30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsتفہیم القرآن

Ayah 30:60

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لَا یَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 30:60 in the Quran reader

پس (اے نبیؐ)صبر کرو، یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے،84 اور ہرگز ہلکا نہ پائیں تم کو وہ لوگ جو یقین نہیں لاتے۔85

سورة الروم 84 اشارہ ہے اس وعدے کی طرف جو اوپر آیت نمبر 47 میں گزر چکا ہے۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ سنت بیان کی ہے کہ جن لوگوں نے بھی اللہ کے رسولوں کی لائی ہوئی بینات کا مقابلہ تکذیب و تضحیک اور ہٹ دھرمی کے ساتھ کیا ہے اللہ نے ایسے مجرموں سے ضرور انتقام لیا ہے (فَانْتَـقَمْنَا مِنَ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا) اور اللہ پر یہ حق ہے کہ مومنوں کی نصرت فرمائے (وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ)۔ سورة الروم 85 یعنی دشمن تم کو ایسا کمزور نہ پائیں کہ ان کے شور و غوغا سے تم دب جاؤ، یا ان کی بہتان و افترا کی مہم سے تم مرعوب ہوجاؤ، یا ان کی پھبتیوں اور طعنوں اور تضحیک و استہزاء سے تم پست ہمت ہوجاؤ، یا ان کی دھمکیوں اور طاقت کے مظاہروں اور ظلم و ستم سے تم ڈر جاؤ، یا ان کے دیے ہوئے لالچوں سے تم پھسل جاؤ، یا قومی مفاد کے نام پر جو اپیلیں وہ تم سے کر رہے ہیں ان کی بنا پر تم ان کے ساتھ مصالحت کرلینے پر اتراؤ۔ اس کے بجائے وہ تم کو اپنے مقصد کے شعور میں اتنا ہوشمند اور اپنے یقین و ایمان میں اتنا پختہ اور اس عزم میں اتنا راسخ اور اپنے کیر کٹر میں اتنا مضبوط پائیں کہ نہ کسی خوف سے تمہیں ڈرایا جاسکے، نہ کسی قیمت پر تمہیں خریدا جاسکے، نہ کسی فریب سے تم کو پھسلایا جاسکے، نہ کوئی خطرہ یا نقصان یا تکلیف تمہیں اپنی راہ سے ہٹا سکے اور نہ دین کے معاملہ میں کسی لین دین کا سودا تم سے چکایا جاسکے۔ یہ سارا مضمون اللہ تعالیٰ کے کلام بلاغت نظام نے اس ذرا سے فقرے میں سمیٹ دیا ہے کہ " یہ بےیقین لوگ تم کو ہلکا نہ پائیں "۔ اب اس بات کا ثبوت تاریخ کی بےلاگ شہادت دیتی ہے کہ نبی ﷺ دنیا پر ویسے ہی بھاری ثابت ہوئے جیسا اللہ اپنے آخری نبی کو بھاری بھرکم دیکھنا چاہتا تھا۔ آپ سے جس نے جس میدان میں بھی زور آزمائی کی اس نے اسی میدان میں مات کھائی اور آخر اس شخصیت عظمی نے وہ انقلاب برپا کر کے دکھا دیا جسے روکنے کے لیے عرب کے کفر و شرک نے اپنی ساری طاقت صرف کردی اور اپنے سارے حربے استعمال کر ڈالے۔