34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 34:49

قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ مَا یُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَ مَا یُعِیْدُ Open ayah 34:49 in the Quran reader

آپ کہئے کہ حق آگیا اور باطل 74 نے تو نہ پہلی بار کچھ پیدا کیا تھا نہ دوبارہ کچھ کرسکے گا۔

74 یہاں باطل سے بعض لوگوں نے مراد معبودان باطل لیا ہے۔ یعنی ان باطل معبودوں نے کائنات میں پہلے بھلا کون سی چیز پیدا کی تھی کہ اب وہ دوبارہ وہ کچھ کرسکیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ معبود قطعی بےاختیار اور مجبور محض ہیں۔ تم لوگ ان سے خواہ مخواہ ہی کئی طرح کی توقعات وابستہ کئے بیٹھے ہو۔ اور اگر باطل کو اپنے ہی معنوں میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا۔ کہ باطل کو کبھی استقلال نصیب نہیں ہوتا۔ جسے ہم اپنی زبان میں کہتے ہیں کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ کسی بھی بات کی تحقیق شروع کرو۔ باطل کو فوراً وہاں سے رخصت ہونا پڑے گا۔ باطل کی ضد حق ہے۔ یعنی جوں جوں حق آجاتا ہے، باطل از خود رخصت ہوتا چلا جاتا ہے۔ فتح مکہ کے دن جب آپ اپنی چھڑی سے بتوں کو گرا رہے تو اس وقت ساتھ ساتھ یہ آیت بھی پڑھتے جاتے تھے۔ ( وَقُلْ جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۭ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا 81؀) 17 ۔ الإسراء :81)
Ayah 34:50

قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَاۤ اَضِلُّ عَلٰى نَفْسِیْ١ۚ وَ اِنِ اهْتَدَیْتُ فَبِمَا یُوْحِیْۤ اِلَیَّ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ Open ayah 34:50 in the Quran reader

آپ ان سے کہئے کہ اگر میں راہ بھولا ہوا ہوں تو اس بھول کا وبال مجھ پر 75 ہوگا اور اگر میں سیدھی راہ پر گامزن ہوں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ میرا پروردگار میری طرف وحی کرتا ہے وہ یقینا سب کچھ سننے والا ہے اور قریب ہے۔

75 یعنی اگر میں نے یہ محض ایک ڈھونگ ہی رچایا ہوا ہے تو آخر یہ کتنے دل چل سکتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ اس صورت میں تمہیں میری فکر چھوڑ دینا چاہئے میں اس باطل کے انجام سے جلد از جلد خود ہی دوچار ہوجاؤں گا اور اس کا وبال تم پر کچھ نہ ہوگا۔ لیکن اگر میں راہ راست ہوں تو اس راست روی کا ذریعہ سوا وحی الٰہی کے اور کیا ہوسکتا ہے ؟ تمہارے پاس تو تقلید آباء ذریعہ معلومات ہے۔ میرے پاس تو وہ بھی نہیں اس صورت میں تم خود ہی سوچ لو کہ تمہارا انجام کیا ہوسکتا ہے۔ میرا پروردگار جو اس پیغام کو بھیجنے والا ہے ہماری سب باتیں سن رہا ہے اور وہ جلد ہی حق کی مدد فرمائے گا۔
Ayah 34:51

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ فَزِعُوْا فَلَا فَوْتَ وَ اُخِذُوْا مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ Open ayah 34:51 in the Quran reader

کاش آپ دیکھیں جب وہ وہ گھبرائے ہوئے ہوں گے تو بچ نہ سکیں گے بلکہ قریب ہی سے پکڑ 76 لئے جائیں گے۔

76 یعنی ایسے مجرموں کو کہیں دور سے تلاش نہیں کرنا پڑے گا۔ بلکہ وہ جہاں بھی ہوں گے وہیں گرفتار کر لئے جائیں گے کہیں بھاگ کھڑا ہونے کی ان میں ہمت ہی نہ ہوگی۔
Ayah 34:52

وَّ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖ١ۚ وَ اَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍۚۖ Open ayah 34:52 in the Quran reader

اور کہیں گے کہ (اب) ہم اس پر ایمان لے آئے اور اتنے دور 77 مقام سے اب انہیں (ایمان) حاصل کرنا کہاں سے میسر ہوگا۔

77 یعنی ایمان لانے کا مقام تو دنیا ہے اور اس وقت وہ عالم آخرت میں پنچ چکے۔ اور ان دونوں کے درمیان طویل فاصلہ ہے اور طویل مدت ہے۔ پھر وہ ایمان کیسے حاصل کرسکتے ہیں۔ بالفاظ دیگر ایمان تو ایمان بالغیب کا نام ہے۔ اور اس کا مقام دنیا ہے جہاں کئی غیب کے پردے پڑے ہوئے ہیں۔ اور آخرت میں غیب کا کوئی پردہ باقی نہ رہے گا۔ ہر شخص حقیقت حال کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لے گا۔ وہاں ایمان لانے یا ایسی بات کہنے کا کچھ مطلب ہی نہ ہوگا۔
Ayah 34:53

وَّ قَدْ كَفَرُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ یَقْذِفُوْنَ بِالْغَیْبِ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 34:53 in the Quran reader

حالانکہ اس سے پہلے وہ (دنیا میں) انکار کرچکے تھے اور بن دیکھے (اندھیرے میں) انہیں بہت دور کی سوجھتی 78 تھی۔

78 یعنی جب دنیا میں ان سے عالم آخرت کی بات کی جاتی تھی تو اس پر غور کرنے کے بجائے اسے دیوانگی پر محمول کرتے تھے۔ کبھی داعی حق کو مفتری علی اللہ کے لقب سے نوازتے تھے۔ کبھی کہتے تھے کہ اسے کوئی عجمی سکھلا جاتا ہے۔ کبھی اسے ساحر، کاہن اور شاعر کے طعنے دیتے تھے۔ ان دل کے اندھوں کو بصالت کے اندھیروں میں بہت دور کی سوجھتی تھی۔ لیکن نیک نیتی کے ساتھ غور و فکر کرنے کا نام تک نہ لیتے تھے۔
Ayah 34:54

وَ حِیْلَ بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ مَا یَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْیَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِیْ شَكٍّ مُّرِیْبٍ۠ Open ayah 34:54 in the Quran reader

اس وقت ان کے اور ان کی خواہش کی چیزوں کے درمیان 79 پردہ حائل کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اس سے پہلے ان کے ہم جنسوں سے یہی سلوک کیا گیا تھا۔ وہ بھی ایسے شک میں پڑے 80 ہوئے تھے جو انہیں بےچین کئے ہوئے تھا۔

79 اس وقت ان کی خواہشات کیا ہوں گی۔ یہی کہ ہم ایمان لے آئیں یا ہمیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے یا کوئی ایسی صورت بن جائے کہ ہم عذاب سے بچ سکیں یا ہمارے لئے کوئی سفارش کرنے والا یا ہمارا کوئی مددگار ہی اٹھ کھڑا ہو۔ اس دن ان کی اس قسم کی تمام خواہشات کو یوں ختم کرکے انہیں مایوس کردیا جائے گا جیسے ان کی خواہشات کے آگے بند باندھ کر انہیں ان سے یکسر اوجھل کردیا گیا ہے۔ پھر انہیں سوا عذاب بھگتنے کے کوئی دوسرا خیال بھی نہ آسکے گا۔ 80 أشیاع شیعہ کی جمع ہے اور شیعہ کے معنی پارٹی یا سیاسی فرقہ ہے۔ جس کی بنیاد عقیدہ کا اختلاف ہو اور شیعہ کی جمع شیعا بھی آتی ہے۔ اور اشیاعجس اس کی جمع اشیاع آئے تو اس کے معنی ایک ہی جیسی عادات واطوار رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں خواہ وہ پہلے گزر چکے ہوں یا موجود ہوں۔ اور قریش مکہ کی بنیادی گمراہیاں دو تھیں ایک بت پرستی اور اللہ سے شرک۔ اور اپنے بتوں کو اختیار و تصرف میں اللہ کا شریک سمجھنا دوسرے انکار آخرت۔ اب جو لوگ بھی ان دو قسم کی گمراہیوں میں قریش کے ہمنوا ہوں گے وہ سب قریش کے اشیاع ہیں۔ خواہ وہ قریش سے پہلے گزر چکے ہوں یا بعد میں آئیں۔ اللہ تعالیٰ یہ فرما رہے ہیں کہ اس قسم کے لوگوں کے ان عقائد کی بنیاد علم پر نہیں ہوتی۔ بلکہ محض شکوک و ظنون پر ہوتی ہے۔ وہ یہ کبھی بدلائل ثابت نہیں کرسکتے کہ ان کے معبود فی الواجہ اللہ کے اختیارات میں شریک ہیں نہ ہی وہ یہ ثابت کرسکتے ہیں کہ وہ دوبارہ پیدا نہیں کئے جاسکتے یا قیامت نہیں آسکتی۔ وہ خود بھی اس بارے میں ہمیشہ مشکوک ہی رہتے ہیں۔ اور شک بھی ایسا جو انہیں بےچین کئے رکھتا ہے۔ مگر وہ محض اپنے بعض مفادات کی خاطر اپنے ان شکوک کا برملا اظہار نہیں کرتے۔