Explained with ayahs 12–13
اللہ کی نعمتیں اور سلیمان علیہ السلام۔
حضرت داؤد ؑ پر جو نعمتیں نازل فرمائی تھیں ان کو بیان کرکے پھر آپ کے فرزند حضرت سلیمان ؑ پر جو نعمتیں نازل فرمائی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کیلئے ہوا کو تابع فرمان بنادیا۔ مہینے بھر کی راہ صبح ہی صبح ہوجاتی اور اتنی ہی مسافت کا سفر شام کو ہوجاتا۔ مثلاً دمشق سے تخت مع فوج و اسباب کے اڑایا اور تھوڑی دیر میں اصطخر پہنچادیا جو تیز سوار کیلئے بھی مہینے بھر کا سفر تھا۔ اسی طرح شام کو وہاں سے تخت اڑا اور شام ہی کو کا بل پہنچ گیا۔ تانبے کو بطور پانی کرکے اللہ تعالیٰ نے اس کے چشمے بہا دیئے تھے کہ جس کام میں جس طرح جس وقت لانا چاہیں تو بلاوقت لے لیا کریں۔ یہ…
Read the full tafseer →سورة سَبـَا 17
یہ مضمون بھی سورة انبیا آیت 81 میں گزر چکا ہے اور اس کی تشریح وہاں کی جا چکی ہے (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم 176۔ 177)
سورة سَبـَا 18
بعض قدیم مفسرین نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ زمین سے ایک چشمہ حضرت سلیمان ؑ کے لیے پھوٹ نکلا تھا جس میں سے پانی کے بجائے پگھلا ہوا تانبہ بہتا تھا۔ لیکن آیت کی دوسری تاویل یہ بھی ہو سکتی ہے کہ حضرت سلیمان ؑ کے زمانے میں تانبے کو پگھلانے اور اس سے طرح طرح کی چیزیں بنانے کا کام بڑے پیمانے پر کیا گیا کہ گویا وہاں تانبے کے چشمے بہ رہے تھے۔ (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، ص 176)
سورة سَبـَا 19
یہ جن جو سلیمان ؑ کے لیے مسخر کیے…
Read the full tafseer →(آیت) ولسلیمٰن الریح غدوھا شہر و رواحھا شہر، حضرت داؤد ؑ کے خصوصی فضائل و انعامات کے ذکر کے بعد حضرت سلیمان ؑ کا ذکر فرمایا اور ارشاد ہوا کہ جس طرح حضرت داؤد ؑ کے لئے اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر کردیا تھا، اسی طرح سلیمان ؑ کے لئے ہوا کو مسخر فرما دیا تھا، اور حضرت سلیمان ؑ کے تخت کو جس پر وہ مع اپنے اہل دربار کے بڑی تعداد میں سوار ہوتے تھے، ہوا ان کے حکم کے تابع جہاں وہ چاہتے لے جاتی تھی۔ حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ تسخیر ہوا کا معجزہ حضرت سلیمان ؑ کو اس عمل کے صلہ میں عطا ہوا تھا کہ ایک روز وہ اپنے گھوڑوں کے معائنہ میں مشغول تھے، اس میں ایسی مشغولیت ہوئی کہ عصر کی نماز قضاء ہوگئی…
Read the full tafseer →ولسلمین الریح عددھا شھر وبدا ھحا شر واسلنا لہ عین القطر، ومن الجن من یعمل بین یدیہ باذن ربہ ومن یزغ منھم امرنا نزقہ من عذاب السعیر (12)
حضرت دائود ؑ کو اللہ تعالیٰ نے جس طرح لوہے کے استعمال کا نہایت اعلیٰ فن تعلیم فرمایا جس سے انہوں نے اپن بری قوت میں بےمثال اضافہ فرمایا اسی طرح حضرت سلیمان ؑ کو ہوا کے کنٹرول کرنے کا فن عطا فرمایا جس سے انہوں نے اپنے بحری بیٹرے کو اس قدر ترقی دی کہ ان کے جہازات مہینوں کا سفر بےروک ٹوک جاری رکھتے۔ سورة انبیاء کی آیت 81 کے تحت ہم ذکر کر آئے ہیں کہ ان کے بادبانی جہازات نہایت دور دور کے ساحل تک سفر کرتے اور ان کے بادبان ایسے سائنٹیفک طریقہ پر بنائے گئے تھے کہ ہوا…
Read the full tafseer →12۔ 1 یعنی حضرت سلیمان ؑ مع اعیان سلطنت اور لشکر تخت پر بیٹھ جاتے اور جدھر آپ کا حکم ہوتا کہ ہوائیں اسے اتنی رفتار سے لے جاتیں کہ ایک مہینے جتنی مسافت صبح سے دوپہر تک کی ایک منزل میں طے ہوجاتی اور پھر اسی طرح دوپہر سے رات تک ایک مہینے جتنی مسافت طے ہوجاتی اس طرح ایک دن میں دو مہینوں کی مسافت طے ہوجاتی۔
12۔ 2 یعنی جس طرح حضرت داؤد ؑ کے لئے لوہا نرم کردیا تھا، حضرت سلیمان ؑ کے لئے تانبے کا چشمہ ہم نے جاری کردیا تاکہ تانبے کی دھات سے وہ جو چاہیں بنائیں۔
12۔ 3 اکثر مفسرین کے نزدیک یہ سزا قیامت والے دن دی جائے گی۔ لیکن بعض کے نزدیک یہ دنیاوی سزا ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتہ مقرر فرما…
Read the full tafseer →5: یہ وہ معجزہ ہے جو حضرت سلیمان ؑ کو عطا ہوا تھا، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کا تابع فرمان بنادیا تھا، وہ ہوا کی تیز رفتاری کو استعمال فرما کر دور دراز کا سفر مختصر وقت میں طے کرلیتے تھے، قرآن کریم نے اس معجزے کی تفصیل بیان نہیں فرمائی، لیکن بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے تخت کو ہوا پر اڑنے کی صلاحیت دے دی گئی تھی، چنانچہ جو سفر عام حالات میں ایک مہینے میں طے ہوا کرتا تھا وہ اس طرح صرف صبح یا صرف شام میں طے ہوجایا کرتا تھا۔
6: یہ ایک اور نعمت کا ذکر ہے جو حضرت سلیمان ؑ کو عطا ہوئی تھی کہ تانبے کا ایک چشمہ ان کی دسترس میں تھا، اور اس میں اللہ تعالیٰ نے تانبے کو سیال بنادیا تھا جس کی وجہ…
Read the full tafseer →ولسلیمن الریح غدوھا شھر۔۔۔۔۔۔ وقلیل من عبادی الشکور (12 – 13) ” اس کے لیے بناتے تھے جو کچھ وہ چاہتا ، اونچی عمارتیں ، تصویریں ، بڑے بڑے خوض جیسے لگن اور اپنی جگہ سے نہ ہٹنے والی بھاری دیگیں۔ اے آل داؤد ، عمل کرو شکر کے طریقے پر ، میرے بندوں میں کم ہی شکر گزار ہیں۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوا کو مسخر کردیا گیا تھا ، اس کے بارے میں بہت سی روایات وارد ہیں۔ ان روایات پر اسرائیلیات کا رنگ غالب ہے۔ اگرچہ یہودی کتابوں میں ان کا تذکرہ نہیں ہے۔ ان روایات میں پڑنے سے بچنا ہی بہتر ہے۔ آیت میں جو کچھ آیا ہے کہ اللہ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوا کو مسخر کردیا تھا اور یہ ہوا صبح کے وقت…
Read the full tafseer →9 حضرت سلیمان کا تخت تھا جو فضا میں اڑتا۔ ہوا اس کو شام سے یمن اور یمن سے شام لے چلتی۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کردیا تھا، ایک مہینہ کی مسافت ہوا کے ذریعہ سے آدھے دن میں طے ہوتی تھی۔ سورة " انبیاء " اور سورة " نمل " میں اس کا کچھ بیان گزر چکا ہے اور آگے سورة " ص " میں آئے گا اور پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یمن کی طرف نکال دیا تھا۔ اس کو سانچوں میں ڈال کر جنات بڑے بڑے برتن (دیگیں اور لگن وغیرہ) تیار کرتے تھے جن میں ایک لشکر کا کھانا پکتا اور کھلایا جاتا۔
10 یعنی بہت سے جن جنہیں دوسری جگہ شیاطین سے تعبیر فرمایا ہے معمولی قلیوں اور خدمت گاروں کی طرح ان کے کام…
Read the full tafseer →آیت 12 { وَلِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّہَا شَہْرٌ وَّرَوَاحُہَا شَہْرٌ} ”اور سلیمان علیہ السلام کے لیے ہوا کو مسخر کردیا تھا ‘ اس کا صبح کو چلنا بھی ایک ماہ کا سفر تھا اور اس کا شام کو چلنا بھی ایک ماہ کا سفر تھا۔“
حضرت سلیمان علیہ السلام جہاں جانا چاہتے تیز ہوا آپ علیہ السلام کے تخت کو اڑا کر وہاں پہنچا دیتی اور جو فاصلہ اس زمانے کے لوگ مروّجہ سواریوں کے ذریعے ایک ماہ میں طے کرتے حضرت سلیمان علیہ السلام وہ فاصلہ ہوا کے ذریعے سے ایک صبح یا ایک شام میں طے کرلیتے تھے۔
{ وَاَسَلْنَا لَہٗ عَیْنَ الْقِطْرِ } ”اور ہم نے اس کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ جاری کردیا تھا۔“
{ وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ…
Read the full tafseer →18 تشریح کے لئے دیکھئے ( سورة انبیاء کی آیت نمبر 81 کا حاشیہ نمبر 69)
19 اس کی دو توجیہات بیان کی جاتی ہیں۔ ایک یہ کہ آپ کے عہد حکومت میں یمن میں تانبے کا ایک پگھلا ہوا چشمہ نکل آیا تھا اور دوسری یہ کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کے والد داود کو لوہا پگھلانے کا فن عطا فرمایا تھا۔ اور آپ سے اس سے زرہیں بنایا کرتے تھے، اسی طرح حضرت سلیمان کو تانبا پگھلانے کا فن عطا فرمایا تھا۔ آپ وسیع پیمانے پر تانبا پگھلاتے۔ پھر اس کو سانچوں میں ڈال کر خبات بڑے بڑے برتن، دیگیں اور لگن وغیرہ تیار کرتے تھے۔ جن میں ایک لشکر کا کھانا پکتا اور کھلایا جاتا، یہ تو سرکاری ضروریات تھیں۔ علاوہ ازیں آپ تانبے کی اشیاء عام…
Read the full tafseer →14۔ (آیت) ” شھر “ مرادف ہے مسیرۃ شہر کے یعنی مہینہ بھر کی راہ، اور راہ بھی وہ جتنی کہ ایک تیز رواسپ سوار مہینہ بھر میں طے کرے، اے مسیرۃ شھر للراکب المسرع (مدارک) حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی سیاحت ہوائی پر حاشیے سورة الانبیاء (پ 17) میں گزر چکے ... گویا بڑے بڑے تیز رفتار ہوائی جہاز آپ (علیہ السلام) کے تابع تھے، گو وہ بجائے تیل اور مشیزی اور انجن وغیرہ کے براہ راست قدرت الہی سے چلتے ہوں۔
15۔ یعنی تانبے کو اس کے معدن میں رقیق سیال کردیا تھا تاکہ اس سے بلامدد آلات مصنوعات کے بنانے میں سہولت ہو۔ پھر وہ منجمد ہوجاتا۔ ؛ یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ زیر زمین جہاں گرم اور رقیق تانبے کے چشمے ہیں۔ وہ آپ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
آیت نمبر 10 تا 14
ترجمہ : اور ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے بڑی نعمت عطاء کی یعنی نبوت اور کتاب، اور ہم نے کہا اے پہاڑ اور اے پرندو تم داؤد کے ساتھ تسبیح دہراؤ، طیرَ منصوب ہے جبال کے محل پر عطف ہونے کی وجہ سے، اور ہم نے داؤد کے ساتھ تسبیح پڑھنے کا حکم دیا، اور ہم نے ان کے لئے لوہا نرم کردیا چناچہ (حضرت) داؤد (علیہ السلام) کے ہاتھ میں لوہا گوندھے ہوئے آٹے کے مانند ہوگیا اور ہم نے حکم دیا کہ لوہے کی لمبی (مکمل) زرہ بناؤ کہ ان کو پہننے والا زمین میں گھسیٹے اور بنانے میں یکسانیت کا خیال رکھو زرہ سازکو ” سراد “ کہتے ہیں یعنی ایسی زرہ بناؤ کہ اس کے حلقے مساوی ہوں، اے آل داؤد تم داؤد کی معیت میں نیک کام…
Read the full tafseer →ولسلیمن الریح . اور ہوا کو ہم نے سلیمان کے تابع بنا دیا۔
غدوھا شھر ورواحھا شھر . صبح سے زوال تک اس کی رفتار ایک ماہ (کی مسافت کے برابر) تھی اور زوال سے
مغرب تک اس کی رفتار ایک ماہ (کی مسافت راہ کے برابر) تھی۔ حسن نے کہا : حضرت سلیمان صبح کو دمشق سے چلتے اور اصطخر میں قیلولہ کرتے تھے۔ ان دونوں مقاموں کے درمیان مسافت تیز سوار کی ایک ماہ کی مسافت کے برابر ہے۔ پھر پچھلے دن میں اصطخر سے چل کر بابل میں رات کو قیام کرتے۔ ان دونوں کی درمیانی مسافت بھی تیز شہسوار کی ایک ماہ کی مسافت کے برابر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صبح کا کھانا آپ رَے میں کھاتے اور شام کا کھانا سمرقند میں۔
واسلنا لہ عین القطر اور ان…
Read the full tafseer →اور ہم نے سلیمان کے لیے ہوا کو مسخر کردیا کہ اس کی صبح کی منزل ایک مہینہ بھر کی ہوتی تھی۔
اور اسی طرح شام کی منزل مہینہ بھر کی ہوتی تھی یعنی صبح کو بیت المقدس سے اصطخر تک ایک ماہ کی مسافت طے کرلیا کرتے تھے اور اسی طرح اسی دن شام کو اسطخر سے بیت المقدس آجایا کرتے تھے۔
اور ہم نے ان کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہا دیا تھا کہ مٹی کی طرح جو اس سے بنانا ہوتا وہ بنا لیتے۔
اور جنات کو بھی ہم نے ان کے تابع کردیا تھا جن میں سے بعض جن تو ان کے پروردگار کے حکم سے ان کے سامنے تعمیرات کا کام کرتے تھے۔
اور یہ وعید بھی سنا دی تھی کہ جو ان میں سے ہمارے حکم یا یہ کہ سلیمان کی فرمانبرداری سے منہ موڑے گا تو…
Read the full tafseer →وَلِسُلَيْمٰنَ الرِّيْحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ۔۔ : اللہ تعالیٰ کی طرف انابت کرنے والے بندوں میں سے داؤد ؑ کے بعد ان کے فرزند ارجمند سلیمان ؑ کا ذکر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ہوا کو مسخر کردیا۔ وہ ایک مہینے کی راہ دن کے پہلے پہر اور ایک مہینے کی راہ دن کے پچھلے پہر طے کرلیتی تھی۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس زمانے میں بحری جہاز موافق ہواؤں کے ساتھ سفر کرتے تھے۔ آیت میں ”غُدُوٌّ“ سے مراد جانا ہے اور ”رَوَاحٌ“ سے مراد واپسی ہے اور مطلب یہ ہے کہ ایک ماہ تک موافق ہوا سلیمان ؑ کے پایۂ تخت سے مشرق کی طرف چلتی تھی، جس کے ذریعے سے ان کے بحری جہاز تجارتی اور دوسرے مقاصد کے لیے…
Read the full tafseer →آیت : و سلیمنالریح زجاج نے کہا : تقدیر کلام یہ ہے و سخر نا لسلیمن الریح (1) (زاد المسیر، جز 6، صفحہ 234) ۔ عاصم نے ابوبکر کی رویت میں یہ قراءت کی ہے الریح یہ مبدا ہونے کی حیثیت سے مر فوع ہے (2) (ایضا) ۔ اس کی تعبیر یوں ہوگی : حدیث : و لسلیمن تسخر الریح سلیمن بالا ستقرار الریح۔ یعنی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوا ٹھہری ہوئی ہے۔ اس میں بھی پہلے والا معنی ہے۔ اگر کوئی کہنے والا کہے ـ: جب تو کہے، اعطیت زیدا درھماو العمرو دینار تو تو نے دینار کو رفع دیا تو اس میں پہلے جملے کا معنی موجود نہیں، یہ جائز ہے کہ کہ تو نے اسے دینار عطا نہ کیا ہو۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : معاملہ اسی طرح ہے لیکن آیت…
Read the full tafseer →1۔ عبد بن حمید وابن جریر نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” ولسلیمن الریح “ کو حاء کے رفع کے ساتھ پڑھا۔
2۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت ولسلیمن الریح غدہا شہر ورواحہا شہر (اور ہوا کو ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کے تابع بنادیا جس کے صبح کی منزل مہینے بھر کی راہ اور شام کی منزل مہینے بھر کی راہ تھی) یعنی ان کا صبح چلنا ایک مہینے کی مسافت تھی اور ان کا شام کا چلنا ایک مہینے کی مسافت تھی اور یہ سب ایک دن میں ہوتا۔
3۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ہوا کی رفتار دن میں دو ماہ کی مسافت ہوتی تھی۔
4۔ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے ابن المنذر…
Read the full tafseer →وَلِسُلَيْمٰنَ [اور (ہم نے مسخر کیا) سلیمان (علیہ السلام) کے لئے ] الرِّيْحَ [ہوا کو ] غُدُوُّهَا [اس کا صبح کو چلنا ] شَهْرٌ [ایک مہینہ تھا ] وَّ رَوَاحُهَا [اور اس کا شام کو واپس ہونا ] شَهْرٌ ۚ [ایک مہینہ تھا ] وَاَسَلْنَا [اور ہم نے پگھلایا ] لَهٗ [ان (علیہ السلام) کے لئے ] عَيْنَ الْقِطْرِ ۭ [تانبے کے چشمے کو ] وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ [اور جنوں میں سے وہ بھی تھے جو ] يَّعْمَلُ [عمل کرتے تھے ] بَيْنَ يَدَيْهِ [ان کے سامنے ] بِاِذْنِ رَبِّهٖ ۭ [ان (علیہ السلام) کے رب کی اجازت سے ] وَمَنْ يَّزِغْ مِنْهُمْ [اور جو پھرتا ان میں سے ] عَنْ اَمْرِنَا [ہمارے حکم سے ] نُذِقْهُ [تو ہم چکھا دیتے اس کو…
Read the full tafseer →تانبے کا چشمہ بہا دینا :
دوسرا انعام ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (وَاَسَلْنَا لَہٗ عَیْنَ الْقِطْرِ ) اور ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کے لیے تانبے کا چشمہ بہا دیا۔ تانبا مشہور معدنی چیز ہے اور جامد ہے، اسے برتن وغیرہ بنانے کے لیے پگھلانا پڑتا ہے، اللہ تعالیٰ جل شانہٗ نے آپ کو پگھلے ہوئے تانبے کی نعمت دی اور تھوڑا بہت نہیں بلکہ اس کا چشمہ جاری فرما دیا۔ صاحب روح المعانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ تانبے کا یہ چشمہ یمن کی سرزمین میں تھا۔
جنات کی تسخیر :
تیسری نعمت بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا : (وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْہِ بِاِذْنِ رَبِّہٖ ) (اور جنات میں سے بعض وہ تھے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
قصہء دواؤد وسلیمان علیہما الصلاۃ والسلام
قال اللہ تعالی۔ ولقد اتینا داود منا فضلا۔۔۔ الی۔۔۔ ما لبثوا فی العذاب المھین۔
(ربط) گزشتہ آیات میں آسمان و زمین کی پیدائش کا ذکر کر کے فرمایا۔ ان فی ذلک لایۃ لکل عبد منیب یعنی آسمان و زمین کی پیدا میں خدا کی قدرت کی نشانی ہے ہر عبد منیب کے لئے یعنی ہر اس بندہ کے لئے جو خدا کی طرف متوجہ اور ملتفت ہو اب ان آیات میں میں دو خاص عبد منیب کا قصہ ذکر کرتے ہیں جو خدا کی طرف خاص طور پر متوجہ اور ملتفت ہو اب ان آیات میں دو خاص عبد منیب اللہ کے وہ خاص بندے تھے جن پر اللہ نے ظاہری اور باطنی نعمتیں مکمل فرمائیں اور نبوت کے ساتھ ان کو بےمثال سلطنت بھی عطا کی مگر…
Read the full tafseer →12:۔ ولسلیمن الخ یہ دوسرے شبہ کا جواب ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) ایک عظیم المرتبت پیغمبر اور ایک کبیر الشان بادشاہ تھے۔ ہوا ان کے ماتحت تھی اور جن ان کے فرمانبردار تھے۔ ایسی شان و عظمت کے باوجود وہ عنداللہ شفیع غالب نہیں بن سکتے کیونکہ یہ تمام چیزیں ان کے اپنے قبضہ و اختیار میں نہ تھیں بلکہ ہم نے اپنے حکم سے ہوا کو ان کی مطیع کردیا۔ وہ جہاں چاہتے ہوا ان کے تخت کو اٹھا کرلے جاتی۔ غدوھا شہر الخ : ہوا اس قدر تیز رفتاری سے چلتی کہ ایک مہینہ کی پیدل مسافت دن کے پہلے حصے میں اور ایک ماہ کی مسافت دن کے پچھلے حصے میں طے کرلیتی۔ قال قتادۃ کانت تقطع فی الغدو الی قرب الزوال مسیرۃ شہر وفی الرواح من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
حضرت دائود (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ذکر کئی ایک سورتوں میں آیا ہے اس سے پہلے سورة نمل میں آپ کا تذکرہ تھا ، اب یہاں آرہا ہے اور آگے سورة ص میں بھی آئے گا۔ یہ دونوں باپ بیٹا اللہ کے جلیل القدر اور صاحب کتاب پیغمبر تھے اس سورة میں پہلے اللہ تعالیٰ نے توحید کے عقلی اور نقلی دلائل بیان فرمائے اور آخر میں فرمایا ان فی ذلک لایۃ لکل عبد منیب کہ اس میں اللہ کی طرف رجوع رکھنے والے ہر بندے کے لیے نشانی ہے اللہ نے عبد منیب کے طور پر پہلے دائود (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا اور اب ان کے فرزند ارجمند حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ذکر ہو رہا ہے۔
حضرت دائود (علیہ السلام) کے انیس بیٹوں میں…
Read the full tafseer →وَلِسُلَيْمٰنَ الرِّيْحَ غُدُوُّہَا شَہْرٌ وَّرَوَاحُہَا شَہْرٌ 0 ۚ وَاَسَلْنَا لَہٗ عَيْنَ الْقِطْرِ 0 ۭ وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ يَّعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْہِ بِـاِذْنِ رَبِّہٖ 0 ۭ وَمَنْ يَّزِغْ مِنْہُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْہُ مِنْ عَذَابِ السَّعِيْرِ 12
الرِّيحُ معروف،
وهي فيما قيل الهواء المتحرّك . وعامّة المواضع الّتي ذکر اللہ تعالیٰ فيها إرسال الرّيح بلفظ الواحد فعبارة عن العذاب، وكلّ موضع ذکر فيه بلفظ الجمع فعبارة عن الرّحمة، فمن الرِّيحِ : إِنَّا أَرْسَلْنا عَلَيْهِمْ رِيحاً صَرْصَراً [ القمر/ 19] ، فَأَرْسَلْنا عَلَيْهِمْ رِيحاً وَجُنُوداً [ الأحزاب/ 9] ، مَثَلِ رِيحٍ فِيها صِرٌّ [ آل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
ترکیب : داؤد مفعول اول فضلا مفعول ثانی لاتینا یاجبال تفسیر للفضل والطیر بالنصب لانہ معطوف علی محل جبال و فیہ وجوہ اخریٰ ، وبالرفع عطفا علی لفظہا ای جعلنا الجبال والطیور منقادین لامرہ فی نفاذ مشتیہ فیھما، ان اعمل ای امر ناہ ان اعمل وان مفرۃ و مصدریۃ۔ الریح بالنصب اے سخرنا الریح و بالرفع علی الابتداء غدوھا الغدو مصدر و لیس بزمان اے سیرہا من الغد بمعنی الصباح ای الزوال شھر والجملۃ فی موضع الحال من الریح، من یعمل من فی موضع نصب، منساتہ والمنساء العصی علی مفعالۃ کمیضاۃ من نسات البعیر اذ طردتہ لانھا تطردبھا۔
تفسیر … داؤد ( علیہ السلام) کا تذکرہ : پہلے فرمایا تھا، ان فی ذلک لآیۃ لکل عبد منیب اب اس…
Read the full tafseer →وَلِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّھَا شَھْرٌوَّ رَوَاحُھَا شَھْرٌ ج وَاَسَلْنَا لَـہٗ عَیْنَ الْقِطْرِ ط وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْہِ بِاِذْنِ رَبِّہٖ ط وَمَنْ یَّزِعْ مِنْھُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْـہُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ ۔ (السباء : 12)
(اور سلیمان کے لیے ہم نے ہوا کو مسخر کردیا، صبح کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی راہ تک، اور شام کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی راہ تک، اور ہم نے اس کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہا دیا، اور جنات میں سے بھی اس کے لیے مسخر کردیے جو اس کے رب کے حکم سے اس کے آگے کام کرتے تھے، ان میں سے جو ہمارے حکم سے سرتابی کرتا، اس کو ہم بھڑکتی ہوئی آگ کا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حضرت داؤد (علیہ السلام) کے بعد ان کے صاحبزادے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا تذکرہ۔
حضرت داؤد (علیہ السلام) کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے بیٹے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو نبوت اور اقتدار عطا فرمایا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ کے حضور یہ درخواست پیش کی۔” اے میرے رب ! مجھے ایسا اقتدار عطا فرما کہ اس جیسا اقتدار میرے بعد کسی شخص کو حاصل نہ ہو۔ “ [ صٓ: 35]
اس دعا کا نتیجہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو ہوا پر اختیار دیا کہ وہ صبح سے شام تک اور شام سے صبح تک دو مہینوں کی مسافت طے کرلیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے تانبے کا چشمہ…
Read the full tafseer →ہوا کا تابع کرنا :
12: وَلِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ ( اور سلیمان کیلئے ہم نے ہوا کو مسخر کیا) سلیمان (علیہ السلام) کے لئے اللہ تعالیٰ نے صبا کو مسخر کیا۔
نحو : ابو بکر، حماد، فضل نے الریحُ کو مرفوع پڑھا ہے۔ تقدیر کلام یہ ہوگا : لسلیمان الریح مسخرۃٌ۔ غُدُوُّھَا شَھْرٌ وَّ رَوَاحُھَا شَھْرٌ (اس کا صبح چلنا مہینہ بھر کی مسافت تھی اور اس کا شام چلنا مہینہ بھر کی مسافت تھی) صبح کے وقت تھوڑی دیر میں وہ مہینہ بھر کی مسافت طے کرلیتی اور شام کو چلنا بھی اسی طرح تھا۔ آپ صبح دمشق سے چل کر اصطخرفارس میں قیلولہ فرماتے ان کے مابین ایک ماہ کی مسافت ہے اور شام کو اصطخر سے روانہ ہو کر کابل میں رات گزارتے۔ ان کے…
Read the full tafseer →12، ولسلیمان الریح ، اور ہم نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لے ہواکو مسخر کردیا۔ ، غدوھا شھر اورواحھا حسن نے کہا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) صبح کو دمشق سے چلتے اور اصطخر میں قیلولہ کرتے تھے۔ ان دونوں مقاموں کے درمیان مسافت تیز سوار کی ایک ماہ کی مسافت کے برابر ہے۔ پھر پچھلے دن میں اصطخر سے چل کر باہل میں رات کو قیام کرتے ۔ ان دونوں کی درمیانی مسافت بھی تیز شہسوار کی ایک ماہ کی مسافت کے برابر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صبح کا کھانا آپ رے میں کھاتے اور شام کا کھانا سمر قند میں۔
، واسلنا لہ عین القطر ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے پانی کے چشمے کی طرح اللہ نے زمین سے نکال دیا تھا اس لیے اس کو…
Read the full tafseer →12۔ اللہ تعالیٰ نے جو انعام حضرت داؤد (علیہ السلام) پر کیا تھا اس کے ذکر کے بعد اب اس انعام کا ذکر فرمایا جو ان کے بیٹے حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر کیا وہ یہ کہ تابع کردیا جس سے صبح کی منزل میں ایک مہینہ کی راہ اور شام کی منزل میں ایک مہینہ کی راہ اسی طرح ایک روز میں دو مہینہ کا راستہ طے ہوجاتا تھا مو ضح القرآن میں ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ایک تخت تھا جس پر سب لشکر چلتا تھا ہوا اس کو لیے چلتی تھی ملک شام سے یمن اور یمن سے شام ایک اور پگھلے ہوئے تابنے کا چشمہ اللہ نے نکالا تھا جنات اس کو سانچوں میں ڈھال کر باسن بناتے بہت بڑے لشکر کے موافق ان میں کھانا پکتا اور بٹتا ‘ موضح القرآن کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
آیت 12
اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت داؤد پر اپنا فضل و کرم بیان کرنے کے بعد ان کے فرزند حضرت سلیمان پر اپنے فضل و کرم کا ذکر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو آپ کے لئے مسخر کردیا جو آپ کے حکم پر چلتی تھی سلیمان پر اپنے فضل و کرم کا ذکر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو آپ کے لئے مسخر کردیا جو آپ کے حکم پر چلتی تھی جو آپ کو اور آپ کی افواج کو اٹھائے پھرتی تھی اور بہت دور کی مسافتیں بہت کم مدت میں طے کرتی تھی۔ دو ماہ کی مسافت ایک دن میں طے کرلیتی تھی۔ فرمایا : (غدوھا شھر) ” اس کی صبح کی منزل ایک مہینے کی ہوتی تھی۔ “ دن کی ابتدا سے لے کر زوال تک (ورواحھا شھر) ” اور اس کی شام کی منزل ایک مہینے کی ہوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
31 سائنس اور فن کے لیے انقلاب آفریں باتوں کا درس : سو اس سے سائنس اور فن کے لیے دو اہم اور انقلاب آفریں باتوں کی ہدایت وتعلیم فرمائی گئی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک میں پوری طرح دیکھتا ہوں ان سب کاموں کو جو تم لوگ کرتے ہو "۔ تمہارا کوئی کام مجھ سے پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔ پس تم اپنے ہر عمل کا بدلہ پاؤ گے۔ لہذا صدق و اخلاص کے ساتھ نیک اعمال کا ذخیرہ جمع کئے جاؤ کہ پھر یہ موقع ملنے والا نہیں۔ نیز اس ضمن میں اس بات کو بھی بہرطور یاد رکھنا کہ زرہ سازی کے اس فن میں تم کو جس کمال اور مہارت سے نوازا گیا ہے اس کو پاکر تم کہیں بہک نہیں جانا۔ اور اس کو کہیں زمین میں فساد پھیلانے کا ذریعہ نہیں بنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
سیدناداؤد (علیہ السلام) اور سیدناسلیمان (علیہ السلام) پر اللہ کی مہربانیاں
تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے تو اللہ کے فضل و کرم کا ذکر کیا گیا ہے کہ جو بھی اللہ کی تسبیح و تقدیس میں زندگی کا زیادہ حصہ گزارتا ہے تو وہ اللہ کا مقرب ترین بندہ بن جاتا ہے۔ عام لوگوں میں سے اللہ ان کو خاص بنا دیتا ہے یعنی ایسے بندوں میں سے بعض کو اللہ تعالیٰ اپنے نبی رسول اور پیغمبر کی حیثیت سے منتخب کرلیتا ہے۔ جیسا کہ سیدناداؤد (علیہ السلام) کو اللہ نے چن لیا، ان کو نبوت بھی دی اور حکومت بھی دی اور پھر بڑی بڑی نعمتوں سے ان کو نوازا۔ سب سے پہلے تو ان کو خوبصورت جسم اور خوبصورت آواز دی۔ آپ جب اپنی پر سوز آواز میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–21
رکوع نمبر 2: آیات 10 تا 21:
اسرار و معارف : داود (علیہ السلام) کو ہم نے بہت زیادہ نعمتیں عطا کیں۔ یہاں تک کہ پہاڑوں اور پرندوں تک کو حکم دی ا کہ ان کے ساتھ میری تسبیح کرو۔ مفسرین کے مطابق پہاڑ اور پرندے داود (علیہ السلام) کے ساتھ اس طرح ذکر کرتے تھے کہ عام سننے والا بھی سنتا تھا اور یہ اس تسبیح کے علاوہ تھی جو ہر شے کرتی ہے یعنی اگر کسی کے ساتھ بہت سے افراد اللہ کا ذکر کرنے لگ جائیں تو یہ اللہ کا بہت بڑا انعام ہے جو اس کے خاص بندوں کو نصیب ہوتا ہے نیز ان کے لیے بطور معجزہ لوہے کو نرم کردیا کہ لوہے کی زرہیں بنا کر تیار کریں اور حکم دیا کہ زرہ کی کڑیاں خوبصورت انداز میں جوڑیں۔ سب سے پہلے سامان…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی ” انابت “ کی وجہ سے ان پر انعامات فرمائے۔ ( کبیر)6 اسی طرح وہ ایک دن میں دو ماہ کی مسافت طے کرتی۔7 مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ چشمہ یمن میں کسی مقام پر جاری ہوا تھا۔ ( ابن کثیر) بعض لوگوں نے لکھا ہے کہ تانبے کا چشمہ بہادیا “ سے مراد یہ ہے کہ حضرت سلیمان کے زمانہ میں تانبے کو پگھلانے اور اس سے طرح طرح کی چیزیں بنانے کا کام بڑے وسیع پیمانے پر ہوتا تھا، گویاں وہاں تانبے کے چشمے بہہ رہے تھے مگر یہ آیت کی من مانی تاویل ہے۔8 یہ جن جو حضرت سلیمان کے سامنے کام کرتے تھے، ان کو شیاطین بھی فرمایا گیا ہے۔ (الانبیاء : 82)
Read the full tafseer →(34:12) ولسلیمن الریح۔ وائو حرف عطف ہے لسلیمن کا عطف النالہ الحدید کے لہ پر ہے اور الریح کا عطف الحدید پر ہے۔ الانۃ الریح بمعنی تسخیرھا۔ (سلیمن بوجہ علم والف نون زائد تان کے غیر منصرف ہے) اور ہم نے مسخر کردی سلیمان کے لئے ہوا۔
غدوھا۔ مضاف مضاف الیہ غدو وغداوۃ صبح۔ فجر اور سورج نکلنے کے درمیان کا وقت غداوت جمع۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جس کا مرجع الریح ہے۔ یہاں الریح کی مناسبت سے غدو سے مردا ہوا کی صبح کی منزل یا مسافت ! غدوھا شھر۔ ترجملہ ہوگا : اس کی صبح کی منزل ایک ماہ کی۔ مراد یہ کہ صبح کے وقت ہوا حضرت سلیمان کو لے کر اتنا فاصلہ طے کرلیتی جتنا کہ ایک سوار ایک تیز رفتار گھوڑے پر ایک ماہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
لغات القرآن : آیت نمبر 10 تا 14
اوبی : چلو ۔ پڑھو
النا : ہم نے نرم کردیا تھا
الحدید : لوہا
سبغت : کشادہ زرہیں
قدر : اندازہ کر
قدور (قدر) : دیگیں۔ پتیلے
راسیت : ایک جگہ جمنے والیاں
قضینا : ہم نے فیصلہ کردیا
ما دل : نہیں بتایا
دابۃ الارض : زمین کا جانور ۔ زمین کا کیڑا
منساۃ : عصا۔ لاٹھی
خر : وہ گر پڑا
تبینت : واضح ہوگئی ۔ کھل گئی
ما لبثوا : لگے نہ رہتے
المھین : ذلت والا
تشریح ُ : آیت نمبر 10 تا 14
زیر مطالعہ آیات سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ کائنات میں ہر طرف پھیلی ہوئی نشانیوں سے وہی عبرت و نصیحت حاصل کرتے ہیں جو ” عب منیب “ یعنی اللہ کے بندے جو ہر حال میں اللہ کی طرف جھکنے والے اس کی…
Read the full tafseer →(ف 1) اللہ تعالیٰ نے جو انعام داؤد (علیہ السلام) پر کیا تھا اس کے ذکر کے بعد اس انعام کا ذکر فرمایا جو ان کے بیٹے سلمان (علیہ السلام) پر کیا وہ یہ کہ ہوا کو تابع کردیا کہ وہ ان کو صبح سے دوپہر کی سیر میں ایک مہینہ کا راستہ طے کروادیتی تھی اور ایسے ہی دوپہر سے شام تک کی سیر میں ایک مہینہ کی راہ لے پہنچتی تھی، اسی طرح کا ایک روز میں دو مہینہ کا راستہ طے ہوجاتا تھا، شاہ صاحب نے اپنے فوائد میں لکھا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ایک تخت تھا جس پر سب لشکر چلتا تھا، ہوا اس کو لیے چلتی تھی ملک شام سے یمن اور یمن سے شام۔ ایک اور ہم نے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ نکالا تھا جنات اس کو سانچوں میں ڈھال…
Read the full tafseer →[12] یعنی ان کی مملکت سے ایک مہینے کی راہ تک کے مقامات کا سفر بسہولت کیا جاسکتا تھا۔ سلیمان (علیہ السلام) نے بہت بڑے پیمانے پر بحری تجارت کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ اس زمانے میں بحری سفر کا سارا انحصار باد موافق
کے ملنے پر تھا۔ اور اللہ تعالیٰ کا سلیمان (علیہ السلام) پر یہ خاص کرم تھا کہ اس نے ہوا کو ان کے تابع کردیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام)
1: اس سے قبل کی آیات میں بتایا تھا ۔ کہ انسان میں جب اتابت الی اللہ کا جوہر پیدا ہوجائے تو وہ آیات فطرت کو خوب سمجھنے لگتا ہے ۔ اب اس آیت میں اپنے دو بندوں کا ذکر فرمایا ہے ۔ جو منیب تھے اور بہت زیادہ فضل وبرکات کے حامل تھے ۔ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) بابل میں ان کی بادشاہت اور شان و عظمت کا تفصیل کے ساتھ تذکرہ ہے ۔ قرآن حکیم نے نہایت مختصر انداز میں چندواقعات کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ اس لئے کہ عرب تفصیل کے ساتھ ان چیزوں سے آگاہ تھے بتانا صرف یہ مقصود ہے کہ اجابت الی اللہ کا صحیح مفہوم کیا ہے ؟ فرمایا : حضرت داؤد کو دیکھو کہ…
Read the full tafseer →(12) اور ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کیلئے ہوا کو تابع کردیا تھا کہ اس ہوا کا صبح کو چلنا مہینہ بھر کی مسافت تھی اور اسی طرح اس ہوا کا شام کو چلنا ایک مہینے کی مسافت تھی اور ہم نے سلیمان کیلئے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہا دیا اور جنوں میں سے بعض وہ جنات تھے جو سلیمان کے پروردگار کے حکم سے اس کے سامنے اور اس کی نگرانی میں مختلف قسم کے کام کیا کرتے تھے اور ہم نے ان جنات کو یہ حکم دیا تھا کہ جو ہمارے حکم سے کج روی اور سرتابی کرے گا تو ہم اس کو دہکتی… اور بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب کا مزہ چکھا دیں گے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کیلئے ہوا کو مسخر فرما دیا تھا۔ ان کے تخت کو جہاں وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
ف 4۔ یعنی وہ ہوا سلیمان (علیہ السلام) کو اتنی اتنی دور پہنچاتی۔
5۔ حاصل یہ کہ جو جی ایمان و اطاعت اختیار کرے گا وہ عذاب سعیر سے محفوظ رہے گا جیسا کہ ایمان کا مقتضا ہے۔
Read the full tafseer →سلمان (علیہ السلام) کے لئے تسخیر ریاح کا ذکر
12 ۔ سلیمان (علیہ السلام) دائود (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں اور سلیمان (علیہ السلام) نے بحمد للہ اپنے والد ماجد کی حکومت کو مزیدوسعت دی ، لوہے کی صنعت وحرفت کا جو کام دائود (علیہ السلام) نے شروع کیا تھا اس کو مزید آگے بڑھایا اور لوہا پگھلانے کی اتنی اتنی بڑی بھٹیاں تیار کیں کہ ان کی مثال آج اس ترقی کے دور میں بھی نہیں ملتی ہے۔ لوہے اور تانبے کو انہوں نے اس قدر پگھلایا کہ گویا لوہے اور تانبے کا ایک ایک چشمہ جاری کردیا ملک میں جس جگہ خام لوہا اور تانبا پایا جاتا تھا وہاں یہ بھٹیاں لگا کر اس کو گلایا اور پھر جہاں ان چیزوں کی ضرورت تھی وہاں تک اس کو اس…
Read the full tafseer →We can now turn to verse 12: وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ (And for Sulayman: (We subjugated) the wind; its journey in the morning was (equal to the journey of) one month, and its journey in the afternoon was (equal to the journey) of another month). After having mentioned the blessings bestowed upon Sayyidna Dawud (علیہ السلام) ، the text refers to Sayyidna Sulayman (علیہ السلام) . It was said that the way Allah Ta’ ala had subjugated mountains and birds for Sayyidna Dawud (علیہ السلام) ، similarly, the Wind was subjugated for Sayyidna Sulayman (علیہ…
Read the full tafseer →17 For this also please refer to Al-Anbiya: 81 and E.N. 74 thereof.
18 Some former commentators have taken this to mean that a spring from the earth had erupted for the Prophet Solomon from which molten copper flowed oat instead of water. But another interpretation of this verse can be that in the time of the Prophet Solomon the work of melting and moulding copper for different uses was done on a very large scale and the same has been referred to here as the flowing of a spring of molten copper for him. (For further details, see E.N. 74 of AI-Anbiya').
19 The question whether the jinns who…
Read the full tafseer →