34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 34:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 34:1 in the Quran reader

(ساری) حمد اللہ ہی کے لئے ہے کہ اسی کی ملک ہے جو کچھ آسمانون میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اسی کی حمد ہے آخرت میں اور وہی بڑا حکمت والا ہے، بڑا خبر رکھنے والا ہے،1۔

1۔ وہ حکیم ایسا کہ عالم کائنات کے ذرہ ذرہ کو منافع ومصالح سے بھر دیا ہے وہ خبیر ایسا کہ موجودات کے گہرے سے گہرے نقوش اس پر عیاں۔ (آیت) ” لہ الحمد فی الاخرۃ “۔ یعنی جس طرح آج سزاوار حمد وہ ذات اپنے تمام مظاہر تکوینی کے لحاظ سے کل بروز کامل اور انکشاف حقائق کے وقت بھی قابل حمد وہی نظر آئے گی ..... یہ بھی کہا گیا ہے کہ قابل حمد ہے وہ ذات ابتداء یعنی ازل میں باعتبار تخلیق وایجاد کے اور آخرت میں باعتبار ربوبیت وعطائے انعامات کے۔ (آیت) ” للہ۔ لہ مافی السموت۔ لہ الحمد “۔ تینوں میں ل اختصاص کا ہے۔
Ayah 34:2

یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ الرَّحِیْمُ الْغَفُوْرُ Open ayah 34:2 in the Quran reader

وہ (سب) جانتا ہے جو کچھ زمین کے اندر داخل ہوتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے، اور بڑا رحم والا ہے، بڑا مغفرت والا ہے،2۔

2۔ (آیت) ” رحیم “۔ مبداء کے لحاظ سے .... سب کو وجود میں لانے والی اس کی شان رحمت ہی ہے۔ (آیت) ” غفور “۔ منتہی کے لحاظ سے۔ سب کو حسن انجام تک پہنچانے والی اس کی شان غفوریت ہی ہے۔ (آیت) ” مایلج فی الارض “۔ زمین کے اندر داخل ہونے والی چیزیں مثلا بارش یا تخم نباتات وغیرہا۔ (آیت) ” مایخرج منھا “۔ زمین سے باہر نکلنے والی چیزیں مثلا نباتات، معدنیات وغیرہا۔ (آیت) ’ ’ ماینزل من السمآء “۔ آسمان سے اترنے والی چیزیں مثلا ملائکہ، احکام الہی وغیرہا۔ (آیت) ” مایعرج فیھا “۔ آسمان پر چڑھنے والی چیزیں مثلا ملائکہ۔ اعمال انسانی، دعائیں۔ (آیت) ” یعلم “۔ الخ آیت سے تمام اصناف معلومیت کا احاطہ کرلیا۔ یعنی بڑی چھوٹی، یہاں وہاں کی کوئی شے بھی اس کے علم سے باہر نہیں ...... جاہلی قوموں نے بڑی ٹھوکریں حق تعالیٰ کی صفت علم ہی کے بارے میں کھائی ہیں۔ شاید اسی لئے اسی کی وضاحت قرآن مجید نے اس کثرت کے ساتھ کی ہے۔
Ayah 34:3

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِیْنَا السَّاعَةُ١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتَاْتِیَنَّكُمْ١ۙ عٰلِمِ الْغَیْبِ١ۚ لَا یَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ لَاۤ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرُ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍۗۙ Open ayah 34:3 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہ آئے گی، آپ کہہ دیجیے ضرور (آئے گی) قسم ہے میرے پروردگار عالم الغیب کی وہ ضرور تم پر آئے گی اس سے کوئی ذرہ برابر بھی غائب نہیں آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہ کوئی چیز اس سے چھوٹی اور نہ کوئی بڑی، مگر یہ کہ (یہ سب) کتاب مبین میں (درج) ہے،3۔

3۔ یعنی علاوہ حق تعالیٰ کے علم ذاتی کے وہ خدائی رجسٹر میں بھی باضابطہ درج ہے۔ (آیت) ” کتب مبین “۔ یعنی لوح محفوظ۔ وھو اللوح المحفوظ عند الاکثرین (روح) (آیت) ” فی السموت ولا فی الارض “۔ یعنی کائنات میں کہیں بھی ہو۔ (آیت) ’ لااصغر من ذلک ولا اکبر “۔ یعنی کسی مقدار وحجم کا بھی ہو۔ (آیت) ” بلی وربی “۔ ایک خدا پرست کیلئے خدا کی قسم سے بڑھ کر تاکید و توثیق کی اور کون سی چیز ہوسکتی ہے۔ نہ کہ کوئی مخصوص قوم وقبیلہ۔ اراد بالضمیر المتکلم جنس البشر قاطبۃ لا انفسھم اومعاصر یھم (روح)
Ayah 34:4

لِّیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 34:4 in the Quran reader

(قیامت اس لئے آئے گی) تاکہ ان لوگوں کو صلہ دے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ایسے لوگوں کیلئے مغفرت ہے اور عزت کی روزی،4۔

4۔ یہ بیان وقوع قیامت کی حکمت وغایب کا ہے کہ بغیر یوم حشر کے، بغیر سزا وجزا کے یہ سلسلہ کائنات ناتمام رہ جاتا ہے۔ (آیت) ” لیجزی “۔ میں ل عاقبت کا بھی ہوسکتا ہے۔ اور تعلیل کا بھی (آیت) ” لیجزی الذین “۔ الخ کا ربط نحوی پچھلی آیت کے (آیت) ” لتاتینکم “۔ سے ہے۔ (آیت) ” رزق کریم “۔ رزق پر حاشیہ پہلے گزر چکا ہے، کہ اس کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ ہر قسم کے انعامات پر شامل۔ محض روزی اس کا بہت ناکافی ترجمہ ہے۔
Ayah 34:5

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ Open ayah 34:5 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیتوں کے باب میں کوشش کرتے رہتے ہیں ہرانے کے لئے، ایسے لوگوں کیلئے سختی کا دردناک عذاب ہوگا،5۔

5۔ یعنی ایسے لوگوں کے لئے جو آیات الہی کے ابطال کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔ اے المجاھدین فی ابطالھا (روح۔ عن ابن زید) (آیت) ” من رجز “ میں من بیانیہ ہے۔ من للبیان (روح)
Ayah 34:6

وَ یَرَى الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ هُوَ الْحَقَّ١ۙ وَ یَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ Open ayah 34:6 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ اس قرآن کو جو آپ پر آپ کے پروردگار کی طرف سے اتارا گیا ہے سمجھتے ہیں کہ وہ حق ہے اور وہ راستہ بتاتا ہے غلبہ والے قابل حمد (خدا) کا،6۔

6۔ یعنی قرآن بجائے خود بھی ایک سچی کتاب ہے، اور رضائے الہی کا راستہ دکھانے والی بھی۔ (آیت) ” اوتوالعلم “۔ یعنی حقائق اشیاء کا ادراک اور کتب آسمانی کی معرفت رکھنے والے۔ (آیت) ” یری “۔ یہاں یعلم “۔ کا مرادف ہے۔ رؤیت کا تعلق صرف بصارت ظاہری سے نہیں۔ قلب بشری سے بھی ہے۔ اور فہم بھی اس کے مفہوم میں داخل ہے۔ (آیت) ” صراط العزیز الحمید “۔ خدائے غالب ومحمود کا راستہ۔ یعنی اس کی رضا کا راستہ۔
Ayahs 34:7–8

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ یُّنَبِّئُكُمْ اِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ۙ اِنَّكُمْ لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 34:7 in the Quran reader

اور کافر (آپس میں) کہتے ہیں (کہ آؤ) ہم تمہیں ایسے شخص کا پتہ بتا دیں نا ؟ جو تم کو یہ خبردیتا ہے کہ جب تم بالکل ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تو تم ضرور ایک نئے جنم میں آؤ گے

اَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَمْ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلِ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ فِی الْعَذَابِ وَ الضَّلٰلِ الْبَعِیْدِ Open ayah 34:8 in the Quran reader

اس نے (یا تو) خدا پر جھوٹ بہتان باندھا ہے یا اسے جنون ہی ہے،7۔ بات یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہی عذاب اور دور دراز کی گمراہی میں (مبتلا) ہیں،8۔

7۔ یہ سارا قول مشرک منکرین قیامت کا نقل ہورہا ہے وقوع قیامت کا تو ان کے زعم میں کوئی امکان ہی نہ تھا۔ اب جب وہ یہ عقیدہ پیغمبر کی زبان سے سنتے، تو پہلے تو اسے ایک عجیب و غریب خبر سمجھ کر آپس میں اس کا تذکرہ، چرچا کرتے، اور پھر قائل کے قول کی توجیہ لامحالہ انہیں دو شقوں سے کرتے کہ قائل یا تو دانستہ ایک بات گڑھ کر بیان کررہا ہے، اور یا نادان فاتر العقل ہے۔ ٹھیک اسی طرح آج بھی ” مستشرقین اسلام “ جب قلم اٹھاتے ہیں تو یہ تو بطور علوم متعارفہ فرض کرلیتے ہیں کہ دعوی رسالت صحیح تو بہرحال ہو نہیں سکتا۔ اب مدعی رسالت یا تو نعوذ باللہ خادع (lmpostor) ہوگا ا اور یا نادان اور خود فریبی میں مبتلا !۔ (آیت) ” رجل ..... جدید “۔ یہ بات ایک دوسرے سے وہ حیرت واستعجاب اور تحیر و استہزاء کے لہجہ میں کہتے۔ 8۔ اور اس شدید گمراہی کا اثر فی الحال یہ ہے کہ انہیں سچے بھی مفتری اور مجنون نظر آتے ہیں اور فی المآل یہ ہوگا کہ انہیں عذاب بھگتنا پڑے گا۔ (تھانوی (رح )
Ayah 34:9

اَفَلَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَیْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ۠ Open ayah 34:9 in the Quran reader

تو کیا انہوں نے اپنے آگے اور اپنے پیچھے آسمان و زمین کی طرف نظر نہیں کی،9۔ ہم اگر چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں اس میں پوری دلیل ہے ہر جھکنے والے بندے کے لئے،10۔ اور بالیقین ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو اپنی طرف سے ایک (بڑی) بڑائی دی تھی،11۔ اے پہاڑوان کے ساتھ تسبیح کرتے رہو،12۔

9۔ کہ وہی ان کے دل کو قدرت الہی کی عظمت کے دلائل سے لبریز کردینے کے لئے کافی ہیں۔ جو ایسے اجرام عظیمہ کا ابتداء پیدا کرنے والا ہے وہ کیا اجسام صغیرہ کے خلق ثانی پر قادر نہیں ؟ 10۔ (آیت) ’ عبد منیب “۔ یعنی جس کے دل میں حق کی طلب اور اللہ کی طرف جھکاؤ ہے۔ مطلب یہ کہ دلیل تو قدرت الہیہ کی پوری پوری موجود ہے مگر ان لوگوں میں طلب ہی نہیں، اس لئے یہ محروم ہیں۔ (آیت) ” ان ..... السمآء “۔ لیکن حکمت مقتضی ہے تاخیر کو، اور اس لئے انہیں مہلت دے رکھی گئی ہے۔ 11۔ (کہ انہیں زمین کی ایک بڑی مملکت کا حکمران بنادیا تھا) (آیت) ” فضلا “۔ صیغہ نکرہ اظہار عظمت واہمیت کے لئے ہے۔ وتنکیرہ للتفخیم (روح) (آیت) ” منا “۔ یعنی یہ فضل ہماری طرف سے بلاکسی واسطہ کے اور براہ راست تھا۔ اے بلاواسطۃ۔ لتاکید فخامتہ الذاتیۃ بفخامتہ الاضافیۃ (روح) آپ کی وسعت مملکت وغیرہ کے لئے ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ۔ خود حضرت داؤددان کی نبوت وسلطنت اور ان کے معجزات خاص پر حاشیے ان اوراق میں پہلے ہی گزر چکے۔ 12۔ پہاڑوں اور پرندوں کو یہ حکم تکوینی طور پر ملا تھا۔ (آیت) ” اوبی معہ “۔ ینجی معہ کے مرادف ہے۔ اے ینجی معہ قال ابن عباس ؓ وقتادہ وابن زید (روح) تسبیح جبال وطیور کی یہ ” عقلی “ تاویل کہ ان کی تسبیح زبان حال سے ہوتی رہتی ہے، عقلا بھی بہت عجیب ہے، زبان حال سے تو ہر مخلوق کی تسبیح ہر وقت ہوتی ہی رہتی ہے ،۔ اسے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے فضائل سے کیا تعلق ہے۔ مراد یہ معلوم ہوتی ہے کہ آپ (علیہ السلام) کی آواز میں وہ دردوسوز اور وہ کیفیت خشوع رکھی گئی تھی کہ پہاڑ جیسی جامد اور سخت مخلوق اور پرند جیسی انسان سے دور دور گریزاں رہنے والی مخلوق تک بےتاثر نہ رہتی، اور اپنے ذکر الہی میں آپ کی ہم زبانی پر مضطر پانی۔ امام رازی (رح) نے بھی یہی مطلب لیا ہے کہ تسبیح میں معیت انہیں دومخلوق تک محدود نہیں۔ بلکہ جبال وطیور کا ذکر صرف انتہائی نمونوں کے طور پر کیا گیا ہے۔ لم یکن الموافق لہ فی التأویب منحصرا فی الجبال والطیر (کبیر)
Ayahs 34:10–11

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا١ؕ یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَهٗ وَ الطَّیْرَ١ۚ وَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَۙ Open ayah 34:10 in the Quran reader

اور پرندوں کو (بھی یہی حکم دیا) اور داؤد (علیہ السلام) کے واسطے ہم نے لوہے کو نرم کردیا

اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرْ فِی السَّرْدِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 34:11 in the Quran reader

کہ تم پوری زرہیں بناؤ اور (ان کے) جوڑ میں (مناسب) اندازہ رکھو اور تم سب نیک کام کرو، میں خوب دیکھ رہا ہوں جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو،13۔

13۔ (اس لئے رعایت حدود کا پورا اہتمام رکھو) حضرت داؤد (علیہ السلام) کی زرہ سازی پر حاشیے سورة الانبیاء پ 17 میں گزرچکے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) ایک طرف نبوت و رسالت اور دوسری طرف حکومت وسلطنت کے باوجود اپنا مستقل ذریعہ معاش صنعت زرہ سازی کو بنائے ہوئے تھے۔ اور اسی کی تجارت کرتے تھے تو ایسے سے یہ مسئلہ بھی نکل آیا کہ صناعی ودستکاری منصب نبوت کے بھی منافی نہیں۔ چہ جائیکہ مرتبہ ولایت کے ! مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے تین مسئلے نکلے۔ ایک خرق عادت کا اثبات، دوسرے دستکاری سے کمانے کی فضیلت، تیسرے ہر کام میں اعتدال، انتظام وتناسب کی رعایت یہاں تک کہ امور حسی ودنیوی میں بھی۔
Ayah 34:12

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَّ رَوَاحُهَا شَهْرٌ١ۚ وَ اَسَلْنَا لَهٗ عَیْنَ الْقِطْرِ١ؕ وَ مِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْهِ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 34:12 in the Quran reader

اور (ہم نے) سلیمان کے لئے ہوا کو (مسخر کردیا) کہ اس کی صبح کی منزل مہینہ بھر کی ہوتی اور اس کی شام کی منزل مہینہ بھر کی ہوتی،14۔ اور ہم نے ان کے لئے تانبے کا چشمہ بہادیا،15۔ اور جنات میں کچھ وہ تھے جو ان کے آگے ان کے پروردگار کے حکم سے (خوب) کام کرتے تھے،16۔ اور ان میں سے جو کوئی ہمارے حکم سے سرتابی کرے اسے ہم دوزخ کا مزہ بھی چکھا دیں گے،17۔

14۔ (آیت) ” شھر “ مرادف ہے مسیرۃ شہر کے یعنی مہینہ بھر کی راہ، اور راہ بھی وہ جتنی کہ ایک تیز رواسپ سوار مہینہ بھر میں طے کرے، اے مسیرۃ شھر للراکب المسرع (مدارک) حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی سیاحت ہوائی پر حاشیے سورة الانبیاء (پ 17) میں گزر چکے ... گویا بڑے بڑے تیز رفتار ہوائی جہاز آپ (علیہ السلام) کے تابع تھے، گو وہ بجائے تیل اور مشیزی اور انجن وغیرہ کے براہ راست قدرت الہی سے چلتے ہوں۔ 15۔ یعنی تانبے کو اس کے معدن میں رقیق سیال کردیا تھا تاکہ اس سے بلامدد آلات مصنوعات کے بنانے میں سہولت ہو۔ پھر وہ منجمد ہوجاتا۔ ؛ یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ زیر زمین جہاں گرم اور رقیق تانبے کے چشمے ہیں۔ وہ آپ پر منکشف کردیئے گئے تھے۔ 16۔ (آیت) ” باذن ربہ “۔ یعنی ان کے پروردگار کے حکم تسخیری وتکوینی سے۔ اس سے یہ بھی صاف ہوگیا کہ یہ نعمت پروردگار کی طرف سے عطا ہوئی تھی، (آیت) ” ومن الجن “۔ جنات کی تفسیر قوی، ہیکل انسانوں سے کرنے والے کچھ اسی دور مادیت کے ساتھ مخصوص نہیں۔ ایسے ” روشن خیال “ پہلے بھی فرقہ باطنیہ اور دوسرے گمراہ فرقوں میں گزر چکے ہیں۔ جنہوں نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ تسبیح جبال سے مفہوم تسبیح بزبان حال کا لیا تھا۔ اور جنات کی تفسیر قد آور انسانوں سے کی تھی۔ وقس علی ہذا ..... صاحب بحر نے ایسی ساری تحریفات کو باطنیہ اور ان کے ہم مشربوں کی جانب منسوب کیا ہے۔ ولبعض الباطنیۃ اومن یشبھھم تحریف فی ھذہ الجمل۔ اور امام رازی (رح) نے ان اقوال کو بعض الناس کی جانب منسوب کیا ہے، اور دونوں بزرگوں نے ان اقوال کے لغو ومہمل ہونے پر اتفاق کیا ہے۔ وھذا تاویل فاسد وخروج بالجملۃ عما یقولہ اھل التفسیر فی الایۃ (بحر) وھذا کلھا فاسد (کبیر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ تسخیر جنات اگر کسی عمل وغیرہ کے ذریعہ سے نہو، محض منجانب اللہ ہوتوعبدیت کے منافی نہیں۔ 17۔ عذاب دوزخ کی تصریح سے معلوم ہوتا ہے کہ ان جنات کو علاوہ تکوینی محکومی کے حکم تشریعی بھی پیغمبر وقت کے احکام کی تسلیم وانقیاد کا ملا تھا۔
Ayah 34:13

یَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا یَشَآءُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَ تَمَاثِیْلَ وَ جِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَ قُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ١ؕ اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا١ؕ وَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ Open ayah 34:13 in the Quran reader

سلیمان کے لئے وہ، وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں (بنوانا) منظور ہوتیں (مثلا) بڑی عمارتیں اور مجسمے اور لگن جیسے حوض اور (بڑی بڑی) جمی ہوئی دیگیں،18۔ اے داؤد کے خاندان والو،19۔ تم شکریہ میں (نیک) کام کرو اور میرے بندوں میں کم ہی شکر گذار ہوتے ہیں،20۔

18۔ یہ جنات جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے تابع و محکوم تھے۔ آپ کیلئے عمارتیں اور دیگیں اور لگنیں سب بڑی بڑی عظیم الشان تیار کرتے تھے۔ تمثال۔ جس قسم کی مورت کو کہتے ہیں، اسی کو آج کی اصطلاح میں مجسمہ سے موسوم کرتے ہیں۔ اگلی شریعتوں میں یہ چیز حرام نہ تھی۔ یدل علی ان عمل التصاویر کان مباحاوھو محظور فی شریعۃ النبی ﷺ (جصاص) اسی لفظ تمثال سے سند پکر کر ایک قول تصویر سازی کے جواز میں نقل ہوا ہے۔ وحکی مکی فی البدایۃ ان قوما اجازوا التصویر (بحر) لیکن صاحب بحر نے اس کو نقل کرکے لکھا ہے کہ مجھے کسی عالم ربانی کا علم نہیں جس نے تصویر کو جائز رکھا ہو۔ وما احفظ من ائمۃ العلم من تجوزہ۔ اور صاحب روح نے بھی اسی کو نقل کرکے لکھا ہے کہ فلایلتفت الی ھذا القول ولا یصح الاحتجاج بالایۃ۔ نہ یہ قول قابل التفات ہے اور نہ آیت سے کوئی استنباط نکلتا ہے۔ ایک روایت یہ بھی نقل ہوئی ہے کہ یہ مجسمے انبیاء وملائ کہ وصالحین کے تھے، اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی دعاء سے ان میں جان پڑگئی تھی، لیکن بقول صاحب روح ھذا من عجب العجاب ولا ینبغی اعتقاد صحتہ وما ھو الاحدیث خرافۃ۔ یہ حکایت بہت ہی عجیب و غریب ہے، ہرگز یقین کرنے کے قابل نہیں۔ یہ محض ایک لغو روایت ہے۔ (آیت) ” یعملون ..... محاریب “۔ مسجد اقصی اور بیت المقدس کی اور عبادت گا ہیں آپ (علیہ السلام) ہی کی تعمیر کرائی ہوئی ہیں اور لوگ آج بھی ان عمارتوں بڑے بڑے مقبروں کو دیکھ کر دنگ رہ جاتے ہیں۔ 19۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور ان کے متعلقین مراد ہیں یہ انہیں مخاطب کرکے حکم ہوا تھا۔ 20۔ شکر گزار بندوں سے مراد ہیں اپنی خداداد صلاحیتوں، قابلیتوں، استعدادوں کے حق ادا کرنے والے یعنی اعمال صالحہ کرنے والے۔
Ayah 34:14

فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلٰى مَوْتِهٖۤ اِلَّا دَآبَّةُ الْاَرْضِ تَاْكُلُ مِنْسَاَتَهٗ١ۚ فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا فِی الْعَذَابِ الْمُهِیْنِؕ Open ayah 34:14 in the Quran reader

پھر جب ہم نے ان پر موت کا حکم جاری کردیا،21۔ تو کسی چیز نے ان کی موت کا پتہ نہ بتایا بجز ایک زمینی کیڑے کے کہ وہ سلیمان کے عصا کو کھاتا تھا، سو جب وہ گر پڑے تب جنات پر حقیقت ظاہر ہوئی کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلت کی مصیبت میں نہ رہتے،22۔

21۔ (اور ان کا انتقال ہوگیا) سلیمان (علیہ السلام) بھی بایں شان و شوکت بہرحال ایک دن وفات پاگئے آیت میں ضمنا یہ تعلیم آگئی کہ سلیمان جب ہوا پر اڑ کر اور جنات پر حکومت کرکے بھی موت سے نہ بچ سکے سو کسی دوسرے بشرکا کیا ذکر۔ تنبیھا للخلق علی ان الموت لا بدمنہ ولو نجامنہ لکان سلیمان اولی بالنجاۃ منہ (کبیر) 22۔ آثار روایت میں آتا ہے کہ جب سلیمان (علیہ السلام) کو اپنی موت کا قرب محسوس ہوا تو آپ تخت پر عصا کی ٹیک لگا کر بیٹھ گئے اور اسی ہیئت میں انفکاک روح ہوگیا۔ اور ایک طویل مدت تک اسی وضع پر بیٹھے رہے، جنات آپ کو بیٹھا ہوا دیکھ کر آپ کو زندہ سمجھے اور قریب آنے کی کسی کو ہمت نہ ہوئی۔ بدستور اپنے اپنے کام میں لگے رہے، جب عصا میں گھن لگے گیا، عصا گرا اور آپ کا جسم بھی اس وضع پر قائم نہ رہ سکا، اور جنات کو اپنے غیب دانی کی حقیقت خوب روشن ہو کر رہی۔ (آیت) ” دآبۃ الارض “۔ سے مراد دیمک ہے یا لکڑی کا کوئی اور کیڑا۔ (آیت) ” العذاب المھین “۔ سے مراد مشقتیں ہیں جو ان مملوکوں کے حق میں ذلت انگیز بھی تھیں۔ امام رازی (رح) نے اسی لفظ سے استدلال کیا ہے کہ یہ جنات مومن قسم کے نہ تھے۔ مومنین پیغمبر کے عہد میں عذاب مہین میں مبتلا ہو نہیں سکتے۔ (آیت) ” الجن “۔ جنات پر حاشیہ ابھی نمبر 16 میں گزر چکا ہے۔ آیت میں اس جانب بھی اشارہ ہے کہ کبھی قوی کو ضعیف سے بھی استفادۂ علمی ہوجاتا ہے۔ فیہ اشارۃ الی ان الضعیف قدیفید القوی علما (روح)
Ayah 34:15

لَقَدْ كَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْكَنِهِمْ اٰیَةٌ١ۚ جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّ شِمَالٍ١ؕ۬ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ بَلْدَةٌ طَیِّبَةٌ وَّ رَبٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 34:15 in the Quran reader

سبا (والوں) کیلئے انکے وطن (ہی) میں نشان موجود تھا دو (قطاریں تھیں) باغ (کی) داہنے اور بائیں،23۔ کھاؤ اپنے پر ودرگارکا (دیا ہوا) رزق اور اس کا شکر کرو عمدہ شہر اور مغفرت والا پروردگار،24۔

23۔ یعنی علاقہ میں دو طرفہ باغات کا سلسلہ متصل چلا گیا تھا۔ بعض مؤرخین نے کہا ہے کہ ان باغوں کی وسعت 300 میل مربع کی تھی۔ اور یہ سارا رقبہ خوشبودار درختوں اور طرح طرح کے لذیذ میووں اور پھلوں سے بھرا ہوا تھا۔ (آیت) سبا ]‘۔ یہ ملک سبا وہی ہے جو عرب کے جنوب میں اب علاقہ یمن کہلاتا ہے۔ نہایت سرسبز، شاداب، زرخیز خطہ تھا۔ (آیت) ” ایۃ “۔ یعنی اللہ کے کمال قدرت وصناعی کانشان۔ علامۃ دالۃ علی وجود الصانع المختار وانہ قادر علی ما یشآء من الامور العجیبہ (بیضاوی) 24۔ گویا اتنی دنیوی نعمتوں کا اجتماع تھا، اور مطالبہ صرف ادائے حقوق کا تھا۔ (آیت) ” طیبۃ “۔ سے اشارہ ہوسکتا ہے کہ شہر کی لطیف آب وہوا کی جانب ہو۔ یروی انہ کان لطیفۃ الھواء حسنۃ التربۃ (روح)
Ayah 34:16

فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ وَ بَدَّلْنٰهُمْ بِجَنَّتَیْهِمْ جَنَّتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُكُلٍ خَمْطٍ وَّ اَثْلٍ وَّ شَیْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ Open ayah 34:16 in the Quran reader

سو انہوں نے سرتابی کی،25۔ سو ہم نے ان پر بند کا سیلاب چھوڑ دیا،26۔ اور ہم نے ان کے دو رویہ باغوں کے عوض دو باغ اور دیئے جو بد مزہ پھل اور جھاؤ اور قدرے قلیل بیری والے تھے،27۔

25۔ یعنی کفر وشرک اور کثرت معاصی میں پڑگئے اور ناصحین کی کچھ نہ سنی۔ 26۔ سد مارب، ایک مشہور تاریخی بند ہے جو پہاڑوں کے پانی کے ذخیرہ کے لئے بنایا گیا ہے مارب ملک سبا کا دارالسلطنت تھا، موجودہ شہر صنعاء سے کوئی 60 میل مشرق میں اور سطح سمندر سے کوئی 3900 فٹ بلند .... قوم سبا ایک بڑی متمدن قوم تھی۔ اس کا یہ کئی میل کالانبا چوڑا بند سبا کے انجینئروں کی فنکاری کا اعلی نمونہ تھا۔ یہ عظیم الشان بند ظہور اسلام سے کچھ قبل ٹوٹا ہے، تخمینا 542 ء ؁ میں۔ اس کی تباہ کاریوں کے آثار صدیوں بعد تک قائم رہے۔ چناچہ ایک سیاح نے 848 ء ؁ میں معائنہ کئے۔ طول میں یہ بند 150 فٹ اور عرض میں 50 فٹ تھا۔ 27۔ یعنی وہ پرفضاباغات مٹ مٹا کر اب جنگلی خودروجھاڑ جھنکار باقی رہ گئے۔ (آیت) ” خمط “۔ خمط کے معنی پیلو کے درخت کے بھی ہیں۔ قیل ھو شجر الاراک (راغب) الخمط شجر الاراک (کشاف) الخمط الاراک (ابن جریر۔ عن ابن عباس ؓ والحسن و مجاھد وقتادۃ والضحاک)
Ayah 34:17

ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِمَا كَفَرُوْا١ؕ وَ هَلْ نُجٰزِیْۤ اِلَّا الْكَفُوْرَ Open ayah 34:17 in the Quran reader

انہیں ہم نے یہ سزا ان کی ناسپاسی کے سبب دی اور ہم ایسی سزا بڑے ناسپاس ہی کو دیا کرتے ہیں،28۔

28۔ ورنہ درگزر معمولی خطاؤں پر اور کثرت سے تو ہوتی ہی رہتی ہے) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” فاعرضوا فارسلنا “۔ الخ اور (آیت) ” ذلک جزینھم “۔ الخ دونوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ طاعت کو دنیوی نعمت کے حصول اور معصیت کو اس کے زوال میں دخل ہے۔
Ayah 34:18

وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ الْقُرَى الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّ قَدَّرْنَا فِیْهَا السَّیْرَ١ؕ سِیْرُوْا فِیْهَا لَیَالِیَ وَ اَیَّامًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 34:18 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے اور ان کی بسیتوں کے درمیان جہاں ہم نے برکت رکھی تھی بستیاں آباد کر رکھی تھیں (دور سے) نظر آنے والی اور ہم نے اس میں سفر ٹھہرا دیا تھا سفر کرو ان میں رات اور دن بےکھٹکے،29۔

29۔ یعنی رات دن جب چاہو، بآرام و اطمینان سفر کرسکتے ہو، نہ رہزن کا کوئی خطرہ، نہ کسی بےسروسامانی کا اندیشہ، راہ میں قدم قدم پر آبادیاں، اور ہر جگہ کھانے پینے کا سامان بفراغت۔ گویا راستہ بھر حفاظت کے لئے پولیس کی چوکیاں اور کھانے پینے کے لئے ہوٹل، (آیت) ” القری التی برکنا فیھا “۔ مراد ملک شام کے مقامات ہیں۔ وھی قری الشام (بیضاوی) والقری التی بورک فیھا بلاد الشام باجماع من المسرین (بحر۔ ون ابن عطیہ) (آیت) ” قری ظاہرۃ “۔ ایسے شہر جو عام شاہراہ سے بآسانی نظر آجائیں۔ یعنی لب سڑک آبادیاں۔ (آیت) ” قدرنا فیھا السیر “۔ یہ اہل سبا ایک بڑی تاجر قوم تھی۔ بحری تجارت ہمیشہ بیشمار دولت کا سبب بن جاتی ہے یہ لوگ بحری راستہ سے ہندوستان اور درمیانی ملکوں سے تجارتی سامان لاتے تھے، اور پھر یمن سے سمندر کے کنارے کنارے ملک شام کو لے جاتے تھے اور اس مسلسل دوہری تجارت سے مالا مال ہوگئے تھے۔ (آیت) ” لیالی وایاما “۔ کی تصریح سے معلوم ہوتا ہے کہ آج کل کی ریلوں اور جہازوں کی طرح ان لوگوں کے تجارتی قافلے بھی دن رات مسلسل چلا کرتے تھے۔ اور (آیت) ” امنین “۔ سے واضح ہوجاتا ہے کہ راستے بالکل محفوظ اور بےخطر ہوگئے تھے۔ (آیت) ” لیالی وایاما امنین “۔ کا ایک مفہوم یہ بھی لیا گیا ہے کہ ساری عمر سفر کرتے رہو، جب بھی امن نصیب رہے گا۔ اوسیروا فیھا لیالیکم ایامکم اے مدۃ اعمارکم لاتلقون فیھا الا الامن (روح)
Ayah 34:19

فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا وَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ وَ مَزَّقْنٰهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 34:19 in the Quran reader

پھر وہ کہنے لگے کہ اے ہمارے پروردگار سفروں میں درازی کردے،30۔ اور انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تو ہم نے انہیں افسانہ بنادیا اور ان کو بالکل تتر بتر کردیا،31۔ بیشک اس (واقعہ) میں ہر صابر شاکر کیلئے نشانیاں ہیں،32۔

30۔ یعنی نعمتوں کے حقوق تو کیا دا کرتے، ان کی ظاہری قدر بھی نہ کی، اور الٹی تمنا یہ کرنے لگے کہ سفر کی منزلیں دور دور ہوتیں، تو کچھ مزہ بھی آتا، یہ کیا کہ وطن ومسافرت میں کچھ فرق ہی نہیں ...... یہ (Adventure) کی حرص تمدن جدید کا بھی ایک عام مرض ہے اور فرنگیوں میں قابل فخر عادت بھی سمجھی جاتی ہے۔ (آیت) ” قالوا ...... اسفارنا “۔ ضرور نہیں کہ زبان سے بھی یہی انہوں نے کہا ہو۔ دل کی اندر کی تمنا بھی مراد ہوسکتی ہے۔ 31۔ کچھ ہلاک ہوگئے، اور جو بچے رہے، ان کے بھی سامان تنعم چھن گئے، بحیثیت مجموعی سب کی حالت قابل عبرت رہ گئی۔ (آیت) ” ظلموا انفسھم “۔ یعنی طرح طرح کی نافرمانیاں کیں۔ 32۔ (پندو و عبرت کی) صابروں کے لئے تو یوں کہ معاصی سے نہ بچے، نفس کو نہ روکنے کا نتیجہ اس قصہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ اور شاکروں کیلئے یوں کہ نعمتوں کی قدر نہ کرنے کا انجام اس واقعہ سے روشن ہے اور صابروشاکر کا اطلاق تو ہر مومن پر ہوسکتا ہے۔ روایتوں میں آتا ہے کہ انصار مدینہ یعنی قبائل اوس و خزرج انہیں اہل سبا کی اولاد میں سے تھے۔
Ayah 34:20

وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْهِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:20 in the Quran reader

اور واقعی ابلیس نے اپنا گمان ان لوگوں کے بارے میں صحیح پایا،33۔ چناچہ یہ لوگ اسی کی راہ پر ہولئے بجز ایمان والوں کے گروہ کے،34۔

33۔ (کہ میں بنی آدم میں سے بہتوں کو محض سبز باغ دکھا کے گمراہ کرڈالوں گا، اور اپنے پیچھے لگا لوں گا) ومنشاظنہ رؤیۃ انھما کھم فی الشھوات (روح) اے ظنہ انہ یغویھم (کبیر) 34۔ (کہ بس وہ فریق محفوظ رہا) من یہاں بیانیہ ہے، اس ترکیب کے لحاظ سے لفظ فریق گویا مومنین کی تشریح و توضیح ہی کررہا ہے، یہ مراد نہیں کہ مومنین میں سے ایک فریق محفوظ رہا، اور دوسرا شیطان کی راہ پر پڑلیا۔ اور تقدیر کلام یوں ہوگی۔ اے الافریقا ھم ال مومن ون لم یتبعوہ۔
Ayah 34:21

وَ مَا كَانَ لَهٗ عَلَیْهِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِیْ شَكٍّ١ؕ وَ رَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ۠ Open ayah 34:21 in the Quran reader

اور اس کا جو تسلط ان لوگوں پر ہے وہ تو بس اسی لئے ہی ہے کہ ہم معلوم کرلیں ان لوگوں کو جو آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ان لوگوں سے الگ جو اس کی طرف سے شک میں ہیں اور آپ کا پروردگار ہر چیز کا نگراں ہے،35۔

35۔ (چنانچہ ہر ایک کے ایمان وعدم ایمان کی بھی اس کو خبر ہے) (آیت) ’ ’ لنعلم “۔ یعنی ہم ظاہری طور پر بھی معلوم کرلیں۔ ان واقعات تکوینی سے مقصود ابتلاء وامتحان ہی تھا کہ مومن و کافر متعین ہوجائیں۔ (آیت) ” لنعلم “۔ ل تلیل کا ہے۔ یعنی شیطان کے مسلط کرنے کی غایت تکوینی ہی یہ ہے کہ مخلص و منافق کا امتیاز ہوجائے۔
Ayah 34:22

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۚ لَا یَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا لَهُمْ فِیْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِیْرٍ Open ayah 34:22 in the Quran reader

آپ کہیے تم انہیں پکارو تو جنہیں تم اللہ کے سوا (شریک خدائی) سمجھ رہے ہو،36۔ وہ ذرہ بھر بھی اختیار نہیں رکھتے (نہ) آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہ ان کی ان دونوں میں کوئی شرکت ہے اور نہ ان میں سے کوئی بھی اللہ کا مددگار ہے،37۔

36۔ (اور انہیں خود علم ہوجائے گا کہ وہ کتنی قدرت تمہاری حاجت روائی کی رکھتے ہیں) 37۔ (ایجاد و تخلیق عالم سے لے کر روزانہ کے تصرفات تک کسی چیز میں بھی) (آیت) ” مثقال “ سے مراد وہ اقل ترین مقدار ہے جس سے کم ذہن میں بھی نہ آئے۔ شرک کی جتنی قسمیں عام طور پر پھیلی ہوئی ہیں سب کی تردید آیت میں آگئی۔ نہ کوئی کسی چیز کا مستقلا مالک ہے، نہ کوئی حق تعالیٰ کی صفت مالکیت میں شریک ہے، اور نہ کسی کو حق تعالیٰ نے اپنے اختیارات نیابۃ منسوب کردیئے ہیں۔
Ayah 34:23

وَ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَا ذَا١ۙ قَالَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوا الْحَقَّ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 34:23 in the Quran reader

اور نہ اس کے حضور میں (کوئی) سفارش کام آتی ہے مگر ہاں اس کے حق میں جس کیلئے وہی اجازت دے دے،38۔ یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہوجاتی ہے تو وہ (آپس میں) پوچھتے ہیں کہ تمہارے پروردگار نے کیا کہا وہ کہتے ہیں کہ حق (بات کا حکم فرمایا) ،39۔ اور (واقعی) وہ عالی شان ہے سب سے بڑا ہے،40۔

38۔ اور یہ معبودان باطل خود تو کسی کی کی حاجت روائی کیا کرتے ان میں سے کسی میں اتنا بھی تو نہیں کہ اللہ کے سامنے بلااذن کوئی سفارش ہی پیش کرسکے۔ ہاں اللہ ہی کسی کی سفارش کرانا چاہے تو اس کیلئے انہیں حکم دے دے۔ مستقل شافع ہونے کا عقیدہ بھی دنیا میں شرک کا ایک بڑا سبب رہا ہے۔ یہاں تردید خصوصیت کے ساتھ ملائکہ پرستی کی ہورہی ہے۔ 39۔ یہ فرشتوں کی عام حالت کا بیان ہے۔” جب کوئی حکم حضرت حق سے سنتے ہیں تو ان کے مجمع میں ہلچل پڑجاتی ہے، حواس باختہ ہوجاتے ہیں۔ اپنی فہم، اپنے حفظ کسی چیز پر اعتماد نہیں باقی رہ جاتا گھبرا گھبرا کر ایک دوسرے سے پوچھ پاچھ شروع کردیتے ہیں، اور ایک دوسرے کی تسکین وتقویت قلب کا باعث بنتے ہیں کہ جو کچھ ارشاد ہوا، حق ہی ارشاد ہوا ہے۔ “ جس مخلوق کی یہ حالت ہو، وہ ابتداء خطاب کرنے کی جرأت بھلا کس طرح کرسکتی ہے۔ اور جب یہ حال ملائکہ جیسی مقبول ترین ہسیتوں کا ہے تو غیرمقبولین کا ذکرہی کیا ہے۔ آیت میں اشارہ ہے کہ ہیبت بھی کبھی مانع فہم ہوجاتی ہے۔ فیہ اشارۃ الی ان الھیبۃ تمنع الفھم (روح) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ ہیبت کبھی اس درجہ مانع فہم بن جاتی ہے کہ انسان کو معذور قرار دینا پڑتا ہے جیسا کہ بعض اہل حال کو۔ 40۔ (اس کی عظمت وہیبت سے فرشتوں کے اس قدر گھبرا جانے میں حیرت کی کوئی بات ہی نہیں) بعض نے یہ فقرہ فرشتوں ہی کا مقولہ قرار دیا ہے۔
Ayah 34:24

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّاۤ اَوْ اِیَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 34:24 in the Quran reader

آپ پوچھئے تم کو آسمانوں اور زمین میں کون روزی دیتا ہے ؟ آپ کہیے کہ اللہ اور ہم یا تم ہی ضرور راہ راست پر ہیں یا صریح گمراہی میں،41۔

41۔ (اسی مسئلہ توحیدوشرک میں) یعنی یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ قائلین توحید ومنکرین توحید دونوں حق پر ہوں۔ اس طریق خطاب میں تعلیم ہے مجادلہ کے ساتھ لب و لہجہ میں ملاطفت کی۔ (آیت) ” من السموت والارض “۔ آسمان سے مثلا پانی برسا کر، زمین سے مثلا نباتات نکال کر۔
Ayah 34:25

قُلْ لَّا تُسْئَلُوْنَ عَمَّاۤ اَجْرَمْنَا وَ لَا نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:25 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ نہ تم سے ہمارے جرائم کی بابت سوال ہوگا اور نہ ہم سے تمہارے اعمال کا سوال ہوگا،42۔

42۔ یہ منکرین کے لیے آخری جواب ہے کہ خیر اور کسی طرح نہیں مانتے ہو، نہ مانو ہم مجرم وخطاکار ہیں تو تم سے سوال نہ ہوگا۔ اور تمہاری بابت ہم سے سوال نہ ہوگا آیت میں ہر شخص کی ذاتی مسؤلیت وذمہ داری کی بھی تعلیم آگئی ،
Ayah 34:26

قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ هُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ Open ayah 34:26 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ ہمارا پروردگار ہم سب کو جمع کرے گا، پھر ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرے گا اور وہ بڑا فیصلہ کرنے والا ہے بڑا علم والا ہے،43۔

43۔ وہ نہ کسی فیصلہ سے عاجز ہے اور نہ اس کے کسی فیصلہ میں غلطی کا امکان ہے۔
Ayah 34:27

قُلْ اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِهٖ شُرَكَآءَ كَلَّا١ؕ بَلْ هُوَ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 34:27 in the Quran reader

آپ کہیے کہ مجھے (ذرا) ان کو تو دکھاؤ جنہیں تم نے شریک بناکر اللہ کے ساتھ ملا رکھا ہے، نہیں، بلکہ وہ اللہ ہی ہے زبردست حکمت والا،44۔

44۔ یعنی تم کیسی حماقت وضلالت میں پڑے ہوئے ہو، اللہ تو بس ایک ہی ہے ہر ایک پر غالب اور حکیم مطلق۔ (آیت) ” ارونی “۔ یعنی شرک پر کوئی دلیل تو قائم کرکے لاؤ۔ کوئی حجت تو پیش کرکے دکھاؤ۔ یہ مراد نہیں کہ آنکھ سے دکھلاؤ۔ اری ھنا بمعنی اعلم (بحر) المراد اعلمونی بالحجۃ والدلیل (روح)
Ayah 34:28

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 34:28 in the Quran reader

اور ہم نے تو آپ کو سارے ہی انسانوں کے لئے (پیغمبر بنا کر) بھیجا ہے بطور خوش خبری سنانے والے اور ڈرانے والے کے، لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے،45۔

45۔ اتنی صراحت کے ساتھ اپنے پیام ہدایت کی عالمگیری کا دعوی دنیا کے کسی دین نے بھی نہیں کیا، یہ خصوصیت آسمانی کتابوں میں صرف قرآن کی ہے۔ قرآن ہی اعلان کے ساتھ کہتا ہے کہ پیام محمدی ہر ملک، ہر قوم، ہر طبقہ انسانیت اور ہر زمانہ کی ہدایت کے لیے ہے۔ اسلام کے دو دعوے ایسے ہیں، جن میں دنیا کا کوئی دوسرا دین اس کا شریک نہیں، دونوں دعوے اسلام کے امتیازات خصوصی میں سے ہیں، ایک یہ بار بار تصریح ووضاحت کے ساتھ کہنا کہ میری تعلیم ساری دنیا کے لیے ہے۔ (دوسرے مذاہب جیسے اپنی قوم یا ملک کے باہر کسی کو جانتے ہی نہیں) دوسرے پیغمبر اسلام ﷺ کو سلسلہ انبیاء کا خاتم قرار دینا۔
Ayah 34:29

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 34:29 in the Quran reader

اور (یہ لوگ) کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو،46۔

46۔ (اپنے اس دعوے میں کہ قیامت کا آنا برحق ہے) (آیت) ” ھذا الوعد “۔ یعنی وعدۂ آمد قیامت۔ (آیت) ” یقولون “۔ یہ کہنے والے مشرکین، منکرین قیامت تھے جو مسلمانوں سے طنز و استہزاء کی راہ سے یہ سوال کررہے تھے۔ جاہلی تہذیبوں کا سب سے بڑا فتنہ یہی آخرت فراموشی، آخرت بیزاری کا ہے اور تقریبا سب میں مشترک رہا ہے۔
Ayah 34:30

قُلْ لَّكُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْهُ سَاعَةً وَّ لَا تَسْتَقْدِمُوْنَ۠ Open ayah 34:30 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ تمہارے واسطے ایک خاص دن کا وعدہ ہے کہ اس سے نہ ایک ساعت پیچھے ہٹ سکتے ہو اور نہ آگے بڑھ سکتے ہو،47۔

47۔ جواب جو رسول اللہ ﷺ کی زبان سے ادا کرایا جارہا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کا ایک وقت علم الہی میں معین ومقرر ہے، وہ کسی کے طلب، تقاضہ، طنز وطعن سے نہیں آئے گی، اپنے وقت ہی پر آئے گی، جب بھی اس کا آنا حکمت الہی میں مناسب ہو۔
Ayah 34:31

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ لَا بِالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۖۚ یَرْجِعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِ اِ۟لْقَوْلَ١ۚ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لَوْ لَاۤ اَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:31 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ ہم نہ اس قرآن کو مانیں گے اور نہ اس سے پہلی کتابوں کو اور آپ کاش وہ وقت دیکھیں جب یہ ظالم اپنے پروردگار کے رو برو کھڑے ہوں گے ایک دوسرے پر بات ڈال رہا ہوگا،48۔ ادنی درجہ کے لوگ بڑے لوگوں سے کہہ رہے ہوں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایمان لے آئے ہوتے

48۔ ( اور اپنے کو ہر شخص الزام سے بچا رہا ہوگا) (آیت) ” وقال .... یدیہ “۔ یہ کہنے والے وہ مشرکین تھے، جو سرے سے سلسلہ وحی ونبوت ہی کے منکر تھے۔ مشرکوں کو اعتراض صرف ذات محمدی ﷺ پر نہ تھا بلکہ نفس نبوت ہی کے تخیل سے انہیں انکار تھا۔
Ayah 34:32

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْۤا اَنَحْنُ صَدَدْنٰكُمْ عَنِ الْهُدٰى بَعْدَ اِذْ جَآءَكُمْ بَلْ كُنْتُمْ مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 34:32 in the Quran reader

(اس پر) بڑے لوگ ادنی درجہ کے لوگوں سے کہیں گے کیا کہیں ہم نے تمہیں ہدایت سے روک دیا تھا بعد اس کے کہ وہ تم تک پہنچ چکی تھی ؟ نہیں بلکہ تم ہی قصور وار رہے ہو،49۔

49۔ (کہ وقوع حق کے بعد بھی از خود قبول نہ کیا، اور اب ہمارے سر دھرتے ہو، ہم نے کیا کچھ زبردستی کی تھی ؟ ) غرب یہ کہ ادنی واعلی سب اپنے اپنے کو بچا لیں گے اور اپنا الزام دوسرے کے سر ڈالیں گے۔ (آیت) ” انحن ..... جآء کم “۔ اگر یہ شبہ ہو کہ بعض کفار نے تو اپنے اتباع پر زبردستی کی بھی ہے، تو جواب یہ ہے کہ اصل ایمان تو اعتقاد ہے اور اس کا محل قلب ہے، وہاں اکراہ ممکن نہیں (تھانوی (رح)
Ayah 34:33

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا بَلْ مَكْرُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ اِذْ تَاْمُرُوْنَنَاۤ اَنْ نَّكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ نَجْعَلَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ؕ وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِیْۤ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:33 in the Quran reader

اور وہ کم درجہ کے لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے کہ نہیں بلکہ تمہاری ہی رات دن کی تدبیروں نے (روکا تھا) جب کہ تم ہمیں آمادہ کرتے رہتے تھے کہ ہم اللہ سے کفر اختیار کریں، اور اسکے لئے شریک قرار دیں،50۔ اور وہ لوگ (اپنی) پیشمانی کو مخفی رکھیں گے جب کہ عذاب دیکھ لیں گے،51۔ اور ہم کافروں کی گردن میں طوق ڈالیں گے جیسا کرتے تھے ویسا ہی تو بھر پایا

50۔ (اور ہم تمہاری ان چالوں، تدبیروں کے شکار ہوگئے سو ہماری گمراہی کے بھی اصل ذمہ دار تمہیں ہو) (آیت) ” مکر “۔ یعنی ہر طرح کی ترغیب وترہیب، اور (آیت) ” مکرالیل والنھار “۔ کی تقدیر کلام یوں ہے۔ مکر کم ھنا فی اللیل والنھار۔ 51۔ اپنے دل میں اپنے قصور پر حائل ہونے والے بڑے اور چھوٹے سب ہی ہوں گے، اپنی اپنی ذمہ داری سب محسوس کرکے رہیں گے۔ البتہ شماتت ہمسایہ کے خیال سے دوسروں پر اس کا اظہار حتی الامکان نہ ہونے دیں گے۔ (آیت) ” واسروا الندامۃ “۔ یہ اخفاء پیشمانی ایک دوسرے سے ہوگا اپنی مزید تفضیح ورسوائی کے خوف سے۔
Ayahs 34:34–35

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 34:34 in the Quran reader

اور ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا نہیں بھیجا مگر یہ کہ وہاں کہ خوش حال لوگوں نے یہی کہا کہ ہم تو اس (دین) کے منکر ہیں جسے دے کر (تمہارے زعم میں) تم کو بھیجا گیا ہے

وَ قَالُوْا نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ۙ وَّ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 34:35 in the Quran reader

اور انہوں نے کہا ہم تو مال واولاد میں (تم سے) زیادہ ہیں، اور ہم کو عذاب ہونا نہیں،52۔

52۔ یہی خوشحال طبقہ (Well, todo, clAse) ہر ملک اور ہر دور میں خدائی تعلیمات سے انکار میں آگے رہا ہے۔ وہ اپنے برسرحق ہونے اور اپنے مسلک کو حق بجانب قرار دینے میں اپنی کثرت آبادی اور مرفہ الحالی کو پیش کرتا ہے۔ اور یقین رکھتا ہے کہ ہمیشہ یوں ہی اقبال مند بنا رہے گا۔ چناچہ یہاں خوشحال منکرین کا طبقہ کا پنے آخرت فراموش مسلک زندگی (آئدیالوجی) کے جواز میں اپنی کثرت آبادی اور اپنی کثرت آبادی اور اپنی قومی دولت کو پیش کررہا ہے۔ یہ مراد نہیں کہ منکرین میں سے ہر ہر فرد کثیر الاولاد اور صاحب ملک ومال تھا۔ (آیت) ” بما ارسلتم بہ “۔ منکرین کا یہ کہنا بطور استہزاء کے ہے، ورنہ وہ رسالت کے قائل ہی کب تھے۔
Ayah 34:36

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 34:36 in the Quran reader

آپ کہیے کہ میرا پروردگار زیادہ روزی دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور تنگ کردیتا ہے (روزی جس کے لئے چاہتا ہے) لیکن اکثر لوگ (اس کا) علم نہیں رکھتے،53۔

53۔ قرآن مجید جواب دیتا ہے (اور ایک اسی جگہ نہیں، بارہا کہہ چکا ہے) کہ ظاہری خوشحالی ہرگز دلیل صدق وحقانیت نہیں جیسا کہ اکثر اہل جاہلیت سمجھ رہے ہیں، یہ انتظامات تو تمامتر مشیت تکوینی اور مصالح انتظامی کے ماتحت ہوتے ہیں، مرضیات الہی کے قانون سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ (آیت) ” ان ..... یقدر “۔ یہاں پھر یاد دلا دیا ہے کہ سلسلہ معاشیات میں بھی مسبب الاسباب حق تعالیٰ ہی ہے۔
Ayah 34:37

وَ مَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰۤى اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١٘ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَ هُمْ فِی الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ Open ayah 34:37 in the Quran reader

تمہارے مال اور تمہاری اولاد (کوئی بھی) ایسی چیز نہیں جو تم کو کسی درجہ میں ہمارا مقرب بنادے مگر ہاں جو کوئی ایمان لائے اور نیک عمل کرے سو ایسے لوگوں کے لئے ان کے عمل کا کہیں بڑھا ہوا صلہ ہے اور وہ بالاخانوں میں چین سے بیٹھے ہوں گے،54۔

54۔ آسمانی بادشاہت میں قدروقیمت تو صرف صحیح ایمانی دستور العمل اور اس کے عملی نفاذ کی ہے۔ (آیت) ” اموالکم ولآ اولادکم “۔ آیت ماقبل کی طرح یہاں بھی ان الفاظ سے مراد لازمی طور پر شخصی جائیدادیں اور افراد کی اولادیں نہیں۔ قوم ہی کی کثرت آبادی اور قومی ہی ثروت مراد ہے۔ (آیت) ” الا من امن وعمل صالحا “۔ یعنی ایمان وعمل صالح کو دستور حیات بنا لینے کے بعد پھر مال واولاد باعث بعد حق نہیں رہ جاتے بلکہ اور موجب برکت بن جاتے ہیں۔ قال سعید بن جبیر المعنی الا من امن وعمل صالحا فلن یغیرہ مالہ وولدہ فی الدنیا (قرطبی) (آیت) ” جزآء الضعف “۔ ضعف سے مراد مطلق زیادتی ہے محض دو گنامراد نہیں۔ اے یجاوز الضعف الی عشر فما فوقہ ‘۔ (بیضاوی) اے لھم الجزاء المضعف اللواحد عشرۃ الی مایرید اللہ من الزیادۃ (قرطبی) حدیث میں ایک ایک عمل کا اجر دس گنے سے لے کر سات سوگنے تک درج ہے۔ (آیت) ” امنون “۔ اہل جنت کا ترددات دنیوی سے آزادی و رہائی پاجانا تو ظاہر ہی ہے۔ باقی اس لفظ سے اشارہ اس طرف بھی ہوگیا کہ وہ نعمتیں دائمی اور ابدی ہوں گی، اگر منقطع ہوجانے والی ہوئیں تو پھر ان کی طرف سے امن و اطمینان کہاں نصیب ہوا انقطاع کا خطرہ ہی لگا رہے گا۔ اشارۃ الی دوام النعم وتابیدہ (کبیر)
Ayahs 34:38–39

وَ الَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 34:38 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیتوں کے باب میں کوشش کررہے ہیں (نبی کو) ہرانے کے لئے، تو وہی لوگ عذاب میں لائے جائیں گے

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 34:39 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ میرا پروردگار اپنے بندوں میں سے جسے چاہے فراخ روزی دیتا ہے اور (جس کو چاہے) تنگی سے دیتا ہے،55۔ اور جو چیز بھی تم خرچ کرو گے سو وہ اس کا عوض دے گا اور وہی بہترین روزی دینے والا ہے،56۔

55۔ تونگری، خوشحالی، اور فقروناداری کا تعلق دنیا کے تکوینی وانتظامی معاملات سے ہے اسے حق وصداقت کا معیار قرار دینا خود ایک باطل پرستی ہے۔ (آیت) ” یسعون فی ایتنا “۔ یہ کوششیں آیات الہی کے ابطال کی تھیں۔ اے فی ابطالھا (مدارک) ایات کی تعمیم میں کلام الہی، احکام الہی، معجزات نبوی ﷺ سب داخل ہیں۔ 56۔ (سو اس کے کاموں میں خرچ کرنے سے مفلسی کا ڈر کیوں مانع ہو) (آیت) ” ان ...... لہ “۔ معاش کی ساری راہوں کی آخری کلید اسی کے ہاتھ میں ہے۔ (آیت) ” وما انفقتم من شیء “۔ یعنی مرضیات الہی کے ماتحت جو خفیف سا بھی خرچ کرو گے۔ (آیت) ” فھو یخلفہ “۔ یہ عوض آخرت میں تو بہر حال ملے گا۔ اور کبھی دنیا میں بھی مل جاتا ہے۔ (آیت) ” وھو خیرالرزقین “۔ یہ ایک بار دنیا کو پھر خبردار کیا جارہا ہے کہ خدائے تعالیٰ صرف آخرت ہی کا حاکم نہیں۔ الہ المعاش بھی ہے۔ اور معاشیات کے سلسلہ کے بھی سارے اسباب اور تدبیروں کا آخری سرا اسی کی ذات پر ختم ہوتا ہے۔ ملت اسلامی ہو یا مسلم افراد، کسی کے لیے معاشی فکروں اور تدبیروں میں بھی، اللہ سے بےتعلقی وبے نیازی کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔
Ayah 34:40

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ یَقُوْلُ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اَهٰۤؤُلَآءِ اِیَّاكُمْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 34:40 in the Quran reader

اور (وہ دن بھی یاد رکھنے کے قابل ہے) جب اللہ ان سب کو جمع کرے گا، پھر فرشتوں سے پوچھے گا یہ لوگ تمہاری ہی عبادت کرتے رہے ہیں ؟ ،57۔

57۔ دیوتا پرستی درحقیقت ملائکہ پرستی ہی کی ایک صورت ہے۔ مشرک قوموں نے مختلف ملائکہ موکلین کو کائنات مختلف شعبوں میں متصرف سمجھ رکھا ہے اور اسی شعبہ کا انہیں دیوتا سمجھتے ہیں۔ سوال ملائکہ کے حق میں الزامی نہیں۔ بلکہ مشرکین ہی کی مزید تفضیح ورسوائی کے لیے ہوگا۔ (آیت) ” یوم یحشرھم جمیعا “۔ ذکر قیامت کا ہونا ظاہر ہی ہے۔