Ayahs 33:26–2736 یہ یہود بنو قریظہ تھے جو مسلمانوں کے معاہد تھے۔ بنو قینقاع اور بنی نضیر کی جلاوطنی کے بعد مدینہ میں یہود کا یہی قبیلہ باقی رہ گیا تھا۔ کیونکہ یہ قیبلہ دوسروں کی نسبت قدرے شریف اور اپنے عہد کا پاس رکھنے والا تھا۔ جب بنو نضیر کو خیبر کی طرف جلا وطن کردیا گیا اور جنگ احزاب کی تیاریاں شروع ہوگئیں تو بنونضیر کا رئیس حیی بن اخطب رات کی تاریکیوں میں بنو قریظہ کے سردار کعب بن اسد کے پاس گیا۔ کعب کو اندازہ ہوگیا تھا کہ حیی مجھے مسلمانوں سے عہد شکنی پر آمادہ کرنے کے لئے آیا ہے۔ لہذا اس نے دروازہ ہی نہ کھولا۔ حیی نے اس سے کچھ چکنی چپڑی باتیں کیں تو آخر اس نے دروازہ کھول دیا۔ حیی کہنے لگا : کعب ! میں تمہارے پاس زمانے کی عزت اور چڑھتا ہوا سمندر لے کر آیا ہوں۔ ان لوگوں نے مجھ سے عہدو پیمان کیا ہے کہ وہ محمد ﷺ اور اس کے ساتھیوں کا صفایا کئے بغیر یہاں سے نہ ٹلیں گے اس کے جواب میں جو کچھ کعب نے کہا : وہ سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہے۔ اس نے کہا : حیی ! واللہ تم میرے پاس زمانے کی ذلت اور برسا ہوا بادل لے کر آئے ہو جو صرف گرج چمک رہا ہے۔ تم پر افسوس۔ تم مجھے میرے حال پر چھوڑ دو ۔ میں نے محمد ﷺ میں صدق و صفا کے سوا کچھ نہیں دیکھا (ابن ہشام 2: 220 221) مگر حیی نے کعب کو سبز باغ دکھا دکھا کر با لآخر بدعہدی پر مجبور کر ہی لیا وہ کہنے لگا : اگر قریش محمد کا خاتمہ کئے بغیر ہی واپس چلے گئے تو میں بھی تمہارے ساتھ قلعہ بند ہوجاؤں گا اور واپس نہیں جاؤں گا پھر جو انجام تمہارا ہوگا وہی میرا ہوگا۔ اس شرط پر کعب بھی اتحادیوں میں شامل ہوگیا۔
خ مدینہ میں اندرونی خطرات :۔ اس صورت حال کی تحقیق کے لئے آپ نے انصار کے سرداروں (سعد بن عبادہ سعد بن معاذ عبداللہ بن رواحہ اور خوّات بن جبیر ؓ کو تحقیق حال کے لئے بھیجا اور ساتھ ہی یہ تاکید بھی کردی کہ اگر بنوقریظہ کی بدعہدی کی خبر درست ہو تو دوسروں کی موجودگی میں مجھے نہ بتائیں بلکہ صرف اشارہ سے کام چلا لیں۔ جب انہوں نے واپس آکر رسول اللہ کو اشارہ سے بتایا کہ یہ خبر درست ہے تو اس سے آپ کو سخت صدمہ ہوا۔ اس خبر کے اخفاء کا مقصد صرف یہ تھا کہ مسلمانوں کی حوصلہ شکنی نہ ہو۔ مسلمان کم از کم مدینہ کی اندرونی حفاظت کی طرف سے مطمئن تھے مگر اس صورت حال سے مدینہ کے اندر بھی خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔ (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب غزوہ خندق)
37 بنو قریظہ کا محاصرہ :۔ تقریباً ایک ماہ کے محاصرہ کے بعد جب اتحادی لشکر بھاگ نکلا تو اب بنوقریظہ کو ان کی عہد شکنی کی سزا دینے کا وقت بھی آن پہنچا۔ جنگ خندق سے فراغت کے بعد رسول اللہ سیدہ ام سلمہ ؓ کے ہاں غسل فرما رہے تھے کہ جبرئیل آئے اور کہا کہ آپ نے ہتھیار اتار دیئے ہیں حالانکہ فرشتوں نے ابھی تک نہیں اتارے رسول اللہ نے اسی وقت منادی کرا دی کہ مجاہدین عصر کی نماز بنوقریظہ کے ہاں جاکر ادا کریں (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب مرجع النبی من الاحزاب الٰی بنی قریظہ ومحاصرتہ ایاھم)
چناچہ چند گھنٹوں کے اندر اندر تین ہزار مسلح مجاہدین نے بنوقریظہ کے ہاں پہنچ کر ان کا محاصرہ کرلیا۔ بنو قریظہ قلعہ بند ہوگئے (حیی بن اخطب بھی حسب وعدہ ان کے ساتھ قلعہ بند ہوا تھا) ان کے سردار کعب بن اسد نے قوم کے سامنے تین تجاویز رکھیں :
خ یہود کی سپر اندازی :۔ 1۔ اسلام قبول کرلو۔ اس صورت میں تمہارا مال و جان سب کچھ محفوظ رہے گا اور تم پر یہ بات بھی واضح ہوچکی ہے کہ یہ وہی نبی برحق ہے جس کی بشارت تم اپنی کتاب میں پاتے ہو۔
2۔ اپنے بیوی بچوں کو خود اپنے ہاتھوں سے قتل کردو۔ پھر خود مردانہ وار لڑائی لڑو۔ پھر مرجاؤ یا فتح پاؤ۔
3۔ یا پھر مکروفریب کی راہ اختیار کرو۔ مسلمانوں پر ہفتہ کے دن حملہ کردو۔ کیونکہ انھیں اطمینان ہوگا کہ آج لڑائی نہیں ہوگی۔
مگر بنو قریظہ نے اپنے سردار کی ایک تجویز بھی نہ مانی تو وہ جھنجھلا کر کہنے لگا : تم میں سے کسی نے آج تک ایک رات بھی ہوشمندی کے ساتھ نہیں گزاری۔ (الرحیق المختوم۔ اردو ص 494) اب ان کے سامنے بس ایک ہی راستہ باقی رہ گیا تھا اور وہ یہ تھا کہ مسلمانوں کے آگے ہتھیار ڈال دیں۔
38 یہود کا سیدنا سعد بن معاذ کو حکم تسلیم کرنا :۔ بدعہدی اور عہد شکنی قوم کو انتہا درجہ کا بزدل بنا دیتی ہے۔ ان کے پاس وافر مقدار میں راشن موجود تھا اور انہوں نے مسلمانوں کے استیصال کے لئے ڈیڑھ ہزار تلواریں، دو ہزار نیزے تین سو زرہیں اور پانچ سو ڈھالیں بھی تیار کر رکھی تھیں۔ مگر وقت پر کوئی چیز بھی ان کے کام نہ آئی۔ انہوں نے صرف 25 دن کے محاصرہ کے بعد اس شرط پر ہتھیار ڈال دیئے کہ ان کے حق میں جو بھی فیصلہ ان کے حلیف سیدنا سعد بن معاذ کریں گے وہ انھیں منظور ہوگا۔ ان کے پاس قلعہ میں جس قدر راشن موجود تھا اگر وہ چاہتے تو سال بھر قلعہ بند رہ کر آسانی سے گزر بسر کرسکتے تھے مگر ان کے مجرم ضمیر نے انھیں جلد ہی بےچین کردیا اور اللہ نے ان کے دلوں میں مسلمانوں کی دھاک بٹھا دی۔
39 بنو قریظہ کا انجام :۔ سیدنا سعد بن معاذ کو جنگ احزاب میں ایک کاری زخم لگا تھا جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ظاہر ہے :
سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جنگ خندق میں سعد بن معاذ کو ہفت اندام کی رگ میں تیر لگ گیا تو آپ نے مسجد میں ہی ان کے لئے خیمہ لگا دیا۔ تاکہ قریب سے عیادت کرسکیں۔ مسجد میں بنو غفار کا خیمہ بھی تھا۔ جب (سیدنا معاذ کا) خون بہہ بہہ کر ان کے خیمہ کی طرف آنے لگا تو وہ ڈر گئے، کہنے لگے : اے خیمہ والو ! یہ کیا ہے جو تمہاری طرف سے بہہ کر ہمارے پاس آرہا ہے۔ دیکھا تو سعد کے زخم سے خون بہہ رہا تھا۔ آخر اسی زخم سے وہ چل بسے۔ (بخاری۔ کتاب الصلوٰۃ۔ باب الخیمۃ فی المسجد للمرضیٰ وغیرھم)
لہذا وہ غزوہ بنوقریظہ میں شامل نہ ہوسکے۔ فیصلہ کے لئے انھیں گدھے پر سوار کرکے موقعہ پر لایا گیا تو آپ نے اپنے عہد شکن حلیف کی کوئی رو رعایت نہیں کی۔ اور یہ فیصلہ دیا کہ : (ا) سب مردوں کو قتل کردیا جائے (2) عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا جائے، (3) ان کے اموال مجاہدین میں تقسیم کردیئے جائیں رسول اللہ نے یہ فیصلہ سن کر فرمایا : تم نے وہی فیصلہ کیا جو سات آسمانوں کے اوپر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب مرجع النبی من الاحزاب الیٰ بنی قریظۃ ومحاصرتہ ایاھم)
چناچہ اس فیصلہ کے مطابق چھ سو سے کچھ زائد مردان جنگی کو قتل کردیا گیا اور ان مقتولین میں حیی بن اخطب بھی تھا۔ جس نے بنوقریظہ کو عہد شکنی پر مجبور کرکے ان پر یہ مصیبت ڈھائی تھی۔ یہ مقتولین صرف اس بنا پر قتل نہیں کئے گئے کہ وہ جنگی قیدی تھے بلکہ ان کے جرائم اور بھی تھے مثلاً :
(1) تجدید معاہدہ کے باوجود انہوں نے نہایت نازک موقعہ پر عہد شکنی کرکے مسلمانوں کو اندرونی خطرات سے دوچار کردیا تھا۔
(2) انہوں نے مردانہ وار سامنے آنے کی بجائے عورتوں اور بچوں کے قلعوں پر حملہ کی کوشش کی تھی۔
(3) جنگ احزاب کے بعد بھی حیی بن اخطب کو ساتھ ملا کر مدینہ میں اشتعال انگیزی شروع کردی تھی اور بجائے اس کے کہ اپنی عہد شکنی پر پشیمان ہوتے انہوں نے مقابلہ کی تیاریاں شروع کردی تھیں۔
Ayah 33:2840 بیویوں کا آپ سے خرچ کا مطالبہ :۔ یہاں سے ایک بالکل نیا موضوع شروع ہوتا ہے۔ اموال غنیمت سے جب مسلمانوں میں کچھ آسودگی آگئی۔ تو ازواج مطہرات نے بھی آپ سے کچھ زائد اخراجات کا مطالبہ کردیا۔ حالات کے مطابق ان کا یہ مطالبہ کچھ ایسا ناجائز بھی نہ تھا۔ کیونکہ دوسرے سب مسلمان آسودہ ہو رہے تھے۔ مگر آپ کی فقرپسند طبیعت پر بیویوں کا یہ مطالبہ سخت شاق گزرا۔ اور آپ نے اسی کبیدگی طبع کی بنا پر ایک ماہ کے لئے اپنی بیویوں سے کنارہ کش رہنے کا ارادہ کرلیا جیسا کہ درج ذیل احادیث سے معلوم ہوتا ہے :
1۔ سیدنا جابر ؓ کہتے ہیں کہ : سیدنا عمر رسول اللہ ﷺ کے ہاں آئے اور اجازت چاہی، آپ نے انھیں اندر آنے کی اجازت دے دی۔ سیدنا عمر نے دیکھا کہ آپ کے پاس آپ کی بیویاں غمگین اور خاموش بیٹھی ہیں۔ آپ نے فرمایا : یہ میرے گرد بیٹھی خرچ کا مطالبہ کر رہی ہیں جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو پھر آپ نے ان سے ایک مہینہ کے لئے علیحدگی اختیار کرلی۔ (بخاری۔ کتاب النکاح باب موعظۃ الرجل ابنتہ)
خ واقعہ ایلاء کی تفصیل :۔ 2۔ سیدنا عمر کہتے ہیں میں اور میرا ایک انصاری پڑوسی بنی امیہ بن زید کے گاؤں میں جو مدینہ کے بالائی دیہات میں سے ایک گاؤں ہے، رہا کرتے۔ اور باری باری آپ کے پاس آیا کرتے۔ ایک دن وہ آتا اور ایک دن میں۔ جب میں آتا تو اس دن کی ساری خبر وحی جو آپ پر نازل ہوتی اسے بتاتا اور جس دن وہ آتا تو وہ بھی ایسا ہی کرتا ایک دن میرا انصاری ساتھی اپنی باری کے دن آیا تو واپس آکر زور سے میرا دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا : عمر ہیں ؟ میں گھبرا کر باہر آیا تو کہنے لگا : آج ایک بڑا حادثہ ہوگیا، (آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی) میں حفصہ ؓ کے پاس گیا تو وہ رو رہی تھی۔۔ (بخاری۔ کتاب العلم۔ باب التناؤب فی العلم)
3۔ سیدنا عمر فرماتے ہیں کہ : مجھے میرے ایک انصاری ہمسایہ نے ایک دن خبر دی کہ رسول اکرم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔ میں حفصہ ؓ کے پاس گیا تو وہ رو رہی تھی۔ میں نے اسے پوچھا : کیا رسول اللہ نے تمہیں طلاق دے دی ؟ وہ کہنے لگیں : میں نہیں جانتی اور وہ اس جھروکے میں الگ ہو بیٹھے ہیں میں وہاں سے (مسجد میں) چلا گیا اور اسود (دربان) سے کہا کہ عمر کے لئے اندر آنے کی اجازت حاصل کرو لڑکا اندر گیا پھر باہر آکر کہنے لگا : میں نے آپ کا ذکر کیا تھا مگر آپ نے کوئی جواب نہیں دیا میں پھر مسجد کی طرف چلا گیا۔ لوگ وہاں منبر کے اردگرد بیٹھے رو رہے تھے۔ میں ان کے پاس بیٹھ گیا، مگر مجھ پر پھر وہی فکر غالب آئی۔ میں لڑکے کے پاس آیا اور کہا : عمر کے لئے اجازت حاصل کرو لڑکا اندر گیا۔ پھر اس نے باہر آکر مجھے کہا : میں نے آپ کا ذکر کیا تھا۔ مگر آپ نے کوئی جواب نہیں دیا میں پھر مسجد میں آیا اور بیٹھ گیا۔ پھر مجھ پر وہی فکر غالب ہوئی۔ میں لڑکے پاس آیا اور کہا : عمر کے لئے اجازت مانگ لڑکا اندر گیا، پھر باہر آکر کہنے لگا : میں نے آپ کا ذکر کیا کوئی جواب نہیں دیا جب میں وہاں سے لوٹ آیا تو اس وقت لڑکے نے مجھے پکارا کہ آجاؤ۔ تمہارے لئے اجازت مل گئی میں اندر گیا تو اس وقت آپ ایک بوریے پر تکیہ لگائے ہوئے تھے۔ میں نے دیکھا کہ آپ کے پہلوؤں میں بوریے کے نشان پڑگئے ہیں۔ میں نے پوچھا : یارسول اللہ ! آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں میں نے اللہ اکبر پکارا۔ پھر کہا : یارسول اللہ ! آپ دیکھئے۔ ہم قریشی لوگ اپنی عورتوں کو دبا کر رکھتے تھے پھر جب ہم مدینہ آئے تو ایسے لوگ دیکھے جنہیں ان کی بیویاں دبا کر رکھتی ہیں۔ ہماری عورتیں بھی ان کی عادات سیکھنے لگیں۔ میں ایک دن اپنی بیوی پر ناراض ہوا تو وہ مجھے جواب دینے لگی جو مجھے برا لگا تو وہ کہنے لگی : برا کیوں مناتے ہو۔ اللہ کی قسم ! آپ کی بیویاں آپ کو جواب دیتی ہیں۔ اور کئی تو رات تک خفا رہتی ہیں۔ میں نے حفصہ ؓ سے پوچھا : کیا تو بھی آپ کو جواب دیتی ہے ؟ وہ کہنے لگیں ہاں ! اور ہم میں سے کوئی تو رات بھر آپ سے خفا رہتی ہے میں نے کہا : تم میں سے جس نے یہ کام کیا وہ نامراد ہوئی اور نقصان اٹھایا۔ کیا تم اس بات سے ڈرتی نہیں کہ رسول اللہ کی ناراضگی کی وجہ سے اللہ بھی ان سے ناراض ہوجائے گا اور وہ تباہ ہوجائے گی اس بات پر نبی اکرم مسکرائے۔ پھر اپنی بیٹی حفصہ ؓ سے کہا حفصہ ! تم رسول اللہ کو کبھی جواب نہ دینا اور نہ ہی ان سے کچھ مطالبہ کرو۔ بلکہ جو تم چاہو مجھ سے مانگ لیا کرو اور کسی دھوکہ میں نہ رہنا کیونکہ تمہاری ساتھی عائشہ ؓ تم سے خوبصورت اور رسول اللہ کی چہیتی ہے اس بات پر رسول اللہ دوبارہ مسکرائے۔ پھر میں نے آپ سے کہا : یارسول اللہ ! میں آپ کا جی بہلاؤں ؟ آپ نے فرمایا : ٹھیک ہے، میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو مجھے اس گھر میں کچھ نظر نہ آیا۔ بجز تین چمڑوں کے، میں نے کہا : یارسول اللہ ! اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ آپ کی امت کو کشادگی بخشے۔ اللہ نے روم اور فارس کو کشادگی دی ہے۔ حالانکہ وہ اس کی عبادت بھی نہیں کرتے۔ یہ سن کر آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا : خطاب کے بیٹے ! کیا تم ابھی تک شک میں پڑے ہو۔ ان لوگوں کو تو ان کی نیکیوں کا بدلہ دنیا میں ہی مل گیا ہے سیدنا عمر ؓ کہتے ہیں کہ آپ ایک مہینہ بھر اپنی بیویوں کے پاس نہ گئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر عتاب اور قسم کے کفارہ کا حکم دیا۔ سیدہ عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب انتیس دن گزر گئے تو آپ ہمارے پاس آئے۔ (ترمذی۔ باب التفسیر۔ سورة تحریم)
Ayah 33:2941 آیت تخییر :۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مکمل اختیار دیا تھا کہ آپ چاہیں تو ایسی اجتماعی طور پر خرچ کے اضافہ کا مطالبہ کرنے اور اس طرح دباؤ ڈالنے والی بیویوں کو طلاق دے کر فارغ کردیں اور چاہیں تو اپنے پاس رکھیں۔ بشرطیکہ آئندہ وہ آپ کو اس سلسلہ میں پریشان نہ کریں۔ آپ نے ایک ماہ کے ایلاء (بیویوں سے الگ رہنے) کا فیصلہ کیا تھا۔ انتیس دن گزرنے کے بعد آپ مسجد کے بالا خانہ سے واپس اپنے گھر تشریف لائے سب سے پہلے سیدہ عائشہ ؓ ہی کے گھر آئے۔ پھر جس طرح آپ نے اس اختیار کو استعمال کیا وہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے :
خ بیویوں کا جواب :۔ 1۔ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ : جب آپ کو حکم ہوا کہ وہ اپنی بیویوں کو اختیار دیجئے (خواہ وہ آپ کے ساتھ رہنا چاہیں یا طلاق لے لیں) تو آپ نے سب سے پہلے مجھ سے پوچھا اور فرمایا : عائشہ ؓ ! میں تمہیں ایک بات کہتا ہوں مگر تم اس میں جلدی نہ کرنا بلکہ اپنے والدین سے مشورہ کرکے جواب دینا۔ اور آپ یہ بات خوب جانتے تھے کہ میرے والدین آپ سے جدا ہونے کا کبھی مشورہ نہ دیں گے۔ چناچہ آپ نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ : (يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا فَتَعَالَيْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَاُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا 28) 33 ۔ الأحزاب :28) (تک آپ نے پڑھا) میں نے کہا : میں اس معاملہ میں اپنے والدین سے کیا مشورہ کروں گی میں تو خود (بہرحال) اللہ، اس کے رسول اور آخرت کی بھلائی چاہتی ہوں پھر آپ نے یہی بات دوسری بیویوں سے پوچھی تو سب نے وہی جواب دیا جو میں نے دیا تھا۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر)
سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ : میں نے آپ سے کہا کہ آپ نے تو ایک ماہ کا کہا تھا اور آج انتیس دن ہوئے ہیں۔ آپ نے اپنی انگلیوں کے اشارے سے بتایا کہ مہینہ تیس دن کا بھی ہوتا ہے اور انتیس دن کا بھی۔ (گویا وہ مہینہ انتیس دن کا تھا) (بخاری۔ کتاب الصوم۔ باب قول النبی اذا رأیتم الہلال فصوموا، مسلم کتاب الصیام۔ باب وجوب صوم رمضان لرؤیۃ الھلال۔۔ )
Ayah 33:3042 نبی کی بیویوں کا مقام :۔ نبی کی بیویوں کا مقام عام عورتوں سے بہت بلند ہے کیونکہ وہ امہات المومنین ہیں۔ جس طرح نبی کی ذات مومنوں کے لئے نمونہ ہے۔ اسی طرح نبی کا گھر اور اس کی بیویاں بھی سب کے لئے نمونہ ہیں۔ اگر نبی کی بیوی کوئی غلطی کرے گی تو اس کو اپنی ہی غلطی کی سزا نہیں ملے گی بلکہ اس کی اقتداء میں جو لوگ بھی وہ غلطی کریں گے ان سب کی سزا سے حصہ رسدی اسے بھی ملے گا۔ لہذا اس کی سزا عام لوگوں کی سزا سے دوگنی بلکہ بہت زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔
اس آیت میں (بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ 19) 4 ۔ النسآء :19) سے مراد زنا ہے اور یہ بفرض تسلیم ہے جس طرح اللہ نے اپنے پیارے نبی کو فرمایا کہ اگر تم بھی شرک کرو تو تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں گے تو جس طرح آپ سے شرک کا صدور ممکن نہیں اسی طرح نبی کی بیویوں سے زنا کا ارتکاب ممکن نہیں۔ اور یہ انداز خطاب تاکید مزید کے طور پر اختیار کیا گیا ہے۔
43 یعنی اللہ تعالیٰ یہ نہیں دیکھے گا کہ اگر تم کوئی برا کام کرو تو تمہیں نبی کی بیویاں سمجھ کر چھوڑ دیا جائے بلکہ عدل و انصاف کا تقاضا یہ ہوگا کہ تمہیں دوسروں سے دگنی سزا دی جائے اور انللہ اس پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
Ayah 33:3144 اسی طرح اگر تم میں سے کوئی اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبردار بن جائے تو اسے اجر بھی دگنا ملے گا۔ یہاں تک تو ایک اصولی معاملہ تھا کہ بروں کے گناہوں کا بدلہ بھی دگنا اور اچھے اعمال کا ثواب بھی دگنا ہو۔ اور رزق کریم میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ ازواج النبی کا اصل مطالبہ خرچ میں اضافہ کا تھا کہ انھیں بھی اب کھانے اور پہننے کو پہلے سے بہتر ملنا چاہئے تو اس کے جواب میں فرمایا کہ آج دنیا میں اگر تم اس معاملہ میں نبی کو پریشان نہ کرو گی اور جو مل گیا اس پر قانع اور صابر و شاکر ر ہوگی تو اس کے عوض ہم نے تمہارے لئے بہت شاندار رزق تیار کر رکھا ہے۔
Ayah 33:3245 معاشرہ سے فحاشی کے خاتمہ کے لئے احکام :۔ سابقہ دو آیات سے دراصل معاشرہ سے فواحش کی تطہیر کا پروگرام دیا جا رہا ہے۔ اس کے آغاز میں دو باتوں کو خاص طور پر ملحوظ رکھا گیا ایک تو اس کا آغاز نبی کے گھرانہ سے کیا گیا۔ دوسرے سب سے پہلے فاحشہ مبینہ (یعنی زنا) کا ذکر کردیا گیا۔ اس کے بعد اب زنا کے سدباب کے احکام کا سلسلہ شروع ہو رہا ہے اور اس میں پہلے یہ خاص طور پر وضاحت کردی گئی کہ تمہارا معاملہ عام عورتوں کا سا نہیں ہے۔ بلکہ تمہارے کردار کے نتائج بڑے دور رس ہیں۔ لہذا تمہیں پوری طرح ان احکام پر عمل کرنا ہوگا۔ تمہارے ہر عمل کو لوگ حجت سمجھیں گے اور بطور حجت ہی پیش کریں گے۔
46 آواز پر پابندی :۔ جنگ احزاب سے پہلے تک عرب معاشرہ کا یہ حال تھا کہ مسلمان عورتیں بھی اپنی پوری زینت اور میک اپ کے ساتھ بےحجاب پھرتی تھیں۔ مسلم گھرانوں میں بھی غیر مردوں کے داخلہ پر کوئی پابندی نہ تھی۔ ازواج مطہرات بھی اسی طرح گھروں سے باہر جایا آیا کرتی تھیں۔ جیسے دوسری عورتیں، اس بےحجابانہ معاشرہ کی اصلاح کے لئے سب سے پہلے غیر مرد اور غیر عورت کی باہمی گفتگو اور آواز پر پابندی لگائی گئی اور اس حکم میں مخاطب نبی کی بیویوں کو بالخصوص اس لئے کیا گیا کہ ان سے بھی لوگوں کو مسئلے مسائل پوچھنے کی ضرورت پیش آتی رہتی تھی۔ چناچہ انھیں حکم دیا گیا کہ ان کی آواز شیریں اور لوچدار ہونے کی بجائے روکھی اور معقول حد تک بلند ہونا چاہئے۔ دبی زبان میں ہرگز بات نہ کی جائے۔ جو نرم گوشہ لئے ہوئے ہو۔ لوچدار اور شیریں آواز بذات خود دل کا ایک مرض ہے۔ پھر اگر مخاطب کے دل میں پہلے سے ہی اس قسم کا روگ موجود ہو تو وہ صرف اسی لذیذ گفتگو سے کئی غلط قسم کے خیالات اور تصورات دل میں جمانا شروع کردے گا اگرچہ ربط مضمون کے لحاظ سے اس کا مطلب وہی ہے جو اوپر بیان ہوا۔ تاہم یہ حکم عام ہے۔ اور عورت کی آواز پر اصل پابندی یہ ہے کہ غیر مرد اس کی آواز نہ سننے پائیں۔ نیز اس کی آواز میں نرمی، لوچ، بانکپن اور شیرینی نہ ہونی چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ عورت اذان نہیں کہہ سکتی یا نماز باجماعت میں اگر امام غلطی کر جائے تو وہ نہ سبحان اللہ کہہ سکتی ہے اور نہ لقمہ دے سکتی ہے۔ بلکہ اس کے لئے تصفیق کا حکم ہے یعنی اپنے ایک ہاتھ پر دوسرا ہاتھ مار کر آواز پیدا کرنے سے متنبہ کرے۔
Ayah 33:3347 بن سنور کر آزادانہ پھرنا :۔ قرن کو اگر مادہ ق رر سے مشتق قرار دیا جائے تو اس کا معنی وہی ہے جو ترجمہ سے ظاہر ہے اور اگر اس کا مادہ و ق ر سمجھا جائے تو اس کا مطلب ہو کہ گھروں میں وقار کے ساتھ رہا کرو۔ مطلب دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے یعنی عورت کا دائرہ عمل اس کا گھر ہے۔ گویا اس آیت کی رو سے گھروں سے باہر آزادانہ آنے جانے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ سیدنا عمر کو عورتوں کا اور بالخصوص ازواج النبی کا گھر سے باہر بےحجاب پھرنا سخت شاق گزرتا تھا۔ چناچہ آپ رسول اللہ سے کہا کرتے تھے کہ آپ اپنی بیویوں کو پردہ میں رکھئے۔ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ : رسول اللہ نے سیدنا عمر کی بات پر کچھ توجہ نہ دی۔ آپ کی بیویاں اکثر رات کو باہر نکلا کرتیں اور (رفع حاجت کے لئے) مناصع کی طرف جاتیں۔ ایک رات سیدہ سودہ ؓ بنت زمعہ جو قد کی لمبی تھیں نکلیں تو سیدنا عمر لوگوں میں بیٹھے بیٹھے ہی کہنے لگے : سودہ ! ہم نے تجھے پہچان لیا سیدنا عمر نے اس توقع پر یہ بات کی کہ کسی طرح جلد پردہ کا حکم نازل ہو۔ سیدہ عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ پھر اللہ تعالیٰ نے آیہ حجاب نازل فرمائی۔
آیۃ حجاب کا نزول اور ضرورت سے نکلنے کی اجازت :۔ سیدہ سودہ ؓ نے جب یہ بات سیدنا عمر کے منہ سے سنی تو گھر آکر رسول اللہ سے کہا : میں ضرورت سے باہر نکلی تھی، لیکن عمر نے ایسی ایسی گفتگو کی۔ اس وقت آپ میرے گھر میں تھے اور بیٹھے رات کا کھانا کھا رہے تھے۔ ایک ہڈی آپ کے ہاتھ میں تھی، اسی حالت میں آپ پر وحی آنا شروع ہوئی۔ پھر وحی کی حالت موقوف ہوگئی اور ہڈی اسی طرح آپ کے ہاتھ میں تھی جسے آپ نے ہاتھ سے رکھا نہیں تھا۔ آپ نے فرمایا : تم عورتوں کو ضرورت سے باہر نکلنے کی اجازت دی گئی (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ باب قولہ تعالیٰ لاتدخلوا بیوت النبی )
خ عورتوں کی حقیقی ضروریات :۔ گویا سیدنا عمر یہ چاہتے تھے کہ عورتوں کے باہر نکلنے پر مکمل پابندی لگ جائے۔ وحی الٰہی نے عورتوں کے گھر سے باہر نکلنے پر پابندی تو لگا دی جیسا کہ سیدنا عمر چاہتے تھے مگر مکمل پابندی نہیں لگائی بلکہ ضرورت کے تحت عورتوں کو گھر سے باہر جانے کی اجازت مل گئی۔
اب سوال یہ ہے کہ عورتوں کی وہ ضروریات کیا ہوسکتی ہیں جن کی بنا پر وہ گھر سے نکل سکتی ہیں ؟ وہ یہ ہیں : فریضہ حج کی ادائیگی، نماز کے لئے مسجد یا عید گاہ میں جانا، اپنے اقارب سے ملاقات اور ان کی تقاریب مثلاً نکاح اور شادی میں شمولیت یا مثلاً عیادت مریض اور تعزیت موتی کے لئے جانا۔ ان میں کچھ حاجات تو سفر کی نوعیت رکھتی ہیں اور بعض پر سفر کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔ اب ان کے متعلق ارشادات نبوی ملاحظہ فرمائیے :
1۔ سیدنا ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ : ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا : یارسول اللہ ! میری بیوی حج کے لئے نکلی ہے اور میرا نام فلاں غزوہ میں لکھا گیا ہے آپ نے فرمایا : لوٹ جا اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کر (بخاری۔ کتاب النکاح۔ باب لایخلون رجل۔۔ )
خ عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے :۔ گویا آپ نے جہاد جیسے اہم دینی فریضہ سے اس آدمی کو رخصت دے دی۔ مگر یہ گوارا نہیں فرمایا کہ اس کی عورت اکیلی حج پر چلی جائے۔
2۔ آپ نے فرمایا کہ : کوئی عورت ایک دن رات کی مسافت کا سفر نہ کرے الا یہ کہ اس کے ساتھ کوئی محرم ہو۔ (ترمذی۔ ابو اب الرضاع۔ باب کراہیۃ ان تسافر المرأۃ وحدھا۔ )
اس حدیث سے سفر کی تعریف بھی معلوم ہوگئی کہ سفر کا اطلاق اتنی مسافت پر ہوتا ہے جہاں سے کوئی شخص پیدل رات تک گھر واپس نہ پہنچ سکے۔ اس سے زیادہ مسافت ہو تو عورت محرم کے بغیر سفر نہیں کرسکتی۔
3۔ آپ نے فرمایا کہ : جب عورت اکیلی گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اس کو تاکتا ہے (یعنی اپنا آلہ کار بناتا ہے) (ترمذی۔ ابو اب الرضاع۔ باب کراھیۃ دخول علی المغیبات)
4۔ عورتوں کو نماز کے لئے مسجد میں جانے کا حکم نہیں بلکہ صرف اجازت ہے اور اجازت بھی عدم ممانعت کی صورت میں ہے۔ یعنی عورت اپنے خاوند کی اجازت سے ہی مسجد میں جاسکتی ہے۔ جیسا کہ ارشاد نبوی ہے کہ : اگر تمہاری بیویاں تم سے مسجد جانے کی اجازت طلب کریں تو انھیں مت روکو (مسلم۔ کتاب الصلوٰۃ۔ باب خروج النساء الی المساجد اذ لم یترتب علیہ فتنۃ)
خ مسجد میں جانے کی مشروط اجازت :۔ امام مسلم نے باب کے عنوان میں یہ وضاحت بھی کردی کہ یہ اجازت بھی اس صورت میں ہوگی جب کسی فتنہ کا خدشہ نہ ہو۔
5۔ چناچہ سیدہ عائشہ ؓ نے (اپنی زندگی کے آخری ایام میں) فرمایا : اگر رسول اللہ موجودہ صورت حال دیکھتے تو عورتوں کو مساجد میں جانے سے روک دیتے جیسا کہ بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا۔ (بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب خروج النساء الی المساجد باللیل)
خ عورت کی بہترین جائے نماز گھر کی اندرونی جگہ ہے :۔ غور فرمائیے مسجد نبوی میں ایک نماز باجماعت کا ثواب ہزار نماز کے ثواب کے برابر ہے اور امام خود رسول اللہ ہیں جو امام الانبیاء ہیں۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود ام حمید ساعدیہ نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میری پسند خاطر یہ ہے کہ میں آپ کے ساتھ نماز ادا کروں تو آپ نے فرمایا : تیرے گھر کی کوٹھری میں نماز تیرے گھر کے دالان سے افضل ہے اور دالان میں نماز صحن کی نماز سے افضل ہے۔ اور صحن کی نماز محلہ کی مسجد کی نماز سے افضل ہے اور محلہ کی مسجد میں نماز جامع مسجد کی نماز سے افضل ہے اور سیدہ ام سلمہ کی روایت میں رسول اللہ کے الفاظ یہ ہیں : عورتوں کے لئے بہترین مساجد ان کے گھروں کے اندرونی حصے ہیں (احمد۔ طبرانی)
خ عورتوں کے مسجد میں جانے پر پابندیاں :۔ پھر اس طرح مسجد میں جانے پر بھی سنت نبوی نے کئی طرح کی پابندیاں لگائی ہیں مثلاً :
(1) وہ صرف اندھیرے کی نمازوں (عشاء اور فجر) میں شامل ہوسکتی ہیں ماسوائے جمعہ اور عیدین کے (بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب خروج النساء الی المساجد باللیل و الغلس)
(2) جس رات عورت مسجد میں جانا چاہے خوشبو نہیں لگا سکتی۔ (بخاری۔ حوالہ ایضاً )
(3) مردوں کے لئے بہتر صف پہلی ہے اور بری سب سے آخری صف ہے اور عورتوں کے لئے پہلی صف سب سے بری ہے اور آخری سب سے بہتر (مسلم۔ کتاب الصلوٰۃ۔ باب امر النساء المصلیات وراء الرجال۔۔ )
(4) اسے چاہئے کہ رکوع و سجود سے سر مردوں کے بعد اٹھائے۔ (مسلم۔ حوالہ ایضاً )
(5) نماز باجماعت سے فراغت کے بعد فوراً مردوں سے پہلے مسجد سے نکل جائے۔ (مسلم و بخاری۔ حوالہ ایضاً )
(6) اگر واپسی پر ہجوم ہو اور مرد اور عورتوں کے مخلوط ہونے کا خطرہ ہو تو عورتیں راستہ کے کناروں پر چلیں۔ (ابوداؤد۔ کتاب الادب)
(7) عیدین کی نمازیں چونکہ کھلے میدان میں پڑھی جاتی ہیں لہذا وہاں عورتیں بالکل الگ مقام پر جمع ہوتی تھیں۔ (مسلم۔ کتاب الصلوۃ باب صلوۃ العیدین)
خ آزادانہ اختلاط کی ممانعت :۔ اب دیکھئے مندرجہ بالا احادیث کی صراحت کے بعد مسلمان عورتوں کے لئے ان باتوں کی کوئی گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ وہ کونسلوں اور پارلیمنٹوں کی ممبر بنیں۔ بیرون خانہ کی سوشل سرگرمیوں میں دوڑتی پھریں۔ سرکاری دفتروں میں مردوں کے ساتھ مل کر کام کریں۔ کالجوں میں لڑکوں اور لڑکیوں کی مخلوط تعلیم ہو۔ ہسپتالوں میں نرسنگ کی خدمات انجام دیں اور ہوائی جہازوں اور ریل کاروں میں مسافر نوازی کے لئے استعمال کی جائیں۔ یا گاہکوں میں کشش پیدا کرنے کی خاطر انھیں سیلزمین کے طور پر استعمال کیا جائے ؟
48 جاہلیت کا لفظ دراصل قرآن نے اسلام کے مقابلہ پر استعمال فرمایا ہے۔ یعنی زندگی کا وہ طرز عمل جو اسلامی تہذیب و ثقافت، اخلاق و آداب اور اسلامی ذہنیت کے خلاف ہو وہ جاہلیت ہے۔ اور جاہلیت اولی سے مراد اسلام سے پہلے کا تاریک دور ہے۔ اور اگر آج بھی معاشرہ میں وہی پرانی رسوم رائج ہوجائیں تو یہ دور بھی دور جاہلیت ہی کہلائے گا۔
49 تبرّج میں کیا کچھ شامل ہے ؟ تبرّج بمعنی اپنی زینت، جسمانی محاسن اور میک اپ دوسروں کو اور بالخصوص مردوں کو دکھانے کی کوشش کرنا اور اس میں پانچ چیزیں شامل ہیں۔ (1) اپنے جسم کے محاسن کی نمائش (2) زیورات کی نمائش اور جھنکار، (3) پہنے ہوئے کپڑوں کی نمائش، (4) رفتار میں بانکپن اور نازو ادا، (5) خوشبویات کا استعمال جو غیروں کو اپنی طرف متوجہ کرے۔
50 اہل بیت سے مراد کون لوگ ہیں ؟ اہل بیت اور اہل خانہ یا گھر والے یہ سب ہم معنی الفاظ ہیں۔ اور اس سے مراد کسی مرد کی بیوی یا بیویاں تو ضرور شامل ہوتی ہیں جیسے یہاں سیاق وسباق میں ازواج النبی کو ہی خطاب کیا جارہا ہے۔ اور اگر اولاد ہو تو وہ بھی اہل بیت میں شامل سمجھی جاتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے مسلمانوں کے ایک فرقہ نے اہل بیت سے ازواج النبی کو تو خارج کردیا اور اس کے بجائے اہل بیت سے مراد سیدہ فاطمۃ ؓ سیدنا علی ؓ ، سیدنا حسن ؓ اور سیدنا حسین ؓ لے لیا اور اس کی بنیاد امام احمد کی روایت ہے کہ آپ نے ان چاروں حضرات کو ایک چادر میں لے کر کہا : ( اللّٰھُمَّ ھٰوُلاَءِ اَھْلَ بَیْتِیْ ۔۔ ) (یاللہ ! یہ میرے گھر والے ہیں) حالانکہ اس سے آپ کی مراد صرف یہ تھی کہ اے اللہ تطہیر کے اس پاکیزہ عمل میں میری اولاد کو شامل کرلے اور یہ آپ نے اس لئے کیا کہ سیاق وسباق میں خطاب صرف ازواج النبی سے تھا۔ آپ کی اولاد سے نہیں تھا۔
51 پاکیزگی کے مختلف پہلو :۔ یہاں ربط مضمون کے لحاظ سے رِجْسٌ (ناپاکی۔ گندگی) سے مراد صرف وہ حرکات اور افعال ہیں جو بےحیائی سے تعلق رکھتے ہیں اور شہوانی جذبات میں تحریک پیدا کرنے کا سبب بن سکتے ہیں اور سیاق وسباق میں یہی مضمون مذکور ہے۔ تاہم رجس کے معنی میں بہت وسعت ہے اور اس سے مراد شرک، کفر اور نفاق کی گندگی، اخلاق رذیلہ کی گندگی حتیٰ کہ ظاہری نجاست بھی شامل ہے اور مطلب یہ ہے کہ ایسی ناپاکی کو دور کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اے ازواج النبی تم جاہلیت کے دور والی نمود و نمائش کے بجائے نمازیں قائم کرو، زکوٰ ۃ ادا کیا کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اللہ کے رسول کو خرچ وغیرہ کے مطالبات کرکے پریشان نہ کرو۔ اس طرح اللہ تمہارے دلوں سے ہر طرح کی نجاست دور کرکے پاک و صاف بنا دے گا۔
Ayah 33:3452 حکمت کیا چیز ہے :۔ حکمت کا معنی صرف دانائی یا دانائی کی باتیں ہیں۔ پھر اس کی دو قسمیں ہیں ایک حکمت علمی یعنی آیات قرآنی سے استنباطات اور اجتہادات دوسرے حکمت عملی۔ یعنی احکام الٰہی کو عملی طور پر نافذ کرنے کا طریقہ کار۔ قرآن میں بیشمار مقامات پر کتاب و حکمت کا لفظ اکٹھا آیا ہے۔ اور امام شافعی نے بیشمار دلائل سے یہ ثابت کیا ہے کہ حکمت سے مراد سنت نبوی ہے۔ یعنی خواہ آپ زبانی کسی آیت کی تشریح و تفسیر امت کو سمجھا دیں یا کسی حکم پر عمل کرکے امت کو دکھا دیں۔ یہ سب کچھ حکمت کے مفہوم میں شامل ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ساری حکمت صرف سنت نبوی میں ہی محصور ہے بلکہ قرآن میں بھی موجود ہے اسی لئے اسے القرآن الحکیم کہا گیا ہے۔ اب چونکہ منکرین حدیث، حدیث کی حجیت کے قائل نہیں تو ان کے ایک نمائندہ حافظ اسلم صاحب جیراجپوری نے اس آیت پر اعتراض جڑ دیا کہ کیا ازواج مطہرات کے گھروں میں اللہ کی آیات کے علاوہ رسول اللہ کی حدیثیں بھی پڑھی جاتی تھیں ؟ (مقام حدیث ص 12 مطبوعہ ادارہ طلوع اسلام، لاہور)
خمنکرین حدیث کا ایک اعتراض اور اس کا جواب :۔ حافظ صاحب نے اس اعتراض میں دھوکا دینے کی کوشش فرمائی ہے۔ امام شافعی نے حکمت سے مراد سنت نبوی بتایا ہے۔ حدیث نہیں بتایا۔ اور حدیث اور سنت میں کئی لحاظ سے فرق ہے۔ جس کی تفصیل کا یہ موقعہ نہیں۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے آئینہ پرویزیت) لہذا صرف ایک آدھ اشارہ پر ہی اکتفا کروں گا۔ مثلاً قرآن میں تقریباً سات سو مقامات پر نماز کی ادائیگی کا حکم ہے۔ مگر اس کی مکمل ترکیب کسی ایک جگہ بھی مذکور نہیں۔ یہ ہمیں صرف آپ کے نماز ادا کرنے سے معلوم ہوئی۔ یہ حکمت ہے اور حکمت عملی لیکن یہ حکمت قرآن میں مذکور نہیں۔ اور عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت کے مطابق آپ صحابہ کو التشہد اسی طرح پڑھاتے اور یاد کراتے اور پھر سنتے تھے جیسے قرآنی آیات پڑھاتے تھے اور حکمت علمی اور عملی دونوں قرآن میں مذکور نہیں۔ یہی حال باقی سب احکام کا ہے۔ گویا قرآن کے حکیم ہونے کے باوجود حکمت کا کثیر حصہ سنت نبوی سے ہمیں معلوم ہوا ہے۔
53 تبلیغ دین میں ازواج کا کردار :۔ لفظ واذْ کُرْنَ کے دو معنی ہیں ایک معنی یاد رکھو اور دوسرا معنی بیان کرو پہلے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ اے نبی کی بیویو ! تمہارا گھر وہ گھر ہے جہاں سے دنیا بھر کو آیات الٰہی اور حکمت و دانائی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ لہذا تم اس بات کو خوب یاد رکھو اور اچھی طرح ذہن نشین کرلو کہ اس معاملہ میں تمہاری ذمہ داری بڑی سخت ہے۔ تمہیں اپنا ہر عمل اللہ اور اس کے رسول کی منشا کے مطابق کرنا ہوگا اور دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ جو کچھ تم آیات الٰہی اور حکمت کی باتیں سنو اور دیکھو۔ اسے لوگوں کے سامنے بیان کرو۔ کیونکہ زندگی کا ایک اہم پہلو یا گھریلو زندگی سے متعلق بہت سے امور ایسے ہیں جو تمہارے علاوہ کسی اور ذریعہ سے معلوم نہیں ہوسکتے۔
Ayah 33:3554 اسلام کی دس بنیادی اقدار :۔ اس آیت میں مسلمانوں کی دس ایسی صفات کا ذکر آیا ہے جنہیں اسلام کی بنیادی اقدار کا نام دیا جاسکتا ہے۔ پہلی صفت اسلام لانا ہے۔ اور اس کا انحصار دو شہادتوں پر ہے کہ جو شخص یہ اقرار کرے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ وہ دائرہ اسلام میں داخل ہوجاتا ہے۔ اسلام کے بعد دوسری صفت ایمان ہے۔ ایمان کا مطلب یہ ہے کہ دو شہا دتیں اس کے دل میں جانشین ہوجائیں اور دل بھی ان کی تصدیق کرے اور انسان اسلام کے تقاضے اور بنیادی ارکان کے لئے مستعد ہوجائے۔ جب تک انسان دعویٰ اسلام کے ساتھ دل کی تصدیق اور ساتھ ہی ساتھ اعمال صالح بجا نہ لائے اس کے ایمان کے دعویٰ کو غلط اور جھوٹ سمجھا جائے گا۔ تیسری صفت یہ ہے کہ وہ لوگ صرف زبانی حد تک ہی اللہ کے اور اس کے رسول کے احکام کے قائل نہیں ہوتے۔ بلکہ عملی لحاظ سے بھی ہر وقت انھیں ماننے پر اور مطیع فرمان بن کر رہنے پر تیار رہتے ہیں۔ چوتھی صفت یہ ہے کہ وہ سچے اور راست باز ہوتے ہیں۔ اپنے معاملات میں جھوٹ، مکر، ریا کاری اور دغا بازی سے حتی الوسع اجتناب کرتے ہیں۔ پانچویں صفت یہ ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہیں۔ نیز احکام الٰہی پر پورے صبر و ثبات کے ساتھ عمل پیرا ہوتے ہیں۔ چھٹی صفت یہ ہے کہ ان میں تکبر نام کو نہیں ہوتا۔ ان کی وضع قطع، چال ڈھال، اور گفتگو کبر و نخوت سے پاک ہوتی ہے۔ اس کے بجائے ان میں دوسروں کے لئے تواضع اور انکسار موجود ہوتا ہے۔ وہ ہر ایک سے عزت و احترام سے پیش آتے ہیں۔ اس مقام پر لفظ خاشعین استعمال ہوا ہے اور خشوع کے معنی ایسا خوف یا جذبہ ہے جس کے اثرات جوارح پر ظاہر ہونے لگیں۔ پھر یہی لفظ بول کر اس سے نماز بھی مراد لی جاسکتی ہے کیونکہ خشوع ہی نماز کی روح ہے اور یہاں نماز مراد لینا اس لحاظ سے بھی مناسب ہے کہ آگے صدقہ اور روزہ کا ذکر آرہا ہے۔ ساتویں صفت یہ ہے کہ وہ متصدق ہوتے ہیں اور اس لفظ میں تین مفہوم شامل ہیں۔ ایک یہ کہ وہ زکوٰ ۃ (فرضی صدقہ) ادا کرتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ نفلی صدقات سے محتاجوں کی احتیاج کو دور کرتے اور ان کاموں میں خرچ کرتے ہیں جن کا شریعت نے حکم دیا ہے اور تیسرا یہ کہ اگر کسی سے قرض وغیرہ لینا ہو تو وہ معاف کردیتے ہیں۔ یعنی اپنے حق سے دستبردار ہوجاتے ہیں۔ آٹھویں صفت یہ ہے کہ وہ فرضی روزے تو ضرور رکھتے ہیں ان کے علاوہ نفلی روزے بھی حسب توفیق رکھتے ہیں۔ نویں صفت یہ ہے کہ وہ زنا سے بھی بچتے ہیں اور عریانی اور برہنگی سے بھی اجتناب کرتے ہیں اور دسویں صفت یہ ہے کہ وہ اپنے اکثر اوقات میں اللہ کو یاد کرتے ہیں اور یاد رکھتے ہیں۔ یاد کرنے سے مراد تسبیح و تہلیل اور اللہ کے ذکر سے زبان کو تر رکھنا ہے اور یاد رکھنے سے مراد یہ ہے کہ وہ کوئی کام کریں انھیں ہر وقت دل میں اللہ کا خوف رہتا ہے۔ جو انھیں اللہ کی نافرمانی سے بچاتا ہے۔ اور حقیقت ہے کہ تمام عبادتوں کی روح یہی اللہ کا ذکر یا اللہ کی یاد ہے۔ باقی سب عبادتوں کا کوئی نہ کوئی وقت ہوتا ہے مگر اس عبادت کا کوئی وقت مقرر نہیں۔ اور یہ ہر وقت کی جاسکتی ہے اور اسی اللہ کی یاد سے ہی یہ معلوم ہوتا ہے کہ بندے کا اپنے اللہ سے تعلق کس حد تک مضبوط ہے یا کمزور ہے۔
خعام طور پر مردوں کو ہی کیوں مخاطب کیا جاتا ہے اعمال کے اجر میں مرد اور عورت برابر ہیں :۔ اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ بعض ازواج مطہرات نے رسول اللہ سے عرض کیا کہ قرآن میں عام طور پر مردوں کو ہی خطاب کیا گیا ہے۔ عورتوں کا ذکر کم ہی ہوتا ہے۔ چناچہ اس آیت میں ایک ایک صفت میں مردوں کے ساتھ عورتوں کا بھی ذکر کیا گیا۔ اور یہ بعض ازواج (سیدہ ام سلمہ) کا محض جذبہ اشتیاق ہی تھا کہ عورتوں کا الگ سے نام لیا جانا چاہئے۔ ورنہ ہر زبان کا اور اسی طرح عربی زبان کا یہ ہی دستور ہے کہ جب کسی مردوں اور عورتوں کے مشترکہ اجتماع کو خطاب کرنا ہو تو جمع مذکر کا صیغہ ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ اور عورتیں بالتبع اس خطاب میں شامل ہوتی ہیں۔ چناچہ اس آیت میں یہ وضاحت کردی گئی کہ عمل کرنے والا مرد ہو یا عورت کسی کی محنت اور کمائی اللہ کے ہاں ضائع نہیں جاتی۔ دوسرے یہ کہ ان دونوں کی کمائی کے اجر میں کچھ فرق نہ ہوگا۔ اخلاقی ترقی اور روحانی کمال دونوں کے سامنے ایک جیسا وسیع ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ مردوں کا دائرہ عمل عورتوں کے دائرہ عمل سے الگ ہے۔ مرد کے لئے اگر جہاد میں بڑا درجہ ہے تو عورتوں کے لئے اولاد کی صحیح تربیت میں بڑا درجہ ہے۔ البتہ جن مسائل کا تعلق ہی عورتوں سے ہے ان میں عورتوں کو ہی خطاب کیا گیا ہے۔
Ayah 33:3655 آزاد شدہ غلاموں کا معاشرہ میں مقام :۔ اس سورة کے آغاز میں پہلے بتایا جاچکا ہے کہ عرب معاشرہ میں کثیر تعداد غلاموں کی تھی۔ اور غلاموں کو ایک حقیر اور دوسرے درجہ کی مخلوق سمجھا جاتا تھا۔ حتیٰ کہ اگر کوئی غلام آزاد کردیا جاتا، جسے مولیٰ کہا جاتا تھا، تو بھی آزاد لوگوں کا معاشرہ اسے اپنے آپ میں جذب کرنے کے لئے تیار نہ ہوتا تھا۔ اسلام اس معاشرتی بگاڑ کی اصلاح کرنا چاہتا تھا۔ اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہوا کہ اس اصلاح کا آغاز نبی کی ذات اور اس کے گھرانہ سے کیا جائے۔
خ سیدہ زینب کا اللہ اور اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنا :۔ آپ کا ایک غلام زید بن حارثہ تھا جسے آپ نے آزاد کرنے کے بعد اسے اپنا متبنّی بھی بنا لیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود آزاد لوگ اسے معاشرتی لحاظ سے اپنے برابر کا درجہ دینے کو تیار نہ تھے۔ آپ نے زید کے لئے اپنی پھوپھی زاد بہن زینب کا رشتہ طلب کیا۔ تو ان لوگوں کو یہ بات توہین آمیز معلوم ہوئی اور سخت ناگوار گزری۔ اسی وجہ سے ان لوگوں نے رشتہ دینے سے انکار کردیا۔ مگر اللہ کو منظور تھا کہ یہ کام ضرور ہونا چاہئے۔ اسی ضمن میں یہ آیت نازل ہوئی۔ چناچہ آپ نے یہ آیت سیدہ زینب بنت جحش کو سنائی تو انہوں نے اللہ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کردیا اور یہ رشتہ قبول کرلیا۔ اور سیدنا زید کا زینب بنت جحش سے نکاح ہوگیا۔
Ayah 33:3756 آپ کے سیدنا زید بن حارثہ پر احسانات :۔ اس شخص سے مراد زید بن حارثہ ہیں۔ ان پر اللہ اور اللہ کے رسول کا احسان یہ تھا کہ آپ قبیلہ کلب کے ایک شخص حارثہ بن شرحبیل کے بیٹے تھے۔ آٹھ سال کے ہی تھے کہ ایک قبائلی جنگ میں گرفتار ہوئے ان حملہ آوروں نے انھیں عکاظ کے میلہ میں جاکر بیچ ڈالا۔ خریدنے والے سیدہ خدیجہ ؓ کے بھتیجے حکیم بن حزام تھے۔ انہوں نے مکہ آکر اس غلام کو اپنی پھوپھی سیدہ خدیجہ ؓ کی خدمت میں تحفتا ً پیش کردیا۔ جب رسول اللہ کا سیدہ خدیجہ ؓ سے نکاح ہوا اس وقت زید بن حارثہ 15 سال کے تھے۔ ان کی عادات واطوار رسول اللہ کو اس قدر پسند آئیں کہ آپ نے سیدہ خدیجہ ؓ سے اپنے لئے مانگ لیا اور انہوں نے آپ کو دے دیا۔ کچھ عرصہ بعد سیدنا زید کے لواحقین کو آپ کا سراغ مل گیا تو سیدنا زید کے والد، چچا اور بھائی تین افراد رسول اللہ کے پاس آئے اور عرض کی کہ آپ جتنا زر فدیہ چاہیں لے لیں اور بچے کو ہمارے ساتھ بھیج دیں۔ آپ نے انھیں کہا میں زرفدیہ کچھ نہیں لیتا۔ البتہ تم زید سے پوچھ لو۔ اگر وہ تمہارے ساتھ جانا چاہتا ہے تو مجھے کچھ عذر نہ ہوگا۔ انہوں نے سیدنا زید سے جانے کو کہا تو سیدنا زید نے ہمراہ جانے سے انکار کردیا اور کہا کہ مجھے یہاں والدین سے بڑھ کر پیار اور شفقت میسر ہے۔ چناچہ سیدنا زید کے لواحقین واپس چلے گئے۔ اس کے بعد آپ نے سیدنا زید کو کعبہ میں لے جاکر سب کے سامنے اعلان کردیا۔ کہ میں نے زید کو آزاد کردیا ہے اور اسے اپنا متبنّیٰ بنا لیا ہے۔ لہذا یہ میرا وارث ہوگا۔ آپ کے اس اعلان کے بعد لوگ آپ کو زید بن حارثہ کے بجائے زید بن محمد کہنے لگے۔
57 اللہ اور اس کے رسول کے سیدنا زید پر احسانات :۔ سیدنا زید پر اللہ اور اس کے رسول کا دوسرا احسان یہ تھا کہ آپ نے اپنے ہی قبیلہ سے جو معاشرتی لحاظ سے بہت اونچے درجے کا شریف قبیلہ شمار ہوتا تھا، سیدنا زید کے لئے رشتہ طلب کرلیا۔ لیکن چونکہ سیدنا زید پر سابقہ غلامی کا داغ موجود تھا۔ لہذا سیدہ زینب خود اور اس کے اولیاء نے اس رشتہ کے مطالبہ میں ہی اپنی توہین سمجھی تو اللہ نے ان لوگوں کو بذریعہ وحی بتادیا کہ یہ نبی کی خواہش نہیں بلکہ میرا حکم ہے۔ اس حکم الٰہی کے سامنے ان لوگوں نے سر تسلیم خم کردیا۔ ورنہ یہ رشتہ یا نکاح ہوجانا ناممکن نظر آرہا تھا۔ اللہ کے حکم کے تحت سیدہ زینب سے نکاح تو ہوگیا لیکن معاشرتی تفاوت ذہنوں سے اتنی جلد دور نہ ہوسکا اور نہ ہوسکتا ہے اور سیدہ زینب اپنے شوہر کا وہ احترام نہ کرسکیں جو انھیں کرنا چاہیے تھا۔ اسی لئے سیدنا زید اس بات کا رسول سے شکوہ کرتے رہے دریں اثناء آپ کو بذریعہ وحی یہ اشارہ مل چکا تھا کہ زینب کا آپ سے نکاح ہوگا اس اشارہ سے کئی باتیں معلوم ہو رہی تھیں۔ ایک یہ کہ سیدنا زید طلاق دیئے بغیر نہ رہیں گے۔ دوسرے یہ کہ سیدہ زینب نے اور ان کے اولیاء نے اللہ کے حکم کے سامنے اپنی خواہش کی جو قربانی کی ہے اس کا صلہ انھیں اس صورت میں ملے کہ نبی خود اس سے نکاح کرلیں اور تیسرے یہ کہ معاشرہ میں جو متبنّیٰ سے متعلق غلط باتیں رواج پا گئی ہیں ان کا استیصال کیا جائے۔
58 آپ کونسی بات دل میں چھپاتے تھے ؟ آپ سیدنا زید کی شکایت پر ہر بار اسے ہی سمجھاتے رہے کہ جب اس عورت نے اپنی خواہش کی قربانی دے کر تم سے نکاح کرلیا ہے تو آخر تمہیں بھی کچھ برداشت سے کام لینا چاہئے۔ آپ کے زید کو طلاق سے منع کرنے اور اس طلاق کے معاملہ کو التوا میں ڈالے رکھنے سے آپ کا مقصد یہ بھی تھا کہ جب بھی طلاق واقع ہوگئی تو سیدہ زینب کو مجھے اپنے نکاح میں لانا ہوگا۔ اس وقت مجھے تمام دشمنان اسلام کے طعن وتشنیع کا نشانہ بننا پڑے گا۔ یہ تھی وہ بات جسے آپ دل میں چھپانا چاہتے تھے۔ جیسا کہ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اگر آپ قرآن سے کوئی آیت چھپانے والے ہوتے تو اس آیت کو ضرور چھپاتے۔
اگرچہ دلوں کے خیالات پر اللہ تعالیٰ مؤاخذہ نہیں فرماتا مگر چونکہ آپ کی عظمت شان کے لحاظ سے دل میں ایسا خیال آنا بھی فروتر تھا۔ اس لئے ایسے خیال پر بھی اللہ کی طرف سے عتاب نازل ہوا۔
59 اس جملہ کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ جب اپنی بیوی سے اپنی نفسانی خواہش پوری کرچکا تو طلاق دے دی اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ سیدنا زید کی خواہش ہی یہ تھی کہ اسے طلاق دے دیں۔ چناچہ انہوں نے طلاق دے دی اور عدت گزر گئی۔
60 اللہ کا حکم ہی زینب کے لئے نکاح کے قائم مقام تھا :۔ اس کے بھی دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ یہ نکاح تم نے اپنی مرضی اور اپنی خواہش کے مطابق نہیں کیا تھا بلکہ ہمارے حکم کے مطابق کیا تھا اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہ نکاح اس دنیا میں ہوا ہی نہیں تھا، بلکہ اللہ کا یہ حکم ہی نکاح کا درجہ رکھتا تھا اور یہی مطلب درج ذیل احادیث کی رو سے راجح معلوم ہوتا ہے :
1۔ سیدنا انس فرماتے ہیں کہ زید بن حارثہ اپنی بیوی (زینب بنت جحش) کا شکوہ کرنے آتے تو آپ ان سے فرماتے تھے : اللہ سے ڈر اور اپنی بیوی کو اپنے پاس ہی رہنے دے۔ سیدہ عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ آپ قرآن سے کچھ چھپانے والے ہوتے تو اس آیت کو چھپاتے اور سیدنا انس کہتے ہیں کہ بی بی زینب رسول اللہ کی دوسری بیویوں پر فخر کیا کرتیں کہ تم کو تو تمہارے اولیاء نے بیاہا اور مجھے اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سے بیاہ دیا۔ (بخاری۔ کتاب التوحید۔ باب قولہ وکان عرشہ علی المائ)
2۔ سیدنا انس فرماتے ہیں کہ جب سیدہ زینب کی عدت پوری ہوگئی تو آپ نے سیدنا زید سے کہا کہ زینب سے میرا ذکر کرو۔ زید کہتے ہیں کہ جب میں ان کے پاس آیا تو وہ اپنے آٹے کا خمیر اٹھا رہی تھیں۔ میں ان کی عظمت کی وجہ سے انھیں نظر بھر کر نہ دیکھ سکا کیونکہ رسول اللہ نے انھیں یاد کیا تھا۔ پھر میں نے ان سے کہا : زینب مجھے رسول اللہ نے بھیجا ہے۔ وہ آپ کو یاد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا : میں اس وقت تک کوئی بات نہیں کرتی جب تک اپنے پروردگار سے مشورہ نہ کرلوں (استخارہ نہ کرلوں) پھر وہ اپنی جائے نماز پر کھڑی ہوئیں تو قرآن اترا اور رسول اللہ بغیر اذن کے ان کے پاس چلے گئے۔ (مسلم۔ کتاب النکاح۔ باب زواج زینب بنت جحش)
61 وہ اللہ کا حکم یہ تھا کہ متبنّیٰ اصل بیٹے کا مقام نہیں رکھتا کہ اس کی مطلقہ بیوی حرام ہوجائے اور اللہ اس غلط رسم کو بہرحال ختم کرنا چاہتا تھا۔
Ayah 33:3862 یعنی اللہ کا یہ حکم ایسا تھا۔ جس کا اللہ پہلے ہی فیصلہ کرچکا تھا اور یہ نکاح کرنا نبی پر فرض کیا گیا تھا۔ کیونکہ اللہ اپنے نبی کے ذریعہ ہی اس رسم کو مٹانا چاہتا تھا۔ اور یہ کام بہرحال ہو کر ہی رہنا تھا۔ سابقہ انبیاء میں بھی اللہ کی سنت یہی رہی ہے کہ اللہ کا حکم بہرحال انھیں سرانجام دینا ہوتا تھا خواہ اس سلسلہ میں کتنی ہی مشکلات پیش آئیں اور پریشانیاں لا حق ہوں۔
Ayah 33:3963 باز پرس سے ڈرنے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہر طرح کے خطرے اور پریشانیوں کے مقابلہ میں اللہ کافی ہے۔