Ayah 29:6092 ہجرت کرنے میں ایک بڑی رکاوٹ اپنے ذریعہ معاش کی فکر ہوتی ہے۔ مہاجر ایک تو اپنے وطن سے اپنا ذریعہ معاش چھوڑ کرجاتا ہے دوسرے اسے یہ فکر لاحق ہوتی ہے کہ جہاں وہ ہجرت کرکے جارہا ہے وہاں اس کے ذریعہ معاش کی کیا صورت ہوگی ؟ ایسے خطرات کو اللہ کے وعدہ پر یقین کرتے ہوئے یقین کرلینے کا نام ہی توکل ہے۔ اور بتلایا یہ جارہا ہے کہ بیشمار جاندار ایسے ہیں۔ ہر روز نئی روزی ملتی ہے اور جو اللہ جانوروں تک کو روزی پہنچاتا ہے وہ اپنے فرمانبرداروں کو کیوں نہ پہنچائے گا۔ چناچہ حضرت عمر ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : اگر تم اللہ پر ایسا توکل کرتے جیسا کرنے کا حق ہے تو تم کو بھی اسی طرح رزق دیا جاتا ہے جس طرح پرندوں کو دیا جاتا ہے۔ وہ صبح بھوکے جاتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں (ترمذی۔ ابو اب الزہد۔ باب ماجاء فی قلہن الطعام)
Ayah 29:6193 یہ خطاب صرف مہاجرین کو ہی نہیں بلکہ اس خطاب میں سب مشترک ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ زمین و آسمان اور سورج اور چاند، سب کو پیدا کرنے والا اور انھیں اپنے اپنے کام پر لگانے والا اللہ ہے۔ اور انسان کی تمام ضروریات زندگی اسی نظام سے وابستہ ہیں۔ انھیں ضروریات میں سے ایک ضرورت کھانے پینے کی اور ذریعہ معاش کی ضرورت ہے۔ تو مسلمان جہاں بھی ہجرت کرکے جائیں گے۔ یہ سارا نظام وہاں بھی موجود ہوگا اور اللہ تمہیں وہاں بھی ایسے ہی روزی مہیا کرے گا جیسے یہاں کر رہا ہے لہذا اس پر توکل کرو۔
اور اس خطاب کا روئے سخن مشرکین مکہ کی طرف سمجھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تمہاری زندگی اور زندگی کا بقا کا سارا سامان تو اللہ نے مہیا کیا ہے۔ پھر تم اپنے معبودوں کو اللہ کے شریک اور مدمقابل کیسے ٹھہراتے ہو ؟ یہ کہاں سے تمہیں عقل کا پھیر لگ جاتا ہے ؟
Ayah 29:6294 مال کی محبت انسان کی فطرت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اور ہر انسان چاہتا ہے کہ اسے زیادہ سے زیادہ مال و دولت ملے۔ لیکن اللہ اتنا ہی دیتا ہے جتنا وہ خود چاہتا ہے۔ کسی کو زیادہ، کسی کو کم۔ لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی کو کچھ بھی نہ دے، دیتا ضرور ہے۔ اور اس میں بھی اس کی کئی حکمتیں اور بندوں کی مصلحتیں مضمر ہیں۔
95 وہ یہ بات خوب جانتا ہے کہ فلاں بندے کو اگر رزق زیادہ دیا گیا تو وہ اس سے خیر اور بھلائی ہی کمائے گا اور فلاں کو زیادہ دیا گیا تو وہ میری یاد سے غافل اور سرکش اور متکبر بن جائے گا اور کہیں کسی کو مال کو زیادہ دے کر اسے ابتلاء میں ڈال دیتا ہے۔ غرضیکہ مال سے جتنی انسان کو محبت ہے اتنا ہی وہ مال اس کے حق میں فتنہ بھی بن سکتا ہے۔ چناچہ ثعلبہ بن حاطب انصاری نے رسول اللہ سے عرض کیا کہ میرے لئے مال و دولت کی دعا کیجئے۔ آپ نے فرمایا۔ تھوڑی چیز جس پر تم اللہ کا شکر ادا کرتے رہو اس زیادہ سے بہتر ہے جس سے تم اللہ کے حقوق بھی ادا نہ کرسکو۔ اس نے دوبارہ ایسی دعا پر اصرار کیا تو آپ نے فرمایا : ثعلبہ کیا تجھے یہ بات پسند نہیں کہ تم میرے نقش قدم پر چلو۔ پھر بھی اس کا اصرار بڑھتا گیا اور اس نے وعدہ کیا کہ اگر مجھے اللہ نے مال دیا تو میں اس کے حقوق پوری طرح ادا کروں گا۔ چناچہ آپ نے اس کے حق میں دعا فرما دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی بکریوں میں اتنی برکت ہوئی کہ اسے مدینہ سے باہر ڈیرہ لگانا پڑا۔ پھر اس پر آزمائش کا دور شروع ہوا اور وہ فرض نمازوں سے مسجد میں غیر حاضر رہنے لگا۔ پھر مصروفیت بڑھی تو نماز جمعہ بھی ترک ہونے لگی۔ کچھ دنوں بعد آپ نے زکوٰ ۃ وصول کرنے والا اس کے پاس بھیجا تو کہنے لگا کہ زکوٰ ۃ بھی تو ایک طرح کا جزیہ ہی ہے۔ ایک دو دفعہ تو محصل کو ٹالتا رہا۔ آخر زکوٰ ۃ دینے سے صاف انکار کردیا۔ اس وقت آپ نے تین بار فرمایا : ویح ثعلبہ (ثعلبہ تباہ ہوا) اس بات سے اس کے رشتہ داروں نے اسے مطلع کیا تو وہ زکوٰ ۃ لے کر خود حاضر ہوا۔ آپ نے فرمایا : مجھے اللہ تعالیٰ نے تمہاری زکوٰ ۃ لینے سے منع فرما دیا ہے۔ اب یہ چیز اس کے لئے بڑی عار کا باعث بن گئی۔ مگر چونکہ دل میں نفاق آگیا تھا اس لئے اللہ کے حضور توبہ نہ کی اور اپنے مال میں ہی مگن رہا۔ آپ کی وفات کے بعد وہ دور صدیقی میں پھر زکوٰ ۃ لے کر آیا تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جواب دیا کہ جس مال کو اللہ کے رسول نے اللہ کے حکم کے مطابق قبول نہ کیا تھا میں کیسے کرسکتا ہوں ؟ پھر وہ دور فاروقی میں زکوٰ ۃ لے کر آیا پھر اس کے بعد حضرت عثمان ؓ کے پاس آیا۔ لیکن اب سب کا یہی جواب تھا کہ ہم اللہ کے حکم اور اللہ کے رسول کی منشاء کے خلاف یہ زکوٰ ۃ کیسے قبول کرسکتے ہیں۔ آخر دور عثمانی میں اسی نفاق کی حالت میں اس کا خاتمہ ہوا۔
اب ایک دوسرا واقعہ ملاحظہ فرمائیے : ایک دفعہ رسول اللہ صدقہ کا کچھ مال تقسیم فرما رہے تھے۔ آپ نے سب کو نہیں دیا، کسی کو دیا اور کسی کو چھوڑ دیا۔ پھر آپ نے اس تقسیم کی وضاحت فرماتے ہوئے کہا میں اس شخص کو مال دیتا ہوں جس کے دل میں بےچینی اور بوکھلا پن پاتا ہوں۔ حالانکہ جن لوگوں کو نہیں دیتا وہ مجھے ان سے زیادہ محبوب ہوتے ہیں جنہیں میں یہ مال دیتا ہوں اور جن محبوب لوگوں کو نہیں دیتا تو اس وجہ سے اللہ نے ان کے دلوں میں سیرچشمی اور بھلائی رکھی ہوتی ہے۔ ایسے ہی لوگوں میں سے ایک عمرو بن تغلب ہے۔ عمرو بن تغلب کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! کہ جو خوشی مجھے آپ کی اس بات سے ہوئی اگر مجھے سرخ اونٹ بھی ملتے تو اتنی خوشی نہ ہوتی۔ (بخاری۔ کتاب الجمع۔ باب من قال فیالخطبہ بعد الثناء اما بعد)
ان واقعات سے معلوم ہوجاتا ہے کہ کسی کو کم یا زیادہ دینے میں اللہ کی کیا کچھ حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔
Ayah 29:6396 زمین پر آسمان سے بارش برسنے، پھر زمین سے نباتات برآمد ہونے میں اللہ نے اپنی جس قدر مخلوق کو لگا رکھا ہے۔ پھر اس بارش سے جو فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ ان پر غور کرنے سے بےاختیار انسان کی زبان سے اللہ کی تعریف جاری ہوجاتی ہے۔ اور الحمد للہ کا عربی زبان میں دوسرا استعمال یہ ہے کہ جب فریق مخالف پر کوئی ایسی دلیل پیش کی جاوے جو اس کے ہاں مسلم ہو اور وہ اس کے برعکس کام کر رہا ہو تو اس وقت اتمام حجت کے طور پر الحمدللہ کہا جاتا ہے۔ اس آیت میں الحمدللہ کا لفظ اپنے دونوں مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔
Ayah 29:6497 اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا میں سرے سے کوئی سنجیدگی اور حقیقت ہے ہی نہیں۔ اللہ کے فرمانبرداروں اور اسے آخرت مقابلہ میں حقیر سمجھنے والوں کے لئے اس دنیا کی۔ زندگی کا ایک ایک لمحہ نہایت قیمتی ہوتا ہے اور وہ اس زندگی سے فائدہ اٹھا کر آخرت کماتے ہیں۔ دنیا کی زندگی محض کھیل تماشا آخرت کے مقابلہ میں ہے۔ اور ان لوگوں کے لئے ہے جو دنیا کی محبت میں مستغرق رہتے اور اللہ اور آخرت کی یاد سے غافل رہتے ہیں۔ انھیں واقعی یہ دنیا ایک کھیل تماشا ہی معلوم ہوگی۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کوئی بازی گر کٹھ پتلیوں کا تماشا دکھاتا ہے۔ ایک بادشاہ ہوتا ہے کچھ وزیر اور کچھ دوسرے کردار ہوتے ہیں۔ اور ڈرامہ مکمل ہونے کے بعد سب لوگوں کے سامنے تماشا دکھا کر غائب ہوجاتے ہیں۔ بالکل یہی صورت حال دنیا کے بادشاہوں اور دوسرے لوگوں کی ہوتی ہے۔ لہذا کسی شخص کو بھی دنیا کی دلفریبیوں اور رعنائیوں میں پھنس کر اللہ کی یاد سے غافل نہیں رہنا چاہئے۔
Ayahs 29:65–6698 یعنی اس سے زیادہ ناشکری کی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ ان کی ضروریات زندگی تو سب اللہ تعالیٰ مہیا کرے اور جب جان پر بن جائے تو اس مصیبت سے نجات بھی اللہ ہی دے۔ لیکن جب آسودہ حالی کا وقت آئے تو انسان نہ صرف یہ کہ اللہ کو بھول جائے۔ بلکہ اس کے اختیارات میں دوسروں کو بھی شریک بنانے لگے۔ اس آیت میں دور نبوی کے مشرکوں کا ذکر ہے جو کم از کم آڑے وقتوں میں تو اکیلے اللہ کو پکارتے تھے۔ مگر آج کا مشرک ان مشرکوں سے بازی لے گیا ہے۔ جو عقیدہ ہی یہ رکھتا ہے کہ اس کا بیر اس کے ہر کام اور اس کے سارے احوال سے واقف ہوتا ہے اور مشکل وقت میں اس سے فریاد کرنے پر فوراً وہ مدد کو پہنچ جاتا ہے۔ اور موت سامنے کھڑی دیکھ کر بھی یا بہاء الحق بیڑا بنے دھک جیسے نعرے لگاتا اور اپنے پیر کو فریاد رسی کے لئے پکارتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ اس کی وجہ کے لئے سورة یونس کا حاشیہ نمبر 34 ملاحظہ فرمائیے۔
Ayah 29:6799 مکہ اور اس کے مضافات کو اللہ تعالیٰ نے ہی حرم بنایا کہ عرصہ اڑھائی ہزار سال سے یہ لوگ اس پرامن حرم کے فوائد سے فائدے اٹھا رہے ہیں اور عربی قبائل کی لوٹ مار سے محفوظ اور پرامن زندگی گزار رہے ہیں۔ پھر اسی وجہ سے انھیں عرب بھر میں سیاسی اقتدار حاصل ہے۔ انھیں دور دراز مقامات سے رزق بھی پہنچ جاتا ہے۔ اور بہت سے تجارتی فوائد ہی حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے کسی بت، لات، منات، ہبل یا کسی دوسرے بت میں یہ طاقت نہ تھی کہ وہ اس خطہ ارضی کو پرامن حرم بنا سکتا۔ اللہ کی اس نعمت کا تقاضا تو یہ تھا کہ یہ لوگ اللہ کا شکر ادا کرتے اور اس کے فرمانبردار بن کر رہتے۔ مگر یہ لوگ اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجائے الٹا دوسرے معبودوں کو اللہ کا شریک بنا رہے تھے۔
Ayah 29:68100 اللہ کے رسول نے اپنی رسالت کا دعویٰ کیا تو ان لوگوں نے اس کو جھٹلا دیا۔ اب اس کی دو ہی صورتیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ رسول نے یہ جھوٹا دعویٰ کیا ہو اور اللہ پر جھوٹ باندھا ہو۔ تو وہ سب سے زیادہ ظالم ہوا۔ اور اگر وہ سچا ہو اور فی الواقعہ اللہ نے اسے رسول بنایا ہو لیکن یہ لوگ اسے جھٹلا دیں۔ تو یہ سب سے زیادہ ظالم ہوئے۔ اب جو بھی ظالم ہوگا اسے بہرحال دوزخ کا عذاب بھگتنا ہوگا۔ آگے یہ لوگ اپنا انجام خوب ہوتا سمجھ لیں۔
Ayah 29:69101 یعنی انسان کا کام یہ ہے کہ وہ نہایت نیک نیتی سے اللہ کے راہ پر گامزن ہوجائے۔ اس راستہ میں کون کون سی مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ اور ان کا کیا حل ہوسکتا ہے یہ سوچنا انسان کے بس سے باہر ہے کیونکہ نہ اسے پیش آنے والی مشکلات کا پہلے سے صحیح اندازہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی اللہ کی تقدیر کے مقابلہ میں انسان کی تدبیر کسی کام آسکتی ہے۔ انسان کا کام اعلائے کلمہ اللہ کے لئے اس کی مقدور بھر کوشش ہے اور اس کی لازمی شرط محض اللہ کی رضا مندی اور خلوص نیت ہے۔ اس شرط کے ساتھ اگر کوئی فرد یا کوئی جماعت جہاد کی کسی بھی قسم کے لئے گامزن ہوجائے گا تو اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات کا حل خود ہی سجھاتا جائے گا خلوص اور نیک نیتی ہوگی تو راہیں خود بخود کھلتی جائیں گی اور اللہ تعالیٰ دستگیری اور مدد فرماتا جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خود بھلے کام کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ راہیں سجھاتا بھی ہے، کھولتا بھی ہے اور بروقت مدد کو بھی پہنچتا ہے۔ انسان کا کام صبر و استقلال اور نیک نیتی کے ساتھ آگے بڑھتے جانا ہے۔
واضح رہے کہ یہاں جہاد سے مراد صرف قتال فی سبیل اللہ ہی نہیں بلکہ جہاد کی جملہ اقسام ہیں۔ جن کی تفصیل کسی دوسرے مقام پر دی جاچکی ہے۔