Ayahs 30:1–41 سورة روم کی ان ابتدائی آیات میں دو ایسی پیشین گوئیاں کی گئی ہیں جو اسلام اور پیغمبر اسلام کی رسالت کی حقانیت پر زبردست دلیل ہیں۔ ان میں پہلی پیشین گوئی یہ ہے کہ اگر آج روم شکست کھا گیا ہے تو چند ہی سالوں میں روم پھر ایران پر غالب آجائے گا۔ اور دوسری پیشین گوئی یہ تھا کہ اگر آج مسلمان مشرکین مکہ کے ہاتھوں مظلوم و متہور ہیں۔ تو ان کو بھی اسی دن مشرکین مکہ پر غلبہ حاصل ہوگا جس دن روم ایران پر غالب آئے گا اور قرآن نے یہ دونوں پیشین گوئیاں ایسے وقت میں بیان کیں جبکہ ان پیشین گوئیوں کے پورا ہونے کے دور دور تک کہیں آثار نظر نہیں آرہے تھے۔
تفصیل اس اجال کی یہ ہے کہ جس زمانہ میں آپ ﷺ کو نبوت عطا ہوئی (610 ء میں) اس وقت عرب کے اطراف میں دو بڑی طاقتیں Super Power موجود تھیں۔ ایک روم کی عیسائی حکومت جو دو باتوں میں مسلمانوں سے قریب تھے۔ ایک یہ کہ دونوں اہل کتاب تھے، دوسرے دونوں آخرت پر ایمان رکھتے تھے۔ لہذا مسلمانوں کی ہمدردیاں انھیں کے ساتھ تھیں۔ مسلمانوں کی عیسائی حکومت سے ہمدردی کی ایک اور وجہ یہ بھی تھی اسی زمانہ میں مسلمانوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی اور قریشیوں نے مسلمانوں کو واپس لانے کی کوشش کے باوجود حبشہ کے عیسائی بادشاہ نجاشی نے مسلمانوں کو اپنے ہاں پناہ دی اور قریش کی سفارت کو بری طرح ناکام ہو کر وہاں سے واپس آنا پڑا تھا۔
اور دوسری ایران کی حکومت جو دو وجوہ سے مشرکین مکہ سے قریب تھے۔ ایک یہ کہ دونوں مشرک تھے۔ ایرانی دو خداؤں کے قائل اور آتش پرست تھے اور مشرکین بت پرست تھے اور دوسرے یہ کہ دونوں آخرت کے منکر تھے۔ انہی وجوہ کی بنا پر مشرکین مکہ کی ہمدردیاں ایران کے ساتھ تھیں۔
آپ ﷺ کی پیدائش 570 ء میں ہوئی اور آپ ﷺ کو نبوت 610 ء میں عطا ہوئی تھی۔ روم اور ایران میں جنگ 602 ء سے شروع ہو کر 614 ء تک جاری رہی اور یہ جنگی خبریں مکہ بھی پہنچتی رہتی تھیں۔ جب ایران کی فتح کی کوئی خبر آتی تو مشرکین مکہ بغلیں بجاتے اور اس خبر کو اپنے حق میں نیک فال قرار دیتے تھے اور کہے کہ جس طرح اطراف نے روم کا سر کچلا ہے ایسے ہی ہم بھی کسی وقت مسلمانوں کا سر کچل دیں گے۔ اور واقعہ بھی یہ تھا کہ 610 ء کے بعد یہ جنگ دو ملکوں کی جنگ نہ رہی تھی بلکہ اب یہ مجوسیت اور عیسائیت کی جنگ بن چکی تھی۔ 614 ء میں خسرو پرویز نے روج کو ایک مہلک اور فیصلہ کن شکست دی۔ شام ، مصر اور ایشائے کوچک کے سب علاقے رومیوں کے ہاتھ سے نکل گئے۔ ہرقل قیصر روم کو ایرانی فوجوں نے قسطنطنیہ میں پناہ گزیں ہونے پر مجبور کردیا اور رومیوں کا دارالسلطنت بھی خطرہ میں پڑگیا۔ بڑے بڑے پادری قتل یا قید ہوگئے۔ بیت المقدس عیسائیوں کی سب سے زیادہ مقدس صلیب بھی ایرانی فاتحین اٹھا لے گئے اور قیصر روم کا اقتدار بالکل فنا ہوگیا۔ یہ خبر مشرکین مکہ کے لئے بڑی خوش کن تھی انہوں نے مسلمانوں کو چھیرنا شروع کردیا اور حضرت ابوبکر ؓ سے کہنے لگے کہ جس طرح ایران نے روم کو ختم کر ڈالا ہے ایسے ہی ہم بھی تمہیں مٹا ڈالیں گے۔ یہ آپ کی نبوت کا پانچواں سال تھا۔ مسلمان حبشہ کی طرف ہجرت کرچکے تھے۔ ایسے ہی حالات میں سورة روم کی یہ آیات نازل ہوئیں۔ اگرچہ بظاہر اہل روم کی فتح کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے تھے اور مشرکین مکہ ان آیات کا بھی تمسخر اڑا رہے تھے، تاہم حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اسی پیشین گوئی کی بنا پر مشرکین سے شرط باندھ لی کہ اگر لضیع کی زیادہ سے زیادہ مدت (لضیع تین سے نو تک کے لئے آتا ہے) یعنی 9 سال تک رومی غالب نہ آئے تو میں سو اونٹ تم کو دوں گا ورنہ اتنے ہی اونٹ تم مجھے دو گے۔ اس وقت تک شرط حرام نہیں ہوئی تھی۔
اب حالات نے یوں پلٹا کھایا کہ قیصر روم نے اندر ہی اندر یہ تہیہ کرلیا کہ وہ اپنے کھوئے ہوئے اقتدار کو ضرور واپس لے گا۔ ایک طرف تو اس نے اللہ کے حضور منت مانی کہ اگر اللہ نے اسے ایران پر فتح دی تو حمص سے پیدل چل کر ایلیا (بیت المقدس) سے پہنچوں گا۔ دوسری طرف نہایت خاموشی کے ساتھ ایک زبردست حملہ کی تیاریاں شروع کردیں۔ 623 ء میں اس نے اپنی مہم کا آغاز آرمینیا سے کیا اور آذربائیجان میں گھس کر زرتشت کے مقام پیدائش ارمیاہ کو تباہ کردیا اور ایرانیوں کے سب سے بڑے آتش کدے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ رسول اللہ ﷺ 622 ء میں ہجرت کرکے مدینہ آئے اور 623 ء میں مسلمانوں نے مشرکین مکہ کو بدر کے مقام پر شکست فاش دی۔ اسی دن مسلمانوں کو یہ خبر مل گئی کہ روم نے ایران کو شکست فاش دے کر اپنا علاقہ آزاد کر الیا ہے۔ اس طرح مسلمانوں کو تو دوہری خوشیاں نصیب ہوگئیں ان مشرکین مکہ کو دوہری ذلت سے دوچار ہونا پڑا۔
قرآن کی اس عظیم الشان اور محیرالعقول پیشین گوئی کی صداقت کا مشاہدہ کرکے بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کرلیا اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے مشرکین مکہ سے سو اونٹ وصول کئے جو آپ ﷺ کے حکم کے مطابق صدقہ کردیئے گئے۔
Ayahs 30:5–62 یعنی اللہ کا وعدہ پورا ہو کے رہتا ہے اور نظر آنے والی سب رکاوٹیں خود بخود مٹتی چلی جاتی ہیں۔
Ayah 30:73 اس کے دو مطلب ہیں۔ ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس آیت کا یہی مطلب ہے کہ ظاہر میں لوگوں کی نظر صرف ظاہری اسباب پر ہوتی ہے۔ اور انھیں اسباب کو دیکھ کر وہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں مگر اس کائنات میں ظاہری اسباب کے علاوہ بیشمار باطنی اسباب بھی موجود ہیں۔ جنہیں صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ اور ہر کام کا انجام تو صرف اللہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ بسا اوقات ظاہری اسباب کے بالکل الٹ نتیجہ برآمد ہوتا ہے اور یہ ایسی بات ہے جو عام لوگوں کے علم میں نہیں آسکتی۔ اور اگر اس آیت کو عام معنوں پر محمول کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ عام لوگوں کی نظر بس دنیا کے مال و اسباب پر ہی ہوتی ہے اور اسی پر وہ فریفتہ و منتون ہوتے ہیں۔ وہ اس انجام سے قطعاً غافل ہوتے ہیں کہ انھیں مر کر اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے جہاں ان کے اعمال کا محاسبہ بھی ہوگا پھر اس کے مطابق انھیں سزا بھی ملنے والی ہے۔
Ayah 30:84 انسان کے اندر بھی ایک پوری کائنات آباد ہے۔ اسی لئے انسان کے اندر کی دنیا عالم اصغر کہا جاتا ہے۔ اور بیرونی دنیا یا کائنات کو عالم اکبر۔ پھر اس اندرونی دنیا کے بھی بیشمار پہلو ہیں۔ ہم سردست انسان کے اس پہلو پر غور کریں گے جس میں وہ دوسرے جانوروں سے ممتاز ہے۔ مفاد خویش ، تحفظ خویش اور بقائے نسل وغیرہ ایسے طبعی تقاضے ہیں جو ہر جاندار اور اسی طرح انسان میں بھی پائے جاتے ہیں۔ اور جن باتوں میں وہ ممتاز ہے وہ یہ ہیں (1) زمین اور اس کے ماحول میں بیشمار چیزیں ایسی ہیں جو انسان کے لئے مسخر کردی گئی ہیں۔ اور وہ ان سے جیسے چاہے کام لے سکتا ہے اور یہ صفت انسان کے علاوہ دوسرے کسی جاندار میں نہیں (2) اسے خیر اور شر کی تمیز بخشی گئی ہے۔ وہ اپنے ہی کئے ہوئے کاموں پر حکم لگا سکتا ہے کہ میں نے فلاں اچھا کام کیا ہے اور فلاں کام برا تھا۔ یہ بات کافی حد تک اس کی فطرت میں رکھ دی گئی ہے۔ پھر اسے وحی کے ذریعہ متنبہ بھی کیا جاتا رہا ہے (3) اسے قوت ارادہ و اختیار بھی بخشا ہے اور وہ اپنے لئے اچھا یا برا، کوئی بھی طرز زندگی اپنانے کا پورا اختیار رکھتا ہے۔ حتیٰ کہ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ وہ اپنے تحفظ کے فطری داعیہ کے علی الرغم کسی جذبہ کے تحت اپنی جان تک دینے سے بھی دریغ نہیں کرتا اور (4) اسے عقل و شعور کا وافر حصہ عطا کیا گیا ہے جس کے ذریعے وہ چند معلوم اور دیکھی ہوئی اشیاء سے مزید کچھ حقائق اور نتائج کا سراغ لگانے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اصطلاحی زبان میں علت (Cause) اور معلول (efee ct) سے تعبیر کیا جاتا ہے وہ مشاہدات کو دیکھ کر اس کی علت بھی معلوم کرنا چاہتا ہے اور اس سے آگے معلول بھی۔ یہ وہ اللہ کے عطیات ہیں جو انسان کے علاوہ کسی جاندار کو عطا نہیں کئے گئے اور ان کے عطا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس دنیا میں انسان کا امتحان لیا جائے کہ آیا وہ ان امور میں بھی اللہ کا فرمانبردار بن کر رہتا ہے جس میں اسے اختیار دیا گیا ہے یا نہیں ؟ جیسا کہ وہ طبعی امور میں اللہ کے قوانین و احکام کا پابند ہے۔ گویا یہ دنیا صرف انسان کے لئے دارالامتحان ہے اور کسی جاندار کے لئے نہیں۔ اور اس امتحان کا وقت اس کی موت تک ہے۔ موت دراصل اس کے امتحان کے نتیجہ کے امکان کا دن ہے۔ اور موت کے فوراً بعد پاس ہونے والوں کو انعام و اکرام دیئے جائیں گے اور ان کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اور فیل ہونے کو اپنے اپنے رزلٹ کے حساب سے سخت اور سخت تر سزائیں دی جائیں گی۔ اسی حقیقت سے عالم آخرت کے یقینی طور پر واقع ہونے کی عقلی دلیل پیش کی گئی ہے۔ کیونکہ یہ تو ناممکن ہے کہ کسی شخص کا امتحان تو لیا جائے لیکن اس کے نتیجہ کا اعلان ہی نہ کیا جائے یا اعلان کے بعد ان پاس ہونے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور نہ فیل ہونے والوں کو کچھ سزا دی جائے اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ امتحان کا وقت ختم ہونے سے پہلے ہی کسی کو سزا دے ڈالی جائے۔ لہذا جزا و سزا کا اصل مقام دارالاخرت ہے نہ کہ یہ دنیا۔ اور اس دنیا میں جو بعض افراد یا اقوام پر عذاب الٰہی نازل ہوتا ہے تو وہ محض مجرموں کی گرفتار ہوتی ہے پوری سزائے جرم نہیں ہوتی۔ تاکہ دوسرے لوگ ایسے مجرموں کے مظالم سے محفوظ رہ سکیں اور آئندہ کے لئے ان کے مظالم کا سلسلہ بند ہوجائے گویا انسان کے اندر کی دنیا کے اس پہلو پر بھی غور کرنے سے یہی نتیجہ سامنے آیا ہے۔ کہ انسان کو اس کے اچھے اور برے اعمال کی سزا ملنا ضروری ہے۔ اور نیز یہ کہ یہ سزا موت کے بعد ہی ہوسکتی ہے لہذا روز آخرت کے قیام ضروری ہوا۔ اب جو لوگ انسان کے اعمال کی جزا و سزا اور روز آخرت پر یقین ہی نہیں رکھتے ان سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ آخر تمہیں یہ زائد عطیات کیوں عطا کئے گئے تھے ؟ اگر دنیا میں رہنے کا مقصد کھانا پینا، بقائے نقل اور اس کے بعد مر کر مٹی ہوجانا ہی تھا تو یہ کام تو دوسرے جاندار بھی کر رہے ہیں۔ پھر تم میں اور ان میں کیا امتیاز باقی رہ گیا ؟ بلکہ ایک لحاظ سے ایسا انسان جانوروں سے بدتر ہوا۔ کہ اللہ نے اسے جو دوسرے جانوروں سے زائد صلاحیتیں عطا کی تھیں ان سے اس نے کچھ بھی فائدہ نہ اٹھایا۔
5 بالحق سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کائنات کی جملہ اشیاء کے ذمہ جو کام لگا دیا ہے اور اس کے لئے جو قوانین مقرر کردیئے ہیں کہ وہ ان پر سختی سے پابند ہیں۔ کہ نہ وہ ایک لمحہ آگے پیچھے ہوسکتی ہیں اور نہ ایک آدھ انچ بھی ہٹ سکتی ہیں۔ مثلاً سورج کے ایک دن طلوع ہونے سے دوسرے دن طلوع ہونے تک 24 گھنٹے لگتے ہیں۔ سورج کے لئے ممکن نہیں کہ وہ اس وقت میں ایک لمحہ کی بھی تقدیم و تاخیر کرے۔ پانی کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ کسی وقت نشیب کے فراز کی طرف بہنا شروع کرے یا سطح ہموار نہ رکھے یا 100 درجہ سنٹی گریڈ سے پہلے ہی کھولنا شروع ہوجائے ، نہ آگ کے لئے ممکن ہے کہ وہ اشیاء کو جلانا چھوڑ دے۔ یا گرمی سے اشیاء پھیلنا اور سردی سے سکڑنا چھوڑ دیں۔ یہی وہ قوانین ہیں جن میں نظم و ضبط کی بنا پر انسان نت نئی ایجادات کو ظہور میں لانے کے قابل ہوسکتا ہے بلکہ تھوڑا سا آگے غور و فکر کیا جائے کہ اگر اشیاء کائنات میں یہ نظم و ضبط نہ ہوتا تو انسان اس دنیا پر زندہ بھی نہ رہ سکتا تھا۔ جس سے صاف واضح ہے کہ کائنات کی ایک ایک چیز بیشمار فوائد اور مصالح کی بنا پر بنائی گئی ہے یہ محض کس بچے کا کھیل نہیں کہ جس نے اپنا دل بہلانے کے لئے ایک گھروندا بنا لیا ہو اور جب اس کا جی اکتا جائے تو اس پر ہاتھ پھیر کر اسے مٹا ڈالے۔ بلکہ یہ کسی حکیم مطلق کی ایک سوچی سمجھی تدبیر اور کارنامہ ہے۔ جس سے ایک نتیجہ تو یہ نکلتا ہے کہ ایسے منظم و مربوط کارخانہ کا خالق ومالک ایک ہی ہستی ہوسکتی ہے اور دوسرا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان کی ایجادات اور تسخیر کائنات کا راز اسی بات میں ہے۔ کائنات کی جملہ اشیاء طبعی قوانین کی پابند ہیں۔ اگر یہ بات نہ ہوتی نہ علوم سائنس کا تصور کیا جاسکتا تھا اور نہ انسانی تہذیب و تمدن کا۔ اب سوال یہ ہے کہ ایک طرف کائنات کی بنیاد ٹھوس حقائق پر مبنی ہے، دوسری طرف انسان کو وہ صلاحیتیں دی گئی ہیں جو کسی اور جاندار کو نہیں دی گئیں۔ جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ہے۔ ان باتوں کے باوجود یہ کیسے باور کیا جاسکتا ہے کہ انسان کی زندگی کا کوئی مقصد نہ ہو۔ اور وہ جیسے چاہے اس دنیا زندگی گزار کر، عیش و عشرت کے مزے اڑا کر اور دوسروں پر ظلم کرکے اور ان کے حقوق پامال کرکے دنیا سے رخصت ہوجائے اور پھر مٹی میں مل کر مٹی بن جائے اور اس سے کوئی باز پرس تک کرنے والا نہ ہو۔ گویا اس آیت میں توحید باری پر انسان کی زندگی کے مقصد پر اور روز آخرت پر قوی دلائل اور شہادتیں پیش کی گئی ہیں۔
6 قیامت اور عالم آخرت پر یہ تیسری دلیل ہے۔ ہر چیز جو پیدا ہوئی ہے یا اصطلاحی زبان میں حارث ہے۔ وہ فنا ضرور ہوگی۔ کائنات کا یہ مربوط پائیدار نظام دیکھ کر انسان یہی سوچتا ہے کہ تا ابد یہ نظام یونہی چلتا جائے گا۔ اصل چیز مادہ ہے جو ازلی ابدی ہے۔ مادہ صرف اپنی شکلیں بدلتا ہے، فنا نہیں ہوتا یہی دہریہ حضرات کے عقیدہ کی اصل بنیاد ہے۔ لیکن موجودہ دور کی تحقیقات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ماد $2 $3$4 ھی فنا ہوسکتا ہے اور اسے توانائی میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ ایٹم کے اجزاء الیکٹرون اور پروٹون کا نظام درہم برہم کرکے اسے توانائی میں تبدیل کرلیا جاتا ہے پھر توانائی بھی مادہ میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ اللہ کی ذات اور اس کی صفات کے سوا نہ کوئی چیز ازلی ہے اور نہ ابدی۔ اور ہر چیز فنا ہوسکتی ہے۔ جب یہ بات سائنس کے ذریعہ پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے تو اب اس کائنات کے نظام کے درہم برہم ہونے اور قیامت قائم ہونے میں کیا استحالہ باقی رہ جاتا ہے ؟ رہی یہ بات کہ اس کائنات کا یہ موجودہ نظام کب درہم برہم ہوگا اور کب قیامت قائم ہوگی اور یہ بات صرف خالق کائنات ہی جان سکتا ہے اور یہ بات معلوم کرلینا انسان کی دسترس سے باہر ہے۔
Ayah 30:97 یعنی ظلم کی عمارت ہمیشہ عقیدہ آخرت سے انکار کی بنیاد پر اٹھتی ہے۔ اور جن ظالم اقوام کو اللہ تعالیٰ نے تباہ کیا ان سب میں قدر مشترک یہی تھی کہ آخرت کے منکر تھے۔ کیونکہ جو شخص یا جو قوم آخرت میں اللہ کے حضور اپنے اعمال کی جوابدہی کی قائل ہوگی وہ ظلم کر ہی نہیں سکتی۔ ان تباہ ہونے والی قوموں میں ایسے لوگ بھی موجود تھے جو تم سے بہت زیادہ طاقتور تھے۔ فنون دنیا کے ماہر تھے۔ انہوں نے زرعی میدان میں بھی خوب ترقی کی تھی اور زمین کو چیر کر اس میں سے خزانے بھی نکالے تھے۔ اور تہذیب و تمدن کے لحاظ سے تم سے بہت زیادہ ترقی یافتہ تھے۔ لیکن جب انہوں نے ظلم اور زیادتی پر کمر باندھی تو اللہ نے انھیں تباہ و برباد کرکے رکھ دیا اب اگر اے کفار مکہ ! تم بھی وہی سرکشی اور ظلم کی راہ اختیار کرو گے تو آخر کیا وجہ ہے کہ تمہارا بھی انجام ایسا ہی نہ ہو۔
8 یعنی ایک تو تمہارے اندر آخرت کے لازمی ہونے کے دلائل موجود تھے، دوسرے کائنات میں موجود تھے، تیسرے تم پر اللہ کی رحمت ہوئی کہ اس نے رسول بھیج کر تمہیں مابعدالموت پیش آنے والے حقائق سے خبردار کرتے رہے۔ پھر بھی اگر تم لوگ عقیدہ آخرت کے منکر بن کر اپنی عاقبت تباہ کرلو تو اس میں تمہارا اپنا ہی قصور ہے۔ اللہ تعالیٰ کبی کسی پر زیادتی اور ظلم نہیں کرتا۔
Ayah 30:109 یہ ان کے ظلم اور زیادتی کی آخری حد تھی۔ نہ انہوں نے اپنے اندر کی شہادت پر غور کیا، نہ نظام کائنات میں غور کیا اور رسولوں نے انھیں جب اصل حقائق سے آگاہ کیا تو انھیں صرف جھٹلایا ہی نہیں بلکہ ان کا اور اللہ کی آیات کا مذاق بھی اڑانے لگے۔ جب ان کی سرکشی اس حد تک پہنچ گئی اور عملی طور پر اس ظلم اور زیادتی میں آگے ہی بڑھتے چلے گئے تو انھیں ان کی بداعمالیوں کی سزا بھی اتنی ہی بری ملی جس حد تک ان کے اعمال برے تھے۔
Ayah 30:1110 اس کی تشریح کے لئے دیکھئے سورة النمل کی آیت نمبر 64 کا حاشیہ نمبر 69 اور سورة العنکبوت کی آیت نبر 19 کا حاشیہ نمبر 31
Ayah 30:1211 یعنی وہ اپنی نجات سے مایوس ہوجائیں گے اور کسی کی سفارش یا امداد سے بھی۔ اور ان کی حالت ایسی ہوگی۔ جسے کوئی مجرم رنگے ہاتھوں لوگوں کے سامنے جرم کرتا ہوا پکڑا جائے۔ اور ایسے شخص پر سخت افسردگی اور مایوسی کی حالت طاری ہوجاتی ہے کیونکہ اسے اس جرم کی سزا سے بچنے کی کوئی امکانی صورت نظر نہیں آتی۔
Ayah 30:1312 دنیا میں جن چیزوں کو اللہ کا شریک سمجھاتا جاتا رہا ہے یا اس کی صفات و اختیارات میں شریک بنایا جاتارہا ہے ان کی تین ہی قسمیں ہوسکتی ہیں۔ ایک بےجان اشیاء جیسے پتھر کے بت یا شمس و قمر اور ستارے یا دوسرے شجر و حجر۔ دوسرے ایسے جاندار جنہوں نے کبھی اپنی خدائی کا دعویٰ نہ کیا ہو۔ جیسے ملائکہ، انبیائ، اولیاء اور صالحین۔ نیز بعض جاندار حیوانات، جیسے سانپ اور گائے وغیرہ۔ ان میں انبیاء اور صالحین تو ایسے لوگ ہیں جو دوسروں کو شرک سے سختی سے منع بھی کرتے رہے چہ جائیکہ وہ خود خدائی اختیارات کے طالب ہوں اور تیسرے وہ جاندار جو اپنی خدائی سے لوگوں سے منوانا چاہتے ہیں جیسے شیاطین، اللہ کے نافرمان بادشاہ، ادارے یا حکومتیں اور وہ اولیاء حضرات جنہوں نے اپنے مریدوں کی سفارش کی ذمہ داری اٹھا رکھی ہے یا یہ کہتے ہیں کہ پیر اپنے مریدوں کے اعمال و احوال سے ہر وقت باخبر رہتا ہے اور مشکل کے وقت انھیں پکارنے پر وہ فریاد کو بھی پہنچ جاتا ہے۔
اب دیکھئے پہلی قسم کے یعنی بےجان معبودوں سے تو سفارش کی توقع ہی عبث ہے۔ البتہ ان پتھروں اور شجر حجر کو بھی مشرکوں کے ساتھ جہنم میں ڈال دیا جائے گا تاکہ ایسے نعمتوں کی حسرت میں اضافہ ہو نیز یہ اشیاء جہنم کی آگ کو مزید بھڑکا کر ان کے لئے مزید عذاب کا باعث بنجائے۔ دوسری قسم کے معبود اللہ کے حضور صاف کہہ دیں گے کہ ہم تو ان کمبختوں کو شرک سے منع ہی کرتے رہے ہمیں کیا خبر تھی کہ یہ بدبخت ہماری ہی عبادت شروع کردی گے۔ لہذا یہ لوگ بھی اپنے عابدوں سے سخت بیزار ہوں گے۔ وہ ان کی سفارش کیا کریں گے۔ تیسری قسم کے لوگ جو فی الواقعہ مجرم ہوں گے۔ وہ تو خود گرفتار بلد اور عذاب میں ماخوذ ہوں گے۔ وہ اس بات کو غنیمت سمجھیں گے کہ اپنے عابدوں کے گناہوں کا کچھ حصہ ان پر نہ ضالا جائے گا لہذا وہ ایسے دلائل دینا شروع کردیں گے جن سے یہ ثابت کرسکیں کہ یہ عابد حضرات اپنے جرائم کے خود ہی ذمہ دار تھے۔ اور اس طرح ان کے دشمن بن جائیں گے اور اپنے آپ کو ان سے چھڑانا چاہیں گے۔ اس حال میں بھلا وہ کیا سفارش کرسکیں گے۔ غرضیکہ مشرکوں کے شریکوں میں سے کوئی بھی اللہ کے ہاں ان کی سفارش نہ کرے گا یا کرنے کے قابل ہی نہ ہوگا۔
Ayahs 30:14–1613 اس دنیا میں گروہوں اور جماعتوں کی بنیاد یا قوم ہوتی ہے یا وطن یا رنگ یا زبان یا برادری یا مخصوص سیاسی عقائد وغیرہ لیکن قیامت میں ان کی گروہ بندی ان اصولوں کے مطابق ہوگی جو دین کے تقاضے ہیں۔ مثلاً اللہ کے نیک اور فرمانبردار بندوں کی ایک ہی جماعت ہوگی خواہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں بستے ہوں البتہ یہ ممکن ہے کہ ہر پیغمبر کی امت کا الگ الگ گروہ ہو۔ قیامت کے منکروں کی الگ جماعت ہوگی، مشرکوں کی الگ، منافقوں کی الگ۔ نیز یہ گروہ بندی بعض جرائم کے لحاظ سے بھی ہوگی۔ جیسے زانیوں کی الگ، ڈاکوؤں کی الگ، متکبروں کی الگ وغیرذلک،۔ ان میں سے صرف پہلا گروہ جنت میں داخل ہوگا۔ اور وہاں ان کی عزت و تکریم اور تواضع بھی خوب ہوگی۔ باقی سب گروہ جہنم میں داخل ہوں گے گویا لوگوں کی اکثریت تو جہنم کا لقمہ بنے گی اور تھوڑے ہی لوگ ہوں گے جو جنت میں داخل ہوں گے۔
Ayah 30:1714 یعنی مشرکین کے عقائد باطلہ سے اللہ کی تزیہہ بیان کرو۔ مشرکین اپنے عقائد باطلہ کی ایک دلیل یہ بھی دیتے ہیں کہ اللہ اکیلا اس ساری کائنات کا انتظام کیسے سنبھال سکتا ہے لہذا ضروری ہے کہ وہ کچھ اختیارات دوسری ہستیوں کو تفویض کر دے۔ لہذا مسلمانوں کو حکم ہوا کہ وہ ایسے بیہودہ اور لچر عقائد سے اللہ کی پاکیزگی بیان کریں۔ اکثر مفسرین نے یہاں تسبیح سے مراد نماز لی ہے اور اس کا قرینہ یہ ہے کہ یہاں نمازوں کے اوقات بیان ہوئے ہیں۔ مشرکوں کی اکثریت ایسی ہری ہے جو انسانی زندگی پر سیاروں کے اثرات اور تاثیر کے قائل تھے۔ اور سورج کی تاثیر سے چونکہ تمام زمینی مخلوق متاثر ہوتی ہے۔ لہذا اسے معبود اکبر سمجھ کر مختلف رنگوں میں سورج کی اور آگ کی پوجا کی جاتی رہی ہے۔ سورج پرست عموماً طلوع آفتاب اور غروب کے وقت اس کی پرستش کرتے تھے۔ لہذا مسلمانوں کو حکم ہوا کہ ان اوقات کوئی فرض نماز تو کجا نفلی نماز بھی ادا نہ کی جائے۔ نیز سورج پرست سورج کی پوجا ان اوقات میں کیا کرتے تھے جب سورج مائل بہ عروج ہو۔ یعنی طلوع آفتاب سے نصف النہار تک۔ لہذا اس دوران کسی فریضہ نماز کا وقت مقرر نہیں کیا گیا۔ دو نمازیں تو اس وقت آتی ہیں جب سورج زوال پذیر ہو اور تین نمازیں اس وقت مقرر کی گئیں جبکہ سورج غائب ہوتا ہے۔ آیت نمبر 17 میں صبح اور شام کی نماز کا ذکر آگیا اور بعض کے نماز تُمْسُوْنَ میں شام اور عشاء دونوں شامل ہیں اور آیت نمبر 18 میں تیسرے پہر یعنی عصر کی نماز اور ظہر کی نماز کا ذکر آگیا۔ اور نماز بجائے خود اللہ کی تسبیح و تمہید کی بہترین شکل ہے۔
اور اگر ان دو آیات سے چار نمازوں کا ہی وقت سمجھا جائے تو سورة ہود کی آیت نمبر 14، بنی اسرائیل کی آیت نمبر 78 اور سورة طٰٰہٰ کی آیت نمبر 130 کو سامنے رکھا جائے تو قرآن سے ہی پانچ نمازوں کے اوقات کی صراحت ثابت ہوجاتی ہے۔
Ayahs 30:18–1915 اور یہ عمل ہر وقت جاری وساری ہے۔ اللہ تعالیٰ حیوانات کی بےجان غذاؤں سے نطفہ کو، پھر نطفہ سے حیوانات کو پیدا کرتا رہتا ہے اور اس عمل میں انسان بھی شامل ہے۔ اور پرندوں سے انڈے کو، پھر انڈے سے زندہ پرندہ کو پیدا کرتا رہتا ہے اور اللہ کا یہ کارنامہ سب لوگوں ہر وقت دیکھتے رہتے ہیں۔
16 یعنی جب مردہ زمین پر بارش پڑتی ہے تو اس سے نباتات، پودے اور درخت ہی نہیں اگ آتے بلکہ حیوانات بھی آگ آتے ہیں موسم برسات آتا ہے تو ہزارہا مینڈک ٹرانے لگتے ہیں۔ جھینگر اور پپی ہے درختوں پر بولنے لگتے ہیں اور بیشمار قسم کے حشرات الارض اگ آتے ہیں جن کا پہلے نام و نشان تک نہ تھا۔ سوچنے کی بات ہے کہ جاندار مخلوق آخر کیسے اور کہاں سے وجود میں آگئی ؟ تو جیسے یہ وجود میں آسکتی ہے خواہ تمہیں اس کی سمجھ آئے نہ آئے ویسے ہی جب صورت میں پھونکا جائے گا جو مردہ انسانوں کے لئے موسم برسات کا حکم رکھتا ہے تو تم بھی زمین سے ایسے ہی پیدا ہوجاؤ گے جیسے ان جانوروں کو پیدا ہوتے دیکھتے ہو۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیشمار مقامات پر بعث بعد الموت پر بارش کے پانی نباتات کے اگ آنے کو دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے چنانچہسورۃ ق میں تقریباً ایسے الفاظ سے ارشاد فرمایا۔ (وَاَحْيَيْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّيْتًا ۭ كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ 11) 50 ۔ ق :11) نباتات کا اگنا بعث بعد الموت پر کیسے دلیل بن سکتا ہے اس مقام پر قارئیں کے غور و فکر کے لئے ایک وسیع میدان چھوڑ دیا گیا ہے۔ پھر بعض مقامات پر بعث بعد الموت یعنی انسان کی دوسری بار کی پیدائش کو پہلی بار کی پیدائش شے تشبیہ دے کر اسے آسان تر قرار دیا گیا ہے جیسے فرمایا : (كَمَا بَدَاْنَآ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيْدُهٗ ۭ وَعْدًا عَلَيْنَا ۭ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِيْنَ 104۔ ) 21 ۔ الأنبیاء :104) گویا اب تین باتیں سامنے آگئیں۔ ایک انسان کی پہلی بار کی پیدائش، دوسرے نباتات کی پیدائش اور ان دونوں کی تشبیہ اور دلیل کے طور پر تیسری چیز انسان کی دوسریبار کی پیدائش بطور دلیل لایا گیا ہے۔ ان میں سے تیسری چیز کے متعلق ہم مشاہدہ اور تجربہ سے کچھ بھی جان نہیں سکتے۔ البتہ پہلی چیز کو دوسری سے نسبتاً زیادہ جان سکتے ہیں۔ اور پہلی چیز سے متعلق بھی ہمارا علم جو تجربہ اور مشاہدہ سے حاصل ہوا ہے صرف اتنا ہی ہے کہ جب رحم مادر میں ماں باپ کے نطفہ کا ملاپ ہوجاتا ہے تو عورت کا ماہواری خون آنا بند ہوجاتا ہے اور جو خون ماہواری ایام کی صورت میں عورت کے جسم سے خارج یا ضائع ہوجاتا تھا۔ وہی خون اب اس مخلوط نطفہ کی تربیت میں صرف ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اور عورت کے خون سے ماہواری خون یا حیض کا خون بننا اور اسی طرح عورت کے اصل خون سے نطفہ بننا کوئی مستقل عادی امر نہیں تھا بلکہ یہ دونوں چیزیں اس وقت بننا شروع ہوئیں جب عورت جوان اور اولاد پیدا کرنے کے لئے قابل بن گئی۔ اس سے پیشتر اس کے اصل خوب سے یہ دونوں چیزیں پیدا نہیں ہوئی تھیں حالانکہ اس کے جسم کی ساخت میں یہ صلاحیت اس کی پیدائش کے پہلے دن سے ہی اس میں ودیعت کردی گئی تھی۔ یہی حال مرد کے نطفہ کا ہوتا ہے اس کے خون سے نطفہ یا منی صرف اس وقت بنتی ہے جب وہ جوان اور اولاد پیدا کرنے کے قابل ہوجاتا ہے۔ حالانکہ اس کے جسم کی ساخت میں منی بنانے والے آلات یعنی خصیے وغیرہ اس پیدائش کے پہلے دن سے ہی بنائے گئے تھے گویا عورت اور مرد کے نطفہ بنانے والے اعضا کے اپنا اپنا کام ہی اس وقت شروع کیا جب وہ دونوں اولاد بنانے کے قابل ہوگئے۔ اور جب بڑھاپے کا دور آتا ہے تو دونوں کے جسم سے منی بنانے والے آلات موجود ہونے کے باوجود بھی اپنا اپنا کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور اس معاملہ میں عورت اور مرد دونوں بےبس ہوتے ہیں اگر وہ چاہیں بھی کہ عورت اور مرد کے جسم میں نصب شدہ آلات بڑھاپے میں بھی منی بنانے کا کام کرتے رہیں تو وہ ایسا کر نہیں سکتے۔
مرد کے جسم میں صرف منی بنانے والے اعضا ہوتے ہیں جو جوانی کے وقت اپنا کام شروع کرتے اور بڑھاپا آنے پر چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن عورت کے جسم میں ایسے اعضا تین طرح کے ہوتے ہیں ایک حیض کا خون بنانے والے ، دوسرے منی بنانے والے اور یہ دونوں جوانی کے وقت اپنا کام شروع کرتے اور بڑھاپا آنے پر کام چھوڑ دیتے ہیں۔ اور تیسری قسم کے اعضاء وہ ہیں جو خون کے کچھ حصے کو دودھ میں منتقل کرتے ہیں۔ اور یہ اعضا اس کے پستان ہیں۔ پستانوں کے نشانات عورت اور مرد دونوں کے سینے پر پہلے دن سے ہی موجود ہوتے ہیں۔ جوان ہونے پر عورت کے ان نشانات میں ابھار شروع ہوجاتا ہے تاآنکہ وہ اپنی مکمل صورت اختیار کرلیتے ہیں اور یہ تبدیلی صرف عورت کے جسم میں ہوتی ہے۔ مرد کے جسم میں نہیں ہوتی۔ یہی مشینری خود کو دودھ میں منتقل کرنے کا کارخانہ ہوتا ہے اور یہ مشینری صرف اس وقت اپنا کام شروع کرتی ہے۔ جب حمل قرار پا جاتا ہے۔ اس سے پہلے کام نہیں کرتی۔ خواہ عورت بالکل جوان اور اولاد پیدا کرنے کے قابل ہو۔ حمل قرار پانے کے بعد یہ مشینری حرکت میں تو آجاتی ہے۔ مگر خون سے دودھ بننے کا عمل اس وقت مکمل ہوتا ہے جب بچہ ماں کے پیٹ سے باہر آجاتا ہے تاکہ بچہ کے پیدا ہوتے ہی اسے غذا میسر آسکے اور اس کی تربیت کا سلسلہ جو پہلے حیض کے خون سے ہوتا تھا۔ وہ جاری رہ سکے پھر کیا ان اعضاء کا صرف اپنے اپنے مقررہ وقت ہی کام کرنا اور بعد میں اپنا کام چھوڑ دینا ہی اللہ تعالیٰ کے (خَلاَّقُ الْعَلِیْمِ ) ہونے پر زبردست دلیل نہیں ؟
رحم مادر میں استقرار حمل کے بعد اس مخلوط نطفہ کی تربیت حیض کے گندے اور سیاہ رنگ کے خون سے ہوتی ہے جو اس مخلوط مادہ منویہ پر حاوی ہو کر اسے منجمد اور لمبوترے سے منجمد خون کی شکل میں تبدیل کردیتا ہے اور مخلوط مادہ منویہ کا وجود اس میں باقی نہیں رہتا بلکہ وہ اس میں مدغم ہوجاتا ہے۔ پھر یہی جما ہوا خون گوشت کے لوتھڑے کی شکل اختیار کرتا ہے۔ یعنی اس جمے ہوئے خون میں سختی آنا شروع ہوجاتی ہے۔ پھر اسی گوشت کے لوتھڑے سے بچہ کی صورت کے نقش و نگار بننا شروع ہوجاتے ہیں۔ رحم مادر میں ایسے سات قسم کے تطورات ہوتے ہیں۔ جنہیں انسان خود بھی آلات کے ذریعہ مشاہدہ اور تجربہ کے ذریعہ ان کا علم حاصل کرسکتا ہے۔ وہ ان چیزوں کا مشاہدہ اور علم تو حاصل کرسکتا ہے جو وقوع پذیر ہو رہی ہوتی ہیں لیکن وہ یہ نہیں جان سکتا کہ ایسا کیوں اور کیسے ہوتا ہے۔
بالکل یہی صورت کسی غلے یا درخت یا پودے کے بیج کی ہوتی ہے جو دراصل مرد یا کسی بھی نر کے نطفہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ زمین اس کے لئے رحم مادر کا درجہ رکھتی ہے۔ تو جس طرح مرد کے نطفہ کا کسی عورت کے رحم میں جا پڑنے سے استقرار حمل ضروری نہیں ہوتا۔ اسی طرح ہر بیج میں جو زمین پر گرپڑے اس سے درخت بننا ضروری نہیں ہوتا۔ پھر جب ایسی زمین جس میں بیج پڑا ہو۔ بارش کے پانی سے سیراب ہوجاتی ہے۔ اور موسم ساز گار ہوتا ہے تو یہ گویا اس بیج کے استقرار حمل کا وقت ہوتا ہے۔ پانی سے زمین کے ذرات میں حرکت پیدا ہونے لگتی ہے ، وہ پھول جاتے ہیں اور زمین میں دفن شدہ بیج سے مل جاتے ہیں اور اسے اپنے اندر ڈھانپ لیتے ہیں۔ اس طرح بیج اپنا وجود ختم کرکے ایک ملغویہ کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ پھر کسی ملغویہ سے نرم و نازک کونپل نکلتی ہے۔ زمین کے اندر بیج پر بینہ اس قسم تطورات آتے ہیں جس طرح انسان کے نطفہ پر رحم مادر میں آتے ہیں۔ تاآنکہ یہی نرم و نازک کونپل چند دن بعد زمین کا سینہ چیر کر زمین سے باہر نکل آتی پھر زمین ہی سے اپنی خوراک حاصل کرنا شروع کردیتی ہے۔ یہ باتیں ہم مشاہدہ تو کرسکتے ہیں لیکن یہ نہیں جان سکتے کہ کیوں اور کیسے ہوتا ہے۔
پھر ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ مرے ہوئے انسان کے جسم کے ذرات بالآخر زمین میں پہنچ جاتے ہیں۔ خواہ کسی کی معیت زمین میں دفن کی گئی ہو۔ یا جلا دی گئی ہو یا دریا برد ہوئی ہو یا اسے درندوں نے پھاڑ کر کھایا ہو۔ بالآخر اس کے ذرات بلاواسطہ یا بالواسطہ زمین میں پہنچ جاتے ہیں اور یہی زمین انسان کی دوسری پیدائش کے لئے رحم مادر کا کام دیتی ہے۔ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ انسان کی ریڑھ کی ہڈی کی دم جس کا نام عجب الذنب ہے۔ اس کے ذرات کبھی فنا نہیں ہوتے، انھیں ذرات میں سے ایک ذرہ انسان کے بیج یا نطفہ کا کام دیتا ہے، لیکن یہ زمین میں اس وقت تک بیکار پڑا رہے گا جب تک اسے مناسب موسم میسر نہ آئے۔ اور اس کا مناسب موسم وہ بارش ہے جو قیام قیامت کے بعد نفحہ صور یا حشر کے دن سے پہلے اسی زمین پر برسے گی اور یہ چیز بھی صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ پھر اس بارش کے پانی سے زمین کے ذرات پھول کر انسان کے بیج کو ڈھانپ لیں گے پھر اس ملغویہ پر وہی تطورات شروع ہوجائیں گے جو حیض کی صورت میں ماں کے پیٹ میں اور بیج کی صورت میں زمین کے پیٹ میں واقع ہوتے ہیں پھر معینہ مدت کے بعد تمام کے تمام انسان زمین میں سے اس طرح اگ آئیں گے جس طرح زمین کو پھاڑ کر نباتات اگ آتی ہے اور جس طرح یہ تطورات ماں کے یا زمین کے پیٹ میں طبعی طور پر واقع ہوتے ہیں جس میں انسان کا یا بیج کا اپنا عمل دخل کچھ نہیں ہوتا۔ اسی طرح یہی تطورات دوسری پیدائش کی صورت میں انسان پر طبعی طور پر واقع ہوں گے۔ جس میں اس کے اپنے ارادہ و اختیار کو کچھ دخل نہ ہوگا اور معینہ مدت کے بعد وہ زمین سے باہر نکل آنے پر مجبور ہوگا۔ (کَذٰلِکَ تُخْرَجُوْنَ ) اور (کَذٰلِکَ الْمَخْرُوْجُ ) سے صاف معلوم ہوتا ہے۔ کہ یہ تطورات بالکل ویسے ہی طبیعی طور پر واقع ہونے والے امور ہونگے جیسا کہ ماں کے یا زمین کے پیٹ میں واقع ہوتے ہیں اور یہ تو واضح بات ہے کہ یہ دوسری بار کی پیدائش اللہ تعالیٰ کے لئے پہلی بار کی پیدائش سے آسان تر ہوگی۔
اس آیت میں تُخْرَجُوْنَ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یعنی تم زمین سے نکال لئے جاؤ گے۔ اور تمہارا یہ نکالا جانا ایک اضطراری عمل ہوگا جس میں تمہاری مرضی کو کچھ عمل دخل نہ ہوگا جیسے تم جب اس دنیا میں آئے یا اس دنیا سے رخصت ہوئے تو اس میں تمہاری اپنی مرضی کا کچھ عمل دخل نہ تھا۔ اسی طرح تمہاری دوبارہ جی اٹھنا بھی ایک قہری اور اضطراری امر ہوگا۔ اس سلسلہ میں تمہاری رائے نہیں لی جائے گی۔ نہ تمہارا کچھ عمل دخل ہوگا۔
Ayah 30:2017 انسان کیا ہے ؟ چند عناصر کا مجموعہ جو سطح ارضی پر ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ مثلاً سوڈی، کیلشم، کاربن، اور چند دوسرے نمکیات اور یہ انسان میں کتنی کتنی مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ یہ بھی حضرت انسان نے پتہ لگا لیا ہے مگر انھیں عناصر کو اسی مقادر میں لے کر ایک زندہ انسان پیدا کردینا اس کی بساط اور اس کی سمجھ سے باہر ہے۔ روح کی چیز ہے، کہاں سے آتی ہے اور کب آتی ہے۔ یہ سمجھنا بھی ناممکنات سے ہے۔ پھر اس مٹی کے پتلے کے اندر اللہ تعالیٰ جذبات، احساسات، عقل، شعور، ارادہ، اختیار اور بیشمار قوتیں پیدا کردی ہیں جو از خود کام کر رہی ہیں اور اسی میں انسان کے ارادہ کو ذرہ بھر دخل نہ ہوگا۔ سامنے سے کسی خطرناک چیز کے منہ پر گرنے کا خطرہ ہو تو انسان کے سوچنے سے پہلے ہی اس کی آنکھ کے پپوٹے بند ہو کر اس کی آنکھوں کو محفوظ کرتے ہیں۔ خوراک ہضم ہو کر معدہ خالی ہوجائے تو از خود بھوک لگ جاتی ہے۔ اور انسان مجبور ہوتا ہے کہ کچھ کھائے۔ بدن کو پانی کی ضرورت ہو تو انسان پانی پینے پر مجبور ہوتا ہے۔ اسی طرح ہضم شدہ خوراک کے فضلات کے دفع کرنے کے لئے طبیعت اس کو مجبور کردیتی ہے کہ اٹھ کر سب سے پہلے یہ کام کرے۔ پھر اس آدم کے مٹی کے پتلے سے ہی اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے اربوں کی تعداد میں انسان پیدا کردیئے۔ جن میں سے ہر ایک کی شکل و صورت، آواز، لب و لہجہ، حتیٰ کہ کھانسنے کی آواز دوسرے سے الگ ہوتی ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ اللہ نے ایک مشین لگا دی ہو جس سے ایک ہی ماڈل کے انسان بن کر نکل رہے ہوں۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کی تخلیق میں اللہ تعالیٰ کی انفرادی توجہ ہوتی ہے۔ کیا اس تخلیق کے عظیم کارنامہ کو اتفاقات کا نتیجہ کہا جاسکتا ہے ؟ جیسا کہ مادہ پرستوں کا خیال ہے۔ اور یہ اتفاقات کا ہی نتیجہ ہو تو ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ ایک شخص کی ایک ٹانگ لمبی ہو اور دوسری چھوٹی ہو۔ یا ایک آنکھ کی پتلی کالی ہو اور دوسری کی نیلی ہو۔ اختلاف اور یکسانیت کا یہ حسین امتزاج اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ انسان کو بنانے والے قادر مطلق بھی ہے اور حکیم مطلق بھی اور وہ صرف ایک ہی ہوسکتی ہے ؟
Ayah 30:2118 یعنی مٹی کے پتلے سے ہی اس کا جوڑا پیدا کرتا ہے جو انسانیت کے لحاظ سے ایک ہی جنس ہے۔ لیکن جسمانی ساخت کے لحاظ سے یہ دو قسمیں ہیں۔ جو دونوں ایک دوسرے کے طالب بھی ہیں اور مطلوب بھی۔ مرد کو عورت سے اور عورت کو مرد سے سکون حاصل ہوتا ہے۔ اور دونوں میں ایک دوسرے کے لئے اس قدر کشش رکھ دی کہ وہ ایک دوسرے سے الگ رہ کر سکون حاصل کر ہی نہیں سکتے۔ پھر اللہ تعالیٰ کس جوڑے کو لڑکے ہی عطا کرتا جاتا ہے اور کسی کو لڑکیاں ہی لڑکیں اور کسی ملی جلی اولاد دیتا ہے مگر نوع انسانی پر کبھی کوئی ایسا دور نہیں آیا کہ دنیا میں مرد اتنے زیادہ ہوگئے ہیں کہ انھیں بیویاں نہ مل سکیں اور یا عورتیں اس کثیر تعداد میں پیدا ہوجائیں اور مردوں کی تعداد ان کے مقابلہ میں اتنی کم ہو کہ عورتوں کو کوئی خاوند ہی میسر نہ آئے۔ گویا مرد و عورت کی تخلیق میں بھی اللہ تعالیٰ اس تناسب کو بھی ملحوظ رکھتا ہے۔ تو بقائے نوع کے لئے ضروری ہے۔ پھر مرد اور عورت کے اسی جذبہ کے نتیجہ میں ہی بقائے نسل انسانی کا راز مضمر ہے۔ اسی سے خاندان اور قبیلے بنتے ہیں اور تمدن اور معاشرت کی داغ بیل پڑتی ہے۔ پھر ان زوجین (میاں، بیوی) میں اس قدر محبت رکھ دی کہ وہ ایک دوسرے پر فنا ہونے کو تیار ہوتے ہیں اور پیدا ہونے والی اولاد کے حق میں دونوں شفیق رحیم ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ یہی احساسات و جذبات ان دونوں میں اس حد تک پیدا ہوجاتے ہیں کہ وہ اپنے مقدس رشتہ ازدواج کو تازیست نباہنے میں کوشاں رہتے ہیں۔ اب ذرا غور کیجئے کہ اگر اللہ تعالیٰ زوجین میں یہ جذبات و احساسات پیدا نہ کرتا تو کیا زمین کی آبادی یا نسل انسانی کی بقا ممکن تھی۔ اور کیا یہ کام اللہ کے سوا کوئی دوسرا الٰہ کرسکتا ہے ؟ یا بےجان، بےشعور اور اندھے مادے کے اتفاقات سے یہ ممکن ہے کہ وہ ان حکمتوں اور مصلحتوں کا لحاظ رکھ سکے ؟
Ayah 30:2219 سب سے پہلے تو انسان ایک ہی جیسے عناصر کا مرکب ہے پھر ایک کا منہ، زبان، گلا اور لب سب کچھ ایک جیسے ہیں لیکن آواز اور لب و لہجہ ہر شخص کا دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ کسی کی آواز سریلی اور شریں ہوتی ہے کسی دوسرے کی بھاری اور ناگوار۔ حالانکہ توائے نطفہ سب انسانوں کے ایک جیسے ہیں۔ پھر ہر ایک علاقہ اور ملک کی زبان ایک دوسرے سے مختلف ہے کہیں عرب زبان بولی جاتی ہے، کہیں فارسی، کہیں انگریزی، کہیں پشتو، کہیں اردو غرضیکہ سینکڑوں کی قسم کی زبانیں ہیں اور یہ انواع ہیں۔ پھر ایک ہی علاقہ میں چند میلوں کے فاصلہ پر ہی زبان میں ذیلی قسم کی تبدیلیاں اور محاورات میں اختلاف ہوتے ہیں جن میں فرق صرف اس علاقہ کے لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں۔ پھر ہر علاقہ کی زبان کے ساتھ اس کے حروف تہجی میں ان کے مخارج میں اور لب و لہجہ میں اختلاف واقعہ ہوتا ہے یہی حال رنگوں کا ہے۔ کسی علاقہ کے لوگ سفید رنگ کے ہوتے ہیں کسی کے کالے، کسی کے سرخ، اور کسی کے گندمی رنگ کے، کہا جاتا کہ انسان کی جلد کے رنگ پر اس علاقہ کی مخصوص آب و ہوا کا اثر ہوتا ہے جس سے رنگت میں تبدیلی آجاتا ہے۔ یہ بات بھی صرف جزوی طور پر ہی تسلیم کی جاسکتی ہے۔ کیونکہ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ ایک ہی ماں باپ اور ایک علاقہ ہوتا ہے۔ مگر اولاد کی رنگت میں فرق ہوتا ہے۔ اگرچہ اس آیت میں صرف دو چیزوں لسان اور رنگ کا ذکر کیا گیا ہے۔ مگر اور بھی بہت سے پہلو ہیں جن کے اختلافات واقع ہوتے ہیں مثلاً کسی علاقے کے لوگ بلند قدو قامت رکھتے ہیں، کہیں پست قامت ہوتے ہیں اور کہیں درمیانہ حد والے۔ اسی طرح کہیں لوگ چپٹی ناک والے ہوتے ہیں اور لمبوتری اور کہیں اونچی ناک والے مثلاً ایک ہی والدین کے اولاد کی شکلوں میں جو فرق ہوتا ہے اسے والدین اور قریبی رشتہ دار تو محسوس کرسکتے ہیں لیکن اجنبی لوگ ان میں یکسانیت ہی محسوس کرتے ہیں اور بعض دفعہ امتیاز بھی نہیں کرسکتے۔ ان سب باتوں سے یہی نتیجہ سامنے آتا ہے کہ رحم مادر میں پرورش پانے والا ہر جاندار اللہ تعالیٰ کی انفرادی توجہ کا محتاج ہوتا ہے۔ بیشمار ایسی باتیں ہیں جو رحم مادر میں ہی انسان کے حصہ میں آتی ہیں۔
Ayah 30:2320 کام کاج کرنے کے بعد انسان کو آرام کی ضرورت ہوتی ہے اگر آرام نہ کرے تو جینا ہی محال ہوجائے۔ لیکن آرام سے مراد یہ نہیں کہ انسان کچھ وقت کام نہ کرے یا بستر پر لیٹ جائے بلکہ جب تک اسے گہری نیند نہ آئے نہ اس کی تھکن دور ہوتی ہے اور نہ وہ مزید کام کاج کرنے کے قابل ہوتا ہے اور محض کام چھورنے یا لیٹے رہنے سے مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔ نیند کیا چیز ہے اس کی کیفیت اور ماہیت کیا ہے ؟ یہ ایسا سربستہ راز ہے جسے انسان ابھی تک نہیں پاسکا۔ اس نے خواب آور دوائیں بھی دریافت کرلیں اور گولیاں بھی بنالیں مگر وہ اس کی ماہیت کو نہیں پاسکا کہ خواب کے دوران انسان سے کیا چیز کم ہوجاتی ہے کہ اس کے حواس کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ پھر نیند کی حالت میں خواب دیکھنا دوسرا حیران کن مسئلہ ہے کہ یہ خواب انسان کن حواس سے دیکھتا ہے۔ انسان کو بس اتنا معلوم ہے کہ جب وہ زیادہ تھک جائے تو اس کی مرضی ہو یا نہ ہو نیند اسے آدبوچتی ہے۔ کام کاج کے دوران جو Cell انسان کے جسم سے جاتے ہیں۔ ان کی موت شروع ہوجاتی ہے اور ان کے بجائے نے سیل بن جاتے ہیں اور جب یہ سارا کام سرانجام پا جاتا ہے تو انسان کو خود بخود جاگ آجاتی ہے یعنی نیند کا آنا، نیند سے تھکن دور ہونا پھر تھکن دور ہونے پر تازہ دم ہو کر از خود ہی بیدار ہوجانا، یہ سب قوتیں اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہیں جو سراسر حکمت اور مصلحت پر مبنی ہیں اور ان میں کسی دوسرے الٰہ کا کوئی عمل دخل نہیں۔
انسان کے وسائل معاش اور ضروریات زندگی زمین میں چار سو بکھرے ہوئے ہیں۔ نیند کے بعد آدمی اس قابل ہوجاتا ہے کہ تازہدم ہو کر اپنا رزق تلاش کرے۔ رزق تلاش کرنے کے لئے روشنی کی ضرورت تھی لہذا اس کام کے لئے دن کا وقت مختص کیا اور نیند کے لئے تاریکی اور خنکی کی ضرورت تھی ایک تاریکی تو انسان کو آنکھیں بند کرنے سے ہی حاصل ہوجاتی ہے، دوسری تاریکی رات کی ہوئی۔ اس طرح آرام کے لئے اللہ نے رات کا وقت مقرر کیا۔ گو آج کل انسان نے ایسی مصنوعی طریقے ایجاد کر لئے ہیں جس سے انسان رات کو کام کرنے کے قابل ہوگیا ہے۔ اور دن کو بھی آرام کرتا ہے اور مادہ پرستانہ دور کا ہی یہ تقاضا ہے۔ اس سے اتنا ہی انسان اللہ کی یاد سے غافل ہوگیا ہے اور دنیا کا نقصان یہ ہے کہ اس سے انسان کی صحت پر ناخوشگوار اثرات مترتب ہوتے ہیں۔ اور توائے انسانی وقت سے پہلے کمزور ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔
Ayah 30:2421 بجلی اور بارش دونوں میں خوف اور امید یا فائدہ کے پہلو موجود ہیں۔ بجلی کی کڑک اور چمک سے جہاں یہ خطرہ ہوتا ہے کہیں گر کر تباہی نہ مچائے۔ وہاں اس سے اندھیرے میں نظر بھی آنے لگتا ہے نیز بجلی کی کڑک اور چمک عموماً زیادہ بارش ہونے کی علامت بھی ہوتی ہے۔ اور بارش کے باعث رحمت میں تو کسی کو شک نہیں تاہم اگر بارش ضرورت سے زیادہ ہوجائے تو یا سیلاب کی صورت اختیار کرلے تو اس سے کئی طرح کے نقصان بھی پہنچ سکتے ہیں۔
22 زمین پر بسنے والی تمام مخلوق کا انحصار زمین کی پیداوار پر ہے۔ اللہ نے زمین پر بارش برسا کر زمین کو زندہ کیا تو گویا اس نے تمام مخلوق کو زندہ کیا۔ اب اس بارش کے برسنے میں جو عوامل کام کرتے ہیں۔ سورج کی حرارت سے سطح سمندر سے بخارات کا اٹھنا، ہواؤں کا رخ، پہاڑوں کا رخ اور ٹھنڈے علاقوں کی موجودگی، اور بارش کے بعد زمین کی قوت روئیدگی گویا سورج، ہوائیں، پانی، حرارت، بروقت اور زمین کے اندر قوت روئیدگی۔ یہ سب چیزیں ایک مربوط نظام کے تحت کام کریں تو تب جا کر انسان کو اور دوسری مخلوق کو روزی میسر ہوتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان چیزوں کو باور ان چیزوں کے درمیان نظم و ضبط کو اللہ کے سوا کسی اور الٰہ نے قائم کیا ہے ؟ یا مادہ پرستوں کے خیالات کے مطابق یہ مادہ اور طبعی قوانین کا ہی کھیل ہے ؟ اگر یہی بات ہے تو ایک مخصوص مقام پر ایک مخصوص موسم میں ایک سال تو خوب بارشیں ہوجاتی ہیں اور اگلا سال بالکل خشک کیوں گزر جاتا ہے ؟ اس آیت سے صرف یہی معلوم نہیں ہوتا کہ روزی کا یہ نظام قائم کرنے والی ذات صرف ایک ہی ہستی ہوسکتی ہے بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ حکیم مطلق بھی ہے اور مختار مطلق بھی۔
Ayah 30:2523 اللہ تعالیٰ نے جہاں آسمان اور زمین کا ذکر کیا تو اس سے مراد کائنات کا نظام ہوتا ہے۔ جس میں لاتعداد اجرام فلکی محو گردش ہیں۔ اور موجودہ نظریہ کے مطابق ہماری زمین اور چاند اور کئی دیگر سیارے سورج کے گرد گردش کر رہے ہیں۔ عموماً سمجھا یہ جاتا ہے کہ ہر سیارے کی کشش ثقل اسے ایک مخصوص مقام پر جکڑے ہوئے ہے۔ مگر بات صرف اتنی نہیں۔ ہمارے نظام شمسی میں سورج ہی سب سے بڑا ستارہ اور سیارہ ہے۔ لہذا اس کی کشش ثقل یا قوت جاذبہ اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ وہ ہر سیارہ کو اپنی طرف کھینچ لے۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔ لہذا ضروری ہے کہ کوئی ایسی مقتدر اور قادر مطلق ایسی ہستی موجود ہو جو باوجود قوت جاذبہ کی کشش کے ان سیاروں کو اپنے اپنے مدارات پر قائم رکھ سکے کوئی سبب طبیعی ایسا نہیں بتلایا جاسکتا جس نے تمام کواکب کو کھلی فضا میں جکڑ بند کردیا ہے کہ وہ سب سورج کے گرد چکر لگانے میں ہمیشہ معین مدارات پر ایک خاص حیثیت میں بھی حرکت کریں جس میں کبھی تخلف نہ ہو۔ پھر کواکب کی حرکات اور درجات سرعت میں ان کی اور سورج کی درمیانی مسافت کو ملحوظ رکھتے ہوئے جو دقیق تناسب اور عمیق توازن قائم رکھا گیا ہے کوئی سبب طبیعی نہیں جن سے ان منظم و مربوط سیاروں کو وابستہ کرسکیں۔ ناچار اقرار کرنا پڑتا ہے کہ یہ سارا نظام کسی ایسے زبردست حکیم وعلیم کے تحت ہے جو ان تمام اجرام سماویہ کے مواد اور ان کی ماہیت سے پورا واقف ہے وہ جانتا ہے کہ کسی مادہ کی کس قدر مقدار سے کتنی قوت جاذبہ صادر ہوگی اس نے اپنے زبردست اندازہ سے کواکب اور سورج کے درمیان مختلف مسافتیں اور حرکت کے مختلف مدارج مقرر کئے ہیں تاکہ ایک دوسرے تضادم اور تزاحم نہ ہو اور سارا عالم ٹکرا کر تباہ نہ ہوجائے۔
24 اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اسرافیل کے صور پھونکنے کو اپنی پکار سے تعبیر فرمایا ہے۔ یعنی جتنے انسان مرچکے یا قیام قیامت تک مریں گے۔ سب اللہ کی ایک پکار پر اپنی اپنی قبروں سے زندہ ہو کر میدان محشر کی طرف چل کھڑے ہوں گے۔
Ayah 30:2625 یعنی کائنات کی ایک ایک چیز اللہ کی مملوک اور وہ ان کا خالق اور مالک ہے اور کوئی بھی چیز اس کے حکم تکوینی سے سرتابی کی مجال نہیں رکھتی ہر چیز اللہ اللہ کے مقرر کردہ قوانین کے مطابق سرگرم عمل ہے اور یہی ہر چیز کا سجدہ ہے اور یہی ہر چیز کی تسبیح ہے۔ حتیٰ کہ انسان بھی طبیعی امور میں اللہ کے مقررہ قوانین کا پابند ہے۔ وہ چاہے بھی تو جوانی کو واپس نہیں لاسکتا۔ نہ موت کو ٹال سکتا ہے۔ نہ کھانے پینے کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے۔ اس کی اگر سرکشی ہے تو محض اختیاری امور میں ہے۔
Ayah 30:2726 اس کی تشریح کے لئے دیکھئے سورة النمل کی آیت نمبر 74 اور سورة العنکبوت کی آیت نمبر 17 کے حواشی
27 یعنی اعلیٰ سے اعلیٰ صفات اور اونچی سے اونچی شان اسی کی ہے۔ زمین و آسمان کی کوئی بھی چیز حسن اور خوبی میں اللہ کی شان اور صفات سے کچھ بھی مناسبت نہیں رکھتی۔ بلکہ اگر کسی چیز میں کوئی خوبی موجود بھی ہے تو وہ اسی کے کمالات کا ادنیٰ پرتو ہے۔
Ayah 30:2828 یعنی یہ مثال تمہارے حسب حال ہے جس سے بات باسانی تمہاری سمجھ میں آسکتی ہے۔ مثال یہ ہے کہ فرض کرو تمہارے کچھ غلام ہیں۔ کیا تم ان غلاموں میں اپنا مال و دولت تقسیم کرسکتے ہو کہ وہ تمہارے ہمسر بن جائیں۔ تم تو اس بات سے اس طرح خائف ہوجاؤ گے جیسے تم اپنے ان بھائی بندوں سے ڈرتے ہو جو تمہاری جائیداد میں پہلے سے شریک ہیں۔ اگر تم اس مشترکہ جائیداد میں کچھ تصرف کرنے لگو تو وہ تمہیں روک بھی سکتے ہیں۔ تمہارا محاسبہ بھی کرسکتے ہیں اور مشترکہ جائداد کو تقسیم کرنے کا مطالبہ بھی کرسکتے ہیں۔ اب اگر تم اپنے غلاموں کو اپنی جائیداد میں برابر کا شریک بنالو۔ تو ان کے تمہارا غلام ہونے کے باوجود تمہیں ضرور ان سے ایسے ہی خطرات لاحق ہوجائیں گے اور تم یہ کام کبھی گوارا نہ کرو گے۔ حالانکہ تمہارے یہ علام انسانیت کے لحاظ سے تمہارے بھائی بند اور برابر درجہ کے لوگ ہیں۔ اب جو بات تم اپنے لئے گوارا نہیں کرسکتے وہ اللہ کے لئے کیسے گوارا کرلیتے ہو کہ اللہ کی مخلوق کو جو نوع کے لحاظ سے بھی اس کے مساوی نہیں بلکہ اس کی مخلوق اور مملوک ہے، اللہ کے اختیارات میں شریک قرار دے دیا جائے ؟ یہ کیسی دھاندلی کی تقسیم ہے۔
Ayah 30:2929 بات یہ نہیں کہ ان مشرکوں کو حقیقت کی سمجھ نہیں آتی۔ بلکہ شرک کے اس دھندے میں ان کے بہت سے دنیوی مفادات وابستہ ہیں۔ مہنتوں اور پروہتوں اور مجاوروں کو ایسے ہی عقائد کی وجہ سے نذرانے وصول ہوتے ہیں اور یہ ایک انتہائی منافع بخش کاروبار ہے۔ جس میں کچھ سرمایہ بھی نہیں لگانا پڑتا۔ وہ اپنے مریدوں یا عبادت گزاروں کو کئی قصے کہانیاں گھڑ کر سناتے، ان کی بزرگی اور اولیائی کی شان سے ڈراتے دھمکاتے اور انھیں نذرانے دینے پر مجبور بنا دیتے ہیں۔ نیز یہ لوگ اپنے مریدوں کو شفاعت کی خوشخبریاں سناتے رہتے ہیں۔ کہ فلاں پر صاحب سے اپنا وابستہ کرلینا ہی ان کی شفاعت اور اخروی نجات کی ضمانت ہے۔ اس طرح عابد و معبود دونوں مذہب کے نام پر حقیقتاً اپنی ہی خواہش نفس کے پیچھے لگے ہوتے ہیں۔ اور اللہ کا قانون ہی یہ ہے کہ انسان جس طرح کا طرز زندگی اختیار کرنا چاہے۔ اللہ اسے ویسی ہی توفیق دے دیتا ہے اور جو لوگ نہ خود غور و فکر کریں نہ انبیاء کی بات مانیں، محض اپنی ضد، ہٹ دھرمی اور وہم و گمان پر جمے رہنا چاہیں اللہ ایسے لوگوں کو انھیں کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔ زبردستی ہدایت دینا اللہ کا دستور نہیں۔