35. Surah Faatir

فاطرThe Originator · 45 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 35:41

اِنَّ اللّٰهَ یُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا١ۚ۬ وَ لَئِنْ زَالَتَاۤ اِنْ اَمْسَكَهُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا Open ayah 35:41 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ ہی یقینا آسمانوں 46 اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ کہیں سرک نہ جائیں اور اگر وہ سرک جائیں تو اس کے بعد انہیں کوئی بھی اپنی جگہ پر برقرار نہیں رکھ سکتا۔ بلاشبہ وہ بڑا بردبار 47 اور معاف کرنے والا ہے۔

46 آسمانوں اور زمین کے الفاظ بول کر قرآن کریم بالعموم اس سے پورا نظام کائنات مراد لیتا ہے اور یہ اس قدر پیچیدہ نظام ہے جو سائنس کے آئے دن کے انکشافات اور ایجادات کے باوجود انسان کے لئے محیر العقول بنا پڑا ہے۔ کہ آیا یہ سب سیارے فضا میں پوری تیزی کے ساتھ گھومنے کے باوجود کس طرح اس قدر جکڑے ہوئے ہیں کہ کوئی سیارہ ایک دوسرے پر گر نہیں پڑتا کہیں ٹکراتا بھی نہیں۔ اس کی رفتار میں بھی فرق نہیں آتا۔ وہ اپنے رخ اور سمت میں تبدیلی نہیں کرسکتا۔ یہ ایسی باتیں ہیں جو انسان کو اس اعتراف پر مجبور کردیتی ہے کہ اس نظام کو بنانے والی، جاری رکھنے والی اور کنٹرول کرنے والی ہستی انتہا درجہ کی دانشور، مدبر اور صاحب اقتدار اور اختیار ہو۔ جس کی حکمت بالغہ کے تحت اس قدر گرانڈیل اور عظیم الجثہ کرے فضائے کائنات میں تیرتے پھرتے ہیں۔ 47 وہ ہستی اس قدر صاحب قوت، اقتدار اور انختیار رکھنے کے باوجود بردبار ہے۔ جو اس کے اختیارات کو دوسروں میں بانٹنے والوں کو فوراً تباہ نہیں کردیتا۔ اور اپنے باغیوں، منکروں اور نافرمانوں سے درگزر کئے جاتا ہے۔
Ayah 35:42

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآءَهُمْ نَذِیْرٌ لَّیَكُوْنُنَّ اَهْدٰى مِنْ اِحْدَى الْاُمَمِ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ نَذِیْرٌ مَّا زَادَهُمْ اِلَّا نُفُوْرَاۙ Open ayah 35:42 in the Quran reader

یہ لوگ اللہ کی پختہ قسمیں کھایا کرتے تھے کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے والا (پیغمبر) آجائے تو کسی بھی دوسری امت سے زیادہ 48 ہدایت پالیں گے مگر جب ان کے پاس ڈرانے والا آگیا تو ان میں نفرت ہی بڑھتی گئی۔

48 مشرکین مکہ کا یہ قول کہ اگر نبی ہم میں آتا تو ہم تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے :۔ آپ کی بعثت سے پہلے کفار مکہ جب یہود و نصاریٰ کی بگڑی ہوئی اخلاقی حالت کو دیکھتے تھے تو ان سے بڑھ چڑھ کر باتیں بناتے اور قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس بھی کوئی پیغمبر آیا ہوتا جو ہماری رہنمائی کرتا تو ہم یقینا ً ہر لحاظ سے تم سے بہتر ہوتے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے ان میں اپنا نبی مبعوث فرما دیا اور انہیں یہ معلوم ہوا کہ اب انہیں اپنی اپنی سرداریوں اور چودھراہٹوں سے دستبردار ہو کر اس نبی کا مطیع فرمان بن کر رہنا پڑے گا تو اکڑ بیٹھے۔ انہیں یہود و نصاریٰ کے سامنے کئے ہوئے قول وقرار بھول بھلا گئے۔ اور اپنی سرداریوں اور چودھراہٹوں کو تحفظ دینے کی خاطر الٹا نبی کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے اور برابر ایسی کوششوں میں لگ گئے کہ اس ڈرانے والے نبی اور اس کے متبعین پر عرصہ حیات تنگ کردیا۔ پھر اس سلسلہ میں انہوں نے ظاہری مخالفت کے علاوہ خفیہ سازشوں کے بھی کئی جال پھیلائے۔ مگر اللہ تعالیٰ اپنے نبی اور اپنے ایمانداروں کی مدد پر تھا۔ لہذا جو چال بھی وہ چلتے انہی پر الٹی پڑتی تھی۔ جس کے نتیجہ میں وہ خود ہی ذلیل و رسوا ہوتے رہے اور ان کی ہزار مخالفتوں کے باوجود اسلام کو غلبہ اور سربلندی حاصل ہوتی گئی۔ اور جوں جوں اسلام کو سربلندی ہوتی تو وہ اپنے بغض، نفرت اور عناد کی وجہ سے اور زیادہ چڑ جاتے تھے۔
Ayah 35:43

اِ۟سْتِكْبَارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَكْرَ السَّیِّئِ١ؕ وَ لَا یَحِیْقُ الْمَكْرُ السَّیِّئُ اِلَّا بِاَهْلِهٖ١ؕ فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا سُنَّتَ الْاَوَّلِیْنَ١ۚ فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا١ۚ۬ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَحْوِیْلًا Open ayah 35:43 in the Quran reader

جس کی وجہ ان کا زمین میں بڑا بن کر رہنا اور بری چالیں چلنا تھا۔ حالانکہ بری چال تو چال چلنے والے پر ہی آپڑتی ہے۔ پھر یہ صرف اس سنت الٰہی کا انتظار کر رہے ہیں جو پہلے لوگوں میں جاری رہی۔ اللہ کی اس سنت میں آپ نہ تو کبھی کوئی تبدیلی 49 پائیں گے اور نہ تغیر 50 ۔

49 یعنی ان چودھریوں اور سرداروں کا اپنے نبی کی مخالفت کرنا کوئی نئی بات نہیں تھی۔ پہلے بھی سرکش اور نافرمان قومیں یہی کچھ کرتی رہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ بھی ہمیشہ یہی رہی کہ وہ ایسے باغیوں کو سر کچلتا رہا۔ اور اپنے انبیاء کی اور اس پر ایمان لانے والوں کی سرپرستی کرتا اور ان کی مدد کرکے ان ظالموں سے نجات دلاتا رہا ہے۔ اور اللہ کا یہ ایسا طریقہ ہے جس میں تخلف یا تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا۔ گویا اس آیت میں معاندین حق کے لئے یہ دھمکی اور پیشین گوئی تھی کہ اگر تم نے اپنا یہ معاندانہ رویہ نہ بدلا تو تمہیں بھی ایسے برے انجام سے دوچار ہونا پڑے گا۔ جس سے سابقہ اقوام دوچار ہوچکی ہیں۔ 50 اللہ کا دستور یہ ہے کہ وہ اپنے انبیاء کے مخالفوں کی کمر توڑ دے۔ اس دستور میں ایسا تغیر کبھی نہیں آسکتا کہ اللہ تعالیٰ ایسے مجرموں کو سزا دینے کی بجائے ان پر انعام و اکرام کرنے لگے یا ان مجرموں کی سزا دوسرے لوگوں کو دینے لگے۔
Ayah 35:44

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعْجِزَهٗ مِنْ شَیْءٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَلِیْمًا قَدِیْرًا Open ayah 35:44 in the Quran reader

کیا وہ زمین میں چلتے پھرتے نہیں کہ ان لوگوں کا انجام دیکھیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں اور وہ ان سے طاقتور بھی 51 زیادہ تھے۔ اور اللہ کو تو آسمانوں کی یا زمین کی کوئی چیز بھی عاجز نہیں کرسکتی۔ بلاشبہ وہ سب کچھ جاننے والا اور قدرت والا ہے۔

51 اگر قریش مکہ نے پہلی قوموں کے کھنڈرات کو پہلے اس نظر سے نہیں دیکھا تو اب جاکر دیکھ لیں۔ ان کے کھنڈرات سے بھی یہ معلوم ہوجائے گا کہ یہ لوگ اپنے اپنے وقتوں میں شان و شوکت، قوت و دبدبہ اور عیش و عشرت میں ان قریش مکہ سے کہیں بڑھ کر تھے۔ پھر جب انہوں نے یہ سرکشی کی روش اختیار کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں کچل کے رکھ دیا۔ اس وقت اللہ کے مقابلہ میں نہ ان کی شان و شوکت کسی کام آئی اور نہ قوت و دبدبہ۔ پھر کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ اپنی اس معاندانہ روش اور خفیہ سازشوں سے اللہ کے دین کی راہ روک سکو گے ؟ تم اس کی گرفت سے کیسے بچ سکو گے جب کہ وہ تمہاری ایک ایک حرکت کو جانتا بھی ہے اور تمہیں سزا دینے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔
Ayah 35:45

وَ لَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰى ظَهْرِهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّ لٰكِنْ یُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِیْرًا۠ Open ayah 35:45 in the Quran reader

اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے اعمال کے مطابق ان کا مواخذہ کرتا تو سطح زمین پر کوئی جاندار 52 (زندہ) نہ چھوڑتا لیکن وہ تو ایک مقررہ وقت تک انہیں ڈھیل دیے جاتا ہے۔ پھر جب ان کا وہ مقررہ وقت آجائے گا تو اللہ یقینا اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے (وہ ان سے نمٹ لے گا)

52 دنیا دارالعمل ہے دارالجزاء نہیں۔ ورنہ زمین پر کوئی جاندار زندہ نہ رہ سکتا :۔ انسان اور جن کے علاوہ دوسرا کوئی جاندار نہ شریعت کا مکلف ہے اور نہ اللہ کا نافرمان ہوتا ہے، نہ ہوسکتا ہے۔ اصل مجرم تو انسان ہے۔ مگر اس کی سزا سے دوسرے جاندار بیچارے مفت میں مار کھاتے ہیں جیسے گندم کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے۔ مثلاً انسانوں کے جرم کی پاداش میں اگر اللہ تعالیٰ بارش روک دے تو دوسرے جاندار بھی بےچارے پانی کی نایابی کی وجہ سے تڑپ تڑپ کر مرجائیں گے۔ اسی طرح اگر سیلاب آجائے یا زلزلہ آجائے تو متاثرہ علاقہ کے جاندار بھی متاثر ہوں گے اور مرجائیں گے۔ مجرم انسانوں کو فوری طور پر گرفت نہ کرنے اور انہیں ڈھیل دینے میں اللہ ہی جانتا ہے کہ اس کی کیا مصلحتیں پوشیدہ ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ بےزبان جانوروں کی فریاد کی وجہ سے ہی مجرموں پر عذاب نہ بھیج رہا ہو۔ بہرحال یہ مہلت بھی ایک مقررہ وقت تک ہی ہے۔ انفرادی لحاظ سے یہ مہلت ہر انسان کی موت کا وقت ہے۔ اور اجتماعی لحاظ سے کسی قوم پر اللہ کے عذاب کا یا قیامت کا وقت ہے۔ اس مقررہ وقت کے بعد محاسبہ کا وقت ہے۔ کوئی مجرم نہ اس سے چھپ سکے گا نہ بھاگ سکے گا۔ اور اس کا یہ محاسبہ حق و انصاف پر مبنی ہوگا کیونکہ وہ اپنے بندوں کے ایک ایک عمل اور ان کی ایک ایک حرکت کو خود دیکھ رہا ہے۔