35. Surah Faatir

فاطرThe Originator · 45 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 35:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا اُولِیْۤ اَجْنِحَةٍ مَّثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ؕ یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 35:1 in the Quran reader

سب تعریف اس اللہ کے لئے ہے جو آسمانوں اور زمین کو پیدا 1 کرنے والا اور فرشتوں کو پیغام رساں 2 بنانے والا ہے۔ جن کے دو دو 3 ، تین تین اور چار چار بازو ہیں۔ وہ اپنی مخلوق کی ساخت میں جیسے چاہے اضافہ 4 کردیتا ہے کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

1 فَطَرَ کا مفہوم :۔ پیدا کرنے کے معنوں میں قرآن کریم میں چھ مترادف الفاظ آئے ہیں۔ اور ہر لفظ کے مفہوم میں کچھ نہ کچھ فرق ہوتا ہے۔ فطر کا معنی کسی چیز کو پیدا کرنا، پھر اس کو تراش خراش کرکے اسے خوبصورت شکل دینا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے آسمانوں یا زمین یعنی کائنات کو صرف پیدا ہی نہیں کیا بلکہ اسے تراش خراش کر بہترین شکل و صورت پر بنایا ہے۔ 2 پیغام رساں فرشتے :۔ فرشتوں کے ذمہ کئی قسم کے کام ہیں۔ جن میں سے ایک کام پیغام رسانی بھی ہے۔ پیغام رسانی کی ایک قسم تو معروف ہے کہ جبرئیل فرشتہ اللہ کا پیغام لے کر نبی کے دل پر نازل ہوتا ہے۔ باقی صورتیں یہ ہیں کہ جو فرشتے تدبیر امور کائنات پر مامور ہیں ان کے ہاں بھی بعض فرشتے اللہ کا حکم لے کر پہنچتے ہیں اور پیغام رسانی کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔ 3 فرشتوں کے پر اور سرعت رفتار :۔ فرشتوں کے پر کیسے ہوتے ہیں ؟ یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ ہمارے ذہن میں تو پرندوں کے پر ہی آسکتے ہیں۔ جو فضا میں اڑنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے پرندوں کو عطا کیے ہیں اس سے یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے۔ جس فرشتے کو جتنی زیادہ سرعت رفتار سے اپنی ڈیوٹی پر پہنچنا ہوتا ہے اسی قدر اسے زیادہ پر عطا کیے جاتے ہیں، کم سے کم دو پر ہوتے ہیں پھر کسی فرشتے کے تین پر بھی ہوتے ہیں اور کسی کے چار بھی۔ اس آیت سے اس حقیقت کا بھی پتا چلتا ہے کہ فرشتے دراصل اللہ تعالیٰ کے خادم اور فرمانبردار بندے ہیں۔ وہ وہی کام کرتے ہیں جس کا اللہ انہیں حکم دیتا ہے اور اتنا ہی کرتے ہیں جتنا انہیں حکم ہوتا ہے۔ وہ اپنے ارادہ و اختیار سے نہ اللہ کے حکم میں سرمو کمی بیشی کرسکتے ہیں اور نہ ہی اس سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ گویا اس آیت سے تمام مشرکوں کے اس نظریہ کی تردید ہوگئی جو انہیں ایک بااختیار بلکہ اللہ کے اختیار و تصرف میں شریک سمجھ کر ان کی پرستش کرتے ہیں۔ 4 ربط مضمون کے لحاظ سے اس جملہ کا معنی یہ ہوگا کہ بعض فرشتوں کے پر چار سے زیادہ بھی ہوسکتے ہیں۔ جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ میں نے ایک دفعہ جبرئیل کو اس کی اصلی حالت میں دیکھا۔ اس کے چھ سو پر تھے۔ اور مشرق و مغرب کی پوری فضا اس سے بھری ہوئی دکھائی دیتی تھی۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ تفسیر سورة نجم) اگر اس جملہ کو عام سمجھا جائے تو یہ بہت وسیع معنوں میں استعمال ہوگا۔ مثلاً وہ انسان کی نسل جتنی چاہے بڑھاتا رہتا ہے۔ حیوانات اور نباتات کی نئی سے نئی انواع وجود میں لاتا رہتا ہے۔ نئے سے نئے سیارے کائنات میں پیدا کرتا رہتا ہے اور کائنات کو ہر آن وسیع کر رہا ہے۔
Ayah 35:2

مَا یَفْتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا١ۚ وَ مَا یُمْسِكْ١ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 35:2 in the Quran reader

اللہ اگر لوگوں کے لئے اپنی رحمت (کا دروازہ) کھول دے تو اسے کوئی بند کرنے والا نہیں اور جسے وہ بند کردے تو اس کے بعد اسے کوئی کھولنے والا 5 نہیں۔ اور وہ سب پر غالب اور حکمت والا ہے۔

5 رحمت کی مادی شکل بارش اور روحانی شکل وحی الٰہی ہے۔ باقی ہر طرح کی رحمتیں ان کے بعد ہیں۔ اور یہ دونوں باتیں خالصتاً اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ جن میں مشرکوں کے معبودوں کا ذرہ بھر بھی دخل نہیں۔ وہ چاہیں بھی کہ وحی الٰہی کو روک دیں تو کبھی نہیں کرسکتے۔ اور نہ ہی وہ یہ کرسکتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ قریش پر قحط مسلط کر دے تو وہ بارش برسا کر اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو رفع کردیں اور جو کچھ خود چاہتا ہے اپنی حکمت بالغہ کے مطابق کرتا ہے اور جو کچھ کرنا چاہتا ہے وہ کر گزرتا ہے۔ اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ کیونکہ وہ سب پر غالب ہے۔
Ayah 35:3

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللّٰهِ یَرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۖ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 35:3 in the Quran reader

لوگو ! اپنے آپ پر اللہ کے احسان کو یاد رکھو، کیا اللہ کے سوا کوئی خالق ہے جو تمہیں آسمانوں اور زمین سے رزق دے (یاد رکھو) اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، پھر تم کہاں 6 سے دھوکہ کھا جاتے ہو

6 بارش سب جانداروں کے رزق کا ذریعہ ہے :۔ آسمانوں سے جو بارش نازل ہوتی ہے۔ وہ زمین میں جذب ہو کر سب جانوروں کی روزی اور ان کی زندگی کی بقا کا ذریعہ بنتی ہے۔ اب اگر اس بارش برسنے کے نظام پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے عوامل و عناصر ہیں جنہیں اللہ نے اس خدمت پر مامور کر رکھا ہے۔ تب جاکر بارش برستی ہے اور یہ سب عناصر و عوامل خالصتاً اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ اور ان میں مشرکوں کے معبودوں کا کوئی عمل دخل نہیں۔ جس سے واضح طور پر معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی بھی ہستی عبادت کا استحقاق نہیں رکھتی۔ پھر یہ کس قدر ناقدر شناسی اور نمک حرامی کی بات ہے کہ روزی تو اللہ کی دی ہوئی کھائیں اور عبادت کریں اللہ کے سوا دوسروں کی۔ یا دوسروں کو بھی اس عبادت میں شریک بنالیں ؟ لہذا اے مشرکین مکہ ! کچھ بتاؤ تو سہی کہ تمہاری عقلوں کو یہ پھیر کہاں سے لگ جاتا ہے ؟
Ayah 35:4

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 35:4 in the Quran reader

(اے نبی ! ) اگر ان لوگوں نے آپکو جھٹلایا 7 ہے تو آپ سے پہلے بھی رسولوں کو جھٹلایا جاچکا ہے اور سب کام لوٹائے تو اللہ ہی کی طرف جائیں گے۔

7 یہ مضمون قرآن میں متعدد بار آیا ہے۔ بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ اکثر مکی سورتوں میں آیا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ تیرا سالہ مکی دور میں کفار مکہ ڈٹ کر آپ کی مخالفت کرتے رہے اور اس سلسلہ میں انہوں نے اوچھے سے اوچھے ہتھکنڈے بھی استعمال کئے۔ ایذائیں بھی پہنچائیں، تکذیب بھی کرتے رہے۔ تمسخر بھی اڑاتے رہے۔ جبکہ مسلمانوں کو صرف یہ حکم تھا کہ یہ سب باتیں صبر و تحمل کے ساتھ برداشت کرتے جائیں۔ البتہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بار بار پیغمبراسلام اور مسلمانوں کی تسلی اور حوصلہ افزائی کے لئے ایسے جملے نازل کرتا رہا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ حق و باطل کی کشمکش میں پہلے بھی رسولوں سے ایسا ہی سلوک ہوتا رہا ہے اور کسی بھی بات کا فیصلہ اور انجام ان لوگوں کے ہاتھ میں نہیں بلکہ سب کاموں کا انجام اور فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ لہذا اطمینان رکھئے اور اللہ پر توکل کیجئے۔
Ayah 35:5

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 35:5 in the Quran reader

لوگو ! اللہ کا وعدہ سچا ہے لہذا تمہیں دنیا کی زندگی دھوکہ 8 میں نہ ڈال دے اور نہ ہی اللہ کے بارے میں وہ دھوکہ باز 9 (شیطان) تمہیں دھوکہ دینے پائے۔

8 یعنی دنیا کے مال و دولت، اس کے عیش و آرام، اس کی دلکشیوں اور دلفریبیوں میں محو اور مستغرق ہو کر اپنے انجام کو بھول نہ جانا۔ اللہ کے ہاں ہر نعمت سے متعلق باز پرس ہونے والی ہے کہ اس کا شکریہ ادا کیا تھا یا ناشکری کی تھی۔ نیز اس دنیا میں کوئی بھی چیز بےکار پیدا نہیں کی گئی۔ ہر عمل اپنا ایک نتیجہ رکھتا ہے۔ اور اس کے محاسبہ سے تم بچ نہیں سکتے۔ لہذا اس دھوکہ میں نہ رہنا کہ زندگی بس یہی دنیا کی زندگی ہے۔ تمہارے تمام تر اعمال ریکارڈ ہو رہے ہیں اور ان کے نتائج تمہیں دوسری زندگی میں بھگتنا ہوں گے۔ اللہ کا یہ وعدہ ہے اور یہی اس کا قانون مکافات ہے جس کا خلاف کبھی نہیں ہوسکتا۔ 9 شیطان کا اللہ کے نام پر لوگوں کو دھوکا دینا :۔ غرور بمعنی بہت بڑا دھوکا باز اور یہ شیطان ہے۔ جو اللہ ہی کے بارے میں انسان کو دھوکا میں ڈالے رکھتا ہے۔ سب سے پہلے تو وہ اللہ کی ہستی کے بارے میں لوگوں کو دھوکا دیتا ہے اور وہ اس کے دھوکہ میں آکر اللہ کی ہستی کے ہی منکر بن جاتے ہیں اور جو لوگ شیطان کے اس فریب سے بچ نکلتے ہیں تو وہ اللہ کی صفات میں بہت سی دوسری ہستیوں کو شریک بنانے کی راہیں سجھاتا ہے اور ہر دور میں نئی نئی راہیں سجھاتا ہے کچھ لوگ مظاہر کائنات کے پجاری ہیں کچھ فرشتوں کچھ جنوں کچھ اولیاء اللہ اور ان کی قبروں سے امید لگائے بیٹھے ہیں۔ ہر دور میں شیطان انہیں شرک کے جواز پر نئی سے نئی دلیلیں سجھاتا رہتا ہے۔ پھر جو لوگ اس فریب سے بھی بچ نکلتے ہیں انہیں یہ پٹی پڑھاتا رہتا ہے کہ اگر تم سے یہ گناہ سرزد ہو بھی گیا تو اللہ بڑا غفور رحیم ہے یا ابھی بہت زندگی پڑی ہے۔ بعد میں توبہ تائب کرلیں گے۔ اس طرح شیطان لوگوں کو اللہ اور اس کے عذاب سے نڈر اور گناہوں پر جری بنا دیتا ہے۔
Ayah 35:6

اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْهُ عَدُوًّا١ؕ اِنَّمَا یَدْعُوْا حِزْبَهٗ لِیَكُوْنُوْا مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِؕ Open ayah 35:6 in the Quran reader

شیطان یقینا تمہارا دشمن ہے۔ لہذا اسے دشمن ہی سمجھو۔ وہ تو اپنے پیرو کاروں کو صرف اس لئے بلاتا ہے کہ وہ 10 دوزخی بن جائیں

10 لہذا اے لوگو ! تم شیطان کے فریب میں نہ آجانا۔ اس کی ایک بھی بات نہ ماننا۔ وہ پہلے دن سے تمہارا دشمن ہے۔ لہذا تم اسے دشمن ہی سمجھو گے تو اسی میں تمہاری عافیت ہے وہ کبھی تمہارا دوست نہیں بن سکتا۔ وہ شرکیہ عقائد و بدعات خواہ کس خوبصورت انداز میں پیش کرے اور تم اسے کار ثواب اور اس میں فلاح دارین ہی سمجھنے لگو حقیقت میں وہ تمہارے ساتھ دشمنی کر رہا ہوتا ہے۔ اس کا تو اولین مقصد ہی یہ ہے کہ وہ اکیلا دوزخ میں نہ جائے بلکہ جنوں اور انسانوں کی ایک کثیر تعداد کو اپنا ساتھی بناکر اپنے ہمراہ دوزخ میں لے جائے۔
Ayah 35:7

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ۠ Open ayah 35:7 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے انہیں سخت عذاب ہوگا اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کے لئے بخشش اور بہت بڑا 11 اجر ہے۔

11 یعنی ایماندار نیک اعمال کرنے والوں کے گناہ تو سارے کے سارے معاف کردیئے جائیں گے۔ رہے نیک اعمال تو ان کا بدلہ بھی اعمال کے مطابق نہیں بلکہ ان سے بہت زیادہ دیا جائے گا۔
Ayah 35:8

اَفَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ فَرَاٰهُ حَسَنًا١ؕ فَاِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۖ٘ فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَیْهِمْ حَسَرٰتٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 35:8 in the Quran reader

بھلا جس شخص کا برا عمل خوشنما بنادیا جائے اور وہ اسے اچھا سمجھنے لگے (اس کی گمراہی کا کوئی ٹھکانہ ہے) ؟ اللہ تعالیٰ (اسی طرح) جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ لہذا آپ ان پر افسوس کے مارے اپنے آپ کو ہلکان نہ کریں، جو کچھ وہ کر رہے اللہ یقینا انہیں خوب جاننے والا ہے

12 کافروں کے ایمان نہ لانے پر آپ کا پریشان رہنا :۔ اس آیت میں ایک جملہ مخدوف ہے جسے قاری کے فہم و بصیرت پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اور یہ فصاحت و بلاغت کی دلیل ہوتی ہے۔ اور قرآن میں ایسے محذوفات بکثرت پائے جاتے ہیں۔ یہاں سوال یہ کیا گیا ہے کہ بھلا ایسا شخص جس کے ذہن میں اتنا بگاڑ پیدا ہوچکا ہو کہ اس کے نزدیک نیکی اور بدی کی تمیز ہی ختم ہوجائے اور اسے اپنی بداعمالیاں ہی اچھے اعمال نظر آنے لگیں، اس سوالیہ جملے کا اگلا حصہ چھوڑ دیا گیا ہے۔ جو ایک تو یہ ہوسکتا ہے کہ اس کی گمراہی کا کوئی ٹھکانا ہے ؟ جیسا کہ ترجمہ میں (بریکٹوں میں لکھ دیا گیا ہے) اور دوسرا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کیا ایسے بگڑے ہوئے ذہن والا آدمی اس آدمی کی طرح ہوسکتا ہے جس کا ذہن بالکل درست ہو جو برے کام کو برا ہی سمجھتا ہو اور اچھا صرف اسے سمجھتا ہو جو فی الواقع اچھا ہو ؟ اور اس کا واضح جواب یہ ہے کہ یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ مقصود یہ ہے کہ جس شخص کا ذہن اس قدر بگڑ چکا ہو کہ اس میں بدی کو بدی سمجھنے کی اہلیت ہی باقی نہ رہ گئی ہو ایسے شخص کو اللہ کبھی ہدایت کی راہ نہیں دکھاتا۔ اللہ تو صرف اسے ہدایت کی راہ دکھاتا ہے جو کم از کم بدی کو بدی سمجھتا تو ہو۔ اور ان مشرکین مکہ کی حالت یہ ہوچکی ہے کہ وہ مسلمانوں پر جس قدر بھی ظلم ڈھائیں۔ وہ اپنے اس ظلم و تشدد کو خوبی اور اچھا کام ہی سمجھتے ہیں۔ پھر انہیں ہدایت کیسے مل سکتی ہے لہذا ایسے ذہنی بگاڑ میں مبتلا مریضوں کی ہدایت کی فکر میں اپنے آپ کو ہلکان نہ کریں۔ ایسے لوگوں پر افسوس کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ جو کچھ وہ کر رہے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے وہ خود ان سے نمٹ لے گا اور مسلمانوں کے لئے ان ظالموں کے ظلم سے نجات کی راہ خود پیدا کردے گا۔
Ayah 35:9

وَ اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَسُقْنٰهُ اِلٰى بَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَحْیَیْنَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ كَذٰلِكَ النُّشُوْرُ Open ayah 35:9 in the Quran reader

اللہ ہی تو ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے تو وہ بادل اٹھا لاتی ہیں پھر ہم اس بادل کو کسی مردہ بستی کی طرف چلا کرلے جاتے ہیں اور اس زمین کے مردہ ہونے کے بعد اسے زندہ کردیتے ہیں۔ انسانوں 13 کا جی اٹھنا بھی اسی طرح ہوگا۔

13 نباتات کی پیدائش سے معاد پر دلیل :۔ یہ ایک عام انسانی مشاہدہ سے معاد پر دلیل ہے۔ انسانی مشاہدہ یہ ہے کہ بارش ہوتی ہے تو خشک، بنجر اور مردہ زمین یک دم زندہ ہو کر نباتات سے لہلہا اٹھتی ہے پھر اس سے صرف نباتات ہی پیدا نہیں ہوتی ہزاروں جانور، مینڈک، حشرات الارض اور جھینگر وغیرہ بھی پیدا ہو کر اپنی اپنی بولیاں بولنے لگتے ہیں۔ یہ آخر کہاں سے پیدا ہوگئے ؟ بالکل یہی کیفیت انسانوں کے زمین سے جی اٹھنے کی بھی ہوگی۔ اور روایات میں آیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا کہ تمام انسان زندہ ہو کر اپنی اپنی قبروں سے اگ آئیں یا اٹھ کھڑے ہوں تو عرش کے نیچے سے ایک خاص قسم کی بارش ہوگی جس سے سب انسان زندہ ہو کر زمین سے اس طرح نکل آئیں گے جس طرح برسات سے کھیتی اور حشرات الارض نکل آتے ہیں۔ ان میں فرق صرف یہ ہے کہ جو چیز انسان کے مشاہدہ میں آچکی ہے۔ اسے من و عن تسلیم تو کرلیتا ہے لیکن اس میں غور کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا اور جو چیز اس کے مثل ہے مگر ابھی اس کے مشاہدہ میں نہیں آئی اس سے انکار کردیتا ہے۔
Ayah 35:10

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِیْعًا١ؕ اِلَیْهِ یَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُهٗ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَمْكُرُوْنَ السَّیِّاٰتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ مَكْرُ اُولٰٓئِكَ هُوَ یَبُوْرُ Open ayah 35:10 in the Quran reader

جو شخص عزت چاہتا ہے تو عزت 14 تو تمام تر اللہ ہی کے لئے ہے۔ پاکیزہ کلمات اسی کی طرف چڑھتے ہیں 15 اور صالح عمل انہیں اوپر اٹھاتا ہے اور جو لوگ بری چالیں 16 چلتے ہیں تو ایسے لوگوں کے لئے سخت عذاب ہے، اور ان کی چال ہی برباد ہونے والی ہے۔

14 مشرکین مکہ کی حرم کعبہ کی وجہ سے عرب بھر میں عزت کی جاتی تھی وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر وہ اسلام لے آئے تو یہ سارا بنا بنایا کھیل بگڑ جائے گا۔ انہیں یہ سمجھایا جارہا ہے کہ یہ عزت بھی تمہیں کعبہ کے متولی اور پاسبان ہونے کی وجہ سے حاصل ہے۔ اور کعبہ کو حرم بنانے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ تم اور تمہارے معبودوں میں یہ طاقت نہیں تھی کہ تم مکہ کو حرم بناسکتے۔ اب اگر تم کعبہ کے مالک ہی کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے ہو تو سوچ لو تمہاری یہ عزت کیسے برقرار رہ سکتی ہے ؟ عزت تو صرف اسے ملے گی جو اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار ہو کیونکہ تمام تر عزت کا سرچشمہ تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے تم لوگ اس کے دشمن بن کر کبھی عزت نہ پا سکو گے۔ 15 پاکیزہ کلمہ اور اعمال صالحہ کا باہمی تعلق :۔ پاکیزہ کلمات اور پاکیزہ اعمال دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ اور دونوں ایک دوسرے کے مؤید اور مددگار ہیں۔ پاکیزہ کلمات یا اقوال اللہ کی طرف اس وقت چڑھتے ہیں جب کہ ان کی تائید اعمال صالحہ سے بھی ہو رہی ہو۔ اور اگر عمل پاکیزہ اقوال کے خلاف ہو تو یہ پاکیزہ اقوال بھی نہ اوپر چڑھ سکتے ہیں نہ اللہ کے ہاں مقبول ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح اعمال صالحہ بھی اسی صورت میں اللہ تعالیٰ کی طرف چڑھتے ہیں جبکہ ان کی بنیاد پاکیزہ اقوال یا درست عقیدہ پر ہو۔ اگر عقیدہ درست نہ ہوگا تو ایسے اعمال بھی نہ اوپر چڑھیں گے اور نہ ہی مقبولیت کا درجہ حاصل کرسکتے ہیں۔ پاکیزہ کلمات میں سب سے پہلے نمبر پر تو کلمہ طیبہ ہے جس میں شرک کا پورا رد موجود ہے اور توحید خالص کا اقرار ہے۔ پھر اللہ کا ذکر، دعا، قرآن کی تلاوت وغیرہ آخرت وغیرہ سے متعلق ٹھوس حقائق پر مبنی ہیں۔ یہ کلمات اللہ کی طرف بلند ضرور ہوتے ہیں مگر اس شرط پر کہ انہیں اعمال صالحہ یا ان اقوال پاکیزہ کے مطابق افعال کی تائید بھی حاصل ہو۔ یہی صورت اعمال صالحہ کی ہے ان کی مقبولیت کی شرط یہ ہے کہ ان کی بنیاد اقوال پاکیزہ پر اٹھی ہو۔ 16 کفار مکہ کی چال کیسے ان پر الٹ پڑی ؟ برُی چالوں سے مراد کفار کی ہر وہ تدبیر ہے جس سے اسلام کی راہ روکی جاسکتی ہو۔ اور کفار مکہ کی تو ساری زندگی ہی بری چالوں میں گزری تھی۔ تاآنکہ مکہ فتح ہوگیا اور کفر کی کمر ہی ٹوٹ گئی۔ ویسے تو کفار مکہ پیغمبر اسلام کی زندگی کا خاتمہ کرنے کی بھی کئی کوششیں کرچکے تھے تاہم ان سب سے زیادہ خطرناک چال وہ تھی جو دارالندوہ میں ابو جہل نے پیش کی تھی اور جس پر شیطان بھی خوش ہوگیا تھا۔ کہ واقعی یہ چال بڑے بلند درجہ کی چال ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے سورة انفال کی آیت نمبر 30 کا حاشیہ) اور یہی تدبیر ان کافروں کی ہلاکت کا باعث یوں بنی کہ ان کی اس سازش کے فوراً بعد اللہ نے اپنے پیغمبر کو صحیح وسالم نکال کر مدینہ میں آباد کیا۔ کفار نے بدلہ لینے کی ٹھانی تو جنگ بدر کے مقام پر اللہ نے انہیں شکست فاش سے دوچار کردیا۔ ان کے ستر بڑے بڑے سرغنے قتل ہوگئے۔ جنہیں نہایت ذلت کے ساتھ قلیب بدر میں پھینک دیا گیا۔ اور اتنے ہی آدمی قید ہوگئے تو ان کے سب کس بل نکل گئے۔
Ayah 35:11

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ اَزْوَاجًا١ؕ وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ مَا یُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ وَّ لَا یُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهٖۤ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 35:11 in the Quran reader

اللہ نے تمہیں مٹی سے، پھر نطفہ سے پیدا کیا ہے پھر تمہیں جوڑے جوڑے 17 بنایا۔ جو بھی مادہ حاملہ ہوتی یا بچہ جنتی ہے تو اللہ کو اس کا علم ہوتا ہے۔ اور کوئی بڑی عمر والا جو عمر دیا جائے یا اس کی عمر کم کی جائے تو یہ سب کچھ کتاب میں درج ہے۔ اللہ کے لئے یہ بات بالکل آسان ہے۔

17 جنین پر وارد ہونے والے تغیرات اور اللہ تعالیٰ کی انفرادی توجہ :۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے مٹی کے چند اجزاء سے آدم کا پتلا بنایا۔ پھر اس میں اپنے ہاں سے روح پھونکی، تو یہی مٹی کے اجزا، گوشت پوست، ہڈیوں اور عضلات میں تبدیل ہوگئے پھر صرف اتنا ہی نہیں ہوا بلکہ اس میں اللہ کی اپنی کئی صفات بھی منعکس ہوگئیں وہ بولنے لگا۔ دیکھنے اور سننے لگا، سمجھنے لگا اس میں عقل پیدا ہوگئی۔ فہم و تدبر پیدا ہوگیا اور استنباط کا ملکہ پیدا ہوگیا۔ پھر آگے جو اس کی نسل چلی تو اس کے نطفہ سے چلی۔ یہ نطفہ کیا تھا، مٹی کے بےجان عناصر سے ہی حاصل شدہ چیز تھی۔ اور اس حقیر سے قطرہ میں اس انسان کے کثیر خواص منتقل ہوگئے جس کا یہ نطفہ تھا پھر اسی نطفہ سے اللہ نے جنس انسان کو مرد اور عورت کی دو نوعوں میں تبدیل کردیا۔ غرضیکہ اللہ کے عجائبات کا کہاں تک ذکر کیا جائے۔ مزید حیران کن بات یہ ہے کہ رحم مادر میں اللہ تعالیٰ ہر پیدا ہونے والے بچے کی طرف انفرادی توجہ مبذول فرماتے ہیں۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ رحم مادر میں کیا کیا تغیرات واقع ہوتے ہیں جن کا اس کی ماں کو بھی علم نہیں ہوتا۔ جس کے پیٹ میں یہ جنین ہوتا ہے پھر اس دوران ہر نومولود کی عمر بھی طے کردی جاتی ہے کہ وہ کس عمر میں مرے گا، اسے رزق کتنا ملے گا اور اس کا انجام کیسا ہوگا۔ گویا یہ آیت اللہ تعالیٰ کی خالقیت، اس کے لامحدود اور ہر چیز پر مکمل تصرف پر روشنی ڈالتی ہے۔
Ayah 35:12

وَ مَا یَسْتَوِی الْبَحْرٰنِ١ۖۗ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُهٗ وَ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ؕ وَ مِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ فِیْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 35:12 in the Quran reader

دو طرح کے سمندر ایک جیسے نہیں ہوسکتے جن میں ایک کا پانی میٹھا، پیاس بجھانے والا اور پینے میں خوشگوار ہو اور دوسرا کھاری ہو، چھاتی جلانے والا۔ اور تم دونوں سے تازہ گوشت (بھی حاصل کرکے) کھاتے ہو اور زیور بھی نکالتے ہو جو تم پہنتے ہو 18 ۔ اور اسی سمندر میں تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں پانی کو چیرتی پھاڑتی چلی جارہی ہیں تاکہ (ایسے سفر سے) تم اللہ کا فضل تلاش کرو اور اس کا شکر ادا کرو۔

18 میٹھا پانی اور کھاری پانی اور ان کے مشترکہ فوائد :۔ دریاؤں، چشموں اور جھیلوں کا پانی عموماً میٹھا ہوتا ہے اور سمندروں کا پانی کھاری اور کڑوا۔ پہلی قسم کا پانی زندگی بخش ہے۔ اور دوسری قسم کا پانی پینا تو درکنار اس سے انسان نہا بھی نہیں سکتا۔ گویا پانی ہی دو قسموں میں بٹ گیا۔ اور کبھی کبھی ان دونوں قسم کے پانیوں کے دریا ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ مگر ان کے درمیان کچھ ایسا پردہ حائل ہوتا ہے کہ یہ آپس میں ملنے نہیں دیتا یہ تو ایک الگ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہے یہاں یہ بتایا جارہا ہے کہ زندگی بخش اور حیات افزا پانی کا ذخیرہ اور کڑوے کسیلے پانی کا ذخیرہ دونوں ایک جیسے نہیں ہوسکتے۔ تاہم کچھ فوائد ایسے ہیں جو تمہیں ان دونوں قسم کے پانیوں سے حاصل ہوتے ہیں۔ دونوں طرح کے سمندروں میں آبی جانور اور بالخصوص مچھلی پائے جاتے ہیں اور وہ تمہارے لئے حلال ہیں۔ دونوں میں تم کشتی اور جہاز رانی کرکے تجارتی فوائد حاصل کرتے ہو اور دونوں میں سے موتی، مونگے، ہیرے جواہرات اور مرجان وغیرہ نکلتے ہیں۔ جو تمہارے زیورات میں کام آتے ہیں۔ گویا جو پانی تمہارے پینے کے لحاظ سے ناکارہ تھا اس میں اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے اتنے کثیر فوائد رکھے ہوئے ہیں اور یہ نعمتیں تمہیں مفت حاصل ہو رہی ہیں جن پر تمہیں اللہ کا شکر بجا لانا چاہئے۔
Ayah 35:13

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ۙ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ۖ٘ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا یَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍؕ Open ayah 35:13 in the Quran reader

وہ رات کو دن اور دن کو رات 19 میں داخل کرتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو کام پر لگا دیا ہے۔ ہر ایک ایک مقررہ مدت تک چلتا رہے گا۔ یہ ہے اللہ (کی شان) جو تمہارا پروردگار ہے۔ اسی کی بادشاہی ہے اور اسے چھوڑ کر جنہیں تم پکارتے ہو وہ تو ایک پرکاہ کا بھی اختیار نہیں رکھتے

19 دن اور رات کے نظام میں تدریج :۔ یعنی جب سورج نکلنے کے قریب ہوتا ہے تو سب سے پہلے روشنی کی ایک لکیر آسمان پر نمودار ہوتی ہے یہ دن کا آغاز ہے۔ پھر یہ روشنی پھیلنا شروع ہوجاتی ہے۔ اور ہر چیز نظر آنے لگتی ہے پھر سورج نکلتا ہے تو روشنی میں اور اضافہ ہوجاتا ہے حتیٰ کہ دوپہر ہونے تک اس کی روشنی بڑھتی ہی جاتی ہے اور اس میں حرارت اور شدت پیدا ہوتی چلی جاتی ہے پھر زوال کا وقت شروع ہوتا ہے تو اسی طرح بتدریج گرمی میں اور روشنی میں کمی واقع ہونے لگتی ہے۔ حتیٰ کہ غروب آفتاب کے کچھ عرصہ بعد روشنی ختم ہوجاتی ہے تو اس کی جگہ تاریکی بڑھنے لگتی ہے اور یہ سب کچھ اس طرح آہستہ آہستہ اور تدریج کے ساتھ واقع ہوتا ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ رات کو دن پر اور دن کو رات پر لپیٹا جارہا ہے۔ رات اور دن دونوں ایک دوسرے کے اندر آہستہ آہستہ داخل ہوتے چلے جاتے ہیں اور اس رات اور دن کی آمدورفت میں سورج کو بڑا دخل ہے۔ رات کو سورج کی جگہ چاند اہل زمین کو روشنی مہیا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ رات اور دن کا یہ نظام نہ بناتا تو بھی کوئی چیز زندہ نہ رہ سکتی تھی اور نہ ہی کوئی نباتات وغیرہ اگ سکتی تھی۔ اور یہ نظام کائنات تاقیامت مسلسل اسی طرح برقرار رہے گا۔ اور جب اس کی بساط لپیٹ دی جائے گی تو اسی کا نام قیامت ہے۔ یہ سب کارنامے تو پروردگار حقیقی کے ہیں اس لئے وہ تو بندگی کا صحیح مستحق ہے۔ اب تم بتاؤ کہ تمہارے معبودوں نے تمہارے لئے کون کون سی فائدہ بخش چیزیں پیدا کی ہیں ؟ اور اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو پھر ان کا اس کائنات میں تصرف اور اختیار کہاں سے آگیا ؟
Ayah 35:14

اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا یَسْمَعُوْا دُعَآءَكُمْ١ۚ وَ لَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ١ؕ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ١ؕ وَ لَا یُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِیْرٍ۠ Open ayah 35:14 in the Quran reader

اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار سن نہیں سکتے اور اگر سن بھی لیں تو تمہیں جواب نہیں 20 دے سکتے اور قیامت کے دن تو وہ تمہارے شرک 21 کا انکار ہی کردیں گے۔ اور اللہ خبیر 22 کی طرح آپ کو دوسرا کوئی صحیح خبر نہیں دے سکتا۔

20 مشرکوں کی فریاد کیسے رائیگاں جاتی ہے ؟ إسْتَجَابُوْا کا لفظ دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک کسی پکار یا سوال کا جواب دینے میں مثلاً ایک شخص مجھ سے پوچھتا ہے کہ کراچی شہر کہاں واقع ہے ؟ تو میں اسے جواب دیتا ہوں کہ وہ پاکستان کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ اور دوسرا استعمال یہ ہے کہ کوئی شخص مثلاً مجھ سے ایک سو روپیہ مانگتا ہے تو اس کی استجابت کا تعلق فعل سے ہوگا خواہ میں اسے سو روپیہ دے دوں یا نہ دوں اور جواب دے دوں۔ ان بتوں کی کیفیت یہ ہے کہ یہ کچھ سنتے ہی نہیں اور بالفرض سنتے بھی ہوں تو پھر نہ وہ کوئی جواب دے سکتے ہیں اور نہ ہی اس پر کچھ عمل درآمد کرسکتے ہیں گویا ان کے آگے درخواست پیش کرنا بالکل بےمحل ہوگی مثلاً ایک شخص درخواست یہ لکھتا ہے کہ میرے گھر میں سوئی گیس کا کنکشن لگایا جائے لیکن وہ یہ درخواست سوئی گیس کے ہیڈ آفس میں بھیجنے کی بجائے محکمہ پولیس کے ہیڈ آفس میں بھیج دیتا ہے۔ تو ظاہر ہے کہ اس درخواست پر کچھ عمل درآمد نہ ہوسکے گا خواہ کتنی ہی مدت گزر جائے۔ اس لئے کہ سوئی گیس کا کنکشن دینا محکمہ پولیس کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔ حالانکہ وہ لوگ سنتے سمجھتے ضرور ہیں۔ یہی حال ان مشرکوں کا ہے وہ اپنی درخواستیں وہاں پیش کرتے ہیں جن کے دائرہ اختیار میں کچھ ہے ہی نہیں۔ لہذا قیامت تک بھی مشرکوں کی اس درخواست پر کبھی عمل درآمد نہ ہوسکے گا۔ اس حقیقت کو اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے مقام پر یوں بیان فرمایا : (وَمَا دُعَاءُ الْکٰفِرِیْنَ الاَّ فِیْ ضَلاَلٍٍ ) 21 اس جملہ سے معلوم ہوا کہ ہر قسم کے معبودوں کو قیامت کے دن حاضر کرلیا جائے گا۔ خواہ وہ پیغمبر تھے یا فرشتے تھے یا بزرگ اور مشائخ تھے۔ خواہ سیاسی قائدین تھے یا بت وغیرہ بےجان قسم کے معبود تھے۔ اور اس مقام پر تو بالخصوص بےجان معبودوں یا بتوں کا ذکر چل رہا ہے۔ یعنی بتوں میں بھی جان ڈال کر میدان محشر میں لاکھڑا کیا جائے گا۔ اور ان معبودوں اور ان کے عبادت گزاروں یعنی مشرکوں کے درمیان مکالمہ ہوگا۔ تو یہ بےجان بت بھی ڈٹ کر مشرکوں کے خلاف شہادت دینگے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان بتوں کے بجائے وہ مخصوص ارواح ہوں جو مشرکوں نے ان بتوں کے ساتھ تجویز کر رکھی ہیں۔ وہ معبود مشرکوں کو یہی جواب دیں گے کہ بدبختو ! ہم نے تمہیں کب کہا تھا کہ تم ہماری عبادت کرنا اور اگر تم ہماری عبادت کرتے بھی رہے ہو تو ہمیں اس کی کچھ خبر نہیں ہے۔ 22 قیامت کو معبود اپنے عابدوں کے دشمن بن جائیں گے :۔ خبیر سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو موجود اور غیر موجود، گذشتہ اور آنے والے حالات سے پوری طرح خبردار ہے۔ اور اس کے سامنے کوئی چیز غیب ہے ہی نہیں بلکہ سب کچھ شہادت ہی شہادت ہے۔ اب اگر دوسرا کوئی شخص مستقبل کے متعلق کوئی خبر دے گا تو ظاہر ہے کہ وہ یقینی نہیں ہوسکتی کیونکہ اس کی بنیاد ظن وتخمین پر ہوگی اس کے مقابلہ میں اللہ کی خبر یقینی ہے کیونکہ وہ آئندہ کے واقعات سے خبردار بھی ہے اور انہیں دیکھ بھی رہا ہے۔ اور اللہ کی بتائی ہوئی خبر یہ ہے کہ قیامت کے دن ہر قسم کے معبود اپنے عبادت گزار مشرکوں کے خلاف گواہی دیں گے ان کی عبادت سے انکار کردیں گے اور ان کے دشمن بن جائیں گے۔
Ayah 35:15

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 35:15 in the Quran reader

لوگو ! تم سب اللہ کے محتاج ہو 23 اور وہ (ہر چیز سے) بےنیاز اور حمد کے لائق ہے۔

23 یہ خطاب تمام جہان کے انسانوں سے ہے کہ تم اپنی صحت کے لئے، اپنے رزق کے لئے، اپنی زندگی کی بقاء غرض ایک ایک چیز کے لئے اللہ کے محتاج ہو تمہارے رزق اور بقائے حیات کے لئے اللہ تعالیٰ نے جن جن اشیائے کائنات کو کام پر لگا رکھا ہے۔ ان میں سے کسی ایک کو ہٹالے تو تم زندہ بھی نہیں رہ سکتے۔ دوسری ضرورتوں کی احتیاج بعد کی چیز ہے اور اللہ کی شان یہ ہے کہ اسے کسی انسان بلکہ کائنات کی کسی بھی چیز کی احتیاج نہیں۔ وہ بذات خود ازل سے لے کر ابد تک قائم و دائم ہے۔ اور کوئی اس کی حمد و ثنا نہ بھی کرے تو بھی وہ اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔
Ayahs 35:16–17

اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 35:16 in the Quran reader

اگر وہ چاہے تو تمہیں لے جائے اور (تمہاری جگہ) کوئی نئی خلقت 24 لے آئے

وَ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 35:17 in the Quran reader

اور یہ بات اللہ تعالیٰ پر کچھ دشوار نہیں

24 یعنی اگر تم اللہ کی نافرمانی کی راہ اختیار کرو گے تو تمہیں پرے ہٹا دے گا۔ صفحہ ہستی سے نیست و نابود کر دے گا اور تمہاری جگہ ایسے لوگوں کو لاآباد کرے گا جو اس کے فرمانبردار ہوں۔ پھر ان کی آزمائش کرے گا۔ ابتدائے نوع انسان سے اللہ کا یہی دستور رہا ہے۔ کہ وہ نافرمان اور سرکش قوموں کا سر کچل کر ان کی جگہ دوسری قومیں لاآباد کرتا ہے اور یہ بات اللہ کے لیے کچھ مشکل بھی نہیں۔
Ayahs 35:18–20

وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ اِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا یُحْمَلْ مِنْهُ شَیْءٌ وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ؕ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ مَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا یَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 35:18 in the Quran reader

اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کے (گناہوں کا) بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اور اگر بوجھ 25 سے لدا ہوا شخص کسی دوسرے کو اٹھانے کے لئے بلائے گا بھی تو کوئی اس کے بوجھ کا کچھ بھی حصہ اٹھانے کو تیار نہ ہوگا اگرچہ وہ اس کا قرابت دار ہو۔ (اے نبی ! ) آپ تو صرف ان لوگوں کو ہی ڈرا سکتے ہیں جو بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں۔ اور جو شخص پاکیزگی 26 اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے ہی لئے اختیار کرتا ہے اور (سب کو) اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُۙ Open ayah 35:19 in the Quran reader

نہ تو نابینا اور بینا برابر ہوسکتے ہیں،

وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوْرُۙ Open ayah 35:20 in the Quran reader

نہ اندھیرے اور روشنی

25 وزر کا لغوی مفہوم اور قانون جزاء و سزا :۔ وزر کا لفظ، بالخصوص گناہوں کے بوجھ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اور اس کا ضابطہ یہ ہے کہ جو کرے گا، وہی بھرے گا۔ یہ ناممکن ہے کہ کرے کوئی اور بھرے کوئی دوسرا یہ کہ اسے اتنی ہی سزا ملے گی جتنا اس نے گناہ کیا ہوگا اس سے زیادہ نہیں۔ البتہ اگر کوئی شخص ایسا گناہ کا کام رائج کر جائے جس پر بعد میں آنے والے لوگ عمل پیراہوں مثلاً کوئی شرکیہ عقیدہ یا کام یا کوئی بدعت رائج کرجائے تو حصہ رسدی کے طور پر اس کے اپنے گناہوں کے بوجھ میں اضافہ بھی ہوتا رہے گا۔ اور دوسری حقیقت یہ ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ اپنے ذمہ لینے کو تیار بھی نہ ہوگا۔ نہ باپ بیٹے کا گناہ اپنے سر مول لے گا اور نہ بیٹا باپ کا۔ ہر ایک کو اپنی اپنی ہی فکر لاحق ہوگی۔ کفار مکہ بعض مسلمانوں کو یہ بات کہا کرتے تھے کہ تم اپنے آبائی دین میں واپس آجاؤ۔ اگر کوئی عذاب وثواب کی بات ہوئی بھی تو تمہارا بوجھ ہم اپنے ذمہ لے لیں گے۔ اور یہ بات وہ اس لحاظ سے کہتے تھے کہ وہ آخرت اور آخرت کی باز پرس کے قائل ہی نہ تھے۔ اس آیت میں ان لوگوں کے اس قول کا بھی جواب آگیا کہ یہ محض ان کے منہ کی باتیں ہیں۔ جب انہیں محاسبہ سے دوچار ہونا پڑا تو اس کے حواس ٹھکانے آجائیں گے۔ 26 یعنی ضدی اور ہٹ دھرم قسم کے لوگ آپ کے سمجھانے اور ڈرانے سے کبھی اپنا رویہ نہ بدلیں گے۔ نصیحت صرف اس شخص کے حق میں کارگر ہوسکتی ہے ؟ جو بن دیکھے آخرت پر یقین رکھتا ہو اور اللہ کے حضور اپنے اعمال کی جواب دہی سے ڈرتا ہو۔ ایسے ہی لوگ نمازیں بھی قائم کرتے ہیں۔ اور اپنا طرز عمل پاکیزہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اس میں ان کا اپنا ہی بھلا ہے وہ اللہ پر کچھ احسان نہیں کرتے۔ اور یہ فائدہ اس وقت پوری طرح ظاہر ہوگا جب سب لوگ اللہ کے حضور پیش ہوں گے۔
Ayah 35:21

وَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الْحَرُوْرُۚ Open ayah 35:21 in the Quran reader

اور نہ سایہ 27 اور دھوپ ایک جیسی ہے۔

27 بینا اور نابینا کون لوگ ہیں ؟ یعنی ایک شخص اس طرح دل کا اندھا بنا ہوا ہے کہ کائنات میں ہر سو اللہ تعالیٰ کی بکھری ہوئی نشانیوں میں غور کرنا بھی گوارا نہیں کرتا۔ دوسرا شخص انہی نشانیوں کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی توحید کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے اور عجائبات قدرت میں غور کرنے کے بعد اس کا دل اللہ تعالیٰ کی محبت سے سرشار ہوجاتا ہے اور بےاختیار اللہ کی حمد و ثنا اس کی زبان پر آجاتی ہے۔ تو کیا یہ دونوں ایک جیسے ہوسکتے ہیں ؟ یا ایک شخص جہالت کی تاریکیوں میں مسلسل آگے بڑھتا جارہا ہے اور دوسرا علم کی روشنی میں محتاط رہ کر اپنا سفر زندگی جاری رکھتا ہے کیا یہ دونوں ایک جیسے ہیں ؟ ظاہر ہے کہ یہ دونوں اپنے اپنے طرز زندگی کے لحاظ سے ایک دوسرے کی ضد ہیں تو ان کا انجام بھی ایک دوسرے کے برعکس ہی ہونا چاہئے یعنی جس طرح ٹھنڈی چھاؤں اور چلچلاتی دھوپ ایک دوسرے کی ضد ہیں اسی طرح علم کی روشنی میں سفر کرنے والے کو ٹھنڈی چھاؤں والی اور دوسری نعمتوں والی جنت نصیب ہوگی۔ اور جہالت کے اندھیروں میں آگے بڑھنے والا یک لخت جہنم کے کنارے جا پہنچے گا۔
Ayahs 35:22–23

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 35:22 in the Quran reader

اور نہ ہی زندے اور مردے 28 یکساں ہوتے ہیں۔ اللہ تو جسے چاہے سنا سکتا ہے لیکن آپ ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں 29 میں پڑے ہیں

اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِیْرٌ Open ayah 35:23 in the Quran reader

آپ تو صرف ایک ڈرانے والے ہیں۔

28 یہاں زندہ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے دل اور ضمیر زندہ ہیں۔ جو بدی کو بدی ہی سمجھتے ہیں اور نیکی کی راہ کی تلاش میں رہتے ہیں۔ پھر اس پر عمل پیرا بھی ہوتے ہیں۔ اور مردہ سے مردہ دل لوگ یا کافر ہیں۔ ان کے ضمیر اور ان کے دل اس قدر مرچکے ہیں کہ ہدایت کی بات ان کے دل تک پہنچتی ہی نہیں۔ نہ وہ اسے سننا گوارا کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ آپ کا ایسے لوگوں کو نصیحت کرنا بےسود ہے۔ 29 سماع موتی کا رد :۔ ربط مضمون کے لحاظ سے یہ مطلب بھی لیا جاسکتا ہے کہ قبروں میں پڑے لوگوں سے مراد یہی مردہ دل کافر لوگ ہیں مگر الفاظ کے ظاہری معنوں کا اعتبار کرنا زیادہ صحیح ہوگا۔ یعنی جو لوگ قبروں میں جاچکے ہیں انہیں اللہ تو سنا سکتا ہے آپ نہیں سنا سکتے۔ کیونکہ قبروں میں پڑے ہوئے لوگ عالم برزخ میں جا پہنچے ہیں۔ عالم دنیا میں نہیں ہیں۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ ایک سویا ہوا شخص اپنے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں کی گفتگو نہیں سن سکتا۔ اس لیے عالم خواب الگ عالم ہے۔ اور عالم بیداری الگ عالم ہے۔ حالانکہ یہ دونوں عالم، عالم دنیا سے ہی متعلق ہیں مگر عالم برزخ دنیا سے متعلق نہیں بالکل الگ عالم ہے۔ لہذا قبروں میں پڑے ہوئے لوگ بدرجہ اولیٰ دنیا والوں کی بات سن نہیں سکتے۔ یہ آیت سماع موتی کا کلیتاً رد ثابت کرتی ہے۔ رہا قلیب بدر کا واقعہ جو احادیث صحیحہ میں مذکور ہے۔ کہ جنگ بدر میں ستر مقتول کافروں کی لاشیں بدر کے کنوئیں میں پھینک دی گئیں۔ تو تیسرے دن رسول اللہ نے اس کنوئیں کے کنارے کھڑے ہو کر فرمایا : تمہارے مالک نے جو سچا وعدہ تم سے کیا تھا وہ تم نے پالیا ؟ لوگوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! کیا آپ مردوں کو سناتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : تم کچھ ان سے زیادہ نہیں سنتے، البتہ وہ جواب نہیں دے سکتے (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب قتل ابی جھل۔۔ بخاری کتاب الجنائز۔ باب ماجاء فی عذاب القبر) اور سیدنا قتادہ نے اس حدیث کی تفسیر میں کہا کہ اللہ نے اس وقت ان مردوں کو جلا دیا تھا ان کی زجز و توبیخ، ذلیل کرنے، بدلہ لینے اور شرمندہ کرنے کے لیے (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب قتل ابی جھل) گویا یہ ایک معجزہ تھا اور فی الحقیقت سنانے والا اللہ تعالیٰ ہی تھا۔ اور یہ اس آیت کا مفہوم ہے۔
Ayah 35:24

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ؕ وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِیْهَا نَذِیْرٌ Open ayah 35:24 in the Quran reader

یقینا ہم نے آپ کو سچا دین دے کر بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور کوئی امت 30 ایسی نہیں گزری جس میں کوئی ڈرانے والا نہ آیا ہو۔

30 اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر امت اور بستی میں اللہ نے کوئی نہ کوئی نبی یا رسول ضرور بھیجا ہے۔ بلکہ اس سے مراد صرف وہ امت یا وہ لوگ ہیں جن تک کسی نبی کی تعلیم نہ پہنچ سکی ہو۔ خواہ اس کی وجہ فاصلہ کی دوری ہو یا مدت کی دوری ہو۔ بالفاظ دیگر تمام انسانوں تک اللہ کی دعوت کی آواز یقینی طور پر پہنچ چکی ہے خواہ ان کے پاس کوئی رسول آیا ہو یا نہ آیا ہو۔
Ayahs 35:25–26

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالزُّبُرِ وَ بِالْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 35:25 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلاتے ہیں تو ان سے پہلے کے لوگ بھی جھٹلاتے رہے ہیں۔ ان کے رسول ان کے پاس واضح دلائل 31 ، صحیفے اور روشنی بخش کتاب لے کر آئے تھے

ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 35:26 in the Quran reader

پھر جن لوگوں نے کفر کیا انہیں میں نے پکڑ لیا پھر دیکھ لو میری گرفت کیسی سخت تھی۔

31 بینات کا لفظ معجزات کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اور ایسے دلائل کے لیے بھی جن سے نبی اپنی نبوت کو ثابت کرسکے۔ صحیفے بمعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل احکام جو عام طور پر پندونصائح اور اخلاقی ہدایات پر مشتمل ہوتے تھے۔ تورات کے نزول سے پہلے سب انبیاء پر صحائف ہی نازل ہوتے رہے۔ حتیٰ کہ موسیٰ پر بھی تورات کے نزول سے پیشتر صحیفے ہی نازل ہوتے رہے اور کتاب منیر سے مراد وہ مفصل کتب الٰہیہ ہیں جو زندگی کے ہر پہلو میں انسان کو روشنی مہیا کرتی ہیں۔ اور یہ چار ہیں۔ تورات، زبور، انجیل اور قرآن۔
Ayah 35:27

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهَا١ؕ وَ مِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِیْضٌ وَّ حُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَ غَرَابِیْبُ سُوْدٌ Open ayah 35:27 in the Quran reader

کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ آسمان سے پانی برساتا ہے جس سے ہم رنگا رنگ 32 کے پھل پیدا کرتے ہیں۔ اور پہاڑوں میں بھی مختلف رنگوں کی سفید سرخ اور گہری سیاہ دھاریاں ہوتی ہیں۔

32 ہر قسم کی مخلوق میں تنوع بھی ہے فوائد بھی اور خوبصورتی بھی :۔ یہ دو آیات اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی طرف ہر انسان کی توجہ مبذول کراتی ہیں۔ یعنی زمین ایک ہے پانی ایک ہے، ہوا ایک ہے۔ لیکن نباتات جو اگتی ہے ان کی شکلیں مختلف رنگ مختلف اور پھول ہیں تو خوشبوئیں مختلف ہوتی ہیں۔ گلاب کے پھول کی رنگت، ساخت اور خوشبو، لالہ کے پھول سے مختلف ہے اسی طرح چنبیلی کے پھول نیلوفر اور سورج مکھی کے پھول بھی آپس میں مختلف ہیں۔ پھر ایک ہی پھول میں کئی رنگوں کی آمیزش کچھ ایسی خوبصورتی سے ترکیب دی گئی ہے جو فوراً دل کو موہ لیتی ہے اور اگر پھل پیدا ہوتے ہیں تو انگور کی شکل، رنگ، ذائقہ، اور خواص اور ہوں گے۔ سیب کے اور کھجور کے اور آم کے اور۔ پھر مثلاً آم ہی کو یا کھجور کو لیجئے۔ اس جنس کی آگے بیشمار انواع ہیں۔ اور ہر نوع میں ایسی امتیازی خصوصیات موجود ہیں کہ انسان یہ معلوم کرلیتا ہے کہ یہ کھجور یا آم فلاں قسم سے تعلق رکھتا ہے۔ پھر یہ تنوع صرف پھولوں، پھلوں اور سبزیوں میں نہیں بلکہ جمادات کی طرف دیکھو تو وہاں بھی اللہ کی یہ قدرت کار فرما نظر آئے گی کہیں خشک کالے مٹیالے اور سیاہ پہاڑ ہیں۔ کہیں پہاڑوں پر بلند وبالا درخت اور سبزہ اگ کر نہایت خوشما منظر پیش کر رہا ہے۔ کہیں نمک کا پہاڑ ہے کہیں سنگ مرمر کا پہاڑ ہے۔ پھر ایک ہی پہاڑ میں کہیں سیاہ دھاریاں دور تک چلی گئی ہیں۔ کہیں سپید ہیں اور کہیں سرخ۔ اب جانداروں کی طرف آئیے تو یہاں بھی ہم یہی منظر دیکھتے ہیں۔ مویشیوں میں سے ایک جنس کے کئی کئی رنگ ہیں انسانوں کا بھی یہی حال ہے کچھ گورے ہیں کچھ سفید ہیں کچھ سرخ ہیں کچھ کالے اور کچھ سانولے ہیں۔ حالانکہ ان کی پیدائش اور ترکیب کے اجزاء و عناصر پر غور کیا جائے تو وہ سب یکساں ہی ہوتے ہیں اس کے باوجود ہر جنس میں اللہ تعالیٰ نے اتنے لاتعداد نئے سے نئے ڈیزائن تیار کردیئے ہیں جنہیں دیکھ کر ہی عقل دنگ رہ جاتی ہے یہ یکسانیت میں اختلافات اور اختلافات میں یکسانیت، یہ مختلف رنگ اور ان رنگوں کا حسین امتزاج ان میں توازن و تناسب اور ان سب باتوں کے باوجود ان سب چیزوں میں انسان کے لئے خوشنمائی اور دلفریبی پھر ان میں سے ہر چیز کا انسان کے لئے مفید اور کارآمد ہونا کیا یہ سب چیزیں کسی عظیم مدبر اور حکیم صناع کی طرف رہنمائی نہیں کرتیں ؟ کیا یہ سب باتیں اتفاقات کا نتیجہ قرار دی جاسکتی ہیں ؟ خ علم صرف وہ مفید ہے جس سے اللہ کا خوف پیدا ہو اور حقیقی عالم وہ ہے جو اللہ سے ڈرتا بھی ہو :۔ ایک باشعور انسان جب ان باتوں میں غور کرتا ہے تو اس صانع حقیقی کی عظمت اس کے دل میں جاگزیں ہوتی جاتی ہے۔ اسے اس ہستی سے محبت ہوجاتی ہے۔ جو اتنی قدرتوں کی مالک ہے پھر اس کے سامنے سجدہ ریز ہونے میں اسے مزا آنے لگتا ہے اور یہی وہ نتیجہ ہے جسے قرآن ان الفاط میں پیش کرتا ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے صرف عالم لوگ ہی اللہ سے ڈرتے ہیں اور اس جملہ سے کئی باتیں مستفاد ہوتی ہیں مثلاً ۔ 1۔ جتنا بھی ان مظاہر قدرت میں غور و فکر کیا جائے گا اتنی اس سے اللہ کی معرفت پیدا ہوگی اور اتنی ہی اللہ کی خشیت پیدا ہوگی۔ 2۔ علوم کی بھی تین قسمیں ہیں ایک وہ علم جس سے اللہ کی خشیت پیدا ہوتی ہے یہ علم کا اعلیٰ درجہ ہے۔ خواہ ایسا شخص اصطلاحی معنوں میں پڑھا لکھا ہو یا نہ ہو۔ دوسرے وہ علوم ہیں جو خشیت تو پیدا نہیں کرتے تاہم انسانیت کے لئے مفید ہیں جیسے حساب اور مختلف زبانوں کا علم ان پر بھی علم کا اطلاق ہوسکتا ہے اور جو علم اللہ سے دور کردے وہ علم نہیں بلکہ ضلالت ہے۔ 3۔ کیا علماء سے مراد سائنٹسٹ ہیں ؟ ہر شخص اللہ کی آیات میں غور کرنے کے بعد ایک ہی نتیجہ پر نہیں پہنچتا مثلاً پرویز صاحب انہی آیات کا نتیجہ یہ پیش کرتے ہیں کہ ان آیات میں نباتات، جمادات اور حیوانات کا ذکر ہے اور یہی چیزیں علم سائنس کی بڑی بڑی شاخیں ہیں لہذا ان علوم کے ماہر ہی حقیقتاً عالم ہیں۔ جنہیں آج کی اصطلاح میں سائنٹسٹ کہا جاتا ہے۔ (اسباب زوال امت ص 95) اب ان حضرات سے سوال یہ ہے کہ کیا یہ عالم یا سائنٹسٹ حضرات اللہ سے ڈرتے بھی ہیں ؟ اصل شرط تو خشیۃ اللّٰہ ہے نہ کہ ان علوم میں مہارت۔ اگر وہ ڈرتے بھی ہیں تو پھر وہ فی الواقع عالم ہیں۔ ورنہ نہیں۔ 4۔ اس آیت میں لفظ علماء سے مراد وہ اصطلاحی علماء بھی مراد نہیں ہیں جو قرآن و حدیث اور فقہ و کلام کا علم رکھنے کی بنا پر علمائے دین کہلاتے ہیں وہ اس آیت کے مصداق صرف اس صورت میں ہوں گے جبکہ ان کے اندر اللہ کی خشیت موجود ہو۔
Ayah 35:28

وَ مِنَ النَّاسِ وَ الدَّوَآبِّ وَ الْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ كَذٰلِكَ١ؕ اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ غَفُوْرٌ Open ayah 35:28 in the Quran reader

اور اسی طرح انسانوں، جانوروں اور مویشیوں کے بھی رنگ مختلف ہیں۔ بلاشبہ اللہ کے بندوں میں سے اس سے ڈرتے وہی ہیں جو علم رکھنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ یقینا ہر چیز پر غالب 33 اور بخشنے والا ہے۔

33 یعنی وہ چاہے تو اپنے باغیوں، کج فہمیوں اور نافرمانوں کو فوراً پکڑ سکتا ہے۔ مگر یہ اس کی صفت عفو کا ہی تقاضا ہے کہ وہ لوگوں کو مہلت دیئے جاتا ہے۔
Ayah 35:29

اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ Open ayah 35:29 in the Quran reader

جو لوگ اللہ کی کتاب پڑھتے، نماز قائم کرتے، اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے خفیہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں وہ ایسی تجارت کے امیدوار 34 ہیں جس میں کبھی خسارہ نہ ہوگا۔

34 دنیا میں انسان جس چیز کی بھی تجارت کرتا ہے۔ اس پر فوری توجہ بھی صرف کرتا ہے اور اس کام کے لئے مخلص بھی ہوتا ہے اس کے باوجود اسے نقصان کا خطرہ بھی رہتا ہے لیکن اللہ کا مخلص بندہ جو اپنے اللہ کے ساتھ تجارت کرتا ہے اس میں کبھی خسارے اور نقصان کا اندیشہ نہیں۔
Ayah 35:30

لِیُوَفِّیَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 35:30 in the Quran reader

تاکہ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ان کا پورا پورا اجر دے اور اپنی مہربانی سے کچھ زیادہ بھی دے۔ بلاشبہ وہ معاف کرنے والا ہے اور قدردان 35 ہے۔

35 اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں کے اعمال کی قدردانی پیاسے کو پانی پلانے اور راہ سے کانٹے ہٹانے پر بخشش :۔ یعنی اللہ کا اپنے بندوں سے معاملہ ایسا نہیں ہے جیسا ایک تنگ ظرف آقا کا معاملہ اپنے ملازم سے ہوتا ہے۔ جو بات بات پر اپنے ملازم پر گرفت تو کرتا ہے مگر اس کی خدمات کو خاطر میں نہیں لاتا۔ اللہ کا اپنے بندوں سے معاملہ اس سے بالکل برعکس ہے۔ وہ اپنے بندوں کی چھوٹی موٹی غلطیاں معاف کردیتا ہے اور ان سے ان کی باز پرس بھی نہیں کرتا اور انسان جو نیک اعمال بجا لاتا ہے ان کا ان کے اجر سے بہت زیادہ بدلہ عطا فرماتا ہے۔ اسے اپنے بندے کی کوئی بھی ادا پسند آجائے تو اسے اجر عظیم عطا فرماتا ہے۔ چناچہ سیدنا ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ : ایک شخص نے ایک کتا دیکھا جو پیاس کے مارے گیلی مٹی چاٹ رہا تھا۔ اس نے اپنا موزا اتارا اور اس میں پانی بھر بھر کر اس کو پلانا شروع کیا یہاں تک کہ وہ سیر ہوگیا۔ اللہ نے اس کے اس کام کی قدر کی اور اس کو جنت عطا فرمائی (بخاری۔ کتاب الوضوئ۔ باب اذاشرب الکلب فی الانائ) نیز سیدنا ابوہریرہ ؓ ہی سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ : ایک مرتبہ ایک شخص کہیں جارہا تھا اس نے راستہ میں کانٹوں والی ایک ٹہنی دیکھی جسے اس نے راہ سے ہٹادیا۔ اللہ تعالیٰ کو اس کا یہ کام بہت پسند آیا اور اسے بخش دیا (بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب فضل التھجیر الی الظھر)
Ayah 35:31

وَ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 35:31 in the Quran reader

(اے نبی ! ) جو کتاب ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے وہی حق 36 ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے باخبر اور انہیں دیکھنے والا ہے۔

36 قرآن کے حق ہونے کا مطلب زندگی کے حقائق کا لحاظ رکھنا ہے :۔ وہ حق اس لئے ہے کہ وہ اس ہستی کی طرف سے نازل ہوئی ہے جس نے انسان کو بنایا ہے۔ جتنا وہ انسان کی فطرت سے واقف ہوسکتا ہے دوسرا کوئی نہیں ہوسکتا۔ اس کتاب کے جملہ احکام و ارشادات انسان کی فطرت کے مطابق بھی ہیں اور پوری انسانیت کے مصالح پر مبنی ہیں۔ اور بنی نوع انسان کی فلاح کے ضامن بھی ہیں۔ وہ ذات اپنے بندوں کی فطرت اور ان کے حالات سے پوری طرح باخبر ہے۔ اسی لئے اس کے بعض احکام تو غیر متبدل اور دائمی ہیں جو سابقہ آسمانی کتابوں میں بھی موجود ہیں۔ اسی لحاظ سے یہ قرآن ان کی تصدیق کرتا ہے۔ اور بعض نئے احکام بھی ہیں۔ بعض میں تبدیلی بھی کی گئی ہے اور یہ سب کچھ بندوں کے حالات کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ پھر وہ اپنے کمزور اور معذور بندوں کو رخصتیں بھی عطا فرماتا ہے۔ اور حالات کے مطابق احکام میں رعایتیں بھی ملحوظ رکھتا ہے اس لئے کہ وہ اپنے سب بندوں کے حالات سے پوری طرح باخبر ہے۔
Ayah 35:32

ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا١ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ۚ وَ مِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَیْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُؕ Open ayah 35:32 in the Quran reader

پھر ہم نے ان لوگوں کو کتاب 37 کا وارث بنایا جنہیں ہم نے (اس وراثت کے لئے) اپنے بندوں میں سے چن لیا۔ پھر ان میں سے کوئی تو اپنے آپ پر ظلم کرنے والا ہے۔ کوئی میانہ رو ہے اور کوئی اللہ کے اذن سے نیکیوں میں آگے نکل جانے والا ہے۔ یہی بہت بڑا فضل ہے۔

37 اعمال کے لحاظ سے تین قسم کے مسلمان اور ان کا انجام :۔ اس آیت میں کتاب سے مراد قرآن کریم ہے۔ اس کے اولین وارث صحابہ کرام ؓ کی جماعت ہے۔ اس آیت سے ان کی بہت فضیلت ثابت ہوئی۔ پھر ان کے بعد درجہ بدرجہ اور نسل بعد نسل آپ کی ساری امت بھی اس کتاب کی وارث ہے۔ پھر ان وارثوں کے تین طبقات ہیں یا تین قسم کے گروہ ہیں۔ ایک وہ جو اپنے نفس پر ظلم کر رہے ہیں۔ یعنی وہ اللہ کے باغی نہیں ہیں مشرک بھی نہیں ہیں۔ کتاب وسنت کی اتباع کے داعی بھی ہیں۔ مگر ان کے اعمال ان کے دعوٰے کی پوری طرح تصدیق نہیں کرتے۔ وہ خطا کار ضرور ہیں مگر اپنے جرائم پر نادم ضرور ہوتے ہیں۔ دوسرا گروہ وہ ہے جو نیک اعمال بجا لارہا ہے تاہم کبھی کبھار ان سے گناہ کے کام بھی ہوتے ہیں۔ یہ درمیانہ درجہ کے لوگ ہیں۔ اور ایک وہ لوگ ہیں جو ہر نیکی کے کام کی طرف آگے بڑھ کر لپکتے ہیں۔ ان کی آرزو یہ رہتی ہے کہ جتنی زیادہ بھلائیاں سمیٹ سکتے ہیں سمیٹ لیں۔ وہ گناہوں سے اجتناب میں بھی ممکن حد تک احتیاط کرتے ہیں۔ سیدنا ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ یہ تینوں قسم کے لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر) اور ان میں فرق یہ ہوگا کہ افضل قسم کے لوگ بلاحساب جنت میں داخل ہوں گے۔ درمیانہ طبقہ سے حساب تو لیا جائے گا مگر یہ آسان سا اور سرسری قسم کا حساب ہوگا اور زیادہ پوچھ گچھ نہیں کی جائے گی۔ اور تیسرے درجہ کے لوگوں کو روک لیا جائے گا اور قیامت کا سارا دن جو پچاس ہزار سال کا ہوگا وہ جنت میں داخل نہ ہوسکیں گے۔ پھر اس مدت کے اختتام پر اللہ تعالیٰ ان پر مہربانی فرمائے گا اور انہیں بھی داخلہ کی اجازت مل جائے گی۔ تاہم یہ قیامت کے دن کی سختیاں ضرور برداشت کریں گے اور اللہ کا فضل تو ان سب پر ہوگا۔
Ayah 35:33

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ۚ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 35:33 in the Quran reader

وہ ہمیشہ رہنے والے باغات میں داخل ہوں گے۔ وہاں انہیں سونے کے کنگنوں اور موتیوں 38 سے آراستہ کیا جائے گا اور وہاں ان کا لباس ریشم کا ہوگا۔

38 نوابوں اور راجوں اور مہاراجوں میں یہ دستور تھا کہ وہ سونے کے کنگن پہنتے جن میں ہیرے اور جواہرات وغیرہ جڑے ہوتے تھے۔ نیز وہ ریشم کا نرم و نازک لباس پہنتے تھے یہی عیش و عشرت کی وہ انتہا تھی جو اس دنیا میں سمجھی جاسکتی تھی۔ اس لئے ان چیزوں کا نام لیا گیا۔ مقصد یہ ہے کہ جنت والوں کا لباس اور عیش و عشرت اس دنیا کے بادشاہوں اور راجوں مہاراجوں سے کم نہ ہوگا۔ سونا اور ریشم اس دنیا میں امت مسلمہ کے مردوں پر حرام کیا گیا ہے۔ جس میں بیشمار حکمتیں پوشیدہ ہیں سب سے بڑی اور عام فہم بات ہے کہ جو لوگ ایسی عیاشیوں میں پڑ کر اپنی ذات پر ہی اس طرح خرچ کرنا شروع کردیں تو وہ غریبوں کا کیا خیال رکھ سکیں گے۔ یہی باتیں طبقاتی تقسیم اور اس سے آگے بہت بڑے فتنہ و فساد کا پیش خیمہ بنتی ہیں۔ مگر جنت میں چونکہ ایسی خرابیوں کا احتمال ہی نہ ہوگا۔ لہذا وہاں یہ چیزیں جائز ہوں گی۔
Ayahs 35:34–35

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ١ؕ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَكُوْرُۙ Open ayah 35:34 in the Quran reader

اور وہ کہیں گے اس اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم دور کردیا 39 ۔ یقینا ہمارا پروردگار بخشنے والا، قدردان ہے

اِ۟لَّذِیْۤ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا نَصَبٌ وَّ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا لُغُوْبٌ Open ayah 35:35 in the Quran reader

جس نے اپنے فضل سے ہمیں ابدی قیام گاہ میں اتارا جہاں ہمیں مشقت اٹھانی پڑتی ہے اور نہ تھکان لاحق ہوتی ہے۔

39 یہ جملہ بالخصوص تیسرے طبقہ کے لوگوں کا وظیفہ ہوگا۔ جنہوں نے قیامت کے دن کی ساری مدت اس فکر میں گزاری ہوگی کہ دیکھیں کہ ان کے حق میں کیا فیصلہ صادر ہوتا ہے پھر جب انہیں جنت میں داخلہ کی اجازت مل جائے گی تو خوشی سے اللہ کی حمد بیان کریں گے۔ جس نے ان کے سارے غم و فکر دور کردیئے۔ ہمارا پروردگار تو واقعی بڑا بخشنے والا اور بڑا قدر دان ہے۔ جس نے ہماری خطائیں تو معاف فرما دیں اور ہمارے اعمال سے بہت زیادہ ہمیں بدلہ عطا فرما دیا۔ ہمیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ ہمارا کون سا ٹھکانا ہوگا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں جائے رہائش دی جو لازوال ہے۔ ہر طرح کی نعمتیں اور رزق پہلے سے ہی موجود ہے جس کے لئے ہمیں چنداں محنت و مشقت نہیں کرنی پڑے گی۔
Ayah 35:36

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ١ۚ لَا یُقْضٰى عَلَیْهِمْ فَیَمُوْتُوْا وَ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ كُلَّ كَفُوْرٍۚ Open ayah 35:36 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لئے جہنم کی آگ ہے۔ نہ تو ان کا قصہ پاک کیا جائے گا کہ وہ مرجائیں 40 اور نہ ہی ان سے جہنم کا عذاب ہلکا کیا جائے گا۔ ہم ہر ناشکرے کو ایسے ہی سزا دیا کرتے ہیں۔

40 مینڈھے کی شکل میں موت کا ذبح ہونا :۔ صحیح احادیث میں آیا ہے کہ میدان محشر میں جب ایمانداروں اور نافرمانوں کا فیصلہ ہوچکے گا تو سب کے سامنے ایک مینڈھا لا کر اسے ذبح کردیا جائے گا اور لوگوں سے پوچھا جائے گا کہ جانتے ہو یہ مینڈھا کیا چیز ہے ؟ سب کہیں گے۔ ہاں ہم جانتے ہیں یہ موت ہے۔ پھر ایک فرشتہ اہل جنت کو مخاطب کرکے کہے گا۔ اب تم ہمیشہ جنت میں رہو گے اور تمہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ پھر وہی فرشتہ اہل دوزخ کو مخاطب کرکے کہے گا کہ اب تم ہمیشہ دوزخ میں رہو گے اور تمہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ (مسلم کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا۔ باب جہنم) یہ تو کافروں اور اللہ کی نمک حرامی کرنے والوں کی ایک سزا ہوگی۔ دوسری سزا یہ ہوگی کہ ان کے عذاب میں نہ کبھی وقفہ آئے گا اور نہ عذاب کی شدت میں کمی کی جائے گی۔ بلکہ اس کے بجائے ان کے عذاب میں دم بدم اضافہ ہی کیا جاتا رہے گا۔
Ayah 35:37

وَ هُمْ یَصْطَرِخُوْنَ فِیْهَا١ۚ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ اَوَ لَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا یَتَذَكَّرُ فِیْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَ جَآءَكُمُ النَّذِیْرُ١ؕ فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ۠ Open ayah 35:37 in the Quran reader

وہاں وہ چیخ چیخ کر کہیں گے : ہمارے پروردگار ! ہمیں (اس سے) نکال کہ ہم نیک عمل کریں۔ ویسے نہیں جیسے پہلے کیا کرتے تھے۔ (اللہ تعالیٰ جواب میں فرمائے گا) کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں 41 دی تھی جس میں اگر کوئی نصیحت حاصل کرنا چاہتا تو کرسکتا تھا ؟ حالانکہ تمہارے پاس ڈرانے والا (بھی) آیا تھا اب (عذاب کا) مزا چکھو یہاں ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

41 جہنمیوں کی فریاد کے مختلف جوابات :۔ اہل دوزخ کی اس فریاد کا ذکر بھی قرآن کریم میں متعدد مقامات پر مذکور ہے اور اس کے مختلف جواب بھی۔ مثلاً ایک مقام پر یہ جواب دیا گیا کہ اگر ہم انہیں دوبارہ دنیا میں بھیج بھی دیں تو وہ پھر دل کی دلفریبیوں پر مفتون ہوجائیں گے اور پھر ویسے ہی کام کریں گے جیسے پہلے کرکے آئے ہیں۔ دوسرے مقام پر یہ جواب دیا گیا کہ ان کی یہ آرزو بالکل لغو ہوگی۔ کیونکہ ایمان لانے سے مراد غیب پر ایمان لانا ہے اور اعمال صالحہ کا نمبر اس کے بعد آتا ہے اور یہاں روز آخرت میں جب سب کچھ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تو پھر یہ تو ایمان بالشہادت ہوگیا۔ اور شہادت یا دیکھی ہوئی چیز پر تو ہر کوئی یقین کرلیتا ہے۔ پھر ان کی آزمائش کیا رہی جبکہ ہر انسان کو قوت ارادہ و اختیار اور عقل و فہم اس لئے دیا گیا تھا کہ اس کی آزمائش ہوگی اور تیسرا جواب یہاں دیا گیا ہے کہ کیا تمہیں اتنی عمر دنیا میں نہیں دی گئی تھی کہ اگر غور و فکر کرکے تم ایمان لانا چاہتے تو اس میں کوئی بات مانع نہ تھی اس کے علاوہ تمہارے پاس نبی بھی آئے تھے جنہوں نے تمہیں تمہارے اس برے انجام سے پوری طرح آگاہ کردیا تھا۔ اس بات کا ان مجرموں کے پاس کوئی جواب نہ ہوگا۔ اتنی عمر سے مراد سن شعور ہے۔ بلوغت کے بعد انسان میں عقل و شعور آجاتا ہے وہ اپنا نفع و نقصان سوچنے کے قابل ہوجاتا ہے اسی لئے اس عمر میں وہ شرعاً مکلف سمجھا جاتا ہے۔ اس عمر سے پہلے اگر کوئی شخص مرجائے تو اس کا عذر قابل قبول ہوسکتا ہے۔ اور جس شخص کو چالیس یا پچاس یا ساٹھ برس عمر مل جائے تو اس پر تو مکمل طور پر حجت تمام ہوجاتی ہے۔
Ayah 35:38

اِنَّ اللّٰهَ عٰلِمُ غَیْبِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 35:38 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ یقینا آسمانوں اور زمین کی چھپی چیزوں کو جاننے والا ہے۔ وہ تو دلوں کے راز 42 تک خوب جانتا ہے۔

42 یعنی وہ ان فریاد کرنے والے اہل دوزخ کے متعلق خوب جانتا ہے کہ وہ اب بھی جھوٹ بک رہے ہیں۔ ان کی افتاد طبع ہی ایسی ہے کہ اگر انہیں دنیا میں بھیج بھی دیا جائے تو اپنی خباثتوں اور شرارتوں سے کبھی باز نہ آئیں گے جیسا کہ سورة انعام میں فرمایا : ( وَلَوْرُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُھُوْا عَنْہُ وَإنَّھُمْ لَکَاذِبُوْنَ ) (6: 28)
Ayah 35:39

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَمَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ؕ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ اِلَّا مَقْتًا١ۚ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 35:39 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تمہیں زمین میں جانشین بنایا 43 ۔ پھر جو کوئی کفر کرے تو اس کے کفر کا وبال اسی پر ہے۔ اور کافروں کا کفر ان کے پروردگار کے ہاں اس کا غضب ہی بڑھاتا ہے یا پھر ان کافروں کا کفر خسارے میں ہی اضافہ کرتا ہے۔

43 انسان زمین میں خلیفہ کس کا ہے ؟ اس جملہ کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ تم سے پہلی قوم کو ان کے جرم کی پاداش میں ہلاک کرکے تمہیں ان کا جانشین بنایا۔ دوسرا یہ کہ تم سے پہلی نسل مرگئی تو ان کی جگہ تم ان کے جانشین ہوئے۔ تیسرا مطلب یہ ہے کہ اس کائنات کا اور اسی طرح اس زمین کا اصل مالک اور حاکم تو اللہ تعالیٰ ہے اور تمہیں اس کے نائب کی حیثیت سے یہاں بھیجا گیا ہے۔ اور اس لئے بھیجا گیا ہے کہ تم اس کی عطا کردہ چیزوں کو اسی کے حکم اور اسی کی مرضی کے مطابق استعمال کرتے ہو۔ یا اس کے باغی بن کر اپنی خواہشات کی پیروی کرنے لگ جاتے ہو۔ اور اگر تم اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے اختیارات کا اس کی مرضی کے خلاف غلط استعمال کرو گے تو یہ بددیانتی ہوگی اور اس کا تمہیں بہت بڑا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ تمہارا اصل مالک یقیناً تم سے ناراض ہوجائے گا پھر اس کی ناراضگی اور غصہ تمہارے لئے مزید نقصان کا باعث بن جائے گا۔
Ayah 35:40

قُلْ اَرَءَیْتُمْ شُرَكَآءَكُمُ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ۚ اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا فَهُمْ عَلٰى بَیِّنَتٍ مِّنْهُ١ۚ بَلْ اِنْ یَّعِدُ الظّٰلِمُوْنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 35:40 in the Quran reader

آپ ان کافروں سے کہئے : اپنے ان شریکوں کو تو ذرا دیکھو جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو (اور) مجھے بتاؤ کہ انہوں نے زمین کا کون سا حصہ پیدا کیا ہے ؟ یا آسمانوں میں ان کی شراکت ہے یا ہم نے انہیں کوئی ایسی تحریر دی 44 ہے جس کی رو سے وہ کوئی واضح دلیل رکھتے ہیں۔ (ان میں سے کوئی بات بھی نہیں) بلکہ یہ ظالم ایک دوسرے کو فریب کے وعدے 45 دیتے رہتے ہیں۔

44 شریکوں کے جواز کی ممکنہ بنیادیں ؟ یعنی تم لوگوں نے اپنے جن معبودوں کو اللہ تعالیٰ کے اختیارات و تصرفات میں اللہ کا شریک بنا رکھا ہے اس کی بنیاد کیا ہے ؟ ایک بنیاد تو یہ ہوسکتی ہے کہ کائنات کا کوئی دسواں بیسواں حصہ انہوں نے بھی بنایا ہو۔ دوسری بنیاد یہ ہوسکتی ہے کہ انہوں نے کائنات کا الگ تو کوئی حصہ نہیں بنایا، البتہ جب اللہ تعالیٰ کائنات پیدا کر رہا تھا تو اس وقت تمہارے ان معبودوں نے اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بٹایا ہو اس طرح اختیارات و تصرفات میں ان کا بھی کچھ حق بن سکتا ہے۔ تیسری بنیاد یہ بھی بن سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی انہیں کوئی مختار نامہ لکھ دیا ہو کہ فلاں علاقہ کے لوگ، فلاں آستانے یا فلاں بزرگ کے پاس اپنی درخواستیں پیش کیا کریں اور انہیں پکارا کریں اور انہی کے حضور نذریں نیازیں چڑھایا کریں۔ یا فلاں فلاں ہستیوں کو ہم نے فلاں فلاں بیماری سے تندرست کرنے کے اختیار دے رکھے ہیں اور انگر بیروز گاروں کو روزگار دلوانا ہو تو فلاں بزرگ کے پاس جانا چاہئے۔ وہ آپ کی حاجات کو پورا کرسکتے ہیں۔ اور بگڑی بنا بھی سکتے ہیں اور اگر چاہیں تو بگاڑ بھی سکتے ہیں۔ اگر ہم نے کوئی ایسی سند کسی آسمانی کتاب میں لکھی ہے تو وہ دکھا دو ۔ اور اگر ان تینوں باتوں میں سے کوئی بات بھی نہیں ہے تو پھر کیا تم خود اللہ تعالیٰ کے اختیار و تصرف کے اجارہ دار بن بیٹھے ہو۔ اور اپنی طرف سے ہی ان اختیارات میں اپنے اپنے معبودوں اور پیروں فقیروں کے حصے کر لئے ہیں۔ 45 شرک کی اصل بنیاد بت پرستی ہے :۔ بات یوں نہیں بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ پروہت اور گورو اور ان کے چیلے یا یہ بزرگ پیر فقیر اور ان کے مرید ان باصفا اور قبروں کے مجاور سب مل کر اپنے مفادات دنیوی کی خاطر عوام الناس کو بیوقوف بنا کر اپنا الو سیدھا کر رہے ہیں۔ یہ اپنی اپنی دکانیں چمکانے کے لئے طرح طرح کے افسانے اور قصے گھڑتے ہیں پھر ان کا خوب پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ فلاں صاحب بڑے پہنچے ہوئے ہیں۔ ان کا دامن پکڑ لیا جائے تو وہ اپنے مریدوں کی سفارش کرکے اللہ سے بخشوا کے چھوڑیں گے۔ فلاں صاحب کی تقدیر میں کوئی اولاد نہ تھی مگر فلاں بزرگ نے اللہ سے اصرار کرکے اسے سات بیٹے دلوا دیئے۔ اور فلاں صاحب نے فلاں قبر پر جاکر فلاں حرکت کی تھی تو چند ہی دنوں میں وہ تباہ و برباد ہوگیا۔ ان کی دکانیں محض جھوٹ اور پروپیگنڈے کی بنیاد پر چل رہی ہیں۔ اور اس سے ان کے دنیوی مفادات وابستہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اختیارات و تصرفات کسی بندے کو ہرگز تفویض نہیں کئے۔