Ayahs 29:1–21 یہ سورت اس زمانہ میں نازل ہوئی جب مکہ میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے جارہے تھے۔ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو دل سے تو اسلام کی حقانیت پر یقین رکھتے تھے مگر مصائب و مشکلات سے گھبرا کر اپنے ایمان کا اعلان نہیں کرتے تھے۔ کچھ ایسے بھی مسلمان تھے جو اسلام لانے کی حد تک تو بہت مخلص تھے مگر مشکلات کے وقت گھبرا جاتے تھے اور مسلمانوں کا ایک کثیر طبقہ ایسا راسخ الایمان لوگوں کا بھی تھا جو ان مصائب کو اللہ کی رضا کی خاطر بڑی فراخدلی اور خندہ پیشانی سے برداشت کر رہا تھا۔ اس آیت میں ہر طرح کے لوگوں کو متنبہ کیا جارہا ہے کہ یہی مصائب و مشکلات ہی ان کے ایمان کی کسوٹی ہیں اور انہی سے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ فلاں شخص کس حد تک اپنے ایمان کے دعویٰ میں پختہ ہے۔
Ayah 29:32 حضرت خباب بن ارت کہتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ کے پاس آیا اس وقت آپ کعبہ کے سایہ میں ایک چادر پر تکیہ لگائے بیٹے تھے۔ اس زمانہ میں ہم مشرک لوگوں سے سخت تکلیفیں اٹھا رہے تھے۔ میں نے آپ سے عرض کیا : آپ اللہ سے دعا کیوں نہیں کرتے ؟ یہ سنتے ہی آپ (تکیہ چھوڑ کر سیدھے) بیٹھ گئے۔ آپ کا چہرہ (غصہ سے) سرخ ہوگیا اور آپ نے فرمایا : تم سے پہلے ایسے لوگ گزر چکے ہیں جن کے گوشت اور پٹھوں میں ہڈیوں تک لوہے کی کنگھیاں چلائی جاتی تھیں مگر وہ اپنے سچے دین سے نہیں پھرتے تھے اور آرا ان کے سر کے درمیان پر رکھ کر چلایا جاتا اور دو ٹکڑے کردیئے جاتے مگر وہ اپنے دین سے نہ پھرتے۔ اور اللہ اپنے اس کام (غلبہ حق) کو ضرور پورا کرکے رہے گا۔ (بخاری۔ کتاب المناقب۔ باب مالقی النبی و اصحابہ من المشرکین بمکۃ)
3 فلیعلمن سے ایک گمراہ فرقہ نے یہ عقیدہ اخذ کیا کہ جوں جوں واقعات ظہور پذیر ہوتے رہتے ہیں۔ اللہ کو ان کا علم ہوتا جاتا ہے۔ اور اس عقیدہ کو وہ لوگ اپنی اصطلاح میں بدا کہتے ہیں۔ حالانکہ بیشمار آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات اور اس میں ظہور پذیر ہونے والے تمام واقعات کا پہلے سے ہی علم ہے۔ اور اس کا یہ علم بھی اس کی ذات کی طرح ازلی ابدی ہے۔ اور اس آیت یا اس جیسی بعض دوسری آیات سے جو اللہ تعالیٰ کے حدوث علم کا وہم پیدا ہوتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ماضی، حال اور مستقبل کی تقسیم صرف صرف ہم انسانوں کے لئے ہے اللہ تعالیٰ کے لئے زمانہ کی یہ تقسیم کوئی چیز نہیں ہے۔ کیونکہ ہر واقعہ خواہ وہ ہمارے خیال کے مطابق زمانہ سے تعلق رکھتا ہو یا حال سے یا استقبال سے اس کے لئے غیب نہیں بلکہ شہادت ہی شہادت ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے مستقبل کی خبروں کو بیشمار مقامات پر زمانہ ماضی کے صیغہ میں ذکر فرمایا ہے۔ جیسے ( وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۭقَالُوْا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ 44ۙ ) 7 ۔ الاعراف :44) یا جیسے ( اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ ۽) 81 ۔ التکوير :1) لیکن یہ ایسے واقعات کے متعلق ہوتا ہے جو انسانوں کے تجربہ و مشاہدہ میں نہ آسکتے ہوں۔ اور جو انسانوں کے تجربہ اور مشاہدہ میں آسکتے ہوں تو ان کا تعلق یفیناً حال اور استقبال سے ہوگا۔ لہذا ایسے مقامات پر اللہ تعالیٰ نے مضارع کا صیغہ استعمال فرمایا ہے اور اس کا مطلب صرف یہ ہی نہیں ہوتا تاکہ ہم جان لیں یا معلوم کرلیں بلکہ یہ بھی ہوتا ہے تاکہ تم لوگ جان لو۔ جیسا کہ اس مقام پر ہے یا اور بھی کئی مقامات پر ایسا انداز اختیار کیا گیا ہے۔
اور اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو فی الواقع ہر شخص کے متعلق پہلے سے علم ہے کہ فلاں شخص کیسے خصائل کا مالک ہے۔ لیکن محض اللہ اپنے علم کی بنا پر کسی کو جزا یا سزا نہیں دیتا جب تک فی الواقعہ وہ بات عملی صورت نہ اختیار کرلے۔ مثلاً یہ بات اللہ کے علم میں ہے کہ فلاں شخص فلاں وقت چوری کرے گا۔ لیکن اس علم پر سزا مترتب نہ ہوگی۔ جب تک فی الواقعہ وہ شخص چوری نہ کرلے۔ گویا اللہ تعالیٰ یہ انداز بیان اس وقت اختیار کرتے ہیں جب اس کا تعلق دوسرے لوگوں کے علم سے ہو۔ ایسی آیات میں علم کا ترجمہ مشاہدہ یا دیکھنے سے کیا جاسکتا ہے اور حضرت ابن عباس ؓ اس کا معنی لِیُرِیَنَّ ہی کرتے ہیں۔ (ابن کثیر)
اور اگر علم کا ترجمہ جاننے سے ہی کیا جائے تو اس جاننے میں اللہ کے علاوہ دوسرے لوگ بھی شریک ہوں گے۔ اور بعض علماء نے ایسے مقامات پر لفظ علم کا ترجمہ جاننے کے بجائے جتلانے سے کیا ہے۔
Ayah 29:44 اس جملہ کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ اگر ہم ان پر گرفت کرنا چاہیں تو یہ لوگ ہماری گرفت سے بچ کر کہیں جا نہیں سکتے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی سرتوڑ مخالفانہ کوششوں اور سازشوں کے باوجود خود ہی ناکام رہیں گے اور غلبہ اسلام کی راہ روکنے میں کبھی کامیاب نہ ہوسکیں گے، اور اگر وہ ایسا گمان کرتے ہیں کہ وہ یقینا کامیاب ہوجائیں گے تو یہ ان کی زبردست بھول اور غلط قسم کا فیصلہ ہے۔ واضح رہے کہ اس آیت میں روئے سخن صرف کافروں کی طرف ہے۔
Ayah 29:55 اور جو لوگ دین اسلام کی سربلندی کے لئے ہر طرح کے مصائب و مشکلات بڑی خندہ پیشانی سے برداشت کر رہے ہیں اس توقع پر کہ موت کے بعد یفیناً انھیں ان باتوں کا اجر ملنے والا ہے تو انھیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ان کی موت کا وقت آنے ہی والا ہے۔ دنیا کی زندگی بس چند روزہ زندگی ہے۔ اس کے بعد یقینا ان کی اللہ سے ملاقات ہوگی اور انھیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا۔ کیونکہ ان کے تمام اعمال و اقوال اللہ سے پوشیدہ نہیں ہیں۔
Ayah 29:66 جہاد بمعنی کسی انسان کی مقدور بھر کوشش جو اسلام کے نفاذ اور اس کی سربلندی کے لئے کی جائے۔ پھر اس جہاد کی اقسام بھی متعدد ہیں اور محاذ بھی متعدد ہیں۔ اقسام سے مراد مثلاً زبان سے جہاد ایک دوسرے کو سمجھانا اور تلقین کرنا یا تقریروں کے ذریعہ تبلیغ کرنا اور قلم سے جہاد یعنی اسلامی تعلیمات کی اشاعت اور اسلام پر وارد ہونے والے اعتراضات اور حملوں کا جواب لکھنا اور پھر اس کے بعد اجتماعی جہاد یا جہاد بالسیف یا قتال فی سبیل اللہ ہے۔ اور جہاد کا سب سے پہلا محاذ انسان کا اپنا نفس ہے۔ پھر اس کے بعد عزیزواقارب پھر اس کے بعد پورا معاشرہ ہے۔ اور آخری محاذ قتال فی سبیل اللہ یعنی ان کافروں نے جنگ کرنا ہے جو اسلام کی راہ میں رکاوٹ بن کر کھڑے ہوگئے ہوں یا اسلام کو نیست و نابود کرنے پر تلے بیٹھے ہوں۔
جہاد اگر نفس سے کیا جائے گا تو جہاد کرنے والے کی اپنی اخلاقی اور روحانی اصلاح ہوگی اگر اجتماعی جہاد اپنے معاشرہ سے کیا جائے گا تو پورا معاشرہ بےحیائیوں سے اور ظلم و جور سے پاک ہوگا اور اگر جہاد بالسیف کیا جائے گا تو اس سے مسلمانوں کو سیاسی فائدے حاصل ہوں گے۔ جس قسم کا بھی جہاد کیا جائے گا، بالآخر اس کا فائدہ جہاد کرنے والے کی ذات کو ہی پہنچے گا۔
7 یعنی جہاد کرنے والا اگر جہاد نہ کرے تو اللہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچے گا اور اگر جہاد کرتا ہے تو بھی اللہ کو اس کا کچھ فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ اور اللہ کی بےنیازی کا تو یہ عالم ہے کہ اللہ فرماتے ہیں اے میرے بندو ! اگر تم تمام جن و انس سارے کے سارے اس شخص کی طرح بن جاؤ جو تم میں سے سب سے زیادہ پرہیزگار ہے تو اس سے میری بادشاہی میں ذرہ بھر بھی اضافہ نہیں ہوگا اور اے میرے بندو ! اگر تم تمام جن و انس سارے کے سارے اس شخص کی طرح ہوجاؤ جو تم میں سے سب سے زیادہ میرا نافرمان اور بدکار ہے تو اس سے میری بادشاہی میں ذرہ بھر بھی کمی واقع نہ ہوگا (مسلم۔ کتاب البروالصلہ۔ باب تحریم القلم)
پھر یہ بات بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اگر کوئی شخص اسلام کی سربلندی کے لئے کوئی کام کرتا ہے تو اس ہرگز یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ وہ اللہ پر کچھ احسان کر رہا ہے بلکہ اسے اللہ کا ممنون احسان ہونا چاہئے اور اس کا شکر ادا کرنا چاہئے جس نے اسے جہاد کی توفیق بخشی جس میں ہر پہلو سے اس کا اپنا ہی بھلا ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھئے جیسے کوئی سرکاری افسر ایک شخص کو اپنے ماتحت ملازم رکھ لیتا ہے تو ملاسم کو اس افسر کا ممنون احسان ہونا چاہئے۔ چہ جائیکہ ملازم یہ کہنا شروع کردے کہ میں نے ملازم ہو کر افسر پر احسان کیا ہے۔
Ayah 29:78 اس کی تین صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ جو شخص اسلام لائے اس کے سابقہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح نیک اعمال بجا لانے سے چھوٹی موٹی برائیاں معاف کردی جاتی ہیں۔ دوسرے یہ کہ جو شخص نیک کام بجا لانا شروع کردے۔ اس کو از خود برائیوں سے نفرت ہوجاتی ہے۔ تیسرے یہ کہ جس معاشرہ میں نیکیاں رواج پانے لگیں۔ برائیاں از خود مٹتی چلی جاتی ہیں۔ کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ ایک چیز آئے گی تو لامحالہ دوسری کو رخصت ہونا پڑے گا۔ بالکل ایسا ہی معاملہ سنت اور بدعت کا ہے۔ جس کے متعلق واضح الفاظ میں رسول اللہ نے فرمادیا کہ : جہاں ایک بدعت رواج پاتی ہے تو وہاں سے ایک سنت اٹھا لی جاتی ہے ۔ گویا بدعت کے رواج پانے کا ہی دوسرا پہلو سنت کا اٹھ جانا ہے۔
9 اس جملہ کے بھی دو مطلب ہیں ایک تو ترجمہ سے واضح ہے۔ یعنی جتنا اس نیک عمل کا اجر تھا اس سے زیادہ یا بہتر عطا کرے گا اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ انسان کا جو بہتر عمل ہوگا اللہ اس کے باقی عملوں کا بھی اس بہتر عمل کے معاوضہ کے حساب سے معاوضہ عطا فرما دے گا۔
Ayah 29:810 اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر اپنے حقوق کے بعد متصلا " والدین کے حقوق اور ان سے بہتر سلوک کا ذکر فرمایا ہے۔ جس سے اس مسئلہ کی اہمیت کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ تفصیل کے لئے سورة بنی اسرائیل کی آیت نمبر 23 کا حاشیہ 25
11 یعنی تمام کائنات میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو اللہ کی شریک ہوسکے۔ اور اللہ کی اپنی شہادت بھی یہی ہے کہ وہ اللہ جو کائنات کا ایک ایک چیز کا ذرہ ذرہ بھر تک علم رکھتا ہے۔ اس کے علم میں بھی کوئی چیز نہیں جو اس کی شریک ہو۔ تو پھر تجھے یا کسی دوسرے کو کیا علم ہوسکتا ہے اور اس آیت میں لَکَ کا لفظ محض تاکید مزید کے طور پر ہے اور جو لوگ بعض اشیاء یا ہستیوں کو اللہ کا شریک قرار دیتے ہیں تو یہ محض ان کے جاہلانہ اوہام اور بےسند خیالات ہیں۔ حقیقت کی انھیں بھی کچھ خبر نہیں۔
12 یعنی والدین بھی تجھے شرک پر مجبور کریں تو ان کی یہ بات تسلیم نہیں کی جائے گی۔ چناچہ سعد بن ابی وقاص کے بیٹے معصب بن سعد کہتے ہیں کہ اس کی ماں نے قسم کھائی تھی کہ وہ سعد سے کبھی بات نہ کرے گی جب تک وہ اپنا دین (اسلام) نہ چھوڑے گا، نہ ہی وہ کچھ کھائے گی اور نہ پئے گی۔ وہ سعد سے کہنے لگی کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے والدین کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور میں تیری ماں ہوں اور تجھے اس بات کا حکم دے رہی ہوں۔ پھر تین دن اس نے نہ کچھ کھایا نہ پیا اور نہ ہی سعد سے بات کی۔ تین دن کے بعد اسے غش آگیا تو اس کے ایک دوسرے بیٹے عمارہ نے اسے پانی پلایا۔ جب اسے ہوش آیا تو وہ سعد کے حق میں بددعا کرنے لگی۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (مسلم، کتاب الفضائل، باب فی فضل سعد بن ابی وقاص)
اور دوسری احادیث و روایات سے جو تفصیل ملتی ہے وہ یہ ہے کہ جب اسلام لائے اس وقت آپ انیس بیس برس کے نوجوان تھے اور بالکل آغاز اسلام ایمان لائے تھے وہ خود روایت کرتے ہیں کہ اسلام لانے کے بعد مجھ پر سات دن ایسے گزرے ہیں کہ میں کل مسلمانوں کا تیسرا حصہ تھا (بخاری۔ کتاب المناقب۔ باب اسلام سعد) یعنی رسول اللہ کے گھرانہ کے علاوہ اس وقت تک صرف تین آزاد مرد مسلمان تھے۔ جن میں سے ایک یہی حضرت بن ابی وقاص تھے اور وہ اپنے ایمان میں اس قدر پختہ تھے کہ جب ان کی ماں نے بھوک ہڑتال کی دھمکی دی۔ تو آپ نے اپنی ماں سے کہا : ماں ! اگر تیری سو جانیں ہوں اور ایک ایک کرکے سب نکل جائیں تو بھی میں حضرت محمد ﷺ کے دین سے نہیں پھروں گا۔ تو کھا یا نہ کھایا تجھے اختیار ہے۔
شرک تو خیر سب گناہوں سے بڑا گناہ ہے۔ شریعت نے ہمیں یہ تعلیم دی کہ اگر اللہ کی نافرمانی کی کوئی بھی بات ہو تو اللہ کے مقابلہ میں کسی کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔ اطاعت صرف معروف کاموں میں ہوسکتی ہے۔ (متفق علیہ) خواہ حکم دینے والے والدین ہو یا بادشاہ ہو یا امیر ہو، کسی کی بھی اللہ کے مقابلہ میں اطاعت نہیں کی جاسکتی۔
اس آیت سے صاف معلوم ہو رہا ہے کہ شرک یا اللہ کی نافرمانی کے علاوہ باقی ہر طرح کے معاملات میں والدین کی اطاعت فرض ہے۔ جیسا کہ سعد بن ابی وقاص کی والدہ نے بھی جو کافر تھی یہی کچھ سمجھا تھا۔ مگر دور حاضر کے مفسر قرآن جناب پرویز صاحب فرماتے ہیں کہ قرآن میں اطاعت والدین کے متعلق کوئی حکم نازل نہیں ہوا۔ ان کے اپنے الفاظ ہیں :
دنیا کے تمام مذاہب اور اخلاق کے دبستانوں میں یہ چیز (اطاعت والدین) ایک مسلمہ کی حیثیت اختیار کئے ہوئے ہے کہ ماں باپ کی اطاعت فرض ہے ایسے مسلمہ کی حیثیت جو کسی بھی غور و فکر، تنقید کی محتاج ہی نہیں۔ ان کے ہاں کبھی کسی نے اتنا خیال کرنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی کہ یہ بھی کوئی ایسی بات ہے جس میں دو رائیں ہوسکتی ہیں۔ لیکن قرآن کو دیکھئے۔ اس نے دنیا میں پہلی بار یہ آواز بلند کی ہے کہ جو لوگ عقل کے انحطاط کے دور میں پہنچ گئے ہوں ان کے فیصلے واجب الاتباع نہیں ہوا کرتے۔ ماں باپ حسن سلوک اور نرم برتاؤ کے مستحق ہیں اور بس۔ جب تک بچہ بچہ ہے وہ اس کے نگران اور کفیل ہیں۔ جب وہ عقل کی پختگی کو پہنچ جاتا ہے تو اپنے لئے آپ فیصلے کرنے کا مجاز ہوجاتا ہے۔ وہ دوسروں کے تجربوں سے مشورہ سے فائدہ تو اٹھا سکتا ہے لیکن اسے ان کے فیصلوں کا پابند نہیں بنایا جاسکتا۔ (قرآنی فیصلے ص 138)
اس اقتباس سے درج ذیل امور پر روشنی پڑتی ہے :
1۔ اخلاق کے تمام دبستان اور دنیا کے تمام مذاہب اطاعت والدین کی فرضیت پر متفق ہیں۔ ان مذاہب میں سب اہل کتاب بھی شامل ہیں۔ جن کے انبیاء پر وحی الٰہی نازل ہوئی۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ والدین کی اطاعت سب انبیاء کی تعلیم کا حصہ رہا ہے۔
2۔ پھر ان مذاہب میں یا اہل کتاب میں مسلمان بھی شامل ہیں جنہیں قرآن جیسی کتاب دی گئی۔ اس قرآن میں پہلی بار یہ صدا بلند کی گئی کہ اطاعت والدین ایک بےمعنی اور لغو چیز ہے۔ لیکن قرآن کی اس صدا پر مسلمانوں نے بھی کان تک نہ دھرا یا انھیں اس صدا کی سمجھ ہی نہ آسکی۔ اور وہ بھی اطاعت والدین دوسرے مذاہب کی طرح واجب ہی سمجھتے رہے تاآنکہ پرویز صاحب نے قرآن کی اس پہلی بار کی صدا کا صحیح مفہوم سمجھا اور وہ مفہوم یہ ہے کہ والدین کے فیصلے واجب الاتباع نہیں ہوا کرتے
3۔ ماں باپ اپنی اولاد سے صرف حسن سلوک اور نرم برتاؤ کے مستحق ہیں اور بس۔ گویا پرویز صاحب کے خیال کے مطابق والدین کی اطاعت کے بغیر بھی ان سے حسن سلوک اور نرم برتاؤ ممکن ہے۔
پھر اس کے بعد پرویز صاحب اپنے موقف کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب تک ماں باپ زندہ ہیں ان کا لڑکی خواہ ساٹھ ستر برس کا ہی کیوں نہ ہوجائے اسے کوئی حق حاصل نہیں کہ اپنے فیصلے اپنی صوابدید کے مطابق کرے۔ اسے ان کے فیصلوں کی تعمیل کرنے ہوگی جن کی عقل کے متعلق اس کے خدا کا فیصلہ ہے کہ اس عمر میں اوندھی ہوجاتی ہے۔ نتیجہ اس کا یہ ہے کہ ماں باپ کی اطاعت کو فرض سمجھنے والی اولاد ساری عمر عقلی طور پر اپاہج اور ذہنی طور پر بچے کے بچے رہ جاتے ہیں (ایضاص 129)
اب دیکھئے اس اقتباس میں پرویز صاحب نے جو مثال پیش فرمائی ہے وہ عقل اور نقل دونوں لحاظ سے غلط ہے۔ عقلی لحاظ سے اس طرح کہ جو اولاد خود ساٹھ ستر برس کی عمر کو پہنچ چکی ہے اس کے والدین سو سال کی لگ بھگ ہی ہوسکتے ہیں۔ اس عمر میں وہ نان شبینہ حتی کہ نقل و حرکت تک کے لئے دوسروں کے محتاج ہوتے ہیں۔ اس حالت میں وہ کیا فیصلے دے سکتے ہیں اور اولاد کو کیسے حکم دے سکتے ہیں۔ وہ تو اس عمر میں اپنی رائے بتلانے کے بھی قابل نہیں رہتے۔ اور اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جو اولاد ساٹھ ستر برس کی عمر کو پہنچ چکی ہے وہ تو خود ارذل العمر کی حدود میں داخل ہوچکی ہے۔ اسے کیا حق ہے کہ اب وہ اپنے فیصلے آپ کرے۔ اب فیصلے کرنے کے لئے اس کی اولاد موجود ہے۔ جو کم از کم چالیس سال کی عمر کو پہنچ کر عقل کی پختگی حاصل کرچکی ہے۔ لہذا ساٹھ ستر برس کی اولاد کے لئے اس واقعاتی دنیا میں اطاعت والدین کا سوال بھی کم ہی پیدا ہوتا ہے۔
اور نقلی لحاظ سے یہ دلیل اس لئے غلط ہے کہ قرآن نے یہ کہیں نہیں کہا کہ اس عمر میں لوگوں کی عقل اوندھی ہوجاتی ہے۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں :
( وَمَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ ۭ اَفَلَا يَعْقِلُوْنَ 68) 36 ۔ يس :68) اور جس کو ہم بڑی عمر دیتے ہیں اسے خلقت میں اوندھا کردیتے ہیں۔
یعنی بچے سے جوان، پھر جوان سے بوڑھا کردیتے ہیں۔ جوانی میں وہ طاقتور تھا، بڑھاپے میں کمزور ہوجاتا ہے اس کا جسم بھرا ہوا اور سڈول تھا، بڑھاپے میں وہ نحیف و نزار وہجاتا ہے اور اس کے بند ڈھیلے پڑجاتے ہیں۔ اس آیت میں اس کی خلقت کے اوندھا ہونے کا ذکر ہے۔ عقل کا نہیں، اس مضمون سے ملتی جلتی دوسری آیت یہ ہے :
(وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّرَدُّ اِلٰٓى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْــــًٔا ) 22 ۔ الحج :5) اور تم میں سے کچھ ایسے ہیں جو خراب عمر کو پہنچ جاتے ہیں اور جاننے کے بعد بےعلم ہوجاتے ہیں ۔
یعنی ان کی یادداشت کمزور ہوجاتی ہے۔ وہ اپنا سابقہ حاصل کیا ہوا علم بھی بھول جاتے ہیں۔ اس آیت میں بھی عقل کے اوندھا ہونے کا کوئی ذکر نہیں۔ پروفیسر صاحب فرماتے ہیں کہ جب بچہ بچہ ہے، والدین اس کے نگران اور کفیل ہیں، جب وہ عقل کی پختگی کو پہنچ جاتا ہے تو اپنے لئے آپ فیصلے کرنے کا مجاز ہوجاتا ہے اب سوال یہ ہے کہ بچپن میں تو بچہ والدین کے زیر تربیت و کفالت ہونے کی وجہ سے ان کی نافرمانی کر ہی نہیں سکتا، ورنہ اس کی تعلیم و تربیت رک جاتی ہے۔ پھر وہ نابالغ ہونے کی بنا پر شرعی احکام کا مکلف بھی نہیں ہوتا۔ اطاعت والدین کا تو سوال ہی اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ عاقل و بالغ ہوجائے اور یہی وہ عمر ہوتی ہے جس میں جوانی کا جوش، جذبات کی فراوانی اور عقل کی ناپختگی ہوتی ہے اور درحقیقت یہی وہ دور ہوتا ہے جس میں اسے والدین کی اطاعت کرنا ضروری ہوتی تاآنکہ وہ عقل کی پختگی کی عمر یعنی چالیس سال کی عمر کو پہنچ جائے جب وہ عقل کی پختگی کو پہنچ جاتا ہے تو وہ اپنے فیصلے آپ کرنے کا مجاز ہوجاتا ہے۔ اس صورت میں اولاد نے والدین کی خدمات کا کیا صلہ دیا ؟ معلوم ہوتا ہے کہ پرویز صاحب کو بھی اپنے اس گھپلے کا احساس ہوگیا۔ چناچہ بعد میں لکھتے ہیں کہ :
اس میں شبہ نہیں کہ ہماری موجودہ معاشرت (جس میں خاندانوں میں مشترکہ زندگی بسر ہوتی ہے) کی عائلی زندگی کا تقاضا ہے کہ افراد خاندان کے متفقہ فیصلوں کے ماتحت زندگی بسر کریں اور خود سر اور سرکش نہ ہوجائیں لیکن خودسری اور سرکشی اور شے ہے اور اصابت رائے اور شے پھر اس عبارت پر حاشیہ دے کر فٹ نوٹ میں لکھتے ہیں کہ یاد رکھئے خود فیصلے کرنے کے لئے عقل کی پختگی اور رائے کی اصابت لاینفک شرط ہے۔ اس لئے بچہ جب تک اس منزل تک نہ پہنچ جائے اسے لامحالٰہ بڑوں کے فیصلہ کے مطابق چلنا ہوگا۔ (ایضا ص 129)
اس اقتباس میں جواب طلب امور یہ ہیں :
1۔ کیا بڑوں میں والدین بھی شامل ہیں یا نہیں ؟ یا صرف اطاعت والدین کی مخالفت میں ان بڑوں میں والدین کا نام تک لینا گوارا نہیں کیا گیا ؟
2۔ قرآن نے جو پہلی بار صدا بلند کی تھی کہ بڑوں کے فیصلے واجب الاتباع نہیں ہوتے اس صدا کے خلاف اب آپ خود ہی کیوں نوجوانوں کو ایسے مشورے دینے لگے ؟
3۔ اگر چھوٹے بڑوں کے فیصلوں کے پابند ہوں گے تو اس طرح وہ عقلی لحاظ سے اپاہج بن جائیں گے اس بات کا آپ کے پاس کیا علاج ہے ؟
اب ہم قرآن ہی سے ایسے دلائل پیش کرتے ہیں جن سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ والدین کی اطاعت فرض ہے :
1۔ سورة عنکبوت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
( وَوَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْـنًا ۭ وَاِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِيْ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۭ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ) 29 ۔ العنکبوت :8)
اور ہم نے انسان کو اپنے والدین سے حسن سلوک کا حکم دیا، پھر اگر وہ اس بات کے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ شریک کرے جس کی حقیقت کا تجھے علم نہیں تو پھر ان کی اطاعت نہ کر
اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ اطاعت والدین حسن سلوک میں شامل ہے اور دوسری یہ کہ شرک کے معاملہ میں والدین کی اطاعت نہیں کی جاسکتی۔ باقی سب معاملات میں ان کی اطاعت لازم ہے۔
2۔ اور سورة لقمان میں بالکل ایسے ہی الفاظ آئے ہیں البتہ یہ وضاحت زیادہ ہے :
( وَاِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰٓي اَنْ تُشْرِكَ بِيْ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ ۙفَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوْفًا ۡ وَّاتَّبِعْ سَبِيْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَيَّ ۚ ثُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 15) 31 ۔ لقمان :15)
اور دنیوی معاملات میں والدین کا اچھی طرح ساتھ دے خواہ وہ مشرک ہوں
( يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا 59 ) 4 ۔ النسآء :59)
اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور ان کی بھی جو تم میں سے اولی الامر ہیں
یہاں اولی الامر جمع کا صیغہ ہے اور اس سے مراد صرف حکام سلطنت ہی نہیں بلکہ ہر وہ فرد بھی شامل ہے جس کی اطاعت کی جاتی ہے۔ مثلاً والدین، استاد، محلہ کے چوہدری، خاندان کے سربراہ وغیرہ وغیرہ یعنی اور وہ مسلمان ہیں اور اللہ کی معصیت کا حکم نہیں دیتے تو ان سب کی اطاعت لازم ہے۔ آخر ان اولی الامر کے زمرہ سے والدین کو کس لحاظ سے خارج کیا جاسکتا ہے۔
4۔ حضرت یحییٰ کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ :
( وَّځ ابِوَالِدَيْهِ وَلَمْ يَكُنْ جَبَّارًا عَصِيًّا 1 4 ۔ ) 19 ۔ مریم :14)
یحییٰ اپنے والدین سے نیک سلوک کرنے والے تھے۔ ان پر دباؤ ڈالنے والے اور نافرمان نہیں تھے
اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو شخص اپنے والدین کا، خواہ وہ کسی عمر میں ہوں، سرکش اور نافرمان ہو وہ اپنے والدین سے نیک سلوک کرنے والا ہو ہی نہیں سکتا۔ گویا حسن سلوک میں دو باتیں ضرور ہیں، (1) سختی کے بجائے نرمی کا سلوک اور (2) ان کی فرمانبرداری۔ الفاظ یدگر والدین کی اطاعت کے بغیر ان سے حسن سلوک کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
5۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے بڑھاپے میں اولاد عطا فرمائی تھی۔ حضرت اسماعیل جب عاقل ہوگئے تو ان سے حضرت ابراہیم نے کہا کہ :
( فَلَمَّا بَلَــغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يٰبُنَيَّ اِنِّىْٓ اَرٰى فِي الْمَنَامِ اَنِّىْٓ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرٰى ۭ قَالَ يٰٓاَبَتِ افْعَلْ مَا تُــؤْمَرُ ۡ سَتَجِدُنِيْٓ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيْنَ 102۔ ) 37 ۔ الصافات :102)
میرے پیارے بیٹے ! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر کر رہا ہوں، تم دیکھو کہ اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ حضرت اسماعیل نے کہا : ابا جان آپ کو جو حکم ہوا ہے، وہی کچھ کیجئے
اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ حضرت اسماعیل اس وقت عاقل و بالغ اور رائے دینے کے لئے قابل ہوچکے تھے۔ دوسرے یہ کہ یہ اللہ کا حکم خواب میں حضرت ابراہیم کو ہوا تھا۔ حضرت اسماعیل کو نہیں ہوا تھا۔ باینہمہ حضرت اسماعیل نے اپنے بوڑھے والد کی اطاعت کی وہ مثال قائم کی جس کی نظیر دنیا کی تاریخ میں نہیں مل سکتی۔ نہ اس واقعہ سے پہلے اور نہ اس کے بعد۔ حضرت اسماعیل نے اپنے والد کی اطاعت میں جان کی قربانی پیش کرنے سے بھی انکار نہیں کیا۔ یہ نہیں سوچا کہ یہ تو خواب کی بات ہے یا یہ کہ نعوذ باللہ اب باپ بوڑھا ہوگیا ہے جو اس طرح کی بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے یا یہ کہ باپ تو محض میری رائے پوچھ رہا ہے کوئی حکم تو نہیں دے رہا۔ یا یہ کہ اگر خواب میں حکم ہوا ہے تو میرے باپ کو ہوا ہے، مجھے تو نہیں ہوا۔ بلکہ اپنے باپ کی منشاء کے آگے (حکم کے آگے نہیں) سرتسلیم خم کردیا اور اللہ تعالیٰ نے (فَلَمَّا أسْلَمَا) کہہ کر اس بات پر مہر تصدیق ثبت کردی کہ حضرت اسماعیل کی اپنے باپ کے منشاء کے اطاعت بھی عین اللہ کی اطاعت تھی، کیا اس سے بڑھ کر بھی بوڑھے والدین کی اطاعت کے سلسلہ میں قرآن سے کوئی درکار ہے ؟
یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی
مندرجہ بالا تصریحات سے مندرجہ ذیل نتائج سامنے آئے ہیں :
1۔ بلوغت سے پہلے بچہ والدین کے زیر تربیت و کفالت ہونے کی وجہ سے والدین کی اطاعت پر مجبور ہوتا ہے۔ اور اس بچہ کی اطاعت اس لحاظ سے بھی خارج از بحث ہے کہ اس عمر میں بچہ شرعی احکام کا مکلف نہیں ہوتا۔
2۔ بلوغت سے لے کر چالیس سال کی عمر تک (یعنی پختگی عقل اور اصابت رائے کی عمر تک) کے عرصہ میں اولاد کو والدین کی اور بزرگوں کی اطاعت کرنا لازم ہے کیونکہ اس عمر میں جوانی کا جوش اور جذبات کی شدت انسان کی عقل پر غالب ہوتے ہیں۔ لہذا وہ اپنا نفع و نقصان بھی درست طور پر سوچنے کے قابل نہیں ہوتا اور اس کی اپنی عافیت بھی اسی بات میں ہوتی ہے کہ وہ اپنے والدین اور بڑوں کی اطاعت کرے۔
3۔ اندازا چالیس سال کی عمر کے بعد جب اس کی عقل پختہ ہوجاتی ہے اس وقت تک اس کے والدین کہولت کی عمر کو پہنچ چکے ہوتے ہیں۔ وہ خود اولاد کے محتاج ہونے کی وجہ سے اپنا کوئی حکم اپنی اولاد کے سرتھوپ نہیں سکتے۔ تاہم اس عمر میں بھی اگر اولاد اپنے والدین کی مرضی کو مقدم رکھے تو یہ بہت بڑی سعادت ہے۔ اگر کہیں اختلاف واقع ہوجائے تو پھر بھی اولاد کو یہ حق نہیں کہ وہ ان سے بحث وجدال کرے یا ان کو دبائے۔ بلکہ حکم یہ ہے کہ ایسی حالت میں بھی ان کو اف تک نہ کہے۔ انھیں دبانا یا ڈانٹنا تو بہت دور کی بات ہے۔ ایسی صورت میں وہ اپنی بات نرمی سے پیش کرکے دلائل سے قائل کرنے کی کوشش کرے اور دنیوی امور میں یعنی ان کے قیام و طعام کے سلسلہ میں دل و جان سے ان کی خدمت کرے۔
4۔ اگر والدین اللہ سے شرک یا دوسرے کسی معصیت کے کام پر اولاد کو مجبور کریں یعنی اللہ کے مقابلے میں کوئی حکم دیں تو ان کی اطاعت نہیں کی جائے۔ بس یہی ایک صورت ہے جس میں ان کی نافرمانی کی جاسکتی ہے۔ خواہ یہ ان کی عمر کا کوئی دور ہو۔
13 یعنی والدین ہو یا اولاد، فرمانروا ہو یا رعایا کا کوئی فرد سب کو اللہ کی عدالت میں پیش ہونا ہے۔ وہ ہر ایک معاملہ میں تمہیں بتلا دے گا کہ زیادتی کس کی تھی اور حق پر کون تھا۔
Ayah 29:914 یعنی ایسے نامساعد اور پریشان کن حالات میں جو شخص ایمان لائے اور نیکی کی راہ پر قائم رہے۔ جبکہ ان کے والدین یہی کافر تھے تو اللہ ایسے لوگوں کو صالحین کے زمرہ میں شامل فرما دے گا۔ نیز اللہ کا دستور یہ ہے کہ اگر والدین بھی مسلمان ہوں اور اولاد بھی تو اللہ تعالیٰ اولاد کو اپنے والدین کے ساتھ ملا دے گا۔ اگرچہ والاد کے نیک اعمال اپنے والد کے اعمال کے پایہ کے نہ ہوں۔ اگر والدین کافر تھے تو اللہ ان کی اولاد کو صالحین کے زمرہ میں شامل فرما دے گا۔
Ayah 29:1015 یعنی وہ ہوتا تو کمزور ایمان والا ہے مگر اپنے آپ کو راسخ العقیدہ مسلمانوں میں شامل سمجھتا ہے۔ اور انہی کی طرح اپنے ایمان کا اقرار اور دعویٰ کرتا ہے۔
16 اسلام لانے والوں کا بھی اسلام لانے کے ساتھ ہی امتحان شروع ہوجاتا ہے اور مسلمانوں کو کفار کی جانب سے طرح طرح کے دکھ اور مصائب برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ یہ دراصل حق و باطل کی سرد جنگ ہوتی ہے۔ اور ابتداء چونکہ حق کمزور اور باطل اپنے جوبن پر ہوتا ہے۔ لہذا مسلمانوں کو کئی طرح کی مشکلات اور پریشانیاں لاحق ہوجاتی ہیں۔ کمزور ایمان والے اس صورت حال کو برداشت نہیں کرسکتے اور اسے اپنی جان چھڑانا چاہتے ہیں اور اپنے دعویٰ ایمان سے دستبردار ہونے لگتے ہیں یا کم از کم عملی طور پر اپنے دعویٰ کی تردید کردیتے ہیں۔
17 اور اگر سردھڑ کی بازی لگانے کے بعد راسخ الایمان مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ فتح و نصرت سے بہرہ ور کر دے تو ایسے لوگ فتح کے ثمرات سے حصہ بٹانے کے لئے فوراً آموجود ہوں گے اور کہیں گے کہ ہم بھی تو تمہارے ساتھ اور تمہارے اسلام بھائی ہیں۔
18 یعنی اللہ تعالیٰ ان کے زبانی دعوؤں کی حقیقت کو خوب جانتا ہے کہ وہ کون کون سے مفادات کی خاطر یہ ایمان لانے کے دعوے کرتے ہیں۔ اور تکلیفوں سے بچاؤ کے کون کون سے طریقے سوچتے رہتے ہیں۔
Ayah 29:1119 یعنی اللہ تعالیٰ بار بار ایسے موقع پیدا کرتا رہتا ہے جس سے سب کو معلوم ہوجاتا ہے۔ کہ فلاں شخص ایمان کے کس درجہ میں ہے۔ پختہ ایمان والا کون کون ہے، کمزور ایمان والا کون اور منافق کون ہے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ معرکہ حق و باطل کوئی وقتی اور عارضی سی چیز نہیں۔ اور نہ ہی یہ معرکہ ایسی چیز ہے جس کے نتائج صرف کسی معرکہ کارزار میں سامنے آئیں۔ یہاں یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ انبیاء چونکہ سب سے زیادہ پختہ ایمان والے ہوتے ہیں۔ اس لئے سب سے سیادہ ایذائیں اور مشکلات خود انہی کے حصہ میں آتی ہیں۔ چناچہ آپ نے فرمایا کہ اَشد البلاء علی الانبیاء ثم الأمثل فالأمثل یعنی سب سے مشکلات و مصائب انبیاء پر آتی ہیں پھر ان سے کم درجہ کے دلوں پر پھر ان سے کم درجہ کے ایمان والوں پر۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان پر مشکلات کا دور آتا ضرور ہے۔ البتہ اس کا معیار یہ ہوگا کہ جتنا زیادہ پختہ ایمان والا ہوتا اتنی ہی سخت اس کی آزمائش ہوگی۔ ضمناً اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شریعت کی پیروی میں تکلیف پہنچنا پیغمبروں کی میراث ہے اور ضروری نہیں کہ یہ تکلیف کافروں کے ہاتھوں ہی پہنچے، یہ مشرکوں کی طرف سے بھی پہنچ سکتی ہے۔ اہل بدعت اور دوسرے گمراہ فرقوں سے بھی اور مناقوں سے بھی۔ لہذا مبارک ہیں وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں ستائے جائیں۔ ان کی عزت پر حملہ ہو یا ان کا کوئی جانی یا مالی نقصان ہو، ان کے لئے سب کچھ باعث فخر ہوتا ہے۔
Ayah 29:1220 یہ بات مشرکین مکہ مسلمانوں سے اس لئے کہتے تھے کہ وہ خود آخرت کے قیام کے قائل ہی نہ تھے۔ نہ انھیں اس بات کا احساس تھا کہ آخرت میں ان سے باز پرس بھی ہونے والی ہے پھر انھیں اپنے اپنے گناہوں کا بار بھی اٹھانا پڑے گا۔ دوسری طرف انھیں اپنا دین مرغوب بھی تھا اور وہ اس مشرکانہ دین کو برحق بھی سمجھتے تھے۔ اسی لئے وہ مسلمانوں سے کہتے تھے کہ اگر تم واپس ہمارے دین میں آجاؤ۔ تو تمہارے خیال کے مطابق تمہارے اس ارتداد کا گناہ قیامت کو ہم اٹھائیں گے۔ گویا اس طرح کے سمجھوتہ میں انھیں فائدہ ہی فائدہ نظر آتا تھا۔ یعنی ان کا مطالبہ ارتداد تو ابھی پورا ہوجائے۔ اور اس کے معاوضہ کا جو وعدہ کرتے تھے اس پر وہ ایمان نہیں رکھتے تھے۔
21 اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ کوئی شخص دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہ اٹھاتا ہے نہ اٹھا سکتا ہے۔ لہذا یہ لوگ جھوٹ بکتے ہیں۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جب یہ جہنم کا عذاب دیکھیں گے۔ اور انھیں اپنا انجام معلوم ہوجائے گا۔ تو اس وقت کبھی نہ بکیں گے کہ فلاں شخص ہمارے کہنے پر اسلام سے پھر گیا تھا لہذا اسے تو جنت میں بھیج دو اور اس کا عذاب بھی میرے عذاب میں اضافہ کردو۔ اس لحاظ سے بھی یہ جھوٹ بک رہے ہیں۔
Ayah 29:1322 البتہ یوں ہوسکتا ہے کہ اگر ان لوگوں کے بہکانے سے کوئی شخص گمراہ ہوگیا تو گمراہ ہونے والے کو اپنی گمراہی کا عذاب دیا جائے گا۔ اور گمراہ کرنے والے کو دوہرا عذاب اس شکل میں ہوتا کہ ایک تو اسے اپنی گمراہی کی سزا بھگتنا ہوگی اور دوسرے اس گمراہ ہونے والے شخص کا حصہ رسدی عذاب اسے بھی دیا جائے گا جسے اس نے گمراہ کردیا تھا۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث اس مضمون کو پوری طرح واضح کر رہی ہے :
منذر بن جریر اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا اس کے لئے اس کے اپنے عمل کا بھی ثواب ہے اور جو لوگ اس کے بعد اس طریقہ پر عمل کریں ان کا بھی ثواب ہے اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ اور جس نے اسلام میں کوئی بری طرح ڈالی اس پر اس کے اپنے عمل کا بھی بار ہے اور ان لوگوں کا بھی جو اس کے بعد اس برے طریقہ پر عمل کریں۔ لیکن عمل کرنے والوں کے بوجھ میں کچھ کمی نہ ہوگی (مسلم۔ کتاب الزکوٰ ۃ۔ باب الحث علی الصدقہ۔۔ )
23 مشرکوں کا یہ قول اللہ پر اقتراء اس لحاظ سے ہے کہ انہوں نے دراصل اللہ کے بتلائے ہوئے عقیدہ آخرت، باز پرس اور گناہوں کی سزا ان سب باتوں کا مذاق ارایا تھا۔ جس سے اللہ کی آیات کی بھی تکذیب ہوتی تھی اور اس کے رسول کی بھی۔ یعنی ان مشرکوں کے اپنے شرکیہ کارناموں کے علاوہ یہ اللہ پر افتراء کا جرم مزید اضافہ ہے اور اس جرم کی ان سے باز پرس بھی ہوگی اور عذاب بھی ہوگا۔
Ayah 29:1424 پچھلی آیات میں ان کفار کا ذکر ہو رہا تھا جو دور نبوی میں رسول اللہ کے مخاطب اور مخالف تھے۔ آگے بعض دوسرے انبیاء اور ان کے مخالفین کا ذکر آرہا ہے اور ایسے واقعات کا آغاز حضرت نوح سے کیا جارہا ہے۔ حضرت نوح کو چالیس سال کی عمر میں نبوت عطا ہوئی۔ نو سو پچاس برس آپ نے اپنی قوم کو تبلیغ کی پھر طوفان نوح کے بعد آپ ساٹھ برس زندہ رہے۔ اس لحاظ سے آپ کی کل عمر ایک ہزار پچاس برس بنتی ہے اور اپنی عمر کا بیشتر حصہ آپ نے اپنی قوم کو سمجھانے اور ان سے بحث وجدال میں گزارا۔ وہ لوگ گویا ان کفار مکہ سے بھی زیادہ بدبخت تھے۔ انہوں نے حضرت نوح کو اس قدر پریشان کیا اور ناک میں دم کردیا تھا کہ نوح نے ان سے تنگ آکر اور ان سے سخت مایوس ہو کر اللہ سے بددعا کی تھی کہ یا اللہ ان پر ایسی تباہی نازل فرما کہ ان میں سے ایک گھرانہ بھی زندہ نہ بچے۔ چناچہ اللہ نے طوفان کے ذریعہ اس قوم کو تباہ کر ڈالا۔ اور یہ واقعہ پہلے کئی مقامات پر تفصیل کے ساتھ گزر چکا ہے۔
Ayah 29:1525 لفظ وَجَعَلْنٰھَا میں ھا کی ضمیر کشی کی طرف بھی رجع ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ ترجمہ سے ظاہر ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ کشتی اس طوفان کے بعد طویل مدت جودی پہاڑ پر ہی ٹکی رہی۔ لوگ اسے دیکھتے رہے اور اس سے طوفان نوح اور مجرم قوم کے انجام کی یاد تازہ ہوتی رہی۔ اور ھا کی ضمیر اس پورے قصہ قوام نوح کی طرف بھی راجع ہوسکتی ہے۔ اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس قوم کی سرکشی پھر ان کی سرکشی کے اس دردناک انجام کو ہم نے بعد میں آنے والے سب لوگوں کے کے لیے ایک مثالی بنادیا کہ لوگ اس واقعہ سے عبرت حاصل کریں۔
Ayahs 29:16–1726 قرآن میں بتوں کے لئے تین الفاظ استعمال ہوئے ہیں (1) صنم (ج الاصنام) کے معنی وہ بت ہیں جو قابل انتقال اور قابل فروخت ہوں خواہ یہ پیتل یا لوہے یا چاندی کے ہوں یا لکڑی کے یا پتھر کے اور صناعہ الاصنام بمعنی بت تراشی کا فن جیسے حضرت ابراہیم کا باپ آذر بت تراش بھی تھا اور بت فروش بھی۔ (2) نصب ایسے بتوں یا مجسموں کو کہتے ہیں جنہیں کسی جگہ پوجا پاٹ کے لئے نصب کردیا گیا ہو۔ جیسے مشرکین مکہ کے بت لات و منات، عزی اور ھبل وغیرہ تھے (3) اوثان (وثن کی جمع) ومن کا تعلق زیادہ تر مقامات سے ہوتا ہے۔ یعنی آستانے وغیرہ خواہ وہاں بت نصب ہوں یا نہ ہوں۔ بعض دفعہ بعض مخصوص مقامات پر پتھروں، درختوں، ستاروں یا دریاؤں وغیرہ سے الٰہی صفات کا عقیدہ رکھ کر ان کی پرستش شروع کردی جاتی ہے۔ اور ایسے مقامات بسا اوقات کسی بزرگ یا ولی سے یا کسی بت سے منصوب ہوتے ہیں اور حضرت ابراہیم نے جو اوتانا کا ذکر کیا تو اس سے مراد قوم ابراہیم کے بت خانے ہیں جن میں بت از خود شامل ہوں۔
27 یعنی تم لوگ بت نہیں گھڑتے بلکہ جھوٹ کا پلندہ گھڑتے ہو۔ اور ان بتوں اور بت خانوں سے تم کئی قصے اور کہانیاں خود گھڑ کر ان سے منسوب کردیتے ہو۔ مثلاً اگر فلاں آستانے پر مہینہ میں ایک دفعہ دودھ کا چڑھاوا نہ چڑھایا جائے تو جانور بیمار پڑجاتے ہیں یا مرجائے ہیں۔ یا فلاں آستانے کی گستاخی یا توہین کا انجام اس قدر خطرناک ہوتا ہے یا فلاں بت خانے یا مزار پر حاضری دینے سے رزاق میں فراوانی ہوجاتی ہے۔ لہذا تم جو ان بتوں کو گھڑتے ہو تو ساتھ ہی جھوٹ کے پلندے بھی گھڑتے ہو۔ ورنہ صرف بت گھڑنے کا تمہیں کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔
28 اس آیت اور اس سے پہلی آیت میں حضرت ابراہیم نے شرک کے ابطال پر تین دلائل قوم کے سامنے رکھے۔ ایک یہ کہ یہ بت تمہارے اپنے گھڑے ہوئے ہیں۔ گویا تم اللہ کی مخلوق ہو اور یہ تمہاری مخلوق ہیں۔ اور الٰہ کی سب سے اہم صفت یہ ہے کہ وہ خالق ہے۔ باقی سب اس کی مخلوق ہے اور جو مخلوق ہے وہ الٰہ نہیں ہوسکتی اور یہ بت تو مخلوق در مخلوق ہیں یہ الٰہ کیسے بن گئے ؟
دوسری دلیل یہ ہے کہ ان بتوں کے نفع یا نقصان سے متعلق تمہیں ہی داستانیں اور قصے کہانیاں تراشنا پڑتی ہیں۔ اگر تمہارے ان قصے کہانیوں کو ان سے علیحدہ کردیا جاوے تو باقی یہ پتھر کے پتھر یا بےجان مادے ہی رہ جاتے ہیں اور ایسے مادے الٰہ کیسے ہوسکتے ہیں۔ ؟
تیسری دلیل یہ کہ یہ تمہیں رزق کیا دیں گے۔ رزق تو تم خود ان کے آگے چڑھاؤں اور نذروں نیازیوں کی صورت میں رکھتے ہو۔ چاہو تو تم ان کے آگے رزق رکھ دو
چاہے اٹھا لو۔ چاہے ان کے اوپر کل دو ۔ لہذا ایسے غلط عقائد ان سے منسوب نہ کرو۔ اور رزق مانگنا ہے تو اللہ سے مانگو اور جس کا کھاؤ اسی کے گنا گاؤ۔ اسی کی عبادت کرو اور اسی کا شکر بجا لاؤ۔
29 یعنی بالآخر تم نے اللہ کی طرف پلٹنا ہے اور تمہارا انجام اسی کے ہاتھ میں ہے۔ ان بتوں کی طرف نہ تم نے پلٹنا ہے نہ تمہارا انجام ان کے ہاتھ میں ہے لہذا تمہیں عبادت تو اس کی کرنا چاہئے جو تمہاری عاقبت کو سنوار سکتا ہے۔ اور رزق بھی اس سے مانگنا چاہئے۔
Ayah 29:1830 یعنی قوم نوح، قوم عاد اور قوم ثمود نے اپنے اپنے پیغمبروں کی دعوت کو جھٹلایا تھا پھر دیکھ لو ان کا کیا حشر ہوا تھا۔ وہی تمہارا بھی ہونے والا ہے۔ اگر تم نے نبی کی دعوت کو جھٹلایا ہے تو اس کا تمہیں ہی نقصان پہنچے گا اور نبی کے ذمہ جو کام تھا وہ اپنی ذمہ داری پوری کرچکا ہے۔
Ayah 29:1931 اللہ تعالیٰ کے تخلیقی کارنامے لاتعداد ہیں۔ زمین پر بسنے والے جانداروں کی دس لاکھ انواع کا تاحل پتہ چل چکا ہے۔ آئندہ کا حال اللہ کو معلوم ہے۔ ان میں سے ہر نوع کی تخلیق جداگانہ ہے۔ اب مثلاً ہم ایک نوع انسان ہی کو لیتے ہیں اس لئے کہ اس کے متعلق زیادہ معلومات حاصل ہیں۔ اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے مٹی سے اس کا پتلا اپنے ہاتھ سے بنایا۔ اس وقت وہ مردہ تھا۔ اس میں روح پھونکی تو زندہ ہوگیا۔ پھر اس کی نسلی توالد و تناسل سے چلی۔ انسان نے زمین سے حاصل ہونے والی غذائیں کھائیں یہ غذائین مردہ اور بےجان تھیں۔ انھیں سے مرد میں منی بن گئی جس میں لاتعداد جرثومے ہوتے ہین۔ یہی منی مادہ کے رحم میں پہنچتی تو اس کے مادہ سے مل کر نطفہ بنی، نطفہ سے عقلقہ، علقہ سے مقنہ یعنی گوشت کا لوتھڑا بنی۔ اب تک یہ سب کچھ مردہ اور بےحرکت تھا۔ بعد میں اللہ نے اس لوتھڑے کو روح عطا کی تو یہ لوتھڑا جاندار اور متحرک بن گیا۔ اب انسان کی شکل و صورت کی باری آئی۔ رحم مادر میں اتنے خلیے (Cell) ہوتے ہیں جن کی تعداد صرف اللہ کو معلوم ہے۔ ان میں سے ہر ایک خلیہ اپنے ہی کام لگا ہوتا ہے نہ یہ اپنے راستے سے ہٹتا ہے کہ راستہ بھولتا ہے نہ کسی دوسرے خلیے کے کام میں دخل دیتا ہے۔ ناک کا خلیہ اسی جگہ پہنچے گا جہاں ناک کی جگہ ہے، آنکھ کا آنکھ کی جگہ، کان کا کان کی جگہ اور ایڑی کا ایڑی کی جگہ پر پہنچے گا۔ اور یہ خلیے براہ راست اپنے اپنے مقام پر پہنچ کر اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ تاآنکہ انسان کی ایک خاص شکل و صورت بن جاتی ہے اور رحم مادر میں یہ ایسا منضبوط اور مضبوط نظام ہے جس میں خلف نہیں ہوتا۔ یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ کسی انسان کی ناک کا ایک نتھنا چھوٹا ہو، دوسرا بڑا ہو، یا ایک نتھنا لمبوترا ہو تو دوسرا چپٹا ہو۔ یہی حال دوسرے اعضا کا ہے۔ پھر ایک مقررہ مدت کے بعد انسان زندہ اور شکل و صورت والا بن کر رحم مادر سے باہر آجاتا ہے۔ گویا مردہ غذاؤں سے اللہ نے زندہ چیز بنادی۔ اور یہ عمل حیوانات اور نباتات اور انسان غرضیکہ تمام انواع میں ہمہ وقت جاری وساری ہے۔ اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ توالد و تناسل کے ذریعہ پیدائش ہر نوع کے ابتدائی جاندار کی نسبت اللہ کے لئے زیادہ آسان ہے۔
اب اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ انسان زندہ تھا وہ مرگیا۔ اور مٹی میں مل گیا۔ اور قیامت کو وہی انسان دوبارہ اٹھا کھڑا کیا جائے گا۔ مٹی کے اندر جو تغیرات ہوں گے اور جس طرح انسان دوبارہ پیدا ہوگا یہ باتیں انسان کی تحقیق سے باہر ہیں۔ تاہم یہ ایک بدیہی حقیقت ہے جس کے لئے ضرورت نہیں کہ نقش ثانی کا نقش ماول کی نسبت زیادہ آسان ہوتا ہے۔ اور دوسری عقلی دلیل یہ ہے کہ جو ہستی رحم مادر میں اس قدر منضبط اور مربوط نظام قائم کرکے مردہ اشیاء سے زندہ انسان نما کھڑا سکتی ہے وہ یقیناً مٹی میں بھی ملے ہوئے اجزا سے بھی ہر انسان کو دوبارہ پیدا کرسکتی ہے۔ اور یہ دوسری بار کی پیدائش اس کے لئے یہ نسبتًا آسان چیز ہے۔
Ayah 29:2032 اب اگر انسان کائنات کی دوسری اشیاء اور جمادات میں غور کرے تو اور بھی زیادہ ورطہ حیرت میں گم ہوجاتا ہے۔ ہر مادی چیز ان گنت چھوٹے چھوٹے ذرات سے مل کر بنی ہے۔ سب سے چھوٹا ذرہ جو انسان کے علم میں آیا ہے وہ ایٹم (Atom) ہے۔ جو انیسویں صدی تک جزو لا یتجزی سمجھا جاتا رہا۔ یعنی اتنا حقیر ذرہ جس کی مزید تقسیم ناممکن تھی۔ اور اسے صرف کسی طاقتور خوردبین کی مدد سے ہی دیکھا جاسکتا ہے۔ مگر موجودہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس حقیر سے ذرے میں بھی ایک بڑا ہی مضبوط نظام قائم ہے۔ اس میں الیکٹران (electron) بھی ہے اور پروٹون Pruton) (بھی۔ اور دونوں بڑے منضبط طریقے سے اس حقیر سے ذرہ کے اندر اس طرح محو گردش ہیں جس طرح ہمارا نظام شمسی اور سورج کے گرد سیارے محو گردش ہیں۔ ان کو اپنا مفوضہ کام کرنے سے کوئی چیز بھی روک نہیں سکتی۔ نہ ہی یہ ایک دوسرے کے کام میں خلل اندازی کرتے ہیں۔ ہر مادہ جسم ایسے ہی لاتعداد ذرات سے مل کر بنتا ہے۔ اور اگر اس ذرہ میں موجود نظام کو توڑا جائے تو اس حقیر سے ذرے سے بےپناہ توانائی حاصل ہوتی ہے۔ جن سے موجودہ دور میں ایٹم بم تیار کیا جاتا ہے۔ اب یہ انسان کا کام ہے کہ اس توانائی کو اپنی تعمیری ضرورتوں کے لئے استعمال کرے یا اسے نوع ہلاک کو تباہ و برباد کردینے اور تخریبی کاموں کے لئے استعمال کرے۔ اب سوال یہ ہے کہ جس ہستی نے ہر مادہ چیز کو اس محیر العقول طریق سے پہلی بار پیدا کرلیا کیا وہ دوبارہ ایسی ہی مخلوق پیدا نہ کرسکے گا ؟
موجودہ کیفیات نے ثابت کردیا ہے کہ مادہ صرف اپنی شکل بدلتا رہتا ہے۔ اس میں سے کچھ بھی اس کا حصہ بالکل فنا نہیں ہوجاتا۔ اس تحقیق نے بعث بعد الموت کے عقیدے کو بہت حد تک قریب الفہم بنادیا ہے کیونکہ مادہ کے ایک ایک ذرہ پر اللہ تعالیٰ کا براہ راست کنٹرول ہے۔
Ayah 29:2133 روز آخرت اور انسان کے دوبارہ پیدا ہونے پر دلائل دینے کے بعد فرمایا کہ تم بہرحال اللہ کے سامنے پیش کئے جاؤ گے۔ ایسی کوئی صورت ممکن نہیں کہ تم اس حاضری سے بچ سکو۔ پھر وہ تمہارے اعمال کے مطابق تمہیں سزا دے گا۔ اور کسی کے حق میں اس کی حکمت کا یہ تقاضا ہو کہ اس پر رحم کیا جائے تو وہ اسے اپنی رحمت کی بنا پر معاف بھی کرسکتا ہے۔
Ayah 29:2234 یعنی نہ تم میں اتنا زور ہے کہ زمین کی حدود سے باہر نکل جاؤ اور نہ اتنی طاقت ہے کہ آسمانوں تک پہنچ جاؤ۔ یہ غالباً اس لئے فرمایا کہ انسان اس زمین کے علاوہ کسی دوسری جگہ زندہ رہ ہی نہیں سکتا کیونکہ اس کی تمام غذائی اور جسمانی ضروریات اس زمین سے وابستہ ہیں الا یہ کہ چند دنوں کے لئے کوئی عارضی سا بندوبست کرلے اور جب اللہ کی گرفت آجائے تو نہ تم میں اتنا زور ہے کہ اس کی گرفت سے بچ سکو اور نہ کوئی دوسری ہستی اتنی طاقتور ہے کہ وہ اس کے عذاب سے تمہیں پناہ دے سکے یا اس کے عذاب کو روک سکے۔
Ayah 29:2335 اللہ کی آیات سے انکاری درحقیقت اللہ کی رحمت سے دوری کا سب سے بڑا سبب ہے۔ یعنی جو لوگ عقیدہ آخرت، اللہ سے ملاقات اور بعث بعدالموت کے منکر ہیں انھیں رحمت الٰہی کی امید کیونکر ہوسکتی ہے جبکہ وہ اس بات کے قائل ہی نہیں۔ لہذا وہ آخرت میں اللہ کی رحمت سے محروم اور مایوس ہی رہیں گے پہلے یہ بتلایا جاچکا ہے کہ جو شخص اللہ سے ملاقات کی امید رکھتے ہیں تو انھیں یقین رکھنا چاہئے کہ ان کی موت جلد ہی آنے والی ہے (29: 5) یعنی موت کے فوراً بعد اللہ کی رحمت اسے اپنی آغوش میں لے لے گی۔ یہ دونوں طرح کی آیات ایک دوسری کا عکس ہیں۔
Ayah 29:2436 حضرت ابراہیم کے حالات کے درمیان آیت نمبر 19 سے لے کر آیت نمبر 23 تک اللہ تعالیٰ کا اپنا کلام ہے۔ جس میں ربط مضمون کی نسبت سے توحید اور آخرت پر کچھ دلائل پیش کرنے کے بعد اب پھر حضرت ابراہیم کے حالات کی طرف غور کیا جارہا ہے۔
حضرت ابراہیم کے دلائل توحید کا جب قوم ابراہیم سے کوئی جواب بن نہ پڑا تو وہ اوچھے ہتھیاروں پر اتر ائے اور یہی باطل پرستوں کی عادت ہوتی ہے۔ یہاں حضرت ابراہیم کے ان کے بتوں کو توڑنے پھوڑنے کا واقعہ حذف کردیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم نے یہ کام اس لئے کیا تھا کہ قوم پر عملی طور پر واضح کرسکیں کہ ان کے معبود بالکل ناکارہ چیزیں ہیں جو اپنی حفاظت اور اپنے آپ سے نقصان کو دور نہیں کرسکتے وہ دوسروں کی مشکل کشائی کیسے کرسکتے ہیں۔ اسی مشاہداتی دلیل نے ان لوگوں کو اور بھی زیادہ مشتعل اور سیخ پا بنادیا۔ آخر انہوں نے یہ مشورہ کیا کہ ابراہیم کو مار ہی ڈالو اور اگر ایسا نہ کرو تو اسے آگ میں جلا ڈالو۔ آگ میں جلانے کے مشورہ میں بھی دو پہول ہیں۔ ایک یہ کہ یہ اسے دکھ دینے والا آگ کا عذاب دے کر مارنا چاہئے۔ دوسرے یہ کہ شاید یہ کہ آگ کا عذاب دیکھ کر اپنی باتوں سے باز رہنے کا عہد کرلے۔ بہرحال ان لوگوں نے لمبا چوڑا آگ کا الاؤ تیار کیا اور حضرت ابراہیم کو اس آگ میں پھینک دیا۔
37 لیکن اللہ تعالیٰ نے آگ کو حکم دیا کہ وہ حضرت ابراہیم کے حق میں ٹھنڈی اور غیر مضر بن جائے۔ چناچہ ابراہیم اس آگ میں اس طرح رہے جیسے کوئی شخص باغ اور گلزار میں رہتا ہے۔ اور اس میں نشانیاں یہ ہیں :
(1) ہر چیز کی کچھ طبیعی خواص ہیں اور یہ خواص اللہ تعالیٰ نے ہی ہر چیز میں ودیعت کر رکھے ہیں۔
(2) ان خواص میں اللہ تعالیٰ جب چاہے تبدیلی لاسکتا ہے۔ اگرچہ ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے تاہم اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ کہ اگر اللہ چاہے تو بعض اشیاء کے طبیعی خواص سلب بھی کرسکتا ہے اور ان میں تبدیلی بھی لاسکتا ہے۔
(3) اللہ کے بندوں کو اللہ کی مدد پہنچتی ضرور ہے۔ مگر پہلے انھیں ابتلا کے دور سے گزارا جاتا ہے اور ایسی خرق عادت مدد صرف اس وقت آتی ہے جب اس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو۔
اس واقعہ پر منکرین معجزات کی تاویل اور اس کا جواب سورة انبیاء کے حاشیہ نمبر 58 کے تحت ملاحظہ فرمائیے۔
Ayah 29:2538 ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ جملہ حضرت ابراہیم نے آگ سے صحیح سلامت نکل آنے کے بعد کہا تھا۔ یعنی تم لوگوں نے آپس میں باہمی محبت، بھائی چارہ اور قومی شیرازہ بندی کی بنیاد ان مشرکانہ رسوم کو بنا لیا ہے تاکہ ایسے مذہب کے نام پر ساری قوم متحد اور متفق رہے۔ قومی یگانگت کے لئے کوئی بھی بنیاد بنائی جاسکتی ہے خواہ یہ بنیاد بجائے خود کتنی ہی غلط کیوں نہ ہو جیسے کہ آج کل وطن پرستی، قوم پرستی، نسل پرستی، ایسی ہی غلط بنیادوں پر لوگ متحد و متفق ہوجاتے ہیں الا یہ بنیادیں فساد کا باعث بن رہی ہیں۔ تاہم ان غلط قسم کی بنیادوں پر بھی لوگوں کو اکٹھا کیا جاسکتا ہے، اکٹھا رکھا جاسکتا ہے اور ان میں باہمی محبت ہوسکتی ہے۔ بالکل اسی طرح محبت پرستی اور شرکیہ عقائد پر بھی ایسا اتحاد و اتفاق ممکن ہے۔ اور بت پرستوں کی یہی آپس کی باہمی محبت ہی حضرت ابراہیم کو آگ میں ڈال کر ان سے انتقام لینے کا باعث بنی تھی۔
مفسرین نے اس کی دوسری توجیہ یہ بیان کی ہے جو قوم نوح کے بتوں سے متعلق صحیح احادیث میں مذکور ہے کہ اس قوم میں پانچ ایسے بزرگ تھے جو بڑے نیک بڑے عبادت گزار تھے اور انھیں دیکھ کر اللہ یاد آتا تھا۔ جب یہ بزرگ فوت ہوگئے تو پچھلوں کو اپنی عبادت میں وہ مزا نہ آتا تھا جو ان کی موجودگی میں آتا تھا۔ اب شیطان نے انھیں یہ پٹی پڑھائی کہ اگر وہ موجود نہیں رہے تو کوئی بات نہیں ان کے مجسمے بنا کر اپنے سامنے رکھ لو گے تو تمہیں عبادت میں وہی لطف آیا کرے گا۔ جو ان کی موجودگی میں آتا تھا۔ چناچہ انہوں نے ان پانچ بزرگوں کے مجسمے اپنی عبادت گاہ میں رکھ لئے مگر وہ عبادت اللہ ہی کی کرتے تھے۔ پھر بعد کی نسلوں نے ان مجسموں کو ہی پوجنا شروع کردیا۔ اس طرح اس قوم میں بت پرستی کا رواج ہوگیا۔ اور اس کی بنیاد ہی بزرگوں سے ان کی باہمی محبت تھی۔
اور اس کی تیسری توجیہ یہ ہے کہ سب مشرکوں کو بتوں یا اپنے معبودوں سے محبت پیدا ہوجاتی ہے۔ کیونکہ وہ ان کے عقیدہ کے مطابق ان کے حاجت روا اور مشکل کشا ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ( وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا يُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ ۭ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ 165۔ ) 2 ۔ البقرة :165) پھر اسی بنیاد پر ان مشرکوں کی آپس میں بھی محبت ہوجاتی ہے جیسے اللہ کے پرستاروں کی اصل محبت تو اللہ سے ہوتی ہے۔ لیکن اللہ والوں کی آپس میں باہمی محبت بھی ان کے ایمان کا جز بن جاتا ہے۔
39 یعنی قیامت کے دن معبود حضرات خود اپے پرستاروں کی عبادت کی انکار کرتے ہوئے کہیں گے کہ کم بختو ! ہم نے تمہیں کب کہا تھا کہ ہمارے بعد ہماری پوجا شروع کردینا اور اس بات کا بھی اقرار کریں گے کہ ہمیں کچھ خبر نہیں کہ ان لوگوں نے ہمیں اپنا معبود بنا لیا تھا۔ جب معبودوں کا یہ حال ہوگا تو عبادت گزاروں پر، جنہوں نے ان سے کئی طرح کی توقعات وابستہ کر رکھیں ہوں گی، جو گزرے گی اس کا بہ آسانی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوگا عابد، معبود دونوں ایک دوسرے پر لعنتیں بھیجنے لگیں گے اور آپس میں ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے۔ جتنی آج یہ اپنے معبودوں اور اپنے ساتھیوں سے دوستی جتلا رہے ہیں۔ اتنے ہی زیادہ اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔