33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتفہیم القرآن

Ayah 33:55

لَا جُنَاحَ عَلَیْهِنَّ فِیْۤ اٰبَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَ لَا نِسَآئِهِنَّ وَ لَا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ١ۚ وَ اتَّقِیْنَ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا Open ayah 33:55 in the Quran reader

ازواجِ نبیؐ کے لیے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ ان کے باپ، ان کے بیٹے ، ان کے بھائی ، ان کے بھتیجے ، ان کے بھانجے 102 ، ان کے میل جول کی عورتیں 103 اور ان کے مملوک 104 گھروں میں آئیں۔ (اے عورتو!) تمہیں اللہ کی نافرمانی سے پرہیز کرنا چاہئے۔ اللہ ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے۔ 105

سورة الْاَحْزَاب 102 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفسیر سورة نور حواشی نمبر 38 تا 42۔ اس سلسلے میں علامہ آلوسی کی یہ تشریح بھی قابل ذکر ہے کہ " بھائیوں، بھانجوں، اور بھتیجوں کے حکم میں وہ سب رشتہ دار آجاتے ہیں جو ایک عورت کے لیے حرام ہوں، خواہ وہ نَسَبی رشتہ دار ہوں یا رضاعی۔ اس فہرست میں چچا اور ماموں کا ذکر اس لیے نہیں کیا گیا کہ وہ عورت کے لیے بمنزلۂ والدین ہیں۔ یا پھر ان کے ذکر کو اس لیے ساقط کردیا گیا کہ بھانجوں اور بھتیجوں کا ذکر آجانے کے بعد ان کے ذکر کی حاجت نہیں ہے، کیونکہ بھانجے اور بھتیجے سے پردہ نہ ہونے کی جو وجہ ہے وہی چچا اور ماموں سے پردہ نہ ہونے کی وجہ بھی ہے "۔ (رعحالمعانی) سورة الْاَحْزَاب 103 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفسیر سورة نور 43۔ سورة الْاَحْزَاب 104 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفسیر سورة نور 44۔ سورة الْاَحْزَاب 105 اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اس حکم قطعی کے آجانے کے بعد آئندہ کسی ایسے شخص کو گھروں میں بےحجاب آنے کی اجازت نہ دی جائے جو ان مستثنیٰ رشتہ داروں کے دائرے سے باہر ہو۔ دوسرا مطلب یہ بھی کہ خواتین کو یہ روش ہرگز نہ اختیار کرنی چاہیے کہ وہ شوہر کی موجودگی میں تو پردے کی پابندی کریں مگر جب وہ موجود نہ ہو تو غیر محرم مردوں کے سامنے پردہ اٹھا دیں۔ ان کا یہ فعل چاہے ان کے شوہر سے چھپا رہ جائے خدا سے تو نہیں چھپ سکتا۔
Ayah 33:56

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓئِكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 33:56 in the Quran reader

اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں 106 ، اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو 107

سورة الْاَحْزَاب 106 اللہ کی طرف سے اپنے نبی پر صلوٰۃ کا مطلب یہ ہے کہ وہ آپ پر بےحد مہربان ہے، آپ کی تعریف فرماتا ہے، آپ کے کام میں برکت دیتا ہے، آپ کا نام بلند کرتا ہے اور آپ پر اپنی رحمتوں کی بارش فرماتا ہے۔ ملائکہ کی طرف سے آپ ﷺ پر صلوٰۃ کا مطلب یہ ہے کہ وہ آپ سے غایت درجے کی محبت رکھتے ہیں اور آپ کے حق میں اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ آپ کو زیادہ سے زیادہ بلند مرتبے عطا فرمائے، آپ کے دین کو سر بلند کرے، آپ کی شریعت کو فروغ بخشے اور آپ کو مقام محمود پر پہنچائے۔ سیاق وسباق پر نگاہ ڈالنے سے صاف محسوس ہوجاتا ہے کہ اس سلسلۂ بیان میں یہ بات کس لیے ارشاد فرمائی گئی ہے۔ وقت وہ تھا جب دشمنان اسلام اس دین مبین کے فروغ پر اپنے دل کی جلن نکالنے کے لیے حضور ﷺ کے خلاف الزامات کی بوچھاڑ کر رہے تھے اور اپنے نزدیک یہ سمجھ رہے تھے کہ اس طرح کیچڑ اچھال کر وہ آپ ﷺ کے اس اخلاقی اثر کو ختم کردیں گے جس کی بدولت اسلام اور مسلمانوں کے قدم روز بروز بڑھتے چلے جا رہے تھے۔ ان حالات میں یہ آیت نازل کر کے اللہ تعالیٰ نے دنیا کو یہ بتایا کہ کفار و مشرکین اور منافقین میرے نبی کو بدنام کرنے اور نیچا دکھانے کی جتنی چاہیں کوشش کر دیکھیں، آخر کار وہ منہ کی کھائیں گے، اس لیے کہ میں اس پر مہربان ہوں اور ساری کائنات کا نظم و نسق جن فرشتوں کے ذریعہ سے چل رہا ہے وہ سب اس کے حامی اور ثنا خواں ہیں۔ وہ اس کی مذمت کر کے کیا پاسکتے ہیں جبکہ میں اس کا نام بلند کر رہا ہوں اور میرے فرشتے اس کی تعریفوں کے چرچے کر رہے ہیں۔ وہ اپنے اوچھے ہتھیاروں سے اس کا کیا بگاڑ سکتے ہیں جبکہ میری رحمتیں اور برکتیں اس کے ساتھ ہیں اور میرے فرشتے شب و روز دعا کر رہے ہیں کہ رب العالمین، محمد ﷺ کا مرتبہ اور زیادہ اونچا کر اور اس کے دین کو اور زیادہ فروغ دے۔ سورة الْاَحْزَاب 107 دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ اے لوگو جن کو محمد رسول اللہ ﷺ کی بدولت راہ راست نصیب ہوئی ہے، تم ان کی قدر پہچانو اور ان کے احسان عظیم کا حق ادا کرو۔ تم جہالت کی تاریکیوں میں بھٹک رہے تھی، اس شخص نے تمہیں علم کی روشنی دی۔ تم اخلاق کی پستیوں میں گرے ہوئے تھے، اس شخص نے تمہیں اٹھایا اور اس قابل بنایا کہ آج محسود خلائق بنے ہوئے ہو۔ تم وحشت اور حیوانیت میں مبتلا تھے، اس شخص نے تم کو بہترین انسانی تہذیب سے آراستہ کیا۔ کفر کی دنیا اسی لیے اس شخص پر خار کھا رہی ہے کہ اس نے یہ احسانات تم پر کیے، ورنہ اس نے کسی کے ساتھ ذاتی طور پر کوئی برائی نہ کی تھی۔ اس لیے اب تمہاری احسان شناسی کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ جتنا بغض وہ اس خیر مجسم کے خلاف رکھتے ہیں اسی قدر بلکہ اس سے زیادہ محبت تم اس سے رکھو، جتنی وہ اس سے نفرت کرتے ہیں اتنے ہی بلکہ اس سے زیادہ تم اس کے گرویدہ ہوجاؤ، جتنی وہ اس کی مذمت کرتے ہیں اتنی ہی بلکہ اس سے زیادہ تم اس کی تعریف کرو، جتنے وہ اس کے بدخواہ ہیں اتنے ہی بلکہ اس سے زیادہ تم اس کے خیر خواہ بنو اور اس کے حق میں وہی دعا کرو جو اللہ کے فرشتے شب و روز اس کے لیے کر رہے ہیں کہ اے رب دوجہاں ! جس طرح تیرے نبی ﷺ نے ہم پر بےپایاں احسانات فرمائے ہیں، تو بھی ان پر بےحد و بےحساب رحمت فرما، ان کا مرتبہ دنیا میں بھی سب سے زیادہ بلند کر اور آخرت میں بھی انہیں تمام مقربین سے بڑھ کر تقرب عطا فرما۔ اس آیت میں مسلمانوں کو دو چیزوں کا حکم دیا گیا ہے۔ ایک صَلُّوْا عَلَیْہِ۔ دوسرے سَلِّمُوْا تَسْلِیْماً صلوٰۃ کا لفظ جب علیٰ کے صلہ کے ساتھ آتا ہے تو اس کے تین معنی ہوتے ہیں۔ ایک، کسی پر مائل ہونا، اس کی طرف محبت کے ساتھ متوجہ ہونا اور اس پر جھکنا۔ دوسرے، کسی کی تعریف کرنا۔ تیسرے، کسی کے حق میں دعا کرنا۔ یہ لفظ جب اللہ تعالیٰ کے لیے بولا جائے گا تو ظاہر ہے کہ تیسرے میں معنی میں نہیں ہوسکتا، کیونکہ اللہ کا کسی اور سے دعا کرنا قطعاً ناقابل تصور ہے۔ اس لیے لامحالہ وہ صرف پہلے دو معنوں میں ہوگا۔ لیکن جب یہ لفظ بندوں کے لیے بولا جائے گا، خواہ وہ فرشتے ہوں یا انسان، تو وہ تینوں معنوں میں ہوگا۔ اس میں محبت کا مفہوم بھی ہوگا۔ مدح و ثنا کا مفہوم بھی اور دعائے رحمت کا مفہوم بھی۔ لہٰذا اہل ایمان کو نبی ﷺ کے حق میں صَلُّوْ عَلَیْہِ کا حکم دینے کا مطلب یہ ہے کہ تم ان کے گرویدہ ہوجاؤ، ان کی مدح و ثنا کرو، اور ان کے لیے دعا کرو۔ سَلَام کا لفظ بھی دو معنی رکھتا ہے۔ ایک، ہر طرح کی آفات اور نقائص سے محفوظ رہنا، جس کے لیے ہم اردو میں سلامتی کا لفظ بولتے ہیں۔ دوسرے صلح اور عدم مخالفت۔ پس نبی ﷺ کے حق میں سَلِّمُوْا تِسْلِیْماً کہنے کا ایک مطلب یہ ہے کہ تم ان کے حق میں کامل سلامتی کی دعا کرو۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم پوری طرح دل و جان سے ان کا ساتھ دو ، ان کی مخالفت سے پرہیز کرو، اور ان کے سچے فرمانبردار بن کر رہو۔ یہ حکم جب نازل ہوا تو متعدد صحابہ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ، سلام کا طریقہ تو آپ ہمیں بتا چکے ہیں (یعنی نماز میں السلام علیک ایھا النبی و رحمۃ اللہ و برکاتۃٗ اور ملاقات کے وقت السلام علیک یا رسول اللہ کہنا) مگر آپ پر صلوٰۃ بھیجنے کا طریقہ کیا ہے ؟ اس کے جواب میں حضور ﷺ نے بہت سے لوگوں کو مختلف مواقع پر جو درود سکھائے ہیں وہ ہم ذیل میں درج کرتے ہیں کعب بن عجُرہ اللّٰہم صل علٰی محمد و علٰی اٰل محمد کما صلیت علٰی ابراہم وعلی ال ابراہیم انک حمید مجید وبارک علٰی محمد و علٰی اٰل محمد کما بارکت علٰی ابراہیم و علٰی اٰل ابراہیم انک حمیدٌ مجید یہ درود تھوڑے تھوڑے لفظی اختلافات کے ساتھ حضرت کعب بن عجرہ سے بخاری، مسلم، ابو داؤد ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، امام احمد، ابن ابی شیبہ، عبدالرزاق، ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے روایت کیا ہے۔ ابن عباس ؓ ان سے بھی بہت خفیف فرق کے ساتھ وہی درود مروی ہے جو اوپر نقل ہوا ہے (ابن جریر) ابو حمید ساعدی اللہم صلی علی محمد وازواجہ وذریتہ کما صلیت علی ابراہیم وبارک علی محمد وازواجہ و ذریتہ کما بارکت علی ال ابراہیم انک حمیدٌ مجید (مالک، مسلم، ابو داود، ترمذی ، ، نسائی، احمد، ابن حبان، حاکم) ابُو مسعود بدری اللّٰھُمّ صَلیّ علٰی مُحَمّدٍ وَ علیٰ اٰل محَمّدٍ کَمَا صَلّیت علیٰ ابراھیمَ وَبارک علیٰ محمدٍ و علیٰ اٰل محَمّدٍ کما بارکت علیٰ ابراہیم فی العالمین انّکَ حمیدٌ مَّجید (مالک، مسلم، ابوداود، ترمذی، نَسائی، احمد، ابن جریر، ابن حبان، حاکم) ابو سعیدخُدری اللہم صل علی محمد عبدک و رسولک کما صلیت علی ابراہیم وبارک علی محمد و علی ال محمد کما بارکت علی ابرھیم (احمد بخاری نسائی، ابن ماجہ) بریدۃ الخزاعی اللھم اجعل صلوتک و رحمتک و برکاتک علی محمد و علی ال محمد کما جعلتھا علی ابراہیم انک حمید مجید (احمد، عبد بن حمید، ابن مردویہ) ابوہریرہ اللہم صل علی محمد و علی ال محمد وبارک علی محمد و علی ال محمد کما صلیت و بارکت علی ابراہیم و علی ال ابراہیم فی العالمین انک حمیدٌ مجید (نسائی) طلحہ اللہم صل علی محمد و علی ال محمد کما صلیت علی ابراہیم انک حمید مجید وبارک علی محمد و علی ال محمد کما بارکت علی ابراہیم انک حمیدٌ مجید (ابن جریر) یہ تمام درود الفاظ کے اختلاف کے باوجود معنی میں متفق ہیں۔ ان کے اندر چند اہم نکات ہیں جنہیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے اوّلاً ، ان سب میں حضور ﷺ نے مسلمانوں سے فرمایا ہے کہ مجھ پر درود بھیجنے کا طریقہ یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ اے خدا، تو محمد ﷺ پر درود بھیج۔ نادان لوگ جنہیں معنی کا شعور نہیں ہے اس پر فوراً یہ اعتراض جڑ دیتے ہیں کہ یہ تو عجیب بات ہوئی، اللہ تعالیٰ تو ہم سے فرما رہا ہے کہ تم میرے نبی ﷺ پر درود بھیجو، مگر ہم الٹا اللہ سے کہتے ہیں کہ تو درود بھیج۔ حالانکہ دراصل اس طرح نبی ﷺ نے لوگوں کو یہ بتایا ہے کہ تم مجھ پر " صلوٰۃ " کا حق ادا کرنا چاہو بھی تو نہیں کرسکتے ‘ اس لیے اللہ ہی سے دعا کرو کہ وہ مجھ پر صلوٰۃ فرمائے۔ ظاہر بات ہے کہ ہم حضور ﷺ مراتب بلند نہیں کرسکتے۔ اللہ ہی بلند کرسکتا ہے۔ ہم حضور ﷺ کے احسانات کا بدلہ نہیں دے سکتے۔ اللہ ہی ان کا اجر دے سکتا ہے۔ ہم حضور ﷺ کے رفع ذکر کے لیے آپ کے دین کو فروغ دینے کے لیے خواہ کتنی ہی کوشش کریں، اللہ کے فضل اور اس کی توفیق و تائید کے بغیر اس میں کامیابی نہیں ہو سکتی۔ حتیٰ کہ محبت و عقیدت بھی ہمارے دل میں اللہ ہی کی مدد سے جاگزیں ہو سکتی ہے ورنہ شیطان نہ معلوم کتنے وساوس دل میں ڈال کر ہمیں آپ ﷺ سے منحرف کرسکتا ہے۔ اعاذنا اللہ من ذالک۔ لہٰذا حضور ﷺ پر صلوٰۃ کا حق ادا کرنے کی کوئی صورت اس کے سوا نہیں کہ اللہ سے آپ پر صلوٰۃ کی دعا کی جائے۔ جو شخص اللہم صل علی محمد کہتا ہے وہ گویا اللہ کے حضور اپنے عجز کا اعتراف کرتے ہوئے عرض کرتا ہے کہ خدا یا، تیرے نبی ﷺ پر صلوٰۃ کا جو حق ہے اسے ادا کرنا بس میں نہیں ہے تو ہی میری طرف سے اس کو ادا کر اور مجھ سے اس کے ادا کرنے میں جو خدمت چاہے لے لے۔ ثانیاً حضور ﷺ کی شان کرم نے یہ گوارا نہ فرمایا کہ تنہا اپنی ہی ذات کو اس دعا کے لیے مخصوص فرما لیں، بلکہ اپنے ساتھ اپنی آل اور ازواج اور ذریت کو بھی آپ ﷺ نے شامل کرلیا۔ ازواج اور ذریت کے معنی تو ظاہر ہیں۔ رہا آل کا لفظ، تو وہ محض حضور ﷺ کے خاندان والوں کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ اس میں وہ سب لوگ آجاتے ہیں جو آپ ﷺ کے پیرو ہوں اور آپ کے طریقہ پر چلیں۔ عربی لغت کی رو سے آل اور اہل میں فرق یہ ہے کہ کسی شخص کی آل وہ سب لوگ سمجھے جاتے ہیں جو اس کے ساتھی، مددگار اور متبع ہوں، خواہ وہ اس کے رشتہ دار ہوں یا نہ ہوں اور کسی شخص کے اہل وہ سب لوگ کہے جاتے ہیں جو اس کے رشتہ دار ہوں، خواہ وہ اس کے ساتھی اور متبع ہوں یا نہ ہوں۔ قرآن مجید میں 14 مقامات پر آل فرعون کا لفظ استعمال ہوا ہے اور ان میں سے کسی جگہ بھی آل سے مراد محض فرعون کے خاندان والے نہیں ہیں بلکہ وہ سب لوگ ہیں جو حضرت موسیٰ ؑ کے مقابلے میں اس کے ساتھی تھے (مثال کے طور پر ملاحظہ ہو سورة بقرہ آیت 49۔ 50۔ آل عمران، 11۔ الاعراف، 130۔ المومن، 46) پس آل محمد سے ہر وہ شخص خارج ہے جو محمد ﷺ کے طریقے پر نہ ہو، خواہ وہ خاندان رسالت ہی کا ایک فرد ہو، اور اس میں ہر وہ شخص داخل ہے جو حضور ﷺ کے نقش قدم پر چلتا ہو، خواہ وہ حضور ﷺ سے کوئی دور کا بھی نسبی تعلق نہ رکھتا ہو۔ البتہ خاندان رسالت کے وہ افراد بدرجۂ اولیٰ آل محمد ﷺ ہیں جو آپ سے نسبی تعلق بھی رکھتے ہیں اور آپ کے پیرو بھی ہیں۔ ثالثاً ہر درود جو حضور ﷺ نے سکھایا ہے اس میں یہ بات ضرور شامل ہے کہ آپ پر ویسی ہی مہربانی فرمائی جائے جیسی ابراہیم ؑ اور آل ابراہیم ؑ پر فرمائی گئی ہے۔ اس مضمون کو سمجھنے میں لوگوں کو بڑی مشکل پیش آئی ہے۔ اس کی مختلف تاویلیں علماء نے کی ہیں۔ مگر کوئی تاویل دل کو نہیں لگتی۔ میرے نزدیک صحیح تاویل یہ ہے (والعلم عنداللہ) کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ پر ایک خاص کرم فرمایا ہے جو آج تک کسی پر نہیں فرمایا، اور وہ یہ ہے کہ تمام وہ انسان جو نبوت اور وحی اور کتاب کو ماخذ ہدایت مانتے ہیں وہ حضرت ابراہیم ؑ کی پیشوائی پر متفق ہیں، خواہ وہ مسلمان ہوں یا عیسائی یا یہودی۔ لہٰذا نبی ﷺ کے ارشاد کا منشاء یہ ہے کہ جس طرح حضرت ابراہیم ؑ کو اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کے پیروؤں کا مرجع بنایا ہے اسی طرح مجھے بھی بنا دے۔ اور کوئی ایسا شخص جو نبوت کا ماننے والا ہو، میری نبوت پر ایمان لانے سے محروم نہ رہ جائے۔ یہ امر کہ حضور ﷺ پر درود بھیجنا سنت اسلام ہے جب آپ ﷺ کا نام آئے اس کا پڑھنا مستحب ہے اور خصوصاً نماز میں اس کا پڑھنا مسنون ہے، اس پر تمام اہل علم کا اتفاق ہے۔ اس امر پر بھی اجماع ہے کہ عمر میں ایک مرتبہ حضور ﷺ پر درود بھیجنا فرض ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صاف الفاظ میں اس کا حکم دیا ہے۔ لیکن اس کے بعد درود کے مسئلے میں علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ امام شافعی ؒ اس بات کے قائل ہیں کہ نماز میں آخری مرتبہ جب آدمی تشہد پڑھتا ہے اس میں صلوٰۃ علی النبی پڑھنا فرض ہے، اگر کوئی شخص نہ پڑھے گا تو نماز نہ ہوگی۔ صحابہ میں سے ابن مسعود انصاری، ابن عمر اور جابر بن عبداللہ ؓ ، تابعین میں سے شعبِی، امام محمد بن کعب قرظی اور مقاتل بن حَیّان، اور فقہاء میں سے اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی مسلک تھا، اور آخر میں امام احمد بن حنبل ؒ نے بھی اسی کو اختیار کرلیا تھا۔ امام ابوحنیفہ ؒ ، امام مالک ؒ اور جمہور علماء کا مسلک یہ ہے کہ درود عمر میں ایک مرتبہ پڑھنا فرض ہے۔ یہ کلمۂ شہادت کی طرح ہے کہ جس نے ایک مرتبہ اللہ کی الہٰیت اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا اقرار کرلیا اس نے فرض ادا کردیا۔ اسی طرح جس نے ایک دفعہ درود پڑھ لیا وہ فریضۂ صلوٰۃ علی النبی سے سبکدوش ہوگیا۔ اس کے بعد نہ کلمہ پڑھنا فرض ہے نہ درود۔ ایک اور گروہ نماز میں اس کا پڑھنا مطلقاً واجب قرار دیتا ہے۔ مگر تشہد کے ساتھ اس کو مقید نہیں کرتا۔ ایک دوسرے گروہ کے نزدیک ہر دعا میں اس کا پڑھنا واجب ہے۔ کچھ اور لوگ اس کے قائل ہیں کہ جب بھی حضور ﷺ کا نام آئے، درود پڑھنا واجب ہے۔ اور ایک گروہ کے نزدیک ایک مجلس میں حضور ﷺ کا ذکر خواہ کتنی ہی مرتبہ آئے، درود پڑھنا بس ایک دفعہ واجب ہے۔ یہ اختلافات صرف وجوب کے معاملہ میں ہیں۔ باقی رہی درود کی فضیلت، اور اس کا موجب اجر وثواب ہونا، اور اس کا ایک بہت بڑی نیکی ہونا، تو اس پر ساری امت متفق ہے۔ اس میں کسی ایسے شخص کو کلام نہیں ہوسکتا جو ایمان سے کچھ بھی بہرہ رکھتا ہو۔ درود تو فطری طور پر ہر اس مسلمان کے دل سے نکلے گا جسے یہ احساس ہو کہ محمد ﷺ اللہ کے بعد ہمارے سب سے بڑے محسن ہیں۔ اسلام اور ایمان کی جتنی قدر انسان کے دل میں ہوگی اتنی ہی زیادہ قدر اس کے دل میں نبی ﷺ کے احسانات کی بھی ہوگی، اور جتنا آدمی ان احسانات کا قدر شناس ہوگا اتنا ہی زیادہ وہ حضور ﷺ پر درود بھیجے گا۔ پس درحقیقت کثرت درود ایک پیمانہ ہے جو ناپ کر بتادیتا ہے کہ دین محمد ﷺ سے ایک آدمی کتنا گہرا تعلق رکھتا ہے اور نعمت ایمان کی کتنی قدر اس کے دل میں ہے۔ اسی بنا پر نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ من صلّ عَلَیَّ صلوٰۃ لم تزل الملٰئِکۃ تصلّی علیہ ما صلّٰی علیَّ (احمد و ابن ماجہ) " جو شخص مجھ پر درود بھیجتا ہے ملائکہ اس پر درود بھیجتے رہتے ہیں جب تک وہ مجھ پر درود بھیجتا رہے " من صلّٰی علیّ واحدۃ صلی اللہ علیہ عشراً (جو مجھ پر ایک بار درود بھیجتا ہے اللہ اس پر دس بار درود بھیجتا ہے۔ " اولی الناس بی یوم القیامۃ اکثرھم علیّ صلوٰۃ (ترمذی) " قیامت کے روز میرے ساتھ رہنے کا سب سے زیادہ مستحق وہ ہوگا جو مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجے گا۔ " البخیل الذی ذکرت عندہ فلم یصلّ عَلَیَّ (ترمذی) " بخیل ہے وہ شخص جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔ نبی ﷺ کے سوا دوسروں کے لیے اللّٰھمَّ صلّ علیٰ فلان یا صلّی اللہ علیہ وسلم۔۔۔۔ یا اسی طرح کے دوسرے الفاظ کے ساتھ صلوٰۃ جائز ہے یا نہیں، اس میں علماء کے درمیان اختلاف ہے۔ ایک گروہ جس میں قاضی عیاض سب سے زیادہ نمایاں ہیں، اسے مطلقاً جائز رکھتا ہے۔ ان لوگوں کا استدلال یہ ہے کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے خود غیر انبیاء پر صلوٰۃ کی متعدد مقامات پر تصریح کی ہے۔ مثلاً اُولٰٓئِکَ عَلَیْھِمْ صَلَوَات مّنْ رَّبِّھِمْ وَ رَحْمَۃٌ (البقرہ۔ 157) خُذْ مِنْ اَمْوَالِھِمْ صَدَقَۃً تُطَھِّرْھُمْ وُتُزَکِّھِمْ بِھَا وَصَلِّ عَلَیْھِمْ۔ (التوبہ۔ 103) ھُوَ الَّذِیْ یُصَلِّی عَلَیْکُمْ وَمَلٰٓئِکَتُہ (الاحزاب۔ 43) اسی طرح نبی ﷺ نے بھی متعدد مواقع پر لفظ صلوٰۃ کے ساتھ غیر انبیاء کو دعا دی ہے۔ مثلاً ایک صحابی کے لیے آپ ﷺ نے دعا فرمائی کہ اللّٰھُمَّ صَلّ علیٰ اٰل ابی اوفیٰ۔ حضرت جابر بن عبداللہ کی بیوی کی درخواست پر فرمایا، صلی اللہ علیک وعلیٰ زوجِکِ جو لوگ زکوٰۃ لے کر حاضر ہوتے ان کے حق میں آپ ﷺ فرماتے ہیں۔ اللھم صلِّ علیھم۔ حضرت سعد بن عبادہ کے حق میں آپ ﷺ نے فرمایا اللھم اجعل صلوٰتک ورحمتک علیٰ اٰل سَعد بن عبادہ۔ اور مومن کی روح کے متعلق حضور ﷺ نے خبر دی کہ ملائکہ اس کے حق میں دعا کرتے ہیں صلی اللہ علیک وعلیٰ جسدک۔ لیکن جمہور امت کے نزدیک ایسا کرنا اللہ اور اس کے رسول کے لیے تو درست تھا مگر ہمارے لیے درست نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اب یہ اہل اسلام کا شعار بن چکا ہے کہ وہ صلوٰۃ وسلام کو انبیاء (علیہم السلام) کے لیے خاص کرتے ہیں اس لیے غیر انبیاء کے لیے اس کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اسی بنا پر حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ایک مرتبہ اپنے عامل کو لکھا تھا کہ " میں نے سنا ہے کہ کچھ واعظین نے یہ نیا طریقہ شروع کیا ہے کہ وہ صلوٰۃ علی النبی کی طرح اپنے سر پرستوں اور حامیوں کے لیے بھی صلوٰۃ کا لفظ استعمال کرنے لگے ہیں۔ میرا یہ خط پہنچنے کے بعد ان لوگوں کو اس فعل سے روک دو اور انہیں حکم دو کہ وہ صلوٰۃ کو انبیاء کے لیے محفوظ رکھیں اور دوسرے مسلمانوں کے حق میں دعا پر اکتفا کریں۔ " (روح المعانی)۔ اکثریت کا یہ مسلک بھی ہے کہ حضور ﷺ کے سوا کسی نبی کے لیے بھی ﷺ کے الفاظ کا استعمال درست نہیں ہے۔
Ayah 33:57

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 33:57 in the Quran reader

جو لوگ اللہ اور اس کے رسولؐ کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب مہیا کر دیا ہے۔ 108

سورة الْاَحْزَاب 108 اللہ کو اذیت دینے سے مراد دو چیزیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس کی نافرمانی کی جائے، اس کے مقابلے میں کفر و شرک اور دہریت کا رویہ اختیار کیا جائے، اور اس کے حرام کو حلال کرلیا جائے۔ دوسرے یہ کہ اس کے رسول ﷺ کو اذیت دی جائے، اور رسول کی نافرمانی خدا کی نافرمانی ہے۔
Ayah 33:58

وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 33:58 in the Quran reader

ور جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بے قصور اذیت دیتے ہیں اُنہوں نے ایک بڑے بہتان 109 اور صریح گناہ کا وبال اپنے سر لے لیا ہے

سورة الْاَحْزَاب 109 یہ آیت بہتان کی تعریف متعین کردیتی ہے، یعنی جو عیب آدمی میں نہ ہو، یا جو قصور آدمی نے نہ کیا ہو وہ اس کی طرف منسوب کرنا۔ نبی ﷺ نے بھی اس کی تصریح فرمائی ہے۔ ابو داؤد اور ترمذی کی روایت ہے کہ حضور ﷺ سے پوچھا گیا غیبت کیا ہے ؟ فرمایا ذکر کا خاک بمَا یکرہ۔ " تیرا اپنے بھائی کا ذکر اس طرح کرنا جو اسے ناگوار ہو۔ " عرض کیا گیا اور اگر میرے بھائی میں وہ عیب موجود ہو۔ فرمایا ان کان فیہ ما تقول فقد اغتبتہ وان لم یکن فیہ ما تقول فقد بھتّہ۔ " اگر اس میں وہ عیب موجود ہے جو تو نے بیان کیا تو تو نے اس کی غیبت کی۔ اور اگر وہ اس میں نہیں ہے تو تو نے اس پر بہتان لگایا۔ " یہ فعل صرف ایک اخلاقی گناہ ہی نہیں ہے جس کی سزا آخرت میں ملنے والی ہو۔ بلکہ اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ اسلامی ریاست کے قانون میں بھی جھوٹے الزامات لگانے کو جرم مستلزم سزا قرار دیا جائے۔
Ayah 33:59

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:59 in the Quran reader

اے نبیؐ! اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہلِ ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکالیا کریں 110 یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں 111 اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے 112

سورة الْاَحْزَاب 110 اصل الفاظ ہیں یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ مِنْ جَلَا بِیْبِھِنَّ۔ جلباب عربی زبان میں بڑی چادر کو کہتے ہیں۔ اور اِدْنَاء کے اصل معنی قریب کرنے اور لپیٹ لینے کے ہیں، مگر جب اس کے ساتھ علیٰ کا صلہ آئے تو اس میں اِرْخَاء، یعنی اوپر سے لٹکا لینے کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔ موجودہ زمانے کے بعض مترجمین و مفسرین مغربی مذاق سے مغلوب ہو کر اس لفظ کا ترجمہ صرف " لپیٹ لینا " کرتے ہیں تاکہ کسی طرح چہرہ چھپانے کے حکم سے بچ نکلا جائے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا مقصود اگر وہی ہوتا جو یہ حضرات بیان کرنا چاہتے ہیں تو وہ یُدْنِیْنَ اِلَیْھِنَّ فرماتا۔ جو شخص بھی عربی زبان جانتا ہو کبھی یہ نہیں مان سکتا کہ یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ کے معنی محض لپیٹ لینے کے ہو سکتے ہیں۔ مزید براں مِنْ جَلَا بِیْبِھِنّ کے الفاظ یہ معنی لینے میں اور زیادہ مانع ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہاں مِن تبعیض کے لیے ہے، یعنی چادر کا ایک حصہ۔ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ لپیٹی جائے گی تو پوری چادر لپیٹی جائے گی نہ کہ اس کا محض ایک حصہّ۔ اس لیے آیت کا صاف مفہوم یہ ہے کہ عورتیں اپنی چادریں اچھی طرح اوڑھ لپیٹ کر ان کا ایک حصہ، یا ان کا پلو اپنے اوپر سے لٹکا لیا کریں، جسے عرف عام میں گھونگھٹ ڈالنا کہتے ہیں۔ یہی معنی عہد رسالت سے قریب ترین زمانے کے اکابر مفسرین بیان کرتے ہیں۔ ابن جریر اور ابن المنذر کی روایت ہے کہ محمد بن سیرین ؒ نے حضرت عُبَیدۃ السّلمانی سے اس آیت کا مطلب پوچھا۔ (یہ حضرت عبیدہ نبی ﷺ کے زمانے میں مسلمان ہوچکے تھے مگر حاضر خدمت نہ ہو سکے تھے۔ حضرت عمر ؓ کے زمانے میں مدینہ آئے اور وہیں کے ہو کر رہ گئے۔ انہیں فقہ اور قضا میں قاضی شریح کا ہم پلہ مانا جاتا تھا)۔ انہوں نے جواب میں کچھ کہنے کے بجائے اپنی چادر اٹھائی اور اسے اس طرح اوڑھا کہ پورا سر اور پیشانی اور پورا منہ ڈھانک کر صرف ایک آنکھ کھلی رکھی۔ ابن عباس بھی قریب قریب یہی تفسیر کرتے ہیں۔ ان کے جو اقوال ابن جریر۔ ابن ابی حاتم اور ابن مَرْدُوْیہَ نے نقل کیے ہیں ان میں وہ کہتے ہیں " اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو حکم دیا ہے کہ جب وہ کسی کام کے لیے گھروں سے نکلیں تو اپنی چادروں کے پلو اوپر سے ڈال کر اپنا منہ چھپا لیں اور صرف آنکھیں کھلی رکھیں۔ " یہی تفسیر قتادہ اور سُدِّی نے بھی اس آیت کی بیان کی ہے۔ عہد صحابہ وتابعین کے بعد جتنے بڑے بڑے مفسرین تاریخ اسلام میں گزرے ہیں انہوں نے بالا تفاق اس آیت کا یہی مطلب بیان کیا ہے۔ امام ابن جریر طَبَرِی کہتے ہیں " یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ مِنْ جَلَا بِیْبِھِنَّ ، یعنی شریف عورتیں اپنے لباس میں لونڈیوں سے مشابہ بن کر گھروں سے نہ نکلیں کہ ان کے چہرے اور سر کے بال کھلے ہوئے ہوں، بلکہ انہیں چاہیے کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کا ایک حصہ لٹکا لیا کریں تاکہ کوئی فاسق ان کو چھیڑنے کی جرأت نہ کرے۔ " (جامع البیان جلد 22۔ ص 33) علامہ ابوبکر جصاص کہتے ہیں " یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جوان عورت کو اجنبیوں سے اپنا چہرہ چھپانے کا حکم ہے اور اسے گھر سے نکلتے وقت ستر اور عفت مآبی کا اظہار کرنا چاہئے تاکہ مشتبہ سیرت و کردار کے لوگ اسے دیکھ کر کسی طمع میں مبتلا نہ ہوں۔ " (احکام القرآن، جلد 3، صفحہ 458) علامہ زَمَخْشَری کہتے ہیں " یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ مِنْ جَلَا بِیْبِھِنَّ ، یعنی وہ اپنے اوپر اپنی چادروں کا ایک حصہ لٹکا لیا کریں اور اس سے اپنے چہرے اور اپنے اطراف کو اچھی طرح ڈھانک لیں۔ " (الکشاف۔ جلد 2، ص 221) علامہ نظام الدین نیشاپوری کہتے ہیں یدنین علیھن من جلا بیبھنّ ، یعنی اپنے اوپر چادر کا ایک حصہ لٹکا لیں۔ اس طرح عورتوں کو سر اور چہرہ ڈھانکنے کا حکم دیا گیا ہے۔ " (غرائب القرآن جلد 22، ص 32) امام رازی کہتے ہیں " اس سے مقصود یہ ہے کہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ یہ بدکار عورتیں نہیں ہیں۔ کیونکہ جو عورت اپنا چہرہ چھپائے گی، حالانکہ چہرہ ستر میں داخل نہیں ہے، اس سے کوئی شخص یہ توقع نہیں کرسکتا کہ وہ اپنا ستر غیر کے سامنے کھولنے پر راضی ہوگی۔ اس طرح ہر شخص جان لے گا کہ یہ باپردہ عورتیں ہیں، اس سے زنا کی امید نہیں کی جاسکتی۔ " (تفسیر کبیر، جلد 6، ص 591) ضمناً ایک اور مضمون جو اس آیت سے نکلتا ہے وہ یہ ہے کہ اس سے نبی ﷺ کی کئی بیٹیاں ثابت ہوتی ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے " اے نبی، اپنی بیویوں اور بیٹیوں سے کہو۔ " یہ الفاظ ان لوگوں کے قول کی قطعی تردید کردیتے ہیں جو خدا سے بےخوف ہو کر بےتکلف یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کی صرف ایک صاحبزادی حضرت فاطمہ ؓ تھیں اور باقی صاحبزادیاں حضور ﷺ کی اپنی صلبی بیٹیاں نہ تھیں بلکہ گیلڑ تھیں۔ یہ لوگ تعصب میں اندھے ہو کر یہ بھی نہیں سوچتے کہ اولاد رسول ﷺ کے نسب سے انکار کر کے وہ کتنے بڑے جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں اور اس کی کیسی سخت جواب دہی انہیں آخرت میں کرنی ہوگی۔ تمام معتبر روایات اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت خدیجہ ؓ کے بطن سے حضور ﷺ کی صرف ایک بیٹی حضرت فاطمہ ہی نہ تھیں بلکہ تین اور بیٹیاں بھی تھیں۔ حضور ﷺ کے قدیم ترین سیرت نگار محمد بن اسحاق حضرت خدیجہ سے حضور ﷺ کے نکاح کا ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں " ابراہیم ؑ کے سوا نبی ﷺ کی تمام اولاد انہی کے بطن سے پیدا ہوئی اور ان کے نام یہ ہیں۔ قاسم، اور طاہر و طیب، اور زینب، اور رقیَّہ، اور امّ کلثوم اور فاطمہ " (سیرت ابن ہشام، جلد اول۔ ص 302) مشہور ماہر علم انساب ہشام بن محمد بن السائب کلبی کا بیان ہے کہ " مکہ میں نبوت سے قبل نبی ﷺ کے ہاں سب سے پہلے قاسم پیدا ہوئے، پھر زینب، پھر رقیہ، پھر اُمِ کلثوم (طبقات ابن سعد، جلد اول، ص 133)۔ ابن حزْم نے جوامع السیرۃ میں لکھا ہے کہ حضرت خدیجہ کے بطن سے حضور ﷺ کی چار لڑکیاں تھیں، سب سے بڑی حضرت زینب ان سے چھوٹی رقیّہ، ان سے چھوٹی فاطمہ، اور ان سے چھوٹی ام کلثوم (ص 38۔ 39)۔ طَبَری، ابن سعد، ابو جعفر محمد بن حبیب صاحب کتاب المجرَّ اور ابن عبد البر صاحب کتاب الاستیعاب، مستند حوالوں سے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ سے پہلے حضرت خدیجہ کے دو شوہر گزر چکے تھے۔ ایک ابو ھالہ تمیمی جس سے ان کے ہاں ہند بن ابو ہالہ پیدا ہوئے۔ دوسرے عتیق بن عائذ مخزومی جس سے ان کے ہاں ایک لڑکی ہند نامی پیدا ہوئی۔ اس کے بعد ان کا نکاح حضور ﷺ سے ہوا اور تمام علمائے انساب متفق ہیں کہ آپ ﷺ کی صلب سے ان کے ہاں وہ چاروں صاحبزادیاں پیدا ہوئیں جن کے نام اوپر مذکور ہوئے ہیں (ملاحظہ ہو طبری، جلد 2، ص 411۔ طبقات ابن سعد، جلد 8، ص 41 تا 16۔ کتاب المجرَّ ص 78، 79، 452۔ الاستیعاب جلد 2، ص 718) ان تمام بیانات کو قرآن مجید کی یہ تصریح قطعی الثبوت بند کردیتی ہے کہ حضور ﷺ کی ایک ہی صاحبزادی نہ تھیں بلکہ کئی صاحبزادیاں تھیں۔ سورة الْاَحْزَاب 111 " پہچان لی جائیں " سے مراد یہ ہے کہ ان کو اس سادہ اور حیا دار لباس میں دیکھ کر ہر دیکھنے والا جان لے کہ وہ شریف اور با عصمت عورتیں ہیں، آوارہ اور کھلاڑی نہیں ہیں کہ کوئی بد کردار انسان ان سے اپنے دل کی تمنا پوری کرنے کی امید کرسکے۔ نہ " ستائی جائیں " سے مراد یہ ہے کہ ان کو نہ چھیڑا جائے، ان سے تعرض نہ کیا جائے۔ اس مقام پر ذرا ٹھہر کر یہ سمجھنے کی کوشش کیجیے کہ قرآن کا یہ حکم، اور وہ مقصد حکم جو اللہ تعالیٰ نے خود بیان کردیا ہے، اسلامی قانون معاشرت کی کیا روح ظاہر کر رہا ہے۔ اس سے پہلے سورة نور، آیت 31 میں یہ ہدایت گزر چکی ہے کہ عورتیں اپنی آرائش و زیبائش کو فلاں فلاں قسم کے مردوں اور عورتوں کے سوا کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں۔ " اور زمین پر پاؤں مارتے ہوئے بھی نہ چلیں کہ لوگوں کو اس زینت کا علم ہو جو انہوں نے چھپا رکھی ہے "۔ اس حکم کے ساتھ اگر سورة احزاب کی اس آیت کو ملا کر پڑھا جائے تو صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ یہاں چادر اوڑھنے کا جو حکم ارشاد ہوا ہے اس کا منشا اجنبیوں سے زینت چھپانا ہی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ منشا اسی صورت میں پورا ہوسکتا ہے جبکہ چادر بجائے خود سادہ ہو، ورنہ ایک مزین اور جاذب نظر کپڑا لپیٹ لینے سے تو یہ منشا الٹا اور فوت ہوجائیگا۔ اس پر مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ صرف چادر لپیٹ کر زینت چھپانے ہی کا حکم نہیں دے رہا ہے بلکہ یہ بھی فرما رہا ہے کہ عورتیں چادر کا ایک حصہ اپنے اوپر سے لٹکا لیا کریں۔ کوئی معقول آدمی اس ارشاد کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں لے سکتا کہ اس سے مقصود گھونگھٹ ڈالنا ہے تاکہ جسم و لباس کی زینت چھپنے کے ساتھ ساتھ چہرہ بھی چھپ جائے۔ پھر اس حکم کی علت اللہ تعالیٰ خود یہ بیان فرماتا ہے کہ یہ وہ مناسب ترین طریقہ ہے جس سے یہ مسلمان خواتین پہچان لی جائیں اور اذیت سے محفوظ رہیں گی۔ اس سے خود بخود یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ یہ ہدایت ان عورتوں کو دی جا رہی ہے جو مردوں کی نظر بازی اور ان کے شہوانی التفات سے لذت اندوز ہونے کے بجائے اس کو اپنے لیے تکلیف دہ اور اذیت ناک محسوس کرتی ہیں، جو معاشرے میں اپنے آپ کو آبرو باختہ شمع انجمن قسم کی عورتوں میں شمار نہیں کرانا چاہتیں، بلکہ عفت مآب چراغ خانہ ہونے کی حیثیت سے معروف ہونا چاہتے ہیں۔ ایسی شریف اور نیک خواتین سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم فی الواقع اس حیثیت سے معروف ہونا چاہ رہی ہو اور مردوں کی ہوسناک توجہات حقیقت میں تمہارے لیے موجب لذت نہیں بلکہ موجب اذیت ہیں تو پھر اس کے لیے مناسب طریقہ یہ نہیں ہے کہ تم خوب بناؤ سنگھار کر کے پہلی رات کی دلہن بن کر گھروں سے نکلو اور دیکھنے والوں کی حریص نگاہوں کے سامنے اپنا حسن اچھی طرح نکھار نکھار کر پیش کرو، بلکہ اس غرض کے لیے تو مناسب ترین طریقہ یہی ہوسکتا ہے کہ تم ایک سادہ چادر میں اپنے ساری آرائش و زیبائش کو چھپا کر نکلو، اپنے چہرے پر گھونگھٹ ڈالو اور اس طرح چلو کہ زیور کی جھنکار بھی لوگوں کو تمہاری طرف متوجہ نہ کرے۔ جو عورت باہر نکلنے سے پہلے بن ٹھن کر تیار ہوتی ہے اور اس وقت تک گھر سے قدم نہیں نکالتی جب تک سات سنگھار نہ کرلے، اس کی غرض اس کے سوا آخر اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ دنیا بھر کے مردوں کے لیے اپنے آپ کو جنت نگاہ بنانا چاہتی ہے اور انہیں خود دعوت التفات دیتی ہے۔ اس کے بعد اگر وہ یہ کہتی ہے کہ دیکھنے والوں کی بھوکی نگاہیں اسے تکلیف دیتی ہیں، اس کے بعد اگر اس کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ " معاشرے کی بیگم " اور " مقبول عام خاتون " ہونے کی حیثیت سے معروف نہیں ہونا چاہتی بلکہ عفت مآب گھر گرہستن بن کر رہنا چاہتی ہے تو یہ ایک فریب کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ انسان کا قول اس کی نیت متعین نہیں کرتا بلکہ اس کی اصل نیت وہ ہوتی ہے جو اس کے عمل کی شکل اختیار کرتی ہے۔ لہٰذا جو عورت جاذب نظر بن کر غیر مردوں کے سامنے جاتی ہے اس کا یہ عمل خود ظاہر کردیتا ہے کہ اس کے پیچھے کیا محرکات کام کر رہے ہیں۔ اسی لیے فتنے کے طالب لوگ اس سے وہی توقعات وابستہ کرتے ہیں جو ایسی عورت سے وابستہ کی جاسکتی ہیں۔ قرآن عورتوں سے کہتا ہے کہ تم بیک وقت چراغ خانہ اور شمع انجمن نہیں بن سکتی ہو۔ چراغ خانہ بننا ہے تو ان طور طریقوں کو چھوڑ دو جو شمع انجمن بننے کے لیے موزوں ہیں۔ اور وہ طرز زندگی اختیار کرو جو چراغ خانہ بننے میں مددگار ہوسکتا ہے۔ کسی شخص کی ذاتی رائے خواہ قرآن کے موافق ہو یا اس کے خلاف، اور وہ قرآن کی ہدایت کو اپنے لیے ضابطۂ عمل کی حیثیت سے قبول کرنا چاہے یا نہ چاہے، بہرحال اگر وہ تعبیر کی بددیانتی کا ارتکاب نہ کرنا چاہتا ہو تو وہ قرآن کا منشا سمجھنے میں غلطی نہیں کرسکتا۔ وہ اگر منافق نہیں ہے تو صاف صاف یہ مانے گا کہ قرآن کا منشا وہی ہے، جو اوپر بیان کیا گیا ہے۔ اس کے بعد جو خلاف ورزی بھی وہ کرے گا یہ تسلیم کر کے کرے گا کہ وہ قرآن کے خلاف عمل کر رہا ہے یا قرآن کی ہدایت کو غلط سمجھتا ہے۔ سورة الْاَحْزَاب 112 یعنی پہلے جاہلیت کی حالت میں جو غلطیاں کی جاتی رہی ہیں اللہ اپنی مہربانی سے ان کو معاف کر دے گا، بشرطیکہ اب صاف صاف ہدایت مل جانے کے بعد تم اپنے طرز عمل کی اصلاح کرلو اور جان بوجھ کر اس کی خلاف ورزی نہ کرو۔
Ayahs 33:60–61

لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَةِ لَنُغْرِیَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَكَ فِیْهَاۤ اِلَّا قَلِیْلًا٤ۖۛۚ Open ayah 33:60 in the Quran reader

اگر منافقین ، اور وہ لوگ جن کے دلوں میں خرابی ہے 113 ، اور وہ جو مدینہ میں ہیجان انگیز افواہیں پھیلانے والے ہیں 114، اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے تمہیں اُٹھا کھڑا کریں گے ، پھر وہ اس شہر میں مشکل ہی سے تمہارے ساتھ رہ سکیں گے

مَّلْعُوْنِیْنَ١ۛۚ اَیْنَمَا ثُقِفُوْۤا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا Open ayah 33:61 in the Quran reader

ان پر ہر طرف سے لعنت کی بوچھاڑ ہو گی، جہاں کہیں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور بُری طرح مارے جائیں گے

سورة الْاَحْزَاب 113 " دل کی خرابی " سے مراد یہاں دو قسم کی خرابیاں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی اپنے آپ کو مسلمانوں میں شمار کرنے کے باوجود اسلام اور مسلمانوں کا بدخواہ ہو۔ دوسرے یہ کہ آدمی بدنیتی، آوارگی اور مجرمانہ ذہنیت میں مبتلا ہو اور اس کے ناپاک رجحانات اس کی حرکات و سکنات سے پھوٹے پڑتے ہوں۔ سورة الْاَحْزَاب 114 اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں میں گھبراہٹ پھیلانے اور ان کے حوصلے پست کرنے کے لیے آئے دن مدینے میں اس طرح کی خبریں اڑایا کرتے تھے کہ فلاں جگہ مسلمانوں کو بڑی زک پہنچی ہے اور فلاں جگہ مسلمانوں کے خلاف بڑی طاقت جمع ہو رہی ہے اور عنقریب مدینہ پر اچانک حملہ ہونے والا ہے۔ اس کے ساتھ ان کا ایک مشغلہ یہ بھی تھا کہ وہ خاندان نبوت اور شرفائے مسلمین کی خانگی زندگی کے متعلق طرح طرح کے افسانے گھڑتے اور پھیلاتے تھے تاکہ اس سے عوام میں بدگمانیاں پیدا ہوں اور مسلمانوں کے اخلاقی اثر کو نقصان پہنچے۔
Ayah 33:62

سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 33:62 in the Quran reader

یہ اللہ کی سنت ہے جو ایسے لوگوں کے معاملے میں پہلے سے چلی آ رہی ہے ، اور تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے۔ 115

سورة الْاَحْزَاب 115 یعنی یہ اللہ کی شریعت کا ایک مستقل ضابطہ ہے کہ ایک اسلامی معاشرے اور ریاست میں اس طرح کے مفسدین کو کبھی پھلنے پھولنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ جب بھی کسی معاشرے اور ریاست کا نظام خدائی شریعت پر قائم ہوگا اس میں ایسے لوگوں کو پہلے متنبہ کردیا جائے گا تاکہ وہ اپنی روش بدل دیں، اور پھر جب وہ باز نہ آئیں گے تو سختی کے ساتھ ان کا استیصال کر ڈالا جائے گا۔
Ayahs 33:63–67

یَسْئَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا Open ayah 33:63 in the Quran reader

لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کی گھڑی کب آئے گی 116 کہو، اس کا علم تو للہ ہی کو ہے۔ تمہیں کیا خبر، شاید کہ وہ قریب ہی آ لگی ہو

اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الْكٰفِرِیْنَ وَ اَعَدَّ لَهُمْ سَعِیْرًاۙ Open ayah 33:64 in the Quran reader

بہرحال یہ یقینی امر ہے کہ اللہ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر دی ہے

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ۚ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۚ Open ayah 33:65 in the Quran reader

جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، کوئی حامی و مدد گار نہ پا سکیں گے

یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوْلَا Open ayah 33:66 in the Quran reader

جس روز ان کے چہرے آگ پر الٹ پلٹ کیے جائیں گے اُس وقت وہ کہیں گے کہ "کاش ہم نے اللہ اور رسولؐ کی اطاعت کی ہوتی"

وَ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا Open ayah 33:67 in the Quran reader

اور کہیں گے "اے رب ہمارے، ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہمیں راہِ راست سے بے راہ کر دیا

سورة الْاَحْزَاب 116 رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال عموماً کفار و منافقین کیا کرتے تھے۔ اور اس سے ان کا مقصد علم حاصل کرنا نہ تھا بلکہ وہ دل لگی اور استہزاء کے طور پر یہ بات پوچھا کرتے تھے۔ دراصل ان کو آخرت کے آنے پر یقین نہ تھا۔ قیامت کے تصور کو وہ محض ایک خالی خولی دھمکی سمجھتے تھے۔ وہ قیامت کے آنے کی تاریخ اس لیے دریافت نہیں کرتے تھے کہ اس کے آنے سے پہلے وہ اپنے معاملات درست کرلینے کا ارادہ رکھتے ہوں، بلکہ انکا اصل مطلب یہ ہوتا تھا کہ اے محمد ﷺ ہم نے تمہیں نیچا دکھانے کے لیے یہ کچھ کیا ہے اور آج تک تم ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکے ہو، اب ذرا ہمیں بتاؤ تو سہی کہ آخر وہ قیامت کب برپا ہوگی جب ہماری خبر لی جائے گی۔
Ayah 33:68

رَبَّنَاۤ اٰتِهِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَ الْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 33:68 in the Quran reader

اے رب، ان کو دوہرا عذاب دے اور ان پر سخت لعنت کر‘‘ 117

سورة الْاَحْزَاب 117 یہ مضمون قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے۔ مثال کے طور پر حسب ذیل مقامات ملاحظہ ہوں اَعراف، 187۔ النازعات، 42۔ 46۔ سَبا، 3۔ 5۔ الملک 24۔ 27۔ المطفّفین، 10۔ 17۔ الحِجر، 2۔ 3۔ الفرقان، 27۔ 29۔ حم السجدہ، 26۔ 29۔
Ayahs 33:69–71

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا١ؕ وَ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِیْهًاؕ Open ayah 33:69 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو 118 ، ان لوگوں کی طرح نہ بن جاؤ جنہوں نے موسیٰؑ کو اذیتیں دی تھیں ، پھر اللہ نے ان کی بنائی ہوئی باتوں سے اس کی برأت فرمائی اور وہ اللہ کے نزدیک با عزت تھا 119

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ Open ayah 33:70 in the Quran reader

اے ایمان لانے والو، اللہ سے ڈرو اور ٹھیک بات کیا کرو

یُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 33:71 in the Quran reader

اللہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے قصوروں سے درگزر فرمائے گا جو شخص اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرے اُس نے بڑی کامیابی حاصل کی

سورة الْاَحْزَاب 118 یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ قرآن مجید میں " اے لوگو جو ایمان لائے ہو " کے الفاظ سے کہیں تو سچے اہل ایمان کو خطاب کیا گیا ہے، اور کہیں مسلمانوں کی جماعت بحیثیت مجموعی مخاطب ہے جس میں مومن اور منافق اور ضعیف الایمان سب شامل ہیں، اور کہیں روئے سخن خالص منافقین ہی کی طرف ہے۔ منافقین اور ضعیف الایمان لوگوں کو الذین اٰمنوا کہہ کر جب مخاطب کیا جاتا ہے تو اس سے مقصود ان کو شرم دلانا ہوتا ہے کہ تم لوگ دعویٰ تو ایمان لانے کا کرتے ہو اور حرکتیں تمہاری یہ کچھ ہیں۔ سیاق وسباق پر غور کرنے سے ہر جگہ بآسانی معلوم ہوجاتا ہے کہ کس جگہ الذین اٰمنوا سے مراد کون ہیں۔ یہاں سلسلۂ کلام صاف بتارہا ہے کہ مخاطب عام مسلمان ہیں۔ سورة الْاَحْزَاب 119 دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ " اے مسلمانو ! تم یہودیوں کی سی حرکتیں نہ کرو۔ تمہاری روش اپنے نبی کے ساتھ وہ نہ ہونی چاہیے جو بنی اسرائیل کی روش موسیٰ ؑ کے ساتھ تھی "۔ بنی اسرائیل خود مانتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ان کے سب سے بڑے محسن تھے۔ جو کچھ بھی یہ قوم بنی، انہی کی بدولت بنی، ورنہ مصر میں اس کا انجام ہندوستان کے شودروں سے بھی بدتر ہوتا۔ لیکن اپنے اس محسن اعظم کے ساتھ اس قوم کا جو سلوک تھا اس کا اندازہ کرنے کے لیے با ئیبل کے حسب ذیل مقامات پر صرف ایک نظر ڈال لینا ہی کافی ہے کتاب خروج۔ 5 20۔ 21۔ 14 11۔ 12۔ 3۔ 17 3۔ 4 کتاب گنتی۔ 11 1۔ 15۔ 14 1۔ 10۔ 16 مکمّل۔ 20 1۔ 5 قرآن مجید بنی اسرائیل کی اسی محسن کشی کی طرف اشارہ کر کے مسلمانوں کو متنبہ کر رہا ہے کہ محمد ﷺ کے ساتھ یہ طرز عمل اختیار کرنے سے بچو، ورنہ پھر اسی انجام کے لیے تیار ہوجاؤ جو یہودی دیکھ چکے ہیں اور دیکھ رہے ہیں۔ یہی بات متعدد مواقع پر خود نبی ﷺ نے بھی ارشاد فرمائی ہے۔ ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ نبی ﷺ مسلمانوں میں کچھ مال تقسیم کر رہے تھے۔ اس مجلس سے جب لوگ باہر نکلے تو ایک شخص نے کہا " احمد ﷺ نے اس تقویم میں خدا اور آخرت کا کچھ بھی لحاظ نہ رکھا۔ " یہ بات حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے سن لی اور جا کر حضور ﷺ سے عرض کیا کہ آج آپ پر یہ باتیں بنائی گئی ہیں۔ آپ ﷺ نے جواب میں فرمایا رحمۃ اللہ علیٰ موسیٰ فانہ اوذی باکثر من ھٰذا فَصَبَر۔ " اللہ کی رحمت ہو موسیٰ پر۔ انہیں اس سے زیادہ اذیتیں دی گئیں اور انہوں نے صبر کیا " (مُسند، احمد۔ ترمذی۔ ابو داؤد)
Ayah 33:72

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًاۙ Open ayah 33:72 in the Quran reader

ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو وہ اسے اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوئے اور اس سے ڈر گئے ، مگر انسان نے اسے اٹھا لیا، بے شک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے 120

سورة الْاَحْزَاب 120 کلام کو ختم کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ انسان کو یہ احساس دلانا چاہتا ہے کہ دنیا میں اس کی حقیقی حیثیت کیا ہے اور اس حیثیت میں ہوتے ہوئے اگر وہ دنیا کی زندگی کو محض ایک کھیل سمجھ کر بےفکری کے ساتھ غلط رویہ اختیار کرتا ہے تو کس طرح اپنے ہاتھوں خود اپنا مستقبل خراب کرتا ہے۔ اس جگہ " امانت " سے مر اد وہی " خلافت " ہے جو قرآن مجید کی رو سے انسان کو زمین میں عطا کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو طاقت و معصیت کی جو آزادی بخشی ہے، اور اس آزادی کو استعمال کرنے کے لیے اسے اپنی بیشمار مخلوقات پر تصرف کے جو اختیارات عطا کیے ہیں ان کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ انسان خود اپنے اختیاری اعمال کا ذمہ دار قرار پائے اور اپنے صحیح طرز عمل پر اجر کا اور غلط طرز عمل پر سزا کا مستحق بنے۔ یہ اختیارات چونکہ انسان نے خود حاصل نہیں کیے ہیں بلکہ اللہ نے اسے دیے ہیں، اور ان کے صحیح و غلط استعمال پر وہ اللہ کے سامنے جواب دہ ہے، اس لیے قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر ان کو " خلافت " کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے، اور یہاں انہی کے لیے " امانت " کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ امانت کتنی اہم اور گراں بار ہے، اس کا تصور دلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ آسمان و زمین اپنی ساری عظمت کے باوجود اور پہاڑ اپنی زبردست جسامت و متانت کے باوجود اس کے اٹھانے کی طاقت اور ہمت نہ رکھتے تھے، مگر انسان ضعیف البنیان نے اپنی ذرا سی جان پر یہ بھاری بوجھ اٹھا لیا ہے۔ زمین و آسمان کے سامنے اس بار امانت کا پیش کیا جانا، اور ان کا اسے اٹھانے سے انکار کرنا اور ڈر جانا ہوسکتا ہے کہ لغوی معنی میں ہو، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ بات استعارے کی زبان میں ارشاد ہوئی ہو۔ اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوقات کے ساتھ جو تعلق ہے اسے ہم نہ جان سکتے ہیں نہ سمجھ سکتے ہیں زمین اور سورج اور چاند اور پہاڑ جس طرح ہمارے لیے گونگے، بہرے اور بےجان ہیں، ضروری نہیں ہے کہ اللہ کے لیے بھی وہ ایسے ہی ہوں۔ اللہ اپنی ہر مخلوق سے بات کرسکتا ہے اور وہ اس کو جواب دے سکتی ہے۔ اس کی کیفیت کا سمجھنا ہمارے فہم و ادراک سے بالا تر ہے۔ اس لیے یہ بالکل ممکن ہے کہ فی الواقع اللہ نے ان کے سامنے یہ بار گراں پیش کیا ہو اور وہ اسے دیکھ کر کانپ اٹھے ہوں اور انہوں نے اپنے مالک و خالق سے یہ عرض کیا ہو کہ ہم تو سرکار کے بےاختیار خادم ہی بن کر رہنے میں اپنی خیر پاتے ہیں، ہماری ہمت نہیں ہے کہ نافرمانی کی آزادی لے کر اس کا حق ادا کرسکیں اور حق ادا نہ کرنے کی صورت میں حضور ﷺ کی سزا بر داشت کرسکیں۔ اسی طرح یہ بھی بالکل ممکن ہے ہماری موجودہ زندگی سے پہلے پوری نوع انسانی کو اللہ تعالیٰ نے کسی اور نوعیت کا وجود بخش کر اپنے سامنے حاضر کیا ہو اور اس نے یہ اختیارات سنبھالنے پر خود آمادگی ظاہر کی ہو۔ اس بات کو ناممکن قرار دینے کے لیے ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ اس کو دائرۂ امکان سے خارج قرار دینے کا فیصلہ تو وہی شخص کرسکتا ہے جو اپنے ذہن و فکر کی استعداد کا غلط اندازہ لگا بیٹھا ہو۔ البتہ یہ امر بھی اتنا ہی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات محض تمثیلی انداز میں فرمائی ہو اور صورت معاملہ کی غیر معمولی اہمیت کا تصور دلانے کے لیے اسی طرح کا نقشہ پیش کیا گیا ہو کہ گویا ایک طرف زمین و آسمان اور ہمالہ جیسے پہاڑ کھڑے ہیں اور دوسری طرف 5۔ 6 فیٹ کا آدمی کھڑا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کہ " میں اپنی ساری مخلوقات میں سے کسی ایک کو یہ طاقت بخشنا چاہتا ہوں کہ وہ میری خدائی میں رہتے ہوئے خود اپنی رضا ورغبت سے میری با لا تری کا اقرار اور میرے احکام اطاعت کرنا چاہے تو کرے، ورنہ وہ میرا انکار بھی کرسکے گا اور میرے خلاف بغاوت کا جھنڈا بھی لے کر اٹھ سکے گا۔ یہ آزادی دے کر میں اس سے اس طرح چھپ جاؤں گا کہ گویا میں کہیں موجود نہیں ہوں۔ اور اس آزادی کو عمل میں لانے کے لیے میں اس کو وسیع اختیارات دوں گا، بڑی قابلیتیں عطا کروں گا، اور اپنی بیشمار مخلوقات پر اس کو بلا دستی بخش دوں گا، تاکہ وہ کائنات میں جو ہنگامہ بھی برپا کرنا چاہے کرسکے۔ اس کے بعد میں ایک وقت خاص پر اس کا حساب لوں گا جس نے میری بخشی ہوئی آزادی کو غلط استعمال کیا ہوگا اسے وہ سزا دوں گا جو میں نے کبھی اپنی کسی مخلوق کو نہیں دی ہے، اور جس نے نافرمانی کے سارے مواقع پاکر بھی میری فرمانبرداری ہی اختیار کی ہوگی اسے وہ بلند مرتبے عطا کروں گا جو میری کسی مخلوق کو نصیب نہیں ہوئے ہیں۔ اب بتاؤ تم میں سے کون اس امتحان گاہ میں اترنے کو تیار ہے " ؟ یہ تقریر سن کر پہلے ساری کائنات میں سناٹا چھا جاتا ہے۔ پھر ایک سے ایک بڑھ کر گراں ڈیل مخلوق گھٹنے ٹیک کر التجا کرتی چلی جاتی ہے کہ اسے اس کڑے امتحان سے معاف رکھا جائے۔ آخر کار یہ مشت استخواں اٹھا ہے اور کہتا ہے کہ اے میرے رب میں یہ امتحان دینے کے لیے تیار ہوں۔ اس امتحان کو پاس کر کے تیری سلطنت کا سب سے اونچا عہدہ مل جانے کی جو امید ہے اس کی بنا پر میں ان سب خطرات کو انگیز کر جاؤں گا جو اس آزادی و خود مختاری میں پوشیدہ ہیں۔ یہ نقشہ اپنی چشم تصور کے سامنے لا کر ہی آدمی اچھی طرح اندازہ کرسکتا ہے کہ وہ کائنات میں کس نازک مقام پر کھڑا ہوا ہے۔ اب جو شخص اس امتحان گاہ میں بےفکر بن کر رہتا ہے اور کوئی احساس نہیں رکھتا کہ وہ کتنی بڑی ذمہ داری کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، اور دنیا کی زندگی میں اپنے لیے کوئی رویہ انتخاب کرتے وقت جو فیصلے وہ کرتا ہے ان کے صحیح یا غلط ہونے سے کیا نتائج نکلنے والے ہیں، اسی کو اللہ تعالیٰ اس آیت میں ظلوم و جہول قرار دے رہا ہے۔ وہ جہول ہے، کیونکہ اس احمق نے اپنے آپ کو غیر ذمہ دار سمجھ لیا ہے۔ اور وہ ظلوم ہے، کیونکہ وہ خود اپنی تباہی کا سامان کر رہا ہے اور اپنے ساتھ نہ معلوم کتنے اور لوگوں کو لے ڈوبنا چاہتا ہے۔
Ayah 33:73

لِّیُعَذِّبَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ وَ یَتُوْبَ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 33:73 in the Quran reader

اِس بار امانت کو اٹھانے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اللہ منافق مردوں اور عورتوں، اور مشرک مردوں اور عورتوں کو سزا دے اور مومن مَردوں اور عورتوں کی توبہ قبول کرے، اللہ درگزر فرمانے والا اور رحیم ہے

ضمیمہ مسکنگ