Ayah 34:1الحمد للہ الزی لہ ما فی السموت وما فی الارض، الزی محل جر میں ہے نعت ہونے کے اعتبار سے یا بدل ہونے کے اعتبار سے۔ یہ بھی جائز ہے کہ مبدا کے مضمر ہونے کے اعتبار سے محل رفع میں ہو اور اعنی کے مضمر ہونے کے اعتبار سے محل نصب میں ہو۔
سیبویہ نے یہ حکایت بیان کی ہے الحمد للہ اھل الحمد لفظ اہل رفع، نصب اور جر کے ساتھ ہے۔ کامل حمد اور ثناء شامل سب اللہ کے لیے ہے، کیونکہ تمام تر نعمتیں اس کی جانب سے ہیں۔
سورة فاتحہ کے آغاز میں گفتگو گزر چکی ہے۔ حدیث۔ ولہ الحمد فی الاخرۃ ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، آیت : وقا لو الحمد للہ الزی صدقنا وعدہ (الز مر : 74) ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے آیت : واخر دعوھم ان الحمدللہ رب العلمین (یونس) وہ آخرت میں محمود ہے جس طرح دنیا میں محمود ہے وہ آخرت کا مالک ہے جس طرح دنیا کا مالک ہے۔
آیت : وھو الحکیم، وہ اپنے فعل میں حکیم ہے اور اپنی مخلوق کے امر کے بارے میں باخبر ہے۔
Ayah 34:2آیت : یعلم ما یلج فی الارض وما یخرج منھا وما ینزل من السماء وما یعرج و ھو الرحیم الغفور
وہ جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو اس سے نکلتا ہے نیز وہ جانتا ہے جو آسمان سے نازل ہوتا ہے اور جو آسمان کی طرف عروج کرتا ہے اور وہی ہمیشہ رحم فرمانے والا بہت بخشنے والا ہے۔
آیت 2 :۔ زمین میں جو قطرہ وغیرہ داخل ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا، آیت : فسل کہ ینا بیع فی الارض (الزمر : 21) یعنی خزانے، دفینے اور مردے زمین جن کو محفوظ کرنے کی جگہ ہے۔ زمین سے جو نباتات وغیرہ اگتی ہے اسے بھی جانتا ہے۔ آسمان سے جو بارش، برف، بجلیاں، عزق، مفادیر اور برکات نازل ہوتی ہیں اللہ تعالیٰ ان سب کو جانتا ہے۔ حضرت علی بن طالب ؓ نے تشدید کے ساتھ وما نزل قراءت کی ہے۔ آسمان کی طرف فرشتے اور بندوں کے جو اعمال بلند ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں بھی جانتا ہے، یہ حضرت حسن بصریرحمۃ اللہ علیہ اور دوسرے لوگوں کا قول ہے (1) (تفسیر الحسن البصری، جلد 4، صفحہ 315) اور وہ رحیم و غفور ہے۔
Ayahs 34:3–4وقال الذین کفروا لا تاتینا الساعۃ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد اہل مکہ ہیں۔ مقاتل نے کہا : ابو سفیان نے کفار مکہ سے کہا : لات و عزیٰ کی قسم ! ہم پر قیامت کبھی نہیں آئے گی اور ہمیں دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت : قل اے محمد کہیے : آیت بلا وربی لتاتینکم، ہارون طلق معلم سے روایت نقل کی ہے کہ میں نے اپنے مشائخ کو پڑھتے ہوئے سنا : آیت قل بلی وربی لیاتیینکم یا، کے ساتھ۔ اسے معنی پر محمول کیا ہے، گویا کہا : تمہیں بعث اور اس کا امر ضرور آے گا جس طرح فرمایا : آیت : ھل ینظرون الا ان تا تیھم الملیکۃ او یاتی ربک (الانعام 158) یہ کفارا بتدا کا انکار کرتے اور عادہ کے منکر تھے۔ انہوں نے دوباہ اٹھا نے کی قدرت کا اعتراف کیا تھا یہ اس کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا : اگر وہ قادر ہے تب بھی اس طرح نہیں کرے گا۔ جب اس نے رسولوں کی زبانوں پر یہ خبر دی کہ وہ مخلوق کو دوبارہ اٹھائے گا تو اس کے بعد یہ حکم ہے جب خبر کسی شئے کے لیے وارد ہو وہ فعل کے اعتبار سے ممکن ہو تو وہ مقدور ہوگی جس کا صدق ثابت ہو اس کی تکذیب محال ہو۔
عالم الغیب، رفع کے ساتھ قراءت نا فع اور ابن کثیر کی ہے۔ یہ مبدا ہے اس کی خبر لا یعزب عنہ ہے۔ عاصم اور ابو عمرو نے عالم جر کے ساتھ پڑھا ہے تقدیر کالام یہ ہوگا الحمدللہ العام اس قراءت کی بناء لتا تینکم پر وقف اچھا نہیں۔ حمزہ اور کسائی نے علام الغیب مبالغہ اور نعت کے طریقہ پر قراءت کی ہے۔ لا یعذب عنہ اس سے غائب نہیں ہوتا و یعذب بھی قراءت ہے۔
فراء نے کہا : کسرہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے۔ نحاس نے کہا : یہ یحییٰ بن ثاب کی قراءت یہ معروف لغت ہے یوں کہا جاتا ہے : عذب یعذب و یعذب۔ جب وہ دور ہوجائے اور غائب ہوجائے۔ مثقال ذرۃ چھوٹی چیونٹی کے برابر۔ آیت : فی السموت و لا فی الارض ولا اصغر من ذالک ولاکبر اعمش کی قراءت میں ہے۔ ولا صغر من ذالک ولا کبر دونوں پر فتحہ ہے اسکا عطف ذرۃ پر ہے، عام قراءت رفع کے ساتھ ہے رفع کیسا تھ ہے اس کا عطف مثقال پر ہے آیت : الا فی کتاب مبین جو اس نے پیدا کیا اس کو جانتا ہے اس پر کوئی چیز مخفی نہیں۔ لیجذی یہ لام کی ساتھ منصوب ہے تقدیر کلام یہ ہے آیت : لتا تینکم لیجذی الذی آمنو اوعملوالصالحات ایمان داروں اور اعمال صالحہ کرنے والوں کو ثواب اور کافروں کو عقاب دے۔ آیت : اولئک لھم مغفرۃ ورزق کریم مومنوں کیلیے گناہوں کی بخشش اور جنت ہے۔
Ayah 34:5آیت 5 :۔ والذین سعوفی ایتنا جنہوں نے ہمارے اولہ کو باطل کرنے اور ہماری آیات کو جھٹلانے کی کوشش کی۔ معجذین وہ سبقت کی کوشش کرتے ہیں، وہ گمان کرتے تھے کہ وہ ہماری قدرت سے باہر نکل جائیں گے۔ وہ یہ گمان کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ آخرت میں دوبارہ اٹھانے پر قادر نہیں۔ وہ گمان کرتے تھے کہ ہم انہیں مہلت دے دیں گے۔
آیت : لھم عذاب من رجذالیم یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے دردناک عذاب ہے۔ یوں کہا جاتا ہے : عاجذہ اعجذہ جب اس پر غالب آجائے اور اس پر سبقت لے جائے۔ الیم کسرہ کے ساتھ نافع کی قراءت ہے۔ یہ رجذ کی صفت ہے، کیونکہ رجذ سے مراد عذاب ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے آیت : فانذلناعلی الذین ظلموارجذمن السماء (البقرہ : 59) ابن کثیر اور حفص نے حضرت عاصم ؓ سے آیت : لھم عذاب من رجذ الیم پڑھا ہے یعنی الیم پر رفع پڑھا ہے یہاں اور سورة الجاثیہ میں یہ عذاب کی صفت ہے۔ ابن کثیر، ابن محصین، حمید بن قیس، مجاہد اور ابوعمر نے معجزین قراءت کی ہے یعنی وہ لوگوں کو ایمان سے روکنے والے ہیں۔
Ayah 34:6جب ان لوگوں کا ذکر کیا گیا جنہوں نے نبوت کو باطل کرنے کی کوشش کی تو اس امر کو واضح کیا کہ جن لوگوں کو علم دیا گیا وہ یہ جانتے ہیں کہ قرآن حق ہے۔ مقاتل نے کہا : آیت : الذین اوتوا العلم سے مراد اہل کتاب میں سے مومن ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد حضور ﷺ کے صحابہ 4 ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : اس سے مراد تمام مسلمان ہیں۔ یہ اپنے عموم کی وجہ سے صحیح ترین ہے۔ روایت یہ علم کے معنی میں ہے۔ یہ محل نصب میں ہے اس کا عطف لیجذی پر ہے۔ تقدیر کلام یہ ہوگی لیجذی ولیری ؛ یہ زجاج اور فراء کا قول ہے۔ اس میں اعتراض کی گنجائش ہے، کین کہ کہ اس کا فرمان لیجذی اس کے فرمان لا تا تیناالساعۃ کے متعلق ہے۔ یہ نہیں کہا جاتا : تاکہ تمہارے اوپر قیامت آئے تاکہ اہل علم جان لیں کہ قرآن حق ہے کیونکہ وہ اسے حق ہی خیال کرتے ہیں اگرچہ قیامت بر پا نہ ہو۔ یہ صحیح ہے کہ یہ جملہ مستا نفہ کے طور پر مرفوع ہے ؛ قشیری نے اسے ذکر کیا ہے۔
میں کہتا ہوں : جب لیجذی اس معنی کے متعلق ہے اس نے اسے کتاب مبین میں ثابت کیا ہے تو ویری کا عطف لیجذی پر کرنا اچھا ہوگا، یعنی اس نے ثابت کیا تاکہ اہل علم جان لیں کہ قرآن حق ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ جملہ مستانفہ ہو۔
الذی محل نصب میں ہے کیونکہ یہ یری کا مفعول اول ہے۔ ھوالحق، الحق مفعول ثانی ہے۔ ھو ضمیر فصل ہے۔ کوئی کہتے ہیں ؛ ھو ضمیر سہارا ہے۔ اس پر الذی کو مبدا ہونے کی حیثیت سے مرفوع پڑھنا بھی جائز ہے۔ الحق اس کی خبر ہے جملہ مفعول ثانی کی حیثیت سے منصوب ہے۔ جس میں الف لام ہو اس میں تمام نحویوں کے نزدیک نصب اکثر آتی ہے۔ اسی طرح وہ نکرہ جس پر الف لام داخل نہ ہو تو وہ معرفہ کے مشابہ ہوجاتا ہے۔ اگر خبر اسم معرفہ ہو جس طرح تیرا قول ہے : کان اخوک ھو زید تو فراء نے گمان کیا ہے ؛ اس میں رفع پسندیدہ ہے۔ اسی طرح کان محمد ھو عمرو ہے۔ اس کے رفع کو پسند کرنے کی علت یہ ہے جب اس میں الف لام نہیں تو یہ نکرہ کے مشابہ ہوگیا۔ تیرے قول میں ہے : کان زید ھو جالس کیونکہ اس میں رفع کے سوا کوئی چیز جائز نہیں۔
آیت : و یھدی الی صراط العزیز الحمید قرآن اسلام کے طریقہ کی دعوت دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کا دین ہے۔ اپنے اس ارشاد العزیز سے اس امر پر دلالت کی کہ اس پر غلبہ نہیں پایا جاسکتا اور الحمید کے قول سے اس پر دلالت ہے کہ عجز کی صفت اس کے شایان شان نہیں۔
Ayah 34:7آیت : وقالالذین کفرواھل ندلکم علی رجل اگر تو چاہے تو فعل کے لام کو ندلکم کے نون میں مدغم کر دے کیونکہ لام نون کا قریب المخرج ہے۔ آیت : ینبئکماذا مذقتم کل ممذق جس نے کہا تھا لا تا تینا الساعۃ اس کی جانب سے ہی یہ خبر ہے۔ کیا ہم تمہیں ایسے آدمی کے بارے میں رہنمائی کریں جو تمہیں آگاہ کرے اور تمہیں کہے : تم کو قبروں میں بو سیدہ ہونے کے بعد اٹھایا جائے گا۔ یہ ان کے حد درجہ انکار کی وجہ سے کلام صادر ہو رہی ہے۔ زمحشری نے کہا : اگر تو یہ کہے : رسول اللہ قریش میں نام سے مشہو رو معروف تھے آپ ﷺ کی جانب سے بعث کے بارے میں خبر دینا یہ مشہور و معروفف تھا تو ان کے اس قول کا کیا معنی ہے ؟
آیت : ھل ندلکم علی رجل ینبئکم انہوں نے آپ کو اجنبی کی حیثیت دی اور آپ پر رہنمائی کرتے ہوئے ان پر پیش کیا جس طرح مجہول کے بارے میں مجہول امر میں رہنمائی کی جاتی ہے (1) (تفسیر الکشاف، جلد 3، صفحہ 570) ۔ میں کہتا ہوں : وہ اس سے طنز، مذاق اور تمسخر کا ارادہ کرتے تھے تو انہوں نے اس ذات کو پیش کیا جس طرح اس آدمی کو پیش کیا جاتا ہے جس کے بارے میں حکایت کی جا رہی ہو، پہیلی کے انداز میں جس پہیلی کو ہنسی اور مذاق کے لے ذکر کیا جاتا ہے اس کے بارے میں اور اس کے معاملہ کے بارے میں جان بوجھ کر جاہل بنا دیتا ہے۔ ادا محل نصب میں ہے، اس میں عامل مذقتم ہے، یہ نحاس کا قول ہے، اس میں ینبئکم کو عامل بناناجائز نہیں۔ کیونکہ وہ انہیں اس وقت خبر نہیں دیتا۔ اس میں عامل ان کا ما بعد بھی نہیں ہوتا کیونکہ وہ ان کے ماقبل میں عامل نہیں ہوتا۔ جس کا محل اس کا ما بعد ہے اور جو اس کا معمول ہے اسے اس سے مقدم نہ کیا جائے۔ ذجاج نے اسے جائز قرار دیا ہے کہ اس میں عامل مخذوف ہوتقدیر کلام یہ ہے : اذا مذقتم کل ممذق بعثتم یا تقدیر کلام یہ ہوگی : ینبئکم بانکم تبعثون اذامذقتم۔
مہدوی نے کہا : مذقتم اس میں عامل نہیں کیونکہیہ مضاف الیہ ہے اور مضاف الیہ، مضاف میں عامل نہیں ہوتا۔ بعض نے اسے جائز قرار دیا ہے کہ اذا کو مجازات کے لیے بنا دیا جائے۔ اس وقت اس کا ما بعد اس میں عامل ہوگا، کیونکہ اذا ما بعد کی طرف مضاف نہیں۔ شعر میں اذا اکثر مجزات کے لیے آتا ہے۔ آیت : مذقتم کل ممذق کا معنی ہے تمہیں کلی طور پر ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے۔ مذق کا معنی اشیاء کو پھاڑنا ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : ثوب مذیق و ممذوق و ممذق و ممذق پھٹا ہوا کپڑا۔
Ayah 34:8آیت : افتری علی اللہ کذبا جب ہمزہ استفہام میں داخل ہاہو تو اس نے ہمزہ وصلی سے مستغنی کردیا تو اس کو حذف کردیا گیا۔
ہمزہ استفہام پر فتحہ یہ ہمزہ استفہام اور ہمزہ وصلی کے درمیان فرق کرنے کے لیے ہے۔ سورة مریم میں یہ بحثاطلاع الغیب میں مفصل گزر چکی ہے۔
ام بہٖ جنۃ اس کلام کو مشرکوں کے اس قول کی طرف پھیرا جائے گا جو پہلے گزر چکا ہے مشرکوں نے کہا تھا : کیا اس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہے یا اس کو جنون کا مرض لاحق ہے۔ افتراء معنی بات کو گھڑنا ہے۔ ام بہ جنۃ یا اس کو جنون ہے وہ ایسی بات کرتا ہے جب کہ اس کو پتہ ہی نہیں۔ پھر ان کا رد کیا اور فرمایا : بل الذین لا یومنوں بالا خرۃ فی العزاب والضلل البعید۔ یعنی یہ معاملہ اس طرح نہیں جس طرح انہوں نے کہا : بلکہ وہ تو سب سچوں سے سچا ہے۔
جو بعث کا انکار کرتا ہے تو وہ کل عذاب میں ہوگا۔ آج وہ صحیح راستہ سے گمراہ ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کو عاجز قرار دینے اور افترا کی نسبت اسی ذات کی طرف کرنے والا ہوگیا ہے جس کی تائید اللہ تعالیٰ نے معجزات سے کی ہے۔
Ayah 34:9اللہ تعالیٰ نے آگاہ کیا کہ وہ ذات پاک جو آسمانوں، زمین اور جو کچھ کے درمیان ہے ان کو پیدا کرنے پر قادر ہے تو وہ دوبارہ اٹھا نے اور انہیں جلد سزا دینے پر بھی قادر ہے۔ اپنی اس قدرت کے ساتھ ان پر استدالال کیا اور یہ بتایا کہ آسمان اور زمین اس کی ملک ہیں یہ دونوں ان کو ہر جانب سے گھیرے ہوئے ہیں تو وہ زمین میں دھنسائے جانے اور آسمان کا ٹکڑا گرائے جانے سے کیسے امن میں ہیں ؟ جس طرح اللہ تعالیٰ نے قارون اور اصحاب ایکہ کے ساتھ کیا۔ حمزہ اور کسائی نے ان یشاء یخسف بھم الارضاو یسقط میں تینوں فعل یاء کے ساتھ پڑھے ہیں، یعنی اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اللہ تعالیٰ زمین کو حکم دے تو زمین ان کو دھنسا دے، آسمان کو حکم دے تو آسمان ان پر ٹکڑا گرا دے۔ باقی قراء نے نون کے ساتھ قراءت کی ہے یہ بطور تعظیم ہے۔
سلمی اور حفص نے کسفا سین کے فتحہ کے ساتھ قراءت کی ہے۔ باقی قراء نے اسے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس کی وضاحت سورة الاسرارء اور دوسری سورتوں میں گزر چکی ہے۔ آیت فی ذالک لایۃ وہ جو ہم نے اپنی قدرت میں سے ذکر کیا ہے اس میں واضح دلالت ہے، آیت : لکل عبد منیب ہر ایسے بندے کے لیے جو توبہ کرنے والا ہو اور اپنے دل سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔ منیب کا خصوصاذکر کیا کیونکہ وہی اللہ تعالیٰ کے دلائل اور آیات میں غوروفکر کے ساتھ نفع اٹھانے والا ہے۔
Ayah 34:10آیت : ولقد اتینا داود منا فضلا حضرت محمد ﷺ کی نبوت کے منکروں کے لیے اس امر کو بیان کیا کہ رسولوں کو بھیجنا کوئی نیا امر نہیں بلکہ ہم نے رسولوں کو مبعوث کیا اور معجزات کے ساتھ ان کی تائید کی اور جنہوں نے ان کی مخالفت کی ہم نے ان پر عذاب کو نازل فرمادیا۔ اتینا فضلا ہم نے ایسا امر عطا کیا جس کے ذریعے ہم نے اسے دوسرے لوگوں پر فضیلت دی۔ اس فعل میں اختلاف ہے جس کے بارے میں نو قول ہیں (1) نبوت (2) ذبور (3) علم، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ؛ آیت : ولقد اتینا داود وسلیمن علما (النمل : 15) (4) قوت اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے آیت : واذکر عبدنا داود ذالاید (ص : 17) (5) پہاڑوں اور لوگوں کو مسخر کرنا، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : یجبال اوبی معہ (سبائ : 10) (6) توبہ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : فغفرنالہ ذلک (ص : 25) (7) عدل کے ساتھ فیصلہ کرنا، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : یداود انا جعلنک خلیفۃ فی الارض (ص : 26) (8) لوہے کو نرم کرنا، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : وانا لہ الحدید ہ (سبا) (9) حسن صوت، حضرت داود (علیہ السلام) اچھی آواز والے اور خوبصورت چہرے والے تھے۔ اچھی آواز اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہبہ اور اس کی طرف سے فضل و احسان تھا۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان : آیت : یذید فی الخلق مایشاء (فاطر : 1) سے یہی مراد ہے جس کی وضاحت انشاء اللہ آئے گی۔
حضور ﷺ نے حضرت ابوموسی اشعری ؓ سے فرمایا : حدیث : لقد اوتیت مذمارامن مذامیرآل داود (1) (صحیح البخاری، کتاب فضائل القرآن حسن الصوت بقراء ۃ القرآن، جلد 2، صفحہ 755) تجھے آل داود میں کے مزامیر میں سے مزمار عطا کیا گیا ہے۔ علما نے کہا : مزمار اور مزمور سے مراد اچھی آواز ہے اسی وجہ سے موسیقی کے آلات کو مزمار کہتے ہیں۔ مختلف شہروں کے کثیر فقہاء نے تزیین کے ساتھ اور بار بار پڑھنے کو اچھا خیال کیا ہے۔ یہ بحث کتاب کے مقدمہ میں گزر چکی ہے۔ الحمد للہ
آیت : یجبال اوبی معہ ہم نے کہا : اے پہاڑو ! تم بھی اس کے ساتھ تسبیح بیان کرو (2) (زاد المسیر، جز 6، صفحہ 232) کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : انا سخرناالجبال معہ یسبحن با العشی و الا شراق وابومیسرہ نے کہا : جنتیوں کی زبان میں اس کا معنی تسبیح کرنا ہے۔ پہاڑوں کی تسبیح سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں تسبیح پیدا کردی جس طرح درخت میں کلام پیدا کردی۔ اس سے بھی وہی چیز سنی جاتی ہے جو تسبیح کرنے والے سے سنی جاتی ہے۔ یہ حضرت داود (علیہ السلام) کے لیے معجزہ ہے۔ ایک قول کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے اس کے ساتھ چلو جہاں وہ چاہے۔ یہ اس تاویب سے ما خوذ ہے لس سے مراد سارا دن چلنا ہے اور رات کے وقت پڑاو ڈالنا ہے۔ ابن مقبل نے کہا :
لحقنا بحی اوبوا السیر بعد ما دفعنا شعاع الشمس والصرف یجنح (3) (المحررالوجیز، جلد 4، صفحہ 407)
ہم ایسے قبیلہ کو جالاحق ہوے جو سارا دن چلتا ررہا، بعد اس کے سورج کی شعائیں ہمیں دھکیل رہی تھیں اور آنکھ جھک رہی تھی۔ حضرت حسن بصری (رح)، قتادہ اور دوسرے علماء نے پڑھا : آیت : اوبی معہ یعنی اس کے ساتھ تسبیح کو دہراو۔ یہ آب یثوب، اوبا، اوبۃ، یابا سے مشتق ہے۔ جب وہ لوٹے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت داود (علیہ السلام) دن کے وقت جو کام کرتے ہیں تم بھی اس کے ساتھ وہی کرو۔ جب حضرت داود (علیہ السلام) زبور کو پڑھتے تو پہاڑ بھی اس کے ساتھ آواز نکالتے اور پرندے توجہ سے سنتے گویا انہوں نے وہی کیا جو حضرت داود (علیہ السلام) نے کیا۔ وہن بن منبہرحمۃ اللہ علیہ نے کہا : معنی تم بھی اس کے ساتھ آہ وزاری کرو اور پرندے بھی اس امر پر اس کی مدد کریں (1) ۔ (المحررالوجیز، جلد 4، صفحہ 407)
حضرت داود (علیہ السلام) جب آہ زاری کرتے تو پہاڑ اس کی صدا پر آپ کو جواب دیتے اور پرندے اس کے اوپر ٹھہر جاتے۔ پہاڑوں سے صدائے باز گشت جسے لوگ سنتے ہیں وہ اس دن سے آج تک قائم ہے۔ پہاڑوں اور پرندوں کی مدد کے ساتھ ان کی تائید کی گئی تاکہ آپ اس بارے میں کوئی ضعف نہ پائیں۔ جب ضعف پیدا ہوتا آپ میں جوش پیدا ہوتا اور آپ حرکت کرتے اور پہاڑوں اور پرندوں کے وسیلہ سے قوت حاصل کرتے۔ حضرت داود (علیہ السلام) کو ایسی آواز دی گئی تھی کہ آپ کی اچھی آواز کی وجہ سے پہاڑوں کے وحشی جانور بھیڑ کرلیتے۔ جاری پانی آپ کی آواز پر چلنا رک جاتا۔ حدیث : والطیر رفع کے ساتھ ؛ یہ ابن ابی اسحاق، نصر کی عا صم سے، ابن ہرمز اور مسلمہ بن عبد الملک کی قراءت ہے۔ اس کا عطف الجبال کے لفظ پر ہے۔ یا اوبی میں جو ضمیر ہے اس پر اس کا عطف ہے۔ مع کے ساتھ فصل نے اسے حسین بنا دیا ہے۔ باقی قراء نے اسے نصب کے ساتھ پڑھا ہے یہ یا جبال کے محل پر معطوف ہے، یعنی ہم نے پہا ڑوں اور پرندوں کو ندا کی ؛ یہ سیبویہ کا قول ہے۔ ابو عمر وبن علاء کے نزدیک فعل کے مضمر ہونے کی بناء پر منصوب ہے یعنی آیت : سخرنا لہ الطیر (2) ۔ (زاد المسیر، جز 6، صفحہ 233) کسائی نے کہا : یہ معطوف ہے تقدیر کلام یہ ہے حدیث : و اتیناہ الطیر بہ آیت : ولقد اتینا داود منا فضلا پر محمول ہوگا۔ نحاس نے کہا : یہ بھی جائز ہے کہ یہ مفعول مہ ہو تقدیر کلام یہ ہو ومع الطیر۔
آیت : والنالہ الحدید حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : لوہا آپ کے لیے موم کی طرح ہوگیا۔ حضرت حسن بصری (رح) نے کہا : وہ گوندے ہوئے آٹے کی طرح ہوگیا (3) (تفسیر الحسن البصری، جلد 4، 316) ۔ حضرت داود (علیہ السلام) آگ کے بغیر اس سے چیز بناتے تھے۔ سدی نے کہا : حضرت داود (علیہ السلام) کے ہاتھ میں لوہا تر مٹی، گوندے ہوئے آٹے اور موم کی طرح ہوگیا۔ وہ جیسے چاہتے اس کو استعمال کرتے۔ نہ آگ میں داخل کرتے نہ ہتھوڑا مارتے ؛ یہ مقاتل کا قول ہے۔ آپ دن کے کچھ میں یا رات کے کچھ میں زرہ سے فارغ ہوجا تے تھے۔ اس زرہ کی قیمت ایک ہزار درہم ہوتی تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی قوت عطا کی تھی جس کے ساتھ وہ لو ہے کو دوہرا کرلیتے تھے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ جب حضرت داود (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے بادشاہ بنے تو آپ ایک فرشتہ سے ملے حضرت داود (علیہ السلام) اسے ایک انسان گمان کرتے تھے۔ حضرت داود (علیہ السلام) نے اپنا بھیس بدلا ہوا تھا آپ اس لیے نکلے تھے تاکہ اپنے بارے اور اپنی سیرت کے بارے میں خفیہ طریقہ سے بنی اسرائیل میں معلومات حاصل کریں۔ حضرت داود (علیہ السلام) نے اس شخص سے پو چھا جو انسان کی شکل میں ان کے سامنے آیا تھا : اس داود بادشاہ کے بارے میں تیری کیا رائے ہے ؟ فرشتے نے آپ سے کہا : وہ کتنا اچھا بندا ہے اگر اس میں ایک بات نہ ہو۔ حضرت داود (علیہ السلام) نے کہا : وہ کیا بات ہے ؟ فرشتے نے کہا : وہ بیت المال سے رزق حاصل کرتا ہے اگر وہ اپنے ہاتھ کی کمائی کھا تا تو اس کے فضائل مکمل ہوجاتے۔ حضرت داود (علیہ السلام) واپس آے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی کہ اسے کوئی ہنر سیکھا دے اور اسے آپ پر آسان کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں زرہ بنانے کا ہنر عطا کیا، جس طرح اللہ تعالیٰ نے سورة الانبیاء میں فرمایا، حضرت داودعلیہ السلام کے لیے لو ہے کو نرم کردیا گیا تو حضرت داود (علیہ السلام) نے زرہیں بنائیں۔ حضرت داود (علیہ السلام) رات اور دن کے درمیان ایک زرہ بنا لیتے جو ایک ہزار درہم کے برابر ہوتی، یہاں تک کے آپ کے پاس کثیر مال جمع ہوگیا اور گھر کی زندگی میں وسعت آگئی۔ آپ وہ مال فقراء اور مسا کین پر صدقہ کیا کرتے تھے۔ آپ ایک تہائی مال مسلما نوں کی مصلحتوں میں خرچ کیا کرتے تھے۔ یہ وہ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے زرہ لی اور اسے بنایا۔ اس سے قبل چو ڑے تختے استعمال کیے جاتے تھے۔ یہ قول کیا جاتا ہے : آپ ہر زرہ چار ہزار درہم میں بیچا کرتے تھے۔ درع کا لفظ جب جنگ کے لیے استعمال ہو تو یہ مونث ہوتا ہے اور عورت کی درع مذکر ہوتی ہے۔
مسئلہ نمبر 1 : اس آیت میں دلیل ہے کہ اہل فضل کو بھی ہنر سیکھنا چاہیے اور ہنر ان کے منصب میں کمی نہیں کرتا بلکہ یہ ان کے فضل اور فضائل میں زیادتی کا با عث ہوگا، کیونکہ اس طرح ان کی ذاتوں میں تواضع اور غیر سے استغناء حاصل ہوگا۔ حلال کمائی یہ احسان جتلانے سے خالی ہوتی ہے۔ صحیح میں نبی کریم ﷺ سے مروی ہے : انسان سب سے بہترین جو کھانا کھا تا ہے وہ اس کے ہاتھ کی کمائی ہوتی ہے۔ (1) (صحیح بخاری، کتاب البیوع، کسب الرجل وعلیہ یدہ، جلد 1، صفحہ 278) ، اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت داود (علیہ السلام) اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے۔ سورة الانبیاء میں یہ بحث مفصل گزر چکی ہے۔
Ayah 34:11آیت : ان اعمل سبغت کھلی زرہیں یعنی کامل اور وسیع۔ یہ جملہ کہا جاتا ہے : حدیث : سبغ الد رع والثوب و غیرھما جب زرہ کا کپڑا وغیرہ ہر اس چیز کو ڈھانپ لے جس پر وہ ہے اور اس سے کچھ بچ بھی جائے۔ آیت : و قدر فی الثرد قتادہ نے کہا : زریں اس سے قبل تختے ہوتے تھے اور وہ سخت بھاری ہوتے، اسی وجہ سے حضرت داود (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ ایسی چیز بنائیں جو ہلکی ہو حفاظت کرنے والی ہو، یعنی ایسی چیز بنائو جو ان دونوں معنوں کو اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہو۔ صرف حفاظت کا قصد نہ کریں کہ وہ بوجھل ہوجائے اور نہ ہلکی کا ارادہ کریں کہ حفاظت نہ کرسکے۔ ابن زید نے کہا : جس انداز کا آپ کو حکم دیا گیا وہ حلقہ کی مقدار میں تھا، یعنی اسے چھو ٹا نہ بنا کہ وہ کمزور ہو اور زرہ دفاع پر قادر نہ ہو اور نہ اسے بڑا بنا کہ اس کے پہننے والے تک پہنچا جاسکے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جس چیز کے اندازے کے بارے میں حکم دیا گیا وہ کیل تھے، یعنی زرہ کے کیل کو باریک نہ بنائیں کہ وہ اپنی جگہ سے ہل جائے اور نہ موٹا ہو کہ حلقہ کو توڑ دے۔ اسے یقصم روایت کیا گیا ہے اور فاء کے ساتھ بھی روایت ہے۔
آیت : فی السرد، سرد سے مراد زرہ کے حلقہ کو بنا نا ہے، اسی وجہ سے زرہ کے حلقے بنانے والے کو سراد اور زراد کہتے ہیں سین کو زراء سے بدلا گیا ہے جس طرح کہا گیا ہے : سراط، زراط یہاں بھی سین کو زاء سے بدلا گیا ہے سرد سے مراد ستالی سے سینا ہے، سرد یسرد یہ اس وقت بو لتے ہیں جب وہ ستالی سے سیے، مسرد سے مراد ستا لی ہے۔ سراد بھی کہتے ہی۔ شماخ نے کہا :
فضلت تباعا خیلنا فی بیوتکم کما تبعت سرد العنان الخوارز
ہما رے گھو ڑوں تمہا رے گھروں یوں داخل ہوئے جس طرح گھو نگھے لگام کے رسی میں ہوتے ہیں۔ سراد سے مراد وہ تسمہ بھی ہے جس کے ساتھ سیا جاتا ہے۔ لبید نے کہا :
کما خرج السراد من الئقال
جس طرح تسمہ پرانے موزے سے نکل جاتا ہے۔
یہ جملہ بنایا جاتا ہے : آیت : قد سرد الحدیث والصوم۔ ان دو نوں میں سرد سے مراد ہے کہ ان دو نوں کو ایک ہی اندازے میں پے در پے لائے، اسی وجہ سے سردالکام ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی حدیث میں ہے : نبی کریم ﷺ نے تمہاری طرح عوانی سے کلام نہیں کرتے تھے آپ اس طرح بات کرتے اگر کوئی گننے والا الفاظ گننے کا ارادہ کرتا تو انہیں شمار کرلیتے۔ سیبویہ نے کہا : اسی سے رجل سرندی ہے، جس سے مراد جری آدمی ہے۔ کہاـ: کیونکہ وہ آگے ہی جاتا ہے۔ اس کی اصل سرد الدرع ہے اس کا معنی ہے کہ وہ زرہ کو مضبوط بنائے اور اس کے حلقوں کا نظم پے در پے کرے مختلف نہ بنائے۔ بعید نے کہا :
صنع الحدید مضاعفا اسرادہ لینال طول العیش غیر مردم
اس نے لو ہے کو بنایا کہ اس کی زرہیں تہہ در تہہ ہیں تاکہ ساری زند گی اسے پا یا جائے کہ اس کا قصد نہ کیا گیا ہو۔
ابو ذویب نے کہا :
و علیھما ممرو دتان قضا ھماداود او صنع السوابع تبع (1)
دو نوں پر ایسی زرہیں ہیں جن دو نوں کو حضرت داود (علیہ السلام) نے بنایا یا تبع بادشاہ کی بنی ہوئی ہیں۔
آیت : واعملوا صالحا یعنی عمل صالح کرو۔ یہ حضرت دواد (علیہ السلام) اور ان کے اہل کو خطاب ہے (2) (زاد المسیر، جز 6، صفحہ 234) جس طرح فرمایا : آیت ـ: اعملوا آل داود شکرا (سباـ: 13)
آیت : بما تعملون بصیر۔
Ayah 34:12آیت : و سلیمنالریح زجاج نے کہا : تقدیر کلام یہ ہے و سخر نا لسلیمن الریح (1) (زاد المسیر، جز 6، صفحہ 234) ۔ عاصم نے ابوبکر کی رویت میں یہ قراءت کی ہے الریح یہ مبدا ہونے کی حیثیت سے مر فوع ہے (2) (ایضا) ۔ اس کی تعبیر یوں ہوگی : حدیث : و لسلیمن تسخر الریح سلیمن بالا ستقرار الریح۔ یعنی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوا ٹھہری ہوئی ہے۔ اس میں بھی پہلے والا معنی ہے۔ اگر کوئی کہنے والا کہے ـ: جب تو کہے، اعطیت زیدا درھماو العمرو دینار تو تو نے دینار کو رفع دیا تو اس میں پہلے جملے کا معنی موجود نہیں، یہ جائز ہے کہ کہ تو نے اسے دینار عطا نہ کیا ہو۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : معاملہ اسی طرح ہے لیکن آیت معنی کے اعتبار سے اس کے بر عکس ہے، کیونکہ یہ معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ کسی نے بھی اسے مسخر نہیں کیا۔
آیت : غدوھا شھر و رواحھا شھر یعنی ایک ماہ کی مسافت۔ حضرت حسن بصری (رح) نے کہا : آپ دمشق میں صبح کرتے اور اصطحر کے مقم پر قیلولہ کرتے (3) (تفسیر الحسن البصری، جلد 4، صفحہ 317) ۔ دو نوں کے درمیان تیز رفتار مسافر کے لیے ایک ماہ کی مسافت تھی پھر آپ پچھلے پہر اصطحر سے چلتے اور کابل میں رات گزارتے۔ ان دونوں شہروں کے درمیان تیز رفتار مسافر کے لیے ایک ماہ کی مسافت تھی۔ سدی نے کہا : آپ ایک دن میں دو ماہ کی مسافت طے کرتے تھے۔ سعید بن جبیر حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کرتے تھے : حضرت سلیمان (علیہ السلام) جب بیٹھتے تو آپ کے ارد گرد چار سو کرسیاں لگا دی جاتیں پھر انسانوں میں سے رئو ساء آپ کے قریب بیٹھتے اور چھوٹے درجے کے لوگ ان کے ساتھ بیٹھتے اور جنوں کے سردار چھوٹے درجے کے لوگوں کے ساتھ بیٹھتے اور چھو ٹے درجے کے جن ان کے ساتھ بیٹھتے تھے۔ ہر کرسی کے پاس ایک پرندہ مقرر تھا جس کے ذمہ ایسا کام ہوتا جس کو وہ پہچانتا تھا۔ پھر ہوا انہیں اٹھا لیتی اور پرندے سورج کی شعاعوں سے انہیں سایہ دے رہے ہوتے۔ آپ صبح کو بیت المقدس سے اصطحر سفر کرتے اوع بیت المقدس میں رات گزارتے۔ پھر حضرت ابن عباس ؓ نے اس آیت کی تلاوت کی۔ آیت : غدوھاشھر و روحھا شھر وہب بن منبہ نے کہا : میرے لیے یہ ذکر کیا گیا ہے کہ دجلہ کے کنارے ایک منزل ہے جس میں لکھا ہوا ہے : جسے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ایک ساتھی نے لکھا ہے وہ جنوں سے تھا یا انسانوں میں سے تھا۔ ہم یہاں اترے ہم نے اس کو نہیں بنایا ہم نے اس کو بنا ہوا پا یا ہم اصطحر سے صبح کے وقت چلے ہم نے یہاں قیلو لہ کیا ہم یہاں سے پچھلے پہر کوچ کرنے والے ہیں انشاء اللہ اور شام میں رات گزاریں گے حضرت حسن بصری ؓ نے کہا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو گھوڑوں نے مشغول کردیا یہاں تک کہ ان کی عصر کی نماز فوت ہوگئی۔ آپ نے گھوڑوں کی گردنیں اڑا دیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا بدل عطا فرمایا جو ان گھوڑوں سے بہتر اور زیادہ تیز رفتار ہے (1) (الحسن البصری، جلد 4، صفحہ 318) ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہوا اس کا بدل عطا فرمایا جو آپ کے حکم سے چلتی ہے جہاں آپ چاہتے ہیں۔ آپ کے پہلے پہر کا سفر ایک ماہ کی مسافت کا ہوتا ہے اور پچھلے پہر کا سفر ایک ماہ کی مسافت کا ہوتا ہے۔
ابن زید نے کہا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا مستقر قدم شہر میں تھا۔ آپ نے شام سے عراق کی طرف روانہ ہونے سے قبل شیاطین کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کے لیے چوڑے باریک پتھروں اور سفید و زرد سنگ مرمر سے آپ کے لیے قیام گاہ بنا دی۔ اس کے متعلق نا بغہ کہتا ہے : حدیث : الا سلیمان اذقال الا لہ لہ قم فی البریۃ فاحددھا عن الفند
و خیس الجن انی قد او ذنت لھم یبئسون تدمر با الصفاح والعمد
فمن اطا عک فانفعہ بطا عتہکما اطاعک وادللہ علی الرشد
ومن عصاک فعاقبہ معاقبہ تنھی الظلوم ولا تقعد علی ضمد
مگر سلیمان (علیہ السلام) جب اللہ تعالیٰ نے اسے فرمایا : مخلوق میں کھڑے ہوجا ئو اور اسے گناہ سے روکو، جنوں کو اپنا مطیع بنائو میں نے انہیں حکم دے دیا ہے وہ تدمر کو بڑے چوڑے پتھروں سے بنائیں گے۔ جو تیری اطاعت کرے اس کو اطاعت پر نفع دیجئے جس طرح اس نے تیری اطاعت کی اور ہدایت پر اس کی راہنمائی کیجئے۔ جو تیری نافرمانی کرے تو اس کو سزا دیجئے جو ظالم کو روک دے اور کینہ پر قائم نہ رہے۔ میں نے ان شعروں کو یشکر کے علاقہ میں ایک چٹان میں کندہ دیکھا جن کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے کسی ساتھی نے کہا تھا :
ونحن ولا حول سری حول ربنانروح الی الاوطان من ارض تدمر
اذا نحن رحنا کان ریث رواحنا مسیرۃ شھر والغدو لا خر
اناس شر واللہ طو عا نفوسھم بنصر ابی داود النبی المطھر
لھم فی معالی الدین فضل ورفعہو ان تسبوا یو ما فمن خیر معشر
متی یرکبوا الریح المطیعۃ اسرعت مبادرۃ عن شھرھا لم تقصر
تفلھم طیر صفوف علیھم متی رفر فت من فو قھم لم تنقر
ہمارے رب کی طاقت کے سوا کوئی طاقت نہیں ہم تدمر کے علاقہ سے پچھلے پہر وطن کی طرف روانہ ہوتے ہیں جب ہم چلتے ہیں تو ہما رے آرام کا وقفہ ایک ماہ کی مسافت ہوا کرتی ہے اور اگلی صبح کسی اور جگہ کے لیے ہوتی۔ یہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے خوشی خوشی اپنے نفوس اللہ تعالیٰ کے ہاں بیچ دیے ہیں ان کا مقصود حضرت داود (علیہ السلام) کے بیٹے جو نبی مطہر ہیں کی مدد کرنا ہے۔ ان لوگوں کی دین کے امور میں فضیلت اور رفعت ہے۔ اگر کسی روز ان کے نصب کا ذکر کیا جائے تو یہ بہترین خاندان کے لوگ ہیں جب وہ مطیع ہوا پر سوار ہوتے ہیں تو وہ جلدی کرتی ہے وہ ایک ماہ کی مسافت تیزی سے طے کرتی ہے۔ وہ کا تاہی نہیں کرتی۔ ان پر پرندے صفیں بنا کر سایہ کرتے ہیں جب وہ اپنے پروں کو پھڑپھڑاتے ہیں تو ایک سے جدا نہیں ہوتی۔
آیت : واسلنا لہ عین القطر، قطر سے مراد پگھلا ہوا تانبا۔ حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے علماء نے کہا : تین دن کی مسافت سے وہ آپ پر یوں بہتا جس طرح پانی بہتا ہے۔ وہ یمن کے علاقہ میں تھا (1) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 437) یہ روا یت بیان کی گئی ہے : آپ سے قبل تانبا نہ بہا، وہ نہیں بہتا تھا۔ آپ کے زمانے سے بہا۔ لوگ آج بھی اسی تانبے سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے اللہ تعالیٰ نے نکا لا تھا۔ قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے ایک چشمہ جا ری کردیا جس مقصد کے لیے چاہتے اسے استعمال فرماتے۔ عکرمہ سے پو چھا گیا : وہ کہاں تک بہا ؟ جواب دیا : میں نہیں جانتا۔ حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد اور سدی نے کہا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے تانبے کا چشمہ تین دن اور تین رات بہتا رہا۔ قشیری نے کہا : تین دن تک چشمہ کے بارے میں پتا نہیں کہ اس کی حد کیا ہے ؟ ممکن ہے کہ یہ ناقل کا وہم ہو۔ کیونکہ مجاہد سے مروی ہے : یہ چشمہ صنعاء سے تین دن کی مسافت سے بہا، یہ جگہ کی طرف اشارہ کرتا ہے مدت کی طرف اشارہ نہیں کرتا۔ ظاہر یہ ہے کہ تانبا حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے اپنی کان میں بہا وہ اس طرح بہتا تھا جس طرح پانی کا چشمہ بہتا تھا۔ یہ آپ کی نبوت پر دلالت تھی۔ خلیل نے کہا ـ: قطر سے مراد پگھلا ہوا تانبا ہے۔
میں کہتا ہوں : اس کی دلیل اس کی قراءت ہے جس نے قراءت کی من قطران۔
آیت : ومن الجن من یعمل بین یدیہ باذن ربہ اذن سے مراد امر ہے۔ آیت : ومن یذغ منھم عن امر نا جو حضرت سلیمان کی اطاعت سے سرتابی کرتا جن امور میں ہم نے اسے حکم دیا۔ آیت : نذقہ من عذاب السعیر ہم اسے آخرت میں بھڑکتی ہوئی آگ کا مزہ چکھائیں گے، یہ اکثر مفسرین کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ دنیا میں ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک ایسا فرشتہ مقرر کردیا ہے جس کے ہاتھ میں آگ کا کوڑا ہے جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے حکم سے سرتابی کرتا ہے تو وہ فرشتہ اسے اس کو ڑے کے ساتھ ضرب لگا تا ہے جسے وہ دیکھتا نہیں تو وہ کوڑا اسے جلا دیتا ہے۔ من محل نصب میں ہے۔ معنی ہے ہم نے جنوں کو آپ کے لیے مسخر کردیا جو آپ کا کام کرتے ہیں۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ محل رفع میں ہو، جس طرح الریح کے بارے میں پہلے گزر چکا ہے۔
Ayah 34:13اس میں آتھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 : آیت : من محا ریب و تما ثیل لغت میں محراب سے مراد ہر بلند جگہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جس میں نماز پڑھی جائے وہ محراب ہے، کیونکہ ضروری ہوتا ہے کہ اس کو بلند کیا جائے اور اس کی تعظیم بجا لائی جائے۔ ضحاک نے کہا : آیت : من محا ریب سے مراد مساجد (1) (المحرر الوجیز، جلد 4، صفحہ 409) ۔ قتادہ نے بھی یہی کہا ہے۔ مجاہد نے کہا : محاریب یہ محلات سے چھوٹے ہوتے ہیں۔ ابو عبیدہ نے کہا : محراب سے مراد گھر کا سب سے اچھا کمرہ ہے (2) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 438) ۔
شاعر نے کہا :
و ما ذا علیہ ان ذکرت اوانسا کفلان رمل فی محاریب اقبال
شعر میں محاریب اقبال سے مراد بادشاہوں کی بہترین خواب گاہیں ہیں۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد وہ جگہ ہے جس کی طرف سیڑھیوں کے ذریعے بلند ہوا جاتا ہے جس طرح اچھا بالا خانہ، جس طرح فرمایا آیت : اذ تسو رو المحراب ہ (ص) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : فخرج علی قومہ من المحراب (مریم : 11) یعنی ان پر جھانکے۔ حدیث میں آتا ہے : ان کو حکم دیا گیا کہ اپنی کرسی کے ارد گرد ہزار عبادت گا ہیں بنوائیں جن میں ہزار آدمی ہوں جن پر ٹاٹ کا لباس ہو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں لگاتار آہ وزاری کرتے رہیں۔ آپ اپنے خیمہ میں کرسی پر ہوتے عبادت گاہیں آپ کے ارد ھرد ہو تیں جب آپ سوار ہوتے تو آپ اپنے لشکروں کو فرما تے : فلاں جگہ تک اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو جب وہ اس جگہ تک پہنچتے تو فرماتے : فلاں نشان تک آیت : لا الہ الا اللہ کہو۔ جب وہ اس جگہ تک پہنچتے تو فرماتے : اللہ اکبر کہو، تمام لشکر اس طرح ایک ہی لے میں تسبیح و تہلیل کرتا رہتا۔
مسئلہ نمبر 2 : آیت : و تما ثیل یہ تمثال کی جمع ہے اس سے مراد ہر چیز ہے جس کو کسی صورت کی مثل بنایا جائے وہ حیوان ہو یا حیوان کے علاوہ ہو۔ ایک قول کیا گیا ہے : شیشے، تانبے اور سنگ مرمر سے ایسی چیزوں کے مجسمے بنائے جاتے جو حیوان نہ ہوتے۔ یہ بھی ذکر کیا گیا : یہ انبیاء اور علماء کی تصاویر ہوتیں، عبادت گا ہوں میں انہیں بنایا جاتا تاکہ لوگ انہیں دیکھیں تو وہ زیادہ عبادت کریں اور کوشش کریں۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان لوگوں کا طریقہ یہ تھا جب ان میں کوئی صالح آدمی فوت ہوجاتا تو اس کی قبر پر وہ مسجد بنا دیتے اور اس میں صورتیں دیتے تاکہ ان کی عبا دت کو یاد کریں اور عبادت میں کوشش کریں (3) (صحیح مسلم، کتاب المساجدو مواضع الصلوۃ، النھی عن بناء المساجدعلی القبور، جلد 1، صفحہ 201) ۔ یہ اس پر دلا لت کرتا ہے کہ تصویر اس زمانے میں مباح تھی اور حضور ﷺ کی شریعت نے اس اہاحت کو منسوخ کردیا۔ سورة نوح میں اس کی مزید وضاحت آئے گی۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : تماثیل سے مراد طلسمات تھے جن پر وہ عمل کیا کرتے تھے وہ اس چیز پر جس کی تصویر بناتے اس امر کو حرام کردیتے کہ وہ اس سے تجاوز کریں تو کوئی بھی اس سے تجا وز نہ کرتا جب تک وہ تمثال وہاں موجود ہوتا۔ تما ثیل کی واحد تمثال ہے جو تاء کے کسرہ کے ساتھ ہے۔ کہاـ :
و یا رب یوم قد لھوت و لیلۃ بآئسۃ کلھا خظ تمثال
کتنے ہی دن اور را تیں ہیں جن کو میں نے آنسو کے ساتھ لہو لعب میں گزارا گو یا وہ تمثال کا خط ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ تما ثیل مرد تھے جن کو اس نے تانبے سے بنایا تھا اور اپ نے رب سے سوال کیا تھا کہ ان میں روح پھونک دے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کریں اور ان میں اسلحہ اثر نہ کرے۔ ایک قول کیا جاتا ہے : اسفند یاء بھی ان میں سے ایک تھا۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ یہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ انہوں نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی کر سی کے نیچے دو شیر بنائے اور کرسی پر دو گد ہیں بنائیں۔ جب آپ کرسی پر بیٹھنے کے لیے اوپر چڑھتے تو دو نوں گدھ اپنے بازو بچھا دیتے اور جب آپ بیٹھ جاتے تو دو نوں گدھ اپنے پر کھول دیتے۔
مسئلہ نمبر 3 :۔ مکی نے اپنے ہدایہ میں بیان کیا ہے : ایک جماعت تصویر کو جائز قرار دیتی ہے اور اس آیت سے استدلال کرتی ہے۔ ابن عطیہ نے کہاـ: یہ غلط ہے میں نے علم کے ائمہ میں سے کسی سے یہ یاد نہیں کیا جو اس امر کو جائز قرار دیتا ہو۔ میں کہتا ہوں : مکی نے جو حکایت کی ہے اس سے پہلے نحاس نے اس کا ذکر کیا ہے۔ نحاس نے کہا : ایک قوم نے کہا : اس آیت کی وجہ سے تصویر بنانا جائز ہے اور اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے بارے میں بتایا ہے۔ ایک قوم نے کہا : نبی کریم ﷺ سے اس کے بارے میں نہی ثابت ہے جو آدمی اس پر عمل کرے یا اس کو بنائے اس کے لیے وعید ثابت ہے۔ جو امر پہلے مباح تھا الہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ اس منسوخ کردیا۔ اس میں حکمت یہ تھی کہ نبی کریم ﷺ مبعث کیے گئے جب کہ تصویروں کی عبادت کی جاتی تھی، زیا دہ مناسب ہے ان کو زائل کرنا ہی ہے۔
مسئلہ نمبر 4 : تمثال کی دو قسمیں ہیں : حیوان (ذی روح) اور موات (غیر ذی روح) موات کی دو قسمیں ہیں۔ جمادات، نامی (نمو پا نے وال جیسے درخت) جن حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ان سب کے نشان بنا تے تھے، کیونکہ ارشاد عام ہے۔ اسرائیلیات میں ہے کہ پرندوں کے مجسمے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی کر سی پر تھے۔ اگر یہ کہا جائے : و تما ثیل میں کوئی عموم نہیں، کیونکہ یہ نکرہ ہے اور کلام مثبت میں ہے۔ نکرہ جب مثبت کلام میں ہو تو اس میں عموم نہیں ہوتا۔ عموم اس وقت ہوتا ہے جب نکرہ منفی کلام میں ہو۔ ہم کہتے ہیں ـ: بات اسی طرح ہے مگر ہ نکرہ میں اس اثبات کے ساتھ ایسی چیز مل گئی ہے جو عموم پر حمل کا تقاضا کرتی ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : ما یشاء اس کے ساتھ مشیئت کا ملنا اس کے عموم کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر یہ سوال کیا جائے : وہ صورتیں جن سے منع کیا گیا تھا ان کو آپ نے کیسے جائز قرار دیا ؟ ہم کہیں گے : یہ ان کی شریعت میں جائز تھا اور ہماری شریعت میں منسوخ ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے ابو العالیہ سے مروی ہے اس وقت تصویر بنانا حرام نہیں تھا۔
مسئلہ نمبر 5 : احادیث کا مقتضی یہ ہے کہ تصویریں ممنوع ہیں پھر یہ حدیث آئی حدیث : الا ما جاء رقما فی الثوب مگر جو کپڑے میں نقش ہو۔ تمام تصوی روں سے اسے خاص کردیا پھر اس میں کراہیت ثابت ہوگئی کہ حضور ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا : اس کو مجھ سے دور کر دو کیونکہ میں نے اسے جب بھی دیکھا تو مجھے دنیا یاد آگئی (1) (احکام القرآن لابن لعربی، جلد 4، صفحہ 1602) ۔ پھر حضور ﷺ کا اس کپڑے کو پھاڑ دینا جس میں تصا ویر تھیں جو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر تھا یہ اس سے رو کنا ہے۔ پھر اسے دو تکیوں کی صورت میں کاٹنا جس کے ساتھ صورت متغیر ہوگئی اور اپنی ہیت سے خارج ہوگئی یہ جائز اس وقت ہے جب صورت متصل ہیت میں نہ ہوا گر اس کی ہیت متصل ہو تو پھر یہ جائز نہیں، کیونکہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے ان تصویر والے تکیوں کے بارے میں عرض کی : میں نے یہ آپ کے لیے خریدے ہیں تاکہ آپ ان پر بیٹھیں اور ان کو تکیہ بنائیں، حضور ﷺ نے اس سے منع کیا اور اس پر وعید بتائی۔ تصو یروں کی طرف نماز پڑھنے والی حدیث سے یہ واضح ہوا کہ کپڑے میں نقش تصویر جائز ہے پھر اس سے منع اسے منسوخ کردیا۔ اور امر اس پر قرار پذیر ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے ؛ یہ ابن عر بی کا قول ہے۔
مسئلہ نمبر 6 : امام مسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روا یت نقل کی ہے : ہمارا ایک پردہ تھا جس میں پرندے کی تصویر تھی۔ گھر میں داخل ہونے والاجب داخل ہوتا تو یہ تصویر اس کے سامنے ہوتی۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس کو اس جگہ سے ہٹا دو کیونکہ میں جب اندر داخل ہوتا ہوں تو اسے دیکھتا ہوں تو میں دنیا کو یاد کرتا ہوں (2) (صحیح مسلم، کتاب اللباس و الزینت، جلد 2، صفحہ 200) ۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے کہا : ہمارا ایک کپڑا تھا ہم کہا کرتے تھے اس پر ریشم کی تصویر ہے ہم اسے پہنا کرتے تھے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے : رسول اللہ ﷺ میرے ہاں تشریف لائے جب کہ میں نے ایک باریک کپڑے سے پردہ کیا ہوا تھا جس میں تصویر تھی حضور ﷺ کا چہرے کا رنگ بدل گیا آپ نے اس کپڑے کو لیا اور اسے پھاڑا پھر فرمایا : قیامت کے روز جن لوگوں کو شدید ترین عذاب دیا جائے گا وہ وہ لوگ ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کے ساتھ مشابہت کی کوشش کرتے ہیں (3) (احکام القرآن لابن لعربی، جلد 4، صفحہ 1601) ۔
ان سے مروی ہے : ان کا ایک کپڑا تھا جس میں تصا ویر تھیں جو طاق تک لٹکا ہوا تھا۔ نبی کریم ﷺ اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے فرمایا : اسے مجھ سے دور کر دو (4) (ایضا) ۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ میں نے اسے وہاں سے ہٹا دیا اور میں نے اس سے دو تکیے بنا دیئے۔ بعض علماء نے کہا : یہ ممکن ہے کہ حضور ﷺ نے جو کپڑا پھاڑا اور اس کپڑے کو ہٹانے کا جو حکم دیا وہ تقوی کی بناء پر ہو، کیونکہ نبوت اور رسالت کا محل کمال ہے۔ اس میں غورو فکر کرلو۔
مسئلہ نمبر 7 ـ: مزنی امام شافعی سے روایت نقل کی ہے : اگر کسی آدمی کو شادی پر دعوت دی جائے وہ ذی روح تصویر یا تصا ویر دیکھتا ہے اگر وہ کسی جگہ نصب ہیں تو وہاں داخل نہ ہو۔ اگر ان پر قدم رکھے جاتے ہیں تو کوئی حرج نہیں اگرچہ وہ درختوں کی تصاویر ہوں۔ علماء نے اس میں کوئی اختلاف نہیں کیا کہ وہ پر دے جو لٹکے ہوئے ہوں ان میں تصاویر مکروہ ہیں حرام نہیں۔ اس طرح ان تصاویر کی حیثیت ہے جو کسی عمارت میں کندہ کی گئی ہوں یا نقش بنائے گئے ہوں۔ بعض نے ان تصاویر کو مستثنی کیا ہے جو کپڑے میں نقش ہوں کیونکہ حضرت سہل بن حنیف کی حدیث ہے۔
میں کہتا ہوں : رسول اللہ ﷺ نے تصویریں بنانے والے پر لعنت کی اور کوئی استثناء نہیں کی۔ حضور ﷺ کا ارشاد کہتصویر بنانے والوں کو قیامت کے روز عذاب دیا جائے گا اور انہیں کہا جائے گا جو تم نے بنایا ہے اس کو زندہ کرو (1) (صحیح بخاری، عذاب المصورین یوم القیامتہ، جلد 2، صفحہ 880) ۔ اور کوئی استثناء نہیں کی۔ ترمذی میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت مروی ہے : قیامت کے روز جہنم سے ایک گردن ظاہر ہوگی جس کی دو آنکھیں ہوں گی، وہ دو نوں دیکھیں گی، ان کے دو کان ہوں گے جو سنیں گے اور ایک زبان ہوگی جو بو لے گی وہ کہے گی : مجھے تین قسم کے افراد پر ذمہ داری سونپی گئی ہے (1) ہر عناد رکھنے والے جبار پر (2) جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کی عبادت کی (3) تصویریں بنانے والے پر (2) (جامع ترمذی، باب مفتہ الجھنم، جلد 2، صفحہ 81، ایضا، حدیث نمبر 2497، ضیا القرآن پبلیکیشنز ) ۔ ابو عیسیٰ نے کہا : یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ بخاری اور مسلم میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : قیامت کے روز جن کو سب سے سخت عذاب دیا جائے گا وہ مصور ہوں گے۔ یہ تصویر بنانے سے منع پر دلیل ہے تصویر کوئی بھی ہو، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : ما کان لکم ان تثبتوا شجرھا (النمل : 60) جس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ اس کو ذہن نشین کرلو۔
مسئلہ نمبر 8 : اس باب سے بچوں کی گڈیاں مستثنی ہیں کیونکہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے یہ بات ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے شادی کی جب کہ ان کی عمر سات سال تھی۔ انہیں اپنے حرم میں داخل کیا جب کہ ان کی عمر نو سال تھی جب کہ ان کی گڈیاں ان کے ساتھ تھیں۔ حضور ﷺ کا وصال ہوگیا جب کہ ان کی عمر اٹھارہ سال تھی۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس لڑکیوں کے ساتھ کھیلا کرتی تھی میری سہیلیاں تھیں جو میرے ساتھ کھیلا کرتی تھیں۔ جب نبی کریم ﷺ تشریف لاتے تو وہ آپ سے چھپ جاتیں آپ انہیں میرے پاس بھیج دیتے تو وہ لڑکیاں میرے ساتھ کھیلا کرتی تھیں۔ امام مسلم نے ان دونوں روایات کو نقل کیا ہے۔
علماء نے کہا : یہ ضرورت کی بناء پر تھا اور بچیوں کو بھی ان کی ضرورت تھی تاکہ انہیں اپنے بچوں کی تربیت کا تجر بہ ہوجائے۔ پھر ان چیزوں کی کوئی بقا نہیں ہوتی۔ اس طرح حلوہ اور گو ندے ہوئے آٹے سے جو چیز بنائی جاتی ہے وہ بھی باقی رہنے والی نہیں ہوتی۔ اس جہ سے اس میں رخصت دی گئی۔
آیت : و جفان کا الجواب ابن عرفہ نے کہا : جو بی یہ جابیہ کی جمع ہے۔ یہ حوض کی طرح گڑھا ہوتا ہے۔ کہاـ: پا یہ کے حوض ہوتے ہیں۔ ابن قاسم نے امام مالک سے روایت نقل کی ہے : حدیث : کا لجو بۃ من الارض (3) (احکام القرآن لا بن العربی، جلد 4، صفحہ 1602) معنی قریب قریب ہے۔ ایک لگن پر ہزار ہزار آدمی بیٹھتا۔ نحاس نے کہا : آیت ـ: و جفان کا لجواب صحیح تر یہ ہے کہ یہ با کے ساتھ ہو۔ جس نے یاء کو حذف کیا ہے اس نے کہا : الف لام کا طریقہ یہ ہے کہ نکرہ پر داخل ہو اور اس کو اس کی حالت سے تبدیل نہ کرے۔ جب جواب کہا جاتا اور اس پر الف لام داخل ہوا تو اسے اپنی حالت پر رکھا تو یاء کو حذف کردیا گیا۔ جوابی کا واحدجابیہ ہے۔ اس سے مراد عظیم بانڈی ہے اور ایسا بڑا حوض جس میں کسی شئے کو جمع کیا جاتا اسی سے جبیت الخراج اور جبیت الجراد ہے، یعنی میں چادر کو پھیلایا اور اس میں مکڑ یوں کو جمع کیا مگر لیث نے مجاہد سے نقل کی ہے کہا : الجوابی جو بہ کی جمع ہے، جو بہ سے مراد بڑا گڑھا ہے جو پہاڑ میں ہوتا ہے جس میں بارش کا پانی ہوتا۔ کسائی نے کہا : جبوت الماء فی الحوض و جبیتہ یعنی میں اسے جمع کیا۔ جابہ ایسے حوض کو کہتے ہیں جس میں اونٹوں کے لیے پانی جمع کیا جاتا ہے۔ شا عر نے کہا :
تروح علی آل المحلق جفنۃ کجابیہ الشیخ العراقی تفھق
تو آل محلق پر پیالہ گھماتا ہے جس طرح شیخ عراقی کا حوض جھلک رہا ہے۔
اسے جابیۃ السیح بھی روایت کیا گیا ہے سیح سے مراد روئے زمین پر ظاہر پانی ہے۔
آیت : و قد و ررسیت سعید بن جبیر نے کہا : یہ تانبے کی بانڈیاں ہیں جو ایران کے علاقہ میں ہوتی ہیں۔ ضحاک نے کہا : یہ ایسی بانڈیاں ہیں جو پہاڑوں سے بنائی جاتی ہیں۔ ایسے پہاڑ جن کے پتھر پیوست ہوتے ہیں ان میں کوئی سوراخ نہیں ہوتا ان کو تراشا گیا یہ شیا طین آپ کے لیے کام کیا تھا۔ ان کے چو ل ہے بھی اسی طرح پہا ڑوں سے بنائے جاتے تھے۔ راسیات کا معنی جمی ہوئی۔ نہ انہیں اٹھا یا جاتا ہے اور نہ انہیں حرکت دی جاتی ہے کیونکہ وہ بڑی عظیم ہوتی ہیں۔ ابن عربی نے کہا : عبد اللہ بن جد عان کی بانڈیاں بھی اسی طرح کی تھیں اور جہا لیت میں سیڑھی لگا کر ان کی طرف چڑھا جاتا تھا۔ اسی کے متعلق عرفہ بن عبد نے کہا :
کا الجوابی لاتنی مترعۃ لقری الاء ضیاف او للمحتضر (1) (احکام القرآن لابن لعربی، جلد 4، صفحہ 1602)
بانڈیاں جوابی (جو ہڑوں) کی طرح جھلک رہی ہیں مہما نوں کی ضیا فت کے لیے اور مقامی لوگوں کے لیے۔ ابن عربی نے کہا : میں نے حضرت ابو سعید کی خانقاہ میں اسی طرح کی صوفیوں کی بانڈیاں دیکھی ہیں وہ سب پکا تے ہیں اور اکھٹے کھاتے ہیں ان میں سے کسی کو کسی پر کوئی ترجیح نہیں ہوتی۔
آیت : اعملوا آل داود شکرا وقلیل من عبادی الشکور سورة بقرہ اور دوسری سورتوں میں شکر کا معنی گزر چکا ہے۔ یہ روایت بیان کی گئی کہ نبی کریم ﷺ منبر پر چڑھے اور اس آیت کی تلاوت کی، پھر فرمایا : تین چیزیں جس کو دی گئیں اس کو آل داود کی مثل دیا گیا (2) (کنز العما ل، جلد 15، صفحہ 811، حدیث نمبر 43224 ) ۔ میں نے عرض کی : وہ تین چیزیں کیا ہیں ؟ فرمایا : خوشی اور ناراضگی میں عدل کرنا، فقر غنا میں میں میانہ روی اختیار کرنا، مخفی اور اعلا نیہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنا۔
تر مذی حکیم ابو عبد اللہ، عطا بن یسار سے وہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں۔ یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ حضرت داود (علیہ السلام) نے کہا : اے میرے رب ! میں تیری نعمتوں پر شکر کیسے ادا کرسکتا ہوں ؟ میرا الہام اور تیرے شکر پر میری قدرت یہ بھی تیری نعمت ہے۔ فرمایا : اے داود (علیہ السلام) اب تو نے پہچان لیا ہے۔ یہ بحث سورة ابراہیم میں گزر چکی ہے۔ شکر کی حقیقت یہ ہے کہ منعم کی نعمت کا اعتراف کیا جائے اور اس کی اطاعت میں اس کو استعمال کیا جائے اور نا شکری سے مراد اسے معصیت میں استعمال کرنا ہے۔ بہت تھو ڑے لوگ ایسے ہوں گے جو ایسا کرتے ہیں، کیونکہ خیر شر سے قلیل ہے اطاعت معصیت سے قلیل ہے جس طرح پہلے سے مقدر ہوچکا ہے۔
مجاہد نے کہا : جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت : ا عملو آل داود شکرا حضرت داود (علیہ السلام) نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے کہا : اللہ تعالیٰ نے شکر کا ذکر کیا ہے تو میری جانب سے دن کی نماز کے لیے کا فی ہو میں تیری جانب سے رات کی نماز کے لیے کا فی ہو جائوں گا، حضرت سلیمان نعلیہ السلام نے عرض کی : میں اس پر قادر نہیں۔ فرمایا میرے لیے کا فی ہوجا۔ فر یا بی نے کہا : میرا خیال ہے حضرت داود (علیہ السلام) نے فرمایا ظہر کی نماز تک کے لیے کا فی ہوجا۔ حضرت سلیما نعلیہ السلام نے عرض کی : ہاں۔ تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) اس کے لیے کا فی ہوگئے۔
زہری نے کہا : آیت : اعملو آل داود شکرا یعنی الحمد للہ کہو۔ شکرا مفعول ہونے اعتبار سے منصوب ہے، یعنی ایسا عمل کرو جو شکر ہو گویا نماز، روزے اور تمام عبادات فی نفسہا شکر ہے کیونکہ یہ شکر کے قائم مقام ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان اس کی و ضاحت کرتا ہے : آیت : ا لا الذین امنوا و عملوا الصلحت و قلیل ما ھم (ص : 24) اللہ تعالیٰ کے اس فرمان : آیت : و قلیل من عبا دی الشکور سے یہی مراد ہے۔ سفیان بن عیینہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان آیت : ان اشکر لی کی تا ویل میں کہا : شکر سے مراد پانچ نما زیں ہیں۔ صحیح مسلم میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول ﷺ رات کو قیام فرما تے یہاں تک کہ آپ کے قدم پھٹ جاتے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے عرض کی : کیا آپ ﷺ اتنی مشقت کرتے ہیں جب کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی اگلی پچھلی خطائیں معاف کردی ہیں ؟ فرمایا : کیا میں اس کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔ امام مسلم اس کو نقل کرنے منفرد ہیں۔ قرآن اور سنت کا ظاہر اس پر دلالت کرتا ہے کہ شکر ابدان کے عمل سے ہوتا ہے صرف زبان کے عمل پر مقصود نہیں۔ افعال کے ساتھ شکر ارکان کا عمل ہے اور قول کے ساتھ شکر زبان کا عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
آیت : و قلیل من عبا دی الشکور یہ احتمال موجود ہے کہ خطاب آل داود (علیہ السلام) کو ہوا اور یہ بھی احتمال ہے کہ خطاب حضرت محمد ﷺ کو ہو۔ ابن عطیہ نے کہا : ہر صورت میں تنبیہ اور تحریض ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا : اے اللہ ! مجھے قلیل میں سے بنا دے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : یہ کیسی دعا ہے ؟ اس نے عرض کی : میں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا ارادہ کیا ہے : آیت ـ: و قلیل من عبادی الشکو ر۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : اے عمر ! تمام لوگ مجھ سے زیادہ علم رکھتے ہیں۔ یہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جو خود کھا یا کرتے تھے اپنے گھر والوں کو موٹے آٹے سے بنا کھانا کھلایا کرتے تھے اور مساکین کو باریک آٹے سے بنا کھانا کھلا یا کرتے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا : آپ راکھ کھالیا کرتے تھے اور اس پر لیٹ جاتے۔ پہلا قول زیا دہ صحیح ہے کیونکہ کہ راکھ کھانا نہیں۔
روایت بیان کی جاتی ہے کہ آپ نے کبھی پیٹ بھر کے کھانا نہیں کھا یا آپ سے اس بارے میں عرض کی گئی تو فرمایا : میں ڈرتا ہوں کہ اگر میں پیٹ بھر کر کھانا کھائوں گا تو میں بھو کوں کو بھول جائوں گا۔ یہ بھی شکر کی صورت ہے اور ان قلیل افراد میں سے ہونا ہے۔ اس میں غورو فکر کرو، اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔