Saba 34:11

Saba · from ayah 11

34:11

اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّقَدِّرْ فِی السَّرْدِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا ؕ— اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ ۟اَنِ اعۡمَلۡ سٰبِغٰتٍ وَّقَدِّرۡ فِى السَّرۡدِ وَاعۡمَلُوۡا صَالِحًـا ؕ اِنِّىۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ‏

کہ کشادہ زرہیں بناؤ اور کڑیوں کو اندازے سے جوڑو اور نیک عمل کرو۔ جو عمل تم کرتے ہو میں ان کو دیکھنے والا ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Commanding him], "Make full coats of mail and calculate [precisely] the links, and work [all of you] righteousness. Indeed I, of what you do, am Seeing."

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 2 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Saba

All translations of 34:11

اس ہدایت کے ساتھ کہ زرہیں بنا اور ان کے حلقے ٹھیک اندازے پر رکھ (اے آل داؤدؑ) نیک عمل کرو، جو کچھ تم کرتے ہو اُس کو میں دیکھ رہا ہوں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہ کشادہ زرہیں بناؤ اور کڑیوں کو اندازے سے جوڑو اور نیک عمل کرو۔ جو عمل تم کرتے ہو میں ان کو دیکھنے والا ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہ تو پوری پوری زرہیں بنا اور جوڑوں میں اندازه رکھ تم سب نیک کام کیا کرو۔ (یقین مانو) کہ میں تمہارے اعمال دیکھ رہا ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہ پوری پوری زرہیں بناؤ، اور کڑیاں جوڑنے میں توازن سے کام لو اور تم سب لوگ نیک عمل کرو۔ تم جو عمل بھی کرتے ہو میں اسے دیکھ رہا ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہ وسیع زِر ہیں بنا اور بنانے میں اندازے کا لحاظ رکھ اور تم سب نیکی کرو، بیشک تمہارے کام دیکھ رہا ہوں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اور ارشاد فرمایا) کہ کشادہ زرہیں بناؤ اور (ان کے) حلقے جوڑنے میں اندازے کو ملحوظ رکھو اور (اے آلِ داوؤد!) تم لوگ نیک عمل کرتے رہو، میں اُن (کاموں) کو جو تم کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ کہ کشادہ زرہیں بنا اور کڑیاں جوڑنے میں اندازہ رکھ اور نیک عمل کرو، یقینا میں اسے جو تم کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اور اسے کہا) کہ کھلی ڈھلی زرہیں بناؤ اور اندازہ کے مطابق اس کی کڑیاں جوڑو اور (اے آل داؤد) نیک عمل کرو۔ جو کچھ تم کر رہے ہو بلا شبہ میں اسے خوب دیکھ رہا ہوں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہ ڈھیلی ڈھالی زرہیں بنائو اور ان کے جوڑ پیوستہ رکھو اور سب نیک عمل کرو، بیشک تم جو کچھ کرتے ہو میں اس کو اچھی طرح دیکھ رہا ہوں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہ تم زرہیں بناؤ پوری پوری اور ٹھیک اندازہ رکھو ان کی کڑیاں جوڑنے میں اور تم سب لوگ نیک کام کرو بیشک میں پوری طرح دیکھ رہا وہ سب کچھ جو تم لوگ کرتے ہو

— مولانا اسحاق مدنی

کہ تم پوری زرہیں بناؤ اور (ان کے) جوڑ میں (مناسب) اندازہ رکھو اور تم سب نیک کام کرو میں خوب دیکھ رہا ہوں جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کہ کشادہ زرہیں بنائو اور کڑیاں ملانے میں ٹھیک ٹھیک اندازہ رکھو اور تم سب نیک اعمال کرو۔ تم جو کچھ کر رہے ہو میں یقینا اسے دیکھ رہا ہوں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہ کشادہ زر ہیں بناؤ اور کڑیوں کو اندازے سے جوڑو اور نیک عمل کرو۔ جو عمل تم کرتے ہو میں ان کو دیکھنے والا ہوں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

“Fashion coats of mail and measure their links with care and act righteously. I am watching over whatever you do.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(saying to him,) :Make coats of armour, and maintain balance in combining rings, and do, all of you, righteous deeds. Surely I am watchful of what you do.

— Muhammad Taqi Usmani

(saying to him,) :Make coats of armour, and maintain balance in combining rings, and do, all of you, righteous deeds. Surely I am watchful of what you do.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Saying: "Make you perfect coats of mail, and balance well the rings of chain armor [Sard], and work you (men) righteousness. Truly, I am All-Seer of what you do."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Saying: Make thou long coats of mail and measure the links (thereof). And do ye right. Lo! I am Seer of what ye do.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Commanding him], "Make full coats of mail and calculate [precisely] the links, and work [all of you] righteousness. Indeed I, of what you do, am Seeing."

— Saheeh International

so that he could make coats of mail and properly measure their rings. We told him and his people to act righteously. We are Well-Aware of what you do.

— Muhammad Sarwar

Saying: Make ample (coats of mail), and assign a time to the making of coats of mail and do good; surely I am Seeing what you do.

— Muhammad Habib Shakir

Saying: make thou complete coats of mail, and rightly dispose the links, and work ye, righteously; verily I am of that which Ye work a Beholder.

— Abdul Majid Daryabadi

(Commanding), "Make thou coast of mail, balancing well the rings of chain armour, and work ye righteousness; for be sure I see (clearly) all that ye do."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 34:11

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 10–11

حضرت داؤد پر انعامات الٰہی۔ اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول حضرت داؤد ؑ پر دنیوی اور اخروی رحمت نازل فرمائی۔ نبوت بھی دی بادشاہت بھی دی لاؤ لشکر بھی دیئے طاقت و قوت بھی دی۔ پھر ایک پاکیزہ معجزہ یہ عطا فرمایا کہ ادھر نغمہ داؤدی ہوا میں گونجا، ادھر پہاڑوں اور پرندوں کو بھی وجد آگیا۔ پہاڑوں نے آواز میں آوا زملا کر اللہ کی حمد وثناء شروع کی پرندوں نے پر ہلانے چھوڑ دیئے اور اپنی قسم قسم کی پیاری پیاری بولیوں میں رب کی وحدانیت کے گیت گانے لگے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ رات کو حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے جسے سن کر اللہ کے رسول ﷺ ٹھہر گئے دیر تک سنتے رہے پھر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة سَبـَا 16 یہ مضمون بھی سورة انبیا آیت 80 میں گزر چکا ہے اور وہاں اس کی تشریح کی جا چکی ہے۔ (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم ص 175۔ 176)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) والنالہ الحدید ان اعمل سبغت وقدر فی السرد، یہ دوسرا معجزہ ہے کہ لوہے کو ان کے لئے نرم کردیا تھا۔ حسن بصری، قتادہ، اعمش وغیرہ ائمہ تفسیر نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بطور معجزہ کے لوہے کو ان کے لئے موم کی طرح نرم بنادیا تھا کہ اس سے کوئی چیز بنانے میں نہ ان کو آگ کی ضرورت پڑتی تھی اور نہ کسی ہتھوڑے یا دوسرے آلات کی۔ آگے آیت میں اس کا بیان ہے کہ لوہے کو ان کے لئے نرم اس لئے بنایا گیا تھا کہ وہ لوہے کی زرہ آسانی سے بنا سکیں، اور ایک دوسری آیت میں یہ بھی مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زرہ سازی کی صنعت آپ کو خود سکھائی تھی (آیت) وعلمنہ صنعة لبوس لکم، ”یعنی ہم نے سکھائی ان کو صنعت زرہ بنانے کی“…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ان اعمل سبعت وقدر فی السرد واعملوا صلحا انی بما تعملمون بصیر (11) ’ سبغت ‘ ڈھیلے ڈھالے لباس کو کہتے ہیں جو پورے جسم کو ڈھانک لے۔ یہاں یہ ڈھیلی ڈھالی زر ہوں کی صفت کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ قدرفی السرد میں سود کے معنی بناوٹ کے اور تقدیر کے معنی بناوٹ میں پورے تناسب کو ملحوظ رکھنے کے ہیںَ لوہے سے ایسا لباس تیار کرلینا جو ڈھیلا ڈھالا بھی ہو اور اس کی کڑیوں میں پورا تناسب بھی ملحوظ رہ سکے بغیر اس کے ممکن نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود پر لوہے کے پگھلانے کی ایسی اعلیٰ سائنس کا انکشاف فرمایا، جس کی اولیت کا سہرا انہی کے سر ہے۔ اپنی اس ایجاد سے انہوں نے دفاعی اسلحہ میں ایک نہایت پیش قیمت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

11۔ 1 سابغات محزوف موصوف کی صفت ہے دروعا سابغات یعنی پوری لمبیں زرہیں، جو لڑنے والے کے پورے جسم کو صحیح طریقے سے ڈھانک لیں اور اسے دشمن کے وار سے محفوظ رکھیں۔ 11۔ 2 تاکہ چھوٹی بڑی نہ ہوں یا سخت یا نرم نہ ہوں یعنی کڑیوں کے جوڑنے میں کیل اتنے باریک نہ ہوں کہ جوڑ حرکت کرتے رہیں اور ان میں قرار وثبات نہ آئے اور نہ اتنے موٹے ہوں کہ اسے توڑ ہی ڈالیں یا جس سے حلقہ تنگ ہوجائے اور اسے پہنا نہ جاسکے یہ زرہ بافی کی صنعت کے بارے میں حضرت داؤد ؑ کو ہدایات دی گئیں۔ 11۔ 3 یعنی ان نعمتوں کے بدلے میں عمل صالح کا اہتمام کرو تاکہ میرا عملی شکر بھی ہوتا رہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس کو اللہ تعالیٰ نعمتوں سے سرفراز…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

4: یہ حضرت داؤد ؑ کے ایک اور معجزے کا بیان ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو لوہے کی وہ زرہیں بنانے کی خصوصی مہارت عطا فرمائی تھی، جو اس زمانے میں جنگ کے موقع پر دشمن کے وار سے بچاؤ کے لئے پہنی جاتی تھیں، اس صنعت کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد ؑ کو یہ خصوصیت عطا فرمادی تھی کہ لوہا ان کے ہاتھ میں پہنچ کر نرم ہوجاتا تھا، اور وہ اسے جس طرح چاہتے موڑلیتے تھے، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس بات کا بھی خاص ذکر فرمایا ہے کہ حضرت داؤد ؑ کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ زرہ اور کڑیوں میں توازن قائم رکھیں، اس میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر کام اور ہر صنعت میں سلیقے اور توازن کا خیال رکھنا پسند ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ان اعمل سبغت وقدر فی السرد (34: 11) ” “۔ سابغات معنی زر ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) سے قبل تختیاں بنائی جاتی تھی اور تختیوں کی زر ہیں جسم کے لیے ثقیل ہوتی تھیں اور جسم کو زخمی کردیتی تھیں۔ اللہ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو یہ امر سکھایا کہ آپ گرم تاروں سے ان کو بنائیں تاکہ وہ نرم ہوں اور کپڑے کی طرح جسم ان کے اندر حرکت کرسکے۔ حکم دیا کہ اس زرہ کے حلقے تنگ کیے جائیں تاکہ اس کے اندر سے تیر نہ جائیں اور حلقے سب کے سب ایک اندازے سے بنائے جائیں اور یہ تمام کام اللہ کی جانب سے الہامی طور پر ہوا۔ ان کو مزید ہدایات یوں دی گئیں : واعملوا صالحا انی بما تعملون بصیر (34: 11) ” “۔ اس ذرہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی حضرت داؤد (علیہ السلام) کے حق میں ہم نے لوہے کو موم کی طرح نرم کردیا۔ بدون آگ اور آلات صناعیہ کے لوہے کو جس طرح چاہتے ہاتھ سے توڑ موڑ لیتے تھے اور اس کی زرہیں تیار کر کے فروخت کرتے تاکہ قوت بازو سے کما کر کھائیں۔ بیت المال پر اپنا بار نہ ڈالیں۔ کہتے ہیں کہ کڑیوں کی زرہ پہلے ان ہی سے نکلی کہ کشادہ رہے۔ حق تعالیٰ نے ان کو ہدایت فرمائی کہ فراخ و کشادہ زرہیں تیار کرو اور اس کے حلقے اور کڑیاں ٹھیک اندازہ سے جوڑو جو بڑی چھوٹی اور پتلی موٹی ہونے کے اعتبار سے متناسب ہوں۔ 8 یعنی ان صنائع میں پڑ کر منعم حقیقی کی طرف سے غفلت نہ ہونے پائے۔ ہمیشہ عمل صالح کرتے رہو اور یاد رکھو کہ اللہ سب کام دیکھتا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 11 { اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّقَدِّرْ فِی السَّرْدِ } ”کہ کشادہ زرہیں بنائو اور کڑیاں ملانے میں ٹھیک ٹھیک اندازہ رکھو“ آپ علیہ السلام کے لیے لوہے کو خصوصی طور پر نرم کردیا گیا تھا اور زرہیں بنانے کا ہنر بھی آپ علیہ السلام کو سکھا دیا گیا تھا۔ { وَاعْمَلُوْا صَالِحًا اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ} ”اور تم سب نیک اعمال کرو۔ تم جو کچھ کر رہے ہو میں یقینا اسے دیکھ رہا ہوں۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

17 آپ کے نیک اعمال میں سے ایک قابل ذکر نیک عمل یہ بھی تھا کہ آپ بادشاہ اور نبی ہونے کے باوجود اپنے ذاتی اخراجات کا بار بھی بیت المال پر ڈالنا گوارا نہ کرتے تھے۔ بلکہ زرہیں بنا کر ان کی آمدنی سے بسر اوقات کرتے تھے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ مقدام بن معدیکرب کہتے ہیں آپ نے فرمایا : کسی آدمی کے لئے اس سے بہتر کوئی کھانا نہیں جسے وہ اپنے ہاتھ سے محنت کرکے کھائے اور اللہ کے نبی داود اپنے ہاتھ سے (زرہ بنا کر) کھایا کرتے تھے (بخاری۔ کتاب البیوع۔ باب نکسب الرجل و عملہ۔۔ )

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 10–11

13۔ (اس لئے رعایت حدود کا پورا اہتمام رکھو) حضرت داؤد (علیہ السلام) کی زرہ سازی پر حاشیے سورة الانبیاء پ 17 میں گزرچکے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) ایک طرف نبوت و رسالت اور دوسری طرف حکومت وسلطنت کے باوجود اپنا مستقل ذریعہ معاش صنعت زرہ سازی کو بنائے ہوئے تھے۔ اور اسی کی تجارت کرتے تھے تو ایسے سے یہ مسئلہ بھی نکل آیا کہ صناعی ودستکاری منصب نبوت کے بھی منافی نہیں۔ چہ جائیکہ مرتبہ ولایت کے ! مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے تین مسئلے نکلے۔ ایک خرق عادت کا اثبات، دوسرے دستکاری سے کمانے کی فضیلت، تیسرے ہر کام میں اعتدال، انتظام وتناسب کی رعایت یہاں تک کہ امور حسی ودنیوی میں بھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–14

آیت نمبر 10 تا 14 ترجمہ : اور ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے بڑی نعمت عطاء کی یعنی نبوت اور کتاب، اور ہم نے کہا اے پہاڑ اور اے پرندو تم داؤد کے ساتھ تسبیح دہراؤ، طیرَ منصوب ہے جبال کے محل پر عطف ہونے کی وجہ سے، اور ہم نے داؤد کے ساتھ تسبیح پڑھنے کا حکم دیا، اور ہم نے ان کے لئے لوہا نرم کردیا چناچہ (حضرت) داؤد (علیہ السلام) کے ہاتھ میں لوہا گوندھے ہوئے آٹے کے مانند ہوگیا اور ہم نے حکم دیا کہ لوہے کی لمبی (مکمل) زرہ بناؤ کہ ان کو پہننے والا زمین میں گھسیٹے اور بنانے میں یکسانیت کا خیال رکھو زرہ سازکو ” سراد “ کہتے ہیں یعنی ایسی زرہ بناؤ کہ اس کے حلقے مساوی ہوں، اے آل داؤد تم داؤد کی معیت میں نیک کام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان اعمل سبغت . (ہم نے ان کو حکم دیا) کہ ایسی کشادہ پوری لمبی زرہیں بناؤ جو زمین میں گھسٹتی چلیں۔ وقدرنی السرد . اور (کڑیوں کے ( جوڑنے میں اندازہ رکھو۔ سرد کھال کو سینا ‘ مجازاً مراد ہے زرہ بننا ‘ یعنی زرہ کی بناوٹ میں ایک خاص انداز رکھو ‘ کڑیاں اور کیلیں خاص تناسب کے ساتھ بناؤ۔ نہ اتنی پتلی کہ پھٹ جائیں ‘ نہ اتنی موٹی کہ کڑیاں ٹوٹ جائیں۔ واعملوا صالحا . اور (اے داؤد اور داؤد کے گھر والو ! ) نیک عمل کرو۔ یعنی خالص اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے اچھے اعمال کرو۔ انی بما تعلمون بصیر جو کچھ تم کرتے ہو اس کو میں دیکھتا ہوں۔ یعنی تم کو ان اعمال کی جزا دوں گا۔ حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور یہ کہ تم اس سے کشادہ زرہیں بناؤ اور کڑیوں کے جوڑنے اور حلقوں میں مناسب انداز کا خیال رکھو نہ بہت بڑے حلقے ہوں اور نہ بہت ہی تنگ اور نیک کام کرو۔ میں تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ : ”سبغت“ کامل اور وسیع، یہ ”دُرُوْعٌ“ محذوف کی صفت ہے، یعنی ہم نے اس سے کہا کہ مکمل اور کشادہ زرہیں تیار کر، جو لڑنے والے کے پورے جسم کو صحیح طریقے سے ڈھانپ لیں اور اسے دشمن کے وار سے محفوظ رکھیں۔ وَّقَدِّرْ فِي السَّرْدِ : ”السرد“ کسی موٹی چیز کو سینا، پرونا، جیسے زرہ بننا، چمڑے کو سینا، یہاں لوہے کی کڑیوں کو ترتیب سے جوڑنا مراد ہے۔ (مفردات) کڑیاں جوڑنے میں اندازہ رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ چھوٹی بڑی نہ ہوں، نہ ایسی کھلی ہوں کہ جوڑ زیادہ حرکت کرتے رہیں، نہ اتنی تنگ ہوں یا کیل اتنے موٹے ہوں کہ آدمی انھیں پہن کر حرکت ہی نہ کرسکے۔ بلکہ ہر کڑی اور ہر جوڑ جسم میں اس کی جگہ درست…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت : ان اعمل سبغت کھلی زرہیں یعنی کامل اور وسیع۔ یہ جملہ کہا جاتا ہے : حدیث : سبغ الد رع والثوب و غیرھما جب زرہ کا کپڑا وغیرہ ہر اس چیز کو ڈھانپ لے جس پر وہ ہے اور اس سے کچھ بچ بھی جائے۔ آیت : و قدر فی الثرد قتادہ نے کہا : زریں اس سے قبل تختے ہوتے تھے اور وہ سخت بھاری ہوتے، اسی وجہ سے حضرت داود (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ ایسی چیز بنائیں جو ہلکی ہو حفاظت کرنے والی ہو، یعنی ایسی چیز بنائو جو ان دونوں معنوں کو اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہو۔ صرف حفاظت کا قصد نہ کریں کہ وہ بوجھل ہوجائے اور نہ ہلکی کا ارادہ کریں کہ حفاظت نہ کرسکے۔ ابن زید نے کہا : جس انداز کا آپ کو حکم دیا گیا وہ حلقہ کی مقدار میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–11

1۔ ابن ابی شیبہ نے المصنف میں وابن جریر نے ابن عباس رضٰ اللہ عنہما سے روایت کیا کہ آتی اوبی معہ یعنی میری تسبیح بیان کرو داوٗد (علیہ السلام) کے ساتھ۔ 2۔ ابن جریر نے ابو میسرہ ؓ سے روایت کیا کہ آتی اوبی معہ یعنی میری تسبیح بیان کرو ان کے ساتھ حبشی زبان میں 3۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا آیت اوبی معہ یعنی میری سبیح بیان کرو۔ 4۔ عبد بن حمید نے عکرمہ اور ابو عبدالرحمن رحمہما اللہ سے اسی طرح روایت کیا۔ 5۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا آیت یجبال اوبی معہ والطیر اے پہاڑو داوٗد کے ساتھ تسبیح پڑھ پرندوں کے ساتھ اسی طرح آپ کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَنِ اعْمَلْ [کہ آپ (علیہ السلام) عمل کریں (یعنی بتائیں)] سٰبِغٰتٍ [زر ہیں ] وَّقَدِّرْ [اور آپ (علیہ السلام) اندازے مقرر کریں ] فِي السَّرْدِ [کڑیاں بنانے میں ] وَاعْمَلُوْا [اور تم سب عمل کرو ] صَالِحًا ۭ [نیک ] اِنِّىْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ [بیشک میں اس کو جو تم لوگ کرتے ہو ] بَصِيْرٌ [دیکھنے والا ہوں ] ۔ س ر د (ن۔ ض) سردا کسی سخت چیز کو سینا۔ چمڑا سینا۔ لوہے کی کڑیاں جوڑنا ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 11 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد فرمایا : (وَاعْمَلُوْا صَالِحًا) اور اے داؤد کے گھر والو نیک عمل کرو، (اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ) (بلاشبہ میں تمہارے کاموں کو دیکھنے والا ہوں۔ ) ہوا کی تسخیر : اس کے بعد حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر جو انعامات تھے ان کا تذکرہ فرمایا، انہیں میں سے ایک انعام یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ہوا کو مسخر فرما دیا تھا، جہاں جانا ہوتا تھا ہوا کو حکم دے دیتے تھے وہ ان کو اور ان کے لشکر کو لے کر چل دیتی تھی، اور اس کی رفتار کا یہ عالم تھا کہ صبح کو چلتی تھی تو اس زمانہ کے مسافروں کی عام رفتار کے مطابق ایک مہینے کی مسافت تک پہنچا دیتی تھی اور شام کو چلتی تو مزید ایک ماہ کی مسافت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–14

قصہء دواؤد وسلیمان علیہما الصلاۃ والسلام قال اللہ تعالی۔ ولقد اتینا داود منا فضلا۔۔۔ الی۔۔۔ ما لبثوا فی العذاب المھین۔ (ربط) گزشتہ آیات میں آسمان و زمین کی پیدائش کا ذکر کر کے فرمایا۔ ان فی ذلک لایۃ لکل عبد منیب یعنی آسمان و زمین کی پیدا میں خدا کی قدرت کی نشانی ہے ہر عبد منیب کے لئے یعنی ہر اس بندہ کے لئے جو خدا کی طرف متوجہ اور ملتفت ہو اب ان آیات میں میں دو خاص عبد منیب کا قصہ ذکر کرتے ہیں جو خدا کی طرف خاص طور پر متوجہ اور ملتفت ہو اب ان آیات میں دو خاص عبد منیب اللہ کے وہ خاص بندے تھے جن پر اللہ نے ظاہری اور باطنی نعمتیں مکمل فرمائیں اور نبوت کے ساتھ ان کو بےمثال سلطنت بھی عطا کی مگر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 10–11

10:۔ ولقد اتینا داود الخ : یہ پہلے شبہ کا جواب ہے داود (علیہ السلام) کو ہم نے بڑی بزرگی دی۔ پہاڑ اور پرندے ان کے ساتھ مل کر اللہ کی تسبیح و تقدیس کرتے اور لوہا ان کے ہاتھ میں موم کردیا۔ لیکن اتنی خوبیوں کے باوجود وہ شفیع غالب نہیں بن سکتے کیونکہ تمام خوبیاں اور طاقتیں ان کے قبضہ میں نہ تھیں بلکہ یہ سب کچھ ہمارے قبضہ و تصرف میں تھا اور یہ خوبیاں ہم ہی نے ان کو عطا کی تھیں۔ یجبال اس سے پہلے قلنا مقدر ہے یعنی ہم نے فرمایا۔ اے پہاڑو ! اس کے ساتھ مل کر تسبیح کا ورد کرو۔ جب حضرت داود (علیہ السلام) اللہ کی تسبیح کرتے تو اللہ کے حکم سے پہاڑ بھی زبان قال سے ان کے ساتھ بآواز بلند تسبیح کرتے۔ (روح،…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 10–11

دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة میں بھی زیادہ تر بنیادی عقائد کا ہی ذکر ہے یعنی توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن کریم کی حقانیت و صداقت ، خاص طور پر توحید کے عقلی اور نقلی دلائل بیان کئے گئے ہیں۔ خدا تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر بھی اس سورة کا خاص موضوع ہے۔ گزشتہ درس میں توحید کے دلائل ذکر کرنے کے بعد اللہ نے فرمایا : ان فی ذلک لایۃ لکل عبد منیب کہ بیشک ان چیزوں میں رجوع الی اللہ رکھنے والے بندے کے لئے نشانی ہے۔ سورة الزمر میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے وانبیو الی ربکم واسلموا لہ (آیت 54) اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو اور اس کی فرمانبرداری اختیار کرو۔ اس ضمن میں آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف رجوع…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّقَدِّرْ فِي السَّرْدِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا۝ 0 ۭ اِنِّىْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ۝ 11 عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل «6» ، لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 10–14

ترکیب : داؤد مفعول اول فضلا مفعول ثانی لاتینا یاجبال تفسیر للفضل والطیر بالنصب لانہ معطوف علی محل جبال و فیہ وجوہ اخریٰ ، وبالرفع عطفا علی لفظہا ای جعلنا الجبال والطیور منقادین لامرہ فی نفاذ مشتیہ فیھما، ان اعمل ای امر ناہ ان اعمل وان مفرۃ و مصدریۃ۔ الریح بالنصب اے سخرنا الریح و بالرفع علی الابتداء غدوھا الغدو مصدر و لیس بزمان اے سیرہا من الغد بمعنی الصباح ای الزوال شھر والجملۃ فی موضع الحال من الریح، من یعمل من فی موضع نصب، منساتہ والمنساء العصی علی مفعالۃ کمیضاۃ من نسات البعیر اذ طردتہ لانھا تطردبھا۔ تفسیر … داؤد ( علیہ السلام) کا تذکرہ : پہلے فرمایا تھا، ان فی ذلک لآیۃ لکل عبد منیب اب اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 10–11

وَلَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَمِنَّا فَضْلاً ط یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَہٗ وَالطَّیْرَ ج وَاَلَـنَّا لَـہُ الْحَدِیْد۔ َ اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّقَدِّرْ فِی السَّرْدِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا ط اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔ (السباء : 10، 11) (ہم نے دائود کو اپنے ہاں سے بڑا فضل عطا کیا تھا، (ہم نے حکم دیا کہ) اے پہاڑو ! تم بھی اس کے ساتھ تسبیح میں شرکت کرو، اور یہی حکم ہم نے پرندوں کو بھی دیا، اور ہم نے اس کے لیے لوہے کو نرم کردیا۔ اس ہدایت کے ساتھ کہ ڈھیلی ڈھالی زرہیں بنائو اور ان کے حلقے ٹھیک اندازے پر رکھو، اور (اے آل دائود ! ) نیک عمل کرو، بیشک تم جو کچھ کرتے ہو میں اس کو دیکھ رہا ہوں۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 10–11

فہم القرآن ربط کلام : ” اللہ “ کی طرف رجوع کرنے والے بندے کے لیے زمین و آسمان میں بہت سے نشان عبرت ہیں۔ اور ” اللہ “ کی طرف رجوع کرنے والوں میں حضرت داؤد (علیہ السلام) سر فہرست ہیں۔ اس لیے اس موقعہ پر ان کا تذکرہ ضروری سمجھا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کو بہت سی نعمتوں سے نوازا تھا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) بیت اللحم کے رہنے والے قبیلہ یہودہ کے ایک نوجوان تھے۔ فلسطینیوں کے خلاف ایک معرکے میں جالوت جیسے کڑیل اور جری دشمن کو قتل کیا جس بنا پر بنی اسرائیل میں مقبول ہوئے اور طالوت کی وفات کے بعد پہلے موجودہ الخلیل میں یہودیہ کے حکمران بنائے گئے۔ کچھ عرصہ کے بعد بنی اسرائیل نے مل کر ان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

زر ہوں کی بناوٹ : 1 1: اَنِ اعْمَلْ (کہ تم بنائو) نحو : یہ اں اَنْ ای کے معنی میں ہے۔ مطلب یہ ہوا امرناہ ان اعمل ہم نے ان کو حکم دیا کہ تم بنائو۔ سٰبِغٰتٍ (پوری زرہیں) پوری وسیع زرہیں۔ یہ لفظ السبوغؔ سے ہے۔ وہ سب سے پہلے زر ہوں کو بنانے والے تھے۔ وہ ایک زرہ چارہزار میں فروخت کرتے۔ اس میں سے اپنے اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتے اور فقراء کو صدقہ کردیتے۔ ایک قول : یہ ہے آپ بھیس بدل کر نکلتے اور لوگوں سے اپنے متعلق پوچھ گچھ کرتے اور فرماتے دائود کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے وہ اچھی تعریف کرتے اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ انسانی شکل میں بھیجا۔ اس کی آپ سے ملاقات ہوئی۔ آپ نے اپنی عادت مالوفہ کے مطابق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 11۔ ، ان اعمل سابغات، ایسی کشادہ پوری لمبی زریں بناؤ جو زمین میں گھسٹتی چلیں ۔ ، وقد رفی السرد ، مسروکھال کو سینا اس سے مجازامراد ہے زرہ بنانا یعنی زرہ کی بناوٹ میں ایک خاص اندازرکھو کڑیاں اور کیلیں خاص انداز سے بناؤکہ نہ اتنی پتلی کہ پھٹ جائیں اور نہ اتنی موٹی کہ کڑیاں ٹوٹ جائیں ۔ ، واعملو اصالحا، حضرت داؤد (علیہ السلام) اور ان کے گھر والے نیک اعمال کریں ۔ ، انی بما تعملون بصیر،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 10–11

10‘ 11۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس انعام اور فضل کا حال بیان فرمایا ہے جو اس نے حضرت واؤد (علیہ السلام) پر کیا کہ نبوت اور سلطنت نن کو دی اور بہت سالشکر اور سامان دیا اور اس طرح کی آوازان کو عطا کی کہ جب وہ تسبیح کرتے تو ان کے ساتھ اونچے اونچے پہاڑ بھی تسبیح کرتے اور پر ندے اڑنے والے بھی ٹھہر جاتے اور طرح طرح کی آوازوں سے ان کا ساتھ دیتے معتبر سند سے طبرانی میں سلحہ بن قیس کوفی سے روایت 3 ؎ ہے (3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 526 ج 3 بحوالہ صحیح بخاری باب حسن الصوت بالقرائۃ بروایت ابوہریرہ ؓ جس کا حاصل یہ ہے کہ پیغمبر ﷺ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ کی آواز سنی جب کہ وہ رات کے وقت قرآن پڑھتے تھے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 11 ہم نے اپنے بندے اور رسول داؤد پر احسان کیا اور ہم نے انہیں علم نافع اور عمل صالح میں فضیلت بخشی اور انہیں دینی اور دنیاوی نعمتوں سے سرفراز فرمایا۔ یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت ہے کہ اس نے پہاڑوں، حیوانتا اور پرندوں کو حکم دیا کہ وہ داؤد کی حمد و تسبیح کی آواز کے ساتھ اپنی آواز ملائیں۔ یہ ایسی نعمت ہے جو آپ کے خصائص میں شمار ہوتی ہے اور یہ خصوصیت آپ سے پہلے کسی کو عطا کی گئی نہ آپ کے بعد۔ یہ آواز آپ کو اور دوسرے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی تسبیح پر آمادہ کرتی تھی۔ جب وہ دیکھتے کہ یہ جمادات، پہاڑ اور حیوانات حضرت داؤد کی آواز کا جواب دیتے ہوئے اپنے رب کی تسبیح و تکبیر اور تمجید وتحمید…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 11–12

31 سائنس اور فن کے لیے انقلاب آفریں باتوں کا درس : سو اس سے سائنس اور فن کے لیے دو اہم اور انقلاب آفریں باتوں کی ہدایت وتعلیم فرمائی گئی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک میں پوری طرح دیکھتا ہوں ان سب کاموں کو جو تم لوگ کرتے ہو "۔ تمہارا کوئی کام مجھ سے پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔ پس تم اپنے ہر عمل کا بدلہ پاؤ گے۔ لہذا صدق و اخلاص کے ساتھ نیک اعمال کا ذخیرہ جمع کئے جاؤ کہ پھر یہ موقع ملنے والا نہیں۔ نیز اس ضمن میں اس بات کو بھی بہرطور یاد رکھنا کہ زرہ سازی کے اس فن میں تم کو جس کمال اور مہارت سے نوازا گیا ہے اس کو پاکر تم کہیں بہک نہیں جانا۔ اور اس کو کہیں زمین میں فساد پھیلانے کا ذریعہ نہیں بنا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 10–14

سیدناداؤد (علیہ السلام) اور سیدناسلیمان (علیہ السلام) پر اللہ کی مہربانیاں تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے تو اللہ کے فضل و کرم کا ذکر کیا گیا ہے کہ جو بھی اللہ کی تسبیح و تقدیس میں زندگی کا زیادہ حصہ گزارتا ہے تو وہ اللہ کا مقرب ترین بندہ بن جاتا ہے۔ عام لوگوں میں سے اللہ ان کو خاص بنا دیتا ہے یعنی ایسے بندوں میں سے بعض کو اللہ تعالیٰ اپنے نبی رسول اور پیغمبر کی حیثیت سے منتخب کرلیتا ہے۔ جیسا کہ سیدناداؤد (علیہ السلام) کو اللہ نے چن لیا، ان کو نبوت بھی دی اور حکومت بھی دی اور پھر بڑی بڑی نعمتوں سے ان کو نوازا۔ سب سے پہلے تو ان کو خوبصورت جسم اور خوبصورت آواز دی۔ آپ جب اپنی پر سوز آواز میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–21

رکوع نمبر 2: آیات 10 تا 21: اسرار و معارف : داود (علیہ السلام) کو ہم نے بہت زیادہ نعمتیں عطا کیں۔ یہاں تک کہ پہاڑوں اور پرندوں تک کو حکم دی ا کہ ان کے ساتھ میری تسبیح کرو۔ مفسرین کے مطابق پہاڑ اور پرندے داود (علیہ السلام) کے ساتھ اس طرح ذکر کرتے تھے کہ عام سننے والا بھی سنتا تھا اور یہ اس تسبیح کے علاوہ تھی جو ہر شے کرتی ہے یعنی اگر کسی کے ساتھ بہت سے افراد اللہ کا ذکر کرنے لگ جائیں تو یہ اللہ کا بہت بڑا انعام ہے جو اس کے خاص بندوں کو نصیب ہوتا ہے نیز ان کے لیے بطور معجزہ لوہے کو نرم کردیا کہ لوہے کی زرہیں بنا کر تیار کریں اور حکم دیا کہ زرہ کی کڑیاں خوبصورت انداز میں جوڑیں۔ سب سے پہلے سامان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 یا ” السر د “ کے معنی زدہ زبانی کی صنعت اور کام کے ہیں اور قدر سے مراد یہ ہے کہ بقدر ضرورت یہ کام کرو اور بقیہ اوقات عبادت الٰہی میں صرف کرو، جیسا کہ بعد میں ” وعملوا صالحا ًسے معلوم ہوتا ہے۔ ( کبیر) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(34:11) ان اعمل۔ میں ان مصدریہ ہے ای النالہ الحدید لعمل سابغات (کشادہ زرہیں بنانے کے لئے ہم نے لوہا اس کے لئے نرم کردیا۔ سبغت اصل میں سبغ یسبغ (باب نصر) سبوغ مصدر۔ سے اسم فاعل جمع مؤنث کا صیغہ ہے سابغۃ واحد اور یہاں موصوف محذوف کی صفت ہے یعنی دروعا سابغات۔ کشادہ زرہیں۔ لیکن سابغۃ بمعنی کشادہ زرہ کے کثرت استعمال سے موصوف کو بیان کرنے کی حاجت ہی نہ رہی۔ لہٰذا سبغت (بلا موصوف) بمعنی کشادہ زرہیں مستعمل ہے ! جیسے ابطع وادی کے کشادہ ہونے کو کہتے ہیں لیکن استعمال عام میں کشادہ وادی کے معنوں میں ہی مستعمل ہے۔ قدر۔ فعل امر واحد مذکر حاضر تقدیر (تفعیل) مصدر۔ مناسب اندازہ کے ساتھ بنائو۔ کڑیوں کو حساب…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 10–14

لغات القرآن : آیت نمبر 10 تا 14 اوبی : چلو ۔ پڑھو النا : ہم نے نرم کردیا تھا الحدید : لوہا سبغت : کشادہ زرہیں قدر : اندازہ کر قدور (قدر) : دیگیں۔ پتیلے راسیت : ایک جگہ جمنے والیاں قضینا : ہم نے فیصلہ کردیا ما دل : نہیں بتایا دابۃ الارض : زمین کا جانور ۔ زمین کا کیڑا منساۃ : عصا۔ لاٹھی خر : وہ گر پڑا تبینت : واضح ہوگئی ۔ کھل گئی ما لبثوا : لگے نہ رہتے المھین : ذلت والا تشریح ُ : آیت نمبر 10 تا 14 زیر مطالعہ آیات سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ کائنات میں ہر طرف پھیلی ہوئی نشانیوں سے وہی عبرت و نصیحت حاصل کرتے ہیں جو ” عب منیب “ یعنی اللہ کے بندے جو ہر حال میں اللہ کی طرف جھکنے والے اس کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 10–11

حضرت داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کا واقعہ۔ (ف 1) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس انعام اور فضل کا ذکر بیان فرمایا جو اس نے حضرت داود (علیہ السلام) پر کیا کہ نبوت اور کتاب وسلطنت ان کو دی اور بہت سالشکر اور سامان دیا اور اس طرح کی آواز عطا فرمائی کہ جب وہ تسبیح کرتے تو ان کس اتھ اونچے اونچے پہاڑ بھی تسبیح کرتے ، اور پرندوں کو حکم دیا کہ جب وہ تسبیح کرتے تو پرند جھک آتے اور طرح طرح کی آوازوں سے ان کا ساتھ دیتے یہ آپ کا معجزہ تھا پھر فرمایا کہ ہم نے ان کے لیے لوہے کو مثل موم کے نرم کردیا تھا یعنی آپ کے دست مبارک میں لوہا آکرمثل موم یا گوندھے ہوئے آٹے کے نرم ہوجاتا تھا اور آپ اس سے جو چاہتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 10–11

[11] داؤد (علیہ السلام) جب کبھی جنگل میں نکلتے اور اپنی ضرب المثل خوش آوازی سے تسبیح کرتے تو پہاڑ بھی ان کے ساتھ تسبیح کرنے لگتے اور پرندے ان کے گرد جمع ہو کر ہم آہنگی کرتے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 10–12

حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) 1: اس سے قبل کی آیات میں بتایا تھا ۔ کہ انسان میں جب اتابت الی اللہ کا جوہر پیدا ہوجائے تو وہ آیات فطرت کو خوب سمجھنے لگتا ہے ۔ اب اس آیت میں اپنے دو بندوں کا ذکر فرمایا ہے ۔ جو منیب تھے اور بہت زیادہ فضل وبرکات کے حامل تھے ۔ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) بابل میں ان کی بادشاہت اور شان و عظمت کا تفصیل کے ساتھ تذکرہ ہے ۔ قرآن حکیم نے نہایت مختصر انداز میں چندواقعات کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ اس لئے کہ عرب تفصیل کے ساتھ ان چیزوں سے آگاہ تھے بتانا صرف یہ مقصود ہے کہ اجابت الی اللہ کا صحیح مفہوم کیا ہے ؟ فرمایا : حضرت داؤد کو دیکھو کہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(11) اور ہم نے فرمایا کہ اے دائود (علیہ السلام) تو لوہے کی کشادہ اور پوری زرہیں بنا اور جال بننے میں کڑیوں کا صحیح اندازہ رکھ اور تم سب یعنی دائود (علیہ السلام) اور اس کے متعلقین نیک اعمال کے پابند رہو بلاشبہ تم جو کام کرتے ہو میں وہ سب دیکھتا ہوں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت دائود (علیہ السلام) چوتھے دن جنگل میں نکلتے اپنے گناہ پر روتے اور زبور پڑھتے خوش آوازی سے اس کے اثر سے پہاڑ بھی ساتھ پڑھتے اور روتے اور اڑتے جانور پاس بیٹھ کر اسی طرح آواز کرتے اس مجلس میں لوگوں کے بہت جنازے نکلتے اور کڑیوں کی زرہ پہلے انہی سے نکلی کہ کشادہ رہے۔ حضرت دائود (علیہ السلام) حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے دئواد کشادہ زرہیں بنائو ، حلقے جوڑنے میں اندازے کا خیال رکھو 11 ۔ لوہے کے نرم کرنے کے متعلق ایک تفسیر تو وہ ہے جو ہم نے اختیار کی ہے کہ آپ کو لوہا پگھلانے اور لوہے کی اشیاء میں سے سامان جنگ اور ضرورت کی دوسری چیزیں بنانے میں بہت مہارت حاصل تھی اور ہمارا یہ آپ کا لفظ استعمال کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ بہ نفس نفیس دائود (علیہ السلام) ہی سارا کام کرتے تھے بلکہ ہماری مراد یہ ہے کہ آپ کے دور میں اس فن نے بہت ترقی کی چونکہ آپ خود اس فن کے ماہر تھے اور آپ نے اس میں بہت ہی دلچسپی لی اور دنیا میں اس قدر ترقی کی کہ کم از کم اس وقت کی دنیا میں اتنا کام کسی دوسرے ملک میں نہیں ہوتا تھا اور آپ کے پاس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In the last sentence of verse 10 and the first sentence of verse 11, it was said: وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ أَنِ اعْمَلْ سَابِغَاتٍ وَقَدِّرْ‌ فِي السَّرْ‌دِ (And We made the iron soft for him (saying to him) " Make coats of armour, and maintain balance in combining (their) rings,' - 34:10). This is another miracle that iron was made soft for him. Early tafsir authorities - Hasan Basri, Qatadah, A'mash, and others - said that Allah Ta’ ala had, by way of a miracle, turned iron soft as wax for him. To make something out of it, he needed no fire, or hammer, or any other tools. The part of the…

Read the full tafseer →