33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 33:53

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُ١ۙ وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ١٘ وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ١ؕ وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ١ؕ ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَ قُلُوْبِهِنَّ١ؕ وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا Open ayah 33:53 in the Quran reader

اے ایمان والو ! نبی کے گھروں 86 میں نہ جایا کرو الا یہ کہ تمہیں اجازت دی جائے اور کھانے کی تیاری کا انتظار 87 نہ کرنے لگو۔ البتہ جب تمہیں (کھانے پر) بلایا جائے تو آؤ اور جب کھا چکو تو چلے جاؤ اور باتوں 88 میں دل لگائے وہیں نہ بیٹھے رہو۔ تمہاری یہ بات نبی کے لئے تکلیف دہ تھی مگر تم سے شرم کی وجہ سے کچھ نہ کہتے تھے اور اللہ حق بات کہنے سے نہیں شرماتا اور جب تمہیں ازواج نبی سے کوئی چیز 89 مانگنا ہو تو پردہ کے پیچھے رہ کر مانگو۔ یہ بات تمہارے دلوں کے لئے بھی پاکیزہ تر ہے اور ان کے دلوں 90 کے لئے بھی۔ تمہارے لئے یہ جائز نہیں کہ تم اللہ کے رسول 91 کو ایذا دو اور نہ یہ جائز ہے کہ اس (کی وفات) کے بعد کبھی اس کی بیویوں 92 سے نکاح کرو۔ بلاشبہ اللہ کے ہاں یہ بڑے گناہ کی بات ہے۔

86 گھروں میں داخلہ پر پابندی (استیذان):۔ اس آیت میں کئی ایک معاشرتی آداب بیان فرمائے جارہے ہیں۔ اسی سورة میں پہلے ازواج النبی کو مخاطب کرکے کہا گیا تھا کہ عورتوں کا اصل مقام گھر ہے۔ انھیں نہ تو بلاضرورت گھر سے باہر نکلنا چاہئے اور نہ پہلی جاہلیت کی طرح عورتوں کو بن ٹھن کر باہر نکلنا اور اپنی زیب وزینت کی نمائش کرنا چاہئے اور یہ حکم بس باہر نکلنے تک یا آواز پر پابندی تک موقوف تھا۔ اب بھی لوگ سب گھروں میں حتیٰ کہ خود رسول اللہ کے گھروں میں بلا روک ٹوک آتے جاتے تھے اور سیدنا عمر کو بالخصوص یہ بات ناگوار تھی کہ نبی کے گھر میں ہر طرح کے لوگ بلاروک ٹوک داخل ہوا کریں۔ چناچہ انھیں کی اس خواہش کے مطابق وحی الٰہی نازل ہوئی جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے : سیدنا انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر نے نبی اکرم سے عرض کیا : یارسول اللہ ! آپ کے ہاں اچھے اور برے ہر طرح کے لوگ آتے رہتے ہیں۔ کیا اچھا ہو، اگر آپ امہات المؤمنین (اپنی بیویوں) کو پردے کا حکم دیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے پردے کا حکم نازل فرمایا (بخاری۔ کتاب التفسیر) اس کے بعد سورة نور کی آیات نازل ہوئیں اور آیت نمبر 27 کی رو سے یہ حکم تمام مسلم گھرانوں پر نافذ کردیا گیا کہ کوئی شخص بھی کسی دوسرے کے گھر میں بلا اجازت داخل نہ ہوا کرے۔ 87 آداب دعوت طعام :۔ اس جملہ میں مزید دو ہدایات دی گئیں۔ ایک یہ کہ اگر صاحب خانہ خود تمہیں بلائے اور بالخصوص کھانے پر مدعو کرے تو تمہیں اس کے ہاں جانا چاہئے اور اس کا یہ بلانا ہی اس کی اجازت ہے۔ دوسری ہدایت یہ تھی کہ جس وقت بلایا جائے اسی وقت آؤ پہلے نہ آؤ۔ ایسا نہ ہونا چاہئے کہ پہلے آکر دعوت پکنے والے اور کھانے والے برتنوں کی طرف دیکھتے رہو کہ کب کھانا پکتا ہے اور ہمیں کھانے کو ملتا ہے یہ بات بھی صاحب خانہ کے لئے پریشانی کا باعث بن جاتی ہے۔ 88 اس ضمن میں چوتھی ہدایت یہ ہے کہ جب کھانا کھا چکو تو وہیں دھرنا مار کر بیٹھ نہ جاؤ اود ادھر ادھر کے حالات اور قصے کہانیاں شروع کردو۔ بلکہ کھانا کھا چکو تو چلتے بنو۔ اور صاحب خانہ کے لئے انتظار اور پریشانی کا باعث نہ بنو۔ کیونکہ دعوت کے بعد انھیں بھی کئی طرح کے کام ہوتے ہیں۔ 89 آیہ حجاب :۔ یہی وہ آیت ہے جسے آیہ حجاب کہتے ہیں۔ حجاب کے معنی کسی کپڑا یا کسی دوسری چیز سے دو چیزوں کے درمیان ایسی روک بنادینا ہے جس سے دونوں چیزیں ایک دوسرے سے اوجھل ہوجائیں۔ اس آیت کی رو سے تمام ازواج النبی کے گھروں کے باہر پردہ لٹکا دیا گیا۔ پھر دوسرے مسلمانوں نے بھی اپنے گھروں کے سامنے پردے لٹکالیے اور یہ دستور اسلامی طرز معاشرت کا ایک حصہ بن گیا۔ اب اگر کسی شخص کو ازواج مطہرات سے کوئی بات پوچھنا یا کوئی ضرورت کی چیز مانگنے کی ضرورت ہوتی تو اسے حکم ہوا کہ پردہ سے باہر رہ کر سوال کرے۔ اب اس آیت کا شان نزول سیدنا انس کی زبانی ملاحظہ فرمائیے : خ ولیمہ کی دعوت کھانے کے بعدبیٹھ رہنے والے تین شخص :۔ سیدنا انس کہتے ہیں کہ جب آپ نے زینب بنت جحش سے نکاح کیا اور صحبت کی تو (ولیمہ میں) گوشت روٹی تیار کیا گیا مجھے لوگوں کو بلانے کے لئے بھیجا گیا۔ لوگ آتے جاتے، کھانا کھاتے اور چلے جاتے، پھر اور لوگ آتے وہ بھی کھانا کھا کر چلے جاتے۔ میں نے سب کو بلایا حتیٰ کہ کوئی شخص ایسا نہ رہ گیا جسے میں نے بلایا نہ ہو۔ آپ نے مجھے فرمایا : اچھا اب کھانا اٹھاؤ (لوگ چلے گئے مگر) تین شخص بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ آپ گھر سے اٹھ کر سیدہ عائشہ ؓ کے کمرہ کی طرف گئے اور فرمایا : السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ سیدہ عائشہ ؓ نے جواب دیا : وعلیک السلام ورحمۃ اللہ ! آپ نے بیوی کو کیسا پایا، اللہ آپ کو برکت دے پھر آپ نے سب بیویوں کے کمروں کا دورہ کیا اور سب کو سیدہ عائشہ ؓ کی طرح سلام کیا اور انہوں نے بھی ویسا ہی جواب دیا۔ پھر آپ لوٹ کر گھر آئے تو وہ تین آدمی ابھی تک بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ آپ کے مزاج میں بڑی شرم تھی (لہٰذا انھیں کچھ نہ کہا) اس لئے پھر سیدہ عائشہ ؓ کے کمرہ کی طرف چلے گئے۔ پھر کسی نے آپ کو اطلاع دی کہ اب وہ تینوں آدمی چلے گئے۔ چناچہ آپ واپس آئے اور دروازے کی چوکھٹ میں آپ کا ایک پاؤں اندر تھا اور دوسرا باہر کہ آپ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا لیا اس وقت اللہ تعالیٰ نے پردے کی آیت اتاری۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر) 90 مرد اور عورت کے آزادانہ اختلاط کی روک تھام اور پردہ کا حکم :۔ مردوں اور عورتوں کے آزادانہ اختلاط اور فحاشی کی روک تھام کے لئے یہ ایک موثر اقدام ہے کہ کوئی غیر مرد کسی اجنبی عورت کو نہ دیکھے اور نہ ہی کسی کے دل میں کوئی وسوسہ یا برا خیال پیدا ہو۔ گویا معاشرہ سے بےحیائی اور فحاشی کے خاتمہ کے لئے پردہ نہایت ضروری چیز ہے۔ اب جو لوگ مسلمان ہونے کے باوجود یہ کہتے ہیں کہ اصل پردہ دل کا پردہ ہے کیونکہ شرم و حیا کا اور برے خیالات کا تعلق دل سے ہے یہ ظاہری پردہ کچھ ضروری نہیں۔ ایسے لوگ دراصل اللہ کے احکام کا مذاق اڑاتے ہیں۔ 91 جس بات سے اللہ کے رسول کو تکلیف پہنچے وہ ناجائز ہے :۔ ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو کھانا کھانے کے بعد وہاں سے ہلنے کا نام تک نہ لیتے تھے۔ ان کی اس حرکت کو رسول اللہ نے بہت ناگوار اور تکلیف دہ محسوس کیا مگر شرم اور نرمی طبع کی بنا پر انھیں اٹھ کر چلے جانے کو نہ کہہ سکے۔ تاہم یہ حکم عام ہے اور اس کا میدان بڑا وسیع ہے۔ اس میں وہ الزام تراشیاں بھی شامل ہیں جو اس زمانے میں کافروں کے ساتھ منافق بھی رسول اللہ پر کر رہے تھے نیز ہر وہ بات بھی جسے رسول اللہ ناگوار محسوس کریں اس سے مسلمانوں کو اجتناب ضروری ہے مثلاً کوئی شخص اللہ کے رسول کے مقابلہ میں دوسرے کی بات مانے یا سنت رسول کے مقابلہ میں کسی دوسرے کے قول کو ترجیح دے یا آپ کی سنت چھوڑ کر بدعات کو رائج کرے یا فروغ دے تو ان باتوں سے رسول اللہ کو تکلیف ہوتی ہے اور ایسے تمام امور میں مسلمانوں کو محتاط رہنا چاہئے۔ 92 یہ گناہ عظیم اس لحاظ سے ہے کہ ازواج النبی مسلمانوں کی مائیں ہیں۔ اور اگر کوئی آدمی ان سے نکاح کرے تو گویا اس نے اپنی ماں سے نکاح کیا۔ پھر جو احترام انھیں اللہ نے بخشا ہے وہ کبھی ملحوظ نہ رکھ سکے گا۔ اور اپنی عاقبت تباہ کرے گا۔
Ayah 33:54

اِنْ تُبْدُوْا شَیْئًا اَوْ تُخْفُوْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 33:54 in the Quran reader

تم کوئی بات ظاہر کرو یا اسے چھپاؤ 93 ، اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

93 یعنی زبان سے تو کجا، کسی مومن کے دل میں ایسا خیال تک بھی نہ آنا چاہئے۔ کیونکہ اللہ کے سامنے تو ظاہر و باطن اور دل کے خیالات سب کچھ یکساں ہے۔ کوئی بات اس سے چھپی نہیں رہ سکتی۔
Ayah 33:55

لَا جُنَاحَ عَلَیْهِنَّ فِیْۤ اٰبَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَ لَا نِسَآئِهِنَّ وَ لَا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ١ۚ وَ اتَّقِیْنَ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا Open ayah 33:55 in the Quran reader

ان (ازواج نبی) پر کچھ گناہ نہیں اگر ان کے باپ، ان کے بیٹے، ان کے بھائی ان کے بھیتجے، ان کے بھانجے، ان کی میل جول کی عورتیں 94 اور ان کے لونڈی غلام، ان کے گھروں میں داخل ہوں۔ اور (اے عورتو ! ) اللہ سے ڈرتی رہو۔ اللہ تعالیٰ یقینا ہر چیز 95 پر حاضر و ناظر ہے۔

94 کون کون سے رشتہ دار محرم ہیں ؟۔ اس آیت میں ان محرم رشتہ داروں کا ذکر ہے۔ جو نبی کے گھر میں آجاسکتے ہیں اور ان سے پردہ کی ضرورت نہیں۔ یا لونڈی غلام وغیرہ اور ان کی تفصیل پہلے سورة نور کی آیت 31 کے حواشی کے تحت گزر چکی ہے۔ پھر ان میں رضاعی رشتے بھی شامل ہوجاتے ہیں۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے۔ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ پردہ کا حکم اترنے کے بعد ابو القُعَیْس کے بھائی افلح نے (جو میرے رضاعی چچا تھا) مجھ سے اندر آنے کی اجازت مانگی۔ میں نے جواب دیا کہ میں نبی اکرم سے پوچھے بغیر اجازت نہیں دے سکتی۔ کیونکہ افلح کے بھائی ابو القعیس نے تو مجھے دودھ نہیں پلایا تھا بلکہ اس کی بیوی نے پلایا تھا۔ جب آپ تشریف لائے تو میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! ابو القعیس کے بھائی افلح نے مجھ سے اندر آنے کی اجازت مانگی تھی تو میں نے اسے کہا کہ جب تک آپ سے پوچھ نہ لوں اجازت نہیں دے سکتی آپ نے فرمایا : تم نے اپنے چچا کو اجازت کیوں نہ دی ؟ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! مجھے دودھ مرد نے تو نہیں پلایا وہ تو ابو القعیس کی بیوی نے پلایا تھا آپ نے فرمایا : تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں۔ اسے اندر آنے کی اجازت دو ، وہ تمہارا چچا ہے عروہ بن زبیر (سیدہ عائشہ ؓ کے بھانجے) کہتے ہیں کہ اسی لئے سیدہ عائشہ ؓ کہتی تھیں کہ جتنے رشتے خون کی وجہ سے حرام سمجھتے ہو دودھ کی وجہ سے بھی وہ حرام ہیں (بخاری۔ کتاب التفسیر) 95 یعنی اللہ یہ چیز دیکھ رہا ہے کہ جو احکام تمہیں پردہ سے متعلق دیئے جارہے ہیں۔ اللہ سے ڈر کر ان پر کس قدر عمل پیرا ہوتی ہو۔
Ayah 33:56

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓئِكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 33:56 in the Quran reader

اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو ! تم بھی اس پر درود وسلام 96 بھیجا کرو۔

96 اس زمانہ میں کفار اور منافقین آپ پر طرح طرح کی الزام تراشیاں کرکے آپ کو بدنام کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ خود اپنے نبی پر رحمتوں کی بارش کر رہا ہے۔ فرشتے بھی اس کے حق میں دعائے رحمت و برکت کرتے ہیں۔ تو پھر ان لوگوں کے بےہودہ بکواس سے کیا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ساتھ ہی مومنوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس نبی پر بکثرت درود یا دعائے رحمت و مغفرت اور سلامتی کی دعا کیا کرو۔ وہ الزام تراشیاں تو وقتی اور عارضی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایسا طریقہ بتادیا کہ تاقیامت آپ پر سلامتی اور رحمت و مغفرت کی دعائیں مانگی جایا کریں۔ اور ہمیشہ آپ کا ذکر بلند رہا کرے۔ اس سلسلہ میں درج ذیل دو احادیث بھی ملاحظہ فرما لیجئے : خ آپ پر درود وسلام کیوں ضروری ہے ؟ 1۔ ابو العالیہ نے کہا کہ اللہ کی صلوٰۃ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں میں آپ کی تعریف کرتا ہے اور فرشتوں کی صلوٰۃ سے دعا مراد ہے۔ اور ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہیصلون کا معنی یہ ہے کہ برکت کی دعا کرتے ہیں۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ عنوان باب) 2۔ سیدنا کعب صبن عجرہ کہتے ہیں کہ صحابہ نے آپ سے پوچھا : یارسول اللہ ! آپ پر سلام کرنا تو ہم کو معلوم ہوگیا ہے۔ آپ پر درود کیسے بھیجیں ؟ آپ نے فرمایا : یوں کہو : (اللھم صل علیٰ محمد وعلیٰ آل محمد کما صلیت علیٰ ابراہیم انک حمید مجید۔ اللھم بارک علیٰ محمد وعلیٰ آل محمد کما بارکت علیٰ ابراہیم انک حمید مجید) اور یزید بن ھاد کی روایت میں علی ابراہیم کے بعد دونوں جگہ علیٰ آل ابراہیم کے الفاظ بھی ہیں۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر) درود وسلام کی اصل بنیاد یہ ہے کہ ہر مومن کو رسول اللہ کے ذریعہ سے ہی ایمان کی نعمت نصیب ہوئی۔ اور ایمان اتنی بڑی نعمت ہے کہ دین و دنیا کی کوئی نعمت اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی اور اس نعمت کا احسان مومن کبھی اتار نہیں سکتے۔ تاہم ایمانداروں کو اتنا ضرور کرنا چاہئے کہ وہ اپنے اس محسن اعظم کی محبت سے سرشار ہوں اور اس کے حق میں دعائے رحمت و برکت اور مغفرت کیا کریں۔ اس سے ان کے اپنے بھی درجات بلند ہوں گے اور ہر دفعہ درود پڑھنے کے عوض اللہ ان پر دس گناہ درود یا اپنی رحمتیں نازل فرمائے گا۔ (مسلم۔ کتاب الصلوٰۃ۔ باب الصلوٰۃ علی النبی بعد التشہد) خ سلموا تسلیما کے دو مطلب :۔ سلّموا تسلیما کے بھی دو معنے ہیں۔ ایک تو درج بالا حدیث سے واضح ہے کہ اس کے لئے سلامتی کی دعا کیا کریں۔ اور اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ دل و جان سے اس کے آگے سرتسلیم خم کردیں۔ جیسا کہ سورة نساء کی آیت نمبر 65 میں ان الفاظ کے یہی معنی مراد ہیں۔ خ صلوٰۃ وسلام کے فضائل :۔ درود وسلام پڑھنے کے فضائل میں اب چند مزید احادیث ملاحظہ فرمائیے : 1۔ سیدنا انس ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جو شخص ایک بار مجھ پر درود بھیجے گا تو اللہ اس پر دس رحمتیں بھیجے گا۔ اس کے دس گناہ معاف کئے جائیں گے اور دس درجے بلند کئے جائیں گے۔ (حوالہ ایضاً ) 2۔ سیدنا ابیص بن کعب فرماتے ہیں کہ میں نے آپ سے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میں آپ پر بکثرت درود بھیجتا ہوں۔ میں اپنی دعا کا کتنا حصہ درود کے لئے مقرر کروں ؟ فرمایا : جتنا تو چاہے میں نے کہا : ایک چوتھائی ؟ فرمایا جتنا تو چاہے اور اگر زیادہ کرے تو تیرے حق میں بہتر ہے میں نے کہا : آدھا حصہ ؟ فرمایا : جتنا تو چاہے اور اگر زیادہ کرلے تو تیرے حق میں بہتر ہے پھر میں نے پوچھا : دو تہائی ؟ فرمایا : جتنا تو چاہے اور اگر زیادہ کرے تو تیرے لئے بہتر ہے پھر میں نے کہا : میں اپنے دعا کا سارا وقت آپ پر درود کے لئے مقرر کرلیتا ہوں۔ فرمایا : اب تو اپنے غم سے کفایت کیا جائے گا اور تیرے گناہ تجھ سے دور کردیئے جائیں گے (ترمذی۔ بحوالہ مشکوٰۃ۔ کتاب الصلوٰۃ۔ باب الصلوٰۃ عن النبی فصل ثانی) 3۔ سیدنا عمر بن خطاب فرماتے ہیں : جب تک تو اپنے نبی پر درود نہ بھیجے دعا زمین و آسمان کے درمیان موقوف رہتی ہے اور اوپر نہیں چڑھتی۔ (ترمذی۔ بحوالہ مشکوٰۃ۔ باب الصلوٰۃ علی النبی۔ فصل ثانی) 4۔ سیدنا علی ؓ فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : وہ شخص بڑا بخیل ہے جس کے پاس میرا ذکر ہوا پھر اس نے مجھ پر درود نہ بھیجا (ترمذی۔ بحوالہ مشکوٰۃ ایضاً )
Ayah 33:57

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 33:57 in the Quran reader

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو دکھ پہنچاتے 97 ہیں۔ اللہ نے ان پر دنیا میں بھی لعنت فرمائی اور آخرت میں بھی اور ان کے لئے رسوا کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

97 اللہ اور اس کے رسول کو ایذا کی صورتیں :۔ اللہ کو دکھ پہنچانے کی کئی صورتیں ہیں۔ پہلی صورت شرک ہے کہ اس کی ذات اور صفات میں دوسروں کو شریک بنا لیا جائے چناچہ ایک حدیث قدسی کے مطابق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آدم کا بیٹا مجھے سخت دکھ پہنچاتا ہے۔ جب کہتا کہ اللہ کی اولاد ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ دین اسلام کے خلاف معاندانہ سرگرمیوں میں حصہ لینے والے سب لوگ فی الحقیقت اللہ اور اس کے رسول دونوں کو دکھ پہنچاتے ہیں۔ اور تیسری صورت یہ ہے کہ جو رسول اللہ کو الزام تراشیوں اور طعن وتشنیع سے دکھ پہنچاتے ہیں۔ اور ایسے مواقع رسول اللہ کی زندگی میں بکثرت آتے رہے۔ وہ لوگ حقیقتاً اللہ ہی کو دکھ پہنچاتے ہیں۔ کیونکہ رسول اللہ کی ذات اللہ کی طرف سے مامور ہے اسی لحاظ سے رسول کی اطاعت ہی فی الحقیقت اللہ کی اطاعت ہے (4: 80) اسی طرح اللہ کے رسول کی نافرمانی فی الحقیقت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے۔ اسی طرح اللہ کے رسول کو ستانا اور تکلیف پہنچانا فی الحقیقت اللہ کو دکھ پہنچانا ہے۔ پھر آخر اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ذلت و رسوائی کا عذاب کیوں نہ دے گا۔
Ayah 33:58

وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 33:58 in the Quran reader

اور جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو ان کے کسی قصور کے بغیر دکھ پہنچاتے ہیں تو انہوں 98 نے بہتان اور صریح گناہ کا بار اٹھا لیا۔

98 جب مسلمان عورتیں رات کو رفع حاجت کے لئے باہر نکلتیں تو کچھ اوباش لونڈے اور منافق ان سے بےہودہ قسم کی گفتگو اور چھیڑ چھاڑ کرتے اور جب ان سے باز پرس کی جاتی تو کہہ دیتے کہ ہم سمجھے یہ لونڈیاں ہیں۔ پھر کچھ منافق ایسے بھی تھے جو رسول اللہ کی پیٹھ پیچھے بدگوئی کرتے اور ازواج مطہرات پر بےہودہ قسم کے الزام تراشتے یہ سب قسم کے لوگ تہمت تراش اور بدترین قسم کے مجرم ہیں۔
Ayah 33:59

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:59 in the Quran reader

اے نبی ! اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی چادروں کے پلو اپنے اوپر 99 لٹکا لیا کریں۔ اس طرح زیادہ توقع ہے کہ وہ پہچان لی جائیں اور انھیں ستایا نہ جائے اور اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔

99 اس حکم کے ذریعہ اوباش منافقوں کی چھیڑ چھاڑ کا سدباب کردیا گیا۔ نبی کی بیویوں، بیٹیوں اور سب مسلمان عورتوں کو حکم دیا گیا کہ بڑی چادریں اپنے سر کے اوپر سے نیچے لٹکا لیا کریں۔ اس سے بآسانی معلوم ہوسکے گا کہ یہ لونڈیاں نہیں بلکہ شریف زادیاں ہیں۔ لہذا منافق انھیں چھیڑ چھاڑ کی جرأت نہ کرسکیں گے۔ خ بنات النبی :۔ ضمناً اس سے اس بات کا پتہ لگتا ہے کہ رسول اللہ کی بیٹیاں تین یا تین سے زیادہ تھیں اور حقیقتاً یہ چار تھیں۔ سیدہ زینب، سیدہ رقیہ، سیدہ ام کلثوم اور سیدہ فاطمہ ؓ جبکہ شیعہ حضرات آپ کی صرف ایک بیٹی (سیدہ فاطمہ) تو تسلیم کرتے ہیں۔ باقی کو تسلیم ہی نہیں کرتے۔ خ بڑی چادر اوڑھ کر عورتیں باہر نکلیں :۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ بعض حضرات چہرہ کو پردہ کے حکم سے مستثنیٰ قرار دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ (يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَبَنٰتِكَ وَنِسَاۗءِ الْمُؤْمِنِيْنَ يُدْنِيْنَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِهِنَّ ۭ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ يُّعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۭ وَكَان اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا 59؀) 33 ۔ الأحزاب :59) کا مطلب چادر لٹکا کر گھونگھٹ نکالنا نہیں بلکہ اس سے مراد چادر کو اپنے جسم کے ارد گرد اچھی طرح لپیٹ لینا ہے جسے پنجابی میں بکل مارنا کہتے ہیں۔ اس توجیہ کی تہ میں جو کچھ ہے وہ سب کو معلوم ہے ہم صرف یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ یہ توجیہ لغت، عقل اور نقل تینوں لحاظ سے غلط ہے۔ وہ یوں کہ : 1۔ لغوی لحاظ سے دنٰی یدنی کا مطلب قریب ہونا، جھکنا اور لٹکنا سب کچھ آتا ہے۔ قرآن میں ہے (وَجَنَا الْجَنَّـتَيْنِ دَانٍ 54۝ۚ ) 55 ۔ الرحمن :54) یعنی ان دونوں باغوں کے پھل جھک رہے ہیں یا لٹک رہے ہیں اور اَدْنٰی یَدْنِی یعنی قریب کرنا، جھکانا اور لٹکانا اور ادنی الستر بمعنی پردہ لٹکانا ہے (منجد) اب اگر ادنٰی الیھن من جلابیبھن کے الفاظ ہوتے تو پھر ان معانی کی بھی گنجائش نکل سکتی تھی جو یہ حضرات چاہتے ہیں لیکن قرآن میں ادنیٰ کا صلہ علیٰ سے ہے جو اس کے معنی کو اِرْخَاء یعنی اوپر سے لٹکانے کے معنوں سے مختص کردیتا ہے۔ اور جب لٹکانا معنی ہو تو اس کا مطلب سر سے نیچے کو لٹکانا ہوگا جس میں چہرہ کا پردہ خود بخود آجاتا ہے۔ خ ہاتھوں اور چہرے کا پردہ :۔ 2۔ اور عقلی لحاظ سے یہ توجیہ اس لئے غلط ہے کہ عورت کا چہرہ ہی وہ چیز ہے جو مرد کے لئے عورت کے تمام بدن سے زیادہ پرکشش ہوتا ہے۔ اگر اسے ہی حجاب سے مستثنیٰ قرار دیا جائے تو حجاب کے باقی احکام بےسود ہیں۔ فرض کیجئے آپ اپنی شادی سے پہلے اپنی ہونے والی بیوی کی شکل و صورت دیکھنا چاہتے ہیں۔ اب اگر آپ کو اس لڑکی کا چہرہ نہ دکھایا جائے باقی تمام بدن ہاتھ، پاؤں وغیرہ دکھا دیئے جائیں تو کیا آپ مطمئن ہوجائیں گے ؟ اس سوال کا جواب یقیناً نفی میں ہے۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ آپ کو اس لڑکی کا صرف چہرہ دکھادیا جائے اور باقی بدن نہ دکھایا جائے اس صورت میں آپ پھر بھی بہت حد تک مطمئن نظر آئیں گے۔ پھر جب یہ سب چیزیں روزمرہ کے تجربہ اور مشاہدہ میں آرہی ہیں تو پھر آخر چہرہ کو احکام حجاب سے کیونکر خارج کیا جاسکتا ہے ؟ چناچہ سیدنا ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ کے پاس تھا۔ ایک شخص آیا اور آپ کو خبر دی کہ اس نے ایک انصاری عورت سے عقد کیا ہے۔ آپ نے اس سے پوچھا : کیا تم نے اسے دیکھا بھی ہے ؟ وہ کہنے لگا نہیں آپ نے فرمایا : جا اس کو دیکھ لے اس لئے کہ انصار کی آنکھوں میں کچھ عیب ہوتا ہے (مسلم۔ کتاب النکاح۔ باب ندب من اراد نکاح امرأۃ الیٰ ان ینظر الیٰ وجھھا وکفیھا قبل خطب تھا) اس حدیث میں بھی آپ نے چہرہ دیکھنے کی ہی ہدایت فرمائی۔ آیت کے غلط معنی اور اس کا جواب :۔ 3۔ نقلی لحاظ سے بھی یہ توجیہ غلط ہے۔ یہ سورة احزاب ذیقعد 5 ھ میں نازل ہوئی اور واقعہ افک شوال 6 ھ میں پیش آیا۔ اور واقعہ افک بیان کرتے ہوئے خود سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں اسی جگہ بیٹھی رہی۔ اتنے میں میری آنکھ لگ گئی۔ ایک شخص صفوان بن معطل سلمی اس مقام پر آئے اور دیکھا کوئی سو رہا ہے۔ اس نے مجھے دیکھتے ہی پہچان لیا کیونکہ حجاب کا حکم اترنے سے پہلے اس نے مجھے دیکھا تھا۔ اس نے مجھے دیکھ کر (إنَّا لِلّٰہِ وَإنَّا إلَیْہِ رَاجِِعُوْنَ ) پڑھا تو میری آنکھ کھل گئی تو میں نے اپنا چہرہ اپنی چادر سے ڈھانپ لیا (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب حدیث الافک۔۔ ) اب سوال یہ ہے کہ اگر (يُدْنِيْنَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِهِنَّ 59؀) 33 ۔ الأحزاب :59) کا معنی وہ ہو جو یہ حضرات ہمیں سمجھانا چاہتے ہیں تو کیا (معاذ اللہ) سیدہ عائشہ ؓ اور دوسرے صحابہ ؓ نے اس کا معنی غلط سمجھا تھا ؟
Ayah 33:60

لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَةِ لَنُغْرِیَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَكَ فِیْهَاۤ اِلَّا قَلِیْلًا٤ۖۛۚ Open ayah 33:60 in the Quran reader

اگر منافق لوگ اور وہ جن کے دلوں میں مرض 100 ہے اور مدینہ میں دہشت انگیز افواہیں پھیلانے والے باز نہ آئے تو ہم آپ کو ان کے خلاف اٹھا کھڑا 101 کریں گے۔ پھر وہ تھوڑی ہی مدت آپ کے پڑوس میں رہ سکیں گے

100 منافقوں اور یہودیوں کا گٹھ جوڑ واقعات کی روشنی میں :۔ یعنی ایک تو انھیں بدنظری اور شہوت پرستی کا روگ لگا ہوا ہے۔ دوسرے نفاق کا کہ وہ اپنے آپ کو شمار تو مسلمانوں میں کرتے ہیں۔ لیکن ہر معاملہ میں اس کے بدخواہ تنگ کرنے والے انھیں بدنام کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔ ان کے ساتھی مدینہ کے یہود ہیں۔ اور یہ دونوں ایک دوسرے کے ہمراز اور دونوں مسلمانوں کے ایک جیسے دشمن ہیں۔ جو مسلمانوں کے حوصلے پست کرنے کے لئے مختلف قسم کی سنسنی خیز افواہیں گھڑتے اور پھیلاتے رہتے ہیں۔ مثلاً فلاں مقام پر مسلمانوں نے بڑی مار کھائی اور زک اٹھائی، فلاں مقام پر مسلمانوں کے لئے ایک بڑا بھاری لشکر جمع ہورہا ہے اور عنقریب مدینہ سے مسلمانوں کو ختم کردیا جائے گا۔ وغیرہ وغیرہ۔ منافقوں اور یہود مدینہ کی مسلمانوں کے خلاف مشترکہ ساز باز اور گٹھ جوڑ کی داستان بڑی طویل ہے۔ میں یہاں چند اشارات پر اکتفا کروں گا۔ جب بدر میں اللہ نے مسلمانوں کو فتح عظیم عطا فرمائی تو آپ نے دو صحابہ زید بن حارثہ اور عبداللہ بن رواحہ کو خوشخبری دینے کے لئے پہلے مدینہ بھیج دیا تھا۔ دریں اثنا، منافق یہ خبر مشہور کرچکے تھے کہ مسلمانوں کو عبرتناک شکست ہوئی ہے اور محمد ﷺ قتل کردیئے گئے۔ اس افواہ سے مدینہ کے مسلمان بہت سہمے ہوئے تھے کہ زید بن حارثہ دور سے اونٹنی پر سوار آتے دکھائی دیئے۔ ایک منافق کہنے لگا دیکھو زید بن حارثہ کا اترا ہوا چہرہ صاف بتارہا ہے کہ مسلمان شکست کھاچکے ہیں پھر جب اصل حالات کا علم ہوا تو مدینہ تکبیر و تہلیل کے نعروں سے گونج اٹھا اور یہی نعرے یہود و منافقین کے قلب و جگر کو چھلنی چھلنی کررہے تھے۔ قبیلہ بنو قینقاع یہود مدینہ میں سب سے زیادہ امیر اور شرارتی قبیلہ تھا۔ اس نے جنگ بدر کے فوراً بعد شرارتیں شروع کردیں تو رسول اللہ نے ان کا محاصرہ کرلیا اور یہ بد عہد قوم جلد ہی ہتھیار ڈالنے پر آمادہ ہوگئی۔ آپ انھیں قتل کردینے کا ارادہ رکھتے تھے۔ مگر عبداللہ بن ابی کی پرزور سفارش کی بنا پر اپنی نرمی طبع کی بنا پر یہود کی جان بخشی کردی اور صرف جلاوطنی پر اکتفا کرلیا۔ جنگ احد کے موقعہ پر عبداللہ بن ابی منافق نے عین موقعہ پر جس طرح مسلمانوں کا ساتھ چھوڑا تھا وہ واقعہ پہلے تفصیل سے گزر چکا ہے۔ اس وقت بھی منافقوں نے مسلمانوں کے حوصلے پست کرنے اور مسلمانوں کو شکست سے دوچار کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا۔ یہود کے دوسرے قبیلہ بنونضیر نے جب آپ پر چکی کا پاٹ گرا کر آپ کو ہلاک کرنے کی سازش کی اور آپ کو اللہ نے بچا لیا تو آپ نے بنونضیر کو الٹی میٹم دے دیا کہ دس دن کے اندر اندر وہ مدینہ کو خالی کردیں اور جو کچھ لے جاسکتے ہیں لے جائیں دس دن بعد جو شخص بھی مدینہ میں نظر آیا اسے قتل کردیا جائے گا۔ (یہ واقعہ سورة حشر میں تفصیل سے آئے گا) جب یہود نکلنے کی تیاری کرنے لگے تو عبداللہ بن ابی نے انھیں کہلا بھیجا کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں میرے پاس دو ہزار مسلح آدمی ہیں جو تمہاری حفاظت میں جان دے دیں گے۔ لہذا اپنی جگہ پر برقرار رہو اور ڈٹ جاؤ۔ اس پیغام پر اس قبیلہ کے سردار حیی بن اخطب کی آنکھیں چمک اٹھیں اور اس نے رسول اللہ کو پیغام بھجوا دیا کہ ہم یہاں سے نہیں نکلیں گے تم سے جو بن پڑتا ہے کرلو۔ اس چیلنج پر جب مسلمانوں نے یہود کا محاصرہ کرلیا تو نہ رئیس المنافقین خود ان کی مدد کو پہنچا نہ اس کے مردان جنگی۔ وہ بھی ویسا ہی بزدل نکلا جیسا کہ یہود تھے۔ بالآخر بنونضیر کو جلا وطن کردیا۔ غزوہ احزاب میں یہود کی عہد شکنی اور منافقوں کے کردار پر تبصرہ اسی سورة میں گزر چکا ہے۔ اسی عہد شکنی کی سزا دینے کے لئے جنگ احزاب کے فوراً بعد بنو قریظہ کا محاصرہ کرکے ان کا خاتمہ کردیا گیا۔ اب بچے کھچے سب یہودی خیبر کی طرف اکٹھے ہو رہے تھے۔ غزوہ بنی مصطلق میں منافقوں نے مسلمانوں کو دو طرح سے شدید نقصان پہنچایا۔ ایک تو عبداللہ بن ابی نے قبائلی عصبیت کو ابھار کر مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کی اور دوسرے سیدہ عائشہ ؓ پر تہمت لگا کر مسلمانوں کے اخلاقی محاذ پر کاری ضرب لگائی اور انھیں کئی طرح کی پریشانیوں سے دوچار کردیا۔ (ان میں سے پہلا واقعہ تو سورة منافقون میں آئے گا اور دوسرا سورة نور میں گذر چکا ہے) 101 اس سے مراد جنگ بنو قریظہ ہے جس کے بعد مدینہ یہودیوں سے مکمل طور پر پاک ہوگیا اور جو یہودی غزوہ بنو قینقاع اور بنونضیر کے موقعوں پر جلا وطن کئے تھے وہ سب خیبر کی طرف چلے گئے تھے۔
Ayah 33:61

مَّلْعُوْنِیْنَ١ۛۚ اَیْنَمَا ثُقِفُوْۤا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا Open ayah 33:61 in the Quran reader

یہ لوگ ملعون ہیں جہاں بھی یہ پائے جائیں انھیں پکڑ کر بری طرح قتل کردیا 102 جائے گا۔

102 اس سے مراد بنو قریظہ کا انجام ہے۔ بنونضیر کا سردار حیی بن اخطب بھی ان کے ساتھ ہی قتل ہوا تھا جس نے بنوقریظہ کو عہد شکنی پر مجبور کیا تھا۔
Ayah 33:62

سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 33:62 in the Quran reader

گزشتہ لوگوں میں اللہ کا یہی طریقہ 103 جاری رہا ہے اور آپ اللہ کے اس طریقہ میں کوئی تبدیلی نہ پائیں گے۔

103 یعنی اللہ کی سنت جاریہ یہی ہے کہ جن لوگوں نے اللہ کے رسولوں کے خلاف شرارتیں کیں اور فتنے فساد پھیلائے انھیں اسی طرح ذلیل و خوار اور ہلاک کردیا گیا۔
Ayah 33:63

یَسْئَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا Open ayah 33:63 in the Quran reader

لوگ آپ سے قیامت کے متعلق 104 پوچھتے ہیں۔ آپ ان سے کہئے کہ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے۔ اور آپ کو کیا خبر، شاید وہ قریب ہی آپہنچی ہو

104 چونکہ قیامت کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں اور اس کا متعین وقت بتانا بھی مصلحت الٰہی کے خلاف ہے۔ لہذا اس کا وقت معین کسی کو نہیں بتایا گیا اور کافر اور منافق یہ سوال بار بار اس لئے کرتے رہتے تھے کہ انہوں نے مسلمانوں کو زچ کرنے کے لئے ایک شغل بنایا ہوا تھا۔ جس سے ان کی مراد محض پیغمبر اسلام اور دعوت اسلام کا مذاق اڑانا اور اضحوکہ بنانا ہوتا تھا اسے وہ محض ایک خالی خولی دھمکی سمجھتے تھے۔
Ayahs 33:64–66

اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الْكٰفِرِیْنَ وَ اَعَدَّ لَهُمْ سَعِیْرًاۙ Open ayah 33:64 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے یقینا کافروں پر لعنت کی 105 ہے اور ان کے لئے بھڑکتی ہوئی دوزخ تیار رکھی ہے

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ۚ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۚ Open ayah 33:65 in the Quran reader

جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور کوئی اپنا حامی یا مددگار نہ پائیں گے۔

یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوْلَا Open ayah 33:66 in the Quran reader

جس دن ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کئے جائیں گے وہ کہیں گے : اے کاش ! ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی

105 یہ اسی لعنت کا اثر ہے کہ بس فضول سے سوالات کئے جاتے ہیں جس سے ان کا مقصد محض شغل اور استہزاء ہوتا ہے اور اس دوزخ کی آگ سے نہیں ڈرتے جو ان کے لئے تیار کی جاچکی ہے۔
Ayahs 33:67–68

وَ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا Open ayah 33:67 in the Quran reader

نیز کہیں گے : ہمارے پروردگار ! ہم نے تو اپنے سرداروں اور بڑوں کا حکم مانا تھا تو انہوں نے ہمیں راہ 106 (حق) سے بہکا دیا

رَبَّنَاۤ اٰتِهِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَ الْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 33:68 in the Quran reader

(لہٰذا) اے پروردگار ! ان پر دگنا عذاب کر اور ان پر سخت لعنت کر

106 سادات اور کبراء سے کون لوگ مراد ہی ؟ ان دو آیات سے چند باتیں مستفاد ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ کی راہ سے مراد اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہے۔ دوسری یہ کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے برگشتہ کرنے والے حضرات دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک دنیوی سردار، حاکم، رئیس، چودھری وغیرہ جن کا عوام پر اثر ہوتا ہے۔ اور وہ یہ چاہتے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے بجائے لوگوں سے اپنی اطاعت کروائیں۔ دوسری قسم کے لوگ علماء اور مشائخ یعنی مذہبی پیشوا ہوتے ہیں۔ ان کے گمراہ کرنے کا انداز دنیوی سرداروں سے بالکل جداگانہ ہوتا ہے۔ وہ لوگوں میں شرکیہ رسوم اور بدعات رائج کرتے، غلط فتوے دیتے، اولیاء اللہ کے تصرف کی دھاک بٹھاتے اور اس طرح کئی طرح کے مفادات حاصل کرتے ہیں۔ مقصد دونوں کا حب مال اور جاہ ہوتا ہے۔ تیسری یہ بات کہ مطیع اور مطاع یعنی گمراہ ہونے والے اور گمراہ کرنے والے سب کے سب جہنمی ہوتے ہیں۔ جب وہ جہنم کا عذاب دیکھ لیں گے تو اپنے جرم میں اور اسی طرح عذاب میں تخفیف کی خاطر اطاعت کرنے والے اپنے بڑوں اور پیشواؤں پر یہ الزام لگائیں گے کہ ہمیں گمراہ کرنے والے تو یہ لوگ تھے۔ لہذا اے پروردگار ! انھیں دوگنا عذاب کر۔ بالفاظ دیگر ان کی التجا یہ ہوگی کہ ہمارے عذاب میں ان کے مقابلہ میں آدھی تخفیف ہونی چاہئے اور ان دونوں فریقوں کے درمیان مکالمہ پہلے قرآن میں کئی مقامات پر گزر چکا ہے۔
Ayahs 33:69–70

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا١ؕ وَ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِیْهًاؕ Open ayah 33:69 in the Quran reader

اے ایمان والو ! ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں 107 نے موسیٰ کو اذیت پہنچائی تھی۔ پھر اللہ نے موسیٰ کو ان کی بنائی ہوئی باتوں سے بری کردیا اور وہ اللہ کے ہاں بڑی عزت 108 والے تھے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ Open ayah 33:70 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو اور بات صاف سیدھی کیا کرو

107 اس آیت کی تائید و توثیق درج ذیل حدیث سے بھی ہوتی ہے : سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ آپ نے (حنین کی جنگ کا) مال غنیمت تقسیم کیا تو ایک شخص کہنے لگا : اس تقسیم سے اللہ کی رضامندی مقصود نہیں ہے۔ میں رسول اللہ کے پاس آیا اور انھیں یہ بات بتائی۔ آپ کے چہرہ مبارک پر غصہ کے اثرات نمودار ہوئے اور فرمایا : اللہ موسیٰ پر رحم کرے انھیں اس سے بھی زیادہ تکلیف دی گئی لیکن انہوں نے صبر کیا۔ (بخاری۔ کتاب الجہاد باب ماکان النبی یعطی المؤلفۃ قلوبھم وغیرھم من الخمس ونحوہ) اور درج ذیل حدیث اس آیت کی تفسیر پیش کرتی ہے : خ بنی اسرائیل کی موسیٰ (علیہ السلام) کو ایذا رسانی :۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : بنی اسرائیل برہنہ غسل کیا کرتے تھے اور ایک دوسرے کی طرف دیکھتا رہتا تھا۔ مگر موسیٰ (علیہ السلام) تنہا غسل فرمایا کرتے۔ بنی اسرائیل کہنے لگے۔ واللہ موسیٰ کو ہمارے ساتھ غسل کرنے سے بجز اس کے اور کوئی بات مانع نہیں کہ وہ فتق (جلدی بیماری) میں مبتلا ہیں۔ اتفاق سے ایک دن موسیٰ (علیہ السلام) غسل کرنے لگے تو اپنا لباس ایک پتھر پر رکھ دیا وہ پتھر ان کا لباس لے بھاگا اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اس کے تعاقب میں یہ کہتے ہوئے دوڑے کہ ثوبی یا حجر۔ ثوبی یا حجر (اے پتھر ! میرے کپڑے۔ اے پتھر ! میرے کپڑے) یہاں تک بنی اسرائیل نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو (ننگے) دیکھ لیا اور کہنے لگے : واللہ ! موسیٰ (علیہ السلام) کو کوئی بیماری نہیں ہے۔ (پتھر ٹھہر گیا) موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا لباس لے لیا اور پتھر کو مارنے لگے۔ ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں : خدا کی قسم اس پتھر پر چھ یا سات نشان ہیں۔ (بخاری۔ کتاب الغسل۔ باب من اغتسل عریاناً ) اب ظاہر ہے کہ جو لوگ خرق عادت واقعات یا معجزات کے منکر ہیں۔ انھیں یہ تفسیر راس نہیں آسکتی۔ تاہم اس حدیث کے الفاظ میں اتنی گنجائش موجود ہے کہ وہ بھی اسے تسلیم کرلیں وہ یوں کہ حجر کے معنی پتھر بھی ہیں اور گھوڑی بھی۔ (منجد) اس لحاظ سے یہ واقعہ یوں ہوگا کہ موسیٰ گھوڑی پر سوار تھے۔ کسی تنہائی کے مقام پر نہانے لگے تو گھوڑی کو کھڑا کیا اور اسی پر اپنے کپڑے رکھ دیئے۔ جب نہانے کے بعد کپڑے لینے کے لئے آگے بڑھے تو گھوڑی دوڑ پڑی اور موسیٰ (علیہ السلام) ثوبی یا حجر کہتے اس کے پیچھے دوڑے تاآنکہ کچھ لوگوں نے آپ کو ننگے بدن دیکھ لیا کہ آپ بالکل بےداغ اور ان کی مزعومہ بیماری سے پاک ہیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو ان لوگوں کے الزام سے بری کردیا۔ رہی یہ بات کہ سیدنا ابوہریرہ ؓ قسم اٹھاکر کہتے ہیں کہ پتھر پر مار کے چھ یا سات نشان ہیں تو یہ سیدنا ابوہریرہ ؓ کا اپنا قول ہے۔ ارشاد نبوی نہیں جس کا ماننا حجت ہو۔ علاوہ ازیں قارون نے بھی ایک فاحشہ عورت کو کچھ دے دلا کر اس بات پر آمادہ کرلیا تھا کہ وہ سیدنا موسیٰ پر اپنے ساتھ زنا کی تہمت لگا دے۔ پھر جب سیدنا موسیٰ نے اسے اللہ کی قسم دے کر پوچھا تو اس پر کچھ ایسا رعب طاری ہوا کہ اس نے صاف انکار کرلیا کہ میں نے قارون کی انگیخت پر یہ تہمت لگائی تھی۔ اور بنی اسرائیل کا موسیٰ کو اس طرح دکھ پہنچانا اس لحاظ سے اور بھی شدید جرم بن جاتا ہے کہ آپ ہی کے ذریعہ بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے نجات ملی تھی۔ اور ان کی مصر میں وہی حالت تھی جو ہندوستان میں شودروں کی ہے۔ بلکہ اس سے بھی بدتر حالت میں وہاں زندگی گزار رہے تھے۔ 108 وَجِیْھًا کا دوسرا معنی ایسا آبرو اور رعب والا شخص ہے جس کے متعلق لوگوں کو کچھ اعتراض ہو بھی تو وہ اس کے منہ پر کچھ نہ کہہ سکیں اور ادھر ادھر باتیں کرتے پھریں۔ یہی لفظ اللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسیٰ کے لئے استعمال فرمایا اور کہا (وَجِیْھًا فِیْ الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ ) (3: 45) یعنی عیسیٰ دنیا میں بھی وجیہ تھے اور آخرت میں بھی وجیہ ہوں گے۔ چناچہ دنیا میں یہود ان کی پیدائش سے متعلق الزام لگاتے تھے لیکن منہ پر بات کہنے کی کوئی جرات نہ کرتا تھا۔ اس آیت میں روئے سخن غالباً منافقوں کی طرف ہے جو مسلمانوں میں ملے جلے رہتے تھے۔ ورنہ مخلص مومنوں سے یہ بات ناممکن ہے کہ وہ اپنے مجبوب اور محسن اعظم کو دکھ پہنچائیں۔
Ayah 33:71

یُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 33:71 in the Quran reader

(اس طرح) اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال 109 کو درست کردے گا اور تمہارے گناہ معاف کردے گا۔ اور جس شخص نے اللہ اور اس کے رسول کا کہا مان لیا اس نے بڑی کامیابی حاصل کرلی۔

109 راست بازی کے فوائد :۔ ان دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے دین و دنیا میں کامیاب زندگی کا ایک زرین اصول بیان فرما دیا جو کسی انسان کی پوری زندگی کو محیط ہے اور وہ اصول یہ ہے کہ بات سیدھی اور صاف کہا کرو جس میں جھوٹ نہ ہو۔ کوئی ایچ پیچ اور ہیرا پھیرا بھی نہ ہو۔ کسی کی جانبداری بھی نہ ہو۔ بات جتنی ہی ہو اتنی ہی کرو اس پر حاشیے نہ چڑھاؤ۔ اور اپنی طرف سے کمی بیشی بھی نہ کرو۔ اسی کا دوسرا نام راست بازی ہے۔ راست بازی سے بعض دفعہ اپنی ذات کو، اپنے اقرباء کو اور اپنے دوست احباب کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہ سب کچھ برداشت کرو لیکن راست بازی کا دامن نہ چھوڑو۔ اس لئے کہ اس کے نتائج بڑے مفید اور دوررس ہوتے ہیں۔ اس سے انسان کا وقار قائم ہوتا ہے۔ عزت ہوتی ہے، ساکھ بنتی ہے پھر اس ساکھ سے انسان کو بیشمار فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ یہ تو دنیوی فوائد ہوئے اور روحانی فوائد یہ ہیں کہ اس سے انسان کے اعمال خود بخود درست ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ایک دفعہ ایک شخص رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں شہادتین کا اقرار کرتا ہوں مگر اسلام لانے کی اپنے آپ میں جرأت نہیں پاتا کیونکہ مجھ میں فلاں عیب بھی ہے اور فلاں عیب بھی اور فلاں بھی۔ آپ نے اسے فرمایا : کیا تم مجھ سے جھوٹ چھوڑنے کا اقرار کرتے ہو ؟ وہ کہنے لگا ہاں۔ آپ نے فرمایا تمہارا اسلام منظور ہے۔ چناچہ جب بھی وہ کوئی قصور کرنے لگتا تو اسے خیال آتا کہ فلاں آدمی یا اللہ کا رسول مجھ سے پوچھے گا یا قیامت کو اللہ پوچھے گا تو اب میں جھوٹ تو بول نہیں سکتا پھر کیا ہوگا۔ اس خیال سے وہ اس عیب سے باز رہتا۔ آہستہ آہستہ اس کے تمام اعمال درست ہوگئے۔ یہ تو صرف جھوٹ چھوڑنے کی بات تھی جبکہ قول سدید جھوٹ ترک کرنے سے بہت اعلیٰ اخلاقی قدر ہے۔ پھر اس سے انسان کے اعمال کیوں درست نہ ہوں گے۔ اور جب اس کے اعمال درست ہوگئے تو سابقہ گناہ اللہ تعالیٰ خود ہی حسب وعدہ معاف فرما دیں گے اور یہ سب کچھ اسی صورت میں ممکن ہے جبکہ وہ اللہ سے ڈرتا ہو اور اللہ اور اس کے رسول کا مطیع فرمان ہو۔ اور ایسے شخص کی اخروی زندگی بھی بہرحال بہت کامیاب زندگی ہوگی۔
Ayah 33:72

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًاۙ Open ayah 33:72 in the Quran reader

ہم نے اپنی امانت 110 آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر پیش کی تو انہوں نے اسے اٹھانے سے انکار کردیا اور اس سے ڈر گئے مگر انسان نے اسے اٹھا لیا۔ یقینا وہ بڑا ظالم 111 اور جاہل ہے۔

110 امانت کا بار جو انسان نے اٹھا لیا :۔ امانت سے مراد بار خلافت ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا تھا کہ میں دنیا میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں اللہ تعالیٰ نے آسمان، زمین اور پہاڑوں جیسی عظیم الجثہ مخلوق کو پیدا کرکے ان سے پوچھا : بتاؤ اگر میں تمہیں قوت ارادہ و اختیار عطا کردوں اور تمہیں عقل وتمیز کی قوت بھی بخش دوں تو بتاؤ تم میرا خلیفہ بننے کو تیار ہو ؟ تمہیں وہی کام کرنا ہوگا جو میں کہوں تمہیں نافرمانی کے اختیار کے باوجود میرے احکام پر کاربند رہنا اور اسے نافذ کرنا ہوگا تو یہ تینوں قسم کی عظیم الجثہ مخلوق اس بار عظیم کو اٹھانے سے ڈرگئی اور اسے تسلیم نہ کیا۔ لیکن ان کے مقابلہ میں ضعیف البنیان مخلوق جو ایک منٹ سانس نہ چلنے سے مر بھی سکتی ہے۔ اس بار عظیم کو اٹھانے کے لئے تیار ہوگئی۔ حضرت انسان نے بڑی جرأت سے کہہ دیا کہ مجھے اگر قوت تمیز، عقل و فہم اور ارادہ و اختیار دے دیا جائے تو میں اس بار کو اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے انسان سے اس بات پر عہد بھی لیا۔ جو عہد الست بربکم کے نام سے مشہور ہے۔ یہ مکالمہ زبان حال سے ہوا تھا یا قال سے ؟ یا یہ محض تمثیلی انداز ہے ؟ یہ باتیں تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ البتہ اتنا معلوم ہے کہ عہد الست تاقیامت پیدا ہونے والے انسان کی ارواح سے لیا گیا تھا اور اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ انسان میں خلیفہ بننے اور نظام خلافت کو رائج کرنے کی صلاحیت بالقوہ موجود ہے۔ پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ مکلف مخلوق ایک نہیں بلکہ دو ہیں۔ ایک انسان دوسرے جن لیکن یہاں صرف انسان کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ اس لئے کہ جتنی استعداد اللہ تعالیٰ نے انسان میں رکھی ہے جنوں میں نہیں رکھی۔ اشرف المخلوقات انسان ہے، جن نہیں۔ لہذا جن اس مکالمہ میں بالتبع شامل ہیں۔ بالاصل نہیں۔ 111 ظَلُوْم اور جھول دونوں ہی مبالغہ کے صیغے ہیں۔ یعنی انسان بڑا ہی ظالم اور بڑا ہی جاہل ہے جو اس نے یہ بار امانت اٹھا لیا۔ وہ ظالم تو اس لحاظ سے ہے کہ تمام مخلوق میں سب سے بلند منصب پر فائز ہونے کی خواہش کی وجہ سے اس نے اس ذمہ داری کو قبول تو کرلیا مگر اس دارالامتحان دنیا میں آکر وہ کچھ دنیا کی رنگینیوں اور دلفریبیوں میں اس قدر محو و مستغرق ہوگیا کہ اسے یہ خیال بھی نہیں آتا کہ وہ کتنی بڑی عظیم ذمہ داری اپنے سر پر لادے ہوئے ہے۔ اس طرح جو امانت اس کے سپرد کی گئی تھی اس میں وہ خیانت کا مرتکب ہوا۔ اور جاہل اس لحاظ سے ہے کہ اس کی ساری توجہ اسی بات کی طرف رہی کہ اسے تمام مخلوق میں سے سب سے اونچا اعزاز ملنے والا ہے۔ مگر اس اعزاز کی ذمہ داریوں کا اندازہ کرنے سے قاصر رہا۔ اکثر انسانوں نے یہ جاننے کی کبھی کوشش ہی نہیں کہ اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے سے اس پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔
Ayah 33:73

لِّیُعَذِّبَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ وَ یَتُوْبَ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 33:73 in the Quran reader

(جس کا لازمی نتیجہ یہ تھا) کہ اللہ منافق مردوں اور عورتوں، اور مشرک مردوں اور عورتوں کو سزا دے۔ اور مومن مردوں اور عورتوں پر مہربانی کرے 112 اور اللہ معاف کردینے والا اور بخشنے والا ہے۔

112 انسان کو قوت ارادہ و اختیار دینے کا لازمی نتیجہ یہ نکل سکتا تھا کہ کچھ لوگ اس اختیار کا غلط استعمال کریں اور کچھ صحیح۔ پھر چونکہ انسان ظالم اور جاہل بھی ثابت ہوا۔ لہذا اس ارادہ و اختیار کا غلط استعمال کرنے والے بہت زیادہ نکلے اور صحیح استعمال کرنے والے ان کے مقابلہ میں بہت کم۔ اور دوسرا نتیجہ یہ نکلا کہ غلط استعمال کرنے والے مشرکوں، کافروں اور منافقوں کو ان کے اعمال کی سزا دی جائے۔ اور جن لوگوں نے اس ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے اپنا طرز زندگی اللہ کی مرضی کے مطابق بنا لیا انھیں اس کا اچھا بدلہ بھی دیا جائے۔