34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 34:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 34:1 in the Quran reader

سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس کی ملکیت میں وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں میں اور زمینوں میں ہے اور اسی کے لیے حمد ہے دنیا میں اور آخرت میں، اور وہ حکیم ہے باخبر ہے۔

Ayahs 34:2–3

یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ الرَّحِیْمُ الْغَفُوْرُ Open ayah 34:2 in the Quran reader

وہ جانتا ہے جو کچھ اس میں داخل ہوتا ہے اور جو کچھ اس میں سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے نازل ہوتا ہے اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے۔ اور وہ رحیم ہے غفور ہے۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِیْنَا السَّاعَةُ١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتَاْتِیَنَّكُمْ١ۙ عٰلِمِ الْغَیْبِ١ۚ لَا یَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ لَاۤ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرُ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍۗۙ Open ayah 34:3 in the Quran reader

اور کافروں نے کہا کہ ہمارے پاس قیامت نہیں آئے گی۔ آپ فرما دیجیے۔ ہاں میرے رب کی قسم وہ تم پر ضرور آئے گی، میرا رب عالم الغیب ہے، اس سے ذرہ کے برابر بھی کوئی چیز آسمانوں میں اور زمین میں غائب نہیں ہے اور نہ کوئی اس سے چھوٹی چیز ہے اور نہ بڑی چیز مگر کتاب مبین میں موجود ہے۔

اللہ تعالیٰ مستحق حمد ہے اسے ہر چیز کا علم ہے، اہل ایمان کے لیے مغفرت اور رزق کریم ہے یہاں سے سورة سباء شروع ہو رہی ہے۔ سباء ایک قوم تھی جو یمن میں رہتی تھی، اس سورت کے دوسرے رکوع میں ان لوگوں کی بودوباش اور باغوں سے منتفع ہونے کا پھر ناشکری کی وجہ سے ان کی بربادی کا تذکرہ فرمایا ہے اس لیے اس سورة کا نام سورة سباء معروف ہوا۔ شروع سورة میں ارشاد فرمایا کہ آسمانوں اور زمین میں اللہ تعالیٰ ہی مستحق حمد ہے، اس دنیا میں بھی اس کے لیے حمد ہے اور آخرت میں بھی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی صفات عالیہ بیان فرمائیں، اولاً تو یہ فرمایا کہ وہ حکیم ہے حکمت والا ہے اس کا کوئی فعل اور کوئی فیصلہ حکمت سے خالی نہیں، پھر فرمایا کہ وہ خبیر بھی ہے اسے اپنی مخلوق کی اور مخلوق کے مصالح اور منافع اور مضار کی پوری طرح خبر ہے۔ یہاں تک اللہ تعالیٰ کی حمد بیان ہوئی جس میں اس کی صفت علم اور صفت رحمت اور صفت حکمت اور صفت مغفرت کا ذکر آیا ہے اور اس سے توحید بھی ثابت ہوگئی۔ اس کے بعد منکرین قیامت کا قول نقل فرمایا اور ان کی تردید فرمائی۔ ارشاد فرمایا : (وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَا تَاْتِیْنَا السَّاعَۃُ ) (اور کافروں نے کہا کہ ہم پر قیامت نہیں آئے گی) (قُلْ بَلٰی وَرَبِّیْ ) (آپ فرما دیجیے کہ ہاں میرے رب کی قسم قیامت ضرور آئے گی) (عٰلِمِ الْغَیْبِ لَا یَعْزُبُ عَنْہُ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَلَا فِی الْاَرْضِ وَلَآ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِکَ وَلَآ اَکْبَرُ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ ) (میرا رب عالم الغیب ہے اس سے ذرہ کے برابر بھی کوئی چیز آسمانوں میں اور زمین میں غائب نہیں ہے، اور نہ کوئی اس سے چھوٹی چیز ہے نہ بڑی چیز مگر کتاب مبین میں موجود ہے) اس میں منکرین قیامت کی اس بات کا جواب دے دیا کہ جب اموات کی ہڈیاں گل سڑ جائیں گی، ان کے ذرات کہاں کے کہاں پہنچے ہوں گے، بعض دریا میں مر کر دریائی جانوروں کی غذا بنے ہوں گے اور بعض کو خشکی کے جانوروں نے کھایا ہوگا تو ان کے اجزاء کس طرح جمع ہوں گے ؟ ان کے جواب میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے، کوئی چیز ذرہ بھر بھی اس کے علم سے باہر نہیں ہے، آسمانوں میں ہو یا زمین میں ہو، کوئی بھی چیز خواہ چھوٹی ہو یا بڑی کتاب مبین میں محفوظ ہے۔
Ayah 34:4

لِّیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 34:4 in the Quran reader

تاکہ وہ ان لوگوں کو بدلہ دے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے، یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے مغفرت ہے اور رزق کریم ہے،

پھر قیامت قائم فرمانے کی غایت بتائی (لِّیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ) (تاکہ اللہ ان لوگوں کو صلہ دے جو ایمان لائے اور نیک کام کیے) (اُولٰٓءِکَ لَھُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّ رِزْقٌ کَرِیْمٌ) (یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے مغفرت ہے اور عزت والا رزق ہے)
Ayah 34:5

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ Open ayah 34:5 in the Quran reader

جن لوگوں نے ہماری آیات کے بارے میں عاجز کرنے کی کوشش کی ان لوگوں کے لیے سختی والا درد ناک عذاب ہے۔

(وَالَّذِیْنَ سَعَوْ فِیْٓ اٰیٰتِنَا مَعٰجِزِیْنَ اُولٰٓءِکَ لَھُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ) (اور جن لوگوں نے ہماری آیات کے بارے میں عاجز کرنے کی کوشش کی ان لوگوں کے لیے سختی والا درد ناک عذاب ہے) اس میں ان لوگوں کی سزا کا تذکرہ فرمایا ہے جو اہل ایمان کے مخالف ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلا کر باطل کردیں یعنی قیامت کے وقوع کو نہ مانیں اور قیامت کی خبر دینے والے (یعنی رسول اللہ ﷺ کو ہرا دیں۔ قیامت قائم ہو کر جس طرح اہل ایمان اور اعمال صالحہ والوں کو مغفرت اور رزق کریم کا انعام ملے گا اسی طرح منکرین کو درد ناک عذاب ہوگا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کی غایت جزا اور سزا دینے کے لیے ہے۔
Ayah 34:6

وَ یَرَى الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ هُوَ الْحَقَّ١ۙ وَ یَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ Open ayah 34:6 in the Quran reader

اور جن کو علم دیا گیا وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے رب کی طرف سے جو کچھ نازل کیا گیا ہے وہ حق ہے اور عزیز حمید کے راستہ کی طرف ہدایت دیتا ہے۔

اس کے بعد اہل علم کی تعریف فرمائی (وَیَرَی الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ ) (الآیۃ) کہ جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ اس قرآن کو جو آپ کے رب کی طرف سے آپ کی طرف بھیجا گیا ہے حق سمجھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا راستہ بتاتا ہے جو غالب اور مستحق حمد ہے۔
Ayahs 34:7–8

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ یُّنَبِّئُكُمْ اِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ۙ اِنَّكُمْ لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 34:7 in the Quran reader

اور کافروں نے کہا کیا ہم تمہیں ایسا شخص نہ بتادیں جو تمہیں یہ خبر دیتا ہے کہ جب تم پوری طرح ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تو تم ضرور ایک نئی پیدائش میں آجاؤ گے۔

اَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَمْ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلِ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ فِی الْعَذَابِ وَ الضَّلٰلِ الْبَعِیْدِ Open ayah 34:8 in the Quran reader

کیا اس شخص نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے یا اس کو کسی طرح کا جنون ہے، بلکہ بات یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ عذاب میں اور دور کی گمراہی میں ہیں۔

کافروں کی طرف سے وقوع قیامت کا انکار اور ان کے لیے عذاب کی وعید جو لوگ قیامت کے منکر تھے وہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں آپس میں کہتے تھے کہ کیا ہم تمہیں ایسا آدمی نہ بتادیں جو تمہیں یہ بتاتا ہے کہ جب تم بالکل ہی چورہ چورہ ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تو پھر نئے طریقے سے پیدا ہوں گے، انہیں نئے طور پر پیدا ہونے سے جو تعجب ہوتا تھا اپنے اس تعجب کو اس طرح ظاہر کیا اور اس میں کچھ استہزاء اور تمسخر کا بھی پہلو ہے۔ چونکہ یہ لوگ رسالت پر ایمان نہیں رکھتے تھے اس لیے انہوں نے وقوع قیامت کی خبر کو دو باتوں میں منحصر کردیا اور کہنے لگے کہ یہ شخص اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے یعنی وہ بات کہتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں بتائی گئی، اور اگر یہ بات نہیں ہے تو پھر یہ شخص دیوانگی میں مبتلا ہے، خبر کے سچا ہونے کا ان کے نزدیک احتمال ہی نہیں تھا اس لیے انہوں نے تیسری بات کا تذکرہ ہی نہیں کیا یعنی یوں نہیں کہا کہ ممکن ہے اس کی بات سچی ہو بلکہ دو ہی باتوں میں منحصر کردیا حالانکہ ان کی دونوں باتیں غلط ہیں، نہ آپ ﷺ نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور نہ آپ کو دیوانگی ہے۔ ان کے جواب میں فرمایا (بَلِ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَۃِ فِی الْعَذَابِ وَالضَّلٰلِ الْبَعِیْدِ ) (مطلب یہ ہے کہ ہمارا نبی نہ افتراء کرنے والا ہے نہ دیوانہ ہے بلکہ بات یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے وہ عذاب اور دور کی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں، گمراہی میں اتنے زیادہ آگے بڑھ چکے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ کی خبر انہیں جھوٹی معلوم ہوتی ہے اور انہیں دیوانگی کی طرف منسوب کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ عذاب میں مبتلا ہوں گے۔
Ayah 34:9

اَفَلَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَیْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ۠ Open ayah 34:9 in the Quran reader

کیا انہوں نے اسے نہیں دیکھا جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے یعنی آسمان اور زمین، اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں یا ہم ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں، بلاشبہ اس میں متوجہ ہونے والے ہر بندہ کے لیے نشانی ضرور ہے۔

پھر ان لوگوں کا تعجب دور کرنے کے لیے فرمایا (اَفَلَمْ یَرَوْا اِلٰی مَا بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَ مَا خَلْفَھُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ ) اس میں یہ بتایا کہ دیکھو تمہارے سامنے آسمان ہیں اور زمین ہے، تمہیں معلوم ہے کہ ان کا کتنا وجود ہے، کتنی وسعت ہے، یہ بھی مانتے ہو کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا جس نے انہیں پیدا فرمایا اس کے بارے میں یہ غلط خیال کیسے کرنے لگے کہ وہ چھوٹی سی مخلوق کو یعنی تمہارے وجود کو دوبارہ پیدا نہ کرسکے گا۔ اسی کو سورة المومن میں یوں فرمایا (لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَکْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لاَ یَعْلَمُوْنَ ) (البتہ آسمانوں اور زمین کا پیدا فرمانا لوگوں کے پیدا فرمانے کی بہ نسبت بڑا کام ہے اور لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے) اور سورة یٰسین میں فرمایا (اَوَلَیْسَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰی اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَہُمْ ) (کیا وہ ذات جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا فرمایا اس پر قادر نہیں ہے کہ ان کے جیسے پیدا فرما دے) اور سورة احقاف میں فرمایا (اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ یَعْیَ بِخَلْقِہِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰی اَنْ یُّحْیِیَ الْمَوْتٰی بَلٰٓی اِِنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ) (کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ جس خدا نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا فرمایا اور ان کے پیدا کرنے میں ذرا بھی نہیں تھکا وہ اس پر قادر ہے کہ مردوں کو زندہ فرمائے، کیوں نہیں، بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ) پھر فرمایا (اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِھِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَیْھِمْ کِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ) (اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا اگر چاہیں تو ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں) یعنی آسمان اور زمین کو دیکھ کر یہ لوگ عبرت و بصیرت حاصل نہیں کرتے، ان کے اس انکار و تکذیب کی سزا میں ہم اسی زمین کو اور اسی آسمان کو ان کے لیے عذاب کا ذریعہ بنا سکتے ہیں۔ حکمت کے مقتضا کے باعث گرفت میں جو دیر لگ رہی ہے اس سے دھوکہ نہ کھائیں۔ (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّکُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ ) (بلاشبہ اس میں اس بندے کے لیے بڑی نشانی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو) اور حق کا طالب ہو۔
Ayah 34:10

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا١ؕ یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَهٗ وَ الطَّیْرَ١ۚ وَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَۙ Open ayah 34:10 in the Quran reader

اور یہ واقعی بات ہے کہ ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے بڑی نعمت دی تھی، اے پہاڑو ! داؤد کے ساتھ بار بار تسبیح کرو اور پرندوں کو بھی یہی حکم دیا، اور ہم نے ان کے لیے لوہے کو نرم کردیا

حضرت داؤد اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) والے انعامات کا تذکرہ یہاں حضرت داؤد اور ان کے بیٹے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں جس اقتدار اور اختیار اور جن نعمتوں سے نوازا تھا ان میں سے بعض کا تذکرہ ہے۔ سورة انبیاء (رکوع نمبر 5) میں دونوں حضرات کا تذکرہ گزر چکا ہے اور سورة ص میں بھی (رکوع نمبر 2 اور رکوع نمبر 3 میں) آ رہا ہے۔ اولاً تو یہ فرمایا کہ ہم نے پہاڑوں اور پرندوں کو حکم دیا کہ داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ ہماری طرف بار بار رجوع ہوں اور ان کے ساتھ ہمارے ذکر و تسبیح میں مشغول رہیں۔ لفظ (اَوِّبِیْ ) باب تفعیل سے ہے اور چونکہ مجرد سے بھی اس کا معنی رجوع کرنے کا ہے اس لیے اس کا ترجمہ یہ کیا گیا ہے کہ (رَجِّعِیْ مَعَہَُ التَّسْبِیْحَ وَرَدِّدِیْ بِہٖ ) کہ داؤد کے ساتھ بار بار تسبیح کرو۔ اور پرندوں کو بھی حکم دیا کہ داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ اللہ کی تسبیح میں مشغول رہیں۔ سورة ص میں فرمایا ہے (اِِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَہٗ یُسَبِّحْنَ بالْعَشِیِّ وَالْاِِشْرَاقِ وَالطَّیْرَ مَحْشُورَۃً کُلٌّ لَہٗ اَوَّابٌ) (ہم نے پہاڑوں کو حکم کر رکھا تھا کہ ان کے ساتھ شام اور صبح تسبیح کیا کریں اور پرندوں کو بھی حکم دیا تھا جو جمع ہوجاتے تھے، سب اس کی وجہ سے ذکر میں مشغول رہتے تھے۔ ) یوں تو ہر چیز اللہ کی تسبیح میں مشغول رہتی ہے، جیسا کہ متعدد آیات میں بیان فرمایا ہے لیکن پہاڑوں اور پرندوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خصوصی حکم تھا کہ داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ اللہ کی تسبیح بیان کرنے میں مشغول رہیں، یہ تسبیح حروف اور کلمات کے ساتھ تھیں، جیسا کہ اس طرح کے معجزات نبویہ بھی کتب احادیث میں مذکور ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا کہ ہم کھانے کی تسبیح سنتے تھے جس وقت وہ کھایا جاتا تھا۔ (رواہ البخاری کما فی المشکوٰۃ المصابیح 538) جب داؤد (علیہ السلام) تسبیح پڑھتے تھے تو پہاڑ بھی تسبیح پڑھتے تھے اور پرندے بھی آپ کے پاس جمع ہوتے اور مشغول تسبیح ہوجاتے تھے، حضرت داؤد (علیہ السلام) نہایت خوش آواز تھے، رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کی خوش آوازی کو تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا (لقد اوتی مزمارا من مزامیر آل داؤد) (مشکوٰۃ المصابیح ص 575 عن البخاری و مسلم) (کہ ان کو داؤد (علیہ السلام) کی خوش آوازی کا حصہ دیا گیا۔ ) لوہے کو نرم فرمانا ثانیاً یہ فرمایا (وَاَلَنَّالَہُ الْحَدِیْدَ ) کہ ہم نے لوہے کو داؤد (علیہ السلام) کے لیے نرم کردیا، (اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ ) اور انہیں حکم دیا کہ تم پوری زرہیں بناؤ۔ (وَّقَدِّرْ فِی السَّرْدِ ) اور ان کے جوڑنے میں اندازہ رکھو۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) سے پہلے جو تلواروں کا حملہ روکنے کے لیے زرہیں بنائی جاتی تھیں وہ لوہے کے تختے ہوتے تھے جنگ کرنے والا اپنے آگے پیچھے باندھ لیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو زرہیں بنانے کا یہ طریقہ سکھایا کہ پہلے وہ لوہے کے زنجیر نما حلقے بنالیں پھر انہیں آپس میں ایک اچھے اور مناسب انداز میں جوڑ دیا کریں۔ اسی کو سورة الانبیاء میں فرمایا (وَ عَلَّمْنٰہُ صَنْعَۃَ لَبُوْسٍ لَّکُمْ لِتُحْصِنَکُمْ مِّنْ بَاْسِکُمْ ) (اور ہم نے انہیں زرہ بنانے کی کاریگری سکھائی تاکہ وہ تمہیں تمہاری جنگوں میں محفوظ رکھیں۔ ) معالم التنزیل جلد 3: ص 505 میں لکھا ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو جب حکومت ملی تو آپ ہیئت بدل کر گھوما پھرا کرتے تھے اور اکا دکا جو کوئی شخص مل جاتا اس سے دریافت کرتے تھے کہ کہو بھائی داؤد کیسے ہیں ؟ عام طور سے اس کے جواب میں لوگ ان کی تعریف ہی کردیتے تھے۔ ایک دن اللہ تعالیٰ نے انسانی صورت میں ایک فرشتہ بھیجا، داؤد (علیہ السلام) نے اس سے بھی وہی سوال کیا جو دوسرے لوگوں سے کیا کرتے تھے، فرشتے نے کہا کہ ہاں آدمی تو وہ اچھے ہیں اگر ان میں ایک خصلت نہ ہوتی یہ سن کر حضرت داؤد (علیہ السلام) متفکر ہوئے اور دریافت کیا کہ وہ کون سی خصلت ہے ؟ فرشتے نے جواب دیا وہ یہ ہے کہ وہ خود بھی بیت المال سے کھاتے ہیں اور اپنے بال بچوں کو بھی اسی میں سے کھلاتے ہیں، یہ بات سن کر آپ کو تنبہ ہوا اور اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ میرے لیے کوئی ایسا سبب بنا دیجیے جس سے میرا اور میرے اہل و عیال کا گزارہ ہوتا رہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو زرہ بنانی سکھائی اور آپ کے لیے لوہے کو نرم کردیا۔ زرہ بنانے کے لیے انہیں لوہے کو آگ میں ڈال کر نرم کرنے اور ہتھوڑوں سے کوٹنے پیٹنے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی، ان کے ہاتھوں میں لوہا موم کی طرح پگھل جاتا تھا اور گوندھے ہوئے آٹے کی طرح نرم ہوجاتا تھا، روزانہ ایک زرہ بنالیتے تھے جو چار ہزار درہم (اور ایک قول کے مطابق چھ ہزار درہم) میں فروخت کردیتے تھے، ان میں سے اپنی جان پر، اپنے اہل و عیال پر خرچ فرماتے تھے اور فقراء بنی اسرائیل پر بھی صدقہ فرماتے تھے۔ حضرت مقداد بن معد یکرب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کسی شخص نے اس سے بہتر کھانا نہیں کھایا کہ اپنے ہاتھ سے کام کرے اور اس سے جو حاصل ہو اس میں سے کھائے، اور فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے نبی داؤد (علیہ السلام) اپنے ہاتھوں کی محنت سے کھاتے تھے۔ (رواہ البخاری ص 278)
Ayah 34:11

اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرْ فِی السَّرْدِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 34:11 in the Quran reader

کہ تم پوری زرہیں بناؤ اور جوڑنے میں اندازہ رکھو، اور تم سب نیک کام کیا کرو، بلاشبہ میں ان کاموں کو دیکھ رہا ہوں جنہیں تم کرتے ہو۔

اس کے بعد فرمایا : (وَاعْمَلُوْا صَالِحًا) اور اے داؤد کے گھر والو نیک عمل کرو، (اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ) (بلاشبہ میں تمہارے کاموں کو دیکھنے والا ہوں۔ ) ہوا کی تسخیر : اس کے بعد حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر جو انعامات تھے ان کا تذکرہ فرمایا، انہیں میں سے ایک انعام یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ہوا کو مسخر فرما دیا تھا، جہاں جانا ہوتا تھا ہوا کو حکم دے دیتے تھے وہ ان کو اور ان کے لشکر کو لے کر چل دیتی تھی، اور اس کی رفتار کا یہ عالم تھا کہ صبح کو چلتی تھی تو اس زمانہ کے مسافروں کی عام رفتار کے مطابق ایک مہینے کی مسافت تک پہنچا دیتی تھی اور شام کو چلتی تو مزید ایک ماہ کی مسافت کو پہنچا دیتی تھی۔ معالم التنزیل میں حضرت حسن (رح) سے نقل کیا ہے کہ صبح کو دمشق سے چل کر شام تک اصطخر پہنچا دیتی تھی پھر شام کو اصطخر سے چل کر صبح تک کابل پہنچا دیتی تھی۔ تیز رفتار سوار کے لیے دونوں مسافتیں ایک ایک ماہ کی مسافت کے برابر ہیں۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) صبح کا کھانا مقام رے میں کھاتے اور شام کا کھانا سمر قند میں کھاتے تھے۔
Ayah 34:12

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَّ رَوَاحُهَا شَهْرٌ١ۚ وَ اَسَلْنَا لَهٗ عَیْنَ الْقِطْرِ١ؕ وَ مِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْهِ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 34:12 in the Quran reader

اور ہم نے سلیمان کے لیے ہوا کو مسخر کیا، اس کا صبح کا چلنا ایک ماہ کی مسافت تھا اور اس کا شام کا چلنا ایک ماہ کی مسافت تھا، اور ہم نے ان کے لیے تانبے کا چشمہ بہا دیا، اور جنات میں بعض وہ تھے جو ان کے سامنے ان کے رب کے حکم سے کام کرتے تھے، اور ان میں سے جو شخص ہمارے حکم سے سرتابی کرے ہم اسے دوزخ کا عذاب چکھائیں گے۔

تانبے کا چشمہ بہا دینا : دوسرا انعام ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (وَاَسَلْنَا لَہٗ عَیْنَ الْقِطْرِ ) اور ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کے لیے تانبے کا چشمہ بہا دیا۔ تانبا مشہور معدنی چیز ہے اور جامد ہے، اسے برتن وغیرہ بنانے کے لیے پگھلانا پڑتا ہے، اللہ تعالیٰ جل شانہٗ نے آپ کو پگھلے ہوئے تانبے کی نعمت دی اور تھوڑا بہت نہیں بلکہ اس کا چشمہ جاری فرما دیا۔ صاحب روح المعانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ تانبے کا یہ چشمہ یمن کی سرزمین میں تھا۔ جنات کی تسخیر : تیسری نعمت بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا : (وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْہِ بِاِذْنِ رَبِّہٖ ) (اور جنات میں سے بعض وہ تھے جو ان کے سامنے ان کے رب کے حکم سے کام کرتے تھے) اللہ تعالیٰ نے جنات کو بھی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں لگا دیا تھا، یہ شیاطین ان کے حکم کے مطابق کام کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم جنات کے لیے یہ تھا کہ سلیمان (علیہ السلام) کی اطاعت کرو۔ (وَمَنْ یَّزِغْ مِنْھُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْہُ مِنْ عَذَاب السَّعِیْرِ ) (ہمارے اس حکم سے جو سرتابی کرے گا یعنی سلیمان کی حکم عدولی کرے گا ہم اسے دوزخ کا عذاب چکھا دیں گے۔ ) شیاطین تو تھے ہی ان کو تشریعی طور پر بھی حضرت سلیمان کی اطاعت کا حکم تھا اس کی خلاف ورزی پر عذاب آخرت کی وعید ذکر فرمائی۔
Ayah 34:13

یَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا یَشَآءُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَ تَمَاثِیْلَ وَ جِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَ قُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ١ؕ اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا١ؕ وَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ Open ayah 34:13 in the Quran reader

جنات ان کے لیے ان کی فرمائش کے مطابق بڑی بڑی عمارتیں اور مجسّمے اور حوضوں کے برابر بڑے بڑے لگن اور ایسی دیگیں بناتے تھے جو ایک ہی جگہ جمی رہیں، اے داؤد کے خاندان والو تم شکر کا کام کرو، اور میرے بندوں میں شکر گزار کم ہوتے ہیں۔

محاریب اور تماثیل کا تذکرہ : (یَعْمَلُوْنَ لَہٗ مَا یَشَآءُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَ تَمَاثِیْلَ ) یہ جنات سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ان کی فرمائش کے مطابق بڑی بڑی عمارتیں اور مجسّمے یعنی مورتیاں بناتے تھے۔ لفظ (مَحَارِیْبَ ) محراب کی جمع ہے جس کا ترجمہ عمارتیں کیا گیا ہے، بعض حضرات نے اس کا ترجمہ قصور یعنی محلات کیا ہے، اور بعض حضرات نے مساکن یعنی رہنے کی جگہیں، اور بعض نے اونچی جگہ یعنی بالا خانہ کا ترجمہ کیا ہے۔ اور (تَمَاثِیْلَ ) تمثال کی جمع ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے حکم سے جنات تصویریں بناتے تھے جو تانبا، پیتل، شیشہ اور سفید پتھروں کی ہوتی تھیں۔ جِفَانٍ اور قُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ : (وَجِفَانٍ کَالْجَوَابِ ) اور بڑے بڑے لگن بناتے تھے جو حوضوں کی طرح ہوتے تھے (وَ قُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ ) اور ایسی دیگیں جو ایک ہی جگہ جمی رہنے والی تھیں۔ (جفانٌ) ، (جفنۃٌ) کی جمع ہے جو پیالہ کے معنی میں آتا ہے اور (اَلْجَوَابُ ) جمع ہے (جَابِیَۃٌ) کی۔ جیسے (نَوَاصِیْ ) ، (ناصِیَۃٌ) کی جمع ہے اس کے آخر سے یاء حذف ہوگئی ہے۔ جابیہ بڑے پیالہ کے معنی میں آتا ہے کیونکہ وہ پیالے بڑے بڑے ہوتے تھے اس لیے اوپر لگن کا ترجمہ کیا گیا۔ جنات جو دیگیں بناتے تھے وہ بہت بڑی بڑی ہوتی تھیں جو اپنی جگہوں پر جمی رہتی تھیں معالم التنزیل جلد 3: ص 552 میں لکھا ہے کہ ایک پیالہ سے ہزار آدمی کھاتے تھے اور یہ پیالے پایوں والے تھے اپنی جگہ سے حرکت نہیں کرتے تھے اور سیڑھیوں کے ذریعہ ان تک پہنچتے تھے۔ ظاہر ہے کہ پیالے اتنے بڑے تھے تو دیگیں کتنی بڑی ہوں گی جو اپنی جگہ جمی رہتی تھیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا یہ سلسلہ یمن میں تھا۔ ادائیگی شکر کا حکم : (اِعْمَلُوْٓا اٰلَ دَاوٗدَ شُکْرًا) اے داؤد کے گھر والو شکر کا کام کرو (یعنی تمہیں جو نعمتیں ملی ہیں قولاً و فعلاً ان کا شکر ادا کر، اعمال صالحہ میں لگے رہو) (وَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوْرُ ) (اور میرے بندوں میں شکر گزار کم ہیں۔ ) صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن بےروزہ رہتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب نماز داؤد (علیہ السلام) کی تھی (یعنی نماز تہجد) وہ آدھی رات سوتے تھے اور تہائی رات نماز میں کھڑے رہتے تھے اور رات کے چوتھے حصہ میں پھر سو جاتے تھے۔ (رجع صحیح البخاری کتاب الانبیاء) اور معالم التنزیل میں حضرت ثابت بنانی (رح) سے نقل کیا ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے رات اور دن کے حصوں کو اپنے اہل و عیال پر تقسیم کر رکھا تھا، رات اور دن میں جو بھی کوئی وقت ہوتا تھا ان کے گھر کا کوئی نہ کوئی شخص نماز میں مشغول رہتا تھا۔ شریعت محمدیہ میں تماثیل اور تصاویر کا حرام ہونا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ جنات ان کے تابع کردئیے گئے تھے، ان کے بعض اعمال سورة سباء میں اور بعض اعمال سورة ص میں مذکور ہیں۔ یہاں جنات کے جن اعمال کا ذکر ہے ان میں تماثیل یعنی مورتیاں بنانے کا بھی تذکرہ فرمایا۔ بعض وہ لوگ جنہیں تصاویر اور مورتیوں سے محبت ہے وہ تصاویر اور تماثیل کے جواز پر اس آیت کو پیش کرتے ہیں، یہ ان لوگوں کی غلطی ہے، جب رسول اللہ ﷺ نے منع فرما دیا جو قرآن کو اور احکام الٰہیہ کو سب سے زیادہ جانتے تھے تو کسی دوسرے کو کیا اختیار ہے کہ آپ کے حکم سے سرتابی کرے اور جس چیز کو آپ ﷺ حرام قرار دیں اسے حلال کہے، بات یہ ہے کہ سابقہ امتوں کے لیے بعض چیزیں حلال کردی گئیں تھیں اور بعض چیزیں ان پر حرام تھیں، شریعت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیہ نے ان حلال چیزوں میں سے بہت سی چیزیں حرام قرار دے دیں، یہ منسوخ ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے، خود اس امت کے لیے ابتدائے اسلام میں بہت سی چیزیں جائز تھیں پھر ان کو حرام کردیا گیا، اس میں شراب کا ابتداءً حلال ہونا پھر حرام ہونا تو تقریباً سب ہی جانتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے سخت عذاب تصویر بنانے والوں کو ہوگا۔ (رواہ البخاری ص 880: ج 2) حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر تصویر بنانے والا دوزخ میں ہوگا، جو بھی صورت اس نے بنائی تھی وہ ایک جان بنا دی جائے گی جو اسے دوزخ میں عذاب دیتی رہے گی۔ (رواہ البخاری و مسلم کما فی المشکوٰۃ ص 385) اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ان تصویر والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا۔ ان سے کہا جائے گا کہ تم نے جو کچھ بنایا تھا اس میں جان ڈالو، اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جس گھر میں تصویر ہو اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ (رواہ البخاری ص 881) حضرت ابو جحیفہ ؓ نے بیان کیا کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے خون کی قیمت اور کتے کی قیمت اور زنا کے ذریعہ مال کمانے سے منع فرمایا اور سود کھانے والے اور سود کھلانے والے پر اور گودنے والی اور گدوانے والی پر اور تصویر بنانے والے پر لعنت بھیجی ہے۔ (رواہ البخاری ص 280) یہ چند حدیثیں ہم نے صحیح بخاری سے نقل کردی ہیں اور ان کے علاوہ بھی بہت سی حدیثیں ہیں جن میں تصویر بنانے اور تصویر رکھنے کی ممانعت ہے، مجموعی حیثیت سے ان کی تعداد تواتر معنوی کو پہنچی ہوئی ہے۔ جو لوگ تصاویر و تماثیل کو جائز کہہ رہے ہیں وہ رسول اللہ ﷺ کے ارشادات اور وجہ ممانعت کو نہیں دیکھتے اور اپنی طرف سے علتیں نکالتے ہیں پھر یوں کہتے ہیں کہ علت نہ رہی تو حکم بھی باقی نہیں رہا اور خود سے یہ علت نکالی کہ اہل عرب مشرک تھے، ان کے دلوں میں تصاویر کی اہمیت تھی لہٰذا ان کے دلوں سے تصاویر کی محبت نکالنے کے لیے تصاویر و تماثیل کو حرام قرار دے دیا تھا اب جب علت نہ رہی تو حکم بھی نہ رہا۔ العیاذ باللہ۔ آنحضرت ﷺ نے تو یہ علت نہیں بتائی۔ آپ نے تو یہ بتایا ہے کہ قیامت کے دن ان لوگوں کو عذاب ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی صفت خالقیت کے مشابہ بنتے ہیں۔ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو میری صفت خالقیت سے ساجھا کرے۔ اگر ایسے ہی پیدا کرنے والے ہیں تو ایک ذرہ پیدا کردیں یا ایک حبہ یا ایک جو پیدا کردیں۔ (رواہ البخاری ص 800: ج 2) آخر میں ایک اور حدیث سنتے چلیں، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن دوزخ سے ایک گردن نکلے گی، اس کی آنکھیں ہوں گی ان سے دیکھتی ہوگی اور دو کان ہوں گے جن سے سنتی ہوگی اور ایک زبان ہوگی جس سے بات کرتی ہوگی اور یوں کہے گی کہ میں تین شخصوں پر مسلط کی گئی ہوں، (1) ہر وہ شخص جو ظالم ہو، عناد کرنے والا ہو (2) وہ شخص جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ معبود بنا کر کسی کو پکارا ہو (3) جو تصویر بنانے والا ہو۔ (رواہ الترمذی) ایک شخص داڑھی منڈی ہوئی، پتلون پہنے ہوئے نصرانی صورت میں احقر سے بھڑ گیا کہنے لگا کیمرہ تو بہت سے بہت ڈیڑھ سو سال پہلے کی ایجاد ہے، میں نے کہا گناہ کو گناہ سمجھتے ہوئے کرو تو توبہ کی توفیق بھی ہوجائے گی اور اگر گناہ کو حلال کرنے کی کوشش کی جائے گی تو گناہ ڈبل ہوجائے گا اور گناہ حلال نہیں ہوگا اور حلال سمجھنے کی وجہ سے توبہ کی توفیق بھی نہیں ہوگی۔ رسول اللہ ﷺ نے کسی آلہ کی تخصیص تو نہیں فرمائی کہ تصویر ہاتھ سے بناؤ گے تو فرشتے گھر میں داخل نہ ہوں گے اور کسی آلہ کے ذریعہ سے تصویر کھینچو گے تو فرشتوں کو ناگواری نہ ہوگی، اور یہ نہیں کہ یہ عمل (یضاھؤن خلق اللّٰہ) میں شامل نہیں۔
Ayah 34:14

فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلٰى مَوْتِهٖۤ اِلَّا دَآبَّةُ الْاَرْضِ تَاْكُلُ مِنْسَاَتَهٗ١ۚ فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا فِی الْعَذَابِ الْمُهِیْنِؕ Open ayah 34:14 in the Quran reader

پھر جب ہم نے سلیمان پر موت کا حکم جاری کردیا تو ان کو سلیمان کی موت کا پتہ نہ دیا مگر گھن کے کیڑے نے جو ان کے عصا کو کھا رہا تھا، سو جب وہ گرپڑے تو جنات کو پتہ چلا کہ اگر جن غیب کو جانتے ہوتے تو ذلیل کرنے والے عذاب میں نہ ٹھہرے رہتے۔

جنات غیب نہیں جانتے، وہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی وفات سے بیخبر رہے جیسا کہ پہلے معلوم ہوا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جنات سے بڑے بڑے کام لیتے تھے، ان میں سخت کام بھی ہوتے تھے اور ان میں سے بعض شیاطین کو بیڑیوں میں جکڑ کر بھی ڈالتے تھے، کما ذکر اللّٰہ فی سورة ص (وَالشَّیٰطِیْنَ کُلَّ بَنَّآءٍ وَّغَوَّاصٍ وَّاٰخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِیْ الْاَصْفَادِ ) جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی وفات کا وقت قریب ہوا تو وہ ایک لاٹھی لے کر اپنی ٹھوڑی سے لگ کر تخت پر بیٹھ گئے، اسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے ان کی موت آنے کا فیصلہ فرما دیا لہٰذا ان کو موت آگئی، جنات یہ سمجھ کر کہ آپ بیٹھے ہیں اور ہمیں دیکھ رہے ہیں برابر کاموں میں لگے رہے اور تکلیفیں اٹھاتے رہے ان میں سے چھوٹے درجے کے جنات کو ایسا خیال تھا کہ جو ہمارے بڑے ہیں وہ غیب کو جانتے ہیں۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان میں جو بڑے جنات تھے وہ خود بھی اپنے بارے میں غیب دانی کا دعویٰ کرتے ہوں، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو موت آگئی اور بدستور لاٹھی سے ٹیک لگائے بیٹھے رہے اور لاٹھی کو گھن کا کیڑا کھاتا رہا۔ جب ایک سال گزرا تو گھن کھانے کی وجہ سے لاٹھی ٹوٹ گئی اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی لاش گر پڑی، اب جو لاش گری تو جنات کو پتہ چل گیا کہ ارے یہ تو مرے ہوئے تھے، ان کا بیٹھا رہنا اور ٹکا رہنا لاٹھی کی ٹیک کی وجہ سے تھا، پھر حساب لگایا کہ گھن کے کیڑے نے کتنے دن تک لاٹھی کو کھایا ہوگا تو اندازہ ہوا کہ ایک سال تک کیڑے نے لکڑی کو کھایا ہے جس کا ہمیں اب پتہ چلا ہے، اگر ہم پہلے ہی سے اس بات کو جان لیتے کہ ان کو موت آچکی ہے تو مشقت کے کاموں میں کیوں لگے رہتے جو ہمارے لیے باعث عذاب بنے ہوئے تھے اور ہماری ذلت کا باعث تھے، ان کا غیب دانی کا جو دعویٰ تھا وہ غلط نکلا اور پوری طرح واضح ہوگیا کہ جنات غیب کو نہیں جانتے، یہ غلط فہمی اس امت کے بعض لوگوں کو بھی ہے، حالانکہ علم الغیب صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پاک کے لیے مخصوص ہے، کسی رسول یا فرشتے کو جو کچھ علم حاصل ہوا وہ اللہ تعالیٰ ہی کے عطا فرمانے سے ملا، سورة آل عمران میں فرمایا : (وَمَا کَان اللّٰہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیْبِ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِہٖ مَنْ یَّشَآءُ ) حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی وفات کے واقعہ سے پوری طرح عیاں ہوگیا کہ جنات غیب دان نہیں ہیں۔ (قولہ تعالیٰ مِنْسَاَتُہٗ قال صاحب الروح والمنسأۃ من نسأت البعیرا ذاطردتہ، لانھا یطردبھا أومن نسأتہ اذا اخرتہ ومنہ النسئَ ، یظھر من ھذا انھا العصا الکبیرۃ الّتی تکون مع الراعی واضرابہ)
Ayahs 34:15–18

لَقَدْ كَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْكَنِهِمْ اٰیَةٌ١ۚ جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّ شِمَالٍ١ؕ۬ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ بَلْدَةٌ طَیِّبَةٌ وَّ رَبٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 34:15 in the Quran reader

واقعی بات ہے کہ قوم سبا کے لیے ان کے ٹھہرنے کی جگہ میں بڑی نشانی تھی، دائیں بائیں دونوں طرف باغوں کی قطاریں تھیں، کھاؤ اپنے رب کے رزق سے اور اس کا شکر ادا کرو، عمدہ شہر ہے اور رب بخشنے والا ہے۔

فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ وَ بَدَّلْنٰهُمْ بِجَنَّتَیْهِمْ جَنَّتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُكُلٍ خَمْطٍ وَّ اَثْلٍ وَّ شَیْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ Open ayah 34:16 in the Quran reader

سو انہوں نے رو گردانی کی لہٰذا ہم نے ان پر بند کا سیلاب بھیج دیا اور ہم نے ان کے باغوں کے بدلہ میں دو ایسے باغ دے دئیے جن میں بد مزہ پھل اور جھاؤ کے درخت تھے اور کچھ تھوڑے سے بیری کے درخت تھے۔

ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِمَا كَفَرُوْا١ؕ وَ هَلْ نُجٰزِیْۤ اِلَّا الْكَفُوْرَ Open ayah 34:17 in the Quran reader

ہم نے انہیں یہ سزا ان کے کفر کی وجہ سے دی اور ہم ناشکروں ہی کو سزا دیا کرتے ہیں۔

وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ الْقُرَى الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّ قَدَّرْنَا فِیْهَا السَّیْرَ١ؕ سِیْرُوْا فِیْهَا لَیَالِیَ وَ اَیَّامًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 34:18 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے درمیان اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت رکھی تھی بہت سے گاؤں آباد کر رکھے تھے جو نظر آتے تھے اور ہم نے ان کے درمیان ان کے چلنے کا ایک خاص انداز رکھا تھا، ان میں راتوں کو چلو اور دن میں چلو امن وامان کے ساتھ۔

قوم سباء پر اللہ تعالیٰ کے انعامات، پھر ناشکری کی وجہ سے نعمتوں کا مسلوب ہونا سبا ایک قوم تھی جو اپنے جد اعلیٰ سبا بن یشجب کی طرف منسوب تھی، یہ لوگ یعرب بن قحطان کی اولاد سے تھے اور یمن میں رہتے تھے، اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان کو بہت نوازا تھا، دائیں بائیں باغوں کی قطاریں چلی گئی تھیں، انہیں میں رہتے سہتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کی نعمتیں استعمال کرتے تھے، ان کے علاقہ کا نام مارب تھا جو شہر صنعاء سے (جو اب بھی موجود ہے) تین دن کی مسافت پر تھا، ان کو حکم دیا گیا تھا کہ اپنے رب کے رزق میں سے کھاؤ اور اس کا شکر بھی کیا کرو۔ روح المعانی میں مجمع البیان سے نقل کیا ہے کہ ان لوگوں کی تیرہ بستیاں تھیں اور ہر ہر بستی میں اللہ تعالیٰ کا ایک ایک نبی مبعوث ہوا تھا جو انہیں اس بات کی ترغیب دیتا تھا کہ اپنے رب کا رزق کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو۔ ساتھ ہی یہ بھی فرمایا (بَلْدَۃٌ طَیِّبَۃٌ) (کہ یہ جگہ جہاں تم بستے ہو عمدہ جگہ ہے) جس کی آب و ہوا بھی اچھی ہے اور سرزمین بھی کاشت وغیرہ کے اعتبار سے بہترین ہے نہ اس میں جوئیں ہیں نہ کھٹمل نہ دوسرے کیڑے مکوڑے۔ (من روح المعانی) (وَّرَبٌّ غَفُوْرٌ) اور تمہارا رب بخشنے والا ہے۔ اس کی عبادت اور شکر گزاری میں لگے رہو، کوئی قصور اور گناہ ہوجائے تو معافی مانگ لو وہ بخش دے گا۔ یہ لوگ ان نعمتوں میں مست تھے، جس کو اللہ تعالیٰ نے نعمتیں دی ہوں اسے خود اپنے ہوش گوش کے ساتھ اللہ کا شکر گزار ہونا چاہیے لیکن ان لوگوں نے توجہ دلانے پر بھی شکر ادا نہ کیا، جسے (فَاَعْرَضُوْا) سے تعبیر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ناشکری کی سزا دے دی اور ان پر عذاب بھیج دیا، یہ عذاب کیا تھا ایک سیلاب تھا اور یہ سیلاب بھی سخت تھا، جو بند بنا ہوا تھا وہ ٹوٹ گیا اور سیلاب نے ان کے گھر کو، مکانوں کو، باغوں کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا۔ وہ جو باغوں کی قطاریں تھیں سب برباد ہوگئیں اور ان کی جگہ ایسے باغ نکل آئے جن کے پھل کڑوے تھے اور کچھ جھاؤ کے درخت تھے اور کچھ بیری کے، اب تو افسوس کے ساتھ ہاتھ ملتے ہوئے رہ گئے لیکن ” اب پچھتائے کیا ہوت جب سب کچھ بہا کرلے گیا سیلاب۔ “ سیلاب کا تذکرہ فرما کر ارشاد فرمایا : (وَھَلْ نُجٰزِیْٓ اِلَّا الْکَفُوْرَ ) (اور ہم سزا نہیں دیتے مگر ناشکرے ہی کو) لفظ (الْکَفُوْرَ ) میں سب سے بڑی ناشکری یعنی کفر بھی داخل ہے اور مدعیان اسلام کی قولی و عملی ناشکری بھی، ناشکرا آدمی یہ نہیں سمجھتا کہ میری نعمتیں چھینی بھی جاسکتی ہیں، اپنی نعمتوں میں مست رہتا ہے انہیں گناہوں میں خرچ کرکے ناشکری میں ترقی کرتا چلا جاتا ہے، پھر سزا میں پکڑ لیا جاتا ہے۔ سورۃ النحل میں فرمایا ہے : (وَضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا قَرْیَۃً کَانَتْ اٰمِنَۃً مُّطْمَءِنَّۃً یَّاْتِیْھَا رِزْقُھَا رَغَدًا مِّنْ کُلِّ مَکَانٍ فَکَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰہِ فَاَذَاقَھَا اللّٰہُ لِبَاسَ الْجُوْعِ والْخَوْفِ بِمَا کَانُوْا یَصْنَُوْنَ ) (اور اللہ تعالیٰ ایک ایسی بستی والوں کی حالت عجیبہ بیان فرماتے ہیں کہ وہ امن و اطمینان میں تھے ان کے کھانے پینے کی چیزیں بڑی فراغت سے چہار طرف سے ان کے پاس پہنچا کرتی تھیں، سو انہوں نے اللہ کی نعمتوں کی بےقدری کی، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی حرکات کے سبب انہیں ایک محیط قحط اور خوف کا مزہ چکھایا۔ ) اس کے بعد ان لوگوں کے انعامات کا اور ان کی ناشکریوں کا کچھ مزید تذکرہ فرمایا، ارشاد فرمایا (وَجَعَلْنَا بَیْنَھُمْ وَبَیْنَ الْقُرَی الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْھَا قُرًی ظَاھِرَۃً ) (اور ہم نے ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت رکھی تھی بہت سے گاؤں آباد کر رکھے تھے جو ظاہر تھے) یہ گاؤں برلب سڑک تھے، جب ایک بستی سے دوسری تک گزرنا ہوتا تھا تو یہ گاؤں نظر آتے تھے، اگر کوئی ٹھہرنا چاہتا تو ان میں ٹھہر سکتا تھا اور یوں بھی بار بار آبادی نظر آنے سے سفر کی وحشت اور دہشت کم ہوجاتی ہے، آبادیوں کا برابر مسلسل اور متصل ہونا یہ بھی اہل سباء پر اللہ تعالیٰ کا انعام تھا۔ صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ (الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْھَا) سے ملک شام کی بستیاں مراد ہیں، جب یہ لوگ اپنے علاقہ سے ملک شام جاتے تھے تو راستہ میں قریب قریب بہت سی بستیاں آتی تھیں جن کے قریب سے گزرتے تھے۔ اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ برکت والی بستیوں سے خود اہل سبا ہی کی بستیاں مراد ہیں، جو بڑی بڑی بستیاں تھیں، اور (قُرًی ظَاھِرَۃً ) سے چھوٹی بستیاں مراد ہیں جو بڑی بستیوں سے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر واقع تھیں اور سفر کرنے والے کو عموماً نظر آتی تھیں۔ (وَقَدَّرْنَا فِیْھَا السَّیْرَ ) (اور ہم نے ان کے درمیان ان کے چلنے کا ایک خاص انداز رکھا تھا) یعنی ان بستیوں کے درمیان جو مسافت تھی اللہ تعالیٰ نے ایک خاص مقدار معین کے ساتھ رکھی تھی، مثلاً کوئی شخص صبح کو روانہ ہوتا تو دوپہر ہونے تک دوسری بستی میں پہنچ جاتا اور ظہر کے بعد چلتا تو غروب آفتاب تک دوسری بستی میں پہنچ جاتا تھا۔ کھانہ دانہ ساتھ لینے کی ضرورت نہ ہوتی تھی اور دشمن کا بھی کوئی خوف نہ تھا۔ بعض مفسرین نے بطور مثال مناسب اندازہ کے رفتار کا مطلب بتاتے ہوئے یہ بات کہی ہے، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ ایک بستی سے لے کر دوسری بستی تک ایک میل کی مسافت تھی۔ (سِیْرُوْا فِیْھَا لَیَالِیَ وَاَیَّامًا اٰمِنِیْنَ ) (اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان کردیا گیا کہ تم ان بستیوں کے درمیان راتوں کو اور دن کو یعنی جب چاہو امن وامان کے ساتھ سفر کرو) تمہارے راتوں کے سفر بھی پر امن ہیں جبکہ ان میں چوروں اور ڈاکوؤں کا خطرہ رہتا ہے اور دن کے اسفار بھی پرامن ہیں، بغیر کسی خوف کے جب تک اور جہاں تک چاہو سفر کرو۔
Ayah 34:19

فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا وَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ وَ مَزَّقْنٰهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 34:19 in the Quran reader

سو انہوں نے کہا کہ اے ہمارے رب دوری کردیجیے ہمارے سفروں کے درمیان، اور انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، سو ہم نے انہیں افسانہ بنا دیا اور انہیں پوری طرح تتر بتر کردیا بیشک اس میں ہر صابر وشاکر کے لیے بڑی عبرتیں ہیں،

(فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْبَیْنَ اَسْفَارِنَا) (سو ان لوگوں نے کہا کہ اے ہمارے رب دوری کردیجیے ہمارے سفروں کے درمیان) جب انسانوں کو مال مل جاتا ہے اور نعمتیں بہت ہوجاتی ہیں تو اترانے لگتے ہیں، بغاوت پر اتر آتے ہیں اور نعمتوں کی ناقدری کرنی شروع کردیتے ہیں۔ یہی حال اہل سباء کا ہوا، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا جو حکم ہوا تھا اس پر تو عمل نہ کیا اور ایسی سمجھ الٹی، اور عقل کے پیچھے لٹھ لے کر پڑے کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے یوں بددعا کی کہ یہ جو ہمارے علاقہ میں آسانیاں ہیں، قریب قریب آبادیاں ہیں اور طرح طرح کی نعمتیں موجود ہیں اور سب کا حال برابر ہے ہمیں یہ منظور نہیں، ہماری تجارت گاہیں دور ہوجائیں تو اچھا ہے تاکہ دور دراز شہروں، بازاروں اور منڈیوں سے اپنی ضرورت کی چیزیں لایا کریں۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ اس میں فخر و کبر کا دخل تھا، مطلب یہ تھا کہ جب سبھی برابر ہیں تو کسی کو کسی پر بڑائی جتانے اور مالداری کا غرور ظاہر کرنے کا موقع بالکل نہیں ہے، اب جب دور کے سفر کرنے پڑیں گے تو سب لوگ تو نہیں جاسکیں گے، بڑے بڑے مالدار جو سواریوں کے مالک ہوں گے وہی جاسکیں گے اور مال لاسکیں گے، فقراء اور کم پیسے والے ان کے محتاج ہوں گے تو ذرا تمکنت اور غرور اور بڑائی ظاہر کرنے کا موقع ملے گا، یہ بد دعا اپنے حق میں کر بیٹھے (وَظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ) اور اپنی جانوں پر خود ہی ظلم کرلیا۔ (فَجَعَلْنٰھُمْ اَحَادِیْثَ ) (سو ہم نے انہیں افسانہ بنا دیا) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان کی بستیوں کو برباد کردیا، دنیا والوں میں جو ان کی نعمتوں کی اور باغوں اور شہروں کی شہرت تھی بس دوسروں کے لیے وہ ایک افسانہ بن کر رہ گئی۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ احادیث جمع ہے (اَحْدُوْثَہٌ) کی، اور مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے احوال کے تذکرے زبانوں پر رہ گئے جیسے وقت گزاری کے طور پر لوگ قصے کہانیاں بیان کیا کرتے ہیں۔ (وَمَزَّقْنٰھُمْ کُلَّ مُمَزَّقٍ ) (اور انہیں پوری طرح تتر بتر کردیا) ان کا ملک بھی برباد ہوگیا اور قبیلے بھی منتشر ہوگئے۔ (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوْرٍ ) (بلاشبہ اس میں بڑی بڑی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو خوب صبر کرنے والا ہو اور خوب شکر کرنے والا ہو) قوم سبا کا حال سن کر جو کوئی شخص سرکشی سے بچا رہے اطاعت پر جما رہے، شکر کی شان رکھتا ہو وہ ان لوگوں کے قصہ سے بڑی عبرت حاصل کرسکتا ہے۔
Ayah 34:20

وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْهِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:20 in the Quran reader

اور یہ بات واقعی ہے کہ ان کے بارے میں ابلیس نے اپنا گمان صحیح پالیا سو سب اس کے اتباع میں لگے سوائے مومنین کی تھوڑی سی جماعت کے۔

(وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْھِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّہٗ ) (الآیتین) (اور یہ بات واقعی ہے ان کے بارے میں ابلیس نے اپنا گمان صحیح پالیا، سو اسی کے اتباع میں لگ گئے سوائے اہل ایمان کی تھوڑی سی جماعت کے، اور ابلیس کا ان لوگوں پر جو کچھ زور تھا صرف اس لیے تھا کہ ہم یہ جان لیں کہ آخرت پر ایمان لانے والا کون ہے جو ان لوگوں سے علیحدہ ہے جو اس کی طرف سے شک میں ہے اور آپ کا رب ہر چیز پر نگران ہے) ابلیس نے ملعون قرار دئیے جانے کے بعد جو اللہ تعالیٰ کے دربار میں یوں عرض کیا تھا کہ میں بنی آدم کو بہکاؤں گا، ورغلاؤں گا اور ان میں سے اکثر کو گمراہ کرکے چھوڑوں گا۔ (لَاُغْوِیَنَّھُمْ اَجْمَعِیْنَ ) اور ان میں سے اکثر ناشکرے ہوں گے (وَلَا تَجِدُ اَکْثَرَھُمْ شٰکِرِیْنَ ) اس نے اپنے اس گمان کو سچ کر دکھایا یعنی اس نے جو کچھ کہا تھا صحیح پایا اکثر بنی آدم اس کے اتباع میں لگ گئے مگر تھوڑے سے افراد جو مومن بندے ہیں انہوں نے اس کا اتباع نہیں کیا۔ شیطان نے جو ان لوگوں پر غلبہ پایا اس کا سبب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو وسوسہ ڈالنے کی قوت دی اور انسان کو امتحان میں ڈالا، اس میں خیر اور شر کو قبول کرنے کی استعداد رکھی تاکہ ثواب یا عتاب کا مستحق ہوسکے، موت اور حیات امتحان کے لیے رکھی ہے، انسان پر جبر اور اکراہ نہیں رکھا تاکہ وہ کچھ کرے اپنے اختیار سے کرے اور ابلیس کا تسلط بھی اسی سلسلہ امتحان کی ایک کڑی ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) جنت میں ایک ممنوع درخت کے کھانے پر نکالے گئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے فرما دیا تھا : (فَاِمَّا یَاْتِیْنَّکُمْ مِّنِّیْ ھُدًی فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَ لاَ ھُمْ یَحْزَنُوْن وَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَآ اُولٰٓءِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ) (پس اگر تمہارے پاس میری ہدایت آئے تو جو لوگ اس کا اتباع کریں گے ان پر کوئی خوف نہیں اور وہ رنجیدہ نہ ہوں گے، اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا تو وہ آگ میں جانے والے ہیں اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ) جب بنی آدم دنیا میں آئے تو اختیار بھی ساتھ لائے، ہوش گوش بھی ملا اور امتحان کے لیے شیطان کو بھی وسوسے ڈالنے کا موقع دے دیا گیا اور ساتھ ہی حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی دعوت بھی سامنے آتی رہی اور لوگ ان کے معجزات بھی دیکھتے رہے، لہٰذا انسانوں کے لیے اپنے خالق اور مالک کی الوہیت اور اس کے رسولوں کی دعوت کی حقانیت میں کسی طرح کا کوئی شک کرنے کا موقع نہ تھا لیکن بہت سے لوگوں نے شک کیا، حق میں شک کرنا کفر ہے جس کی وجہ سے مستحق عقاب و عذاب ہوئے۔ اس آیت میں بتادیا کہ شیطان کو جو تسلط دیا گیا کہ وہ وسوسہ ڈال سکے اس کی حکمت یہ تھی کہ ہمیں علم ظہوری کے طور پر یہ معلوم ہوجائے کہ کون لوگ آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں اور کون لوگ شک میں پڑنے والے ہیں، لیکن یہ تسلط ایسا نہیں ہے کہ جبر اور اکراہ کے درجہ میں ہو جس سے انسان مجبور محض بن جائے اور ہوش و گوش اور اختیار باقی نہ رہے۔
Ayah 34:21

وَ مَا كَانَ لَهٗ عَلَیْهِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِیْ شَكٍّ١ؕ وَ رَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ۠ Open ayah 34:21 in the Quran reader

اور ابلیس کا ان لوگوں پر کوئی زور نہیں بجز اس کے اور کسی وجہ سے نہیں کہ ہم یہ جان لیں کہ آخرت پر ایمان لانے والا کون ہے جو ان لوگوں سے علیحدہ ہے جو اس کی طرف سے شک میں ہیں اور آپ کا رب ہر چیز پر نگران ہے۔

(وَرَبُّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ) (اور آپ کا رب ہر چیز پر نگران ہے) اسے سب کے حال کی خبر ہے وہ ہر ایک کو ایمان اور عدم ایمان کی صفت کے اعتبار سے جزا اور سزا دے گا۔ (قولہ تعالیٰ : سیل العرم ای الصعب من عرم الرجل المثلث الراء فھو عارم و عرم اذا شرس خلقہ وصعب وفی معانہ ما جاء فی روایۃ عن ابن عباس من تفسیرہ بالشدید، وقیل : العرم المطر الشدید قال ابن جبیر العرم المسناۃ بلسان الحبشۃ، وقولہ تعالیٰ : خمط ای حامض اومر، وعن ابن عباس الخمط الأراک ویقال لثمرہ مطلقا او اذا اسود و بلغ البربر، وقیل شجرۃ الغضا ولا اعلم ھل لہ ثمرام لا، وقال ابو عبیدۃ کل شجرۃ مرۃ ذات شوک، وقولہ تعالیٰ : واثلٍ ھو ضرب من الطرفاء علی ما قالہ ابو حنیفۃ اللغوی فی کتاب النبات لہ ونقل الطبرسی قولاً انہ سمر) (من روح المعانی ج 23 ص 126، 127) (اللہ تعالیٰ کے قول سیل العرم یعنی سخت و شدید سیلاب کو کہتے ہیں عرم الرجل راء کے زبر، اور زیر اور پیش کے ساتھ (عَارِمٌ) جبکہ کوئی آدمی تند خود اور بد اخلاق ہو۔ اور اس کا وہ معنی بھی ہے جو حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت میں آیا ہے کہ آپ نے اس کی تفسیر شدید سے کی ہے اور بعض نے کہا (العرم) شدید بارش کو کہتے ہیں ابن جبیر کہتے ہیں حبشیوں کی زبان میں کوہان کو کہتے ہیں اور ” خمط “ یعنی کھٹا یا کڑوا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ خمط کا معنی ہے ” پیلو “ اور پیلو کے پھل کو بھی کہتے ہیں خواہ کچا ہو یا پکا یا اس وقت کہتے ہیں جب وہ سیاہ ہوجائے اور بعض نے کہا جھاؤ کے درخت کو کہتے ہیں اور یہ معلوم نہیں کہ اس کا پھل بھی ہوتا ہے یا نہیں۔ ابو عبیدہ کہتے ہیں خمط ہر اس درخت کو کہتے ہیں جو کڑوا ہو اور کانٹے دار ہو اور اثل یہ بھی جھاؤ کی طرح کے ایک درخت کو کہتے ہیں یہ معنی ابوحنیفہ لغوی نے اپنی کتاب النبات میں لکھا ہے اور طبرسی نے ایک قول یہ نقل کیا ہے کہ اثل کا معنی ہے کیکر۔ )
Ayah 34:22

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۚ لَا یَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا لَهُمْ فِیْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِیْرٍ Open ayah 34:22 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ اللہ کے سوا تم نے جنہیں معبود سمجھ رکھا ہے انہیں پکارو، وہ ایک ذرہ کے برابر بھی اختیار نہیں رکھتے نہ آسمانوں میں نہ زمینوں میں، اور ان دونوں میں ان کا کچھ ساجھا نہیں، اور ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار نہیں۔

مشرکین نے جن کو شریک قرار دیا ہے نہ انہیں کچھ اختیار ہے نہ آسمان و زمین میں ان کا کوئی ساجھا ان دونوں آیتوں میں مشرکین کی تردید فرمائی ہے، ارشاد فرمایا کہ اللہ کے سوا تم نے جنہیں معبود بنا رکھا ہے اور یہ سمجھ رہے ہو کہ وہ خدائی میں دخیل ہیں ذرا انہیں اپنی کسی حاجت کے لیے پکارو تو سہی تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ وہ ذرا برابر بھی کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں، اور یہ بھی سمجھ لو کہ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں تمہارے تجویز کیے ہوئے معبودوں کی کوئی شرکت نہیں ہے اور ان میں سے کوئی بھی اللہ تعالیٰ جل شانہٗ کا مددگار نہیں ہے، نہ ایجاد عالم میں ان کا کوئی دخل ہے نہ اس کے باقی رکھنے میں نہ تصرفات میں۔ اور یہ بھی سمجھ لو کہ جل شانہٗ کی بارگاہ عالی میں کسی کے لیے کوئی شفاعت کام نہیں دے سکتی، تم لوگ جو یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے تجویز کردہ معبود اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سفارش کردیں گے تو تمہارا یہ خیال غلط ہے۔ (کیونکہ ان میں بہت سے تو بےجان ہیں وہ شفاعت کو کیا جانیں، ان میں اس کی قابلیت ہی نہیں) اور ملائکہ اور حضرت عیسیٰ اور حضرت عزیر کی سفارش کی بھی کوئی امید نہ رکھو جن کو تم نے معبود بنایا ہے اور سفارش کرنے والا سمجھا ہوا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جس شخص کے بارے میں اجازت دی جائے گی مقبولان بارگاہ الٰہی اسی کے لیے سفارش کرسکیں گے، اور مشرکین اور کافروں کے لیے اجازت نہ ہوگی لہٰذا تم جو ان کی شفاعت کے امیدوار ہو تمہاری یہ امید بھی غلط ہے۔ سورة الانبیاء میں فرشتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا (وَلَا یَشْفَعُوْنَ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰی وَ ھُمْ مِّنْ خَشْیَتِہٖ مُشْفِقُوْنَ ) (اور وہ اسی کے لیے سفارش کریں گے جس کے لیے اللہ کی مرضی ہوگی اور وہ اس کی ہیبت سے ڈرتے ہیں۔ )
Ayah 34:23

وَ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَا ذَا١ۙ قَالَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوا الْحَقَّ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 34:23 in the Quran reader

اور اس کے پاس سفارش کام نہیں دے سکتی سوائے اس کے جس کے لیے اجازت دی ہو یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہوجاتی ہے تو کہتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا، جواب میں کہتے ہیں کہ حق ہی فرمایا اور وہ برتر ہے بڑا ہے۔

(حَتّٰٓی اِذَافُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِھِمْ ) اس میں فرشتوں کی گھبراہٹ، خوف اور خشیت کا تذکرہ فرمایا، مطلب یہ ہے کہ یہ فرشتے جنہیں معبود تجویز کرکے ان کی شفاعت کی امید لیے بیٹھے ہو ان کا اپنا خود یہ حال ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی کام کا حکم ہوتا ہے تو ہیبت کے مارے گھبرا اٹھتے ہیں شدت ہیبت کی وجہ سے ان کی حالت دگرگوں ہوجاتی ہے جب فرمان عالی پورا ہوجاتا ہے اور ہیبت کی کیفیت دور ہوجاتی ہے تو آپس میں دریافت کرتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا حکم فرمایا۔ پھر بعض بعض سے کہتے ہیں کہ تمہارے رب نے حق ہی فرمایا۔ جہاں ہیبت کا یہ عالم ہے وہاں شفاعت کی کیا مجال ہوسکتی ہے، ملائکہ مقربین گھبراتے ہیں اور خوف زدہ ہوتے ہیں تو اصنام اور شیاطین کس شمار میں ہیں، اسی سے سمجھ لیا جائے۔ (وَھُوَ الْعَلِیُّ الْکَبِیْرُ ) (وہ بلند ہے بڑا ہے) اس کی بارگاہ میں وہی شفاعت کرسکتا ہے جسے شفاعت کی اجازت ہو اور اسی کے لیے شفاعت کرسکتا ہے جس کے لیے شفاعت کی اجازت ہو، مشرکوں کی حماقت دیکھو کہ خود ہی اللہ تعالیٰ کے لیے شریک تجویز کیے اور خود ہی یہ تجویز کرلیا کہ وہ ہماری سفارش کریں گے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب آسمان میں اللہ تعالیٰ کا کوئی فیصلہ ہوتا ہے تو فرشتے اس کے فرمان کی وجہ سے بطور تواضع وانقیاد اپنے پروں کو مارتے ہیں جس سے ایسی آواز پیدا ہوتی ہے کہ گویا چکنے پتھر پر زنجیر کھینچی جا رہی ہے، پھر جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہوجاتی ہے تو کہتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟ پھر آپس میں جواب دیتے ہیں کہ وہ برتر ہے بڑا ہے۔ (رواہ البخاری ص 706: ج 2)
Ayah 34:24

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّاۤ اَوْ اِیَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 34:24 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ کون تمہیں رزق دیتا ہے آسمانوں سے اور زمین سے، آپ فرما دیجیے کہ اللہ ! اور بیشک ہم یا تم ضرور راہ راست پر ہیں یا صریح گمراہی میں ہیں۔

قیامت کے دن صحیح فیصلے ہوں گے، اللہ تعالیٰ عزیز و حکیم ہے ان آیات میں بھی توحید کا اثبات ہے، اول تو یہ فرمایا کہ تم یہ بتادو کہ آسمانوں سے اور زمین سے تمہیں کون روزی دیتا ہے، آسمان سے پانی برستا ہے اور زمین سے درخت نکلتے ہیں اور کھیتیاں پیدا ہوتی ہیں بتاؤ یہ کس کی قدرت کا مظاہرہ ہے، اور ان چیزوں کو کس نے پیدا کیا، جو اب ان کے نزدیک بھی متعین ہے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مشیت و ارادہ سے ہوتا ہے، اگر وہ جواب نہ دیں یا دیر سے جواب دیں تو آپ ہی فرما دیجیے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی مشیت اور قدرت سے ہے۔ (وَاِنَّآ اَوْاِیَّاکُمْ لَعَلٰی ھُدًی اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ) (اور بیشک ہم یا تم ضرور راہ راست پر ہیں یا صریح گمراہی میں ہیں) یہ بطور تلطف کے فرمایا اور فکر کی دعوت دی اور مطلب یہ ہے کہ ہم تو توحید کی دعوت دیتے ہیں اور تم توحید کے منکر ہو، اور ظاہر ہے کہ دونوں باتیں درست نہیں ہوسکتیں، اور یہ سمجھ لو کہ جو ہدایت پر ہے موت کے بعد اسی کی خیر ہوگی اور اسی کو انعامات ملیں گے اور جو گمراہ ہوگا وہ عذاب میں مبتلا ہوگا۔ اب تمہیں فکر مند ہونا چاہیے اور غور کرنا چاہیے کہ ہم ہدایت پر ہیں یا تم ہو اور ہم گمراہی پر ہیں یا تم ہو، ہم نے تو غور کرلیا ہے دلائل سے دین توحید کو سمجھ لیا ہے اور تم کو بھی اس کی دعوت دی ہے، اب تم اپنی خیر خواہی کے لیے غور و فکر کرلو، ہم نے جو دلائل دئیے ہیں ان میں غور کرلو ہمیں بھی مرنا ہے تمہیں بھی مرنا ہے، اگر موت کے بعد یہ ظاہر ہوا کہ تم برائی پر تھے تو وہاں دوزخ کے عذاب میں مبتلا ہوگے (جہاں سے واپس ہونے اور نکلنے کا امکان ہی نہیں) عذاب دائمی میں رہنا پڑے گا۔ اس وقت کا پچھتاوا اور غور کرنا کام نہ دے گا لہٰذا اسی دنیا میں سمجھ لو، غور و فکر کرلو اور مان لو، آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ توحید والے ممکن ہے گمراہی پر ہوں بلکہ مخاطب کو قریب کرنے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔
Ayah 34:25

قُلْ لَّا تُسْئَلُوْنَ عَمَّاۤ اَجْرَمْنَا وَ لَا نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:25 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے ہم نے جو جرم کیے تم سے اس کی باز پرس نہ ہوگی اور ہم سے ان کاموں کے بارے میں سوال نہ ہوگا جو تم کرتے ہو۔

(قُلْ لَّا تُسْءَلُوْنَ عَمَّآ اَجْرَمْنَا وَلَا نُسْءَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ) (آپ فرما دیجیے ہم نے جو جرم کیے تم سے ان کا سوال نہ ہوگا اور جو تم کام کرتے ہو ہم سے ان کی پرسش نہ ہوگی) ہر فریق کا الگ الگ معاملہ ہے، اہل توحید بخشے جائیں گے اور کفر و شرک والے عذاب میں داخل ہوں گے، گو تمہارے اعمال کے بارے میں ہم سے سوال نہ ہوگا لیکن کسی عوض کا مطالبہ کیے بغیر تمہاری خیر خواہی کے لیے تمہیں حق کی دعوت دے رہے ہیں اب تم خود اپنی فکر کرلو۔
Ayah 34:26

قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ هُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ Open ayah 34:26 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ ہمارا رب ہم سب کو جمع کرے گا پھر ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ فرمائے گا۔ اور وہ بڑا فیصلہ فرمانے والا ہے خوب جاننے والا ہے۔

(قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بالْحَقِّ ) (آپ فرما دیجیے کہ ہمارا رب ہم سب کو جمع کرے گا پھر ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ فرمائے گا) جب قیامت کے دن توحید والوں کے لیے انعام و اکرام کا اور مشرکین و کافرین کے لیے عذاب کا فیصلہ ہوگا اس وقت تمہیں اپنی گمراہی کا پتہ چل جائے گا۔ (وَھُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ ) (اور وہ بڑا فیصلہ فرمانے والا ہے اور خوب جاننے والا ہے) چونکہ ہر ہر شخص کا ہر ہر عمل اسے معلوم ہے اور ہر ایک کے عقیدوں کا بھی اسے پتہ ہے اس لیے اس کے سارے فیصلے حق ہوں گے اور حقیقت کے مطابق ہوں گے۔
Ayah 34:27

قُلْ اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِهٖ شُرَكَآءَ كَلَّا١ؕ بَلْ هُوَ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 34:27 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے مجھے دکھا دو وہ لوگ جنہیں تم نے شریک بنا کر اللہ کے ساتھ ملا رکھا ہے، ہرگز نہیں بلکہ وہ اللہ ہے زبردست ہے حکمت والا ہے۔

(قُلْ اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِہٖ شُرَکَآءَ ) (آپ فرما دیجیے مجھے دکھا دو وہ لوگ جنہیں تم نے شریک بنا کر اللہ کے ساتھ ملا رکھا ہے) یعنی تم نے جو باطل معبود بنا رکھے ہیں اور انہیں مستحق عبادت سمجھ کر خدائی کا درجہ دے رکھا ہے، ذرا مجھے دکھا دو وہ کون ہیں یعنی وہ تو خود مخلوق ہیں اس لائق کہاں ہیں کہ الوہیت میں شریک ہوں کوئی دلیل اور حجت ہے تو سامنے لاؤ۔ (قال صاحب الروح والمراد أعلمونی بالحجۃ والدلیل کیف وجدت الشرکۃ) (کَلَّا) (ایسا ہرگز نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک ہو) تمہاری بیوقوفی ہے جو تم نے اس کے لیے شریک تجویز کر رکھے ہیں۔ (بَلْ ھُوَ اللّٰہُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ) (بلکہ وہی اللہ ہے یعنی معبود برحق ہے زبردست ہے حکمت والا ہے۔ )