Ayah 29:2640 حضرت لوط حضرت ابراہیم کے چچازادہ بھائی تھے۔ دونوں ہی عراق کے شہر بابل کے رہنے والے تھے۔ جب حضرت ابراہیم آگ کے امتحان سے صحیح سلامت باہر نکل آئے۔ اس وقت حضرت لوط نے ان پر ایمان لانے کا اعلان کیا۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حضرت لوط پہلے مشرک تھے۔ کیونکہ نبیوں کی نبوت سے پہلی زندگی بھی اللہ کی مہربانی سے ایسی نجاستوں سے پاک و صاف ہوتی ہے۔ انبیاء کے علاوہ اور بھی کئی ایسے آدمی ہوتے ہیں جو شرک سے بیزار قلب سلیم رکھتے ہیں مگر انھیں صحیح رہنمائی نہیں ملتی۔ دور نبوی میں بھی آپ کی نبوت سے پہلے ایسے چھ آدمی موجود تھے۔
41 مفسرین کہتے ہیں کہ یہ ہجرت حضرت ابراہیم اور حضرت لوط دونوں نے مل کر کی تھی۔ اور یہ سفر ہجرت بابل سے فلسطین کی طرف تھا۔ اللہ کی حکمت اسی میں تھی کہ آپ وہاں چلے جائیں، اسی مقام پر حضرت لوط کو بھی نبوت ملی تو حضرت ابراہیم نے حضرت لوط کو سدوم کے علاقے کی طرف بھیج دیا۔
Ayah 29:2742 حضرت ابراہیم پر جتنے بھی ابتلاء کے دور آئے ان سب میں آپ کامیاب رہے جب ہجرت کی تو اس وقت تک آپ کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ گھر بار اور وطن اور عزیز و اقارب چھوڑنے پر اللہ نے آپ کو اولاد عطا فرما دی کہ دل بہلا رہے۔ مزید یہ انعام فرمایا کہ نبوت آپ ہی خاندان سے مختص فرما دی۔ آپ کے بعد جتنے بھی نبی آئے آپ ہی نسل سے آئے۔ اسی لئے آپ کو ابو الانبیاء بھی کہا جاتا ہے۔ ان میں سے صرف آخری نبی محمد ﷺ حضرت اسماعیل کی اولاد سے مبعوث ہوئے باقی سب حضرت اسحاق بلکہ ان کے بیٹے حضرت یعقوب کی اولاد سے تھے۔ جنہیں اسرائیل بھی کہا جاتا ہے۔
43 دنیا میں ایک تو یہ اجر دیا کہ نبوت کو ان کے خاندان سے مختص کردیا اور دوسرا اجر یہ دیا کہ آپ کو تمام لوگوں کا امام اور پیشوا بنادیا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ یہودیوں، عیسائیوں، مسلمانوں بلکہ اور بھی کئی مذاہب کے ہاں یکساں محترم ہیں حتیٰ کہ مکہ کے مشرکین بھی اپنے آپ کو انہی سے منسوب کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی آپ پر مزید مہربانی یہ تھی کہ رہتی دنیا تک آپ کا ذکر خیر ان میں چھوڑ دیا۔ امت محمدیہ میں اس ذکر خیر کی صورت یہ ہے کہ ہر مسلمان پر واجب ہے کہ اپنی ہر نماز میں آپ پر دورد پڑھے۔ اور آخرت میں آپ کو اعلیٰ درجہ کے صالحین (جو انبیائے اولوالعزم کی جماعت ہے) میں شامل کیا۔
Ayahs 29:28–2944 (وَتَقْطَعُوْنَ السَّبِيْلَ 29) 29 ۔ العنکبوت :29) کے دو مطلب ہیں ایک تو ترجمہ سے واضح ہے۔ ان لوگوں کی صرف یہی بدعادت نہیں تھی کہ وہ لونڈے بازی کرتے تھے بلکہ مسافروں کی راہ تکتے رہتے، پھر انھیں اپنے ساتھ بستی میں لے آتے اس سے لواطت بھی کرتے پھر اس کا مال اسباب نقدی وغیرہ چھین کر اسے اپنی بستی سے باہر نکال دیتے تھے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی خواہش پوری کرکے بقائے نقل انسانی کے فطری طریق کو قطع کرتے تھے۔
45 یعنی یہ لوگ اجتماعی قسم کی لواطت کرتے تھے۔ مثلاً جب کوئی مسافر یا کوئی خوبصورت لڑکا ان کے ہتھے چڑھ جاتا تو اسے اپنے ڈیرے پر لے جاتے پھر باری باری ایک دوسرے کے سامنے اس سے لواطت کرتے تھے۔ اور اس میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے تھے۔ اور اپنی مجالس میں ایک دوسرے سے انتہائی لچر اور بےحیائی کی زبان استعمال کرتے تھے۔
46 یہ اس قوم کا پہلا جواب تھا۔ اور منکرین حق یہ جواب عموماً اس لئے دیتے ہیں کہ وہ انبیاء کو اور ان کی دعوت کو جھوٹا سمجھتے تھے اور ان کے وعدہ عذاب کا انھیں قطعاً یقین نہیں ہوتا۔ اس مقام پر ان لوگوں کے اسی جواب کا ذکر ہے اور دوسرے مقام پر ان کا دوسرا جواب مذکور ہے جو یہ تھا۔ کہ تم لوگ اپنے آپ کو پاکباز اور ہمیں گندے لوگ سمجھتے ہو تو پاکباز لوگوں کا ہم جیسے گندے لوگوں میں کیا کام ؟ لہذا تم لوگ یہاں سے نکل کر کسی دوسری جگہ چلے جاؤ۔ اور اگر تم نے اپنا وعظ نصیحت نہ چھوڑا تو پھر ہم تم لوگوں کو اپنی بستی سے نکال کر باہر کریں گے۔
Ayah 29:3047 جب ان لوگوں کی سرکشی اور مخالفت اس حد تک پہنچ گئی اور حضرت لوط ان کے راہ راست پر آنے سے مایوس ہوگئے تو اس وقت آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ جس طریقے سے تو مناسب سمجھے میری مدد فرما اور مجھے ان لوگوں سے نجات دے۔
Ayah 29:3148 حضرت لوط کی دعا کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا۔ اور اس بدکار قوم کی بستی کو ہلاک کرنے اور حضرت لوط کو نجات دینے کے لئے اپنے فرشتے بھیج دیئے۔ پہلے یہ فرشتے انسانوں کی شکل میں حضرت ابراہیم کے پاس آئے۔ حضرت ابراہیم ان کی مہمانی کے لئے بچھڑا بھون کرلے آئے۔ مگر جب ان نووارد مسافروں نے کھانے کی طرف ہاتھ تک نہ بڑھایا جو حضرت ابراہیم دل میں ڈر گئے۔ پھر جب فرشتوں نے بتلایا کہ ہم فرشتے ہیں اور آپ کو ایک بیٹے کی بشارت دینے آئے ہیں۔ تو حضرت ابراہیم کا ڈر جاتا رہا۔ اور یہ واقعہ کئی مقامات پر تفصیل سے گزر چکا ہے۔
Ayah 29:3249 اس خوشخبری کے بعد فرشتوں نے حضرت ابراہیم کو بتلایا کہ دراصل ایک اور مہم پر بھیجے گئے ہیں۔ وہ جو سامنے بستی نظر آرہی ہے۔ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اسے تباہ و برباد کردیں۔ کیونکہ اس بستی کے باشندے اللہ کے نافرمان سرکش لوگ ہیں۔ فرشتوں نے جس طرف اشارہ کیا وہ وہی سدوم کا علاقہ تھا۔ جہاں خود حضرت ابراہیم نے حضرت لوط کو تبلیغ کے لئے بھیجا تھا۔ لہذا وہ فوراً بول اٹھے۔ وہاں تو لوط بھی موجود ہیں۔ کیا تم اس کے وہاں ہوتے ہوئے اس بستی کو تباہ و برباد کردو گے۔ اس آیت میں تو اتنی ہی بات مذکور ہے۔ لیکن ایک دوسرے مقام پر (يُجَادِلُنَا فِيْ قَوْمِ لُوْطٍ 74ۭ ) 11 ۔ ھود :74) کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی حضرت ابراہیم نے فرشتوں سے پوری طرح بحث کی تھی کہ لوط کے علاوہ فلاں ایمان دار بھی وہاں موجود ہے۔ اور فلاں بھی۔ تو ان لوگوں کے ہوتے ہوئے تم کیونکر اس بستی کو ہلاک کردو گے ؟ فرشتوں نے اس کا جواب یہ دیا کہ ہمیں پوری طرح معلوم ہے کہ وہاں کون کون ایماندار موجود ہے۔ ہم پہلے ان کو بچانے کی صورت بنائیں گے۔ تب ہی اس بستی کو غارت کریں گے۔ البتہ لوط کے گھر والوں میں سے حضرت لوط کی بیوی بھی اس عذاب سے تباہ ہوگی۔ کیونکہ وہ اپنے خاوند کی وفادار نہیں بلکہ خائن ہے۔ فرشتوں کے اس جواب سے حضرت ابراہیم سمجھ گئے کہ اب اس بستی کی شامت آکے ہی رہے گی۔ دراصل وہ اپنی طبیعت کی نرمی کی وجہ سے چاہتے یہ تھے کہ اس ظالم قوم کو سنبھلنے کے لیے کچھ مزید مہلت مل جائے۔ مگر ان کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی۔ کیونکہ عذاب الٰہی کا نزول طے ہوچکا تھا۔
Ayah 29:3350 فرشتے وہاں حضرت ابراہیم سے رخصت ہو کر سیدھے حضرت لوط کے گھر آپہنچے۔ اب صرف انسانی شکل میں نہیں بلکہ بےریش خوبصورت لڑکوں کی شکل میں آئے تھے۔ جو قوم لوط کے اوباش لوگوں کے لئے اپنے اندر کشش رکھتے تھے۔ ان کو دیکھ کر حضرت لوط کے دل میں سخت اضطراب پیدا ہوا۔ کہ اب یہ اوباش ان سے بھی وہی سلوک کرے گی جو مسافروں، مہمانوں اور راہ گیروں سے کیا کرتی ہے۔ فرشتوں نے حضرت لوط کے اس خوف اور خطرہ کو فوراً بھانپ لیا اور کہنے لگے۔ تمہارے ڈرنے اور غمگین ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ ہم انسان نہیں بلکہ فرشتے ہیں۔ ہم خود ان سے نپٹ لیں گے۔ اس مقام پر کچھ تفصیلات حذف کردی گئی ہیں۔ جو دوسرے مقامات پر ذکر کی گئی ہیں۔
51 حضرت لوط اس علاقہ کے قدیمی باشندے نہیں تھے۔ بلکہ حضرت ابراہیم کے ہمراہ بابل سے ہجرت کرکے پہلے فلسطین آئے تھے پھر حضرت ابراہیم کے حکم سے یہاں بھیجے گئے تھے۔ لیکن آپ کی بیوی اسی بدمعاش قوم کی بیٹی تھی۔ نبی کی صحبت بھی اسے اپنی قوم اور بھائی بندوں کی عصبیت سے پاک نہ کرسکی۔ وہ نبی کے بجائے اپنے بھائی بندوں کا ساتھ دیتی تھی اور اگر حضرت لوط کے ہاں کوئی مہمان آتا تو یہ فوراً ان کو مخبری کردیتی تھی۔ وہ اپنے خاوند کے بجائے اپنے بھائی بندوں کی وفادار اور انہی کی ہمراز تھی۔ فرشتوں نے حضرت لوط سے کہا : آپ کی دعا قبول ہوگئی، ہم آپ کو اس ظالم قوم سے نجات دلانے کے لئے آئے ہیں۔ تم یوں کرو کہ اپنے اہل خانہ اور ایماندار ساتھیوں کو ساتھ لے کر راتوں رات یہاں سے نکل جاؤ۔ اور دیکھو تمہاری بیوی تمہارے ہمارے نہیں جائے گی۔ اور جب تم لوگ اس بستی سے نکلو تو اس طرح کہ تمہارے سب ہمراہی آگے ہوں اور تم ان کے پیچھے رہو۔ جیسے ہی انھیں چلا کر اس بستی سے اور لے جارہے ہو اور یہ بھی خیال رکھنا کہ تم میں سے کوئی شخص بھی پلٹ کر پیچھے کی طرف نہ دیکھے۔ مبادا کہ عذاب کا کچھ حصہ اسے بھی پہنچ جائے۔
Ayah 29:3452 اللہ کا عذاب صبح دم ان پر نازل ہونے والا ہے۔ لہذا تم دیر نہ کرو۔ اور اپنے ہمراہیوں کو لے کر صبح ہونے سے پہلے پہلے ہی اس بستی سے کافی فاصلہ تک پہنچ جانا چاہئے ہم اس بدکار قوم پر شدید ترین عذاب نازل کرنے کے لئے آئے ہیں۔
Ayah 29:3553 اس بدبخت قوم پر سب قوموں سے سخت عذاب آیا تھا۔ پہلے فرشتوں نے اس پورے خطہ زمین کو اپنے پروں پر اٹھایا۔ پھر بلند پر لے جاکر اسے الٹا کر زمین پر پٹخ دیا۔ اور اس زور سے زمین پردے مارا کہ سارا خطہ زمین کی سطح سے کافی نیچے دھنس گیا۔ پھر اس بدبخت قوم پر پتھر برسائے گئے۔ اور اب یہ سارا علاقہ زیر آب آچکا ہے۔ اور اس سمندر کا نام بحرسست یا بحیرہ مردار ہے۔ جس کی گہرائیوں میں یہ بدمعاشی قوم دفن کردی گئی تھی۔ اور یہ واقعہ نشانی اس لحاظ سے ہے کہ یہ علاقہ اس تجارتی شاہراہ پر واقع ہے جو مکہ سے شام کو جاتی ہے اور کفار مکہ اسے اپنے تجارتی سفروں میں آتے ہوئے بھی اور جاتے ہوئے بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے تھے کہ اس نافرمان اور بدمعاش اور سرکش قوم کا کیا حشر ہوا تھا۔
Ayah 29:3654 حضرت شعیب اہل مدین کی طرف بھی مبعوث ہوئے تھے اور اصحاب ایکہ کی طرف بھی۔ اور یہ دونوں علاقے آس پاس تھے۔ شعیب نے پہلی بات یہی کی کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور شرک ایسا مرض ہے جو تمام انبیاء کی قوموں میں پایا جاتا ہے۔ شیطان ہر دور میں انسان کی شرک کی نئی سے نئی شکلیں سمجھاتا رہتا ہے۔ اور اس کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ خالص اللہ کی عبادت سے برگشتہ کرکے کسی نہ کسی طرح کے شرک میں مبتلا کردے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء کی دعوت کا بھلا قدم یہی ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو شرک کی نجاستوں سے لوگوں کو مطلع کریں۔ اور انھیں ایک اللہ کی عبادت کی طرف بلائیں۔
55 اس جملہ کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ آخرت کے دن پر ایمان لاؤ وہ یقیناً آنے والا ہے۔ جس میں تم سے تمہارے اعمال کی باز پرس ہوگی۔ دوسرا یہ کہ اگر تم خالصتاً اللہ کی عبادت کرو گے۔ تو تمہیں آخرت کے دن اس کے اچھے اجر کی توقع رکھنا چاہئے۔
56 اہل مدین کا فساد فی الارض یہ تھا کہ وہ اپنے لین دین کے معاملات دغا بازیاں کرتے تھے۔ ناپ تول میں کمی بیشی کرنے کے فن میں خوب ماہر تھے اور اس طرح دوسرے لوگوں کے حقوق پر ضدبانہ ڈاکے ڈالتے تھے۔
Ayah 29:3757 یعنی شعیب کی نبوت کو، آپ کی دعوت کو اور اس وعدے کو بھی جھٹلا دیا کہ اگر تم اپنی ان بداعمالیوں سے باز نہ آئے تو تم پر اللہ کا عذاب آئے گا۔
Ayah 29:3858 قوم عاد (اولی) کا وطن پورا جنوبی عرب تھا یعنی یمن، حضرموت اور احقاف کا علاقہ اور ثمود کا علاقہ شمالی عرب تھا۔ ان دونوں علاقوں کی تاریخ سے عرب کا بچہ بچہ واقف تھا۔ پھر وہ ان کی تباہ شدہ بستیاں دیکھتے بھی رہتے تھے۔
59 یعنی وہ دنیا کے کاموں میں بڑے ہوشیار اور فنکار تھے۔ اپنے اپنے دور کی ترقی یافتہ اور مہذب قومیں تھیں۔ سجھدار تھے۔ طاقتور تھے اور بالخصوص سنگ تراش کے فن یدطولی رکھتے تھے۔ لیکن اللہ کے معاملہ میں شیطان نے ان کی مت مار دی تھی۔ جیسا کہ آج کل عیسائی اقوام کے محققین جب تحقیق و تنقید کے میدان میں اترتے ہیں تو بال کی کھال اتار کے رکھ دیتے ہیں۔ مگر عقیدہ تثلیث کو عقلی دلائل سے ثابت کرنے کا وقت آتا ہے تو بات گول کر جاتے ہیں اور ان کی عقلیں جواب دے جاتی ہیں۔ پھر بھی اسی پر اصرار کرتے جاتے ہیں یا جیسے آج کل کے ماہرین فلکیات اس جو بڑی سے بڑی طاقتور دوربینوں سے اجرام فلکی کا مطالعہ کرتے ہیں۔ ان میں بعض علمائے ہیئت کی تو ایسے مت ماری جاتی ہے کہ ایک طرف تو کائنات کے اس مربوط و منظم نظم پر حیرت استعجاب کا اظہار کرتے ہیں جگر دوسری طرف یہ سب کچھ اتفاقات کا نتیجہ قرار دینے لگتے ہیں۔ اور لطف یہ کہ اپنے انہی موہوم قیاسات کو علمی تحقیق کے خوبصورت نام سے دوسروں کے سامنے پیس کرتے ہیں۔ عاد اور ثمود کے محققین بھی کچھ ایسے ہی لوگ تھے۔
Ayah 29:3960 یعنی نہ تو یہ لوگ اپنی تدبیروں سے اللہ کی تدبیر کو ناکام بناسکتے تھے اور نہ ہی اللہ کی گرفت سے بچ کر کہیں جاسکتے تھے۔
Ayah 29:4061 یعنی ہر قوم کو اس کے جرم کے مطابق سزا دے کر صفحہ ہستی سے چلتا کیا اور زمین کو ان لوگوں سے پاک کردیا۔ ان میں پتھروں کی بارش کا عذاب صرف قوم لوط پر آیا تھا۔ اور قوم عاد پر جو عذاب آیا تھا وہ تیز آندھی کی شکل میں تھا جس میں چھوٹے چھوٹے پتھر کنکر بھی ملے ہوئے تھے۔
62 قوم ثمود (حضرت صالح) اور اہل مدین (حضرت شعیب) پر یہی عذاب آیا تھا۔
63 یعنی قارون اور اس کے خدام کو پورے خزانوں سمیت، جس کا قصہ سورة میں پوری تفصیل سے گزر چکا ہے۔
64 یعنی قوم نوح کو اور فرعون اور آل فرعون کو۔
65 ان سب قوموں کی طرف ہم نے نبی بھیجے تاکہ وہ انھیں ان کی گمراہیوں سے مطلع کریں۔ لیکن ان لوگوں نے نبیوں کو جھوٹا سمجھا۔ اور انھیں گمراہیوں پر اور بھی زیادہ ڈٹ گئے۔ اللہ کی فرمانبرداری کے بجائے انبیاء کے دشمن بن گئے اور انھیں طرح طرح تکلیفیں دینا شروع کردیں۔ پھر جب ہماری طرف سے پوری طرح حجت قائم ہوگئی تو اس وقت ہم نے انھیں تباہ کیا اور اس تباہی کے ذمہ دار وہ خود تھے، ہم نہیں تھے۔
Ayah 29:4166 یعنی اوپر جن جن اقوام کا ذکر آیا ہے یہ سب ہی شرک اور بت پرستی میں مبتلا تھیں۔ انھیں چیزوں کو انہوں نے اپنا مشکل کشا سمجھ رکھا تھا اور ان کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر ان کے سامنے قربانیاں بھی پیش کی جائیں اور نذروں و نیازوں کے چڑھاوے بھی چڑھائے جاتے تھے، اس امید پر ہمارے یہ سرپرست حضرات ہم سے خوش رہیں۔ اور مصیبت کے وقت ہمارے کام آئیں مگر ان مشرکوں کے معبودوں یا سرپرستوں کی مثال تو لکڑی کے گھر جیسی ہے جو اس قدر کمزور ہوتا ہے کہ انگلی کی ایک ہلکی سی جنبش سے تار تار ہوجاتا ہے اور گرپڑتا ہے۔ اسی طرح ان مشرکوں پر جب اللہ کا عذاب آیا تو اس عذاب کی پہلی اور ہلکی سی ضرب سے ہی ان کی تمام تر توقعات کا قصر تار تار ہوگیا اور ان کے معبود جہاں تھے وہیں پڑے کے پڑے رہ گئے۔
Ayah 29:4267 اس آیت کے دو مطلب ہیں۔ ایک تو ترجمہ سے ہی واضح ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ جن جن چیزوں کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں ان کی حقیقت کچھ بھی نہیں اور محض لاشی ہیں
68 یعنی اللہ کو نہ تو ان معبودوان باطل کی رفاقت مطلوب ہے۔ کیونکہ خود ہی سب سے زبردست اور سب پر غالب ہے۔ اور نہ ہی ان سے کسی قسم کے مشورہ کی ضرورت ہے کیونکہ حکیم مطلق ہے۔ اپنے ہر کام کی حکمت اور مصلحت سے خوب واقف ہے۔
Ayah 29:4369 اس آیت کے بھی دو مطلب ہیں ایک یہ کہ اقوام عالم کے یہ واقعات اس لئے بیان کرتے ہیں کہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ انبیاء کی تکذیب اور اللہ کی نافرمانی کرنے والوں کا کیا انجام ہوتا ہے۔ اور اللہ اپنے فرمانبرداروں کو ظالموں سے نجات دینے کی کیسی کیسی صورتیں پیدا کردیتا ہے۔
اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ کفار مکہ کو ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اللہ کی شان اس بات سے بہت بلند تر ہے کہ مکھی، مچھر اور مکڑی جیسی حقیر مخلوق کی مثالیں بیان کرے۔ ایسا اعتراض جاہل قسم کے لوگ ہی کرسکتے ہیں اہل علم نہیں کرسکتے۔ اہل علم تو صرف یہ دیکھتے ہیں کہ آیا ممنل اور ممنل لہ جو شبیہ بیان کی جارہی ہے وہ درست ہے ؟ اگر وہ درست ہے تو پھر مثال بھی درست ہے وہ یہ نہیں دیکھتے کہ مثال بیان کرنے والی ہستی کوئی بڑی ہستی ہے یا چھوٹی۔
Ayah 29:4470 یعنی زمین و آسمان یا نظام کائنات کو بےفائدہ ہی نہیں بنادیا بلکہ اس نظام سے بیشمار مصالح اور فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔ زمین پر بسنے والی ہر طرح کی مخلوق کی زندگی اور زندگی کی بقا کا انحصار اسی نظام کائنات پر ہے۔ اگر اس نظام میں سے بھی ایک بھی کل پرزہ اٹھا لیا جائے تو صرف یہی نہیں کہ جاندار اشیاء کی زندگی کیا خاتمہ ہوجائے گا۔ بلکہ زمین پر نباتات، پودے اور درخت تک بھی نہ اگ سکیں گے۔
71 یعنی ہر صاحب علم و دانش کے لئے لمحہ فکریہ یہ ہے کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ کائنات کو پیدا تو اللہ کرے، زمین کی روئیدگی کی قوتیں اللہ عطا کرے، بارش برسائے تو اللہ، تمام مخلوق کی ضروریات زندگی مہیا کرے تو اللہ۔ مگر جب اس کے رزق، اس کے فضل اور اس کی رحمت کی لوگوں میں تقسیم کی باری آئے تو دوسرے معبودان باطل ہزارہا کی تعداد میں میدان میں آموجود ہوں۔ اور انسان یہ سوچنے لگے کہ واقعی سب کچھ کیا کرایا تو اللہ نے ہی ہے مگر اس نے رحمت کی تقسیم کے اختیارات دوسرے حضرات کو سونپ دیئے ہیں اور خود فارغ ہو بیٹھا ہے ؟ کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی بےانصافی اور ظلم کی بات ہوسکتی ہے ؟
Ayah 29:4572 اس آیت میں یہ ظاہر خطاب صرف رسول اللہ کو ہے لیکن مخاطب سارے ہی مومن ہیں۔ جو مکہ میں کافروں کے ہاتھوں تکلیفیں اٹھا رہے تھے۔ ان مصائب کے مداوا کے طور پر انھیں تین باتوں کی تلقین کی گئی ایک قرآن کی تلاوت، دوسرے نماز پر ہمیشگی اور تیسرے ہر وقت اللہ کو یاد رکھنا۔
تلاوت قرآن کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے دل میں صبر اور برداشت کی قوت پیدا ہوتی ہے۔ جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا : (لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَرَتَّلْنٰهُ تَرْتِيْلًا 32) 25 ۔ الفرقان :32) بشرطیکہ قرآن کریم کو سوچ سمجھ کر پڑھا جائے اور اس کی اقتضات کو اپنی ذات پر نافذ کیا جائے۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ قرآن کی تلاوت بذات خود باعث اجر وثواب ہے۔ اور اس کے ایک ایک حرف کے عوض دس نیکیاں ملتی ہیں۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے :
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ جس نے اللہ کی کتاب سے ایک حرف پڑھا، اس کے لئے ایک نیکی ہے اور ہر نیکی کا ثواب دس گنا ہے۔ اور میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے۔ بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔ (ترمذی۔ ابو اب فضائل القرآن۔ باب ماجاء فی من قرء حرفا من القرآن۔۔ )
تیسرا فائدہ یہ ہے کہ تلاوت قرآن سوچ سمجھ کر پڑھنے سے اس کے معارف و حقائق پڑھنے والے پر منکشف ہوتے چلے جاتے ہیں۔ چوتھا فائدہ یہ ہے کہ تلاوت قرآن سے دوسرے لوگ بھی اس کے مواعظہ اور علوم و برکات سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ پانچواں فائدہ یہ ہے کہ دعوت و اصطلاح کے فریضہ کی اصل بنیاد تلاوت قرآن کریم بھی ہے۔ پھر جو لوگ قرآن کی ہدایت کو تسلیم نہ کریں ان پر اللہ کی حجت قائم اور پوری ہوجاتی ہے۔
لیکن ہمارے دور کے مفسر قرآن جناب پرویز صاحب بلا سوچے سمجھے تلاوت قرآن کو ایک بےہودہ فعل قرار دیتے ہیں، فرماتے ہیں کہ :
قرآن ایک کتاب ہے جس میں لکھا ہے کہ اس کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق زندگی بسر کرنا چاہئے۔ کہئے اس کے الفاظ دہرا دینے سے یہ مقصد حاصل ہوجائے گا ؟ نیز قرآن اپنے مضامین پر بار بار غور و فکر کی دعوت دیتا ہے کیا یہ مقصود بلاسوچے سمجھے پڑھنے سے حاصل ہوسکتا ہے ؟ آپ کسی مصنف سے یہ کہئے کہ میں تمہاری کتاب کے ایک لفظ کو بھی نہیں سمجھتا لیکن اس کے باوجود ہر روز اسے پڑھتا ہوں۔ حتیٰ کہ مجھے وہ زبان بھی نہیں آتی جس میں تم نے یہ کتاب لکھی ہے۔ اس کے باوجود اس کتاب کو دہراتا رہتا ہوں۔ آپ خود ہی سوچئے کہ وہ مصنف آپ کو کیا جواب دے گا ؟ یہ عقیدہ دراصل مسلمانوں کو قرآن سے الگ رکھنے کے لئے تراشا گیا تھا جو عجمی سازش کا نتیجہ ہے اور یہ عقیدہ یکسر غیر قرآنی ہے جو درحقیقت عہد سحر کی یادگار ہے۔ جب یہ سمجھا جاتا تھا کہ الفاظ (معانی نہیں) اپنے اندر تاثیر رکھتے ہیں۔ یہ قرآنی اعمال، تعویذ، نقوش، وظائف اور اد، سب اسی عقیدہ کی مستعار شکلیں ہیں (قرآنی فیصلے ص 103)
پھر یہی خیالات مقام حدیث کے ص 221 پر دہرائے گئے ہیں اور اس کے بعد قرآن سورتوں یا آیات کی تلاوت کی فضیلت کے متعلق چند احادیث درج کرکے ایسی احادیث کے موضوع ہونے کا تاثر دیا گیا ہے نیز یہی افکار اسباب زوال امت کے ص 59 پر بھی دیئے گئے ہیں اور دلیل میں یہ آیت بھی پیش کی گئی ہے :
(يَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِھِمْ مَّا لَيْسَ فِيْ قُلُوْبِھِمْ ۭوَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا يَكْتُمُوْنَ 167ۚ ) 3 ۔ آل عمران :167) وہ زبان سے وہ کچھ کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہوتا (اسباب زوال امت، ص 59)
جواب دینے سے پیشتر ہم جناب پرویز کی ہشیاری کی داد ضرور دینا چاہتے ہیں کہ جو آیت منافقوں سے تعلق رکھتی تھی اسے آپ نے اس مقام پر فٹ کر دکھایا ہے۔ یہ آیت ( یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ نَافَقُوْا) سے شروع ہوتی ہے اور اس آیت کے مندرجہ ٹکڑے کا مطلب یہ ہے کہ منافقوں کی سبان پر کوئی اور بات ہوتی ہے جبکہ دل میں کچھ اور ہوتا ہے یعنی جس بات کا وہ زبان سے اقرار کرتے ہیں ان کے دل اس سے منکر ہوتے ہیں لیکن بلاسوچے سمجھے یا منعی نہ سمجھنے کے باوجود قرآن پاک کی تلاوت کا معاملہ اس سے یکسر مختلف ہے۔ اس لئے کہ ایسے شخص کے دل میں کچھ ہوتا ہی نہیں یا اگر کچھ ہوتا ہے تو صرف یہ کہ وہ اپنے پروردگار کے کلام کی تلاوت کر رہا ہے۔ اور یہ ایک اچھا باعث برکت وثواب عمل ہے۔
قرآن میں تلاوت قرآن پر بہت زور دیا گیا ہے۔ رسول اللہ کی سب سے پہلی ذمہ داری تھی کہ آپ امت پر اللہ کی آیات تلاوت کرتے تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہی حکم تھا اور مسلمان مردوں اور عورتوں کو یہ بھی حکم تھا کہ وہ ان تلاوت شدہ آیات کو زبانی یاد کرلیا کریں۔ اللہ تعالیٰ ازواج النبی سے فرماتے ہیں : ( وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلٰى فِيْ بُيُوْتِكُنَّ مِنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ وَالْحِكْمَةِ ۭاِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِيْفًا خَبِيْرًا 34 ) 33 ۔ الأحزاب :34) اور تمہارے گھروں میں جو اللہ کی آیات و حکمت پڑھی جاتی ہیں، ان کو یاد رکھو
اور یہ تو واضح ہے کہ آیات کو یاد رکھنے اور حفظ کرنے کے لئے ان آیات کو بار بار پڑھنا اور دور کرنا پڑتا ہے اور بار بار تلاوت کرنے کا مقصد غور و تدبر ہی نہیں ہوتا۔ رسول اللہ صحابہ کو قرآنی آیات سکھلاتے بھی تھے، پڑھاتے بھی تھے، یاد بھی کرواتے تھے، پھر ان سے سنتے بھی تھے، انھیں سناتے بھی تھے، تب جاکر صحابہ کو حفظ اور ضبط ہوتا تھا۔ حفظ کرتے وقت جو تکرار، اعادہ یا دور کہا جاتا ہے اس کا مقصد غور و تدبر کرنا نہیں ہوتا بلکہ حفظ ہی ہوتا ہے اب حفظ کرنے کے لئے آیات کی جو بار بار تلاوت کی جاتی ہے، وہ اگرچہ بلاسوچے سمجھے ہوتی ہے تاہم یہ ایک بہت بڑی دینی ضرورت کو پورا کرتی ہے۔ یعنی قرآن سینوں میں محفوظ ہوجاتا ہے۔ لہذا یہ ایک مستحسن فعل ہوا۔ خواہ یہ حفظ کرتے وقت طوطے کی طرح رٹنا ہی پڑے۔
نبوت کے ابتدائی ایام میں ہی سورة مزمل نازل ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ کو مخاطب کرکے فرمایا :
( اَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِيْلًا ۭ ) 73 ۔ المزمل :4) اور قرآن کو خوب حسن تناسب سے پڑھا کرو
رتل کا معنی کسی چیز کا حسن تناسب کے ساتھ مرتب اور منظم ہونا ہے۔ (مفردات) پھر اس میں کسی عبارت کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا، حسن ادائیگی الفاظ اور خوش آوازی یا خوش الحانی سب شامل ہوتے ہیں۔ اگر ہم قرآن کو محض ایک قانون اور ضابطہ حیات کی کتاب ہی تصور کریں تو پھر قانون کی کتاب پڑھنے کے لئے ایسی ہدایات کی کیا ضرورت ہے ؟ قانون کی کتاب میں غور و فکر کرنے کے لئے الفاظ کو بلند آواز سے پڑھنے کی بھی ضرورت نہیں ہوگی چہ جائیکہ اسے ترتیل سے پڑھا جائے۔
علاوہ ازیں قرآن میں کچھ ایسی متشابہ آیات بھی ہیں جن کی تاویل اللہ ہی جانتا ہے یا پھر کچھ راسخون فی العلم جان سکتے ہیں۔ عام لوگ جن کی ہر دور میں اکثریت ہوتی ہے، اس کے مفہوم و معانی اور صحیح تاویل و تعبیر تک پہنچ ہی نہیں سکتے۔ اور ایسی آیات کے مفہوم و معافی کے پیچھے پڑنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے فتنہ پرور قرار دیا ہے۔ اور صفات الٰہی سے تعلق رکھنے والی تقریباً سب آیات اسی قبیل سے ہیں۔ پھر قرآن میں حروف مقطعات بھی اسی قبیل سے ہیں جن کا انسان کی عملی زندگی سے کچھ بھی تعلق نہیں، نہ ہی ان کا صحیح مفہوم معلوم ہوسکا ہے۔ اب اگر قرآن کو صرف قانون اور ضابطہ حیات کی کتاب ہی سمجھا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن میں ایسی آیات کی کیا ضرورت تھی ؟ یا کیا تلاوت قرآن کرتے وقت ایسی آیات کو چھوڑ دینا چاہئے ؟ یہ باتیں اس چیز پر واضح دلیل ہیں کہ قرآن پاک کو سمجھنے اور عمل کرنے کے علاوہ صرف تلاوت بھی انتہائی ضروری ہے۔ اب رہی یہ بات کہ آیا قرآن کے الفاظ میں کوئی تاثیر ہے یا نہیں ؟ جسے پرویز صاحب عہد سحر سے منسلک فرما رہے ہیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہم قرآن کے الفاظ کی تاثیر کے بھی قاول ہیں اور اس کی وجوہ درج ذیل ہیں :
1۔ قرآن کسی انسان کا کلام نہیں، بلکہ اس کے الفاظ کی بندش اور فصاحت و بلاغت کا یہ عالم ہے کہ فصحاء اور بلغاء عرب بار بار کے چیلنج کے باوجود اس جیسا کلام لانے سے قاصر رہے لہذا اسے عام انسانی تصانیت کے مثل قرار دینا بہت بڑی جسارت ہے۔ جیسا کہ پرویز صاحب نے کسی مصنف کی کتاب کی بلاسوچے سمجھے پڑھنے کی مثال دی ہے۔
2۔ کفار مکہ میں سے اکثر فصحائے عرب تھے۔ ان میں شاعر بھی موجود تھے۔ وہ قرآن کی آیات کو سنتے اور خوب سمجھتے تھے کیونکہ ان کی زبان عربی تھے۔ وہ دل سے قرآن کے مخالف بھی تھے۔ پھر بھی قرآں کے الفاظ کی اعجازی حیثیت ان کو مسحور کردیتی تھی۔ آخر یہ کیا بات تھی کہ وہ اپنی لگائی ہوئی پابندیوں کے علی الرغم رات کو پہروں چوری چھپے قرآن سنتے تھے ؟ کیا یہ الفاظ ہی کی تاثیر نہ تھی ؟
3۔ الفاظ کی اس اعجازی حیثیت کا پرویز صاحب خود بھی ایک دوسرے مقام پر زیر عنوان مشاعرے بدیں الفاظ اقرار کرتے ہیں :
آپ کسی شاعر سے کہئے کہ جو کچھ آپ نے نظم میں لکھا ہے اسے ذرا نثر میں پڑھ کر سنائیے، پھر دیکھئے اس کے جذبات کا کیا عالم ہوتا ہے۔ غور کیجئے، کتنا بڑا ہے یہ سحر جس کی رو سے محض الفاظ کے ادھر ادھر رکھ دینے سے آپ کے تاثرات بدل جاتے ہیں۔ (قرآنی فیصلے، ص 305)
اب اگر کسی عام شاعر کی نظم میں الفاظ کی بندش میں یہ تاثیر ممکن ہے تو کیا قرآن کے الفاظ کی بندش میں اتنی بھی تاثیر نہیں اور ایسی تاثیر شعر ہی میں نہیں نثر میں بھی ممکن ہے۔ قرآن مجید شاعرانہ بیہودگی سے یکسر پاک ہے تاہم اس کی اعجازی حیثیت مسلمہ ہے اور اس کی تاثیر کی بھی۔
4۔ رجز (جنگی گیت) اور حدی کا اثر اونٹ وغیرہ پر بھی ہونا مشاہدات سے ثابت ہے۔ حالانکہ اونٹ نہ وہ زبان جانتا ہے نہ اس کا مطلب سمجھتا ہے تاہم متاثر ضرور ہوجاتا ہے تو کیا اونٹ میں بھی کوئی عجمی سازش کام کررہی ہوتی ہے ؟
اسی مضمون سے متعلق ایک لطیفہ یاد آگیا۔ کوئی صاحب قرآن کے الفاظ کی تاثیر کے قائل نہ تھے اور اسی موضوع پر اپنے ایک دوست سے بحث فرما رہے تھے۔ اس دوست نے جواب میں صرف اتنا ہی کہہ دیا کہ تم تو نرے گدھے ہو۔ اس بات پر وہ صاحب سیخ پا ہوگئے اور غصہ کی وجہ سے چہرہ تمتا اٹھا اور اپنے دوست کو بدتمیزی کے القابات سے نوازنے لگے۔ دوست نے بڑے آرام سے کہا کہ اگر الفاظ میں کچھ تاثیر نہیں ہوتی تو آپ اس قدر برہم کیوں ہوگئے ؟ آپ فی الواقع کوئی گدھا بن تو نہیں گئے۔ یہ جواب سن کر وہ صاحب کچھ گھسیانے سے ہوگئے اور غصہ بھی فرو ہوگیا۔
بلا سوچے سمجھے تلاوت کرنا اگرچہ کوئی بامقصد عمل نہیں کہلاسکتا تاہم اس سے بھی تین فائدے حاصل ہوتے ہیں :
1۔ تلاوت کرنے والا جب تک تلاوت میں مشغول رہے گا دوسری خرافات سے محفوظ رہے گا۔
2۔ جو شخص اس بلاسوچے سمجھے تلاوت کو اپنا معمول بنا لے گا کسی نہ کسی دن ضرور وہ اس کا مفہوم سمجھنے کی بھی کوشش کرے گا۔
3۔ کلام الٰہی اگر ترتیل سے کی جائے تو کائنات کی کئی دوسری اشیاء بھی اس سے اثر قبول کرتی اور ساتھ ہم آہنگ ہوجاتی ہیں۔ داؤد جب زبور کی آیات تلاوت فرماتے تو پہاڑ اور پرندے بھی آپ کی ان تسبیحات سے مسحور ہو کر ان میں شامل ہوجاتے تھے جیسا کہ ارشاد باری ہے : (وَلَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا ۭيٰجِبَالُ اَوِّبِيْ مَعَهٗ وَالطَّيْرَ ۚ وَاَلَنَّا لَهُ الْحَدِيْدَ 10 ۙ ) 34 ۔ سبأ :10)
اور ہم نے اپنی طرف سے داؤد کو برتری بخشی تھی کہ اے پہاڑو اور پرندو ! (جب داؤد زبور کی تلاوت کریں تو) تم بھی اس کے ساتھ ہم آہنگ ہوجاؤ
بالکل ایسا ہی مضمون سورة انبیاء کی آیت نمبر 79 اور سوہ کی آیت نمبر 19 میں بھی مذکور ہے۔
ان آیات میں جبال یا پہاڑ جمادات سے اور پرندے حیوانات سے تعلق رکھتے ہیں گویا یہ سب چیزیں آیات الٰہی کی تلاوت سے اثر پذیر ہوتی ہیں۔ حالانکہ وہ نہ ان کے معنی سمجھ سکتی ہیں اور غور و فکر کرسکتی ہیں۔
ان تمام تصریحات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگرچہ کریم کی تلاوت کا اصل مقصد اسے سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ہے تاہم قرآن کے الفاظ کی بندش میں بلا کی تاثیر ہے۔ جس سے انکار ناممکن ہے۔ لہذا اگر تلاوت کرنے والا اس کے مفہوم کو نہ جانتا ہو تب بھی اسے اس کی تلاوت سے کئی طرح سے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
رہا مسئلہ قرآنی عملیات، نقوش، تعویذات اور اوراد وغیرہ کا تو ان باتوں کا ثبوت کتاب و سنت میں کہیں بھی نہیں ملتا۔ لہذا یہ افعال بدعیہ اور شرکیہ ہیں اور ایسی باتوں کا اگر پرویز صاحب عہد سحر سے تعلق قائم کرنا چاہیں تو بصد شوق ایسا کرسکتے ہیں۔
73 اس کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے نماز میں تاثیر ہی یہ رکھ دی ہے کہ اس سے بےحیائی اور برے کاموں کا ارادہ ختم ہوجاتا ہے۔ جیسے پانی میں اللہ نے یہ تاثیر رکھ دی ہے کہ وہ پیاس کو بجھا دیتا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ نماز سے مطلوب یہ ہے کہ نمازی بےحیائی اور برے کاموں سے باز آجائے۔
اور یہ دونوں مطلب درست ہیں بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ دونوں مطالب کا مفہوم بالآخر ایک ہی بن جاتا ہے تو بھی درست ہے۔ اب آپ نماز کے ارکان پر اور جو کچھ نماز میں پڑھا جاتا ہے اس پر غور کریں تو از خود بخود یہ واضح ہوجاتا ہے کہ جو شخص نماز بھی پڑھتا رہے اور اس سے بےحیائی اور برائیاں بھی دور نہ ہوں تو وہ محض بےسوچے سمجھے اور عادتاً نماز ادا کرتا ہے۔ بھلا جس کی نماز کی ہر رکعت میں دل کی توبہ سے اللہ کے سامنے شرک سے برات کا اور دوسروں سے استمداد سے برات کا اقرار کیا جائے ایسا شخص بھی شرک میں مبتلا رہ سکتا ہے اور جس نماز کی رکعت میں اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی جائے وہ نماز سے برے اور بےحیائی کے کاموں سے بچنے کی کوشش نہ کرے گا اور جو انسان اپنی نماز کی ہر رکعت میں اللہ سے سیدھے راستے پر گامزن رہنے کی دعا کرتا ہے۔ وہ برے کام اور بےحیائی کے کام کیسے کرسکتا ہے ؟ غرض نماز میں اللہ کے سامنے اقرار اور اس کے حضور دعاؤں پر جتنا بھی غور کیا جائے تو یہی نتیجہ سامنے آتا ہے کہ صحیح طریقہ سے نماز کو ادا کرنے والا لازماً برے کاموں سے رک جائے گا اور اگر نہیں رکتا تو اس کا منطقی نتیجہ یہی ہے کہ وہ نماز ٹھیک طرح ادا نہیں کرتا۔ وہ نماز میں اللہ کی یاد سے غافل اور دوسرے دنیوی خیالات میں منہمک رہتا ہے۔ اور ایسی نماز منافق کی نماز ہوتی ہے۔ مومن کی نہیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے نمازیوں کو بھی برے انجام کی تنبیہ فرمائی ہے۔ جو اپنی نماز میں اللہ کی یاد سے غافل رہتے ہیں۔ (108: 4، 5)
74 اس جملہ کے بھی کئی مطلب ہیں ایک یہ کہ تمام تر عبادتوں کی روح رواں اللہ کی یاد ہی ہے۔ اللہ سے ہی انسان غافل ہو تو انسان عبادت کر کیسے سکتا ہے۔ دوسرے یہ کہ تمام عبادت اسی صورت میں بطریق احسن سرانجام دی جاسکتی ہیں کہ اس عبادت کے دوران اللہ کی یاد سے غافل نہ ہو۔ تیسرا مطلب یہ ہے، اللہ کو یاد کرنا، زبان سے اللہ اللہ کہنا اور دل میں ہر وقت اللہ کو یاد رکھنا بذات خود بہت بڑا نیکی کا کام ہے۔ اور اس مطلب کا تائید درج ذیل حدیث سے ہوتی ہے :
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت فاطمہ کو چکی سے آٹا پیسنے سے بہت تکلیف ہوگئی۔ انھیں خبر ملی کہ آپ کے پاس کچھ قیدی آئے ہیں۔ (غنیمت سے جس کا پانچواں حصہ آپ کے لئے مختص اور اس کی تقسیم آپ کی صوابدید پر منحصر تھی) وہ آپ کے پاس تشریف لائیں تاکہ آپ سے ایک لونڈی یا غلام کا مطالبہ کریں۔ اتفاق سے آپ گھر پر نہ ملے تو انہوں نے یہ بات حضرت عائشہ ؓ سے کہہ دی۔ جب آپ تشریف لائے تو حضرت عائشہ ؓ نے انھیں بتلایا کہ آپ اسی وقت (رات کو ہی) ہمارے ہاں تشریف لائے جبکہ ہم بستروں پر لیٹ چکے تھے۔ ہم نے اٹھنا چاہا مگر آپ نے فرمایا : لیٹے رہو (آپ میرے اور حضرت فاطمہ کے درمیان بیٹھ گئے) میں نے آپ کے پاؤں کے ٹھنڈک اپنے سینے پر محسوس کی۔ آپ نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتاؤں جو اس سے بہتر ہے جو تم نے مانگی تھی ؟ (اور وہ یہ ہے کہ) جب تم اپنے بستروں پر جاؤ تو اللہ اکبر 34 بار، الحمدللہ 33 بار اور سبحان اللہ 33 بار کہہ لیا کرو۔ یہ تمہارے لئے اس چیز سے بہتر ہے جس کا تم نے سوال کیا تھا (بخاری۔ کتاب الجہاد والسیر۔ باب الخمس لنوائب رسول اللہ )
اور چوتھا مطلب یہ ہے کہ اگر بندہ اللہ کو یاد کرے تو اللہ بھی بندے کو یاد کرتا ہے (2: 152) اور ظاہر ہے کہ اللہ کا بندے کو یاد کرنا بہت بڑی چیز ہے۔
75 یعنی اللہ اسے بھی جانتا ہے جو اس کے ذکر سے رطب اللسان رہتا ہے اور اسے بھی جو اس کی یاد سے غافل رہتا ہے۔ پھر ہر ایک سے اس کے عمل کے مطابق سلوک کرے گا۔
Ayah 29:4676 یعنی مشرکوں کا دین تو سراسر باطل ہے۔ مگر اہل کتاب کا دین اپنی اصل کے لحاظ سے سچا تھا۔ لہذا ان سے تمہاری بحث کا انداز مشرکوں سے جداگانہ ہوجانا چاہئے۔ اور ان کے مذاہب میں جتنی سچائی موجود ہے اس کا اعتراف کرنا چاہئے۔ پھر جس مقام سے اختلاف واقع ہوتا ہے وہ نرمی، متانت سے اور خیر خواہی کے جذبے سے انھیں سمجھانا چاہئے۔ بحث کا انداز یہ نہ ہونا چاہئے کہ دورے کو سراسر غلط اور نیچا دکھانے کی کوشش کی جائے۔ بلکہ ایسا طریقہ اختیار کرنا چاہئے جس سے اسے اپنی غلطی کا اعتراف کرلینا آسان ہوجائے۔
77 بےانصاف یا ظالم سے مراد وہ لوگ ہیں جو مذہبی تعصب کو ہی سب سے بڑی قدر سمجھتے ہوں۔ اور ضد اور ہٹ دھرمی پر اتر آئے ہوں جیسا کہ یہود مدینہ میں کعب بن اشرف اور ابو رافع سلام بن ابی الحقیق اور مشرکین مکہ میں ابو جہل اور اس کے ساتھی تھے۔
78 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بحث کا انداز بھی خود ہی سمجھا دیا۔ یعنی جن جن باتوں میں فریقین میں موافقت اور مطابقت پائی جاتی ہے۔ پہلے ان کا ذکر کرکے انھیں اپنی طرف مائل کیا جائے۔ یہ نہ ہونا چاہئے کہ ابتداء میں اختلافی امور کو زیر بحث لا کر فریق مخالف کو اپنا مزید مخالف بنالیا جائے۔ یعنی زبان شیریں اور انداز گفتگو ایسے ناصحانہ ہونا چاہئے جس سے وہ چڑ جانے کی بجائے بات کو تسلیم کرلینے پر آمادہ ہوجائے۔
Ayah 29:4779 یعنی جس طرح ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی بالکل ویسے بھی آپ پر یہ کتاب نازل کی ہے۔ اور اہل کتاب میں سے جو منصف مزاج ہیں۔ وہ یہ سمجھ کر ان دونوں کتابوں کا سرچشمہ ایک ہی ہے، قرآن پر ایمان لے آئے تھے اور اہل مکہ میں بھی کچھ منصف مزاج موجود ہیں جو قرآن کے دلائل سن کر فوراً اس سے متاثر ہوجاتے ہیں اور ایمان لے آتے ہیں۔ گویا ایک انسان کی ہدایت کے لئے اس کتاب میں نہ نقلی دلائل کی کمی ہے اور نہ عقلی دلائل کی۔ اس سے انکار صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو اپنے مذہبی تعصبات کو چھوڑ کر حق بات ماننے کو تیار نہیں۔ نہ وہ اپنی خواہش نفس اور بےلگام آزادی پر کسی قسم کی پابندی قبول کرنے کو تیار ہیں۔
Ayah 29:4880 آپ کی رسالت کو جھٹلانے یا اسے کم از کم مشکوک بنانے کے لئے قریش نے جو باتیں اختراع کی تھیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ اس شخص نے سابقہ آسمانی کتابوں سے فیض حاصل کیا ہے اور اس کی بنیاد یہ تھی کہ آپ کی پیش کردہ کتاب یعنی قرآن کے بہت سے مضامین تورات سے ملتے جلتے تھے اور بعض منصف اہل کتاب اسی بات کی تصدیق بھی کردیتے ہیں۔ اس آیت میں ان کے اسی اعتراض کا جواب دیا گیا ہے کہ آپ نبوت سے پیشتر نہ تو کوئی کتاب پڑھ سکتے تھے کہ اس کے مطالعہ سے آپ کو ایسی معلومات حاصل ہوں اور نہ ہی لکھ سکتے تھے کہ علمائے اہل کتاب سے سن کر اسے نوٹ کرتے جائیں اور بعد میں اپنی طرف سے پیش کردیں۔ ہاں ان میں سے کوئی بھی صورت ہوتی تو ان کافروں کے شک و شبہ کی کچھ نہ کچھ بنیاد بن سکتی تھیں۔ لیکن جب یہ دونوں صورتیں موجود نہیں تو پھر ان لوگوں کا آپ کی رسالت سے انکار، تعصب، ضد اور ہٹ دھرمی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
مِنْ قَبْلِہِ سے بعض مسلمانوں نے اس بات پر استشہاد کیا ہے کہ نبوت سے پیشتر تو آپ فی الواقع لکھ پڑھ نہیں سکتے تھے، لیکن نبوت کے بعد آپ نے لکھنا پڑھنا سیکھ لیا تھا۔ اس اختراع کی بنیاد ان مسلمانوں کی آپ سے فرط عقیدت ہے۔ وہ یہ سوچتے ہیں کہ جو رسول سارے جہاں کے لئے رسول اور معلم بنا کر بھیجا گیا تھا کیسے ممکن ہے کہ وہ لکھا پڑھا نہ ہو۔ بالفاظ دیگر وہ نبی کی ذات سے لکھا پڑھا نہ ہونے کے نقص کو دور کرنا چاہتے ہیں۔ پھر ان لوگوں کے اس دعویٰ میں موجودہ دور کے مخالفین اسلام اور مستشرق محققین بھی شامل ہوگئے۔ کیونکہ یہ دعویٰ ان کے حق میں مفید تھا۔
عقیدت مند مسلمانوں کے اس دعویٰ کے جذبہ کی ہم قدر کرتے ہیں لیکن ہمیں افسوس ہے کہ ان نادان دوستوں کا یہ دعویٰ دانا دشمنوں کے کام آرہا ہے۔ اب ہم اس دعویٰ کی تردید دو طرح سے کریں گے ایک عقلی لحاظ سے اور دوسرے تاریخی لحاظ سے۔ عقلی لحاظ سے ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ اگر ایک شخص ان پڑھ ہو کر سارے جہان کا معلم بنے تو یہ زیادہ حیران کن بات اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ ہے یا ایک شخص بہت عالم فاضل اور پڑھا لکھا ہو کر معلم بنے ؟ ظاہر ہے کہ پہلی صورت کو ہی معجزہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ پھر اس سے وہ تمام شکوک و شبہات بھی دور ہوجاتے ہیں جو اس دور کے مخالفین اسلام نے پیغمبر اسلام پر وارد کئے تھے یا اس دور کے مخالفین اسلام کر رہے تھے۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ قرآن نے دو آیات میں کی مدح کے طور پر امی کے لقب سے نوازا ہے (7: 157، 158) اور سورة جمعہ میں فرمایا : وہی تو ہے جس نے امی لوگوں میں سے ہی ایک فرد کو رسول بنا کر بھیجا (62: 2) قرآن کے انداز بیان سے بھی واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ امی کا لقب آپ کے لئے مایہ صد افتخار ہے۔
اور تاریخی لحاظ سے یہ دعویٰ اس لئے غلط ہے کہ حدیبیہ کا صلح نامہ 6 ھ میں لکھا گیا تھا۔ لکھنے والے حضرت علی ؓ تھے اور لکھانے والے رسول اللہ ﷺ ۔ جب آپ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھوایا تو قریشیوں کے سفیر سہیل بن عمرو نے یہ اعتراض کیا کہ اس کے بجائے باسمک اللھم لکھو۔ اس کے بعد آپ نے لکھوایا من محمد رسول اللہ اس پر اس نے یہ اعتراض کیا کہ من محمد بن عبداللہ لکھو۔ کیونکہ اگر ہم آپ کو اللہ کا رسول مان لیں تو پھر جھگڑا ہی کا ہے کا ہے ؟ پھر جب سفیر سہیل بن عمرو نے اپنی بات پر اصرار کیا تو آپ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا کہ یہ الفاظ مٹا کر قریش سفیر کی مرضی مطابق لکھ دو ۔ حضرت علی ؓ کہنے لگے کہ میرا تو ضمیر یہ گوارا نہیں کرتا کہ رسول اللہ کا لفظ اپنے ہاتھوں سے مٹا دوں۔ آپ نے حضرت علی ؓ سے پوچھا اچھا بتلاؤ وہ لفظ کون سا ہے ؟ اور جب حضرت علی ؓ نے بتلایا تو آپ نے خود اسے مٹا دیا۔ (بخاری۔ کتاب الشروط۔ باب الشروط فی الجہاد والمصالحہ)
یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب آپ کو نبوت عطا ہوئے 19 سال گزر چکے تھے اور اس وقت آپ کی عمر 59 سال ہوچکی تھی۔ اور اس واقعہ کے چار پانچ سال بعد آپ کی وفات ہوجاتی ہے پھر آپ نے لکھنا پڑھنا کب سیکھا تھا ؟
اور دوسرا نبوت رسول اللہ کا اپنی زبانی پر اعتراف ہے کہ : ہم امی لوگ ہیں، لکھنا اور حساب کرنا نہیں جانتے (قمری) مہینہ اتنا بھی ہوتا ہے اور اتنا بھی، پھر آپ نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں بلند کرکے بتلایا کہ کبھی تیس دن کا ہوتا ہے اور کبھی انتیس دن کا (بخاری۔ کتاب الصوم۔ باب قول النبی لا تکتب الاتحسب
Ayah 29:4981 اس آیت کے دو مطلب ہیں اگر ھُوَ کی ضمیر کو قرآن کی طرف راجع قرار دیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ قرآن کی آیات بڑے واضح دلائل پر مشتمل ہیں۔ اور یہ آیات اہل علم کے سینوں میں محفوظ ہیں۔ یعنی ان اہل علم ان آیات کو حفظ یا ازبر کرلیا ہے۔ اور یہ قرآن اسی طرح سینہ بہ سینہ اہل علم میں منتقل ہوتا جائے گا۔ اور یہ قرآن کی ایسی ناقابل تردید صفت ہے جو ابتدائے اسلام سے آج تک اور آئندہ بھی تاقیامت ہر شخص مشاہدہ کرسکتا ہے اور کرتا رہے گا۔ ہر دور میں مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد حافظ قرآن رہی ہے۔ اور یہی قرآن کی اعجازی حیثیت اور اس کی حفاظت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ قرآن کی حفاظت کا دوسرا ذریعہ کتابت قرآن ہے۔ لیکن رسول اللہ حفاظت قرآن کے پہلے ذریعہ حفظ پر ہی نسبتاً زیادہ توجہ مبذول فرمائی تھی۔ (اکثر مفسرین نے اسی تفسیر کو ترجیح دی ہے)
اب قرآن کے مقابلہ میں دوسری الٰہامی کتابوں کو دیکھوے ان کا شاذ و نادر ہی آپ کو کوئی حافظ نظر آئے گا جیسے حضرت عزیر کے متعلق منقول ہے کہ وہ تورات کے حافظ تھے۔
اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ عععع ھو کی ضمیر کو رسول اللہ کی طرف راجع قرار دیا جائے اور یہ تفسیر اس لحاظ سے راجح ہے کہ ربط مضمون اسی بات کا تقاضا کرتا ہے۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اہل علم اور اہل دانش و بینش کے لئے رسول اللہ کی رسالت کے نبوت میں ایک نہیں بلکہ بہت سے نشانیاں موجود ہیں۔ وہ اس طرح کہ دنیا میں جتنے بھی نامور شخص گزرے ہیں۔ ان کی شخصیت بنانے والے عوامل کا تاریخ سے پتہ لگایا جاسکتا ہے مگر یہاں یہ بات یکسر مفقود نظر آتی ہے۔ مثلاً تمام مخالفین اسلام یعنی قریش مکہ جانتے تھے کہ آپ لکھنا پڑھنا تک نہیں جانتے تھے۔ علم ادب عربی سے یا تاریخ امم سے واقف ہونا تو دور کی بات ہے۔ لیکن آپ نے جو کلام پیش کیا۔ باربار کے چیلنج کے باوجود عرب بھر کے فعی اور بلغار اس جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز رہ گئے تھے۔ اس کی دوسری مثال یہ ہے کہ آپ فن حرب و ضرب سے قطعاً نابلد تھے۔ نہ ہی آپ کسی جرنیل کے یا فوجی کے حتیٰ کہ سپاہی کے گھر بھی پیدا نہ ہوئے تھے لیکن جب میدان جہاد میں فوجی لشکر کی قیادت آپ نے سنبھالی تو آپ نے ایسی جنگی تدابیر اختیار کیں کہ تمام جہانوں کے جرنیلوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ غرضیکہ آپ کی زندگی کا ہر پہلو ایسے ہی حیران کن کمالات کا مجموعہ ہے۔ اور جن کے اسباب و عوامل تلاش کرنے پر دور تک کہیں نظر آتے۔ یہی وہ واضح نشانیاں ہیں جو آپ کی رسالت کا بین ثبوت ہیں۔ اور ان کا انکار کوئی کٹر متعصب ہی کرسکتا ہے۔ جبکہ اہل علم آپ کی ان خوبیوں کے دل و جان سے معترف ہوتے ہیں۔
Ayah 29:5082 معجزات کا اتارنا اللہ کا کام ہے اور میرا الوہیت کا کوئی دعویٰ نہیں کہ تمہارے معجزہ کے مطالبہ تمہیں تمہارے حسب پسند معجزہ دکھلا سکوں۔ میرا کام صرف تمہیں اللہ کا پیغام پہنچانا اور تمہیں برے انجام سے بچانا ہے۔ اس میں اگر میں کوئی کوتاہی کر رہا ہوں تو وہ مجھے بتلا دو ۔
Ayah 29:5183 یعنی پہلے انبیاء کو جتنے معجزات عطا کئے جاتے رہے وہ سب وقتی اور عارضی تھے جو کسی نے دیکھے کسی نے نہ دیکھے اور آج وہ سب ختم ہوچکے ہیں۔ لیکن یہ قرآن ایسا زندہ جاوید معجزہ ہے جس کی اعجازی کی تم خود بھی تسلیم کرتے ہو۔ پھر اور کون سا معجزہ چاہتے ہو ؟ پھر یہ کتاب اس لحاظ سے سب کے لئے اللہ کی خاص مہربانی ہے کہ وہ تمہاری زندگی کے ہر پہلو میں تمہاری ٹھیک ٹھیک راہنمائی بھی کرتی ہے۔
ربط مضمون کے لحاظ سے اس آیت کے مخاطب کفار ہیں اور اس کا وہی مطلب ہے جو اوپر بیان ہوا تاہم اس کے مخاطب مسلمان بھی ہیں۔ انھیں بھی اس کتاب کی موجودگی میں کسی اور کتاب ہدایت کی ضرورت نہیں ہے۔ خواہ وہ کوئی سابقہ آسمانی کتاب ہی کیوں نہ ہو۔ چناچہ حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عمر ؓ رسول اللہ کے پاس تورات کے کچھ اوراق لائے اور انھیں پڑھنا شروع کیا۔ آپ کا چہرہ متغیر ہو رہا تھا۔ یہ صورت حال دیکھ کر حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے حضرت عمر ؓ سے کہا کہ تم رسول اللہ کے چہرہ کی طرف نہیں دیکھتے ؟۔ حضرت عمر ؓ نے آپ کو دیکھا تو کہنے لگے کہ میں اللہ اور اس کے رسول کے غضب سے پناہ مانگتا ہوں، ہم اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور آپ کے نبی ہونے پر راضی ہوگئے۔ اس پر آپ کا غصہ فرو ہوگیا اور آپ نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ اگر آج موسیٰ ظاہر ہوجائیں اور تم مجھے چھوڑ کر اس کی پیروی کرو تو تم گمراہ ہوجاؤ گے۔ اور آج اگر موسیٰ زندہ ہوتے اور میری نبوت کا زمانہ پاتے تو میری اتباع کے سوا انھیں کوئی چارہ نہ ہوتا (مشکوۃ۔ کتاب الایمان۔ باب الاعتصام بالکتاب والسنہ۔ الفصیل الثالث)
Ayah 29:5284 کفار مکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے خالق ومالک ہونے کی صفات کے قائل تھے۔ لہذا ان سے یہ کہا گیا کہ آپ ان سے کہیئے اگر میں رسالت کا دعویٰ کرکے اس پر جھوٹ باندھنے کا ارتکاب کر رہا ہوں تو چاہئے تو یہ تھا کہ وہ مجھے ہلاک کردیتا مگر عملاً یہ ہو رہا ہے کہ وہ روز بروز مجھے اور میرے ساتھیوں کو بڑھا رہا ہے۔ پھر مجھے معجزہ بھی دیا ہے۔ جس کا جواب پیش کرنے سے تم عاجز ہو تو کیا میری رسالت پر اللہ کی یہ گواہی کافی نہیں ؟ ہاں کوئی شخص اگر یہ تہیہ کرلے کہ وہ حق بات کبھی نہ مانے گا تو وہ اور بات ہے اور یہی انسان کی سب سے بڑی بدبختی اور اس کے حق میں نقصان دہ بات ہے۔
Ayah 29:5385 اس آیت میں جس عذاب کی جلدی کا مطالبہ کیا جارہا ہے وہ دنیا کا عذاب ہے۔ اور وہ اللہ کے ضابطہ کے مطابق فتح مکہ کے دن آیا تھا۔ جب کفار مکہ کو یک دم مسلمانوں کی یلغار کی خبر ہوئی اور ان میں مقابلہ کی سکت ہی نہ رہی۔
Ayah 29:5486 اس آیت میں عذاب سے مراد اخروی عذاب ہے۔ جس میں یہ ابھی سے پڑھ چکے اور جہنم انھیں اپنے گھیرے میں لے چکی ہے۔ یہ لوگ خواہ مخواہ جلدی مچا رہے ہیں ان کے مرنے کی دیر ہے۔ یہ اپنے مطلوبہ عذاب کی آغوش میں جاپہنچیں گے۔
Ayah 29:5587 یَقُوْلُ کا ایک معنی تو وہی ہے جو ترجمہ میں مذکور ہے اور دوسرا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جہنم کا عذاب خود انھیں یہ بات کہے گا۔ چناچہ حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جس شخص کو اللہ مال دے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے تو قیامت کے دن اس کا مال ایک گنجے شانپ کی شکل بن کر، جن کی آنکھوں پر دو کالے داغ ہوں گے۔ اس کے گلے کا طوق بن جائے گا پھر اس کی دونوں باچھیں پکڑ کر کہے گا : میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔ (بخاری۔ کتاب الزکوۃ باب اثم بانع الزکوٰ ۃ)
Ayah 29:5688 آیت کے الفاظ سے ہی معلوم ہو رہا ہے کہ یہ اس وقت نازل ہوئی تھی جب کفار مکہ نے مسلمانوں پر اس قدر سختیاں روا رکھی تھیں کہ انھیں جینا بھی دو بھر ہوگیا تھا۔ اس کی مشکل کا حل اللہ تعالیٰ نے یہ بتلایا کہ اس علاقہ سے ہجرت کر جاؤ اور وہاں جاکر رہو جہاں تم آزادی سے میری عبادت کرسکو۔ واضح رہے کہ اپنے وطن اور اپنے اقرباء سے محبت انسان کی فطرت میں داخل ہے۔ لیکن یہ حب الوطنی، وطن پرستی کی حد تک، اوراقرباء سے محبت قوم پرستی کی حد تک نہیں ہونی چاہئے۔ اصل چیز اللہ کی عبادت اور اپنے دین کی حفاظت ہے اس کے مقابلہ وطن اور قبیلہ کچھ چیز نہیں۔ اور اگر دین کا فقدان کرکے وطن اور قوم کو ترجیح دی جائے تو یہی چیز وطن پرستی اور قوم پرستی بن جائے گی اور یہ کفر ہے۔
Ayah 29:5789 اس حکم کے مطابق مختلف اوقات میں تراسی افراد مکہ سے ہجرت کرکے حبشہ کی طرف چلے گئے تھے۔ انھیں مہاجرین کی تسلی کے لئے فرمایا کہ اپنی جانوں کی فکر نہ کرو۔ یہ چند روزہ زندگی ہے۔ موت تو بہرحال آکے رہے گی یہ چند دن کی زندگی جہاں میسر آئے کاٹ لو۔ پھر ہمارے پاس آکٹھے ہوجاؤ گے۔ تمہارا مقصد یہ نہیں ہونا چاہئے کہ اپنا جان و مال اور گھر بار کیسے بچایا جائے بلکہ یہ ہونا چاہئے کہ اپنا ایمان کیسے بچایا جائے۔
Ayah 29:5890 یعنی ہجرت کی صورت میں تمہارے دنیوی مفادات بھی مجروح ہوں گے اور کئی طرح کی مشکلات بھی پیش آسکتی ہیں۔ ان کے بدلہ میں اللہ نے تمہارے لئے جو اجر تیار کر رکھا ہے۔ وہ ان سب چیزوں سے بدرجہا بہتر ہے۔ جن کا تمہیں فکر ہے۔
Ayah 29:5991 نیک اعمال میں سرفہرست صبر ہے۔ اور صبر کا لفظ بڑے وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ یعنی اللہ کی راہ میں یہ پیش آنے والی مشکلات کو اللہ کی رضا کے لئے خندہ پیشانی سے برداشت کرنا بھی صبر ہے۔ اور احکام شریعت سے استقلال کے ساتھ کاربند رہنا بھی صبر ہے۔ اور مالی مفادات کے ضیاع کو درخور اعتناء نہ سمجھنا بھی صبر ہے۔ اور نیک اعمال میں سے دوسرے نمبر پر اللہ پر توکل کا ذکر فرمایا۔ اللہ پر توکل کا معنی یہ ہے کہ اللہ کے ان وعدوں پر یقین کیا جائے جو اس نے اپنے فرمانبردار بندوں سے کر رکھے ہیں۔ بالخصوص اس صورت میں جبکہ ان وعدوں کے پورا ہونے کے ظاہری اسباب بھی مفقود نظر آرہے ہوں۔