34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsانوار البیان

Ayah 34:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 34:1 in the Quran reader

سب تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے (جو سب چیزوں کا مالک ہے یعنی) وہ کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور آخرت میں بھی اسی کی تعریف ہے اور وہ حکمت والا اور خبردار ہے

(34:1) الحمد۔ میں الف لام استغراق کا ہے۔ یعنی ہمہ نوع حمدوثنائ۔ صاحب تفسیر حقانی رقمطراز ہیں کہ :۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ سورة سبا مکہ میں نازل ہوئی۔ اس قسم کی سورتیں کہ جن کے اول میں الحمد للہ ہے پانچ ہیں۔ ان میں سے دو نصف اول میں ہیں۔ الانعام الکہف اور دو اخیر قرآن میں ہے ایک یہ دوسری ملائکہ پانچویں الحمد جس کو چاہو نصف اول میں شمار کرو۔ خواہ نصف آخر میں اور سر (راز) اس میں یہ ہے کہ خدا کی بیشمار نعمتیں دو قسم کی ہیں :۔ (1) ایک نعمت ایجاد ہے کہ اس نے معدوم سے ہم کو موجود کردیا۔ (2) دوسری نعمت بقا ہے کہ ہم کو باقی رکھا۔ اور زندہ رہنے کے سامان عطا کئے۔ اور بندہ کی بھی دو حالتیں ہیں :۔ (1) ایک ابتداء جو اس عالم سے علاقہ رکھتی ہے۔ (2) دوم اعادہ کہ بار دیگر ہم کو زندہ کر کے وہاں کے سامان عطا کرے گا۔ پس ان پانچوں سورتوں میں کہیں ایجاد کی نعمتیں یاد دلائی ہیں اور کہیں بقا کی ۔ پھر کہیں اس عالم کی کہیں اس عالم کی۔ اس سورة میں ما فی الارض تک تو نعمت بقا کا ذکر ہے کہ جو اس عالم میں آسمانوں اور زمین کی چیزوں کو پیدا کرنے میں ہے کیونکہ اگر آسمان و زمین کے اندر کی چیزیں بارش ، ہوا۔ رزق وغیرہ نہ ہوں تو انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔ ولہ الحمد فی الاخرۃ میں آخرت کی جمیع نعمتوں کی طرف اشارہ ہے اسی رعایت سے پہلے الحمد سے مراد الحمد فی الدنیا ہے۔ للہ۔ لہ۔ (ما فی السموت) اور لہ (الحمد) میں لام اختصاص کا ہے اور تملیک کے لئے آیا ہے یعنی خاص اسی کے لئے ہے اور وہی مالک مطلق ہے۔ الذی۔ اللہ کی صفت ہے ای الحمد للہ ھو الذی لہ ما فی السموات۔۔ الخ وہ ہی مالک ہے ہر اس چیز کا جو آسمانوں میں ہے۔۔ الخ۔
Ayah 34:2

یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ الرَّحِیْمُ الْغَفُوْرُ Open ayah 34:2 in the Quran reader

جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو اس میں سے نکلتا ہے اور جو آسمان سے اترتا ہے اور جو اس پر چڑھتا ہے سب اسکو معلوم ہے اور وہ مہربان (اور) بخشنے والا ہے

(34:2) ما یلج فی الارض۔ ما موصولہ ہے یلج مضارع صیغہ واحد مذکر غائب ہے ولوج مصدر (باب ضرب) بمعنی داخل ہونا۔ جیسے قرآن مجید میں ہے لا یدخلون الجنۃ حتی یلج الجمل فی سم الخیاط (7:40) وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکہ میں داخل نہ ہوجائے۔ جو زمین کے اندر داخل ہوتا ہے مثلاً پانی، اموات، تخم وغیرہ۔ وما یخرج منھا۔ اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے مثلاً پانی کے چشمے ۔ نباتات، معدنیات وغیرہ۔ منھا میں ضمیر واحد مؤنث غائب الارض کے لئے ہے۔ وما ینزل من السماء اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے مثلاً ملائکہ، احکام الٰہی وغیرہ۔ وما یعرج فیھا۔ اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے عروج (باب نصر) مصدر سے مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب چڑھتا ہے اس میں۔ مثلاً ملائکہ۔ اعمال صالحہ و ارواح وغیرہ۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ السماء کے لئے ہے۔
Ayah 34:3

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِیْنَا السَّاعَةُ١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتَاْتِیَنَّكُمْ١ۙ عٰلِمِ الْغَیْبِ١ۚ لَا یَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ لَاۤ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرُ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍۗۙ Open ayah 34:3 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ (قیامت کی) گھڑی ہم پر نہیں آئے گی کہہ دو کیوں نہیں (آئے گی) میرے پروردگار کی قسم وہ تم پر ضرور آکر رہے گی (وہ پروردگار) غیب کا جاننے والا (ہے) ذرہ بھر چیز بھی اس سے پوشیدہ نہیں (نہ) آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور کوئی چیز ذرے سے چھوٹی یا بڑی ایسی نہیں مگر کتاب روشن (لکھی ہوئی) ہے

(34:3) لا تاتینا۔ مضارع منفی واحد مؤنث غائب۔ اتیان (باب ضرب) مصدر نا ضمیر جمع متکلم وہ ہمارے پاس نہیں آئے گی۔ الساعۃ القیامۃ۔ یعنی ہم پر قیامت نہیں آئے گی۔ بلی۔ ہاں۔ بلی کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے :۔ (1) نفی ما قبل کی تردید کے لئے مثلاً زعم الذین کفروا ان لن یبعثوا۔ قل بلی وربی لتبعثن (64:7) جو لوگ کافر ہیں ان کا خیال ہے کہ وہ دوبارہ اٹھائے نہیں جائیں گے۔ آپ (ان سے) کہئے ضرور اور قسم ہے میرے پروردگار کی تم ضرور اٹھائے جائو گے۔ (2) اس استفہام کے جواب میں جو نفی پر واقع ہو :۔ (الف) خواہ یہ استفہام حقیقی ہو مثلاً ۔ الیس زید بقائم (کیا زید کھڑا نہیں ؟ ) اور جواب میں کہا جائے بلی (ہاں یعنی ہاں کھڑا ہے) ۔ (ب) یا استفہام تو بیخی ہو مثلاً ایحسب الانسان الن نجمع عظامہ۔ بلی قادرین علی ان نسوی بنانہ (75:3 ۔ 4) کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہ کریں گے ضرور (جمع کریں گے) ہم تو اس پر قادر ہیں کہ اس کی انگلیوں کے پوروں تک کو درست کردیں۔ (ج) یا استفہام تقریری ہو مثلاً الست بربکم قالوا بلی شھدنا (7:172) کیا میں تمہارا رب نہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں (تو ہی ہے) یہاں آیت ہذا میں نفی ما قبل کی تردید کے لئے ہے ” کافر لوگ کہتے ہیں ہم پر قیامت نہ آئے گی۔ آپ کہہ دیجئے ضرور (آئے گی) قسم ہے میرے پروردگار کی جو عالم الغیب ہے وہ تم پر ضرور آئے گی ! وربی۔ وائو قسم کے لئے ہے قسم ہے میرے پروردگار کی۔ قسم کو تاکید کے لئے لایا گیا ہے ضمیر واحد متکلم کا مرجع ذات نبی کریم ﷺ ہے اور یہ شدت قسم پر دلالت کرتی ہے۔ لتا تینکم لام تاکید کا ہے تاتین مضارع تاکید بانون ثقیلہ کا صیغہ واحد مؤنث غائب ہے کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ وہ تم پر ضرور آئے گی۔ عالم الغیب المقسم ہے (ربی) کا بدل ہے یا اس سے عطف بیان۔ بعض کے نزدیک یہ رب کی صفت ہے اور بدیں وجہ مجرور ہے عبارت یوں ہوگی ! قل بلی وربی عالم الغیب لتاتینکم۔ لا یعزب۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب عزوب (باب نصر) مصدر بمعنی چھپ جانا مخفی ہونا۔ غائب ہونا۔ ضمیر فاعل مثقال ذرہ کے لئے ہے اور ہ ضمیر واحد مذکر غائب عالم الغیب کے لئے ہے۔ مثقال ذرۃ۔ مضاف مضاف الیہ مثقال اسم مفرد بمعنی وزن برابر۔ ہم وزن ۔ ایک ذرہ وزن برابر، ذرہ برابر ۔ ذرہ کے ہموزن ۔ ولا اصغر من ذلک ولا اکبر۔ ذلک کا اشارہ مثقال ذرۃ کی طرف ہے اصغر واکبر کا عطف مثقال ذرۃ پر ہے۔ آسمانوں کی اور نہ ہی زمین کی کوئی ذرہ برابر شے یا اس سے چھوٹی یا اس سے بڑی اس (عالم الغیب) سے پوشیدہ نہیں ہے۔ الا حرف استثناء ہے۔ مگر۔ کتب مبین، موصوف وصفت واضح کتاب ، مراد لوح محفوظ۔ الا فی کتب مبین مگر یہ کہ یہ سب چیزیں لوح محفوظ میں (درج) ہیں۔ فائدہ : تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ پورے قرآن میں صرف تین آیات ہیں جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب پاک ﷺ کو ارشاد فرمایا کہ قیامت کے وقوع پذیر ہونے پر اپنے رب عظیم کی قسم کھائیں ۔ (1) ویستنبئونک احق ھو قل ای وربی انہ لحق وما انتم بمعجزین (10:53) اور لوگ تجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا قیامت کا آنا حق ہی ہے ؟ تو کہہ دے کہ ہاں میرے رب کی قسم وہ یقینا حق ہی ہے۔ اور تم خدا کو مغلوب نہیں کرسکتے۔ (2) آیت ہذا۔ وقال الذین کفروا لا تاتینا الساعۃ قل بلی وربی لتاتینکم (34:3) ترجمہ اوپر ملاحظہ ہو لا تاتینا کے محاذ (3) زعم الذین کفروا۔۔ الخ (64:7) اوپر (34:3) بلی کے محاذ ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 34:4

لِّیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 34:4 in the Quran reader

اس لئے کہ جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کو بدلا دے یہی ہیں جن کے لئے بخشش اور عزت کی روزی ہے

(34:4) لیجزی لام تعلیل کا ہے ۔ (یہ لام عاقبت کا بھی ہوسکتا ہے) اس کا تعلق لتا تینکم سے ہے کہ یہی علت ہے لیجزی الذین امنوا وعملوا الصلحت کی۔ یجزی مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ جزاء سے (باب ضرب) تاکہ وہ بدلہ دے تاکہ وہ جزا دے۔ کریم۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ عزت والا۔ عمدہ۔
Ayah 34:5

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ Open ayah 34:5 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیتوں میں کوشش کی کہ ہمیں ہرا دیں گے ان کے لئے سخت درد دینے والے عذاب کی سزا ہے

(34:5) سعوا۔ ماضی جمع مذکر غائب سعی (باب فتح) مصدر ۔ بمعنی کام کرنا۔ چلنا دوڑنا۔ مشی سریع۔ تیز روی۔ بمعنی حال وہ دوڑتے ہیں۔ یعنی کوشش کرتے ہیں۔ معجزین۔ اسم فاعل جمع مذکر معاجز واحد۔ معاجزۃ (مفاعلۃ) مصدر مقابلہ کر کے اپنے حریف کو عاجز کردینا۔ ہرا دینا۔ سعوا فی ایتنا معجزین (جو لوگ) ہماری آیات کے بارہ میں (ہمیں) ہرانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے واعلموا انکم غیر معجزی اللہ (9:2) اور جان رکھو کہ تم خدا کو عاجز نہیں کرسکو گے۔ بڑھیا کو عجوز اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ بھی اکثر امور سے عاجز ہوجاتی ہے۔ رجز عقوبت، عذاب، بلا، سزا۔ الرجز کے اصل معنی اضطراب کے ہیں محاورہ ہے ارتجزت السماء بالرعد آسمان بجلی کی کڑک سے کانپ اٹھا اور کہتے ہیں رعد مر تجز۔ کپکپا دینے والی ، لرزا دینے والی گرج۔ پس رجز وہ عذاب کہ جن پر اترے وہ اس کی سختی سے کانپ اٹھیں۔ عذاب الیم من رجز، درد ناک عذاب کہ معتوب اس کی سختی سے کانپ اٹھے۔
Ayah 34:6

وَ یَرَى الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ هُوَ الْحَقَّ١ۙ وَ یَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ Open ayah 34:6 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ جانتے ہیں کہ جو (قرآن) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے وہ حق ہے اور (خدائے) غالب اور سزاوار تعریف کا راستہ بتاتا ہے

(34:6) ویری الذین اوتوا العلم الذی انزل الیک من ربک ھو الحق۔ یری فعل الذین اوتوا العلم فاعل الذی انزل الیک مفعول اول ھو ضمیر الفصل الحق مفعول ثانی۔ اوتوا العلم وہ جن کو علم دیا گیا۔ مراد اس سے یا اصحاب رسول اللہ ﷺ میں سے اہل علم ہیں یا اہل کتاب کے علماء میں سے جو مشرف با سلام ہوئے مثلاً عبداللہ بن سلام وکعب وغیرہ ؓ ترجمہ :۔ جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ اس قرآن کو جو تیرے پروردگار کی طرف سے تیری طرف ضمیر فاعل الذی انزل کی ضمیر ہے ای القران۔ العزیز (فعیل کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ) غالب ، زبردست، قوی، گرامی قدر۔ الحمید (حمد سے فعل کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ بمعنی مفعول) ستودہ، صفت کیا ہوا۔ محمود۔ دونوں اللہ تعالیٰ کے اسما حسنیٰ میں سے ہیں بوجہ مضاف الیہ ہونے کے مجرور ہیں۔
Ayah 34:7

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ یُّنَبِّئُكُمْ اِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ۙ اِنَّكُمْ لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 34:7 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ بھلا ہم تمہیں ایسا آدمی بتائیں جو ہمیں خبر دیتا ہے کہ جب تم (مر کر) بالکل پارہ پارہ ہوجاؤ گے تو نئے سرے سے پیدا ہوں گے

(34:7) ندلکم۔ ندل مضارع کا صیغہ جمع متکلم دلالۃ (باب نصر) مصدر۔ پتہ دینا رہنمائی کرنا۔ راستہ دکھانا۔ دلیل۔ راہ۔ راہنما۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ (کیا) ہم تمہیں پتہ دیں۔ یہ مخاطبین کفار قریش میں ہی تھے۔ وہ تعجب یا استہزاء کی وجہ سے ایک دوسرے سے مخاطب ہو کر یہ کلمات کہتے تھے قالوا مخاطبا بعضہم لبعض علی جھۃ التعجب والاستھزائ۔ ینبئکم۔ ینبیء مضارع واحد مذکر غائب تنبئۃ (تفعیل) بتانا۔ خبر دینا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر ینبیء میں ضمیر فاعل رجل کی طرف راجع ہے وہ تمہیں بتانا ہے۔ ن ب ء مادہ۔ مزقتم۔ ماضی مجہول جمع مذکر حاضر۔ تمزیق (تفعیل) مصدر۔ جس کے معنی ہیں کسی چیز کو پھاڑ پھاڑ کر پارہ پارہ اور ریزہ ریزہ کردینا۔ ممزق اس کا وزن اسم مفعول کا ہے لیکن یہ مصدر ہے اور فعل کے بعد تاکید کے لئے آیا ہے کل سے تشدید مزید مراد ہے۔ یعنی جب تم بالکل ریزہ ریزہ کر دئیے جائوں گے۔
Ayah 34:8

اَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَمْ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلِ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ فِی الْعَذَابِ وَ الضَّلٰلِ الْبَعِیْدِ Open ayah 34:8 in the Quran reader

یا تو اس نے خدا پر جھوٹ باندھ لیا ہے یا اسے جنون ہے بات یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ آفت اور پرلے درجے کی گمراہی میں (مبتلا) ہیں

(34:8) افتری اصل میں ا افتری تھا۔ پہلا ہمزہ استفہامیہ ہے دوسرا ہمزہ وصل ہے دو ہمزے جمع ہوئے تو ہمزہ وصل تخفیف کے لئے حذف ہوگیا۔ صیغہ ماضی واحد مذکر غائب ہے افتراء (افتعال) مصدر۔ اس نے جھوٹ باندھا۔ اس نے بہتان تراشا۔ اس کا ترجمہ دو طرح ہوسکتا ہے۔ (1) کیا اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے ؟ (2) یا تو اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے۔ ام بہ جنۃ یا اسے جنون ہے۔ جنۃ۔ جنون ۔ دیوانگی ۔ سودا۔ جن سے مشتق ہے جس کے معنی کسی چیز کے حواس سے چھپ جانے کے ہیں۔ جن یجن جن (باب نصر) اس نے ڈھانپ لیا۔ اس نے چھپالیا۔ جنۃ (جنت) بھی اسی سے مشتق ہے۔ درختوں والا ہر وہ باغ جس کے درخت زمین کو چھپا لیں جنت کہلاتا ہے۔ بل۔ حرف اضراب ہے یہاں ماقبل کا ابطال اور مابعد کی تصحیح مقصود ہے۔ یعنی ان کا یہ کہنا کہ اس نے خدا پر جھوٹ باندھا ہے اور اسے جنون یہ غلط ہے بلکہ سچی بات یہ ہے کہ یہ لوگ جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے گمراہ ہیں اور عذاب بھگتیں گے ! فی العذاب۔ ای غدا فی العذاب وفی الضلل البعید۔ ای الیوم فی الضلال البعید یعنی کل قیامت کو عذاب الٰہی میں مبتلا ہوں گے اور آج دور تک گمراہی میں چلے گئے ہیں۔
Ayah 34:9

اَفَلَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَیْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ۠ Open ayah 34:9 in the Quran reader

کیا انہوں نے اس کو نہیں دیکھا جو ان کے آگے اور پیچھے ہے یعنی آسمان اور زمین اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں اس میں ہر بندے کے لئے جو رجوع کرنے والا ہے ایک نشانی ہے

(33:9) افلم یروا۔حرف عطف ہے ہمزہ استفہامیہ ہے عموما حروف استفہام (کیف، این ، انی، ھل، ای، ما، وغیرہ) حرف عطف کے بعد واقع ہوتے ہیں لیکن ہمزہ حرف عطف پر اس امر سے آگاہ کرنے کے لئے پہلے لایا جاتا ہے کہ صدر کلام میں آنے کے واسطے اصلی حرف یہی ہے۔ تو کیا انہوں نے نہیں دیکھا ۔ کیا وہ نہیں دیکھتے۔ من السماء والارض۔ من تبعیضیہ ہے۔ آسمان اور زمین میں سے جو ان کے اپنے آگے اور اپنے پیچھے ہے کیا یہ اس کو نہیں دیکھتے (جو اپنی جسامت ووسعت کے لحاظ سے ان کے دل کو قدرت الٰہی کی عظمت کے دلائل سے لبریز کردینے کے لئے کافی ہیں) جو ایسے اجسام عظیمہ کا ابتداء پیدا کرنے والا ہے کیا وہ اجسام صغیرہ کی خلق ثانی پر قادر نہیں ؟ ) ان نشا۔ ان شرطیہ ہے نشا مضارع کا صیغہ جمع متکلم ہے مشیئۃ مصدر مضارع مجزوم بوجہ عمل ان کے ہے۔ اگر ہم چاہیں۔۔ نخسف ب مضارع مجزوم (بوجہ عمل ان ) جمع متکلم خسف مصدر (باب ضرب) ہم دھنسا دیں۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب مفعول اول الارضمفعول ثانی ۔ اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں۔ خسوفچاند گرہن۔ خسف فعل لازم بھی ہے اور متعدی بھی ۔ او نسقط علیہم۔ او حرف عطف۔ نسقط کا عطف نخسف پر ہے اور یہ بھی ان کے عمل میں مضارع مجزوم بصیغہ جمع متکلم ہے یا ہم پر گرا دیں۔ کسفا۔ کسفۃ کی جمع اکساف وکسوف جمع الجمع ٹکڑے۔ کسوف سورج گرہن کسف فعل متعدی و لازم دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ منیب اسم فاعل واحد مذکر اللہ کی طرف خلوص سے رجوع کرنے والا۔ انابۃ (باب افعال) مصدر نوب مادہ (باب نصر) سے۔ کسی چیز کا بار بار لوٹنا۔ نوبۃ حاصل مصدر۔ باری۔
Ayah 34:10

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا١ؕ یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَهٗ وَ الطَّیْرَ١ۚ وَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَۙ Open ayah 34:10 in the Quran reader

اور ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے برتری بخشی تھی اے پہاڑو ! ان کے ساتھ تسبیح کرو اور پرندوں کو (انکا مسخر کردیا) اور انکے لئے ہم نے لوہے کو نرم کردیا

(34:10) اتینا داود منا فضلا۔ اتینا۔ ہم نے دیا۔ فعل۔ داود مفعول اول منا حال ہے فضلا مفعول ثانی۔ ہم نے دائود کو اپنی طرف سے فضیلت بخشی “ فضلا صیغہ نکرہ اظہار عظمت کے لئے ہے۔ یجبال۔ یہ فضلا کا بدل ہے ای قلنا یا جبال۔ اوبی۔ فعل امر، واحد مؤنث حاضر۔ تاویب (تفعیل) مصدر۔ تو رجوع کر۔ تو لوٹ یعنی اے پہارو ! تم بھی ان کے ساتھ مل کر تسبیح کرو۔ یہاں اوبی۔ بمعنی سجی ہے تو تسبیح کر۔ والطیر۔ الطیر منصوب یا تو فعل مقدرہ کا مفعول ہونے کی وجہ سے ہے۔ اس صورت میں تقدیر کلام ہے وسخرنا لہ الطیر۔ اور ہم نے پرندوں کو بھی (الطیر جنس کے لئے ہے) اس کی تسخیر میں کردیا۔ (کہ وہ بھی پہاروں کے ساتھ مل کر حضرت دائود کے ہمراہ تسبیح کریں) یا اس کا عطف فضلا پر ہے اور پر وندوں کا ماتحت کردینا بھی فضیلت میں سے ہے ۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے انا سخرنا الجبال معہ یسبحن بالعشی والاشراق۔ والطیر محشورۃ۔ کل لہ اواب (38 :18 ۔ 19) ہم نے پہاڑوں کو ان کے مطیع کردیا تھا۔ کہ شام اور صبح ان کے ساتھ تسبیح کیا کرتے تھے اور پرندوں کو بھی (ان کے مطیع کردیا تھا) جو اس کے ہاں (تسبیح کے لئے ) اکٹھے ہوجاتے تھے۔ اور جگہ ہے وسخرنا مع داود الجبال یسبحن والطیر (21:79) اور ہم نے دائود کے ساتھ تابع کردیا تھا پہاڑوں کو کہ وہ اور پرندے تسبیح کیا کریں۔ مندرجہ بالا آیات کی روشنی میں یہ صاف ظاہر ہے کہ پہاڑ اور پرندے ایک ہی حکم کے تحت دائود (علیہ السلام) کے ساتھ تسبیح کرنے پر مامور کر دئیے گئے تھے۔ فائدہ : پہاڑوں کی تسبیح سے ان کی صدائے باز گشت یا وہ عام تسبیح مراد نہیں جو ہر چیز اپنی اپنی زبان حال وقال سے کرتی رہتی ہے مراد نہیں۔ ورنہ حضرت دائود (علیہ السلام) پر فضل و انعام کے سلسلہ میں بیان کرنا کیا اہمیت رکھتا ہے۔ والنا لہ الحدید۔ یہ دوسرا انعام حضرت دائود پر تھا۔ النا ماضی جمع متکلم۔ الانۃ والیان (افعال) مصدر۔ جس کے معنی ہیں نرم کردینا۔ لین مادہ۔ الان للقوم جناحہ اس نے لوگوں سے نرم برتائو کیا۔ النا۔ ہم نے نرم کردیا۔ اس کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں۔ اول یہ کہ لوہا ان کے ہاتھ لگنے سے موم ہوجاتا تھا۔ دوم یہ کہ ان کو لوہا پگھلانے کا فن سکھا دیا گیا ہو۔ لان یلین (باب ضرب) سے یہ فعل لازم بھی آیا ہے بمعنی نرم ہونا۔ مثلاً فبما رحمۃ من اللہ لنت لہم (3:159) پھر یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی کے سبب سے ہے کہ آپ ان کے ساتھ نرم رہے۔
Ayah 34:11

اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرْ فِی السَّرْدِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 34:11 in the Quran reader

کہ کشادہ زرہیں بناؤ اور کڑیوں کو اندازے سے جوڑو اور نیک عمل کرو جو عمل تم کرتے ہو میں ان کو دیکھنے والا ہوں

(34:11) ان اعمل۔ میں ان مصدریہ ہے ای النالہ الحدید لعمل سابغات (کشادہ زرہیں بنانے کے لئے ہم نے لوہا اس کے لئے نرم کردیا۔ سبغت اصل میں سبغ یسبغ (باب نصر) سبوغ مصدر۔ سے اسم فاعل جمع مؤنث کا صیغہ ہے سابغۃ واحد اور یہاں موصوف محذوف کی صفت ہے یعنی دروعا سابغات۔ کشادہ زرہیں۔ لیکن سابغۃ بمعنی کشادہ زرہ کے کثرت استعمال سے موصوف کو بیان کرنے کی حاجت ہی نہ رہی۔ لہٰذا سبغت (بلا موصوف) بمعنی کشادہ زرہیں مستعمل ہے ! جیسے ابطع وادی کے کشادہ ہونے کو کہتے ہیں لیکن استعمال عام میں کشادہ وادی کے معنوں میں ہی مستعمل ہے۔ قدر۔ فعل امر واحد مذکر حاضر تقدیر (تفعیل) مصدر۔ مناسب اندازہ کے ساتھ بنائو۔ کڑیوں کو حساب کے ساتھ بنائو اور جوڑو۔ اعملوا۔ فعل امر جمع مذکر حاضر عمل مصدر۔ تم کام کرو۔ یہاں خطاب حضرت دائود اور آل دائود (علیہ السلام) سے ہے اس لئے جمع کا صیغہ آیا ہے۔
Ayah 34:12

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَّ رَوَاحُهَا شَهْرٌ١ۚ وَ اَسَلْنَا لَهٗ عَیْنَ الْقِطْرِ١ؕ وَ مِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْهِ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 34:12 in the Quran reader

اور ہوا کو (ہم نے) سلیمان کا تابع کردیا تھا اس کی صبح کی منزل بھی مہینے کی راہ ہوتی اور شام کی منزل بھی مہینے بھر کی ہوتی اور ان کے لئے ہم نے تانبے کا چشمہ بہادیا تھا اور جنوں میں ایسے تھے جو ان کے پروردگار کے حکم سے ان کے آگے کام کرتے تھے اور جو کوئی ان میں سے ہمارے حکم سے پھرے گا اس کو ہم (جہنم) کی آگ کا مزہ چکھائیں گے

(34:12) ولسلیمن الریح۔ وائو حرف عطف ہے لسلیمن کا عطف النالہ الحدید کے لہ پر ہے اور الریح کا عطف الحدید پر ہے۔ الانۃ الریح بمعنی تسخیرھا۔ (سلیمن بوجہ علم والف نون زائد تان کے غیر منصرف ہے) اور ہم نے مسخر کردی سلیمان کے لئے ہوا۔ غدوھا۔ مضاف مضاف الیہ غدو وغداوۃ صبح۔ فجر اور سورج نکلنے کے درمیان کا وقت غداوت جمع۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جس کا مرجع الریح ہے۔ یہاں الریح کی مناسبت سے غدو سے مردا ہوا کی صبح کی منزل یا مسافت ! غدوھا شھر۔ ترجملہ ہوگا : اس کی صبح کی منزل ایک ماہ کی۔ مراد یہ کہ صبح کے وقت ہوا حضرت سلیمان کو لے کر اتنا فاصلہ طے کرلیتی جتنا کہ ایک سوار ایک تیز رفتار گھوڑے پر ایک ماہ میں طے کرتا ہے۔ رواحھا۔ مضاف مضاف الیہ رواح شام۔ سورج ڈھلنے سے رات تک کا وقت مطلب اس کی شام کی منزل (بھی) ایک ماہ کی ہوتی۔ اسلنا۔ ماضی جمع متکلم اسالۃ (باب افعال) مصدر۔ ہم نے بہا دیا۔ ہم نے جاری کردیا۔ فعل لازم سال یسیل (ضرب) سیل وسیلان۔ پانی بہا۔ اسی سے سیل بمعنی سیلاب۔ عین القطر۔ مضاف مضاف الیہ۔ عین چشمہ، القطر پگھلا ہوا تانبا۔ عین القطر پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ، عین۔ اسلنا کا مفعول ہے اور بدین وجہ منصوب ہے۔ ومن الجن۔ وائو عطف کا ہے من الجن (من تبعیضیہ) کا عطف الریح پر ہے اور ہم نے سلیمان (علیہ السلام ) کے تابع کردیا کئی جنوں کو۔ من یعمل۔ من الجن کا بدل ہے جو کام کرتے تھے ان کے سامنے۔ ومن یزغ۔ وائو عاطفہ اور من شرطیہ ہے یزغ مضارع مجزوم (بعمل من شرطیہ) صیغہ واحد مذکر غائب زیغ (باب ضرب) سے مصدر۔ وہ پھرجاتا ہے۔ وہ سرتابی کرتا ہے وہ حکم عدولی کرتا ہے۔ امرنا۔ مضاف مضاف الیہ۔ ہمارا حکم۔ ضمیر جمع متکلم اللہ کی طرف راجع ہے۔ یعنی جوان میں سے ہمارے حکم (کہ سلیمان (علیہ السلام) کے تابع فرمان رہیں) سے سرتابی کرتا ہے ہم اسے بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب چکھاتے۔ نذقہ۔ نذق مضارع (مجزوم بوجہ جواب شرط) جمع متکلم اذاقۃ (باب افعال) مصدر ہ ضمیر واحد مذکر غائب ۔ مفعول۔ اس کا مرجع من ہے۔ ہم اس کو چکھاتے ہیں۔ چکھائیں گے۔ عذاب السعیر۔ بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب ۔ یعنی دوزخ کا عذاب، بعض کے نزدیک دنیا میں عذاب وہی مراد ہے۔
Ayah 34:13

یَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا یَشَآءُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَ تَمَاثِیْلَ وَ جِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَ قُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ١ؕ اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا١ؕ وَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ Open ayah 34:13 in the Quran reader

وہ جو چاہتے یہ ان کے لئے بناتے یعنی قلعے اور مجسمے اور (بڑے بڑے) لگن جیسے تالاب اور دیگیں جو ایک ہی جگہ رکھی رہیں اے داؤد کی اولاد میرا (شکر) کرو اور میرے بندوں میں شکر گزار تھوڑے ہیں

(34:13) محاریب محراب کی جمع۔ یہاں مراد مضبوط محل، قلعے ، اونچی اونچی عبادت گاہیں۔ تماثیل۔ تمثال کی جمع۔ مورتیں۔ تصویریں۔ شریعت سلیمانی میں مجسمہ تراشی اور مصوری حرام نہ تھیں۔ جفان۔ جفنۃ واحد۔ لگن، بڑا پیالہ۔ برتن جس میں شراب بنائی جائے کالجواب۔ کاف تشبیہ کا ہے۔ جواب جابیۃ کی جمع ہے۔ بڑا حوض۔ تالاب۔ قدور راسیت۔ موصوف وصفت۔ قدور۔ قدر کی جمع۔ ہانڈیاں۔ دیگیں۔ راسیت رسو سے اسم فاعل کا صیگہ جمع مؤنث راسیۃ کی جمع۔ رسو کے معنی کسی چیز پر قائم رہنا اور استوار ہونا کے ہیں راسیت ایک جگہ دھری رہنے والی۔ ہر وقت چولھوں پر قائم رہنے والی (دیگیں) ۔ ال داود۔ ای یا ال داود۔ اے دائود کی آل۔ اے دائود کے گھر والو۔ منادی۔ مرکب اضافی ہے۔ مضاف منصوب ہوگا۔ داود بوجہ علمیت وعجمیت غیر منصرف ہے۔ شکرا۔ منصوب بوجہ مفعول لہ۔ اعملوا شکرا تم شکر میں نیک اعمال کیا کرو۔ وقلیل۔ میں وائو حالیہ ہے۔ الشکور۔ شکر سے بروزن فعول صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ مؤنث، مذکر دونوں کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے۔ بڑا شکر گذار۔ بڑا احسان ماننے والا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اسما حسنیٰ میں سے بھی ہے اور جب اللہ تعالیٰ کی صفت میں واقع ہو تو اس کا مطلب ہوگا ! بڑا قدردان۔ تھوڑے کام پر دگنا ثواب دینے والا۔
Ayah 34:14

فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلٰى مَوْتِهٖۤ اِلَّا دَآبَّةُ الْاَرْضِ تَاْكُلُ مِنْسَاَتَهٗ١ۚ فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا فِی الْعَذَابِ الْمُهِیْنِؕ Open ayah 34:14 in the Quran reader

پھر جب ہم نے ان کے لئے موت کا حکم صادر کیا تو کسی چیز سے ان کا مرنا معلوم نہ ہوا مگر گھن کے کیڑے سے جو ان کے عصا کو کھاتا رہا جب عصا گرپڑا تب جنوں کو معلوم ہوا (اور کہنے لگے) کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو ذلت کی تکلیف میں نہ رہتے

(34:14) قضینا علیہ۔ قضی علی کسی کے خلاف فیصلہ کرنا۔ قضینا علیہ الموت ہم نے اس کے خلاف موت کا فیصلہ کرلیا۔ یعنی (جب ) ہم نے اس پر موت کا حکم جاری کردیا۔ ما دلہم علی موتہ (کسی چیز نے ) ان کو پتہ نہ بتایا اس کی موت کا۔ دلالۃ مصدر نیز ملاحظہ ہو (34:7) ۔ مندرجہ بالا۔ دابۃ الارض۔ زمین پر چلنے والا۔ پائوں پر چلنے والا، یا رینگ کر چلنے والا جانور، مراد یہاں دیمک ہے۔ منساتہ۔ منساۃ۔ اسم آلہ۔ نسی مصدر سے باب فتح۔ بروزن (مفعلۃ) آواز دینا۔ ہنکانا۔ مضاف ہ ضمیر واحد مذکر غائب مضاف الیہ۔ اس کا ڈنڈا۔ اس کی لاٹھی اشارہ حضرت سلیمان کی طرف ہے) ۔ خر۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ وہ گرپڑا۔ خر مصدر۔ جس کے معنی کسی چیز کا آواز کے ساتھ نیچے گرنے کے ہیں۔ یہاں ضمیر فاعل حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے) اور جگہ قرآن مجید میں ہے فخر علیہم السقف من فوقہم۔ (16:26) اور چھت ان پر ان کے اوپر سے گر پڑی۔ تبینت۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ اس نے جانا۔ تبین (تفعل) مصدر سے یہاں واحد مؤنث کا صیغہ جنوں کے لئے استعمال ہوا ہے۔ یعنی تب جنات نے جانا۔ تب جنات پر حقیقت ظاہر ہوئی۔ ما لبثوا۔ ماضی منفی جمع مذکر غائب۔ وہ نہ رہے۔ وہ نہ رہتے۔ العذاب المھین۔ موصوف وصفت۔ رسوا کن عذاب ۔ ذلت آمیز عذاب۔
Ayah 34:15

لَقَدْ كَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْكَنِهِمْ اٰیَةٌ١ۚ جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّ شِمَالٍ١ؕ۬ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ بَلْدَةٌ طَیِّبَةٌ وَّ رَبٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 34:15 in the Quran reader

(اہل) سبا کے لئے ان کے مقام بودوباش میں ایک نشانی تھی (یعنی) دو باغ (ایک) داہنی طرف اور ایک بائیں طرف اپنے پروردگار کا رزق کھاؤ اور اس کا شکر کرو (یہاں تمہارے رہنے کو یہ) پاکیزہ شہر ہے اور (وہاں بخشنے کو) خدائے غفار

(34:15) لسبا۔ اس سے مراد قوم سبا ہے۔ اس قوم کا ملک بھی سبا کے نام سے مشہور تھا۔ اور یہ وہی علاقہ ہے جو عرب کے جنوب میں اب اس وقت علاقہ یمن کہلاتا ہے۔ کنتن عن یمین و شمال (وہاں تھے) دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ ملک بھر میں صرف دو باغ تھے ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف۔ بلکہ مقصد یہ ہے کہ دائیں بائیں جدھر بھی نگاہ اٹھتی تھی باغات ہی باغات تھے۔ جنتن ایۃ کا بدل ہے ایۃ سے مراد یہی باغات ہی ہیں۔ کلوا۔۔ لہ۔ اس سے قبل کلام مقدرہ ہے۔ ای قال لہم نبی ہم کلوا۔ بلدۃ طیبۃ ورب غفور۔ جملہ مستانفہ ہے اور موجب شکر کی تصریح کے لئے ہے یعنی یہ تمہارا ملک عمدہ خوبصورت۔ باغ وبہاراں سے معمور اور ثمرو میوہ جات ورزق سے بھر پور تمہاری لطف اندوزی کے لئے موجود ہے اور تمہارا پروردگار تم پر اپنی نوازشات و مغفرت کے دروازے وا کئے ہوئے ہے اس حالت میں تمہارے اپنے پروردگار کا شکر ادا کرنا لازم آتا ہے۔ یعنی اس منعم کی نعمتوں سے بہرہ اندوز بھی ہو اور اس کا شکر بھی ادا کرو۔
Ayah 34:16

فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ وَ بَدَّلْنٰهُمْ بِجَنَّتَیْهِمْ جَنَّتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُكُلٍ خَمْطٍ وَّ اَثْلٍ وَّ شَیْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ Open ayah 34:16 in the Quran reader

تو انہوں نے (شکر گزاری سے) منہ پھیرلیا پس ہم نے ان پر زور کا سیلاب چھوڑ دیا اور انھیں ان کے باغوں کے بدلے دو ایسے باغ دئیے جن کے میوے بدمزہ تھے اور جن میں کچھ تو جھاؤ تھا اور تھوڑی سی بیریاں

(34:16) فاعرضوا۔ ماضی جمع مذکر غائب اعراض (افعال) مصدر انہوں نے منہ پھیرلیا۔تعقیب کا ہے پھر انہوں نے منہ پھیرلیا۔ یعنی سرتابی کی۔ فارسلنا۔ میںعطف سببی کے لئے ہے۔ سو ہم نے ان پر (سیل العرم) بھیج دیا۔ سیل العرم۔ مضاف مضاف الیہ۔ سیل۔ سیلاب۔ عرم۔ تیز رو، زور دار، سخت۔ یہ عرامۃ والعرامۃ سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے العرامۃ کے معنی مزاج کی تندی اور درشتی کے ہیں۔ لہٰذا جملہ کے معنی ہوں گے ! سو ہم نے ان پر سخت سیلاب بھیجا۔ بعض نے العرم کے معنی بند کے کئے ہیں کہ یہ سیلاب بند کے ٹوٹنے کی وجہ سے آیا تھا ۔ بعض نے العرم سے جنگلی چوہا مراد لیا ہے کہ یہ سیلاب چوہے کے بند میں شگاف کرنے اور نتیجۃ بند ٹوٹنے سے آیا تھا۔ (سد مارب کی طرف اشارہ ہے تفصیل کے لئے کسی بھی مفصل تفسیر کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے) ۔ بجنتیہم۔ ان کے دو باغوں کے بدلے جنتین۔ (ایسے) دو باغ۔ ذواتی۔ ذات کا تثنیہ۔ رکھنے والیاں۔ صاحب۔ اکل۔ میوہ ۔ پھل ۔ جو کھایا جائے۔ فعل کے وزن پر۔ خمط۔ کسیلا۔ بدمزہ۔ پیلو اور اس کا پھل (بغوی) ہر وہ سبزی جس کے مزہ میں اتنی تلخی پیدا ہوجائے کہ اس کو کھایا نہ جاسکے۔ (زجاج) ۔ ذواتی اکل خمط۔ ذواتی مضاف اکل خمط موصوف وصفت مل کر مضاف الیہ۔ بدمزہ اور کسیلے پھلوں والے باغ۔ اثل۔ ای ذواتی اثل۔ اثل جھائو کے درخت کو کہتے ہیں اس کی جمع اثلاث و اثال۔ اثول (جن میں جھائو کے درخت تھے) ۔ وشیء من سدر قلیل۔ ای ذواتی شیء قلیل من سدر۔ اور جن میں تھوڑے سے درخت بیری کے تھے۔ فائدہ : یہ حالت بند ٹوٹنے سے ہوگئی بند ٹوٹا اور اس کا سیلاب باغات، فصلات کی فوری تباہی کا سبب بن گیا۔ بند کے ٹوٹنے سے ذریعہ آبپاشی برباد ہوگیا۔ اور تھوڑے ہی عرصہ میں وہ جنت مثال علاقہ بنجر و برباد ہو کر رہ گیا۔
Ayah 34:17

ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِمَا كَفَرُوْا١ؕ وَ هَلْ نُجٰزِیْۤ اِلَّا الْكَفُوْرَ Open ayah 34:17 in the Quran reader

یہ ہم نے ان کی ناشکری کی ان کو سزا دی اور ہم سزا ناشکرے کو ہی دیا کرتے ہیں

(34:17) ذلک۔ یہ تبدیلی۔ جزینہم۔ جزینا ماضی جمع متکلم ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب جزاء (باب ضرب) مصدر۔ ہم نے ان کو بدلہ دیا۔ ہم نے ان کو سزا دی۔ بما میں با سببیہ ہے۔ ما موصولہ۔ بہ سبب ان کی ناشکری کے۔ ان کے کفر کے۔ ھل۔ کیا۔ یہاں ھل نافیہ ہے۔ نہیں کے معنی ہیں۔ الکفور۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ بوجہ مفعول ہونے کے منصوب ہے۔ کافر، ناشکرا۔ ناسپاس۔ احسان فراموش۔
Ayah 34:18

وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ الْقُرَى الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّ قَدَّرْنَا فِیْهَا السَّیْرَ١ؕ سِیْرُوْا فِیْهَا لَیَالِیَ وَ اَیَّامًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 34:18 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے اور (شام میں کی) ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دی تھی (ایک دوسرے کے متصل) دیہات بنائے تھے جو سامنے نظر آتے تھے اور ان میں آمدورفت کا اندازہ مقرر کردیا تھا کہ رات دن بےخوف و خطر چلتے رہو

(34:18) جعلنا۔ جعل (باب فتح) سے ماضی کا صیغہ جمع متکلم۔ ہم نے کیا۔ ہم نے ٹھہرایا۔ ہم نے مقرر کردیا۔ یہاں آیۃ ہذا میں بمعنی ہم نے آباد کردیا تھا۔ آباد کر رکھا تھا۔ بینہم۔ ان کے درمیان۔ ضمیر ہم جمع مذکر غائب کا مرجع اہل سبا ہیں مراد سبا کے علاقہ کے درمیان اور ملک شام کے درمیان۔ القری۔ جمع القریۃ واحد ۔ بستیاں ۔ شہر۔ ام القری مکہ شریف کو کہتے ہیں التی برکنا فیھا۔ جن میں ہم نے برکت دے رکھی تھی۔ ان سے مراد شام اور فلسطین کے قصبے اور شہر ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے بابرکت بنادیا تھا۔ کہ یہاں متعدد انبیا کا ظہورہوا ۔ قری ظاہرۃ۔ قری قریۃ کی جمع ہے بستیاں۔ موصوف ہے ظاہرۃ صفت، مراد اس سے وہ شہر اور بستیاں جو کسی شاہراہ پر واقع ہونے کی وجہ سے مسافروں کو دور سے نظر آنے لگیں۔ ظاہرۃ بمعنی عامرۃ بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی آباد۔ قری منصوب بوجہ جعلنا کے مفعول ہونے کے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ سبا کے علاقہ اور ملک شام کے علاقہ کے درمیان تجارتی شاہراہ پر برلب سڑک بلندوبالا عمارتوں والی بستیاں ہم نے آباد کر رکھی تھیں۔ السیر۔ سار یسیر (ضرب) سے مصدر ہے جس کے معنی زمین پر چلنا کے ہیں یہاں مسافت مراد ہے وقدرنا فیھا السیر اور ان سر راہ واقع بستیوں کی درمیانی مسافت کو ہم نے مناسب منزلوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ یعنی ایک بستی دوسری بستی سے مناسب فاصلہ پر آباد کر رکھی تھیں۔ صبح ، دوپہر، شام کسی وقت بھی ہر مسافر کو ایک نہ ایک بستی میں رہائش کی سہولتیں میسر تھیں۔ سیروا۔ فعل امر، جمع مذکر حاضر۔ تم چلو پھرو، تم سیر کرو، تم آئو جائو۔ ای قلنا لہم سیروا لیالی وایاما۔ ہم نے ان سے کہا کہ آئو جائو۔ رات ہو یا دن۔ رات دن۔ مفعول بوجہ مفعول فیہ۔ امنین۔ امن کی جمع۔ بےخوف، مطمئن۔ بےدھڑک، بےکھٹکے۔ یعنی تم رات دن بےخطر ان بستیوں کے درمیان آئو جائو تمہیں کسی قسم کا خطرہ نہیں مثلاً بھوک، پیاس۔ چوری، ڈاکہ۔ وغیرہ۔
Ayah 34:19

فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا وَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ وَ مَزَّقْنٰهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 34:19 in the Quran reader

تو انہوں نے دعا کی کہ اے پروردگار ہماری مسافتوں کے بعد (اور طول) پیدا کر دے اور (اس سے) انہوں نے اپنے حق میں ظلم کیا تو ہم نے (انہیں نابود کر کے) ان کے افسانے بنا دئیے اور انھیں بالکل منتشر کردیا اس میں ہر صابر و شاکر کے لئے نشانیاں ہیں

(33:19) فقالوا۔ ای لما طالت علیہم مدۃ النعمۃ بطروا وملوا و اثروا الذی ھو ادنی علی الذی ھو خیر کما فعل بنو اسرائیل وطلب البصل والثوم مکان المن والسلوی۔ یعنی جب عیش و عشرت کی مدت طویل ہوگئی تو وہ بہک گئے اور (اس آسائش و آرام کی زندگی سے) اکتا گئے تو ادنی چیز کو اعلیٰ چیز پر ترجیح دینے لگے۔ جیسا کہ بنی اسرائیل نے کیا تھا من اور سلویٰ کے بجائے پیازولہسن کی طلب پر مصر ہوگئے۔ جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی تو وہ کہنے لگے۔ ربنا بعد بین اسفارنا۔ اے ہمارے پروردگار ہماری مسافتوں کے درمیان فاصلوں کو لمبا کر دے۔ یعنی ایک پڑائو دوسرے پڑائو سے کافی دور ہو ان کے درمیان وسیع و عریض صحراہوں غیر آباد ویرانے ہوں راستہ میں ڈاکہ زنی کی وارداتیں ہوں قافلوں کی صورت میں ہم سفر کریں اور اس طرح مہم جوئی میں مزہ آجائے۔ ضروری نہیں کہ یہ بات انہوں نے فی الواقع اپنی زبان سے کہی ہو دل کے اندر کی تمنا بھی مراد ہوسکتی ہے۔ باعد امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر مباعدۃ (مفاعلۃ) سے تو بعد پیدا کر دے۔ تو دوری کر دے۔ فجعلنہم احادیث۔ تو ہم نے انہیں افسانہ بنادیا۔ ان کو ایسا پارہ پارہ کردیا کہ ان کا نام ونشان تک مٹ گیا۔ اور اب ان کے صرف قصے ہی رہ گئے۔ عرب میں محاورہ ہے ذھبوا ایدی سبا۔ وہ اہل سبا کی چال چل گئے۔ یعنی منتشر اور تتربتر ہوگئے۔ مزقنہم۔ مزقنا فعل ماضی جمع متکلم تمزیق (تفعیل) مصدر۔ جس کے معنی ہیں ٹکڑے ٹکڑے کرنا۔ پارہ پارہ کرنا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ضمیر فاعل فقالوا کی طرف راجع ہے۔ کل ممزق۔ (ملاحظہ ہو 34:7) فعل کے بعد تاکید کے لئے مصدر کو لایا گیا ہے ہم نے ان کو بالکل تتر بتر کردیا۔ صبار۔ صبر سے بروزن فعال مبالغہ کا صیغہ ہے بڑا صبر کرنے والا۔ بڑا متحمل مزاج ۔ شکور۔ فعول کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے مبالغہ کے اوزان میں سے ہے بڑا شکر گذار، بڑا احسان ماننے والا۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف اس کی نسبت ہو تو بمعنی بڑا قدردان
Ayah 34:20

وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْهِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:20 in the Quran reader

اور شیطان نے ان کے بارے میں اپنا خیال سچ کر دکھایا کہ مومنوں کی ایک جماعت کے سوا وہ اسکے پیچھے چل پڑے

(34:20) صدق علیہم ظنہ۔ اس نے ان کے خلاف اپنا گمان سچ کر دکھایا۔ شیطان کے ظن سے مراد اس کی وہ لاف زنی ہے جو اس نے اللہ رب العزت کے حضور اولاد آدم کے خلاف کی تھی۔ مثلاً اس نے کہا تھا فبعزتک لاغوینہم اجمعین (38:82) تیری عزت کی قسم میں ضرور ان سب کو گمراہ کروں گا۔ اور ولا تجد اکثرہم شکرین (7:17) اور آپ ان میں سے اکثر کو اپنا شکر گذار نہ پائیں گے۔ فاتبعوہ الا فریقا من المؤمنین۔ فاتبعوا میں ضمیر فاعل جمع مذکر غائب بنی آدم کی طرف راجع ہے اور من المؤمنین میں من بیانیہ ہے گویا لفظ فریق من المؤمنین کی تشریح و توضیح کر رہا ہے ای الا فریقا ہم المؤمنون لم یتبعوہ۔ ترجمہ ہوگا۔ ابلیس نے نبی نوع انسان کے خلاف اپنا گمان سچ کر دکھایا۔ بنی آدم نے اس کا اتباع کیا ماسوائے مومنوں کے گروہ کے جنہوں نے اس کی پیروی نہ کی۔ اتبعوا میں ضمیر فاعل اہل سبا کے لئے اور من تبعیضیہ بھی بیان کیا گیا ہے !
Ayah 34:21

وَ مَا كَانَ لَهٗ عَلَیْهِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِیْ شَكٍّ١ؕ وَ رَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ۠ Open ayah 34:21 in the Quran reader

اور اس کا ان پر کچھ زور نہ تھا مگر (ہمارا) مقصود یہ تھا کہ جو لوگ آخرت میں شک رکھتے ہیں ان سے ان لوگوں کو جو اس پر ایمان رکھتے تھے متمیز کردیں اور تمہارا پروردگار ہر چیز پر نگہبان ہے

(34:21) ما کان لہ علیہم۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب ابلیس کے لئے ہے اور ہم ضمیر جمع مذکر غائب بنی آدم کے لئے ہے۔ الا۔ استثناء منقطع۔ مفرغ ہے ” لیکن “ کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ لنعلم لام تعلیل کا ہے نعلم مضارع منصوب (بوجہ عمل لام) جمع متکلم ہے نعلم بمعنی نظھر۔ (ہم ظاہر کردیں۔ نمیز (ہم تمیز کردیں) اور نری (ہم دیکھیں) کے معنی میں مستعمل ہوتا ہے۔ اور یہاں سب معنی ہی مراد ہوسکتے ہیں۔ جہاں تک علم کا تعلق ہے خدا ہر ایک چیز کے متعلق ابتدا سے اخیر تک اس کا علم رکھتا ہے لیکن انسان کے کسی فعل پر جزا وسزا مرتب کرنے کے لئے اس کا استحقاق تبھی متعین ہوگا۔ جب وہ عالم واقع میں ظہور پذیر ہوگا اس ابتلا و امتحان سے یہی مقصود تھا کہ ہم امر واقع سے دکھا دیں کہ آخرت پر ایمان رکھنے والا کون تھا۔ اور اس میں شک رکھنے والا کون ؟ من موصولہ ہے۔ اور استفہام کے لئے آیا ہے۔ کون۔ ممن۔ من جارہ اور من موصولہ سے مرکب ہے۔ اس سے جو (اس کی طرف سے شک میں ہے) ۔ منھا۔ میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الاخرۃ کے لئے ہے۔ وما کان لہ۔۔ فی شک۔ اس (شیطان ) کے لئے ان پر کوئی قدرت نہ تھی لیکن (یہ سب کچھ اس لئے ہوا) کہ ہم چاہتے تھے کہ دکھا دیں کہ کون آخرت پر یقین رکھتا ہے اور کون اس کے متعلق شک میں ہے۔
Ayah 34:22

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۚ لَا یَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا لَهُمْ فِیْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِیْرٍ Open ayah 34:22 in the Quran reader

کہہ دو کہ جن کو تم خدا کے سوا (معبود) خیال کرتے ہو ان کو بلاؤ وہ آسمانوں اور زمین میں ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں اور نہ ان میں ان کی شرکت ہے اور نہ ان میں سے کوئی خدا کا مددگار ہے

(34:22) قل۔ ای قل یا محمد ﷺ ۔ ادعوا۔ دعوۃ (باب نصر) سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم بلائو ۔ (مخاطبین مشرکین مکہ تھے) ۔ ادعوا الذین زعمتم من دون اللہ۔ ای ادعوا الذین زعمتموہم الھۃ من دون اللہ۔ ہم ضمیر جمع مذکر راجع الی الموصول ہے۔ زعمتم کا مفعول اول ہے الھۃ مفعول ثانی۔ مفعول اول کو تخفیف کے لئے حذف کردیا گیا۔ کہ صلہ اور موصول بمنزلہ اسم واحد کے ہیں۔ مفعول ثانی الھۃ کو اس لئے حذف کردیا کہ اس کی صفت (من دون اللہ) اپنے موصوف الھۃ کے قائمقام ہے۔ ترجمہ ہوگا : (اے پیغمبر) کہہ دیجئے (مشرکین مکہ یا اپنی قوم کے مشرکوں سے) بلائو ان کو جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا تم معبود خیال کرتے ہو۔ مثقال ذرۃ۔ ذرہ برا بر۔ نیز ملاحظہ ہو (34:3) ۔ شرک۔ شرکت۔ ساجھا۔ اشراک (نہ ان کی ان دونوں میں کوئی شرکت ہے) ۔ ظھیر۔ مدد گار۔ مظاہرۃ سے بروزن فعیل بمعنی فاعل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ مذکر مؤنث ، واحد، جمع ہر ایک کے لئے استعمال ہوتا ہے فعیل اور فعول دونوں میں یہی استعمال ہے۔ منہم ای من الہتہم اور نہ ہی اس کا ان میں سے کوئی مددگار ہے) ۔
Ayah 34:23

وَ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَا ذَا١ۙ قَالَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوا الْحَقَّ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 34:23 in the Quran reader

اور خدا کے ہاں (کسی کے لئے) سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لئے جس کے بارے میں وہ اجازت بخشے یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے اضطراب دور کردیا جائے گا تو کہیں گے تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا ہے (فرشتے) کہیں گے کہ حق (فرمایا) ہے اور وہ عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے

(34:23) فزع۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب تفزیع (تفعیل) مصدر۔ جس کے معنی ڈرانا بھی ہے اور خوف دور کرنا بھی۔ (لغات اضداد میں سے ہے) ۔ تفعیل کے خواص میں سے ایک خاصیت سلب مادہ بھی ہے یعنی کسی چیز سے ماخذ کو دور کرنا۔ لہٰذا تفزیع ڈر کے دور کرنے کے معنی میں بھی ہوسکتا ہے ۔ اور یہاں آیۃ ہذا میں انہی معنی میں استعمال ہوا ہے فزع بمعنی خوف۔ گھبراہٹ ۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے اذ دخلوا علی داود ففزع منہم (38:22) جب وہ اچانک دائود (علیہ السلام پر داخل ہوئے تو آپ ان سے گھبرا گئے۔ عن قلوبہم۔ میں ضمیر ہم جمع مذکر غائب ملائکہ کے لئے ہے۔ قالو ما ذا قال ربکم۔ ای قال بعضہم لبعض۔ قالوا الحق۔ مخاطبین جواب میں کہیں گے۔ یا ضمیر فاعل الملئکۃ کے لئے ہے۔
Ayah 34:24

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّاۤ اَوْ اِیَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 34:24 in the Quran reader

پوچھو کہ تم کو آسمانوں اور زمین سے کون رزق دیتا ہے ؟ کہو کہ خدا اور ہم یا تم (یا تو) سیدھے راستے پر ہیں یا صریح گمراہی میں

(34:24) قل۔ ای قل یا محمد ﷺ للمشرکین۔ من السموت (آسمان سے پانی برسا کر) والارض (زمین سے نباتات اگاکر) ۔ قل اللہ۔ تو خدائے تعالیٰ نے فرمایا کہ :۔ اے نبی کریم ﷺ ان کو بتا دیجئے کہ زمین و آسمان سے رزق کی بہمر سانی اللہ ہی ۔ وانا وا ایاکم لعلی ھدی او صراط مستقیم۔ اس کا عطف ما قبل پر ہے۔ اور یہ قل اللہ والے جواب کا حصہ ہے۔ یعنی اور یہ بھی ان سے کہہ دیجئے یا ہم یا تم دونوں میں سے ایک ہدایت پر ہے یا ہم اور تم دونوں میں سے ایک گمراہی پر ہے۔
Ayah 34:25

قُلْ لَّا تُسْئَلُوْنَ عَمَّاۤ اَجْرَمْنَا وَ لَا نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:25 in the Quran reader

کہہ دو کہ نہ ہمارے گناہوں کی تم سے پرسش ہوگی اور نہ تمہارے اعمال کی ہم سے پرسش ہوگی

(34:25) اجرمنا۔ ماضی جمع متکلم۔ اجرام (افعال) سے ہم نے جرم کیا۔ ہم نے گناہ کیا ۔
Ayah 34:26

قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ هُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ Open ayah 34:26 in the Quran reader

کہہ دو کہ ہمارا پروردگار ہم کو جمع کرے گا پھر ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دے گا اور وہ خوب فیصلہ کرنے والا اور صاحب علم ہے

(34:26) یجمع۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ جمع مصدر (باب فتح) وہ جمع کرے گا۔ وہ اکٹھا کرے گا۔ بیننا۔ بین۔ درمیان ۔ بیچ۔ مضاف۔ نا ضمیر جمع متکلم مضاف الیہ۔ ہمارے درمیان ہمارے بیچ۔ یفتح۔ مضارع واحد مذکر غائب فتح مصدر۔ وہ فیصلہ کرے گا۔ عربی میں کہتے ہیں فتح القضیۃ فتاحا۔ یعنی اس نے معاملہ کا فیصلہ کردیا۔ اور اس سے مشکل اور پیچیدگی کو دور کردیا۔ ثم یفتح بیننا بالحق۔ پھر وہ ہمارے حق و انصاف سے فیصلہ کر دے گا۔ اس سے الفتاح مبالغہ کا صیغہ بمعنی بہت بڑا فیصلہ کرنے والا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اسما حسنیٰ میں سے ہے۔
Ayah 34:27

قُلْ اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِهٖ شُرَكَآءَ كَلَّا١ؕ بَلْ هُوَ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 34:27 in the Quran reader

کہو کہ مجھے وہ لوگ تو دکھاؤ جن کو تم نے شریک (خدا) بنا کر اسکے ساتھ ملا رکھا ہے کوئی نہیں بلکہ وہی (اکیلا) خدا غالب (اور) حکمت والا ہے

(34:27) ارونی۔ اری یری اراء ۃ (باب افعال) سے فعل امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم۔ تم مجھے دکھائو۔ یہ متعدی بہ سہ مفعول ہے مفعول اول یا متکلم ۔ مفعول دوم اسم موصول الذین۔ اور مفعول سوم شرکائ۔ الحقتم بہ۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ الحاق (افعال) مصدر۔ تم نے الحاق کر رکھا ہے۔ تم نے ملا رکھا ہے۔ ہ ضمیر واحد مذکر اللہ کی طرف راجع ہے۔ ارونی الذین الحقتم بہ شرکائ۔ مجھے دکھائو (تو) وہ شریک جنہیں تم نے اللہ کے ساتھ ملا رکھا ہے۔ کلا۔ حرف ردع ہے، جس کے معنی روکنے کے ہیں یہ روکنا خواہ بذریعہ زجروتوبیخ کے ہو یا بطور تربیت اور آداب آموزی کے۔ کسائی کے نزدیک حقا (یقینا یا واقعی) کا ہم معنی ہے۔ ابو حاتم۔ بمعنی الا ہے۔ جو آغاز کلام کے لئے آتا ہے۔ فرا کے نزدیک صرف جواب کے طور پر بمعنی ای۔ نعم۔ (جی۔ ہاں) آتا ہے۔ بل حرف اضراب ہے ماقبل کی تردید اور مابعد کی تصحیح کے لئے آیا ہے۔ یعنی اس کا ہرگز کوئی شریک نہیں بلکہ وہ تو اللہ۔ العزیز اور الحکیم ہے۔
Ayahs 34:28–29

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 34:28 in the Quran reader

اور (اے محمد ﷺ ہم نے تم کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 34:29 in the Quran reader

اور کہتے ہیں اگر تم سچے ہو تو یہ (قیامت کا) وعدہ کب وقوع میں آئے گا ؟

(34:28) کافۃ۔ لفظی رو سے یہ کف (مادہ ومصدر) سے اسم فاعل واحد مؤنث منصوب ہے اور کاف مذکر۔ یا یہ اسم فاعل واحد مذکر کا صیغہ ہے۔ اور ۃ علامت مبالغہ ہے۔ جیسا کہ راویۃ علامۃ میں ہے۔ الکف کے معنی ہاتھ کی ہتھیلی کے ہیں جس کے ساتھ انسان چیزوں کو اکٹھا کرنا ہے اور پھیلاتا ہے۔ کففتہ کے اصل معنی کسی کی ہتھیلی پر مارنے یا کسی کو ہتھیلی کے ساتھ مار کر دور ہٹانے اور روکنے کے ہیں پھر عرف عام میں دور ہٹانے اور روکنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا خواہ وہ ہتھیلی سے ہو یا کسی اور چیز سے۔ وما ارسلنک الا کافۃ للناس (آیت ہذا) اور (اے محمد ﷺ ) ہم نے تم کو گناہوں سے روکنے والا بنا کر بھیجا ہے۔ (راغب) ۔ یہ تنقیح لفظی ساخت کی ہے۔ استعمال میں کافۃ ہمیشہ حال۔ منصوب اور نکرہ ہوتا ہے جس کے معنی سب کے سب، پورے پورے ہے۔ اور آیت ہذا میں بھی اکثر مفسرین نے انہی معنوں میں لیا ہے اور ترجمہ کیا ہے، اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر سارے انسانوں کے لئے ۔ یہاں کافۃ الناس کا حال ہے لہٰذا منصوب ہے ۔ بشیرا (خوش خبری دینے والا) نذیرا (ڈرانے والا) دونوں ک ضمیر مفعول واحد مذکر کے حال ہیں اور بدیں وجہ منصوب ہیں۔
Ayah 34:30

قُلْ لَّكُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْهُ سَاعَةً وَّ لَا تَسْتَقْدِمُوْنَ۠ Open ayah 34:30 in the Quran reader

کہہ دو کہ تم سے ایک دن کا وعدہ ہے جس سے نہ ایک گھڑی پیچھے رہو گے نہ آگے بڑھو گے

(34:30) میعاد۔ ظرف زمان۔ وقت وعدہ۔ مضاف ہے یوم مضاف الیہ ہے۔ لکم میعاد یوم تمہارے لئے وقت مقررہ اس دن کا ہے۔ لا تستاخرون عنہ ساعۃ جس سے تم ایک لمحہ بھی پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ ساعۃ بوجہ مفعول فیہ ہونے کے منصوب ہے۔ لا تستاخرون مضارع منفی کا صیغہ جمع مذکر حاضر استیخار (استفعال) مصدر جس کے معنی پیچھے ہونے اور دیر کرنے کے ہیں۔ جس سے تم ایک لمحہ بھی پیچھے نہیں ہوسکتے یا۔ ہو سکو گے۔ ولا تستقدمون۔ مضارع منفی جمع مذکر حاضر استقدام (استفعال) مصدر جس کے معنی آگے ہونے کے ہیں۔ آگے بڑھنے کی خواہش کرنے کے ہیں اور نہ تم آگے بڑھ سکتے ہو۔
Ayah 34:31

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ لَا بِالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۖۚ یَرْجِعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِ اِ۟لْقَوْلَ١ۚ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لَوْ لَاۤ اَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:31 in the Quran reader

اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم نہ تو اس قرآن کو مانیں گے اور نہ ان (کتابوں) کو جو اس سے پہلے کی ہیں اور کاش (ان) ظالموں کو تم اس وقت دیکھو جب یہ اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہوں گے اور ایک دوسرے کو ردوکد کر رہے ہوں گے جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے وہ بڑے لوگوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور مومن ہوجاتے

(34:31) لن نؤمن مضارع نفی۔ تاکید بلن منصوب بوجہ عمل لن۔ ہم ہرگز نہ مانیں گے۔ ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ بین یدیہ۔ بین بمعنی بیچ ۔ درمیان۔ اسم ظرف مکان۔ یدی مضاف ہ ضمیر واحد مذکر غائب مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ بین مضاف کے۔ اس کے دونوں ہاتھوں کے درمیان ۔ یا۔ سامنے۔ مراد آگے۔ سامنے۔ پہلے۔ ولا بالذی بین یدیہ اور نہ (ہم ایمان لائیں گے) ان کتابوں پر جو اس قرآن سے قبل (نازل کی گئی ) ہیں۔ بین کا استعمال یا تو وہاں ہوتا ہے جہاں مسافت پائی جائے مثلاً بین البلدین (دو شہروں کے درمیان یا جہاں دو یا دو سے زیادہ کا عدد موجود ہو۔ مثلاً بین الرجلین (دو شخصوں کے درمیان ) یا بین القوم (قوم کے درمیان) ۔ اور جس جگہ وحدت کے معنی ہوں وہاں بین کی اضافت ہو تو تکرار ضروری ہے مثلاً ومن وبینک حجاب (41:5) اور درمیان ہمارے اور درمیان تیرے پردہ ہے۔ فاجعل بیننا وبینک موعدا (20:58) پس ٹھہرالے ہمارے اور اپنے بیچ میں وعدہ۔ جب بین کی اضافت ایدی کی طرف ہو تو اس کے معنی سامنے اور قریب کے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ آیت ہذا میں بین یدیہ یہاں مراد قبل القرآن نازل کتب بھی ہوسکتی ہیں یا آنے والی قیامت اور وہاں کے بہشت و دوزخ ہیں۔ لو تری۔ میں لو حرف تمنا ہے تری مضارع کا صیغہ واحد مذکر اے کاش تو دیکھے اس کے بعد حال محذوف ہے ای ولو تری حالہم۔ موقوفون۔ اسم مفعول جمع مذکر وقوف مصدر (باب ضرب) کھڑے کئے جائیں گے۔ یرجع بعضہم الی بعض ن القول۔ القول۔ یرجع کا مفعول ہے۔ جملہ موضع حال میں ہے۔ رجع یہاں فعل متعدی استعمال ہوا ہے یرجع القول الی کسی بات کو اس کے مبدا حقیقی یا تقدیری کی طرف لوٹا دینا۔ رد کردینا۔ واپس کرنا۔ یرجع بعضہم الی بعض ن القول درآنحالیکہ ہر ایک دوسرے کی بات رد کر رہا ہوگا ۔ ہر ایک دوسرے پر بات ڈال رہا ہوگا۔ یعنی ہر ایک ودسرے پر الزام تھوپ رہا ہوگا۔ استضعفوا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب استضعاف (استفعال) مصدر۔ وہ جو کمزور سمجھے جاتے تھے۔ استکبروا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب استکبار (استفعال) مصدر وہ (جنہوں نے ) تکبر کیا۔ یا جو تکبر کیا کرتے تھے۔ گھمنڈ کیا کرتے تھے۔ لولا۔ لو شرطیہ ہے لا نافیہ ہے۔ لو لا انتم۔ اگر تم نہ ہوتے۔ لکنا مؤمنین۔ میں لام تاکید جواب شرط کے لئے آیا ہے۔ کنا کون سے ماجی صیغہ جمع متکلم ۔ مؤمنین ” کنا “ کی خبر ہے۔ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایماندار ہوتے۔
Ayah 34:32

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْۤا اَنَحْنُ صَدَدْنٰكُمْ عَنِ الْهُدٰى بَعْدَ اِذْ جَآءَكُمْ بَلْ كُنْتُمْ مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 34:32 in the Quran reader

بڑے لوگ کمزوروں سے کہیں گے کہ بھلا ہم نے تم کو ہدایت سے جب وہ تمہارے پاس آچکی تھی روکا تھا ؟ (نہیں) بلکہ تم ہی گنہگار تھے

(34:32) انحن۔ میں ہمزہ استفہام انکاری ہے ۔ کیا ہم نے تمہیں روکا تھا۔ یعنی ہم نے تو تمہیں نہیں روکا تھا۔ صددنکم۔ صیغہ ماضی جمع متکلم کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر صد و صدود ہم نے تم کو روکا تھا۔ بعد اذ جاء کم : ای بعد اذ جاء کم الھدی۔ جاء میں ضمیر فاعل واحد مذکر غائب الھدی کی طرف راجع ہے۔ بل۔ حرف اضراب ہے ماقبل کے ابطال اور مابعد کی تصحیح کے لئے استعمال ہوا ہے ہم نے تو تمہیں ہدایت سے نہیں روکا تھا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تم خود ہی مجرم تھے۔
Ayah 34:33

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا بَلْ مَكْرُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ اِذْ تَاْمُرُوْنَنَاۤ اَنْ نَّكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ نَجْعَلَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ؕ وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِیْۤ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:33 in the Quran reader

اور کمزور لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے (نہیں) بلکہ (تمہاری) رات دن کی چالوں نے (ہمیں روک رکھا تھا) جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم خدا سے کفر کریں اور اس کا شریک بنائیں اور جب وہ عذاب دیکھیں گے تو دل میں پشیمان ہوں گے اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے بس جو عمل وہ کرتے تھے انہی کا ان کو بدلہ ملے گا

(34:33) بل۔ یہاں بھی اضراب ہی کے لئے مستعمل ہے۔ پہلی صورت کو برقرار رکھتے ہوئے مابعد کو اس پر اور زیادہ کرنے کے لئے ہے۔ یعنی جرم محض ہمارا ہی نہیں بلکہ تمہارے صدود اور مزید برآں تمہارے رات دن کے مکروفریب نے ہمیں خدا کے ساتھ کفر کرنے اور اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے کا حکم دینا ہی (ہماری اس گمراہی کا ) باعث ہوا۔ مکر الیل والنھار۔ ای مکرکم بنا فی الیل والنھار۔ تمہارا رات دن کے مکروفریب نے ہمیں حق سے روکے رکھا۔ اذ تامروننا۔ یہ لیل ونہار کا بدل ہے یا مکر کی تعلیل ۔ جب تم ہمیں حکم دیتے تھے۔ یا دیا کرتے تھے۔ اندادا۔ اسم مفعول جمع مذکر ند واحد۔ شریک ۔ برابر۔ مقابل۔ ند اس کو کہتے ہیں جو کسی شے کی ذات اور جوہر میں شریک ہو۔ اسروا ماضی جمع مذکر غائب اسرار (افعال) مصدر۔ انہوں نے چھپایا۔ انہوں نے پوشیدہ رکھا۔ یہاں ضمیر فاعل جمع مذکر غائب مستکرین اور مستضعفین تھے ان کی طرف راجع ہے۔ اسروا الندامۃ (ماضی بمعنی مستقبل) وہ ندامت کو چھپائیں گے۔ دل ہی دل میں پچھتائیں گے۔ یعنی ہر دو فریق کے ظالم لوگ باوجود اس باہم الزام دہی کے اپنے سامنے عذاب کو دیکھ کر اپنے دلوں میں نادم و پشیمان ہونگے۔ الاغلال۔ الغلل کے معنی کسی چیز کو اوپر اوڑھنے یا اس کے درمیان چلے جانے کے ہیں۔ اسی سے غلل اس پانی کو کہا جاتا ہے جو درختوں کے درمیان سے بہہ رہا ہو۔ غل خاص کر اس چیز کو کہا جاتا ہے جس سے کسی کے اعضا کو جکڑ کر اس کے وسط میں باندھ دیا جاتا ہے یعنی طوق۔ گلے کی زنجیر۔ اس کی جمع اغلال ہے۔ کنایہ کے طور پر کنجوس شخص کو مغلول الید کہا جاتا ہے جیسے کہ قرآن مجید میں ہے وقالت الیھود ید اللہ مغلولۃ (5:64) اور یہود کہتے ہیں کہ خدا کا ہاتھ گردن سے بندھا ہوا ہے (یعنی اللہ بخیل ہے) ۔ غل (غ کے کسرہ کے ساتھ) بمعنی کینہ۔ پوشیدہ دشمنی ہے۔ ھل یجزون۔ یجزون مضارع مجہول جمع مذکر غائب ۔ جزاء مصدر (باب ضرب) جزی مادہ ھل جزاء الاحسان الا الاحسان (55:60) نہیں ہے احسان کا بدلہ مگر احسان اس معنی میں ھل یجزون کا معنی ہوگا ان کو بدلہ نہیں دیا جائے گا (مگر۔۔ ) لیکن ھل استفہام انکاری بھی ہوسکتا ہے آیت ہذا میں بھی اور آیت مذکورہ بالا (55:60) میں بھی۔ اور ترجمہ ہوگا : کیا ان کو بدلہ دیا جائے گا بجز اس کے کہ جو وہ کیا کرتے تھے۔ یعنی ان کو بدلہ نہیں دیا جائے گا بجز اس کے کہ جو وہ کیا کرتے تھے (34:33) ۔ اور : بھلا احسان کا بدلہ بجز احسان کے اور بھی ہوسکتا ہے یعنی نہیں ہوسکتا۔ (55:60) ۔
Ayah 34:34

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 34:34 in the Quran reader

اور ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوشحال لوگوں نے کہا کہ جو چیز دے کر تم بھیجے گئے ہو ہم اسکے قائل نہیں

(34:34) مترفوھا مضاف مضاف الیہ۔ مترفوا اصل میں مترفون تھا۔ نون اعرابی بوجہ اضافت گرگیا۔ اسم مفعول صیغہ جمع مذکر ہے۔ بمعنی۔ امیر۔ خوشحال، فارغ البال ۔ عیش دیا گیا۔ فھو مترف۔ پس وہ خوشحال اور امیر ہے ۔ عیش پرست ہے ھا ضمیر واحد مؤنث غائب قریۃ کی طرف راجع ہے۔ اس بستی کے خوشحال ، عیش پرست لوگ۔
Ayah 34:35

وَ قَالُوْا نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ۙ وَّ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 34:35 in the Quran reader

اور (یہ بھی) کہنے لگے کہ ہم بہت سا مال اور اولاد رکھتے ہیں اور ہم کو عذاب نہیں ہوگا

(34:35) اکثر۔ اسم تفضیل کا صیغہ۔ مفضل علیہ محذوف ہے ای نحن اکثر منکم اموالا واولادا۔ ہم تم سے زیادہ کثیر المال اور کثیر الاولاد ہیں۔ مالا واولادا۔ بوجہ تمیز منصوب ہیں۔ معذبین اسم مفعول جمع مذکر۔ عذاب دئیے گئے۔ عذاب یافتہ۔ ( ہمیں عذاب نہیں دیا جائے گا) ۔
Ayah 34:36

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 34:36 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرا رب جس کے لئے چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے تنگ) کردیتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

(34:36) یقدر۔ مضارع واحد مذکر غائب قدر مصدر (باب ضرب) وہ تنگ کرتا ہے وہ کم کرتا ہے۔ محاورہ ہے قدرت علیہ الشیء میں نے اس پر تنگی کردی۔ گویا وہ چیز اسے معین مقدار میں تول کر جانچ کردی گئی ہے۔ اس کے بالمقابل بغیر حساب (بےاندازہ) آتا ہے ۔ مثلاً وترزق من تشاء بغیر حساب (3:27) اور تو جس کو چاہتا ہے بیشمار رزق بخشتا ہے۔ یبسط کی ضد ہے چناچہ قرآن مجید میں ہے اللہ یبسط الزرق لمن یشاء ویقدر (13:26) خدا جس کا چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ یہ مادہ قدر سے مشتق ہے جس کے معنی قدرت رکھنے کے ہیں اسی سے القادر القدیر المقتدر اللہ تعالیٰ کے اسماء الحسنیٰ میں سے ہے پھر اندازہ لگانا اور تجویز کرنا کے معنی میں بھی مستعمل ہے مثلاً انہ فکر وقدر فقتل کیف قدر۔ (74:18 ۔ 19) اس نے فکر کیا اور تجویز کی یہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی۔ استعارہ کے طور پر حالت اور وسعت مال کے معنی میں بھی آتا ہے اور قدر بمعنی معین وقت یا مقام بھی مستعمل ہے مثلاً الی قدر معلوم (77:22) ایک معین وقت تک۔
Ayah 34:37

وَ مَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰۤى اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١٘ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَ هُمْ فِی الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ Open ayah 34:37 in the Quran reader

اور تمہارا مال اور اولاد ایسی چیز نہیں کہ تم کو ہمارا مقرب بنادیں ہاں (ہمارا مقرب وہ ہے) جو ایمان لایا اور عمل نیک کرتا رہا ایسے ہی لوگوں کو ان کے اعمال کے سبب دگنا بدلا ملے گا اور وہ خاطر جمع سے بالا خانوں میں بیٹھے ہوں گے

(34:37) بالتی بمعنی التی صیغہ واحد مؤنث غائب اموال واولاد کے لئے آیا ہے دونوں جمع مکسر کے صیغے ہیں اور جمع مکسر ذوی العقول اور غیر ذوی العقول کے لئے ضمیر واحد مؤنث آئے گی۔ تقربکم تقرب تقریب (تفعیل) سے مضارع صیغہ واحد مؤنث غائب اور یہاں اموال واولاد کے لئے استعمال ہوا ہے کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر ہے وہ تم کو قریب کردیں گے۔ قرب سے یہاں مراد قرب منزلت ہے۔ زلفی۔ درجہ۔ مرتبہ۔ قربت۔ قدرومنزلت، زلف وزلف وزلفی مصدر ہیں زلف (باب نصر) بمعنی آگے ہونا۔ قریب ہونا۔ ازلف باب افعال قریب کرنا۔ قریب لانا۔ مثلاً وازلفت الجنۃ للمتقین (50:21) اور بہشت پرہیزگاروں کے نزدیک لائی جائے گی منازل لیل یعنی رات کے حصوں کو بھی زلف کہا گیا ہے مثلاً وزلفا من الیل (11:114) اور رات کے کچھ حصوں میں۔ ایک شاعر نے کہا ہے طی اللیالی زلفا فزلفا۔ راتوں کا تھوڑا تھوڑا کر کے گذرنا۔ وما اموالکم ولا اولادکم بالتی تقربکم عندنا زلفی تمہارے مال اور تمہاری اولاد (کوئی بھی) ایسی چیز نہیں جو تم کو کسی درجہ میں ہمارے قریب (قدرومنزلت میں کر دے۔ جزاء الضعف۔ اضافۃ المصدر الی مفعولہ (مصدر کی اپنے مفعول کی طرف اضافت کی مثال ہے) ۔ دوگنی جزا۔ دوگنا صلہ۔ مادہ ضعف سے الضعف (کمزوری) القوۃ کے بالمقابل باب کرم سے بمعنی کمزور ہونا آتا ہے مثلاً ضعف الطالب والمطلوب (22:73) طالب بھی کمزور بےبس، اور مطلوب بھی (کمزور وبے بس) ۔ اسی سے ضعیف (کمزور) الضعف رائے کی کمزوری پر بھی بولا جاتا ہے اور بدن اور حالت کی کمزوری پر بھی۔ اس میں ضعف وضعف دو لغت ہیں۔ باب نصر سے بھی مصدر۔ ضعف وضعف سے ان ہی معنوں میں آیا ہے۔ اسی مادہ سے با تفعیل (ضعف یضعف تضعیف) اور باب مفاعلہ (ضاعف یضاعف مضاعفۃ) سے بمعنی دو چند کرنا۔ یا کئی گناہ کرنا آتا ہے۔ باب تفاعل سے (فعل لازم) بمعنی دو چند ہونا۔ بڑھنا اور زیادہ ہونا۔ ضعف (دوگنا) کی جمع اضعاف کئی گناہ۔ دونے پر دونا۔ یہ نصف اور زوج کی طرح الفاظ متضائفہ میں سے ہے جن میں سے کسی ایک کا وجود دوسرے کے وجود کا مقتضی ہوتا ہے۔ یہ لفظ جب بغیر اضافت کے آئے تو زوجین کی طرح ” دوگنا “ کے معنی میں آتا ہے۔ اور جب اس کی اضافت اسم عدد کی طرف ہو تو اس سے اتنا ہی اور عدد مراد ہوتا ہے لہٰذا ضعف العشرۃ وضعف المائۃ کے معنی بیس اور دو صد کے ہوں گے۔ لیکن جب یہ واحد کی طرف مضاف ہو کر آئے تو تین گناہ کے معنی ہوں گے۔ مثلاً اعطہ ضعفی واحد کے معنی یہ ہیں کہ اسے سہ چند دے دو ۔ جزاء الضعف دوگنا یا کئی گنا صلہ۔ بما۔ میں باء سببیہ ہے اور ما موصولہ۔ الغرفت۔ الغرفۃ کی جمع۔ اونچے مکان۔ بالا خانے، منازل عالیہ۔ جنت کے اندر شاندار منزلیں۔ امنون۔ اسم فاعل جمع مذکر امن سے۔ امن والے۔ بےخوف ۔ مطمئن۔ دل جمع ۔
Ayah 34:38

وَ الَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 34:38 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیتوں میں کوشش کرتے ہیں کہ ہمیں ہرا دیں وہ عذاب میں حاضر کئے جائیں گے

(34:38) یسعون۔ مضارع جمع مذکرغائب سعی (باب فتح) مصدر۔ کوشش کرتے ہیں۔ دوڑتے پھرتے ہیں۔ فی ایتنا۔ ای فی ابطالھا۔ یعنی ہماری آیات کی تکذیب میں۔ معجزین۔ اسم فاعل جمع مذکر معاجز واحد معاجزۃ (مفاعلۃ) مصدر مقابلہ کر کے اپنے حریف کو ہرا دینا۔ عاجز کردینا۔ عجز کے معنی پیچھے ہوجانا۔ پیچھے رہ جانا۔ کسی کام کے کرنے سے قاصر رہ جانا یہ القدرۃ کی ضد ہے۔ معاجزین۔ ہرانے والے۔ عاجز کردینے والے۔ معجزیناگرچہ باب مفاعلہ سے ہے جس میں اشتراک ایک اہم خاصیت ہے۔ لیکن یہاں باب مفاعلہ کے یہ معنی مقصود نہیں۔ اس باب کی ایک اور خاصیت موافقت فعل ہے۔ لہٰذا عاجز یعاجز بمعنی عجز یعجز ہے۔ معجزین بمعنی معجزین ہرا دینے والے ہوگا۔ اس میں مقابلہ کے عنصر کا ہونا ضروری نہیں۔ اب منکرین حشر کا خیال تھا کہ قیامت نہیں آئے گی۔ نہ حشر ہوگا نہ نشر۔ نہ عذاب نہ ثواب اور اپنے زعم میں اپنے استدلال کی روشنی میں وہ سمجھتے ہیں کہ وہ سچے ہیں اور یہ سب کچھ نہ ہوگا (لیکن ہوگا یہ سب کچھ۔ ان چیزوں کو لانے سے وہ اللہ کو روک نہیں سکتے۔ یسعون فی ایتنا معجزین۔ وہ ہماری آیات کی تکذیب میں کوشش کرتے ہیں تاکہ ہمیں ہرا دیں یا حشر ونشر، عذاب و ثواب کو وقوع میں لانے سے ہمیں عاجز کردیں۔ نیز ملاحظہ ہو (34:5) ۔ محضرون۔ اسم مفعول جمع مذکر محضر واحد ۔ وہ لوگ جن کو حاضر کیا جائے گا۔ اولئک میں اشارہ ہے الذین یسعون ۔۔ الخ کی طرف۔ یعنی جو لوگ ہماری آیات کی تکذیب میں کو شاں ہیں تاکہ ہمیں ہرا دیں وہی لوگ عذاب میں لا حاضر کئے جاویں گے