32. Surah As-Sajda

السجدةThe Prostration · 30 ayahsتیسیر القرآن

Ayahs 32:1–2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 32:2 in the Quran reader

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ کتاب (قرآن) پروردگار عالم کی طرف سے 1 نازل شدہ ہے۔

1 اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں اور دونوں ہی درست ہیں۔ ایک تو ترجمہ سے ہی واضح ہے یعنی اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ کتاب فرمانروائے کائنات کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب جو فرمانروائے کائنات کی طرف سے نازل شدہ ہے اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس آیت میں دراصل مشرکین مکہ کے کئی اعتراضات کا جواب آگیا ہے۔ کبھی وہ کہتے تھے کہ اسے کوئی عجمی سکھلا جاتا ہے۔ کبھی کہتے ہیں کہ اس نے خود ہی تصنیف کر ڈالی ہے۔ اس اعتراض کے پہلو بیشمار تھے مگر سب کا ماحصل یہی تھا کہ یہ کتاب نہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے، نہ ہی یہ اللہ کا رسول ہے۔ بلکہ اس نے خود بعض دوسرے لوگوں کی مدد سے اسے گھڑ کر یہ بات اللہ کے ذمہ لگا دی ہے جیسا کہ اگلی آیت سے ظاہر ہے۔
Ayah 32:3

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 32:3 in the Quran reader

کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ اس (نبی) نے اس (قرآن) کو خود ہی گھڑ لیا ہے (بات یوں نہیں) بلکہ یہ آپ کے پروردگار 1۔ الف کی طرف سے حق ہے۔ تاکہ آپ اس قوم کو ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا 2 ۔ شاید وہ ہدایت 3 پاجائیں

سوچنے کی بات ہے کہ کوئی انسان صرف اسی موضوع پر کتاب لکھ سکتا ہے جس میں اسے مہارت حاصل ہو اور لوگوں میں وہ اس فن کے عالم کی حیثیت سے کسی حد تک معروف ہو۔ اور تصنیف اس لئے کرتا ہے کہ وہ لوگوں پر اپنی علمیت اور مہارت کا سکہ بٹھائے اور لوگوں میں اور اس کی کتاب کو عام مقبولیت حاصل ہو۔ لیکن یہاں معاملہ سارے کا سارا اس سے بالکل برعکس تھا۔ نبوت کے بعد آپ نے جو کلام پیش کیا۔ نبوت سے پیشتر آپ نے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کہی تھی جس سے نبوت کے بعد اسے کلام کے لئے کوئی اشارہ تک بھی پایا جاتا ہو۔ پھر آپ نے جو کلام پیش کیا جو ان لوگوں کی عادات، رسوم، مزاج اور طباع کے یکسری مخالف تھا اس سے آپ کا لوگوں میں مقبول ہونا تو دور کی بات ہے۔ آپ نے گویا یہ کلام پیش کرکے کسی بھڑوں کے چھتے کو چھیڑ دیا۔ جس سے پوری قوم آپ کی دشمن بن گئی۔ اب کفار سے سوال یہ ہے کہ کیا کوئی شخص ایسا کام اپنی مرضی سے کرسکتا ہے جس سے سب لوگ اس کے دشمن بن جائیں ؟ اور اگر یہ بات عقلاً محال ہے تو پھر یہی صورت باقی رہ جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس کام پر مامور کیا ہے کہ وہ اللہ کا کلام لوگوں نے سامنے پیش کردے۔ اس سے لوگ اس کے مخالف ہوتے ہیں۔ تو ہوجائیں، اسے دکھ پہنچاتے ہیں تو پہنچا لیں اور اس کے دشمن بنتے ہیں تو بن جائیں مگر وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت قاہرہ کے سامنے اس بات کا پابند ہے کہ حالات خواہ کتنے ہی ناخوشگوار پیش آئیں وہ اللہ کا کلام لوگوں تک پہنچا دے۔ 2 عرب میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے مدتوں پہلے حضرت ہود، قوم عاد کی طرف مبعوث ہوئے تھے اور صالح قوم ثمود کی طرف ان کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل مبعوث ہوئے۔ پھر ان کے بعد حضرت شعیب پیدا ہوئے۔ باقی زیادہ تر انبیاء شام اور فلسطین کے علاقہ میں بھی مبعوث ہوتے رہے۔ حضرت شعیب اور رسول اللہ کا درمیانی وقفہ دو ہزار سال کے لگ بھگ ہے۔ اور چونکہ یہ دو ہزارسال کی مدت بھی ایک طویل مدت ہے جس میں بہت سے انبیاء عرب کی حدود سے باہر مبعوث ہوتے رہے۔ اسی لئے فرمایا کہ اہل عرب کے پاس پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ 3 یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب دو ہزار سال تک اہل عرب کے ہاں کوئی رسول ہی نہ آیا ہو نہ ہی اللہ کی طرف سے حجت پوری ہوئی ہو تو پھر ان لوگوں کو ان کے کفر و شرک کی بنا پر عذاب کیوں کر ہوگا جبکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ وہ عذاب سے پہلے لوگوں پر حجت پوری کرلیتا ہے اور کسی پر ذرہ بھی ظلم و زیادتی نہیں کرتا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ انبیاء کی تعلیم ان لوگوں تک بھی برابر پہنچتی رہی تھی۔ کیونکہ ان لوگوں کا شام و فلسطین کے لوگوں سے گہرا میل جول بھی تھا اور تجارتی قافلے بھی آتے جاتے رہتے تھے لہذا ان مشرکین مکہ میں بھی ایسے لوگ ہر دور میں موجود رہے جو شرک سے بیزار اور توحید کے قائل تھے بعثت نبوی کے وقت بھی ایسے لوگ موجود تھے جو شرک سے بیزاری کے علاوہ شراب نوشی، حمیۃ جاہلیہ اور جدال و قتال سے بھی متنفر تھے۔ لیکن انھیں کوئی واضح راہ نہیں مل رہی تھی۔ نہ ہی ایسے لوگوں کے باہمی اتحاد کی کوئی صورت ممکن تھی۔ ایسے لوگوں کو جب ایک پیغمبر کے مبعوث ہونے کی خبر ملی تو گویا ان لوگوں کے دل کی مراد بر آئی اور وہ فوراً اسلام لے آئے۔ ان میں سرفہرت تو ورقہ بن نوفل ہیں جو بعثت کے وقت صاحب فراش تھے۔ جلد ہی فوت ہوگئے اور انھیں باقاعدہ اسلام لانے کے اعزاز حاصل نہ ہوسکا۔ باقی حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، حضرت عثمان بن مظعون ؓ ، حضرت صہیب رومی ؓ ، حضرت ابوذر ؓ غفاری ؓ ، حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل وغیرہ سب کے سب شرک سے بیزار اور موحد تھے۔ جو فوراً اسلام لے آئے تھے۔ پھر بیشمار ایسے موحد بھی ہمیں تاریخ میں ملتے ہیں جو آپ کی بعثت سے پیشتر فوت ہوچکے تھے اور یہ سب انبیائے بنی اسرائیل کی تعلیمات کا اثر تھا۔
Ayah 32:4

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍ١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 32:4 in the Quran reader

اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کچھ چھ دنوں میں پیدا کیا پھر عرش 4 پر قائم ہوا۔ اس کے سوا تمہارا نہ کوئی سرپرست ہے اور نہ سفارشی 5 ۔ کیا تم کوئی سبق حاصل نہیں کرتے۔

4 (اسْتَوٰي عَلَي الْعَرْشِ ) کی تفسیر کے لئے سورة اعراف آیت نمبر 54 کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔ 5 یعنی جو ہستی اتنی زبردست ہے کہ پوری کائنات کو عدم سے وجود میں لاسکتی ہے اس کے مقابلہ میں تمہارے یہ معبود جنہیں تم اپنا سرپرست اور سفارشی سمجھے بیٹھے ہو تمہارے کس کام آسکتے ہیں۔ کیا تمہیں ایسی موٹی سے بات کی بھی سمجھ نہیں آتی ؟
Ayah 32:5

یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 32:5 in the Quran reader

وہی آسمان سے زمین تک کے انتظام کی تدبیر کرتا ہے۔ پھر ایک روز جس کی مقدار تمہارے حساب سے ایک ہزار سال ہے وہی انتظام 6 اس کی طرف اٹھ جائے گا

6 اس کے تخلیقی کارناموں کی صورت یہ ہوتی ہے کہ وہ ایک کام کا ارادہ کرتا ہے یا اس کی اسکیم بناتا ہے تو تدبیر امور پر مامور فرشتوں کو اس کی خبر دیتا ہے۔ جو اللہ کے حکم کے مطابق نیچے اترے ہیں۔ تمام اسباب ظاہری و باطنی خواہ زمین سے متعلق سے ہوں یا آسمان سے سب کے سب خود بخود جمع ہو کر اس کام کی تکمیل کے احترام میں لگ جاتے ہیں۔ اور ایک دن میں جب یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچ جاتا ہے تو فرشتے اللہ کے حضور حاضر ہو کر اس کی روئداد پیش کردیتے ہیں۔ اور یہ ایک دن اہل دنیا کے حساب کے مطابق ایک ہزار سال کی مدت ہوتی ہے۔ گویا فرشتوں کو ایک ہزار سالہ پروگرام اللہ تعالیٰ دے دیتے ہیں۔ جب سے کام سرانجام پاچکتا ہے تو پھر اگلا ایک ہزارسالہ پروگرام مدبرات امر فرشتوں کے حوالہ کردیا جاتا ہے۔ اسی آیت میں دراصل ان مشرکوں کے اس اعتراض کا جواب دیا جارہا ہے جو اس بات پر مصر تھے اور نبیوں سے کہتے رہتے تھے کہ جس عذاب کی تم دھمکی دیتے ہو وہ آکیوں نہیں جاتا ؟ یا تم اسے ابھی ہم پر لے کیوں نہیں آتے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس ہزار سالہ پروگرام میں کسی قوم پر عذاب آنے کا پروگرام بھی شامل ہوتا ہے۔ اور وہ پروگرام کے مطابق اپنے وقف مقررہ پر ہی آتا ہے اس میں تقدیم و تاخیر نہیں ہوتی اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ جو عذاب کسی قوم کے مقدر ہوچکا ہے وہ اس پر نہ آئے۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے سارے کام سوچے سمجھے پروگرام کے مطابق بروئے کار لاتا ہے۔ تمہارے جلدی مچانے یا نہ مچانے کیا کچھ فائدہ یا اثر نہیں ہوگا۔
Ayah 32:6

ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 32:6 in the Quran reader

یہ (ہے اللہ جو) ہر پوشیدہ اور ظاہر بات کا جاننے والا ہے وہ سب پر غالب 7 اور رحم کرنے والا ہے۔

7 یعنی وہ ہستی جو اتنے بڑے بڑے کارنامے سرانجام دے سکے ضروری ہے کہ اس کا علم لامحدود ہو۔ ہر چیز کی ماہیت اور کیفیت اس کے علم میں ہو اور کوئی بھی چیز اس سے چھپی ہوئی نہ ہو نہ چھپ سکتی ہو۔ پھر یہ بھی ضروری ہے کہ اس میں اتنی قدرت ہو کہ وہ ہر چیز کو اپنی مرضی کے مطابق کام میں لاسکتا ہو۔ نیز اتنی زبردست اور قاہرانہ قدرت رکھنے کے باوجود وہ اپنی مخلوق پر رحیم اور شفیق بھی ہو۔
Ayah 32:7

الَّذِیْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍۚ Open ayah 32:7 in the Quran reader

جس نے جو چیز بھی بنائی خوب 8 بنائی اور انسان کی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی

8 یعنی اللہ تعالیٰ نے جو چیز بھی بنائی اور جس مقصد یا مقاصد کے لئے بنائی تو اسے ایسی شکل و صورت عطا فرمائی جس سے بہتر شکل و صورت کا تصور میں آنا محال ہے۔ اس شکل و صورت پر کوئی بھی حرف گیری نہیں کرسکتا۔ مثلاً پانی اور ہوا میں اس نے جو جو خواص رکھے ہیں اور جن مقاصد کے لئے یہ چیزیں پیدا کی گئی ہیں۔ ان کے لئے یہی شکل و صورت سب سے بہتر تھی۔ یہی صورت ہر جاندار چیز اور نباتات کی ہے۔ کسی بھی چیز کی شکل و صورت بےدھنگی اور بےتکی نہیں ہے۔ انسان کے پورے جسم اور اس کے ایک ایک عضو کا یہی حال ہے۔ مثلاً اللہ نے آنکھ دیکھنے کے لئے اور کان سننے کے لئے بنائے ہیں۔ تو اس مقصد کے لئے جو شکل اللہ نے آنکھ اور کان کی بنادی ہے۔ یہی اس کے لئے بہتر بھی ہے اور خوبصورت بھی۔
Ayah 32:8

ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۚ Open ayah 32:8 in the Quran reader

پھر اس کی نسل کو حقیر 9 پانی (نطفہ) کے سَت سے چلایا۔

9 ان دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے دو اہم تخلیقی کارناموں کی طرف توجہ دلائی ہے پہلا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے مٹی کو مختلف مراحل سے گزار کر انسان کا پتلا اپنے ہاتھ سے تیار کیا پھر اس میں اپنے ہاں سے روح پھونکی تو ایک محیرالعقول اور عظیم الشان چیز وجود میں آگئی۔ جس میں عقل و شعور، قوت ارادہ و اختیار اور قوت تمیز و استنباط سب کچھ موجود تھا اور وہ اس قابل بنادیا گیا کہ وہ خلافت ارضی کا بار اٹھا سکے۔ اور اللہ کا دوسرا محیرالعقول تخلیقی کارنامہ یہ ہے کہ پھر انسان کی نسل کو نطفہ اور توالد و تناسل سے چلا دیا۔ جس سے کروڑوں انسان پیدا ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہ نطفہ کیا ہے ؟ حکما کہتے ہیں کہ یہ چوتھے ہضم کے نتیجہ میں ظہور میں آتا ہے جبکہ خون تیسرے ہضم کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس نطفہ کے ہر قطرہ میں ہزاروں جرثومے ہوتے ہیں اور ایک ایک جرثومہ میں اصل انسان کی شکل و صورت، اس کی عادات اور اس کے خضائل موجود ہوتے ہیں۔ گویا نطفہ کا ایک ایک جرثومہ اس چیز کا چھوٹے سے چھوٹا اور مکمل ترین عکس ہوتا ہے جو صرف طاقتور خوردبین کے ذریعہ سے ہی نظر آسکتا ہے۔
Ayah 32:9

ثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 32:9 in the Quran reader

پھر اسے (رحم مادر) میں درست 10 کیا اور اس میں اپنی (پیدا کی ہوئی) روح پھونکی اور تمہارے کان، آنکھیں اور دل بنائے (مگر) تم کم ہی شکر کرتے ہو۔

10 پھر اسی انتہائی چھوٹے سے جرثومہ کو رحم مادر میں پیوست کیا تو اس کے بالکل ویسے ہی اعضاء بننے لگے اور ان پر گوشت پوست چڑھنے لگا جس چیز کا وہ جرثومہ تھا اللہ تعالیٰ نے پھر اپنی انفرادی توجہ سے اس میں چند نمایاں اختلاف بھی رکھ دیئے۔ لیکن اعصاء کے توازن و تناسب میں کچھ فرق نہ آنے دیا۔ پھر یہ سب کچھ درست کرنے اور آنکھ، ناک، کان، دل وغیرہ سب اعضاء کو درست اور ٹھیک ٹھاک کردینے کے بعد اس میں اپنے ہاں سے روح پھونک دی اور مقررہ وقت کے بعد وہ ایک تندرست اور جیتا جاگتا انسان بن کر رحم مادر سے باہر نکل آیا۔ یہ سب باتیں ایسے بدیہی امور ہیں جو سب انسانوں کے مشاہدہ میں آتی رہتی ہیں۔ پھر بھی انسانوں کی اکثریت ایسی ہے جو نہ ان قدرتوں کا اعتراف کرتی ہے اور نہ ان نعمتوں پر اللہ کا شکر بجا لاتی ہے۔ (نیز دیکھئے سورة حجر کا حاشیہ 19)
Ayahs 32:10–11

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 32:10 in the Quran reader

یہ لوگ کہتے ہیں کہ : جب ہم مٹی میں رل مل جائیں گے تو کیا ازسر نو پیدا کئے جائیں گے ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے پروردگار کی ملاقات 11 ہی کے منکر ہیں

قُلْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 32:11 in the Quran reader

آپ ان سے کہہ دیجئے کہ : موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر ہے تمہاری روح قبض 12 کرلے گا پھر تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

12 یہ کفار کے اعتراض کا مکمل جواب ہے یعنی کفار جو یہ کہتے ہیں کہ جب ہم مٹی میں مل جائیں گے تو یہ ہم کا تصور کہاں سے آیا ؟ واضح سی بات ہے کہ گوشت پوست کے مجموعہ پر لفظ ہم یا تم کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔ اور مرنے کے بعد گوشت پوست تو واقعی مٹی میں مل جائے گا۔ مگر یہ ہم یا تم تو مٹی میں نہیں مل سکتا۔ یہی وہ چیز ہے جو تم میں ہم نے پھونکی تھی۔ جس کی وجہ سے تم لوگ اپنے آپ کو ہم یا تم کہتے ہو۔ اور یہی چیز یا روح ہماری طرف سے تمہاری موت پر مقرر کردہ فرشتہ اپنے قبضہ میں کرلیتا ہے۔ اب تمہاری روح پھر ہمارے پاس آگئی۔ زمین کے جن عناصر سے تم پہلے بنے تھے۔ انھیں عناصر سے تم پھر بھی بنائے جاسکتے ہو۔ بلکہ زیادہ آسانی سے بنائے جاسکتے ہو۔ اور تمہاری روح جو ہمارے قبضہ میں ہے۔ وہ پھر ہم تمہارے اجسام مٹی سے ہی بنا کر ان میں ڈال دیں گے اور اپنے پاس تمہیں لا حاضر کریں گے۔ اس وقت بھی وہی ہم تم میں موجود ہوگا۔ جو آج موجود ہے۔ اور اسی ہم سے تمہارے اعمال کی باز پرس ہوگی۔ واضح ہے کہ یہاں روح سے مراد روح حیوانی نہیں ہے جو ہر ذی حیات کو متحرک کرنے کا سبب ہوتا ہے۔ بلکہ یہاں روح سے مراد روح انسانی ہے۔ جس کی بنا پر انسان دوسرے تمام حیوانات سے ممتاز ہوا۔ اسے عقل و شعور بخشا گیا اور ارادہ و اختیار دے کر خلافت ارضی کا حامل بنایا گیا۔
Ayah 32:12

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:12 in the Quran reader

کاش آپ دیکھیں جب مجرم اپنے پروردگار کے حضور سرجھکائے کھڑے ہوں گے (اور کہیں گے) اے ہمارے رب ! ہم نے (سب کچھ) دیکھ لیا اور سن لیا لہذا ہمیں واپس بھیج دے کہ ہم اچھے عمل کریں 13 ۔ اب ہمیں یقین آگیا ہے۔

13 ان کا یہ مطالبہ بھی بالکل عبث ہوگا کیونکہ انسان کو عقل و شعور تو اس لئے دیا گیا تھا کہ ان سے کام لیتے ہوئے اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائے اور یہی ایمان بالغیب کا مطلب ہے۔ اور اسی چیز کا انسان سے مطالبہ ہے۔ پھر جب انسان نے اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ لیا تو اس کا ایمان اضطراری ہوا، اختیاری نہ رہا۔ نہ ہی اسے ایمان بالغیب کہ سکتے ہیں۔ اس مقام پر ان کے اس مطالبہ پر جواب نہیں دیا گیا۔ جبکہ ایک دوسری جگہ پر یہ جواب دیا گیا ہے کہ اگر دوبارہ دنیا میں بھیجنا انسان کا دستور نہیں تاہم بفرض محال اگر ہم انھیں دوبارہ دنیا میں بھیج بھی دیں تو پھر یہ لوگ ویسے ہی کام کریں گے جیسے پہلے کرکے آئے ہیں۔ یہ لوگ پھر دنیا اور اس کی دلفریبیوں پر ویسے مفتون ہوجائیں گے جیسا کہ پہلے تھے۔ اور پہلی سی شرارتیں پھر شروع کردیں گے۔
Ayah 32:13

وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 32:13 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو (پہلے ہی) ہر شخص کو ہدایت دے 14 دیتے لیکن میری بات پوری ہو کے رہی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے 15 بھر دوں گا۔

14 یعنی ہمیں انسان کے اضطراری ایمان کی ضرورت نہیں۔ اس صورت میں انسان کو اختیار دینا بالکل عبث تھا۔ اب چونکہ اسے اچھے یا برے راستہ کی تمیز بھی اسے بخش دے گئی ہے اور ان میں سے کسی ایک راہ کے انتخاب کا اختیار دے دیا گیا ہے۔ لہذا اب اللہ کا کام یہ نہیں کہ ہر ایک کو ہدایت کی راہ پر لانے پر مجبور کردے۔ بلکہ یہ ہے کہ جس راہ پر کوئی چلتا ہے۔ اسی راستہ کے لئے اسے توفیق دے دے۔ 15 اللہ تعالیٰ کی تمام جاندار مخلوق میں سے جن اور انسان دو نوع ایسی ہیں۔ جن کو اللہ نے قوت تمیز اور قوت ارادہ و اختیار بخشی ہے۔ اور یہی دو انواع شریعت الٰہی کی مکلف ہیں۔ انھیں کے لئے یہ دنیا دارالامتحان ہے۔ انسانوں سے پہلے جنات ہی اس زمین پر آباد تھے۔ جب ان میں سرکشی بڑھی تو اللہ نے ایک دوسری مخلوق انسان کو ان کا جانشین بنادیا۔ پہلے نبوت کا سلسلہ جنوں میں تھا۔ پھر یہ سلسلہ نبوت انسان کی طرف منتقل ہوگیا۔ جو نبی انسانوں کی طرف مبعوث ہوتا وہی جنوں کے لئے بھی ہوتا تھا۔ اور جن بھی بالتبع اسی نبی کی اطاعت کے پابند بنا دیئے گئے۔ لیکن حضرت انسان بھی سرکشی اور انکار حق میں جنوں سے پیچھے نہ رہا۔ دونوں نے اللہ کے عطا کردہ اختیار کا ناجائز اور غلط استعمال کیا۔ دونوں انواع کی اکثریت دنیا پر فریفتہ ہو کر اس امتحان میں فیل ہوگئی۔ جنوں اور انسانوں کے شیاطین نے خلقت کو اللہ کی راہ سے روکنے اور انھیں گمراہ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اور یہ سب باتیں اللہ کے علم میں پہلے سے موجود نہیں کہ جنوں اور انسانوں کی اکثریت اس امتحان میں ناکام ہو کر جہنم کا ایندھن بنے گی۔ اس حقیقت کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مختلف مقامات پر مختلف پیرایوں میں بیان کیا ہے کبھی اس ناکامی کی نسبت اپنی طرف کی ہے کبھی شیاطین جن و انس کی طرف اور کبھی ان گمراہوں کی طرف۔
Ayah 32:14

فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ۚ اِنَّا نَسِیْنٰكُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:14 in the Quran reader

پس اب اس بات کا مزا چکھو۔ جو تم نے اس دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا۔ اب ہم نے بھی تمہیں 16 بھلا دیا ہے اور جو کچھ تم کرتے رہے اس کی پاداش میں اب دائمی عذاب کا مزا چکھو

16 یعنی تم دنیا کی دلفریبیوں میں اس قدر منہمک ہوئے کہ ہمیں کبھی بھولے سے بھی یاد نہ کیا۔ اور ساری عمر اللہ کی نافرمانیوں اور سرکشی میں گسار دی۔ اب جہنم میں پڑے رہو اور اپنے اعمال کی سزا بھگتو۔ ہماری طرف سے کسی طرح کے رحم اور مہربانی کی توقع نہ رکھو۔ ہم بھی تمہیں ابدالاباء تک یہیں جہنم میں پڑا رہنے دیں گے اور اسی طرح تمہیں بھلا دیں گے جیسے دنیا میں تم نے ہمیں بھلا رکھا تھا۔
Ayah 32:15

اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩ Open ayah 32:15 in the Quran reader

ہماری آیات پر تو وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب انھیں ان آیات سے نصیحت کی جاتی ہے۔ تو سجدہ 17 میں گرپڑتے ہیں اور اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔

17 ایمان لانے والوں کی صفات انکار کرنے والوں سے بالکل جداگانہ ہوتی ہیں۔ ان کے دلوں میں ضد، ہٹ دھرمی اور عناد نہیں ہوتا، ان کی طبیعتیں اتنی سلیم ہوتی ہیں کہ حق بات کو قبول کرنے پر فوراً آمادہ ہوجاتی ہیں۔ ان میں تکبر اور غرور نام کو نہیں ہوتا۔ بلکہ انھیں جب اللہ تعالیٰ کے عجائبات اور کارنامے بتلائے جاتے ہیں تو اللہ کی عظمت سے ان کے دل فوراً دہل جاتے ہیں وہ قبول حق پر فوراً آمادہ ہوجاتے ہیں پھر اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور ان کی زبانوں پر اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح و تقدیس جاری ہوجاتی ہے۔ اس آیت پر سجدہ ہے۔ اس کو پڑھنے اور سننے والوں کو یہاں سجدہ کرنا چاہئے تاکہ وہ بھی ان صفات میں شامل ہوجائیں جو اللہ تعالیٰ نے ایمانداروں کی بیان فرمائی ہیں۔ اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ : رسول اللہ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں (الم تنزیل السجدۃ) اور ( هَلْ اَتٰى عَلَي الْاِنْسَانِ حِيْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْـــًٔا مَّذْكُوْرًا ۝) 76 ۔ الإنسان :1) پڑھا کرتے تھے۔ (بخاری۔ کتاب الصلوۃ باب ماجاء فی سجود القرآن و سنتہا)
Ayah 32:16

تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١٘ وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 32:16 in the Quran reader

ان کے پہلو بستروں 18 سے الگ رہتے ہیں۔ وہ اپنے پروردگار کو خوف اور امید سے پکارتے ہیں اور جو رزق ہم نے انہیں 19 دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

18 اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ساری رات سوتے ہی نہیں۔ بلکہ یہ ہے کہ جس طرح دنیا دار لوگ دن بھر محنت کرکے رات کو دادعیش دیتے ہیں۔ رقص و سرود کی محفلیں قائم کرتے ہیں۔ شراب نوشی کے دور چلتے ہیں۔ سینما اور کلب گھروں کا رخ کرتے ہیں۔ اور کچھ نہیں تو ٹیوی پر ہی اپنا دل بہلا لیتے ہیں۔ اللہ کے بندے ان کے برعکس اپنا وقت اللہ کی یاد میں گزارتے ہیں۔ یہی ان کی تفریح طبع ہوتی ہے۔ وہ راتوں کو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اور جتنا وقت دنیا دار اللہ کی نافرمانیوں میں گزارتے ہیں اللہ کے بندے اس کی فرمانبرداری اور عبادت میں گزارتے ہیں۔ وہ عذاب جہنم سے ڈر کر اور جنت کی امید رکھ کر اللہ کو پکارتے ہیں یا عبادت تو اللہ کی رحمت اور مہربانی کی امید رکھ کر کرتے ہیں۔ مگر ساتھ ہی ساتھ اللہ سے ڈرتے بھی رہتے ہیں کہ کہیں ان کے اس عمل میں کچھ تقصیر نہ رہ جائے۔ اور وہ اللہ کے ہاں مقبول ہی نہ ہو۔ تاہم ان میں اللہ سے حسن ظن یا اس کی رحمت اور مہربانی کا پہلا ہی غالب رہتا ہے۔ اور یہ پہلو زندگی بھر غالب رہتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اس حال میں نہ مرے کہ وہ اللہ عزوجل سے حسن ظن نہ رکھتا ہو (مسلم۔ کتاب الجنۃ۔ باب الامر بحسن ظن باللہ تعالیٰ عند الموت) اگرچہ اس آیت سے معلوم یہی ہوتا ہے کہ اس آیت میں بستروں سے الگ رہنے اور اللہ کو پکارنے سے مراد نماز تہجد ہے۔ جس کی احادیث میں بہت فضیلت مذکور ہے۔ تاہم بعض علماء نے اس سے صبح کی نماز مراد لی ہے۔ بعض نے عشاء کی اور بعض نے نماز مغرب اور عشاء کے درمیان نوافل کی۔ تاہم راجح بات وہی معلوم ہوتی ہے جو اولاً مذکور ہوئی۔ 19 اس سے مراد صرف مال حلال ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حرام مال کی نسبت کبھی اپنی طرف نہیں کی۔ نہ ہی ایسے مال سے صدقہ قبول کرتا ہے۔ اور خرچ کرنے بھی مراد عیاشیوں پر خرچ کرنا نہیں بلکہ جائز طریقوں سے خرچ کرنا ہے خواہ وہ اپنی ذات پر وہ، اہل و عیال پر ہو، قرابتداروں اور دوسرے محتاجوں کی ضروریات اور حاجات پوری کرنے پر ہو۔ اور اگر حلال مال سے دوسروں پر خرچ کرنے کی توفیق میسر نہیں ہوتی تو بھی حرام کمائی سے بہرحال بچنا چاہئے اس پر قناعت اور اللہ کا شکر کرنا چاہئے۔ اور اس میں سے خواہ بہت تھوڑا ہی سہی، کچھ نہ کچھ ضرور خرچ کرنا چاہئے۔ کیونکہ غریبوں کو بھی تزکیہ نفس کی ضرورت ہوتی ہے۔ بخل کے مرض سے ان کا بھی دل پاک ہونا چاہئے اسی لئے رسول اللہ نے فرمایا : آگ سے اپنا بچاؤ کرو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے سے ہی کرو (بخاری۔ کتاب الزکوٰ ۃ۔ باب اتقوالنار۔۔ تمرۃ)
Ayah 32:17

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:17 in the Quran reader

کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کی کیا کچھ چیزیں ان کے لئے چھپا 20 رکھی گئی ہیں یہ ان کاموں کا بدلہ ہوگا جو وہ کیا کرتے تھے۔

20 ایسے لوگ جو رات کی تاریکیوں میں، لوگوں سے چھپ کر، ریا کاری سے بچتے ہوئے اللہ کو یاد کرتے اور اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ تو ان کا بدلہ بھی ایسی چیزیں ہوں گی جو اللہ نے ان کے لئے چھپا رکھی ہیں۔ وہ نعمتیں کیا ہوں گی وہ ایسے لوگوں کے دلوں اور ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہوں گی۔ ان کی صفات بیان کرنے سے انسان کو اس دنیا میں سمجھ بھی نہیں آسکے گی۔ جس طرح اگر کسی شخص نے آم کبھی نہ کھایا ہو تو خواہ اس کے مزے کی تفصیل کتنی ہی بیان کی جائے۔ ایسے کبھی نہیں ہوسکتی۔ جیسے کوئی شخص آم کھا کر محسوس یا معلوم کرسکتا ہے۔ اور جنت کی نعمتوں کا تو یہ حال ہے کہ نہ کبھی کسی نے دیکھیں، نہ سنیں، نہ چکھیں حتیٰ کہ کسی کے دل میں ان کا خیال تک بھی نہ آیا جب کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے : حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے پنے (نیک) بندوں کے لئے وہ نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جنہیں نہ کبھی کسی آنکھ نے دیھا، نہ کسی کان نے سنا، ہو اور نہ ہی کسی کے دل میں ان کا خیال تک آیا ہو حضرت ابوہریرہ ؓ نے کہا کہ اگر تم چاہو تو (دلیل کے طور پر) یہ آیت پڑھ لو۔ فلا ععلم نفس۔۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر)
Ayah 32:18

اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا١ؔؕ لَا یَسْتَوٗنَؐ Open ayah 32:18 in the Quran reader

کیا مومن ایسے ہی ہوتا ہے جیسے فاسق 21 یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔

21 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فاسق کو مومن کی عین ضد کے طور پر بیان فرمایا، یعنی مومن اور فاسق برابر کیا ہوں گے یہ تو ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ جیسے دن کے مقابلہ میں رات ہوتی ہے، یعنی مومن اگر ایماندار ہے تو فاسق بےایمان ہوگا۔ مومن اگر اللہ کا مطیع فرمان ہے تو فاسق اللہ کا باغی ہوگا۔ تو جس طرح یہ اپنے اعمال کے لحاظ سے ایک دوسرے کی عین ضد ہیں۔ اس طرح اخروی اجر کے لحاظ سے بھی ان کا معاملہ ایسا ہی ہوگا۔ چناچہ اگلی دو آیات میں انہی دونوں قسم کے لوگوں کا انجام اور ان کو ملنے والی جزاء و سزا کا ذکر کیا گیا ہے۔
Ayahs 32:19–20

اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى١٘ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:19 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے ان کی قیام گاہ باغات ہوں گے یہ ان کے اعمال کے صلہ میں ان کی مہمانی ہوگی۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِیْدُوْا فِیْهَا وَ قِیْلَ لَهُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 32:20 in the Quran reader

اور جو نافرمان ہیں ان کا ٹھکانا دوزخ ہوگا جب بھی وہ اس سے نکلنا چاہینگے اسی میں لوٹا دیئے جائینگے اور انھیں کہا جائے گا کہ اب اس آگ کے عذاب 22 کا مزہ چکھو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔

22 برے عذاب سے مراد قیامت کے دن جہنم کا عذاب ہے اور عذاب الادبی سے مراد دنیا میں پہنچنے والے مصائب ہیں۔ جو انفرادی طور پر بھی ہر انسان کو دیکھنا پڑے ہیں۔ مثلاً بیماریاں، مالی نقصان، عزیز و اقرباء کی موت یا کئی دوسرے حادثے اور اجتماعی زندگی کے مصائب الگ نوعیت کے ہوتے ہیں۔ مثلاً قحط، زلزلے، وبا، فسادات اور لڑائیاں جن سے بیک وقت ہزاروں انسان لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ اللہ کی طرف سے ہلکے ہلکے عذاب ہیں نہیں بلکہ تنبیہات بھی ہیں کہ وہ بروقت سنبھل جائیں اور انھیں معلوم ہوجائے کہ ان سے بالاتر کوئی ہستی موجود ہے جو ان کی بداعمالیوں پر ان پر گرفت کرسکتی ہے۔ اور اس سے انھیں اپنا عقیدہ اور عمل درست کرنے میں مدد ملے۔ اس طرح شاید وہ بداعمالیوں سے اور آخرت میں ان کے برے انجام سے بچ جائیں۔
Ayahs 32:21–22

وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 32:21 in the Quran reader

ہم انھیں (قیامت کے) بڑے عذاب سے پہلے ہلکے عذاب کا مزا بھی ضرور چکھائیں گے شاید وہ (اپنی روش سے) باز آجائیں

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا١ؕ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۠ Open ayah 32:22 in the Quran reader

اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جسے اس کے پروردگار کی آیات سے نصیحت کی جائے پھر وہ اس سے منہ موڑ لے۔ ہم یقینا ایسے مجرموں سے انتقام 23 لے کر رہیں گے۔

23 یعنی قیامت کا دن دراصل مجرمین سے بدلہ لینے کا دن ہے۔ اس دن کوئی بھی مجرم اپنے جرم کی سزا سے بچ نہیں سکے گا۔ اور جو شخص اپنے کبرونخوت کی بنا پر اللہ کی آیات سننا تک گوارا نہیں کرتا بلکہ پہلے سے ہی منہ جوڑ کر چل دیتا ہے وہ تو سب سے بڑھ کر ظالم ہے۔ وہ بھلا اس دن انتقام سے کیسے بچ سکے گا ؟ واضح رہے کہ اللہ کی آیات کی بہت سی اقسام ہیں۔ مثلاً ایک تو وہ آیات ہیں جو کائنات میں ہر سو بکھری ہوئی ہیں۔ جنہیں ہم آفاقی نشانیاں کہہ سکتے ہیں۔ اور ان میں سورج، چاند، ستارے، گردش لیل و نہار۔ زمین کی قوت روئیدگی۔ ہواؤں اور بارشوں کا نظام وغیرہ وغیرہ امور شامل ہیں۔ دوسری قسم وہ آیات ہیں جو انسان کے اندر کی دنیا سے تعلق رکھتی ہیں۔ انسان کی تخلیق، جسم کی ساخت، اعضاء کا خود کار نظام، اور محیرالعقول قوتیں جو اللہ نے انسان کے اندر رکھ دی ہیں۔ اسی جسم میں بعض ایسے داعیے بھی موجود ہیں جو انسان کے تحت الشعور میں ہوتے ہیں۔ لیکن وقت پڑنے پر فوراً جاگ اٹھتے ہیں۔ جیسے جب موت سامنے کھڑی نظر آئے تو مشرکین کیا دہریے تک اللہ کو پکارنے لگتے ہیں۔ اس قسم کو قرآنی آیات انفس کا نام دیتا ہے تیسری قسم وہ تاریخی واقعات ہیں جن سے ہمیشہ ایک ہی نتیجہ برآمد ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جس قوم نے بھی اللہ کے مقابلہ میں سرکشی کی راہ اختیار کی اور اس کے رسول اور آیات کو جھٹلا دیا ہو۔ اللہ نے اسے تباہ و برباد کرکے رکھ دیا۔ اس قسم کو شرعی اصطلاح میں تذکیر بایام اللہ کہا جاتا ہے۔ اور یہ اصطلاح قرآن ہی کے الفاظ عععع وذکرھم بایام اللہ سے ماخوذ ہے اور چوتھی قسم وہ نشانیاں ہیں جو مصائب کی شکل میں تنبیہ کے طور پر انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر انسانوں پر بصورت عذاب ادنیٰ نازل کی جاتی ہیں۔ اور جن کا ذکر سابقہ آیت میں ہوا ہے۔ اور پانچویں قسم اللہ تعالیٰ کی وہ آیات ہیں جو اس نے انسانوں کی ہدایت کے لئے اپنے انبیاء پر وقتاً فوقتاً نازل کیں۔ ان آیات میں دراصل انسان سابقہ چاروں قسم کی آیات کو غور و فکر کے لئے انسان کے سامنے پیش کیا جاتا رہا ہے۔ اور عقلی اور عام فہم دلائل کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ اور یہی وہ دلائل یا آیات ہیں جن کے متعلق قرآن میں بار بار یہ مذکور ہوا ہے کہ یہ آیات بالکل واضح ہیں، روشن ہیں ان میں کوئی پیچیدگی نہیں، کوئی ابہام نہیں، کوئی ٹیڑھ نہیں بلکہ سیدھی سادی اور عام فہم دلیلیں ہیں۔ قرآن کی آیات باقی چاروں قسم کی آیات کی طرف توجہ دلاتی ہیں اور اسی کا نام ذکر اور تذکرہ ہے اور پہلی چاروں قسم کی آیات قرآن کی آیات کی تائید و تصدیق کرتی ہیں۔ اور ان سب آیات کا ماحصل ایک ہی سامنے آتا ہے اور وہی دراصل انبیاء کی تعلیم کا نچوڑ ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اس کائنات کی تدبیر و تخلیق کرنے والی ہستی بڑی مقتدار اور حکیم ہستی ہے اور وہ صرف ایک ہی ہوسکتی ہے اس میں دوئی یا کسی دوسرے کی شراکت کی کوئی گنجائش نہیں۔ دوسرے یہ کہ کائنات اور اس کی کوئی بھی چیز بےمقصد پیدا نہیں کی گئی۔ لہذا انسان جو اشرف المخلوقات ہے کہ زندگی کا بےمقصد ہونا ناممکنات سے ہے۔ تیسرے یہ کہ انسان کی زندگی کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح وہ طبعی اور اضطراری امور میں اللہ کے قوانین کے سامنے مجبور محصن اور ان قوانین کا پابند ہے۔ اسی طرح وہ اپنے اختیاری امور میں بھی اللہ کے احکام کے سامنے سرتسلیم ختم کردے اور کائنات کی باقی تمام اشیاء کے ساتھ ہم آہنگ ہوجائے صرف ایک ہی اللہ کی عبادت اور تسبیح و تقدیس بیان کرے اور اسی کا ہو کر رہے۔ اور چوتھے یہ کہ جو شخص اللہ کا فرمانبردار بن کر رہے اسے ضرور اس کا اچھا بدلہ ملنا چاہئے اور جو نافرمان ہو اسے ضرور سزا مل کر رہے اور چونکہ یہ دنیا کی زندگی اور ہر انسان کی پوری مدت عمر امتحان کا عرصہ ہے لہذا اس عرصہ امتحان کے بعد کامیاب اور ناکام انسانوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے۔ اس لحاظ سے روز آخرت کا قیام نہایت ضروری ہوا۔ ورنہ یہ دنیا ایک اندھیر نگری قرار پاتی ہے۔ نیز انسان جیسی اشرف المخلوقات مخلوق کا مقصد حیات ہی فوت ہوجاتا ہے۔
Ayah 32:23

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآئِهٖ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 32:23 in the Quran reader

ہم نے موسیٰ کو کتاب 24 دی تھی لہذا (اے نبی ! ) آپ کو اس کتاب کے ملنے 25 میں شک نہ رہنا چاہئے۔ یہ کتاب بنی اسرائیل کے لئے ہدایت تھی

24 اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی آیات سے منہ موڑنے کا ذکر تھا۔ اسی نسبت سے یہاں تورات کا ذکر ہوا جو قرآن کے بعد سب الہامی کتابوں سے زیادہ مشہور ہے۔ تورات صرف بنی اسرائیل کے لئے ہدایت کی کتاب تھی جبکہ یہ قرآن پوری بنی نوع انسان کے لئے کتاب ہدایت ہے۔ 25 اس جملہ میں خطاب اگرچہ رسول اللہ کو ہے مگر مخاطب سارے مومنین ہیں۔ کیونکہ نبی سب سے پہلے خود اپنی نبوت پر ایمان لاتا ہے۔ پھر دوسروں کو ایمان لانے کی دعوت دیتا ہے۔ لہذا منزل من اللہ کلام ہر رسول کا شک کرنا حالات سے ہے۔ اور ایسا انداز خطاب عموماً تاکید مزید کے لئے آتا ہے۔ یعنی مسلمانوں کو کسی قیمت پر بھی اس میں شک نہ کرنا چاہئے۔ بعض علماء نے اس آیت لقاءہ میں لا کی ضمیر کو موسیٰ کی طرف راجع سمجھا ہے اور اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ آپ کی موسیٰ سے اسی دنیا کی زندگی میں ضرور ملاقات ہوگی اور آپ کو اس ملاقات کے بارے میں شک میں رہنا چاہئے۔ کہ آپ کی حضرت موسیٰ سے یہ ملاقات معراج کے موقعہ پر چھٹے آسمان پر ہوئی تھی۔
Ayah 32:24

وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا١ؕ۫ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:24 in the Quran reader

جب انہوں نے (مصائب پر) صبر کیا تو ہم نے ان میں سے کئی ایسے پیشوا 26 بنا دیئے جو ہمارے حکم سے ان کی رہنمائی کرتے تھے۔ اور یہ لوگ ہماری آیات پر یقین رکھتے تھے۔

26 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے پیشوائی کے لئے لازمی صفات کا ذکر فرمایا : پہلی صفت یہ ہے کہ ان کا تازیست یہ طرز عمل ہونا چاہئے کہ وہ اللہ کے احکام کی دعوت دیتے رہیں اور لوگوں کی رہنمائی کرتے رہیں دوسرے یہ کہ یہ کام پورے صبر و استقلال سے سرانجام دیں۔ اور اس راہ میں پیش آنے والے مصائب پر صبر کریں اور تیسرے یہ کہ وہ اللہ کی آیات اور اس کے وعدوں پر پختہ یقین رکھتے ہوں۔ جتنا زیادہ یقین پختہ ہوگا اسی قدر وہ صبر کرسکیں گے اور اسی قدر زیادہ وہ امامت یا پیشوائی کے حقدار ہوں گے۔ اور بنی اسرائیل میں سے جو شخص ان صفات کے حامل تھے انھیں اللہ تعالیٰ نے امامت کے منصب پر سرفراز فرما دیا۔
Ayah 32:25

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 32:25 in the Quran reader

آپ کا پروردگار قیامت کے دن یقینا ان لوگوں میں ان باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف 27 کرتے تھے۔

27 اصول دین سے اختلاف کرنے کا وجود دنیوی مفادات اور قائد بن کر اپنا جھندا الگ بلند کرنے کی خواہش ہوتی ہے اور اس روش کا لازمی نتیجہ امت میں انتشار اور دنیا میں ذلت و خواری ہوتی ہے۔ یہی کچھ یہود کو اختلافات کے نتیجہ میں حاصل ہوا۔ اور یہی کچھ آج کل مسلمانوں کو حاصل ہو رہا ہے۔ پھر جو فرقہ بن جاتا ہے اس میں کچھ ایسا فرقہ وارانہ تعصب پیدا ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی روش بدلنا قطعاً گوارا نہیں کرتا۔ وہ دوسرے سب فرقوں کو گمراہ سمجھتا ہے لیکن اپنے متعلق اسے خیال تک نہیں آتا کہ وہ بھی گمراہ ہوسکتا ہے۔ گویا دنیا میں تو کوئی فرقہ اپنی غلطی تسلیم کرنے کو آمادہ نہیں ہوتا۔ ہاں اللہ تعالیٰ ہی ان کے درمیان یہ فیصلہ کرے گا کہ کس فرقہ کے پاس کس قدر حق کا حصہ تھا اور کس قدر باطل کا ان سب میں سے فلاں فرقہ حق پر تھا اور باقی سب گمراہ تھے۔ لوگوں کے تعصب کی وجہ سے دنیا میں یہ مسئلہ لاینحل ہی رہتا ہے خواہ امت کتنی ہی ذلت اور خواری سے دو چار رہے۔
Ayah 32:26

اَوَ لَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ١ؕ اَفَلَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 32:26 in the Quran reader

کیا انھیں اس بات سے کچھ رہنمائی نہیں ملی کہ ان سے پیشتر ہم کئی ایسی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جن کے رہائشی مقامات پر (آج) یہ لوگ چل پھر رہے ہیں۔ اس میں بھی بہت سی نشانیاں ہیں۔ کیا یہ سنتے 28 نہیں ؟

28 قوم عاد، قوم ثمود اور قوم شعیب عرب سے ہی تعلق رکھنے والی قومیں تھیں۔ یہ سب تباہ ہوئیں اور اہل عرب ان کے کھنڈرات اپنی آنکھوں سے دیکھتے بھی تھے اور ان اقوام کے حالات زندگی اپنے بزرگوں سے سنتے بھی تھے۔ پھر بھی ان سے کوئی سبق حاصل نہیں کرتے تھے۔
Ayah 32:27

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْ١ؕ اَفَلَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 32:27 in the Quran reader

کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ہم پانی کو بنجر زمین کی طرف بہا لاتے ہیں جس سے ہم کھیتی پیدا کرتے ہیں تو اس سے ان کے چوپائے بھی کھاتے ہیں اور وہ خود بھی کھاتے ہیں۔ پھر کیا یہ غور 29 نہیں کرتے۔

29 یعنی بارش کا ریلا یا نہروں کا پانی جب بنجر زمین کو سیراب کرتا ہے تو بےآب وگیاہ اور بنجر زمین بھی لہلہانے لگتی ہے۔ اس پربہار آجاتی ہے۔ جس سے ہر قسم کے جانداروں کو رزق مہیا ہوتا ہے۔ بعینہ یہی صورت وحی الٰہی کی بارش کی بھی ہوتی ہے۔۔۔ خطہ عرب جس میں توحید کی آواز نکالنا بھی اپنے لئے مصائب کو دعوت دینے کے مترادف ہیں۔ اور لوگوں کے دل حق کی دعوت کو قبول کرنے کے سلسلہ میں بالکل مردہ ہوچکے ہیں۔ اگر بارش کا ریلا بنجر زمین کو لہلہاتے کھیت میں تبدیل کرسکتا ہے تو یہ بھی ممکن ہے کہ یہ خطہ وحی کی بارش سے توحید کی اواز سے لہلہانے لگے مردہ لوگوں میں زندگی عود کر آئے۔ لوگ سمجھنے سوچنے لگ جائیں۔ اور اللہ تعالیٰ اسلام کو اتنا فروغ بخشے کہ دیکھنے والے دنگ رہ جائیں۔ پھر اسلام کی برکات سے صرف انسان ہی نہیں اللہ کی ساری مخلوق مستفید اور سرشار ہوجائے۔
Ayahs 32:28–29

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 32:28 in the Quran reader

نیز کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ فیصلہ کب ہوگا ؟

قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِیْمَانُهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 32:29 in the Quran reader

آپ ان سے کہئے کہ : جب فیصلہ کا دن ہوگا تو جن لوگوں نے کفر کیا 30 ہے انھیں فیصلہ کے دن ایمان لانا کچھ فائدہ نہ دے گا اور نہ ہی انھیں کچھ مہلت دی جائے گی

30 یعنی کافروں کا ہمیشہ یہ سوال ہوتا ہے کہ یہ جو ہم پر عذاب کا وعدہ دیا جاتا ہے یا ایمان لانے والوں کے لئے مدد اور فتح و نصرت کی نوید سنائی جاتی ہے تو ایسے وعدے کا کوئی معین وقت بتلا دیا جائے۔ اور یہ معین وقت بتلا دینا ہی حکمت الٰہی کے خلاف ہوتا ہے۔ لہذا ایسے سوال کے جواب میں کفار کی توجہ اس کے دوسرے پہلوؤں کی طرف مبذول کرائی جاتی ہے جن پر عمل کی بنیاد اٹھتی ہو۔ اور یہی قرآن کا حقیقی مقصد ہوتا ہے۔ یہاں بھی اس سوال کا جواب اسی انداز میں دیا گیا ہے کہ تم اسی مہلت کو غنیمت سمجھو جو اس وقت تمہیں حاصل ہے۔ کیونکہ وہ فیصلہ کا دن آگیا تو اس وقت نہ تمہارا اسلام لانا کچھ فائدہ دے سکتا ہے اور نہ مزید مہلت ملے گی۔ نہ تمہیں سنبھلنے کا موقع ملے گا لہذا اس کے لئے بےچین ہونا چھوڑ دو ۔ البتہ اگر اپنے فائدہ کی بات سوچ سکتے ہو تو سوچو۔
Ayah 32:30

فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ انْتَظِرْ اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ۠ Open ayah 32:30 in the Quran reader

سو آپ ان سے اعراض کیجئے اور انتظار کیجئے، وہ بھی یقینا انتظار 31 کر رہے ہیں۔

31 آپ ان سے الجھنا اور بحث کرنا چھوڑ دیجئے۔ انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیجئے۔ آپ اس بات کے منتظر رہئے کہ کب اللہ کا وعدہ پورا ہوتا ہے اور وہ انشاء اللہ ضرور پورا ہوگا اور وہ لوگ اس بات کے انتظار میں ہیں کہ تم اور تمہاری یہ چھوٹی اور کمزور سی جماعت کب گردش ایام کا شکار ہوتی ہے۔