Ayahs 34:1–2آیت 1
حمد سے مراد، صفات حمیدہ اور افعال حسنہ کے ذریعہ سے، ثنا بیان کرنا ہے، لہٰذا ہر قسم کی حمد اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے کیونکہ وہ اپنے اوصاف کی بنا پر مستحق حمد ہے، اس کے تمام اوصاف، اوصاف کمال ہیں۔ وہ اپنے افعال پر مستحق حمد ہے کیونکہ اس کے افعال، اس کے فضل پر مبنی ہیں جس پر اس کی حمد اور اس کا شکر کیا جاتا ہے اور اس کے عدل پر مبنی ہیں جس کی بنا پر اس کی تعریف کی جاتی ہے اور اسمیں اس کی حکمت کا اعتراف کیا جاتا ہے۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے خود اپنی حمد اس بنا پر بیان کی ہے کہ (لہ ما فی السموت وما فی الارض) ” زمین اور آسمانوں میں جو کچھ بھی ہے اسی کا ہے “ یعنی ہر چیز اسی کی ملکیت اور اسی کی غلام ہے وہ اپنی حمد و ثنا کی بنا پر ان میں تصرف کرتا ہے۔ (ولہ الحمد فی الاخرۃ) ” اور آخرت میں بھی اسی کی تعریف ہے “ اس لئے کہ آخرت میں اس اور تمام مخلقوق اس کے فیصلے، اس کے کامل عدل و انصاف اور اس میں اس کی حکمت کو دیکھیں گے تو وہ سب اس پر اس کی حمد و ثنا بیان کریں گے حتی کہ ان جہنمیوں کے دل بھی، جن کو عذاب دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ کی حمد سے لبریز ہوں گے، نیز ان کو اعتراف ہوگا کہ یہ عذب ان کے اعمال کی جزا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے کے فیصلے میں عادل ہے۔
رہا جنت میں اللہ تعالیٰ کی حمد کا ظہور، تو اس بارے میں نہایت تواتر سے اخبار وارد ہوئی ہیں، دلائل سمعی اور دلائل عقلی ان کی موافقت کرتے ہیں کیونکہ جنتی لوگ جنت میں، اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں، بیشمار خیر و برکت اور اس کی بےپایاں نوازشات کا مشاہدہ کریں گے۔ الہ جنت کے دل میں کوئی آرزو اور کوئی ارادہ باقی نہیں رہے گا جسے اللہ تعالیٰ نے پورا نہ کردیا ہو اور ان کی خواہش اور آرزو سے بڑھ کر عطا نہ کیا ہو، بلکہ انہیں اتنی زیادہ بھلائی عطا ہوگی کہ ان کی خواہش اور آرزوئیں وہاں پہنچ ہی نہیں سکتیں اور انکے دل میں ان کا تصور تک نہیں آسکتا۔ اس حال میں ان کی حمد و ثنا کیسی ہوگی، درآنحالیکہ جنت میں وہ تمام عوارض و قواطع مضمحل ہوجائیں گے جو اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت اور اس کی حمد و ثنا کو منقطع کرتے ہیں۔ الہ ایمان کے لئے یہ حال ہر نعمت سے بڑھ کر محبوب اور ہر لذت سے بڑھ کر لذیذ ہوگا، اس لئے جب وہ اللہ تعالیٰ کا دیدار کریں گے اور اس کے خطاب کے وقت اس کے کلام سے محفوظ ہوں گے تو وہ ہر نعمت کو بھلا دیں گے وہ جنت میں ذکر الٰہی میں مشغول رہیں گے اور جنت میں ان کے لئے ذکر کی وہ حیثیت ہوگی جیسے زندگی کے لئے ہر وقت سانس کی حیثیت ہے۔ جب آپ اس کے ساتھ اس چیز کو شامل کر دیکھیں کہ اہل جنت، ہر وقت جنت کے اندر اپنے رب کی عظمت، اس کے جلال و جمال اور اس کے لامحدود کمال کا نظارہ کریں گے، تو یہ چیز اللہ تعالیٰ کامل حمد و ثنا کی موجب ہے۔ (وھو الحکیم) وہ اپنے اقتدار و تدبیر اور اپنے امرونہی میں حکمت والا ہے۔ (الخبیر) وہ تمام امور کے اسرار نہاں کی خبر رکھتا ہے، لہٰذا اپنے علم کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا (یعلم مایلج فی الارض) ” جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے “ یعنی بارش، نباتات کے بیج اور حیوانات وغیرہ (وما یخرج منھا) ” اور جو کچھ اس میں سے نکلتا ہے۔ “ یعنی مختلف اقسام کی نباتات اور مختلف انواع کے حیوانات وغیرہ (وما ینزل من السمآء) ” اور جو کچھ اترتا ہے آسمان سے “ یعنی آسمان سے جو فرشتے نازل ہوتے ہیں، رزق نازل ہوتا ہے اور تقدیر اترتی ہے۔ (وما یعرج فیھا) یعنی آسمان یک طرف جو فرشتے اور ارواح وغیرہ بلند ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سب کو بخوبی جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات کے اندر اپنی حکمت اور ان کے احوال کے بارے میں اپنے علم کا ذکر کرنے کے بعد اپنی بخشش اور مخلوقات کے لئے اپنی بےپایاں رحمت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (وھو الرحیم الغفور) ” وہ رحم کرنے والا، معاف کرنے والا ہے۔ “ یعنی رحمت اور مغفرت جس کا وصف ہے اس کے بندے رحمت اور مغفت کے تقاضوں کو جس قدر پورا کرتے ہیں، اس کے مطابق ہر وقت اس کی رحمت اور مغفرت کے آثار نازل ہوتے رہتے ہیں،
Ayahs 34:3–5آیت 3
جب اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت بیان کی جس کے ساتھ اس نے اپنے آپ کو موصوف کیا ہے اور یہ چیز اس کی تعظیم و تقدیس اور اس پر ایمان کی موجب ہے تو ذکر فرمایا کہ لوگوں میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جس نے اپنے رب کی قدر کی نہ اس کی تعظیم کی جیسا کہ اس کا حق ہے، بلکہ اس کے برعکس انہوں نے اس کے ساتھ کفر کیا اور اس کی مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت کا اور قیامت کی گھڑی کا انکار کیا اور اس کے بارے میں اس کے رسولوں اور ان کی دعوت کی مخالفت کی، لہٰذا فرمایا : (وقال الذین کفروا) یعنی جنہوں نے اللہ تعالیٰ ، اس کے رسولوں اور ان کی دعوت کا انکار کیا، انہوں نے اپنے کفر کی بنا پر کہا : (لاتاتینا الساعۃ) ” ہم پر قیامت نہیں آئے گی۔ “ یہاں اس دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ یہاں ہم زندہ رہتے ہیں اور پھر مرجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ وہ ان کے اس نظریے کی تردید اور اس کا ابطال کریں اور تاکید ان کو قسم کھا کر بتائیں کہ قیامت برحق ہے اور وہ ضرو رآئے گی۔ اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی دلیل کے ذریعے سے استدلال کیا ہے کہ جو کوئی اس دلیل کا اقرار کرتا ہے وہ ضرور موت کے بعد زگندی ہونے کا اقرار کرے گا اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کا لامحدود علم، چناچہ فرمایا : (علم الغیب) یعنی وہ ان تمام امور کا علم رکھتا ہے جو ہماری آنکھوں سے اوجھل اور ہمارے احاطہ علم میں نہیں ہیں، تب وہ ان امور کا علم کیونکر نہیں رکھتا جو ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے بارے میں تاکید کے طور پر ارشاد فرمایا : (لایعزب عنہ) یعنی اس کے علم سے کوئی چیز غائب نہیں (مثقال ذرۃ فی السموت ولا فی الارض) زمین و آسمان کی تمام اشیا اپنی ذات و اجزا سمیت، حتی کہ ان کا چھوٹے سے چھوٹا جز بھی اللہ تعالیٰ کے علم سے اوجھل نہیں۔
(ولا اصغر من ذلک ولا اکبر الا فی کتب مبین) ” اور نہیں کوئی چیز اس سے چھوٹی اور نہ اس سے بڑی مگر وہ کتاب واضح میں درج ہے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کے علم نے اس کا احاطہ کر رکھا ہے، اس کا قلم اس پر چل چکا ہے اور وہ کتاب مبین یعنی لوح محفوظ میں درج ہوچکی ہے۔ اس لئے وہ ہستی جس نے ذرہ بھر یا اس سے بھی چھوٹی چیز کسی بھی وقت چھپی ہوئی نہیں ہے اور وہ ہستی جانتی ہے کہ زمین میں موت کے ذریعے سے کتنے افراد کی کمی واقع ہو رہی ہے اور کتنے زندہ باقی ہیں اور وہ ان کی موت کے بعد انہیں دوبارہ زندہ کرنے پر بالا ولی قادر ہے۔ اس کا مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا، اس کے علم محیط سے زیادہ تعجب خیز نہیں ہے۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کے بعد زندگی کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا : (لیجزی الذین امنوا) ” تاکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جزا دے جو ایمان لائے “ اپنے دلوں سے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی پوری طرح تصدیق کی۔ (وعملوا الصلحت) ” اور انہوں نے نیک عمل کیے ‘ اپنے ایمان کی تصدیق کے لئے (اولئک لھم مغفرۃ) انہی لوگوں کے لئے ان کے ایمان اور اعمال صالحہ کے سبب سے بخشش ہے ان کے ایمان اور اعمال کے باعث ان سے ہر برائی اور تمام عذاب دور ہوجائیں گے۔ (ورزق کریم) ” اور عزت کی روزی “ ان کے احسان کے سبب سے انہیں انکا ہر مطلوب و مقصود حاصل ہوگا اور ان کی ہر آرزو پوری ہوگی۔ (والذین سعو فی ایتنا معجزین) ” اور جنہوں نے ہماری آیات کو نیچا دکھانے کی کوشش کی۔ “ یعنی وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کرنے اور ان کو لانے والے انبیاء ومرسلین اور ان کو نازل کرنے والے کو نیچا دکھانے کے لئے زور لگایا جیسے انہوں نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کو نیچا دکھانے کے لئے پوری کوشش کی۔ (اولئک لھم عذاب من رجز الیم) ان کے لئے ان کے دل و جان کو سخت تکلیف دینے والا عذاب ہوگا۔
Ayah 34:6(آیت 6)
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے منکرین قیامت کے انکار کا اور ان کی اس رائے کا تذکرہ فرمایا کہ جو کچھ رسول پر نازل ہوا ہے حق نہیں ہے، تو اس کے اپنے مومن بندوں کا حال بیان کیا ہے جو اہل علم ہیں اور ان کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر جو کتاب نازل کی ہے اور جن اخبار پر یہ کتاب مشتمل ہے، وہ برحق ہیں، یعنی حق صرف اسی کے اندر ہے اور جو چیز اس کتاب کی مخلاف اور اس سے متناقض ہے وہ باطل ہے کیونکہ وہ علم کے درجہ یقین پر پہنچ چکے ہیں (و) ” اور “ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے اوامرونواہی کے ذریعے سے (یھدی الی صراط العزیز الحمید) ” اس ہستی کی راہ دکھاتا ہے جو غالب اور لائق حمد و ثنا ہے۔ “ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں بہت سے پہلوؤں سے اس کی دی ہوئی خبروں کی صداقت کا یقین جازم ہے۔
اپنے علم کی جہت سے، خبر دینے والے کی داقت کا یقین ہے۔
انہیں اس جہت سے بھی اس کی صداقت کا یقین ہے کہ یہ کتاب امور واقع اور کتب سابقہ کی موافقت کرتی ہے۔
اس پہلو سے بھی ان کے ہاں یہ کتاب حق ہے کہ وہ اس کی دی ہوئی خبروں کے وقوع کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں۔
اس جہت سے بھی انہیں اس کتاب کی صداقت کا یقین ہے کہ وہ آفاق میں اور خود اپنے نفوس میں ایسی نشانیوں کا مشاہدہ کرتے ہیں جو اس کے حق ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔
اس جہت سے بھی انہیں اس کتاب کے حق پر مبنی ہونے کا یقین ہے کہ آفاق وانفس کی نشانیاں ان امور کی موافقت کرتی ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کے اسمئا وصفات دلالت کرتے ہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کے اوامرو نواہی کے بارے میں وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایسے راستے پر گامزن کرت ہیں، جو بالکل سیدھا ہے اور وہ کام کی ہر اس صفت کو متضمن ہے جو تزکیہ نفس اور اجر میں اضافے کا باعث ہے، جو عامل اور اس کے علاوہ دیگر لوگوں کو صدق و اخلاص، والدین کے ساتھ حسن سلوک، اقارب کے ساتھ صلہ رحمی اور مخلوقات پر احسان کرنے کا فائدہ پہنچاتی ہے اور ہر بری صفت سے روکتی ہے جو نفس کو گندہ کرتی ہے، اجر کا اکارت کرتی ہے، گناہ اور بوجھ کی موجب ہے مثلاً شرک، زنا، سود اور جان، مال اور عزت و ناموس پر ظلم وغیرہ
یہ اہل علم کی منقبت، انکی فضیلت اور ان کی امتیازی علامت ہے نیز اس بات کی بھی علامت ہے کہ جب بھی بندے کا علم زیادہ ہوگا، رسول ﷺ کی لائی ہوئی خبروں کی تصدیق کرتا ہوں گا، اللہ تعالیٰ کے اوامرونواہی کی حکمتوں کی جتنی زیادہ معرفت رکھنے والا ہوگا اتنا ہی زیادہ وہ ان اہل علم کے زمرے میں شمار ہوگا جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی باتوں پر حجت قرار دیا ہے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے مکذبین و معاندین حق کے خلاف حجت کے طور پر پیش کیا ہے جیسا کہ اس آیت کریمہ اور بعض دیگر آیات میں اس کی طرف اشارہ ہے۔
Ayahs 34:7–10آیت 7
(وقال الذین کفروا) یعنی کفار تکیذب اور استہزاء کے طور پر اور دوبارہ زندگی کو نامکن قرار دیتے ہوئے ایک دوسرے سے کہتے ہیں : (آیت) ” کیا ہم تمہاری راہنمائی ایسے شخص کی طرف کریں جو تمہیں یہ خبر پہنچا رہا ہے کہ جب تم بالکل ہی ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تو تم پھر سے ایک نئی پیدائش میں آؤ گے۔ “ ان کی مراد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ وہ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ آپ ایک ایسے شخص ہیں جو ایک انوکھی چیز پیش کر رہے ہیں۔ ان کی نظر میں آپ ان کے لئے تفریح کا ایک ذریعہ ہیں اور ایک عجیب شے ہیں جن کا وہ مذاق اڑاتے ہیں اور تعجب کرتے ہیں کہ آپ کیسے یہ بات کہتے ہیں : ” جب تم بوسیدہ ہو کر ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تمہارا جوڑ جوڑ الگ ہوجائے گا اور تمہارے اعضا بکھر کر نیست و نابود ہوجائیں گے پھر تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا ؟ “ یہ شخص جو بات کہتا ہے کہ (افتری علی اللہ کذباً ) اس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کی جرأت کی ہے (امر بہ جنۃ) ” یا اسے جنون ہے ؟ “ اور یہ اس سے کوئی بعید بھی نہیں کیونکہ جنون کی کئی قسمیں ہیں۔
وہ یہ سب کچھ ظلم اور عناد کی وجہ سے کہتے تھے، حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ آپ مخلوق میں سب سے سچے اور سب سے عقل مند انسان ہیں۔ ان کا علم بس یہی ہے کہ انہوں نے آپ سے عداوت شروع کی اور بار بار عداوت کا اظہار کیا اور انہوں نے لوگوں کو آپ سے دور رکھنے کے لئے اپنی جان اور مال خرچ کردیا۔
گندے ذہن کے لوگو ! اگر آپ ﷺ جھوٹے یا پاگل ہوتے تو یہ مناسب ہی نہ تھا کہ تم ان کی بات پر دھیان دیتے یا تم ان کی دعوت کو درخواعتنا سمجھتے کیونکہ ایک عقل مند شخص کے لائق نہیں کہ وہ ایک پاگل شخص کی طرف التفات کرے یا اس کی بات کو کوئی اہمیت دے۔ اگر تمہارے دل میں عناد نہ ہوتا اور تمہارا رویہ ظلم پر مبنی نہ ہوتا تو تم آگے بڑھ کر آپ کی دعوت کو قبول کرتے اور آپ کی آواز پر لبیک کہتے، مگر حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ایمان ہیں لاتے، نشانیاں اور ڈراوے ان کے کسی کام نہیں آتے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (بل الذین لایومنون بالاخرۃ) ” بلکہ بات یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ “ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے مذکورہ بالا بات کہی تھی (فی العذاب والضلل لابعید) وہ بہت بڑی بدبختی اور دور کی گمراہی میں مبتلا ہیں اور منزل صواب کے ذرا بھی قریب نہیں۔ کون سی بدبختی اور گمراہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے اس چیز پر قادر ہونے کے انکار سے بڑھ کر ہو کہ اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کرے گا اور کون سی بدبختی اور گمراہی ان کی رسولوں کی تکذیب، ان کے ساتھ استہزا اور ان کے اس دعوے سے بڑھ کر ہو کہ وہ (کافر) جو کچھ کہتے ہیں وہ حق ہے۔ پس وہ حق کو باطل اور باطل و ضلالت کو حق اور ہدایت سمجھتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ایک عقلی دلیل کی طرف ان کی توجہ مبذول کی ہے جو موت کے بعد زندگی کے بعید نہ ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ اگر وہ اپنے آگے پیچھے زمین اور آسمان کی طرف دیکھیں تو انہیں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ایسے مناظر نظر آئیں گے جو عقل کو حیران کردیتے ہیں، وہ اس کی عظمت کے ایسے مظاہر دیکھیں گے جو بڑے بڑے علماء کو حواس باختہ کردیتے ہیں اور انہیں معلوم ہوجائے گا کہ زمین و آسمان کی تخلیق، ان کی عظمت اور زمین و آسمان کے اندر موجود مخلوقات کی تخلیق قبروں میں مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے سے زیادہ عظیم ہے۔ پس کس چیز نے ان کو اس پر آمادہ کیا ہے کہ وہ موت کے بعد زندگی کی تکذیب کرتے رہیں حالانکہ وہ اس سے مشکل تر چیز کی تصدیق کرتے ہیں۔
ہاں ! موت کے بعد زگندی اب تک خبر غیبی ہے جس کا انہوں نے مشاہدہ نہیں کیا اس لئے انہوں نے اس کی تکذیب کی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ان نشا نخسف بھم الارض او نسقط علیھم کسفا من السمآء) ” اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں۔ “ یعنی عذاب کا کوئی ٹکڑا کیونکہ زمین اور آسمان ہمارے دست تدبیر کے تحت ہیں۔ اگر ہم ان کو حکم دیں تو وہ حکم عدولی نہیں کرسکتے، لہٰذا تم اپنی تکذیب پر مصر رہنے سے باز آجاؤ ورنہ ہم تمہیں سخت سزا دیں گے۔ (ان فی ذلک) یعنی زمین و آسمان اور ان میں موجود تمام مخلوقتا کی تخلیق میں (لایۃ لکل عبدمنیب) ” البتہ نشانی ہے ہر اس بندے کے لئے جو اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے “ اس کی اطاعت کرتا ہے اور اسے پورا یقین ہے کہ وہ انسانوں کی موت کے بعد ان کو دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔
بندہ مومن جس قدر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے گا، اسی قدر زیادہ وہ آیات الٰہی سے مستفید ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اس کا ارادہ اور ہمت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ بندہ ہر معاملے میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہے اور وہ اپنے رب کے قریب ہوجاتا ہے اور اپنے رب کی رضا میں مشغولیت کے سوا اس کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا۔ مخلوقات پر اس کی نظر بےفائدہ اور غفلت کی نظر نہیں ہوتی بلکہ فکر و عبرت کی نظر ہوتی ہے۔
Ayah 34:11آیت 11
ہم نے اپنے بندے اور رسول داؤد پر احسان کیا اور ہم نے انہیں علم نافع اور عمل صالح میں فضیلت بخشی اور انہیں دینی اور دنیاوی نعمتوں سے سرفراز فرمایا۔ یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت ہے کہ اس نے پہاڑوں، حیوانتا اور پرندوں کو حکم دیا کہ وہ داؤد کی حمد و تسبیح کی آواز کے ساتھ اپنی آواز ملائیں۔ یہ ایسی نعمت ہے جو آپ کے خصائص میں شمار ہوتی ہے اور یہ خصوصیت آپ سے پہلے کسی کو عطا کی گئی نہ آپ کے بعد۔ یہ آواز آپ کو اور دوسرے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی تسبیح پر آمادہ کرتی تھی۔ جب وہ دیکھتے کہ یہ جمادات، پہاڑ اور حیوانات حضرت داؤد کی آواز کا جواب دیتے ہوئے اپنے رب کی تسبیح و تکبیر اور تمجید وتحمید کرتے ہیں تو یہ چیز ان کو اللہ تعالیٰ کے ذکر پر آمادہ کرتی۔
بہت سے علماء کہتے ہیں کہ یہ نعمت داؤد کی آواز کی طرف خیزی تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نہایت خوبصورت آواز سے سرفراز فرمایا تھا اور انہیں اس میدان میں سب پر فوقیت حاصل تھی۔ جب آپ تسبیح و تہلیل اور تمجید وتحمید میں اپنی طرب انگیز آواز بلند کرتے تو جن و انس، پرندے اور پہاڑ آپ کی آواز پر جھوم اٹھتے اور اپنے رب کی تحمید و تسبیح بیان کرنے لگتے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت تھی کہ آپ کی آواز پر طرب میں آ کر تسبیح وتحمید بیان کرنے والے جمادات و حیوانات کی تسبیح کا اجر بھی آپ کو حاصل ہوتا تھا کیونکہ آپ ان کی تسبیح وتحمید کا سبب تھے۔
اللہ تعالیٰ کا یہ بھی آپ پر فضل و کرم تھا کہ اس نے لوہے کو آپ کے لئے نرم کردیا تاکہ آپ زر ہیں تایر کریں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو زرہ کی صنعت کی تعلیم دی اور زرہ کے حلقوں کو اندازے پر رکھنا سکھایا یعنی آپ اندازے کے ساتھ زرہ کا حلقہ بناتے تھے پھر انکو ایک دوسرے میں داخل کردیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (وعلمنہ صنعۃ لبوس لکم لبتحنکم من باسکم فھل انتم شکرون) (الانبیاء 80/21) ” اور ہم نے تمہارے لئے ان کو زرہ بنانا سکھا دیا تاکہ یہ زر ہیں تمہیں ایک دوسرے کی ضرب سے محفوظ رکھیں، تو پھر کیا تم شکر گزار ہو گے ؟ “
حضرت داؤد اور آل داؤد پر اپنے احسان کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو شکر کرنے کا حکم دیا، نیز انہیں یہ حکم بھی دیا کہ وہ نیک عمل کریں اور اپنے عمل کی اصلاح اور مفسدات سے اس کو محفوظ رکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے ڈریں کیونکہ وہ ان اعمال کو دیکھتا ہے، ان کی اطلاع رکھتا ہے اور کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں۔
Ayahs 34:12–14آیت 12
اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت داؤد پر اپنا فضل و کرم بیان کرنے کے بعد ان کے فرزند حضرت سلیمان پر اپنے فضل و کرم کا ذکر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو آپ کے لئے مسخر کردیا جو آپ کے حکم پر چلتی تھی سلیمان پر اپنے فضل و کرم کا ذکر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو آپ کے لئے مسخر کردیا جو آپ کے حکم پر چلتی تھی جو آپ کو اور آپ کی افواج کو اٹھائے پھرتی تھی اور بہت دور کی مسافتیں بہت کم مدت میں طے کرتی تھی۔ دو ماہ کی مسافت ایک دن میں طے کرلیتی تھی۔ فرمایا : (غدوھا شھر) ” اس کی صبح کی منزل ایک مہینے کی ہوتی تھی۔ “ دن کی ابتدا سے لے کر زوال تک (ورواحھا شھر) ” اور اس کی شام کی منزل ایک مہینے کی ہوتی تھی۔ “ یعنی زوال آفتاب سے لے کر دن کے آخر تک (واسلنا لہ عین القطر) اور ہم نے حضرت سلیمان کے لئے تانبے کا چشمہ مسخر کردیا اور اس تانبے سے مختلف اقسام کی اشیا اور برتن بنانے کے اسباب کو ان کے لئے آسان کردیا۔
نیز اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان کے لیے شیاطین اور جنوں کو مسخر کردیا وہ آپ کی حکم عدولی کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ فرمایا (ومن یزع منھم عن امرنا نذقہ من عذاب السعیر) ” اور جو کوئی ان میں سے ہمارے حکم سے پھرے گا، ہم اس کو جہنم کی آگ کا مزہ چکھائیں گے۔ “
یہ شیاطین اور جن وہ تمام کام کرتے تھے جس کا حضرت سلیمان ان کو حکم دیتے تھے (من محاریب) ” قلعے “ اس سے مراد ہر ایسی تعمیر ہے جس کے ذریعے سے عمارتوں کو مضبوط کیا جاتا ہے۔ گویا اس میں بڑی بڑی عمارتوں کا ذکر ہے (وتماثیل) ” اور مجسمے “ یعنی حیوانات و جمادات کی تماثیل بنانا ان کی اس صنعت میں مہارت، قدرت اور ان کا سلیمان کے لئے کام کرنا ہے۔ (وجفان کالجواب) ” اور لگن جیسے تالاب “ وہ حضرت سلیمان کے لئے بڑے بڑے حوض بناتے تھے، جن میں کھانا ڈالا جاتا تھا کیونکہ حضرت سلیمان ایسی چیزوں کی ضرورت مند تھے جن کے دوسرے لوگ محتاج نہ تھے اور وہ ان کے لئے بڑی دیگیں بناتے تھے جو بڑی ہونے کی وجہ سے اپنی جگہ سے نہ ہٹتی تھیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنی نوازشات کا ذکر کرنے کے بعد انہیں ان نوازشات پر شکر کرنے کا حکم دیا۔ چناچہ فرمایا : (اعملوا آل داؤد) ” اے آل داؤد ! نیک عمل کرو۔ “ اس سے مراد داؤد انکی اولاد اور اہل و عیال ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا احسان ان سب پر تھا اور ان بہت سے فوائد سے سبھی مستفید ہوتے تھے۔ (شکرا) یعنی اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا کیا ہے۔ (و قلیل من عبادی الشکور) اکثر لوگ، اللہ تعالیٰ نے ان کو جو نعمتیں عطا کی ہیں اور ان سے جو تکالیف دور کی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے۔” شکر “ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا دل سے اعتراف کرنا، اپنے آپ کو اس کا محتاج سمجھتے ہوئے اس نعمت کو قبول کرنا، اس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرنا اور اس کی نافرمانی میں صرف کرنے سے گریز کرنا۔
شیاطین اور جن حضرت سلیمان کے لئے عمارتیں تعمیر کرتے رہے۔ انہوں نے انسانوں کہ بہکایا اور ان پر ظاہر کیا کہ وہ غیب کا علم جانتے ہیں اور چھپی ہوئی چیزوں کی اطلاع رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ بندوں پر ان کا جھوٹ واضح کرے، لہٰذا وہ اپنا کام کر رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان کی وفات کا فیصلہ کردیا۔ حضرت سلیمان اپنے عصا کا سہارا لئے کھڑے تھے (اور اسی حالت میں وفات پا گئے) تو جن جب وہاں سے گزرتے تو دیکھتے کہ وہ سہارا لئے کھڑے ہیں۔ وہ انہیں زندہ سمجھتے ہوئے ان سے ڈرتے رہے۔ ایک قول کے مطابق جن سال بھر اسیطرح کام کرتے رہے حتی کہ دیمک نے ان کا عصا کھانا شروع کردیا یہاں تک کہ عصا بالکل ختم ہو کر گرگیا اور اس کے ساتھ حضرت سلیمان کا جسد بھی زمین پر آرہا۔ یہ دیکھ کر شیاطین آزاد ہو کر بھگا گئے اس طرح انسانوں پر واضح ہوگیا (ان لوکانوا یعلمون الغیب مالبثوا فی العذاب الھین) ” کہ اگر جنوں کے پاس علم غیب ہوتا تو وہ اس رسوا کن عذاب میں مبتلا نہ رہتے “ یعنی اس انتہائی سخت کام میں مصروف نہ رہتے۔ اگر ان کے پاس غیب کا علم ہوتا تو انہیں حضرت سلیمان کے وفات پا جانے کا علم ہوتا، جو ان کی سب سے بڑی خواہش تھی تاکہ اس مشقت سے نجات پائیں۔
Ayahs 34:15–21آیت 15-21
” سبا “ ایک معروف قبیلہ تھا جو یمن کے قریب ترین علاقوں میں آباد تھا۔ وہ ایک شہر میں آباد تھے جسے ” مارب “ کہا جاتا تھا۔ تمام بندوں پر عموماً اور عربوں پر خصوصاً اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم اور اس کی بےپایاں نعمتیں ہیں کہ اس نے قرآن مجید میں ان ہلاک شدہ قوموں کے بارے میں خبر دی ہے جن پر عذاب نازل کیا گیا، جو ان کے پڑوس میں آباد تھیں، جہاں ان کے آثار کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے اور لوگ ان کے واقعات کو ایک دوسرے سے نقل کرتے چلے آرہے ہیں ات کہ اس طرح ان کے واقعات کے ذریعے سیق رآن کی تصدیق ہوا اور یہ چیز نصیحت کے قریب تر ہو۔
(لقد کان لسبا فی مسکنھم) ” سبا کے لئے تھی ان کے مسکنوں میں “ یعنی ان کے مساکن جہاں وہ آباد تھے (ایۃ) ” ایک نشانی “ اور وہ نشانی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بیشمار نعمتوں سے نوازا اور بہت سی تکالیف کو ان سے دور کیا اور یہ چیز اس بات کی متقتضی تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے اور اس کا شکر ادا کرتے پھر اللہ تعالیٰ نے اس نشانی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا : (جنتن عن یمین و شمال) ” ان کے دائیں بائیں دو باغات تھے۔ “ ان کے پاس ایک وادی تھی جہاں بہت کثرت سے سیلاب آتے تھے انہوں نے اس پانی کا ذخیرہ کرنے کے لئے ایک بہت مضبوط بند تعمیر کیا۔ چناچہ سیلاب کا پانی آکر اس وادی میں جمع ہوجاتا پھر وہ اس وادی کے دائیں بائیں لگائے ہوئے اپنے باغات کو اس پانی سے سیراب کرتے یہ دو عظیم باغ ان کے لئے اتنا پھل پیدا کرتے جو ان کی معیشت کے لئے کافی ہوتا۔ اس سے انہیں بہت مسرت حاصل ہوتی۔
اللہ تعالیٰ نے ان کو کئی پہلوؤں سے اپنی ان بیشمار نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا :
(1) یہ دونوں باغ ان کو ان کی خوراک کا بہت بڑا حصہ فراہم کرتے تھے۔
(2) اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے علاقے کو، اس کی نہایت خوشگوار آپ و ہوا، اس کے مضر صحت نہ ہونے اور رزق کے ذرائع کی فراوانی کی بنا پر بہت خوبصورت بنایا۔
(3) اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا اور ان پر رحم فرمائے گا، اس لئے فرمایا : (بلدۃ طیبۃ و رب غفور) ” پاکیزہ شہر ہے اور بخشنے والا رب ہے۔ “
(4) اللہ تعالیٰ نے جب دیکھا کہ وہ اپنی تجارت اور اپنے مکاسب میں ارض مبارک کے محتاج ہیں۔۔۔ سلف میں سے ایک سے زائد اہل علم کے مطابق ارض مبارک سے ” صنعاء “ کی بستیاں مراد ہیں اور بعض کی رائے ہے کہ اس سے مراد ارض شام ہے۔۔۔ تو ان کو ایسے ذرائع اور اسباب مہیا کردیئے جن کے ذریعے سے ان بستویں تک پہنچنا ان کے لئے انتہائی آسان ہوگیا۔ انہیں دوران سفر امن اور عدم خوف حاصل ہوا، ان کے درمیان اور ارض مبارک کے درمیان بستیاں اور آبادیاں تھیں، بنا بریں انہیں زادراہ کا بوجھ اٹھانے کی مشقت نہیں اٹھانا پڑتی تھی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (وجعلنا بینھم وبین القری التی برکنا فیھا قری ظاھرۃ وقدرنا فیھا السیر) ” اور ہم نے ان کے اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دی تھی، دیہات بنئاے تھے جو سامنے نظر آتے تھے اور ان میں آمد و رفت کا اندازہ مقرر کردیا تھا۔ “ یعنی ایک مقرر راستہ جسے وہ پہچانتے تھے اسی پر چلتے تھے اور یہ راستہ چھوڑ کر ادھر ادھر نہ ہوتے تھے۔ (لیالی وایاماً امنین) وہ ان میں راتوں اور دنوں کو نہایت اطمینان کے ساتھ، کسی خوف کے بغیر سفر کرتے تھے۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی کامل نعمت تھی کہ اس نے ان کو خوف سے مامون رکھا۔ پس انہوں نے نعمتیں عطا کرنے والے منعم حقیقی اور اس کی عبادت سے منہ موڑ لیا۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت پر اترانے لگے اور اس سے اکتاگئے۔ یہاں تک کہ وہ تمنا کرنے لگے کہ ان کی بستیوں کے درمیان کا سفر، جو نہایت آسان ہے، کاش ! وہ دور ہوجائے۔
(وظلموا انفسھم) اور اللہ تعالیٰ اور اس کی نعمتوں کا انکار کر کے انہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی نعمت کے ذریعے سے، جس نے انہیں سرکش بنادیا تھا، ان کو سزا دی کہ ان کے اس بند کو توڑ دینے والا منہ زور سیلاب بھیجا جس نے ان کے اس بند کو توڑ کر ان کے باغات کو تباہ کردیا۔ ان کے پھل دار درختوں والے یہ باغات جھاڑ جھنکار میں بدل گئے، لہٰذا فرمایا : (وبدلنھم بجنتیھم جنتین ذواتی اگل) ” اور ہم نے ان کو ان کے دو باغوں کے بدلے دو ایسے باغ دیے جن کے میوے “ یعنی بہت تھوڑا پھل جو ان کے کسی کام نہیں آسکتا تھا (حبط واتل وشیء من سدر قلیل) ” بدمزہ تھے اور جن میں کچھ تو جھاؤ تھا اور تھوڑی سی بیریاں۔ “ یہ سب معروف درخت ہیں۔ یہ سزا ان کے عمل کی جنس سے تھی یعنی جس طرح انہوں نے شکر حسن کو کفر قبیح میں بدل ڈالا سی طرح ان کی وہ نعمتیں بدل دی گئیں جن کا گزشتہ سطور میں ذکر کیا گیا ہے، اس لئے فرمایا : (ذلک جزینھم بما کفروا وھل نجزی الا الکفور) ” یہ ہم نے انہیں ان کی ناشکری کی سزا دی اور ہم ناشکرے ہی کو سزا دیا کرتے ہیں۔ “ یعنی ہم جزا کے طور پر عذاب۔۔۔ جیسا کہ سیاق کلام سے ظاہر ہے۔۔۔ اس شخص کے سوا کسی اور کو نہیں دیتے جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا ہو اور اس کی عطا کردہ نعمت پر اتراتا رہا ہو۔
جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب ٹوٹ پڑا تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر گئے جبکہ اس سے پہلے وہ اکٹھے تھے۔ ہم نے ان کو قصے کہانیاں بنا کر رکھ دیا۔ لوگ ان کے بارے میں دن رات گفتگو کرتے ہیں۔ وہ پراگندگی میں ضرب المثل بن گئے اور ان کی مثال دی جانے لگی، چناچہ کہا جاتا ہے : (تفرقوا ایدی سباً ) ” وہ ایسے بکھر گئے جیسے قوم سبا بکھر گئی تھی۔ “ ہر شخص ان کے قصے بیان کرتا تھا، مگر عبرت سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور) ” بلا شبہ اس میں ہر صبر کرنے والے اور شکر گزار بندے کے لئے نشانیاں ہیں۔ “ ناپسندیدہ امور اور سختیوں پر صبر کرنے والا، جو ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر برداشت کرتا ہے، ان پر ناراضی کا اظہار نہیں کرتا بلکہ ان پر صبر کرتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار اور اعتراف کر کے اس پر اس کا شکر ادا کرتا ہے، منعم کی حمد و ثنا بیان کرتا ہے اور اس نعمت کو اس کی اطاعت میں صرف کرتا ہے۔
جب ان کا قصہ سنا جاتا ہے کہ ان کے کرتوت کیا تھے اور ان کے ساتھ کیا گیا تو معلوم ہوجاتا ہے کہ ان کو یہ سزا اس بنا پر دی گئی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناسپاسی کی تھی، نیز یہ اس پر بھی دلیل ہے کہ جو کوئی اس قسم کا رویہ اختیار کرے گا اس کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جائے گا۔
(1) یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ ’ دشکر “ اللہ تعالیٰ کی نعمت کی حفاظت اور اسی کی ناراضی کو دور کرتا ہے۔
(2) یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول اپنی خبر میں سچے ہیں۔
(3) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ جزا حق ہے جیسا کہ اس کا نمونہ دنیا میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ سبا ایسی قوم ہے جس کی وجہ سے شیطان نے اپنا یہ دعویٰ سچ کر دکھایا جیسا کہ اس نے کہا تھا : (آیت) تیریع زت کی قسم ! میں ان سب کو بدر راہ کر کے رہوں گا، سوائے تیرے مخلص بندوں کے۔ “
یہ شیطان کا گمان تھا جو یقین پر مبنی نہ تھا کیونکہ شیاطن غیب کا علم جانتا ہے نہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خبر ہی آئی تھی کہ وہ ان سب کو بدر راہ کرے گا سوائے ان مستثنیٰ لوگوں کے۔ پس یہ لوگ اور ان جیسے دیگر لوگ، جن کے بارے میں شیطان کا گمان سچا ثابت ہوا، اس نے ان کو اپنے راستے پر چلنے کی دعوت دی اور ان کو بہکایا، (فاتبعوہ الا فریقاً من المومنین) ” تو مومنوں کی ایک جماعت کے سوا وہ اس کے پیچھے چل پڑے۔ “ یعنی جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری نہیں کی تو یہ لوگ ابلیس کے گمان میں داخل نہیں ہیں۔
یہ بھی احتمال ہے کہ قوم سبا کا قصہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر ختم ہوگیا ہو : (ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور) اور پھر اس آیت کر یمہ سے دوبارہ کلام کی ابتدا کی ہو (ولقد صدق علیھم) ” اور تحقیق شیطان نے ان کے بارے میں (اپنا گمان) سچ کر دکھایا “ یعنی تمام انسانوں کی جنس کے بارے میں تب یہ آیت کریمہ، ان تمام لوگوں کے بارے میں عام ہے جنہوں نے شیطان کی پیروی کی۔
پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وما کان لہ) ” اور نہیں ہے اس کو “ یعنی ابلیس کو (علیھم من سلطن) ” ان پر کوئی غلبہ۔ “ یعنی شیطان کو کوئی تسلط اور غلبہ حاصل ہے نہ وہ کسی کو اپنے ارادے کے مطابق عمل کرنے پر مجبور کرسکتا ہے لیکن یہ تو اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے جو شیطان کے تسلط اور بنی آدم کو گمراہ کرنے میں اس کی فریب کاری کا تقاضا کرتی ہے۔ (لنعلم من یومن بالاخرۃ ممن ھو منھا فی شک) ” تاکہ ہم معلوم کرلیں کہ کون آخرت پر ایمان لاتا ہے اور کون اس بارے میں شک میں پڑا ہوا ہے۔ “ تاکہ امتحان کا بازار گرم رہے، سچے اور جھوٹے میں امتیاز واقع ہوجائے، وہ شخص پہچانا جائے جس کا ایمان صحیح ہے جو امتحان، آزمائش اور شیطانی شبہات کے وقت ثابت قدم رہا اور وہ شخص بھی پہچان لیا جائے جس کا ایمان صحیح نہیں جو ادنیٰ سے شب ہے پر متزلزل ہوجاتا ہے اور اس سے متضاد تھوڑی سی دعوت پر اپنے موقف سے ہٹ جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے امحتان کا ذریعہ بنایا ہے جس سے وہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے اور پاک لوگوں میں سے ناپاک کو ظاہر کردیتا ہے (وربک علی کل شیء حفیظ) ” اور آپ کا رب ہر چیز پر محافظ ہے۔ “ وہ بندوں کی حفاظت کرتا ہے، ان کے اعمال اور اعمال کی جزا کو محفوظ رکھتا ہے، لہٰذا تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کی پوری جزا دے گا۔
Ayahs 34:22–26آیت 22
(قل) اے رسول ! جو لوگ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی کو کوئی نفع نقصان نہیں دے سکتی انہیں خود ساختہ معبودوں کا عجز اور ان کی عبادت کا بطلان واضح کرتے ہوئے کہہ دیجیے : (ادعوا الذین زعمتم من دون اللہ) یعنی جنہیں تم اللہ تعالیٰ کا شریک سمجھتے ہو، اگر تمہارا پکارنا کوئی فائدہ دے سکتا ہے، تو انہیں پکار دیکھو۔ ان کی بےبسی اور تمہاری پکار کا جواب دینے پر عدم قدرت کے اسباب ہر لحاظ سے بہت زیادہ اور واضح ہیں۔
بلاشبہ وہ کسی ادنی سی چیز کے بھی مالک نہیں ہیں۔ (لایملکون مثقال ذرۃ فی السموت ولا فی الارض) ” وہ زمین و آسمان میں ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں “ یعنی وہ مستقل طور پر کسی چیز کے مالک ہیں نہ کسی چیز کی ملکیت میں اشتراک رکھتے ہیں، بنا بریں فرمایا : (ومالھم) ” اور ان کے لئے نہیں ہے “ یعنی جن کو تم نے معبود سمجھ رکھا ہے (فیھما) آسمانوں اور زمین میں (من شرک) ” کوئی شراکت “ یعنی خواہ وہ قلیل ہو یا کثیر، ان کا اس میں کوئی بھی حصہ نہیں ہے۔ پس وہ کسی چیز کے مالک ہیں نہ ملکیت میں ان کا کوئی حصہ ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ ان کے اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور ملکیت میں شریک نہ ہونے کے باوجود ان کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ مالک کے اعوان و انصار اور اس کے وزرئا ہیں، لہٰذا ان کو پکارنا نفع مند ہے، کیونکہ بادشاہ ان کا محتاج ہوتا ہے اور وہ اپنے متعلقین کی حاجتیں پوری کرتے ہیں۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس متربہ و مقام کی بھی نفی فرما دی، چناچہ فرمایا : (وما لہ) ” اور نہیں ہے اس کے لئے “ یعنی اللہ تعالیٰ واحد قہار کے لئے (منھم) ان خود ساختہ معبودوں میں سے (من ظہیر) کوئی معاون اور وزیر، جو کاروبار، اقتدار اور تدبیر مملکت میں اس کی مدد کرے۔
باقی رہی شفاعت تو اللہ تعالیٰ نے اس کی بھی نفی فرما دی، فرمایا : (ولا تنفع الشفاعۃ عندہ الا لمن اذن لہ) ” اور اس کے ہاں سفارش فائدہ نہیں دے گی مگر اس کے لئے جس کے بارے میں وہ اجازت بخشے۔ “ یہ وہ تعلقات اور تمام امیدوں کو منقطع کردیا اور ان کے بطلان کو اچھی طرح واضح کر کے شرک کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔ چونکہ مشرک غیر اللہ کی عبادت صرف اس لئے کرتا ہے کہ اسے غیر اللہ سے کسی نفع کی امید ہوتی ہے اور یہی امید شرک کی موجب ہوتی ہے تو جب یہ معلوم ہوجائے کہ وہ ہستی، جسے یہ اللہ کے سوا پکارتا ہے، کسی نفع و نقصان کی مالک ہے نہ مالک کی ملکیت میں شریک ہے، نہ اس کی معاون اور مددگار ہے اور نہ وہ مالک کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش کرسکتی ہے تو اس کا یہ پکارنا اور اس کی یہ عبادت عقل کے مطابق گمراہی اور شرعی کے مطابق باطل ہے۔
اس کے برعکس مشرک کو اس سے جو چیز حاصل ہوتی ہے وہ اس کے مقصود مطلوب کے بالکل الٹ ہوتی ہے۔ مشرک ان خود ساختہ معبودوں کے ذریعے سے نفع چاہتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس نفع کا بطلان اور اس کا معدوم ہونا واضح کردیا ہے اور بعض دیگر آیات میں ان خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرنے والے کے لئے ان کے ضرر کو بیان کردیا ہے۔ یہ بھی واضح کردیا ہے کہ قیامت کے روز یہ ایک دوسرے کا انکار کریں گے ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔ فرمایا : (واذا حشر الناس کانوا لھم اعدآء وکالوا بعبادتھم کفرین) (الاحقاف :6/36) اور جب تمام لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو وہ اپنی عبادت کرنے والوں کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت کا انکار کریں گے۔ “ بڑی عجیب بات ہے کہ مشرک آدمی تکبر و استکبار کی وجہ سے رسولوں کی اطاعت اس گمان سے نہیں کرتا کہ وہ بشر ہیں اور اس کا حال یہ ہے کہ وہ شجر و حجر کو پکارتا ہے اور ان کے سامنے سجدہ ریز ہوتا ہے، محض تکبر کی بنا پر رحمان کے لئے اخلاص نہیں رکھتا مگر اپنے بدترین دشمن شیطان کی اطاعت کرتے ہوئے ان ہستیوں کی عبادت پر راضی ہوجاتا ہے جن کا نقصان اس کے نفع سے زیادہ قریب ہے۔
(حتی اذا فزع عن قلوبھم قالوا ماذا قال ربکم قالوا الحق وھو العلی الکبیر) ” حتی کہ جب ان کے دلوں سے گھبراٹہ دور کردی جاتی ہے تو پوچھتے ہیں تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا ؟ تو وہ جواب دیتے ہیں کہ حق فرمایا اور وہ بلند وبالا اور بہت بڑا ہے۔ “ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں یہ احتمال موجود ہے کہ اس مقام پر ضمیر مشرکین کی طرف لوٹتی ہو کیونکہ آیت کریمہ میں لفظاً وہی مذکور ہیں اور ضمائر کے بارے میں قاعدہ بھی یہی ہے کہ یہ اپنے قریب ترین مذکور کی طرف لوٹتی ہیں تب اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ قیامت کے روز جب مشرکین کی گھبراہٹ دور ہوگی اور انہیں ہوش آئے گا تو ان سے دنیا میں ان کے احوال کے بارے میں سوال کیا جائے گا، حق لانے والے رسولوں کی تکذیب کے بارے میں ان سے پوچھا جائے گا تو وہ اقرار کریں گے کہ کفر اور شرک پر مبنی ان کا موقف باطل تھا اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا اور انبیاء ومرسلین نے اس کے بارے میں خبر دی تھی وہی حق تھا۔ تو اس سے پہلے جو کچھ وہ چھپایا کرتے تھے سب ان کے سامنے ظاہر ہوجائے گا اور انہیں معلوم ہوجائے گا کہ حق تو اللہ تعالیٰ کے لئے ہے اور وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کریں گے۔
(وھو العلی) وہ بذات تمام مخلوقات کے اوپر ہے، وہ ان پر غالب ہے اور وہ اپنی عظیم اور جلیل القادر صفات کی بنا پر عالی قدر ہے۔ (الکبیر) وہ اپنی ذات وصفات میں بہت بڑا ہے۔ یہ اس کی بلندی ہے کہ اس کا حکم سب پر غالب ہے نفوس اس کے سامنے سر تسلیم خم کئے ہوئے ہیں حتی کہ مشرکین و متکبرین کے نفوس بھی سرافگندہ ہیں۔ یہ معنی زیادہ واضح ہے اور یہی وہ معنی ہے جس پر سیاق کلام دلالت کرتا ہے۔
اس آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ ضمیر ملائکہ کی طرف لوٹتی ہو، یعنی جب اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے سے کلام فرماتے ہیں اور فرشتے اسے سنتے ہیں تو وہ غش کھا کر سجدے میں گرجاتے ہیں، پھر سب سے پہلے جبریل سر اٹھاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ جو ارادہ فرماتے ہیں اس کے بارے میں ان سے وحی کے ذریعے سے کلام کرتے ہیں۔ جب فرشتوں کی مدہوشی دور اور ان کی گھبراہٹ زائل ہوجاتی ہے تو وہ کلام الٰہی کے بارے میں ایک دوسرے سے سوال کرتے ہیں جس کی بنا پر ان پر غشی طاری ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے کیا ارشاد فرمایا ہے ؟ وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حق ارشاد فرمایا : یہ بات وہ یا تو اجمالی طور پر کہتے ہیں کیونکہ انہیں علم ہے کہ اللہ تعالیٰ حق کے سوا کچھ نہیں کہتے یا وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں فلاں بات ارشاد فرمائی ہے۔ یہ اس کلام کی وجہ سے کہتے ہیں جو انہوں نے اس سے سنا ہے اور یہ سب حق ہے۔
تب اس احتمال کے مطابق معنی یہ ہوگا کہ مشرکین جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان خود ساختہ معبودوں کی عبادت کی جن کے عجز اور قنص کے بارے میں ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ وہ کسی بھ لحاظ سے کسی کو کوئی نفع نہیں دے سکتے تو ان کفار نے رب عظیم کی عبادت میں اخلاص سے کیسے انحراف کیا، جو بلند اور بہت بڑا ہے جس کی عظمت و جلال کا یہ حال ہے کہ بڑے بڑے مکرم اور مقرب فرشتے، اس کا کلام سن کر خشوع و خضوع کی بنا پر غش کھا کر گرپڑتے ہیں اور اقرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حق کے سوا کچھ نہیں کہتا۔ ان مشرکین کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ تکبر سے اس ہستی کی عبادت سے انکار کرتے ہیں جس کی عظمت، اقتدار، تسلط اور شان کا یہ حال ہے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے شرک اور انکے کذب و بہتان طرازی سے بلند وبالا ہے۔
Ayahs 34:27–29آیت 27
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں ان سے ان کے شرک کی صحت کی دلیل طلب کرتے ہوئے کہہ دیجیے ! (من یرزقکم من السموت والارض) ” آسمانوں اور زمین سے تمہیں رزق کون فراہم کرتا ہے ؟ “ تو وہ لازمی طور پر اقرار کریں گے کہ اللہ تعالیٰ انہیں رزق مہیا کرتا ہے اگر وہ اس حقیقت کا اقرار نہ کریں تو (قل اللہ) ” کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ رزق عطا کرتا ہے۔ “
آپ ایک بھی ایسا شخص نہ پائیں گے جو اس بات کو رد کرسکے۔ جب یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے جو زمین و آسمان سے تمہیں رزق عطا کرتا ہے، وہ تمہارے لئے آسمان سے بارش برساتا ہے، وہ تمہارے لئے نباتات اگاتا ہے، وہ تمہارے لئے دریاؤں کو جاری کرتا ہے، وہ درختوں پر تمہارے لئے پھل اگاتا ہے، اس نے تمام حیوانتا کو تمہارے رزق اور تمہاری دیگر منفعتوں کے لئے تخلیق فرمایا۔ پھر تم اس کے ساتھ ان ہستیوں کی کیوں عبادت کرتے ہو جو تمہیں رزق عطا کرسکتی ہیں نہ کوئی نفع پہنچا سکتی ہیں ؟
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (وانا اویاکم لعلی ھدی او فی ضلل مبین) یعنی ہم دونوں گروہوں میں سے ایک گروہ ہدایت پر یا واضح گمراہی میں غرق ہے۔ یہ بات وہی شخص کہہ سکتا ہے جس پر حق ظاہر اور صواب واضح ہو، جسے اپنے موقف کے حق ہونے اور اپنے مخالف کے موقف کے بطلان کا یقین ہو۔
ہم نے وہ تمام دلائل واضح کردیئے ہیں جو ہم پیش کرتے ہیں اور جو تم پیش کرتے ہو۔ جن سے کسی شک کے بغیر یقینی علم حاصل ہوجاتا ہے کہ ہم میں سے حق پر کون ہے اور باطل پر کون ؟ کون ہدایت یافتہ ہے اور کون گمراہ ؟ حتی کہ اس کے بعد تعیین ایسے ہوجاتی ہے جس میں کوئی فائدہ نہیں۔
اگر آپ اس شخص کے درمیان۔۔۔ جو اس اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف دعوت دیتا ہے جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا، جو ان میں ہر قسم کا تصرف کرتا ہے، جو ہر قسم کی نعمت عطا کرتا ہے، جس نے ان کو رزق مہیا کیا، ان تک ہر قسم کی نعمت پہنچائی، ان سے ہر برائی کو دور کیا۔ تمام حمد و ثنا اسی کے لئے ہے، تمام فرشتے اور ان سے کم تر مخلوق اس کی ہیبت کے سامنے سرنگوں ہیں اور اس کی عظمت کے سامنے ذلت کا اظہار کرتے ہیں، تمام سفارشی اس سے خائف ہیں، ان میں سے کوئی شخص اس کی اجازت کے بغیر سفاشر نہیں کرسکتا جو اپنی ذات میں اور اپنے اوصاف وا فعال میں بہت بلند اور بہت بڑا ہے، جو ہر قسم کے کمال، جلال اور جمال کا مالک ہے، جو ہر قسم کی مجد اور حمد و ثنا کا مستحق ہے، وہ اس ہستی کے تقرب کے حصول کی دعوت دیتا ہے جس کی یہ شان ہے، اس کے لئے اخلاص عمل کا حکم دیتا ہے، اس کے سوا دیگر ہستیوں کی عبادت سے روتکا ہے۔۔۔ اور اس شخص کے درمیان موازنہ کریں جو خود ساختہ معبودوں، بتوں اور قبروں کے تقرب کے حصول کی کوشش کرتا ہے، جو کوئی چیز پیدا کرسکتے ہیں نہ رزق دے سکتے ہیں، وہ خود اپنی ذات کے لئے کسی نفع و نقصان، موت وحیات اور مرنے کے بعد دوبارہ زندگی کا کوئی اختیار رکھتے ہیں نہ اپنے عبادت گزاروں کے لئے، بلکہ یہ تو جمادات اور پتھر ہیں جو عقل رکھتے ہیں نہ اپنے عبادت گزاروں کی پکار کو سنتے ہیں، اگر سن بھی لیں تو ان کو جواب نہیں دے سکتے۔ قیامت کے روز یہ ان کے شرک کا انکار اور ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے، ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں ان کا کوئی حصہ ہے نہ شراکت اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ان کی سفارش کرسکتے ہیں۔ یہ شخص اس ہستی کو پکارتا ہے، جس کا مذکورہ بالا وصف ہے، امکان بھر اس کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس شخص کے ساتھ عداوت رکھتا اور اس کے ساتھ جنگ کرتا ہے جو دین میں اخلاص کا حامل ہے اور وہ اللہ کے رسولوں کی تکذیب کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص کی دعوت دیتے ہیں۔۔۔ تو آپ پر واضح ہوجائے گا کہ فریقین میں سے کون ہدایت یافتہ اور کون گمراہ ہے، کون نیک بخت اور کون بدبخت ہے۔ اس بات کی حاجت نہیں کہ اس کو بیان کرنے کے لئے آپ کی کوئی مدد کرے کیونکہ زبان حال زبان مقال سے زیادہ واضح اور زیادہ فصیح ہے۔
(قل) ” کہہ دیجیے :“ انہیں (لاتسلون عما انجرمنا ولا نسل عما تعملون) یعنی ہم میں سے اور تم میں سے ہر شخص کا اپنا اپنا عمل ہے۔ ہمارے جرائم اور گناہوں کے بارے میں تم سے نہیں پوچھا جائے گا اور نہ تمہارے اعمال کے بارے میں ہم سے سوال کیا جائے گا۔ ہمارا اور تمہارا مقصد صرف طلب حق اور انصاف کے راستے پر چلنا ہونا چاہیے اور چھوڑو اس بات کو کہ ہم کیا کرتے ہیں، نیز یہ بات تمہارے لئے اتباع حق سے مانع نہیں ہونی چاہیے کیونکہ دنیا کے احکام ظواہر پر جاری ہوتے ہیں، ان میں حق کی پیروی کی جاتی ہے اور باطل سے اجتناب کیا جاتا ہے۔ رہے اعمال، تو ان کے فیصلے کے لئے آخرت کا گھر ہے، ان کے بارے میں احکم الحاکمین اور سب سے زیادہ عادل ہستی فیصلہ کرے گی۔ بنا بریں فرمایا : (قل یجمع بیننا ربنا ثم یفتح بیننا) ” کہہ دیجیے کہ ہمارا رب ہمیں جمع کرے گا۔ بنا بریں فرمایا : (قل یجمع بیننا ربنا ثم یفتح بیننا) ” کہہ دیجیے کہ ہمارا رب ہمیں جمع کرے گا پھر ہمارے درمیان (حق و انصاف کے ساتھ) فیصلے کرے گا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان ایسا فیصلہ کرے گا جس سے سچے اور جھوٹے، ثواب کے مستحق اور عذاب کے مستحق لوگوں کے درمیان امتیاز واضح ہوجائے گا اور وہ سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا ہے۔
(قل) اے رسول ! آپ اور وہ، جو آپ کا قائم مقام ہو، ان سے کہہ دیں : (ارونی الذین الحقتم بہ شرکآء) ” مجھے وہ لوگ تو دکھاؤ جن کو تم نے اس کا شریک بنا کر اس کے ساتھ ملا رکھا ہے۔ “ یعنی مجھے دکھاؤ وہ کہاں ہیں ؟ ان کی معرفت کا کیا طریقہ ہے ؟ وہ زمین میں ہیں یا آسمان میں ؟ کیونکہ غیب اور شہادت کو جاننے والی ہستی نے ہمیں آگاہ فرمایا ہے کہ اس کائنات میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ (آیت) ” اور یہ لوگ اللہ کے سوا ان کی عبادت کر رہے ہیں جو ان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں، آپ کہہ دیجیے تم اللہ کو جتاتے ہو جو اس کو معلوم نہیں آسمانوں میں اور نہ زمین میں وہ ایسی ابتوں سے پاک اور بالاتر ہے جو یہ شرک کرتے ہیں۔ “” اور جو یہ لوگ اللہ کے سوا خود ساختہ شریکوں کو پکارتے ہیں، یہ محض وہم و گمان کی پیروی کرتے ہیں اور محض اندازے لگاتے ہیں۔ “
اسی طرح اللہ تعالیٰ کی خاص مخلوق، یعنی انبیاء ومرسلین کے علم میں بھی کوئی اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں ہے، تو اے مشرکو ! مجھے دکھاؤ جن کو تم نے اپنے زعم باطل کے مطابق اللہ تعالیٰ کے (شرکآء) ” شریک “ ٹھہرا دیا ہے۔ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب ان سے ممکن نہیں، اس لئے فرمایا : (کلا) ” ہرگز نہیں “ یعنی اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک، کوئی ہمسر اور کوئی مدمقابل نہیں۔ (بل ھو اللہ) ” بلکہ وہ اللہ ہے “ جس کے سوا کوئی الوہیت اور عبادت کا مستحق نہیں۔ (العزیز) جو ہر چیز پر غالب ہے، اس کے سوا ہر چیز مقہور اور اس کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہے۔ (الحکیم) ” حکمت والا ہے “ اس نے جو چیز بھی تخلیق کی نہایت مہارت سے تخلق کی۔ اس نے جو شریعت بنائی، بہترین شریعت بنائی۔
اگر اس کی شریعت میں صرف یہی حکمت پنہاں ہوتی کہ اس نے اپنی توحید اور اخلاص فی الدین کا حکم دیا، اسی کو پسند فرمایا اور اسی کو نجات کی راہ قرار دیا ہے، اس نے شرکت اور اللہ تعالیٰ کے ہمسر بنانے سے روکا اور اس کو ہلاکت اور بدبختی کا راستہ قرار دیا ہے۔۔۔ تو اس کے کمال حکمت کے اثبات کے لئے یہی دلیل کافی ہے۔۔۔ تب اس شریعت کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں جس کے تمام اوامرو نواہی حکمت پر مشتمل ہیں ؟