعت نے حرام کیا ہے تو مثبت طور پر فرمایا جاتا کہ اللہ کے ہاں اس پر سخت عذاب دیا جائے گا۔
دوسرا گروہ کہتا ہے کہ نہیں اس سے مراد وہی معروف ربو ہے جسے شریعت نے حرام کیا ہے۔ یہ رائے حضرت حسن بصری اور سدی کی ہے اور علامہ آلوسی کا خیال ہے کہ آیت کا ظاہری مفہوم یہی ہے، کیونکہ عربی زبان میں ربو کا لفظ اسی معنی کے لیے استعمال ہوتا ہے، اسی تاویل کو مفسر نیسابوری نے بھی اختیار کیا ہے۔
ہمارے خیال میں بھی یہی دوسری تفسیر صحیح ہے، اس لیے کہ معروف معنی کو چھوڑنے کے لیے وہ دلیل کافی نہیں ہے جو اوپر تفسیر اول کے حق میں بیان ہوئی ہے۔ سورة روم کا نزول جس زمانے میں ہوا ہے اس وقت قرآن مجید میں سود کی حرمت کا اعلان نہیں ہوا تھا۔ یہ اعلان اس کے کئی برس بعد ہوا ہے۔ قرآن مجید کا طریقہ یہ ہے کہ جس چیز کو بعد میں کسی وقت حرام کرنا ہوتا ہے، اس کے لیے وہ پہلے ذہنوں کو تیار کرنا شروع کردیتا ہے۔ شراب کے معاملے میں بھی پہلے صرف اتنی بات فرمائی گئی تھی کہ وہ پاکیزہ رزق نہیں ہے، (النحل، آیت 67) پھر فرمایا کہ اس کا گناہ اس کے فائدے سے زیادہ ہے (البقرہ 219) پھر حکم دیا گیا کہ نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ (النساء، 43) پھر اس کی قطعی حرمت کا فیصلہ کردیا گیا۔ اسی طرح یہاں سود کے متعلق صرف اتنا کہنے پر اکتفا کیا گیا ہے کہ یہ وہ چیز نہیں ہے جس سے دولت کی افزائش ہوتی ہو، بلکہ حقیقی افزائش زکوٰۃ سے ہوتی ہے۔ اس کے بعد سود در سود کو منع کیا گیا (آل عمران، آیت 130) اور سب سے آخر میں بجائے خود سود ہی کی قطعی حرمت کا فیصلہ کردیا گیا۔ (البقرہ، آیت 5)
سورة الروم 60
اس بڑھوتری کے لیے کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ جتنی خالص نیت اور جتنے گہرے جذبہ ایثار اور جس قدر شدید طلب رضائے الہی کے ساتھ کوئی شخص راہ خدا میں مال صرف کرے گا اسی قدر اللہ تعالیٰ اس کا زیادہ سے زیادہ اجر دے گا۔ چناچہ ایک صحیح حدیث میں آیا ہے کہ اگر ایک شخص راہ خدا میں ایک کھجور بھی دے تو اللہ تعالیٰ اس کو بڑھا کر احد پہاڑ کے برابر کردیتا ہے۔
Ayah 30:40سورة الروم 61
یہاں سے پھر کفار و مشرکین کو سمجھانے کے لیے سلسلہ کلام توحید و آخرت کے مضمون کی طرف پھرجاتا ہے۔
سورة الروم 62
یعنی زمین میں تمہارے رزق کے لیے جملہ وسائل فراہم کیے اور ایسا انتظام کردیا کہ رزق کی گردش سے ہر ایک کو کچھ نہ کچھ حصہ پہنچ جائے۔
سورة الروم 63
یعنی اگر تمہارے بنائے ہوئے معبودوں میں سے کوئی بھی نہ پیدا کرنے والا ہے، نہ رزق دینے والا، نہ موت و زیست اس کے قبضہ قدرت میں ہے، اور نہ مرجانے کے بعد وہ کسی کو زندہ کردینے پر قادر ہے، تو آخری لوگ ہیں کس مرض کی دوا کہ تم نے انہیں معبود بنا لیا ؟
Ayah 30:41سورة الروم 64
یہ پھر اس جنگ کی طرف اشارہ ہے جو اس وقت روم و ایران کے درمیان برپا تھی جس کی آگ نے پورے شرق اوسط کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ " لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی " سے مراد وہ فسق و فجور اور ظلم و جور ہے جو شرک یا دہریت کا عقیدہ اختیار کرنے اور آخرت کو نظر انداز کردینے سے لازما انسانی اخلاق و کردار میں رونما ہوتا ہے۔ " شاید کہ وہ باز آئیں " کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آخرت کی سزا سے پہلے اس دنیا میں انسانوں کو ان کے تمام اعمال کا نہیں، بلکہ بعض اعمال کا برا نتیجہ اس لیے دکھاتا ہے کہ وہ حقیقت کو سمجھیں اور اپنے تخیلات کی غلطی کو محسوس کر کے اس عقیدہ صالحہ کی طرف رجوع کریں جو انبیاء (علیہم السلام) ہمیشہ سے انسان کے سامنے پیش کرتے چلے آرہے ہیں، جس کو اختیار کرنے کے سوا انسانی اعمال کو صحیح بنیاد پر قائم کرنے کی کوئی دوسری صورت نہیں ہے۔ یہ مضمون قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو، التوبہ، آیت 126۔ الرعد آیت 31۔ السجدہ 21۔ الطور 47۔
Ayah 30:42سورة الروم 65
یعنی روم و ایران کی تباہ کن جنگ آج کوئی نیا حادثہ نہیں ہے۔ پچھلی تاریخ بڑی بڑی قوموں کی تباہی و بربادی کے ریکارڈ سے بھری ہوئی ہے۔ اور ان سب قوموں کو جن خرابیوں نے برباد کیا ان سب کی جڑ یہی شرک تھا جس سے باز آنے کے لیے آج تم سے کہا جارہا ہے۔
Ayah 30:43سورة الروم 66
یعنی جس کو نہ اللہ تعالیٰ خود ٹالے گا اور اس نے کسی کے لیے ایسی کسی تدبیر کی کوئی گنجائش چھوڑی ہے کہ وہ اسے ٹال سکے۔
Ayahs 30:44–45سورة الروم 67
یہ ایک جامع فقرہ ہے جو تمام ان مضرتوں کو اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے جو کافر کو اپنے کفر کی بدولت پہنچ سکتی ہے۔ مضرتوں کی کوئی مفصل فہرست بھی اتنی جامع نہیں ہوسکتی۔
Ayah 30:46سورة الروم 68
یعنی باران رحمت کی خوشخبری دینے کے لیے۔
سورة الروم 69
یہ ایک اور قسم کی ہواؤں کا ذکر ہے جو جہاز رانی میں مددگار ہوتی ہیں۔ قدیم زمانہ کی بادبانی کشتیوں اور جہازوں کا سفر زیادہ تر باد موافق پر منحصر تھا اور باد مخالف ان کے لیے تباہی کا پیش خیمہ ہوتی تھی۔ اس لیے بارش لانے والی ہواؤں کے بعد ان ہواؤں کا ذکر ایک نعمت خاص کی حیثیت سے کیا گیا ہے۔
سورة الروم 70
یعنی تجارت کے لیے سفر کرو۔
Ayahs 30:47–49سورة الروم 71
یعنی ایک قسم کی نشانیاں تو وہ ہیں جو کائنات فطرت میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں، جن سے انسان کو اپنی زندگی میں ہر آن سابقہ پیش آنا ہے، جن میں سے ایک ہواؤں کی گردش کا یہ نظام ہے جس کا اوپر کی آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔ اور دوسری قسم کی نشانیاں وہ ہیں جو انبیاء (علیہم السلام) معجزات کی صورت میں، کلام الہی کی صورت میں، اپنی غیر معمولی پاکیزہ سیرت کی شکل میں، اور انسانی معاشرے پر اپنی حیات بخش تاثیرات کی شکل میں لے کر آئے۔ یہ دونوں قسم کی نشانیاں ایک ہی حقیقت کی نشان دہی کرتی ہیں، اور وہ یہ ہے کہ جس توحید کی تعلیم انبیاء دے رہے ہیں وہی برحق ہے۔ ان میں سے ہر نشانی دوسری کی مؤید ہے۔ کائنات کی نشانیاں انبیاء کے بیان کی صداقت پر شہادت دیتی ہیں اور انبیاء کی لائی ہوئٰ نشانیاں اس حقیقت کو کھولتی ہیں جس کی طرف کائنات کی نشانیاں اشارے کر رہی ہیں۔
سورة الروم 72
یعنی جو لوگ ان دونوں نشانیوں کی طرف سے اندھے بن کر توجہ سے انکار پر جمے رہے اور خدا سے بغاوت ہی کیے چلے گئے۔
Ayah 30:50سورة الروم 73
یہاں جس انداز سے نبوت اور بارش کا ذکر یکے بعد دیگرے کیا گیا ہے اس میں ایک لطیف اشارہ اس حقیقت کی طرف بھی ہے کہ نبی کی آمد بھی انسان کی اخلاقی زندگی کے لیے ویسی ہی رحمت ہے جیسی بارش کی آمد اس کی مادی زندگی کے لیے رحمت ثابت ہوتی ہے۔ جس طرح آسمانی بارش کے نزول سے مردہ پڑی ہوئٰ زمین یکایک جی اٹھتی ہے اور اس میں کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں، اسی طرح آسمانی وحی کا نزول اخلاق و روحانیت کی ویران پڑی ہوئی دنیا کو جلا اٹھاتا ہے اور اس میں فضائل و محامد کے گلزار لہلہانے شروع ہوجاتے ہیں۔ یہ کفار کی اپنی بدقسمتی ہے کہ خدا کی طرف سے یہ نعمت جب ان کے ہاں آتی ہے تو وہ اس کا کفران کرتے ہیں اور اس کو اپنے لیے مژدہ رحمت سمجھنے کے بجائے پیام موت سمجھ لیتے ہیں۔
Ayah 30:51سورة الروم 74
یعنی باران رحمت کے بعد جب کھیتیاں سرسبز ہوچکی ہوں اس وقت اگر کوئی ایسی سخت سرد یا سخت گرم ہوا چل پڑے جو ہری بھری فصلوں کو جلا کر رکھ دے۔
سورة الروم 75
یعنی پھر وہ خدا کو کو سنے لگتے ہیں اور اس پر الزام رکھنے لگتے ہیں کہ اس نے یہ کیسی مصیبتیں ہم پر ڈال رکھی ہیں۔ حالانکہ جب خدا نے ان پر نعمت کی بارش کی تھی اس وقت انہوں نے شکر کے بجائے اس کی ناقدری کی تھی۔ یہاں پھر ایک لطیف اشارہ اس مضمون کی طرف ہے کہ جب خدا کے رسول اس کی طرف سے پیام رحمت لاتے ہیں تو لوگ ان کی بات نہیں مانتے اور اس نعمت کو ٹھکرا دیتے ہیں۔ پھر جب ان کے کفر کی پاداش میں خدا ان پر ظالموں اور جباروں کو مسلط کردیتا ہے اور وہ جور و ستم کی چکی میں انہیں پیستے ہیں اور جو ہر آدمیت کا قلع قمع کر ڈالتے ہیں تو وہی لوگ خدا کو گالیاں دینا شروع کردیتے ہیں اور اسے الزام دیتے ہیں کہ اس نے یہ کیسی ظلم سے بھری ہوئی دنیا بنا ڈالی ہے۔
Ayah 30:52سورة الروم 76
یہاں مردوں سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے ضمیر مر چکے ہیں، جن کے اندر اخلاقی زندگی کی رمق بھی باقی نہیں رہی ہے، جن کی بندگی نفس اور ضد اور ہٹ دھرمی نے اس صلاحیت ہی کا خاتمہ کردیا ہے جو آدمی کو حق بات سمجھنے اور قبول کرنے کے قابل بناتی ہے۔
سورة الروم 77
بہروں سے مراد وہ لوگ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے دلوں پر ایسے قفل چڑھا رکھے ہیں کہ سب کچھ سن کر بھی وہ کچھ نہیں سنتے۔ پھر جب ایسے لوگ یہ کوشش بھی کریں کہ دعوت حق کی آواز سرے سے ان کے کان میں پڑنے ہی نہ پائے، اور داعی کی شکل دیکھتے ہی دور بھاگنا شروع کردیں تو ظاہر ہے کہ کوئی انہیں کیا سنائے اور کیسے سنائے ؟
Ayah 30:53سورة الروم 78
یعنی نبی کا کام یہ تو نہیں ہے کہ اندھوں کا ہاتھ پکڑ کر انہیں ساری عمر راہ راست پر چلاتا رہے، وہ تو راہ راست کی طرف رہنمائی ہی کرسکتا ہے۔ مگر جن لوگوں کی ہے آنکھیں پھوٹ چکی ہوں اور جنہیں وہ راستہ نظر ہی نہ آتا ہو جو نبی انہیں دکھانے کی کوشش کرتا ہے، ان کی رہنمائی کرنا نبی کے بس کا کام نہیں ہے۔
Ayah 30:54سورة الروم 79
یعنی بچپن، جوانی اور بڑھاپا، یہ ساری حالتیں اسی کی پیدا کردہ ہیں۔ یہ اسی کی مشیت پر موقوف ہے کہ جسے چاہے کمزور پیدا کرے اور جس کو چاہے طاقت ور بنائے، جسے چاہے بچپن سے جوانی تک نہ پہنچنے دے اور جس کو چاہے جوان مرگ کردے، جسے چاہے لمبی عمر دے کر بھی تندرست و توانا رکھے اور جس کو چاہے شاندار جوانی کے بعد بڑھاپے میں اس طرح ایڑیاں رگڑوائے کہ دنیا اسے دیکھ کر عبرت کرنے لگے۔ انسان اپنی جگہ جس گھمنڈ میں چاہے مبتلا ہوتا رہے مگر خدا کے قبضہ قدرت میں وہ اس طرح بےبس ہے کہ جو حالت بھی خدا اس پر طاری کردے اسے وہ اپنی کسی تدبیر سے نہیں بدل سکتا۔
Ayahs 30:55–56سورة الروم 80
یعنی قیامت جس کے آنے کی خبر دی جارہی ہے۔
سورة الروم 81
یعنی مرنے کے وقت سے قیامت کی اس گھڑی تک۔ ان دونوں ساعتوں کے درمیان چاہے دس بیس ہزار برس ہی گزر چکے ہوں، مگر وہ محسوس کریں گے کہ چند گھنٹے پہلے ہم سوئے تھے اور اب اچانک ایک حادثہ نے ہمیں جگا اٹھایا ہے۔
سورة الروم 82
یعنی ایسے ہی غلط اندازے یہ لوگ دنیا میں بھی لگاتے تھے۔ وہاں بھی یہ حقیقت کے اداراک سے محروم تھے اسی وجہ سے یہ حکم لگایا کرتے تھے کہ کوئی قیامت ویامت نہیں آنی، مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں، اور کسی خدا کے سامنے حاضر ہو کر ہمیں حساب نہیں دینا۔
Ayahs 30:57–59سورة الروم 83
دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے " نہ ان سے یہ چاہا جائے گا کہ اپنے رب کو راضی کرو " اس لیے کہ توبہ اور ایمان اور عمل صالح کی طرف رجوع کرنے کے سارے مواقع کو وہ کھو چکے ہوں گے اور امتحان کا وقت ختم ہو کر فیصلے کی گھڑی آچکی ہوگی۔