Saba 34:10

Saba · from ayah 10

34:10

وَلَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا ؕ— یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَهٗ وَالطَّیْرَ ۚ— وَاَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَ ۟ۙوَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضۡلًا ؕ يٰجِبَالُ اَوِّبِىۡ مَعَهٗ وَالطَّيۡرَ ۚ وَاَلَــنَّا لَـهُ الۡحَدِيۡدَ

اور ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے برتری بخشی تھی۔ اے پہاڑو ان کے ساتھ تسبیح کرو اور پرندوں کو (ان کا مسخر کردیا) اور ان کے لئے ہم نے لوہے کو نرم کردیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We certainly gave David from Us bounty. [We said], "O mountains, repeat [Our] praises with him, and the birds [as well]." And We made pliable for him iron,

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 2 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Saba

All translations of 34:10

ہم نے داؤدؑ کو اپنے ہاں سے بڑا فضل عطا کیا تھا (ہم نے حکم دیا کہ) اے پہاڑو، اس کے ساتھ ہم آہنگی کرو (اور یہی حکم ہم نے) پرندوں کو دیا ہم نے لوہے کو اس کے لیے نرم کر دیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے برتری بخشی تھی۔ اے پہاڑو ان کے ساتھ تسبیح کرو اور پرندوں کو (ان کا مسخر کردیا) اور ان کے لئے ہم نے لوہے کو نرم کردیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم نے داؤد پر اپنا فضل کیا، اے پہاڑو! اس کے ساتھ رغبت سے تسبیح پڑھا کرو اور پرندوں کو بھی (یہی حکم ہے) اور ہم نے اس کے لئے لوہا نرم کردیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور واقعہ یہ ہے کہ ہم نے داؤد کو خاص اپنے پاس سے فضل عطا کیا تھا۔ اے پہاڑو ! تم بھی تسبیح میں ان کے ساتھ ہم آواز بن جاؤ، اور اے پرندو ! تم بھی۔ اور ہم نے ان کے لیے لوہے کو نرم کردیا تھا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک ہم نے داؤد کو اپنا بڑا فضل دیا اے پہاڑو! اس کے ساتھ اللہ کی رجوع کرو اور اے پرندو! اور ہم نے اس کے لیے لوہا نرم کیا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک ہم نے داؤد ؑ کو اپنی بارگاہ سے بڑا فضل عطا فرمایا، (اور حکم فرمایا:) اے پہاڑو! تم اِن کے ساتھ مل کر خوش اِلحانی سے (تسبیح) پڑھا کرو، اور پرندوں کو بھی (مسخّر کر کے یہی حکم دیا)، اور ہم نے اُن کے لئے لوہا نرم کر دیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ یقینا ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے بڑا فضل عطا کیا، اے پہاڑو ! اس کے ساتھ تسبیح کو دہراؤ اور پرندے بھی اور ہم نے اس کے لیے لوہے کو نرم کردیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ہم نے داؤد کو اپنے ہاں سے بزرگی عطا کی تھی (اور پہاڑوں کو حکم دیا تھا کہ) اے پہاڑو ! داؤد کے ساتھ (تسبیح میں) ہم آہنگ ہوجاؤ اور پرندوں کو بھی (یہ حکم دیا تھا) اور ہم نے اس کے لئے لوہے کو نرم کردیا تھا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے دائود کو اپنے خاص فضل سے نوازا۔ اے پہاڑوِ تم بھی اس کے ساتھ تسبیح میں شرک کرو اور یہی حکم ہم نے پرندوں کو بھی دیا۔ اور ہم نے اس کے لئے لوہے کو نرم کردیا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بلاشبہ ہم نے داؤد کو بھی اپنی طرف سے بڑی فضیلت بخشی تھی (اور پہاڑوں سے بھی کہہ دیا تھا کہ) اے پہاڑو ! تم بھی تسبیح کیا کرو ان کے ساتھ اور پرندوں کو بھی (یہی حکم دیا تھا) اور ہم نے ان کے لئے لوہے کو بھی نرم کردیا تھا

— مولانا اسحاق مدنی

اور پرندوں کو (بھی یہی حکم دیا) اور داؤد ؑ کے واسطے ہم نے لوہے کو نرم کردیا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے دائود ؑ کو اپنی طرف سے خاص فضل عطا کیا تھا (ہم نے حکم دیا کہ) اے پہاڑو ! تم تسبیح کو دہرائو اس کے ساتھ اور پرندوں کو بھی (یہی حکم دیا تھا) اور ہم نے اس کے لیے لوہے کو نرم کردیا تھا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے برتری بخشی تھی اے پہاڑو ! ان کیساتھ تسبیح کرو اور پرندوں کو ان کے تابع کردیا اور ان کے لیے لوہے کو ہم نے نرم کردیا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We bestowed Our favour upon David. (We commanded): “O mountains, sing Allah's praises with him”; (and so did We command) the birds. We softened the iron for him, (saying):

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely We bestowed grace on Dawud from Us: :O mountains, pronounce with him Allah‘s purity repeatedly – and you too O birds! And We made the iron soft for him

— Muhammad Taqi Usmani

Surely We bestowed grace on Dawud from Us: :O mountains, pronounce with him Allah‘s purity repeatedly – and you too O birds! And We made the iron soft for him

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And indeed We bestowed grace on Dawud from Us (saying): "O you mountains! Glorify with him! And you birds (also)! And We made the iron soft for him."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And assuredly We gave David grace from Us, (saying): O ye hills and birds, echo his psalms of praise! And We made the iron supple unto him,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We certainly gave David from Us bounty. [We said], "O mountains, repeat [Our] praises with him, and the birds [as well]." And We made pliable for him iron,

— Saheeh International

We granted David a favor by commanding the mountains and birds to sing Our praise along with him and softened iron for him

— Muhammad Sarwar

And certainly We gave to Dawood excellence from Us: O mountains! sing praises with him, and the birds; and We made the iron pliant to him,

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly We vouchsafed Unto Da'ud grace from us,' and said: mountains! repeat Our praise with him; and also ye birds! And We softened for him the iron.

— Abdul Majid Daryabadi

We bestowed Grace aforetime on David from ourselves: "O ye Mountains! Sing ye back the Praises of Allah with him! and ye birds (also)! And We made the iron soft for him;-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 34:10

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 10–11

حضرت داؤد پر انعامات الٰہی۔ اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول حضرت داؤد ؑ پر دنیوی اور اخروی رحمت نازل فرمائی۔ نبوت بھی دی بادشاہت بھی دی لاؤ لشکر بھی دیئے طاقت و قوت بھی دی۔ پھر ایک پاکیزہ معجزہ یہ عطا فرمایا کہ ادھر نغمہ داؤدی ہوا میں گونجا، ادھر پہاڑوں اور پرندوں کو بھی وجد آگیا۔ پہاڑوں نے آواز میں آوا زملا کر اللہ کی حمد وثناء شروع کی پرندوں نے پر ہلانے چھوڑ دیئے اور اپنی قسم قسم کی پیاری پیاری بولیوں میں رب کی وحدانیت کے گیت گانے لگے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ رات کو حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے جسے سن کر اللہ کے رسول ﷺ ٹھہر گئے دیر تک سنتے رہے پھر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة سَبـَا 14 اشارہ ہے ان بیشمار عنایات کی طرف جن سے اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد ؑ کو نوازا تھا۔ وہ بیت اللحم کے رہنے والے قبیلہ یہو واہ کے ایک معمولی نوجوان تھے۔ فلستیوں کے خلاف ایک معرکے میں جالوت جیسے گرانڈیل دشمن کو قتل کر کے یکایک وہ بنی اسرائیل کی آنکھوں کا تارا بن گئے۔ اس واقعہ سے ان کا عروج شروع ہوا یہاں تک کہ طالوت کی وفات کے بعد پہلے وہ خبرون (موجودہ الخلیل) میں یہودیہ کے فرمانروا بنائے گئے، پھر چند سال بعد تمام قبائل بنی اسرائیل نے مل کر ان کو اپنا بادشاہ منتخب کیا، اور انہوں نے یروشلم کو فتح کر کے اسے دولت اسرائیل کا پایہ تخت بنایا۔ یہ انہی کی قیادت تھی جس کی بدولت تاریخ میں پہلی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور ہم نے داؤد ؑ کو اپنی طرف سے بڑی نعمت دی تھی (چنانچہ ہم نے پہاڑوں کو حکم دیا تھا کہ) اے پہاڑو ! داؤد کے ساتھ بار بار تسبیح کرو (یعنی جب یہ ذکر میں مشغول ہوں تم بھی ان کا ساتھ دو) اور (اسی طرح) پرندوں کو بھی حکم دیا (کہ ان کے ساتھ تسبیح کرو کما قال اللہ تعالیٰ (آیت) انا سخرنا الجبال معہ یسبحن بالعشی ولاشراق والطیر محشورة الخ شاید اس میں ایک حکمت یہ ہو کہ ان کو ذکر میں نشاط ہوگا اور یہ بھی حکمت ہو کہ آپ کا ایک معجزہ ظاہر ہوگا اور غالباً یہ تسبیح ایسی ہوگی کہ سننے والے بھی سمجھ لیں ورنہ غیر مفہوم تسبیح تو عام ہے، اس میں معیت داؤد ؑ کی کیا تخصیص ہے کما قال تعالیٰ (آیت) وان من شئی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

2۔ آگے کا مضمون۔ آیات 10۔ 21 آگے تاریخ سے دو مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ پہلی مثال حضرت دائود سلیمان علیما الاسلام کی ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے عطیم بادشاہی، عطیم علم وحمت اور آسمان و زمین کی بیشمار نعمتوں سے نوازا اور ہو ان نعمتوں کو پاکر طغیان و فساد میں متبال نہیں ہوئے بلکہ برابر اپنے رب کے شکر گزار اور فرماں بردار رہے۔ ان کی اس شکر گزاری کا صلہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ دیا کہ ان کے لئے نعمتوں میں برابر اضافہ پر اجافہ ہوتا رہا۔ دوسری مثال اہل سبا کی ہے۔ ان کو بھی ایک نہایت آباد و زرخیر ملک کی حکومت ملی لیکن وہ اس کو پاکر طغیان و فساد میں مبتلا ہوگئے بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک سیلاب بھیج کر اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

10۔ 1 یعنی نبوت کے ساتھ بادشاہت اور کئی امتیازی خوبیوں سے نوازا۔ 10۔ 2 ان میں سے ایک حسن صوت کی نعمت تھی، جب وہ اللہ کی تسبیح پڑھتے تو پتھر کے ٹھوس پہاڑ بھی تسبیح خوانی میں مصروف ہوجاتے، اڑتے پرندے ٹھہر جاتے اور زمزمہ خواں ہوجاتے، یعنی پہاڑوں اور پرندوں کو ہم نے کہا، چناچہ یہ بھی داؤد ؑ کے ساتھ مصروف تسبیح ہوجاتے۔ والطیر کا عطف یا جبال کے محل پر ہے اس لیے کہ جبال تقدیرا منصوب ہے اصل عبارت اس طرح ہے نادینا الجبال والطیر (ہم نے پہاڑوں اور پرندوں کو پکارا) یا پھر اس کا عطف فضلا پر ہے اور معنی ہوں گے وسخرنا لہ الطیر (اور ہم نے پرندے ان کے تابع کردیئے (فتح القدیر) 10۔ 3 یعنی لوہے کو آگ میں تپائے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

3: حضرت داؤد ؑ خود بھی بہت خوش آواز تھے، اور اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں اور پرندوں کو بھی ان کے لئے مسخر کردیا تھا کہ جب وہ ذکر اور تسبیح میں مشغول ہوں تو پہاڑ اور پرندے بھی ان کے ساتھ تسبیحْ اور ذکر کرنے لگتے تھے، اور ماحول میں ایک پر کیف سماں بندھ جاتا تھا، پہاڑوں اور پرندوں کو ذکر و تسبیح کی صلاحیت عطا ہونا حضرت داؤد ؑ کا خاص معجزہ تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

درس نمبر 195 ایک نظر میں اس سبق میں شکر اور سرکشی کی دو صورتیں پیش کی گئی ہیں اور یہ مثال بھی دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کیلئے ایسی قوتیں مسخر کردیتے ہیں جو عموماً لوگوں کے لئے مسخر نہیں کی جاتیں۔ لیکن اللہ کی مشیت اور اللہ کی تقدیر کو لوگوں کی عادات کے تابع نہیں کیا جاسکتا۔ ان نقوش کے درمیان جنوں کی حقیقت بھی سامنے آتی ہے جن کو پوجا بعض عرب کیا کرتے تھے یا ان سے یہ عرب قبائل غیب کی خبریں طلب کرتے تھے جبکہ یہ جنات بذات خود غیب کی خبروں سے محروم ہوتے ہیں۔ اس سبق میں گمراہی کے وہ اسباب بھی بیان کیے گئے ہیں جن کے ذریعے شیطان لوگوں کو گمراہ کرتا ہے۔ لیکن یہ اسباب انسان کے دائرہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی نبوت کے ساتھ غیر معمولی سلطنت عنایت فرمائی۔ 6 حضرت داؤد (علیہ السلام) کبھی کبھی جنگل میں نکلتے، خدا کو یاد کرتے، خوف الٰہی سے روتے، تسبیح و تہلیل میں مشغول رہتے اور اپنی ضرب المثل خوش آوازی سے زبور پڑھتے، اس کی عجیب و غریب تاثیر سے پہاڑ بھی ان کے ساتھ تسبیح پڑھنے لگتے تھے اور پرندے ان کے گرد جمع ہو کر اسی طرح آواز کرتے۔ حق تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان کو یہ خاص بزرگی عطا فرمائی تھی۔ ورنہ پہاڑوں کی تسبیح سے مراد محض ان کی آواز بازگشت ہو، یا وہ عام تسبیح جو ہر چیز زبان حال یا قال سے کرتی رہتی ہے تو حضرت داؤد کے مخصوص فضل و شرف کے ذیل میں اس چیز کا ذکر کرنا محض بےمعنی ہوگا۔ (العیاذ باللہ) "…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 10 { وَلَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا } ”اور ہم نے دائود علیہ السلام کو اپنی طرف سے خاص فضل عطا کیا تھا۔“ حضرت دائود اور حضرت سلیمان ﷺ کا ذکر اس سے پہلے سورة النمل میں آچکا ہے۔ وہاں حضرت دائود علیہ السلام کا ذکر بہت اختصار کے ساتھ ہے جبکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے حالات تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔ اب اس سورت میں بھی حضرت دائود علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام دونوں ہی کا ذکر ہے ‘ مگر یہاں حضرت دائود علیہ السلام کی شخصیت کو نسبتاً زیادہ نمایاں کیا گیا ہے۔ { یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَہٗ وَالطَّیْرَ } ”ہم نے حکم دیا کہ اے پہاڑو ! تم تسبیح کو دہرائو اس کے ساتھ اور پرندوں کو بھی یہی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

14 وہ بزرگی یہ تھی کہ آپ بچپن میں محض ایک گڈریے تھے۔ اور بکریاں چرایا کرتے تھے۔ پھر اللہ نے آپ کو حکومت بھی عطا فرمائی اور نبوت بھی۔ اور یہ تفصیل پہلے سورة بقرہ کی آیات نمبر 251 کے تحت گزر چکی ہے۔ 15 آپ کی خوش الحانی، پہاڑوں اور پرندوں کی آپ سے بہم خوائی کے لئے (دیکھو سورة انبیاء کی آیت نمبر 79 کا حاشیہ نمبر 67) 16 آپ کے ہاتھ میں لوہے کا نرم ہونا اور آپ کے لوہے کی زرہیں بنانے کے لئے (دیکھئے سورة انبیاء کی آیت نمبر 80 کا حاشیہ نمبر 68)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 10–11

13۔ (اس لئے رعایت حدود کا پورا اہتمام رکھو) حضرت داؤد (علیہ السلام) کی زرہ سازی پر حاشیے سورة الانبیاء پ 17 میں گزرچکے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) ایک طرف نبوت و رسالت اور دوسری طرف حکومت وسلطنت کے باوجود اپنا مستقل ذریعہ معاش صنعت زرہ سازی کو بنائے ہوئے تھے۔ اور اسی کی تجارت کرتے تھے تو ایسے سے یہ مسئلہ بھی نکل آیا کہ صناعی ودستکاری منصب نبوت کے بھی منافی نہیں۔ چہ جائیکہ مرتبہ ولایت کے ! مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے تین مسئلے نکلے۔ ایک خرق عادت کا اثبات، دوسرے دستکاری سے کمانے کی فضیلت، تیسرے ہر کام میں اعتدال، انتظام وتناسب کی رعایت یہاں تک کہ امور حسی ودنیوی میں بھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–14

آیت نمبر 10 تا 14 ترجمہ : اور ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے بڑی نعمت عطاء کی یعنی نبوت اور کتاب، اور ہم نے کہا اے پہاڑ اور اے پرندو تم داؤد کے ساتھ تسبیح دہراؤ، طیرَ منصوب ہے جبال کے محل پر عطف ہونے کی وجہ سے، اور ہم نے داؤد کے ساتھ تسبیح پڑھنے کا حکم دیا، اور ہم نے ان کے لئے لوہا نرم کردیا چناچہ (حضرت) داؤد (علیہ السلام) کے ہاتھ میں لوہا گوندھے ہوئے آٹے کے مانند ہوگیا اور ہم نے حکم دیا کہ لوہے کی لمبی (مکمل) زرہ بناؤ کہ ان کو پہننے والا زمین میں گھسیٹے اور بنانے میں یکسانیت کا خیال رکھو زرہ سازکو ” سراد “ کہتے ہیں یعنی ایسی زرہ بناؤ کہ اس کے حلقے مساوی ہوں، اے آل داؤد تم داؤد کی معیت میں نیک کام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد اتینا داود منا فضلا . اور بلاشبہ داؤد کو ہم نے اپنی طرف سے فضیلت عطا کی۔ یعنی بہت سے مؤمن بندوں پر برتری عطا کی۔ اس مضمون کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے ‘ جس میں حضرت سلیمان کے قول کو اللہ نے نقل کیا ہے ‘ حضرت سلیمان نے کہا تھا : اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰی کَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِہِ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ نبوت ‘ کتاب اللہ (زبور) حکومت ‘ خوش آوازی ‘ آپ کے ہاتھ میں (بغیر تپائے) لوہے کا نرم ہوجانا وغیرہ۔ یہ سب چیزیں فضائل داؤد کی مختلف صورتیں تھیں۔ یجبال اوبی معہ . اے پہاڑو ! داؤد کے ساتھ تسبیح پڑھو۔ اِیابٌ کا معنی ہے رجوع کرنا ‘ یعنی جب داؤد تسبیح میں مشغول ہوں تو تم بھی ان کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

ہم نے داؤد کو بادشاہت اور نبوت عطا کی۔ چناچہ ہم نے پہاڑوں کو حکم دیا کہ داؤد کے ساتھ تسبیح کرو اور اسی طرح پرندوں کو بھی ان کے تابع کردیا۔ اور ہم نے ان کے لیے مٹی کی طرح لوہے کو نرم کردیا کہ وہ اس سے جو چاہیں بنا لیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا : ”فضلا“ پر تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑا فضل“ کیا گیا ہے۔ پچھلی آیات کے ساتھ داؤد ؑ کے ذکر کی مناسبت یہ ہے کہ پچھلی آیت میں فرمایا کہ زمین و آسمان میں ہر اس بندے کے لیے عظیم نشانی اور عبرت ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔ اب اپنے رجوع کرنے والے کچھ بندوں کا اور ان کے چند واقعات کا ذکر فرمایا، ان میں سے ایک داؤد ؑ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر بہت سی عنایات فرمائیں اور انھیں متعدّد قسم کی نعمتیں بخشیں۔ ان پر اللہ تعالیٰ کی چند عنایات کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے جو قرآن یا حدیث میں آئی ہیں۔ وہ بکریاں چرانے والے ایک عام نوجوان تھے۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت : ولقد اتینا داود منا فضلا حضرت محمد ﷺ کی نبوت کے منکروں کے لیے اس امر کو بیان کیا کہ رسولوں کو بھیجنا کوئی نیا امر نہیں بلکہ ہم نے رسولوں کو مبعوث کیا اور معجزات کے ساتھ ان کی تائید کی اور جنہوں نے ان کی مخالفت کی ہم نے ان پر عذاب کو نازل فرمادیا۔ اتینا فضلا ہم نے ایسا امر عطا کیا جس کے ذریعے ہم نے اسے دوسرے لوگوں پر فضیلت دی۔ اس فعل میں اختلاف ہے جس کے بارے میں نو قول ہیں (1) نبوت (2) ذبور (3) علم، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ؛ آیت : ولقد اتینا داود وسلیمن علما (النمل : 15) (4) قوت اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے آیت : واذکر عبدنا داود ذالاید (ص : 17) (5) پہاڑوں اور لوگوں کو مسخر کرنا، اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–11

1۔ ابن ابی شیبہ نے المصنف میں وابن جریر نے ابن عباس رضٰ اللہ عنہما سے روایت کیا کہ آتی اوبی معہ یعنی میری تسبیح بیان کرو داوٗد (علیہ السلام) کے ساتھ۔ 2۔ ابن جریر نے ابو میسرہ ؓ سے روایت کیا کہ آتی اوبی معہ یعنی میری تسبیح بیان کرو ان کے ساتھ حبشی زبان میں 3۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا آیت اوبی معہ یعنی میری سبیح بیان کرو۔ 4۔ عبد بن حمید نے عکرمہ اور ابو عبدالرحمن رحمہما اللہ سے اسی طرح روایت کیا۔ 5۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا آیت یجبال اوبی معہ والطیر اے پہاڑو داوٗد کے ساتھ تسبیح پڑھ پرندوں کے ساتھ اسی طرح آپ کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا [اور بیشک ہم دے چکے ] دَاوٗدَ [داؤد علیہ سلام کو ] مِنَّا [اپنے پاس سے ] فَضْلًا ۭ [ایک فضیلت ] يٰجِبَالُ [اے پہاڑو ] اَوِّبِيْ [ہمنوائی کرو ] مَعَهٗ [ان (علیہ السلام) کے ساتھ ] وَالطَّيْرَ ۚ [اور (ہم نے یہی حکم دیا) پرندوں کو ] وَاَلَنَّا [اور ہم نے نرم کیا ] لَهُ [ان (علیہ السلام) کے لئے ] الْحَدِيْدَ [لوہے کو ] ۔ ترکیب : آیت 10 ۔ الطیر اگر الطیر ہوتا تو اس کو یجبال پر عطف مانا جاسکتا تھا لیکن اس پر نصب ہونے کی وجہ سے اس سے پہلے کوئی فعل محذوف مانن ہوگا جو کہ کذالک امرنا یا حکمنا ہوسکتا ہے۔ الطیرَ پر لام جنس ہے اس لئے اس کا ترجمہ جمع میں ہوگا۔ النا دراصل الیننا (مادہ ل ی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

حضرت داؤد اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) والے انعامات کا تذکرہ یہاں حضرت داؤد اور ان کے بیٹے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں جس اقتدار اور اختیار اور جن نعمتوں سے نوازا تھا ان میں سے بعض کا تذکرہ ہے۔ سورة انبیاء (رکوع نمبر 5) میں دونوں حضرات کا تذکرہ گزر چکا ہے اور سورة ص میں بھی (رکوع نمبر 2 اور رکوع نمبر 3 میں) آ رہا ہے۔ اولاً تو یہ فرمایا کہ ہم نے پہاڑوں اور پرندوں کو حکم دیا کہ داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ ہماری طرف بار بار رجوع ہوں اور ان کے ساتھ ہمارے ذکر و تسبیح میں مشغول رہیں۔ لفظ (اَوِّبِیْ ) باب تفعیل سے ہے اور چونکہ مجرد سے بھی اس کا معنی رجوع کرنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–14

قصہء دواؤد وسلیمان علیہما الصلاۃ والسلام قال اللہ تعالی۔ ولقد اتینا داود منا فضلا۔۔۔ الی۔۔۔ ما لبثوا فی العذاب المھین۔ (ربط) گزشتہ آیات میں آسمان و زمین کی پیدائش کا ذکر کر کے فرمایا۔ ان فی ذلک لایۃ لکل عبد منیب یعنی آسمان و زمین کی پیدا میں خدا کی قدرت کی نشانی ہے ہر عبد منیب کے لئے یعنی ہر اس بندہ کے لئے جو خدا کی طرف متوجہ اور ملتفت ہو اب ان آیات میں میں دو خاص عبد منیب کا قصہ ذکر کرتے ہیں جو خدا کی طرف خاص طور پر متوجہ اور ملتفت ہو اب ان آیات میں دو خاص عبد منیب اللہ کے وہ خاص بندے تھے جن پر اللہ نے ظاہری اور باطنی نعمتیں مکمل فرمائیں اور نبوت کے ساتھ ان کو بےمثال سلطنت بھی عطا کی مگر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 10–11

10:۔ ولقد اتینا داود الخ : یہ پہلے شبہ کا جواب ہے داود (علیہ السلام) کو ہم نے بڑی بزرگی دی۔ پہاڑ اور پرندے ان کے ساتھ مل کر اللہ کی تسبیح و تقدیس کرتے اور لوہا ان کے ہاتھ میں موم کردیا۔ لیکن اتنی خوبیوں کے باوجود وہ شفیع غالب نہیں بن سکتے کیونکہ تمام خوبیاں اور طاقتیں ان کے قبضہ میں نہ تھیں بلکہ یہ سب کچھ ہمارے قبضہ و تصرف میں تھا اور یہ خوبیاں ہم ہی نے ان کو عطا کی تھیں۔ یجبال اس سے پہلے قلنا مقدر ہے یعنی ہم نے فرمایا۔ اے پہاڑو ! اس کے ساتھ مل کر تسبیح کا ورد کرو۔ جب حضرت داود (علیہ السلام) اللہ کی تسبیح کرتے تو اللہ کے حکم سے پہاڑ بھی زبان قال سے ان کے ساتھ بآواز بلند تسبیح کرتے۔ (روح،…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 10–11

دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة میں بھی زیادہ تر بنیادی عقائد کا ہی ذکر ہے یعنی توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن کریم کی حقانیت و صداقت ، خاص طور پر توحید کے عقلی اور نقلی دلائل بیان کئے گئے ہیں۔ خدا تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر بھی اس سورة کا خاص موضوع ہے۔ گزشتہ درس میں توحید کے دلائل ذکر کرنے کے بعد اللہ نے فرمایا : ان فی ذلک لایۃ لکل عبد منیب کہ بیشک ان چیزوں میں رجوع الی اللہ رکھنے والے بندے کے لئے نشانی ہے۔ سورة الزمر میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے وانبیو الی ربکم واسلموا لہ (آیت 54) اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو اور اس کی فرمانبرداری اختیار کرو۔ اس ضمن میں آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف رجوع…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا۝ 0 ۭ يٰجِبَالُ اَوِّبِيْ مَعَہٗ وَالطَّيْرَ۝ 0 ۚ وَاَلَنَّا لَہُ الْحَدِيْدَ۝ 10ۙ آتینا وَأُتُوا بِهِ مُتَشابِهاً [ البقرة/ 25] ، وقال : فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقال : وَآتَيْناهُمْ مُلْكاً عَظِيماً [ النساء/ 54] . [ وكلّ موضع ذکر في وصف الکتاب «آتینا» فهو أبلغ من کلّ موضع ذکر فيه «أوتوا» ، لأنّ «أوتوا» قد يقال إذا أوتي من لم يكن منه قبول، وآتیناهم يقال فيمن کان منه قبول ] . وقوله تعالی: آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ [ الكهف/ 96] وقرأه حمزة موصولة أي : جيئوني . { وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا } [ البقرة : 25] اور ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 10–14

ترکیب : داؤد مفعول اول فضلا مفعول ثانی لاتینا یاجبال تفسیر للفضل والطیر بالنصب لانہ معطوف علی محل جبال و فیہ وجوہ اخریٰ ، وبالرفع عطفا علی لفظہا ای جعلنا الجبال والطیور منقادین لامرہ فی نفاذ مشتیہ فیھما، ان اعمل ای امر ناہ ان اعمل وان مفرۃ و مصدریۃ۔ الریح بالنصب اے سخرنا الریح و بالرفع علی الابتداء غدوھا الغدو مصدر و لیس بزمان اے سیرہا من الغد بمعنی الصباح ای الزوال شھر والجملۃ فی موضع الحال من الریح، من یعمل من فی موضع نصب، منساتہ والمنساء العصی علی مفعالۃ کمیضاۃ من نسات البعیر اذ طردتہ لانھا تطردبھا۔ تفسیر … داؤد ( علیہ السلام) کا تذکرہ : پہلے فرمایا تھا، ان فی ذلک لآیۃ لکل عبد منیب اب اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 10–11

وَلَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَمِنَّا فَضْلاً ط یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَہٗ وَالطَّیْرَ ج وَاَلَـنَّا لَـہُ الْحَدِیْد۔ َ اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّقَدِّرْ فِی السَّرْدِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا ط اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔ (السباء : 10، 11) (ہم نے دائود کو اپنے ہاں سے بڑا فضل عطا کیا تھا، (ہم نے حکم دیا کہ) اے پہاڑو ! تم بھی اس کے ساتھ تسبیح میں شرکت کرو، اور یہی حکم ہم نے پرندوں کو بھی دیا، اور ہم نے اس کے لیے لوہے کو نرم کردیا۔ اس ہدایت کے ساتھ کہ ڈھیلی ڈھالی زرہیں بنائو اور ان کے حلقے ٹھیک اندازے پر رکھو، اور (اے آل دائود ! ) نیک عمل کرو، بیشک تم جو کچھ کرتے ہو میں اس کو دیکھ رہا ہوں۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 10–11

فہم القرآن ربط کلام : ” اللہ “ کی طرف رجوع کرنے والے بندے کے لیے زمین و آسمان میں بہت سے نشان عبرت ہیں۔ اور ” اللہ “ کی طرف رجوع کرنے والوں میں حضرت داؤد (علیہ السلام) سر فہرست ہیں۔ اس لیے اس موقعہ پر ان کا تذکرہ ضروری سمجھا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کو بہت سی نعمتوں سے نوازا تھا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) بیت اللحم کے رہنے والے قبیلہ یہودہ کے ایک نوجوان تھے۔ فلسطینیوں کے خلاف ایک معرکے میں جالوت جیسے کڑیل اور جری دشمن کو قتل کیا جس بنا پر بنی اسرائیل میں مقبول ہوئے اور طالوت کی وفات کے بعد پہلے موجودہ الخلیل میں یہودیہ کے حکمران بنائے گئے۔ کچھ عرصہ کے بعد بنی اسرائیل نے مل کر ان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

واقعہ دائود اور تسبیح جبال و پرند : 10: وَلَقَدْ ٰاتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا یٰجِبَالُ (اور ہم نے دائود کو اپنی طرف سے بڑی نعمت دی تھی۔ اے پہاڑو ! ) نحو : نمبر 1۔ یٰجبالؔ یہ فضلاؔ سے بدل ہے۔ نمبر 2۔ آتیناؔ سے بدل ہے۔ مگر اس صورت میں قولناؔ یا جبال سے پہلے مقدر ماننا پڑے گا۔ نمبر 2۔ قلناؔ یا جبال قدر ماننا پڑے گا۔ اَوِّبِیْ مَعَہٗ (تم بار بار دائود کے ساتھ تسبیح کرو) یہ لفظ التاویب ؔ سے ہے۔ ای رجّعی معہ التسبیح تم اس کے ساتھ تسبیح کو دوہرائو۔ تسبیح جبال کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان میں ایسی تسبیح پیدا کردیتے جو ان سے اسی طرح سنائی دیتی جیسی تسبیح کرنے والے سے سنتے ہیں۔ یہ معجزہ دائودی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

فضل کی تفسیریں 10، ولقد اتینا داؤ منا فضلا، اس سے مراد نبوت اور کتاب ہے۔ بعض نے کہا اس سے مراد شاہت ہے۔ بعض نے کہا وہ تمام چیزیں جو حضرت داؤد علیہ اسلام کو عطا کردی گئی تھیں۔ حسن صوت لوہے کا آپ کے ہاتھ میں موم ہوجانا اور اس کے علاوہ دوسریاشیاء ، یا جبال ، اور ہم نے کہا اے جبال ، اوبی ، تسبیح کر، معہ، جب میرابندہ اس کی تسبیح کرے۔ قتیبی کا قول ہے تاویب بمعنی تسبیح ، یہ تاویب فی السیئہ سے ماخوذ ہے۔ تاویب کا معنی ہے دن بھر چلنا ، پھر رات کو قیام کرنا، اس صورت میں یہ مطلب ہوگا کہ جب دن ہوتودن بھر تم داؤد کے ساتھ تسبیح میں رواں رہو۔ بعض نے اوبی کا ترجمہ کیا ہے داؤد کے ساتھ مل کرنو حہ کرو۔ اس کا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 10–11

10‘ 11۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس انعام اور فضل کا حال بیان فرمایا ہے جو اس نے حضرت واؤد (علیہ السلام) پر کیا کہ نبوت اور سلطنت نن کو دی اور بہت سالشکر اور سامان دیا اور اس طرح کی آوازان کو عطا کی کہ جب وہ تسبیح کرتے تو ان کے ساتھ اونچے اونچے پہاڑ بھی تسبیح کرتے اور پر ندے اڑنے والے بھی ٹھہر جاتے اور طرح طرح کی آوازوں سے ان کا ساتھ دیتے معتبر سند سے طبرانی میں سلحہ بن قیس کوفی سے روایت 3 ؎ ہے (3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 526 ج 3 بحوالہ صحیح بخاری باب حسن الصوت بالقرائۃ بروایت ابوہریرہ ؓ جس کا حاصل یہ ہے کہ پیغمبر ﷺ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ کی آواز سنی جب کہ وہ رات کے وقت قرآن پڑھتے تھے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–10

آیت 7 (وقال الذین کفروا) یعنی کفار تکیذب اور استہزاء کے طور پر اور دوبارہ زندگی کو نامکن قرار دیتے ہوئے ایک دوسرے سے کہتے ہیں : (آیت) ” کیا ہم تمہاری راہنمائی ایسے شخص کی طرف کریں جو تمہیں یہ خبر پہنچا رہا ہے کہ جب تم بالکل ہی ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تو تم پھر سے ایک نئی پیدائش میں آؤ گے۔ “ ان کی مراد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ وہ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ آپ ایک ایسے شخص ہیں جو ایک انوکھی چیز پیش کر رہے ہیں۔ ان کی نظر میں آپ ان کے لئے تفریح کا ایک ذریعہ ہیں اور ایک عجیب شے ہیں جن کا وہ مذاق اڑاتے ہیں اور تعجب کرتے ہیں کہ آپ کیسے یہ بات کہتے ہیں : ” جب تم بوسیدہ ہو کر ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تمہارا جوڑ جوڑ الگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

27 داتا سب کا اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ ہم ہی نے داؤد کو فضیلت بخشی کہ دینے بخشنے والے اور سب کو عطاء کرنے والے ہم ہی ہیں۔ انبیاء و رسل بھی ہمارے ہی محتاج ہیں۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ نبی مختار کل نہیں ہوتا کہ جو چاہے کرے بلکہ وہ بھی اللہ پاک کی عطاء و بخشش کا محتاج ہوتا ہے۔ اور مختار کل وہ اللہ وحدہ لا شریک ہی ہے جسکے قبضہ قدرت میں زمین و آسمان کے سب خزانے ہیں۔ وہی اپنی مرضی و اختیار سے جسکو جو چاہے اور جب چاہے اور جیسے چاہے عطا فرمائے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو داتا سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ سب اسی کے در کے سوالی اور اسی کے محتاج ہیں۔ بہرکیف یہاں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 10–14

سیدناداؤد (علیہ السلام) اور سیدناسلیمان (علیہ السلام) پر اللہ کی مہربانیاں تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے تو اللہ کے فضل و کرم کا ذکر کیا گیا ہے کہ جو بھی اللہ کی تسبیح و تقدیس میں زندگی کا زیادہ حصہ گزارتا ہے تو وہ اللہ کا مقرب ترین بندہ بن جاتا ہے۔ عام لوگوں میں سے اللہ ان کو خاص بنا دیتا ہے یعنی ایسے بندوں میں سے بعض کو اللہ تعالیٰ اپنے نبی رسول اور پیغمبر کی حیثیت سے منتخب کرلیتا ہے۔ جیسا کہ سیدناداؤد (علیہ السلام) کو اللہ نے چن لیا، ان کو نبوت بھی دی اور حکومت بھی دی اور پھر بڑی بڑی نعمتوں سے ان کو نوازا۔ سب سے پہلے تو ان کو خوبصورت جسم اور خوبصورت آواز دی۔ آپ جب اپنی پر سوز آواز میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–21

رکوع نمبر 2: آیات 10 تا 21: اسرار و معارف : داود (علیہ السلام) کو ہم نے بہت زیادہ نعمتیں عطا کیں۔ یہاں تک کہ پہاڑوں اور پرندوں تک کو حکم دی ا کہ ان کے ساتھ میری تسبیح کرو۔ مفسرین کے مطابق پہاڑ اور پرندے داود (علیہ السلام) کے ساتھ اس طرح ذکر کرتے تھے کہ عام سننے والا بھی سنتا تھا اور یہ اس تسبیح کے علاوہ تھی جو ہر شے کرتی ہے یعنی اگر کسی کے ساتھ بہت سے افراد اللہ کا ذکر کرنے لگ جائیں تو یہ اللہ کا بہت بڑا انعام ہے جو اس کے خاص بندوں کو نصیب ہوتا ہے نیز ان کے لیے بطور معجزہ لوہے کو نرم کردیا کہ لوہے کی زرہیں بنا کر تیار کریں اور حکم دیا کہ زرہ کی کڑیاں خوبصورت انداز میں جوڑیں۔ سب سے پہلے سامان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 یہ ان کی ” انابت “ کا صلہ تھا۔ ( کبیر) یعنی ان کو علم و نبوت سے سرفراز فرمایا۔ ان پر زبور نازل کی، بادشاہی عنایت کی لوہے کو موم کی طرح نرم کردیا اور بندوں پر پہاڑوں کو تابع کردیا وغیرہ۔ یہ سب چیزیں فضل بزرگی میں داخل ہیں جیسا کہ آگے بیان فرمایا ہے۔2 اس کا عطف جبال مناویٰ کے محل پر ہے۔ پہاڑوں اور پرندوں کو خاص طور پر ” تادیب “ کا حکم دینے سے اس ام کا اظہار مقصود ہے کہ جب پہاڑ باوجود اپنی سختی کے اور پرندے باوجود انسان سے نفرت کے حضرت دائود ( علیہ السلام) کے ساتھ تسبیح پڑھنے میں شریک ہوجایا کرتے تھے تو وہ دوسری چیزیں بالا ولی ان کے ساتھ تسبیح پڑھتی تھیں اور یہ بات حضرت دائود ( علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(34:10) اتینا داود منا فضلا۔ اتینا۔ ہم نے دیا۔ فعل۔ داود مفعول اول منا حال ہے فضلا مفعول ثانی۔ ہم نے دائود کو اپنی طرف سے فضیلت بخشی “ فضلا صیغہ نکرہ اظہار عظمت کے لئے ہے۔ یجبال۔ یہ فضلا کا بدل ہے ای قلنا یا جبال۔ اوبی۔ فعل امر، واحد مؤنث حاضر۔ تاویب (تفعیل) مصدر۔ تو رجوع کر۔ تو لوٹ یعنی اے پہارو ! تم بھی ان کے ساتھ مل کر تسبیح کرو۔ یہاں اوبی۔ بمعنی سجی ہے تو تسبیح کر۔ والطیر۔ الطیر منصوب یا تو فعل مقدرہ کا مفعول ہونے کی وجہ سے ہے۔ اس صورت میں تقدیر کلام ہے وسخرنا لہ الطیر۔ اور ہم نے پرندوں کو بھی (الطیر جنس کے لئے ہے) اس کی تسخیر میں کردیا۔ (کہ وہ بھی پہاروں کے ساتھ مل کر حضرت دائود کے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 10–14

لغات القرآن : آیت نمبر 10 تا 14 اوبی : چلو ۔ پڑھو النا : ہم نے نرم کردیا تھا الحدید : لوہا سبغت : کشادہ زرہیں قدر : اندازہ کر قدور (قدر) : دیگیں۔ پتیلے راسیت : ایک جگہ جمنے والیاں قضینا : ہم نے فیصلہ کردیا ما دل : نہیں بتایا دابۃ الارض : زمین کا جانور ۔ زمین کا کیڑا منساۃ : عصا۔ لاٹھی خر : وہ گر پڑا تبینت : واضح ہوگئی ۔ کھل گئی ما لبثوا : لگے نہ رہتے المھین : ذلت والا تشریح ُ : آیت نمبر 10 تا 14 زیر مطالعہ آیات سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ کائنات میں ہر طرف پھیلی ہوئی نشانیوں سے وہی عبرت و نصیحت حاصل کرتے ہیں جو ” عب منیب “ یعنی اللہ کے بندے جو ہر حال میں اللہ کی طرف جھکنے والے اس کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 10–11

حضرت داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کا واقعہ۔ (ف 1) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس انعام اور فضل کا ذکر بیان فرمایا جو اس نے حضرت داود (علیہ السلام) پر کیا کہ نبوت اور کتاب وسلطنت ان کو دی اور بہت سالشکر اور سامان دیا اور اس طرح کی آواز عطا فرمائی کہ جب وہ تسبیح کرتے تو ان کس اتھ اونچے اونچے پہاڑ بھی تسبیح کرتے ، اور پرندوں کو حکم دیا کہ جب وہ تسبیح کرتے تو پرند جھک آتے اور طرح طرح کی آوازوں سے ان کا ساتھ دیتے یہ آپ کا معجزہ تھا پھر فرمایا کہ ہم نے ان کے لیے لوہے کو مثل موم کے نرم کردیا تھا یعنی آپ کے دست مبارک میں لوہا آکرمثل موم یا گوندھے ہوئے آٹے کے نرم ہوجاتا تھا اور آپ اس سے جو چاہتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 10–11

[11] داؤد (علیہ السلام) جب کبھی جنگل میں نکلتے اور اپنی ضرب المثل خوش آوازی سے تسبیح کرتے تو پہاڑ بھی ان کے ساتھ تسبیح کرنے لگتے اور پرندے ان کے گرد جمع ہو کر ہم آہنگی کرتے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 10–12

حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) 1: اس سے قبل کی آیات میں بتایا تھا ۔ کہ انسان میں جب اتابت الی اللہ کا جوہر پیدا ہوجائے تو وہ آیات فطرت کو خوب سمجھنے لگتا ہے ۔ اب اس آیت میں اپنے دو بندوں کا ذکر فرمایا ہے ۔ جو منیب تھے اور بہت زیادہ فضل وبرکات کے حامل تھے ۔ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) بابل میں ان کی بادشاہت اور شان و عظمت کا تفصیل کے ساتھ تذکرہ ہے ۔ قرآن حکیم نے نہایت مختصر انداز میں چندواقعات کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ اس لئے کہ عرب تفصیل کے ساتھ ان چیزوں سے آگاہ تھے بتانا صرف یہ مقصود ہے کہ اجابت الی اللہ کا صحیح مفہوم کیا ہے ؟ فرمایا : حضرت داؤد کو دیکھو کہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(10) اور یقینا ہم نے دائود (علیہ السلام) کو اپنی جانب سے ایک خاص قسم کی برتری اور بزرگی دی تھی۔ ہم نے پہاڑوں کو حکم دیا تھا کہ اے پہاڑو ! دائود (علیہ السلام) کے ساتھ تسبیح میں موافقت کرو اور پرندوں کو بھی یہی حکم دیا اور ہم نے دائود (علیہ السلام) کیلئے لوہے کو نرم کردیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ یعنی جب یہ ذکر میں مشغول ہوں تم بھی ان کا ساتھ دو ۔ غالبا یہ تسبیح ایسی ہوگی جو سامعین کو مفہوم ہو، ورنہ غیر مفہوم تسبیح تو عام ہے، اس میں معیت داودیہ کی کیا تخصیص ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دائود (علیہ السلام) کو ہم نے فضیلت بخشی اور لوہے کے کام کا وہ ماہر ہوگیا 10 ۔ غور کرو کہ کہاں قیامت کے منکرین کی بات ہورہی تھی اور ان کو سرزنش کرتے کرتے کس ترتیب کے ساتھ رجوع الی اللہ اختیار کرنے والوں کا ذکر فرمادیا اور وہ رجوع الی اللہ کرنے والے کون لوگ ہیں وہی جو قیامت پر پختہ یقین رکھتے ہیں اور ایسے اعمال کرتے ہیں جن کے صلہ کی امید وہ قیامت کے عقیدہ کے ساتھ وابستہ کیے ہوئے ہیں اور یہ وابستگی ان کی حقیقی وابستگی ہے اس لئے وہ دنیوی زندگی کے لئے پوری دیانت داری کے ساتھ محنت ومشقت میں مصروف رہتے ہیں ، وہ میدان شیر ہیں کہ خود اپنے ہاتھوں سے شکار کرکے کھانے کے عادی ہیں ، وہ لومڑیوں اور گیدڑوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary The preceding verses have addressed the arguments of those who denied the possibility of the life after death, and believed it to be irrational that a person may be revived after he has died and the parts of his body are decomposed and turned into dust. Now the stories of Sayyidna Dawud and Sulayman (علیہما السلام) have been narrated in the present verses to show that Allah Ta’ ala has already demonstrated His power by the miraculous acts that were deemed by people to be impossible, like making iron as soft as wax, subjugating the wind and making copper as liquid as water. The…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

14 This is an allusion to the countless favours with which Allah had blessed the Prophet David. He was an ordinary young man of the tribe of Judah, living at Bethlehem. In a campaign against the Philistines he slew the giant Goliath, the great enemy of Israel, and suddenly grew in esteem of the Israelites. With this event began his rise to prominence; so much so that after the death of Saul he was first elected king of Judah in Hebron (mod. AI-KhaliD, and then a few years later he was made king over aII the tribes of Israel. He took Jerusalem and made it the capital of the kingdom of Israel.…

Read the full tafseer →