Ayah 33:31سورة الْاَحْزَاب 45
گناہ پر دوہرے عذاب اور نیکی پر دوہرے اجر کی وجہ یہ ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ انسانی معاشرے میں کسی بلند مرتبے پر سرفراز فرماتا ہے وہ بالعموم لوگوں کے رہنما بن جاتے ہیں اور بندگان خدا کی بڑی تعداد بھلائی اور برائی میں انہی کی پیروی کرتی ہے۔ ان کی برائی تنہا انہی کی برائی نہیں ہوتی بلکہ ایک قوم کے بگاڑ کی موجب بھی ہوتی ہے اور ان کی بھلائی صرف انہی کی انفرادی بھلائی نہیں ہوتی بلکہ بہت سے انسانوں کی فلاح کا سبب بھی بنتی ہے۔ اس لیے جب وہ برے کام کرتے ہیں تو اپنے بگاڑ کے ساتھ دوسروں کے بگاڑ کی بھی سزا پاتے ہیں۔ اور جب وہ نیک کام کرتے ہیں تو انہیں اپنی نیکی کے ساتھ اس بات کی جزا بھی ملتی ہے کہ انہوں نے دوسروں کو بھلائی کی راہ دکھائی۔
اس آیت سے یہ اصول بھی نکلتا ہے کہ جہاں جتنی زیادہ حرمت ہوگی اور جس قدر زیادہ امانت کی توقع ہوگی، وہاں اسی قدر زیادہ ہتک حرمت اور ارتکاب خیانت کا جرم شدید ہوگا اور اسی قدر زیادہ اس کا عذاب ہوگا۔ مثلاً مسجد میں شراب پینا اپنے گھر میں شراب پینے سے شدید تر جرم ہے اور اس کی سزا زیادہ سخت ہے۔ محرمات سے زنا کرنا غیر عورت سے زنا کی بہ نسبت اشد ہے اور اس پر زیادہ سخت عذاب ہوگا۔
Ayah 33:32سورة الْاَحْزَاب 46
یہاں سے آخر پیراگراف تک کی آیات وہ ہیں جن سے اسلام میں پردے کے احکام کا آغاز ہوا ہے۔ ان آیات میں خطاب نبی ﷺ کی بیویوں سے کیا گیا ہے مگر مقصود تمام مسلمان گھروں میں ان اصلاحات کو نافذ کرنا ہے۔ ازواج مطہرات کو مخاطب کرنے کی غرض صرف یہ ہے کہ جب نبی ﷺ کے گھر سے اس پاکیزہ طرز زندگی کی ابتدا ہوگی تو باقی سارے مسلمان گھرانوں کی خواتین خود اس کی تقلید کریں گی، کیونکہ یہی گھر ان کے لیے نمونہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ بعض لوگ صرف اس بنیاد پر کہ ان آیات کا خطاب نبی ﷺ کی ازواج مطہرات سے ہے، یہ دعویٰ کر بیٹھے ہیں کہ یہ احکام انہی کے لیے خاص ہیں۔ لیکن آگے ان آیات میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اسے پڑھ کر دیکھ لیجئے۔ کونسی بات ایسی ہے جو حضور ﷺ کی ازواج کے لیے خاص ہو اور باقی مسلمان عورتوں کے لیے مطلوب نہ ہو ؟ کیا اللہ تعالیٰ کا منشا یہی ہوسکتا تھا کہ صرف ازواج مطہرات ہی گندگی سے پاک ہوں، اور وہی اللہ و رسول ﷺ کی اطاعت کریں، اور وہی نمازیں پڑھیں اور زکوٰۃ دیں ؟ اگر یہ منشا نہیں ہوسکتا تو پھر گھروں میں چین سے بیٹھے اور تبرُّج جاہلیت سے پرہیز کرنے اور غیر مردوں کے ساتھ دبی زبان سے بات نہ کرنے کا حکم ان کے لیے کیسے خاص ہوسکتا ہے اور باقی مسلمان عورتیں اس سے مستثنیٰ کیسے ہو سکتی ہیں ؟ کیا کوئی معقول دلیل ایسی ہے جس کی بنا پر ایک ہی سلسلۂ کلام کے مجموعی احکام میں سے بعض کو عام اور بعض کو خاص قرار دیا جائے ؟
رہا یہ فقرہ کہ " تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو " تو اس سے بھی یہ مطلب نہیں نکلتا کہ عام عورتوں کو تو بن ٹھن کر نکلنا چاہیے اور غیر مردوں سے خوب لگاوٹ کی باتیں کرنی چاہییں ‘ البتہ تم ایسا طرز عمل اختیار نہ کرو۔ بلکہ اس کے برعکس یہ طرز کلام کچھ اس طرح کا ہے جیسے ایک شریف آدمی اپنے بچے سے کہتا ہے کہ " تمہیں گالی نہ بکنی چاہیے۔ " اس سے کوئی عقلمند آدمی بھی کہنے والے کا یہ مدعا اخذ نہ کرے گا کہ وہ صرف اپنے بچے کے لیے گالیاں بکنے کو برا سمجھتا ہے، دوسرے بچوں میں یہ عیب موجود رہے تو اسے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
سورة الْاَحْزَاب 47
یعنی ضرورت پیش آنے پر کسی مرد سے بات کرنے میں مضائقہ نہیں ہے، لیکن ایسے مواقع پر عورت کا لہجہ اور انداز گفتگو ایسا ہونا چاہیے جس سے بات کرنے والے مرد کے دل میں کبھی یہ خیال تک نہ گزر سکے کہ اس عورت سے کوئی اور توقع بھی قائم کی جاسکتی ہے۔ اس کے لہجے میں کوئی لوچ نہ ہو، اس کی باتوں میں کوئی لگاوٹ نہ ہو، اس کی آواز میں دانستہ کوئی شیرینی گھلی ہوئی نہ ہو جو سننے والے مرد کے جذبات میں انگیخت پیدا کر دے اور اسے آگے قدم بڑھانے کی ہمت دلائے۔ اس طرز گفتگو کے متعلق اللہ تعالیٰ صاف فرماتا ہے کہ یہ کسی ایسی عورت کو زیب نہیں دیتا جس کے دل میں خدا کا خوف اور بدی سے پرہیز کا جذبہ ہو۔ دوسرے الفاظ میں یہ فاسقات و فاجرات کا طرز کلام ہے نہ کہ مومنات متقیات کا۔ اس کے ساتھ اگر سورة نور کی وہ آیت بھی دیکھی جائے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ولَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِھِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِھِنَّ (اور زمین پر اس طرح پاؤں مارتی ہوئی نہ چلیں کہ جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہے اس کا علم لوگوں کو ہو) تو رب العٰلمین کا صاف منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ عورتیں خواہ مخواہ اپنی آواز یا اپنے زیوروں کی جھنکار غیر مردوں کو نہ سنائیں اور اگر بضرورت اجنبیوں سے بولنا پڑجائے تو پوری احتیاط کے ساتھ بات کریں۔ اسی بنا پر عورت کے لیے اذان دینا ممنوع ہے۔ نیز اگر نماز با جماعت میں کوئی عورت موجود ہو اور امام کوئی غلطی کرے تو مرد کی طرح سبحان اللہ کہنے کی اسے اجازت نہیں ہے بلکہ اس کو صرف ہاتھ پر ہاتھ مار کر آواز پیدا کرنی چاہیے تاکہ امام متنبہ ہوجائے۔
اب یہ ذرا سوچنے کی بات ہے کہ جو دین عورت کو غیر مرد سے بات کرتے ہوئے بھی لوچ دار انداز گفتگو اختیار کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور اسے مردوں کے سامنے بلا ضرورت آواز نکالنے سے بھی روکتا ہے، کیا وہ کبھی اس کو پسند کرسکتا ہے کہ عورت اسٹیج پر آ کر گائے ناچے، تھرکے، بھاؤ بتائے اور ناز و نخرے دکھائے ؟ کیا وہ اس کی اجازت دے سکتا ہے کہ ریڈیو پر عورت عاشقانہ گیت گائے اور سریلے نغموں کے ساتھ فحش مضامین سنا سنا کر لوگوں کے جذبات میں آگ لگائے ؟ کیا وہ اسے جائز رکھ سکتا ہے کہ عورتیں ڈراموں میں کبھی کسی کی بیوی اور کبھی کسی کی معشوقہ کا پارٹ ادا کریں ؟ یا ہوائی میزبان (Air-hostess) بنائی جائیں اور انہیں خاص طور پر مسافروں کا دل لبھانے کی تربیت دے جائے ؟ یا کلبوں اور اجتماعی تقریبات اور مخلوط مجالس میں بن ٹھن کر آئیں اور مردوں سے خوب گھل مل کر بات چیت اور ہنسی مذاق کریں ؟ یہ کلچر آخر کس قرآن سے برآمد کی گئی ہے ؟ خدا کا نازل کردہ قرآن تو سب کے سامنے ہے۔ اس میں کہیں اس کلچر کی گنجائش نظر آتی ہو تو اس مقام کی نشان دہی کردی جائے۔
Ayah 33:33سورة الْاَحْزَاب 48
اصل میں لفظ قَرْنَ استعمال ہوا ہے۔ بعض اہل لغت نے اس کو " قرار " سے ماخوذ بتایا ہے اور بعض نے " وقار " سے۔ اگر اس کو قرار سے لیا جائے تو معنی ہوں گے " قرار پکڑو "۔ " ٹک رہو "۔ اور اگر وقار سے لیا جائے تو مطلب ہوگا " سکون سے رہو "، " چین سے بیٹھو "۔ دونوں صورتوں میں آیت کا منشا یہ ہے کہ عورت کا اصل دائرہ عمل اس کا گھر ہے، اس کو اسی دائرے میں رہ کر اطمینان کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے چاہییں، اور گھر سے باہر صرف بضرورت ہی نکلنا چاہیے۔ یہ منشا خود آیت کے الفاظ سے بھی ظاہر ہے اور نبی ﷺ کی احادیث اس کو اور زیادہ واضح کردیتی ہیں۔ حافظ ابوبکر بَزّار حضرت انس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ عورتوں نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ ساری فضیلت تو مرد لوٹ لے گئے، وہ جہاد کرتے ہیں اور خدا کی راہ میں بڑے بڑے کام کرتے ہیں۔ ہم کیا عمل کریں کہ ہمیں بھی مجاہدین کے برابر اجر مل سکے ؟ جواب میں فرمایا من قعدت منکن فی بیتھا فانھا تدرک عمل المجاھدین جو تم میں سے گھر میں بیٹھے گی وہ مجاہدین کے عمل کو پالے گی "۔ مطلب یہ ہے کہ مجاہد دل جمعی کے ساتھ اسی وقت تو خدا کی راہ میں لڑ سکتا ہے جبکہ اسے اپنے گھر کی طرف سے پورا اطمینان ہو، اس کی بیوی اس کے گھر اور بچوں کو سنبھالے بیٹھی ہو، اور اسے کوئی خطرہ اس امر کا نہ ہو کہ پیچھے وہ کوئی گل کھلا بیٹھے گی۔ یہ اطمینان جو عورت اسے فراہم کرے گی وہ گھر بیٹھے اس کے جہاد میں برابر کی حصہ دار ہوگی۔ ایک اور روایت جو بزّار اور ترمذی نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے نقل کی ہے اس میں وہ نبی ﷺ کا یہ ارشاد بیان کرتے ہیں کہ انّ المرأۃ عورۃ فاذا خرجت استشرفھا الشیطان و اقرب ما تکون بروحۃ ربھا وھی فی قعر بیتھا۔ " عورت مستور رہنے کے قابل چیز ہے۔ جب وہ نکلتی ہے تو شیطان اس کو تاکتا ہے۔ اور اللہ کی رحمت سے قریب تر وہ اس وقت ہوتی ہے جبکہ وہ اپنے گھر میں ہو "۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفسیر سورة نور، حاشیہ 49)
قرآن مجید کے اس صاف اور صریح حکم کی موجودگی میں اس بات کی آخر کیا گنجائش ہے کہ مسلمان عورتیں کونسلوں اور پارلیمنٹوں کی ممبر بنیں، بیرون خانہ کی سوشل سرگرمیوں میں دوڑتی پھریں، سرکاری دفتروں میں مردوں کے ساتھ کام کریں، کالجوں میں لڑکوں کے ساتھ تعلیم پائیں، مردانہ ہسپتالوں میں نرسنگ کی خدمت انجام دیں، ہوائی جہازوں اور ریل کاروں میں " مسافر نوازی " کے لیے استعمال کی جائیں، اور تعلیم و تربیت کے لیے امریکہ و انگلستان بھیجی جائیں عورت کے بیرون خانہ سرگرمیوں کے جواز میں بڑی سے بڑی دلیل جو پیش کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے جنگ جَمَل میں حصہ لیا تھا۔ لیکن یہ استدلال جو لوگ پیش کرتے ہیں انہیں شاید معلوم نہیں ہے کہ خود حضرت عائشہ کا اپنا خیال اس باب میں کیا تھا۔ عبداللہ بن احمد بن حنبل نے زوائد الزھد میں، اور ابن المنذِر، ابن ابی شَیْبَہ اور ابن سعد نے اپنی کتابوں میں مَسْروق کی روایت نقل کی ہے کہ حضرت عائشہ جب تلاوت قرآن کرتے ہوئے اس آیت (وَقَرْنَ فِی بُیُوْتِکُنَّ) پر پہنچتی تھیں تو بےاختیار رو پڑتی تھیں یہاں تک کہ ان کا دوپٹہ بھیگ جاتا تھا، کیونکہ اس پر انہیں اپنی وہ غلطی یاد آجاتی تھی جو ان سے جنگ جَمَل میں ہوئی تھی۔
سورة الْاَحْزَاب 49
اس آیت میں دو اہم الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جن کا سمجھنا آیت کے منشا کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔ ایک تَبُّرج ‘ دوسرے جاہلیت اولیٰ۔
تَبَرُّج کے معنی عربی زبان میں نمایاں ہونے ‘ ابھرنے اور کھل کر سامنے آنے کے ہیں۔ ہر ظاہر اور مرتفع چیز کے لیے عرب لفظ " بَرَج " استعمال کرتے ہیں " بُرج " کو " بُرج اس کے ظہور و ارتفاع کی بنا پر ہی کہا جاتا ہے۔ بادبانی کشتی کے لیے " بارجہ " کا لفظ اسی لیے بولا جاتا ہے کہ اس کے بادبان دور سے نمایاں ہوتے ہیں۔ عورت کے لیے جب لفظ تَبَرُّج استعمال کیا جائے تو اس کے تین مطلب ہونگے۔ ایک یہ کہ وہ اپنے چہرے اور جسم کا حسن لوگوں کو دکھائے، دوسرے یہ کہ وہ اپنے لباس اور زیور کی شان دوسروں کے سامنے نمایاں کرے۔ تیسرے یہ کہ وہ اپنی چال ڈھال اور چٹک مٹک سے اپنے آپ کو نمایاں کرے۔ یہی تشریح اس لفظ کی اکابر اہل لغت اور اکابر مفسرین نے کی ہے۔ مجاہد، قَتَادہ اور ابن انی نُجَیح کہتے ہیں التبُّرج المشی بتبختُر و تکسر و تفنج " تبرُّج کے معنی ہیں ناز و ادا کے ساتھ لچکے کھاتے اور اٹھلاتے ہوئے چلنا " مُقاتل کہتے ہیں ابدأ قلائدھا و قرطھا و عنقھا " عورت کا اپنے ہار اور اپنے بندے اور اپنا گلا نمایاں کرنا "۔ المبّرد کا قول ہے ان تبدی من محاسنھا ما یجب علیھا سترہ " یہ کہ عورت اپنے وہ محاسن ظاہر کر دے جن کو اسے چھپانا چاہیے۔ " ابو عبیدہ کی تفسیر ہے ان تخرج من محاسنھا ما تستدعی بہ شہوۃ الرّجَال۔ " یہ کہ عورت اپنے جسم لباس کے حسب کو نمایاں کرے جس سے مردوں کو اس کی طرف رغبت ہو "۔
جاہلیت کا لفظ قرآن مجید میں اس مقام کے علاوہ تین جگہ اور استعمال ہوا ہے۔ ایک، آل عمران کی آیت 154 میں، جہاں اللہ کی راہ میں لڑنے سے جی چرانے والوں کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ وہ " اللہ کے بارے میں حق کے خلاف جاہلیت کے سے گمان رکھتے ہیں۔ " دوسرے سورة مائدہ، آیت 50 میں، جہاں خدا کے قانون کے بجائے کسی اور قانون کے مطابق اپنے مقدمات کا فیصلہ کرانے والوں کے متعلق فرمایا گیا " کیا وہ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں۔ " تیسرے سورة فتح، آیت 26 میں، جہاں کفار مکہ کے اس فعل کو " حمیت جاہلیہ " کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے کہ انہوں نے محض تعصب کی بنا پر مسلمانوں کو عمرہ نہ کرنے دیا۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابو الدرداء نے کسی سے جھگڑا کرتے ہوئے اس کو ماں کی گالی دے دی۔ رسول اللہ ﷺ نے سنا تو فرمایا " تم میں ابھی تک جاہلیت موجود ہے " ایک اور حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا " تین کام جاہلیت کے ہیں۔ دوسروں کے نسب پر طعن کرنا، ستاروں کی گردش سے فال لینا، اور مردوں پر نوحہ کرنا "۔ ان تمام استعمالات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جاہلیت سے مراد اسلام کی اصطلاح میں ہر وہ طرز عمل ہے جو اسلامی تہذیب و ثقافت اور اسلامی اخلاق و آداب اور اسلامی ذہنیت کے خلاف ہو۔ اور جاہلیت اولیٰ کا مطلب وہ برائیاں ہیں جن میں اسلام سے پہلے عرب کے لوگ اور دنیا بھر کے دوسرے لوگ مبتلا تھے۔
اس تشریح سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ جس طرز عمل سے عورتوں کو روکنا چاہتا ہے وہ ان کا اپنے حسن کی نمائش کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکلنا ہے۔ وہ ان کو ہدایت فرماتا ہے کہ اپنے گھروں میں ٹک کر رہو، کیونکہ تمہارا اصل کام گھر میں ہے نہ کہ اس سے باہر۔ لیکن اگر باہر نکلنے کی ضرورت پیش آئے تو اس شان کے ساتھ نہ نکلو جس کے ساتھ سابق دور جاہلیت میں عورتیں نکلا کرتی تھیں۔ بن ٹھن کر نکلنا، چہرے اور جسم کے حسن کو زیب وزینت اور چست لباسوں یا عریاں لباسوں سے نمایاں کرنا، اور ناز و ادا سے چلنا ایک مسلم معاشرے کی عورتوں کا کام نہیں ہے۔ یہ جاہلیت کے طور طریقے ہیں جو اسلام میں نہیں چل سکتے۔ اب یہ بات ہر شخص خود دیکھ سکتا ہے کہ جو ثقافت ہمارے ہاں رائج کی جا رہی ہے وہ قرآن کی رو سے اسلام کی ثقافت ہے یا جاہلیت کی ثقافت۔ البتہ اگر کوئی اور قرآن ہمارے کار فرماؤں کے پاس آگیا ہے جس سے اسلام کی یہ نئی روح نکال کر مسلمانوں میں پھیلائی جا رہی ہے تو بات دوسری ہے۔
سورة الْاَحْزَاب 50
جس سیاق وسباق میں یہ آیت وارد ہوئی ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہاں اہل البیت سے مراد نبی ﷺ کی بیویاں ہیں۔ کیونکہ خطاب کا آغاز ہی یَا نساء النبی کے الفاظ سے کیا گیا ہے اور ما قبل و ما بعد کی پوری تقریر میں وہی مخاطب ہیں۔ علاوہ بریں " اہل البیت " کا لفظ عربی زبان میں ٹھیک انہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے جن میں ہم " گھر والوں " کا لفظ بولتے ہیں، اور اس کے مفہوم میں آدمی کی بیوی اور اس کے بچے، دونوں شامل ہوتے ہیں۔ بیوی کو مستثنٰی کر کے " اہل خانہ " کا لفظ کوئی نہیں بولتا۔ خود قرآن مجید میں بھی اس مقام کے سوا دو مزید مقامات پر یہ لفظ آیا ہے اور دونوں جگہ اس کے مفہوم میں بیوی شامل، بلکہ مقدم ہے۔ سورة ہود میں جب فرشتے حضرت ابراہیم ؑ کو بیٹے کی پیدائش کی بشارت دیتے ہیں تو ان کی اہلیہ اسے سن کر تعجب کا اظہار کرتی ہیں کہ بھلا اس بڑھاپے میں ہمارے ہاں بچہ کیسے ہوگا۔ اس پر فرشتے کہتے ہیں اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہ عَلَیْکُمْ اَھْلَ الْبَیْتِ۔ کیا تم اللہ کے امر پر تعجب کرتی ہو ؟ اس گھر کے لوگو، تم پر تو اللہ کی رحمت ہے اور اس کی برکتیں ہیں۔ " سُورۂ قصص میں جب حضرت موسیٰ ایک شیر خوار بچے کی حیثیت سے فرعون کے گھر میں پہنچتے ہیں اور فرعون کی بیوی کو کسی ایسی انا کی تلاش ہوتی ہے جس کا دودھ بچہ پی لے تو حضرت موسیٰ ؑ کی بہن جا کر کہتی ہیں ھَلْ اَدُلُّکُمْ عَلیٰٓ اَھْلِ بَیْتٍ یَّکْفُلُوْنَہ لَکُمْ۔ " کیا میں تمہیں ایسے گھر والوں کا پتہ دوں جو تمہارے لیے اس بچے کی پرورش کا ذمہ لیں " ؟ پس محاورہ، اور قرآن کے استعمالات، اور خود اس آیت کا سیاق وسباق، ہر چیز اس بات پر قطعی دلالت کرتی ہے کہ نبی ﷺ کے اہل بیت میں آپ کی ازواج مطہرات بھی داخل ہیں اور آپ کی اولاد بھی۔ بلکہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ آیت کا اصل خطاب ازواج سے ہے اور اولاد مفہوم لفظ سے اس میں شامل قرار پاتی ہے۔ اسی بنا پر ابن عباس اور عروہ بن زبیر اور عکْرمہ کہتے ہیں کہ اس آیت میں اہل البیت سے مراد ازواج النبی ﷺ ہیں۔
لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ " اہل البیت " کا لفظ صرف ازواج کے لیے استعمال ہوا ہے اور اس میں دوسرا کوئی داخل نہیں ہو سکتا، تو یہ بات بھی غلط ہوگی۔ صرف یہی نہیں کہ " گھر والوں " کے لفظ میں آدمی کے سب اہل و عیال شامل ہوتے ہیں، بلکہ نبی ﷺ نے خود تصریح فرمائی ہے کہ وہ بھی شامل ہیں۔ ابن ابی حاتم کی روایت ہے کہ حضرت عائشہ سے ایک مرتبہ حضرت علی ؓ کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا تسألنی عن رجل کان من احبّ الناس الی رسول اللہ ﷺ وکانت تحتہ ابنتہ واحبّ الناس الیہ۔ " تم اس شخص کے متعلق پوچھتے ہو جو رسول اللہ ﷺ کے محبوب ترین لوگوں میں سے تھا اور جس کی بیوی حضور ﷺ کی وہ بیٹی تھی جو آپ ﷺ کو سب سے بڑھ کر محبوب تھی۔ " اس کے بعد حضرت عائشہ ؓ نے یہ واقعہ سنایا کہ حضور ﷺ نے حضرت علی اور فاطمہ اور حسن اور حسین ؓ کو بلایا اور ان پر ایک کپڑا ڈال دیا اور دعا فرمائی اللھمّ ھٰؤلاء اھل بیتی فاَذْھِبْ عنھُم الرّجس و طھّرھم تطھیراً۔ خدایا یہ میرے اہل بیت ہیں، ان سے گندگی کو دور کر دے۔ " حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا، میں بھی تو آپ کے اہل بیت میں سے ہوں (یعنی مجھے بھی اس کپڑے میں داخل کر کے میرے حق میں دعا فرمایئے)۔ حضور ﷺ نے فرمایا، " تم الگ رہو، تم تو ہو ہی۔ " اس سے ملتے جلتے مضمون کی بکثرت احادیث مسلم، ترمذی۔ احمد، ابن جریر، حاکم، بیہقی وغیرہ محدّثین نے انو سعید خدری، حضرت اَنَس، حضرت اُمِّ سلمہ، حضرت واثلہ بن اَسْقَع ؓ اور بعض دوسرے صحابہ سے نقل کی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت علی و فاطمہ ؓ اور ان کے دونوں صاحبزادوں کو اپنا اہل البیت قرار دیا۔ لہٰذا ان لوگوں کا خیال غلط ہے جو ان حضرات کو اس سے خارج ٹھہراتے ہیں۔
اسی طرح ان لوگوں کی رائے بھی غلط ہے جو مذکورۂ بالا احادیث کی بنیاد پر ازواج مطہرات کو اہل البیت سے خارج ٹھہراتے ہیں۔ اول تو جو چیز صراحۃً قرآن سے ثابت ہو اس کو کسی حدیث کے بل پر رد نہیں کیا جاسکتا۔ دوسرے ‘ خود ان احادیث کا مطلب بھی وہ نہیں ہے جو ان سے نکالا جا ربا ہے۔ ان میں سے بعض روایت میں جو یہ بات آئی ہے کہ حضرت عائشہ اور حضرت امّ سلمہ ؓ کو نبی ﷺ نے اس چادر کے نیچے نہیں لیا جس میں حضور ﷺ نے ان چاروں اصحاب کو لیا تھا ‘ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ حضور ﷺ نے ان کو اپنے " گھر والوں " سے خارج قرار دیا تھا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیویاں تو اہل بیت میں شامل تھیں ہی ‘ کیونکہ قرآن نے انہی کو مخاطب کیا تھا ‘ لیکن حضور ﷺ کو اندیشہ ہوا کہ ان دوسرے اصحاب کے متعلق ظاہر قرآن کے لحاظ سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہوجائے کہ یہ اہل بیت سے خارج ہیں، اس لیے آپ ﷺ نے تصریح کی ضرورت ان کے حق میں محسوس فرمائی نہ کہ ازواج مطہرات کے حق میں۔
ایک گروہ نے اس آیت کی تفسیر میں صرف اتنا ہی ستم نہیں کیا ہے کہ ازواج مطہرات کو " اہل البیت " سے خارج کر کے صرف حضرت علی و فاطمہ اور ان کی اولاد کے لیے اس لفظ کو خاص کردیا، بلکہ اس پر مزید ستم یہ بھی کیا ہے کہ اس کے الفاظ " اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور کرے اور تمہیں پوری طرح پاک کر دے " سے یہ نتیجہ نکال لیا کہ حضرت علی و فاطمہ اور ان کی اولاد انبیاء (علیہم السلام) کی طرح معصوم ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ " گندگی " سے مراد خطا اور گناہ ہے اور ارشاد اِلٰہی کی رو سے یہ اہل البیت اس سے پاک کردیے گئے ہیں۔ حالانکہ آیت کے الفاظ یہ نہیں ہیں کہ تم سے گندگی دور کردی گئی اور تم بالکل پاک کردیے گئے۔ بلکہ الفاظ یہ ہیں کہ اللہ تم سے گندگی کو دور کرنا اور تمہیں پاک کردینا چاہتا ہے۔ سیاق وسباق بھی یہ نہیں بتاتا کہ یہاں مناقب اہل بیت بیان کرنے مقصود ہیں، بلکہ یہاں تو اہل بیت کو نصیحت کی گئی ہے کہ تم فلاں کام کرو اور فلاں کام نہ کرو، اس لیے کہ اللہ تمہیں پاک کرنا چاہتا ہے۔ بالفاظ دیگر مطلب یہ ہے کہ تم فلاں رویہ اختیار کرو گے تو پاکیزگی کی نعمت تمہیں نصیب ہوگی ورنہ نہیں۔ تاہم اگر یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ ......... وَ یُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْراً کا مطلب یہ لیا جائے کہ اللہ نے ان کو معصوم کردیا تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ وضو اور غسل اور تیمم کرنے والے سب مسلمانوں کو معصوم نہ مان لیا جائے کیونکہ ان کی متعلق بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلٰکِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَھِّرَکُمْ وَلِیُتِمَّ نِعْمَتَہ عَلَیْکُمْ۔ " مگر اللہ چاہتا ہے کہ تم کو پاک کرے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دے " (المائدہ۔ آیت 6)۔
Ayah 33:34سورة الْاَحْزَاب 51
اصل میں لفظ واذْکُرْنَ استعمال ہوا ہے، جس کے دو معنی ہیں " یاد رکھو " اور " بیان کرو "۔ پہلے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہے کہ اے نبی کی بیویو، تم کبھی اس بات کو فراموش نہ کرنا کہ تمہارا گھر وہ ہے جہاں سے دنیا بھر کو آیات الٰہی اور حکمت و دانائی کی تعلیم دی جاتی ہے، اس لیے تمہاری ذمہ داری بڑی سخت ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اسی گھر میں لوگ جاہلیت کے نمونے دیکھنے لگیں۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہے کہ نبی کی بیویو، جو کچھ تم سنو اور دیکھو اسے لوگوں کے سامنے بیان کرتی رہو، کیونکہ رسول کے ساتھ ہر وقت کی معاشرت سے بہت سی ہدایات تمہارے علم میں ایسی آئیں گی جو تمہارے سوا کسی اور ذریعہ سے لوگوں کو معلوم نہ ہو سکیں گی۔
اس آیت میں دو چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک آیات اللہ۔ دوسرے حکمت۔ آیات اللہ سے مراد تو کتاب اللہ کی آیات ہی ہیں۔ مگر حکمت کا لفظ وسیع ہے جس میں وہ تمام دانائی کی باتیں آجاتی ہیں جو نبی ﷺ لوگوں کو سکھاتے تھے۔ اس لفظ کا اطلاق کتاب اللہ کی تعلیمات پر بھی ہوسکتا ہے، مگر صرف انہی کے ساتھ اس کو خاص کردینے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ قرآن کی آیات سنانے کے علاوہ جس حکمت کی تعلیم نبی ﷺ اپنی سیرت پاک سے اور اپنے ارشادات سے دیتے تھی وہ بھی لا محالہ اس میں شامل ہے۔ بعض لوگ محض اس بنیاد پر کہ آیت میں مَا یُتْلیٰ (جو تلاوت کی جاتی ہیں) کا لفظ استعمال ہوا ہے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آیات اللہ اور حکمت سے مراد صرف قرآن ہے، کیونکہ " تلاوت " کا لفظ اصطلاحاً قرآن کی تلاوت کے لیے مخصوص ہے۔ لیکن یہ استدلال بالکل غلط ہے۔ تلاوت کے لفظ کو اصطلاح کے طور پر قرآن یا کتاب اللہ کی تلاوت کے لیے مخصوص کردینا بعد کے لوگوں کا فعل ہے۔ قرآن میں اس لفظ کو اصطلاح کے طور پر استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ سُورۂ بقرہ آیت 102 میں یہی لفظ جادو کے ان منتروں کے لیے استعمال کیا گیا ہے جو شیاطین حضرت سلیمان ؑ کی طرف منسوب کر کے لوگوں کو سناتے تھے۔ وَاتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ عَلیٰ مُلْکِ سُلَیْمٰنَ۔ " انہوں نے پیروی کی اس چیز کی جس کی تلاوت کرتے تھے (یعنی جسے سناتے تھے) شیاطین سلیمان کی بادشاہی کی طرف منسوب کر کے "۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ قرآن اس لفظ کو اس کے لغوی معنی میں استعمال کرتا ہے۔ کتاب اللہ کی آیات سنانے کے لیے اصطلاحاً مخصوص نہیں کرتا۔
سورة الْاَحْزَاب 52
اللہ لطیف ہے۔ یعنی مخفی باتوں تک اس کا علم پہنچ جاتا ہے۔ اس سے کوئی چیز چھپی نہیں رہ سکتی۔
Ayah 33:35سورة الْاَحْزَاب 53
پچھلے پیراگراف کے بعد متصلاً یہ مضمون ارشاد فرما کر ایک لطیف اشارہ اس امر کی طرف کردیا گیا ہے کہ اوپر ازواج مطہرات کو جو ہدایات دی گئی ہیں وہ ان کے لیے خاص نہیں ہیں بلکہ مسلم معاشرے کو بالعموم اپنے کردار کی اصلاح انہی ہدایات کے مطابق کرنی چاہیے۔
سورة الْاَحْزَاب 54
یعنی جنہوں نے اسلام کو اپنے لیے ضابطۂ حیات کی حیثیت سے قبول کرلیا ہے اور یہ طے کرلیا ہے کہ اب وہ اسی کی پیروی میں زندگی بسر کریں گے۔ دوسرے الفاظ میں، جن کے اندر اسلام کے دیے ہوئے طریق فکر اور طرز زندگی کے خلاف کسی قسم کی مزاحمت باقی نہیں رہی ہے۔ بلکہ وہ اس کی اطاعت اور اتباع کی راہ اختیار کرچکے ہیں۔
سورة الْاَحْزَاب 55
یعنی جن کی یہ اطاعت محض ظاہری نہیں ہے۔ بادل ناخواستہ نہیں ہے، بلکہ دل سے وہ اسلام ہی کی رہنمائی کو حق مانتے ہیں۔ ان کا ایمان یہی ہے کہ فکر و عمل کا جو راستہ قرآن اور محمد ﷺ نے دکھایا ہے وہی سیدھا اور صحیح راستہ ہے اور اسی کی پیروی میں ہماری فلاح ہے۔ جس چیز کو اللہ اور اس کے رسول نے غلط کہہ دیا ہے ان کی اپنی رائے بھی یہی ہے کہ وہ یقیناً غلط ہے، اور جسے اللہ اور اس کے رسول نے حق کہہ دیا ہے ان کا اپنا دل و دماغ بھی اسے برحق ہی یقین کرتا ہے۔ ان کے نفس اور ذہن کی حالت یہ نہیں ہے کہ قرآن اور سنت سے جو حکم ثابت ہو اسے وہ نامناسب سمجھتے ہوں اور اس فکر میں غلطاں و پیچاں رہیں کہ کسی طرح اسے بدل کر اپنی رائے کے مطابق، یا دنیا کے چلتے ہوئے طریقوں کے مطابق ڈھال بھی دیا جائے اور یہ الزام بھی اپنے سر نہ لیا جائے کہ ہم نے حکم خدا اور رسول میں ترمیم کر ڈالی ہے۔ حدیث میں نبی ﷺ ایمان کی صحیح کیفیت کو یوں بیان فرماتے ہیں
ذاق طعم الایمان من رضی باللّٰہ ربّاً و بالاسلام دینا و بِمُحمَّدٍ رسُولا۔ ایمان کا لذت شناس ہوگیا وہ شخص جو راضی ہوا اس بات پر کہ اللہ ہی اس کا رب ہو اور اسلام ہی اس کا دین ہو اور محمد ﷺ ہی اس کے رسول ہوں۔
اور ایک دوسری حدیث میں آپ اس کی تشریح یوں کرتے ہیں۔
لا یؤمن احدکم حتٰی یکون ھواہ تبعاً لما جئتُ بہ (شرح السنّہ) تم میں کوئی شخص مومن نہیں ہوتا جب تک کہ اس کی خواہش نفس اس چیز کے تابع نہ ہوجائے جسے میں لایا ہوں۔
سورة الْاَحْزَاب 56
یعنی وہ محض مان کر رہ جانے والے بھی نہیں ہیں بلکہ عملاً اطاعت کرنے والے ہیں۔ ان کی یہ حالت نہیں ہے کہ ایمانداری کے ساتھ حق تو اسی چیز کو مانیں جس کا اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے مگر عملاً اس کی خلاف ورزی کریں، اور اپنی مخلصانہ رائے میں تو ان سب کاموں کو برا ہی سمجھتے رہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول نے منع کیا ہے مگر اپنی عملی زندگی میں ارتکاب انہی کا کرتے چلے جائیں۔
سورة الْاَحْزَاب 57
یعنی اپنی گفتار میں بھی سچے ہیں اور اپنے معاملات میں بھی کھرے ہیں۔ جھوٹ، فریب، بدنیتی، دغا بازی اور چھل بٹے ان کی زندگی میں نہیں پائے جاتے۔ ان کی زبان وہی بولتی ہے جسے ان کا ضمیر صحیح جانتا ہے۔ وہ کام وہی کرتے ہیں جو ایمانداری کے ساتھ ان کے نزدیک راستی و صداقت کے مطابق ہوتا ہے۔ اور جس سے بھی وہ کوئی معاملہ کرتے ہیں دیانت کے ساتھ کرتے ہیں۔
سورة الْاَحْزَاب 58
یعنی خدا اور رسول ﷺ کے بتائے ہوئے سیدھے راستے پر چلنے اور خدا کے دین کو قائم کرنے میں جو مشکلات بھی پیش آئیں، جو خطرات بھی درپیش ہوں، جو تکلیفیں بھی اٹھانی پڑیں اور جن نقصانات سے بھی دوچار ہونا پڑے، ان کا پوری ثابت قدمی کے ساتھ مقابلہ کرتے ہیں۔ کوئی خوف، کوئی لالچ اور خواہشات نفس کا کوئی تقاضا ان کو سیدھی راہ سے ہٹا دینے میں کامیاب نہیں ہوتا۔
سورة الْاَحْزَاب 59
یعنی وہ تکبُّر اور استکبار اور غرور نفس سے خالی ہیں۔ وہ اس حقیقت کا پورا شعور و احساس رکھتے ہیں کہ ہم بندے ہیں اور بندگی سے بالا تر ہماری کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اس لیے ان کے دل اور جسم دونوں ہی اللہ کے آگے جھکے رہتے ہیں۔ ان پر خدا کا خوف غالب رہتا ہے۔ ان سے کبھی وہ رویہ ظاہر نہیں ہوتا جو اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا اور خدا سے بےخوف لوگوں سے ظاہر ہوا کرتا ہے۔ ترتیب کلام ملحوظ رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اس عام خدا ترسانہ رویہ کے ساتھ خاص طور پر " خشوع " سے مراد نماز ہے کیونکہ اس کے بعد ہی صدقے اور روزے کا ذکر کیا گیا ہے۔
سورة الْاَحْزَاب 60
اس سے مراد صرف فرض زکوٰۃ ادا کرنا ہی نہیں ہے، بلکہ عام خیرات بھی اس میں شامل ہے۔ مراد یہ ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں کھلے دل سے اپنے مال صرف کرتے ہیں۔ اللہ کے بندوں کی مدد کرنے میں اپنی حد استطاعت تک وہ کوئی دریغ نہیں کرتے۔ کوئی یتیم، کوئی بیمار، کوئی مصیبت زدہ، کوئی ضعیف و معذور، کوئی غریب و محتاج آدمی ان کی بستیوں میں دستگیری سے محروم نہیں رہتا۔ اور اللہ کے دین کو سر بلند کرنے کے لیے ضرورت پیش آجائے تو اس پر اپنے مال لٹا دینے میں وہ کبھی بخل سے کام نہیں لیتے۔
سورة الْاَحْزَاب 61
اس میں فرض اور نفل دونوں قسم کے روزے شامل ہیں۔
سورة الْاَحْزَاب 62
اس میں دو مفہوم شامل ہیں۔ ایک یہ کہ وہ زنا سے پرہیز کرتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ وہ برہنگی و عریانی سے اجتناب کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ برہنگی و عریانی صرف اسی چیز کا نام نہیں ہے کہ آدمی لباس کے بغیر بالکل ننگا ہوجائے۔ بلکہ ایسا لباس پہننا بھی برہنگی ہی ہے جو اتنا رقیق ہو کہ جسم اس میں سے جھلکتا ہو، یا اتنا چست ہو کہ جسم کی ساخت اور اس کے نشیب و فراز سب اس میں سے نمایاں نظر آتے ہوں۔
سورة الْاَحْزَاب 63
اللہ کو کثرت سے یاد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کی زبان پر ہر وقت زندگی کے ہر معاملے میں کسی نہ کسی طرح خدا کا نام آتا رہے۔ یہ کیفیت آدمی پر اس وقت تک طاری نہیں ہوتی جب تک اس کے دل میں خدا کا خیال بس کر نہ رہ گیا ہو۔ انسان کے شعور سے گزر کر اس کے تحت الشعور اور لا شعور تک میں جب یہ خیال گہرا اتر جاتا ہے تب ہے اس کا یہ حال ہوتا ہے کہ جو کام اور جو بات بھی وہ کرے گا اس میں خدا کا نام ضرور آئے گا۔ کھائے گا تو بسم اللہ کہہ کر کھائے گا۔ فارغ ہوگا تو الحمد للہ کہے گا۔ سوئے گا تو اللہ کو یاد کر کے اور اٹھے گا تو اللہ ہی کا نام لیتے ہوئے۔ بات چیت میں بار بار اس کی زبان سے بسم اللہ، الحمد للہ، ماشاء اللہ اور اسی طرح کے دوسرے کلمات نکلتے رہیں گے۔ اپنے ہر معاملے میں اللہ سے مدد مانگے گا۔ ہر نعمت ملنے پر اس کا شکر ادا کرے گا۔ ہر آفت آنے پر اس کی رحمت کا طلبگار ہوگا۔ مشکل میں اس سے رجوع کرے گا۔ ہر برائی کا موقع سامنے آنے پر اس سے ڈرے گا۔ ہر قصور سرزد ہوجانے پر اس سے معافی چاہے گا۔ ہر حاجت پیش آنے پر اس سے دعا مانگے گا۔ غرض اٹھتے بیٹھتے اور دنیا کے سارے کام کرتے ہوئے اس کا وظیفہ خدا ہی کا ذکر ہوگا۔ یہ چیز درحقیقت اسلامی زندگی کی جان ہے۔ دوسری جتنی بھی عبادات ہیں ان کے لیے بہرحال کوئی وقت ہوتا ہے جب وہ ادا کی جاتی ہیں اور انہیں ادا کر چکنے کے بعد آدمی فارغ ہوجاتا ہے۔ لیکن یہ وہ عبادت ہے جو ہر وقت جاری رہتی ہے اور یہی انسان کی زندگی کا مستقل رشتہ اللہ اور اس کی بندگی کے ساتھ جوڑے رکھتی ہے۔ خود عبادات اور تمام دینی کاموں میں بھی جان اسی چیز سے پڑتی ہے کہ آدمی کا دل محض ان خاص اعمال کے وقت ہی نہیں بلکہ ہمہ وقت خدا کی طرف راغب اور اس کی زبان دائماً اس کے ذکر سے تر رہے۔ یہ حالت انسان کی زندگی میں عبادات اور دینی کام ٹھیک اسی طرح پروان چڑھتے اور نشو و نما پاتے ہیں جس طرح ایک پودا ٹھیک اپنے مزاج کے مطابق آب و ہوا میں لگا ہوا ہو۔ اس کے برعکس جو زندگی اس دائمی ذکر خدا سے خالی ہو اس میں محض مخصوص اوقات میں یا مخصوص مواقع پر ادا کی جانے والی عبادات اور دینی خدمات کی مثال اس پودے کی سی ہے جو اپنے مزاج سے مختلف آب و ہوا میں لگایا گیا ہو اور محض باغبان کی خاص خبر گیری کی وجہ سے پل رہا ہو۔ اسی بات کو نبی ﷺ ایک حدیث میں یوں واضح فرماتے ہیں
عن معاذ بن انس الجھنی عن رسول اللہ ﷺ ان رجلاً سألہ ای المجاھدین اعظم اجراً یا رسول اللہ ؟ قال اکثرھم للہ تعَالیٰ ذکراً قال ایُّ الصائمین اکثر اجرا ؟ قال اکثرھم للہ عزّ وجل ذکراً ثم ذکرا لصّلوٰۃ والزکوٰۃ والحجّ والصَّدَقَۃ کل ذٰلک یقول رسول اللہ ﷺ اکثرھم للہ ذکراً۔ (مسند احمد) " معاذ بن انس جُہَنی روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ، جہاد کرنے والوں میں سب سے بڑھ کر اجر پانے والا کون ہے ؟ فرمایا جو ان میں اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ یاد کرنے والا ہے۔ اس نے عرض کیا روزہ رکھنے والوں میں سب سے زیادہ اجر کون پائے گا ؟ فرمایا جو ان میں سب سے زیادہ اللہ کو یاد کرنے والا ہو۔ پھر اس شخص نے اسی طرح نماز، زکوٰۃ حج اور صدقہ ادا کرنے والوں کے متعلق پوچھا اور حضور ﷺ نے ہر ایک کا یہی جواب دیا کہ " جو اللہ کو سب سے زیادہ یاد کرنے والا ہو۔ "
سورة الْاَحْزَاب 64
اس آیت میں یہ بتادیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اصل قدر و قیمت کن اوصاف کی ہے۔ یہ اسلام کی بنیادی قدریں (Basic val ues) ہیں جنہیں ایک فقرے کے اندر سمیٹ دیا گیا ہے۔ ان قدروں کے لحاظ سے مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ عمل کے لحاظ سے تو بلاشبہ دونوں صنفوں کا دائرۂ کار الگ ہے۔ مردوں کو زندگی کے کچھ شعبوں میں کام کرنا ہے اور عورتوں کو کچھ اور شعبوں میں اگر یہ اوصاف دونوں میں یکساں موجود ہوں تو اللہ تعالیٰ کے ہاں دونوں کا مرتبہ یکساں اور دونوں کا اجر برابر ہوگا۔ اس لحاظ سے ان کے مرتبے اور اجر میں کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ ایک نے چولھا چکی سنبھالا اور دوسرے نے خلافت کی مسند پر بیٹھ کر احکام شریعت جاری کیے، ایک نے گھر میں بچے پالے اور دوسرے نے میدان جنگ میں جا کر اللہ اور اس کے دین کے لیے جان لڑائی۔
Ayah 33:36سورة الْاَحْزَاب 65
یہاں سے وہ آیات شروع ہوتی ہیں جو حضرت زینب سے نبی ﷺ کے نکاح کے سلسلے میں نازل ہوئی تھیں۔
سورة الْاَحْزَاب 66
ابن عباس، مجاہد، قَتادہ، عِکْرِمَہ اور مقاتل بن حَیّان کہتے ہیں کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی تھی جب نبی ﷺ نے حضرت زید ؓ کے لیے حضرت زینب ؓ کے ساتھ نکاح کا پیغام دیا تھا اور حضرت زینب ؓ اور ان کے رشتہ داروں نے اسے نامنظور کردیا تھا۔ ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ جب حضور ﷺ نے یہ پیغام دیا تو حضرت زینب ؓ نے کہا، انا خیر منہ نسباً ، " میں اس سے نسب میں بہتر ہوں "۔ ابن سعد کا بیان ہے کہ انہوں نے جواب میں یہ بھی کہا تھا کہ لا ارضاہ لنفسی وانا ایّم قریش "۔ میں اسے اپنے لیے پسند نہیں کرتی، میں قریش کی شریف زادی ہوں "۔ اسی طرح کا اظہار نارضا مندی ان کے بھائی عبداللہ بن جَحْش ؓ نے بھی کیا تھا۔ اس لیے کہ حضرت زید نبی ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے اور حضرت زینب ؓ حضور ﷺ کی پھوپھی (اُمَیْمہ بنت عبدالمطلب) کی صاحبزادی تھیں۔ ان لوگوں کو یہ بات سخت ناگوار تھی کہ اتنے اونچے گھرانے کی لڑکی، اور وہ بھی کوئی غیر نہیں بلکہ حضور ﷺ کی اپنی پھوپھی زاد بہن ہے، اور اس کا پیغام آپ ﷺ اپنے آزاد کردہ غلام کے لیے دے رہے ہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی، اور اسے سنتے ہی حضرت زینب ؓ اور ان کے سب خاندان والوں نے بلا تامل سر اطاعت خم کردیا۔ اس کے بعد نبی ﷺ نے ان کا نکاح پڑھایا، خود حضرت زید ؓ کی طرف سے دس دینار اور 60 درہم مہر ادا کیا، چڑھاوے کے کپڑے دیے، اور کچھ سامان خوراک گھر کے خرچ کے لیے بھجوا دیا۔
یہ آیت اگرچہ ایک خاص موقع پر نازل ہوئی ہے، مگر جو حکم اس میں بیان کیا گیا ہے وہ اسلامی آئین کا اصل الاصول ہے اور اس کا اطلاق پورے اسلامی نظام زندگی پر ہوتا ہے، اس کی رو سے کسی مسلمان فرد، یا قوم، یا ادارے، یا عدالت، یا پارلیمنٹ، یا ریاست کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ جس معاملہ میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے کوئی حکم ثابت ہو اس میں وہ خود اپنی آزادی رائے استعمال کرے۔ مسلمان ہونے کے معنی ہی خدا اور رسول کے آگے اپنے آزادانہ اختیار سے دستبردار ہوجانے کے ہیں۔ کسی شخص یا قوم کا مسلمان ہونا اور اپنے لیے اس اختیار کو محفوظ بھی رکھنا، دونوں ایک دوسرے کی نفی کرتے ہیں۔ کوئی ذی عقل انسان ان دونوں رویوں کو جمع کرنے کا تصور نہیں کرسکتا جسے مسلمان رہنا ہو اس کو لازماً حکم خدا و رسول کے آگے جھک جانا ہوگا۔ اور جسے نہ جھکنا ہو اس کو سیدھی طرح ماننا پڑے گا کہ وہ مسلمان نہیں ہے۔ نہ مانے گا تو چاہے اپنے مسلمان ہونے کا وہ کتنا ہی ڈھول پیٹے، خدا اور خلق دونوں کی نگاہ میں وہ منافق ہی قرار پائے گا۔
Ayah 33:37سورة الْاَحْزَاب 67
یہاں سے آیت 48 تک کا مضمون اس وقت نازل ہوا جب حضرت زینب ؓ سے نبی ﷺ نکاح کرچکے تھے اور اس پر منافقین ‘ یہود اور مشرکین نے آپ کے خلاف پروپیگنڈے کا ایک طوفان عظیم بر پا کر رکھا تھا۔ ان آیات کا مطالعہ کرتے وقت یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے یہ ارشادات ان دشمنوں کی تفہیم کے لیے نہیں تھے جو قصداً حضور ﷺ کو بدنام کرنے اور اپنے دل کی جلن نکالنے کے لئے جھوٹ اور بہتان اور طعن وتشنیع کی مہم چلا رہے تھے، بلکہ اصل مقصود مسلمانوں کو ان کی اس مہم کے اثرات سے بچانا اور ان کے پھیلائے ہوئے شکوک و شبہات سے محفوظ کرنا تھا۔ اس سے اگر اطمینان نصیب ہوسکتا تھا تو انہی لوگوں کو جو جانتے اور مانتے تھے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ ان بندگان حق کے متعلق اس وقت یہ خطرہ پیدا ہوگیا تھا کہ دشمنوں کے اعتراضات کہیں ان کے دلوں میں بھی شک اور ان کے دماغوں میں بھی الجھن نہ پیدا کردیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایک طرف تمام امکانی شبہات کا ازالہ فرمایا، اور دوسری طرف مسلمانوں کو بھی اور خود نبی ﷺ کو بھی یہ بتایا کہ ان حالات میں ان کا رویہ کیا ہونا چاہیے۔
سورة الْاَحْزَاب 68
مراد ہیں حضرت زید، جیسا کہ آگے بصراحت بیان فرما دیا گیا ہے۔ ان پر اللہ تعالیٰ کا احسان کیا تھا اور نبی ﷺ کا احسان کیا ؟ اس کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ مختصراً یہاں ان کا قصہ بیان کردیا جائے۔ یہ دراصل قبیلۂ کَلْب کے ایک شخص حارثہ بن شراحیل کے بیٹے تھے اور ان کی ماں سعدیٰ بنت ثَعْلَبَہ قبیلۂ طَے کی شاخ بنی مَعْن سے تھیں۔ جب یہ آٹھ سال کے بچے تھے اس وقت ان کی ماں انہیں اپنے میکے لے گئیں۔ وہاں بنی ْ قَیْن بن جَسْر کے لوگوں نے ان کے پڑاؤ پر حملہ کیا اور لوٹ مار کے ساتھ جن آدمیوں کو وہ پکڑ لے گئے ان میں حضرت زید بھی تھے۔ پھر انہوں نے طائف کے قریب عکاظ کے میلے میں لے جا کر ان کو بیچ دیا۔ خریدنے والے حضرت خَدِیجہ کے بھتیجے حکیم بن حزام تھے۔ انہوں نے مکہ لا کر اپنی پھوپھی صاحبہ کی خدمت میں نذر کردیا۔ نبی ﷺ سے حضرت خدیجہ ؓ کا جب نکاح ہوا تو حضور ﷺ نے ان کے ہاں زید کو دیکھا اور ان کی عادات واطوار آپ ﷺ کو اس قدر پسند آئیں کہ آپ ﷺ نے انہیں حضرت خدیجہ سے مانگ لیا۔ اس طرح یہ خوش قسمت لڑکا اس خیر الخلائق ہستی کی خدمت میں پہنچ گیا جسے چند سال بعد اللہ تعالیٰ نبی بنانے والا تھا۔ اس وقت حضرت زید کی عمر 15 سال تھی۔ کچھ مدت بعد ان کے باپ اور چچا کو پتہ چلا کہ ہمارا بچہ مکہ میں ہے۔ وہ انہیں تلاش کرتے ہوئے نبی ﷺ تک پہنچے اور عرض کیا کہ آپ جو فدیہ چاہیں ہم دینے کے لیے تیار ہیں، آپ ہمارا بچہ ہمیں دے دیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں لڑکے کو بلاتا ہوں اور اسی کی مرضی پر چھوڑے دیتا ہوں کہ وہ تمہارے ساتھ جانا چاہتا ہے یا میرے پاس رہنا پسند کرتا ہے۔ اگر وہ تمہارے ساتھ جانا چاہے گا تو میں کوئی فدیہ نہ لوں گا اور اسے یوں ہی چھوڑ دوں گا۔ لیکن اگر وہ میرے پاس رہنا چاہے تو میں ایسا آدمی نہیں ہوں کہ جو شخص میرے پاس رہنا چاہتا ہو اسے خواہ مخواہ نکال دوں۔ انہوں نے کہا یہ تو آپ ﷺ نے انصاف سے بھی بڑھ کر درست بات فرمائی ہے۔ آپ بچے کو بلا کر پوچھ لیجیے۔ حضور ﷺ نے زید ؓ کو بلایا اور ان سے کہا ان دونوں صاحبوں کو جانتے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں، یہ میرے والد ہیں اور یہ میرے چچا۔ آپ ﷺ نے فرمایا، اچھا، تم ان کو بھی جانتے ہو اور مجھے بھی۔ اب تمہیں پوری آزادی ہے کہ چاہو ان کے ساتھ چلے جاؤ اور چاہو میرے ساتھ رہو۔ انہوں نے جواب دیا میں آپ ﷺ کو چھوڑ کر کسی کے پاس نہیں جانا چاہتا۔ ان کے باپ اور چچا نے کہا، زید، کیا تو آزادی پر غلامی کو ترجیح دیتا ہے، اور اپنے ماں باپ اور خاندان کو چھوڑ کر غیروں کے پاس رہنا چاہتا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے اس شخص کے جو اوصاف دیکھے ہیں ان کا تجربہ کرلینے کے بعد میں اب دنیا میں کسی کو بھی اس پر ترجیح نہیں دے سکتا۔ زید کا یہ جواب سن کر ان کے باپ اور چچا بخوشی راضی ہوگئے۔ حضور ﷺ نے اسی وقت زید کو آزاد کردیا اور حرم میں جا کر قریش کے مجمع عام میں اعلان فرمایا کہ آپ سب لوگ گواہ رہیں، آج سے زید میرا بیٹا ہے، یہ مجھ سے وراثت پائے گا اور میں اس سے۔ اسی بنا پر لوگ ان کو زید بن محمد کہنے لگے۔ یہ سب واقعات نبوت سے پہلے کے ہیں پھر جب نبی ﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے منصب نبوت پر سرفراز ہوئے تو چار ہستیاں ایسی تھیں جنہوں نے ایک لمحہ شک و تردُّد کے بغیر آپ ﷺ سے نبوت کا دعویٰ سنتے ہی اسے تسلیم کرلیا۔ ایک حضرت خدیجہ، دوسرے حضرت زید، تیسرے حضرت علی، اور چوتھے حضرت ابوبکر ؓ۔ اس وقت حضرت زید ؓ کی عمر 30 سال تھی اور ان کو حضور ﷺ کی خدمت میں رہتے ہوئے 15 سال گزر چکے تھے۔ ہجرت کے بعد 4 ھج میں نبی ﷺ نے اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب ؓ سے ان کا نکاح کردیا، اپنی طرف سے ان کا مہر ادا کیا، اور گھر بسانے کے لیے ان کو ضروری سامان عنایت فرمایا۔
یہی حالات ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ ان الفاظ میں اشارہ فرما رہا ہے کہ " جس پر اللہ نے اور تم نے احسان کیا تھا۔ "
سورة الْاَحْزَاب 69
یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت زید ؓ سے حضرت زینب ؓ کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہوچکے تھے۔ اور انہوں نے بار بار شکایات پیش کرنے کے بعد آخر کار نبی ﷺ کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ میں ان کو طلاق دینا چاہتا ہوں۔ حضرت زینب ؓ نے اگرچہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم مان کر ان کے نکاح میں جانا قبول کرلیا تھا، لیکن وہ اپنے دل سے اس احساس کو کسی طرح نہ مٹا سکیں کہ زید ایک آزاد کردہ غلام ہیں، ان کے اپنے خاندان کے پروردہ ہیں، اور وہ عرب کے شریف ترین گھرانے کی بیٹی ہونے کے باوجود اس کم تر درجے کے آدمی سے بیاہی گئی ہیں۔ اس احساس کی وجہ سے ازدواجی زندگی میں انہوں نے کبھی حضرت زید ؓ کو اپنے برابر کا نہ سمجھا، اور اسی وجہ سے دونوں کے درمیان تلخیاں بڑھتی چلی گئیں۔ ایک سال سے کچھ ہی زیادہ مدت گزری تھی کہ نوبت طلاق تک پہنچ گئی۔
سورة الْاَحْزَاب 70
بعض لوگوں نے اس فقرے کا الٹا مطلب یہ نکال لیا ہے کہ نبی ﷺ خود حضرت زینب ؓ سے نکاح کے خواہشمند تھے، اور آپ کا جی چاہتا تھا کہ حضرت زید ؓ ان کو طلاق دے دیں، مگر جب انہوں نے آ کر عرض کیا کہ میں بیوی کو طلاق دینا چاہتا ہوں تو آپ نے معاذاللہ اوپری دل سے ان کو منع کیا، اس پر اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ " تم دل میں وہ بات چھپا رہے تھے جسے اللہ ظاہر کرنا چاہتا تھا۔ " حالانکہ اصل بات اس کے برعکس ہے۔ اگر اس سورة کی آیات نمبر 1۔ 2۔ 3۔ اور۔ 7 کو ساتھ ملا کر یہ فقرہ پڑھا جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ جس زمانے میں حضرت زید ؓ اور ان کی اہلیہ کے درمیان تلخی بڑھتی چلی جا رہی تھی اسی زمانے میں اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو یہ اشارہ کرچکا تھا کہ زید ؓ جب اپنی بیوی کو طلاق دیں تو ان کی مطلقہ خاتون سے آپ کو نکاح کرنا ہوگا۔ لیکن چونکہ حضور ﷺ جانتے تھے کہ عرب کی اس سوسائٹی میں منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے نکاح کرنا کیا معنی رکھتا ہے ......... اور وہ بھی عین اس حالت میں جبکہ مٹھی بھر مسلمانوں کے سوا باقی سارا عرب آپ ﷺ کے خلاف پہلے ہی خار کھائے بیٹھا تھا۔ اس لیے آپ ﷺ اس شدید آزمائش میں پڑنے سے ہچکچا رہے تھے۔ اسی بنا پر جب حضرت زید ؓ نے بیوی کو طلاق دینے کا ارادہ ظاہر کیا تو حضور ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور اپنی بیوی کو طلاق نہ دو۔ آپ ﷺ کا منشا یہ تھا کہ یہ شخص طلاق نہ دے تو میں اس بلا میں پڑنے سے بچ جاؤں، اور نہ اس کے طلاق دے دینے کی صورت میں مجھے حکم کی تعمیل کرنی ہوگی اور پھر مجھ پر وہ کیچڑ اچھالی جائے گی کہ پناہ بخدا۔ مگر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو اولو العزمی اور رضا بقضا کے جس بلند مرتبے پر دیکھنا چاہتا تھا اس کے لحاظ سے حضور ﷺ کی یہ بات اس کو فروتر نظر آئی کہ آپ ﷺ نے قصداً زید ؓ کو طلاق سے روکا تاکہ آپ ﷺ اس کام سے بچ جائیں جس میں آپ ﷺ کو بدنامی کا اندیشہ تھا، حالانکہ اللہ ایک بڑی مصلحت کی خاطر وہ کام آپ ﷺ سے لینا چاہتا تھا۔ " تم لوگوں سے ڈر رہے تھے، حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حق دار ہے کہ تم اس سے ڈرو " کے الفاظ صاف صاف اسی مضمون کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
یہی بات اس آیت کی تشریح میں امام زین العابدین حضرت علی بن حسین ؓ نے فرمائی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ " اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو خبر دے چکا تھا کہ زینب ؓ آپ کی بیویوں میں شامل ہونے والی ہیں، مگر جب زید ؓ نے آکر ان کی شکایت آپ ﷺ سے کی تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور اپنی بیوی کو نہ چھوڑو۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تمہیں پہلے خبر دے چکا تھا کہ میں تمہارا نکاح زینب ؓ سے کرنے والا ہوں، تم زید ؓ سے یہ بات کہتے وقت اس بات کو چھپا رہے تھے جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا " (ابن جریر۔ ابن کثیر بحوالہ ابن ابی حاتم)
علامہ آلوسی نے بھی تفسیر روح المعانی میں اس کا یہی مطلب بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ " یہ عتاب کا ترک اولیٰ پر۔ اس حالت میں اولیٰ یہ تھا کہ نبی ﷺ خاموش رہتے، یا زید ؓ سے فرما دیتے کہ تم جو کچھ کرنا چاہو کرسکتے ہو، عتاب کا ماحصل یہ ہے کہ تم نے زید ؓ سے یہ کیوں کہا کہ اپنی بیوی کو نہ چھوڑو، حالانکہ میں تمہیں پہلے ہی بتاچکا تھا کہ زینب ؓ تمہاری بیویوں میں شامل ہوں گی "
سورة الْاَحْزَاب 71
یعنی جب زید ؓ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور ان کی عدت پوری ہوگئی۔ " حاجت پوری کرچکا " کے الفاظ سے خود بخود یہ مفہوم نکلتا ہے کہ زید ؓ کی اس سے کوئی حاجت باقی نہ رہی۔ اور یہ صورت حال محض طلاق دے دینے سے رونما نہیں ہوتی، کیونکہ عدت کے دوران میں شوہر کو اگر کچھ دلچسپی باقی ہو تو وہ رجوع کرسکتا ہے، اور شوہر کی یہ حاجت بھی مطلقہ بیوی سے باقی رہتی ہے کہ اس کے حاملہ ہونے یا نہ ہونے کا پتہ چل جائے۔ اس لیے مطلقہ بیوی کے ساتھ اس کے سابق شوہر کی حاجت صرف اسے وقت ختم ہوتی ہے جب عدت گزر جائے۔
سورة الْاَحْزَاب 72
یہ الفاظ اس باب میں صریح ہیں کہ نبی ﷺ نے یہ نکاح خود اپنے خواہش کی بنا پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی بنا پر کیا تھا۔
سورة الْاَحْزَاب 73
یہ الفاظ اس بات کی صراحت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کام نبی ﷺ سے ایک ایسی ضرورت اور مصلحت کی خاطر کرایا تھا جو اس تدبیر کے سوا کسی دوسرے ذریعہ سے پوری نہ ہو سکتی تھی۔ عرب میں منہ بولے رشتوں کے بارے میں جو غلط رسوم رائج ہوگئی تھیں، ان کے توڑنے کی کوئی صورت اس کے سوا نہ تھی کہ، اللہ کا رسول خود آگے بڑھ کر ان کو توڑ ڈالے۔ لہٰذا یہ نکاح اللہ تعالیٰ نے محض نبی کے گھر میں ایک بیوی کا اضافہ کرنے کی خاطر نہیں بلکہ ایک اہم ضرورت کی خاطر کروایا۔
Ayah 33:38سورة الْاَحْزَاب 74
ان الفاظ سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ دوسرے مسلمانوں کے لیے تو اس طرح کا نکاح محض مباح ہے مگر نبی ﷺ کے لیے یہ ایک فرض تھا جو اللہ نے آپ پر عائد کیا تھا۔
سورة الْاَحْزَاب 75
یعنی انبیاء کے لیے ہمیشہ سے یہ ضابطہ مقرر رہا ہے کہ اللہ کی طرف سے جو حکم بھی آئے اس پر عمل کرنا ان کے لیے قضائے مُبْرَم ہے جس سے کوئی مفر ان کے لیے نہیں ہے۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر کوئی کام فرض کر دے تو اسے وہ کام کر کے ہی رہنا ہوتا ہے خواہ ساری دنیا اس کی مخالفت پر تل گئی ہو۔
Ayah 33:39سورة الْاَحْزَاب 76
اصل الفاظ ہیں کفیٰ بِا للّٰہِ حَسِیْباً۔ اس کے دو معنی ہیں۔ ایک یہ کہ ہر خوف اور خطرے کے مقابلے میں اللہ کافی ہے۔ دوسرے یہ کہ حساب لینے کے لیے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کسی اور کی باز پرس سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
Ayahs 33:40–41سورة الْاَحْزَاب 77
اس ایک فقرے میں ان تمام اعتراضات کی جڑ کاٹ دی گئی ہے جو مخالفین نبی صلی اللہ علیہ و لم کے اس نکاح پر کر رہے تھے۔ ان کا اولین اعتراض یہ تھا کہ آپ ﷺ نے اپنی بہو سے نکاح کیا ہے حالانکہ آپ ﷺ کی اپنی شریعت میں بھی بیٹے کی منکوحہ باپ پر حرام ہے۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ " محمّد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں "، یعنی جس شخص کی مطلقہ سے نکاح کیا گیا ہے وہ بیٹا تھا کب کہ اس کی مطلقہ سے نکاح حرام ہوتا ؟ تم لوگ تو خود جانتے ہو کہ محمد ﷺ کا سرے سے کوئی بیٹا ہے ہی نہیں۔
ان کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ اچھا، اگر منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹا نہیں ہے تب بھی اس کی چھوڑی ہوئی عورت سے نکاح کرلینا زیادہ سے زیادہ بس جائز ہی ہوسکتا تھا، آخر اس کا کرنا کیا ضرور تھا۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا " مگر وہ اللہ کے رسول ہیں "، یعنی رسول ہونے کی حیثیت سے ان پر یہ فرض عائد ہوتا تھا کہ جس حلال چیز کو تمہاری رسموں نے خواہ مخواہ حرام کر رکھا ہے اس کے بارے میں تمام تعصبات کا خاتمہ کردیں اور اس کی حلت کے معاملے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہ رہنے دیں۔
پھر مزید تاکید کے لیے فرمایا " اور وہ خاتم النبیین ہیں "، یعنی ان کے بعد کوئی رسول تو درکنار کوئی نبی تک آنے والا نہیں ہے کہ اگر قانون اور معاشرے کی کوئی اصلاح ان کے زمانے میں نافذ ہونے سے رہ جائے تو بعد کا آنے والا نبی یہ کسر پوری کر دے، لہٰذا یہ اور بھی ضروری ہوگیا تھا کہ اس رسم جاہلیت کا خاتمہ وہ خود ہی کر کے جائیں۔
اس کے بعد مزید زور دیتے ہوئے فرمایا گیا کہ " اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے " یعنی اللہ کو معلوم ہے کہ اس وقت محمد ﷺ کے ہاتھوں اس رسم جاہلیت کو ختم کرا دینا کیوں ضروری تھا اور ایسا نہ کرنے میں کیا قباحت تھی۔ وہ جانتا ہے کہ اب اس کی طرف سے کوئی نبی آنے والا نہیں ہے لہٰذا اگر اپنے آخری نبی کے ذریعہ سے اس نے اس رسم کا خاتمہ اب نہ کرایا تو پھر کوئی دوسری ہستی دنیا میں ایسی نہ ہوگی جس کے توڑنے سے یہ تمام دنیا کے مسلمانوں میں ہمیشہ کے لیے ٹوٹ جائے۔ بعد کے مصلحین اگر اسے توڑیں گے بھی تو ان میں سے کسی کا فعل بھی اپنے پیچھے ایسا دائمی اور عالمگیر اقتدار نہ رکھے گا کہ ہر ملک اور ہر زمانے میں لوگ اس کا اتباع کرنے لگیں، اور ان میں سے کسی کی شخصیت بھی اپنے اندر اس تقدس کی حامل نہ ہوگی کہ کسی فعل کا محض اس کی سنت ہونا ہی لوگوں کے دلوں سے کراہیت کے ہر تصور کا قلع قمع کر دے۔
افسوس ہے کہ موجودہ زمانے میں ایک گروہ نے اس آیت کی غلط تاویلات کر کے ایک بہت بڑے فتنے کا دروازہ کھول دیا ہے۔ اس لیے ختم نبوت کے مسئلے کی پوری توضیح اور اس گروہ کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں کی تردید کے لیے ہم نے اس سورة کی تفسیر کے آخر میں ایک مفصل ضمیمہ شامل کردیا ہے۔
Ayah 33:42سورة الْاَحْزَاب 78
اس سے مقصود مسلمانوں کو یہ تلقین کرنا ہے کہ جب دشمنوں کی طرف سے اللہ کے رسول پر طعن وتشنیع کی بوچھاڑ ہو رہی ہو اور دین حق کو زک پہنچانے کے لیے ذات رسول کو ہدف بنا کر پروپیگنڈے کا طوفان برپا کیا جا رہا ہو، ایسی حالت میں اہل ایمان کا کام نہ تو یہ ہے کہ ان بیہودگیوں کو اطمینان کے ساتھ سنتے رہیں، اور نہ یہ کہ خود بھی دشمنوں کے پھیلائے ہوئے شکوک و شبہات میں مبتلا ہوں، اور نہ یہ کہ جواب میں ان سے گالم گلوچ کرنے لگیں، بلکہ ان کا کام یہ ہے کہ عام دنوں سے بڑھ کر اس زمانے میں خصوصیت کے ساتھ اللہ کو اور زیادہ یاد کریں۔ " اللہ کو کثرت سے یاد کرنے " کا مفہوم 63 میں بیان کیا جا چکا ہے۔ صبح و شام تسبیح کرنے سے مراد دائماً تسبیح کرتے رہنا ہے۔ اور تسبیح کے معنی اللہ کی پاکیزگی بیان کرنے کے ہیں نہ کہ محض دانوں والی تسبیح پھر انے کے۔
Ayah 33:43سورة الْاَحْزَاب 79
اس سے مقصود مسلمانوں کو یہ احساس دلانا ہے کہ کفار و منافقین کی ساری جلن اور کڑھن اس رحمت ہی کی وجہ سے ہے جو اللہ کے اس رسول کی بدولت تمہارے اوپر ہوئی ہے۔ اسی کے ذریعہ سے ایمان کی دولت تمہیں نصیب ہوئی، کفر و جاہلیت کی تاریکیوں سے نکل کر تم اسلام کی روشنی میں آئے۔ اور تمہارے اندر یہ بلند اخلاقی و اجتماعی اوصاف پیدا ہوئے جن کے باعث تم علانیہ دوسروں سے برتر نظر آتے ہو۔ اسی کا غصہ ہے جو حاسد لوگ اللہ کے رسول پر نکال رہے ہیں۔ اس حالت میں کوئی ایسا رویہ اختیار نہ کر بیٹھنا جس سے تم خدا کی اس رحمت سے محرم ہوجاؤ۔
صلوٰۃ کا لفظ جب علیٰ کے صلے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے حق میں استعمال ہوتا ہے تو اس کے معنی رحمت، مہربانی اور شفقت کے ہوتے ہیں۔ اور جب ملائکہ کی طرف سے انسانوں کے حق میں استعمال ہوتا ہے تو اس کے معنی دعائے رحمت کے ہوتے ہیں، یعنی ملائکہ انسانوں کے حق میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ تو ان پر فضل فرما اپنی عنایات سے انہیں سرفراز کر ایک مفہوم یُصَلِّیْ عَلَیکُمْ کا یہ بھی ہے کہ یشیع عنکم الذکر الجمیل فی عباد اللہ، یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے بندوں کے درمیان ناموری عطا فرماتا ہے اور تمہیں اس درجے کو پہنچا دیتا ہے کہ خلق خدا تمہاری تعریف کرنے لگتی ہے اور ملائکہ تمہاری مدح و ثنا کے چرچے کرتے ہیں۔