33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتیسیر القرآن

Ayahs 33:1–2

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 33:1 in the Quran reader

اے نبی ! اللہ سے ڈرتے رہئے 1 اور کافروں اور منافقوں کا کہا نہ مانیے۔ اللہ تعالیٰ یقینا سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

وَّ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًاۙ Open ayah 33:2 in the Quran reader

اور جو کچھ آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر وحی کی جاتی ہے اسی کی اتباع کیجئے، اور تم جو کچھ بھی عمل کرتے ہو اللہ تعالیٰ یقینا ان سے باخبر ہے۔

1 جنگ احد کے بعد مدینہ پر خوف وہراس کی فضا :۔ اگرچہ اس سورة کا اکثر حصہ جنگ (احزاب 5 ھ) کے بعد نازل ہوا تاہم ابتدائی آیات جنگ احزاب سے بہت پہلے کی ہیں۔ مکہ میں تو آپ کے اور مسلمانوں کے دشمن صرف قریش مکہ تھے۔ مگر مدینہ جانے کے بعد مدینہ کے یہود، مشرکین اور منافقین سب آپ کے دشمن بن گئے تھے۔ جو اسلام اور پیغمبر اسلام کو بدنام کرنے اور صفحہ ہستی سے مٹا دینے پر تلے بیٹھے تھے۔ غزوہ احد میں مسلمانوں کو جو عارضی طور پر شکست ہوئی تھی اس نے دشمنوں کے حوصلے بہت بڑھا دیئے تھے۔ مشرک قبائل نے دو دفعہ رسول اللہ کو دھوکا دے کر تبلیغ کے لئے قاریوں کا مطالبہ کیا اور پھر انھیں قتل کردیا۔ مدینہ پر ہر وقت خوف و ہراس کی فضا طاری رہتی تھی۔ اور اعدائے اسلام نے اسلام کے خلاف پروپیگنڈا کی مہم بڑی تیز کر رکھی تھی۔ خ معاشرتی اصلاحات اور غلامی کا مسئلہ :۔ اور یہی وہ دور تھا جس میں بذریعہ وحی مسلمانوں کی اخلاقی تربیت اور معاشرتی اصلاحات کا سلسلہ بھی جاری تھا اور معاشرتی اصلاحات کے سلسلہ میں ایک نہایت اہم مسئلہ غلامی کا تھا۔ عرب معاشرہ میں غلامی کا اتنا زیادہ رواج تھا کہ اگر یوں کہا جائے کہ اس دور میں عرب آبادی کا آدھے سے زیادہ حصہ غلاموں پر مشتمل تھا تو غلط نہ ہوگا۔ پھر ان غلاموں کو آزاد انسانوں سے بہت حقیر اور کم تر درجہ کی مخلوق سمجھا جاتا تھا اور اسلام اس سلسلہ میں کئی اصلاحات کرنا چاہتا تھا۔ خ غلام اور آزاد کی طبقاتی تقسیم :۔ اسی سلسلہ کی ایک کڑی یہ تھی کہ زید بن حارثہ آپ کا غلام تھا۔ جسے آپ نے آزاد کرکے اپنا متبنیٰ بنا لیا تھا۔ چناچہ لوگ سیدنا زید کو زید بن محمد کہا کرتے تھے۔ یہ آزاد کردہ غلام بھی معاشرہ میں وہ مقام نہیں رکھتے تھے جو آزاد لوگوں کا ہوتا تھا۔ گویا یہ معاشرتی عزت و وقار کے لحاظ سے ایک درمیانہ قسم کا تیسرا طبقہ بن جاتا تھا جو غلاموں سے تو اوپر ہوتا تھا لیکن آزاد لوگ انھیں بھی اپنا ہم پلہ قرار نہیں دیتے تھے۔ اس سلسلہ میں اسلام نے کئی اقدامات کئے اور کئی اصلاحات کیں۔ مثلاً اسلام نے اگرچہ کلی طور پر غلامی کا استیصال نہیں کیا کیونکہ اس میں بھی کچھ مصلحتیں تھیں تاہم ایسی تدابیر اختیار کیں جن سے زیادہ سے زیادہ غلاموں کو آزادی کی نعمت میسر ہو اور یہ ایک جداگانہ موضوع ہے۔ جو خاصا تفصیل طلب ہے۔ خ آپ کے آزاد کردہ غلام زید کا سیدہ زینب سے نکاح :۔ آزاد شدہ غلاموں کے سلسلہ میں اسلام کا منشا یہ تھا کہ کم از کم ایسے لوگوں کو ازاد لوگوں کے برابر درجہ دیا جائے۔ چناچہ اسی منشائے الٰہی کے مطابق آپ نے اپنے آزاد کردہ غلام اور متبنیٰ زید کے لئے اپنی پھوپھی زاد بہن سیدہ زینب سے رشتہ کا مطالبہ کردیا۔ سیدہ زینب کا خاندان آپ ہی کا خاندان تھا۔ جو آزاد معاشرہ میں بڑے اونچے درجہ کے لوگ شمار ہوتے تھے وہ بھلا کیسے اس رشتہ کو قبول کرسکتے تھے ؟ چناچہ انہوں نے اسی بنا پر رشتہ سے صاف انکار کردیا اور رشتہ کا یہ مطالبہ چونکہ رسول اللہ نے اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اللہ کے حکم سے کیا تھا۔ لہذا ان لوگوں کے انکار پر اسی سورة کی آیت نمبر 36 نازل ہوئی۔ جس میں سیدہ زینب کے رشتہ داروں کو مطلع کردیا گیا کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی کام کا فیصلہ کرلیں تو مومنوں کا کچھ اختیار باقی نہیں رہ جاتا چناچہ انہوں نے اللہ کے اس حکم کے سامنے سرتسلیم خم کردیا اور سیدنا زید اور سیدہ زینب کی شادی ہوگئی۔ مگر شادی کے بعد بھی زوجین کے تعلقات میں خوشگواری نہ آسکی۔ اور اس کی وجہ وہی طبقاتی امتیاز تھا جو معاشرہ میں جڑ پکڑ چکا تھا۔ خ آپ کا زید کو سمجھانا اور طلاق کی نوبت :۔ سیدہ زینب نے اللہ کے حکم کے سامنے تو سر تسلیم خم کردیا مگر طبیعت کا یکدم بدل جانا ان کے بس کی بات نہ تھی۔ اور وہ اپنے خاوند کا وہ احترام نہ کرسکیں جو ایک بیوی کو اپنے خاوند کا کرنا چاہئے۔ سیدنا زید چونکہ رسول اللہ کے چہیتے بھی تھے اور متبّنی بھی۔ لہذا انہوں نے کئی بار آپ سے اپنی اس تکلیف اور ذہنی کوفت کی شکایت کی۔ اور یہ بھی کہا کہ میں زینب کو طلاق دے دوں گا۔ مگر آپ سیدنا زید کو طلاق سے منع ہی فرماتے رہے۔ خ ہر مشکل کام کا آغاز نبی کی ذات سے : سیدہ زینب سے نکاح کا حکم :۔ عرب معاشرہ میں ایک اور بگاڑ بھی موجود تھا جو یہ تھا کہ یہ لوگ متبنیٰ کو ہر لحاظ سے اپنے حقیقی بیٹوں کی مانند قرار دیتے تھے اور اس مسئلہ میں بھی اسلام اصلاحی قدم اٹھانا چاہتا تھا۔ لیکن یہ قدم چونکہ انتہائی مشکل قدم تھا۔ اور جو شخص بھی اس بند دروازے کو کھولنے کا ارادہ کرتا اسے سارے عرب معاشرہ کے طعن وتشنیع کا ہدف بننا پڑتا تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس مشکل کام کے لئے نبی کی ذات کو منتخب کیا۔ جن دنوں سیدنا زید سیدہ زینب کو طلاق دینے کا سوچ رہے تھے۔ اسی دور میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اشارہ مل چکا تھا کہ اب سیدہ زینب کا آپ سے نکاح کیا جائے گا۔ اس اشارہ حکم الٰہی سے دو مصلحتیں مقصود تھیں ایک یہ کہ سیدہ زینب جس نے اپنی طبیعت کی ناگواری کے باوجود اللہ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کردیا تھا آئندہ آپ سے نکاح کرکے اس کی دلجوئی کی جائے اور دوسری مصلحت یہ تھی کہ معاشرہ میں اس غلط نظریہ کا قلع قمع کیا جائے کہ متبنّیٰ بھی ہر لحاظ سے حقیقی بیٹے کی طرح ہوتا ہے۔ خ نکاح پر کافروں اور منافقوں کا طعن وتشنیع :۔ جب آپ کو وحی سے سیدہ زینب سے نکاح کا اشارہ ملا۔ تو آپ کے سامنے وہ سارے خطرات آنے لگے۔ جب سارے کے سارے دشمن آپ کو یہ طعنہ دیں گے کہ دیکھو ! اس نبی نے تو اپنی بہو سے نکاح کرلیا ہے حالانکہ یہ خود ہی بہو سے نکاح کرنا حرام بتاتا ہے۔ غالباً طعن وتشنیع کے انھیں خطرات کے پیش نظر آپ زید کو بار بار طلاق دینے سے روکتے رہے۔ اسی پس منظر میں اس سورة کی یہ ابتدائی آیات نازل ہوئیں اور اللہ تعالیٰ نے براہ راست اپنے نبی کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں ان کافروں اور منافقوں سے نہ ڈرنے کی ضرورت ہے نہ ان کی باتوں پر کان دھرنے کی۔ ڈرنے کے لائق تو صرف اللہ کی ذات ہے۔ تم صرف اسی سے ڈرو اور اسی کی وحی کی اطاعت کرو۔ اللہ اپنے احکام کی حکمت خوب جانتا ہے کہ وہ کیوں ایسا حکم دے رہا ہے اور جو لوگ اس نکاح کے رد عمل میں شور و غوغا بپا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے بھی پوری طرح باخبر ہے۔
Ayah 33:3

وَّ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:3 in the Quran reader

اور اللہ پر بھروسہ کیجئے اور اللہ کا کارساز ہونا ہی کافی 1۔ الف ہے۔

1۔ الف یعنی تمہارے دشمن جیسی بھی باتیں بناتے ہیں اور جو الزام بھی آپ پر دھرتے ہیں دھرنے دو ۔ تمہارا کام فقط یہ ہے کہ وحی کا حکم بجا لاؤ اور اللہ پر پورا بھروسہ رکھو۔ ان دشمنوں سے نمٹنا یا ان کی سازشوں اور چالوں کو ناکام بنانا میرا کام ہے۔
Ayah 33:4

مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِهٖ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ الّٰٓئِیْ تُظٰهِرُوْنَ مِنْهُنَّ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَ هُوَ یَهْدِی السَّبِیْلَ Open ayah 33:4 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے کسی آدمی کے اندر دو دل 2 نہیں بنائے۔ نہ ہی تمہاری ان بیویوں کو جن سے تم ظہار کرتے ہو تمہاری مائیں بنایا ہے اور نہ تمہارے منہ بولے بیٹوں 3 کو تمہارے حقیقی بیٹے بنایا ہے۔ یہ تو تمہارے منہ کی باتیں ہیں مگر اللہ حقیقی بات کہتا ہے اور وہی صحیح راہ دکھاتا ہے

2 اللہ کا دو دل نہ بنانے کا مفہوم :۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تین حقائق بیان فرمائے ہیں۔ ایک یہ کہ سب انسانوں کا اللہ نے ایک ہی دل بنایا ہے دو نہیں بنائے۔ لہذا ایک دل ایک وقت میں ایک ہی حقیقت کو تسلیم کرسکتا ہے۔ دو متضاد حقیقتوں کو تسلیم نہیں کرسکتا۔ یہ ناممکن ہے کہ ایک ہی شخص بیک وقت مومن بھی ہو اور منافق بھی۔ یا وہ کافر بھی ہو اور مسلم بھی۔ ان میں سے ایک وقت میں ایک ہی حقیقت کی تسلیم کیا جاسکتا ہے کیونکہ دو متضاد باتوں میں سے حقیقت ایک ہی ہوسکتی ہے۔ اور اگر کوئی منافق دل میں نفاق چھپا کر ایمان کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ حقیقت بیان نہیں کرتا۔ بلکہ جھوٹ بولتا اور دھوکا دیتا ہے اور اس نکاح کے ردعمل سے مسلمانوں کو یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ ان میں مخلص مسلمان کتنے اور کون کون ہیں اور منافق کون ہیں جو اللہ کے حکم کے علی الرغم دوسرے دشمنوں کی دیکھا دیکھی زبان دراز کرتے ہیں۔ خ ظہار کا دستور بھی لغو ہے اور متبّنیٰ بنانے کا بھی کیونکہ ماں اور باپ ایک ہی ہوسکتے ہیں :۔ عرب میں طلاق کے علاوہ یہ بھی دستور تھا کہ جس عورت پر غصہ آتا اور اس سے ان بن ہوجاتی تو کہہ دیتے تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے۔ اس کام کو وہ ظہار کہتے تھے۔ یہ کہنے پر وہ عورت خاوند پر حرام ہوجاتی تھی۔ یہ دستور بھی اصلاح طلب تھا۔ اس کی اصلاح کا طریقہ اور کفارہ تو سورة مجادلہ میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہاں صرف یہ بتایا جارہا ہے کہ تمہارے کہنے سے بیوی ماں نہیں بن جاتی۔ ماں تو وہ ہوتی ہے جس نے جنا ہو۔ تو جس طرح کسی آدمی کے اندر دو دل نہیں ہوسکتے اسی طرح کسی کی دو مائیں بھی نہیں ہوسکتیں۔ اب اگر تم بیوی کو ماں کہہ کر اسے فی الواقع ماں سمجھ بیٹھو تو یہ تو تمہارے منہ کی بات ہے جس کا حقیقت سے کچھ تعلق نہیں۔ خ متبنّیٰ اور وراثت کے دستور کی اصلاح :۔ اور تیسری حقیقت یہ ہے کہ متبنّیٰ حقیقی بیٹے کا مقام نہیں لے سکتا۔ یہ بھی ناممکن ہے کہ کسی کے دو باپ ہوں۔ باپ وہی ہے جس کے نطفہ سے وہ پیدا ہوا ہے۔ دوسرا کوئی شخص نہ اس کا حقیقی باپ ہوسکتا ہے اور نہ وہ اس کا حقیقی بیٹا ہوسکتا ہے۔ متبّنی اپنے نقلی باپ کا وارث نہیں بن سکتا۔ نہ باپ متبنّیٰ کا وارث ہوسکتا ہے۔ ہر شخص اپنے متبنیٰ کی مطلقہ بیوہ سے نکاح کرسکتا ہے۔ اسی طرح متبنّیٰ بھی اپنے نقلی باپ کی مطلقہ یا بیوہ سے نکاح کرسکتا ہے۔ اور یہی غلط دستور معاشرہ میں رائج تھا۔ جس کی اصلاح اللہ تعالیٰ نبی کے سیدہ زینب کے ساتھ نکاح سے فرمانا چاہتا تھا۔ 3 اس آیت میں اسی اصلاحی اقدام کی چند جزئیات بیان فرمائی جارہی ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ ہر شخص کو اس کے حقیقی باپ کی نسبت سے پکارا جائے۔ چناچہ سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ نے سیدنا زید کو اپنا متبنّیٰ بنا لیاتو ہم لوگ انھیں زید بن محمد کہہ کر پکارتے تھے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو پھر زید بن حارثہ کہنا شروع کردیا۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر) اور رسول اللہ خود بھی انھیں زید بن حارثہ ہی کہنے لگے۔ ضمناً اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عیسیٰ کا باپ نہیں تھا۔ ورنہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم کبھی نہ فرماتے۔ سیدنا عیسیٰ ابن مریم کی معجزانہ پیدائش کے منکرین کے لئے یہ لمحہ فکریہ اس لحاظ سے ہے کہ قرآن نے اور کسی مرد یا عورت کا نام ابنیت سمیت ذکر نہیں کیا۔
Ayah 33:5

اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآئِهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ مَوَالِیْكُمْ١ؕ وَ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ فِیْمَاۤ اَخْطَاْتُمْ بِهٖ١ۙ وَ لٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:5 in the Quran reader

ان (منہ بولے بیٹوں) کو ان کے باپوں کے نام سے پکارا کرو۔ اللہ کے ہاں یہی انصاف کی بات ہے۔ اور اگر تمہیں ان کے باپوں (کے نام) کا علم نہ ہو 4 تو وہ تمہارے دینی بھائی اور تمہارے دوست ہیں۔ اور کوئی بات تم بھول چوک کی بنا پر کہہ دو تو اس میں تم پر کوئی گرفت 5 نہیں، مگر جو دل کے ارادہ 6 سے کہو (اس پر ضرورگرفت ہوگی۔ ) اللہ تعالیٰ یقینا معاف 7 کرنے والا ہے، رحم کرنے والا ہے۔

4 سلیمان فارسی اور صہیب رومی ؓ :۔ جیسے سیدنا سلمان فارسی کے باپ کا علم خود انھیں بھی نہیں تھا۔ بچپن میں ہی انھیں غلام بنا لیا گیا۔ وہ خود فرماتے ہیں کہ مجھے دس سے زیادہ مرتبہ بیچا اور خریدا گیا۔ (بخاری۔ کتاب المناقب۔ باب اسلام سلمان الفارسی) اور جیسے سیدنا صہیب رومی ؓ جو اصل میں ایرانی تھے۔ مگر اہل روم نے جب فارس پر حملہ کیا تو انھیں بچپن ہی میں قیدی بنا کر روم لے گئے تھے اور دونوں صحابہ کرام ؓ ثکو اپنے اپنے والد کے نام تک معلوم نہ تھے۔ 5 یعنی اگر کوئی کسی کو پیار سے بیٹا یا بیٹی کہہ دے یا کسی کا احترام ملحوظ رکھ کر کسی بزرگ کو باپ یا بزرگ عورت کو ماں کہہ دے یا محض اخلاقاً یہ الفاظ استعمال کئے جائیں تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔ حرج اس وقت واقع ہوتا ہے کہ اگر کسی کو بیٹا یا بیٹی کہے تو حقیقی بیٹے یا بیٹی جیسے فرائض حقوق بھی اپنے اوپر لازم کرلے۔ 6 اپنے آپ کو کسی دوسرے فرد یا قوم کی طرف منسوب کرنا کبیرہ گناہ ہے :۔ جس طرح عام مومنوں کو حکم ہے کہ وہ کسی شخص کو اس کے حقیقی باپ ہی کی طرف منسوب کریں کسی دوسرے کی طرف نہ کریں۔ اسی طرح یہ بھی حکم ہے کہ کوئی شخص خود بھی اپنے آپ کو اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے شخص یا کسی قوم کی طرف منسوب نہ کرے۔ چناچہ سیدنا ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جس نے دوسرے شخص کو جان بوجھ کر اپنا باپ بنایا وہ کافر ہوگیا اور جو شخص اپنے تئیں دوسری قوم کا بتائے وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنا لے (بخاری۔ کتاب المناقب۔ باب نسبۃ الیمن الی اسمٰعیل) ہمارے ملک میں سید بننے کا یا کسی اونچی ذات سے نسبت قائم کرنے کا عام رواج ہے۔ ایسے حضرات اس حدیث کے آئینے میں اپنا انجام دیکھ سکتے ہیں۔ 7 اس کا ایک مطلب تو ہے کہ اس سلسلہ میں تم سے جو پہلے لغزشیں اور غلطیاں ہوچکی ہیں اللہ انھیں معاف کرنے والا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اگر تم نادانستہ کوئی ایسی بات کہہ دو یا بھول چوک کہہ دو تو ایسی خطائیں بھی اللہ معاف کرنے والا ہے۔
Ayah 33:6

اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَفْعَلُوْۤا اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِكُمْ مَّعْرُوْفًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 33:6 in the Quran reader

بلاشبہ نبی مومنوں کے لئے ان کی اپنی ذات سے بھی مقدم 8 ہے اور آپ کی بیویاں مومنوں 9 کی مائیں ہیں۔ اور کتاب اللہ کی رو سے مومنین اور مہاجرین کی نسبت، رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ (ترکہ کے) حقدار ہیں۔ البتہ اگر تم اپنے دوستوں سے کوئی 10 بھلائی کرنا چاہو (تو کرسکتے ہو) کتاب 11 اللہ میں یہی کچھ لکھا ہوا ہے۔

8 آپ مومنوں کے ان کی ذات سے بھی زیادہ خیر خواہ ہیں :۔ اس آیت کے بھی دو مطلب ہیں۔ ایک مطلب یہ ہے کہ تم خود بھی اپنے اتنے خیر خواہ نہیں ہوسکتے جتنا کہ نبی تمہارا خیر خواہ ہے۔ پھر اس کے بھی دو پہلو ہیں ایک دینی دوسرا دنیوی۔ دینی لحاظ سے آپ کی تمام امت کو آپ ہی کی وساطت سے ہدایت کا راستہ ملا جس میں ہماری دنیوی اور اخروی فلاح ہے۔ آپ ہمارے معلم بھی ہیں اور مربی بھی، اس لحاظ سے آپ تمام امت کے روحانی باپ بھی ہوئے اور روحانی استاد بھی۔ اور دنیوی پہلو میں آپ کی سب سے زیادہ خیرخواہی درج ذیل حدیث سے واضح ہوتی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جتنے بھی مومن ہیں میں ان سب کا دنیا اور آخرت کے کاموں میں سب لوگوں سے زیادہ حقدار (اور خیر خواہ) ہوں۔ جو مومن مرتے وقت مال و دولت چھوڑ جائے اس کے وارث اس کے عزیز و اقارب ہوں گے جو بھی ہوں اور اگر وہ کچھ قرضہ یا چھوٹے چھوٹے بال بچے چھوڑ جائے تو وہ میرے پاس آئیں میں ان کا کام چلانے والا ہوں (بخاری۔ کتاب التفسیر) خ تمام لوگوں سے بڑھ کر آپ سے محبت کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا :۔ اور آپ کی اس حد درجہ کی خیرخواہی کا منطقی تقاضا یہ ہے کہ تمام مسلمان بھی آپ کا دوسرے سب لوگوں سے بڑھ کر احترام کریں اور ان کی اطاعت کریں تاکہ آپ کی تعلیم و تربیت سے پوری طرح فیض یاب ہوسکیں اور اس پہلو پر درج ذیل احادیث روشنی ڈالتی ہیں : 1۔ سیدنا انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کو میری محبت، اولاد، والدین اور سب لوگوں سے زیادہ نہ ہو (مسلم، کتاب الایمان۔ باب وجوب محبۃ رسول اللہ ) 2۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : کہ کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنی خواہش نفس کو اس چیز کے تابع نہ کر دے جو میں لایا ہوں (شرح السنتہ۔ بحوالہ مشکوٰۃ۔ کتاب الاعتصام بالکتاب والسنہ۔ فصل ثانی) 3۔ سیدنا عبداللہ بن ہشام فرماتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ تھے اور آپ سیدنا عمر کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ سیدنا عمر ؓ کہنے لگے : یارسول اللہ آپ میرے نزدیک اپنی جان کے علاوہ ہر چیز سے محبوب ہیں۔ آپ نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ جب تک میں تمہارے نزدیک تمہاری جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں، تم مومن نہیں ہوسکتے سیدنا عمر نے عرض کیا : اللہ کی قسم ! اب آپ میرے نزدیک میری جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں آپ نے فرمایا : اب اے عمر ! (یعنی اب تم صحیح مسلم ہو) (بخاری۔ کتاب الایمان والنذور۔ باب کیف کان یمین النبی ) 9 جب نبی روحانی باپ ہوا تو اس کی بیویاں روحانی مائیں ہوئیں۔ یا جب نبی کی بیویاں امت کی مائیں ہیں تو نبی ان کا باپ ہوا۔ لیکن ازواج النبی صرف احترام کے پہلو میں امت کی مائیں ہیں اور ان سے کوئی شخص رسول اللہ کی وفات کے بعد نکاح بھی نہیں کرسکتا اور باقی احکام بدستور رہیں گے۔ مثلاً وہ مومنوں سے باقاعدہ پردہ کریں گی اور وہ انھیں اجنبی ہی سمجھیں گی نہ ہی وہ کسی امتی کی وراثت میں دعویدار بن سکتی ہیں۔ وغیرہ۔ 10 مؤاخات اور وراثت :۔ جب رسول اللہ اور دوسرے مسلمان ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے تو ایک نہایت اہم مسئلہ مہاجرین کی آبادکاری اور ان کے ذریعہ معاش کا بھی تھا۔ جو اس نوزائیدہ مسلم ریاست کے لئے فوری طور پر حل طلب تھا۔ آپ نے اس نازک مسئلہ کے حل میں نہایت دانشمندی سے کام لیا۔ اور ایک مہاجر کو ایک انصاری کے ساتھ ملا کر اس کی آبادی اور اس کے معاش کی ذمہ داری اس پر ڈال دی۔ اس ذمہ داری کو انصار نے بڑی فراخدلی سے قبول کیا۔ اس سلسلہ کو مؤاخات کہتے ہیں۔ آپ نے سیدنا انس بن مالک ؓ کے گھر میں مختلف اوقات کی تین مجالس میں تقریباً تنتالیس مہاجرین کو اتنے ہی انصار کا بھائی بنادیا۔ اس طرح عارضی طور پر مہاجرین کی آباد کاری اور معاش کا مسئلہ حل ہوگیا۔ پھر یہ بھائی چارہ اس حد تک بڑھا کہ وہ ایک دوسرے کے وارث اور ولی قرار پاگئے۔ مہاجر کی وراثت اس کے انصاری بھائی کو ملتی تھی اور انصاری کی اس کے مہاجر بھائی کو۔ پھر جب مسلمانوں کی معاشی حالت نسبتاً بہتر ہوگئی تو اس عارضی قانون کو ختم کردیا گیا اور اصل وارث قریبی رشتہ دار ہی قرار پائے۔ ہاں ان بھائیوں سے حق وراثت کے علاوہ دوسرے ذرائع سے بہتر سلوک کی اجازت دی گئی۔ مثلاً کوئی شخص ان کے حق میں وصیت کرسکتا ہے۔ اپنی زندگی میں مالی امداد اور ہبہ کرسکتا ہے۔ تحفے تحائف دے سکتا ہے۔ 11 یعنی مؤاخات کے بھائیوں کو ایک دوسرے کا وارث بنادینا ایک عارضی قانون تھا۔ مستقل قانون شریعت یہی ہے کہ وراثت کے حقدار قرابتدار ہی ہوتے ہیں۔
Ayah 33:7

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَهُمْ وَ مِنْكَ وَ مِنْ نُّوْحٍ وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١۪ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًاۙ Open ayah 33:7 in the Quran reader

اور اس عہد کو یاد رکھو جو ہم نے سب نبیوں سے لیا اور آپ سے بھی اور نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم 12 سے بھی۔ ان سب سے ہم نے پختہ عہد لیا تھا۔

12 انبیاء کا عہد کیا ہے ؟ انبیاء کا عہد، عہد الست سے الگ ہے۔ اور اس عہد کا بھی قرآن میں متعدد بار ذکر آیا ہے (2: 83، 3: 187، 5: 67، 7: 169 تا 171، 42: 13 میں) اور وہ عہد یہ تھا کہ ہر پیغمبر اپنے سے پہلے پیغمبروں کی اور ان کی کتابوں کی تصدیق کرے گا، اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کی سب سے پہلے خود اطاعت کرے گا پھر دوسروں سے کرائے گا۔ اللہ تعالیٰ کے پیغام کو بلاکم وکاست دوسروں تک پہنچائے گا اور ان احکام کو عملاً نافذ کرنے میں اپنی مقدور بھر کوشش سے دریغ نہ کرے گا۔ اور اس مقام پر اس عہد کو یاد دلاتے اور بالخصوص منک کہنے سے مراد یہ ہے کہ آپ جو منہ بولے رشتوں کے معاملہ میں جاہلیت کی رسم توڑنے سے جھجک رہے ہیں اور دشمنوں کے طعن وتشنیع سے ڈر رہے ہیں تو ان لوگوں کی قطعاً پروا نہ کیجئے۔ دوسرے پیغمبروں کی طرح آپ سے بھی ہمارا پختہ معاہدہ ہے کہ جو کچھ بھی ہم تمہیں حکم دیں گے اسے بجا لاؤ گے اور دوسروں کو اس کی پیروی کا حکم دو گے۔ لہذا جو خدمت ہم آپ سے لینا چاہتے ہیں اسے بلاتامل سرانجام دو اور شماتت اعداء کا خوف نہ کرو۔
Ayah 33:8

لِّیَسْئَلَ الصّٰدِقِیْنَ عَنْ صِدْقِهِمْ١ۚ وَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 33:8 in the Quran reader

تاکہ اللہ تعالیٰ سچے لوگوں سے ان کی سچائی کے بارے میں سوال 13 کرے اور کافروں کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

13 انبیاء کے عہد کی ان سے باز پرس بھی ہوگی :۔ یہ محض عہد لینے تک ہی معاملہ نہیں ہوجاتا بلکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس عہد سے متعلق پیغمبروں سے بھی سوال کرے گا۔ ان کی بھی بازپرس ہوگی۔ انھیں بھی پوچھا جائے گا کہ آیا تم نے اپنی قوم کو میرا پیغام پہنچا دیا تھا ؟ پھر اس قوم نے تمہیں کیا جواب دیا تھا ؟ یا تمہاری دعوت کا ردعمل کیا ہوا تھا ؟ یہ مطلب تو ربط مضمون کے لحاظ سے ہے۔ تاہم یہاں رسولوں کے بجائے صادقین کا لفظ آیا ہے۔ گویا ہر ایماندار سے اس کے عہد کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ پھر جن لوگوں نے اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کو پورا کیا ہوگا وہی لوگ صادق العہد قرار پائیں گے۔
Ayahs 33:9–11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَآءَتْكُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا وَّ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًاۚ Open ayah 33:9 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ کے اس احسان کو یاد رکھو جب (کفار کے) لشکر تم پر چڑھ آئے تھے تو ہم نے آندھی اور ایسے لشکر بھیج دیئے جو تمہیں 14 نظر نہ آتے تھے اور جو کچھ تم کر رہے تھے اللہ اسے خوب دیکھ رہا تھا۔

اِذْ جَآءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا Open ayah 33:10 in the Quran reader

جب وہ تمہارے اوپر سے اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے تھے اور جب آنکھیں پھر گئی تھیں اور کلیجے منہ کو آنے لگے تھے اور تم اللہ تعالیٰ کے متعلق طرح طرح کے گمان کرنے لگے تھے

هُنَالِكَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا Open ayah 33:11 in the Quran reader

اس موقع پر مومنوں کی آزمائش کی گئی اور وہ بری طرح ہلا دیئے گئے۔

14 جنگ احزاب کے اصل محرک خیبر میں پناہ گزین یہودی تھے :۔ آیت نمبر 9 سے لے کر آیت نمبر 27 تک جنگ احزاب کا یا جنگ خندق کا بیان ہے۔ مگر اس میں تسلسل کا وہ انداز نہیں جو ایک انسان یا مورخ کے بیان یا اس کی تصنیف میں پایا جاتا ہے۔ وہ سب سے پہلے جنگ کے اسباب بیان کرے گا۔ پھر واقعات کی تفصیل بتائے گا پھر اس کے بعد اس کے نتائج پر تبصرہ کرے گا۔ لیکن قرآن کا انداز بیان اس سے بالکل جداگانہ ہوتا ہے۔ قرآن کا اصل موضوع انسان کی ہدایت اور مسلمانوں کی اخلاقی اور عملی تربیت ہے۔ لہذا اس مخصوص انداز بیان سے اس جنگ کے بیان کا آغاز کیا گیا ہے اور انھیں بتایا ہے کہ جب اللہ کے فرمانبردار صرف اللہ پر توکل کرتے ہیں تو وہ کن کن غیر مرئی اسباب سے اپنے بندوں کی مدد فرماتا ہے لہذا مسلمانوں کو مشکل سے مشکل آزمائش کے وقت بھی صرف اللہ کی ذات پر بھروسہ رکھنا چاہئے اور جو کام وہ کرسکتے ہیں وہ بہرحال انھیں پوری محنت سے سرانجام دینا چاہئیں۔ پھر بعد میں قرآن کے بیان میں ان تمام فرقوں کے کردار پر بھی تبصرہ آگیا ہے جو اس جنگ میں شریک تھے۔ اب ہم پہلے اس جنگ کے مختصر حالات ترتیب وار بیان کرتے ہیں تاکہ اس جنگ کا پس منظر اور واقعات بھی سامنے رہیں اور آیات قرآنی کا مفہوم سمجھنے میں آسانی ہو۔ خ کفار کے متحدہ گروپ میں کون کون سے گروپ اور قبائل شامل تھے ؟ اس جنگ میں قریش مکہ، یہود مدینہ اور مشرک بدوی قبائل سب نے حصہ لیا تھا اسی لئے اسے جنگ احزاب کہا جاتا ہے۔ رہے منافقین تو وہ کھل کر سامنے آنے کی بجائے مسلمانوں میں بددلی پھیلانے اور ان کی حوصلہ شکنی کرنے، ان کا مذاق اڑانے اور دشمنوں سے سازباز کا کردار ادا کر رہے تھے۔ کافر اتحادیوں کے اس مشترکہ لشکر کا سردار چونکہ ابو سفیان ہی تھا لہذا اس جنگ میں زیادہ تر حصہ قریش مکہ کا ہی سمجھا جاسکتا ہے۔ اس جنگ کا آغاز یوں ہوا کہ جنگ احد کے بعد غزوہ بنو نضیر پیش آیا۔ جس کے نتیجہ میں یہودیوں کو مدینہ سے نکال دیا گیا اور انہوں نے خیبر میں جاکر پناہ لی تھی۔ انھیں جلا وطن شدہ یہودیوں میں سے بیس افراد پر مشتمل ایک وفد قریش مکہ کے پاس آیا اور انھیں مسلمانوں پر ایک اجتماعی اور کاری ضرب لگانے کی ترغیب دی۔ ایسی ضرب جس سے مسلمانوں کی جڑ کٹ جائے اور یہ روزمرہ کی بک بک ختم ہو۔ قریش مکہ نے یہودی وفد کی اس آواز پر لبیک کہا اور انہوں نے اس موقعہ کو اس لحاظ سے بھی غنیمت جانا کہ جنگ احد کے اختتام پر ابو سفیان نے ایک سال بعد بدر کے میدان میں جنگ لڑنے کا چیلنج دیا تھا۔ مسلمانوں کے وقت مقررہ پر میدان بدر میں پہنچنے کے باوجود ابو سفیان وہاں نہ پہنچ سکا تھا۔ یہود کی اس پیش کش نے اس کے حوصلے بڑھا دیئے اور فورا ان کا ہم نوا بن گیا۔ قریش مکہ کی طرف سے حوصلہ افزا جواب پانے کے بعد یہ وفد بنوغطفان کے پاس گیا۔ یہ قبیلہ چونکہ پہلے ہی یہود کا حلیف تھا لہذا وہ بھی فوراً تیار ہوگیا۔ بعد ازاں یہ وفد دوسرے اسلام دشمن قبائل میں گھوما پھرا حتیٰ کہ تمام اسلام دشمن عناصر کو مسلمانوں کے خلاف آمادہ جنگ کرلیا۔ چناچہ ذی قعدہ 5 ھ میں ابو سفیان کی سر کردگی میں جنوبی اطراف سے قریش، کنانہ اور تہامہ میں آباد دوسرے حلیف قبائل کا چار ہزار افراد پر مشتمل لشکر مدینہ کی جانب روانہ ہوا۔ مرالظہران کے مقام پر بنوسلیم کے ذیلی قبائل جنہوں نے بیئرمعونہ کے قریب چوٹی کے ستر (70) قاریوں کو دھوکے سے شہید کردیا تھا، ابو سفیان کے لشکر سے آکر مل گئے۔ مشرقی اطراف سے غطفانی قبائل فزارہ، حرہ اور اشجع بھی اس لشکر سے آملے۔ غرضیکہ مدینہ تک پہنچتے پہنچتے اس لشکر کی تعداد دس ہزار تک پہنچ گئی۔ جبکہ مدینہ کی کل آبادی بھی دس ہزار سے کم تھی اس میں سے جنگجو افراد صرف تین ہزار تھے اور ان تین ہزار میں منافقین بھی شامل تھے۔ اگر مسلمانوں نے خندق کھود کر بروقت اپنا دفاع نہ کرلیا ہوتا تو فی الواقع یہ عظیم لشکر مسلمانوں کو ایک ہی حملہ میں نیست و نابود کرنے کے لئے کافی تھا۔ خ مجلس مشاورت اور خندق کی کھدائی :۔ دوسری طرف مسلمانوں کا محکمہ خبررسانی (Intelligence) کفار کی نسبت بہت زیادہ فعال اور متحرک تھا۔ جب یہود بنو نضیر کا وفد قریش اور دوسرے قبائل کو آمادہ جنگ کر رہا تھا تو جلد ہی یہ خبریں مدینہ پہنچ گئیں اور آپ نے صحابہ سے مشورہ کیا کہ دفاع کے لئے کیا صورت اختیار کی جائے ؟ چناچہ سیدنا سلمان فارسی کے مشورہ کے مطابق مدینہ کے سامنے والی سمت میں خندق کھود کر دفاع کرنے کی تجویز پاس ہوئی۔ چناچہ خندق کی کھدائی کا کام شروع ہوگیا۔ خندق 15 فٹ گہری کھودی۔ ہر دس آدمیوں کو چالیس ہاتھ لمبی خندق کھودنے پر مامور کیا گیا اور تیس افراد نے مل کر یہ خندق بیس دن میں مکمل کی۔ معاشی لحاظ سے بھی مسلمانوں پر یہ وقت انتہائی تنگی کا دور تھا۔ مسلمان پیٹ پر پتھر باندھ کر خندق کھود رہے تھے۔ اور سیدنا انس فرماتے ہیں کہ مہاجرین اور انصار نے مدینہ کے گرد خندق کھودنا شروع کی تو مٹی اپنی پیٹھ پر ڈھو رہے تھے اور یہ شعر پڑھتے جاتے تھے۔ ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد ﷺ سے اس بات پر بیعت کی کہ جب تک زندہ رہیں گے۔ اسلام کی خاطر زندہ رہیں گے اور آپ انھیں یہ جواب دے رہے تھے۔ یا اللہ ! بھلائی تو وہی ہے جو آخرت کی ہے۔ لہذا مہاجرین و انصار میں برکت عطا فرما خوراک کی قلت :۔ سیدنا انس کہتے ہیں کہ اس وقت خوراک کی قلت کا یہ حال تھا کہ تھوڑے سے جو بدبودار چربی میں ملا کر پکاتے۔ لوگ بھوکے ہوتے وہ اسے بھی کھا جاتے۔ حالانکہ وہ بدمزا چربی حلق پکڑ لیتی اور اس سے خراب بو آتی تھی۔ (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب غزوۃ الخندق) آپ کا اکیلے چٹان توڑنا اور جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ جب ہم خندق کھود رہے تھے تو زمین میں ایک بڑا سخت قطعہ آگیا جو کدال سے کھد نہ سکا۔ لوگوں نے آپ کو اس صورت حال سے مطلع کیا۔ آپ نے فرمایا : میں خود اترتا ہوں۔ آپ کھڑے ہوئے بھوک کی وجہ سے آپ کے پیٹ پر پتھر بندھا تھا اور ہم لوگ نے بھی تین دن سے کوئی کھانے کی چیز نہ چکھی تھی۔ آپ نے کدال اس قطعہ پر اس زور سے ماری کہ وہ ریزہ ریزہ ہوگیا۔ میں نے جب بھوک سے آپ کا یہ حال دیکھا تو مجھ سے برداشت نہ ہوسکا۔ سیدھا گھر اپنی بیوی (سہیلہ) کے پاس آیا اور کہا میں نے رسول اللہ کی یہ حالت دیکھی ہے۔ تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے۔ وہ کہنے لگی ایک صاع جو اور ایک بکری کا بچہ ہے۔ میری بیوی نے جو پیسے اور میں نے بکری ذبح کرکے اس کا گوشت ہانڈی میں ڈالا اور رسول اللہ کو بلانے کے لئے روانہ ہوا تو بیوی کہنے لگی۔ رسول اللہ کے ساتھ تھوڑے ہی آدمی بلانا اور مجھے سب کے سامنے شرمندہ نہ کرنا جابر بن عبداللہ ؓ کے ہاں دعوت اور آپ کا معجزہ :۔ میں نے آپ کے پاس حاضر ہو کر چپکے سے کہا کہ ہم نے ایک صاع جو کا آٹا پیسا ہے اور ایک بکری کا بچہ ذبح کیا ہے۔ لہذا آپ چند آدمیوں کو ہمراہ لے کر ہمارے ہاں چلئے۔ یہ سن کر آپ نے بلند آواز سے پکارا، خندق والو ! جابر کے ہاں تمہاری دعوت ہے۔ چلو، جلدی کرو اور جابر ؓ سے فرمایا کہ : جب تک میں نہ آؤں۔ ہانڈی چولھے پر سے مت اتارنا اور نہ آٹے کی روٹیاں بنانا میں گھر واپس لوٹا ہی تھا، آپ کے ساتھ بہت سے لوگ موجود تھے۔ میری بیوی مجھے کہنے لگی اللہ تجھ سے سمجھے میاں نے کہا جیسا تو نے کہا تھا میں نے ویسا ہی آپ سے کہا تھا۔ پھر رسول اللہ نے آٹے میں اپنا لب ڈال دیا اور برکت کی دعا کی۔ اس کے بعد آپ ہانڈی کی طرف گئے۔ اس میں بھی لب ڈالا۔ اور میری بیوی سے فرمایا : روٹی پکانے والی ایک اور بلا لے اور کفگیر سے ہانڈی میں سے گوشت نکالتی جا اور اس کو چولہے سے نہ اتارنا۔ سیدنا جابر ؓ کہتے ہیں کہ کھانے والے ایک ہزار آدمی تھے اور میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ سب نے کھانا خوب سیر ہو کھایا مگر ہانڈی کا وہی حال تھا۔ وہ گوشت سے بھری جوش مار رہی تھی اور آٹے میں سے بھی روٹیاں بن رہی تھیں۔ (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب غزوۃ الخندق) خ بنو قریظہ کی عہد شکنی :۔ خندق تیار ہونے کے بعد ایک افتاد یہ پیش آئی کہ مدینہ کے اندر جو یہود کا قبیلہ بنو قریظہ، جو مسلمانوں کا معاہد اور اب تک اپنے عہد پر قائم تھا۔ حیی بن اخطب کی انگیخت اور جنگ کے بعد بھی تعاون کی یقین دہانی کی بنا پر عہد شکنی پر آمادہ ہوگیا۔ آپ نے اس خبر کی تحقیق کے لئے حذیفہ بن یمان کو بھیجا اور اسے یہ تاکید کردی کہ جو بھی صورت حال ہو کسی سے ذکر نہ کرنا اور صرف مجھے ہی آکر علیحدگی میں بتانا۔ قاصد نے صورتحال کی تحقیق کے بعد آپ کو بتایا کہ بنو قریظہ کی عہد شکنی والی بات درست ہے۔ اس خبر سے آپ کو انتہائی صدمہ ہوا۔ مسلمانوں کے لئے یہ وقت کڑی آزمائش کا وقت تھا۔ خندق پار دشمن کا سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مارتا ہوا لشکر اور مدینہ کے اندر منافقین مار آستین بن گئے۔ خوراک کی شدید قلت الگ تھی۔ کفار کا یہ محاصرہ تقریباً ایک ماہ تک جاری رہا۔ ہر روز خندق کے آر پار دونوں طرف سے نیزہ باری اور تیراندازی ہوتی رہی مگر جنگ کسی فیصلہ کن مرحلہ پر نہ پہنچتی تھی۔ یہ اس قدر کڑی آزمائش تھی کہ بھلے بھلے صحابہ کرام کے قدم ڈگمگا گئے۔ اس حال میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی دو طرح سے مدد فرمائی۔ خنعیم بن مسعود کی سیاسی چال اور اتحادی گروپ میں پھوٹ :۔ ایک صورت تو یہ بنی کہ بنوغطفان کا ایک رئیس نعیم بن مسعود، رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام لے آیا۔ اور اس بات کا علم نہ قریش کو ہوسکا اور نہ یہود کو۔ دونوں اسے اپنا اتحادی دوست سمجھتے تھے۔ نعیم بن مسعود نے رسول اللہ سے پوچھا کہ میں ان حالات میں آپ کی اور اسلام کی کیا خدمت کرسکتا ہوں ؟ چناچہ آپ نے اس کے ذمہ قریش اور یہود میں پھوٹ ڈالنے کی ڈیوٹی لگائی۔ آدمی بڑا عقلمند تھا۔ اسے فورا ایک ترکیب سوجھ گئی وہ پہلے بنو قریظہ کے ہاں گیا اور کہنے لگا : دیکھو اگر جنگ میں اتحادیوں کو ناکامی ہوئی تو قریش تو اپنے گھروں کو چلے جائیں گے لیکن تم مسلمانوں کے اندر بیٹھے ہو۔ وہ تمہارا بھرکس نکال دیں گے۔ لہذا میرا مشورہ یہ ہے کہ تم قریش سے بطور یرغمال دس آدمیوں کا مطالبہ کرو تاکہ ایسی صورت میں وہ تمہارے ساتھ تعاون کرنے پر مجبور ہوں۔ یہود کو یہ بات بہت پسند آئی۔ پھر وہ ابو سفیان کے پاس جاکر کہنے لگا : یہود تم سے بدظن ہوچکے ہیں۔ اور وہ تم سے بطور یرغمال دس آدمیوں کا مطالبہ کرنا چاہتے ہیں۔ جنہیں وہ کسی وقت بھی مسلمانوں کے حوالہ کرکے جنگ کا نقشہ بدل سکتے ہیں اور اپنے آپ کو مسلمانوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ لہذا تم ان کا مطالبہ ہرگز تسلیم نہ کرنا۔ ابو سفیان کے دل میں یہ بات کھب گئی۔ ابو سفیان نے دوسرے دن بنو قریظہ کو مشترکہ حملہ کے لئے پیغام بھیجا تو انہوں نے بطور یرغمال دس آدمیوں کا مطالبہ کردیا۔ اس طرح یہ دونوں فریق پھوٹ کا شکار ہوگئے۔ خ سخت ٹھنڈی ہوا کی آندھی :۔ مسلمانوں کی مدد کی دوسری صورت جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی اور جس کا آیت میں ذکر ہے، یہ تھی کہ ٹھنڈی یخ ہوا اتنی تیز چلی جس نے خیمے اکھاڑ دیئے۔ گھوڑوں کے رسے ٹوٹ گئے اور وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔ ہنڈیاں ٹوٹ پھوٹ گئیں۔ آگ بجھ گئی، ہوا اتنی سخت ٹھنڈی تھی کہ بدن کو چھید کرتی اور آر پار ہوتی معلوم ہوتی تھی۔ غرض لشکر کفار میں سخت بدحواسی پھیل گئی اور بھگڈر مچ گئی۔ خ زبیر بن عوام دشمن کی خبر لانے کو تیار ہونا :۔ ان حالات میں رسول اللہ نے صحابہ کو مخاطب کرکے پوچھا کہ کون ہے جو جاکر دشمن کی خبر لائے ؟ مگر اتنی ٹھنڈی آندھی میں کسی کی ہمت نہ پڑتی تھی۔ آخر سیدنا زبیر بن عوام ؓ نے اپنے آپ کو اس خدمت کے لئے پیش کیا۔ آپ نے دوبارہ یہی سوال کیا تو بھی سیدنا زبیر بن عوام ؓ ہی نے کہا، میں جاتا ہوں۔ آپ نے سہ بار یہی سوال کیا تو پھر سیدنا زبیر بن عوام ؓ نے اپنے آپ کو پیش کیا۔ چناچہ آپ لشکر کفار کی طرف روانہ ہوگئے۔ آپ خود کہتے ہیں کہ اس وقت مجھے قطعاً کچھ سردی محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ آپ نے واپس آکر وہی حالات بیان کئے جو لوگ سن رہے تھے۔ اس وقت آپ نے فرمایا : ہر پیغمبر کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب غزوۃ خندق وھی الاحزاب) خ آپ کا فرمان کہ آئندہ کفار ہم پر حملہ نہ کرسکیں گے :۔ چناچہ ان حالات نے دشمن کو واپسی پر مجبور کردیا اور وہ افراتفری کے عالم میں بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس وقت آپ نے فرمایا : آج کے دن کے بعد کفار ہم پر چڑھ کر نہیں آئیں گے بلکہ ہم ان پر چڑھائی کریں گے (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب غزوہ خندق) چناچہ آپ کا ارشاد حرف بحرف پورا ہوا۔ خ اللہ تعالیٰ کے غیر مرئی لشکر :۔ اس آیت میں ایک تو ہوا سے مدد کا ذکر ہے اور دوسرے ایسے لشکروں سے مدد کا ذکر ہے جو تمہیں نظر نہیں آرہے تھے۔ اس سے مراد وہ باطنی اسباب ہیں جن کی بنا پر کفار بھاگ کھڑا ہونے پر مجبور ہوتے تھے۔ ممکن ہے اس سے مراد فرشتے ہوں جو ہواؤں پر مامور تھے۔ واللہ اعلم۔ بہرحال اس جنگ میں فرشتوں کا نزول احادیث صحیحہ سے صراحت سے ثابت نہیں۔
Ayah 33:12

وَ اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 33:12 in the Quran reader

جبکہ منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا یہ کہہ رہے تھے کہ : اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے جو وعدہ 15 کیا تھا وہ بس دھوکا ہی تھا

15 منافقوں کے مسلمانوں کو طعنے :۔ جب بنو قریظہ بھی مسلمانوں سے بدعہدی پر آمادہ ہوگئے تو اب مسلمانوں کے لئے اندر اور باہر ہر طرف دشمن ہی دشمن تھے۔ اس تشویشناک صورت حال میں منافقوں نے مسلمانوں ہی کو یہ طعنے دینا شروع کردیئے کہ تم تو ہمیں یہ بتاتے تھے کہ ہمیں قیصر و کسریٰ کے خزانے ملیں گے اور یہاں یہ صورت حال ہے کہ رفع حاجت کو جانے میں بھی جان کی سلامتی نظر نہیں آتی دراصل منافقوں کا خیال کچھ ایسا تھا کہ بس ان کے ایمان کا دعویٰ کرنے کی دیر ہے کہ آسمان سے فرشتے اتر پڑیں گے۔ اور ان کی تاج پوشی کی رسم ادا کریں گے۔ انھیں انگلی تک بھی ہلانے کی نوبت نہ آئے گی۔ انھیں یہ معلوم نہیں کہ ایمان لانے کے بعد انھیں سخت آزمائشوں کے دور سے گزرنا ہوگا۔ مصائب کے پہاڑ ان پر ٹوٹیں گے اور انھیں سردھڑ کی بازی لگانا پڑے گی۔ تب کہیں جاکر اللہ کی مدد آتی ہے۔ البتہ اس کے وعدہ کے مطابق آتی ضرور ہے۔
Ayah 33:13

وَ اِذْ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ یٰۤاَهْلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوْا١ۚ وَ یَسْتَاْذِنُ فَرِیْقٌ مِّنْهُمُ النَّبِیَّ یَقُوْلُوْنَ اِنَّ بُیُوْتَنَا عَوْرَةٌ١ۛؕ وَ مَا هِیَ بِعَوْرَةٍ١ۛۚ اِنْ یُّرِیْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 33:13 in the Quran reader

اور جب ان کا ایک گروہ کہنے لگا : یثرب 16 والو ! (آج) تمہارے ٹھہرنے کا کوئی موقعہ نہیں لہذا واپس آجاؤ 17 اور ان کا ایک گروہ نبی سے (واپس جانے کی) اجازت مانگ رہا تھا اور کہتا تھا کہ : ہمارے گھر غیر محفوظ (لُگّے) ہیں حالانکہ ان کے گھر غیر محفوظ نہیں تھے وہ تو صرف (جنگ سے) فرار 18 چاہتے تھے

16 یہ مدینہ کا پہلا نام ہے۔ جب آپ مدینہ تشریف لائے تو یہ مدینۃ النبی کے نام سے مشہور ہوا۔ اس کے بعد المدینہ کے نام سے دنیا بھر میں مشہور و معروف ہوگیا۔ 17 اس کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ یہ پریشان کن صورت حال دیکھ کر منافقین اپنے ساتھیوں کو یہ دعوت دینے لگے کہ محاذ جنگ چھوڑ کر اپنے گھروں کو واپس لوٹ آؤ اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کی دعوت یہ تھی کہ اسلام کو چھوڑ کر پھر سے اپنے پہلے دین کی طرف واپس آجاؤ۔ اسی میں تمہاری عافیت اور خیریت ہے کہ اسلام کو چھوڑ کر اتحادیوں سے مل جاؤ۔ 18 منافقوں کا گھروں کی حفاظت کا بہانہ :۔ اکثر منافق جنگ میں شمولیت سے فرار کے لئے مختلف بہانے سوچ رہے تھے۔ عام بہانہ یہ تھا کہ ان کے گھر دشمن کے سامنے کھلے پڑے ہیں۔ لہذا ان کی حفاظت کے لئے انھیں واپس چلے جانے کی اجازت دی جائے۔ اور آپ اپنی نرمی طبع کی بنا پر ایسے لوگوں کو اجازت دیتے رہے۔ یا شاید آپ اسی میں بہتری سمجھتے ہوں کہ ایسے لوگ مسلمانوں کے لشکر میں رہ کر بگاڑ ہی پیدا کریں گے۔ یہاں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ ان کا یہ عذر بھی محض ایک جھوٹا بہانہ تھا۔ کیونکہ مسلمان مدینہ کی اور مدینہ کے گھروں کی پوری حفاظت کا انتظام کرکے محاذ جنگ پر نکلتے تھے۔
Ayah 33:14

وَ لَوْ دُخِلَتْ عَلَیْهِمْ مِّنْ اَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَةَ لَاٰتَوْهَا وَ مَا تَلَبَّثُوْا بِهَاۤ اِلَّا یَسِیْرًا Open ayah 33:14 in the Quran reader

اور اگر کفار کے لشکر اطراف مدینہ سے ان پر چڑھ آتے اور انھیں فتنہ کی دعوت دیتے تو یہ منافق فوراً مان لیتے اور اس میں کچھ زیادہ 19 دیر نہ کرتے

19 یعنی اگر اتحادی کافر انھیں مسلمانوں سے لڑنے کی دعوت دیتے تو یہ فوراً ان کی بات مان کر مسلمانوں سے لڑنے کو تیار ہوجاتے اور ایک منٹ کی بھی تاخیر نہ کرتے۔ اس وقت انھیں قطعاً یہ خیال نہ آتا کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں اور اگر ہم اپنے گھروں کی حفاظت نہ کریں گے تو دشمن لوٹ لے گا۔ یہی بات ان کے جھوٹ اور نفاق کی ایک بڑی دلیل ہے۔
Ayah 33:15

وَ لَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ لَا یُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ١ؕ وَ كَانَ عَهْدُ اللّٰهِ مَسْئُوْلًا Open ayah 33:15 in the Quran reader

حالانکہ اس سے بیشتر وہ اللہ سے عہد 20 کرچکے تھے کہ وہ پیٹھ نہ پھریں گے۔ اور اللہ سے کئے ہوئے عہد کی باز پرس تو ہو کر ہی رہے گی

20 منافقوں کا اپنے عہد سے انحراف :۔ یہ عہد ان منافقوں نے جنگ احد کے بعد کیا تھا کہ اگر آئندہ کوئی آزمائش کا موقع آیا تو ہم اپنے سابقہ قصور کی تلافی کردیں گے۔ پھر جب دو ہی سال بعد آزمائش کا موقعہ آگیا تو ان لوگوں نے پہلے سے بھی زیادہ بزدلی دکھائی اور جنگ سے فرار کی راہیں سوچنے لگے بلکہ دوسروں کی بھی حوصلہ شکنی کرنے لگے۔ حتیٰ کہ سب کو معلوم ہوگیا کہ یہ اپنے عہد میں کس قدر مخلص تھے۔ اب ان کے اصل جرم کے علاوہ اس بدعہدی کی بھی بازپرس ہوگی۔
Ayah 33:16

قُلْ لَّنْ یَّنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ اِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ اَوِ الْقَتْلِ وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 33:16 in the Quran reader

آپ ان سے کہئے کہ اگر تم موت اور قتل ہونے سے بھاگتے ہو تو تمہارا بھاگنا تمہیں کچھ فائدہ 21 نہ دے گا، اس صورت میں بھی تم تھوڑا (عرصہ) ہی فائدہ اٹھا سکو گے

21 عزت کی موت ذلت کی زندگی سے بہت بہتر ہے :۔ موت کے متعلق چند اٹل حقائق ہیں۔ ایک یہ کہ موت اپنے وقت سے پہلے نہیں آتی۔ کیا یہ ضروری ہے کہ جو لوگ جنگ میں شریک ہوں اور نہایت خلوص سے جنگ کریں وہ سب کے سب شہید ہوجاتے ہیں ؟ دوسری حقیقت یہ ہے کہ موت آکے رہے گی اس سے کوئی بچ نہیں سکتا۔ اگر تم جنگ سے فرار کی راہ اختیار کرو گے تو زیادہ سے زیادہ یہی ہوسکتا ہے کہ چند سال مزید جی لوگے۔ آخر تمہیں مرنا ہی ہے اور مر کر ہمارے ہی پاس آنا ہے۔ یہ تو بہرحال ناممکن ہے کہ موت کی گرفت سے بچ سکو۔ مگر ایسی زندگی پر لعنت ہے جو بدنامی اور ذلت سے گزرے۔ کیونکہ عزت کے ساتھ مرنا ذلت کے ساتھ جینے سے بہرحال بہتر ہوتا ہے۔
Ayah 33:17

قُلْ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَعْصِمُكُمْ مِّنَ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَ بِكُمْ سُوْٓءًا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً١ؕ وَ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 33:17 in the Quran reader

آپ ان سے پوچھئے کہ : اگر اللہ تمہیں تکلیف دینا چاہے تو کون ہے جو اس سے تمہیں بچا سکے ؟ یا اگر تم پر مہربانی کرنا چاہے 22 (تو کون ہے جو اسے روک سکے) اللہ کے مقابلے میں یہ لوگ نہ کوئی اپنا حامی پاسکتے ہیں اور نہ مددگار

22 یعنی موت وحیات بھی سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور دنیا میں عیش و آرام کرنا یا تکلیفیں اٹھانا بھی۔ اگر تمہارے مقدر میں موت آچکی ہے تو جنگ سے فرار کے بعد آہی جائے گی۔ اسی طرح اگر چند دن عیش و آرام تمہاری قسمت میں ہے تو تبھی تمہیں نصیب ہوسکتا ہے۔ یہی وہ عقیدہ ہے جو ایک مخلص مومن کو بےپناہ جرأت عطا کرتا ہے۔ مگر منافق صرف ظاہری اسباب پر نظر رکھتے اور انھیں پر بھروسا کرتے ہیں۔ انھیں صرف دنیوی مفادات ہی عزیز ہوتے ہیں مگر اس حقیقت سے غافل ہیں انھیں وہی کچھ مل سکتا ہے جو اللہ انھیں دینا چاہتا ہے۔
Ayah 33:18

قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِیْنَ مِنْكُمْ وَ الْقَآئِلِیْنَ لِاِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ اِلَیْنَا١ۚ وَ لَا یَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 33:18 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ تم سے (جہاد میں) رکاوٹ ڈالنے والوں کو خوب جانتا ہے اور ان کو بھی جو اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس آجاؤ اور جہاد میں 23 یہ کم ہی حصہ لیتے ہیں۔

23 یعنی نہ صرف یہ کہ خود جہاد سے فرار کے بہانے سوچتے رہتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس پیغمبر کا اور مسلمانوں کا ساتھ چھوڑو۔ یہ ایمان اور صداقت کے کس چکر میں پڑے ہو۔ اور خواہ مخواہ اپنی زندگی کو تلخ بنا رکھا ہے۔ مصائب اور خطرات میں پڑنے کی بجائے وہی امن و عافیت کی راہ اختیار کرو جو ہم نے اختیار کر رکھی ہے۔ اور ان کا اپنا حال یہ ہے کہ کبھی کبھار محض ظاہری وضع داری اور دکھاوے کے لئے میدان عمل میں آکھڑے ہوتے ہیں۔
Ayah 33:19

اَشِحَّةً عَلَیْكُمْ١ۖۚ فَاِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَاَیْتَهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ تَدُوْرُ اَعْیُنُهُمْ كَالَّذِیْ یُغْشٰى عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ۚ فَاِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْكُمْ بِاَلْسِنَةٍ حِدَادٍ اَشِحَّةً عَلَى الْخَیْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَمْ یُؤْمِنُوْا فَاَحْبَطَ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:19 in the Quran reader

وہ تمہارا ساتھ دینے میں سخت بخیل ہیں۔ پھر جب (جنگ کا) خطرہ آن پڑتا ہے تو آپ دیکھتے ہیں کہ وہ آنکھیں 24 پھیر پھیر کر آپ کی طرف یوں دیکھتے ہیں جیسے کسی پر موت کی غشی طاری ہوچکی ہو پھر جب خطرہ دور ہوجاتا ہے تو اموال غنیمت کے انتہائی 25 حریص بن کر تیز تیز زبانیں چلانے لگتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو قطعاً ایمان نہیں لائے۔ لہذا اللہ ان کے اعمال برباد 26 کر دے گا اور یہ بات اللہ کے لئے بہت آسان 27 ہے۔

24 منافقوں کی بزدلی کا منظر :۔ ان کی بزدلی کا یہ عالم ہے کہ کوئی خطرے یا دشمن کے حملے کی بات بھی سن لیں تو ان پر پہلے سے موت کی غشی طاری ہونے لگتی ہے۔ یہ حال ہو تو وہ مسلمانوں کا ساتھ دے بھی کیسے سکتے ہیں ؟ 25 أشحّۃ (مادہ ش ح ح) شحیح ایسے شخص کو کہتے ہیں جو مال سمیٹنے میں تو انتہا درجہ کا حریص ہو مگر خرچ کرنے میں سخت بخیل ہو۔ یعنی جب جنگ میں تمہارا ساتھ دینے کا معاملہ ہو تو اس معاملہ میں وہ انتہائی بخل سے کام لیتے ہیں۔ مگر جب جنگ ختم ہوجائے میدان مسلمانوں کے ہاتھ رہے اموال غنیمت کی تقسیم کا موقعہ ہو تو پھر یہ لوگ مال پر مرے جاتے ہیں اور چاہتے یہ ہیں کہ یہ سارا مال ہمارے ہی ہاتھ آجائے پھر وہ طرح طرح کی اپنی وفاداریاں اور ہمدردیاں جتلانے لگتے ہیں تاکہ اموال غنیمت میں اپنا استحقاق ثابت کرسکیں۔ 26 یعنی ان کے دلوں میں کفر ہی کفر چھپا ہے اور اعمال کی اخروی جزا کے لئے ایمان شرط اول ہے جو ان میں سرے سے ہے ہی نہیں۔ لہذا ان کے سب اعمال رائیگاں جائیں گے اور جو بداعمالیاں ہیں ان پر ضرور گرفت ہوگی اور ان کی سب سے بڑی بدعملی نفاق ہے۔ 27 یعنی اپنے اعمال کی جزا ثابت کرنے کے لئے ان لوگوں کے پاس کوئی دلیل نہیں کہ ان کے پاس کچھ زور اور قوت ہے کہ اللہ کے لئے ان کے اعمال کو برباد کرنا کچھ قابل التفات یا مشکل ہو۔
Ayah 33:20

یَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ یَذْهَبُوْا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِ الْاَحْزَابُ یَوَدُّوْا لَوْ اَنَّهُمْ بَادُوْنَ فِی الْاَعْرَابِ یَسْاَلُوْنَ عَنْ اَنْۢبَآئِكُمْ١ؕ وَ لَوْ كَانُوْا فِیْكُمْ مَّا قٰتَلُوْۤا اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 33:20 in the Quran reader

وہ یہی سمجھ رہے ہیں کہ ابھی لشکر گئے نہیں 28 اور اگر یہ لشکر چڑھ آئیں تو وہ یہ تمنا کریں گے کہ کاش وہ دیہاتیوں میں رہنے والے ہوتے اور بس تمہارے حالات ہی پوچھ لیا کرتے اور اگر وہ تم میں موجود بھی ہوتے تو (دشمن سے) لڑائی میں کم ہی حصہ لیتے۔

28 منافقوں کی بزدلی کی انتہا :۔ بزدل اور ڈرپوک اتنے ہیں کہ اتحادی فوجیں کب کی واپس جا بھی چکی ہیں لیکن انھیں اب تک یقین نہیں آرہا کہ دشمن جاچکا ہے اور ممکن ہے منافق یہ سمجھ رہے ہوں کہ مسلمانوں نے پروپیگنڈا کے طور پر ایسی خبر مشہور کردی ہے۔ انھیں یہ بھی فکر لاحق ہے کہ موسم کی خرابی سے اگر دشمن چلا گیا ہے تو موسم درست ہونے پر پھر دوبارہ نہ چڑھائی کردے۔ اندریں صورت وہ یہ سوچ رہے ہیں کہ کیا اچھا ہوتا کہ وہ مدینہ کے باشندے نہ ہوتے بلکہ کسی گاؤں کے رہنے والے ہوتے۔ جہاں دشمن کی چڑھائی کا خطرہ ہی نہ ہوتا تو انھیں ایسی پریشانیاں لاحق نہ ہوتیں۔ بس ادھر ادھر سے ہی مسلمانوں کے حالات پوچھ پاچھ لیتے یا ان تک ان کی کچھ خبریں پہنچ جاتیں۔ اور اگر انھیں حالات امید افزا نظر آتے اور مسلمانوں کی کامیابی یقینی دکھائی دینے لگتی تو وہ بھی اموال غنیمت میں حصہ بٹانے کی خاطر لڑائی میں آ شامل ہوتے۔
Ayah 33:21

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 33:21 in the Quran reader

(مسلمانو ! ) تمہارے لیے اللہ کے رسول (کی ذات) میں بہترین نمونہ 29 ہے، جو بھی اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہو 30 اور اللہ کو بکثرت یاد کرتا ہو۔

29 جنگ کے دوران آپ کا کردار۔ آپ سب مسلمانوں کے لئے واجب الاتباع نمونہ ہیں :۔ جنگ کی سب سے زیادہ ذمہ داری سپہ سالار پر ہوتی ہے۔ مسلمانوں کے سپہ سالار خود رسول اللہ تھے۔ دشمن کی کثرت تعداد خوراک کی شدید قلت، حالات کی سنگینی اس نبی کے پائے ثبات پر ذرہ بھر بھی لغزش پیدا نہیں کرسکی۔ وہ ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھنے اور اللہ کی طرف سے پرامید اور اس کی مدد کے منتظر ہیں۔ مگر ساتھ ساتھ پوری جانفشانی سے تمہارے دوش بدوش جنگ کے ایک ایک کام تمہارے ساتھ مل کر کر رہے ہیں۔ مسلمانو ! تمہارا کردار بھی ایسا ہی ہونا چاہئے اور رسول اللہ کی ذات کو بطور نمونہ اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔ ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس جملہ کا یہی مطلب ہے مگر یہ حکم عام ہے صرف جنگ میں ہی نہیں بلکہ ہر حالت میں اور صرف جنگی احکام و تدابیر میں ہی نہیں بلکہ زندگی کے ہر پہلو میں رسول کی ذات کو بطور نمونہ اپنے پیش نظر رکھنا چاہئے۔ گویا اس ایک مختصر سے جملہ میں رسول اللہ کی اطاعت اور اتباع دونوں کو تمام مسلمانوں پر لازم اور واجب قرار دیا گیا ہے۔ 30 کس طرح کے لوگ آپ کی اتباع نہیں کرتے ؟:۔ ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتادیا کہ رسول کی اتباع صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں جن میں تین شرائط پائی جاتی ہوں ایک یہ کہ وہ اللہ پر صدق دل سے ایمان رکھتے ہوں دوسرے یوم آخرت پر ایمان بھی رکھتے ہوں اور اپنے اعمال کے اچھے بدلہ کی اللہ سے امید بھی رکھتے ہوں اور ہر وقت اللہ کو یاد رکھتے ہوں۔ بالفاظ دیگر جو لوگ رسول کی ذات کو اپنے لئے نمونہ نہیں بناتے یا اس کے کسی قول یا عمل سے انحراف کرتے ہیں یا اس کی اطاعت و اتباع کو لازم و واجب نہیں سمجھتے فی الحقیقت نہ ان کا اللہ پر ایمان ہے اور نہ یوم آخرت پر۔ یہ آیت رسول اللہ کی غیر مشروط اطاعت اور اتباع کے وجوب پر صریح اور قوی دلیل ہے۔
Ayah 33:22

وَ لَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ١ۙ قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١٘ وَ مَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِیْمَانًا وَّ تَسْلِیْمًاؕ Open ayah 33:22 in the Quran reader

اور جب مومنوں نے ان لشکروں کو دیکھا تو کہنے لگے : یہ تو وہی بات ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا۔ اس واقعہ نے ان کے ایمان اور فرمانبرداری 31 کو مزید بڑھا دیا۔

31 آپ کا بنو غطفان کو اتحادیوں سے توڑنے کا خیال اور انصار کا جواب :۔ منافقوں کے کردار پر تبصرہ کرنے کے بعد اللہ نے مسلمانوں کا کردار بیان فرمایا۔ کہ جوں جوں ان پر مشکلات پڑتی ہیں اور حالات سنگین ہوتے جاتے ہیں توں توں ان کا حوصلہ بڑھتا جاتا ہے۔ ان کے اللہ پر توکل اور ان کے ایمان میں بھی مزید اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ انھیں خوب معلوم ہوتا ہے کہ ان مشکلات کا مقابلہ ہم نے ہی کرنا ہے۔ پھر جو کام ہماری بساط سے باہر ہو تو اس وقت ضرور اللہ کی مدد ہمارا ساتھ دے گی۔ پھر جب اللہ کی مدد فی الواقع ان کو پہنچ جاتی ہے تو ان کے ایمان میں اور بھی زیادہ اضافہ ہوجاتا ہے۔ چناچہ جب بنو قریظہ بھی عہد شکنی کرکے اتحادی لشکروں سے مل گئے اور مسلمانوں کے لئے اندر بھی اور باہر بھی خطرہ پیدا ہوگیا تو اس وقت رسول اللہ کے ذہن میں ایک تجویز آئی جو محض انصار کی دلجمعی کی خاطر تھی۔ وہ تجویز یہ تھی کہ بنو غطفان۔۔ جو ایک انتہائی لالچی اور حریص قبیلہ تھا اور ان کی سیاست کا سنہری اصول محض پیسہ کا حصول تھا ان کو مدینہ کی تہائی پیداوار کا لالچ دے کر انھیں اتحادیوں سے کاٹ دیا جائے اور وہ اپنا قبیلہ لے کر واپس چلے جائیں۔ چونکہ یہ قبیلہ سخت جنگجو تھا لہذا اس کی واپسی سے باقی سارے لشکر میں عام بددلی پھیل جانے کا امکان تھا۔ چناچہ اس سلسلہ میں آپ نے قبیلہ اوس کے سردار سعد بن معاذ اور قبیلہ خزرج کے سردار سعد بن عبادہ کو بلا کر ان سے مشورہ کیا۔ دونوں نے یک زبان ہو کر پوچھا : یہ اللہ کا حکم ہے یا آپ ہماری رائے لینا چاہتے ہیں ؟ اگر اللہ کا حکم ہے تو سر آنکھوں پر اور اگر آپ یہ کچھ ہماری خاطر کرنا چاہتے تو ہمیں یہ بات قطعاً منظور نہیں۔ واللہ ہم نے شرک کی حالت میں بھی ان لوگوں کو ایک دانہ تک نہ دیا۔ اب مسلمان ہو کر کیوں دیں گے۔ ان کے لئے ہمارے پاس صرف تلوار ہے انصاری سرداروں کے اس جواب سے آپ خوش ہوگئے اور فرمایا : یہ اللہ کا حکم نہیں یہ تو میں نے صرف تمہاری دلجمعی کی خاطر سوچا تھا (الرحیق المختوم اردو ص 487)
Ayahs 33:23–24

مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ١ۖ٘ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاۙ Open ayah 33:23 in the Quran reader

مومنوں میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں کہ انہوں نے اللہ سے جو عہد 32 کیا تھا اسے سچا کر دکھایا۔ ان میں سے کوئی تو اپنی ذمہ داری 33 پوری کرچکا ہے اور کوئی موقع کا انتظار کر رہا ہے۔ اور انہوں نے اپنے عہد میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔

لِّیَجْزِیَ اللّٰهُ الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِهِمْ وَ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآءَ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 33:24 in the Quran reader

(یہ سب کچھ اس لئے ہے) تاکہ اللہ تعالیٰ سچے لوگوں کو ان کے سچ کی جزا دے اور منافقوں کو اگر چاہے تو عذاب دے یا پھر ان کی توبہ قبول کرے۔ اللہ تعالیٰ یقینا معاف کردینے والا اور رحم کرنے والا ہے

32 اس عہد سے مراد وہ عہد ہے جو لیلۃ العقبہ ثانیہ میں انصار کے بہتر (72) افراد نے رسول اللہ سے کیا تھا اور وہ عہد یہ تھا کہ ہم مرتے دم تک آپ کا ساتھ دیں گے۔ 33 اللہ سے کئے ہوئے عہد کو نباہنے والے :۔ اس سلسلہ میں درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے : (1) سیدنا انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ : میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت (میرے چچا) انس بن نضر کے حق میں نازل ہوئی ہے (بخاری۔ کتاب التفسیر) (2) سیدنا انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ : میرا نام میرے چچا انس بن نضر کے نام پر رکھا گیا تھا۔ وہ جنگ بدر میں رسول اللہ کے ساتھ حاضر نہ ہوسکے اور یہ بات ان پر بہت شاق گزری اور کہا کہ : یہ رسول اللہ کے ساتھ حاضر رہنے کا پہلا موقع تھا جس سے میں غائب رہا۔ اللہ کی قسم ! اب اگر آپ کے ساتھ حاضر ہونے کا کوئی موقع آیا تو اللہ تعالیٰ خود دیکھ لے گا کہ میں کیا کچھ کرتا ہوں راوی کہتا ہے کہ : پھر وہ ڈر گئے کہ ان الفاظ کے علاوہ کچھ اور لفظ کہنا مناسب تھا۔ پھر جب اگلے سال احد کے دن رسول اللہ کے ساتھ حاضر ہوئے تو انھیں (راہ میں) سعد بن معاذ ملے۔ انہوں نے پوچھا : ابوعمرو ! کہاں جاتے ہو ؟ انس کہنے لگے : واہ میں تو احد (پہاڑ) کے پار جنت کی خوشبو پا رہا ہوں۔ چناچہ وہ (بڑی جرأت سے) لڑے۔ حتیٰ کہ شہید ہوگئے اور ان کے جسم پر ضربوں، نیزوں اور تیروں کے اسی (80) سے زیادہ زخم پائے گئے۔ میری پھوپھی ربیع بنت نضر کہنے لگی : میں اپنے بھائی کی نعش کو صرف اس کے پوروں سے پہچان سکی اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر) (3) موسیٰ بن طلحہ ؓ کہتے ہیں کہ : جب میں معاویہ کے ہاں گیا تو انہوں نے کہا : میں تمہیں ایک خوشخبری نہ سناؤں ؟ میں نے کہا : ضرور سناؤ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ کو یہ کہتے سنا ہے کہ طلحہ ؓ ان لوگوں میں سے تھے جو اپنی ذمہ داریاں پوری کرچکے۔ (ترمذی۔ حوالہ ایضاً ) یہ وہ بزرگ ہیں جو جنگ احد میں رسول اللہ کی حفاظت کے لئے اپنے ہاتھ پر تیر روکتے رہے حتیٰ کہ ایک ہاتھ شل ہوگیا تو دوسرا ہاتھ آگے کردیا تھا۔ (بخاری۔ کتاب المناقب۔ باب ذکر طلحہ بن عبید اللہ)
Ayah 33:25

وَ رَدَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِغَیْظِهِمْ لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًا١ؕ وَ كَفَى اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ قَوِیًّا عَزِیْزًاۚ Open ayah 33:25 in the Quran reader

اور کفار (کے لشکروں) کو اللہ تعالیٰ نے بےنیل ومرام اپنے دلوں کی جلن دلوں میں ہی لئے واپس لوٹا 34 دیا اور لڑائی کے لئے مومنوں کی طرف سے اللہ ہی کافی ہوگیا وہ یقینا بڑی قوت والا اور زبردست 35 ہے۔

34 عبد ودّ کی لاش کا عوضانہ :۔ یعنی اتحادیوں کا لشکر نہایت ذلت، ناکامی اور غصہ سے پیچ و تاب کھاتا ہوا بےنیل و مرام میدان چھوڑ کر واپسی پر مجبور ہوگیا اور مسلمانوں کے لئے اپنا بہت سامان چھوڑ گیا۔ اسی جنگ میں عمرو بن عبدودّ نے، جو ایک ہزار سواروں پر بھاری سمجھا جاتا تھا، مسلمانوں کو دعوت مبارزت دی اور سیدنا علی اس کے مقابلے میں اترے اور اس کا کام تمام کردیا۔ مشرکوں نے درخواست کی کہ دس ہزار درہم کے عوض اس کی لاش انھیں دے دی جائے۔ آپ نے انھیں فرمایا : لاش تم مفت ہی لے جاو ہم مردوں کی قیمت نہیں کھایا کرتے۔ 35 حیی بن اخطب نے بنو قریظہ کو کیسے بد عہدی پر آمادہ کیا ؟ اللہ تعالیٰ نے عام لڑائی کی نوبت ہی نہ آنے دی اور ان کے محاصرہ کو اٹھانے کے لئے یخ بستہ ہوا اور فرشتے بھیج دیئے۔ یہود میں اور اتحادیوں میں پھوٹ ڈال دی۔ ان سب باتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ دشمن سخت بدحواس ہو کر بھاگ کھڑا ہوا۔ بھلا اللہ کی زبردست قوت کے سامنے کون ٹھہر سکتا ہے ؟