Ayahs 28:1–31 قرآن کریم میں اکثر مقامات پر حض موسیٰ اور فرعون کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے اور انبیاء کے ذکر میں حضرت موسیٰ کا ذکر پہلے کیا گیا ہے۔ اس کی وجوہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں۔ مختصراً یہ کہ موسیٰ کو رسول اللہ سے زیادہ شدید حالات میں فریضہ ئرسالت سرانجام دینے کا حکم ہوا تھا۔ مثلاً یہ کہ حضرت موسیٰ جس قوم بنی اسرائیل کے فرد تھے، فرعون نے انھیں اچھوتوں کی طرح کم تر درجہ کی مخلوق اور عملاً غلام بنا کر رکھا ہوا تھا۔ جبکہ آپ اپنی قوم قریش ہی کے ایک فرد تھے۔ پھر حضرت موسیٰ کو فرعون جیسے مغرور، متمرد اور سرکش، فوراً بھڑک اٹھنے والے فرمانروا کے ہاں دعوت رسالت کے لئے بھیجا گیا تھا جبکہ آپ کے مخاطبین اول آپ کی اپنی ہی قوم کے افراد تھے۔ تیسرے یہ کہ حضرت موسیٰ کو یہ بھی حکم تھا کہ دعوت توحید کے ساتھ اپنی قوم بنی اسرائیل کی رہائی کا بھی مطالبہ کریں جبکہ رسول اللہ کو ایسا کوئی حکم نہ تھاـ۔ چوتھے یہ کہ آپ فرعون کے اشتہاری مجرم تھے۔ اور اس قصہ کا انجام یہ ہوتا ہے کہ بالآخر اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کی مدد کرکے انھیں فرعونیوں سے نجات دلاتے ہیں اور فرعون اور آل فرعون کو دریا میں غرق کرکے ایسے ظالموں کا صفحہ ہستی سے نام و نشان تک مٹا دیتے ہیں۔ گویا اس قصہ میں آپ کے لئے اور مسلمانوں کے لئے سبق یہ ہے کہ جب موسیٰ نے ایسے شدید حالات اور اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے سب مصائب برداشت کئے تو آپ کو بھی کرنا چاہئیں اور بشارت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس معرکہ حق و باطل میں بالآخر اپنے پیغمبر اور ایمان لانے والوں کو ہی کامیاب کرتا ہے اور ان کے دشمن تباہ ہوجاتے ہیں۔
2 شاہان مصر کا لقب، جیسے قدیم زمانہ میں ترکوں کے بادشاہ خاقان، یمن کے بادشاہ تبع، حبشہ کے بادشاہ نجاشی، روم کے بادشاہ قیصر اور ایران کے بادشاہ کسریٰ کہلاتے تھے ایسے ہی مصر کے بادشاہ فرعون کہلاتے تھے۔ موسیٰ کو دو فرعونوں یا دو بادشاہوں سے سابقہ پڑا تھا۔ جس فرعون نے آپ کی پرورش کی تھی اس کا نام رعمیس تھا اور نبوت ملنے کے بعد جس کے ہاں آپ کو بھیجا گیا تھا وہ رعمیس کا بیٹا متطتاح تھا ـ۔ ان کا عہد حکومت تقریباً چودہ سو سال قبل مسیح ہے۔
3 یعنی قرآن کا یہ قصہ بیان کرنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو بتلایا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے نافرمانوں اور متکبروں کا آخر کیا انجام ہوتا ہے اور اللہ کے فرمانبرداروں کا کیا ؟ لیکن اس قصہ سے نصیحت، ہدایت اور سبق وہی لوگ حاصل کرسکتے ہیں جو ان واقعات کو درست تسلیم کرکے اور ان میں غور و فکر کرکے ایمان لانے والے ہوں اور جو لوگ اسے محض تاریخی داستان یا افسانہ سمجھتے ہوں، انھیں اس سے کیا عبرت حاصل ہوسکتی ہے ؟
Ayah 28:44 یعنی فرعون نے سر اٹھا رکھا تھا۔ اپنے آپ کو بہت بڑی چیز سمجھنے لگا تھا، لوگوں پر ظلم و زیادتی میں حد سے بڑھنے لگا تھا۔ اپنے آپ کو بندگی کے مقام سے اٹھا کر مکمل خود مختاری کے مقام تک لے گیا تھا اور سخت باغیانہ روش اختیار کر رکھی تھی۔ بعد میں فرعون کا لفظ لغوی لحاظ سے متکبر، سرکش اور متمرد کے معنوی میں استعمال ہونے لگا ہے۔
5 اپنی حکومت کو مستحکم کرنے اور مستحکم بنائے رکھنے کے سلسلہ میں اس کی سیاسی پالیسی یہ تھی کہ اس نے اپنی رعایا میں طبقاتی تقسیم پیدا کردی تھی۔ ایک تو اس کی اپنی قوم یا مصر کے قدیم باشندے تھے جنہیں قبطی کہتے ہیں اور یہ معزز طبقہ تھا۔ سرکاری مناصب بھی انھیں ہی مل سکتے تھے اور حکمران قوم ہونے کے ناطے سے ان کے حقوق کی ضرورت سے بھی زیادہ نگہداشت کی جاتی تھی۔ دوسرے بنی اسرائیل تھے۔ جو حضرت یوسف کے زمانہ یعنی تقریباً چار سو سال سے یہاں آکر آباد ہوئے تھے۔ اس وقت وہ حکمران قوم کی حیثیت سے آئے تھے لیکن ایک صدی بعد ہی ان میں جب بےدینی اور اخلاقی انحطاط شروع ہوگیا اور فرقوں میں بٹ گئے۔ تو اللہ نے ان سے حکومت چھین لی اور مصری لوگ پر سے قابض ہوگئے۔ انہوں نے ان بنی اسرائیل سے انتقاماً اچھوتوں اور شودروں کا سا سلوک روارکھا ہوا تھا۔ معاشرہ میں ان کی کچھ عزت نہ تھی۔ کوئی سرکاری عہدہ انھیں نہیں مل سکتا تھا۔ یہ لوگ عموماً حکمران قوم کے افراد کے غلام، ملازم اور ان کی عورتیں بھی ان کے گھروں کا کام کاج کرتی تھیں۔ اس طرح فرعون نے عملاً ان لوگوں کو اپنا غلام بنا کر رکھا ہوا تھا۔
6 مصر کی قومیت پرستی کی تحریک تو مدتوں پہلے شروع ہوچکی تھی اور اسی کے نتیجہ میں بنی اسرائیل (یعنی قبطیوں) سے ایسا ناروا سلوک کیا جاتا تھا۔ تاہم فرعون رعمیس نے اس کے لئے انتہائی قدم یہ اٹھایا کہ آئندہ سے بنی اسرائیل کی ہاں پیدا ہونے والے لڑکے کو قتل کردیا جائے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیا جائے۔ لڑکیاں یا عورتیں تو از خود قبطیوں یا آل فرعون کے قبضہ میں آجائیں گی اور اس طرح کچھ مدت بعد بنی اسرائیل کی نسل ہی ختم ہو کر مصریوں میں مدغم ہوجائے گی۔ چناچہ فرعون کے اس حکم کی تعمیل کے لئے جاسوس قسم کی عورتیں مقرر کی گئی تھیں۔ جو بنی اسرائیل کے ہاں نوازائیدہ بچوں کی رپورٹ حکومت کو پیش کیا کرتی تھیں۔ اور یہ محض احتیاطی تدبیر تھی ورنہ بنی اسرائیل کے لئے آرڈر یہی تھا کہ وہ نوزائیدہ لڑکے کی اطلاع حکومت کو فراہم کریں اور وہ اس بات پر مجبور بھی تھے۔
بعض تفاسیر میں منقول ہے کہ فرعون کو ایک پریشان کن خواب آیا تھا جس کی نجومیوں نے اسے تعبیر یہ بتلائی تھی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہونے والا ہے جس کے ہاتھوں فرعون اور اس کی حکومت تباہ ہوجائے گی اور فرعون نے اسی خطرہ کے سد باب کے لئے بنی اسرائیل کے لڑکوں کے قتل کا حکم دیا تھا۔ اس پہلو سے اگر غور کیا جائے تو فرعون کا یہ اقدام سراسر حماقت اور استبداد تھا۔ کیونکہ اگر نجومیوں کی یہ تعبیر درست تھی تو یہ کام ہو کے رہنا چاہئے تھا اور وہ ہو کے رہا۔ خواب یا اس کی تعبیر میں یہ اشارہ تک نہیں پایا جاتا کہ اگر فرعون اس خطرہ کا کوئی سدباب سوچ لے تو بچ سکے گاـ۔ اور اگر یہ تعبیر غلط تھی تو پھر ویسے ہی یہ ایک سفاکانہ حرکت تھی۔ بہرحال دونوں صورتوں میں اس کا یہ اقدام ظالمانہ اور وحشیانہ قسم کا تھا۔ اور جہاں اس واقعہ خواب یا اس کی تعبیر کا تعلق ہے، اس کی صحت اور عدم صحت کے متعلق اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ اور یہ صورت نہ بھی ہوتی تو قومیت پرستی کی بنیاد پر حالات ایسے پیدا ہوچکے تھ کہ فرعون نے بنی اسرائیل کو مکمل طور پر کچل دینے کے لئے یہی اقدام مناسب سمجھا۔
اور ابن کثیر اس خواب اور اس کی تعبیر کے واقعہ کی صورت حال یہ بتلاتے ہیں کہ بنی اسرائیل آپس میں حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی ایک پیشین گوئی کا تذکرہ کیا کرتے تھے کہ ایک اسرائیل نوجوان کے ہاتھوں سلطنت مصر کی تباہی مقدر ہوگی۔ رفتہ رفتہ یہ بات فرعون کے کانوں تک بھی پہنچ گئی۔ اس احمق نے قضا و قدر کی روک تھام کے لئے یہ سفاکانہ اسکیم جاری کی تھی۔
Ayah 28:57 یعنی فرعون تو اس مظلوم گروہ کا کلی طور پر استیصال کرنا چاہتا تھا۔ مگر اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اللہ یہ چاہتا تھا کہ ایسی سفاک اور ظالم قوم کا استیصال ہونا چاہئے۔ اور جن بےچاروں پر یہ ظلم و ستم ڈھائے جارہے ہیں۔ انھیں نہ صرف ان سے نجات دلائی جائے۔ بلکہ انھیں ان ظالموں کی جائیدادوں اور ملک کا وارث بھی بنادیا جائے۔ دین کی امامت بھی ان کے سپرد کی جائے اور دنیا کی سرداری کا تاج بھی ان کے سر پر رکھ دیا جائے۔ اور اللہ کی سنت جاریہ یہی ہے کہ وہ ظالموں اور متکبروں سے زمین کو خالی کرا کر ان کی جگہ ان مظلوموں کو آباد کرتا ہے۔ جن پر ظلم ڈھائے گئے تھے۔
Ayah 28:68 فرعون کا وزیر جو اس ظلم و ستم کا شریک اور آلہ کار بنا ہوا تھا۔ اس کی تفصیل اسی سورة میں آگے مذکور ہے۔۔9 یعنی فرعون ہامان اور ان کے ساتھیوں کی کوشش یہ تھی کہ بنی اسرائیل کو اتنا کمزور بنادیا جائے کہ وہ آئندہ سر اٹھانے کے قابل نہ رہیں۔ اسی غرض سے ان کی نسل ختم کردینے کی سکیم تیار کی گئی تھی۔ مگر ہم یہ چاہتے تھے کہ جس خطرہ کی روک تھام کے لئے وہ سارے پاپڑ بیل رہے تھے وہی خطرہ ہم ان کی آنکھوں سے انھیں دکھادیں۔ اور وہ اپنے جیتے جی یہ دیکھ لیں کہ اللہ کی تقدیر کبھی ٹل نہیں سکتی، نہ اسے کوئی طاقت روک سکتی یا اس میں تاخیر پیدا کرسکتی ہے۔
Ayah 28:710 یہاں لفظ اَوْحَیْنَا استعمال ہوا ہے اور وحی کا لغوی معنی صرف خفی اور تیز اشارہ ہے اور اَوْحٰی کے معنی کسی پوشیدہ اور نامعلوم بات کے متعلق سرعت سے اشارہ کرنا (مفردات، مقاییس اللغۃ) یعنی کسی تشویشناک معاملہ کے حل کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یکدم دل میں کوئی خیال آجانا اور ایسی وحی غیر نبی کی طرف بھی ہوسکتی ہے۔ ایسی ہی وحی امّ موسیٰ کو بھیجی گئی تھی۔ اور ممکن ہے یہ وحی فرشتوں کے خطاب کی صورت میں ہو۔ ایسی وحی بھی غیر نبی کو ہوسکتی ہے۔ جیسے حضرت مریم سے فرشتوں نے خطاب کیا تھا۔
11 یہ وحی موسیٰ کی پیدائش کے بعد ہوئی اور یہ وحی چار امور پر مشتمل تھی : (1) جب تک اس بچے کی سراغ رسانی نہیں ہوتی، اسے اپنے پاس ہی رکھو اور اسے دودھ پلاتی رہو۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ ام موسیٰ نے آپ کو تین ماہ تک چھپائے رکھا تھا۔ (2) جب یہ راز فاش ہونے لگے اور تمہیں یہ خطرہ محسوس ہو کہ اب عمال حکومت اس بچے کو پکڑ کرلے جائیں گے۔ تو اس کو کسی تابوت یا ٹوکرے میں رکھ کر دریا کی موجوں کے سپرد کردینا (3) اور دریا میں ڈالتے وقت اس بات کا ہرگز اندیشہ نہ کرنا کہ یہ بچہ ضائع ہوجائے گا۔ بلکہ ہم بہت جلد یہ بچہ تیری ہی طرف لوٹا دیں گے۔ تو ہی اسے دودھ پلائے گی اور اس کی پرورش کرے گی۔ یہی وہ بچہ ہے جو بنی اسرائیل میں رسول بننے والا ہے۔
Ayah 28:812 چناچہ ام موسیٰ نے وحی کے مطابق اس بچہ کو کسی تابوت یا ٹوکرے میں رکھ کر دریائے نیل کی موجوں کے سپرد کردیا۔ یہ تابوت موجوں پر سفر کرتے کرتے جب اس مقام پر پہنچا جہاں فرعون کے محلات تھے تو فرعون کے اہل کاروں نے اسے دیکھ لیا اور اسے پکڑ کر فرعون اور اس کی بیوی کے پیش کردیا۔ یا ممکن ہے کہ فرعون اور اس کی بیوی سیر و تفریح کی غرض سے محل سے نکل کردیا کے کنارے آئے ہوئے ہوں اور انہوں نے خود یہ تابوت دیکھ کر اسے نکال لانے کا حکم دیا ہو۔ چناچہ فرعون اور اس کی بیوی اس بچہ کو اپنے ہاں لے آئے۔ جو ان کا دشمن اور ان کی تباہی کا باعث بننے والا تھا۔
13 اس جملہ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں : ایک یہ کہ ایک بچہ کے خطرہ کے بنا پر ہزار ہا بچوں کا قتل کردینا ان کی بہت بڑی غلطی اور حماقت تھی۔ اور ان کی یہ حماقت اس لحاظ سے اور بھی زیادہ واضح ہوگئی تھی کہ جس بچہ سے خطرہ کے سد باب کے لئے وہ یہ سفاکی کر رہے تھے وہ تو ان کے پاس پہنچ چکا تھا۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ خطاکار اس لحاظ سے تھے کہ وہ اپنی اس ظالمانہ تدبیر سے اللہ کی تقدیر کو روکنا چاہتے تھے۔
Ayah 28:914 اب ظاہری قیاس سے تو یہی معلوم ہو رہا تھا کہ یہ بچہ کسی بنی اسرائیل کے فرد کا ہی ہوسکتا ہے جس نے بچہ کے قتل کے خطرہ کی وجہ سے اس کے قتل ہونے سے بہتر یہی سمجھا کہ اسے دریا کے سپرد کردیا جائے۔ اس لحاظ سے فرعون کو یہ بچہ فوراً مار ڈالنا چاہئے تھا۔ مگر بچے کی صورت ایسی پیاری اور پرکشش تھی کہ فرعون کی بیوی آسیہ جس کے متعلق قرآن نے ایک دوسرے مقام پر تصریح کردی ہے کہ وہ فرعون کے ایسے ظالمانہ کاموں سے سخت بیزار تھی، نے جب یہ بچہ دیکھا تو فوراً اس کا دل محبت سے بھر آیا۔ مفسرین کہتے ہیں کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس کے ہاں اولاد نہ تھی۔ چناچہ وہ فوراً کہنے لگی کہ یہ بچہ تو بہت پیارا ہے کہ جسے دیکھ کر ہی دل خوش ہوجاتا ہے اور ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ لہذا ہم خود اس کی تربیت کریں گے۔ اسے قتل کرنا کسی طرح بھی مناسب نہیں۔ پھر یہ بچہ ہمارے لئے مفید بھی ہوسکتا ہے۔ جب اس کی پرورش کریں گے تو یہ ہمارا ہی بچہ ہے۔ اسے کیا خبر ہوسکتی ہے کہ اس کا بنی اسرائیل کے کسی فرد سے بھی کچھ تعلق ہے۔ اگر ہم اسے اپنا بیٹا بنالیں گے تو اس کی ساری اہلیتیں بنی اسرائیل کے بجائے ہمارے کام آسکتی ہیں۔ لہذا اسے متبنّیٰ بنا لینے میں ہمیں بہت سے فائدے حاصل ہوسکتے ہیں۔
15 یعنی ان دونوں کو یہ معلوم نہ تھا کہ جو باتیں وہ کر رہے ہیں وہ خود نہیں کر رہے بلکہ مشیت الٰہی ان کے منہ سے یہ الفاظ نکلوا رہی ہے۔ یا انھیں کیا خبر تھی کہ جس بچہ کو مارنے کی خاطر انہوں نے ہزارہا بچے قتل کردیئے ہیں یا کر رہے ہیں وہ بچہ ان کے اپنے ہاتھ میں جسے یہ اپنا متبنّیٰ بنانے کے مشورے کر رہے ہیں یا یہ کہ جس بچہ پر اس وقت ان کا اتنا دل بھر آیا ہے۔ وہی ان کا دشمن بن جائے گا۔ اور اسی کے ہاتھوں ان کی اور ان کی حکومت کی تباہی واقع ہوگی۔
Ayah 28:1016 ام موسیٰ نے وحی کے مطابق حضرت موسیٰ کو دریا کی موجوں کے سپرد کر تو دیا مگر بعد میں سخت بےتاب ہوگئیں۔ ماں کی مامتا چین نہ لینے دیتی تھی۔ کئی بار دل میں خیال آیا تو لوگوں سے کہہ دیں کہ میں نے بچہ دریا میں ڈال دیا ہے۔ کوئی مجھ پر مہربانی کرے اور اسے وہاں سے نکال کر مجھے واپس لادے۔ اس صورت میں کئی طرح کے خطرات نظر آرہے تھے۔ پھر وحی میں یہ وعدہ بھی کیا گیا تھا۔ کہ عنقریب وہ بچہ تمہاری طرف لوٹا دیا جائے گا۔ اس خیال سے پھر دل کو کسی قدر قرار آجاتا تھا۔ یہ اللہ ہی کی مہربانی تھی کہ اس نے ام موسیٰ کے دل قرار بخش دیا اور یہ راز فاش نہ ہوا۔ جبکہ اسے اب یہ یقین ہوگیا کہ بس چند دن تک میرا بچہ مجھے واپس مل جانے والا ہے۔ اگرچہ اس کی کوئی صورت اس کے ذہن میں نہیں آرہی تھی۔
Ayah 28:1117 ام موسیٰ کے تین بچے تھے۔ سب سے بڑی لڑکی تھی۔ اس کے بعد ہارون پیدا ہوئے پھر ان کے ایک سال بعد موسیٰ کی پیدائش ہوئی۔ حضرت ہارون کی پیدائش تک بنی اسرائیل کے بچوں کے قتل کا حکم نافذ نہیں ہوا تھا۔ لہذا وہ بھی زندہ تھے اور بہن تو ان سے آٹھ دس سال بڑی تھی۔ جب ام ّموسیٰ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا برد کرچکی اور دل بےقرار ہونے لگا تو ایک احتیاطی تدبیر اس کے ذہن میں آئی کہ شاید اس تدبیر کا کسی وقت فائدہ پہنچ جائے۔ اس نے موسیٰ کی بہن سے کہا کہ اس دریا کے کنارے کنارے چلی جاؤ۔ اور بچہ کو دیکھتی رہو کہ کہاں جاتا ہے۔ لیکن یہ احتیاط ملحوظ رکھنا کہ اس طریقہ سے چھپتی چھپاتی جانا کہ کسی کو یہ گمان نہ ہوسکے کہ یہ لڑکی اس ٹوکرے کی نگہداشت کر رہی ہے۔ اور اس کی ٹوہ میں لگی ہوئی ہے۔
اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب آل فرعون نے یہ تابوت دریا سے نکالا اور اس سے بچہ برآمد ہوا تو اس واقعہ کی خبر سارے شہر میں آناً فاناً پھیل گئی۔ اس وقت ام موسیٰ نے حضرت موسیٰ کی بہن سے کہا کہ جاؤ اور اس بچہ کا پتہ لگاؤ اور علیحدہ رہ کر دیکھنا کہ کیا ماجرا ہوتا ہے۔ لڑکی ہوشیار تھی وہ اس مقام پر پہنچ گئی جہاں بچہ کے گرد بھیڑ لگی تھی کہ وہاں وہ ایک طرف کھڑے ہو کر اور بےتعلق سی بن کر دور سے دیکھتی رہی اور لوگوں کی باتیں سنتی رہی مگر کسی کو یہ معلوم نہ ہوسکا کہ یہ لڑکی اس بچہ کی بہن ہے۔
Ayah 28:1218 جب فرعون اور اس کی بیوی نے یہ طے کرلیا کہ وہ خود اس بچہ کی پرورش کریں گے۔ تو اس کے لئے دودھ پلانے والی انا کی تلاش ہونے لگی۔ مگر جو بھی انا یا دایہ لائی جاتی۔ حضرت موسیٰ کو اس کا دودھ پینے کی کچھ رغبت نہ ہوتی۔ یہ بھی دراصل مشیت الٰہی کا ایک کرشمہ تھا کہ کئی دنوں سے بھوکا بچہ کسی بھی دایہ کا دودھ پینے سے انکار کردیتا تھا۔ فرعون کے گھر والوں کے سخت تشویش لاحق ہوئی کہ اس کی تربیت کا معاملہ ایک بڑا مسئلہ بن گیا تھا۔ وہ لوگ اس تلاش و تجسّس میں تھے کہ موسیٰ کی بہن نے مشورہ کے طور پر ان سے کہا کہ میں تم کو ایک گھرانے کا پتا بتلائے دیتی ہوں۔ مجھے امید ہے کہ وہ اس بچہ کو پال دیں گے۔ شریف گھرانہ ہے۔ غور و فکر سے اس بچے کی تربیت بھی کریں گے۔ چناچہ لڑکی کے مشورہ کے مطابق ام موسیٰ کو طلب کیا گیا جونہی ام موسیٰ نے بچہ اپنی چھاتی سے لگایا تو بچہ نے دودھ پینا شروع کردیا۔ اس طرح آل فرعون کی ایک بہت بڑی پریشانی دور ہوگئی۔
Ayah 28:1319 ام موسیٰ کو وہاں محل میں رہ کر بچہ کی پرورش کے لئے کہا گیا تو اس نے یہ عذر پیش کردیا کہ گھر کی دیکھ بھال بھی اس کے ذمہ ہے۔ لہذا یہ یہاں رہ کر یہ خدمت سرانجام نہیں دے سکتی۔ البتہ یہ کرسکتی ہوں کہ اس بچے کو اپنے ہمراہ لے جاؤں اور اس کی پرورش کروں۔ چناچہ آل فرعون نے ام موسیٰ کا یہ عذر قبول کرلیا وہ بچہ کو اپنے گھر لے آئی۔ اس طرح حضرت موسیٰ صرف آغوش مادری میں ہی نہ پہنچے بلکہ اپنے گھر میں ہی واپس آگئے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ام موسیٰ سے جو وعدہ کیا تھا۔ وہ بھی پورا ہوا اور شاہی خزانہ سے جو ماں کو معاوضہ ملتا رہا وہ اللہ تعالیٰ کا زائد انعام تھا۔
20 یعنی اللہ کے کئے ہوئے وعدے بہرحال پورے ہو کے رہتے ہیں۔ خواہ ان کے امکانات بالکل معدوم نظر آرہے ہوں۔ یا یہ کہ اگر لوگ یہ بات نہیں جانتے کہ ظاہری اسباب کے علاوہ کچھ باطنی اسباب بھی ہوتے ہیں جو مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہوتے ہیں اور اکثر لوگ یہ نہیں جان سکتے کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کون کون راستے اور کون کون سے مراحل طے کرتے ہوئے پورے ہوتے ہیں۔
Ayah 28:1421 بچپن میں آپ کو خالص دیندارانہ ماحول میسر آگیا۔ لہذا آپ حضرت یعقوب اور یوسف کی تعلیم سے واقف ہوگئے۔ آپ کے والدین کا گھرانہ ایک شریف اور دیندار گھرانہ تھا اور بچہ جو عادات و خضائل اس عمر میں سیکھتا ہے وہی تمام زندگی اس میں نمایاں رہتی ہیں۔ اس کے بعد آپ شاہی خاندان کے فرد بنے تو مصر میں متداول جدید علوم سے بہرہ ور ہوئے اور اصول جہاں بانی اور حکمرانی بھی از خود اخذ کرتے رہے کیونکہ آپ میں خداداد ذہانت موجود تھی۔ اس مقام پر صحت اور علم سے مراد نبوت نہیں کیونکہ نبوت تو آپ کو بہت مدت بعد عطا ہوئی تھی۔
Ayah 28:1522 اس آیت یہ معلوم ہوتا ہے کہ شاہی محلات شہر یا عام لوگوں کی رہائشی آبادی سے کچھ دور تھے۔ جیسا کہ عام دستور ہے کہ بڑے بڑے لوگ عام آدمیوں میں گھل مل کر رہنا پسند نہیں کرتے بلکہ شہر سے باہر کھلی فضا میں اپنی رہائش گاہیں، بنگلے، کوٹھیاں اور محل بنواتے ہیں۔
23 یعنی جب لوگ سو رہے تھے اور راستے اور سڑکیں سنسان اور بےآباد معلوم ہوتی تھیں۔ ایسا وقت عموماً علی الصبح ہوا کرتا ہے سورج کے طلوع ہونے سے بہت پہلے یا گرمیوں میں دوپہر کے بعد جب اکثر لوگ آرام کررہے ہوتے ہیں۔
24 موسیٰ جب ایسے شہر میں داخل ہوئے تو دیکھا دو آدمی آپس میں لڑ رہے ہیں۔ ان میں ایک قبطی ہے یعنی مصر کا قدیمی باشندہ یا حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والا ہے اور دوسرا قبطی یا بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والا ہے۔ موسیٰ بچپن ہی میں دیکھ رہے تھے کہ بنی اسرائیل پر حکومت وقت کیا کیا مظالم ڈھا رہی ہے۔ اور انھیں کیسے معاشرہ میں ذلیل و رسوا بنا کر رکھا جارہا ہے۔ ان لڑنے والوں میں سے سبطی نے آپ کو مدد کے لئے پکارا کہ میں اسے قبطی کے ظلم سے چھڑاؤں۔ یہ قبطی شاہی باورچی خانے کا نوکر تھا۔ جو سبطی سے بیگار یہ لینا چاہ رہا تھا کہ ایندھن کا گٹھا بلامعاوضہ باورچی خانہ تک چھوڑ کر آؤ۔ حضرت موسیٰ کے دل میں قبطیوں کے خلاف نفرت تو پہلے سے موجود تھی۔ سبطی کی فریاد پر وہاں پہنچے اور جب انھیں معلوم ہوا کہ زیادتی قبطی ہی کر رہا ہے تو تو رگ حمیت جوش میں آگئی اور اسے ایک گھونسا رسید کیا۔ آپ ماشاء اللہ بڑے طاقتور جوان تھے۔ گھونسے کا لگنا تھا کہ قبطی کا کام تمام ہوگیا۔
25 حضرت موسیٰ سے اس طرح ایک قبطی کا قتل ہوجانا دراصل ایک بڑے فتنہ کا سبب بن سکتا تھا۔ اب یہ اتفاق کی بات ہے کہ آس پاس کوئی گواہ موجود نہ تھا۔ اور یہ بات صیغہ راز میں ہی رہ گئی کہ اس قبطی کا قاتل کون ہے اور اگر پتا چل بھی جاتا تو بنی اسرائیل پر ان کی زندگی اور بھی اجیرن بنادی جاتی۔ موسیٰ کو جب قتل کے اس انجام کا خیال آیا تو فوراً پکار اٹھے کہ یہ کام مجھ سے شیطان نے کروایا ہے۔ وہ تو چاہتا ہی یہ ہے کہ ایسے فتنے کھڑے ہوتے رہے ہیں۔
Ayah 28:1626 معلوم ایسا ہوتا ہے کہ مقتول کوئی بڈھا اور کمزور سا انسان ہوگا اور پہلے ہی مرنے کے قریب ہوگا۔ اوپر سے موسیٰ جیسے طاقتور انسان کے ایک ہی مکا سے اس کی موت واقع ہوگئی۔ ورنہ عام حالات میں کسی طاقتور کے مکہ سے بھی کم از کم موت واقع نہیں ہوئی۔ اور سبطی سے تو وہ اس شہ پر لڑ رہا تھا کہ وہ حکمران قوم کا فرد تھا۔ اب موسیٰ کے ہاتھوں جو اس کی موت واقع ہوگئی تو یہ بہرحال قتل کا جرم تو تھا اگر نادانستہ طور پر ایسا ہوا تھا اس قتل خطا کے جرم کی موسیٰ نے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ جرم معاف فرما دیا۔
اس آیت میں غَفَرَ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اور غَفَرَ کا معنی معاف کرنا بھی ہے اور ڈھانپنا، چھپانا اور پردہ پوشی کرنا بھی اور مَغْفَرٌ اس خول کو کہتے ہیں جو سپاہی دوران جنگ سر پر رکھ لیتے ہیں۔ اور ان معنوں میں بھی اس لفظ کا استعمال عام ہے۔ اس لحاظ سے حضرت موسیٰ کی دعا کا مطلب یہ ہوگا کہ یاللہ ! میرے اس جرم یا میری خطا پر پردہ ڈال دے تاکہ کسی کو اس کی خبر نہ ہو۔ ایسا نہ ہو کہ یہ یہی بات فرقہ وارانہ اشتعال کا باعث بن کر بنی اسرائیل پر کسی عظیم فتنہ کا پیش خیمہ بن جائے۔ اور بہتر یہی ہے کہ موسیٰ کی اس دعا کو دونوں معنوں پر محمول کیا جائے۔۔ چناچہ واقعتاً اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کی اس خطا پر پردہ ڈال دیا اور سوائے اس اسرائیلی کے جس کی آپ نے مدد کی تھی کسی کو بھی اس واقعہ کی خبر نہ ہوسکی۔
Ayah 28:1727 موسیٰ پر اللہ تعالیٰ کا انعام یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی خطا پر پردہ ڈال دیا۔ کہ حکومتی اہلکاروں میں سے کسی کو بھی یہ پتا نہ چل سکا۔ کہ اس مقتول قبطی کا قاتل کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ کے اس انعام کے شکریہ کے طور پر موسیٰ نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا کہ آئندہ وہ کسی مجرم کی حمایت یا مدد نہیں کریں گے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ موسیٰ نے پہلے کون سے مجرم کی حمایت کی تھی جو اب اللہ سے ایسا عہد کررہے ہیں۔ اس کا جواب بعض لوگوں نے یہ دیا ہے کہ موسیٰ کی اس سے مراد وہ سبطی تھا جو آپ سے یہ جرم کروانے کا باعث بنا تھا۔ ممکن ہے اس کا بھی کچھ قصور ہو۔ لیکن آپ نے بلاتحقیق اس سبطی کی حمایت میں قبطی کو گھونسا رسید کرکے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ لیکن ہمارے خیال میں اس کی وہی توجیہہ درست ہے جسے اکثر مفسرین نے نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ موسیٰ نے یہ عہد کیا تھا کہ آئندہ وہ اس مجرم اور کافرانہ حکومت کی امداد و اعانت سے مکمل طور پر دستبردار ہوجائیں گے۔ اور یہی وہ عہد تھا جسے انہوں نے بعد میں ساری عمر نباہا تھا۔ یعنی اس واقعہ کے بعد انہوں نے شاہی خاندان کا فرد رہنے سے بیزاری کا اعلان کردیا تھا۔
Ayah 28:1828 موسیٰ دوسرے دن ڈرتے ڈرتے پھر شہر میں داخل ہوئے۔ آپ دراصل اس ٹوہ میں تھے کہ کسی کو کل کے واقعہ کی خبر تو نہیں ہوگئی۔ اسی خطرہ کے تحت آپ پوری طرح چوکنے ہو کر شہر کی طرف آئے تھے کہ اگر کسی کو خبر ہوگئی تو میں گرفتار ہی نہ کرلیا جاؤں۔ شہر میں داخل ہو کر آپ نے یہ منظر دیکھا کہ جس سبطی کی حمایت میں آپ نے پہلے دن ایک قبطی کا خون کر ڈالا تھا۔ وہی سبطی آج پھر ایک قبطی سے الجھ رہا ہے۔ اس نے آج پھر موسیٰ کو اپنی مدد کے لئے پکارا۔ موسیٰ کو کل کے واقعہ پر بہت رنج تھا۔ فوراً سبطی سے مخاطب ہو کر کہنے لگے کہ تم تو کوئی بدمعاش آدمی معلوم ہوتے ہو۔ جو ہر روز کسی نہ کسی سے الجھتے رہتے ہو۔
Ayah 28:1929 سبطی کو اس طرح ملامت کرنے کے بعد موسیٰ نے ارادہ کیا کہ قبطی کو پکڑ کر اس سبطی کو اس سے نجات دلائیں۔ مگر سبطی یہ سمجھا کہ موسیٰ نے چونکہ آج مجھے ہی ملامت کی ہے۔ لہذا مجھی پر ہاتھ ڈالنا چاہتے ہیں۔ لہذا وہ فوراً بک اٹھا اور کہنے لگا کہ موسیٰ کیا تم مجھے اسی طرح موت کے گھاٹ اتارنا چاہتے ہو جس طرح کل تم نے ایک آدمی کو مار ڈالا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان جھگڑے کی صورت میں کسی نہ کسی کو مار ڈالنا ہی جانتے ہو۔ ان کا مقدمہ سن کر ان میں صلح یا سمجھوتہ کرانا نہیں جانتے۔
قبطی نے جب سبطی کے منہ سے یہ بات سنی تو اس نے لڑائی جھگڑا تو وہیں چھوڑا اور ایک دم بھاگ کر فرعون اور اس کے اہلکاروں کو یہ اطلاع دے دی کہ کل جو قبطی قتل ہوا ہے اس کا قاتل موسیٰ ہے۔ گویا جس راز پر اللہ نے پردہ ڈال رکھا ہے۔ اسے اسی احمق سبطی نے فاش کر ڈالا جس کی حمایت میں آپ نے قبطی کو مارا تھا۔ جب فرعون کے اہلکاروں کو قتل کے مجرم کا پتا چل گیا تو موسیٰ کی گرفتار کا حکم صادر ہوگیا۔
Ayah 28:2030 فرعون کے درباریوں کو اب اس امر میں کچھ شبہ نہ رہا تھا کہ موسیٰ شاہی خاندان کا فرد ہونے کے باوجود بنی اسرائیل کا ساتھ دیتے ہیں۔ لہذا انہوں نے باہمی مشورے کے بعد یہی طے کیا کہ موسیٰ کو قتل کردیا جائے۔ درباریوں میں سے ہی ایک آدمی حضرت موسیٰ کا دل سے خیر خواہ تھا۔ وہ فوراً وہاں سے اٹھا اور دوڑتا ہوا موسیٰ کے پاس پہنچا اور کہا : جتنی جلدی ہو سکے اس شہر سے نکل جاؤ کیونکہ تمہارے قتل کے مشورے ہو رہے ہیں اور میں صرف اس خیال سے بھاگ کر یہاں پہنچا ہوں کہ تمہیں بروقت صحیح صورت حال سے مطلع کردوں۔ لہذا دیر نہ کرو اور فوراً یہاں سے کہیں دور چلے جاؤ۔
Ayahs 28:21–2231 مدین یہاں سے آٹھ دن کی مسافت پر تھا اور فرعون کی حدود سلطنت سے باہر تھا۔ آپ نے اس مخلص ساتھی سے یہ اطلاع پاتے ہی مدین کا رخ کیا اور بچتے بچاتے خوب چوکنے ہو کر وہاں سے نکل کھڑے ہوئے اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا اللہ ! مجھے ان ظالموں کی دستبردار سے بچا لے اور ایسی راہ پر ڈال دے جو سیدھا مدین کو جاتا ہو اور میں ان ظالموں سے بچ کر وہاں پہنچ سکوں۔
Ayah 28:2332 آٹھ دن کی مسافت طے کرنے کے بعد آپ مدین کے کنوئیں پر پہنچ گئے۔ وہاں دیکھا کہ جانوروں کو پانی پلانے کے لئے کافی لوگ وہاں جمع ہیں۔ ایک بھاری سے ڈول سے دو مضبوط طاقتور آدمی۔۔ پانی نکالتے ہیں اور اپنے جانوروں کو پانی پلانے کے بعد وہ چلے جاتے تو دوسرے آدمی آکر کنوئیں سے پانی نکالنے لگتے ہیں اور ایک بھیڑ سی لگی ہوئی ہے اور ایک دو لڑکیاں کھڑی ہیں جو اپنی بکریوں کو روک رہی ہیں۔ حضرت موسیٰ ان کے پاس گئے اور پوچھا تم اس حال میں کیوں کھڑی ہو ؟ انہوں نے کہا : ہم اس انتظار میں ہیں کہ یہ چرواہے اپنے جانوروں کو پانی پلا کر چلے جائیں تو بعد میں ہم پلا لیں گے۔ ہم ہی ان بکریوں کو چرانے کے لئے لے جاتی ہیں۔ کیونکہ ہمارا باپ بہت بوڑھا اور کمزور ہے۔ وہاں آنے کے قابل نہیں۔ نہ وہ پانی نکال سکتا ہے نہ ہم اتنا بھاری ڈول نکال سکتی ہیں۔ چرواہے چلے جائیں تو ان کا بچا کھچا پانی ہم پلا لیں گی۔ یا بعد میں ڈول میں تھوڑا تھوڑا پانی نکال کر انھیں پلا لیں گی۔
Ayah 28:2433 موسیٰ ان لڑکیوں کی بات سن کر آگے بڑھے۔ طاقتور نوجوان تھے۔ اکیلے ہی پانی کا بھاری بھر کم ڈول نکالا اور ان کی بکریوں کو پانی پلا دیا۔ لڑکیاں اپنے جانور لے کر چلی گئیں تو آپ ایک درخت کے سایہ تلے جاکر بیٹھ گئے۔ آٹھ دن کے تھکے ماندے اور بھوک سے بےتاب ہو رہے تھے۔ اللہ سے کھانا مانگا تو ایسا ادب و احترام کا اندازہ اختیار کیا۔ جس سے پیغمبرانہ شان خوب نمایاں ہوجاتی ہے۔ فرمایا اس وقت تیری طرف سے جو بھی مجھے بھلائی پہنچے میں اس کا محتاج ہوں۔
Ayah 28:2534 یہ عورتیں دل ہی دل میں ان کی احسان مند تھیں کہ ایک اجنبی شخص نے ان سے کیسی بھلائی کی ہے۔ واپس جاتے ہوئے مڑ کر جو دیکھا تو موسیٰ ایک درخت کے سایہ میں آبیٹھے تھے۔ اس سے انہوں نے یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ یہ کوئی مسافر ہے۔ جس کے رہنے کے لئے یہاں کوئی ٹھکانا نہیں ہے۔ موسیٰ کو ابھی سایہ میں بیٹھے اور اللہ سے دعا کئے تھوڑی ہی دیر گزری تھی، کہ ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک لڑکی لجائی شرمائی منہ چھپائے اور گھونگٹ لٹکائے آپ کے پاس آکر کہنے لگی کہ میرا والد آپ کو بلا رہا ہے۔ آپ نے ہماری بکریوں کو پانی پلا کر ہم پر جو احسان فرمایا ہے وہ آپ کو اس کا کچھ بدلہ دینا چاہتا ہے۔ گویا اللہ نے حضرت موسیٰ کی دعا کو بہت بلند شرف قبولیت بخشا اور جس خیر کو طلب کر رہے تھے اللہ نے غیر متوقع طور پر اس خبر کا فوراً سامان کردیا۔
موسیٰ فوراً اس لڑکی کے ساتھ ہو لئے۔ اسی بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ بھوک سے کس قدر بےتاب تھے۔ پھر وہ اس جگہ ٹھکانا بھی چاہتے تھے اور اپنا کوئی مونس غم خوار بھی انھیں درکار تھا۔ ورنہ ایک شریف آدمی نے اگر عورت ذات کو پریشانی میں مبتلا دیکھ کر اس کی کوئی مدد کردی ہو تو حضرت موسیٰ جیسے عالی ظرف انسان کے لئے یہ کیسے ممکن تھا کہ اس کام کا بدلہ دینے کے لئے کہا جائے تو وہ فوراً اٹھ کھڑے ہوں۔ آپ نے بھی اس لڑکی سے کہا کہ میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں مگر میں آگے آگے چلوں گا تم میرے پیچھے پیچھے آؤ۔ البتہ مجھے راستہ کی رہنمائی کرتے جانا اور یہ آپ نے اس لئے کہا کہ اجنبی عورت پر عمداً نظر پڑنے کی نوبت نہ آئے۔ چناچہ وہ پیچھے پیچھے راستہ بتلاتی انھیں لے کر اپنے گھر پہنچ گئی۔
35 گھر پہنچ کر موسیٰ نے لڑکیوں کے باپ کو اپنی زندگی کے مختصراً اور واقعہ قتل اور وہاں سے فرار ہونے کا واقعہ پوری تفصیل کے ساتھ سنا دیا۔ اگرچہ لڑکیوں کے باپ کے متعلق یہ اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا وہ شعیب تھے یا کوئی اور بزرگ تھے۔ لیکن اکثر مفسرین نے اسی قول کو ترجیح دی ہے کہ وہ شعیب تھے۔ بہرحال جو بزرگ بھی وہ تھے، نیک اور دیندار تھے وہ دین ابراہیمی کے پیرو تھے۔ ان میں اور موسیٰ کے عقائد و خیالات اور کردار میں پوری ہم آہنگی پائی جاتی تھی۔ چناچہ موسیٰ کے حالات سن کر انہوں نے تسلی دی کہ اب گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ آپ اس ظالم قوم کی حکومت کی حدود سے باہر آچکے ہیں اور اب آپ میرے ہاں قیام فرمائیے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے وقتی طور پر موسیٰ کے قیام و طعام کا مسئلہ حل فرما دیا۔
Ayah 28:2636 حضرت شعیب کا کوئی لڑکا نہ تھا۔ بس دو لڑکیاں ہی لڑکیاں تھیں جنہیں اندر اور باہر دونوں طرف کے کام کرنا پڑتے تھے۔ لہذا شعیب پہلے اس جستجو میں تھے کہ کوئی شریف آدمی مل جائے تو اسے ملازم رکھ لیا جائے۔ حضرت موسیٰ کے چند روزہ قیام میں ہی گھر کے سب افراد نے حضرت موسیٰ کے متعلق یہ رائے قائم کرکے اس پر اتفاق کرلیا کہ اگر یہی پردیسی نوجوان ہمارے ہاں رہنا قبول کرلی تو یہ بہت مناسب رہے گا۔ چناچہ ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک لڑکی نے اپنے باپ سے کہا کہ اگر آپ کوئی آدمی ملازم رکھنا ہی چاہتے ہیں تو شاید اس سے بہتر آپ کو کوئی آدمی نہ مل سکے۔ کیونکہ یہ شخص نوجوان ہے اور طاقتور ہے۔ ہلکے اور بھاری سب کام کرسکتا ہے۔ دوسرے یہ امین بھی ہے۔ اور یہ باتیں اس لڑکی نے اپنے مشاہدہ کی بنا پر کہی تھیں۔ حضرت موسیٰ نے اکیلے وہ ڈول کنوئیں سے کھینچ لیا تھا۔ جسے دو آدمی بمشکل کھینچتے تھے۔ پھر وہ لڑکی جب انھیں گھر لانے کے لئے گئی تھی۔ تو اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ کس قدر باحیا، دیانت دار، خدا ترس اور امین آدمی ہے۔
ضمناً اس آیت یہ بھی معلوم ہوا کہ ملازمت کے لئے دو باتوں کو دیکھنا ضروری ہے ایک یہ کہ جس کام کے لئے کوئی شخص ملازم رکھا جارہا ہے۔ وہ اس کی اہلیت بھی رکھتا ہے یا نہیں۔ بالفاظ دیگر اس کام کا اسے پہلے سے کچھ علم اور تجربہ ہے ؟ اور اگر کوئی محنت والا کام ہے تو کیا اس کی جسمانی حالت اور قوت اتنی ہے کہ وہ اس کام کو بجا لاسکے۔ اور دوسرے یہ کہ وہ دیانتدار اور امین ہو۔ اور یہ دیانت و امانت دین سے بیزار اور خدا فراموش آدمیوں میں کبھی پیدا نہیں ہوسکتی۔
اب تعجب کی بات یہ ہے کہ جب کسی شخص نے کوئی نجی یا گھریلو ملازم رکھنا ہو تو وہ ان دونوں باتوں کو ملحوظ رکھتا ہے تو سرکاری ملازمتوں کے وقت صرف شرط اول یعنی اہلیت کو تو ملحوظ رکھا جاتا ہے لیکن دوسری شرط کو یکسر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ اور غالباً اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ملازم رکھنے والے افسروں میں بھی یہ دوسری شرط مفقود ہوتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ رشوت عام ہوجاتی ہے۔ جس کا تعلق ملازمین سے ہی ہوتا ہے۔ لوگوں کے حقوق غصب اور تلف ہوتے ہیں۔ ظالمانہ قسم کی حکومت قائم ہوجاتی ہے اور عوام کے لئے اتنی شکایات اور مسائل اٹھ کھڑے ہوتے ہیں جن کا حل ناممکن ہوجاتا ہے۔ اور اس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہوتی ہے کہ شرائط ملازمت میں سے دوری شرط دیانت و امانت کو درخور اعتناء سمجھا ہی نہیں جاتا۔
Ayah 28:2737 باپ نے بھی لڑکیوں کی اس رائے سے اتفاق کرلیا۔ مگر اب مشکل یہ تھی کہ گھر میں اتنی آسودگی تو تھی نہیں کہ موسیٰ کو کچھ ماہوار تنخواہ پر ملازم رکھا جاسکتا۔ اور اس سے بھی بڑی مشکل یہ تھی کہ گھر میں ایک نوجوان کو کیسے ملازم رکھا جاسکتا ہے جبکہ گھر میں دو نوجوان لڑکیاں بھی موجود ہوں۔ لڑکیوں سے باہمی مشورہ کے بعد ایک دن موسیٰ سے پوچھا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ میں ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک کا نکاح آپ سے کردوں اور آپ نکاح کے بعد میرے ہی پاس رہ کر گھر کا سارا کام کاج سنبھال لیں۔ اور نکاح کے بعد کم از کم آٹھ سال تو ضرور میرے پاس رہیں۔ اور اگر یہ مدت آٹھ سال سے بڑھا کر دس سال کردیں تو آپ کی مہربانی ہوگی۔ میری طرف سے اس زائد مدت کے لئے پابندی نہ ہوگی۔ اور میں انشاء اللہ اس معاملہ کو نہایت خوش اسلوبی سے سرانجام دینے کی کوشش کروں گا اور کوئی سخت خدمت تم سے نہ لوں گا۔ اور نہ کسی طرح کی سختی تم مجھ میں دیکھو گے۔
اس مقام پر بعض لوگوں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا ایک باپ اپنی لڑکی کے حق مہر کے عوض خود معاوضہ لے سکتا ہے یا نہیں ؟ ہمارے خیال میں یہ سوال غلط مبحث ہے۔ یہاں معاملہ ایک نہیں بلکہ دو ہیں۔ ایک نکاح کا معاملہ۔ دوسرے نکاح کے بعد گھر کا کام سنبھالنے کا معاملہ۔ یعنی شعیب نے شرط صرف یہ لگائی تھی کہ نکاح کے بعد تم اپنی بیوی کو لے کر چلے نہیں بنو گے۔ بلکہ تم کم از کم آٹھ سال میرے ہاں ہی قیام پذیر رہو گے۔ اس وقت یہ گھر جیسے میرا ہے ویسے ہی تمہارا بھی ہوگا۔ یہ سوال صرف اس صورت میں اٹھایا جاسکتا تھا جب آٹھ یا دس سال کی مدت گزرنے کے بعد شعیب اپنی لڑکی کا نکاح موسیٰ سے کرتے۔ آپ کی مجبوری ہی یہ تھی کہ لڑکیوں والے گھر میں ایک اجنبی آدمی کیسے رہ سکتا ہے۔ لہذا جلد از جلد اس کا نکاح کرکے اسے گھر میں رکھا جاسکے۔ رہا نکاح کے مہر کے مسولہ تو وہ تھوڑے سے تھوڑا بھی ہوسکتا ہے۔ حتیٰ کہ لوہے کی ایک انگوھی بھی اور اتنا حق مہر ایک پردیسی بھی ادا کرسکتا ہے۔
Ayah 28:2838 یہ تھی وہ بھلائی جو موسیٰ کی دعا پر اللہ تعالیٰ نے فوراً انھیں مہیا فرما دی۔ آپ مفرور مجرم کی حیثیت سے آئے تھے اور ایک طویل عرصہ کے لئے کسی جگہ قیام چاہتے تھے۔ وہ اللہ نے مہیا فرما دیا۔ آپ جوان تھے آپ کو نکاح کی ضرورت تھی۔ اللہ تعالیٰ نے وہ مسئلہ بھی حل فرما دیا۔ پھر آپ کو ذریعہ معاش کی بھی ضرورت تھی۔ یہ مسئلہ بھی از خود حل ہوگیا۔ گویا چند ہی دن میں اللہ تعالیٰ موسیٰ کے جملہ مسائل اس طرح حل فرما دیئے جس کا آپ کو وہم و گمان بھی نہ ہوسکتا تھا۔ چناچہ جب شعیب نے آپ کے سامنے یہ مسئلہ پیش کیا تو بمصداق اندھے کو کیا چاہئے دو آنکھیں موسیٰ نے شعیب کی اس پیش کش کو فوراً قبول کرلیا۔ اور ساتھ ہی یہ وضاحت بھی فرما دی کہ میں یہاں آپ کے پاس آٹھ سال رہوں یا دس سال یہ بات میری مرضی پر ہوگی۔ آپ مجھے اس زائد مدت کے لئے مجبور نہیں کریں گے۔ اور ہمارے اس زبانی قول و اقرار پر اللہ کی گواہی ہی کافی ہے۔
Ayah 28:2939 اس معاہدہ کے بعد حضرت شعیب نے اپنی بیٹی کا حضرت موسیٰ سے نکاح کردیا۔ اور آپ وہاں متاہل زندگی گزارنے لگے۔ کہتے ہیں کہ جس لڑکی سے آپ کا نکاح ہوا اس کا نام صفورہ تھا۔ آپ نکاح کے بعد یہاں آٹھ کے بجائے دس سال ہی قیام پذیر رہے۔ پھر اپنے آبائی وطن مصر کی طرف جانے کے ارادہ سے اپنے اہل و عیال سمیت مدین سے نکل کھڑے ہوئے۔ ایک تو آپ کو اپنے والدین اور بہن بھائی سے ملنے کا اشتیاق تھا۔ دوسرے آپ یہ بھی سوچ رہے تھے کہ ممکن ہے لوگ اب تک واقعہ قتل کو بھول چکے ہوں، اس لئے اپنے ہی وطن جانا مناسب سمجھا۔
راستہ میں جب آپ طور سینا کے دامن میں پہنچے تو اندھیری رات کی وجہ سے راستہ بھول گئے۔ سردی کا موسم اور شدید ٹھنڈی رات اور بال بچے ساتھ تھے۔ سخت پریشان ہوگئے۔ ایسے حال میں کوئی راہ بتلانے والا بھی نہیں مل رہا تھا۔ آخر دور سے انھیں ایک آگ نظر آئی جسے آپ نے غنیمت سمجھا اور خیال کیا کہ وہاں کوئی آگ جلانے والا تو ضرور ہوگا۔ لہذا اپنے اہل و عیال سے کہا تم یہیں ٹھہرو۔ میں اس آگ کے قریب جاتا ہوں۔ اگر کسی نے راستہ بتلا دیا تو فبھا ورنہ کچھ آگ کے انگارے ہی لے آؤں گا۔ تاکہ آپ لوگ اسے سینک سکیں۔ (یہ پورا واقعہ تفصیل کے ساتھ سورة طٰہ میں گزر چکا ہے)
Ayah 28:3040 یہ آگ نہیں تھی، نہ اس میں سے دھواں اٹھ رہا تھا۔ بلکہ یہ اللہ کا نور تھا۔ جس نے ایک درخت کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا اور اس آگ یا نور کے درمیان یہ سرسبز درخت لہلہا رہا تھا۔ اس درخت میں سے آواز آنے لگی کہ موسیٰ ! تم یہاں اتفاقاً نہیں پہنچ گئے بلکہ ٹھیک میرے اندازہ کے مطابق اس مبارک وادی میں پہنچے ہو اور میں اللہ تم سے ہمکلام ہو رہا ہوں۔ جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے (اس مقام پر اللہ تعالیٰ اور حضرت موسیٰ کی گفتگو کی تفصیل چھوڑ دی گئی ہے جو سورة طٰہ اور دوسری مقامات پر مذکور ہے)
Ayahs 28:31–3241 اسی مقام پر حضرت موسیٰ کو دو معجزے عطا کئے گئے۔ ان معجزات کی تفصیل بھی پہلے متعدد مقامات پر گزر چکی ہے۔ یہ دونوں معجزات آپ کی نبوت کی سند کے طور پر تھے اور ان سے مقصود یہ تھا کہ سب سے پہلے تو خود موسیٰ کو یہ یقین کامل ہوجائے کہ جو ذات اس وقت ان سے ہمکلام ہو رہی ہے وہ فی الواقع اللہ ہی ہے جو ساری کائنات کا پروردگار اور مالک ہے۔ بالفاظ دیگر ایسے نمایاں معجزات اللہ رب العالمین کے علاوہ نہ کوئی عطا کرسکتا ہے اور نہ دکھلا سکتا ہے۔ اور دوسرا مقصد یہ تھا کہ موسیٰ کو تن تنہا ایک ظالم اور جابر حکمران کے دربار میں تبلیغ رسالت اور دعوت توحید کے لئے بھیجا جارہا تھا۔ ان کے ساتھ کوئی لاؤ لشکر تو تھا نہیں۔ لہذا ایسی نشانیاں تو موجود ہونا چاہئیں جن سے کم از کم یہ معلوم ہوجائے کہ موسیٰ اکیلے نہیں ہیں بلکہ ان کی پشت پر کوئی مقتدر ہستی موجود ہے۔ تو یا یہ چیز حضرت موسیٰ کے لئے تو باعث تسکین و اطمینان تھی۔ جبکہ یہی چیز دعوت سے انکار کرنے والوں کے لئے ایک ڈراوا اور دھمکی بھی تھی۔
42 جس مشن پر حضرت موسیٰ کو بھیجا جارہا تھا اس میں کئی مقام ایسے آسکتے تھے جبکہ آپ خود اپنی جان تک کا خطرہ محسوس کرنے لگیں تو ایسے خطرہ کے اوقات کے لئے آپ کو تدبیر یہ بتلائی گئی کہ اپنا بازو اپنے پہلو سے لگالو۔ اور صرف بازو کا لفظ بولا جائے تو اس سے عموماً دایاں بازو ہی مراد لیا جاتا ہے۔ یعنی اپنا دایاں بازو اپنی دائیں ران اور گھٹنے کے ساتھ چمٹالو۔ ایسا کرنے سے اس خطرہ کا خیال دل سے جاتا رہے گا اور تمہارے دل کو قرار آجائے گا۔
43 نبوت اور اس کے ساتھ دو معجزات تھے جو آپ کو اس مقام پر عطا ہوئے۔ اور ساتھ ہی یہ حکم ہوا کہ اب تمہیں فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس جانا ہے۔ یعنی ان لوگوں کے پاس جن سے بچتے بچاتے آپ اس ملک سے بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔ آپ جارہے تھے تو اس خیال سے کہ اب تک لوگ وہ واقعہ قتل بھول بھلا چکے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے براہ راست ان لوگوں کے ہاں جانے کا حکم دیا کہ دوسروں کو خواہ وہ واقعہ بھول چکا ہوں مگر یہ تو خصوصاً وہ لوگ تھے کہ موسیٰ کو دیکھتے ہی ہی انھیں سب سب کچھ یاد آجائے۔ بہت بڑی ابتلا تھی یہ مہم جس کا آپ کو حکم دیا جارہا تھا اور جس طرح کے وہ لوگ نافرمان تھے یا بدکردار تھے۔ وہ موسیٰ پہلے ہی خوب جانتے تھے۔
Ayahs 28:33–3444 موسیٰ اس زبردست آزمائش سے انکار نہ کرسکے البتہ جو خطرات اس مہم میں انھیں نظر آرہے تھے وہ ضرور عرض کردیئے ایک یہ کہ کہیں وہ سابقہ جرم میں دھر کر قتل ہی نہ کر ڈالیں اور دوسرا یہ کہ جو لوگ خود خدا بنے بیٹھے ہیں وہ میری یہ دعوت کیسے قبول کریں گے ؟ لہذا مجھے کم از کم ایک ساتھی ضرور درکار ہے۔ اگر میرے ہارون کو بھی نبوت عطا کردیں تو ایک تو اس کی زبان فصیح ہے۔ جو بات میں پیش کروں اسے وضاحت سے پیش کر دے گا۔ دوسرے وہ ایک آدمی تو میرا مددگار ہو۔ جب سب لوگ مجھے جھٹلا دیں تو ایک تو میری تصدیق کرنے والا ہو۔ جس سے مجھے کچھ سہارا مل جائے اور وہ بھی حوصلہ افزائی کا باعث بن سکے۔
Ayah 28:3545 اس مطالبہ کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے تین امور بیان فرمائے۔ سب سے پہلے یہ کہ وہ لوگ تم پر ہرگز درست درازی نہ کرسکیں گے۔ اور تمہارا بال بھی بیکا نہیں ہوگا۔ تمہیں قتل کرنے کی بجائے انھیں اپنے معاملات حکومت کی فکر پڑجائے گی۔ دوسرے تمہارے ہارون کو نبی بناکر تمہارے ہمراہ بھیجنے کا مطالبہ منظور کیا جاتا ہے۔ وہ تمہارے ہمراہ فرعون کے دربار میں جائے گا اور تیسرے یہ کہ تم اس بات کا یقین رکھو کہ بالآخر فتح تمہاری ہی ہوگی۔
Ayah 28:3646 موسیٰ یہ عظیم ذمہ اٹھائے طویٰ کے میدان سے واپس لوٹے۔ درمیان میں ایک خلا ہے جس کو قرآن نے غیر اہم سمجھ کر بتلانا چھوڑ دیا ہے۔ جو یہ کہ وہاں سے موسیٰ اپنے بال بچوں کو لے کر سیدھے اپنے گھر ہی پہنچے ہوں گے۔ وہاں والدین اور بہن بھائی سے ملاقات۔ اپنے بھائی ہارون سے تمام حالات کا تفصیلی تذکرہ وغیرہ چھوڑ دیئے گئے ہیں۔ انہی ایام میں ہارون کو نبوت عطا ہوگی۔ قرآن آگے یہاں سے ان کا قصہ ذکر کرتا ہے کہ وہ دونوں بھائی فرعون کے دربار میں پہنچ گئے۔ ان کی رسائی دربار میں کس انداز سے ہوئی ؟ یہ بات معلوم نہیں۔ بہرحال دربار میں پہنچ کر موسیٰ نے اللہ تعالیٰ کا پیغام تفصیل سے فرعون اور اس کے درباریوں تک پہنچ دیا۔ اور اس کی تفصیل دوسرے مقامات پر مذکور ہے۔ یہاں صرف اسی قدر ذکر کیا گیا ہے کہ جب فرعون اور اس کے درباریوں کے مطالبہ پر موسیٰ نے اپنی نبوت کی صداقت کے طور پر یہ دونوں معجزات دکھلائے تو اگرچہ فرعون کو آپ کی نبوت کا دل میں یقین ہوچکا تھا اور اسی وجہ سے اسے قتل کے جرم میں آپ کو قتل کردینے کی کسی وقت بھی ہمت نہ پڑی۔ تاہم عام لوگوں پر نبوت کے اثر کو دور رکھنے کے لئے انہوں نے فوراً یہ کہہ دیا کہ یہ بھلا کون سی نبوت کی علامت ہے۔ ایسی شعبدہ بازیاں تو دوسرے جادوگر بھی دکھلا سکتے ہیں۔ ان کو بھلا کبھی کسی نے نبی تسلیم کیا ہے ؟
47 ان باتوں کی تفصیل پہلے متعدد مقامات پر گزر چکی ہیں اور وہ باتیں یہ تھیں کہ مقتدر اعلیٰ اور مختار مطلق ہستی تم نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہے۔ جو ساری کائنات کا خالق ومالک ہے۔ اسی نے مجھے رسول بنایا اور یہ معجزات بطور علامت دے کر تمہارے پاس بھیجا ہے اور یہ پیغام دیا ہے کہ تم سرکشی چھوڑ دو اپنی خدائی کے دعویٰ سے باز آجاؤ۔ اسی اللہ کو قانونی اور سیاسی اقتدار اعلیٰ تسلیم کرلو۔ اسی کی عبادت کرو۔ فرعون نے کہا کہ یہ تھا کہ میرے اوپر بھی کسی مختار مطلق ہستی ہونے کی بات ایسی بات ہے۔ جو ہم نے اپنے آباء سے کبھی نہیں سنی۔ جس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ یہ فراعنہ مصر کئی پشتوں سے خود مختار و مطلق فرمانروا بنے بیٹھے تھے۔ اور قانونی اور سیاسی اختیارات میں اپنے اوپر کسی بالاتر ہستی کے قائل نہ تھے۔ اسی بات کو ان کے خدائی کے دعویٰ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
Ayah 28:3748 یعنی تم نے مجھے ایک جادوگر سمجھا ہے حالانکہ میرا پروردگار میرے حال سے خوب واقف ہے کہ ہر شخص کے کاموں کے انجام کا فیصلہ بھی اسی کے ہاتھ میں ہے بہرحال ایک بات تو یقینی ہے اور وہ یہ ہے کہ ظالم اور بےانصاف لوگ کبھی فلاح نہیں پاسکتے۔ اگر میں نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرکے اللہ تعالیٰ پر جھوٹا الزام لگا دیا ہے تو میرا انجام کبھی بخیر نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح اگر میں اللہ کی طرف سچا رسول ہوں اور تم مجھے جادوگر کہہ کر دوسرے حیلے بہانوں سے مجھے جھٹلاؤ گے تو تمہارا بھی کبھی انجام بخیر نہ ہوگا۔