Ayahs 33:40–4164 معترضین کے اس نکاح کے بارے میں اعتراضات :۔ اس جملے میں دشمنان اسلام کے اس طعن کی تردید ہے کہ محمد ﷺ نے اپنے بیٹے کی مطلقہ بیوی یعنی اپنی بہو سے نکاح کرلیا ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ زید کے باپ ہیں ہی نہیں اور ایک زید ہی کیا کسی بھی مرد کے باپ نہیں۔ یعنی ان کی کوئی اولاد ایسی نہیں جو جوان ہو اور مرد کہلائے جانے کے قابل ہو۔ واضح رہے کہ رسول اللہ کے دو بیٹے قاسم اور طیب (جنہیں طاہر بھی کہا جاتا ہے) فوت ہوچکے تھے اور ابراہیم ابھی پیدا ہی نہ ہوئے تھے۔ ان کے علاوہ حسن اور حسین آپ کے نواسے تھے۔ جنہیں آپ نے اپنا بیٹا بھی فرمایا مگر ایک تو وہ حقیقی بیٹے نہ تھے۔ دوسرے وہ بھی کمسن تھے جنہیں مرد نہیں کہا جاسکتا۔
65 ہنگامہ بپا کرنے والوں کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ اگر زید کی مطلقہ بیوی سے آپ کا نکاح جائز بھی تھا تو کیا یہ ضروری تھا کہ آپ اس سے نکاح کرتے۔ یہ بات ویسے بھی کہی جاسکتی تھی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ انھیں تو وہ کام بہرحال کرنا ہوتا ہے جو اللہ کا حکم ہو اور اللہ کا حکم یہی ہے کہ اس بری رسم کی اصلاح کا آغاز نبی کی ذات سے کیا جائے۔
66 ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس کا یہی مطلب ہے کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی رسول تو کیا کوئی نبی بھی آنے والا نہیں۔ لہذا آپ کے بعد اس برے دستور کی اصلاح ممکن ہی نہ تھی۔ لہذا ضروری تھا کہ آپ خود اپنے منہ بولے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرتے تاکہ دوسرے مسلمانوں کے لئے یہ راستہ ہموار ہوجائے اور انھیں ایسا کرنے میں کوئی پریشانی لاحق نہ ہو۔ تاہم یہ جملہ ایک ٹھوس حقیقت پر مبنی ہے جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے :
(1) عامر الشعبی کہتے ہیں کہ رسول اللہ کا کوئی بیٹا زندہ نہ رہا تاکہ اس آیت کا مضمون صادق آجائے کہ آپ کسی کے باپ نہیں۔ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر)
(2) آپ خاتم النبییّن ہیں :۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : میری اور اگلے پیغمبروں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک گھر بنایا۔ اس کو خوب آراستہ پیراستہ کیا۔ مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ لوگ اس میں آتے جاتے اور تعجب کرتے ہیں کہ اس اینٹ کی جگہ کیوں چھوڑ دی۔ وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبییّن ہوں ۔ بخاری۔ کتاب المناقب۔ باب خاتم النبیّین )
(3) سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : بنی اسرائیل پر نبی حکومت کیا کرتے جب ایک نبی فوت ہوجاتا تو اس کی جگہ دوسرا نبی ہوتا۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ البتہ میرے بعد کثرت سے خلفاء پیدا ہوں گے (بخاری۔ کتاب الانبیاء۔ باب ما ذکر عن بنی اسرائیل) (مسلم۔ کتاب الامارۃ۔ باب الامر بالوفاء ببیعۃ الخلفائ)
(4) سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ : آپ نے فرمایا : قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک دو گروہ آپس میں نہ لڑیں۔ دونوں میں بڑی جنگ ہوگی اور دونوں کا دعویٰ ایک ہوگا اور قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تیس کے قریب چھوٹے دجال ظاہر نہ ہو یعنی ان میں سے ہر ایک یہی کہے گا کہ میں اللہ کا رسول ہوں (بخاری۔ کتاب المناقب۔ باب علامات النبوت فی الاسلام)
(5) اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب :۔ سیدنا ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ آپ کے زمانہ میں مسیلمہ کذاب مدینہ آیا اور کہنے لگا : اگر محمد اپنے بعد مجھے اپنا جانشین بنائیں تو میں ان کی تابعداری کرتا ہوں اور مسیلمہ کذاب اپنے ساتھ بہت سے لوگوں کو بھی لایا تھا۔ آپ اس کے پاس چلے گئے اور آپ کے ساتھ ثابت بن قیس (بن شماس۔ خطیب انصار) بھی تھے۔ اس وقت آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی۔ آپ نے مسیلمہ سے مخاطب ہو کر فرمایا : اگر تم محمد سے یہ چھڑی بھی مانگو تو میں نہیں دوں گا۔ (جانشینی تو دور کی بات ہے) اور اللہ نے جو کچھ تیری تقدیر میں لکھ دیا ہے تو اس سے بچ نہیں سکتا۔ اور تو اسلام نہ لائے گا اور اللہ تجھے تباہ کردے گا۔ اور میں تو سمجھتا ہوں کہ تو وہی دشمن ہے جس کا حال مجھے اللہ تعالیٰ (خواب میں) دکھا چکا ہے۔ اور یہ ثابت بن قیس میری طرف سے تمہیں جواب دے گا یہ کہہ کر آپ واپس چلے گئے۔ سیدنا ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ ؓ سے آپ کے ارشاد کا مطلب پوچھا تو ابوہریرہ ؓ نے مجھے بتایا کہ آپ نے فرمایا : ایک دفعہ میں سویا ہوا تھا میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن ہیں۔ تو میں بہت پریشان ہوگیا۔ خواب ہی میں مجھے حکم دیا گیا کہ ان پر پھونک مارو میں نے پھونک ماری تو وہ دونوں اڑ گئے۔ میں نے اس کی یہ تعبیر سمجھی کہ میرے بعد دو جھوٹے شخص پیغمبری کا دعویٰ کریں گے ان میں سے ایک اسود عنسی ہے اور دوسرا مسیلمہ کذاب۔ (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب وفد بنی حنیفۃ۔۔ )
(6) سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : تم سے پہلے اگلی امتوں میں ایسے لوگ گزرے ہیں جن کو اللہ کی طرف سے الہام ہوتا تھا۔ اگر میری امت سے کوئی ایسا ہو تو وہ عمر بن خطاب ہوتے (حوالہ ایضاً )
اور قیامت کے قریب سیدنا عیسیٰ کا نزول ہوگا تو وہ یہاں رسول اللہ کے امتی بن کر رہیں گے۔ اور آپ ہی کی شریعت کی اتباع کریں گے علاوہ ازیں نبی ہونے کی حیثیت سے بھی ان کا شمار رسول اللہ سے پہلے کے انبیاء میں ہے۔ وہ کوئی نیا دعویٰ نہیں کریں گے۔
ختم نبوت اور آپ کے بعد وحی کے انقطاع کا مسئلہ ایسا مسئلہ ہے جس پر تمام امت کا اجماع ہوچکا ہے۔ اس آیت، ان صریح احادیث صحیحہ اور اجماع کے علی الرغم قادیان ضلع گورداسپور میں ایک شخص مرزا غلام احمد نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ ہم یہاں مختصراً اس کے اس دعویٰ کا جائزہ لینا چاہتے ہیں :
(1) مرزا صاحب پہلے خود بھی ختم نبوت کے قائل اور نبوت کا دعویٰ کرنے والے کو کافر سمجھتے تھے۔ چناچہ حمامۃ البشریٰ میں لکھتے ہیں کہ بھلا نبی کریم کے بعد نبی آئے تو کیسے آئے جبکہ آپ کی وفات کے بعد وحی بند ہوچکی ہے اور اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم کے ساتھ نبیوں کو ختم کردیا ہے (حمامۃ البشرٰی 20) پھر اسی کتاب کے صفحہ 79 پر لکھتے ہیں کہ مجھے یہ بات زیبا نہیں کہ میں نبوت کا دعویٰ کرکے اسلام سے خارج ہوجاؤں اور کافروں میں جاملوں اس وقت تک آپ کا صرف مجدد ہونے کا دعویٰ تھا۔
(2) مرزا قادیانی کی نبوت کے تدریجی مراحل :۔ پھر اس کے بعد آپ مثیل مسیح بنے۔ پھر مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کردیا۔ اسی بنا پر آپ نے رفع عیسیٰ کا انکار کردیا بلکہ بذریعہ کشف والہام کشمیر میں آپ کی قبر کی نشاندہی بھی فرما دی اور اعلان فرمایا کہ :
ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے
پھر اس کے بعد آپ نے کھل کر اپنی نبوت کا دعویٰ کردیا اور یہ بھی کہ مجھ پر وحی آتی ہے اور میں اللہ سے ہم کلام ہوتا ہوں۔ پھر جب آپ ہی کی تحریروں کے مطابق علماء نے آپ پر گرفت کی تو آپ نے جواب میں فرمایا کہ میں کوئی مستقل نبی نہیں نہ ہی کوئی صاحب شریعت رسول ہوں بلکہ آپ کی اطاعت ہی کی وجہ سے نبی ہوا ہوں اور آپ ہی کا ظل اور بروز (یعنی سایہ یا عکس) ہوں آپ کی اسی ظلی اور بروزی کی اصطلاح پر مولانا ظفر علی خان ایڈیٹر روزنامہ زمیندار نے ایک بار یوں تبصرہ کیا تھا :
بروزی ہے نبوت قادیان کی برازی ہے خلافت قادیان کی
گویا آپ بتدریج نبی بنے تھے، پہلے مجددیت کے مدعی تھی پھر مثیل مسیح کے، پھر مسیح موعود کے پھر جب کچھ کام چلتا دیکھا تو نبوت کا دعویٰ کردیا اور قادیان کی سرزمین کو حرام قرار دیتے ہوئے فرمایا :
زمین قادیان ارض حرم ہے ہجوم خلق سے اب محترم ہے
اگر غور کیا جائے تو آپ کی تدریجی نبوت ہی آپ کے نبوت کے دعویٰ کے ابطال کے لئے بہت کافی ہے کیونکہ تمام تر سلسلہ انبیاء میں سے کوئی نبی اس طرح بتدریج نبی نہیں بنایا گیا تاہم آپ کی پیش کردہ توجیہات کا بھی ہم جائزہ لینا چاہتے ہیں۔
(3) ظلی اور بروزی نبی کی اصطلاح : آپ کی پہلی توجیہ یہ ہے کہ آپ کو رسول اللہ کی اطاعت کرتے کرتے یہ درجہ ظلی نبوت حاصل ہوا۔ گویا آپ کے نظریہ کے مطابق نبوت وہبی نہیں بلکہ کسبی چیز ہے اس نظریہ کی قرآن نے (وَاللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہ، ) کہہ کر بھرپور تردید کی ہے۔ علاوہ ازیں اگر نبوت کسبی چیز ہوتی اور آپ کی اتباع کامل کی وجہ سے حاصل ہوسکتی ہے تو اس کے سب سے زیادہ حقدار صحابہ کرام تھے۔ بالخصوص سیدنا عمر جن کے متعلق صراحت سے احادیث مبارکہ میں آیا ہے ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتے۔ اور ظل اور بروز کا نظریہ تو کئی لحاظ سے آپ کی نبوت کا ابطال کرتا ہے۔ مثلاً
(4) رسول اللہ شاعر نہیں تھے۔ آپ کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ شاعری آپ کے شایان شان بھی نہیں۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے سورة یسین کی آیت نمبر 69 اور اس کا حاشیہ) جبکہ مرزا صاحب شاعر تھے۔ آپ نے اردو، عربی، فارسی میں بہت سے اشعار اور قصیدے لکھے حتیٰ کہ ایک بہت بڑی کتاب بطور کلیات مرزا صاحب مسمی بہ درثمین تصنیف اور شائع کی ہے۔ اگر آپ رسول اللہ کے کا ظل اور بروز ہیں تو آپ تو شاعر نہیں تھے۔ یہ عکس میں شاعری کہاں سے آگئی ؟ مطلب واضح ہے کہ مرزا صاحب رسول اللہ کا عکس نہیں۔
(5) آپ کی تضاد بیانی کا یہ حال ہے کہ ایک وقت آپ دعویٰ نبوت کو کفر سمجھتے تھے پھر مثیل مسیح بنے، پھر مسیح موعود بنے، پھر نبوت کا دعویٰ کیا پھر یہ بھی دعویٰ کردیا کہ تمام انبیاء کی خوبیاں مجھ میں جمع اور موجود ہیں۔ چناچہ اس درثمین میں اردو زبان میں کہا کہ : میں کبھی عیسیٰ کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں۔۔ نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بےشمار
فارسی میں کہا :
انبیاء کرچہ بودہ اند بسے من بعرفان نہ کمترم زک سے۔۔ آنچہ داد ست ہر نبی را جام داد آں جام را مرابہ تمام
ترجمہ : اگر انبیاء بہت گزرے ہیں تاہم میں معرفت میں کسی سے کم نہیں ہوں۔ ان میں جس کسی کو کوئی جام معرفت دیا گیا وہ سب کے سب جام مجھے دیئے گئے ہیں۔
اپنی ذات سے متعلق ایسی تضاد بیانی کو رسول اللہ کا عکس کہا جاسکتا ہے ؟ یا سابقہ انبیاء میں سے کسی کو تدریجاً کبھی نبی بنایا گیا ہے ؟
(6) چھٹی بات آپ کے مخالفوں کے حق میں آپ کی بدزبانی ہے جنہیں آپ ولدالزنا اور ولد الحرام کہہ کر پکارا کرتے ہیں اور آئینہ کمالات اسلام میں فرمایا کہ ذُرِّیَّۃُ الْبَغَایَا (یعنی کنجریوں کی اولاد) کے علاوہ ہر مسلمان نے مجھے قبول کیا اور میری دعوت کی تصدیق کی بالفاظ دیگر جن مسلمانوں نے میری نبوت کی تصدیق نہیں کی وہ سب کنجریوں کی اولاد ہیں اور ایک بار اپنے مخالف پر لعنت بھیجنے کو جی چاہا تو ہزار بار لعنت کہنے یا لکھنے پر اکتفا نہ کیا بلکہ فی الواقع ہزار بار لعنت کا لفظ لکھ کر کتاب کے تین چار صفحے سیاہ کر ڈالے۔ کیا یہ بھی رسول اللہ کی اطاعت کا نمونہ اور ان کا عکس ہے ؟ کیا رسول اللہ سے اپنے مخالفوں کے حق میں ایسی غلیظ گالیاں ثابت کی جاسکتی ہیں ؟
(7) آپ کی نبوت کی تردید پر دلائل :۔ اور جب اپنی کسر نفسی پر آتے ہیں تو بھی غلیظ زبان استعمال کرتے اور حقائق کا منہ چڑاتے ہیں۔ درثمین ہی میں فرماتے ہیں :
کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں۔۔ ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار
یعنی اے میرے پیارے میں نہ تو مٹی کا کیڑا ہوں اور نہ آدم کی نسل سے ہوں۔ بلکہ میں بشر کی جائے نفرت ہوں جس سے سب لوگوں کو شرم آئے۔
اب آپ خود ہی فیصلہ فرما لیجئے کہ وہ بشر کی جائے نفرت کیا چیز ہوسکتی ہے۔ بس وہی چیز مرزا صاحب تھے۔ بایں ہمہ آپ کا دعویٰ یہ ہے آپ کا عکس ہیں۔ نیز آپ نہ مٹی سے پیدا ہوئے تھے نہ آدم کی نسل سے تھے۔ تو پھر کیا تھے ؟ سابقہ انبیاء تو سب آدم زاد ہی تھے۔
(8) قرآن اور احادیث میں جہاد فی سبیل اللہ اور بالخصوص قتال فی سبیل اللہ پر جس قدر زور دیا گیا ہے اور جتنے فضائل کتاب و سنت میں مذکور ہیں وہ سب کو معلوم ہیں۔ حتیٰ کہ رسول اللہ نے خود سترہ غزوات میں حصہ لیا۔ اور ساتھ ہی یہ فرما دیا کہ یہ جہاد تاقیامت جاری رہے گا۔ لیکن مرزا صاحب نے اس جہاد کی ممانعت کا یوں فتوی دیا کہ :
اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستوں خیال۔۔ دین کے لئے حرام ہے اب جنگ و قتال
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد۔۔ منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد
(درثمین ص 53) آخری مصرع میں نبی سے مراد غالباً مرزا صاحب خود ہیں۔ غور فرمائیے کہ ایسا شخص رسول اللہ کا عکس ہوسکتا ہے ؟ جبکہ رسول اللہ نے اپنی ذات کے متعلق فرمایا کہ : میں چاہتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں شہید ہوجاؤں، پھر زندہ ہوں پھر مارا جاؤں، پھر زندہ ہوں پھر مارا جاؤں (بخاری۔ کتاب التمنی۔ باب من تمنی الشہادۃ) پھر یہ بھی غور فرمایئے مرزا صاحب رسول اللہ کا عکس ہیں یا ان کی آرزو اور تعلیم کو ملیا میٹ کرنے پر تلے بیٹھے ہیں اور ان کی ضد ہیں۔
(9) جہاد بالسیف کی بھرپور مخالفت :۔ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے حکومت وقت کا ساتھ دیا ہو بلکہ نبی کا تو کام ہی یہ ہوتا ہے کہ بگڑے ہوئے معاشرہ کی اصلاح کرے اور سرکاری درباری حضرات، آسودہ حال طبقہ اور چودھری لوگ ہمیشہ انبیاء کے مخالف رہے ہیں۔ مگر یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا صاحب اور ان کی نبوت انگریز بہادر کے سایہ عاطفت میں پروان چڑھتی ہے۔ اور آپ بھی ہر وقت گورنمنٹ عالیہ کی تعریف میں رطب اللسان رہتے ہیں نیز وہ اپنی زبان سے اپنے آپ کو گورنمنٹ کا خود کا شتہ پودا ہونے کا اقرار فرماتے ہیں۔ اب دو ہی باتیں ممکن ہیں ایک یہ کہ انگریز کی حکومت کو صحیح اسلامی حکومت تسلیم کرلیا جائے۔ اس صورت میں مرزاصاحب کی نبوت کی ضرورت ہی ختم ہوجاتی ہے کیونکہ نبی ہمیشہ بگاڑ کی اصلاح کے لئے آتا ہے اور دوسری صورت یہی باقی رہ جاتی ہے کہ نبی اپنے دعویٰ نبوت میں جھوٹا ہو۔ اور یہی صورت حال مرزا صاحب کی نبوت پر صادق آتی ہے۔
آپ کا اپنے بارے میں انگریز کا خود کاشتہ پودا ہونے کا اعتراف :۔ ہوا یہ تھا کہ جب ہندوستان میں انگریز بہادر کی حکومت قائم ہوگئی تو ساتھ ہی زیر زمین جہاد کی تحریک شروع ہوگئی جس سے انگریز کو ہر وقت خطرہ لاحق رہتا تھا۔ اس نے اس کا حل یہ سوچا کہ مسلمانوں کی آپس میں پھوٹ ڈال دی جائے اور دوسرے جہاد کی روح کو حتی الامکان مسلمانوں کے اذہان سے خارج کردیا جائے۔ ان کاموں کے لئے اس کی نظر انتخاب مرزا غلام احمد قادیانی پر پڑی۔ مرزا صاحب نے انگریز بہادر کے دونوں کام سرانجام دیئے۔ جہاد بالسیف کی جی بھر کر مخالفت کی اور اپنے پیروکاروں کے علاوہ باقی سب مسلمانوں پر کفر کا فتویٰ بھی لگا دیا۔ جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ مرزائی مسلمانوں کا جنازہ تک نہیں پڑھتے۔ قائداعظم کی نماز جنازہ کے وقت سرظفر اللہ خاں پرے ہی کھڑے رہے مگر نماز جنازہ میں شریک نہ ہوئے۔ اور انگریز نے مرزا صاحب کے ان احسانات کا بدلہ یہ دیا کہ ان کی نبوت اور ان کی امت کو پورا پورا تحفظ دیا اور انھیں زیادہ سے زیادہ ملازمتیں دے کر انھیں حکومت میں آگے لے آیا۔ یہی وجہ ہے کہ مرزائی اقلیت میں ہونے کے باوجود حکومت کے بڑے بڑے عہدوں پر براجمان ہیں۔ علاوہ ازیں ان حضرات کو ہر طرح مراعات بھی دی جاتی ہیں۔
(10) محمدی بیگم سے نکاح کی پیشگوئی کا حشر :۔ آپ کی نبوت کے ابطال پر دسویں دلیل آپ کی جھوٹی پیشین گوئیاں ہیں۔ آپ محمدی بیگم سے نکاح کرنا چاہتے تھے۔ تو آپ نے مشہور کردیا کہ مجھے بذریعہ وحی معلوم ہوا ہے کہ میرا محمدی بیگم سے آسمانوں پر نکاح ہوا ہے۔ محمدی بیگم کے اولیاء سے جو مرزا صاحب کی اپنی برادری کے لوگ تھے، مرزا صاحب نے درخواست کی تو انہوں نے رشتہ دینے سے انکار کردیا۔ جس پر آپ اپنی وحی کی بنا پر کئی طرح کی دھمکیاں اور وعیدیں محمدی بیگم کے اولیاء کو سناتے رہے۔ لیکن ان لوگوں پر مرزا صاحب کی دھمکیوں کا خاک بھی اثر نہ ہوا۔ اور نہ ہی ان دھمکیوں کے مطابق انھیں کچھ نقصان پہنچا۔ انہوں نے محمدی بیگم کو کسی دوسری جگہ بیاہ دیا۔ جہاں اسکے ہاں اولاد بھی ہوئی اور سکھ چین سے زندگی بسر کرتی رہی اور مرزا صاحب اس سے شادی کی حسرت دل میں لئے اگلے جہاں کو سدھار گئے۔ اور آسمانوں کا نکاح آسمانوں پر ہی رہ گیا زمین پر نہ ہوسکا۔ بعد میں آپ کے متبعین نے مرزا صاحب کے الہامات اور وحیوں کی یہ تاویل فرمائی کہ کسی دور میں مرزا صاحب کی اولاد در اولاد میں سے کسی لڑکے کا محمدی بیگم کی اولاد در اولاد میں سے کسی لڑکی سے نکاح ضرور ہوگا۔ ایسی اندھی عقیدت بھی قابل ملاحظہ ہے۔
(11) مولانا ثناء اللہ امرتسری سے مباہلہ اور مرزا صاحب کی وفات :۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری کے مرزا صاحب سخت دشمن تھے۔ کیونکہ وہ بھی ہاتھ دھو کر مرزا صاحب کے پیچھے پڑے ہوئے تھے۔ آخر مرزا صاحب نے مولوی ثناء اللہ کو 15۔ اپریل 1907 ء کو ایک طویل خط لکھا جس کا ماحصل یہ تھا کہ اے اللہ ! اگر میں جھوٹا اور مفتری ہوں تو میں ثناء اللہ کی زندگی میں ہلاک ہوجاؤں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ کذاب اور مفتری کی لمبی عمر نہیں ہوتی۔ اور اگر ثناء اللہ جھوٹا ہے تو اسے میری زندگی میں نابود کر مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون اور ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے اور ساتھ ہی مرزا صاحب نے یہ استدعا بھی کی کہ میرے اس خط کو من و عن اپنے اخبار میں شائع کردیا جائے۔ چناچہ مولوی ثناء اللہ امرتسری نے مرزا صاحب کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے اس طویل خط کو اپنے ہفت روزہ اہلحدیث کی 25 مئی 1907 ء کی اشاعت میں شائع کردیا۔
اس خط کا انداز بیان اگرچہ دعائیہ تھا تاہم مرزا صاحب نے بذریعہ الہام اس بات کی توثیق فرما دی کہ ان کی دعا قبول ہوگئی اور یہ الہام البدر قادیان 25 اپریل 1907 ء میں شائع ہوا۔ اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مرزا صاحب اس سے تیرہ ماہ بعد 26 مئی 1908 ء کو بعارضہ ہیضہ بمقام لاہور انتقال کر گئے اور مولانا ثناء اللہ امرتسری صاحب اللہ کے فضل سے مارچ 1948 ء تک یعنی مرزا صاحب کی وفات سے چالیس سال بعد تک زندہ رہے۔
مرزا صاحب کے انتقال کے بعد جب یہ شور اٹھا کہ مرزا صاحب اپنے دعوائے نبوت میں جھوٹے ثابت ہوئے تو اتباع مرزا نے اس شرط کو بدل دینا چاہا کہ شرط دراصل یہ تھی کہ جو جھوٹا ہوگا وہ زندہ رہے گا اور مباحثہ کرنا چاہا اور خود ہی یہ صورت پیش کی کہ فیصلہ کے لئے ایک غیر مسلم ثالث ہوگا اور ہم اگر ہار جائیں تو مولوی ثناء اللہ امرتسری صاحب کو تین سو روپے (یعنی آج کے لحاظ سے کم از کم تیس ہزار روپے) دیں گے۔ ورنہ مولوی ثناء اللہ ہمیں اتنی ہی رقم دے۔ اس اعلان کے مطابق اپریل 1912 ء میں بمقام لودھیانہ مباحثہ ہوا جس میں ثالت سردار بچن سنگھ جی پلیڈر لودھیانہ مقرر ہوئے۔ اس مباحثہ میں ثالث نے مولانا ثناء اللہ کے حق میں فیصلہ دیا اور انعام یا شرط کی مجوزہ رقم آپ کو مل گئی۔ یہ تھی مرزا صاحب کی ذات گرامی جو اپنے آپ کو رسول اللہ کا ظل اور بروز ہونے کی مدعی تھی۔
اور جو حکومت پاکستان نے 1974 ء میں قومی اسمبلی میں کثرت رائے کی بنا پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا تھا تو اس کی وجہ ان صریح احادیث کا انکار ہے جو ہم ابتدا میں درج کر آئے ہیں بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص رسول اللہ کی رسالت پر ایمان بھی لائے پھر ان کی بات بھی نہ مانے بلکہ آپ کے ارشادات کے علی الرغم نہ صرف ان احادیث کا انکار کرے بلکہ اپنی نبوت و رسالت کا بھی دعویٰ کرے۔
خ حکومت پاکستان کا مرزائیوں کو کافر قرار دینا :۔ مرزائی حضرات مرزا صاحب کی نبوت کی صداقت پر عموما سورة الحاقہ کی آیات نمبر 44 تا 46 پیش کیا کرتے ہیں کہ اگر یہ رسول (یعنی محمد ﷺ اپنے پاس سے کوئی بات گھڑ کر ہمارے ذمہ لگا دے تو ہم اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کی رگ جان کاٹ دیں اور وجہ استدلال یہ بیان کی جاتی ہے کہ نبی کا زمانہ نبوت 23 سال ہے اور مرزا صاحب تو اس مدت سے زیادہ زندہ رہے اگر انہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا تھا تو اللہ کی طرف سے ایسی کوئی سزا ضرور ملنا چاہئے تھی اور جب ایسی سزا نہیں ملی تو معلوم ہوا کہ آپ اپنے دعویٰ نبوت میں سچے تھے۔ اس کا تفصیلی جواب تو ہم سورة الحاقہ میں ہی دیں گے۔ مختصراً یہ کہ اگر ایسا افترا کوئی نبی لگائے تو اسے تو یقینا ایسی سزا بھی ملے گی۔ لیکن کوئی عام شخص اللہ پر جھوٹ باندھے تو یہ سزا نہیں ملتی جیسے ایک گورنر اپنی طرف سے کوئی فرمان جاری کرکے اسے صدر مملکت کے ذمہ لگائے تو اس سے ضرور مواخذہ ہوگا۔ لیکن ایک خاکروب یا کوئی عام آدمی صدر کے خلاف جو جی چاہے بکتا رہے۔ اسے کوئی پوچھتا ہی نہیں۔ مرزا صاحب کو ایسی سزا نہ ملنے سے تو الٹا آپ کی نبوت کی تردید ہوجاتی ہے۔
خ قادیانیوں کی طرف سے آپ کی نبوت پر دلائل اور ان کا جواب :۔ مرزائی حضرات نبوت کے اجراء کے لئے ایک عقلی دلیل بھی دیا کرتے ہیں۔ کہ نبوت اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ جس کے لوگ ہر وقت محتاج ہیں۔ بالخصوص آج کے دور انحطاط میں تو ایسی رحمت کی اشد ضرورت ہے۔ لہذا خاتم کے معنی مہر تصدیق ہونا چاہیں۔ یعنی اس نبی کی نبوت درست ہوگی جو رسول اللہ کی تصدیق کرتا ہو اور آپ کی شریعت کا متبع ہو۔ اس دلیل کے جوابات درج ذیل ہیں :
1۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ 40 ) 33 ۔ الأحزاب :40) اور ساتھ ہی فرما دیا کہ : (وَكَان اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِــيْمًا 40 ) 33 ۔ الأحزاب :40) یعنی اللہ تعالیٰ اس بات کو بھی خوب جانتا ہے کہ آئندہ تاقیامت کسی نبی کو بھیجنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔
2۔ یہ دلیل جو کچھ بھی ہے بہرحال ایک عقلی دلیل ہے۔ اور نص کے مقابلہ میں قیاس یا عقل کے گھوڑے دوڑانا حرام ہے۔
3۔ ان حضرات کا دعوائے ضرورت اس لحاظ سے بھی غلط ہے کہ رسول اللہ نے واشگاف الفاظ میں بتادیا کہ میری امت میں سے ایک فرقہ تاقیامت حق پر قائم رہے گا صحابہ نے عرض کیا : یارسول اللہ ! وہ کون سا گروہ ہوگا۔ آپ نے فرمایا : جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں (ترمذی۔ کتاب الایمان۔ باب الافتراق ھذہ الامۃ)
گویا آج صرف دیکھنے کا کام یہ ہے کہ وہ کون سا فرقہ یا گروہ ہے جو صرف کتاب و سنت سے رہنمائی لیتا ہے۔ اس میں کچھ کمی بیشی نہیں کرتا نہ کتاب و سنت کے مقابلہ میں کسی دوسری شخصیت کا قول یا فتویٰ قبول کرتا ہے اور نہ ہی دین میں کوئی نئی بات، خواہ عقیدہ سے تعلق رکھتی ہو یا عمل سے، شامل کرتا ہے۔ اور ایسے گروہ کی موجودگی کسی نئے نبی کی آمد کی ضرورت کو ختم کردیتی ہے۔ اور ایسا فرقہ چونکہ تاقیامت باقی رہے گا لہذا تاقیامت کسی نبی کی ضرورت باقی نہ رہی۔
خنئے نبی کی ضرورت کس صورت میں ہوتی ہے :۔ علاوہ ازیں انبیاء کی بعثت کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ سابقہ قومیں یا امتیں کتاب اللہ میں تحریف کر ڈالتی ہیں یا ان میں علمائے امت کے اقوال اور الحاقی مضامین شامل کرکے کتاب اللہ کو گڈ مڈ کردیتی ہیں نبی کا کام یہ ہوتا ہے کہ جو سچی الہامی تعلیم ہوتی ہے اس کی نشاندہی کرتا اور اس کے متعلق دو ٹوک فیصلہ دیتا ہے۔ لیکن امت مسلمہ میں یہ صورت بھی نہیں ان کے پاس کتاب اللہ اسی صورت میں موجود اور محفوظ ہے جس صورت میں آپ پر نازل ہوئی تھی۔ پھر کتاب اللہ کے علاوہ اس کی تشریح و تفسیر بھی، جسے حدیث یا سنت کہا جاتا ہے، امت کے پاس موجود اور محفوظ ہے۔ تو پھر آخر کسی نئے نبی کی ضرورت بھی کیا تھی ؟ کیا یہی کہ وہ کتاب اللہ پر ایمان رکھنے والوں میں انتشار ڈال دے اور باقی سب مسلمانوں پر کفر کے فتوے صادر کرنے لگے ؟
67 یعنی وہ ان لوگوں کے اعمال سے خوب واقف ہے جنہوں نے اودھم مچا رکھا ہے۔ اور وہ اپنے احکام کی مصلحتوں کو بھی خوب جانتا ہے۔
Ayah 33:4268 یعنی جب تمہیں پریشانیوں کا اور اعدائے اسلام کے طعن وتشنیع کا سامنا کرنا پڑے تو ایسے اوقات میں اللہ کو بکثرت یاد کیا کرو اور صبح و شام کی نمازوں کے علاوہ بالخصوص ان اوقات میں اللہ کی تسبیح و تہلیل بھی کیا کرو۔ اس طرح تمہارے اندر ایسی پریشانیوں سے عہدہ برآ ہونے کی صلاحیت پیدا ہوگی۔ اور دلوں کو اطمینان نصیب ہوگا۔
Ayah 33:4369 صحابہ کرام ؓ پر صلوٰۃ وسلام :۔ یصلی کا صلہ علیٰ اور اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کا معنی اللہ کا بندے پر اپنی مہربانی اور رحمت نازل کرنا ہوتا ہے اور اگر یہ نسبت فرشتوں کی طرف ہو تو دعائے رحمت کرنا اور اگر بندے کی طرف ہو تو اس کے معنی دعائے رحمت بھی، دعائے جنازہ بھی اور نماز جنازہ بھی اور درود پڑھنا اور بھیجنا بھی ہوتا ہے۔ اسی سورة کی آیت نمبر 56 میں مذکور ہے کہ اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر رحمت اور دعائے رحمت بھیجتے ہیں اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کے صحابہ کرام ؓ اور پیروکاروں کو بھی اس فضل و رحمت میں شریک فرمایا۔
70 یعنی اللہ تعالیٰ کو بکثرت یاد کرنے کے نتیجہ میں اللہ تم پر اپنی رحمت فرماتا ہے اور یہ رحمت فرشتوں کے توسط سے نازل ہوتی ہے اور یہ اللہ کی رحمت ہی کا نتیجہ ہے کہ تمہیں کفر کی جہالتوں سے چھٹکارا حاصل ہوا اور علم اور ایمان کی روشنی اور دولت نصیب ہوئی اور اس میں ہر آن اضافہ بھی ہوتا رہتا ہے۔
Ayah 33:4471 اس سلام کی بھی تین صورتیں ہیں اور تینوں ہی قرآن کی بعض دوسری آیات سے ثابت ہیں ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ خود انھیں سلام کہے گا، دوسرے یہ کہ فرشتے انھیں سلام کہیں گے اور تیسرے یہ کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو سلام کہیں گے۔
Ayah 33:4572 نبی کی شہادت کی تین صورتیں :۔ وہ گواہی یہ ہے کہ اس کائنات کا خالق ومالک اور معبود برحق صرف ایک اللہ ہے دوسرا کوئی اس الوہیت اور حاکمیت میں شریک نہیں۔ اور نبی کی یہ گواہی تین طرح سے ہوتی ہے ایک یہ کہ نظام کائنات کے مطالعہ سے وہ خود اس نتیجہ پر پہنچتا ہے اور بعض انبیاء کو ملکوت السمٰوات والارض دکھائی اور اس کی سیر بھی کرائی جاتی ہے تاکہ جس شہادت کے وہ داعی بننے والے ہیں اس کا انھیں عین الیقین حاصل ہو۔ دوسری گواہی ان کی دعوت پر سب سے پہلے ان کا اپنا عمل ہوتا ہے۔ یعنی ان کی عملی زندگی اس بات پر گواہ ہوتی ہے کہ نبی جو شہادت دے رہا ہے وہ درست اور برحق ہے۔ اور تیسری شہادت وہ قیامت کے دن اپنی امت کے حق میں اور منکروں کے خلاف دیں گے۔
73 یعنی ایمان لانے والوں کو یہ بشارت دیتا ہے کہ ان سے مصائب کے بادل چھٹ جانے والے ہیں اور عنقریب اللہ تعالیٰ مومنوں کو اپنی فتح و نصرت سے سرفراز فرمائے گا اور مرنے کے بعد انھیں جنت اور اس کی نعمتیں میسر آنے والی ہیں۔ اسی طرح وہ دعوت حق کے مخالفین کو دنیا میں بھی ان کے برے انجام اور ذلت و خواری سے ڈراتا ہے اور آخرت میں جہنم کے عذاب سے بھی۔ اور یہ بشارت اور وعید وہ اپنی طرف سے نہیں دے رہا بلکہ وہ ہماری طرف سے اس بات پر مامور ہے۔
Ayah 33:4674 اس مادی دنیا یا کائنات میں اللہ تعالیٰ نے سورج کو سراج (چراغ) کا نام دیا ( سورة نوح : 16) جس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ چاند اور ستارے بالواسطہ اسی سورج سے روشنی حاصل کرتے ہیں اور روحانی دنیا میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو سراج منیر (چمکتا ہوا چراغ) کا لقب عطا فرمایا۔ گویا نبوت کے آفتاب آپ ہیں آپ کے طلوع ہونے کے بعد اب کسی دوسری روشنی کی ضرورت نہیں رہی۔ اب ہر انسان کو اپنے ہر شعبہ زندگی کے لئے ہدایت اسی آفتاب نبوت و ہدایت سے حاصل کرنا ہوگی۔
Ayah 33:4775 مومنوں پر اللہ کا بہت بڑا فضل کیا ہے ؟ اور امت مسلمہ کی فضیلت :۔ مومنوں پر اللہ کا فضل کبیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آفتاب نبوت کو ان لوگوں میں مبعوث فرمایا اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کو سب انبیاء سے افضل بنایا اسی طرح آپ کی امت کو دوسری امتوں پر فضیلت اور بزرگی عطا فرمائی۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے :
1۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : گذشتہ قوموں (یہود و نصاری) کے مقابلہ میں تمہارا رہنا ایسا ہے جیسے عصر سے سورج غروب ہونے کا وقت۔ اہل تورات کو تورات دی گئی انہوں نے (صبح سے) دوپہر تک مزدوری کی پھر تھک گئے تو انھیں ایک ایک قیراط ملا۔ اہل انجیل کو انجیل دی گئی انہوں نے (دوپہر سے) عصر کی نماز تک مزدوری کی پھر تھک گئے۔ انھیں بھی ایک قیراط ملا۔ پھر ہم مسلمانوں کو قرآن دیا گیا ہم نے سورج غروب ہونے تک مزدوری کی (اور کام پورا کردیا) تو ہمیں دو قیراط دیئے گئے۔ اب اہل کتاب کہنے لگے : پروردگار ! تو نے انھیں دو قیراط دیئے اور ہمیں ایک ایک حالانکہ ہم نے ان سے زیادہ کام کیا ہے ؟ اللہ عزوجل نے انھیں جواب دیا : میں نے تمہاری مزدوری سے (جو تم سے طے کی تھی) کچھ دبایا تو نہیں ؟ وہ کہنے لگے : نہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : پھر یہ میرا فضل ہے جسے جو کچھ چاہوں دوں (بخاری۔ کتاب مواقیت الصلوٰۃ۔ باب من ادرک رکعۃ من العصر)
2۔ سیدنا حذیفہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : کہ ہمیں دوسری امتوں پر تین باتوں میں فضیلت ملی۔ ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح کی گئیں اور ہمارے لئے ساری زمین نماز کی جگہ ہے اور زمین کی خاک ہمیں پاک کرنے والی ہے جب پانی نہ ملے۔ ایک بات اور بیان کی (مسلم۔ کتاب المساجدو مواضع الصلوۃ )
Ayah 33:4876 یعنی جن لوگوں نے طعن وتشنیع سے یہ طوفان بدتمیزی اٹھا رکھا ہے ان کی نہ پروا کیجئے اور نہ ان سے بدلہ لینے کی فکر کیجئے۔ ورنہ یہ لوگ آپ کی منزل کھوٹی کردیں گے۔ آپ پوری توجہ سے اپنا کام کرتے جائیے اور انھیں خائب و خاسر بنانے کے لئے آپ کی طرف سے اللہ ہی کافی ہے۔
Ayah 33:4977 طلاق دینے والے کو ہدایات :۔ اس آیت میں چند امور قابل ذکر ہیں۔ پہلا یہ کہ اگرچہ آیت میں مومن عورتوں سے نکاح کا ذکر ہے۔ تاہم اگر نکاح کتابیہ عورت سے ہو تو وہ بھی اسی حکم میں داخل ہوگا۔ دوسرا یہ کہ صحبت سے پیشتر طلاق دینے سے بھی نصف حق مہر ادا کرنا واجب ہے۔ بشرطیکہ حق مہر طے ہوچکا ہو۔ (2: 237) تیسرا یہ کہ اگر حق مہر مقرر ہی نہ کیا گیا ہو تو پھر کچھ نہیں دینا ہوگا۔ البتہ دونوں صورتوں میں عورت کو کچھ نہ کچھ دے دلا کر رخصت کرنا چاہئے۔ اور اس کچھ نہ کچھ کی مقدار طلاق دینے والے کی مالی حیثیت کے لحاظ سے ہوگی۔ چوتھا یہ کہ اگر عورت کو طلاق ہی دینا ہے تو پھر اس پر کوئی الزام نہ لگانا چاہئے۔ نہ ہی اسے بدنام کرکے گھر سے نکالنا چاہئے جو اس کی آئندہ زندگی پر ناخوشگوار اثر ڈالے۔ بھلے طریقہ سے رخصت کرنے کا یہی مطلب ہے اور پانچواں اور سب سے اہم امر یہ ہے کہ عدت کے دوران بھی مطلقہ عورت اپنے خاوند کی بیوی ہی رہتی ہے۔ اور یہ مرد کا عورت پر حق ہے۔ اس دوران مرد رجوع کا حق بھی رکھتا ہے اور اس میں زبردستی بھی کرسکتا ہے۔ علاوہ ازیں اگر اس دوران حمل معلوم ہوجائے۔ تو بچہ بھی طلاق دینے والے مرد کا ہوگا۔ اور وہ اس کا وارث بھی ہوگا۔ صحبت سے پہلے طلاق دینے میں چونکہ حمل وغیرہ کا احتمال ہی نہیں ہوتا لہذا غیر مدخولہ عورت پر کوئی عدت نہیں۔ وہ اگر چاہے تو طلاق کے فوراً بعد نکاح کرسکتی ہے۔
ہمارے ہاں عموماً یہ رواج ہے کہ نکاح کے ساتھ ہی رخصتی ہوجاتی ہے اور اسے شادی کہتے ہیں۔ تاہم یہ رواج پایا جاتا ہے کہ پہلے نکاح ہوجاتا ہے مثلاً بچپن میں والدین نے نکاح کردیا اور رخصتی یا شادی کچھ مدت کے بعد یا زوجین کے جوان ہونے کے بعد ہوتی ہے۔ اس آیت میں مذکورہ صورت کا احتمال دوسری شکل میں ہی پایا جاتا ہے اور عرب میں یہ عام رواج تھا کہ نکاح پہلے ہوجاتا تھا اور رخصتی بعد میں ہوتی تھی۔
احناف نے خلوت صحیحہ کو بھی صحبت ہی کے مترادف قرار دیا ہے اور یہ ایسی بات ہے جس کی دلیل یا مثال کتاب و سنت میں نہیں ملتی۔
Ayah 33:5078 آپ کو چار سے زائد بیویوں کی خصوصی اجازت اور اس کی وجہ :۔ یہ دراصل ایک اعتراض کا جواب ہے۔ سیدنا زینب بنت جحش جن سے آپ نے اللہ کے حکم سے نکاح کیا تھا یا جن کا نکاح سات آسمانوں پر ہوا تھا آپ کی پانچویں بیوی تھیں۔ اس سے پہلے چار بیویاں سیدہ عائشہ ؓ بنت ابی بکر سیدہ سودہ بنت زمعۃ ؓ سیدہ حفصہ ؓ بنت عمر اور سیدہ ام سلمہ ؓ موجود تھیں۔ اور عام مومنوں کے لئے چار بیویوں سے زائد کا جواز نہیں تھا۔ اس آیت کی رو سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس عام قاعدہ سے مستثنیٰ کردیا۔ یہ اعتراض کافروں کی طرف سے تو یقینا تھا تاہم مسلمانوں کو بھی اس کا خیال آسکتا تھا۔ لہذا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ وضاحت فرما دی کہ عام مومنوں کے لئے چار تک بیویوں کے جواز کا قانون بھی ہمارا ہی قانون ہے۔ اور نبی سے ہم جو کچھ کام لینا چاہتے ہیں اور جو ذمہ داریاں اس پر عائد ہوتی ہیں اس کی بنا پر ہم ہی نبی کے لئے اس عام قانون میں استثناء کرنے والے ہیں۔ نیز اس آیت کی رو سے اللہ نے آپ کو مزید بھی تین قسم کی عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت فرما دی۔ پہلی قسم وہ عورتیں جو مال غنیمت کے طور پر آپ کی ملکیت میں آئیں۔ دوسری آپ کے چچاؤں، پھوپھیوں، ماموؤں اور خالاؤں کی بیٹیاں جو ہجرت کرکے مدینہ آچکی ہوں۔ اور سیدہ زینب بنت جحش ایسی ہی تھیں۔ تیسری قسم وہ عورتیں جو از خود اپنے آپ کو آپ سے نکاح کے لئے پیش کریں اور اگر اپنانفس ہبہ کرنے والی کوئی عورت آپ کو پسند آجائے تو اس کا حق مہر کچھ نہیں ہوگا۔ نہ گواہوں کی ضرورت ہوگی اور نہ اس عورت کے ولی کی رضا کی۔ بس عورت کا اپنا نفس ہبہ کردینا ہی نکاح سمجھا جائے گا۔ اس سلسلہ میں درج ذیل دو احادیث ملاحظہ فرما لیجئے۔
خ کون کون سی عورت نبی کی بیوی بن سکتی ہے ؟ 1۔ ام ہانی ؓ (ابوطالب کی بیٹی اور آپ کی چچا زاد بہن) کہتی ہیں کہ آپ نے مجھے نکاح کا پیغام دیا مگر میں نے معذرت کردی (کہ میرے چھوٹے چھوٹے رونے پیٹنے والے بچے ہیں) آپ نے میرا عذر قبول فرما لیا۔ پھر جب یہ آیت نازل ہوئی تو میں نے آپ سے کہا کہ میں تو آپ پر حلال بھی نہیں کیونکہ میں نے ہجرت نہیں کی تھی اور فتح مکہ کے بعد اسلام لانے والوں سے تھی۔ (ترمذی کتاب التفسیر)
غیرت عائشہ ؓ کا تبصرہ :۔ 2۔ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ مجھے ان عورتوں پر غیرت آئی تھی جو اپنے تئیں نبی کریم کو بخش دیتی تھیں میں کہتی، بھلا یہ کیا بات ہوئی کہ کوئی عورت اپنے تئیں بخش دے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی تو میں نے (آپ سے) کہا : میں تو یہ دیکھ رہی ہوں کہ جیسی آپ کی خواہش ہو آپ کا پروردگار فورا ویسا ہی حکم دیتا ہے (بخاری۔ کتاب التفسیر)
79 خصائص انبیاء :۔ اس رعایت کا تعلق قریبی مضمون سے بھی ہوسکتا ہے اور سارے مضمون سے بھی۔ قریبی مضمون سے ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ اگر کوئی عورت آپ کے لئے اپنا نفس ہبہ کرے تو آپ کو حق مہر نہیں دینا ہوگا۔ نہ گواہوں کی ضرورت ہے اور نہ ولی کی اجازت کی۔ اور سارے مضمون سے جوڑا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ چار سے زائد بیویوں کی اجازت صرف آپ کو ہے دوسرے مسلمانوں کو نہیں ہے۔ نبی کی چونکہ ذمہ داریاں عام مسلمانوں سے زیادہ ہوتی ہیں پھر ان کا عزوشرف بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اس لئے شریعت کے کئی احکام و ارشادات ایسے ہیں جو عام مسلمانوں سے الگ ہیں۔ پھر ان کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ایک تو ایسے امور ہیں جو تمام انبیاء سے مختص ہیں اور انھیں ہم خصائص انبیاء کہہ سکتے ہیں اور وہ درج ذیل ہیں :
1۔ نبی کا خواب بھی وحی ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ کو مدینہ میں صلح حدیبیہ سے پیشتر عمرہ کرنے کا خواب آیا تھا۔ (48: 27) یا سیدنا ابراہیم کو سیدنا اسماعیل کو ذبح کرنے کا خواب آیا تھا۔ (37: 102)
2۔ انبیاء کا ترکہ وارثوں میں تقسیم نہیں ہوتا بلکہ وہ صدقہ ہوتا ہے جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : ہمارا (پیغمبروں کا) کوئی وارث نہیں ہوتا۔ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے (مسلم۔ کتاب الجہاد والسیر۔ باب حکم الفئی) اور ابوہریرہ ؓ کی دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : میرے وارث ایک دینار بھی بانٹ نہیں سکتے۔ میری بیویوں کے خرچ اور میرے عامل کی اجرت کے بعد جو کچھ میں چھوڑ جاؤں وہ صدقہ ہے۔ (مسلم۔ حوالہ ایضاً )
3۔ انبیاء کے اجسام کو مٹی نہیں کھاتی۔ اوس بن اوس سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ تمہارے دنوں میں سب سے افضل جمعہ کا دن ہے۔ اسی دن آدم پیدا کئے گئے، اسی دن فوت ہوئے۔ اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی میں نفخہ ہے۔ اس دن مجھ پر زیادہ درود بھیجو کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا : یارسول اللہ ! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جاتا ہے جبکہ آپ کی ہڈیاں پرانی ہوچکی ہوں گی۔ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کے جسموں کو کھانا حرام کردیا ہے (ابوداؤد۔ نسائی۔ ابن ماجہ۔ دارمی۔ بیہقی فی دعوات الکبیر۔ بحوالہ مشکوٰۃ۔ کتاب الصلوٰۃ۔ باب الجمعۃ۔ فصل ثانی)
اس کا یہ مطلب نہیں کہ انبیاء کے علاوہ سب لوگوں کے مردہ اجسام کو مٹی کھا جاتی ہے۔ بلکہ یہ ہے کہ انبیاء کے اجسام کو تو بہرحال نہیں کھاتی اور امت میں سے بھی ایسے لوگ ہوسکتے ہیں جنہیں مدت دراز تک مٹی نہ کھائے۔ البتہ عام قاعدہ یہی ہے کہ مردہ اجسام کو زمین کھا جاتی ہے۔
4۔ موت سے پہلے اختیار۔ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں سنا کرتی تھی کہ کوئی پیغمبر اس وقت تک نہیں مرتا جب تک اس کو یہ اختیار نہیں دیا جاتا کہ دنیا اختیار کرے یا آخرت۔ پھر میں نے رسول اللہ کی مرض الموت میں سنا۔ آپ کو ایک اچھو ہوا اور فرمانے لگے۔ یا اللہ ! ان لوگوں کے ساتھ جن پر تو نے انعام کیا آخر آیت تک۔ اس وقت میں سمجھ گئی کہ آپ کو وہ اختیار مل گیا۔ (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب مرض النبی ووفاتہ)
5۔ ہر نبی کو مرنے سے پہلے جنت میں ٹھکانا دکھا دیا جاتا ہے۔ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ جب تندرست تھے تو فرماتے تھے کہ کوئی پیغمبر اس وقت تک نہیں مرا جب تک اس کو بہشت میں اس کا مقام دکھا نہیں دیا جاتا۔ پھر اسے اختیار دیا جاتا ہے زندہ رہے چاہے آخرت اختیار کرے۔ (بخاری۔ حوالہ ایضاً )
6۔ سیدنا انس بن مالک ؓ معراج کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں اس کے بعد آپ نے ان فرشتوں کو دوسری رات دیکھا۔ جیسے آپ دل سے دیکھا کرتے تھے اور رسول اللہ کی آنکھیں سوتی تھیں اور دل نہیں سوتا تھا اور سب پیغمبروں کا یہی حال ہے کہ ان کی آنکھیں سوتی ہیں مگر دل نہیں سوتا۔ (بخاری۔ کتاب المناقب۔ باب کان النبی تنام عینہ ولا ینام قلبہ۔۔ )
7۔ نبی جس مقام پر فوت ہو اسی مقام اور جگہ پر دفن ہوتا ہے۔ نبی کی وفات کے بعد یہ معاملہ زیر بحث آیا کہ آپ کو کہاں دفن کیا جائے ؟ اور اس تکرار کا اسی حکم کے مطابق ہی فیصلہ ہوا اور آپ کو سیدہ عائشہ ؓ کے گھر میں دفن کیا گیا۔
اور استقصاء کرنے سے ان امور میں مزید اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔
خ خصائص النبی :۔ اور دوسری قسم وہ ہے جس میں رسول اللہ کے لئے احکام الگ ہیں اور آپ کی امت کے الگ۔ ایسے امور کو ہم خصائص النبی کہہ سکتے ہیں اور وہ درج ذیل ہیں۔
1۔ امتی کے لئے زیادہ سے زیادہ چار بیویاں جائز ہیں۔ جبکہ آپ کو چار سے زائد بیویوں کی خصوصی اجازت دی گئی جیسا کہ اسی حاشیہ کی ابتدا میں ذکر ہوچکا ہے۔
2۔ آپ پر بیویوں کا حق مہر اور نان و نفقہ واجب نہیں تھا۔ تفصیل اسی سورة کے حاشیہ نمبر 80 میں دیکھئے۔
3۔ بیویوں کی باری کے سلسلہ میں بھی آپ سے یہ پابندی اٹھا لی گئی۔ تفصیل اسی سورة کے حاشیہ نمبر 81 میں دیکھئے۔
4۔ آپ پر نماز تہجد فرض تھی جبکہ امت کے لئے اس کی حیثیت سنت موکدہ کی ہے۔ تفصیل سورة بنی اسرائیل کے حاشیہ 98 ئ، 99 ء میں دیکھئے۔
وصلی روزوں کی ممانعت :۔ 5۔ آپ خود وصلی روزے رکھتے ہیں لیکن امت کو وصلی روزے سے منع فرمایا۔ چناچہ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ نے صحابہ کو وصلی روزے رکھنے سے، ان پر رحم کی بنا پر منع فرمایا (یعنی روزہ پر روزہ رکھنے سے جن کے درمیان افطار نہ کیا جائے) صحابہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! آپ تو وصل کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : کہ میری صورت حال تمہارے جیسی نہیں ہے۔ مجھے تو میرا پروردگار کھلا اور پلا دیتا ہے (مسلم۔ کتاب الصیام۔ باب النہی عن الوصال) (بخاری۔ کتاب التمنی۔ باب مایجوز من اللَّو۔۔۔ )
بُودار اشیاء کے استعمال سے متعلق حکم :۔ 6۔ لہسن یا بو والی چیزوں کا حکم۔ جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : کہ جو شخص لہسن یا پیاز (کچی) کھائے وہ ہم سے الگ رہے یا یوں فرمایا کہ ہماری مسجد سے الگ رہے اور اپنے گھر میں بیٹھا رہے (جب تک اس کے منہ میں بو رہے) نیز جابر ؓ نے کہا کہ بدر کے مقام پر آپ کے سامنے طباق لایا گیا جس میں کچھ سبزی ترکاری تھی۔ آپ کو اس میں بو محسوس ہوئی۔ آپ نے اس کے متعلق پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ اس میں فلاں فلاں ترکاری ہے۔ (آپ نے اسے نہیں کھایا اور) فرمایا کہ اسے فلاں صحابی (ابوایوب انصاری) کے پاس لے جاؤ جو آپ کے ساتھ رہتے تھے۔ ابو ایوب انصاری نے جب یہ معاملہ دیکھا تو انہوں نے بھی اسے کھانے میں کراہت کی۔ آپ نے انھیں فرمایا : تم کھالو۔ کیونکہ میں تو ان (فرشتوں) سے سرگوشی کرتا ہوں جن سے تم نہیں کرتے۔ (بخاری۔ کتاب الاعتصام۔ باب الاحکام التی تعرف بالدلائل۔۔ )
7۔ آپ نے صدقہ کے متعلق امت کو حکم دیا کہ افضل الصدقۃ ما کان عن ظھر غنی یعنی بہتر صدقہ وہ ہے کہ صدقہ کرنے کے بعد انسان خود محتاج نہ ہوجائے۔ (بخاری۔ کتاب النفقات۔ باب وجوب النفقۃ علی الاہل والعیال) لیکن آپ خود قرضہ اٹھا کر بھی صدقہ کردیا کرتے تھے۔ حتیٰ کہ زکوٰ ۃ جو آپ پر بھی فرض تھی، اس کے ادا کرنے کا کبھی موقعہ ہی نہ آیا۔
8۔ آپ اور آپ کے اہل خانہ کوئی نیکی کا کام کریں تو دگنا اجر اور نافرمانی پر دگنی سزا قرآن سے ثابت ہے۔ حتیٰ کہ آپ کو بخار بھی دوگنی شدت سے چڑھتا تھا۔ چناچہ عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں آپ کے ہاں گیا۔ آپ کا جسم بخار سے جل رہا تھا۔ میں نے کہا : یارسول اللہ ! آپ کو بخار بہت سخت آیا ہے۔ فرمایا : مجھ پر اتنی سخت تپ آتی ہے جیسے تم میں دو آدمیوں کی تپ ملائی جائے۔ میں نے عرض کیا آپ کو اجر بھی دوگنا ملے گا۔ فرمایا : ہاں ! پھر فرمایا : جس شخص کو کوئی تکلیف بیماری وغیرہ ہو اللہ اس کے گناہ ایسے جھاڑ دیتا ہے جیسے درخت (موسم خزاں میں) اپنے پتے جھاڑ دیتا ہے۔ (بخاری۔ کتاب المرضیٰ ۔ باب وضع الید علی المریض)
9۔ آپ کی وفات کے بعد کوئی شخص آپ کی بیویوں سے نکاح نہیں کرسکتا۔ کیونکہ وہ مسلمانوں کی مائیں ہیں اور یہ اعزاز صرف آپ کی ازواج سے مخصوص ہے کوئی امتی اس اعزاز میں شریک نہیں ہوسکتا۔
خ کیا نکاح کا مقصد صرف جنسی خواہش کی تکمیل یا حصول اولاد ہی ہے ؟ یہاں ایک شبہ کا ازالہ ضروری ہے۔ عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ نکاح کا مقصد شہوت رانی یا زیادہ سے زیادہ اولاد کا حصول ہے۔ یہ نظریہ کسی حد تک درست ہے مگر انتہائی تنگ نظری پر مبنی ہے۔ کسی حد تک ہم نے اس لئے کہا ہے کہ نکاح سے شریعت کا اصل مقصد معاشرہ کو فحاشی اور بےحیائی سے پاک و صاف رکھنا ہے۔ اسی لئے شریعت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بلوغت کے بعد کوئی مرد یا عورت بےزوج نہ رہے۔ اگر زوج فوت ہوجائے یا شوہر طلاق دے دے تو ہر ایک کے لئے مستحب یہی ہے کہ وہ نکاح کرلے۔ (ملاحظہ ہو سورة نور کی آیت نمبر 32 کا حاشیہ) حالانکہ جو انی کے انحطاط کے بعد انسان کی شہوت میں معتدبہ حد تک کمی واقع ہوجاتی ہے اور اگر اولاد ہو تو اسے اللہ کی قدرت ہی سمجھا جاتا ہے۔ بڑھاپے میں اولاد کا ہونا کوئی عادی امر نہیں ہے۔ البتہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اصل مقصد یعنی معاشرہ کی پاکیزگی کا ایک ثمرہ اولاد کا حصول بھی ہے۔ جو کبھی حاصل ہوتا ہے کبھی نہیں ہوتا۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ زوجین کے بالغ اور بظاہر صحت مند ہونے کے باوجود ان کے ہاں ساری عمر اولاد نہیں ہوتی۔ اور صرف اولاد کے حصول کو تنگ نظری پر محمول ہم نے اس لئے کہا ہے کہ نکاح سے اور کئی مقاصد اور فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں مثلاً نکاح کا دوسرا مقصد قریبی رشتہ داروں میں قرابت کے تعلق کو برقرار رکھنا اور مودت بڑھانا ہے۔ تیسرا مقصد دینی اخوت کا قیام اور اس میں اضافہ ہے چوتھا مقصد کئی طرح کے دینی، سیاسی، معاشی فوائد کا حصول ہے اور بعض دفعہ ایسے مقاصد حصول اولاد سے بھی زیادہ اہمیت اختیار کر جاتے ہیں آپ ذرا رسول اللہ کی زندگی پر نظر ڈالئے کہ آپ نے کتنے نکاح کئے ؟ کس عمر میں کئے ؟ کس قسم کی عورتوں سے کئے اور کن کن مقاصد کے تحت کئے تو یہ حقیقت از خود منکشف ہوجائے گی کہ نکاح کا مقصد صرف جنسی خواہشات کی تکمیل یا حصول اولاد ہی نہیں ہوتا بلکہ اس سے بلند تر مقاصد بھی حاصل ہوسکتے ہیں۔
خ آپ نے کتنی شادیاں کی اور کن کن اغراض کے تحت کیں ؟ :۔ آپ کا پہلا نکاح 25 سال کی عمر میں سیدہ خدیجہ ؓ سے ہوا جو اس وقت چالیس سال کی تھیں اور ان کو پہلے دو مرتبہ طلاق ہوچکی تھی۔ ان کی وفات 10 نبوی میں ہوئی جبکہ رسول اللہ کی عمر پچاس سال تھی۔ ماسوائے سیدنا ابراہیم کے آپ کی ساری اولاد سیدہ خدیجہ ؓ ہی کے بطن سے پیدا ہوئی۔ یعنی جوانی کا پورا زمانہ آپ نے سیدہ خدیجہ ؓ ایک ہی بیوی کے ساتھ گزارا۔ اس کے بعد آپ نے سیدہ سودہ بنت زمعہ ؓ سے نکاح کیا جو ایک بوڑھی، بھاری بھر کم اور مطلقہ عورت تھیں اور اس نکاح سے آپ کا مقصد اولاد کی تربیت تھی۔ کیونکہ آپ نبوت کی ذمہ داریوں کی وجہ سے اولاد کی تربیت پر توجہ نہیں دے سکتے تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیق ؓ اور سیدنا عمر کی بیٹیوں سے آپ نے نکاح اس غرض سے کیا کہ یہ شیخین آپ کے دنیا و آخرت میں رفیق اور وزیر ہیں۔ اور تعلقات میں مزید محبت اور خوشگواری پیدا کرنے کے لئے آپ نے یہ نکاح کئے تھے۔ یہ بھی ملحوظ رہے کہ آپ کی ساری بیویوں میں سے سیدہ عائشہ ؓ ہی کنواری تھیں جن سے آپ نے نکاح کیا باقی سب بیویاں مطلقہ تھیں یا بیوہ۔ پھر آپ کی ایک ذمہ داری یہ بھی تھی کہ قبائلی جاہلی نظام اور اس کی عصبیت کو ختم کرکے اسلامی نظام قائم کریں۔ اور سابقہ عداوتوں کو ختم کریں۔ آپ نے سیدہ ام سلمہ سے نکاح کیا جو اس خاندان کی بیٹی تھی جس سے ابو جہل اور خالد بن ولید کا تعلق تھا۔ سیدہ ام حبیبہ ؓ ابو سفیان کی بیٹی تھیں۔ ان شادیوں نے بڑی حد تک ان خاندانوں کی دشمنی کا زور توڑ دیا۔ سیدہ صفیہ ؓ ، سیدہ جویریہ ؓ اور ریحانہ ؓ یہودی خاندانوں سے تعلق رکھتی تھیں۔ انھیں آزاد کرکے جب آپ نے ان سے نکاح کئے تو یہود کی معاندانہ سرگرمیاں ٹھنڈی پڑگئیں۔ کیونکہ عرب روایات کے مطابق کسی شخص کا داماد اس شخص کے پورے قبیلے کا داماد سمجھا جاتا تھا۔ اور اس سے لڑنا یا عداوت رکھنا بڑے عار کی بات تھی۔ پھر آپ کی نبوت کا ایک مقصد جاہلانہ رسوم کا قلع قمع بھی تھا۔ سیدہ زینب بنت جحش سے آپ نے اسی مقصد کے تحت نکاح کیا تھا۔ پھر ہر خاندان اور ہر عمر کی عورتوں سے نکاح کا ایک اہم مقصد دینی تعلیم بھی تھا۔ شریعت کے احکام کے کئی گوشے ایسے بھی ہیں جو صرف عورتیں ہی عورتوں کو سمجھا سکتی ہیں یا صرف بیویاں ہی اپنے شوہر کے اوصاف و خصائل اور ان کی پرائیویٹ زندگی امت کو بتاسکتی ہیں۔ پھر آپ کی بیویوں سے چند ایک فقیہ بھی تھیں حتیٰ کہ بڑے بڑے صحابہ آپ سے مسائل پوچھنے آتے تھے یہ تھے وہ مقاصد جن کی تکمیل کے لئے اللہ نے آپ کے لئے تعدد ازواج پر پابندی نہیں لگائی اور فرما دیا کہ ایسے مقاصد کی تکمیل میں آپ پر تعدد ازواج کی پابندی کہیں تنگی اور رکاوٹ کا سبب نہ بن جائے۔
80 آپ پر حق مہر یا نان ونفقہ واجب نہیں تھا :۔ عام مسلمانوں پر اپنی بیویوں کو حق مہر ادا کرنا بھی واجب ہے اور نان و نفقہ کی ادائیگی بھی۔ اگر کوئی عورت اپنا نفس ہبہ کرے تب بھی اس سے حق مہر ساقط نہیں ہوگا۔ اور نبی پر اپنی بیویوں کا نان و نفقہ اس طرح واجب نہیں جس طرح عام مسلمانوں پر ہے۔ بلکہ نبی جو کچھ اور جتنا کچھ اپنی بیویوں کو دے یا دے سکے اس پر انھیں صابر و شاکر رہنا ہوگا جیسا کہ پہلے واقعہ ایلاء میں وضاحت سے گزر چکا ہے۔
Ayah 33:5181 بیویوں کی باری کے سلسلے میں آپ کو خصوصی ہدایت :۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو ایک اور رعایت یہ مل گئی کہ آپ پر سے اپنی بیویوں کے پاس باری باری رہنے کی پابندی اٹھا لی گئی۔ بالفاظ دیگر آپ کی بیویوں کا آپ پر یہ حق ساقط کردیا گیا کہ فلاں رات آپ باری کے حساب سے فلاں بیوی کے پاس رہیں گے۔ اور اس سقوط حق سے اللہ تعالیٰ کا مقصد نبی اور اس کی بیویوں دونوں پر سے تنگی کو رفع کرنا مقصود تھا۔ نبی کی تنگی کا دور ہونا تو واضح ہے اور بیویوں سے تنگی کا دور ہونا اس لحاظ سے ہے کہ جب انھیں یہ معلوم ہوجائے گا کہ فلاں باری کے دن نبی کا اس کے ہاں شب بسری کرنا اس کا حق نہیں ہے تو ان کے باہمی تنازعات اور چپقلش از خود ختم ہوجائیں گے کیونکہ تنازعات کی بنیاد ہی حقوق سے تعلق رکھتی ہے۔ پھر جب حق ہی نہ رہا تو تنازعات کیسے ؟ لیکن آپ نے اللہ تعالیٰ سے دی گئی اس رعایت سے کبھی فائدہ نہیں اٹھایا اور اپنی بیویوں کی باری کو ملحوظ خاطر رکھا جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث سے واضح ہے۔
خ رعایت کے باوجود آپ نے ہمیشہ باری کو ملحوظ رکھا :۔ (1) سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب آپ کو ایک بیوی کی باری کے دن دوسری بیوی کے ہاں جانا منظور ہوتا تو آپ باری والی بیوی سے اجازت لیا کرتے تھے۔ معاذہ (راوی) کہتے ہیں کہ اس آیت کے اترنے کے بعد میں نے سیدہ عائشہ ؓ سے پوچھا : اگر نبی اکرم آپ سے اجازت لیتے تو آپ کیا کہتیں ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں تو کہتی کہ اگر آپ مجھ سے پوچھتے ہیں تو میں تو یہ چاہتی ہوں کہ آپ میرے پاس ہی رہیں ۔ (حوالہ ایضاً )
(2) سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ جب سفر پر جانا چاہتے تو اپنی عورتوں پر قرعہ ڈالتے جس عورت کا نام قرعہ میں نکلتا اس کو ساتھ لے جاتے اور ہر عورت کے پاس باری باری ایک ایک دن رات رہتے۔ صرف سودہ بنت زمعہ ؓ نے (جو بہت بوڑھی ہوگئی تھیں) اپنا دن رات سیدہ عائشہ ؓ کو بخش دیا تھا۔ ان کی غرض یہ تھی کہ رسول اللہ خوش ہوں۔ (بخاری۔ کتاب الھبہ۔ باب ھبۃ المرأۃ لغیر زوجھا)
(3) سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب آپ بیمار ہوئے اور آپ کی بیماری سخت ہوگئی تو آپ نے دوسری بیویوں سے بیماری میں میرے گھر رہنے کی اجازت چاہی تو انہوں نے اجازت دے دی۔ (بخاری۔ کتاب الھبۃ۔ باب ھبۃ الرجل لامرأتہ والمرأۃ لزوجھا)
82 یعنی وہ اللہ کے احکام سے خوش ہوجائیں اور باہمی جذبہ رقابت اور مسابقت کی الجھنوں میں پڑنے کی بجائے یکسو ہو کر نبی کے مشن میں اس کا ہاتھ بٹائیں اور جس طرح نبی اپنے کام میں پوری جدوجہد کر رہا ہے مصائب برداشت کررہا ہے اور تنگی ترشی سے بےنیاز رہ کر کررہا ہے۔ اسی طرح وہ بھی قناعت اور ایثار سے کام لیں۔ بلکہ اسلام کی تبلیغ و اشاعت کو اپنا مقصد حیات قرار دے کر خوشدلی سے سب کام انجام دیں اور یہ سمجھ لیں کہ باری کے حق کا سقوط آپ کی مرضی سے نہیں بلکہ اللہ کے حکم سے ہوا ہے۔
83 تمہارے دلوں کا خطاب ازواج کی طرف بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی اگر تم نے اللہ کے ان احکام کو خوشدلی کے بجائے دل کی گھٹن سے یا کبیدہ خاطر ہو کر کیا ہے تو اللہ اسے بھی جانتا ہے اور اس پر گرفت ہوگی اور اگر اس لفظ کا خطاب عام لوگوں کی طرف ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ اگر ان حقائق کے بجائے نبی کی ازدواجی زندگی سے متعلق تمہارے دلوں میں کوئی اور بدگمانی پیدا ہو تو وہ بھی اللہ سے چھپی نہ رہے گی۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ساتھ ہی اپنی صفت حلیم کا ذکر فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کے دل میں کوئی وسوسہ پیدا ہو جسے وہ دل سے نکال دے تو اللہ اس پر گرفت نہیں فرمائے گا۔
Ayah 33:5284 اس آیت کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ آپ کو جن چار قسم کی بیویوں سے نکاح کرلینے کی اجازت دی جاچکی ہے ان کے علاوہ دوسری عورتیں آپ پر حلال نہیں بس یہی کافی ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ آپ کی بیویاں اس بات پر آمادہ ہوگئی ہیں کہ جو آپ کی طرف سے روکھا سوکھا ملے اس بات پر وہ صابر و شاکر رہیں۔ اور باری کا مطالبہ کرکے بھی آپ کو پریشان نہ کریں نہ اسے وجہ نزاع بنائیں تو اب آپ کے لئے بھی یہ جائز نہیں کہ ان صابر و شاکر بیویوں سے کسی کو طلاق دے دیں اور اس کی جگہ کوئی اور لے آئیں۔ خواہ وہ خوبصورت ہی کیوں نہ ہو۔ آپ کو بھی اب انھیں بیویوں پر صابر و شاکر رہنا چاہئے۔
ضمناً اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مرد جس عورت سے شادی کرنا چاہے، اسے دیکھنا درست ہے۔ اور احادیث صحیحہ میں اس کی صراحت مذکور ہے۔
85 کنیزوں کی رخصت کا غلط استعمال :۔ یعنی کنیزوں کی تعداد پر شریعت نے کوئی پابندی عائد نہیں کی۔ کیونکہ ان کا انحصار کسی جنگ میں قیدی عورتوں پر ہوتا ہے۔ اور یہ مستقبل کے حالات ہیں جو کبھی ایک جیسے نہیں ہوتے۔ لیکن اس اجازت کا یہ مطلب بھی نہیں کہ نواب اور امیر کبیر حضرات عیش و عشرت کے لئے جتنی کنیزیں چاہیں خرید خرید کر اپنے گھروں اور محلات کے اندر ڈالتے جائیں یہ اس اجازت کا غلط استعمال ہے۔ آپ کی کنیزیں صرف دو تھیں ایک ماریہ قبطیہ جن کے بطن سے سیدنا ابراہیم پیدا ہوئے تھے اور دوسری ریحانہ ؓ