31. Surah Luqman

لقمانLuqman · 34 ayahsتیسیر القرآن

Ayahs 31:1–3

الٓمّٓۚ Open ayah 31:1 in the Quran reader

ا۔ ل۔ م۔

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 31:2 in the Quran reader

یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں

هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 31:3 in the Quran reader

جو نیکو کار لوگوں کے لئے 1 ہدایت اور رحمت 2 ہیں

1 قرآن کی اور اس کی آیات کی بعض مقامات پر یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ سب لوگوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔ سورة بقرہ کی ابتداء میں فرمایا کہ یہ متقین کے لئے ہدایت ہے اور اس مقام پر فرمایا کہ یہ محسنین کے لئے ہدایت ہے۔ تو ان آیات میں کچھ تضاد نہیں۔ اور ان کی تطبیق کی سورت یہ ہے کہ قرآن فی الواقعہ ایسے لوگوں کے لئے یعنی تمام بنی نوع انسان اور جن کے لئے ہدایت کی کتاب ہے، مگر اس کی ہدایت سے مستفید وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو خود بھی ہدایت کے طالب ہوں اللہ سے ڈرنے والے ہوں۔ اس کتاب کے منکر اور بدکار لوگ اس سے مستفید نہیں ہوسکتے۔ ہاں اگر وہ اپنی ضد سے باز آجائیں تو وہ بھی ہدایت پاسکتے ہیں۔ 2 اور قرآن کی آیات رحمت اس لحاظ سے ہیں کہ قرآن ایک طرز حیات سکھلاتا ہے جو ایک طرف تو اخروی فلاح کا ضامن ہے اور دوسری طرف دنیوی زندگی کے ہر پہلو ایسی متوازن اور متناسب راہیں دکھلاتا ہے جس سے نہ فرد کے حقوق مجروح ہوتے ہیں نہ معاشرہ کے اور وہ ان میں حسین امتزاج پیدا کردیتا ہے۔ وہ تدبیر منزل یعنی عائلی زندگی سے لے کر حکمرانی تک بین الملکتی تعلقات، خارجہ اور پالیسی کی ایسی معتدل راہ پیش کرتا ہے کہ اگر انسانی عقل ہزاروں سال بھی بھٹکتی پھرتی تو ایسی متوازن راہیں تلاش نہیں کرسکتی تھی۔ اللہ کی یہ انتہائی رحمت اور مہربانی ہے کہ اللہ نے وحی کے ذریعہ انسانوں کو مفت میں ہی ایسی راہیں اور ایسے طریقے بتلا دیئے ہیں۔
Ayahs 31:4–5

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 31:4 in the Quran reader

یعنی وہ لوگ جو نماز قائم کرتے، زکوٰۃ ادا کرتے اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 31:5 in the Quran reader

یہی لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے سیدھی راہ پر ہیں 3 اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں

3 اس مقام پر محسنین کی اور سورة بقرہ میں متقین کی ان ہی تین صفات کا ذکر فرمایا جو یہاں مذکور ہیں یعنی اقامت صلوۃ، ایتاء زکوٰ ۃ اور ایمان بالآخرت یعنی جس شخص میں کم از کم یہ تین صفات پائی جائیں۔ نہ ان کے راہ راست پر ہونے میں کوئی شک ہوسکتا ہے اور نہ فلاح پانے میں۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے سورة بقرہ کی ابتدائی پانچ آیات)
Ayah 31:6

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۖۗ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 31:6 in the Quran reader

لوگوں میں کوئی ایسا ہے جو اس لئے بیہودہ 4 باتیں خریدتا ہے کہ بغیر علم 5 کے اللہ کی راہ سے بہکا دے اور اس کا مذاق اڑائے 6 ۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے رسوا کرنے 7 والا عذاب ہے۔

4 لھوالحدیث سے مراد ہر وہ بات، شغل یا کھیل یا تفریح ہے۔ جو انسان کو اللہ کی یاد سے غافل کر دے یا غافل رکھے۔ خواہ یہ شغل، گانا بجانا ہو یا دلچسپ ناول اور ڈرامے ہوں یا کلب گھروں کی تفریحات ہوں یا ٹیوی کا شغل ہو یا ڈرامے اور سینما بینی ہو۔ غرض لھوالحدیث کا اطلاق عموماً مذموم اشغال پر ہوتا ہے۔ اب اس لفظ کی تشریح مندرجہ ذیل احادیث و آثار کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیے : (1) حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ قسم کھا کر کہا کرتے تھے کہ قرآن میں لھوالحدیث کا لفظ گانا اور موسیقی کے لئے آیا ہے۔ نیز آپ فرمایا کرتے کہ گانا بجانا دل میں یوں نفاق پیدا کرتا ہے جیسے پانی سے گھاس اور سبزہ اگ آتا ہے (فتاویٰ ابن باز۔ اردو ترجمہ ج 1 ص 313) (2) حضرت ابو امامہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے اور میرے پروردگار عزوجل نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں باجوں گاجوں، ساز و مضراب، بتوں، صلیبوں اور امر جاہلیت کو ختم کروں (احمد بحوالہ مشکوۃ۔ کتاب الحدود۔ باب بیان الخمرو وعبد شاکر بہانہ فصل ثالث) (3) آپ ﷺ نے فرمایا : گانا بجانا کرنے والی عورتوں کو نہ بیچو، نہ خریدو اور نہ انھیں یہ کلام سکھلاؤ اور ان کی اجرت حرام ہے (ترمذی۔ ابو اب البیوع۔ باب کراہیۃ المغنیات) (4) ابو مالک اشعری کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو زنا کو، ریشم کو، شراب کو اور معازف یعنی آلات ساز و مضراب اور گانے بجانے کو حلال کرلیں گے (بخاری۔ کتاب الاشربہ باب ما جاء فیمن یستحل الخمرو بسمیہ بفراسمیہ) یعنی ان چیزوں کے دوسرے نام رکھ کر انھیں جائز بنالیں گے۔ اور اس آیات کا شان نزول یہ بیان کیا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعوت کی غیر موثر بنانے کے لئے جو لوگ ادھار کھائے بیٹھے تھے ان میں سے ایک نضر بن حارث بھی تھا۔ اس کا طریق کار ابو لہب سے بالکل جداگانہ تھا۔ ایک دفعہ وہ سرداران قریش سے کہنے لگا : قریشیو ! محمد ﷺ تمہارے سب سے زیادہ پسندیدہ آدمی تھے۔ سب سے زیادہ سچے اور سب سے زیادہ امین تھے اب اگر وہ اللہ کا پیغام لے کر آئے ہیں تو تم کبھی انھیں شاعر کہتے ہو، کبھی کاہن، کبھی پاگل اور کبھی جادور کہتے ہو۔ حالانکہ وہ نہ شاعر ہیں، نہ کاہن، نہ پاگل اور نہ جادوگر ہیں۔ کیونکہ ہم ایسے لوگوں کو خوب جانتے ہیں۔ اے اہل قریش ! سوچو ! تم پر یہ کیسی افتاد آپڑی ہے۔ پھر اس افتاد کا جو حل نضر بن حارث نے سوچا وہ یہ تھا کہ وہ خود حیرہ گیا۔ وہ سے بادشاہوں کے حالات اور رستم و اسفند یار کے قصے سیکھے۔ آپ ﷺ جہاں کہیں بھی جاکر اپنا پیغام سناتے، ابو لہب کی طرح نضر بن حارث بھی وہاں پہنچ کر یہ قصے سناتا پھر لوگوں سے پوچھتا کہ آخر کس بنا پر محمد ﷺ کا کلام مجھ سے بہتر ہے ؟ علاوہ ازیں اس نے چند لونڈیاں بھی خرید رکھی تھیں۔ جب کوئی شخص رسول اللہ ﷺ کی طرف مائل ہونے لگتا تو وہ کسی لونڈی کو اس پر مسلط کردیتا کہ وہ لونڈی اسے کھلائے پلائے اور اس کی فکر کا رخ موڑ دے۔ اسی سلسلہ میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابن ہشام۔ 21: 271) 5 بغیر علم کی نسبت اللہ کی راہ کی طرف بھی ہوسکتی ہے اور لھوالحدیث کی طرف بھی۔ پہلی صورت تو ترجمہ سے واضح ہے۔ یعنی اس کا اللہ کی راہ سے بہکانا محض بغض وعناد اور ضد پر مبنی ہے۔ اس کے لئے اس کے پاس کوئی عملی دلیل نہیں ہے۔ اور دوسری صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ وہ اس قدر جاہل ہے جو اللہ کی سیدھی راہ اور ہدایت جیسی قیمتی چیز کے عوض تباہ کن چیز خرید رہا ہے۔ 6 یعنی وہ شخص گانا، بجانا، قصے کہانیاں اور رقص و سرور جیسی ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعہ لوگوں کو اللہ کی آیات سے دور رکھنا اور ان آیات کا مذاق اڑانا چاہتا ہے۔ 7 اس کے جرم اور اس کی سزا میں مناسبت یہ ہے کہ وہ اللہ کی آیات اور اس کے رسول کی تذلیل کرنا چاہتا ہے تو اس کو عذاب بھی ذلیل کرنے والا دیا جائے گا۔
Ayah 31:7

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِیْۤ اُذُنَیْهِ وَقْرًا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 31:7 in the Quran reader

اور جب اسے ہماری آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو تکبر سے یوں منہ پھیر لیتا ہے جیسے اس نے کچھ سنا 8 ہی نہیں گویا اس کے کانوں میں ثقل ہے۔ آپ اسے دردناک عذاب کی بشارت دے دیجئے۔

8 یہ ہے اللہ کی آیات سے اس کی شان بےنیازی گویا وہ اللہ کی آیات سننے کی ضرورت ہی نہیں سمجھتا اور اگر کانوں میں آواز پڑ بھی جائے تو ایسے سنی ان سنی کردیتا ہے جیسے وہ ثقل سماعت کی وجہ سے بات سن ہی نہ پایا ہو۔ اور یہ سب کچھ وہ ازراہ تکبر نحوت کی بنا پر کرتا ہے لہذا اسے اس تکبر کی سزا دردناک عذاب کی صورت میں ملے گی۔
Ayahs 31:8–9

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِۙ Open ayah 31:8 in the Quran reader

البتہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کے لئے نعمتوں والے باغ ہیں۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 31:9 in the Quran reader

جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے اور وہ ہر چیز پر غالب ہے اور حکمت 9 والا ہے

9 یعنی اللہ نے مومنوں سے جن جن نعمتوں اور باغات دینے کا وعدہ فرمایا ہے وہ انھیں دینے پر قادر بھی ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ وہ نعمتیں مومنوں کو مل نہ سکیں۔ اور وہ حکیم بھی ہے نہ تو وہ کسی مستحق کو محروم رکھے گا اور نہ ہی غلط بخشیوں کا ہی وہاں کچھ امکان ہے۔
Ayah 31:10

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١ؕ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 31:10 in the Quran reader

اس نے آسمانوں کو بغیر ستونوں 10 کے پیدا کیا (جیسا کہ) تم انھیں دیکھتے ہو اور زمین میں سلسلہ ہائے کوہ رکھ دیئے 11 تاکہ وہ تمہیں لے کر ہچکولے نہ کھائے اور اس میں ہر طرح کے جاندار پھیلا دیئے 12 ۔ نیز ہم نے آسمان سے پانی برسایا جس سے ہم نے زمین میں ہر قسم کی عمدہ اجناس اگا دیں۔

10 اس کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ ستون ہیں تو سہی مگر تمہیں نظر نہیں آتے اور دوسرا یہ کہ تم دیکھ تو رہے ہو کہ ستون وغیرہ کچھ نہیں اور ستونوں کے سہاروں کے بغیر ہی قائم ہیں۔ اس مقام پر دو تین امور کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے۔ ایک یہ کہ جس جس مقام پر اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کا اکٹھا ذکر کیا ہے وہ اس سے مراد پوری کائنات اور نظام کائنات لیا جائے گا۔ دوسرا یہ کہ لفظ آسمان کے لئے عربی میں دو لغت ہیں ایک فلک (ج افلاک) دوسرا سماء (ج سماوات) فلک سے مراد سیاروں کے مدارات ہیں جن پر وہ گھوم رہے ہیں۔ اور سماء مراد بلندی بھی ہے اور آسمان کا وجود بھی جسے اللہ تعالیٰ نے ایک ٹھوس حقیقت اور جسم رکھنے والی چیز کے طور پر پیش فرمایا ہے۔ اور یہ وضاحت اس لئے ضروری ہے کہ موجودہ نظریہ ہیئت کے مطابق آسمان کوئی چیز نہیں بلکہ فقط حد گناہ کا نام ہے۔ جبکہ آسمانوں کا ذکر قرآن میں متعدد بار اور اس کے علاوہ احادیث میں بھی ہے۔ اور اس سورت میں آیا ہے کہ آسمانوں میں دروازے بھی ہیں۔ لہذا لفظ سماء کی تحقیق ضروری ہے۔ سماء کا لفظ بلندی کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے یعنی ہر چیز جو ہمارے سر پر سیاہ فگن ہو وہ سماء ہے۔ سماء کی ضد ارض ہے جس کے معنی زمین بھی ہے اور پستی بھی۔ اور یہ دونوں الفاظ اسمائے نسبیہ میں سے ہیں۔ یعنی ایک ہی چیز اپنے سے پست چیز کے مقابلہ میں سماء بھی ہے اور وہی چیز اپنے سے بلند چیز کے مقابلہ ارض بھی۔ یعنی ہماری زمین ارض ہے تو پہلا آسمان اس کے مقابلہ میں اسماء ہے۔ اور یہی پہلا آسمان دوسرے آسمان کے مقابلہ میں ارض ہے اور تیسرے آسمان کے مقابلہ میں دوسرا آسمان ارض (نمبر 3) ہوئی۔ گویا اس لحاظ سے سات آسمانوں کے مقابلہ سات زمینیں بھی آگئیں جیسا کہ ارشاد باری ہے۔ (اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ ۭ يَـتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ڏ وَّاَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا 12۝ۧ) 65 ۔ الطلاق :12) یعنی اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان اور ویسی ہی زمینیں پیدا کیں۔ پھر یہ بلندی تھوڑی سی ہو تب بھی اس پر سماء کے لفط کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ جیسے ارشاد باری ہے۔ (وَّاَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً 22؀) 2 ۔ البقرة :22) (اور اس نے آسمان سے مینہ برسایا) یہاں سماء سے مراد بال ہیں جو میل ڈیڑھ میل کی بلندی پر اڑتے پھرتے ہیں اور اس معمولی سی بلندی کے لئے بھی سماء (آسمان) کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جبکہ درج ذیل آیت : (اِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِزِيْنَةِۨ الْكَـوَاكِبِ ۝ ۙ ) 37 ۔ الصافات :6) (بیشک ہم نے ہی آسمان دنیا کو ستاروں کی زینت سے مزین کیا) میں اتنی زیادہ بلندی مراد ہے جتنی دوری پر ستارے چمکتے ہیں۔ خواہ وہ دوری لاکھوں میل پر مشتمل ہو یا کروڑہا اور ارب ہا میلوں پر اور درج ذیل آیت میں سماء (آسمان) کا لفظ یعنی بہت ہی زیادہ بلندی، اتنی بلندی جو سات آسمانوں سے بھی زیادہ ہو یعنی لامحدود بلندی کے لئے استعمال ہوا ہے۔ ارشاد باری ہے۔ (ثُمَّ اسْتَوٰٓى اِلَى السَّمَاۗءِ فَسَوّٰىھُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ ۭ وَھُوَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيْمٌ 29؀ ) 2 ۔ البقرة :29) (پھر اللہ تعالیٰ آسمان کی طرف متوجہ ہوا تو انھیں ٹھیک سات آسمان بنادیا) موجودہ ہیئت دان کسی آسمان کے قائل نہیں ہیں ہم ان سے گذارش کریں گے کہ ان کی تمام تر تحقیقات کی رسائی ابھی پہلے آسمانی یعنی آسمان دنیا تک بھی نہیں ہوسکی تو پھر وہ اس کی تردید کیونکر کرسکتے ہیں ؟ ان کی تحقیق خواہ کتنی طاقتور اور جدید قسم کی دوربینوں سے ہو خواہ وہ پلوٹو کی دوری ہو یا الف قنطورس کی یا قلب عقرب کی یہ سب کچھ آسمان دنیا کی زینت بنے گا۔ اور جو کچھ ابھی مزید تحقیق کے دائرہ میں آئے گا وہ بھی آسمان دنیا تک ہی محدود ہوگا۔ باقی چھ آسمان اس آسمان دنیا سے ماوراء اور ان تک دسترس انسان کی طاقت سے باہر ہے۔ ان تک رسائی رسول اللہ ﷺ کو اللہ کی قدرت کاملہ کی وجہ سے ہوئی۔ اور وحی کے ذریعہ ہی ہمیں سات آسمانوں، ان جسامت اور ان میں در بلندی کا علم ہوا ہے۔ آج کا ہیئت دان بھی جب کائنات کی وسعت کا خیال کرے ورطہ حیرت میں پھنس جاتا ہے تو دبی زبان سے اس کے منہ سے ایسے الفاظ نکل جاتے ہیں جن سے اس علم وحی کی تائید ہوتی ہے اور وہ برملا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ اس لامحدود کائنات کا احاطہ کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ جتنی طاقتور دوربینیں وہ ایجاد کرتے ہیں۔ کائنات اس کے سامنے اور بھی زیادہ وسیع ہوتی جاتی ہے۔ 11 تشریح کے لئے دیکھئے سورة نحل کی آیت نمبر 15 کا حاشیہ نمبر 15 اور سورة انبیاء کا آیت نمبر 31 کا حاشیہ نمبر 27 12 جدید تحقیق کے مطابق جانداروں کی دس لاکھ انواع کا علم انسان کو حاصل ہوچکا ہے۔ اور اسی طرح دو لاکھ کے لگ بھگ نباتات کی انواع کا۔ جانداروں کی طرح نباتات، پودوں اور درختوں میں نر اور مادہ موجود ہوتے ہیں۔ اور ان معاملات میں جتنی بھی تحقیق ہورہی ہے۔ زیادہ سے زیادہ عجائبات قدرت یا اللہ کی نشانیاں انسان کے علم میں آرہی ہیں۔
Ayah 31:11

هٰذَا خَلْقُ اللّٰهِ فَاَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 31:11 in the Quran reader

یہ تو ہے اللہ کی مخلوق، اب مجھے دکھلاؤ کہ اللہ کے سوا دوسرے معبودوں نے کیا کچھ پیدا کیا ہے ؟ (کچھ نہیں) بلکہ یہ ظالم 13 صریح گمراہی میں پڑے ہیں۔

13 یعنی جو کچھ اوپر بیان ہوا ہے وہ سب کچھ تو اللہ نے پیدا کیا ہے۔ اب جن چیزوں کو تم نے معبود بنا رکھا ہے۔ بتلاؤ انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ پھر ایک غیر خالق کو معبود بنا لینا سراسر گمراہی نہیں تو اور کیا ہے ؟
Ayah 31:12

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّشْكُرْ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 31:12 in the Quran reader

ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی (جو یہ تھی) کہ اللہ کا شکر ادا کرتے رہو۔ جو کوئی شکر ادا کرتا ہے وہ اپنے ہی (فائدہ کے) لئے کرتا ہے اور جو ناشکری 14 کرے تو اللہ یقینا (اس کے شکر سے) بےنیاز ہے اور خود اپنی ذات میں محمود ہے

14 حضرت لقمان حبشہ یا مصر کے رہنے والے تھے۔ بعد میں شام میں سکونت اختیار کرلی تھی۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کا زمانہ پایا۔ آپ کی نبوت میں اختلاف ہے اور راجح کی یہی بات ہے کہ آپ نبی نہیں تھے۔ البتہ حکیم اور دانا ضرور تھے۔ عرب بھر میں وہ اپنی حکمت و دانائی کی وجہ سے مشہور تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں جو حکمت اور دانائی کی باتیں سکھلائی تھیں ان میں سرفہرست یہ بات تھی کہ اگر اللہ کی نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کیا جائے تو اس کا فائدہ شکر ادا کرنے والے کو پہنچتا ہے۔ شکر میں اللہ تعالیٰ نے یہ تاثیر رکھ دی کہ وہ مزید توجہ اور مہربانی کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اللہ کا اس لئے بھی شکر ادا کرنا چاہئے تاکہ وہ مزید انعامات فرمائے اور بندوں کا بھی ضرور احسان مند ہونا چاہئے جو کوئی احسان کرے۔ اور یہ ایسی باتیں ہیں جو تقریباً ہر انسان کے تجربہ میں آتی رہتی ہیں۔ اور ناشکری اور نمک حرامی یا احسان فراموشی کے نتائح اس کے بالکل برعکس نکلتے ہیں۔ پہلی نعمتیں بھی چھین لی جاتی ہیں۔ بہرحال شکر کرنے کا فائدہ بھی شکر کرنے والے کو ہی پہنچتا ہے اور ناشکری کا نقصان بھی اسے ہی پہنچتا ہے۔ رہا اللہ کا معاملہ تو اللہ لوگوں کے شکر یا ناشکری سے بےنیاز ہے۔ کیونکہ اس کے سب کارنامے ہی ایسے ہیں جو قابل ستائش ہیں اور وہ اپنی ذات میں ہی محمود ہے۔ یہ تھی وہ پہلی دانائی کی بات جو اللہ تعالیٰ نے حضرت لقمان کو سکھلائی تھی۔
Ayah 31:13

وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ یَعِظُهٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ١ؔؕ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ Open ayah 31:13 in the Quran reader

اور (یاد کرو) جب لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت کر رہا تھا کہ : پیارے بیٹے ! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک 15 نہ بنانا، کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔

15 ایک دفعہ حضرت لقمان نے چند نصیحتیں اپنے بیٹے کو فرمائیں کہ وہ اتنی اہم تھیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ذکر فرمایا۔ دنیا میں اولاد ہی ایک ایسا رشتہ ہے جس کے متعلق انسان انتہائی خلوص برتتا ہے اور نفاق نہیں کرسکتا۔ اور اولاد ہی کے متعلق اس کی آرزو ہوسکتی ہے کہ وہ ہر بھلائی کی بات میں اس سے آگے نکل جائے۔ حتیٰ کہ ایسی آرزو انسان اپنے حقیقی بہن بھائیوں اور دوستوں تک سے بھی نہیں کرسکتا۔ چناچہ پہلی نصیحت جو حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو وہ یہ تھی کہ اللہ کے ساتھ کبھی کسی کو شریک نہ بنانا۔ کیونکہ دنیا میں سب سے بڑی ناانصافی اور اندھیر کی بات یہی شرک ہی ہے۔ شرک مجسم ظلم اور سب سے برا ظلم ہے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے بھی واضح ہوتا ہے : حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ جب ( سورة انعام کی) یہ آیت اتری۔ (اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ 82؀ ) 6 ۔ الانعام :82) تو صحابہ کرام ؓ پر بہت شاق گزری۔ وہ کہنے لگے ہم میں سے کون ایسا ہے جس نے ایمان کے ساتھ ظلم (یعنی کوئی گناہ) نہ کیا ہو۔ تو آپ ﷺ نے انھیں بتلایا کہ اس آیت میں ظلم سے ہر گناہ مراد نہیں ہے (بلکہ شرک مراد ہے) کیا ہم نے لقمان کا قول نہیں سنا۔ جو انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا تھا۔ ان الشرک لظلم عظیم (بخاری۔ کتاب التفسیر) یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ اہل مکہ ایک طرف تو لقمان حکیم کے حکیم اور دانا ہونے کے قائل تھے ، دوسری طرف شرک میں بھی بری طرح مبتلا تھے۔ انھیں بتلایا جارہا ہے۔ کہ لقمان نے اپنے بیٹے کو جو نصحیتیں کی تھیں ان میں سرفہرست شرک سے ان کی نفرت اور بیزاری تھی۔ کیونکہ اللہ کے بندے پر سب سے بڑا حق یہ ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے : رسول اللہ ﷺ نے حضرت ماذ بن جبل سے فرمایا : تجھے معلوم ہے کہ اللہ کا اس کے بندوں پر کیا حق ہے اور بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے ؟ حضرت معاذ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ : اللہ اور اس کا پیغمبر ہی خوب جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ کا بندوں پر حق یہ ہے کہ وہ اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں۔ اور بندوں کا اللہ پر یہ حق ہے کہ جو بندہ شرک نہ کرتا ہو اللہ اسے عذاب نہ کرے (ہمیشہ دوزخ میں نہ رکھے) میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! کیا میں لوگوں کو یہ خوشخبری نہ سنا دوں ؟ فرمایا : ایسا نہ کرو ورنہ وہ اسی پر بھروسہ کر بیٹھیں گے (بخاری۔ کتاب الجہاد والسیر۔ باب اسم الفرس والحمار)
Ayah 31:14

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ١ۚ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَ١ؕ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ Open ayah 31:14 in the Quran reader

اور ہم 16 نے انسان کو اپنے والدین سے (نیک سلوک کرنے کا) تاکیدی 17 حکم دیا۔ اس کی ماں نے اسے کمزوری پر کمزوری سہتے ہوئے ( اپنے پیٹ میں) اٹھائے رکھا اور دو سال اس کے دودھ 18 چھڑانے میں لگے (اسی لئے یہ حکم دیا کہ) میرا شکر ادا کرو اور اپنے والدین کا بھی (آخر) میرے پاس ہی (تجھے) لوٹ کر آنا ہے۔

16 آیت نمبر 14 اور 15 لقمان کی نصائح کے درمیان اللہ تعالیٰ کی طرف سے جلد معترضہ کے طور پر بیان ہوئی ہیں۔ کیونکہ ان آیات کا بھی بالواسطہ شرک کی مذمت ہی سے تعلق ہے۔ 17 اللہ تعالیٰ کئی مقامات پر اپنے حق کے ساتھ والدین سے بہتر سلوک کا ذکر فرمایا ہے اس کی وجہ اور تشریح کے لئے دیکھئے سورة بنی اسرائیل آیت نمبر 23 اور 24 کے حواشی نیز درج ذیل حدیث بھی والدین کی اطاعت کی اہمیت پر پوری روشنی ڈالتی ہے : حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : تین بچوں کے سوا کسی نے مہد میں کلام نہیں کیا۔ عیسیٰ بن مریم اور صاحب جریج۔ جریج ایک عابدی تھا۔ جس نے ایک عبادت خانہ رکھا تھا ایک دن اس کی ماں آئی اور وہ نماز پڑھ رہا تھا۔ ماں نے کہا : اے جریج ! اس نے دل میں کہا یا اللہ ! ایک طرف ماں ہے اور ایک طرف نماز۔ وہ نماز میں لگا رہا۔ حتیٰ کہ اس کی ماں واپس چلی گئی۔ دوسرے دن پھر اس کی ماں آئی اور پکارا اے جریج ! اس نے دل میں کہا : یا اللہ ! ایک طرف ماں ہے اور ایک طرف نماز، آخر وہ نماز میں ہی لگا رہا۔ (اب اس کی ماں کے منہ سے بددعا نکل گئی) کہنے لگی یا اللہ اسے موت نہ دینا جب تک یہ کسی بدکار عورت کا منہ نہ دیکھ لے بنی اسرائیل میں جریج اور اس کی عبادت کا چرچا ہونے لگا۔ ان میں ایک بدکار عورت تھی جس کی خوبصورتی کی مثال دی جاتی تھی۔ وہ کہنے لگی : اگر تم چاہتے ہو تو میں اسے پھنساؤں ؟ چناچہ اس نے اپنے آپ کو جریج پر پیش کیا لیکن وہ اس کی طرف متوجہ نہ ہوا۔ پھر وہ ایک چرواہے کے پاس گئی جو اس کے عبادت خانہ کے پاس ٹھہرا کرتا تھا اور اس نے اپنے آپ کو اس کے حوالہ کردیا۔ چناچہ چرواہے نے اس سے صحبت کی تو وہ حاملہ ہوگئی۔ پھر جب بچہ پیدا ہوا تو کہنے لگی یہ جریج کا بچہ ہے لوگ آئے : اسے عبادت خانہ سے نکالا اور اسے گرا دیا اور اس کی پٹائی کرنے لگے۔ جریج نے پوچھا : کوئی بات تو بتلاؤ ؟ وہ کہنے لگے : تو نے اس فاحشہ سے زنا کیا اور اب تو اس کے بچہ بھی پیدا ہوچکا ہے جریج نے کہا : وہ بچہ کہاں ہے ؟ لوگ بچہ لے آئے تو جریج نے کہا : ذرا ٹھہر ! میں نماز پڑھ لوں۔ پھر وہ نماز سے فارغ ہو کر بچہ کے پاس آیا۔ اس کے پیٹ میں کچو کا دیا اور کہا : بچے ! بتلاؤ ! تمہارا باپ کون ہے ؟ بچہ بول اٹھا : فلاں چرواہا ہے۔ پھر تو لوگ جریج کے پاس آکر اسے بوسے دینے لگے اور کہنے لگے کہ ہم تمہارے لئے سونے کا عبادت خانہ بنا دیتے ہیں۔ جریج نے کہا : نہیں بس ایسا ہی مٹی کا بنادو چناچہ انہوں نے عبادت خانہ بنایا۔ تیسرے بنی اسرائیل میں ایک عورت جو اپنے بچے کو دودھ پلا رہی تھی ادھر سے ایک نہایت خوش وضع سوار گزرا وہ عورت اس سوار کو دیکھ کر کہنے لگی : یا اللہ ! میرے بچے کو اس سوار جیسا بنا دے بچے نے ماں کی چھاتی چھوڑ کر کہا : یا اللہ ! مجھے ایسا نہ بنانا پھر وہ دودھ پینے لگا۔ پھر وہاں سے ایک لونڈی گزری (جسے لوگ مارتے جاتے تھے) وہ عورت کہنے لگی یا اللہ میرے بیٹے کو ایسا نہ بنانا بچے نے چھاتی چھوڑ دی اور بول اٹھا ! یا اللہ مجھے ایسا ہی بنانا میں نے اپنے بچے سے کہا کہ تو ایسا کیوں کہتا ہے ؟ بچے نے کہا : وہ سوار تو ظالم لوگوں سے تعلق رکھتا ہے اور ظالم ہے اور اس لونڈی کے متعلق لوگ کہتے ہیں کہ اس نے چوری کی اور زنا کیا۔ حالانکہ اس نے کچھ بھی نہیں کیا۔ (مسلم۔ کتاب البروالصلۃ باب تقدیم برا الوالدین۔۔ بخاری۔ کتاب بدء الخلق۔ باب واذکر فی الکتب مریم) یہ حدیث، حدیث جریج کے نام سے مشہور ہے اور اس سے علماء نے یہ مسئلہ استنباط کیا ہے کہ اگر اولاد نفلی نماز میں مشغول ہو اور والدین میں سے کوئی اسے پکارے تو اسے نماز توڑ کر بھی اس آواز پر لبیک کہنا چاہئے۔ اور ان کا حکم بجا لانا چاہئے۔ 18 اس آیت سے نیز سورة بقرہ کی آیت نمبر 233 سے صرا حۃ یہ معلوم ہوتا ہے کہ رضاعت کی زیادہ سے زیادہ مدت دو سال ہے۔ اس مدت میں کمی تو ہوسکتی ہے اگر والدین کسی ضرورت کے تحت دو سال سے پہلے دودھ چھڑانا چاہیں تو چھڑا سکتے ہیں۔ لیکن اس مدت میں بیشی نہیں ہوسکتی۔ نیز سورة احقاف کی آیت نمبر 15 میں فرمایا کہ حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت تیس ماہ ہے اس میں بھی علماء نے رضاعت کی مدت دو سال شمار کرکے حمل کی مدت میں کمی کے امکان یعنی چھ ماہ کو بھی ممکن قرار دیا ہے۔ لیکن ان سب تصریحات کے باوجود امام ابوحنیفہ رضاعت کی زیادہ سے زیادہ مدت اڑھائی سال قرار دیتے ہیں۔ اور وہ اپنی اس رائے میں منفرو ہیں اور کسی فقہ کے امام نے بھی ان کی تائید نہیں کی۔ اور اس مسئلہ کی اہمیت یہ ہے کہ حرمت نکاح کا فیصلہ اسی مدت کی صحیح تعیین کی بناء پر ہی کیا جاسکتا ہے۔
Ayah 31:15

وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ۙ فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا١٘ وَّ اتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 31:15 in the Quran reader

اور اگر وہ تجھ پر یہ دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک بنائے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں 19 تو ان کا کہا نہ ماننا۔ البتہ دنیوی معاملات میں ان سے بھلائی کے ساتھ رفاقت کرنا مگر پیروی اس شخص کی راہ کی کرنا جس نے میری طرف رجوع 20 کیا ہو۔ پھر تمہیں میرے پاس 21 ہی لوٹ کر آنا ہے تو میں تمہیں بتادوں گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔

19 السماء کی تشریح کے لئے دیکھئے سورة عنکبوت کی آیت نمبر 8 کا حاشیہ نمبر 12 20 یعنی والدین بھی اگر شرک پر یا دین کے خلاف کسی بات کے لئے مجبور کریں تو ان کی بات اللہ کے حکم کے مقابلہ میں تسلیم نہیں کی جاسکتی۔ البتہ دنیوی معاملات میں ان سے اچھا سلوک کیا جائے خواہ والدین کافر ہی کیوں نہ ہو۔ مثلاً محتاج ہوں، تو ان کی مالی اعانت کی جائے۔ اور دین کے علاوہ دوسری باتوں میں ان کی اطاعت کی جائے۔ ان کا ادب و احترام ملحوظ رکھا جائے۔ ان سے محبت اور شفقت سے سلوک کیا جائے۔ وغیرہ وغیرہ۔ لیکن یہ اللہ کے مخلص بندوں کی راہ ہے۔ لہذا انہی کی راہ اختیار کرنی چاہئے۔ 21 یعنی والدین کو بھی اور اولاد کو بھی سب کو میرے حضور ہی پیش ہونا ہے۔ میں سب کو بتلا دوں گا کہ زیادتی اور تقصیر کسی کی تھی۔
Ayah 31:16

یٰبُنَیَّ اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِیْ صَخْرَةٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِهَا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ Open ayah 31:16 in the Quran reader

پیارے بیٹے ! اگر (تیرا عمل) رائی کے دانہ کے برابر بھی ہو وہ خواہ کسی چٹان میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں، اللہ اسے 22 نکال لائے گا۔ اللہ یقینا باریک بین اور باخبر ہے

22 اس آیت میں حضرت لقمان نے اللہ تعالیٰ کے علم غیب کی وسعت بھی بیان فرمائی اور اس کی قدرت بھی۔ علم غیب کی اس طرح کہ تم کوئی چھوٹے سے چھوٹا کام کرو۔ علانیہ کرو یا کئی پردوں میں چھپ کر کرو۔ وہ تمہارے اعمال سے خوب واقف ہے۔ تمہارے دلوں کے خیالات تک جانتا ہے۔ اس کے پاس تمہارا پورا پورا ریکارڈ بھی موجود ہے۔ لہذا جو کام بھی کرو سوچ سمجھ کر اور اللہ سے ڈر کر کرو۔ اور اس کی قدرت کا یہ عالم ہے کہ موت کے بعد تمہیں دوبارہ اپنے پاس حاضر کرنا تو بہت بڑی بات ہے۔ وہ تو رائی کے ایک دانہ تک کو جو کسی کھوہ کی تاریکیوں میں پڑا ہو، اپنے پاس لاحاضر کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ حضرت لقمان یہ بات اپنے بیٹے کو سمجھا کر اس کے اخلاق کو درست کرنا اور اس میں تقویٰ کی صفت پیدا کرنے چاہتے تھے۔
Ayah 31:17

یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِۚ Open ayah 31:17 in the Quran reader

پیارے بیٹے ! نماز قائم کرو، نیکی کا حکم کرو اور برے کام سے منع کرو اگر تجھے کوئی تکلیف پہنچے تو اس پر صبر کرو 23 ۔ بلاشبہ یہ سب باتیں بڑی ہمت کے کام ہیں

23 یعنی نماز کی ہمیشگی کے ساتھ باجماعت ادا کرتے رہنا یہ کوئی معمولی کام نہیں بلکہ یہ کام باہمت لوگوں کا کام ہے۔ اسی طرح اچھے کاموں کا حکم دینا اور لوگوں کو برے کاموں سے روکتے رہنا بھی عام لوگوں کے بس کی بات نہیں بلکہ یہ بھی صاحب عزم لوگ ہی کرسکتے ہیں۔ اس سے یہ بھی از خود معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ دوسروں کو اچھے کاموں کا حکم دیں اور برے کاموں سے رکنے کا فریضہ سرانجام دیں انھیں لامحالہ لوگوں کی طرف سے ایذائیں پہنچیں گی۔ کیونکہ یہ پیغمبروں کا اسوہ ہے اور اسی لئے پیغمبروں کو لوگ ستاتے اور دکھ پہنچاتے تھے۔ اسی لئے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ اس راہ میں اگر مجھے دکھ اور ایذا پہنچے تو اسے خندہ پیشانی سے برداشت کر اور یہ کہ مصائب پر صبر کرنا بھی کوئی معمولی کام نہیں۔ صاحب عزم و ہمت ہی یہ تینوں کام بجا لاسکتے ہیں۔
Ayah 31:18

وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ Open ayah 31:18 in the Quran reader

اور (از راہ تکبر) لوگوں سے اپنے گال نہ پھلانا، نہ ہی زمین میں اکڑ کر چلنا (کیونکہ) اللہ کسی خود پسند 24 اور شیخی خور کو پسند نہیں کرتا

24 گال پھلا پھلا کر باتیں کرنا اور اکڑ اکڑ چلنا یہ سب خود پسندوں اور متکبروں کی ادائیں ہیں۔ متکبر لوگوں کی گفتگو سے، وضع قطع سے، چال ڈھال سے غرضیکہ ان کی ایک ایک ادا سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ شخص اپنے آپ کو دوسروں کے مقابلہ میں بہت کچھ سمجھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ایسے لوگوں کی ایک ایک حرکت سخت ناگوار ہے (مزید تشریح کے لئے دیکھئے سورة بنی اسرائیل کی آیت نمبر 37 کا حاشیہ نمبر 47 اور سورة الفرقان کی آیت نمبر 63 کا حاشیہ نمبر 80)
Ayah 31:19

وَ اقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ١ؕ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۠ Open ayah 31:19 in the Quran reader

اور اپنی چال میں اعتدال ملحوظ رکھو اور اپنی آواز پست 25 کرو۔ بلاشبہ سب آوازوں سے بری آواز گدھے کی آواز ہے۔

25 بعض دفعہ ضرورت کی وجہ سے انسان کو بلند آواز سے پکارنا پڑتا ہے۔ مثلاً دو چار آدمی آس پاس بیٹھے ہوں تو پست آواز سے کام چل جاتا ہے۔ مگر زیادہ آدمیوں کو بات سنانا مقصود ہو یا کوئی شخص خطاب کر رہا ہو اذان دیتے وقت انسان کو بلند آواز نکالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور پست آواز سے کام ہی نہیں چلتا۔ ایسے مواقع پر بلند آواز سے بات کرنا یا خطاب کرنا ہرگز مذموم نہیں ہے۔ اسی طرح بعض دفعہ استاد کو اپنے شاگرد کو سرزنش کرنے یا ڈانٹنے کی ضرورت ہوتی ہے اس وقت بھی اگر وہ آواز پست اور نرم لہجہ رکھے گا تو شاگرد پر خاک بھی اثر نہ ہوگا۔ مذموم چیز یہ ہے کہ کوئی شخص از راہ تکبر دوسروں پر دھونس جمانے اور انھیں ذلیل یا مرعوب کرنے کے لئے یہ تکلیف گلا پھاڑے یا چلا کر بات کرے۔ اس غرض سے جب کوئی چلا چلا کر بولتا ہے تو بسا اوقات آواز بےڈھنگی اور بےسری ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ کہ اگر یہ بھی کوئی خوبی کی بات ہوتی تو یہ کام تو گدھے تم سے اچھا کرسکتے ہیں۔ حالانکہ ان کی آواز سے سب نفرت کرتے ہیں۔
Ayah 31:20

اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةً١ؕ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍ Open ayah 31:20 in the Quran reader

کیا تم دیکھتے نہیں کہ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اللہ نے تمہارے لئے کام 26 پر لگا دیا ہے اور اس نے اپنی تمام ظاہری و باطنی 27 نعمتیں تم پر پوری کردی ہیں (اس کے باوجود) لوگوں میں کوئی ایسا ہے جو اللہ کے بارے میں جھگڑا کرتا ہے جبکہ اس کے پاس نہ علم ہے نہ ہدایت اور نہ کوئی روشنی 28 دکھانے والی کتاب ہے۔

26 تسخیر کائنات کے دو مطلب ہیں ایک کہ کائنات کی ہر چیز انسان کی خادم ہے اور انسان مخدوم ہے۔ زمین، سمندر، پانی، ہوائیں، پہاڑ، چاند، سورج، ستارے یہی موٹی موٹی اشیائے کائنات گنی جاتی ہیں۔ ان کے انسان کا خادم ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ اگر ان میں سے ایک چیز بھی نہ ہو تو انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔ مگر انسان کے بغیر ان چیزوں میں سے کسی کا کچھ بھی نہیں بگڑتا۔ اور اس کا دورا مطلب یہ ہے کہ زمین میں جتنی بھی اشیاء موجود ہیں۔ خواہ وہ جمادات ہو یا نباتات ہو یا حیوانات ہوں اللہ نے انسان کو اتنی عقل عطا فرما دی ہے کہ وہ ان میں سے جس کو چاہے اپنے قابو میں لاسکتا ہے اور اس سے حسب ضرورت فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ وہیں وہ چیزیں جن کا تعلق زمین سے نہیں مثلاً سورج، چاند، ستارے اور ہوائیں وغیرہ تو ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے قوانین بنا دیئے ہیں اور انھیں ایسے نظم و ضبط سے جکڑ رکھا ہے کہ انسان ان سے فائدے اٹھا سکتا ہے۔ اور اپنے معمولات زندگی اور کاروبار وغیرہ ٹھیک طرح سے سرانجام دے سکتا ہے۔ وہ مدتوں پہلے یہ معلوم کرسکتا ہے کہ سورج گرہن یا چاند گرہن کب لگے گا۔ بحر و بر کی تاریکیوں میں وقت اور راستے اور سمتیں معلوم کرسکتا ہے یعنی کہ ہزارہا سال بعد تک کے لئے تقویم بھی تیار کرسکتا ہے۔ اور نت نئی سے نئی ایجادات بھی وجود میں لاسکتا ہے اور یہی تسخیر کائنات کا مطلب ہے۔ تسخیر کائنات کا یہ منطلب ہرگز نہیں کہ انسان پہلے اپنی قریبی سیارہ چاند پر پہنچنے کی کوشش کرتے پھر دوسرے سیاروں پر پہنچنے میں اپنی قیمتی عمر برباد کرے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ : تو کار جہاں رانکو ساختی کہ باآسمان نیز پرداختی ؟ یعنی اس دنیا میں جو تیرے کرنے کے کام تھے کیا تو انھیں بخوبی سرانجام دے چکا ہے کہ اب تجھے آسمان پر اڑنے کی فکر پڑگئی ہے۔ 27 ظاہری نعمتیں وہ ہیں جن کو ہم حواس خمسہ کے ذریعہ معلوم کرسکتے ہیں۔ اور ان کا تعلق ہماری مادی زندگی اور معاشیات وغیرہ سے ہے۔ اور یہ بھی لاتعداد ہیں۔ اور باطنی سے مراد وہ نعمتیں ہیں جن سے ہماری اخلاقی تربیت ہوتی ہے اور روح کا تزکیہ ہوتا ہے۔ اور یہ بھی لاتعداد اور ان کا ذریعہ معلومات وحی الٰہی ہے۔ پھر کچھ ایسی نعمتیں ہیں جن کا تعلق دونوں سے ہے۔ مثلاً آنکھ سے ہم دیکھتے ہیں یہ آنکھ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ لیکن قوت باصرہ کا علم اس سے علیحدہ چیز ہے اسی طرح انسان کی قوت سامعہ، قوت ہانسمہ، قوت متخیلہ، قوت رافعہ وغیرہ بیشمار قوتیں انسان کے جسم کے اندر کام کر رہی ہیں۔ اگر یہ ٹھیک کام کرتی رہیں تو انسان تندرست رہتا ہے اگر ان میں سے کسی ایک میں بھی گڑ بڑ ہوجائے تو انسان بیمار پڑجاتا ہے۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ تندرستی ہزار نعمت ہے۔ یہی وہ قسما قسم کی نعمتیں ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے خود ہی فرما دیا کہ اگر تم اللہ کی نعمتیں گننا چاہو بھی تو کبھی ان کو شمار نہ کرسکو گے (14: 24، 16: 18) 28 یعنی اللہ کی ان گنت نعمتوں کے باوجود کچھ لوگ ایسے نمک حرام ہیں کہ اللہ کے بارے میں بحث کرنے لگتے ہیں کہ اللہ کی ذات موجود بھی ہے یا نہیں یا اس کی صفات اور قدرتوں میں جھگڑا کرنے لگتے ہیں۔ اس آیت کی تشریح کے لئے دیکھئے سورة حج کی آیت نمبر 8 کا حاشیہ نمبر 8)
Ayah 31:21

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 31:21 in the Quran reader

اور جب انھیں کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے۔ اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو اسی چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا ہے کیا (یہ انہی کی پیروی کریں گے) خواہ شیطان انھیں دوزخ کے عذاب 29 کی طرف بلاتا رہا ہو ؟

29 تقلید آباء کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ بزرگوں میں سے کسی ایک نے کوئی غلطی کی۔ کوئی غلط عقیدہ اپنایا یا کوئی بدعی کام شروع کردیا۔ پھر بعد کی نسلوں نے بزرگوں سے عقیدت کی بنا پر اس غلطی کو درست تسلیم کرتے ہوئے رائج کرلیا۔ اور اس کی تحقیق کی کسی نے ضرورت ہی نہ سمجھی۔ اس آیت میں دو باتوں کی صراحت کی گئی ہے۔ ایک یہ کہ تقلید آباء بلاتحقیق اور شیطان کی پیروی کی ایک ہی چیز ہے۔ اور دوسرے یہ کہ شیطان کی پیروی کا لازمی نتیجہ جہنم کا عذاب ہے۔ گویا ان سے سوال یہ کیا جارہا ہے کہ اگر شیطان تمہارے آباء اجداد کو جہنم کی طرف لے جارہا ہو تو بھی تم اپنے آباء واجداد کی پیروی کرو گے ؟
Ayah 31:22

وَ مَنْ یُّسْلِمْ وَجْهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 31:22 in the Quran reader

اور جو شخص اپنا چہرہ اللہ کے آگے جھکا دے اور نیکو کار ہو تو اس نے یقینا ایک مضبوط حلقے 30 کو تھام لیا۔ اور سب کاموں کا انجام تو اللہ ہی کی طرف ہے۔

30 مضبوط حلقہ کی تعریف اللہ تعالیٰ نے خود ہی بیان کردی۔ یعنی جو شخص اللہ کے احکام کے سامنے سر تسلیم ختم کر دے اور پھر اس کے احکام کے مطابق نیک اعمال بھی بجا لائے گویا اس میں ساری شریعت آگئی۔ اس شریعت پر عمل پیرا ہونا ہی ایسے مضبوط حلقے یا کڑے کو تھامنا ہے۔ جو اپنی مضبوطی کی وجہ ٹوٹنے والا نہیں۔ لہذا جو شخص اسے مضبوطی سے پکڑے رکھے گا اس کو نہ گر پڑنے کا خطرہ ہے اور نہ کہیں چوٹ لگ جانے کا۔ پھر اسی حلقہ کو تھامے ہوئے وہ بالآخر اللہ تک پہنچ جائے گا۔ جب تے وہ یہ حلقہ کو تھامے رہے گا، شیطان نہ اسے دھوکا دے سکے گا نہ گمراہ کرسکے گا یا دوسری راہ پر ڈال سکے گا۔
Ayah 31:23

وَ مَنْ كَفَرَ فَلَا یَحْزُنْكَ كُفْرُهٗ١ؕ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 31:23 in the Quran reader

اور جس نے کفر کیا تو اس کا کفر آپ کو غمزدہ نہ کردے 31 ۔ انھیں ہماری طرف ہی آنا ہے پھر ہم انھیں بتادیں گے جو کچھ وہ کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ تو یقینا دلوں کے راز تک جانتا ہے

31 یعنی جو شخص آپ کی دعوت کی انکار کرتا ہے وہ سمجھتا کہ اس نے آپ ﷺ کی دعوت کا انکار کرکے تمہیں اور اسلام زک پہنچائی ہے حالانکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ وہ دراصل اپنا ہی نقصان کر رہا ہے۔ اور آپ ﷺ کو اس معاملہ میں افسردہ خاطر نہ ہونا چاہئے۔ آپ ﷺ اللہ پر توکل کرکے اپنا دعوت کا کام کرتے جائیں۔ ان منکروں سے ہم نبٹ لیں گے۔ چند دن یہ اپنی سرکشی دکھا لیں اور مزے اڑا لیں۔ آخر انھیں ہمارے ہاں ہی آنا ہے۔ یہ ہماری گرفت سے بچ نہیں سکتے۔
Ayahs 31:24–25

نُمَتِّعُهُمْ قَلِیْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 31:24 in the Quran reader

ہم انھیں تھوڑی مدت مزے کرلینے کا موقعہ دے رہے ہیں پھر انھیں بےبس کر کے سخت عذاب کی طرف کھینچ لائیں گے

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 31:25 in the Quran reader

اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو فوراً کہیں گے کہ : اللہ نے آپ کہئے کہ سب تعریف 32 اللہ ہی کے لئے ہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں۔

32 یعنی اللہ کی تعریف اس بات پر ہے کہ انہوں نے یہ تو خود ہی تسلیم کرلیا کہ آسمانوں اور زمین یعنی کل کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ اب ان کے اس اعتراف کا جو لازمی نتیجہ نکلتا ہے اس سے یہ لوگ بیخبر ہیں یا بیخبر رہنا چاہتے ہیں۔ اور ایسی باتیں کر جاتے ہیں جو ان کے اس اعتراف کی عین ضد ہیں۔ مثلاً ایک شخص جب یہ اعتراف کرتا ہے کہ زمین و آسمان کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے تو پھر اسے لازماً یہ بھی تسلیم کرلینا چاہئے کہ الٰہ اور رب بھی صرف اللہ ہی ہوسکتا ہے۔ بندگی اور عبادت کا مستحق بھی وہی ہوسکتا ہے۔ اپنی مخلوق کا حاکم وہی اور شاعر بھی وہی ہوسکتا ہے۔ دعاء اور فریاد بھی صرف اسی سے کرنا چاہئے۔ عقلی لحاظ سے یہ کیسے قابل تسلیم ہوسکتا ہے کہ خالق تو کوئی اور ہو اور معبود اس کی مخلوق بن بیٹھے۔ اور جو شخص اللہ کو خالق تسلیم کرلینے کے بعد دوسروں کو معبود سمجھتا ہے۔ اور اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے دوسروں کو پکارتا ہے۔ اسے اپنی عقل کا ماتم کرنا چاہئے۔
Ayah 31:26

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 31:26 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ اللہ ہی کا ہے 33 ۔ بلاشبہ اللہ ہی بےنیاز 34 اور لائق حمد و ثنا ہے۔

33 پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی صفت خالقیت کا ذکر تھا اور اس پہلو سے شرک کے بطلان پر دلیل پیش کی گئی تھی۔ اس آیت میں اللہ کے ہر چیز کا مالک ہونے کا ذکر ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کائنات کو پیدا کرکے کہیں علیحدہ نہیں جا بیٹھا۔ بلکہ وہ اس کے سر پر آن موجود ہے۔ وہ ان چیزوں پر کنٹرول رکھے ہوئے ہے۔ ان پر قابض ہے۔ اور جس طرح ان چیزوں میں چاہے تصرف بھی کرسکتا ہے اور کر رہا ہے اور اس کی ساری مخلوق اس کی مملوک بھی ہے۔ کسی مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی اس ملکیت میں سے کسی چیز پر بھی شاہانہ اختیارات حاصا نہیں ہیں۔ بلکہ اگر اللہ نے کوئی چیز کسی کی ملک میں کردی ہے تو وہ اس میں اسی حد تک تصرف کرسکتا ہے یا اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے جس حد تک شریعت نے اجازت دے رکھی ہے۔ 34 اس جملہ کی تشریح کے لئے اسی سورة کی آیت نمبر 12 کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔
Ayah 31:27

وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 31:27 in the Quran reader

زمین میں جتنے درخت ہیں اگر وہ سب قلمیں بن جائیں اور سمندر روشنائی بن جائے پھر اس کے بعد سات مزید سمندر بھی روشنائی مہیا کریں تو بھی اللہ کی باتیں 35 ختم نہ ہوں گی۔ بلاشبہ اللہ غالب اور حکمت والا ہے

35 اللہ کے کلمات سے مراد اس کے تخلیقی کارنامے، اس کے عجائبات اور کرشمے اور اس کی خوبیاں ہیں۔ اور ان کے بیشمار پہلو ہیں۔ مثلاً انسان کے اندر کی دنیا کے عجائبات اور بیرونی دنیا کے عجائبات۔ انسان کی عقل اور علم ان دونوں میں کسی کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے۔ اور جو کچھ وہ جانسکا ہے اسے بھی ضابطہ تحریر میں لانا ناممکن ہے اور نہ بیان کیا جاسکتا ہے۔ جہاں انسان کی عقل اور اس کا علم خود ہی ورطہ حیرت میں پڑجاتے اسے وہ لکھے گا کیا اور بیان کیا کرسکتا ہے۔ پھر یہ ایک نوع انسان ہی کی بات نہیں جو اربوں کی تعداد میں دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔ حیوانات کی تقریباً دس لاکھ انواع ایسی ہیں جو انسان کے علم میں آچکی ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کی جسمانی ساخت اور نظام زیست دوسری تمام انواع سے الگ ہے۔ یہی حال نباتات اور جمادات اور سمندری مخلوق کا ہے پھر بہت سی ایسی مخلوق ہے جو انسان کے علم میں آہی نہیں سکی اور نہ آسکتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے یہ تخلیقی کارنامے ختم نہیں ہوگئے بلکہ ہر آن جاری ہین۔ اور اس کی مخلوق میں ہر آن ترقی اور اضافہ ہو رہے۔ جیسا کہ بعض دوسری آیات مثلاً 51: 47 اور 55: 29 میں یہ صراحت موجود ہے۔ لہذا اس آیت میں جو یہ بیان ہوا ہے کہ تمام درختوں کی قلمیں بنا لی جائیں اور سارے سمندر بلکہ اتنے اور بھی سیاہ بن جائیں تو یہ چیزیں تو ختم ہوسکتی ہیں مگر اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں گے۔ اس میں کچھ مبالغہ معلوم نہیں ہوتا۔ وجہ یہ ہے کہ ان چیزوں کی خواہ کتنی ہی زیادہ تعداد ہو بہرحال وہ محدود ہے اور ان کا شمار کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ اللہ کے کلمات لامحدود ہیں۔ جن کا کچھ حد و حساب ممکن نہیں۔ اور یہ تو مسلمہ امر ہے کہ محدود چیز لامحدود کا کبھی احاطہ نہیں کرسکتی۔
Ayah 31:28

مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 31:28 in the Quran reader

تم سب کو پیدا کرنا اور دوبارہ زندہ کرکے اٹھا دینا (اللہ تعالیٰ کے لئے) ایسا ہی ہے جیسے صرف ایک نفس کو پیدا کرنا 36 ، اللہ بلاشبہ سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے

36 اس کی مثال یوں سمجھئے کہ اللہ تعالیٰ اربوں انسانوں کی پکار بیک وقت سن لیتا ہے۔ ایک انسان کی دعا سننا اسے دوسروں کی دعا سننے سے غافل یا قاصر نہیں بنا سکتا۔ اس کے لئے ایک انسان کی ایک وقت میں دعا سننا اور اربوں انسانوں کی اسی وقت میں دعا سننا برابر ہے۔ پھر اس کی مخلوق صرف انسان ہی نہیں۔ لاکھوں انواع میں اور اربوں کھربوں کی تعداد میں ہیں۔ وہ ان سب کی وہ دعا و فریاد سنتا ہے۔ اور ایک چیونٹی کی بھی فریاد اسی طرح سنتا ہے جیسے ایک انسان کی۔ پھر معاملہ صرف سننے تک محدود نہیں۔ بلکہ انہی کمالات کے ساتھ وہ اپنی ساری مخلوق کو دیکھ بھی رہا ہے۔ ان کے ظاہری اور باطنی حالات سے واقف بھی ہے۔ انھیں رزق بھی پہنچا رہا ہے اور ان کی جملہ ضروریات بھی پوری کر رہا ہے۔ یہی حال اس کی تخلیق کا بھی ہے۔ اس کا ایک انسان کو پیدا کرنا بھی ایسے ہی ہے جیسے سب انسانوں کا پیدا کرنا۔ وہ ایک ہی وقت میں لاکھوں انسانوں اور اربوں دوسری مخلوق کو اس وقت بھی پیدا کر رہا ہے اور قیامت کو مرنے کے بعد دوبارہ بھی انسانوں کو ایسے ہی بیک وقت اٹھا کھرا کرے گا اور اس کے لئے ایک انسان کے دوبارہ پیدا کرنے اور سب انسانوں کے دوبارہ پیدا کرنے میں کوئی فرق نہیں۔
Ayah 31:29

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١٘ كُلٌّ یَّجْرِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 31:29 in the Quran reader

کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور سورج اور چاند کو کام 37 پر لگا دیا ہے۔ ہر ایک مقررہ وقت تک چلتا 38 رہے گا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے 39 باخبر ہے۔

37 اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کا ذکر فرمایا تو ساتھ ہی سورج اور چاند کا بھی ذکر فرما دیا۔ سورج کا تعلق دن کے اوقات سے ہے اور چاند کا رات کے اوقات سے اور یہی دو سیرے ہیں جو اہل زمین کو سب سے زیادہ نمایاں نظر آتے ہیں۔ اور اکثر ادوار میں ان دونوں کی ہی پوجا اور عبادت کی جاتی رہی ہے۔ اور ان دونوں کو اللہ تعالیٰ نے ایسے کام پر لگا دیا ہے جس سے وہ سرمو سرتابی نہیں کرسکتے۔ قابل غور و فکر بات یہ ہے کہ اللہ کی جو مخلوق اپنے کام میں اس طرح جکڑی ہوئی ہو۔ کیا وہ معبود ہونے کی اہلیت رکھتی ہے ؟ جو چیز اپنے اختیار سے نہ ایک لمحہ آگے پیچھے رہ سکتی ہے اور نہ ایک انچ ادھر ادھر سرک سکتی ہے، ایسی بےاختیار مخلوق معبود سمجھ لینا حماقت نہیں تو کیا ہے ؟ 38 یعنی اس مقررہ وقت کے بعد ان کی حرکت یا ان کی گردش ختم ہوجائے گی۔ بالفاظ دیگر یہ نظام لیل و نہار ختم کردیا جائے گا۔ اور اس سورج اور چاند کا وجود فنا ہوجائے گا۔ کیونکہ یہ چیزیں ایک مقررہ وقت تک ہیں ابدی نہیں ہیں۔ اور اگر ابدی نہیں تو ازلی بھی نہیں ہوسکتیں۔ گویا یہ چیزیں حادث ہیں اور فنا ہونے والی ہیں۔ گویا اس آیت میں دہریوں کا رد بھی موجود ہے جو اس کائنات کو ازلی ابدی سمجھتے ہیں اور مشرکوں کا بھی رد ہے جو ان فانی چیزوں کو معبود سمجھے بیٹھے ہیں۔ 39 دہریہ حضرات تو سرے سے روز آخرت کے منکر ہوتے ہیں اور مشرکین میں سے اکثر تو آخرت کے منکر ہوتے ہیں۔ جیسا کہ دور نبوی میں مشرکین مکہ اور ایران کے آتش پرست دونوں آخرت کے منکر تھے اور بعض مشرک عقیدہ آخرت کے منکر تو نہیں ہوتے مگر اس عقیدہ کو کچھ مزید ایسے عقیدے شامل کرلیتے ہیں۔ جو عقیدہ آخرت کے اصل مقصد کو فنا کردیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے سب لوگوں کی طرز زندگی اس دنیا میں شتر بےمہار کی طرح گرزتی ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ساتھ ہی یہ وعید سنا دی کہ اللہ تمہارے اعمال سے پوری طرح باخبر ہے اور ان کی تمہیں سزا دانے پر بھی قادر ہے۔
Ayah 31:30

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ۠ Open ayah 31:30 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ اللہ ہی حق ہے اور اس کے علاوہ جنہیں وہ پکارتے ہیں سب باطل 40 ہے اور اللہ ہی عالی شان اور کبریائی والا 41 ہے۔

40 یعنی اللہ تعالیٰ کے معبود برحق ہونے کی دلیل تو یہ ہے کہ اس نے رات اور دن کا نظام قائم کیا اور یہ نظام اس قدر پیچیدہ ہے جس کے مطالعہ سے از خود یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ایسا نظام کوئی کمال درجے کی مقتدر اور حکیم ہستی ہی قائم کرسکتی ہے اور سورج اور چاند بھی اسی نظام کا ایک حصہ ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اللہ کے سوا جن چیزوں کو لوگوں نے معبود بنا رکھا ہے اور انھیں پکارتے ہیں۔ انہوں نے کیا بنایا ہے کہ انھیں بھی الوہیت کا مستحق اور حصہ دار بنایا جائے ؟ اور اس کا جواب نفی میں ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ معبود سراسر باطل ہیں۔ 41 یعنی کائنات کی ہر چیز سے اس کی شان بھی بلند اور بڑائی میں بھی کائنات کی ہر چیز سے بڑا ہے اور ان دونوں صفات کا مجموعہ تم استوطی علی العرش میں پایا جاتا ہے۔ اس میں ایک لطیف اشارہ یہ بھی پایا جاتا ہے اللہ کی ان صفات کے مقابلہ میں بندہ میں انتہائی پستی اور تذلیل (یہی دراصل عبادت کا معنی ہے) اللہ ہی کے لئے ہونا چاہئے۔
Ayah 31:31

اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ لِیُرِیَكُمْ مِّنْ اٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 31:31 in the Quran reader

کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے سمندر میں کشتی چلاتا ہے تاکہ تمہیں اپنی نشانیاں 42 دکھائے۔ اس میں ہر صابر و شاکر کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں

42 کشتیوں اور جہازوں کے سطح آب پر چلنے میں اللہ کی کئی نشانیاں اور مہربانیاں ہیں۔ پانی کی یہ خاصیت ہے کہ وہ ہر چیز کو اوپر کی اٹھاتا ہے۔ بالفاظ دیگر پانی میں ہر چیز کا وزن ہوا میں وزن کی نسبت کم ہوتا ہے اور یہ کمی کسی چیز کے حجم کے برابر پانی کے حجم کے مطابق ہوتی ہے۔ یہی وہ طبیعی قانون ہے جس کے باعث انسان سمندر پر کشتیاں اور جہاز چلانے پر قادر ہوسکا ہے۔ پھر سمندر میں تلاطم خیز موجیں اور آندھی کے طوفان انسان کو ہلاکت سے فوراً دوچار کرسکتے ہیں۔ علاوہ ازیں سمندر میں اتنی عظیم الجثہ مخلوق موجود ہے جو ایک ٹکر ہی کشتیوں اور جہازوں کو ڈبو سکتی ہے۔ یہ بس اللہ کی خاص مہربانی ہی ہوتی ہے کہ انسان اکثر اوقات سمندری سفر خیر و عافیت سے طے کرلیتا ہے۔
Ayah 31:32

وَ اِذَا غَشِیَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ Open ayah 31:32 in the Quran reader

اور جب ان پر سائبانوں جیسی کوئی موج چھا جاتی ہے تو اللہ کی مکمل حاکمیت کو تسلیم کرتے ہوئے خالصتاً 43 اسے پکارتے ہیں پھر جب وہ انھیں بچا کر خشکی تک لے آتا ہے تو پھر کچھ ہی لوگ حد اعتدال پر رہتے 44 ہیں اور ہماری نشانیوں کا انکار صرف وہی کرتے ہیں جو غدار 45 اور ناشکرے ہوں۔

43 تلاطم خیز موجوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس لئے فرمایا کہ ایسے طوفان سمندر میں اکثر اٹھتے رہتے ہیں۔ اس وقت تو سب لوگ کیا مشرک اور کیا دہریئے سب ہی اللہ کو پکارنے لگتے ہیں۔ جو اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وجود اور توحید باری تعالیٰ دونوں باتیں ہی انسان کی فطرت میں موجود ہیں۔ 44 عععع مقتصد ذومعنی لفظ ہے۔ اس کا اصل معنی تو اعتدال پر قائم رہنے والا ہے۔ پھر اس کے مفہوم راہ راست پر آجانے والا بھی شامل ہے۔ یعنی وہ شخص جو اس مصیبت میں اللہ سے کئے ہوئے وعدہ کو یاد رکھے اور اسے پورا کرے جیسا کہ عکرمہ بن ابو جہل کے متعلق پہلے لکھا جاچکا ہے۔ (دیکھئے سورة الانعام کی آیت نمبر 41 کا حاشیہ) دوسرا مطلب یہ ہے کہ دہریے لوگ بھی اللہ سے انکار اور اللہ کے اقرار کے درمیان کی سطح پر آجاتے ہیں۔ کٹر منکر نہیں رہتے۔ یہی حال مشرکوں کا ہوتا ہے وہ اپنے معبودوں کی حاجت رواوی اور مشکل کشائی کے بارے میں شک میں پڑجاتے ہیں۔ مشرکوں پر اپنے معبودوں پر پورا اعتقاد نہیں رہتا۔ 45 اور جن لوگوں کی عادت ہی یہ ہو کہ خواہ ان پر انعامات کی کس قدر بارش کردی جائے۔ انہوں نے شکر ادا کرنا یا احسان مان لینا سیکھا ہی نہ ہو، ایسے لوگ خطرہ ٹل جانے کے بعد پر اپنے سابقہ طرز زندگی یعنی کفر، شرک یا دہریت کی طرف پلٹ جاتے ہیں۔
Ayah 31:33

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ١٘ وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَیْئًا١ؕ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 31:33 in the Quran reader

اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرتے رہو اور اس دن سے ڈر جاؤ جب نہ تو کوئی باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام 46 آئے گا اور نہ بیٹا باپ کے۔ اللہ کا وعدہ یقینا سچا ہے لہذا یہ دنیا کی زندگی تمہیں دھوکہ 47 میں نہ ڈال دے اور نہ کوئی دھوکے باز تمہیں اللہ کے بارے 48 دھوکہ میں ڈالے

46 دنیا میں باپ بیٹے کا ہی رشتہ ایسا ہے جو مصیبت کے وقت ایک دوسرے کے کام آتے ہیں۔ مگر قیامت کے دن دہشت اتنی زیادہ ہوگی کہ باپ بیٹے چھپتا پھرے گا۔ اور بیٹا باپ سے ہر ایک اپنی مصیبت میں ہی ایسا گرفتار ہوگا کہ دوسرے کی طرف توجہ کرنے کی ہوش نہ ہوگی۔ اور نہ ہی کوئی شخص دوسرے کی مصیبت اپنے سر لینے کے لئے تیار ہوگا۔ نہ بیٹے میں اتنی ہمت ہوگی کہ وہ یہ کہہ سکے کہ باپ کے بدلے مجھے جہنم میں بھیج دیا جائے اور نہ باپ ہی ایسا کہہ سکے گا جب ایسے قریبی رشتہ داروں تک کا یہ حال ہوگا تو اور کوئی شخص کیسے کسی دوسرے کے کام آسکتا ہے ؟ لہذا ہر انسان کو اس دن کی ہولناکی سے اپنے بچاؤ کی فکر خود کرنا چاہئے۔ چناچہ جب آیت ( وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ 214؀ۙ ) 26 ۔ الشعراء :214) نازل ہوئی، آپ ﷺ نے کوہ صفا پر چڑھ کر اپنے قریبی رشتہ دار کو بلایا اور ہر ایک کا نام لے لے کر فرمایا تھا کہ اپنی فکر خود کرلو۔ اس دن میں تمہارے کسی کام نہ آسکوں گا۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ زیر آیت متعلقہ) 47 یعنی اسی دھوکہ میں نہ پڑے رہو کہ تمہارا مقصد حیات ہی یہ بن جائے کہ ہمارا معیار زندگی بلند سے بلند تر ہونا چاہئے یا تم دنیا کی زندگی پر اس قدر فریفتہ اور مفقون ہر جاؤ کہ یہ سمجھ بیٹھو کہ بس جو کچھ ہے یہی دنیا کی زندگی ہے اور عملاً اخروی زندگی کے منکر بن جاؤ یا یہ سمجھنے لگ جاؤ کہ اس دنیا میں خوشحالی کی زندگی ہی حق و باطل کا معیار ہے یا یہ سمجھو کہ دنیا میں خوشحالی اللہ کی رضا مندی کی دلیل ہے۔ یا یہ سمجھ بیٹھو کہ ابھی تو مزے کرلیں۔ بڑی عمر پڑی ہے بعد میں توبہ کرلیں گے۔ دنیوی زندگی کے متعلق یہ سارے نظریہ ہائے فکر سراسر دھوکا اور فریب ہیں۔ 48 غرور (غ پر فتحہ) مبالغہ کا صیغہ ہے۔ یعنی بڑا دھوکہ باز۔ ہر وقت دھوکہ دینے والا۔ اگرچہ اکثر لوگ اس سے مراد شیطان ہی لیتے ہیں۔ تاہم اس سے مراد انسان بھی ہوسکتے ہیں۔ افراد بھی، ادارے بھی اور حکومتیں بھی۔ جو شخص یا ادارہ کسی انسان کو فریب میں مبتلا کرکے اس کے لئے گمراہی کا سبب بن جائے وہ اس کے لئے دھوکا باز یا غرور ہے۔ اور وہ دھوکا بھی اللہ کے معاملہ میں دیتا ہے۔ مثلاً یہ کہ اللہ نے اپنے سارے اختیارات اپنے پیارے بندوں اور ولیوں کو دے رکھے ہیں۔ لہذا اب جو کچھ مانگنا ہو انھیں سے مانگنا چاہئے۔ یا یہ کہ اللہ بڑا غفور و رحیم ہے۔ وہ ہمیں دوزک میں کیوں ڈالے گا ؟ یا ڈال کر کیا کرے گا ؟ پھر یہ خیال کرکے گناہوں پر دلیر ہوجاتے ہیں یا اگر فلاں بدعی کام کیا جائے تو اللہ یقیناً اس سے خوش ہوگی اور ہمیں اس اجر وثواب ملے گا۔ غرضیکہ شیطان اور اس کے ایجنٹ اس کی نت نئی نئی شکلیں سجھاتے رہتے ہیں۔
Ayah 31:34

اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ١ۚ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 31:34 in the Quran reader

قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس 49 ہے وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے بطنوں میں کیا کچھ ہے۔ نہ ہی کوئی یہ جانتا ہے کہ کل کیا کام کرے گا۔ اور نہ ہی یہ جانتا ہے کہ کس سر زمین 50 میں وہ مرے گا۔ اللہ ہی ہے جو سب کچھ جاننے والا اور وہ بڑا باخبر ہے۔

49 کفار مکہ اکثر آپ سے پوچھتے رہتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی ؟ کتاب و سنت میں اس کے کئی الگ الگ جواب مذکور ہیں۔ مثلاً ایک جواب یہ ہے کہ قیامت جب بھی آئی یک لخت ہی آجائے گی۔ کبھی قرب قیامت کی علامات بتلا دی گئیں۔ ایک صحابی نے یہی سوال کیا تو آپ ﷺ نے اسے پوچھا : کیا تم نے اس کے لئے کچھ تیاری کر رکھی ہے ؟ ایک سائل کو آپ ﷺ نے یہ جواب دیا کہ جو شخص مرگیا بس اس کی قیامت قائم ہوگئی۔ لیکن اس سوال کا بالکل ٹھیک جواب یہی ہے کہ قیامت کا علم صرف اللہ کو ہے۔ کسی نبی کو بھی نہیں حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ کو بھی نہ تھا۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی پیدل چلتا ہوا آیا (یہ جبریل ( علیہ السلام) تھے) اور کہنے لگا : یارسول اللہ ﷺ ! ایمان کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ایمان یہ ہے کہ تو اللہ، اس کے فرشتوں اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے، اور (قیامت کے دن) ان سے ملنے کا یقین رکھے اور مر کر جی اٹھنے پر ایمان لائے، پھر وہ کہنے لگا : اسلام کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : کہ تو صرف اللہ ہی کی پرستش کرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائے (فرض) نماز اور زکوٰ ۃ ادا کرتا رہے ، اور رمضان کے روزے رکھے پھر اس نے پوچھا : احسان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی یوں عبادت کرے جیسے اسے دیکھ رہا ہے اور اگر ایسا نہ کرسکے تو کم از کم یہ سمجھ کہ وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ پھر اس نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! قیامت کب آئے گی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جس سے یہ سوال کر رہے ہو وہ بھی سائل سے زیادہ جانتا (یعنی دونوں ایک جیسے ناواقف ہیں) البتہ میں تجھے قیامت کی وہ نشانیاں بتلاتا ہوں ایک یہ ہے کہ عورت اپنا مالک چنے گی۔ دوسرے یہ کہ ننگے پاؤں پھرنے والے اور ننگے بدن (گنوار قسم کے لوگ) لوگوں کے رئیس ہوں گے۔ دیکھو ان پانچ باتوں میں سے ایک قیامت بھی ہے جسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، وہی جانتا ہے کہ قیامت کب آئے گی، اور بارش کب برسے گی، اور ماؤں کے پیٹ میں کیا کچھ (تغیر و تبدل ہوتا رہتا ہے) پھر وہ شخص لوٹ کر چل دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ذرا اسے بلا لاؤ۔ لوگ بلانے لگے تو دیکھا وہاں کوئی نہ ملا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : یہ جبرئیل تھے جو آپ لوگوں کو دین کی باتیں سکھلانے آئے تھے (بخاری۔ کتاب التفسیر) یہ حدیث، حدیث جبرئیل ( علیہ السلام) کے نام سے مشہور ہے۔ اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ قیامت کا معین وقت نہ جبرئیل ( علیہ السلام) کو معلوم تھا اور نہ رسول اللہ ﷺ کو۔ اس کا معین وقت نہ بتلانے میں حکمت یہ ہے کہ قیامت کا معین وقت اور اسی طرح کسی کو اس کی موت کا متعین وقت بتلا دینے سے اس دنیا کے دارالامتحان ہونے کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔ اسی لئے نہ موت کے وقت کا ایمان مقبول ہے اور نہ قیامت کو مقبول ہوگا جبکہ جب قیامت کی صریح علامات مثلاً سورج کا مغرب سے طلوع ہونا وغیرہ تو اس وقت بھی ایمان لانا مقبول نہ ہوگا۔ 50 قیامت کے علاوہ چار باتیں اور بھی ہیں۔ جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ان چار میں میں سے پہلی بات یہ ہے کہ نفع رساں بارش کب ہوگی۔ دوسری یہ کہ مادر رحم میں کیا کچھ ہوتا ہے۔ اور اس میں یہ بھی شامل ہے کہ جب جنین میں روح ڈالی جاتی ہے تو ساتھ ہی فرشتہ اس کی عمر، اس کی روزی، (یعنی اسے کتنا رزق ملے گا، خوشحالی ہوگا یا تنگ دست، نیز یہ کہ نیک بخت ہوگا یا بدبخت یہ باتیں بھی مادر رحم کے مراحل میں شامل ہیں۔ تیسری یہ بات وہ کل کیا کرے گا یعنی اسے توبہ کی توفیق نصیب ہوگی یا نہیں۔ بلکہ اسے کل تک جینا بھی نصیب ہوگا یا نہیں۔ اور چوتھی یہ بات کہ وہ کب اور کہاں مرے گا۔ یہ چار باتیں ایسی ہیں جن سے ہر انسان کو دلچسپی ہوتی ہے۔ اس لئے بالخصوص ان باتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ورنہ اور بھی کئی امور ایسے ہیں۔ جو غیب سے تعلق رکھتے ہیں اور ان تک انسان کی رسائی نہیں ہوسکتی۔