33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتفہیم القرآن

Ayah 33:44

تَحِیَّتُهُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ١ۚۖ وَ اَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِیْمًا Open ayah 33:44 in the Quran reader

جس روز وہ اس سے ملیں گے اُن کا استقبال سلام سے ہوگا 80 اور اُن کے لیے اللہ نے بڑا با عزت اجر فراہم کر رکھا ہے

سورة الْاَحْزَاب 80 اصل الفاظ ہیں تَحِیَّتُھُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَہ سَلٰمٗ " ان کا تحیہ اس سے ملاقات کے روز سلام ہوگا۔ " اس کے تین مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ خود السلام علیکم کے ساتھ ان کا استقبال فرمائے گا، جیسا کہ سورة یٰسین میں فرمایا کہ سلاَمٌ قَوْلاً مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ (آیت 58)۔ دوسرے یہ کہ ملائکہ ان کو سلام کریں گے، جیسے سورة نحل میں ارشاد ہوا اَلَّذِیْنَ تَتْوَفّٰھُمُ الْمَلٓئِکَۃُ طَیِّبِیْنَ یَقُوْلُوْنَ سَلاَمٌ عَلَیْکُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّۃَ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ، " جن لوگوں کی روحیں ملائکہ اس حالت میں قبض کریں گے کہ وہ پاکیزہ لوگ تھے، ان سے وہ کہی گے کہ سلامتی ہو تم پر، داخل ہوجاؤ جنت میں ان نیک اعمال کی بدولت جو تم دنیا میں کرتے تھے " (آیت 32) تیسرے یہ کہ وہ خود آپس میں ایک دوسرے کو سلام کریں گے، جیسے سورة یونس میں فرمایا دَعْوٰھُمْ فِیْھَا سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ وَتَحِیَّتُھُمْ فِیْھَا سَلاَمٌ وَاٰخِرُ دَعْوٰھُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنِ " وہاں ان کی صدا یہ ہوگی کہ خدایا، پاک ہے تیری ذات، ان کا تحیہ ہوگا سلام اور ان کی تان ٹوٹے گی اس بات پر کہ ساری تعریف اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے "۔ (آیت 10)
Ayah 33:45

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 33:45 in the Quran reader

اے نبیؐ 81 ،ہم نے تمہیں بھیجا ہے گواہ بنا کر 82 ، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر 83

سورة الْاَحْزَاب 81 مسلمانوں کو نصیحت کرنے کے بعد اب اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو خطاب کر کے چند کلمات تسکین ارشاد فرماتا ہے۔ مقصود کلام یہ ہے کہ آپ کو ہم نے یہ کچھ مراتب عالیہ بخشے ہیں، آپ کی شخصیت اس سے بہت بلند ہے کہ یہ مخالفین اپنے بہتان و افترا کے طوفان اٹھا کر آپ کا کچھ بگاڑ سکیں۔ لہٰذا آپ نہ ان کی شرارتوں سے رنجیدہ ہوں اور نہ ان کے پروپیگینڈے کو پرکاہ کے برابر بھی کوئی وقعت دیں۔ اپنے فرائض منصبی ادا کیے جائیے اور انہیں جو کچھ ان کا جی چاہے بکنے دیجیے۔ ان کے ساتھ ضمناً تمام خلق کو، جس میں مومن و کافر سب شامل ہیں، یہ بتایا گیا ہے کہ ان کا سابقہ کسی معمولی انسان سے نہیں ہے بلکہ ایک بہت بڑی شخصیت سے ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے بلند ترین مقام پر سرفراز فرمایا ہے۔ سورة الْاَحْزَاب 82 نبی کو " گواہ " بنانے کا مفہوم اپنے اندر بڑی وسعت رکھتا ہے جس میں تین قسم کی شہادتیں شامل ہیں۔ ایک قولی شہادت، یعنی یہ کہ اللہ کا دین جن حقائق اور اصولوں پر مبنی ہے، نبی ان کی صداقت کا گواہ بن کر کھڑا ہو اور دنیا سے صاف صاف کہہ دے کہ وہی حق ہیں اور ان کے خلاف جو کچھ ہے باطل ہے۔ خدا کی ہستی اور اس کی توحید، ملائکہ کا سجود، وحی کا نزول، حیات بعد الموت کا وقوع اور جنت و دوزخ کا ظہور خواہ دنیا کو کیسا ہی عجیب معلوم ہو اور دنیا ان باتوں کے پیش کرنے والے کا مذاق اڑائے یا اسے دیوانہ کہے، مگر نبی کسی کی پروا کیے بغیر اٹھے اور ہانک پکار کر کہہ دے کہ یہ سب کچھ حقیقت ہے اور گمراہ ہیں وہ لوگ جو اسے نہیں مانتے۔ اسی طرح اخلاق اور تہذیب اور تمدن کے جو تصورات اقدار، اصول اور ضابطے خدا نے اس پر منکشف کیے ہیں، انہیں اگر ساری دنیا غلط کہتی ہو اور ان کے خلاف چل رہی ہو تب بھی نبی کا کام یہ ہے کہ انہی کو علی الاعلان پیش کرے اور ان تمام خیالات اور طریقوں کو غلط قرار دے جو ان کے خلاف دنیا میں رائج ہوں۔ اسی طرح جو کچھ خدا کی شریعت میں حلال ہے نبی اس کو حلال ہی کہے خواہ ساری دنیا اسے حرام سمجھتی ہو، اور جو کچھ خدا کی شریعت میں حرام ہے نبی اس کو حرام ہی کہے خواہ ساری دنیا اسے حلال و طیب قرار دے رہی ہو۔ دوسرے عملی شہادت، یعنی یہ کہ نبی اپنی پوری زندگی میں اس مسلک کا عملاً مظاہرہ کرے جسے دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے وہ اٹھا ہے۔ جس چیز کو وہ برائی کہتا ہے اس کے ہر شائبے سے اس کی زندگی پاک ہو۔ جس چیز کو وہ بھلائی کہتا ہے، اس کی اپنی سیرت میں وہ پوری شان کے ساتھ جلوہ گر ہو۔ جس چیز کو وہ فرض کہتا ہے اسے ادا کرنے میں وہ سب سے بڑھ کر ہو۔ جس چیز کو وہ گناہ کہتا ہے اس سے بچنے میں کوئی اس کی برابری نہ کرسکے۔ جس قانون حیات کو وہ خدا کا قانون کہتا ہے اسے نافذ کرنے میں وہ کوئی کسر نہ اٹھا رکھے۔ اس کا اپنا اخلاق و کردار اس بات پر گواہ ہو کہ وہ اپنی دعوت میں کس قدر سچا اور کتنا مخلص ہے۔ اور اس کی ذات اس کی تعلیم کا ایسا مجسم نمونہ ہو جسے دیکھ کر ہر شخص معلوم کرلے کہ جس دین کی طرف وہ دنیا کو بلا رہا ہے وہ کس معیار کا انسان بنانا چاہتا ہے، کیا کردار اس میں پیدا کرنا چاہتا ہے، اور کیا نظام زندگی اس سے برپا کرانا چاہتا ہے۔ تیسرے اخروی شہادت، یعنی آخرت میں جب اللہ کی عدالت قائم ہو اس وقت نبی اس امر کی شہادت دے کہ جو پیغام اس کے سپرد کیا گیا تھا وہ اس نے بےکم وکاست لوگوں تک پہنچا دیا اور ان کے سامنے اپنے قول اور عمل سے حق واضح کردینے میں اس نے کوئی کوتاہی نہیں کی۔ اسی شہادت پر یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ ماننے والے کس جزا کے، اور نہ ماننے والے کس سزا کے مستحق ہیں۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ نبی ﷺ کو شہادت کے مقام پر کھڑا کر کے اللہ تعالیٰ نے کتنی بڑی ذمہ داری آپ پر ڈالی تھی اور وہ کیسی عظیم شخصیت ہونی چاہیے جو اس مقام بلند پر کھڑی ہو سکے۔ ظاہر بات ہے کہ نبی ﷺ سے دین حق کی قولی اور عملی شہادت پیش کرنے میں ذرہ برابر بھی کوئی کوتاہی نہیں ہوئی ہے، تبھی تو آخرت میں آپ ﷺ یہ شہادت دے سکیں گے کہ میں نے لوگوں پر حق پوری طرح واضح کردیا تھا، اور تبھی اللہ کی حجت لوگوں پر قائم ہوگی۔ ورنہ اگر معاذاللہ آپ ہی سے یہاں شہادت ادا کرنے میں کوئی کسر رہ گئی ہو تو نہ آپ آخرت میں ان پر گواہ ہو سکتے ہیں اور نہ منکرین کے خلاف مقدمہ ثابت ہوسکتا ہے۔ بعض لوگوں نے اس شہادت کو یہ معنی پہنانے کی کوشش کی ہے کہ نبی ﷺ آخرت میں لوگوں کے اعمال پر شہادت دیں گے، اور اس سے وہ یہ استدلال کرتے ہیں کہ حضور ﷺ تمام اعمال کو دیکھ رہے ہیں، ورنہ بےدیکھے شہادت کیسے دے سکیں گے۔ لیکن قرآن مجید کی رو سے یہ تاویل قطعاً غلط ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کے لوگوں کے اعمال پر شہادت قائم کرنے کے لیے تو اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرا ہی انتظام فرمایا ہے۔ اس غرض کے لیے اس کے فرشتے ہر شخص کا نامۂ اعمال تیار کر رہے ہیں (ملاحظہ ہو ق ٓ، آیات 17۔ 18 اور الکہف۔ آیت 149) اور اس کے لیے وہ لوگوں کے اپنے اعضاء سے بھی گواہی لے لے گا (یٰسٓ65۔ حم السجدہ 20۔ 21) رہے انبیاء علیم السلام، تو ان کا کام بندوں کے اعمال پر گواہی دینا نہیں بلکہ اس بات پر گواہی دینا ہے کہ بندوں تک حق پہنچا دیا گیا گیا تھا۔ قرآن صاف فرماتا ہے " یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰہُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَا ذَآ اُجِبْتُمْ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ۔ (المائدہ۔ 109) جس روز اللہ تمام رسولوں کو جمع کرے گا، کہ تمہاری دعوت کا کیا جواب دیا گیا، تو وہ کہیں گے کہ ہم کو کچھ خبر نہیں، تمام غیب کی باتوں کو جاننے والے تو آپ ہی ہیں۔ اور اسی سلسلے میں حضرت عیسیٰ ؑ کے متعلق قرآن کہتا ہے کہ جب ان سے عیسائیوں کی گمراہی کے متعلق سوال ہوگا تو وہ عرض کریں گے وَکُنْتُ عَلَیْھِمْ شَھِیْداً مَّادُمْتُ فِیْھِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْھِمْ۔ (المائدہ۔ 117) میں جب تک ان کے درمیان تھا اسی وقت تک ان پر گواہ تھا۔ جب آپ نے مجھے اٹھا لیا تو آپ ہی ان پر نگراں تھے۔ یہ آیات اس باب میں بالکل صریح ہیں کہ انبیا (علیہم السلام) اعمال خلق کے گواہ نہیں ہوں گے۔ پھر گواہ کس چیز کے ہو نگے ؟ اس کا جواب قرآن اتنی ہی صراحت کے ساتھ یہ دیتا ہے وَکذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّتہً وَّسَطاً لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلی النَّاسِ وَ یَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْداً۔ (البقرہ۔ 143) اور اے مسلمانو ! اسی طرح ہم نے تم کو ایک امت وَسَط بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہوں۔ وَیَوْمَ نَبْعَثُ فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ شَھِیْداً عَلَیْھِمْ مِّنْ اَنْفُسِھِمْ وَجِئْنَا بِکَ شَھِیْداً عَلیٰ ھٰٓؤُلَآءِ۔ (النحل۔ 89) اور جس روز ہم ہر امت میں انہی کے اندر سے ایک گواہ اٹھا کھڑا کریں گے جو ان پر گواہی دے گا اور (اے محمد) تمہیں ان لوگوں پر گواہ کی حیثیت سے لائیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے روز نبی ﷺ کی شہادت اپنی نوعیت میں اس شہادت سے مختلف نہ ہوگی جسے ادا کرنے کے لیے حضور ﷺ کی امت کو اور ہر امت پر گواہی دینے والے شہداء کو بلایا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ اگر یہ شہادت اعمال کی ہو تو ان سب کا بھی حاضر و ناظر ہونا لازم آتا ہے۔ اور اگر یہ گواہ صرف اس امر کی شہادت دینے کے لیے بلائے جائیں گے کہ خلق تک اس کے خالق کا پیغام پہنچ گیا تھا تو لامحالہ حضور ﷺ بھی اسی غرض کے لیے پیش ہوں گے۔ اسی مضمون کی تائید وہ احادیث بھی کرتی ہیں جن کو بخاری، مسلم، ترمذی، ابن ماجہ امام احمد وغیرہم نے عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عباس، ابو الدرداء، انس بن مالک اور بہت سے دوسرے صحابہ ؓ سے نقل کیا ہے، جن کا مشترک مضمون یہ ہے کہ نبی ﷺ قیامت کے روز اپنے بعض اصحاب کو دیکھیں گے کہ وہ لائے جا رہے ہیں، مگر وہ آپ ﷺ کی طرف آنے کے بجائے دوسرے رخ پر جا رہے ہوں گے یا دھکیلے جا رہے ہوں گے۔ حضور ﷺ ان کو دیکھ کر عرض کریں گے کہ خدایا، یہ تو میرے صحابی ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تم نہیں جانتے کہ تمہارے بعد انہوں نے کیا کرتوت کیے ہیں۔ یہ مضمون اتنے صحابہ سے اتنی کثیر سندوں کے ساتھ نقل ہوا ہے کہ اس کی صحت میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں۔ اور اس سے یہ بات صریحاً ثابت ہوتی ہے کہ نبی ﷺ اپنی امت کے ایک ایک شخص اور اس کی ایک ایک حرکت کے شاہد قطعاً نہیں ہیں۔ رہی وہ حدیث جس میں یہ ذکر آیا ہے کہ حضور ﷺ کے سامنے آپ کی امت کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں، تو وہ کسی طرح بھی اس مضمون سے متعارض نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس کا حاصل صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ حضور ﷺ کو امت کے حالات سے باخبر رکھتا ہے۔ اس کے یہ معنی کب ہیں کہ حضور ﷺ ہر شخص کے اعمال کا عینی مشاہدہ فرما رہے ہیں۔ سورة الْاَحْزَاب 83 یہاں اس فرق کو ملحوظ رکھیے کہ کسی شخص کا بطور خود ایمان و عمل صالح پر اچھے انجام کی بشارت دینا اور کفر وبد عملی پر برے انجام سے ڈرانا اور بات ہے اور کسی کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبشر و نذیر بنا کر بھیجا جانا بالکل ہی ایک دوسری بات۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس منصب پر مامور ہو وہ تو اپنی بشارت اور اپنے انذار کے پیچھے لازماً ایک اقتدار رکھتا ہے جس کی بنا پر اس کی بشارتوں اور اس کی تنبیہوں کو قانونی حیثیت حاصل ہوجاتی ہے۔ اس کا کسی کام پر بشارت دینا یہ معنی رکھتا ہے کہ جس احکم الحاکمین کی طرف سے وہ بھیجا گیا ہے وہ اس کام کے پسندیدہ اور مستحق اجر ہونے کا اعلان کر رہا ہے، لہٰذا وہ فرض یا واجب یا مستحب ہے اور اس کا کرنے و الا ضرور اجر پائے گا۔ اور اس کا کسی کام کے برے انجام کی خبر دینا یہ معنی رکھتا ہے کہ قادر مطلق اس کام سے منع کر رہا ہے لہٰذا وہ ضرور گناہ اور حرام ہے اور یقیناً اس کا مرتکب سزا پائے گا۔ یہ حیثیت کسی غیر مامور کی بشارت اور تنبیہ کو کبھی حاصل نہیں ہو سکتی۔
Ayahs 33:46–48

وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا Open ayah 33:46 in the Quran reader

اللہ کی اجازت سے اس کی طرف دعوت دینے 84 والا بنا کر اور روشن چراغ بناکر

وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَضْلًا كَبِیْرًا Open ayah 33:47 in the Quran reader

بشارت دے دو اُن لوگوں کو جو (تم پر) ایمان لائے ہیں کہ ان کے لیے اللہ کی طرف سے بڑا فضل ہے

وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ دَعْ اَذٰىهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:48 in the Quran reader

اور ہرگز نہ دبو کفار و منافقین سے، کوئی پرواہ نہ کرو ان کی اذیت رسانی کی اور بھروسہ کر لو اللہ پر، اللہ ہی اس کے لیے کافی ہے کہ آدمی اپنے معاملات اُس کے سپرد کر دے

سورة الْاَحْزَاب 84 یہاں بھی ایک عام مبلغ کی تبلیغ اور نبی کی تبلیغ کے درمیان وہی فرق ہے جس کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا ہے۔ دعوت الی اللہ تو ہر مبلغ دیتا اور دے سکتا ہے، مگر وہ اللہ کی طرف سے اس کام پر مامور نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس نبی اللہ کے اذن (Sanction) سے دعوت دینے اٹھتا ہے۔ اس کی دعوت نری تبلیغ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے بھی اس کے بھیجنے والے رب العالمین کی فرمانروائی کا زور ہوتا ہے۔ اسی بنا پر اللہ کے بھیجے ہوئے داعی کی مزاحمت خود اللہ کے خلاف جنگ قرار پاتی ہے، جس طرح دنیوی حکومتوں میں سرکاری کام انجام دینے والے سرکاری ملازم کی مزاحمت خود حکومت کے خلاف جنگ سمجھی جاتی ہے۔
Ayah 33:49

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَیْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا١ۚ فَمَتِّعُوْهُنَّ وَ سَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:49 in the Quran reader

اَے لوگوں جو ایمان لائے ہو، جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو اور پھر انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو 85 تو تمہاری طرف سے ان پر کوئی عدت لازم نہیں ہے جس کے پورے ہونے کا تم مطالبہ کر سکو۔ لہذا انہیں کچھ مال دو اور بھلے طریقے سے رخصت کر دو۔ 86

سورة الْاَحْزَاب 85 یہ عبارت اس باب میں صریح ہے کہ یہاں لفظ نکاح کا اطلاق صرف عقد پر کیا گیا ہے۔ علمائے لغت میں اس امر پر بہت کچھ اختلاف ہوا ہے کہ عربی زبان میں نکاح کے اصل معنی کیا ہیں۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ یہ لفظ وطی اور عقد کے درمیان لفظاً مشترک ہے۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ یہ ان دونوں میں معنیً مشترک ہے۔ تیسرا کہتا ہے کہ اس کے اصل معنی عقد ترْویج کے ہیں اور وطی کے لیے اس کو مجازاً استعمال کیا جاتا ہے۔ اور چوتھا کہتا ہے کہ اس کے اصل معنی وطی کے ہیں اور عقد کے لیے یہ مجازاً استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے ثبوت میں ہر گروہ نے کلام عرب سے شواہد پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن راغب اصفہانی نے پورے زور کے ساتھ یہ دعویٰ کیا ہے کہ اصل النکاح العقد ثم استعیر للجماع و محال ان یکون فی الاصل للجماع ثم استعیر للعقد۔ " لفظ نکاح کے اصل معنی عقد ہی کے ہیں پھر یہ لفظ استعارۃً جماع کے لیے استعمال کیا گیا ہے، اور یہ بات محال ہے کہ اس کے اصل معنی جماع کے ہوں اور استعارے کے طور پر اسے عقد کے لیے استعمال کیا گیا ہو۔ " اس کی دلیل وہ یہ دیتے ہیں کہ جتنے الفاظ بھی جماع کے لیے عربی زبان، یا دنیا کی کسی دوسری زبان میں حقیقۃً وضع کیے گئے ہیں وہ سب فحش ہیں۔ کوئی شریف آدمی کسی مہذب مجلس میں ان کو زبان پر لانا بھی پسند نہیں کرتا۔ اب آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ جو لفظ حقیقۃً اس فعل کے لیے وضع کیا گیا ہو اسے کوئی معاشرہ شادی بیاہ کے لیے مجاز و استعارے کے طور پر استعمال کرے۔ اس معنی کو ادا کرنے کے لیے تو دنیا کی ہر زبان میں مہذب الفاظ ہی استعمال کیے گئے ہیں نہ کہ فحش الفاظ۔ جہاں تک قرآن اور سنت کا تعلق ہے، ان میں نکاح ایک اصطلاحی لفظ ہے جس سے مراد یا تو مجرد عقد ہے، یا پھر وطی بعد عقد۔ لیکن وطی بلا عقد کے لیے اس کو کہیں استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ اس طرح کی وطی کو تو قرآن اور سنت زنا اور سفاح کہتے ہیں نہ کہ نکاح۔ سورة الْاَحْزَاب 86 یہ ایک منفرد آیت ہے جو غالباً اسی زمانے میں طلاق کا کوئی مسئلہ پیدا ہوجانے پر نازل ہوئی تھی، اس لیے پچھلے سلسلۂ بیان اور بعد کے سلسلۂ بیان کے درمیان اس کو رکھ دیا گیا۔ اس ترتیب سے یہ بات خود مترشح ہوتی ہے کہ یہ تقریر ما سبق کے بعد اور تقریر ما بعد سے پہلے نازل ہوئی تھی۔ اس آیت سے جو قانونی احکام نکلتے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے 1) آیت میں اگرچہ " مومن عورتوں " کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس سے بظاہر یہ گمان کیا جاسکتا ہے کہ کتابی عورتوں کے معاملہ میں قانون وہ نہیں ہے جو یہاں بیان ہوا ہے، لیکن تمام علمائے امت کا اس پر اتفاق ہے کہ معنًی یہی حکم کتابیات کے بارے میں بھی ہے۔ یعنی کتابی عورت سے بھی کسی مسلمان نے نکاح کیا ہو تو اس کی طلاق، اس کے مہر، اس کی عدت اور اس کو متعۂ طلاق دینے کے جملۂ احکام وہی ہیں جو مومن عورت سے نکاح کی صورت میں ہیں۔ علماء کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں مخصوص طور پر صرف مومن عورتوں کا ذکر جو کیا ہے اس سے مقصود دراصل اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ مسلمانوں کے لیے مومن عورتیں ہی موزوں ہیں۔ یہودی اور عیسائی عورتوں سے نکاح جائز ضرور ہے مگر مناسب اور پسندیدہ نہیں ہے۔ بالفاظ دیگر قرآن کے اس انداز بیان سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اہل ایمان سے متوقع یہی ہے کہ وہ مومن عورتوں سے نکاح کریں گے۔ 2) " ہاتھ لگانے " یا " مَس " کرنے سے مراد لغت کے اعتبار سے تو محض چھونا ہے، لیکن یہاں یہ لفظ کنایۃً مباشرت کے لیے استعمال ہوا ہے۔ اس لحاظ سے ظاہر آیت کا تقاضا یہ ہے کہ اگر شوہر نے مباشرت نہ کی ہو تو خواہ وہ عورت کے پاس تنہائی میں رہا ہو، بلکہ اسے ہاتھ بھی لگا چکا ہو تب بھی طلاق دینے کی صورت میں عدت لازم نہ آئے۔ لیکن فقہاء نے برسبیل احتیاط یہ حکم لگایا ہے کہ اگر خلوت صحیحہ ہوجائے (یعنی جس میں مباشرت ممکن ہو) تو اس کے بعد طلاق دینے کی صورت میں عدت لازم آئے گی اور سقوط عدت صرف اس حالت میں ہوگا جبکہ خلوت سے پہلے طلاق دے دی گئی ہو۔ 3) طلاق قبل خلوت کی صورت میں عدت ساقط ہوجانے کے معنی یہ ہیں کہ اس صورت میں مرد کا حق رجوع باقی نہیں رہتا اور عورت کو یہ حق حاصل ہوجاتا ہے کہ طلاق کے فوراً بعد جس سے چاہے نکاح کرلے۔ لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ یہ حکم صرف طلاق قبل خلوت کا ہے۔ اگر خلوت سے پہلے عورت کا شوہر مر جائے تو اس صورت میں عدت وفات ساقط نہیں ہوتی بلکہ عورت کو وہی چار مہینے دس دن کی عدت گزارنی ہوتی ہے جو منکوحۂ مدخولہ کے لیے واجب ہے۔ (عدت سے مراد وہ مدت ہے جس کے گزر نے سے پہلے عورت کے لیے دوسرا نکاح جائز نہ ہو۔) 4) مَالَکُمْ عَلَیھِنَّ مِنْ عِدَّۃٍ (تمہارے لیے ان پر کوئی عدت لازم نہیں ہے) کے الفاظ اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ عدت عورت پر مرد کا حق ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ صرف مرد ہی کا حق ہے۔ دراصل اس میں دو حق اور بھی شامل ہیں۔ ایک حق اولاد۔ دوسرے حق اللہ یا حق الشرع۔ مرد کا حق وہ اس بنا پر ہے کہ اس دوران میں اس کو رجوع کرلینے کا حق ہے، نیز اس بنا پر کہ اس کی اولاد کے نسب کا ثبوت اس بات پر منحصر ہے کہ عدت کے زمانہ میں عورت کا حاملہ ہونا یا نہ ہونا ظاہر ہوجائے۔ اولاد کا حق اس میں شامل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اپنے باپ سے بچے کے نسب کا ثابت ہونا اس کے قانونی حقوق قائم ہونے کے لیے ضروری ہے اور اس کے اخلاقی مرتبے کا انحصار بھی اس امر پر ہے کہ اس کا نسب مشتبہ نہ ہو۔ پھر اس میں حق اللہ (یا حق الشرع) اس لیے شامل ہوجاتا ہے کہ اگر لوگوں کو اپنے اور اپنی اولاد کے حقوق کی پروا نہ بھی ہو تو خدا کی شریعت ان حقوق کی حفاظت ضروری سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی مرد کسی عورت کو یہ پروانہ بھی لکھ کر دیدے کہ میرے مرنے کے بعد یا مجھ سے طلاق لے لینے کے بعد تیرے اوپر میری طرف سے کوئی عدت واجب نہ ہوگی تب بھی شریعت کسی حال میں اس کو ساقط نہ کرے گی۔ 5) فَمَتِّعُوْھُنَّ وَسَرِّحُوْھُنَّ سَرَاحاً جَمِیْلاً (ان کو کچھ مال دو اور بھلے طریقے سے رخصت کردو) اس حکم کا منشا دو طریقوں میں سے کسی ایک طریقے پر پورا کرنا ہوگا۔ اگر نکاح کے وقت مہر مقرر کیا گیا تھا اور پھر خلوت سے پہلے طلاق دے دی گئی تو اس صورت میں نصف مہر دینا واجب ہوگا جیسا کہ سورة بقرہ کی آیت 237 میں ارشاد ہوا ہے۔ اس واجب سے زائد کچھ دینا لازم نہیں ہے مگر مستحب ہے۔ مثلاً یہ بات پسندیدہ ہے کہ نصف مہر دینے کے ساتھ مرد وہ جوڑا بھی عورت کے پاس ہی رہنے دے جو دلہن بننے کے لیے بھیجا گیا تھا، یا اور کچھ سامان اگر شادی کے موقع پر اسے دیا گیا تھا تو وہ واپس نہ لے لیکن اگر نکاح کے وقت مہر مقرر نہ کیا گیا ہو تو اس صورت میں عورت کو کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کرنا واجب ہے، اور یہ " کچھ نہ کچھ " آدمی کی حیثیت اور مقدرت کے مطابق ہونا چاہیے، جیسا کہ سورة بقرہ کی آیت 236 میں فرمایا گیا ہے۔ علماء کا ایک گروہ اس بات کا بھی قائل ہے کہ متعۂ طلاق دینا بہرحال واجب ہے خواہ مہر مقرر کیا گیا ہو یا نہ کیا گیا ہو۔ (اسلامی فقہ کی اصطلاح میں متعۂ طلاق اس مال کو کہتے ہیں جو طلاق دے کر رخصت کرتے وقت عورت کو دیا جاتا ہے)۔ 6) بھلے طریقے سے رخصت کرنے کا مطلب صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ عورت کو کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کیا جائے بلکہ اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ کسی تھکا فضیحتی کے بغیر شریفانہ طریقے سے علیٰحدگی اختیار کرلی جائے۔ ایک آدمی کو اگر عورت پسند نہیں آئی ہے یا کوئی اور وجہ شکایت پیدا ہوئی ہے جس کی بنا پر وہ اس عورت کو نہیں رکھنا چاہتا تو بھلے آدمیوں کی طرح اسے طلاق دے اور رخصت کر دے۔ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اس کے عیوب لوگوں کے سامنے بیان کرے اور اپنی شکایتوں کے دفتر کھولے تاکہ کوئی دوسرا بھی اس عورت قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔ قرآن کے اس ارشاد سے صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ طلاق کے نفاذ کو کسی پنچایت یا عدالت کی اجازت کے ساتھ معلق کرنا خدائی تشریع کی حکمت و مصلحت کے بالکل خلاف ہے، کیونکہ اس صورت میں " بھلے طریقے سے رخصت کرنے " کا کوئی امکان نہیں رہتا، بلکہ مرد نہ بھی چاہے تو تھُکّا فضیحتی اور بدنامی و رسوائی ہو کر رہتی ہے۔ علاوہ بریں آیت کے الفاظ میں اس امر کی کوئی گنجائش بھی نہیں ہے کہ مرد کا اختیار طلاق کسی پنچایت یا عدالت کی اجازت کے ساتھ مشروط ہو۔ آیت بالکل صراحت کے ساتھ ناکح کو طلاق کا اختیار دے رہی ہے اور اسی پر یہ ذمہ داری ڈال رہی ہے کہ اگر وہ ہاتھ لگانے سے پہلے عورت کو چھوڑنا چاہے تو لازماً نصف مہر دے کر یا اپنی حیثیت کے مطابق کچھ مال دے کر چھوڑے۔ اس سے آیت کا مقصود صاف یہ معلوم ہوتا ہے کہ طلاق کو کھیل بننے سے روکنے کے لیے مرد پر مالی ذمہ داری کا ایک بوجھ ڈال دیا جائے تاکہ وہ خود ہی اپنے اختیار طلاق کو سوچ سمجھ کر استعمال کرے اور دو خاندانوں کے اندرونی معاملے میں کسی بیرونی مداخلت کی نوبت نہ آنے پائے، بلکہ شوہر سرے سے کسی کو یہ بتانے پر مجبور ہی نہ ہو کہ وہ بیوی کو کیوں چھوڑ رہا ہے۔ 7) ابن عباس، سعید بن المُسَیِّب، حسن بصری، علی بن الحسین (زین العابدین) ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل نے آیت کے الفاظ " جب تم نکاح کرو پھر طلاق دے دو " سے یہ استدلال کیا ہے کہ طلاق اسی صورت میں واقع ہوتی ہے جبکہ اس سے پہلے نکاح ہوچکا ہو۔ نکاح سے پہلے طلاق بےاثر ہے۔ اس لیے اگر کوئی شخص یوں کہے کہ " اگر میں فلاں عورت سے، یا فلاں قبیلے یا قوم کی عورت سے یا کسی عورت سے نکاح کروں تو اس پر طلاق ہے "۔ تو یہ قول لغو و بےمعنیٰ ہے، اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہو سکتی۔ اس خیال کی تائید میں یہ احادیث پیش کی جاتی ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا لا طلاق لابن اٰدم فی مالا یملک، " ابن آدم جس چیز کا مالک نہیں ہے اس کے بارے میں طلاق کا اختیار استعمال کرنے کا وہ حق نہیں رکھتا " (احمد، ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ) اور لا طلاق قبل النکاح "، نکاح سے پہلے کوئی طلاق نہیں "۔ (ابن ماجہ)۔ مگر فقہاء کی ایک بڑی جماعت یہ کہتی ہے کہ اس آیت اور ان احادیث کا اطلاق صرف اس بات پر ہوتا ہے کہ کوئی شخص ایک غیر عورت کو جو اس کے نکاح میں نہ ہو یوں کہے کہ " تجھ پر طلاق ہے " یا " میں نے تجھے طلاق دی "۔ یہ قول بلا شبہ لغو ہے جس پر کوئی قانونی نتیجہ مرتب نہیں ہوتا۔ لیکن اگر وہ یوں کہے کہ " اگر میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھ پر طلاق ہے۔ " تو یہ نکاح سے پہلے طلاق دینا نہیں ہے بلکہ دراصل وہ شخص اس امر کا فیصلہ اور اعلان کرتا ہے کہ جب وہ عورت اس کے نکاح میں آئے گی تو اس پر طلاق وارد ہوگی۔ یہ قول لغو و بےاثر نہیں ہوسکتا، بلکہ جب بھی وہ عورت اس کے نکاح میں آئے گی اسی وقت اس پر طلاق پڑجائے گی۔ یہ مسلک جن فقہاء کا ہے ان کے درمیان پھر اس امر میں اختلاف ہوا ہے کہ اس نوعیت کے ایقاع طلاق کی وسعت کس حد تک ہے۔ امام ابو حنیفہ، امام محمد اور امام زُفَر کہتے ہیں کہ خواہ کوئی شخص عورت یا قوم یا قبیلے کی تخصیص کرے یا مثال کے طور پر عام بات اس طرح کہے کہ " جس عورت سے بھی میں نکاح کروں اس پر طلاق ہے "، دونوں صورتوں میں طلاق واقع ہوجائے گی۔ ابوبکر جَصّاص نے یہی رائے حضرت عمر، عبداللہ بن مسعود، ابراہیم النَّخعی، مجاہد اور عمر بن عبدالعزیز رحمہم اللہ سے بھی نقل کی ہے۔ سُفیان ثوری اور عثمان الْبَتِّی کہتے ہیں کہ طلاق صرف اسی صورت میں پڑے گی جب کہنے والا یوں کہے کہ " اگر میں فلاں عورت سے نکاح کروں تو اس پر طلاق ہے۔ " حسن بن صالح، لَیث بن سعد اور عامر الشَّعبِی کہتے ہیں کہ اس طرح کی طلاق عمومیت کے ساتھ بھی پڑ سکتی ہے بشرطیکہ اس میں کسی نوع کی تخصیص ہو۔ مثلاً آدمی نے یوں کہا ہو کہ " اگر میں فلاں خاندان، یا فلاں قبیلے، یا فلاں شہر یا ملک یا قوم کی عورت سے نکاح کروں تو اس پر طلاق ہے۔ " ابن ابی لیلیٰ اور امام مالک اوپر کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے مزید شرط یہ لگاتے ہیں کہ اس میں مدت کا بھی تعین ہونا چاہیے۔ مثلاً اگر آدمی نے یوں کہا ہو کہ " اگر میں اس سال یا آئندہ دس سال کے اندر فلاں عورت یا فلاں گروہ کی عورت سے نکاح کروں تو اس پر طلاق ہے " تب یہ طلاق واقع ہوگی ورنہ نہیں۔ بلکہ امام مالک ؒ اس پر اتنا اضافہ اور کرتے ہیں کہ اگر یہ مدت اتنی طویل ہو جس میں اس شخص کا زندہ رہنا متوقع نہ ہو تو اس کا قول بےاثر رہے گا۔
Ayah 33:50

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِیْۤ اٰتَیْتَ اُجُوْرَهُنَّ وَ مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَیْكَ وَ بَنٰتِ عَمِّكَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِكَ وَ بَنٰتِ خَالِكَ وَ بَنٰتِ خٰلٰتِكَ الّٰتِیْ هَاجَرْنَ مَعَكَ١٘ وَ امْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْكِحَهَا١ۗ خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْهِمْ فِیْۤ اَزْوَاجِهِمْ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ لِكَیْلَا یَكُوْنَ عَلَیْكَ حَرَجٌ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:50 in the Quran reader

اے نبیؐ، ہم نے تمہارے لیے حلال کر دیں تمہاری وہ بیویاں جن کے مہر تم نے ادا کیے ہیں 87 ، اور وہ عورتیں جو اللہ کی عطا کردہ لونڈیوں میں سے تمہاری ملکیت میں آئیں ، اور تمہاری وہ چچازاد اور پھوپھی زاد اور ماموں زاد اور خالہ زاد بہنیں جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی ہے ، اور وہ مومن عورت جس نے اپنے آپ کو نبیؐ کے لیے ہبہ کیا ہو اگر نؐبی اسے نکاح میں لینا چاہے 88۔ یہ رعایت خالصتاً تمہارے لیے ہے ، دوسرے مومنوں کے لیے نہیں ہے 89 ہم کو معلوم ہے کہ عام مومنوں پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں ہم نے کیا حدود عائد کیے ہیں۔ (تمہیں ان حدود سے ہم نے اس لیے مستثنیٰ کیا ہے)تاکہ تمہارے اوپر کوئی تنگی نہ رہے 90 ، اور اللہ غفور و رحیم ہے

سورة الْاَحْزَاب 87 یہ دراصل جواب ہے ان لوگوں کے اعتراض کا جو کہتے تھے کہ محمد ﷺ دوسرے لوگوں کے لیے تو بیک وقت چار بیویاں رکھنا ممنوع قرار دیتے ہیں، مگر خود انہوں نے یہ پانچویں بیوی کیسے کرلی۔ اس اعتراض کی بنیاد یہ تھی کہ حضرت زینب ؓ سے نکاح کے وقت نبی ﷺ کی چار بیویاں موجود تھیں۔ ایک حضرت سودہ جن سے 3 قبل ہجرت میں آپ نے نکاح کیا تھا۔ دوسری، حضرت عائشہ جن سے نکاح تو 3 قبل ہجرت میں ہوچکا تھا مگر انکی رخصتی شوال 1 ہجری میں ہوئی تھی، تیسری، حضرت حفصہ جن سے شعبان 3 ھجری میں آپ کا نکاح ہوا۔ اور چوتھی، حضرت ام سلمہ، جنہیں حضور ﷺ نے شوال 4 ہجری میں زوجیت کا شرف عطا فرمایا۔ اس طرح حضرت زینب آپ کی پانچویں بیوی تھیں۔ اس پر کفار و منافقین جو اعتراض کر رہے تھے اس کا جواب اللہ تعالیٰ یہ دے رہا ہے کہ اے نبی ﷺ تمہاری یہ پانچوں بیویاں جنہیں مہر دے کر تم اپنے نکاح میں لائے ہو، ہم نے تمہارے لیے حلال کی ہیں۔ دوسرے الفاظ میں اس جواب کا مطلب یہ ہے کہ عام مسلمانوں کے لیے چار کی قید لگانے والے بھی ہم ہی ہیں اور اپنے نبی کو اس قید سے مستثنیٰ کرنے والے بھی ہم خود ہیں۔ اگر وہ قید لگانے کے ہم مجاز تھے تو آخر اس استثناء کے مجاز ہم کیوں نہیں ہیں۔ اس جواب کے بارے میں یہ بات پھر ملحوظ خاطر رہنی چاہیے کہ اس سے مقصود کفار و منافقین کو مطمئن کرنا نہیں تھا بلکہ ان مسلمانوں کو مطمئن کرنا تھا جن کے دلوں میں مخالفین اسلام وسوسے ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہیں چونکہ یقین تھا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور اللہ تعالیٰ کے اپنے الفاظ میں نازل ہوا ہے، اس لیے قرآن کی ایک محکم آیت کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایا کہ نبی نے چار بیویوں کے عام قانون سے اپنے آپ کو خود مستثنیٰ نہیں کرلیا ہے بلکہ یہ استثنا کا فیصلہ ہمارا کیا ہوا ہے۔ سورة الْاَحْزَاب 88 پانچویں بیوی کو حضور ﷺ کے لیے حلال کرنے کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں حضور ﷺ کو چند مزید اقسام کی عورتوں سے بھی نکاح کی اجازت عطا فرمائی 1۔ وہ عورتیں جو اللہ کی عطا کردہ لونڈیوں میں سے آپ کی ملکیت میں آئیں۔ اس اجازت کے مطابق حضور ﷺ نے غزوۂ قُریظہ کے سبایا میں سے حضرت ریحانہ، غزوۂ بنی المُصْطَلِق کے سبایا میں سے حضرت جُوَیْریہ غزوۂ خیبر کے سبایا میں سے حضرت صفیہ اور مُقَقَسِ مصر کی بھیجی ہوئی حضرت ماریہ قبطیہ کو اپنے لیے مخصوص فرمایا۔ ان میں سے مقدم الذکر تین کو آپ ﷺ نے آزاد کر کے ان سے نکاح کیا تھا، لیکن حضرت ماریہ سے بربنائے ملک یمین تمتع فرمایا، ان کے بارے میں یہ ثابت نہیں ہے کہ آپ ﷺ نے ان کو آزاد کر کے ان سے نکاح کیا ہو۔ 2۔ آپ ﷺ کی چچا زاد، ماموں زاد، پھوپھی زاد اور خالہ زاد بہنوں میں سے وہ خواتین جنہوں نے ہجرت میں آپ کا ساتھ دیا ہو۔ آیت میں آپ کے ساتھ " ہجرت کرنے " کا جو ذکر آیا ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سفر میں آپ کے ساتھ رہی ہوں، بلکہ یہ تھا کہ وہ بھی اسلام کی خاطر راہ خدا میں ہجرت کرچکی ہوں۔ حضور ﷺ کو اختیار دیا گیا کہ ان رشتہ دار مہاجر خواتین میں سے بھی آپ جس سے چاہیں نکاح کرسکتے ہیں۔ چناچہ اس اجازت کے مطابق آپ نے 7 ھ میں حضرت اُمّ حبیبہ سے نکاح فرمایا۔ (ضمناً اس آیت میں یہ صراحت بھی ہے کہ چچا، ماموں، پھوپھی اور خالہ کی بیٹیاں ایک مسلمان کے لیے حلال ہیں۔ اس معاملہ میں اسلامی شریعت عیسائی اور یہودی، دونوں مذہبوں سے مختلف ہے۔ عیسائیوں کے ہاں کسی ایسی عورت سے نکاح نہیں ہوسکتا جس سے سات پشت تک مرد کا نسب ملتا ہو۔ اور یہودیوں کے ہاں سگی بھانجی اور بھتیجی تک سے نکاح جائز ہے)۔ 3۔ وہ مومن عورت جو اپنے آپ کو نبی ﷺ کے لیے ہبہ کرے، یعنی بلا مہر آپ کو حضور ﷺ کے نکاح میں دینے کے لیے تیار ہو اور حضور ﷺ اسے قبول کرنا پسند فرمائیں۔ اس اجازت کی بنا پر آپ ﷺ نے شوال 7 ھ میں حضرت میمونہ کو اپنی زوجیت میں لیا۔ لیکن آپ ﷺ نے یہ پسند نہ کیا کہ مہر کے بغیر ان کے ہبہ سے فائدہ اٹھائیں۔ اس لیے آپ ﷺ نے ان کی کسی خواہش اور مطالبہ کے بغیر ان کو مہر عطا فرمایا۔ بعض مفسرین یہ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کے نکاح میں کوئی موہوبہ بیوی نہ تھیں۔ مگر اس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ آپ ﷺ نے ہبہ کرنے والی بیوی کو بھی مہر دیے بغیر نہ رکھا۔ سورة الْاَحْزَاب 89 اس فقرے کا تعلق اگر صرف قریب کے فقرے سے مانا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ دوسرے کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ کوئی عورت اپنے آپ کو اس کے لیے ہبہ کرے اور وہ بلا مہر اس سے نکاح کرلے۔ اور اگر اس کا تعلق اوپر کی پوری عبارت سے مانا جائے تو اس سے مراد یہ ہوگی کہ چار سے زیادہ نکاح کرنے کی رعایت بھی صرف حضور ﷺ کے لیے ہے، عام مسلمانوں کے لیے نہیں ہے۔ اس آیت سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ کچھ احکام نبی ﷺ کے لیے خاص ہیں جن میں امت کے دوسرے لوگ آپ ﷺ کے ساتھ شریک نہیں ہیں۔ قرآن و سنت کے تتبُّع سے ایسے متعدد احکام کا پتہ چلتا ہے۔ مثلاً حضور ﷺ کے لیے نماز تہجد فرض تھی اور باقی تمام امت کے لیے وہ نفل ہے۔ آپ ﷺ کے لیے اور آپ کے خاندان والوں کے لیے صدقہ لینا حرام ہے اور کسی دوسرے کے لیے وہ حرام نہیں ہے۔ آپ ﷺ کی میراث تقسیم نہ ہو سکتی تھی، باقی سب کی میراث کے لیے وہ احکام ہیں جو سورة نساء میں بیان ہوئے ہیں۔ آپ کے لیے چار سے زائد بیویاں حلال کی گئیں، بیویوں کے درمیان عدل آپ پر واجب نہیں کیا گیا، اپنے نفس کو ہبہ کرنے والی عورت سے بلا مہر نکاح کرنے کی آپ کو اجازت دی گئی، اور آپ کی وفات کے بعد آپ کی بیویاں تمام امت پر حرام کردی گئیں۔ ان میں سے کوئی خصوصیت بھی ایسی نہیں ہے جو حضور ﷺ کے علاوہ کسی مسلمان کو حاصل ہو۔ مفسرین نے آپ ﷺ کی ایک خصوصیت یہ بھی بیان کی ہے کہ آپ کے لیے کتابیہ عورت سے نکاح ممنوع تھا، حالانکہ باقی امت کے لیے وہ حلال ہے۔ سورة الْاَحْزَاب 90 یہ وہ مصلحت ہے جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو عام قاعدے سے مستثنیٰ فرمایا۔ " تنگی نہ رہے " کا مطلب یہ نہیں ہے کہ نعوذ باللہ آپ ﷺ کی خواہشات نفسانی بہت بڑھی ہوئی تھیں اس لیے آپ کو بہت بیویاں کرنے کی اجازت دے دی گئی تاکہ آپ صرف چار بیویوں تک محدود رہنے میں تنگی محسوس نہ فرمائیں۔ اس فقرے کا یہ مطلب صرف وہی شخص لے سکتا ہے جو تعصب میں اندھا ہو کر اس بات کو بھول جائے کہ محمد ﷺ نے 25 سال کی عمر میں ایک ایسی خاتون سے شادی کی تھی جن کی عمر اس وقت 40 سال تھی، اور پوری 25 برس تک آپ ان کے ساتھ نہایت خوشگوار ازدواجی زندگی بسر کرتے رہے۔ پھر جب ان کا انتقال ہوگیا تو آپ نے ایک اور سن رسیدہ خاتون حضرت سودہ سے نکاح کیا اور پورے چار سال تک تنہا وہی آپ کی بیوی رہیں۔ اب آخر کون صاحب عقل اور ایمان دار آدمی یہ تصور کرسکتا ہے کہ 53 سال کی عمر سے گزر جانے کے بعد یکایک حضور ﷺ کی خواہشات نفسانی بڑھتی چلی گئیں اور آپ کو زیادہ سے زیادہ بیویوں کی ضرورت پیش آنے لگی۔ دراصل " تنگی نہ رہنے " کا مطلب سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی ایک طرف تو اس کار عظیم کو نگاہ میں رکھے جس کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے اوپر ڈالی تھی اور دوسری طرف ان حالات کو سمجھے جن میں یہ کار عظیم انجام دینے کے لیے آپ کو مامور کیا گیا تھا۔ تعصب سے ذہن کو پاک کر کے جو شخص بھی ان دونوں حقیقتوں کو سمجھ لے گا وہ بخوبی جان لے گا کہ بیویوں کے معاملے میں آپ ﷺ کو کھلی اجازت دینا کیوں ضروری تھا، اور چار کی قید میں آپ کے لیے کیا " تنگی " تھی۔ حضور ﷺ کے سپرد جو کام کیا گیا تھا وہ یہ تھا کہ آپ ایک ان گھڑ قوم کو جو اسلامی نقطۂ نظر ہی سے نہیں بلکہ عام تہذیب و تمدن کے نقطۂ نظر سے بھی ناتراشیدہ تھی، ہر شعبۂ زندگی میں تعلیم و تربیت دے کر ایک اعلیٰ درجہ کی مہذب و شائستہ اور پاکیزہ قوم بنائیں۔ اس غرض کے لیے صرف مردوں کو تربیت دینا کافی نہ تھا، بلکہ عورتوں کی تربیت بھی اتنی ہی ضروری تھی۔ مگر جو اصول تمدن و تہذیب سکھانے کے لیے آپ ﷺ مامور کیے گئے تھے ان کی رو سے مردوں اور عورتوں کا آزادانہ اختلاط ممنوع تھا اور اس قاعدے کو توڑے بغیر آپ ﷺ کے لیے عورتوں کو براہ راست خود تربیت دینا ممکن نہ تھا۔ اس بنا پر عورتوں میں کام کرنے کی صرف یہی ایک صورت آپ ﷺ کے لیے ممکن تھی کہ مختلف عمروں اور ذہنی صلاحیتوں کی متعدد خواتین سے آپ نکاح کریں، ان کو براہ راست خود تعلیم و تربیت دیکر اپنی مدد کے لیے تیار کریں، اور پھر ان سے شہری اور بدوی اور جوان اور بوڑھی، ہر قسم کی عورتوں کو دین سکھانے اور اخلاق و تہذیب کے نئے اصول سمجھانے کا کام لیں۔ اس کے علاوہ نبی ﷺ کے سپرد یہ خدمت بھی کی گئی تھی کہ پرانے جاہلی نظام زندگی کو ختم کر کے اس کی جگہ اسلامی نظام زندگی عملاً قائم کردیں۔ اس خدمت کی انجام دہی میں جاہلی نظام کے علمبرداروں سے جنگ ناگزیر تھی۔ اور یہ کشمکش ایک ایسے ملک میں پیش آ رہی تھی یہاں قبائلی طرز زندگی اپنی مخصوص روایات کے ساتھ رائج تھا۔ ان حالات میں دوسری تدابیر کے ساتھ آپ کے لیے یہ بھی ضروری تھا کہ آپ ﷺ مختلف خاندانوں میں نکاح کر کے بہت سی دوستیوں کو پختہ اور بہت سی عداوتوں کو ختم کردیں۔ چناچہ جن خواتین سے آپ ﷺ نے شادیاں کیں ان کے ذاتی اوصاف کے علاوہ ان کے انتخاب میں یہ مصلحت بھی کم و بیش شامل تھی۔ حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہ کے ساتھ نکاح کر کے آپ ﷺ نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ کے ساتھ اپنے تعلقات کو اور زیادہ گہرا اور مستحکم کرلیا۔ حضرت ام سلمہ اس خاندان کی بیٹی تھیں جس سے ابوجہل اور خالد بن ولید ؓ کا تعلق تھا۔ اور حضرت ام حبیبہ ابو سفیان کی بیٹی تھیں۔ ان شادیوں نے بہت بڑی حد تک ان خاندان کی دشمنی کا زور توڑ دیا، بلکہ ام حبیبہ کے ساتھ حضور ﷺ کا نکاح ہونے کے بعد تو ابو سفیان پھر کبھی حضور ﷺ کے مقابلے پر نہ آیا۔ حضرت صفیہ، جُویریہ، اور ریحانہ ؓ یہودی خاندانوں سے تھیں۔ انہیں آزاد کر کے جب حضور ﷺ نے ان سے نکاح کیے تو آپ کے خلاف یہودیوں کی سرگرمیاں ٹھنڈی پڑگئیں۔ کیونکہ اس زمانے کی عربی روایات کے مطابق جس شخص سے کسی قبیلے کی بیٹی بیاہی جاتی وہ صرف لڑکی کے خاندان ہی کا نہیں بلکہ پورے قبیلے کا داماد سمجھا جاتا تھا اور داماد سے لڑنا بڑے عار کی بات تھی۔ معاشرے کی عملی اصلاح اور اس کی جاہلانہ رسوم کو توڑنا آپ ﷺ کے فرائض منصبی میں شامل تھا۔ چناچہ ایک نکاح آپ کو اس مقصد کے لیے بھی کرنا پڑا، جیسا کہ اسی سورة احزاب میں مفصل بیان ہوچکا ہے۔ یہ مصلحتیں اس بات کی مقتضی تھیں کہ نبی ﷺ کے لیے نکاح کے معاملے میں کوئی تنگی باقی نہ رکھی جائے۔ تاکہ جو کار عظیم آپ ﷺ کے سپرد کیا گیا تھا اس کی ضروریات کے لحاظ سے آپ جتنے نکاح کرنا چاہیں کرلیں۔ اس بیان سے ان لوگوں کے خیال کی غلطی بھی واضح ہوجاتی ہے جو سمجھتے ہیں کہ تعدد ازواج صرف چند شخصی ضرورتوں کی خاطر ہی جائز ہے اور ان کے ماسوا کوئی غرض ایسی نہیں ہو سکتی جس کے لیے یہ جائز ہو۔ ظاہر بات ہے کہ نبی ﷺ نے جو ایک سے زائد نکاح کیے ان کی وجہ یہ نہ تھی کہ بیوی بیمار تھی، یا بانجھ تھی، یا اولاد نرینہ نہ تھی، یا کچھ یتیموں کی پرورش کا مسئلہ درپیش تھا۔ ان محدود شخصی ضروریات کے بغیر آپ ﷺ نے تمام نکاح یا تو تبلیغی و تعلیمی ضروریات کے لیے کیے، یا سیاسی و اجتماعی مقاصد کے لیے۔ سوال یہ ہے کہ جب اللہ نے خود تعدد ازواج کو ان چند گنی چنی مخصوص اغراض تک، جن کا آج نام لیا جا رہا ہے، محدود نہیں رکھا اور اللہ کے رسول نے ان کے سوا بہت سے دوسرے مقاصد کے لیے متعدد نکاح کیے تو کوئی دوسرا شخص کیا حق رکھتا ہے کہ قانون میں اپنی طرف سے چند قیود تجویز کرے اور اوپر سے دعویٰ یہ کرے کہ یہ حد بندیاں وہ شریعت کے مطابق کر رہا ہے۔ دراصل ان ساری حد بندیوں کی جڑ یہ مغربی تخیل ہے کہ تعدد ازواج بجائے خود ایک برائی ہے۔ اسی تخیل کی بنا پر یہ نظریہ پیدا ہوا ہے کہ یہ فعل حرام اگر کبھی حلال ہو بھی سکتا ہے تو صرف شدید ناگزیر ضروریات کے لیے ہوسکتا ہے اب اس درآمد شدہ تخیل پر اسلام کا جعلی ٹھپہ لگانے کی چاہے کتنی ہی کوشش کی جائے، قرآن و سنت اور پوری امت مسلمہ کا لٹریچر اس سے قطعاً ناآشنا ہے۔
Ayah 33:51

تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَ تُئْوِیْۤ اِلَیْكَ مَنْ تَشَآءُ١ؕ وَ مَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكَ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُهُنَّ وَ لَا یَحْزَنَّ وَ یَرْضَیْنَ بِمَاۤ اٰتَیْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا Open ayah 33:51 in the Quran reader

تم کو اختیار دیا جاتا ہے کہ اپنی بیویوں میں سے جس کو چاہو اپنے سے الگ رکھو، جسے چاہو اپنے ساتھ رکھو اور جسے چاہو الگ رکھنے کے بعد اپنے پاس بلا لو۔ اس معاملے میں تم پر کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اس طرح زیادہ متوقع ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی اور وہ رنجیدہ نہ ہوں گی، اور جو کچھ بھی تم ان کو دو گے اس پر وہ سب راضی رہیں گی 91 اللہ جانتا ہے جو کچھ تم لوگوں کے دلوں میں ہے ، اور اللہ علیم و حلیم ہے 92

سورة الْاَحْزَاب 91 اس آیت سے مقصود نبی ﷺ کو خانگی زندگی کی الجھنوں سے نجات دلانا تھا تاکہ آپ ﷺ پورے سکون کے ساتھ اپنا کام کرسکیں۔ جب اللہ تعلی نے صاف الفاظ میں حضور ﷺ کو پورے اختیارات دے دیے کہ ازواج مطہرات میں سے جس کے ساتھ جو برتاؤ چاہیں کریں تو اس بات کا کوئی امکان نہ رہا کہ یہ مومن خواتین آپ ﷺ کو کسی طرح پریشان کرتیں یا آپس میں مسابقت اور رقابت کے جھگڑے پیدا کر کے آپ کے لیے الجھنیں پیدا کرتیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ سے یہ اختیار پالینے کے بعد حضور ﷺ نے تمام ازواج کے درمیان پورا پورا عدل فرمایا، کسی کو کسی پر ترجیح نہ دی، اور باقاعدہ باری مقرر کر کے آپ ﷺ سب کے ہاں تشریف لے جاتے رہے۔ محدثین میں سے صرف ابو رزین یہ بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ صرف چار بیویوں (حضرت عائشہ، حضرت حفصہ، حضرت زنیب اور حضرت ام سلمہ ؓ کو باریوں کی تقسیم میں شامل کیا تھا اور باقی ازواج کے لیے کوئی باری مقرر نہ تھی۔ لیکن دوسرے تمام محدثین و مفسرین اس کی تردید کرتے ہیں اور نہایت قوی روایت سے اس امر کا ثبوت پیش کرتے ہیں کہ اس اختیار کے بعد بھی حضور ﷺ کے ہاں باری باری سے جاتے تھے اور سب سے یکساں برتاؤ کرتے تھے۔ بخاری، مسلم، نسائی اور ابو داؤد وغیرہم حضرت عائشہ ؓ کا قول نقل کرتے ہیں کہ اس آیت کے نزول کے بعد بھی حضور ﷺ کا طریقہ یہی رہا کہ آپ ﷺ ہم میں سے کسی بیوی کی باری کے دن دوسری بیوی کے ہاں جاتے تو اس سے اجازت لے کر جاتے تھے۔ " ابوبکر جصاص عروہ بن زبیر کی روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ ؓ نے ان سے فرمایا رسول ﷺ باریوں کی تقسیم میں ہم میں سے کسی کو ترجیح نہ دیتے تھے۔ اگرچہ کم ہی ایسا ہوتا تھا کہ آپ ﷺ کسی روز اپنی سب بیویوں کے ہاں نہ جاتے ہوں، مگر جس بیوی کی باری کا دن ہوتا تھا اس کے سوا کسی دوسری بیوی کو چھوتے تک نہ تھے اور یہ روایت بھی حضرت عائشہ ؓ ہی کی ہے کہ جب حضور ﷺ اپنی آخری بیماری میں مبتلا ہوئے اور نقل و حرکت آپ ﷺ لیے مشکل ہوگئی تو آپ ﷺ نے سب بیویوں سے اجازت طلب کی کہ مجھے عائشہ ؓ کے ہاں رہنے دو ، اور جب سب نے اجازت دے دی تب آپ ﷺ نے آخری زمانہ حضرت عائشہ ؓ کے ہاں گزارا۔ ابن ابی حاتم امام زہری کا قول نقل کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کا کسی بیوی کو باری سے محروم کرنا ثابت نہیں ہے اس سے صرف حضرت سودہ ؓ مستثنیٰ ہیں جنہوں نے خود اپنی باری بخوشی حضرت عائشہ ؓ کو بخش دی تھی، کیونکہ وہ بہت سن رسیدہ ہوچکی تھیں۔ اس مقام پر کسی کے دل میں یہ شبہ نہ رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے معاذاللہ اس آیت میں اپنے نبی کے ساتھ کوئی بےجا رعایت کی تھی اور ازواج مطہرات کے ساتھ حق تلفی کا معاملہ فرمایا تھا۔ دراصل جن عظیم مصالح کی خاطر نبی ﷺ کو بیویوں کی تعداد کے معاملہ میں عام قاعدے سے مستثنیٰ کیا گیا تھا، انہی مصالح کا تقاضہ یہ بھی تھا کہ آپ ﷺ کو خانگی زندگی کا سکون بہم پہنچایا جائے اور ان اسباب کا سد باب کیا جائے جو آپ ﷺ کے لیے پریشان خاطری کے موجب ہو سکتے ہوں ازواج مطہرات کے لیے یہ ایک بہت بڑا شرف تھا کہ انہیں نبی ﷺ جیسی بزرگ ترین ہستی کی زوجیت حاصل ہوئی اور اس کی بدولت ان کو یہ موقع نصیب ہوا کہ دعوت و اصلاح کے اس عظیم الشان کام میں آپ ﷺ کی رفیق کار بنیں جو رہتی دنیا تک انسانیت کی فلاح کا ذریعہ بننے والا تھا۔ اس مقصد کے لیے جس طرح نبی ﷺ غیر معمولی ایثار و قربانی سے کام لے رہے تھے اور تمام صحابۂ کرام اپنی حد استطاعت تک قربانیاں کر رہے تھے اسی طرح ازواج مطہرات کا بھی یہ فرض تھا کہ ایثار سے کام لیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کو تمام ازواج رسول ﷺ نے بخوشی قبول کیا۔ سورة الْاَحْزَاب 92 یہ تنبیہ ہے ازواج مطہرات کے لیے بھی اور دوسرے تمام لوگوں کے لیے بھی۔ ازواج مطہرات کے لیے تنبیہ اس بات کی ہے کہ اللہ کا یہ حکم آجانے کے بعد اگر وہ دل میں بھی کبیدہ خاطر ہوں گی تو گرفت سے نہ بچ سکیں گی۔ اور دوسرے لوگوں کے لیے اس میں یہ تنبیہ ہے کہ نبی ﷺ کی ازدواجی زندگی کے متعلق کسی طرح کی بدگمانی بھی اگر انہوں نے اپنے دل میں رکھی یا فکر و خیال کے کسی گوشے میں بھی کوئی وسوسہ پالتے رہے تو اللہ سے ان کی یہ چوری چھپی نہ رہ جائے گی۔ اس کے ساتھ اللہ کی صفت حلم کا بھی ذکر کردیا گیا ہے تاکہ آدمی کو یہ معلوم ہوجائے کہ نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کا تخیل بھی اگرچہ سخت سزا کا مستوجب ہے، لیکن جس کے دل میں کبھی ایسا کوئی وسوسہ آیا ہو وہ اگر اسے نکال دے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں معافی کی امید ہے۔
Ayah 33:52

لَا یَحِلُّ لَكَ النِّسَآءُ مِنْۢ بَعْدُ وَ لَاۤ اَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ اِلَّا مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ رَّقِیْبًا۠ Open ayah 33:52 in the Quran reader

اس کے بعد تمہارے لیے دوسری عورتیں حلال نہیں ہیں ، اور نہ اس کی اجازت ہے کہ ان کی جگہ اور بیویوں لے آؤ خواہ ان کا حسن تمہیں کتنا ہی پسند ہو 93 ، البتہ لونڈیوں کی تمہیں اجازت ہے 94 اللہ ہر چیز پر نگران ہے

سورة الْاَحْزَاب 93 اس ارشاد کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ جو عورتیں اوپر آیت نمبر 50 میں حضور ﷺ کے لیے حلال کی گئی ہیں ان کے سوا دوسری کوئی عورت اب آپ ﷺ کے لیے حلال نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ جب آپ کی ازواج مطہرات اس بات کے لیے راضی ہوگئی ہیں کہ تنگی و ترشی میں آپ ﷺ کا ساتھ دیں اور آخرت کے لیے دنیا کو انہوں نے تج دیا ہے، اور اس پر بھی خوش ہیں کہ آپ ﷺ جو برتاؤ بھی ان کے ساتھ چاہیں کریں، تو اب آپ ﷺ کے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ ان میں سے کسی کو طلاق دے کر اس کی جگہ کوئی اور بیوی لے آئیں۔ سورة الْاَحْزَاب 94 یہ آیت اس امر کی صراحت کر رہی ہے کہ منکوحہ بیویوں کے علاوہ مملوکہ عورتوں سے بھی تمتع کی اجازت ہے اور ان کے لیے تعداد کی کوئی قید نہیں ہے۔ اسی مضمون کی تصریح سوُرۂ نساء آیت 3، سُورۂ مومنون آیت 6، اور سورة معارج آیت 30 میں بھی کی گئی ہے۔ ان تمام آیات میں مملوکہ عورتوں کو منکوحہ ازواج کے بالمقابل ایک الگ صنف کی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے اور پھر ان کے ساتھ ازدواجی تعلق کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ نیز سورة نساء کی آیت 3 منکوحہ بیویوں کے لیے چار کی حد مقرر کرتی ہے، مگر نہ اس جگہ اللہ تعالیٰ نے مملوکہ عورتوں کے لیے تعداد کی حد مقرر کی ہے اور نہ دوسری متعلقہ آیات میں ایسی کسی حد کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ بلکہ یہاں نبی ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ کے بعد دوسری عورتوں سے نکاح کرنا، یا موجودہ بیویوں میں سے کسی کو طلاق دے کر دوسری بیوی لانا حلال نہیں ہے، البتہ مملوکہ عورتیں حلال ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ مملوکہ عورتوں کے معاملے میں کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ خدا کی شریعت یہ گنجائش مالدار لوگوں کو بےحساب لونڈیاں خرید کر عیاشی کرنے کے لیے دیتی ہے۔ بلکہ یہ تو ایک بےجا فائدہ ہے جو نفس پرست لوگوں نے قانون سے اٹھایا ہے۔ قانون بجائے خود انسانوں کی سہولت کے لیے بنایا گیا تھا، اس لیے نہیں بنایا گیا تھا کہ لوگ اس سے یہ فائدہ اٹھائیں۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے شریعت ایک مرد کو چار تک بیویاں کرنے کی اجازت دیتی ہے، اور اسے یہ حق بھی دیتی ہے کہ اپنی بیوی کو طلاق دے کر دوسری بیوی لے آئے۔ یہ قانون انسانی ضروریات کو ملحوظ رکھ کر بنایا گیا تھا۔ اب اگر کوئی شخص محض عیاشی کی خاطر یہ طریقہ اختیار کرے کہ چار بیویوں کو کچھ مدت رکھ کر طلاق دیتا اور پھر ان کی جگہ بیویوں کی دوسری کھیپ لاتا چلا جائے، تو یہ قانون کی گنجائشوں سے فائدہ اٹھانا ہے جس کی ذمہ داری خود اسی شخص پر عائد ہوگی نہ کہ خدا کی شریعت پر۔ اسی طرح شریعت نے جنگ میں گرفتار ہونے والی عورتوں کو، جبکہ ان کی قوم مسلمان قیدیوں سے تبادلہ کرنے یا فدیہ دے کر ان کو چھڑانے کے لیے تیار نہ ہو، لونڈی بنانے کی اجازت دی، اور جن اشخاص کی ملکیت میں وہ حکومت کی طرف سے دیدی جائیں ان کو یہ حق دیا کہ ان عورتوں سے تمتع کریں ان کا وجود معاشرے کے لیے اخلاقی فساد کا سبب نہ بن جائے۔ پھر چونکہ لڑائیوں میں گرفتار ہونے والے لوگوں کی کوئی تعداد معین نہیں ہو سکتی تھی اس لیے قانوناً اس امر کی بھی کوئی حد معین نہیں کی جاسکتی تھی کہ ایک شخص بیک وقت کتنے غلام اور کتنی لونڈیاں رکھ سکتا ہے۔ لونڈیوں اور غلاموں کی خریدو فروخت کو بھی اس بنا پر جائز رکھا گیا کہ اگر کسی لونڈی یا غلام کا نباہ ایک مالک سے نہ ہو سکے تو وہ کسی دوسرے شخص کی ملکیت میں منتقل ہو سکے اور ایک ہی شخص کی دائمی ملکیت مالک و مملوک دونوں کے لیے عذاب نہ بن جائے۔ شریعت نے یہ سارے قواعد انسانی حالات و ضروریات کو ملحوظ رکھ کر سہولت کی خاطر بنائے تھے۔ اگر ان کو مالدار لوگوں نے عیاشی کا ذریعہ بنا لیا تو اس کا الزام انہی پر ہے نہ کہ شریعت پر۔
Ayah 33:53

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُ١ۙ وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ١٘ وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ١ؕ وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ١ؕ ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَ قُلُوْبِهِنَّ١ؕ وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا Open ayah 33:53 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، نبیؐ کے گھروں میں بلا اجازت نہ چلے آیا کرو 95 نہ کھانے کا وقت تاکتے رہو۔ ہاں اگر تمہیں کھانے پر بلایا جائے تو ضرور آؤ 96 مگر جب کھانا کھالو تو منتشر ہو جاؤ۔ باتیں کرنے میں نہ لگے رہو 97 تمہاری یہ حرکتیں نبی کو تکلیف دیتی ہیں ، مگر وہ شرم کی وجہ سے کچھ نہیں کہتے۔اور اللہ حق بات کہنے میں نہیں شرماتا۔ نبیؐ کی بیویوں سے اگر تمہیں کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگو کرو، یہ تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے زیادہ مناسب طریقہ ہے 98 تمہارے لیے یہ ہرگز جائز نہیں کہ اللہ کے رسولؐ کو تکلیف دو 99 ، اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد ان کی بیویوں سے نکاح کرو 100 ، یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے

سورة الْاَحْزَاب 95 یہ اس حکم عام کی تمہید ہے جو تقریباً ایک سال کے بعد سورة نور کی آیت 27 میں دیا گیا۔ قدیم زمانے میں اہل عرب بےتکلف ایک دوسرے کے گھروں میں چلے جاتے تھے۔ کسی شخص کو کسی دوسرے شخص سے ملنا ہوتا تو وہ دروازے پر کھڑے ہو کر پکارنے اور اجازت لے کر اندر جانے کا پابند نہ تھا۔ بلکہ اندر جا کر عورتوں اور بچوں سے پوچھ لیتا تھا کہ صاحب خانہ گھر میں ہے یا نہیں۔ یہ جاہلانہ طریقہ بہت سی خرابیوں کا موجب تھا۔ اور بسا اوقات اس سے بہت گھناؤنے اخلاقی مفاسد کا بھی آغاز ہوجاتا تھا۔ اس لیے پہلے نبی ﷺ کے گھروں میں یہ قاعدہ مقرر کیا گیا کہ کوئی شخص، خواہ وہ قریبی دوست یا دور پرے کا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو، آپ ﷺ کے گھروں میں اجازت کے بغیر داخل نہ ہو۔ پھر سورة نور میں اس قاعدے کو تمام مسلمانوں کے گھروں میں رائج کرنے کا عام حکم دیدیا گیا۔ سورة الْاَحْزَاب 96 یہ اس سلسلے کا دوسرا حکم ہے۔ جو غیر مہذب عادات اہل عرب میں پھیلی ہوئی تھیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ کسی دوست یا ملاقاتی کے گھر کھانے کا وقت تاک کر پہنچ جاتے۔ یا اس کے گھر آ کر بیٹھے رہتے یہاں تک کہ کھانے کا وقت ہوجائے۔ اس حرکت کی وجہ سے صاحب خانہ اکثر عجیب مشکل میں پڑجاتا تھا۔ منہ پھوڑ کر کہے کہ میرے کھانے کا وقت ہے، آپ تشریف لے جایئے، تو بےمروتی ہے۔ کھلائے تو آخر اچانک آئے ہوئے کتنے آدمیوں کو کھلائے۔ ہر وقت ہر آدمی کے بس میں یہ نہیں ہوتا کہ جب جتنے آدمی بھی اس کے ہاں آجائیں، ان کے کھانے کا انتظام فوراً کرلے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بیہودہ عادت سے منع فرمایا اور حکم دے دیا کہ کسی شخص کے گھر کھانے کے لیے اس وقت جانا چاہیے جبکہ گھر والا کھانے کی دعوت دے۔ یہ حکم صرف نبی ﷺ کے گھر کے لیے خاص نہ تھا بلکہ اس نمونے کے گھر میں یہ قواعد اسی لیے جاری کیے گئے تھے کہ وہ مسلمانوں کے ہاں عام تہذیب کے ضابطے بن جائیں۔ سورة الْاَحْزَاب 97 یہ ایک اور بیہودہ عادت کی اصلاح ہے۔ بعض لوگ کھانے کی دعوت میں بلائے جاتے ہیں تو کھانے سے فارغ ہوجانے کے بعد دھرنا مار کر بیٹھ جاتے ہیں اور آپس میں گفتگو کا ایسا سلسلہ چھیڑ دیتے ہیں جو کسی طرح ختم ہونے میں نہیں آتا۔ انہیں اس بات کی پروا نہیں ہوتی کہ صاحب خانہ اور گھر کے لوگوں کو اس سے کیا زحمت ہوتی ہے۔ ناشائستہ لوگ اپنی اس عادت سے نبی ﷺ کو بھی تنگ کرتے رہتے تھے اور آپ ﷺ اپنے اخلاق کریمانہ کی وجہ سے اس کو برداشت کرتے تھے۔ آخر کار حضرت زینب ؓ کے ولیمے کے روز یہ حرکت اذیت رسانی کی حد سے گزر گئی۔ حضور ﷺ کے خادم خاص حضرت انس بن مالک ؓ کی روایت ہے کہ رات کے وقت ولیمے کی دعوت تھی۔ عام لوگ تو کھانے سے فارغ ہو کر رخصت ہوگئے، مگر دو تین حضرات بیٹھ کر باتیں کرنے میں لگ گئے۔ تنگ آ کر حضور ﷺ اٹھے اور ازواج مطہرات کے ہاں ایک چکر لگایا۔ واپس تشریف لائے تو دیکھا کہ وہ حضرات بیٹھے ہوئے ہیں۔ آپ ﷺ پھر پلٹ گئے اور حضرت عائشہ ؓ کے حجرے میں جا بیٹھے۔ اچھی خاصی رات گزر جانے پر جب آپ کو معلوم ہوا کہ وہ چلے گئے ہیں تب آپ ﷺ حضرت زینب ؓ کے مکان میں تشریف لائے۔ اس کے بعد ناگزیر ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ خود ان بری عادات پر لوگوں کو متنبہ فرمائے۔ حضرت انس ؓ کی روایت کے مطابق یہ آیات اسی موقع پر نازل ہوئی تھیں۔ (مسلم۔ نَسائی۔ ابن جریر) سورة الْاَحْزَاب 98 یہی آیت ہے جس کو آیت حجاب کہا جاتا ہے۔ بخاری میں حضرت انس بن مالک ؓ کی روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ اس آیت کے نزول سے پہلے متعدد مرتبہ حضور ﷺ سے عرض کرچکے تھے کہ یا رسول اللہ، آپ ﷺ کے ہاں بھلے اور برے سب ہی قسم کے لوگ آتے ہیں۔ کاش آپ اپنی ازواج مطہرات کو پردہ کرنے کا حکم دے دیتے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ نے ازواج رسول ﷺ سے کہا کہ " اگر آپ کے حق میں میری بات مانی جائے تو کبھی میری نگاہیں آپ کو نہ دیکھیں۔ " لیکن رسول اللہ ﷺ چونکہ قانون سازی میں خود مختار نہ تھے، اس لیے آپ اشارۂ الٰہی کے منتظر رہے۔ آخر یہ حکم آگیا کہ محرم مردوں کے سوا (جیسا کہ آگے آیت 55 میں آ رہا ہے) کوئی مرد حضور ﷺ کے گھر میں نہ آئے، اور جس کو بھی خواتین سے کوئی کام ہو وہ پردے کے پیچھے سے بات کرے۔ اس حکم کے بعد ازواج مطہرات کے گھروں میں دروازوں پر پردے لٹکا دیے گئے، اور چونکہ حضور ﷺ کا گھر تمام مسلمانوں کے لیے نمونے کا گھر تھا، اس لیے تمام مسلمانوں کے گھروں پر بھی پردے لٹک گئے۔ آیت کا آخری فقرہ خود اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ جو لوگ بھی مردوں اور عورتوں کے دل پاک رکھنا چاہیں انہیں یہ طریقہ اختیار کرنا چاہئے۔ اب جس شخص کو بھی خدا نے بینائی عطا کی ہے وہ خود دیکھ سکتا ہے کہ جو کتاب مردوں کو عورتوں سے رو در رو بات کرنے سے روکتی ہے، اور پردے کے پیچھے سے بات کرنے کی مصلحت یہ بتاتی ہے کہ " تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے یہ طریقہ زیادہ مناسب ہے " اس میں سے آخر یہ نرالی روح کیسے کشید کی جاسکتی ہے کہ مخلوط مجالس اور مخلوط تعلیم اور جمہوری ادارات اور دفاتر میں مردوں اور عورتوں کا بےتکلف میل جول بالکل جائز ہے اور اس سے دلوں کی پاکیزگی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کسی کو قرآن کی پیروی نہ کرنی ہو تو اس کے لیے زیادہ معقول طریقہ یہ ہے کہ وہ خلاف ورزی کرے اور صاف صاف کہے کہ میں اس کی پیروی نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن یہ تو بڑی ہی ذلیل حرکت ہے کہ وہ قرآن کے صریح احکام کی خلاف ورزی بھی کرے اور پھر ڈھٹائی کے ساتھ یہ بھی کہے کہ یہ اسلام کی " روح " ہے جو میں نے نکال لی ہے۔ آخر وہ اسلام کی کونسی روح ہے جو قرآن و سنت کے باہر کسی جگہ ان لوگوں کو مل جاتی ہے ؟ سورة الْاَحْزَاب 99 یہ اشارہ ہے ان الزام تراشیوں کی طرف جو اس زمانے میں نبی ﷺ کے خلاف کی جا رہی تھیں اور کفار و منافقین کے ساتھ بعض ضعیف الایمان مسلمان بھی ان میں حصہ لینے لگے تھے۔ سورة الْاَحْزَاب 100 یہ تشریح ہے اس ارشاد کی جو آغاز سورة میں گزر چکا ہے کہ نبی ﷺ کی بیویاں اہل ایمان کی مائیں ہیں۔
Ayah 33:54

اِنْ تُبْدُوْا شَیْئًا اَوْ تُخْفُوْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 33:54 in the Quran reader

تم خواہ کوئی بات ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ کو ہر بات کا علم ہے۔ 101

سورة الْاَحْزَاب 101 یعنی اگر حضور ﷺ کے خلاف دل میں بھی کوئی برا خیال کوئی شخص رکھے گا، یا آپ ﷺ کی ازواج کے متعلق کسی کی نیت میں بھی کوئی برائی چھپی ہوگی تو اللہ تعالیٰ سے وہ چھپی نہ رہے گی اور وہ اس پر سزا پائے گا۔