Ayah 28:3849 فرعون کی خدائی کا دعویٰ اس حد تک تھا کہ اس نے ملک کے تمام وسائل معاش پر قبضہ کر رکھا تھا۔ دوسرے وہ اپنے قانونی اور سیاسی اختیارات میں کسی بالاتر ہستی کا قائل نہ تھا۔ ورنہ وہ دوسرے مشرکوں کی طرف کائنات کا خالق اللہ ہی کو سمجھتا تھا اور اللہ کے علاوہ دوسرے معبودوں کا بھی قائل تھا۔ چناچہ خود اس کے درباریوں نے فرعون سے کہا تھا کہ تو موسیٰ کو کھلی چھٹی دے دے گا کہ وہ اور اس کے پیرو کار تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دیں گے (7: 127) فراعنہ مصر دراصل اپنے آپ کو سورج دیوتا کا اوتار سمجھتے تھے۔ اس لئے وہ اپنی رعایا سے اپنے مجسموں کی پوجا بھی کرواتے تھے۔ علاوہ ازیں ان لوگوں میں گائے بیل کی پرستش کا عام رواج تھا۔
50 یہ بات دراصل اس نے اپنی رعایا کو الو بنانے اور ان سے دعوت حق کے اثر کو زائل کرنے کے لئے کہی تھی۔ اور یہ بالکل ایسی ہی بات تھی جیسے چند برس پیشتر روس نے جو ایک کمیونسٹ اور دہریت پسند ملک ہے، نے کہی تھی۔ اس نے اپنا ایک سپوتنگ طیارہ چھوڑا جو چند لاکھ میل بلندی تک پہنچا تو واپسی پر ان لوگوں نے یہ دعویٰ کردیا کہ ہم اتنے لاکھ میل کی بلندی تک ہو آئے ہیں۔ مگر ہمیں مسلمانوں کا خدا کہیں نہیں ملا۔ یعنی ان احمقوں کا یہ خیال تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ کی ہستی موجود ہے تو یہی چند لاکھ میلوں کی بلندی پر ہی ہوسکتی ہے۔ اور اسی دلیل کو بھی انہوں نے لوگوں کو الو بنانے کے لئے ہی سائنٹفک دلیل کے طور پر پیش کیا۔ کیونکہ یہی لوگ جب کائنات کی وسعت کا حال بتلاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ سورج ہماری زمین سے 9 کروڑ 30 لاکھ میل دور ہے اور زمین اس کے گرد گردش کر رہی ہے ـ۔ اس سورج کا تیسرا سیارہ ہے اور سورج کے گرد نواں سیارہ پلوٹو گردش کرتا ہے جو سورج سے 3 ارب 68 کروڑ میل کے فاصلہ پر ہے۔ نیز یہ کہ اس کائنات میں ہمارے نظام شمسی میں سورج ایک ستارہ یا ثابت ہے اور کائنات میں ایسے ہزاروں ستارے ثابت مشاہدہ کئے جاچکے ہیں۔ اور یہ ستارے یا سورج جسامت کے لحاظ سے ہمارے سورج سے بہت بڑے ہیں۔ ہمارے سورج سے بہت دور تقریباً 400 کھرب کلومیٹر کے فاصلہ پر ایک سورج موجود ہے جو ہمیں محض روشنی کا ایک چھوٹا سا نقطہ معلوم ہوتا ہے۔ اس کا نام الفاقنطورس (Alfa Centoaris) ہے۔ ایسے ہی دوسرے سورج اس سے دو ہیں۔ اسی طرح ایک ستارے کا نام قلب عقرب ہے (Antares) ہے۔ اگر اسے اٹھا کر ہمارے نظام شمسی میں رکھا جائے تو سورج سے مریخ تک کا تمام علاقہ اس میں پوری طرح سما جائے گا۔ جبکہ مریخ کا سورج سے فاصلہ 14 کروڑ 15 لاکھ میل دور ہے۔ گویا قلب عقرب کا قطر 28 کروڑ 30 لاکھ میل کے لگ بھگ ہے۔ پھر جب کائنات میں ہر سو بکھرے سیاروں کے فاصلے کھربوں میل کے عدد سے بھی تجاوز کر گئے تو سببت دانوں نے نوری سال کی اصطلاح ایجاد کی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ روشنی ایک لاکھ 86 ہزارمیل فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہے۔ اس لحاظ سے ہماری زمین سے سورج کا فاصلہ جو حقیقتاً 9 کروڑ 30 میل ہے۔ روشنی کا یہ سفر 8 منٹ کا سفر ہے۔ گویا سورج ہم سے 8 نوری منٹ کے فاصلہ پر ہے۔ اب کائنات میں ایسے سیارے بھی موجود ہیں جو ایک دوسرے سے ہزارہا بلکہ لاکھوں نوری سالوں کے فاصلہ پر ہیں۔
یہ تو ہے کائنات کی وسعت کا وہ مطالعہ جو انسان کرچکا ہے اور جو ابھی انسان کے علم میں نہیں آسکا وہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ اب کیا وہ ہستی جو ان ساری چیزوں کی خالق اور سب سے اوپر ہے کیا یہ احمق اسے چند لاکھ میلوں کی بلندی پر پالیں گے ؟ نیز وہ سمجھ رہے ہیں جیسے وہ کوئی مادی جسم ہے۔ جو ان کی گرفت میں آسکتا ہے۔ (قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ اَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ 30) 9 ۔ التوبہ :30)
اس سے بڑی حماقت ان روسی داناؤں نے یہ کی اس سائنٹفک تحقیق کو اپنے سکولوں میں پڑھانا شروع کردیا۔ تو ایک لڑکی کے منہ سے بےساختہ یہ جملہ نکل گیا کہ جہاں تک یہ سپوتنک میزائل پہنچا تھا۔ اللہ تعالیٰ اس سے بہت اوپر تھا۔
فرعون نے بھی ہامان سے ایسی ہی بات کہی تھی جس سے لوگوں کو اللہ کی ہستی سے شک میں مبتلا کردے۔ ورنہ عملاً نہ ہامان نے کوئی ایسا اونچا محل یا مینارہ بنایا تھا اور نہ ہی فرعون کا یہ مقصد تھا۔
Ayah 28:3951 انھیں اللہ نے زمین کے تھوڑے سے حصہ میں چند دن کے لئے اقتدار بخشا تو وہ یہ سمجھنے لگے کہ ان سے اوپر کوئی ہستی ہے نہیں جو ان سے یہ اقتدار چھین بھی سکتی ہے۔ نہ ہی انھیں کبھی یہ خیال آیا تھا کہ مرنے کے بعد ہمیں اللہ کے حضور پیش ہونا ہے اور ہمارے ایک ایک کام سے متعلق ہم سے باز پرس ہونے والی ہے۔
Ayah 28:4052 اس مقام پر درمیان سے بہت سے واقعات چھوڑ دیئے گئے ہیں۔ جو دیگر متعدد مقامات پر مذکور ہیں۔ یہاں صرف ان کے انجام کی خبر دی گئی ہے کہ ان ظالموں اور زمین میں بڑا بننے والوں کا انجام کیا ہوا۔ کس بےبسی کی حالت میں مرے۔ اور کیسی کیسی دل میں حسرتیں لے کر مرے۔ اور مرتے وقت کسی سے کوئی بات تک نہ کرسکے۔
Ayah 28:4153 یعنی تمام منکرین ِحق اور باطل پرستوں کے لئے وہ مثال قائم کرگیا کہ حق کو کن کن حیلوں بہانوں سے ٹھکرایا جاسکتا ہے۔ انکار حق پر ڈٹ جانے اور آخر دم تک ڈٹے رہنے کے لئے کیا کیا ہتھکنڈے استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ حق پرستوں پر کیسے کیسے مظالم ڈھائے جاسکتے ہیں اور حق کو کیونکر دبایا جاسکتا ہے۔ یہ سب طریقے اپنے بعد میں آنے والوں کو دکھلا کر وہ جہنم کو سدھار چکا اور آج کے مشرکین مکہ انھیں کے طور طریقے اختیار کرکے اسی منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
پھر جس طرح فرعون نے اس دنیا میں حق کے دشمنوں کو جہنم کی راہ دکھلائی اسی طرح قیامت کے دن بھی وہ اہل دوزخ کی پیشوائی کرے گا۔ اور انھیں جہنم میں جا پہنچائے گا اور خود ان کی قیادت کر رہا ہوگا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورة ہود کی آیت نمبر 98 میں اس بات کی صراحت فرما دی ہے۔
54 یعنی اس دنیا میں تو فرعون اور اس کے درباریوں کو اپنے لاؤ لشکر پر بڑا ناز تھا۔ اور انہی فوجوں اور لاؤ لشکر نے ان کا دماغ خراب کر رکھا تھا۔ حالانکہ ان کا لاؤ لشکر ان کی غرقابی کے وقت کسی کام نہ آسکا بلکہ ان کے ساتھ ہی غرق ہوگیا۔ تو قیامت کو بھی یہ لاؤ لشکر ان کے کسی کام نہ آسکے گا۔ نہ ہی کسی دوسرے ذریعہ سے یہ جہنم کے عذاب سے بچ سکیں گے۔
Ayah 28:4255 یعنی فرعون اور آل فرعون پر بعد میں آنے والی دنیا لعنت ہی بھیجتی رہے گی اور انھیں برے لفظوں میں یاد کیا جاتا رہا گا۔ اور قیامت کے دن تو ان کی بڑی درگت بنائی جائے گی اور ان کے چہرے بگاڑ دیئے جائیں گے۔
Ayah 28:4356 پہلی نسلوں سے مراد اقوام سابقہ ہیں۔ مثلاً قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط، قوم شعیب اور قوم فرعون وغیرہ۔ یہ سب لوگ اللہ کے نافرمان اور سرکش لوگ تھے ان سب اقوام نے دنیا کی تکذیب کا نتیجہ بھگت لیا اور فرعون اور ان کے ساتھیوں کا جو انجام ہوا وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ اس کے بعد ہم نے موسیٰ کو تورات عطا کی جس میں انہی تباہ شدہ اقوام سے متعلق بصیرت افروز دلائل بھی تھے اور آئندہ کے لئے بھی انسانیت کی ہدایت کے واضح ہدایات دی گئیں۔ اور یہ لوگوں پر اللہ کی خاص مہربانی تھی اور ان سب باتوں کا مقصد یہ تھا کہ انسانیت آئندہ صحیح راہ پر گامزن ہوجائے اور اس کا نیا دور شروع ہو۔ اس صحیح حدیث میں آیا ہے کہ اللہ نے تورات نازل کرنے کے بعد پھر کسی قوم کو آسمان کے عذاب سے تباہ نہیں کیا البتہ ایک بستی کے لوگ (اصحاب السبت) بندر بنائے گئے تھے۔
Ayah 28:4457 یعنی آپ کا وہاں موجود نہ ہونا پھر ان حالات کو یوں بیان کرنا جسے کوئی عینی شاہد بیان کرتا ہے۔ اس بات کی قوی دلیل ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ ورنہ آپ کے پاس وحی الٰہی کے سوا ان واقعات کو جاننے کا اور کوئی ذریعہ نہیں۔
58 ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس کا وہی مطلب ہے جو اوپر بیان ہوا۔ اور اگر اس جملہ کو الگ واقعہ سمجھا جائے تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ آپ ان ستر (70) آدمیوں سے بھی نہیں تھے جنہوں نے موسیٰ سے دیدار الٰہی کا مطالبہ کیا تھا۔ اور وہ واقعہ بھی آپ نے لوگوں کو ایسے بتلا دیا جیسے آپ ان میں موجود تھے۔
Ayah 28:4559 موسیٰ کے عہد سے لے کر دور نبوی تک تقریباً دو ہزار سال کی مدت ہے اور اس عرصہ میں تقریباً چالیس نسلیں یکے بعد دیگرے پیدا ہوتی رہیں۔ مگر اس دوران ملک حجاز میں کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا تھا۔ دو ہزار سال کے بعد سب سے آخری نبی محمد ﷺ البتہ ان لوگوں (اہل حجاز) کی طرف مبعوث ہوئے۔
60 یعنی مدین کا باشندہ نہ ہونے کے باوجود آپ ان لوگوں کو حضرت شعیب اور حضرت موسیٰ کے حالات یوں بتلا رہے ہیں گویا اس وقت آپ وہاں مقیم تھے اور ان لوگوں کو ہماری آیات پڑھ کر سنایا کرتے تھے۔ اور ان واقعات کے صرف عینی شاہد ہی نہ تھے۔ بلکہ عملی طور پر بھی ان واقعات میں آپ کا عمل دخل تھا۔ اور یہ بات چونکہ ناممکن ہے تو اس سے صاف واضح ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے یہ حالات بذریعہ وحی بتلائے ہوں۔ اور یہی چیز آپ کی نبوت کی دلیل ہے۔
Ayah 28:4661 گویا ان تین واقعات کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لئے آپ کی نبوت کی صداقت کے طور پر پیش فرمایا۔ ایک وہ وقت جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو معجزات عطا کرکے انھیں فرعون اور اس کی قوم کے پاس بھیجا اور امر رسالت تفویض کیا تھا۔ دوسرے مدین کے حالات کے تفصیل اور تیسرے وہ وقت جب موسیٰ رستہ بھول کر آگ لینے کی غرض سے آئے تھے۔ تو ہم نے خود انھیں پکار کر رسالت بھی عطا کی تھی اور ہم کلامی کا شرف بھی بخشا تھا۔ اور یہ واقعات آپ کی نبوت پر دلیل اس طرح ہیں کہ حضرت محمد ﷺ خود لکھنا پڑھنا نہ جانتے تھے۔ کہ آپ نے کسی کتاب سے پڑھ کر یہ حالات معلوم کر لئے ہوں اور لوگوں کو سنا دیا ہو۔ دوسرے یہ کہ آپ کا کوئی استاد ہی نہ تھا جس کے آگے آپ نے زنوے تلمذ تہ کیا ہو اور اس نے آپ کو ان واقعات سے مطلع کردیا ہو۔ اب تیسری صورت یہی باقی رہ جاتی ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہوں اور اللہ نے بذریعہ وحی آپ کو ان حالات سے مطلع کردیا ہو۔ پھر ان سابقہ کتب میں یا موجودہ میں انہی واقعات سے متعلق بیشمار جزوی اختلاف موجود تھے۔ اللہ نے جو حالات آپ کو وحی کے ذریعہ بتلائے یہ حالات اصل حقائق کے ٹھیک مطابق ہیں۔
62 یعنی اہل حجاز کے لئے اس دو ہزار سال میں کوئی نبی مبعوث نہ ہوا تھا ان لوگوں کا ان واقعات سے متعلق ذریعہ معلومات بسی وہی خبریں تھیں جو ادھر ادھر سے وہ سن لیتے تھے اور ان خبروں میں بھی کافی اختلافات تھے۔ اب ہم نے ان لوگوں میں آپ کو نبی بنا کر بھیجا ہے۔ تاکہ انھیں صحیح حالات کا علم ہوجائے۔ اور وہ امم سابقہ کے انجام سے متنبہ ہو کر سبق حاصل کریں۔ اور اللہ سے شرک اور سرکشی کی راہ چھوڑ کر راہ راست پر آجائیں تاکہ ان کا انجام بھی ویسا ہی نہ ہو جیسا کہ مذکور امتوں کا ہوا تھا۔
Ayah 28:4763 ان لوگوں میں آپ کو رسول بنا کر بھیجنے کی دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ اگر آپ کی بعثت سے پہلے ان پر ان کے اپنے شامت اعمال کی وجہ سے کوئی عذاب یا مصیبت آن پڑتی تو یہ کہہ سکتے تھے کہ ہم تو عرصہ دو ہزار سال سے صحیح حالات سے واقف ہی نہ تھے۔ یہ ممکن تھا کہ سزا دہی کے وقت یہ لوگ کہنے لگتے کہ ہمارے پاس کوئی پیغمبر تو بھیجا نہیں جو ہمیں ہماری غلطیوں پر کم از کم تنبیہ کردیتا اس طرح یکدم پکڑ کر عذاب میں۔۔ گھسیٹا۔ اور اگر اللہ ہماری طرف کوئی رسول بھیجتا جو ہمیں ہدایت کی راہ دکھلاتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ ہم اس رسول کی پیروی نہ کرتے اور دوسری موجود قوموں سے زیادہ ہدایت یافتہ نہ بن جاتے۔ آپ گویا ان لوگوں کی طرف آپ کی بعثت کے دو مقصد تھے ایک اتمام حجت اور دوسرے ان لوگوں کے عذر یا اعتراض کو رفع کرنا یہی مضمون قرآن میں دیگر متعدد مقامات پر بھی مذکور ہے۔
Ayah 28:4864 اور اب جو کفار مکہ کے پاس ہمارا رسول آیا ہے اور اپنے ساتھ ہدایت کی کتاب بھی لایا ہے۔ تو انہوں نے اب یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ موسیٰ کی طرح اسے عصا کیوں نہیں دیا گیا۔ جو سانپ بن جاتا ہو یا سورج کی طرح چمکنے والا ہاتھ اسے کیوں نہیں دیا گیا۔ یا یہ کتاب تختیوں کی صورت میں کیوں نازل نہیں ہوئی ؟ مشرکین مکہ کے اس اعتراض کا جو جواب اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جب حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کے سامنے یہ معجزات پیش کئے تھے۔ تو کیا وہ ایمان لے آئے تھے ؟ تمہارے خیال کے مطابق تو انھیں ضرور ایمان لانا چاہئے تھا۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر تم ان معجزات کو درست اور نبوت کی دلیل سمجھتے ہو تو کیا تم تورات پر ایمان لے آئے ہو ؟ اور تم تورات پر اور حضرت موسیٰ پر ایمان نہیں لائے تو اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ فی الحقیقت تمہیں ان معجزات کا بھی انکار ہے۔ اور یہ دعویٰ تمہارا زبانی جمع خرچ ہے۔
65 اس جملہ کے کئی مطلب ہیں ایک یہ کہ موسیٰ کی قوم کہنے لگی کہ موسیٰ اور ہارون دونوں جادوگر ہیں اور ایک دوسرے کے مددگار ہیں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ کفار مکہ جب دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں اور یہودیوں کے عقائد میں کئی امور میں مماثلت پائی جاتی ہے مثلاً یہ دونوں فرقے بتوں کی عبادت سے بیزار اور اسے شرک اور کفر سمجھتے ہیں۔ آخرت پر دونوں ہی ایمان رکھتے ہیں۔ غیر اللہ کے نام پر ذبیحہ کو دونوں ہی حرام سمجھتے ہیں۔ مسلمان اگر حضرت موسیٰ کی تصدیق کرتے ہیں ہیں تو کئی منصف مزاج یہود اس نبی کو برحق سمجھتے ہیں تو یہ کافر کہنے لگتے ہیں کہ موسیٰ اور محمد ﷺ دونوں ہی جادوگر ہیں اور ایک دوسرے کی تائید و تصدیق کرتے ہیں۔ اور تیسرا مطلب یہ ہے کہ کفار مکہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ تورات اور قرآن دونوں کھلا ہوا جادو ہیں۔ کیونکہ یہ دونوں کتابیں ایک دوسری کی تائید و تصدیق کرتی ہیں۔
66 لہذا ہم نہ تورات پر ایمان لاتے ہیں، نہ انجیل پر اور نہ قرآن پر۔ یہ سب کتابیں ایک ہی تھیلی کے بٹے چٹے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی کتاب ہمارے مطلب کی ترجمانی نہیں کرتی۔ لہذا ان میں سے کوئی کتاب ہی قابل قبول نہیں۔
Ayah 28:4967 آپ ان کفار مکہ کو یہ جواب دیجئے کہ میں تو اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہدایت کی کتاب کی پیروی کرنے کو تیار ہوں۔ اگر تمہارے پاس تورات اور قرآن سے بہتر کوئی ہدایت کی کتاب موجود ہے تو اسے چھپا کیوں رکھا ہے ؟ وہ لاؤ سب سے پہلے میں اس کی پیروی کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ جواب اس لئے بتلایا کہ وہ تورات اور قرآن دونوں کو جادو کہتے ہیں اور جادو ایسی چیز ہے جس کا مقابلہ بھی کیا جاسکتا ہے اور اس سے بہتر قسم کا جادو لایا جاسکتا ہے۔ لہذا اگر یہ کتابیں جادو ہیں تو تم اس سے بہتر چیز کیوں پیش نہیں کرتے۔
Ayah 28:5068 ان کی باتوں اور ان کے اعتراضات سے صاف معلوم ہو رہا ہے کہ یہ لوگ قطعاً ہدایت کے طالب نہیں ہیں بلکہ یہ صرف ایسی کتاب کی پیروی کرسکتے ہیں جو ان کے مشرکانہ مذہب اور ان کی خواہشات کے مطابق ہو۔ گویا یہ لوگ اپنی ہی خواہشات کے پیرو اور پرستار ہیں۔ لہذا ایسے لوگوں کو ہدایت کیسے نصیب ہوسکتی ہے۔
Ayah 28:5169 اس آیت کے بھی دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ جتنے بھی نبی ان کے آس پاس مبعوث رہے ہیں۔ اب سب کی تعلیمات ان تک بھی پہنچتی رہی ہیں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جب سے قرآن کا نزول شروع ہوا ہے۔ لگاتار انھیں ہدایت کی آیات پہنچ رہی ہیں۔ جس کا مقصد یہی تھا کہ وہ کچھ نصیحت قبول کرلیتے۔ اور اگر یہ فی الواقعہ ہدایت کے طالب ہوتے تو کب کے ہدایت قبول کرچکے ہوتے۔
Ayah 28:5270 سابقہ آیات میں مشرکوں کا حال یہ بتلایا گیا کہ موسیٰ کے معجزات کی بات کرنے کے باوجود نہ تورات پر ایمان لاتے ہیں اور نہ قرآن پر اور اس کی وجہ محض ان کا تعصب اور خواہش نفس کی پیروی ہے۔ اب ان لوگوں کا ذکر کیا جارہا ہے جن کی عادات و خضائل ان کے بالکل برعکس ہیں۔ یعنی وہ خواہش نفس کی کسی وقت بھی پیروی نہیں کرتے۔ بلکہ ہر وقت اللہ کے فرمانبردار بن کر رہتے ہیں۔ تورات نازل ہوئی تو وہ اس پر ایمان لائے۔ اور جب قرآن نازل ہوا تو اس پر ایمان لائے۔
Ayah 28:5371 اس لئے کہ تورات اور قرآن کی بنیادی تعلیمات آپس میں ملتی جلتی ہیں۔ اور جن لوگوں کے دلوں میں تعصب نہ ہو نہ ہی ان کے ذاتی مفادات قبول حق کی راہ میں ان کے آڑے آئیں وہ فوراً سمجھ جاتے ہیں کہ یہ قرآن بھی اللہ کی طرف ہی نازل شدہ کتاب ہے۔ پھر اس پر ایمان لے آتے ہیں۔ اور حقیقت تو یہ کہ وہ پہلے ہی مسلمان تھے۔ اور اب بھی مسلمان ہی رہے۔ کیونکہ اسلام تو دل و جان سے اللہ کی فرمانبرداری کا نام ہے اور وہ ان میں پہلے ہی موجود تھی قرآن میں اس حقیقت کی متعدد مقامات پر صراحت کردی گئی ہے کہ اللہ کے نزدیک قابل قبول دین اسلام یعنی دل و جان سے اللہ کی فرمانبرداری ہی ہے۔ رہا مسئلہ کسی دین کو اس کے پیغمبر کے نام سے منسوب کرنے کا۔ جیسے یہودیت، نصرانیت اور محمدیت وغیرہ تو یہ زمانہ مابعد کی ایجادات ہیں۔ جو لوگوں نے خود ہی رکھ لئے۔ اللہ نے نہیں رکھے تھے۔ ہر نبی پر ایمان لانے والوں کا نام اللہ نے مسلمان ہی رکھا ہے۔
Ayah 28:5472 ثابت قدمی سے مراد ایک تو وہ استقلال ہے جو قبول حق کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ ان کے دلوں میں اللہ کی فرمانبرداری کا جو مستقل جذبہ موجود تھا۔ اسی نے اسے اس نبی پر ایمان لانے کی ترغیب دی اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ مذہب تبدیل کرنے میں اور پھر کسی دین کو ابتداًء قبول کرتے وقت ان مسلمانوں کو طرح طرح کی مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے مصائب کو بھی انہوں نے صبر و استقلال کے ساتھ برداشت کیا۔ ایسے لوگوں کے لئے دوہرا اجر ہے ایک پہلے نبی کی کتاب پر لانے کا اور ایک دوسرے نبی اور اس کی کتاب پر لانے کا۔ چناچہ حضرت ابو موسیٰ اشعری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے تین طرح کے آدمیوں کا ذکر کیا ہے جن کو دوہرا اجر ملے گا ان میں سے ایک وہ یہودی یا نصرانی ہے۔ جو پہلے اپنے پیغمبروں پر ایمان رکھتا تھا پھر رسول اللہ پر ایمان لاکر مسلمان ہوگیا۔ (بخاری۔ کتاب الجہاد والسیر۔ باب فضل اسلم من اہل الکتابین)
73 یہاں یَدْرَءُ وْنَ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اور وَرَءَ کے معنی دفع کرنا، دور کرنا یا پرے ہٹانا ہے۔ اس لحاظ سے اس آیت کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ اگر کوئی شخص ان سے برا سلوک کرے یا نقصان پہنچائے تو اس کا جواب برائی یا نقصان سے نہیں شدیتے۔ بلکہ اس سے بھی اچھا سلوک کرتے ہیں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر ان سے کوئی برائی ہوجائے تو بعد میں نیک اعمال کرکے اس برائی کے اثر کو دور کردیتے ہیں۔
74 جب رزق کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس سے مراد ہمیشہ طیب اور پاکیزہ رزق ہوتا ہے کیونکہ حرام کی کمائی سے تو صدقہ بھی قبول نہیں ہوتا۔ اور خرچ کرنے سے مراد اللہ کی راہ میں بھی خرچ کرنا ہے اور جائز کاموں میں بھی یعنی اپنی ذات پر اپنے اہل و عیال کی ضروریات زندگی وغیرہ پر اور اس معاملہ سے بخل سے کام نہیں لیتے۔
Ayah 28:5575 ایسے مسلمانوں کی تیسری صفت یہ ہوتی ہے کہ وہ لغو کاموں یا بےہودہ باتوں میں نہ صرف یہ کہ ان میں شامل نہیں ہوتے بلکہ ایسے کاموں سے کنارہ کش رہتے ہیں۔ اور اگر ایسے لوگوں سے سابقہ پڑجائے تو ان سے تعرض نہیں کرتے بلکہ سلام کہہ کر گزر جاتے ہیں جس سے ان کی مراد ایسے کاموں سے بیزاری کا اظہار ہوتا ہے۔
سیرت کی کئی کتابوں میں یہ واقعہ مذکور ہے کہ ہجرت حبشہ کے بعد جب حبشہ کے لوگ اسلام اور اس کی دعوت سے متعارف ہوئے تو وہاں سے بیس آدمی، جو عیسائی تھے اس غرض کے لئے مکہ آئے کہ یہ تحقیق کریں کہ پیغمبر اسلام کیسے شخص آئے ہیں۔ جب وہ لوگ آپ سے ملے اور گفتگو شروع ہوئی تو آپ نے انھیں قرآن پڑھ کر سنایا جس سے وہ اس قدر متاثر ہوئے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور بڑے پرزور طریقہ پر آپ کی تصدیق و تائید کی۔ جب مشرف بہ اسلام ہو کر حبشہ واپس جانے لگے تو ابو جہل اور اس کے ساتھیوں نے ان پر آوازے کسے کہ ایسے احمقوں کا قافلہ آج تک کسی نے نہ دیکھا ہوگا۔ جو ایک شخص کی تحقیق کرنے کے لئے آئے تھے۔ اور اب اس کے غلام بن کر اور اپنا دین چھوڑ کر جارہے ہیں۔ انہوں نے جواب میں کہا : ہماری طرف سے تم پر سلام ہے ہم تمہاری جہالت کا جواب جہالت سے نہیں دینا چاہتے۔ ہم میں اور تم میں جو جس حال پر ہے وہی کچھ اس کا حصہ ہے۔ ہم نے اپنے آپ کا بھلا چاہتے ہیں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ اسی کے متعلق یہ آیات نازل ہوئیں۔ (البدایہ والنہایہ ج 3 ص 82)
ضمناً اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص سے یہ توقع نہ ہو کہ ہدایت کی بات قبول کرلے گا بلکہ یہ خطرہ ہو کہ یہ الٹا چڑ جائے گا ایسے شخص کو سمجھانے کے بجائے اس سے کنارہ کرنا ہی بہتر ہے۔
Ayah 28:5676 ہدایت کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک سورة یہ ہے کہ کسی کافر کے قلب و دماغ میں ایسی تبدیلی آجائے کہ وہ ہدایت یا اسلام قبول کرنے کے لئے تیار ہوجائے یہ کام خالصتہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ جیسا کہ اس آیت میں اس کی صراحت موجود ہے۔ نیز درج ذیل حدیث بھی اسی معنی کی تائید کرتی ہے۔
سعید بن مسیب کے والد مسیب بن حزن کہتے ہیں کہ جب ابو طالب کی وفات کا وقت آیا تو آپ ان کے ہاں تشریف لے گئے۔ وہاں دیکھا کہ ابو جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ پہلے ہی وہاں بیٹھے ہیں۔ آپ نے ابو طالب سے فرمایا : چچا جان ! اگر آپ لا الٰہ الا اللہ کہہ لیں تو میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں دلیل پیش کرسکوں گا اور ابو جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ کہنے لگے : ابو طالب ! کیا تم عبدالمطلب کا دین چھوڑ دو گے ؟ آخر ابو طالب نے آخری بات جو کہ وہ یہ تھی کہ میں عبدالمطلب کے دین پر مرتا ہوں اور لا الٰہ الا اللہ کہنا قبول نہ کیا۔ آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں اس وقت تک تمہارے لئے دعا کرتا رہوں گا جب تک اس سے منع نہ کیا جاؤں تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری : ( مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗٓ اَسْرٰي حَتّٰي يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ ۭتُرِيْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْيَا ڰ وَاللّٰهُ يُرِيْدُ الْاٰخِرَةَ ۭوَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ 67) 8 ۔ الانفال :67) اور ابو طالب کے بارے میں یہ آیت إنَّکَ لاَ تَھْدِیْ ۔۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر)
2۔ اور ترمذی کی روایت کے مطابق ابو طالب نے آپ کو یہ جواب دیا اگر قریش مجھے یہ عار نہ دلائیں کہ موت کی گھبراہٹ نے اسے یہ کلمہ کہلوا دیا ہے تو بھیتجے ! میں یہ کلمہ کہہ کر تیری آنکھیں ٹھنڈی کردیتا۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر)
اب رہا ابو طالب کا اخروی انجام، جس نے مکی دور میں اپنے آخری دم تک آپ کی حمایت اور سرپرستی کی اور ہر مشکل سے مشکل وقت میں آپ کا ساتھ دیا، تو اس کے متعلق درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے :
1۔ حضرت عباس بن عبدالمطلب کہتے ہیں کہ میں نے کہا : یارسول اللہ ! کیا آپ کی ذات سے ابو طالب کو کچھ فائدہ پہنچے گا۔ وہ آپ کی حفاظت کیا کرتے تھے اور آپ کی خاطر سب کی ناراضگی مول لے لی تھی ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوتے (مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب شفاعۃ النبی لابی طالب۔۔ )
2۔ ابو سعیدخدری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ کے پاس آپ کے چچا ابو طالب کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا : قیامت کے دن شائد ان کو میری سفارش سے فائدہ پہنچے اور وہ ہلکی آگ میں رکھے جائیں جو ان کے ٹخنوں تک ہو اور ان کا بھیجا پکتا رہے (مسلم۔ حوالہ ایضاً )
3۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ کو جہنم کا سب سے ہلکا عذاب ابو طالب کو ہوگا وہ (آگ کی) دو جوتیاں پہنے ہونگے جس سے ان کا بھیجا کھول رہا ہوگا (مسلم۔ حوالہ ایضاً )
اور ہدایت کا دوسرا معنی یا دوسری صورت یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لاچکے ہیں۔ ان کی منزل مقصود تک رہنمائی کی جائے۔ ان معنوں میں آپ اور دیگر انبیاء بلکہ علمائے کرام بھی ہدایت کی راہ نہ بتلا سکتے ہیں اور پیغمبروں کی تو ذمہ داری ہی یہی ہوتی ہے جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا : (وَاِنَّكَ لَـــتَهْدِيْٓ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ 52ۙ ) 42 ۔ الشوری :52) یعنی آپ یقینا لوگوں کو سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔
77 یعنی اللہ صرف ان لوگوں کو ایمان لانے کی توفیق دیتا ہے جو خود بھی ہدایت کے طلبگار ہوں۔ ایسے لوگوں کو وہ خوب جانتا ہے اور ان کی ہدایت کے اسباب بھی انھیں مہیا فرما دیتا ہے۔
Ayah 28:5778 یعنی عرب کے مشرک قبائل ہمارے دشمن بن جائیں گے اور ان میں جو سیاسی اقتدار ہمیں حاصل ہے وہ بھی چھن جائے گا۔ اور اسی سیاسی اقتدار کی وجہ سے جو ہمارے تجارتی قافلے پرامن سفر کرسکتے ہیں۔ وہ بھی نہ کرسکیں گے۔ گویا اگر ہم آپ کی بات مان کر آپ پر ایمان لے لائیں تو ہماری سیاسی ساکھ بھی تباہ ہوجائے گی اور معاشی آسودگی بھی ختم ہوجائے گی اور یہ قبائل ہم پر ہمارا جینا بھی حرام کردیں گے۔
79 کفار کی یہ تراشیدہ بات بھی خوئے بدرا بہانہ بسیار والی بات تھی، اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ سیاسی اور معاشی فوائد تمہیں صرف اس بنا پر حاصل ہو رہے ہیں کہ ہم نے اس سرزمین کو حرم بنادیا ہے۔ یہاں عرب بھر کے تمام قبائل حج کرنے آتے ہیں۔ کعبہ پر تمہاری تولیت کی وجہ سے تمہارا بھی عزت و احترام کرتے ہیں۔ عرب بھر میں یہی ایک پرامن خطہ ہے۔ اور اسے اللہ نے ہی پرامن بنایا ہے ورنہ عرب کے لٹیرے اور ڈاکو تمہیں کیسے جینے دیتے تھے۔ پھر تمہارے تجارتی قافلے بھی اسی حرم کی تولیت کی وجہ سے محفوظ سفر کرلیتے ہیں اور تم لوگ تجارت سے آسودہ حال بنے ہوئے ہو وہ بھی اسی حرم کی بدولت ہے۔ تو کیا جس اللہ نے تمہارے مشرک ہونے کے باوجود حرم کی وجہ سے تمہیں فائدے بخشے ہوئے ہیں۔ کیا تمہارے ایمان لانے کے بعد وہ تمہارے یہ فائدے روک دے گا یا ان میں مزید اضافہ کردے گا ؟ نیز یہ بھی حرم ہی برکت ہے کہ اس بےآب وگیاہ علاقہ میں دنیا جہاں کے میوے اور پھل اور غلے اور دوسری ضرورت کی اشیاء پہنچ جاتے ہیں۔ اور اس کثرت سے پہنچتے ہیں کہ جہاں یہ اشیاء پیدا ہوتی ہیں وہاں بھی اس وافر مقدار میں دستیاب نہیں ہوتیں۔ گویا مکہ اس لحاظ سے عالم تجارتی مرکز کی بھی حیثیت رکھتا ہے اگر تمہیں کفر کی حالت میں بھی یہ فوائد حاصل ہو رہے ہیں تو اللہ کے فرمانبردار بن جانے کے بعد آخر تمہیں کیوں نہ ہوں گے۔
Ayah 28:5880 یہ کفار مکہ کے اعتراض کا دوسرا جواب ہے یعنی تمہیں خطرہ یہ ہے کہ اگر تم مسلمان ہوگئے تو تمہاری سیاسی برتری اور تمہاری معیشت تباہ ہوجائے گی اور جس معیشت پر اس وقت تم اترا رہے ہو تو جن لوگوں نے تم سے پہلے اپنی معیشت پر گھمنڈ کیا تھا ان کا انجام بھی تمہارے ساتھ ہے۔ ان لوگوں نے اسی گھمنڈ میں آکر تکبر اور سرکشی کی راہ اختیار کی تھی۔ تو اللہ تعالیٰ نے انھیں اس طرح تباہ و برباد کر ڈالا کہ ان کا نام و نشان بھی باقی نہ رہ گیا۔ ان کی بستیوں کے کھنڈرات تم دیکھتے رہتے ہو۔ پھر اگر تم نے بھی انہی لوگوں کی روش اختیار کی تو کیا وجہ ہے کہ تمہارا وہی انجام نہ ہو جو ان کا ہوا تھا۔
81 یعنی اپنی معیشت پر اترانے اور اپنا معیار زندگی بلند رکھنے والے لوگ مرکھپ گئے اور ان کی جائیدادیں جن پر وہ گھمنڈ کیا کرتے تھے سب وہیں دھری کی دھری رہ گئیں۔ ان کا کوئی وارث بھی باقی نہ رہا۔ بالآخر ہم ہی ان کے وارث ہوئے کہ جنہیں ہم چاہیں وہاں آباد کرکے وہ جائیدادیں ان کے حوالے کردیں۔
Ayah 28:5982 یہ بھی دراصل کفار مکہ کے اعتراض کا تیسرا جواب ہے ان کا اعتراض یہ تھا کہ اگر ہم ایمان لے آئے تو ہم تو سیاسی اور معاشی طور پر تباہ ہوجائیں گے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کسی قوم کی تباہی کے متعلق اپنا ضابطہ بیان فرما دیا ہے کہ وہ کیوں آتی ہے اور کب آتی ہے۔ اور وہ ضابطہ یہ ہے کہ پہلے ہم کسی مرکزی شہر یا صدر مقام میں اپنا رسول بھیجتے ہیں۔ مرکزی مقام کا انتخاب اس لئے کیا جاتا ہے کہ ایک تو ارد گرد کی آبادیوں کا اس سے رابطہ ہوتا ہے دوسرے مرکزی شہر کے لوگ نسبتاً پڑھے لکھے ہوتے ہیں۔ بات کو جلد سمجھ سکتے ہیں اور دیہاتیوں کی نسبت مہذب بھی ہوتے ہیں۔ پھر یہ رسول اس مرکزی بستی کے لوگوں کو اللہ کے پیغام پہنچاتا ہے اور اللہ کی آیات پڑھ پڑھ کر سناتا ہے۔ اب اگر لوگ اس رسول کی دعوت کو قبول نہ کریں اور نافرمانی، تکذیب اور سرکشی کی راہ اختیار کریں تو اس اتمام حجت کے بعد اس بستی کو ہلاک کیا جاتا ہے۔ لہذا اہل مکہ ! تمہارا یہ خیال ہے کہ اسلام لانے سے تم تباہ ہوجاؤ گے، بالکل غلط ہے۔ بلکہ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ اس رسول کی بعثت کے بعد اگر تم نے سرکشی اختیار کرلی تو اس صورت میں تمہاری تباہی واقع ہوگی اور اس تباہی کے ذمہ دار تم خود ہوگے۔
Ayah 28:6083 یہ بھی دراصل ان کے اعتراض کا جواب ہے۔ یعنی سامان معیشت پر تم اس وقت اترا رہے ہو اور اس کے ضائع ہوجانے کے خوف کی بنا پر اسلام لانا گوارا نہیں کرتے اس کی زیادہ سے زیادہ مدت تمہاری موت ہے۔ جبکہ یہ تمہاری موت سے پہلے بھی تم سے چھینا جاسکتا ہے۔ موت کے تمہیں اپنی سرکشی کے نتیجہ میں تمہیں دائمی عذاب بھگتنا ہوگا۔ اس کے برعکس اگر تم ایمان لے آتے ہو۔ تو کوئی وجہ نہیں کہ تم سے یہ نعمتیں چھن جائیں البتہ کچھ مشکلات اور مصائب ضرور پیش آسکتے ہیں۔ لیکن ان کے عوض تمہیں اجر ملے گا۔ وہ دائمی اور لازوال ہوگا اب یہ دونوں پہلو سامنے رکھ کر اور خوب سوچ سمجھ کر اپنے متعلق خود ہی فیصلہ کرلو۔
Ayah 28:6184 اس آیت میں دو آدمیوں کا تقابل پیش کیا گیا ہے۔ ایک وہ جو آخرت کے بہتر انجام پر نظر رکھتا ہو اور اس بہتر انجام کے لئے ہی اپنی کوششیں صرف کر رہا ہو۔ دوسرا وہ شخص جس کا مطمع نظر صرف دنیوی مفادات اور ساز و سامان تک محدود ہو اور آخرت میں اس سے سختی سے باز پرس کی جانے والی ہو۔ اور سوال یہ اٹھایا گیا کہ خود ہی فیصلہ کرلو۔ ان دونوں میں سے کون بہتر ہے ؟ اس آیت اور اس جیسی بعض دوسری آیات سے بعض لوگوں نے یہ غلط نتیجہ نکالا کہ شریعت کی نگاہ میں دنیا اور دنیا کے مفادات کا حصول مذموم چیز ہے اور اس سے حتی الوسع اجتناب کرنا چاہئے اور اپنی نظر صرف اخروی مفادات پر رکھنی چاہئے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو دعا سکھلائی اور جسے رسول اللہ اکثر اوقات پڑھا کرتے تھے وہ یہ ہے : (رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِي الْاٰخِرَةِ حَسَـنَةً وَّقِنَا عَذَاب النَّارِ 201۔ ) 2 ۔ البقرة :201) اس آیت میں دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی کا اللہ سے مطالبہ کیا گیا ہے۔ بلکہ دنیا کی بھلائی کا مطالبہ آخرت سے پہلے ہے۔ ان سب آیات کو ملانے سے جو نتیجہ سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ شریعت کی نگاہ میں دنیا اور اس کا ساز و سامان صرف اس صورت میں مذموم ہوگا جب کہ اس سے اخروی مفادات کا نقصان ہو رہا ہو۔ مذموم چیز صرف یہ ہے کہ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کو ترجیح دی جائے۔ جب آخرت کا نقصان ہو رہا ہو تو اس وقت ایک مسلمان کا طرز عمل یہی ہوگا کہ دنیوی مفادات کو لات مار دے۔ پھر یہ بھی عین ممکن ہے کہ ایک شخص نے اخروی انجام سے آنکھیں بند رکھی ہوں تاکہ وہ دنیوی مفادات تو حسب خواہش حاصل کرلے مگر اسے زندگی بھر سوائے غربت اور مصائب و مشکلات کے کچھ حاصل نہ ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ انسان کا مطمع نظر تو صرف اخروی مفادات ہو لیکن اللہ تعالیٰ اسے اس دنیا میں بھی ہر طرح کی بےبہا نعمتوں اور ساز و سامان سے نواز دے۔ جیسا کہ بعض انبیاء بادشاہ وقت بھی تھے۔ اس لحاظ سے انسانوں کی چار قسمیں بن جاتی ہیں۔ ایک وہ جنہیں دنیا اور آخرت دونوں میں بھلائی نصیب ہو اور یہ سب سے بہتر ہیں۔ دوسرے وہ جنہیں آخرت کی بھلائی تو نصیب ہو لیکن دنیا میں مشکل سے گزر بسر کریں۔ ان کا شمار بھی بہتر لوگوں میں ہے۔ تیسرے وہ جن کی آخرت تو خراب ہو مگر دنیا میں عیش و آرام مسیر ہو۔ یہ حقیقت میں برے لوگ ہیں اور چوتھے وہ جن کی دنیا بھی خراب اور آخرت بھی خراب ہو۔ ایسے لوگ ہر لحاظ سے بدترین ہوئے۔ واضح رہے کہ اس آیت میں دوسری اور تیسری قسم کے لوگوں کا تقابل پیش کیا گیا ہے۔
Ayah 28:6285 یہ آیت بھی مشرکین مکہ ہی سے متعلق ہے جو دنیوی مفادات کی خاطر شرک اور بت سے چمٹے رہنا چاہتے تھے۔ انھیں ان کی کرتوت کے نتیجہ سے آگاہ کیا جارہا ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایسے مشرکوں سے پوچھے گا تم یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ یہ دنیوی مفادات تمہیں میرے شریکوں کی وجہ سے مل رہے ہیں۔ اب بتلاؤ آج وہ کہاں ہیں تاکہ آج بھی تمہیں کچھ فائدہ پہنچاسکیں۔ اگر آج وہ تمہیں کچھ فائدہ پہنچا سکے شتو سمجھ لینا کہ دنیا میں بھی وہی فائدہ پہنچا رہے تھے اور اگر کچھ فائدہ نہ دے سکیں تو حقیقت تم پر خود واضح ہوجائے گی۔
Ayah 28:6386 اس سے مراد وہ شیاطین جن و انس ہیں جن کی کسی نہ کسی رنگ میں دنیا میں عبادت کی جاتی رہی ہے۔ یہاں عبادت سے مراد محض پوجا پاٹ نہیں بلکہ بندگی اور غلامی ہے۔ یعنی وہ لوگ جو چاہتے تھے کہ اللہ کے احکام کے مقابلہ میں ان کے احکام کی اطاعت کی جائے۔ خواہ یہ دنیوی حکام ہوں یا پیرو مشائخ کی قسم کے لوگ ہوں۔
87 یعنی سوال تو اللہ مشرکوں سے کرے گا کہ تم نے جو میرے مقابل شریک بنا رکھے تھے وہ کہاں ہیں۔ لیکن وہ مشرک تو ابھی کچھ جواب نہ دینے پائیں گے کہ اس سے بیشتر یہ معبود حضرات خود ہی بول اٹھیں گے اور کہینگے کہ پروردگار ! واقعی ہم ان لوگوں کی گمراہی کا سبب ضرور بنے تھے۔ مگر ہم نے انھیں زبردستی اس بات پر مجبور نہیں کیا تھا۔ بلکہ یہ لوگ بھی ایسے ہی گمراہ ہوئے جیسے ہم خود ہوئے تھے۔ ہمیں بھی ہماری خواہشات نفس کی پیروی نے گمراہ کیا تھا۔ اور انھیں بھی اسی بات میں اپنے مفاد نظر ائے کہ وہ ہمارا ساتھ دیں۔ اگر یہ ہدایت کی راہ اختیار کرنے والے ہو تو ہماری ان پر کچھ زبردستی نہیں تھی۔ لہذا یہ لوگ ہرگز ہماری بندی نہیں کر رہے تھے بلکہ اپنے نفس کی خواہشات کی بندگی کر رہے تھے ہم بھی یہی کچھ کرتے رہے اور یہ بھی وہی کچھ کرتے رہے۔ اس میں ہمارا کیا قصور تھا ؟
Ayah 28:6488 ان معبود حضرات کی اس معذرت کے بعد اللہ تعالیٰ پھر مشرکوں سے کہیں گے کہ آج بھی اپنے معبودوں کو اپنی مدد کے لئے پکارو تو سہی۔ لیکن وہ معبود جو پہلے ہی ان سے بیزاری کا اعلان کرچکے تھے۔ وہ انھیں کچھ جواب نہ دے سکیں گے اور اس کی اصل وجہ یہ ہوگی کہ کیا عابد اور کیا معبود سب کو ہی اپنا انجام نظر آرہا ہوگا۔ اس وقت یہ سب حضرات نہایت حسرت کے ساتھ بول اٹھیں گے۔ کاش ! ہم نے دنیا میں ہدایت کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔
Ayah 28:6589 مشرکوں سے پہلا سوال تو توحید سے متعلق تھا۔ اب یہ سوال پیغام رسالت سے متعلق ہوگا۔ یعنی بات اتنی ہی نہیں تھی کہ عابد و معبود دونوں اپنی خواہشات کے پیچھے لگ کر گمراہ ہو رہے تھے۔ بلکہ رسولوں نے بروقت انھیں ہدایت اور ضلالت کا فرق واضح طور پر بتلا دیا تھا۔ تو پھر تم لوگوں نے ان رسولوں کی بات مان لی تھی ؟
Ayah 28:6690 انھیں اس بات کی سمجھ ہی نہ آسکے گی کہ اللہ تعالیٰ کے اس سوال کا کیا جواب دیں۔ نہ ہی ان سے یہ بن آئے گا کہ کسی دوسرے سے پوچھ کر ہی اس سوال کا جواب دے سکیں۔ اس دن کی دہشت اتنی زیادہ ہوگی کہ وہ ایک دوسرے سے کوئی بات پوچھ ہی نہ سکیں گے۔
Ayah 28:6791 یہ شاہان انداز کلام ہے۔ یعنی اس دن وہ شخص ضرور فلاح پالے گا جس نے خواہش نفس کی پیروی اور اللہ کی نافرمانی سے توبہ کرلی اور ایمان لے آیا۔ پھر اس کے بعد اعمال بھی صالح بجا لاتا رہا۔ گویا دوزخ کے لئے صرف توبہ اور ایمان لانے کا اقرار ہی کافی نہیں بلکہ اس ایمان کا عملی اظہار بھی ضروری ہے جو صرف نیک اعمال بجا لانے کی صورت میں ہی ہوسکتا ہے۔
Ayah 28:6892 یعنی چونکہ اللہ تعالیٰ ہی سب لوگوں کا خالق ہے اس لئے وہی یہ بات جان سکتا ہے کہ اس نے کس شخص کو کس طرح کی خصوصیات اور استعداد عطا کی ہے۔ پھر وہ اپنے اسی علم کی بنا پر اپنی مخلوق میں سے جسے چاہے اور جس کام کے لئے چن لیتا ہے اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ چونکہ اللہ نے یہ سب لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ لہذا اوامرو نواہی یا لوگوں کو کسی کام کا حکم دینے اور کسی کام سے باز رہنے کا حکم دینے کا اختیار بھی صرف اللہ ہی کو ہے نیز اگر اللہ کسی کو اپنا رسول بنادے تو دوسرے کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس پر اعتراض کرے اور اگر اللہ تعالیٰ کہے کہ رسول کی اطاعت تم پر فرض ہے۔ جو کچھ وہ کہے تمہیں کرنا ہوگا اور جس کام سے روکے اسے رک جانا ہوگا۔ اور اس کے مقابلہ میں کسی دوسرے کی بات قبول نہیں کی جاسکتی تو کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ رسول کے افعال و اقوال پر اعتراض کرے۔
93 یعنی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اختیارات کو دوسروں میں تقسیم کرنا شروع کردیں۔ کسی کو بارش کا دیوتا سمجھنے لگیں کسی کو داتا اور گنج بخش بنادیں۔ کسی کو بیماری و صحت کا مالک سمجھنے لگیں اور کسی کو فریاد رس اور دستگیر قرار دے لیں۔ غرضیکہ میرے اختیارات میں ان میں سے جو اختیار جسے چاہے سونپ دے۔ کوئی فرشتہ ہو یا جن ہو یا نبی ہو یا ولی ہو سب ہمارے ہی پیدا کئے ہوئے ہیں اور انھیں اگر کچھ کمالات حاصل ہیں تو وہ بھی ہمارے ہی عطا کردہ ہیں پھر اس برگزیدگی کے آخر یہ معنی کیسے بن گئے کہ کسی مخلوق کو بندگی کے مقام سے اٹھا کر اسے اللہ تعالیٰ کے اختیارات میں شریک بنادیا جائے۔ یہ انہوں نے کیسے سمجھ لیا کہ ان کو بھی اللہ کے اختیارات تقسیم کرنے کا کچھ حق ہے ؟
Ayah 28:6994 بات مشرکین مکہ کے ان حیلوں بہانوں کی ہو رہی تھی۔ جو وہ اسلام نہ لانے کے سلسلہ میں دلیل کے طور پر پیش کر رہے تھے۔ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مشرکین مکہ خود بھی خوب سمجھتے ہیں کہ ان کے ایسے حیلوں اور اعتراضات کی کیا حقیقت ہے۔ اور اللہ ان کے دلوں کے خیالات تک سے خوب واقف ہے وہ جانتا ہے کہ ان کے ایسے لغو اعتراضات میں وہ کون سے محرکات ہیں۔ جو انھیں ایسی باتیں بنانے پر اکساتے ہیں اور ان کے ایمان نہ لانے کے اصل اسباب کیا ہیں ؟ پھر اسی کے مطابق ان سے معاملہ بھی کرے گا۔
Ayah 28:7095 یعنی کائنات کی ایک ایک چیز اور مخلوق کے ایک ایک فرد کو پیدا کرنے والا تو اللہ تعالیٰ ہے۔ اور اس کام میں کسی دوسری ہستی کا کوئی عمل دخل نہیں۔ پھر ان دوسرے معبودوں کی خدائی اور ان کے خدائی اختیارات کہاں سے آگئے۔ کائنات کی ایک ایک چیز پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قابل تعریف صرف اللہ کی ذات ہے اور اگر کوئی اور ہستی سے کوئی قابل تعریف کام صادر ہو تو وہ بھی حقیقتاً اللہ ہی تعریف ہے کیونکہ قابل تعریف کام کرنے کی استعداد بھی اسی نے عطا کی ہے۔ پھر جس طرح اللہ تعالیٰ موجودہ زمین و آسمان اور کائنات پیدا کی ہے اسی طرح آخرت میں اس موجودہ زمین و آسمان کے بجائے اور ہی زمین و آسمان پیدا کرے گا۔ جو موجودہ کائنات سے زیادہ پائیدار ہوں گے۔ یہاں بھی اسی کا حکم چلتا ہے اور آخرت میں بھی اسی کا حکم چلے گا۔ کیونکہ اس عالم کا خالق بھی وہی ہوگا اور جس طرح وہ دوسرے زمین و آسمان پیدا فرمائے گا اسی طرح تمہیں دوبارہ پیدا کرکے اپنے پاس حاضر کرلے گا۔ اور اس دنیا میں کئے ہوئے تمہارے اعمال کا تم سے محاسبہ کرے گا۔
Ayahs 28:71–7296 رات اور دن کے نظام کو اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بہت بڑے بڑے قدرت کے کارناموں اور عجائبات میں شمار کیا ہے۔ ایک ظاہر بین انسان ان نشانیوں کو روزمرہ کے معمولات سمجھ کر ان کی طرف توجہ ہی نہیں دیتا۔ لیکن جن لوگوں نے اس نظام کا تحقیقی مطالعہ کیا ہے وہ اس نظام کی پیچیدگیوں کو خوب جانتے ہیں۔ یہ تو واضح سی بات کہ دن اور رات کا تعلق سورج سے ہے۔ اختلاف اگر ہے تو اس بات میں رہا ہے کہ آیا ہماری زمین ساکن ہے اور سورج اس کے گرد گردش کرتا ہے یا سورج ساکن ہے اور زمین اس کے گرد گھومتی ہے یا یہ دونوں سیارے ہی محو گردش ہیں۔ اس سلسلہ میں آج تک چار نظریات بدل چکے ہیں۔ دور نبوی میں فلکیات کے ماہرین اور بیت دانوں کا نظریہ یہ تھا کہ ہماری زمین ساکن ہے اور سورج اس کے گرد گھومتا ہے جبکہ آج کا نظریہ (جو چوتھا اور آخری نظریہ) یہ ہے کہ ہماری زمین ایک تو اپنے محور کے گرد گھوم رہی ہے۔ دوسرے یہ اپنے محور پر 66 ڈگری درجے کا زاویہ بنائے ہوئے گھوم رہی ہے تیسرے یہ سورج کے گرد بھی گھوم رہی ہے۔ پھر ہمارا یہ پورا نظام شمسی اپنے سیاروں سمیت اپنے سے کسی بڑے سورج کے گرد چکر لگارہا ہے اور اپنے محور کے گرد بھی چکر لگاتا ہے۔ اور یہ سب سیارے فضائے سبط میں اس طرح محو گردش ہیں کہ کوئی دوسرے سے ٹکراتا نہیں۔ اپنے فاصلے برقرار رکھتے ہیں اور ان کی رفتار میں نہ کمی آتی ہے یا زیادتی ہوتی ہے۔ اور وہ اپنے اپنے مقام پر پوری طرح جکرے ہوئے محو گردش ہیں۔ یہ ہے وہ انتہائی پیچیدہ نظام جس سے ہمارا نظام لیل و نہار پیدا ہوتا ہے۔ موسموں میں تبدیلی آتی ہے۔ کبھی دن بڑے ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور کبھی راتیں پھر ان تغیرات کے تمام زمینی مخلوق ہر طرح طرح کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
اب موجودہ نظریہ کی رو سے یہ سوال یوں بنتا ہے کہ بتلاؤ اگر اللہ تعالیٰ زمین کی اس محوری گردش کو روک دے جس کا نتیجہ یہ ہو کہ زمین کے آدھے حصہ میں ہمیشہ رات ہی طاری رہے اور آدھا حصہ جو سورج کے سامنے ہو اس میں ہمیشہ سورج ہی چڑھا رہے تو بتلاؤ کہ اللہ کے بغیر تمہارا کوئی الٰہ ایسا ہے جو اس سمین کی گردش کو پھر سے چالو کردے اور تمہیں ان تمام مصائب سے بچاسکے جو اس صورت میں تمہیں پہنچ سکتی ہیں ؟ رات کو اللہ نے تاریک اور ٹھنڈا بنایا ہے۔ تو جس حصہ میں ہمیشہ رات رہے گی۔ وہاں کے لوگ تو سردی سے ہی مرجائیں گے کام کرنا تو دور کی بات ہے۔ اور جس حصہ میں سورج چمکے گا وہاں کے لوگ سورج کی تپش سے مرجائیں گے۔ آرام کرنا تو دور کی بات ہے اللہ نے ایسا حکیمانہ نظام بنادیا ہے جو تمام مخلوق کے مصالح پر مبنی ہے۔
97 اللہ نے رات کے ہمیشہ رہنے کا ذکر کیا تو فرمایا : ( أفَلاَ تَسْمَعُوْنَ ) اور ہمیشہ دن کے رہنے کا ذکر فرمایا تو فرمایا : (أفَلاَ تُبْصِرُوْنَ ) یہ اس لئے دیکھنے کا کام روشنی سے تعلق رکھتا ہے۔ اور تاریکی میں انسان دیکھ تو نہیں سکتا البتہ سن ضرور سکتا ہے۔
Ayah 28:7398 یہ اللہ کی خاص رحمت ہے کہ اس نے دن رات کا نظام ایسا بنادیا جس میں تمام مخلوق کے لئے فائدے ہی فائدے ہیں۔ کوئی جاندار مسلسل کام نہیں کرسکتا۔ لہذا اللہ نے رات بنادی جو تاریک بھی ہوتی ہے اور ٹھنڈی بھی اور آرام یا نیند کے لئے یہی دو باتیں ضروری ہیں۔ ان دونوں کی موجودگی میں انسان گہری نیند سو کر دن بھر کی تھکاوٹ دور کرسکتا ہے۔ اور کام کاج کے لئے روشنی ضروری تھی لہذا دن اس غرض کے لئے دن بنادیا۔ اب چاہئے تو یہ تھا کہ انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرتا مگر اس اوندھی عقل کے انسان نے اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے الٹا اس کے شریک بنانا شروع کردیئے۔ اور کئی ہستیوں میں اللہ کے اختیارات کو بانٹنا شروع کردیا جس کا اسے کوئی حق نہ تھا۔
Ayahs 28:74–7599 یہ گواہ وہ شخص ہوگا جس کے ذریعہ اللہ کا پیغام اس قوم یا گروہ کو پہنچا ہو۔ خواہ وہ کوئی پیغمبر ہو یا کوئی دوسرا بزرگ ہو۔ اور وہ گواہ اس بات کی گواہی دے گا کہ میں نے اللہ کا پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیا تھا۔
100 اس گواہی کے بعد مجرموں کو موقعہ دیا جائے گا کہ وہ اس گواہی کے خلاف کوئی عذر پیش کرسکتے ہیں تو کریں اور جب وہ کوئی عذر پیش نہ کرسکیں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ تم اللہ کا پیغام پہنچنے کے بعد بھی جو شرک میں ہی مبتلا رہے تو اس بات کے لئے تمہارے پاس کوئی دلیل ہے ؟ اور اگر ہے تو اسے پیش کیوں نہیں کرتے ؟ دلیل سے یہاں مراد کسی الٰہامی کتاب یا کتاب و سنت سے کی دلیل ہے۔ جس سے یہ معلوم ہوسکے کہ اللہ تعالیٰ نے واقعی فلاں فلاں قسم کے اختیارات اپنے فلاں بندوں یا فلاں قسم کے بندوں کو تفویض کر رکھے ہیں۔ اس وقت انھیں اپنے سب اجتہادات، استنبا طات اور کج بحثیوں بھول جائیں گی۔ اس لئے کہ شریعت کے واضح احکام کے مقابلہ میں بزرگوں کے اقوال اور مکاشفات کی کچھ حقیقت نہیں ہوتی۔ نہ ہی ایسی باتیں شرعی دلیل کہلا سکتی ہیں۔
Ayah 28:76101 قریش مکہ کا عذر یہ تھا کہ اگر وہ اسلام قبول کرلیں تو عرب مشرک قبائل ان کے دشمن بن جائیں گے۔ نیز ان کا سیاسی اقتدار ہی ختم نہیں ہوگا بلکہ وہ معاشی طور پر تباہ ہوجائیں گے۔ اگرچہ یہ بات ان کے اسلام نہ لانے کا محض ایک بہانہ تھی۔ تاہم اس میں اتنی حقیقت ضرور تھی کہ قریش سرداروں میں سے اکثر بہت دولتمند اور رئیس تھے۔ ان میں کچھ سود خور بھی تھے اور بہت سے لوگ اپنا سرمایہ شراکت کی بنیاد پر تجارت کرنے والے قافلوں کے افراد کو بھی دیتے تھے۔ ان کے تجارتی قافلے لوٹ مار سے بھی محفوظ رہتے تھے۔ علاوہ ازیں مکہ تجارتی منڈی بھی بنا ہوا تھا۔ لہذا ان میں کئی کروڑ پتی سیٹھ موجود تھے۔ اور جہاں ماحول ہی سارا مادہ پرستانہ ہو اور کسی شخص کی بزرگی اور عزت کو محض دولت کے پیمانوں سے ماپا جاتا ہو۔ وہاں ایسے سیٹھ لوگوں کو جس قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے وہ سب کو معلوم ہے۔ بالکل ایسی ہی صورت حال قارون کی تھی۔ جو ان سے بڑا سیٹھ تھی۔ اسی مناسبت سے اللہ تعالیٰ نے یہاں قارون کی مثال بیان فرمائی ہے۔
قارون صرف یہی نہیں کہ بنی اسرائیل سے تعلق رکھتا تھا بلکہ حضرت موسیٰ کا چچازاد بھائی تھا۔ اللہ نے اسے بےپناہ دولت عطا کر رکھی تھی اور وہ پورے علاقے کا رئیس اعظم تھا۔ حضرت موسیٰ نے اس سے زکوٰ ۃ کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔ اس کی زکوٰ ۃ بھی کروڑوں کے حساب سے بنتی تھی۔ لہذا اس نے زکوٰ ۃ کی ادائیگی سے انکار کردیا۔ انسان کی فطرت ہی کچھ ایسی ہے کہ وہ جتنا زیادہ دولت مند بنتا جاتا ہے۔ اتنا ہی وہ ننانوے کے پھیر میں پڑجاتا ہے۔ اپنی تجوریوں سے کچھ نکالنے کے بجائے اس کا یہی جی چاہتا ہے کہ ان میں مزید کچھ ڈالا جائے۔ حضرت موسیٰ کے زکوٰ ۃ کی ادائیگی کے مطالبہ پر نہ صرف یہ کہ اس نے زکوٰ ۃ دینے سے انکار کیا بلکہ بنی اسرائیل سے نکل کر وہ مخالف پارٹی یعنی فرعون اور اس کے درباریوں سے مل گیا۔ آدمی مالدار بھی تھا اور ہوشیار بھی۔ لہذا فرعون کے دربار میں اس نے ممتاز مقام حاصل کرلیا اور فرعون اور ہامان کے بعد تیسرے نمبر پر اسی کا شمار ہونے لگا۔ جیسا کہ سورة مومن کی آیت نمبر 23 اور 24 میں مذکور ہے کہ : ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں اور کھلی دلیل کے ساتھ فرعون، ہامان اور قارون کی طرف بھیجا تو وہ کہنے لگے کہ یہ تو ایک جادوگر ہے سخت جھوٹا (40: 23، 24)
102 یہ بھی انسان کی فطرت ہے کہ اگر اللہ اسے اپنے انعامات سے نوازے تو وہ اپنے آپ کو عام انسانوں سے کوئی بالاتر مخلوق سمجھنے لگتا ہے۔ اس کی گفتگو، اس کے لباس، اس کی چال ڈھال، اس کے رنگ ڈھنگ غرضیکہ اس کی ایک ایک ادا سے نخوت اور بڑائی ٹپکنے لگتی ہے۔ اور وہ دوسروں کو کسی خاطر میں نہیں لاتا یہی صورت حال قارون کی تھی۔ بنی اسرائیل کے کچھ بزرگوں نے اسے از راہ نصیحت کہا کہ اگر اللہ نے تمہیں مال و دولت سے نوازا ہے تو اپنے آپ کو ضبط اور کنٹرول میں رکھو، بات بات پر اترانا کوئی اچھی بات نہیں ہوتی اور نہ ہی اللہ ایسے لوگوں کو پسند کرتا ہے۔
Ayah 28:77103 یعنی تمہاری دولت کا بہترین مصرف یہ ہے کہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرکے اپنی عاقبت سنوارنے کی کوشش کرو۔ نہ یہ کہ مال کے نشہ میں چور ہو کر دوسروں کو حقیر سمجھنے لگو۔ اس سے خود کھاؤ پیؤپہنو اور جو بچ جائے اس سے خویش و اقارب اور دوسرے لوگوں کی مالی اعانت کرو۔ اللہ کی مخلوق پر تم بھی ایسے ہی احسان کرو جیسے اللہ نے تم پر احسان کیا ہے اور مخلوق خدا کی دعائیں لو۔ اور اللہ کے فرمانبردار بن کر رہو۔ اپنے مال و دولت کا دوسروں پر رعب جمانا کوئی اچھا طریقہ نہیں۔ تمہاری اس دولت میں جو دوسروں کا حق ہے اسے ادا کرو اور معاشی اور معاشرتی ناہمواریوں کا باعث نہ بنو۔