34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 34:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 34:1 in the Quran reader

ہر طرح کی تعریف اس اللہ کے لئے ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہر چیز کا مالک ہے اور آخرت 1 میں (بھی) تعریف اسی کے لئے ہے اور وہ حکمت والا 2 اور باخبر ہے

1 فی الآخرۃ کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اس دنیا میں اگر کسی انسان کے کارناموں کی تعریف کی جائے۔ تو وہ بالآخر اللہ کی ہی تعریف ہوگی۔ کیونکہ انسان کو ہر طرح کی قوت، صلاحیت اور استعداد عطا کرنے والا اللہ ہی ہے۔ یعنی فی الاخرۃ کا لفظ یہاں بالآخر کا معنی دے رہا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں تو کچھ اسباب ظاہر ہیں جو سب کو دکھائی دینے یا محسوس ہوتے ہیں لیکن اچھ اسباب ایسے بھی ہیں جن پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ آخرت میں ایسے سب پردے اور جماعت اٹھ جائیں گے اور ہر ایک کو یہ نظر آئے گا کہ قابل تعریف ذات تو صرف اللہ ہی کی ہے۔ 2 اور حکم اس لحاظ سے ہے کہ اس نے کائنات میں جو چیز بھی بنائی ہے وہ ایک نہیں متعدد مقاصد پورے کر رہی ہے پھر کائنات کے نظام کا مربوط اور منظم ہونا بھی اس کی حکمت کی بہت بڑا دلیل ہے اور باخبر اس لحاظ سے ہے وہ کائنات کے ایک ایک کل پرزے کی براہ راست نگرانی کر رہا ہے اور مدت ہائے دراز گزرنے پر بھی کائنات کے کسی کل پرزے کی کبھی کوئی کمی، کوتاہی یا گڑ بڑا واقع نہیں ہوتی۔
Ayah 34:2

یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ الرَّحِیْمُ الْغَفُوْرُ Open ayah 34:2 in the Quran reader

جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے یا اس سے نکلتا ہے نیز جو کچھ آسمان سے اترتا اور جو کچھ آسمان 3 میں چڑھتا ہے، وہ ہر چیز کو جانتا ہے اور وہ رحم کرنے والا ہے اور معاف 4 کرنے والا ہے

3 زمین میں داخل ہونے والی چیزیں یہ ہیں : ہر قسم کی نباتات کے بیج، بارش کا پانی، تمام جانوروں کے مردہ اجسام۔ اور حشرات الارض وغیرہ اور زمین سے نکلنے والی چیزیں مثلاً کھیتی، پودے، درخت، معدنیات۔ کئی قسم کے تیل اور گیسیں وغیرہ اور آسمان سے اترنے والی چیزیں مثلاً بارش اللہ کی رحمت و برکت، وحی الٰہی، فرشتے وغیرہ اور جو آسمان کی طرف چڑھنے والی چیزیں مثلاً دعا، فرشتے، انسانوں کے اعمال وغیرہ ان سب انواع اور ان کی جزئیات سب کچھ اللہ کے علم میں ہے۔ 4 یعنی انسانوں کی بداعمالیوں پرانیں فوراً سزا نہیں دے ڈالتا۔ یہ اس کی رحمت کا تقاضا ہے کہ انسانوں کو سنبھلنے کی مہلت دیتا ہے اور جو سنبھل جائے تو اس کی ساتھ لغزشیں معاف بھی کردیتا ہے۔
Ayah 34:3

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِیْنَا السَّاعَةُ١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتَاْتِیَنَّكُمْ١ۙ عٰلِمِ الْغَیْبِ١ۚ لَا یَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ لَاۤ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرُ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍۗۙ Open ayah 34:3 in the Quran reader

کافر کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آئے گی آپ ان سے کہئے کہ : کیوں نہیں آئے گی، میرے پروردگار کی قسم ! وہ تم پر آکے رہے گی۔ (اس پروردگار کی قسم) جو غیب 5 کا جاننے والا ہے۔ اس سے آسمانوں اور زمین میں کوئی ذرہ بھر چیز بھی چھپی نہیں رہ سکتی۔ اور ذرہ سے چھوٹی یا بڑی کوئی چیز ایسی 6 نہیں جو واضح کتاب میں درج نہ ہو۔

5 جس دعویٰ پر کوئی ظاہری دلیل موجود نہ ہو یا مخاطب اسے تسلیم کرنے سے منکر ہو تو اللہ کی قسم سے اپنے دعویٰ کو موکد کیا جاتا ہے۔ یہاں قسم کھانے والی وہ ہستی ہے جسے کفار مکہ صادق اور امین سمجھتے تھے اولاً تو انھیں اس بات یا دعویٰ پر یقین کرلینا چاہئے تھا کیونکہ وہ صادق اور امین ہے ثانیاً وہ اللہ کی قسم اٹھا کر اپنے دعویٰ کو موکد بنا رہا ہے۔ اور ضمناً اس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قیامت کا علم صرف اسے ہوسکتا ہے جو عالم الغیب ہو اور وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ 6 یعنی کائنات کی ہر چھوٹی بڑی، خفیہ اور علانیہ غرض ہر چیز سے اللہ تعالیٰ واقف ہی نہیں بلکہ کائنات میں کوئی بھی چھوٹا یا بڑا پیش آنے والا واقعہ یا حادثہ اس کے پاس پہلے سے لکھا ہوا ہے۔ پھر جب ایسی ذات قیامت کے واقع ہونے کی خبر دے رہی ہے۔ تو پھر اس میں کیا شک و شبہ ہوسکتا ہے۔
Ayah 34:4

لِّیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 34:4 in the Quran reader

(اور قیامت اس لئے آئے گی) تاکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جزا دے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ایسے لوگوں کے لئے بخشش 7 اور عزت و اکرام کی روزی ہوگی۔

7 یہ قیامت یا اخروی زندگی پر عقلی دلیل ہے۔ اس دنیا میں بیشمار ایسے افراد موجود ہیں جنہوں نے ایمان لاکر راہ حق میں بیشمار جانی اور مالی قربانیاں دیں اور تمام عمر فقر و فاقہ پریشانیوں اور کفار کے ہاتھوں ظلم وستم سہنے میں گزارا۔ کیا یہ انصاف کا تقاضا نہیں کہ انھیں ان کے اعمال کی جزا دی جائے ؟ اور دکھوں کے بدلے انھیں انعامات سے نوازا جائے ؟ لہذا ضروری ہے کہ اللہ انسانوں کو ایک دوسری زندگی عطا فرمائے۔ جس میں ہر شخص کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ دیا جائے۔
Ayahs 34:5–6

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ Open ayah 34:5 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو نیچا 8 دکھانے (تردید کرنے) پر زور لگایا ان کے لئے بدترین قسم کا دردناک عذاب ہے۔

وَ یَرَى الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ هُوَ الْحَقَّ١ۙ وَ یَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ Open ayah 34:6 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ خوب سمجھتے ہیں کہ جو کچھ آپ کی طرف آپ کے پروردگار سے نازل ہوا وہ حق ہے اور اس اللہ کی راہ دکھاتا ہے جو غالب اور حمدو ثنا کے لائق ہے

8 یعنی ایسی سازشوں اور کوششوں میں اپنی ساری عمر گزار دی کہ کہیں اسلام کو غلبہ اور سربلندی حاصل نہ ہوجائے۔ یا اللہ تعالیٰ کے بتلائے ہوئے عقیدہ آخرت کا مذاق اڑاتے ہیں۔ وہ اللہ کی گرفت سے بچ نہیں سکتے اور انھیں ان کے ناپاک ارادوں کے عوض عذاب بھی اسی قسم کا دیا جائے گا۔ سابقہ آیات میں ایمانداروں کے لئے رزق کریم اور مغفرت دونوں کا ذکر فرمایا جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مصائب و مشکلات اور فقر و فاقہ میں زندگی گزارنے والے مومنوں کو عزت کی روزی بھی ملے گی اور مغفرت بھی ہوگی اور جن ایمانداروں کو ابتلاء کا دور دیکھنا ہی نہیں پڑا ان کی بھی مغفرت ضرور ہوجائے گی۔ اسی طرح جن کافروں کا جرم صرف کفر تک ہی محدود رہا اور انہوں نے مخالفانہ اور معاندانہ سرگرمیوں اور سازشوں میں حصہ نہیں لیا انھیں صرف جہنم کا عذاب ہوگا۔ جو ناپاک قسم کا اور ذلیل و خوار کرنے والا نہ ہوگا۔
Ayah 34:7

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ یُّنَبِّئُكُمْ اِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ۙ اِنَّكُمْ لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 34:7 in the Quran reader

اور کافر (ایک دوسرے سے) کہتے ہیں : کیا ہم تمہیں ایسا آدمی نہ بتائیں جو یہ خبر دیتا ہے کہ جب تم (مرنے کے بعد) بالکل ریزہ ریزہ 9 ہوجاؤ گے تو از سر نو پیدا کئے جاؤ گے

9 یعنی اہل علم و دانش لوگ اللہ کی آیات، عقیدہ آخرت، انسانوں کی دوبارہ زندگی۔ اللہ کے حضور جواب دہی کا تصور اور اچھے اور برے اعمال کا بدلہ ملنے پر اس طرح یقین رکھتے ہیں جیسے وہ یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ کفار اللہ کی آیات کا مذاق اڑانے سے ضدی، ہٹ دھرم اور جاہل قسم کے لوگوں کو گمراہی میں مبتلا کرسکتے ہیں مگر اہل علم ان کے فریب میں نہیں آسکتے۔
Ayah 34:8

اَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَمْ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلِ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ فِی الْعَذَابِ وَ الضَّلٰلِ الْبَعِیْدِ Open ayah 34:8 in the Quran reader

معلوم نہیں کہ وہ اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے یا اسے جنون لاحق ہوگیا 10 ہے ؟ یہ بات نہیں 11 بلکہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہی عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں اور گمراہی میں دور تک چلے گئے ہیں۔

10 کفار مکہ آپ کو جھوٹا نہیں کہہ سکتے تھے۔ کیونکہ یہ بات ان کے زندگی بھر کے تجربہ کے خلاف تھی۔ لیکن وہ آپ کی دعوت کو بھی تسلیم کرنے پر آمادہ نہ تھے۔ رسول اللہ کی دعوت میں تین باتیں تھیں جو انھیں ناگوار تھیں یا جن پر وہ ایمان نہیں رکھتے تھے۔ (1) وہ اس زمین و آسمان یا کائنات کے فنا ہونے کا یقین نہیں رکھتے تھے۔ بالفاظ دیگر وہ قیامت کے قائم ہونے کے قائل نہیں تھے۔ (2) وہ بعث بعدالموت کے بھی قائل نہیں تھے۔ یعنی جب انسان مر کر مٹی میں مل کر مٹی بنا جائے تو اس کا دوبارہ جی اٹھنا ان کے خیال کے مطابق ناممکنات سے تھا۔ اور (3) اسی کے نتیجہ میں وہ آخرت کے ثواب و عذاب کے بھی قائل تھے۔ لہذا وہ اپنی دنیوی زندگی میں احکام الٰہی کا پابند بن جانے کے بجائے آزاد رہنا ہی پسند کرتے تھے۔ جب بھی ان لوگوں نے مذاق اڑایا تو انھیں باتوں کا اور ان میں سے بھی پہلی دو باتیں تو وہ اکثر مختلف پرایوں میں دہراتے رہتے تھے۔ اس آیت میں ان کے سوال کا انداز تمسخر کا ہے۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ اس نبی کی یہ دعوت دو ہاتھوں سے خالی نہیں ہوسکتی۔ یا تو وہ اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے یا پھر اس کی عقل جواب دے گئی ہے۔ 11 وہ خود بھی بھی اپنے ان دونوں احتمالات کو درست نہیں سمجھتے تھے اور سرداران قریش اپنی نجی گفتگو میں خود بھی ان احتمالات پر مطمن نہ ہوسکے۔ نہ ایک دوسرے کو مطمئن کرسکے تھے۔ آپ کے صادق ہونے کا تقاضا یہ تھا کہ جو شخص لوگوں سے جھوٹ نہیں بولتا وہ اللہ کے بارے میں کیسے جھوٹ بول سکتا ہے ؟ اور دیوانگی کی بات تو اور بھی زیادہ مہم تھی۔ یہی سرداران قریش جب ولید بن مغیرہ کے ہاں اکٹھے ہوئے تو زیربحث یہی موضوع تھا کہ ہم اس نبی کی دعوت کو کیسے روک سکتے ہیں اور لوگوں کو اس کے متعلق کیا کہہ سکتے ہیں تو ایک سردار نے یہ کہا تھا کہ ہم دوسروں سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ دیوانہ ہے۔ تو ولید بن مغیرہ رئیس قریش نے کہا تھا : اللہ کی قسم ! وہ دیوانہ بھی نہیں، ہم نے دیوانوں کو دیکھا ہے اس کے اندر دیوانوں جیسی دم گھٹنے کی کیفیت ہے، نہ الٹی سیدھی حرکتیں ہیں اور نہ ان جیسی بہکی بہکی باتیں ہیں ولید بن مغیرہ کا یہ جواب بھی صرف سلبی انداز سے دیوانگی کی تردید تھا کیونکہ وہ بھی آپ کا دشمن تھی۔ جبکہ حقیقت یہ تھی کہ آپ کے دوسرے لوگوں سے معاملات اور آپ کی بلندی کردار اور معقول دلائل گفتگو سے کوئی ناواقف آدمی ایک آپ کے عظیم انسان ہونے کا با اسانی اندازہ لگا سکتا تھا۔ دیوانگی کا تصور تو بڑی دور کی بات تھی۔ اللہ تعالیٰ نے کافروں کی تینوں باتوں میں سے بالخصوص تیسری بات کو انکار کی اصل وجہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ روز آخرت کا انکار اس بنا پر نہیں کرتے کہ انھیں آخرت کے دلائل کی سمجھ نہیں آرہی یا نہیں آسکتی۔ بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہ آخرت کی باز پرس سے ڈرتے ہیں اور یہ سمجھ رہے ہیں کہ بس کبوتر کے آنکھیں بند کرنے سے بلی از خود غائب ہوجائے گی۔ انہوں نے خود ہی اپنی آنکھیں حقائق کو دیکھتے اور ان کا مردانہ وار مقابلہ کرنے سے بند کر رکھی ہیں۔ اور اسی طریق کار سے مسلسل آگے بڑھتے جارہے ہیں۔
Ayah 34:9

اَفَلَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَیْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ۠ Open ayah 34:9 in the Quran reader

کیا انہوں نے آسمان اور زمین کو نہیں دیکھا جو انھیں آگے سے اور پیچھے سے (گھیرے ہوئے ہیں) اگر ہم چاہیں تو انھیں زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے کچھ ٹکڑے گرا دیں 12 ۔ بلاشبہ اس بات میں ہر رجوع کرنے والے بندے کے لئے ایک نشانی 13 ہے۔

12 وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں اس زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا اور اس کائنات کا انتظام چلانے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ اور یہی زمین و آسمان انھیں ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔ اس کی حدود سے وہ باہر نہیں جاسکتے۔ زمین کا مالک اللہ ہے وہ زمین کو حکم دے کر انھیں پکڑلے یا اندر جذب کرلے تو زمین کی مجال نہیں کہ وہ اللہ کے حکم سے سرتابی کرے۔ آسمان سے بھی وہ ان پر عذاب نازل کرسکتا ہے اور زمین کے نیچے سے بھی۔ پھر آخر یہ کس بوتے پر اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت پر تلے بیٹھے ہیں۔ 13 نظام کائنات میں صرف ایک نشانی نہیں بیشمار نشانیاں ہیں۔ مگر یہ نشانیاں ہر ایک کے لئے نہیں بلکہ صرف اس شخص کے لئے جو عقل و انصاف اور سوچ سمجھ سے کام لے کر اس کائنات کے خالق کی طرف جھکتے اور رجوع ہوتے ہیں۔ وہ اس مربوط اور منظم نظام کائنات کو دیکھ کر فوراً اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ یہ کسی حکیم وخبیر ہستی کا قائم کردہ نظام ہے۔ اور چونکہ اللہ نے کوئی بھی چیز بےمقصد پیدا نہیں کی لہذا یہ نظام ضرور ایک دن کسی اعلیٰ و اکمل نتیجہ پر پہنچنے والا ہے۔ یہ انداز فکر انھیں اپنے خالق ومالک کی طرف سے مزید جھکا دیتا ہے۔ آگے اللہ اپنے ایک رجوع کرنے والے بندے حضرت داود اور ان پر اپنے انعامات کا ذکر فرما رہے ہیں۔
Ayah 34:10

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا١ؕ یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَهٗ وَ الطَّیْرَ١ۚ وَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَۙ Open ayah 34:10 in the Quran reader

اور ہم نے داؤد کو اپنے ہاں سے بزرگی 14 عطا کی تھی (اور پہاڑوں کو حکم دیا تھا کہ) اے پہاڑو ! داؤد 15 کے ساتھ (تسبیح میں) ہم آہنگ ہوجاؤ اور پرندوں کو بھی (یہ حکم دیا تھا) اور ہم نے اس کے لئے لوہے 16 کو نرم کردیا تھا۔

14 وہ بزرگی یہ تھی کہ آپ بچپن میں محض ایک گڈریے تھے۔ اور بکریاں چرایا کرتے تھے۔ پھر اللہ نے آپ کو حکومت بھی عطا فرمائی اور نبوت بھی۔ اور یہ تفصیل پہلے سورة بقرہ کی آیات نمبر 251 کے تحت گزر چکی ہے۔ 15 آپ کی خوش الحانی، پہاڑوں اور پرندوں کی آپ سے بہم خوائی کے لئے (دیکھو سورة انبیاء کی آیت نمبر 79 کا حاشیہ نمبر 67) 16 آپ کے ہاتھ میں لوہے کا نرم ہونا اور آپ کے لوہے کی زرہیں بنانے کے لئے (دیکھئے سورة انبیاء کی آیت نمبر 80 کا حاشیہ نمبر 68)
Ayah 34:11

اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرْ فِی السَّرْدِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 34:11 in the Quran reader

(اور اسے کہا) کہ کھلی ڈھلی زرہیں بناؤ اور اندازہ کے مطابق اس کی کڑیاں جوڑو اور (اے آل داؤد) نیک عمل کرو 17 ۔ جو کچھ تم کر رہے ہو بلا شبہ میں اسے خوب دیکھ رہا ہوں۔

17 آپ کے نیک اعمال میں سے ایک قابل ذکر نیک عمل یہ بھی تھا کہ آپ بادشاہ اور نبی ہونے کے باوجود اپنے ذاتی اخراجات کا بار بھی بیت المال پر ڈالنا گوارا نہ کرتے تھے۔ بلکہ زرہیں بنا کر ان کی آمدنی سے بسر اوقات کرتے تھے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ مقدام بن معدیکرب کہتے ہیں آپ نے فرمایا : کسی آدمی کے لئے اس سے بہتر کوئی کھانا نہیں جسے وہ اپنے ہاتھ سے محنت کرکے کھائے اور اللہ کے نبی داود اپنے ہاتھ سے (زرہ بنا کر) کھایا کرتے تھے (بخاری۔ کتاب البیوع۔ باب نکسب الرجل و عملہ۔۔ )
Ayah 34:12

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَّ رَوَاحُهَا شَهْرٌ١ۚ وَ اَسَلْنَا لَهٗ عَیْنَ الْقِطْرِ١ؕ وَ مِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْهِ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 34:12 in the Quran reader

اور سلیمان کے لئے ہم نے ہوا کو مسخر کردیا تھا۔ پہلے پہر 18 اس کا چلنا ایک ماہ کی مسافت ہوتا تھا اور پچھلے پہر چلنا بھی ایک ماہ کی مسافت ہوتا تھا۔ نیز ہم نے ان کے لئے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ 19 بہا دیا تھا۔ اور بعض جن 20 بھی (اس کے مسخر کردیئے) جو اپنے پروردگار کے حکم سے ان کے سامنے کام کرتے تھے۔ اور ان میں سے اگر کوئی ہمارے حکم سے سرتابی کرتا تو ہم اسے بھڑکتی آگ کے عذاب کا مزا چکھاتے تھے۔

18 تشریح کے لئے دیکھئے ( سورة انبیاء کی آیت نمبر 81 کا حاشیہ نمبر 69) 19 اس کی دو توجیہات بیان کی جاتی ہیں۔ ایک یہ کہ آپ کے عہد حکومت میں یمن میں تانبے کا ایک پگھلا ہوا چشمہ نکل آیا تھا اور دوسری یہ کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کے والد داود کو لوہا پگھلانے کا فن عطا فرمایا تھا۔ اور آپ سے اس سے زرہیں بنایا کرتے تھے، اسی طرح حضرت سلیمان کو تانبا پگھلانے کا فن عطا فرمایا تھا۔ آپ وسیع پیمانے پر تانبا پگھلاتے۔ پھر اس کو سانچوں میں ڈال کر خبات بڑے بڑے برتن، دیگیں اور لگن وغیرہ تیار کرتے تھے۔ جن میں ایک لشکر کا کھانا پکتا اور کھلایا جاتا، یہ تو سرکاری ضروریات تھیں۔ علاوہ ازیں آپ تانبے کی اشیاء عام لوگوں کی ضروریات کے لئے بھی بناتے تھے۔ 20 اس مقام پر جن کا لفظ آیا ہے۔ جبکہ سورة انبیاء کی آیت نمبر 82 میں انہی معنوں میں شیاطین کا لفظ آیا ہے۔ بات ایک ہی ہے جن کا لفظ اسم جنس ہے۔ جبکہ شیاطین کا اطلاق صرف سرکش اور متکبر قسم کے جنوں پر ہوتا ہے۔ (اور شیاطین انسانوں میں سے بھی ہوسکتے ہیں) یہ جن معمولی قلیوں، خدمتگاروں اور مزدوروں کی طرح آپ کے کام کرتے اور آپ کے حکم پر چلتے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے جنوں کو حضرت سلیمان کا تابع بنا رکھا تھا اور وہ آپ کی اطاعت پر مجبور تھے۔ اگر وہ ذرا بھی سرکش کرتے تو آگ میں پھونک دیئے جاتے تھے۔ کہتے ہیں کہ ان جنوں پر اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ مقرر کردیا تھا۔ جس کے ہاتھ میں آگ کا کوڑا ہوتا۔ جو کوئی جن حضرت سلیمان کی نافرمانی کرتا یہ فرشتہ اس کو کوڑا مار کر جلا دیتا تھا۔
Ayah 34:13

یَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا یَشَآءُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَ تَمَاثِیْلَ وَ جِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَ قُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ١ؕ اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا١ؕ وَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ Open ayah 34:13 in the Quran reader

جو کچھ سلیمان چاہتے تھے وہی کچھ وہ جن ان کے لئے بناتے تھے۔ مثلاً قلعے، مجسمے اور حوض جتنے بڑے لگن اور دیگیں ایک جگہ جمی رہنے 21 والی۔ اے آل داؤد ! شکر کے طور پر عمل کرو 22 ۔ اور میرے بندوں میں سے کم ہی شکرگزار ہوتے ہیں

21 یہ جنات حضرت سلیمان کے آرڈر کے مطابق بڑے بڑے محل، مساجد، قلعے، مختلف مسجدوں کے ماڈل یا سینیریوں کے ماڈل، بڑے بڑے لگن اور اتنی بڑی دیگیں بناتے تھے جو بڑی بوجھل اور ناقابل حمل و نقل ہونے کی وجہ کسی خاص مقام پر نصب کردی جاتی تھیں اور ان میں حضرت سلیمان کے لشکروں کے لئے کھانا تیار کیا جاتا تھا۔ بعض لوگوں نے جنوں یا شیاطین سے دیہاتی مضبوط قسم کے انسان مراد لئے ہیں یہ توجیہہ غلط اور قرآن کے سیاق وسباق کے خلاف ہے۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے سورة انبیاء کی آیت 82 کا حاشیہ) 22 یعنی ایسے عمل کرو جو شکرگزار بندے کیا کرتے ہیں۔ شکر گزار بندے ایک تو وہ ہر وقت اللہ کا شکر ادا کرتے رہتے ہیں اور اس کی نعمتوں کا ہر ایک سامنے برملا اعتراف کرتے ہیں۔ پھر وہ جو کام بھی کرتے ہیں اللہ کی مرضی کے مطابق کرتے ہیں اور اس کی رضا کے لئے کرتے ہیں۔ اور شکر گزار بندے تھوڑے ہی ہوتے ہیں اور جو چیز تھوڑی ہو اس کی قدرو منزلت بڑھ جاتی ہے۔ یعنی اگر تم شکرگزار بن جاؤ گے تو میرے ہاں تمہاری قدرومنزل اور بڑھ جائے گی۔ کہتے ہیں کہ اس حکم کے بعد داود نے دن اور رات کے پورے اوقات اپنے گھر والوں پر تقسیم کر رکھے تھے اور کوئی وقت ایسا نہ ہوتا تھا جبکہ آپ کے گھر کا کوئی نہ کوئی اللہ کی عبادت میں مصروف نہ رہتا ہو۔
Ayah 34:14

فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلٰى مَوْتِهٖۤ اِلَّا دَآبَّةُ الْاَرْضِ تَاْكُلُ مِنْسَاَتَهٗ١ۚ فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا فِی الْعَذَابِ الْمُهِیْنِؕ Open ayah 34:14 in the Quran reader

پھر جب ہم نے سلیمان پر موت کا فیصلہ کردیا تو جنوں کو گھن کے کیڑے کے سوا کسی چیز نے سلیمان کی موت کا پتہ نہ دیا جو ان کے عصا کو کھائے جارہا تھا۔ پھر جب وہ گرپڑا تو جنوں 23 پر واضح ہوگیا کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو ایسے ذلت کے عذاب میں نہ پڑے رہتے۔

23 جس وقت حضرت سلیمان کی وفات کا وقت قریب آگیا اور آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اشارہ ہوگیا کہ اب دنیا سے رخصت ہونے والے ہیں۔ اس وقت آپ نے جنوں کو بیت المقدس کی تعمیر پر لگایا ہوا تھا جسے ہیکل سلیمانی کہتے ہیں۔ اس وقت تعمیر کا ابھی خاصا کام باقی تھا۔ آپ نے باقی کام کا پورا نقشہ جنوں کے سربراہ کے حوالہ کردیا اور پوری طرح مکمل کام سمجھا دیا تھا۔ پھر اپنے عبادت خانے میں آکر عبادت میں کھڑے ہوگئے۔ اور اپنی لاٹھی سے ٹیک لگا لی۔ آپ کا یہ عبادت خانہ ایسا تھا جس میں شیشے کی کھڑکیاں تھیں اور باہر سے دیکھنے والا حضرت سلیمان کو عبادت میں مصروف دیکھ سکتا تھا۔ آپ عبادت میں کھڑے ہوئے تو اسی حالت میں فرشتے نے روح قبض کرلی اور آپ لاٹھی کے سہارے کھڑے کے کھڑے ہی رہے۔ جن اور بعض دوسرے لوگ آپ کو کبھی کبھار عبادت میں مصروف دیکھ جاتے تھے۔ اسی حالت میں تقریباً چار ماہ گزر گئے۔ چار ماہ بعد ادھر بیت المقدس کی تعمیر مکمل ہوئی اور ادھر وہ لاٹھی ٹوٹ گئی جس کے سہارے آپ کی میت کھڑی تھی۔ لاٹھی کو اندر ہی اندر دیمک نے چاٹ کر ختم کردیا تھا۔ لاٹھی ٹوٹی تو آپ کی میت گر پڑی۔ تب لوگوں کو اور تعمیر پر متعین جنوں کو معلوم ہوا کہ حضرت سلیمان تو بہت عرصہ پہلے کے فوت ہوچکے ہیں۔ اس وقت جنوں کو سخت افسوس ہوا کہ وہ اتنا عرصہ مفت میں محنت مشقت جھیلتے رہے۔ اس وقت جنوں کی یہ غلط فہمی دور ہوگئی کہ وہ غیب جانتے ہیں اور ان لوگوں کی بھی جو یہ سمجھتے تھے کہ جن غیب جانتے ہیں اور اپنے اسی اعتقاد کی بنا پر جنوں کی تسخیر کے لئے طرح طرح چلے کاٹتے اور پاپڑ بیلتے تھے۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ جس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہے اس کے لئے کیسے کیسے اسباب مہیا کردیتا ہے۔
Ayah 34:15

لَقَدْ كَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْكَنِهِمْ اٰیَةٌ١ۚ جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّ شِمَالٍ١ؕ۬ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ بَلْدَةٌ طَیِّبَةٌ وَّ رَبٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 34:15 in the Quran reader

قوم سبا کے لئے ان کے مسکن میں ہی ایک نشانی 24 موجود تھی۔ اس مسکن کے دائیں، بائیں دو باغ 25 تھے۔ (ہم نے انھیں کہا تھا کہ) اپنے پروردگار کا دیا ہوا رزق کھاؤ 26 اور اس کا شکر ادا کرو۔ پاکیزہ اور ستھرا شہر ہے اور معاف فرمانے والا پروردگار

24 یہاں نشانی سے مراد تاریخی شہادت ہے اور وہ یہ ہے کہ جب تک کوئی قوم اللہ کی فرمانبردار اور شکر گزار بن کر رہتی ہے وہ پھلتی پھولتی اور ترقی کی منازل طے کرتی جاتی ہے اور جب وہ اللہ کی نافرمانی اور ناشکری کرنے لگے تو بتدریج زوال آنا شروع ہوجاتا ہے اور اگر وہ اپنا رویہ نہ بدلے تو اسے صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے یہی حال قوم سبا کا ہوا تھا۔ 25 قوم سبا کی علاقہ عرب کا جنوب مغربی علاقہ تھا۔ اور یہی علاقہ آج کل یمن کا علاقہ کہلاتا ہے۔ سبا دراصل سبا ایک شخص کا نام تھا جس کے دس بیٹے تھے۔ بعد میں یہی دس قیبلے بن گئے انہی میں سے چار بیٹے اپنے خاندان سمیت شام کی طرف منتقل ہوگئے تھے۔ اس قوم کے عروج وزوال کا زمانہ تیرے صدیوں پر محیط ہے (700 ق م تا 450 ئ) ایک زمانہ تھا جب تہذیب و تمدن کے لحاظ سے اسی قوم کا طوطی بولتا تھا اور روم اور یونان کی تہذیبیں ان کے سامنے ہیچ تھیں۔ زراعت اور تجارت کے میدان میں ان لوگوں نے خوب ترقی کی۔ ان لوگوں کا آب پاشی کا نظام نہایت عمدہ تھا۔ اس علاقہ کے دو طرف پہاڑی سلسلے تھے۔ جگہ جگہ ان لوگوں سے بارش کا پانی روکنے اور ذخیرہ رکھنے کے لئے بند بنا رکھے تھے۔ ان کا دارالخلافہ مارب تھا اور سب سے اعلیٰ اور بڑا عظیم الشان بند بھی اسی جگہ تعمیر کیا گیا تھا جو سد بارب کے نام سے معروف تھا۔ ان کے علاقہ کے دونوں طرف پہاڑوں کے دامن میں باغات کا سینکڑوں میلوں میں پھیلا ہوا سلسلہ موجود تھا اور انسان کو یوں معلوم ہوتا تھا کہ جس جگہ وہ کھڑا ہے اس کے دونوں طرف باغات ہی باغات ہیں۔ 26 بارشوں کے لحاظ سے یہ علاقہ کچھ اتنا زرخیز نہیں تھا۔ مگر ان لوگوں کے نظام آبپاشی کے عمدگی کی وجہ سے ملک کے اندر تین سو مربع میل کا علاقہ جنت نظیر بن گیا تھا۔ جس میں انواع و اقسام کے پھلوں کے درخت بھی تھے جن کی خوشبو سے یہ پوری سرزمین معطر بن گئی تھی اور کھیتی بھی خوب پیدا ہوتی تھی۔ اندرون ملک بخورات دارچینی، دارچینی اور کھجور کے نہایت بلندو بان درختوں کے جنگل تھے اور ان سے میٹھی میٹھی خوشبو تمام فضا کو خوشبودار بنا دیتی تھی۔ اور جب ہوا چلتی تو اس خوشبو سے سب لوگ لطف اندوز ہوتے تھے۔ اسی علاقہ کو اللہ تعالیٰ نے بَلَدَۃٌ طَیِّبَۃٌکے الفاظ سے تعبیر فرمایا۔ یعنی سرسبزی۔ زرخیزی فضا کا خوشبو سے ہر وقت معمور رہنا، موسم اور آب و ہوا میں اعتدال، رزق کی فراوانی اور سامان عیش و شرت کی بہتات یہ وہ نعمتیں تھیں جو اللہ تعالیٰ نے عطا کر رکھی تھیں۔ مارب کے ایک پہاڑی علاقہ میں گنجان درختوں کے درمیان حکمرانوں کے محلات واقع تھے۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی نعمتوں کی بارش کر رکھی تھی۔
Ayah 34:16

فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ وَ بَدَّلْنٰهُمْ بِجَنَّتَیْهِمْ جَنَّتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُكُلٍ خَمْطٍ وَّ اَثْلٍ وَّ شَیْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ Open ayah 34:16 in the Quran reader

مگر ان لوگوں نے سرتابی کی تو ہم نے ان پر زور کا سیلاب چھوڑ دیا۔ اور ان کے دونوں باغوں کو دو ایسے باغوں میں بدل دیا جن کے میوے بدمزہ تھے اور ان میں کچھ پیلو کے درخت تھے کچھ جھاؤ کے اور تھوڑی سی بیریاں 27 تھیں۔

27 پھر جب یہ قوم اپنی خوشحالی میں ہی مست ہو کر رہ گئی اور دنیا کے مال و دولت اور اس کی دلفریبیوں میں مستغرق ہو کر اپنے منعم حقیقی کو یکسر بھلا دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف انبیاء مبعوث فرمائے۔ کہتے ہیں وقتاً فوقتاً ان کی طرف تیرہ انبیاء مبعوث ہوئے تھے۔ لیکن ہر بدمست قوم کی طرف انہوں نے بھی یہی سمجھا کہ ان کی اس معاشی ترقی اور زرعی ترقی کا اصل سبب تو ہمارا اپنا نظام آب پاشی یا ہماری اپنی ذہانت اور محنت ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے انعامات کا کیا دخل ہے۔ تو انہوں نے انبیاء کی دعوت کو رد کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں سنبھلنے کی کافی مہلت دی لیکن انہوں نے اس سے کچھ بھی فائدہ نہ اٹھایا۔ تو آخر ان پر اللہ کی گرفت کا وقت آگیا۔ ان کا سب سے بڑا اور عالیشان بند (ڈیم) مارب میں تھا جس میں بہت سے لوہے کے دروازے لگے ہوئے تھے۔ جنہیں بوقت ضرورت اٹھا لیا جاتا اور پانی چھوڑ دیا جاتا ان دروازوں کا دوسرا بڑا فائدہ یہ تھا کہ وہ جس طرح چاہتے پانی کا رخ موڑ لیتے اور نہروں کے ذریعہ قابل کاشت زمین کو سیراب کرلیتے تھے۔ اسی بند میں نیچے رخنے پڑنے شروع ہوگئے اوپر سے اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش برسا دی اور پانی اس قدر وافر مقدار میں آجمع ہوا جس نے اس بند کو توڑ پھوڑ دیا۔ اس کے پانی میں اتنی فراوانی اور بہاؤ میں اتنی شدت تھی جس سے باقی بند بھی از خود ٹوٹتے چلے گئے اور یہ سارا قابل کاشت علاقہ زیر آب آگیا۔ جس سے فصلیں اور کھیتیاں سب کچھ گل سڑ کر تباہ و برباد ہوگئیں۔ جب کچھ مدت بعد زمین خشک ہوئی تو پورے آب پاشی کے نظام کی تباہی کے باعث اس سرزمین میں کوئی چیز بھی بار آور نہ ہوسکتی تھی۔ اب وہی سرزمین جو سونا اگلا کرتی تھی اس سرزمین پر جھاڑ جھنکار، خار دار پودے، تھوہر کے درخت اور اسی قبیل کی دوسری چیزیں از خود پیدا ہوگئیں۔ جنہیں اکھاڑے بغیر نئی فصل کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اور یہ خاصا محنت طلب کام تھا آجا کے اگر کوئی کھانے کی چیز وہاں اگی تو وہ چند بیریوں کے درخت تھے جن سے وہ کسی حد تک اپنا پیٹ بھرسکتے تھے۔ یہ تھا ان کی زرعی ترقی کا حشر جس پر وہ اس قدر پھولے ہوئے تھے۔
Ayah 34:17

ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِمَا كَفَرُوْا١ؕ وَ هَلْ نُجٰزِیْۤ اِلَّا الْكَفُوْرَ Open ayah 34:17 in the Quran reader

ہم نے یہ سزا انھیں ان کی ناشکری کی وجہ سے دی تھی اور ہم ناشکروں کو ایسا ہی بدلہ 28 دیا کرتے ہیں

28 یعنی یہ سزا کچھ قوم سبا سے ہی مختص نہ تھی بلکہ جو قوم بھی اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کے بعد اپنے محسن حقیقی کو بھول جاتی ہے اور اس کا شکر ادا کرنے کے بجائے سرتابی کی راہ اختیار کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ وہ اس قوم کو ایسے ہی انجام سے دوچار کردیتا ہے۔
Ayah 34:18

وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ الْقُرَى الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّ قَدَّرْنَا فِیْهَا السَّیْرَ١ؕ سِیْرُوْا فِیْهَا لَیَالِیَ وَ اَیَّامًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 34:18 in the Quran reader

ہم نے ان کی بستی اور اس بستی کے درمیان جس میں ہم نے برکت رکھی تھی، کھلے راستہ پر کئی بستیاں آباد کردی تھیں اور ان میں چلنے کی منزلیں مقرر کردی تھیں کہ ان میں رات دن بلاخوف و خطر امن سے 29 سفر کرو۔

29 ان کی ترقی اور خوشحالی کی دوسری وجہ ان کا تجارتی نظام تھا۔ ایسی سرزمین جسے ہم نے برکت دے رکھی ہے کے الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ ان دنوں یہ چار ماہ سفر تھا اور اس تجارتی شاہراہ کو اللہ تعالیٰ نے امام مبین کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے اسی تجارتی شاہراہ پر قریش کے تجارتی قافلے مکہ سے شام تک سفر کرتے تھے۔ یہ تجارتی شاہراہ اس لحاظ سے تھی کہ برلب سڑک اور نزدیک نزدیک آبادیاں موجود تھیں۔ جہاں مسافروں کو کھانا پانی مل سکتا تھا ایک بستی پر انسان پہنچ جائے تو اگلی بستی سامنے نظر آنے لگتی تھی (اور یہ قریً ظَاھِرَۃً کا مطلب ہے) اس شاہراہ کی بڑی خوبی یہ تھی کہ کوئی شخص جس وقت بھی آرام کرنا چاہتا تو وہ کرسکتا تھا اور آرام کرنے کے لئے اگلی منزل اس کے قریب ہی ہوتی تھی۔ پھر چونکہ اس شاہراہ پر بکثرت آمدروفت رہتی تھی اس لئے لوٹ مار کا بھی اس پر اتنا خطرہ نہیں ہوتا تھا۔ جتنا کہ عرب کے دوسرے علاقوں میں تھا۔ اس لحاظ سے ان کا یہ تجارتی سفر دوسرے علاقوں کی نسبت بہت آسان بھی تھا اور پرامن بھی۔
Ayah 34:19

فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا وَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ وَ مَزَّقْنٰهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 34:19 in the Quran reader

مگر وہ کہنے لگے : اے ہمارے پروردگار ! ہمارے سفر کی مسافتیں دور دور 30 کردے اور (یہ کہہ کر) انہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ چناچہ ہم نے انھیں افسانے 31 بنادیا اور تتر بتر کر ڈالا۔ اس میں یقینا ہر صابر و شاکر 32 کے لئے کئی نشانیاں ہیں۔

30 جب انسان مال و دولت کے نشہ میں مست ہوجاتا ہے اور اسے ہر طرف سے فرسودگی اور آسانیاں ہی میسر ہونے لگتی ہیں تو بعض دفعہ وہ اسی مستی میں بعض انہونی باتیں بھی بکنے لگتا ہے کہ لوگ جو سفر سے متعلق ایسی اور ایسی مشکلات بیان کرتے ہیں کہ اتنے دن کچھ کھانے کو ملا نہ پینے کو، یا ہم فلاں مقام پر جاکر راستہ بھول گئے تو ہمیں کوئی آرم زاد نظر نہ آتا تھا جس سے راستہ ہی پوچھ سکیں وغیرہ وعیرہ چناچہ وہ آرزو کرنے لگے کہ ہمارا بھی کوئی سفر تو ایسا بھی ہونا چاہئے ممکن ہے ان لوگوں نے یہ بات زبان قال سے نہ کہی ہو زبان حال سے کہی ہو۔ یعنی دل میں ایسے خیالات آنے لگے ہوں۔ 31 جب ان لوگوں کی زرعی معیشت تباہ ہوگئی تو یہی چیز ان کی تجارتی ترقی کی تباہی کا باعث بن گئی۔ جب اپنے مال کی پیداوار ہیختم ہوجائے تو پھر تجارت کیسی ؟ اگر بیرون ملک کی چیزیں ہی خریدی جائیں اور بیرون ملک ہی بیچی جائیں تو ان سے آخر کتنا منافع ہوسکتا ہے۔ اور اس کا دوسرا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ کثیر آبادیاں جو اس شاہراہ کے کنارے آباد تھیں۔ وہاں سے اٹھ کر دوسرے مقامات کی طرف چلی گئیں کیونکہ ان کی معیشت کا انحصار بھی زیادہ تر انہی تجارتی قافلوں کی اشیائے خوردنی کی خریدو فروخت پر تھا۔ اس طرح سبا کی تمام نو آبادیاں تباہ و برباد ہو کر رہ گئیں۔ 32 صَبَّار اور شَکُوْرٌ دونوں مبالغے کے صیغے ہیں اور یہ ایک مومن کی پوری طرز زندگی پر محیط ہیں۔ اور یہ دونوں لازم و ملزوم ہوتی ہیں۔ مومن کی شامن یہ ہوتی ہے کہ جب اسے اللہ کی طرف سے نعمتیں عطا ہوتی ہیں تو وہ شکر بجا لاتا ہے اور زندگی بھر اس کا یہی معمول ہوتا ہے اور جب اسے کوئی مصیبت پیش آتی ہے وہ اسے صبر و استقامت سے برداشت کرتا ہے اور آئندہ کے لئے اللہ کی رحمت کا امیدوار رہتا ہے۔ اس آیت کا یہی مفہوم ہے اور ہر مومن خوب سمجھ سکتا ہے کہ قوم سبا کے عروج کے اصل اسباب کیا تھے اور ان کی بربادی اور ہلاکت کا اصل سبب کیا چیز تھی۔
Ayah 34:20

وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْهِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:20 in the Quran reader

ان لوگوں کے متعلق ابلیس نے اپنا گمان درست پایا 33 ۔ چناچہ مومنوں کے گروہ کے سوا سب نے اسی کی پیروی کی۔

33 جب اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کرکے فرشتوں کو سجدہ کا حکم دیا تو ابلیس نے سجدہ سے انکار کردیا تھا اور جب آدم و ابلیس کی آپس میں ٹھن گئی تو ابلیس آدم کو چکمہ دینے پر اور اللہ کی نافرمانی پر اکسانے میں کامیابی ہوگیا تو اس وقت ہی اس نے یہ خیال ظاہر کردیا تھا اور اللہ تعالیٰ کو برملا کہہ دیا تھا کہ میں اولاد آدم کے اکثر حصہ کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہوجاؤں گا۔ تھوڑے ہی تیرے ایسے بندے ہوں گے جو تیرے شکرگزار بن کر رہیں گے۔ قوم سبا کے حالات سے بھی یہی نتیجہ سامنے آتا ہے اور دوسرا اقوام کے حالات سے بھی کہ ابلیس فی الواقعہ ایسا گمان کرنے میں سچا تھا۔
Ayah 34:21

وَ مَا كَانَ لَهٗ عَلَیْهِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِیْ شَكٍّ١ؕ وَ رَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ۠ Open ayah 34:21 in the Quran reader

حالانکہ ابلیس کا ان پر کچھ زور نہیں 34 تھا (اور یہ سب کچھ اس لئے ہوا) تاکہ ہم معلوم کرلیں کہ کون آخرت پر ایمان لاتا ہے اور کون اس بارے میں شک میں پڑا رہتا ہے اور آپ کا پروردگار ہر چیز 35 پر نگران ہے۔

34 ابلیس کے پاس کوئی ایسی طاقت نہیں کہ وہ زبردستی لوگوں کو اللہ کی راہ سے اپنی راہ پر ڈال دے۔ وہ صرف یہی اختیار رکھتا ہے کہ انسان کے دل میں وسوسہ ڈال سکے۔ اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں کرسکتا اور شیطان کے انسان کو گمراہ کرنے کے سب سے زیادہ موثر تین طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ انسان کو شرک کی نئی سے نئی راہیں بڑے خوبصورت انداز میں پیش کردیتا ہے۔ اور دوسرے اسے عقیدہ آخرت کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا کردیتا ہے۔ یا عقیدہ آخرت میں ایسے جزوی عقائد شامل کردیتا ہے کہ عقیدہ آخرت کے اصل مقصد ہی فوت ہوجائے اور عقیدہ آخرت کا صحیح مفہوم ہی وہ چیز ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی سیدھی راہ پر قائم رکھ سکتا ہے اور اس کا تیسرا وار اس کے لباس پر ہوتا ہے اور وہ لوگوں کو عریانی، بےحیائی اور فحاشی کی راہیں خوبصورت انداز میں سجھاتا رہتا ہے۔ 35 یعنی اللہ یہ بات بھی خوب جانتا ہے کہ اس نے ابلیس کو کس حد تک لوگوں کو گمراہ کرنے کا اختیار دے رکھا ہے اور وہ یہ خوب جانتا ہے کہ ابلیس صرف ان لوگوں کو ہی گمراہ کرسکتا ہے جو پہلے سے شیطان کے اشارے کے منتظر بیٹھے ہوتے ہیں۔ اور جو لوگ اللہ اور روز آخرت پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔ وہ اس کے چکمے میں نہیں آتے اور کبھی آبھی جائیں تو انھیں جلد ہی اس بات کا احساس ہوجاتا ہے اور فوراً پھر اللہ کی طرف پلٹ آتے ہیں۔
Ayah 34:22

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۚ لَا یَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا لَهُمْ فِیْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِیْرٍ Open ayah 34:22 in the Quran reader

(اے نبی ! ) آپ ان سے کہئے کہ : جن کو تم اللہ کے سوا (الٰہ) سمجھ رہے ہو انھیں پکار کر دیکھ لو۔ وہ تو آسمانوں اور زمین کے موجودات میں ذرہ بھر بھی اختیار نہیں رکھتے، نہ ہی ان موجودات میں ان کی کچھ شرکت ہے اور نہ ہی ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے

36 یعنی ان کفار مکہ سے کہئے کہ میرا پروردگار وہ ہے جو کائنات کی ہر چیز کا خالق ہے جو اس کا شکر ادا کرتا ہے اسے وہ نعمتوں سے نوازتا ہے۔ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان اللہ کے شاکر بندے تھے تو اللہ نے انھیں بیشمار نعمتوں سے نوازا تھا۔ اور قوم سبا نے اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے انھیں صفحہ ہستی سے مٹا دیا تھا۔ اب تم بتلاؤ کہ جن معبودوں کو تم پکارتے ہو ان میں سے کوئی ایسا کام کرسکتا ہے ؟ اگر تمہیں کچھ شک ہے تو انھیں پکار کے دیکھ لو کہ کیا وہ آڑے وقت کسی کے کام آسکتے ہیں ؟ اس بات کو اس پہلو سے بھی سمجھو کہ کائنات میں کسی بھی چیز پر ان کا کچھ اختیار ہے ؟ نہ انہوں نے کسی چیز کو بنایا ہے، نہ ہی کسی چیز کی تخلیق میں ان کی شرکت ہے۔ نہ ہی ان کا ظاہری اور باطنی اسباب پر کچھ کنٹرول ہے پھر وہ تمہاری بگڑی کو سنوار کیسے سکتے ہیں اور فائدہ کیا پہنچا سکتے ہیں ؟ فائدہ یا نقصان تو وہی ہستی پہنچا سکتی ہے جس کے پاس کچھ ایسے اختیارات بھی ہوں۔ اور جو چیز خود بےاختیار اور مجبور محض ہے اس سے نفع یا نقصان کی کیسے توقع کی جاسکتی ہے ؟
Ayah 34:23

وَ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَا ذَا١ۙ قَالَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوا الْحَقَّ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 34:23 in the Quran reader

اس کے ہاں صرف اس کی سفارش فائدہ دے سکتی ہے جس کے لئے وہ خود اجازت دے 37 ۔ حتیٰ کہ جب لوگوں کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہوگی تو وہ پوچھیں گے کہ تمہارے 38 پروردگار نے کیا جواب دیا ؟ وہ کہیں گے کہ ٹھیک جواب ملا ہے۔ اور وہ عالی شان اور سب سے بڑا ہے۔

37 اکثر مشرکوں کا اپنے معبودوں کے متلعق یہ عقیدہ بھی پایا جاتا ہے کہ وہ بڑے خدا یعنی اللہ کے ہاں ان کی سفارش کرتے ہیں اگرچہ کام بنانے والا اللہ ہی ہوتا ہے۔ ہمارے یہ معبود یا بزرگ اللہ کے ہاں ہماری سفارش کرکے ہمارے کام اللہ سے کروانے کا سبب ہوتے ہیں لہذا اللہ تعالیٰ نے سفارش کے متعلق بھی اپنا ضابطہ بیان فرما دیا۔ اور یہ ضابطہ پہلے قرآن میں متعدد بار گزر چکا ہے۔ مختصراً یہ کہ (1) اللہ کے ہاں سفارش وہی شخص کرسکے گا، جس کو اللہ کی طرف سے اجازت ملے گی۔ یہ کیا معلوم کہ جسے تم نے سفارشی سمجھ رکھا ہے۔ اسے اجازت بھی ملتی ہے یا نہیں، (2) اس شخص کے حق میں سفارش کی جاسکے گی، جس کے متعلق اللہ چاہے اور تمہیں یہ کیسے معلوم ہوسکتا ہے کہ تمہارے حق میں اللہ کی طرف سے سفارش کی اجازت کسی کو ملتی ہے یا نہیں ؟ (3) اور صرف اس گناہ کی مغفرت کی سفارش کی جاسکتی ہے جس کے متعلق اللہ چاہے۔ یہ قید سفارش کے تصور کو اور بھی محدود بنا دیتی ہے۔ پھر تم کس خیال میں ان معبودوں یا بزرگوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہو۔ بروقت اپنی فکر خود کرلو اور کسی کی سفارش پر تکیہ مت رکھو۔ 38 تم اللہ کے ہاں سفارش کی بات کرتے ہو جس کی جلالت اور عظمت شان کا یہ حال ہے کہ جب اس کی طرف سے کوئی حکم نازل ہوتا ہے تو اس کے پاس رہنے والے مقرب فرشتے تھر تھر کانپنے لگتے ہیں اور گبھرا جاتے ہیں۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے : حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے لئے از راہ عاجزی اپنے پر مارتے ہیں اور ایسی آواز آتی ہے جیسے کسی زنجیر کو صاف پتھر پر کھینچنے سے آتی ہے۔ پھر جب انھیں ہوش آتا ہے تو ایک دوسرے سے پوچھتا ہے تمہارے پروردگار نے کیا کہا۔ دوسرا کہتا ہے کہ جو کہا درست کہا اور وہ بزرگ و برتر ہے آپ نے فرمایا : اور شیطان زمین اور آسمان کے درمیان ایک دوسرے کے اوپر جمع ہوجاتے ہیں (تاکہ آسمانی خبریں چرا سکیں) (ترمذی۔ کتاب التفسیر) ایسی جاہ و جلال والے اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی کو یہ جرات ہوسکتی ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش کرسکے۔ اور تم لوگ کس قسم کی خوش فہمیوں میں مبتلا ہو محدثین اس حدیث کو اس آیت کی تفسیر میں اس لئے لائے ہیں کہ اہل عرب میں سے ایک گروہ فرشتوں کو کارگاہ عالم میں متصرف سمجھ کر ان کی پوجا کرتا تھا اور جو لوگ ان میں سے آخرت کے کسی حد تک قائل تھے وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر قیامت کو باز پرس ہوئی بھی تو یہ فرشتے اللہ کے ہاں ہماری سفارش کرکے ہمیں چھڑا لیں گے۔ اور بعض مفسرین نے اس آیت کو ان مشائخ اور پیروں سے متعلق کیا ہے جو اپنے مریدوں کو شفاعت کرکے چھڑا لینے کے وعدے کرتے اور کسی نہ کسی پیر کے دامن سے وابستہ رہنے کی تلقین کرتے رہتے ہیں۔ یعنی کیا شافع اور کیا مشفوع دونوں قیامت کے دن کی گھبراہٹ سے سخت گھبرائے ہوئے ہوں گے اور دونوں اس انتظار میں ہوں گے کہ شفاعت کرنے کی اجازت ملتی بھی ہے یا نہیں۔ پھر اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے شافع کو شفاعت کی اجازت مل جائے تو اس کی گھبراہٹ کسی حد تک دور ہوجاتی ہے جس کو مشفوع بھانپ کر اس سے پوچھتا ہے کہ کیا جواب ملا تو شافع کہتا ہے کہ معاملہ ٹھیک ہے اجازت مل گئی ہے تو اس وقت مشفوع کی جان میں جان آتی ہے۔ اس میں شافع اور مشفوع دونوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ تم نے شفاعت سے متعلق جس قسم کا تصور باندھ رکھا ہے وہ قطعاً غلط ہے۔ اللہ کی بارگاہ اتنی عالی مرتبہ اور بڑی ہے کہ وہاں اللہ کی اجازت کے بغیر نہ مقرب فرشتوں کو دم مارنے کی ہمت ہوتی ہے اور نہ کسی اور بڑی شخصیت کو۔ کسی کو یوں کہنے کی ہمت نہ ہوگی کہ وہ اللہ تعالیٰ سے یوں کہہ سکے کہ یہ تو میرے دامن کے وابستہ ہے۔ لہذا اسے بخشنا ہی پڑے گا۔ کیونکہ شافع کو تو اپنی بھی خبر نہیں کہ اس کا کیا حال ہوگا وہ بھلا دوسروں کی ذمہ داری کیسے لے سکتا ہے۔
Ayah 34:24

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّاۤ اَوْ اِیَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 34:24 in the Quran reader

آپ ان سے پوچھئے کہ آسمانوں اور زمین سے تمہیں کون رزق دیتا ہے ؟ آپ کہئے کہ اللہ (ہی رزق دیتا ہے) اور ہم میں 39 اور تم میں سے ایک فریق ہی ہدایت پر یا کھلی گمراہی میں پڑا ہوا ہے۔

39 یعنی یہ بات تو فریقین (یعنی رسول اللہ اور قریش مکہ) میں مسلم تھی کہ رزق دینے والا اللّٰہ ہی ہے اب انسانوں کے لئے لازم تو یہی ہے کہ عبادت اسی کی جانی چاہئے جو کھانے کو دیتا ہے اور دیتا رہتا ہے۔ پھر آخر دوسرے معبودوں کو جن کا رزق کی پیدا یا تقسیم میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ کسی خوش میں پوجا جائے، بنیاد تو دونوں کی ایک ہے کہ رازق اللہ ہے اور آگے اس کی دو راہیں بن گئیں۔ ایک ہم ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ گن اسی کا گانا چاہئے جو کھانے کو دیتا ہے اور ایک تم ہو کہ رزق دینے والے کو چھوڑ کر دوسروں کے گن گا رہے ہو۔ یا اللہ کی عبادت میں بلا وجہ شرک کر رہے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ ہم دونوں فریقوں میں سے ایک ہی حق پر ہوسکتا ہے اور تم خود ہی سوچ لو کہ حق پر کون ہوسکتا ہے اور گمراہی پر کون ؟
Ayah 34:25

قُلْ لَّا تُسْئَلُوْنَ عَمَّاۤ اَجْرَمْنَا وَ لَا نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:25 in the Quran reader

آپ ان سے کہئے کہ ہم اگر جرم کریں تو اس کی باز پرس تم سے نہیں ہوگی اور جو کچھ تم کر رہے 40 ہو اس کی ہم سے بازپرس نہیں ہوگی

40 اس سے اگلا سوال یہ ہے کہ عقل و فلم ہم سب کو یکساں دیا گیا ہے۔ تم اگر ایک مسلمہ کلیہ سے غلط نتیجہ اخذ کرکے اس پر اپنی زندگی کی راہ استوار کرتے ہو تو اس کے جواب دہ ہم تو نہیں ہوسکتے اور اگر بالفرض ہم غلط نتیجہ نکال کر اس پر عمل پیرا ہوگئے ہیں تو ہمارے متعلق تم سے سوال نہیں ہوگا۔ ہر ایک اپنے اپنے اعمال کا خود جواب دہ اور ذمہ دار ہے۔
Ayah 34:26

قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ هُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ Open ayah 34:26 in the Quran reader

آپ کہئے کہ اللہ ہم سب کو اکٹھا کرلے گا پھر ہمارے درمیان انصاف سے فیصلہ کر دے 41 گا۔ اور وہی فیصلے کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

41 اور اگر تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ آخرت کا اور جواب دہی کا تصور ہی غلط ہے تو یقین جانو کہ جو اللہ ہم سب کو عدم سے وجود میں لایا ہے۔ پھر بھی ہم سب کو دوبارہ مرنے کے بعد زندہ کرکے اکٹھا کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ آج تم اپنے آپ کو درست سمجھتے ہو اور ہم اپنے آپ کو درست سمجھتے ہیں۔ لیکن اس دن اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان اس طرح انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دے گا جس کی تمہیں بھی ٹھیک سمجھ آجائے گی۔ اور اس کا فیصلہ اس لحاظ سے درست ہوگا کہ وہ ہم سب کا خالق ہے۔ اور خالق کو اپنی بنائی ہوئی چیز کی جس قدر سمجھ ہوسکتی ہے دوسروں کو نہیں ہوسکتی۔ وہ تو ہمارے اور تمہارے ارادوں اور نیتوں تک سے واقف ہے۔ لہذا اس کے فیصلہ پر کسی غلط یا زیادتی کا امکان نہیں ہوسکتا۔
Ayah 34:27

قُلْ اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِهٖ شُرَكَآءَ كَلَّا١ؕ بَلْ هُوَ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 34:27 in the Quran reader

آپ ان سے کہئے : مجھے وہ ہستیاں دکھاؤ تو سہی جنہیں تم نے اللہ کا شریک بنا کر اس سے ملا دیا ہے۔ وہ ہرگز نہ بتاسکیں گے۔ بلکہ اللہ ہی سب 42 پر غالب اور حکمت والا ہے۔

42 یہ کفار مکہ سے دوسرا سوال ہے۔ پہلا سوال اللہ کی رزاقیت سے متعلق تھا۔ دوسرا اس کی خالقیت سے متعلق ہے کہ اللہ نے تو اس تمام کائنات کو اور ہمیں بھی اور تمہیں بھی پیدا کیا ہے۔ لہذا مخلوق کا یہی حق ہے کہ اپنے خالق کی عبادت کرے اور حمد و ثنا بیان کرے۔ اب یا تو یہ نشان دہی کرو کہ تمہارے ان معبودوں نے بھی اس کائنات کی فلاں یا فلاں چیز بنائی ہے اور ہمیں عدم سے وجود میں لانے والے تمہارے یہ معبود ہیں۔ آخر کچھ تو ان کا تخلیقی کارنامہ دکھلاؤ۔ اور اگر تم ان کا کوئی تخلیقی کارنامہ نہیں دکھلا سکتے تو پھر آخر تم نے کس دلیل کی بنا پر کس خوشی میں ان معبودوں کو اللہ کا شریک بنادیا ہے۔ علاوہ ازیں جب یہ واضح ہوگیا کہ ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے تو ہر چیز کا مالک اور ہر چیز پر غالب بھی ہوا جس نے حکمتوں سے لبریز یہ نظام کائنات تخلیق کیا ہے۔ لہذا تمہارے معبود مخلوق بھی ہیں، مملوک بھی ہیں اور مقہور بھی۔ پھر یہ عبادت کے لائق کیسے بن گئے ؟