Ayahs 34:28–2943 یعنی آپ صرف عرب کے لئے نہیں بلکہ ساری دنیا کے لئے اور صرف اپنے دور کے لئے نہیں بلکہ قیامت تک کے لئے اللہ کے رسول، ایمانداروں کو جنت کو بشارت دینے والے اور منکرین حق کو اخروی انجام بد سے ڈرانے والے ہیں۔ جبکہ آپ سے پہلے کے سب انبیاء کسی خاص قوم کے لئے، کسی خاص علاقہ کے لئے اور کس خاص دور کے لئے مبعوث کئے جاتے رہے ہیں۔ یہ مضمون قرآن کریم میں بھی متعدد مقامات پر وارد ہوا ہے اور احادیث صحیحہ میں بھی کثرت سے وارد ہے اس مضمون سے دو باتیں کھل کر سامنے آتی ہیں۔ ایک یہ کہ آپ سب انبیاء سے افضل و اشرف ہیں۔ اور دوسری یہ کہ آپ کے بعد تاقیامت کوئی رسول یا نبی آنے والا نہیں۔ لہذا صرف اہل عرب کو نہیں بلکہ بیرون عرب تبلیغ کی بھی ذمہ داری آپ پر عائد تھی۔
صلح حدیبیہ تک تبلیغ اسلام کا جتنا کام ہوا تھا وہ سب اندرون عرب ہی ہوا تھا۔ صلح حدیبیہ کا ایک اہم مقصد یہ بھی تھا کہ آپ ابھی تک بیرون عرب تبلیغ پر توجہ ہی نہ دے سکے تھے اور چاہتے تھے کہ چاروں طرف سے بیرونی خطرات سے کچھ سکون ملے تو ادھر توجہ کی جائے۔ صلح حدیبیہ کے بعد فوراً یہود خیبر کی سرکوبی کی گئی۔ پھر آپ نے ہمسایہ ممالک کے سربراہوں کو تبلیغ خطوط لکھنے کے بارے میں صحابہ کرام ؓ سے مشورہ کیا تو صحابہ کرام ؓ نے یہ عرض کیا کہ ملوک عجم صرف اس خط کو پڑھتے ہیں جس پر مہر لگی ہو چناچہ آپ نے چاندی کی ایک مہر بنوائی جس پر محمد رسول اللہ ﷺ کے الفاظ کندہ تھے۔ انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں گویا اب بھی اس مہر کی چمک اور نقوش دیکھ رہا ہوں (بخاری۔ کتاب الاحکام۔ باب الشھادۃ علی الخط المختوم۔۔ ) اور ایک روایت میں ہے کہ ان الفاظ کی ترتیب یہ تھی کہ سب سے اوپر اللہ کا لفظ تھا اس کے نیچے رسول کا اور اس کے نیچے محمد کا۔
اس زمانہ میں دو بڑی سلطنتیں تھیں ایک روم کی، دوسرے ایران کی۔ اس لئے پہلے ہم انہی کا ذکر کرتے ہیں۔
روم کا شہنشاہ ہرقل خود تورات اور انجیل کا عالم تھا۔ اسے خوب معلوم تھا کہ نبی آخر الزمان کے ظور کا وقت آچکا ہے۔ اور نبی آخر الزماں کی خبریں اسے پہنچ بھی چکی تھیں اور وہ دل سے جان چکا تھا کہ نبی آخر الزمان آچکا ہے جس کی بشارات تورات اور انجیل میں موجود ہیں۔ پھر اس موقع کے چودہ سال پیشتر جب شہنشاہ روم کو ایران کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی تو قرآن نے سورة روم کے دوبارہ فتح پانے کی خوشخبری دی تھی۔ جبکہ ایسی معجزانہ فتح کے دور دور تک کہیں آثار نظر نہیں آرہے تھے۔ اور یہ پیشین گوئی فتح بدر کے دن پوری ہوچکی تھی۔ اس سے بھی نبی آخرت الزمان کی صداقت کا یقین ہوچکا تھا۔ اور اس فتح سے وہ اتنا خوش ہوا تھا کہ پیدل بیت المقدس پہنچ کر اللہ تعالیٰ کا شکرانہ ادا کیا تھا۔ اس کی طرف آپ نے دحیہ کلبی کو خط دے کر بھیجادحیہ کلبی ایک خوش شکل صحابی تھے، جن کی شکل رسول اللہ سے ملتی جلتی تھی اور جبرئیل جب بھی انسانی شکل میں آپ کے پاس آتے تو رحیہ کلبی ہی کی شکل میں آتے تھے۔ آپ نے ہرقل کی طرف جو خط لکھا اس کا مضمون یہ تھا :
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔۔ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول کی طرف سے ہرقل رئیس روم کے نام، اما بعد ! میں تمہیں اسلام کے کلمہ کی طرف بلاتا ہوں اگر مسلمان ہوجاؤ تو سلامتی سے رہو گے اور اللہ تمہیں دوہرا اجر دے گا اور اگر اعراض کیا تو رعایا کا بار گناہ بھی تجھ پر ہوگا (پھر آپ نے سورة آل عمران کی یہ آیت لکھوائی۔ اے اہل کتاب ! اس بات کی طرف آؤ جو تم میں کلیساں ہے۔ کہ ہم اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور نہ ہی ہم میں سے کوئی اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا رب بنائے۔ پھر اگر وہ اعراض کریں تو اے پیغمبر ! تم ان سے کہہ دو کہ گواہ رہنا کہ ہم اللہ کے فرمانبردار ہیں۔ (بخاری۔ کتاب الوحی۔ باب کیف کان بدء الوحی)
دحیہ کلبی یہ خط لے کر حارث غسانی حاکم بصریٰ کے پاس پہنچے تاکہ وہ باضابطہ طور پر اسے شہنشاہ روم تک پہنچا دے۔ اس نے دحیہ کلبی کو شہنشاہ روم کے ہاں جانے کی اجازت دے دی وہاں جاکر حضرت دحیہ کلبی کو معلوم ہوا کہ ہرقل بیت المقدس آیا ہوا ہے۔ چناچہ انہوں نے بیت المقدس پہنچ کر یہ گرامی نامہ بادشاہ کے حوالہ کردیا۔ وہ خود تو دل سے ایمان لا چکا تھا اور چاہتا یہ تھا کہ اس کی رعایا بھی اس کے ساتھ مسلمان ہوجائے تاکہ اس کی سلطنت اسی کے پاس بحال رہ جائے۔ اس کے لئے وہ تدبیریں سوچنے لگا۔ آخر ایک تدبیر اس کے ذہن میں آوی۔ اس نے لوگوں سے پوچھا کیا ان دنوں قریش کا تجارتی قافلہ یہاں آیا ہوا ہے ؟ لوگوں نے بتلایا کہ ہاں ابو سفیان کا قافلہ آیا ہوا ہے۔ اور غزہ میں مقیم ہے۔ بادشاہ نے ابو سفیان کو اپنے ہاں بلوایا۔ اور دریں اثنا اس نے گیارہ سوالات پر مشتمل ایک ایسا سوالنامہ تیار کیا جس سے حقیقت کھل کر سامنے آجائے۔ یہ سوال بالکل ایسا ہی تھا جیسے کوئی وکیل اپنے موقف کی وضاحت کے لئے جرح کے دوران کیا کرتا ہے۔ اور اس سے اپنا مقصد یہ تھا کہ اس کے امیر و وزیر، فوجی افسر اور رعایا اسلام کی طرف مائل ہوجائیں اور اسلام لانا اس کے لئے سہل ہوجائے اب وہ سوالنامہ ابو سفیان کے جواب اور بعد میں اس پر اس کا اپنا تبصرہ صحیح بخاری سے درج کرتے ہیں۔ ابو سفیان کے ساتھ دو اور ساتھی بادشاہ کے سامنے پیش کئے گئے۔ بادشاہ نے اپنے سامنے ابو سفیان کو کھڑا کیا اور اس کے ساتھیوں کو اس کے پیچھے اور ساتھیوں سے یہ کہہ دیا کہ اگر ابو سفیان کسی سوال کے جواب میں جھوٹ بولے تو فوراً اس ٹوک دینا۔ ایک ترجمان درمیان میں ترجمانی کے فرائض سرانجام دے رہا تھا۔ ابو سفیان خود اپنے اسلام لانے کے بعد کہتے ہیں کہ اس دن ان سوالات نے میرا گھیرا اس قدر تنگ کردیا تھا کہ میں جھوٹ بولنا چاہتا تھا لیکن بول نہیں سکتا تھا۔ بادشاہ نے ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کو دربار میں حاضر ہونے پر پوچھا تم میں سے کون اس پیغمبر کا نزدیکی رشتہ دار ہے ؟ ابو سفیان نے کہا کہ میں ہوں۔ چناچہ سوال و جواب شروع ہوگئے۔ جس کے راوی بھی ابو سفیان ہی ہیں :
قیصر نے پوچھا : تم میں اس پیغمبر کا خاندان کیسا ہے ؟۔ میں نے کہا : اس کا نسب اچھا ہے۔
قیصر : تم میں سے پہلے بھی کسی نے پیغمبری کا دعویٰ کیا تھا ؟ میں نے کہا : نہیں۔
قیصر : اس پیروی امیر لوگ کر رہے ہیں یا غریب ؟ میں نے کہا : غریب لوگ۔
قیصر : اس کے پیروکار بڑھ رہے ہیں یا گھٹتے جاتے ہیں ؟ میں نے کہا : بڑھتے جاتے ہیں۔
قیصر : کوئی شخص اس پر ایمان لاکر پھر اسے برا سمجھ کر پھر بھی جاتا ہے ؟ میں نے کہا۔ نہیں
قیصر : نبوت کے دعویٰ سے پہلے تم نے اسے کبھی جھوٹ سے متمم کیا ہے ؟ میں نے کہا، نہیں
قیصر : اس نے کبھی عہد شکنی کی ہے ؟ میں نے کہا نہیں، اب ہم نے صلح کا معاہدہ کیا ہے۔ دیکھیں اب وہ کیا کرتا ہے ؟ ابو سفیان کہتے ہیں مجھے اس بات کے علاوہ کوئی اور بات شامل کرنے کی گنجائش نہ مل سکی۔
قیصر : کیا تم نے اس سے کبھی جنگ کی ؟ میں نے کہا ہاں
قیصر : پھر اس لڑائی کا نتیجہ کیا رہا ؟ میں نے کہا : لڑائی تو ڈول کی طرح ہے۔ کبھی ہمارا نقصان کبھی اس کا۔
قیصر : اچھا تجھے وہ کیا حکم دیتا ہے ؟ میں نے کہا : وہ کہتا ہے بس ایک اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ۔ اپنے باپ دادا کی باتیں چھوڑ دو ۔ وہ نماز پڑھنے، سچ بولنے، حرام کاری سے بچنے اور ناتا جوڑنے کا حکم دیتا ہے۔
یہ گیارہ سوال کرنے کے بعد ہرقل نے ابو سفیان کے جوابات پر جو اپنی طرف سے تبصرہ کیا وہ درج ذیل ہے :
میں نے تم سے اس کا خاندان پوچھا تو تم نے کہا وہ صاحب نسب ہے اور پیغمبر اپنی قوم میں صاحب نسب عالیٰ خاندان ہی بھیجے جاتے ہیں۔
میں نے تم سے پوچھا کہ کیا کسی نے اس کے خاندان سے پیغمبری کا دعویٰ کیا تو نے کہا نہیں۔ اگر کسی نے دعویٰ کیا ہوتا تو میں سمجھتا کہ یہ شخص اس کی پیروی میں دعویٰ نبوت کر رہا ہے۔
میں نے پوچھا کہ اس کے بزرگوں میں کوئی بادشاہ ہوا ہے تو تم نے کہا نہیں۔ اگر کوئی بادشاہ ہوتا تو میں سمجھتا کہ یہ اپنے باپ کی بادشاہت حاصل کرنا چاہتا ہے۔
میں نے تم سے پوچھا، اس نے کبھی جھوٹ بولا ؟ تو تم نے کہا نہیں۔ اور ایسا کبھی نہیں ہوسکا کہ جو شخص لوگوں پر جھوٹ باندھنے سے پرہیز کرے وہ اللہ پر جھوٹ باندھے۔
میں نے تم سے پوچھا، کہ اس کی اطاعت امیروں نے کی ہے یا غریبوں نے تو تم نے کہا غریبوں نے۔ اور پیغمبروں کے تابعدار غریب ہی ہوتے ہیں۔
میں نے تم سے پوچھا کہ اس کے پیروکار بڑھ رہے ہیں یا گھٹ رہے ہیں تو تم نے کہا بڑھ رہے ہیں۔ اور ایمان کا یہی حال ہوتا ہے تاآنکہ وہ پورا ہوجائے۔
میں نے تم سے پوچھا کہ کوئی شخص اسلام لانے کے بعد اسے بیزار ہو کر نکلا بھی ہے ؟ تو تم نے کہا نہیں۔ اور ایمان کا یہی حال ہے جب اس کی بشاشت دل میں سما جاتی ہے۔
میں نے پوچھا، وہ عہد شکنی کرتا ہے تو تم نے کہا نہیں۔ اور پیغمبر کبھی اپنا عہد نہیں توڑا کرتے۔
میں نے پوچھا : وہ تمہیں کیا حکم دیتا ہے تو تم نے کہا کہ اللہ کی عبادت کرو۔ کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ۔ وہ تمہیں بت پرستی سے منع کرتا ہے۔ نماز اور سچائی کا اور حرام کاری سے بچ رہنے کا حکم دیتا ہے اگر تمہاری یہ سب باتیں سچ ہیں تو وہ عنقریب اس جگہ کا مالک ہوجائے گا جہاں میرے یہ پاؤں ہیں۔ اور میں یہ جانتا تھا کہ یہ پیغمبر آنے والا ہے لیکن یہ نہیں سمجھتا تھا کہ وہ تم میں سے ہوگا اور اگر میں جانوں کہ میں اس تک پہنچ جاؤنگا تو اسے ضرور ملنے کی کوشش کروں گا اور اگر میں اس کے پاس ہوتا تو اس کے پاؤں دھوتا
یہ کہہ کر بادشاہ نے اپ کا نامہ مبارک سب کے سامنے پڑھ کر سنایا۔ جب درباریوں اور امیروں، وزیروں نے بادشاہ کو اس حد تک اسلام کی طرف مائل دیکھا تو غصہ سے ان کے نتھنے پھولنے اور آنکھیں سرخ ہونے لگیں۔ شور مچا اور آوازیں بلند ہونے لگیں۔ ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کو وہاں سے نکال دیا گیا۔ ابو سفیان کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ابو کشبہ کے بیٹے (یہ آپ کے رضاعی باپ کی کنیت تھی اور ابو سفیان نے ازراہ حقارت یہ نام لیا تھا) کا تو بڑا درجہ ہوگیا۔ اس سے تو رومیوں کا بادشاہ ڈرتا ہے۔ اس دن سے مجھے یقین ہوگیا کہ محمد ﷺ غالب ہوں گے۔ تاآنکہ اللہ نے مجھے مسلمان کردیا۔ (بخاری۔ کتاب الوحی۔ باب کیف کان بدء الوحی)
رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لئے ہرقل نے دوسرا کام یہ کیا کہ آپ کا نامہ مبارک ایک ممتاز عالم دین اور اپنے دوست ضغاطر کے پاس بھیج دیا۔ بعد میں خود بھی اس کے پاس پہنچ گیا۔ نبی آخرالزمان کے ظہور کے متعلق ضغاطر کی رائے بھی ہرقل کے موافق ثابت ہوئی۔ جسے ہرقل نے اپنی بھرپور تائید سمجھ کر رومی سرداروں کو اپنے حمص والے محل میں بلایا۔ اس کے دروازے بند کروادیئے اور خود بالاخانے سے برآمد ہوا اور کہنے لگا۔ رومی سردارو ! کیا تم اپنی کامیابی، بھلائی اور اپنے اپنے مناصب پر بحال رہنا چاہتے ہو ؟ اگر چاہتے ہو تو اس نبی کی بیعت کرلو یہ سنتے ہی وہ لوگ مشتعل ہو کر جنگلی گدھوں کی طرح دروازوں کی طرف لپے۔ دیکھا تو وہ بند ہیں۔ جب ہرقل کو معلوم ہوا کہ انھیں ایمان لانے سے اس قدر نفرت ہے اور ان کے ایمان لانے سے ناامید ہوگیا تو کہنے لگا، ان سرداروں کو میرے پاس لاؤ۔ جب وہ آئے تو انھیں کہنے لگا کہ میں نے یہ بات صرف تمہیں آزمانے کو کہی تھی کہ تم اپنے دین میں کتنے مضبوط ہو اور وہ مجھے معلوم ہوگیا اس پر سرداروں نے اسے سجدہ کیا اور اس سے خوش ہوگئے یہ تھی ہرقل کی آخری صورت حال (بخاری۔ کتاب الوحی۔ باب کیف کان بدء الوحی)
اس طویل حدیث سے، جسے امام مسلم نے پورے کا پورا درج کیا ہے۔ یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہرقل کو پورا یقین ہوچکا تھا کہ محمد اللہ کے سچے پیغمبر ہیں اور وہ دل سے ایمان لا بھی چکا تھا مگر اعیان سلطنت کے ڈر سے اپنے اس ایمان کا برملا اظہار نہ کرسکا۔ وہ نہ تو اپنی رعایا کی رائے عامہ کو اپنے حق میں سازگار کرنے میں کامیاب ہوسکا اور نہ ہی ایسی جرات کا مظاہرہ کرسکا کہ ایمان کی خاطر خود سلطنت سے دستبردار ہوجائے وہ اپنے اعیان سلطنت سمیت ایمان لانا چاہتا تھا تاکہ اسلام لانے کے بعد سلطنت بھی اسی کے پاس رہ۔ لیکن اس کے متعصب اعیان سلطنت نے اس کی یہ آرزو پوری نہ ہونے دی۔
2۔ دوسری بڑی سلطنت شہنشاہ ایران یا کسریٰ فارس کی تھی۔ اس کا نام پرویز تھا۔ نوشیروان عادل کا پوتا اور ہرمز کا بیٹا تھا۔ انتہائی متکبر انسان اور کبر و نخوت کا پتلا تھا۔ زرتشتی مذہب کا قائل تھا، نہ آخرت کا قائل تھا نہ انبیاء کا۔ مشرک اور آتش پرست تھا۔ مسلمانوں کے مقابلہ میں قریش مکہ کی ہمدردیاں اس کے ساتھ تھیں اور اسے ہی بدر کے دن قیصر روم کے ہاتھوں شکست بھی ہوئی تھی۔ اس کی طرف رسول اللہ نے عبداللہ بن حذافہ کو اپنا نامہ مبارک دے کر بھیجا اور فرمایا کہ یہ خط بحرین کے حاکم منذر بن ساری کو پہنچائے وہ اسے شاہ ایران تک پہنچا دے گا۔ خط کا مضمون یہ تھا :
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔۔ محمد رسول اللہ کی طرف سے عظیم فارس کے نام۔ سلامتی اس شخص کے لئے جو ہدایت کی اتباع کرے۔ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں اور یہ کہ میں اللہ نے مجھے تمام دنیا کے لئے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے تاکہ وہ ہر زندہ شخص کو اللہ کا خوف دلائے۔ اسلام قبول کرلو تو سلامت رہو گے اور اگر تم نے یہ بات تسلیم نہ کی تو تمام مجوس کا بار گناہ بھی تم پر ہوگا
عجم کا طریقہ یہ تھا کہ جو خط سلاطین کو لکھے جاتے ان میں بادشاہ کا نام سب سے پہلے ہوتا تھا اور مکتوب نگار کا بعد میں مگر یہاں ترتیب بالکل برعکس تھی سب سے پہلے اللہ کا نام تھا پھر رسول اللہ کا اور پھر کسریٰ کا۔ اسی بات پر ہی وہ سیخ پا ہوگیا۔ حضرت عبداللہ سے کہا : اگر تم قاصد نہ ہوتے تو میں تمہیں قتل کرا دیتا۔ پھر کہنے لگا کہ میں ایسے گستاخ شخص کے لئے ابھی گرفتاری کا فرمان جاری کرتا ہوں۔ یہ کہہ کر آپ کا نامہ مبارک پھاڑ ڈالا۔ اور کچھ عرصہ بعد جب حضرت عبداللہ نے واپس آکر رسول اللہ کو اس کے خط پھاڑنے کا قصہ سنایا تو آپ نے فرمایا کہ اللہ ایسے ہی اس کی سلطنت کو پھاڑ ڈالے گا۔ (بخاری۔ کتاب العلم۔ باب ماذکر فی المناء۔۔ ) چناچہ آپ کی یہ پیشین گوئی خلفائے راشدین کے دور میں حرف بہ حرف پوری ہوگئی۔
چناچہ پرویز کجکلاہ ایران نے یمن کے حاکم باذان کو، جو شاہ ایران کا باجگذار تھا، خط لکھا کہ عرب میں جس شخص نے پیغمبری کا دعویٰ کیا ہے اسے گرفتار کرکے میرے پاس بھیج دو ۔ ان دنوں عرب قبائل کی بالکل وہی نوعیت تھی جیسے پاکستان اور آزاد قبائل کی ہے۔ آزاد قبائل کئی باتوں میں آزاد ہیں اور بعض امور میں پاکستان سے ملحق ہیں۔ ایسے ہی کسریٰ عرب قبائل کو اپنی ہی سلطنت کا حصہ تصور کرتا تھا۔ جس کی بنا پر اس نے حاکم یمن کو ایسا خط بھیجا تھا۔ چناچہ باذان نے دو آدمی مدینہ بھیجے۔ انہوں نے آپ کے ہاں پہنچ کر عرض کی شہنشاہ عالم کسریٰ نے آپ کو بلایا ہے اگر اس کے حکم کی تعمیل نہ کرو گے تو وہ تمہیں اور تمہارے ملک کو تباہ و برباد کردے گا۔ آپ نے ان قاصدوں سے کہا کہ اب رات ہوگئی ہے۔ تم اب کل آنا۔ دوسرے دن جب وہ حاضر ہوئے تو آپ نے ان سے فرمایا : کہ تمہارے شہنشاہ عالم کو تو آج رات اس کے بیٹے شیرویہ نے قتل کر ڈالا ہے۔ تم واپس چلے جاؤ اور اسے کہہ دینا کہ اسلام کی حکومت ایران کے پایہ تخت تک پہنچے گی۔
جب یہ قاصد واپس یمن پہنچے تو اس وقت تک یمن میں پرویز شاہ ایران کے قتل ہونے کی خبر پہنچ چکی تھی۔ یہ صورت حال دیکھ کر باذان خود بھی مسلمان ہوگیا۔ یہ قاصد بھی اور رعایا کے اور بھی بھی بہت سے لوگ حلقہ اسلام میں داخل ہوگئے۔
3۔ آپ نے تیسرا خط بصریٰ کو لکھا جس کا نام شرجیل بن عمرو غسانی تھا۔ اس کا علاقہ مدینہ کے شمال یمن شام کی سرحد پر واقع تھا۔ غسانی اگرچہ عرب تھے لیکن ایک مدت سے عیسائی ہوچکے تھے۔ ان کا دارالحکومت بصریٰ تھا اور شرجیل قیصر روم کے ماتحت اور اس کا باجگذار تھا۔ اس کے پاس آپ کے قاصد حارث بن عمیر خط لے گئے تو اس بدبخت نے آپ کے قاصد کو شہید کردیا۔ یہ چونکہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور اعلان جنگ کے مترادف تھا۔ لہذا آپ نے اس کے خلاف لشکر کشی کی تیاری شروع کردی اور جمادی الاول 8 ھ میں تین ہزار کا لشکر روانہ فرمایا اور اس کا سپہ سالار زید بن حارثہ کو مقرر فرمایا۔ جو آپ کے آزاد کردہ غلام تھے اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ اگر زید شہید ہوجائیں تو پھر جعفر بن طیار جھنڈا سنبھا لیں اور اگر وہ بھی شہید ہوجائیں تو عبداللہ بن رواحہ سپہ سالار ہوں گے (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب غزوہ موتہ عن ارض الشام) اس لشکر کو رخصت کرنے کے لئے آپ بنفس نفیس مدینہ سے باہر کچھ دور تک تشریف لے گئے۔
شرجیل کو بھی اسلامی لشکر کشی کی خبر ہوچکی تھی۔ اس نے اس مقابلہ کے ایک لاکھ فوج تیار کی جب مسلمانوں کو اس صورت حال کا علم ہوا وہ تردد میں پڑگئے کہ تین ہزار ایک لاکھ کی کیا نسبت ہے ؟ چناچہ حضرت زید کی رائے یہ تھی کہ ابھی توقف کیا جائے اور رسول اللہ کو مطلع کرکے مدینہ سے مزید کمک منگوائی جائے۔ لیکن عبداللہ بن رواحہ کہنے لگے کہ ہم تو شہادت کی متمنی ہیں۔ فتح و شکست اللہ کے ہاتھ میں ہے پھر ہم تاخیر کیوں کریں۔ چناچہ فوری طور پر مقابلہ کرنے پر سب کا اتفاق ہوگیا۔
موتہ کے مقام پر دونوں فوجوں کا آمناسامنا ہوا۔ اگرچہ مسلمان شوق شہادت میں انتہائی بےجگری سے لڑے مگر ایک اور تنتیس کا مقابلہ ہوگئے۔ زید بن حارثہ شہید ہوگئے تو جھنڈا جعفر طیار نے جو حضرت علی ؓ کے حقیقی بھائی تھے۔ سنبھالا آپ کا دایاں ہاتھ کٹ گیا تو جھنڈا بائیں ہاتھ میں سنبھالے رکھا۔ وہ بھی کٹ گیا تو ٹانگوں سے دبائے اور اٹھائے رکھا۔ آپ جس بےجگری اور بہادری سے لڑے۔ اس کے متعلق عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ جب جعفر شہید ہوگئے تو میں ان کی لاش پر کھڑا ہوا۔ میں نے ان کے جسم پر تیروں اور تلواروں کے پچاس زخم دیکھے اور ان میں سے کوئی زخم بھی ان کی پشت پر نہیں تھا۔ (بخاری۔ حوالہ ایضاً ) لیکن لڑائی کے بعد جب سب لوگوں نے یہ نشان شمار کئے تو یہ نوے نشان تھے۔ (حوالہ ایضاً ) ان کے دونوں بازو کٹ گئے تھے ان کے متعلق رسول اللہ نے بتلایا کہ انھیں جنت میں دو پر عطا کئے گئے اسی نسبت سے ان کا لقب طیار بھی مشہور ہوگیا تھا اور ذوالجناحین بھی۔ چناچہ عبداللہ بن عمر ؓ عبداللہ بن جعفر ؓ سے سلام کرتے تو کہتے : دو پروں والے کے بیٹے ! تم پر سلام۔ (بخاری۔ حوالہ ایضاً )
حضرت جعفر کے بعد عبداللہ بن رواحہ نے جھنڈا سنبھالا اور بالآخر وہ بھی شہید ہوگئے۔ اب حضرت خالد بن ولید نے جھنڈا سنبھالا۔ خالد بن ولید آزمودہ کار جرنیل تھے۔ جنگ احد میں انہوں نے درہ خالی دیکھ کر حملہ کرکے مسلمانوں کو شکست سے دوچار کردیا تھا۔ آپ نے باقی فوج کو اس انداز سے از سر نو ترتیب دیا کہ وہ اپنی اصل تعداد میں بہت زیادہ معلوم ہوتی تھی۔ یہ صورت حال دیکھ کر دشمن نے جو ان سے بیسیوں گناہ زیادہ تھے اسلامی لشکر کو ہر طرف سے گھیرے میں لے لیا۔ حضرت خالد نے پورے جوش سے حملہ کرکے ایک مقام سے اس گھیرے کو توڑ دیا اور اسلامی فوج کو دشمن کے محاصرہ سے نکالنے میں کامیاب ہوگئے۔ ـادھر یہ کارروائی ہو رہی تھی ادھر مدینہ میں رسول اللہ کو لوگوں نے ان الفاظ میں اطلاع دے دی۔ پہلے زید نے جھنڈا سنبھالا وہ شہید ہوئے، پھر جعفر نے جھنڈا سنبھالا وہ شہید ہوئے، پھر عبداللہ بن رواحہ نے سنبھالا وہ شہید ہوئے اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ پھر فرمایا اس کے بعد اللہ کی تلواروں میں ایک تلوار نے جھنڈا سنبھالا یہاں تک کہ اللہ نے اس کے ہاتھ پر فتح دی (بخاری۔ حوالہ ایضاً )
چناچہ اسی دن سے حضرت خالد بن ولید کا لقب سیف اللہ یعنی اللہ کی تلوار مشہور ہوگیا۔ وہ خود بیان کرتے ہیں کہ غزوہ موتہ کے دن میرے ہاتھ پر نو تلواریں ٹوٹیں صرف ایک یمنی تیغہ میرے ہاتھ میں رہ گیا تھا۔ (بخاری۔ حوالہ ایضاً ) آپ کا نمایاں کارنامہ یہ تھا کہ آپ نے اسلامی لشکر کو دشمن کے نرغہ سے نکال لیا۔ اور خیر و عافیت سے بچا لائے اور اسی بات کو رسول اللہ نے فتح قرار دیا تھا۔
جب یہ لشکر واپس مدینہ آیا تو بعض صحابہ کو یہ شبہ ہوا کہ یہ لوگ جنگ سے بھاگ آئے ہیں اور انھیں ایسا طعنہ بھی دیا لیکن رسول اللہ نے اس کی پرزور تردید فرمائی اور فرمایا یہ جنگ بھگوڑے نہیں بلکہ پینترا بدل کر لڑنے والوں کے ضمن میں آتے ہیں۔ جس میں ایک بات کی طرف اشارہ تھا کہ ابھی ہمارا کام باقی ہے۔ اور وہ باقی کام غزوہ تبوک تھا۔ جس کا ذکر سورة توبہ میں تفصیل سے بیان ہوچکا ہے۔
4۔ چوتھا خط آپ نے نجاشی شاہ حبشہ کے نام لکھا۔ حبشہ میں مسلمان مہاجرین مقیم تھے اور نجاشی نے ان سے نہایت اچھا سلوک کیا یہ خود عیسائی تھا اور قیصر روم کا باجگذار تھا۔ مگر اسلام کی دعوت کو دل سے تسلیم کرچکا تھا۔ اور بعض روایات کے مطابق اس نے حضرت جعفر طیار کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا تھا۔ اس کی طرف آپ نے عمرو بن امیہ ضمری کو نامہ مبارک دے کر بھیجا جس کا مضمون یہ تھا :
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔۔ محمد رسول اللہ کی طرف سے نجاشی اصمحہ شاہ حبش کے نام۔ تجھ پر سلام ہو میں اللہ کی حمد و ستائش کرتا ہوں جو پاک ہے۔ اور ایمان اور سلامتی دینے والا ہے اور میں شہادت دیتا ہوں کہ عیسیٰ بن مریم اللہ کی مخلوق اور اس کا کلمہ ہیں۔ جسے اللہ نے پاکباز مریم کی طرف القاء کیا اور وہ عیسیٰ سے حاملہ ہوئیں تو اللہ نے انھیں پیدا فرمایا۔ اپنے نفخہ اور اپنے روح سے۔ میں تمہیں اللہ وحدہ لاشریک پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہوں۔ ایمان لے آؤ تو سلامتی سے رہو گے اور میری پیروی کرو کیونکہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ میں نے اس سے پہلے اپنے چچیرے بھائی جعفر کو مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ تمہارے پاس بھیجا ہوا ہے۔ انھیں آرام سے رکھنا۔ نجاشی تکبر چھوڑو۔ میں تمہیں اور تمہارے درباریوں کو اللہ کی طرف بلاتا ہوں دیکھو ! میں نے تمہیں اللہ کا حکم پہنچا دیا اور خوب سمجھا دیا۔ اب مناسب ہے کہ میری نصیحت قبول کرو اور سلامتی اس شخص کے لئے ہے جو ہدایت قبول کرے۔
جب یہ خط نجاشی کو ملا تو اس نے جعفر کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا اور جواباً رسول اللہ کو تحریر کیا :
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔۔ محمد رسول اللہ کی خدمت میں نجاشی اصحم بن ابجر کی طرف سے۔ اے اللہ کے نبی ! آپ پر اللہ کی سلامتی، رحمت اور برکتیں ہوں اس اللہ کی جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور جس نے ہمیں اسلام کی طرف ہدایت فرمائی۔ امابعد۔ آپ کا فرمان میرے پاس پہنچا حضرت عیسیٰ کے متعلق آپ نے تحریر فرمایا ہے، اللہ کی قسم وہ اس سے ذرہ بھر بھی بڑھ کر نہیں ہم نے آپ کی تعلیم سیکھ لی ہے اور آپ کا چچا زادہ بھائی اور مسلمان میرے پاس آرام سے ہیں۔ میں اقرار کرتا ہوں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ میں نے آپ کے چچیرے بھائی کے ہاتھ پر بیعت اور اللہ کی فرمانبرداری کا اقرار کرلیا ہے اور آپ کی خدمت میں اپنے بیٹے ارہا کو روانہ کرتا ہوں۔ اگر آپ کا یہ منشا ہو کہ میں خود آپ کے پاس حاضر ہوں تو میں ضرور حاضر ہوجاؤں گا۔ کیونکہ میں یقین رکھتا ہوں کہ آپ جو فرماتے ہیں، وہی حق ہے۔ والسلام علیک یارسول اللہ۔
ابن اسحاق کا بیان ہے کہ نجاشی نے اپنے بیٹے ارہا کو ساٹھ آدمیوں کے ہمراہ روانہ کیا مگر راستہ میں یہ جہاز مسافروں سمیت غرق ہوگیا۔
5۔ ان دنوں مصر کے حکمران مقوقس کہلاتے تھے۔ مصر کا مقوقس عیسائی اور اہل علم آدمی تھا اور قیصر روم کے زیر اثر تھا۔ اس کا دارالحکومت موجودہ اسکندریہ تھا۔ اس کے ہاں آپ نے حاطب بن ابی بلتعہ کو درج ذیل خط دے کر روانہ فرمایا :
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔۔ محمد رسول اللہ کی طرف سے مقوقس مصر قبط کے نام۔ اس پر سلامتی ہے جس نے ہدایت کا اتباع کیا۔ بعد ازاں میں تمہیں اسلام کی طرف دعوت دیتا ہوں۔ مسلمان ہوجاؤ، سلامتی پاؤ گے اور اللہ تمہی دگنا اجر عطا فرمائے گا۔ اور اگر تم نے نہ مانا تو تمام قبطیوں کا بار گناہ تم پر ہوگا۔ اے اہل کتاب اس کلمہ کی طرف آؤ۔ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں۔ پھر اگر وہ اعراض کریں تو آپ کہہ دیجئے کہ گواہ رہو کہ ہم اللہ کے فرمانبردار ہیں۔
مقوقس بھی حقیقت سمجھ چکا تھا مگر اسے بھی قیصر روم کی طرح اسلام لانے کی جرات نہ ہوئی تاہم اس نے قاصد کو جواب میں ایک خط اور کچھ تحائف دے کر عزت و احترام کے ساتھ رخصت کیا۔ خط کا مضمون یہ تھا :
محمد بن عبداللہ کی طرف مقوقس رئیس قبط کی طرف سے سلام علیک کے بعد۔ مجھے معلوم تھا کہ ایک پیغمبر آنے والا ہے لیکن میں سمجھتا تھا کہ وہ شام میں ظہور کرے گا۔ میں نے آپ کے قاصد کی عزت کی۔ دو لڑکیاں بھیج رہا ہوں جن کی قبطیوں میں بہت عزت کی جاتی ہے۔ اور میں آپ کے لئے کپڑا اور آپ کی سواری لئے ایک خچر بطور ہدیہ بھیجتا ہوں۔ والسلام
یہ دو لڑکیاں جن کا نام ماریہ اور سیرین تھا۔ راہ میں ہی حاطب بن ابی بلتعہ کی تبلیغ سے مسلمان ہوگئی تھیں یہ شاہی گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان میں سے ماریہ سے تو آپ نے خود نکاح کرکے حرم میں شامل کرلیا اور اسی کے بطن سے حضرت ابراہیم پیدا ہوئے اور سیرین حضرت حسان بن ثابت کے حبالہ عقد میں آئیں۔ اور یہ دونوں حقیقی بہنیں تھیں۔ اور خچر سفید رنگ کی قدآور اور خوبصورت تھی اس کا نام دلدل تھا۔ جنگ حنین میں آپ اسی خچر پر سوار تھے۔
6۔ چھٹا خط آپ نے منذر بن ساویٰ والی بحرین کے نام حضرت علاء بن حضرمی کے ہاتھ روانہ فرمایا۔ یہ حکمران ساسانی یا ایرانی بادشاہوں کے زیراثر اور باجگذار تھے اور رعایا میں سے کچھ لوگ یہودی تھے اور کچھ مجوسی۔ جب اس کے پاس آپ کا گرامی نامہ پہنچا تو اس نے اسلام قبول کرلیا لیکن اس کی رعایا میں کچھ لوگ تو مسلمان ہوگئے اور کچھ اپنے سابقہ مذہب پر قائم رہے۔ ان کے متعلق منذر سے بارگاہ رسالت سے حکم دریافت فرمایا۔ آپ نے منذر کی سعادت اور صلاحیت کو بنظر عزت دیکھا اور یہود اور مجوس سے جزیہ وصول کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ یہ جزیہ تو مدینہ کے بیت المال میں جاتا تھا اور بحرین کی حکومت ان ہی کے پاس رہی۔
7۔ عمان بن جیفر بن جلندی اور عبداللہ بن جلندی دو بھائیوں کی حکومت تھی۔ آپ نے ان کے پاس حضرت عمرو بن عاص ؓ کو اپنا خط دے کر بھیجا۔ ان دونوں بھائیوں نے حضرت عمرو بن عاص ؓ کے ساتھ طویل مکالمہ اور گہرے غوروخوض کے بعد اسلام قبول کرلیا اور ان کے اثر سے رعایا کا اکثر حصہ بھی اسلام لے آیا۔
8۔ آٹھواں خط آپ نے ہوذہ بن علی والی یمامہ کے نام لکھا جو قبیلہ بنو حنیفہ کا رئیس تھا۔ حضرت سلیط بن عمر بن عبدشمس اس کے ہاں آپ کا نامہ مبارک لے کر گئے۔ ہوذہ نے قاصد رسول کی خوب عزت و تکریم کی اور تحائف بھی دیئے اور جواب میں آپ کو لکھا کہ جن باتوں کی طرف آپ بلاتے ہیں ان کے مستحسن ہونے میں کوئی شک نہیں۔ مگر آپ کو معلوم ہے کہ اہل عرب مجھے عزت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کے دلوں میں میری ہیبت بیٹھی ہوئی ہے۔ اس لئے اگر حکومت کا نصب حصہ اور مخصوص اختیارات مجھے دیئے جائیں تو اسلام لانے کے لئے تیار ہوں۔ آپ نے یہ خط دیکھ کر فرمایا کہ ایک بالشت بھر زمین بھی مانگے تو نہیں مل سکتی۔ وہ خود اس کا مال و متاع عنقریب فنا ہونے والا ہے۔ پھر جب آپ فتح مکہ کے بعد عازم مدینہ ہوئے تو بذریعہ وحی آپ کو خبر مل گئی کہ ہوذہ حاکم یمامہ اس دنیا کو چھوڑ گیا ہے نیز آپ نے صحابہ کو یہ اطلاع بھی دی کہ یمامہ میں ایک جھوٹا مدعی نبوت پیدا ہوگا جو میرے بعد قتل کیا جائے۔ چناچہ مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اس کا قصہ سورة مائدہ کے حاشیہ نمبر 94 اور سورة احزاب کے حاشیہ نمبر 66 میں مذکور ہے۔ یہ جھوٹا نبی آپ کی پیشین گوئی کے مطابق خلافت صدیقی میں حضرت حبشی کے ہاتھوں مارا گیا۔
9۔ آپ نے نواں خط حارث غسانی حاکم حدود شام کی طرف حضرت شجاع بن وہب کے دے کر بھیجا۔ یہ دمشق اور آس پاس کے علاقوں کا حاکم اور قیصر روم کا باجگذار تھا۔ جب اسے نامہ مبارک ملا تو پہلے تو بہت بگڑا اور مدینہ پر حملہ کی دھمکی بھی دی مگر بعد میں آپ کے قاصد کو عزت و احترام کے ساتھ رخصت کیا۔ لیکن اسلام قبول نہیں کیا۔
ہمسایہ ممالک میں آپ کے خطوط بھیجنے اور اس کے ردعمل سے اسلام اور مسلمانوں کو چند در چند فوائد حاصل ہوگئے۔ مثلاً ۔
(1) اس ذریعہ سے آپ نے تبلیغ رسالت کا فریضہ انجام دیا جو اللہ کی طرف سے آپ پر گرانبار ذمہ داری تھی اور پہلے اس کا موقعہ نہیں مل رہا تھا۔
(2) ان تبلیغی خطوط سے بعض حکمران اور ان کی رعایا اسلام لے آئے جیسے حبشہ، یمن، عمان اور بحرین کے حکمرانوں نے اسلام قبول کرلیا۔ رعایا میں سے بھی بہت سے مسلمان ہوگئے۔ اور کچھ حکمران اسلام کے قریب ہوگئے۔ تاہم اسلام کی آواز عرب سے باہر دور دور تک پہنچ گئی۔
(3) غزوہ موتہ اور اس کے نتائج نے یہ ثابت کردیا کہ اب اسلامی حکومت میں کسی بڑی سے بڑی سلطنت سے ٹکر لینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ قیصر روم کے داعیان سلطنت جو دعوت اسلام پر نتھنے پھلانے لگے تھے ان کے دماغ میں فرعونیت کا بت ٹوٹ گیا۔ یہی وجہ ہے کہ غزوہ تبوک میں آپ وہاں بیس دن مقیم رہے لیکن غسانیوں اور رومیوں کو مقابلے پر آنے کی جرات نہ ہوئی۔
(4) اندرون عرب بھی مشرک قبائل اور بالخصوص قریش مکہ پر مسلمانوں کا ایسا رعب طاری ہوا کہ فتح مکہ کے موقع پر کسی بھی قریش اتحاد کو مقابلے پر آنے کی سکت نہ رہی۔ پھر یہ سب کچھ ان تبلیغی خطوط اور ان کے رد عمل کا نتیجہ تھا۔
44 وہ یہ نہیں جانتے کہ پیغمبری کیا چیز ہے ؟ اور کس قدر ارفع و اعلیٰ مقام ہے۔ وہ یہ بھی نہیں سمجھتے کہ اللہ نے آپ کو کس قدر بلند مقام پر فائز کیا ہے۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ وہ آپ کا انکار کرکے اللہ تعالیٰ کی کس عظیم نعمت کا انکار کر رہے ہیں اور وہ یہ بھی نہیں سمجھتے کہ آپ کا انکار کرکے انھیں کس قدر برے انجام سے دوچار ہونا پڑے گا۔
Ayah 34:3045 یعنی یہ تو اللہ ہی کو معلوم ہے کہ ابھی اس نے کتنے انسان اور پیدا کرنے ہیں۔ جن کا اسی دنیا اور اس نظام کائنات کے تحت امتحان لیا جانے والا ہے۔ اور یہ سب کچھ اس کے پہلے سے طے شدہ سکیم کے مطابق ہو رہا ہے۔ وہ ہو کے رہے گا۔ تمہاری طلب کرنے یا جلدی مچانے سے یا پوچھتے رہنے سے وہ وقت سے پہلے نہیں آسکتا ہاں جب اس کا وقت آگیا تو پھر اس میں تاخیر ناممکن ہے۔ لہذا کرنے کا کام یہ ہے کہ اس دن کے آنے سے پہلے پہلے جو بہتر سے بہتر کام تم اپنے لئے کرسکتے ہو کرلو۔
Ayah 34:3146 یعنی مشرکین مکہ صرف قرآن کے ہی منکر نہ تھے۔ بلکہ پہلی آسمانی کتابوں مثلاً تورات، انجیل وغیرہ کے بھی منکر تھے اور ان کے انکار کی وجہ یہ تھی کہ ان سب کتابوں کے مرکزی اور بنیادی مضامین ملتے جلتے تھے۔ سب کتابوں میں توحید کا دعوت دی گئی تھی اور مشرک کو ناقابل معافی جرم قرار دیا گیا تھا۔ اسی طرح عقیدہ آخرت کے بارے میں بھی سب الہامی کتابیں ایک دوسری کی تائید و توثیق کرتی تھیں۔ اور یہی دو باتیں تھیں جن پر محاذ آرائی شروع ہوچکی تھی۔ اور مشرکین مکہ انھیں کسی قیمت پر بھی ماننے کو تیار نہ تھے۔ لہذاسب الہامی کتابوں کا انکار کردیتے تھے۔
47 قرآن کریم میں ان دو فریقوں کا مکامہ بہت سے مقامات پر مذکور ہے۔ ایک فریق مطبع ہے یعنی کمزور قسم کے لوگ جو اپنے بڑوں کی اطاعت کرتے رہے۔ اور دوسرا فریق مطاع ہے یعنی بڑے لوگ جن کی اطاعت کی جاتی رہی۔ پھر ان بڑے لوگوں میں حکمران بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ سیاسی لیڈر، چودھری بھی، مولوی بھی، پروفیسر بھی یعنی ہر وہ شخص جو دینی یا دنیوی لحاظ سے عام لوگوں پر فوقیت رکھتا ہو۔ اور اس کی بات تسلیم کی جاتی رہی ہو اور یہ مکالمہ جہنم میں داخلہ سے پیشتر ہوگا۔ تاہم اس وقت تک سب لوگوں کو اپنا انجام معلوم ہوچکا ہوگا۔
48 کمزور لوگ یا اطاعت کرنے والے اپنے بڑے بزرگوں سے کہیں گے کہ ہماری گمراہی کا باعث تو تم ہی لوگ تھے۔ اگر تم لوگ ہمیں انبیاء کے خلاف استعمال نہ کرتے تو ہم یقیناً ان پر ایمان لے آتے اور اس برے انجام سے ہمیں دو چار نہ ہونا پڑتا۔
Ayah 34:3249 یعنی انبیاء نے جیسی دعوت ہمیں دی تھی ویسی ہی تہیں بھی دی تھی۔ ہم نے زبردستی کسی کو بھی ان کی دعوت قبول کرنے سے نہیں روکا تھا۔ اگر تم ایمان لانا چاہتے تو ہم تمہیں کیسے روک سکتے تھے۔ اس کے بجائے حقیقت یہ ہے کہ تم خود بھی انبیاء کی پیش کردہ دعوت اور اس کی پابندیوں کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھے نہ ہی تم ان سختیوں کو برداشت کرنے پر آمادہ تھے جو انبیاء کو ماننے والوں کو پیش آتی تھیں۔ اس لحاظ سے ہم اور تم دونوں ایک جیسے مجرم ہیں۔ اگر کچھ فرق ہے تو یہ صرف یہ کہ ہم نے تمہیں اپنی طرف بلایا۔ اور ہمارا یہ بلانا چونکہ تمہارے اپنے ہی ضمیر کی آواز اور اپنی ہی خواہش نفس کی تکمیل تھی۔ لہذاتم نے فوراً ہماری دعوت کو قبول کرلیا۔ اس وقت حقیقت میں تم ہماری پیروی نہیں بلکہ اپنے نفس اور اپنے مفادات کی پیروی کر رہے تھے۔ ورنہ تم لوگ ہم سے تعداد میں بہت زیادہ تھے۔ اگر تم ایمان لانا چاہتے اور اس کام میں مخلص ہوتے تو تم ہمارا بھی ناطقہ بند کرسکتے تھے کیونکہ اکثریت میں تم تھے ہم نہیں تھے۔
Ayah 34:3350 اب عوام اپنے لیڈروں اور پیشواؤں سے یوں مخاطب ہوں گے کہ تمہارے دن رات کے پروپیگنڈے سے ہی ہم متاثر ہوجاتے تھے تم ہمیں پھانسنے کے لئے ہر روز کوئی نئے سے نیا جال لاتے رہے۔ تم لوگ نام تو اسلام کا لیتے رہے مگر حقیقتاً تم اپنی ہی حکومت اور اپنی ہی چودھراہٹ چاہتے تھے۔ تمہارے جھوٹے پروپیگنڈہ نے ہماری مت مار دی تھی۔ اور ہم تمہیں مخلص سمجھ کر تمہارا ساتھ دیتے رہے۔ لہذا ہماری گمراہی کا باعث تم ہی لوگ ہو۔
51 ان دونوں فریقوں کے مکالمہ سے ہر فری کو معلوم ہوجائے گا کہ دونوں فریق قصور وار ہیں۔ اور یہ مکالمہ محض بحث برائے بحث ہی ہے۔ لہذا ہم ان دونوں کو ایک جیسی سزا دیں گے ان کے گلوں میں طوق اور پاؤں میں زنجیریں ڈال کر انھیں جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
Ayah 34:3452 یعنی یہ صرف قریش مکہ کی بات نہیں بلکہ ہر نبی کے ساتھ (اور اسی طرح آپ کے ساتھ) یہی معاملہ پیش آیا کہ جب نبی نے انھیں اللہ کا پیغام پہنچایا تو اس کی مخالفت کرنے میں سب سے پیش پیش وہی لوگ تھے جو خوشحال اور آسودہ تھے۔ جن کے پاس کوٹھیاں اور بنگلے تھے۔ نوکر چاکر تھے۔ بنک بیلنس بھی موجود تھا اور سواریاں بھی خاصی تعداد میں تھیں۔ ایسے لوگ بھلا پیغمبروں کی بات کا ہے کو مانتے۔ جبکہ پیغمبر انھیں ہر جائز و ناجائز طریقے سے مال جمع کرنے سے روکتے تھے۔ پھر وہ یہ بھی کہتے تھے کہ سارا مال و دولت اپنے پاس ہی سمیٹ کر نہ رکھو بلکہ اس سے اقرباء اور محتاجوں کا حق ادا کرو۔ پھر اگر وہ لوگ پیغمبروں کی دعوت قبول کرتے تو انھیں مندرجہ بالا پابندیوں کے علاوہ پیغمبر کا مطیع فرمان بن کر بھی رہنا پڑتا تھا۔ لہذا یہ خوشحال طبقہ صرف اسی پر اکتفا نہیں کرتا کہ نبی کی دعوت کو خود ہی رد کرے بلکہ جن لوگوں پر اس طبقہ کا اثر و رسوخ ہوتا ہے ان سب کو نبی کی مخالفت پر آمادہ کردیتے ہیں اور اس کام پر وہ پیسہ بھی بےدریغ خرچ کرتے ہیں۔
Ayah 34:3553 یہ خوشحال طبقہ اپنے انکار کی اصل وجوہ تو بیان نہیں کرتا اور اس کے بجائے ایک ایسی بات کو خوبصورت بنا کر اپنے انکار کی وجہ کے طور پر پیش کردیتا ہے۔ جو عام دنیا دار لوگوں کو بھی معقول معلوم ہوتی ہے۔ ان کی دلیل یہ ہوتی ہے جیسے وہ پیغمبر اور اس پر ایمان لانے والوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ کہ اللہ تو ہم پر مہربانی ہے تم پر نہیں۔ اللہ نے ہمیں کوٹھیاں دی ہیں۔ کاریں دی ہیں، مال و دولت ڈھیروں دیا ہے۔ اولاد عطا کی ہے۔ وہ ہم سے خوش تھے تبھی تو اس نے ہمیں ان نعمتوں سے نوازا ہے۔ اور جس آخرت سے تم ہمیں ڈرا رہے ہو۔ اور وہ ہوئی بھی تو آخر کیا وجہ ہے کہ جو اللہ آج ہم پر مہربان ہے کل ہم پر مہربانی نہ ہو۔ اور ہمیں خواہ مخواہ عذاب دے دے۔
Ayah 34:3654 وہ یہ بات نہیں سمجھتے کہ رزق کی کمی بیشی کا معاملہ تو اللہ کی مشیت سے تعلق رکھتا ہے، اس کی رضا سے تعلق نہیں رکھتا۔ اللہ کی مشیت یہ ہے کہ وہ اس دنیا میں اپنے نافرمانوں اور فرمانبرداروں سب کو رزق دے۔ اسی صورت میں اس دنیا میں انسان کی آزمائش ہوسکتی ہے۔ اگر وہ اس دنیا میں نافرمانوں کو رزق نہ دے یا ان پر رزق تنگ کردے اور اپنے فرمانبرداروں کو ہی رزق دے یا انھیں وافر رزق عطا کرنے لگے۔ تو پھر تو ہر ایک ایمان لے آئے گا اس میں انسانوں کی آزمائش کی کیا گنجائش رہ گئی ؟ اور اس کا دوسرے پہلو یہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ بسا اوقات ظالموں، چوروں، ڈاکوؤں، خائنوں، مکاروں اور فریب کاروں کو وافر رزق عطا کیا جاتا ہے۔ حالانکہ ان صفات کو اور ایسی صفات رکھنے والے لوگوں کو کوئی بھی اچھا نہیں سمجھتا۔ پھر بسا اوقات یوں بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ شریف لوگ سچ بولنے والے، عہد کے پابند، کسی کو ہاتھ یا زبان سے تکلیف نہ پہنچانے والے اور اللہ کے فرمانبردار اور عبادت گزار لوگ فقر و فاقہ میں مبتلا ہوتے ہیں۔ حالانکہ ان صفات کو اور ایسی صفات رکھنے والے انسانوں کو سب ہی اچھا سمجھتے ہیں۔ پھر قسم اول کے لوگوں کی آسودگی کو اور قسم دوم کے لوگوں کی تنگی کو اللہ کی رضا کیسے قرار دیا جاسکتا ہے ؟ جبکہ زبان خلق بھی اس بات کی تردید کر رہی ہے۔
Ayah 34:3755 اس جملہ کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ مال اور اولاد ایسی چیزیں نہیں ہیں جو اللہ کے ہاں تقرب کا ذریعہ بن سکیں۔ بلکہ یہی چیزیں اکثر انسانوں کے لئے اللہ کے تقرب کے بجائے الٹا اس کے غضب اور غصہ کا سبب بن جاتی ہیں اور اسے لے ڈوبتی ہیں۔ اس کے بجائے اللہ کے ہاں تقریب کا معیار ایمان اور اعمال صالحہ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایمان لائے اور اعمال صالحہ بھی لائے تو یہی مال اور اولاد اس کے لئے اللہ کے ہاں تقرب کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ وہ یوں کہ اپنے مال و دولت کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہے اور اولاد کی صحیح تعلیم و تربیت کرکے اسے اللہ کا فرمانبردار بنادے۔
56 ضَعُفَ (ضد نصف یعنی آدھا) یعنی کسی چیز کی مثل اتنا ہی اور (مفردات القرآن) پھر یہی لفظ کئی گنا کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اور کتاب و سنت کی صراحت کے مطابق یہ دس گنا بھی ہوسکتا ہے۔ سات سو گنا بھی بلکہ اس سے زیادہ بھی۔
57 اس میں ایک لطیف اشارہ یہ بھی ہے کہ ایماندار جنت کے ان بالاخانوں میں دائمی اور ابدی طور پر قیام پذیر رہیں گے۔ کیونکہ اگر ٹھکانہ عارضی ہو تو انسان کو امن و چین اور اطمینان نصیب نہیں ہوسکتا۔
Ayah 34:3858 نیچا دکھانے سے مراد ان کا مذاق اڑانا، انہیں تسلیم نہ کرنا، اللہ کے راستے میں روڑے اٹکانا، ایمانداروں کو ایذائیں دینا، اور ایسی تدبیریں اور سازشیں تیار کرنا جن سے وہ اسلام کو کمزور یا نیست و نابود کرسکیں۔ سب باتیں شامل ہیں۔
Ayah 34:3959 یعنی رزق کی فراخی نہ اللہ کی رضا کی معیار ہے نہ انسان کی اپنی فلاح کا۔ بلکہ رزق کا تعلق صرف مشیت الٰہی سے ہے۔ جس میں اس کی اپنی کئی حکمتیں مضمر ہیں۔ بسا اوقات وہ ظالموں کو زیادہ رزق دے کر انہیں عذاب شدید کا مستحق بنا دیتا ہے۔ اور بعض دفعہ اپنے فرمانبرداروں کو فقر و فاقہ میں مبتلا کرکے ان کے درجات کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ دولت بذات خود ایک ڈھلتی چھاؤں ہے۔ ایک ہی آدمی کے پاس کبھی زیادہ آجاتی ہے پھر اسی سے چھن بھی جاتی ہے۔ پھر جب مال و دولت میں ہی استقرارو استقلال نہیں تو پھر اسے خیر و شر کا معیار کیسے قرار دیا جاسکتا ہے۔ ؟
60 اس جملہ میں صدقہ و خیرات کرنے والے لوگوں کے لئے ایک عظیم خوشخبری ہے اور ایک ایسی حقیقت بیان کی گئی ہے۔ جو بارہا لوگوں کے تجربہ میں آچکی ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں اور اللہ کی رضا کے لئے خلوص نیت کے ساتھ انسان جو کچھ بھی خرچ کرتا ہے۔ اللہ اس کی جگہ اس خرچ کئے ہوئے مال جتنا یا اس سے زیادہ دے دیتا ہے وہ کس ذریعہ سے دیتا ہے اس کی کوئی مادی توجیہہ پیش کی جاسکتی۔ تاہم ہمارا تجربہ اور ہمارا وجدان دونوں اس بات کی تصدیق کرتے ہیں اور درج ذیل احادیث بھی اسی مضمون کی تائید و توثیق کرتی ہیں :
1۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : اے آدم کے بیٹے ! تو (دوسروں پر) خرچ کر۔ میں تجھ پر خرچ کروں گا (بخاری۔ کتاب الزکوۃ۔ باب الصدقۃ فیھا۔۔ )
2۔ حضرت اسماء بن ابی بکر ایک دفعہ آپ کے پاس آئیں تو آپ نے اسے ہدایت فرمائی کہ روپیہ پیسہ ہتھیلی میں بند کرکے مت رکھو ورنہ اللہ بھی تمہارا رزق بند کرکے رکھے گا۔ بلکہ جہاں تک ہوسکے خیرات کرتی رہو۔ (بخاری۔ کتاب الزکوۃ۔ باب الصدقہ فیما استطاع)
3۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : بندوں پر کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جس دن صبح دو فرشتے نازل نہ ہوں۔ ان میں ایک یوں دعا کرتا ہے یا اللہ ! خرچ کرنے والے کو اس کا بدل دے اور دوسرا یوں دعا کرتا ہے یا اللہ بخیل کا مال تباہ کردے (بخاری۔ کتاب الزکوۃ۔ باب قولہ فاما من اعطی ٰ واتقی۔۔ )
4۔ حضرت انس کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جس شخص کو یہ بات اچھی لگے کہ اس کا رزق کشادہ اور اس کی عمر دراز ہو وہ رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرے (بخاری۔ کتاب البیوع۔ باب من بحب السبط فی الرزق)
61 اللہ تعالیٰ کی کئی صفات ایسی ہیں جن انسانوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔ مثلاً حقیقی رازق تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ مگر ہر انسان اپنے بال بچوں کو رزق مہیا کرتا ہے۔ مالک اپنے ملازموں کو رزق عطا کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ جب ایسی صورت ہو تو اللہ کے لئے کوئی مزید امتیازی صفت بھی استعمال ہوگی۔ گویا اگر انسان کسی کا رزاق ہوسکتا ہے تو اللہ خیر الرازقین ہے یعنی سب کو رزق دینے والا بھی ہے اور بہتر رزق دینے والا بھی ہے۔ اسی طرح اللہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے تو انسان بھی تخلیق و ایجاد کرتا ہے۔ اس نسبت سے انسان کو موجد اور خالق تو کہہ سکتے ہیں مگر احسن الخالقین اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
Ayah 34:4062 مشرکین خواہ دور نبوی کے ہوں یا اس سے پہلے ادوار کے یا مابعد کے دور کے، وہ یہ نہیں کہتے تھے کہ ہم ان بتوں کو پوجتے ہیں یا ان قبروں کو پوجتے ہیں۔ بلکہ ان کے اعتقاد کے پیچھے ان کا ایک پورا گھڑا ہوا فلسفہ ہوتا ہے۔ مثلاً سورج کی پوجا کرنے والا پہلے سرج کی روح کا ایک خیالی نقشہ یا تصویر قائم کرتے ہیں پھر اس خیالی تصویر کے مطابق اس کا مجسمہ بناتے ہیں۔ پھر یہ سمجھتے ہیں کہ اس مجسمہ کے ساتھ سورج کی روح کا بروقت تعلق قائم رہتا ہے اور ہم جو سورج کے مجسمہ کو پوجتے ہیں تو یہ دراصل اس بت کی نہیں بلکہ ہم سورج دیوتا کی عبادت کرتے ہیں۔ مشرکین کے اس طرح کی کئی دیویاں اور دیوتا بنا رکھے تھے۔ پھر یہ مجسمے مظاہر قدرت کے ہی نہیں بلکہ بعض صفات کے بھی ہوتے تھے۔ اور ان صفات کو بھی سیاروں سے منسوب کردیا جاتا تھا۔ مثلاً فلاں علم کی دیوی، فلاں دولت کی دیوی ہے وغیرہ وغیرہ۔ پھر کچھ مشرک فرشتوں کے خیالی مجسمے بنا کر ان کی پوجا کرتے تھے۔ مشرکین عرب کی ایک کثیر تعداد ایسی ہی تھی جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ اور لات و منات اور عزیٰ کے مجسمے بنا کر ان کی عبادت کرتے تو سمجھتے یہی تھے کہ ہم ان بتوں کی نہیں بلکہ ان فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں جن کی ارواح ان مجسموں یا بتوں سے وابستہ رہتی ہیں۔ اسی طرح قبر پرست بھی یہ سمجھتے تھے کہ ہم اس قبر کے پرستار نہیں بلکہ ہماری سب نیاز مندیاں اور نذریں نیازیں تو صاحب قبر کے لئے ہیں۔ جس کی روح اس کی قبر کے ساتھ وابستہ رہتی ہے۔ ان تمام معبودوں سے چونکہ فرشتے ہی برتر مخلوق ہیں۔ لہذا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مشرکوں کو شرمندہ کرنے اور انہیں حسرت دلانے کے لئے انہی سے سوال کرے گا کہ یہ لوگ تمہاری ہی عبادت کرتے تھے ؟ کیا تم نے انہیں ایسا کہا تھا کہ تمہاری عبادت کیا کریں ؟ یا کچھ اس قسم کی آرزو تم نے کی تھی ؟
واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرشتوں کے علاوہ دوسرے معبودوں سے بھی ایسا سوال کرے گا اور حضرت عیسیٰ سے متعلق ایسا سوال تو بالتفصیل اور بالصراحت قرآن میں مذکور ہے۔
Ayah 34:4163 یہاں جن سے مراد شیاطین ہیں اور قرآن میں یہ دونوں الفاظ ایک دوسرے کے مترادف کے طور پر استعمال ہوئے ہیں۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کے سوال کے جواب میں کہیں گے ہمیں ان بدبخت مشرکوں سے کیا سروکار جنہوں نے تجھے چھوڑ کر ہمیں اپنا سرپرست سمجھ رکھا تھا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا بھی سرپرست تو ہی ہے اور ان کا بھی تو ہی ہے اور تھا۔ مگر انہوں نے جو ہمیں اپنا سرپرست سمجھ رکھا تھا۔ تو ہم نے انہیں ایسی بات قطعاً نہیں کہی تھی۔ یہ پٹی ان کو شیطان نے پڑھائی تھی۔ اسی کی ترغیب پر یہ ہماری پوجا کرتے رہے تو دراصل یہ ہماری نہیں بلکہ ان شیطانوں کی پوجا کر رہے تھے جن کے یہ فرمانبردار بن کر ان کے کہنے پر لگ گئے تھے۔
64 یعنی کبھی کبھار ایسا بھی ہوجاتا کہ جس غرض کے لئے انہوں نے کسی بت کے آگے نذریں نیازیں چڑھائیں تو ان کی غرض پوری ہوگئی یا بت کے اندر سے شیطان بول پڑا تو ایسی اتفاقی باتوں سے ان کا اعتقاد اور بھی پختہ ہوجاتا تھا۔ حالانکہ ان کی غرض بھی صرف وہی پوری ہوتی تھی جن کا پورا ہونا اللہ کی طرف سے پہلے ہی مقدر ہوچکا ہوتا تھا۔
Ayah 34:4265 اس وقت اللہ کے حضور فرشتے بھی موجود ہوں گے، مشرکین بھی اور شیاطین بھی۔ اور یہ سب کے اللہ کے سامنے محکوم اور بےبس ہوں گے۔ فرشتے بھی مشرکوں سے بیزار اور شیاطین بھی اور مشرک فرشتوں کے جواب کی وجہ سے ان سے بھی بیزار اور شیطانوں سے بھی جنہوں نے انہیں شرک کی راہ پر ڈالا تھا۔ گویا ہر ایک کو دوسرے سے بیزاری بھی ہوگی اور ہر ایک بےبس بھی ہوگا تو اس صورت میں دوسرے کو کیا فائدہ پہنچا سکے گا اور کیوں فائدہ پہنچائے گا ؟
Ayah 34:4366 یعنی ہمیں ہمارے طرز زندگی سے ہٹا کر ایک نئی راہ پر ڈالنا چاہتا ہے۔ ہمارا طرز زندگی وہ ہے جو ہمارے آباؤ اجداد سے بڑی مدت سے رائج چلا آرہا ہے اور یہ شخص جس راہ پر ڈالنا چاہتا ہے اس کی بنیاد محض اس کی اپنی اختراع کردہ باتیں ہیں۔ اور چاہتا یہ ہے کہ یہ خود ہمارا متبوع بن جائے اور ہم اس کے تابع بن کر رہیں۔ ہم بھلا یہ بات کیسے گوارا کرسکتے ہیں ؟ گویا قریش مکہ کے نزدیک پیغمبر اسلام کی دعوت محض ایک اقتدار کا مسئلہ تھا۔ اس کے علاوہ وہ کوئی بات یا دلیل ماننے کو تیار نہ تھے۔
67 اللہ کے کلام یا قرآن کریم کو کفار مکہ کا جادو کہنا اس لحاظ سے تھا کہ قرآن کی جادو اثر تاثیر سے وہ خود خائف رہتے تھے۔ انہوں نے مسلمانوں پر یہ پابندی بھی لگا رکھی تھی کہ وہ قرآن بلند آواز سے نہ پڑھا کریں کیونکہ اس طرح اس کے بیوی بچے قرآن سے متاثر ہوجاتے ہیں حالانکہ وہ کم بخت خود اس کی تاثیر سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتے تھے۔ مگر محض ضد، ہٹ دھرمی، اور چند دنیوی مفادات کی خاطر قرآن اور دعوت قرآن کا انکار کرتے اور مذاق اڑاتے تھے۔ پھر وہ جادو سے یہ مطلب بھی لیتے تھے کہ جو شخص بھی ایمان لے آتا تھا۔ اسے پھر یہ پرواہ نہ رہتی تھی کہ فلاں شخص میرا باپ ہے یا بھائی ہے یا بیٹا ہے یا فلاں میری ماں ہے یا بیٹی ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور مشرکین مکہ چونکہ ایسی جدائی ڈالنے کے لئے جادوگروں کی خدمات حاصل کیا کرتے تھے اور اس کلام سے بھی ایسی جدائی پڑجاتی تھی۔ تو اس لحاظ سے بھی وہ قرآن کو جادو کہہ دیتے تھے۔ بالفاظ دیگر وہ قرآن کے منکر ہونے کے باوجود اس بات کے قائل تھے کہ قرآن اپنے اندر جادو سے بھی زیادہ تاثیر رکھتا ہے۔
Ayah 34:4468 یعنی ان کے پاس نہ کوئی نبی آیا اور نہ ہی اللہ کی کتاب نازل ہوئی جو اس بات کی تعلیم دیتی ہو یا کم از کم تائید ہی کرتی ہو کہ جس آبائی اور مشرکانہ دین پر یہ لوگ چل رہے ہیں وہی دین برحق ہے یعنی ان کے پاس اپنے دین کی صداقت کے لئے کوئی سند نہیں ہے۔ یہ لوگ بس اسی بات پر مطمئن ہو بیٹھے ہیں کہ یہ ان کا آبائی دین ہے۔ ان کے پاس نہ آپ کو جھٹلانے کے لئے کوئی دلیل ہے اور نہ اپنے مشرکانہ عقائد کو درست ثابت کرنے کے لئے کوئی دلیل ہے۔
Ayah 34:4569 یعنی اقوام سابقہ جو تباہ کی جاچکیں وہ ان قریش مکہ سے قدو قامت، ڈیل ڈول، قوت، مال و دولت اور عیش و فراوانی غرض ہر لحاظ سے بہت زیادہ تھیں۔ یہ قریش مکہ تو ان کے مقابلہ میں دسواں حصہ بھی نہیں۔ پھر جب ان اقوام نے ہمارے رسولوں کی تکذیب کی تو انہیں اس قوت اور سطوت کے باوجود تباہ و برباد کرکے رکھ دیا گیا۔ تو آخر یہ لوگ کس کھیت کی مولی ہیں جو ہماری گرفت سے بچ سکیں گے۔
Ayah 34:4670 یعنی میری صرف ایک بات مان لو۔ ضد اور تعصب کو چھوڑ کر پوری نیک نیتی سے یہ بات سوچو، اکیلے اکیلے بھی سوچو، دو دو اور اس سے زیادہ بھی مل بیٹھ کر اور سر جوڑ کر اس بات پر غور کرو کہ جو جو الزام تم مجھ پر لگا رہے ہو کیا وہ درت ہیں ؟ اور تم جو کچھ کہہ رہے ہو نیک نیتی سے کہہ رہے ہو ؟ میری بچپن سے لے کر آج تک کی زندگی سے تم خوب واقف ہو۔ میری صداقت اور میری دیانت کے تم آج تک قائل رہے ہو۔ کیا یہ امر واقعہ نہیں کہ آج سے چند ہی برس پیشتر تعمیر کعبہ کے دوران جب تم میں حجر اسود کو رکھنے کے مسئلہ پر تم میں تنازعہ پیدا ہوگیا تھا تو تم نے کہا تھا کہ صبح جو شخص سب سے پہلے کعبہ میں داخل ہوگا تم اسے حکم تسلیم کرلو گے۔ پھر جب میں صبح کعبہ میں آیا تو تم سب نے برضا ورغبت مجھے حکم تسلیم کرنے پر اتفاق کرلیا تھا۔ پھر جب میں نے ایک چادر بچھا کر اس پر حجر اسود رکھ دیا اور تم سب کو کونوں سے چادر اٹھانے کو کہا تھا پھر مطلوبہ بلند پر پہنچنے پر میں نے حجر اسود خود اٹھا کر اس مقام پر رکھ دیا تھا۔ تو تم سب نے نہ صرف یہ کہ میرے فیصلہ کو برضا ورغبت تسلیم کرلیا تھا بلکہ میری دانشمندی کی داد بھی دی تھی اور آج تم ہی لوگ ہو جو مجھے دیوانہ کہتے ہو، کبھی یہ کہتے ہو کہ میں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے اور کبھی یہ کہتے ہو کہ میں قرآن خود بنا کر تمہیں دھوکا دے رہا ہوں۔ خدارا کچھ تو انصاف کی بات کرو۔
71 کیا تمہارے خیال میں میں اس لئے دیوانہ ہوں کہ تمہیں یہ بتلا رہا ہوں جو طریق زندگی تم نے اپنا رکھا ہے وہ غلط ہے۔ اور اس کے برے انجام سے ڈرا رہا ہوں۔ اور اگر میں یہ کہہ دیتا کہ شاباش ! تم لوگ بہت ٹھیک جارہے ہو تب تو سب معاملہ ٹھیک ٹھاک تھا۔ اور اگر میں تمہیں چند ٹھوس حقائق کی اطلاع دیتا ہوں تو تم مجھے دیوانہ کہنے لگے ہو۔
Ayah 34:4772 دوسری یہ بات بھی سوچو کہ جب سے میں دعوت الی اللہ کا کام شروع کیا ہے۔ دن رات اسی کام میں لگا ہوا ہوں۔ تم سب لوگوں کی دشمنی بھی مول لے لی ہے۔ اپنا روزگار بھی ختم کردیا ہے۔ تم سے بھی نہ کوئی معاوضہ طلب کرتا ہوں نہ کوئی دوسری غرض رکھتا ہوں۔ تو کیا ایک دنیادار یا فریب کار اور اقتدار کا بھوکا یہ کام کرسکتا ہے یا ایسی بےلوٹ خدمت سرانجام دے سکتا ہے ؟ میں تم سے پیسہ نہیں مانگتا البتہ یہ ضرور چاہتا ہوں کہ تم غلط راستہ کو چھوڑ کر سیدھے راستہ کی طرف آجاؤ۔ یہی میرا تم سے معاوضہ ہے اور یہی مطالبہ ہے اور اس میں تمہاری ہی بھلائی ہے۔
Ayah 34:4873 یعنی آسمان سے جو وحی نازل ہو رہی ہے وہ حق ہے اور جو تمہارا طرز عمل ہے وہ باطل ہے۔ یہ حق باطل کا سر توڑ دے گا اور اس کا کچومر نکال دے گا۔ باطل کو بالآخر راہ فرار اختیار کرنا ہی پڑے گی۔ اور حق اس پر غالب آکے رہے گا۔ اللہ علام الغیوب ہے۔ اس نے عین موقعہ پر مجھے اپنے وحی کے ساتھ بھیجا ہے۔ اور وہ خوب جانتا ہے کہ باطل کا سر توڑنے کے لئے یہی مناسب موقع ہے۔