Saba 34:13

Saba · from ayah 13

34:13

یَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا یَشَآءُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَتَمَاثِیْلَ وَجِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَقُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ ؕ— اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا ؕ— وَقَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ ۟يَعۡمَلُوۡنَ لَهٗ مَا يَشَآءُ مِنۡ مَّحَارِيۡبَ وَتَمَاثِيۡلَ وَجِفَانٍ كَالۡجَـوَابِ وَقُدُوۡرٍ رّٰسِيٰتٍ ؕ اِعۡمَلُوۡۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكۡرًا ؕ وَقَلِيۡلٌ مِّنۡ عِبَادِىَ الشَّكُوۡرُ‏

وہ جو چاہتے یہ ان کے لئے بناتے یعنی قلعے اور مجسمے اور (بڑے بڑے) لگن جیسے تالاب اور دیگیں جو ایک ہی جگہ رکھی رہیں۔ اے داؤد کی اولاد (میرا) شکر کرو اور میرے بندوں میں شکرگزار تھوڑے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

They made for him what he willed of elevated chambers, statues, bowls like reservoirs, and stationary kettles. [We said], "Work, O family of David, in gratitude." And few of My servants are grateful.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 2 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Saba

All translations of 34:13

وہ اُس کے لیے بناتے تھے جو کچھ وہ چاہتا، اونچی عمارتیں، تصویریں، بڑے بڑے حوض جیسے لگن اور اپنی جگہ سے نہ ہٹنے والی بھاری دیگیں اے آلِ داؤدؑ، عمل کرو شکر کے طریقے پر، میرے بندوں میں کم ہی شکر گزار ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ جو چاہتے یہ ان کے لئے بناتے یعنی قلعے اور مجسمے اور (بڑے بڑے) لگن جیسے تالاب اور دیگیں جو ایک ہی جگہ رکھی رہیں۔ اے داؤد کی اولاد (میرا) شکر کرو اور میرے بندوں میں شکرگزار تھوڑے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو کچھ سلیمان چاہتے وه جنات تیار کردیتے مثلا قلعے اور مجسمے اور حوضوں کے برابر لگن اور چولہوں پر جمی ہوئی مضبوط دیگیں، اے آل داؤد اس کے شکریہ میں نیک عمل کرو، میرے بندوں میں سے شکرگزار بندے کم ہی ہوتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ جنات سلیمان کے لیے جو وہ چاہتے بنادیا کرتے تھے، اونچی اونچی عمارتیں، تصویریں حوض جیسے بڑے بڑے لگن اور زمین میں جمی ہوئی دیگیں۔ اے داؤد کے خاندان والو ! تم ایسے عمل کیا کرو جن سے شکر ظاہر ہو۔ اور میرے بندوں میں کم لوگ ہیں جو شکر گزار ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس کے لیے بناتے جو وہ چاہتا اونچے اونچے محل اور تصویریں اور بڑے حوضوں کے برابر لگن اور لنگردار دیگیں اے داؤد والو! شکر کرو اور میرے بندوں میں کم ہیں شکر والے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ (جنّات) ان کے لئے جو وہ چاہتے تھے بنا دیتے تھے۔ اُن میں بلند و بالا قلعے اور مجسّمے اور بڑے بڑے لگن تھے جو تالاب اور لنگر انداز دیگوں کی مانند تھے۔ اے آلِ داؤد! (اﷲ کا) شکر بجا لاتے رہو، اور میرے بندوں میں شکرگزار کم ہی ہوئے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ اس کے لیے بناتے تھے جو وہ چاہتا تھا، بڑی بڑی عمارتیں اور مجسمے اور حوضوں جیسے لگن اور ایک جگہ جمی ہوئی دیگیں۔ اے داؤد کے گھر والو ! شکر ادا کرنے کے لیے عمل کرو۔ اور بہت تھوڑے میرے بندوں میں سے شکر گزار ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو کچھ سلیمان چاہتے تھے وہی کچھ وہ جن ان کے لئے بناتے تھے۔ مثلاً قلعے، مجسمے اور حوض جتنے بڑے لگن اور دیگیں ایک جگہ جمی رہنے والی۔ اے آل داؤد ! شکر کے طور پر عمل کرو۔ اور میرے بندوں میں سے کم ہی شکرگزار ہوتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ اس کے لئے بناتے جو وہ چاہتا، محرابیں، مجسمے، حوضوں کے مانند لگن، اور لنگرانداز دیگیں۔ اے آلِ دائود، شکر گزار کے ساتھ عمل کرو اور میرے بندوں میں شکر گزار تھوڑے ہی ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ ان کے لئے بناتے جو کچھ کہ وہ چاہتے بڑی بڑی عمارتیں تصویریں حوض جیسے بڑے بڑے لگن اور (ایک ہی جگہ) جمی رہنے والی (بڑی بڑی) دیگیں داؤد کے خاندان والو تم نیک کام کرو شکر کے طور پر (ان عظیم الشان نعمتوں کے بدلے میں) اور کم ہی لوگ ہیں میرے بندوں میں سے جو شکر ادا کرتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں (بنوانا) منظور ہوتیں (مثلا) بڑی عمارتیں اور مجسمے اور لگن جیسے حوض اور (بڑی بڑی) جمی ہوئی دیگیں۔ اے داؤد کے خاندان والو۔ تم شکریہ میں (نیک) کام کرو اور میرے بندوں میں کم ہی شکر گذار ہوتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ بناتے تھے اس کے لیے جو وہ چاہتا تھا بڑی بڑی عمارتیں اور مجسمے اور تالابوں کی مانند بڑے بڑے لگن اور بڑی بڑی دیگیں جو ایک جگہ مستقل پڑی رہتی تھیں اے دائود ؑ کے گھر والو ! عمل کرو شکر ادا کرتے ہوئے } اور (واقعہ یہ ہے کہ) میرے بندوں میں شکر کرنے والے کم ہی ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ جو چاہتے یہ ان کے لیے بناتے یعنی قلعے، مجسمے اور بڑے بڑے لگن جیسے تالاب اور دیگیں جو ایک ہی جگہ رکھی رہیں۔ اے داؤد کی اولاد ! میرا شکر کرو اور میرے بندوں میں شکر گزار تھوڑے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They made for him whatever he would desire: stately buildings, images, basins like water-troughs and huge, built-in-cauldrons: “Work, O house of David, in thankfulness (to your Lord). Few of My servants are truly thankful.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They used to make for him whatever he wished of castles, images, basins as (large as) tanks, and big cookware fixed (in their places). :Do good, O family of Dawud, in thankfulness. Very few from My slaves are thankful.

— Muhammad Taqi Usmani

They used to make for him whatever he wished of castles, images, basins as (large as) tanks, and big cookware fixed (in their places). :Do good, O family of Dawud, in thankfulness. Very few from My slaves are thankful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They worked for him as he desired on Maharib, Tamathil, large basins like Jawab and Qudur Rasiyat. "Work you, O family of Dawud, with thanks!" But few of My servants are grateful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They made for him what he willed: synagogues and statues, basins like wells and boilers built into the ground. Give thanks, O House of David! Few of My bondmen are thankful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They made for him what he willed of elevated chambers, statues, bowls like reservoirs, and stationary kettles. [We said], "Work, O family of David, in gratitude." And few of My servants are grateful.

— Saheeh International

They would make for him anything that he wanted like fortresses, statues, large basins like reservoirs, and huge immovable cooking pots. It was said, "Family of David, worship and act gratefully. Only few of my servants are grateful."

— Muhammad Sarwar

They made for him what he pleased of fortresses and images, and bowls (large) as watering-troughs and cooking-pots that will not move from their place; give thanks, O family of Dawood! and very few of My servants are grateful.

— Muhammad Habib Shakir

They worked for him whatsoever he pleased, of lofty halls and statues and basins like cisterns and cauldrons Standing firm. Work ye, house of Da'ud! with thanksgiving; few of My bondmen are thankful.

— Abdul Majid Daryabadi

They worked for him as he desired, (making) arches, images, basons as large as reservoirs, and (cooking) cauldrons fixed (in their places): "Work ye, sons of David, with thanks! but few of My servants are grateful!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 34:13

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 12–13

اللہ کی نعمتیں اور سلیمان علیہ السلام۔ حضرت داؤد ؑ پر جو نعمتیں نازل فرمائی تھیں ان کو بیان کرکے پھر آپ کے فرزند حضرت سلیمان ؑ پر جو نعمتیں نازل فرمائی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کیلئے ہوا کو تابع فرمان بنادیا۔ مہینے بھر کی راہ صبح ہی صبح ہوجاتی اور اتنی ہی مسافت کا سفر شام کو ہوجاتا۔ مثلاً دمشق سے تخت مع فوج و اسباب کے اڑایا اور تھوڑی دیر میں اصطخر پہنچادیا جو تیز سوار کیلئے بھی مہینے بھر کا سفر تھا۔ اسی طرح شام کو وہاں سے تخت اڑا اور شام ہی کو کا بل پہنچ گیا۔ تانبے کو بطور پانی کرکے اللہ تعالیٰ نے اس کے چشمے بہا دیئے تھے کہ جس کام میں جس طرح جس وقت لانا چاہیں تو بلاوقت لے لیا کریں۔ یہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة سَبـَا 20 اصل میں لفظ تَمَاثِیل استعمال ہوا ہے جو تمثال کی جمع ہے۔ تمثال عربی زبان میں ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی قدرتی شے کے مشابہ بنائی جائے قطع نظر اس اصل سے کہ وہ کوئی انسان ہو یا حیوان، کوئی درخت ہو یا پھول یا دریا یا کوئی دوسری بےجان چیز۔ التمثال اسم للشئ المصنوع مشبھا بخلق من خلق اللہ (لسان العرب) "" تمثال نام ہے ہر اس مصنوعی چیز کا جو خدا کی بنائی ہوئی کسی چیز کے مانند بنائی گئی ہو " التمثال کل ما صور علی صورۃ غیرہ من حیوان و غیر حیوان۔ (تفسیر کشاف) تمثال ہر اس تصویر کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز کی صورت کے مماثل بنائی گئی ہو، خواہ وہ جان دار ہو یا بےجان "۔ اس بنا پر قرآن مجید…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) یعملون لہ ما یشاء من محاریب وتماثیل وجفان کالجواب وقدورراسیات، اس آیت میں ان کاموں کی کچھ تفصیل ہے جو حضرت سلیمان ؑ جنات سے لیتے تھے۔ محاریب، محراب کی جمع ہے جو مکان کے اشرف واعلیٰ حصہ کے لئے بولا جاتا ہے، بادشاہ اور بڑے لوگ جو اپنے لئے حکومت کا کمرہ بنائیں اس کو بھی محراب کہا جاتا ہے۔ اور لفظ محراب حرب بمعنی جنگ سے مشتق ہے، کوئی آدمی جو اپنا حکومت کدہ خاص بناتا ہے اس کو دوسروں کی رسائی سے محفوظ رکھتا ہے، اس میں کوئی دست اندازی کرے تو اس کے خلاف لڑائی کرتا ہے۔ اس مناسبت سے مکان کے مخصوص حصہ کو محراب کہتے ہیں۔ مساجد میں امام کے کھڑے ہونے کی جگہ کو بھی اسی امتیاز کی بنا پر محراب کہتے ہیں،…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یعوامون لہ ما یشاء من محریب وتماثیل وجفان کالجواب وقدور میت اعملوا الہ دائوم شکراط وقلیل من عبادی الشکور (13) یہ ان کاموں کی تفصیل ہے جن میں حضرت سلیمان ان مسکر جنوں کو استعمال کرتے تھے۔ یہ سارے کام تعمیری تمدنی اور اصلاحی ہیں۔ یہود اپنے دور زوال میں جب علوم سفیلہ میں مبتلا ہوئے تو ان خرافات کو انہوں نے حضرت سلیمان ؑ کی طرف منسوب کیا۔ یہاں قرآن نے واضح فرمایا ہے کہ حضرت سلیمان نے جنات کو جس علم سے مسخر کیا وہ اللہ تعالٰ نے خاص پانے فضل سے ان کو بخشا تھا، اس کو سفلی علوم سے کوئی تعلق نہیں تھا اور جنات سے جو کام انہوں نے لئے وہ سب تعمیری اور تمدنی کام تھے۔ ان کو انہوں نے فاسد اغراض کے لئے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

13۔ 1 محاریب محراب کی جمع ہے مطلب ہے بلند محلات، عالی شان عمارتیں یا مساجد و تصویریں۔ یہ تصویریں غیر حیوان چیزوں کی ہوتی تھیں، بعض کہتے ہیں کہ انبیاء ؑ کی تصاویر مسجدوں میں بنائی جاتی تھیں تاکہ انھیں دیکھ کر لوگ بھی عبادت کریں۔ یہ معنی اس صورت میں صحیح ہے جب تسلیم کیا جائے کہ حضرت سلیمان ؑ کی شریعت میں تصویر سازی کی اجازت تھی جو صحیح نہیں۔ تاہم اسلام میں تو نہایت سختی کے ساتھ اس کی ممانعت ہے۔ جفان، جفنۃ کی جمع ہے لگن جواب، جابیۃ کی جمع ہے حوض جس میں پانی جمع کیا جاتا ہے یعنی حوض جتنے بڑے بڑے لگن قدور دیگیں، راسیات جمی ہوئیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ دیگیں پہاڑوں کو تراش کر بنائی جاتی تھیں جنہیں ظاہر…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

8: ظاہر یہ ہے کہ تصویریں بےجان چیزوں کی ہوتی تھیں، جیسے درختوں اور عمارتوں وغیرہ کی، اس لئے کہ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ جانداروں کی تصویریں بنانا حضرت سلیمان ؑ کی شریعت میں بھی ناجائز تھا۔ ان عظیم الشان انعامات و احسانات کا شکر ادا کرتے رہو، محض زبان سے نہیں بلکہ عمل سے وہ کام کرو جن سے حق تعالیٰ کی شکر گزاری ٹپکتی ہو۔ بات یہ ہے کہ احسان تو خدا کم و بیش سب پر کرتا ہے لیکن پورے شکر گزار بندے بہت تھوڑے ہیں، جب تھوڑے ہیں تو قدر زیادہ ہوگی۔ لہٰذا کامل شکر گزار بن کر اپنی قدر و منزلت بڑھاؤ۔ یہ خطاب داؤد کے کنبے اور گھرانے کو ہے، کیونکہ علاوہ مستقل احسانات کے داؤد پر احسان من وجہ سب پر احسان۔ کہتے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یعملوان لہ ۔۔۔۔۔ وقدور رسیت (34: 13) ” “۔ محاریب تو ان جگہوں کو کہا جاتا ہے جہاں عبادت کی جاتی ہے۔ تماثیل تانبے اور لکڑی کی تصاویر کو کہتے ہیں۔ جوابی جابیہ کی جمع ہے وہ حوض جس میں پانی آئے۔ جن حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ایسے بڑے لگن بناتے تھے جو حوضوں کی طرح تھے اور وہ ان کے لئے ایسے بڑے دیگ بناتے تھے جو اپنی بڑائی کی وجہ سے جڑے رہتے تھے۔ یہ تمام خدمات وہ ہیں جن پر جنات مامور تھے۔ یہ تمام امور اس وقت خارق عادت تھے اس لیے ان کی یہی تفسیر درست ہے۔ اگر ان کو معمولی بنا دیا جائے تو یہ فضل نہیں رہتا۔ اب آل داؤد کو مخاطب کرکے ہدایت دی جاتی ہے۔ اعملوا آل داؤد شکرا (34: 13) ” “۔ ہم نے تمہارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی بڑے بڑے محل، مسجدیں اور قلعے جنات تعمیر کرتے اور مجسم تصویریں بناتے (جو ان کی شریعت میں ممنوع نہیں ہوں گی، شریعت محمدیہ نے منع کردیا) اور تانبے کے بڑے بڑے لگن بناتے جیسے حوض یا تالاب اور دیگیں تیار کرتے جو اپنی جگہ سے ہل نہ سکتی تھیں۔ ایک ہی جگہ رکھی رہتیں۔ 2 یعنی ان عظیم الشان انعامات و احسانات کا شکر ادا کرتے رہو، محض زبان سے نہیں بلکہ عمل سے وہ کام کرو جن سے حق تعالیٰ کی شکر گزاری ٹپکتی ہو۔ بات یہ ہے کہ احسان تو خدا کم و بیش سب پر کرتا ہے لیکن پورے شکر گزار بندے بہت تھوڑے ہیں، جب تھوڑے ہیں تو قدر زیادہ ہوگی۔ لہذا کامل شکر گزار بن کر اپنی قدر و منزلت بڑھاؤ۔ یہ خطاب داؤد کے کنبے اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 13 { یَعْمَلُوْنَ لَہٗ مَا یَشَآئُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَتَمَاثِیْلَ } ”وہ بناتے تھے اس کے لیے جو وہ چاہتا تھا ‘ بڑی بڑی عمارتیں اور مجسمے“ شریعت ِمحمدی میں مجسمے بنانا حرام ہے ‘ لیکن ان الفاظ سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں ایسا کرنا جائز تھا۔ ویسے ”تِمثال“ عربی زبان میں ہر اس شبیہہ یا پیکر کو کہتے ہیں جو کسی قدرتی شے کے مشابہ بنایا جائے ‘ خواہ وہ جاند ار ہو یا بےجان۔ { وَجِفَانٍ کَالْجَوَابِ وَقُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ } ”اور تالابوں کی مانند بڑے بڑے لگن اور بڑی بڑی دیگیں جو ایک جگہ مستقل پڑی رہتی تھیں۔“ یعنی وہ دیگیں اتنی بڑی ہوتی تھیں کہ چولہوں کے اوپر ہی پڑی رہتی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

21 یہ جنات حضرت سلیمان کے آرڈر کے مطابق بڑے بڑے محل، مساجد، قلعے، مختلف مسجدوں کے ماڈل یا سینیریوں کے ماڈل، بڑے بڑے لگن اور اتنی بڑی دیگیں بناتے تھے جو بڑی بوجھل اور ناقابل حمل و نقل ہونے کی وجہ کسی خاص مقام پر نصب کردی جاتی تھیں اور ان میں حضرت سلیمان کے لشکروں کے لئے کھانا تیار کیا جاتا تھا۔ بعض لوگوں نے جنوں یا شیاطین سے دیہاتی مضبوط قسم کے انسان مراد لئے ہیں یہ توجیہہ غلط اور قرآن کے سیاق وسباق کے خلاف ہے۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے سورة انبیاء کی آیت 82 کا حاشیہ) 22 یعنی ایسے عمل کرو جو شکرگزار بندے کیا کرتے ہیں۔ شکر گزار بندے ایک تو وہ ہر وقت اللہ کا شکر ادا کرتے رہتے ہیں اور اس کی نعمتوں کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

18۔ یہ جنات جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے تابع و محکوم تھے۔ آپ کیلئے عمارتیں اور دیگیں اور لگنیں سب بڑی بڑی عظیم الشان تیار کرتے تھے۔ تمثال۔ جس قسم کی مورت کو کہتے ہیں، اسی کو آج کی اصطلاح میں مجسمہ سے موسوم کرتے ہیں۔ اگلی شریعتوں میں یہ چیز حرام نہ تھی۔ یدل علی ان عمل التصاویر کان مباحاوھو محظور فی شریعۃ النبی ﷺ (جصاص) اسی لفظ تمثال سے سند پکر کر ایک قول تصویر سازی کے جواز میں نقل ہوا ہے۔ وحکی مکی فی البدایۃ ان قوما اجازوا التصویر (بحر) لیکن صاحب بحر نے اس کو نقل کرکے لکھا ہے کہ مجھے کسی عالم ربانی کا علم نہیں جس نے تصویر کو جائز رکھا ہو۔ وما احفظ من ائمۃ العلم من تجوزہ۔ اور صاحب روح نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–14

آیت نمبر 10 تا 14 ترجمہ : اور ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے بڑی نعمت عطاء کی یعنی نبوت اور کتاب، اور ہم نے کہا اے پہاڑ اور اے پرندو تم داؤد کے ساتھ تسبیح دہراؤ، طیرَ منصوب ہے جبال کے محل پر عطف ہونے کی وجہ سے، اور ہم نے داؤد کے ساتھ تسبیح پڑھنے کا حکم دیا، اور ہم نے ان کے لئے لوہا نرم کردیا چناچہ (حضرت) داؤد (علیہ السلام) کے ہاتھ میں لوہا گوندھے ہوئے آٹے کے مانند ہوگیا اور ہم نے حکم دیا کہ لوہے کی لمبی (مکمل) زرہ بناؤ کہ ان کو پہننے والا زمین میں گھسیٹے اور بنانے میں یکسانیت کا خیال رکھو زرہ سازکو ” سراد “ کہتے ہیں یعنی ایسی زرہ بناؤ کہ اس کے حلقے مساوی ہوں، اے آل داؤد تم داؤد کی معیت میں نیک کام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یعملون لہ ما یشآء من محاریب وتماثیل وجفان کالجواب وقدور رسیت . سلیمان کو جو بنوانا منظور ہوتا ‘ جنات ان کیلئے وہ بنا دیتے۔ بڑی بڑی عمارتیں اور مورتیں اور لگن (اتنے بڑے بڑے) جیسے حوض اور دیگیں جو (بڑے ہونے کی وجہ سے) ایک ہی جگہ جمی رہتیں۔ محاریب مضبوط محل ‘ اونچی مسجدیں اور اعلیٰ مکانات۔ محراب کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ حرب کا معنی ہے دفع کرنا اور اعلیٰ عمارتوں کی بھی حفاظت کی جاتی ہے اور ہر نقصان رساں چیز کو ان سے دفع کیا جاتا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ سب سے پہلے بیت المقدس کی تعمیر حضرت داؤد نے شروع کی تھی ‘ قد آدم تعمیر اٹھائی تھی کہ اللہ کی طرف سے وحی آئی : تمہارے ہاتھ سے اس عمارت کی تکمیل کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

وہ جنات ان کے لیے وہ چیزیں بناتے تھے جو انہیں منظور ہوتا تھا۔ بڑی بڑی مسجدیں اور فرشتوں اور انبیاء کرام (علیہم السلام) اور نیک بندوں کی تصویریں دیکھ کر اپنے پروردگار کی ان کی طرح عبادت کریں اور حوض کی طرح بڑے بڑے طشت جو اپنی جگہ سے حرکت نہ کرتے ہوں اور ایسی بڑی بڑی دیگیں جو اپنی جگی جمی رہیں ہلائے نہ ہلیں اور تقریبا ایک ہزار آدمی اس کا کھانا کھا لیں۔ سلیمان ؑ خوب نیک کام کرو تاکہ میں نے جو تمہیں نعمتیں دی ہیں اس کا شکریہ ادا ہو اور میرے بندوں میں شکر گزار بہت ہی کم ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا يَشَاۗءُ مِنْ مَّحَارِيْبَ :”مَّحَارِيْبَ“ ”مِحْرَابٌ“ کی جمع ہے، یہ ”حَرْبٌ“ سے ”مِفْعَالٌ“ کے وزن پر ہے، جو آلہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اصل معنی اس کا جنگ کا آلہ یا ہتھیار ہے، پھر یہ لفظ کئی معانی میں استعمال ہونے لگا، جن سب معانی میں کسی نہ کسی طرح جنگ کا مفہوم شامل ہے۔ چناچہ قلعہ اور بڑی عالی شان عمارت کو بھی ”محراب“ کہتے ہیں، کیونکہ اس میں رہ کر دشمن سے جنگ کی جاتی ہے۔ عبادت کے لیے خاص کمرے کو بھی ”محراب“ کہتے ہیں، کیونکہ وہ شیطان سے جنگ میں مددگار ہے، جیسا کہ زکریا ؑ کے متعلق فرمایا : (فَنَادَتْهُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ وَھُوَ قَاۗىِٕمٌ يُّصَلِّيْ فِي الْمِحْرَابِ) [ آل…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس میں آتھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 : آیت : من محا ریب و تما ثیل لغت میں محراب سے مراد ہر بلند جگہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جس میں نماز پڑھی جائے وہ محراب ہے، کیونکہ ضروری ہوتا ہے کہ اس کو بلند کیا جائے اور اس کی تعظیم بجا لائی جائے۔ ضحاک نے کہا : آیت : من محا ریب سے مراد مساجد (1) (المحرر الوجیز، جلد 4، صفحہ 409) ۔ قتادہ نے بھی یہی کہا ہے۔ مجاہد نے کہا : محاریب یہ محلات سے چھوٹے ہوتے ہیں۔ ابو عبیدہ نے کہا : محراب سے مراد گھر کا سب سے اچھا کمرہ ہے (2) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 438) ۔ شاعر نے کہا : و ما ذا علیہ ان ذکرت اوانسا کفلان رمل فی محاریب اقبال شعر میں محاریب اقبال سے مراد…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آتی یعملون لہ مایشاء من محاریب وتماثیل (جنات ان کے لیے وہ بنادیتے جو سلیمان کو بنوانا منظورہوتا بڑی بڑی عمارتیں اور موتیاں) یعنی پیتل اور سنگ مرمر سے چیزیں بناتے تھے۔ جنات سلیمان (علیہ السلام) کے لیے مسخر تھے۔ 2۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ من محاریب یعنی ایسے مکانات جو محلات سے چھوٹے ہو وتماثیل تانبے کے مجسمے اور بڑے محلات وجفان اور بڑے پیالے کالجواب یعنی بڑا پیالہ زمین میں گھڑے کی طرح آیت وقدور رٰسیت بڑی بڑی دیگیں۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ اس آیت کے بارے میں فرمایا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يَعْمَلُوْنَ [وہ سب عمل کرتے تھے ] لَهٗ [ان (علیہ السلام) کے لئے ] مَا يَشَاۗءُ [جو وہ چاہتے ] مِنْ مَّحَارِيْبَ [جیسے محرابیں ] وَتَمَاثِيْلَ [اور مجسمے ] وَجِفَانٍ [اور طشت ] كَالْجَــوَابِ [تالاب کی مانند ] وَقُدُوْرٍ [اور دیگیں ] رّٰسِيٰتٍ ۭ [جمی ہوئی (اپنی جگہ پر)] اِعْمَلُوْٓا [عمل کرو ] اٰلَ دَاوٗدَ [اے داود (علیہ السلام) کے پیروکار ] شُكْرًا ۭ [شکر گزاری کا ] وَقَلِيْلٌ [اور تھوڑے ہیں ] مِّنْ عِبَادِيَ [میرے بندوں میں سے ] الشَّكُوْرُ [شکر کرنے والے ] ۔ جن (ن) جفنا بڑے بڑے پیالوں میں کھلانا۔ جفنۃ ج جفان۔ بڑا پیالہ۔ لگن۔ طشت۔ (زیر مطالعہ آیت۔ 13) آیت 13 ۔ مادہ ج و ب سے لفظ جواب بنتا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

محاریب اور تماثیل کا تذکرہ : (یَعْمَلُوْنَ لَہٗ مَا یَشَآءُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَ تَمَاثِیْلَ ) یہ جنات سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ان کی فرمائش کے مطابق بڑی بڑی عمارتیں اور مجسّمے یعنی مورتیاں بناتے تھے۔ لفظ (مَحَارِیْبَ ) محراب کی جمع ہے جس کا ترجمہ عمارتیں کیا گیا ہے، بعض حضرات نے اس کا ترجمہ قصور یعنی محلات کیا ہے، اور بعض حضرات نے مساکن یعنی رہنے کی جگہیں، اور بعض نے اونچی جگہ یعنی بالا خانہ کا ترجمہ کیا ہے۔ اور (تَمَاثِیْلَ ) تمثال کی جمع ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے حکم سے جنات تصویریں بناتے تھے جو تانبا، پیتل، شیشہ اور سفید پتھروں کی ہوتی تھیں۔ جِفَانٍ اور قُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–14

قصہء دواؤد وسلیمان علیہما الصلاۃ والسلام قال اللہ تعالی۔ ولقد اتینا داود منا فضلا۔۔۔ الی۔۔۔ ما لبثوا فی العذاب المھین۔ (ربط) گزشتہ آیات میں آسمان و زمین کی پیدائش کا ذکر کر کے فرمایا۔ ان فی ذلک لایۃ لکل عبد منیب یعنی آسمان و زمین کی پیدا میں خدا کی قدرت کی نشانی ہے ہر عبد منیب کے لئے یعنی ہر اس بندہ کے لئے جو خدا کی طرف متوجہ اور ملتفت ہو اب ان آیات میں میں دو خاص عبد منیب کا قصہ ذکر کرتے ہیں جو خدا کی طرف خاص طور پر متوجہ اور ملتفت ہو اب ان آیات میں دو خاص عبد منیب اللہ کے وہ خاص بندے تھے جن پر اللہ نے ظاہری اور باطنی نعمتیں مکمل فرمائیں اور نبوت کے ساتھ ان کو بےمثال سلطنت بھی عطا کی مگر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

14:۔ یعملون لہ الخ : محاریب، محراب کی جمع ہے۔ مراد عبادت خانے، امام قتادہ فرماتے ہیں۔ محاریب سے عالیشان محالت اور مساجد مراد ہیں (بحر، روح) ۔ تماثیل، تمثال کی جمع اکثر مفسرین کے نزدیک اس سے جاندار تصاویر مراد ہیں اور حضرت سلیمان کی شریعت میں تصویر سازی جائز تھی۔ لیکن ہماری شریعت میں حرام ہے۔ وھذا یدل علی ان التصویر کان مباحافی ذالک الزمان و نسخ ذلک بشرع محمد ﷺ (قرطبی ج 14 ص 272) ۔ بعض مفسرین کے نزدیک اس سے غیر جاندار اشیاء کی تصویریں یا پتھر، تانبے اور شیشے سے بنی ہوئی مکتلف اشیاء مراد ہیں قیل کانت من زجاج و نھ اس و رخام تماثیل اشیا لیست بحیوان (ایضا) ۔ امام رازی فرماتے ہیں۔ محاریب سے عالیشان…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 12–13

حضرت دائود (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ذکر کئی ایک سورتوں میں آیا ہے اس سے پہلے سورة نمل میں آپ کا تذکرہ تھا ، اب یہاں آرہا ہے اور آگے سورة ص میں بھی آئے گا۔ یہ دونوں باپ بیٹا اللہ کے جلیل القدر اور صاحب کتاب پیغمبر تھے اس سورة میں پہلے اللہ تعالیٰ نے توحید کے عقلی اور نقلی دلائل بیان فرمائے اور آخر میں فرمایا ان فی ذلک لایۃ لکل عبد منیب کہ اس میں اللہ کی طرف رجوع رکھنے والے ہر بندے کے لیے نشانی ہے اللہ نے عبد منیب کے طور پر پہلے دائود (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا اور اب ان کے فرزند ارجمند حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ذکر ہو رہا ہے۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کے انیس بیٹوں میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَعْمَلُوْنَ لَہٗ مَا يَشَاۗءُ مِنْ مَّحَارِيْبَ وَتَمَاثِيْلَ وَجِفَانٍ كَالْجَــوَابِ وَقُدُوْرٍ رّٰسِيٰتٍ۝ 0 ۭ اِعْمَلُوْٓا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا۝ 0 ۭ وَقَلِيْلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُوْرُ۝ 13 عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل «6» ، لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 10–14

ترکیب : داؤد مفعول اول فضلا مفعول ثانی لاتینا یاجبال تفسیر للفضل والطیر بالنصب لانہ معطوف علی محل جبال و فیہ وجوہ اخریٰ ، وبالرفع عطفا علی لفظہا ای جعلنا الجبال والطیور منقادین لامرہ فی نفاذ مشتیہ فیھما، ان اعمل ای امر ناہ ان اعمل وان مفرۃ و مصدریۃ۔ الریح بالنصب اے سخرنا الریح و بالرفع علی الابتداء غدوھا الغدو مصدر و لیس بزمان اے سیرہا من الغد بمعنی الصباح ای الزوال شھر والجملۃ فی موضع الحال من الریح، من یعمل من فی موضع نصب، منساتہ والمنساء العصی علی مفعالۃ کمیضاۃ من نسات البعیر اذ طردتہ لانھا تطردبھا۔ تفسیر … داؤد ( علیہ السلام) کا تذکرہ : پہلے فرمایا تھا، ان فی ذلک لآیۃ لکل عبد منیب اب اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یَعْمَلُوْنَ لَـہٗ مَایَشَآئُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَتَمَاثِیْلَ وَجِفَانٍ کَالْجَوَابِ وَقُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ ط اِعْمَلُوْٓا اٰلَ دَاوٗدَ شُکْرًا ط وَقَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوْرُ ۔ (السباء : 13) (اور وہ اس کے لیے بناتے تھے جو کچھ وہ چاہتا تھا، اونچی عمارتیں، تصویریں، حوضوں کے مانند لگن اور اپنی جگہ سے نہ ہٹنے والی دیگیں، اے آل دائود عمل کرو شکر کے طریقے پر اور میرے بندوں میں شکرگزار تھوڑے ہی ہیں۔ ) جنات کی خدمات جنات کے مسخر کرنے سے عام طور پر جو تأثر ابھرتا ہے وہ پیشہ ور عاملوں یا کاہنوں کا ہے۔ اور ان خرافات کی طرف ذہن جاتا ہے جنھیں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے جو کام جنات کرتے ان میں بڑے بڑے حفاظتی قلعے بھی تعمیر کیا کرتے تھے جن پر بہترین قسم کے نقش ونگار بنائے جاتے اور ایسی دیگیں بنائی جاتیں جنہیں ایک جگہ نصب کرکے بیک وقت ہزاروں لوگوں کا کھانا تیار کیا جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر قسم کی خوشحالی اور عروج و اقبال سے نوازتے ہوئے یہ حکم دیا اے داؤد اور اس کے گھر والو ! تمہیں ان انعامات پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ یاد رکھو ! اللہ کے شکر گزار بندے تھوڑے ہی ہوا کرتے ہیں۔ قلعے :۔ قرآن مجید سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ دفاع کے طور پر وسیع قلعے تعمیر کرنے کی ابتداء حضرت سلیمان (علیہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مصنوعات : 13: یَعْمَلُوْنَ لَہٗ مَا یَشَآئُ مِنْ مَّحَارِیْبَ (وہ جنات ان کے لئے جو وہ چاہتے بناتے یعنی بڑی بڑی عمارات) محاریب یعنی مساجد نمبر 2۔ مساکن وَتمَاثِیْلَ (اور مورتیاں) پرندوں و درندوں کی تصاویر، روایت تفسیریہ ہے : انہوں نے آپ کے تخت کے نیچے دوشیر اور اوپر دو گدھ بنائے۔ جب آپ تخت پر چڑھنا چاہتے توشیر اپنے دونوں بازو دراز کردیتے اور جب آپ تشریف فرما ہوجاتے تو گدھ اپنے سروں سے سایہ کرلیتے۔ اس زمانہ میں تصویر مباح تھی۔ وَجِفَانٍ کَالْجَوَابِ (اور حوض جیسے لگن) جفان جمع جفنۃ اور جوب جمع جابیہ۔ بڑا حوض۔ ایک قول : ایک پیالے پر ایک ہزار آدمی بیٹھ کر کھاسکتے تھے۔ قراءت : مکی اور یعقوب اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

یعملون لہ یشاء من محاریب کی تفسیر 13، یعملون لہ مایشاء من محاریب، بغوی نے لکھا ہے کہ سب سے پہلے بیت المقدس کی تعمیر حضرت داؤد (علیہ السلام) نے شروع کی تھی ، قدم آدم تعمیر اٹھائی تھی کہ اللہ کی طرف سے وحی آئی : تمہارے ہاتھ سے اس عمارت کی تکمیل کا فیصلہ میں نے نہیں کیا ہے بلکہ تمہارے بیٹے کو جس کا نام سلیمان ہوگا میں بادشاہ بناؤں گا اور اس کے ہاتھ سے اس عمارت کو پورا کراؤں گا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی وفات کے بعد جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) ان کے جانشین ہوئے تو آپ نے بیت المقدس کی تعمیر مکمل کرنی چاہی ۔ چناچہ جنات اور شیاطین کو جمع کرکے ان کی ٹولیاں بنا کر الگ الگ کو موں کی درستی پر مقرر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

13۔ مطلب یہ ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) کے حکم سے عمدہ عمدہ کمکان اور مسجدیں اور تصویریں اور لگن مانند تالاب کے نہیں تھی وہ جنات یہ سب چیزیں بناتے تھے اعملوا آل داؤد شکرا اس کا مطلب یہ ہے کہ اے داؤد کی اولاد جو نعمتیں اللہ نے تم کو دی ہیں ان کا شکرادا کرو صیحی بخاری ومسلم میں عبداللہ بن عمروبن العاص ؓ سے روایت 3 ؎ ہے (3 ؎ مشکوۃ باب التحریض علی قیام اللیل فصل اول۔ ) کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا سب سے زیادہ پیار نماز اللہ تعالیٰ کو داؤد کی ہے نصف رات سوتے تھے اور تہائی رات نماز پڑھتے تھے اور پھر چھٹا حصہ رات کا سوتے تھے ‘ اس حدیث کا ایک ٹکڑا اوپر گزر چکا ہے کہ داؤد (علیہ السلام) ایک دن بیچ کر کے روزہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 12–14

آیت 12 اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت داؤد پر اپنا فضل و کرم بیان کرنے کے بعد ان کے فرزند حضرت سلیمان پر اپنے فضل و کرم کا ذکر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو آپ کے لئے مسخر کردیا جو آپ کے حکم پر چلتی تھی سلیمان پر اپنے فضل و کرم کا ذکر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو آپ کے لئے مسخر کردیا جو آپ کے حکم پر چلتی تھی جو آپ کو اور آپ کی افواج کو اٹھائے پھرتی تھی اور بہت دور کی مسافتیں بہت کم مدت میں طے کرتی تھی۔ دو ماہ کی مسافت ایک دن میں طے کرلیتی تھی۔ فرمایا : (غدوھا شھر) ” اس کی صبح کی منزل ایک مہینے کی ہوتی تھی۔ “ دن کی ابتدا سے لے کر زوال تک (ورواحھا شھر) ” اور اس کی شام کی منزل ایک مہینے کی ہوتی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–54

اسلام میں مصوری کی ممانعت قول باری ہے (یعملون لہ مایشآء من محاریب وتماثیل۔ سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں بنوانا منظور ہوتیں مثلاً بڑی عمارتیں اور مجسمے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں تصاویر اور مجسمے بنانے کی اباحت تھی لیکن حضور ﷺ کی شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ آپ سے مروی ہے (لا یدخل الملائکۃ بیتا فیہ صورۃ۔ جس کھر میں کوئی تصویر ہوا اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے) نیز ارشاد ہے (من صورصورۃ کلف یوم القیمۃ ان یحیھا ولا فالنار ۔ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی ہوا سے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں زندگی پیدا کردے ورنہ جہنم میں جائے) ۔ نیز ارشاد ہے (لعن اللہ المصورین۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

36 " محاریب " سے مقصود و مراد ؟ : " المحاریب "، " محراب " کی جمع ہے۔ یہ اس بڑی عمارت کو کہا جاتا ہے جو کہ محل سے چھوٹی ہو۔ اس سے بڑی کو " محل " یعنی " قصر " کہا جاتا ہے۔ اور اس کی عمدگی کی بنا پر اس کو " محراب " کہا جاتا ہے۔ (ابن کثیر وغیرہ) ۔ بہرکیف یہ ان کاموں کی تفصیل بیان فرمائی جا رہی ہے جن کیلئے حضرت سلیمن (علیہ السلام) اپنے ان مسخر جنوں کو استعمال کیا کرتے تھے۔ اور یہ سب کے سب کام جیسا کہ ظاہر ہے تعمیری، تمدنی اور اصلاحی نوعیت کے تھے۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حضرت سلیمن (علیہ السلام) کا ان سفلی کاموں اور دوسری خرافات سے کوئی تعلق اور واسطہ نہیں تھا جو یہود بےبہبود ان کی طرف منسوب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 10–14

سیدناداؤد (علیہ السلام) اور سیدناسلیمان (علیہ السلام) پر اللہ کی مہربانیاں تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے تو اللہ کے فضل و کرم کا ذکر کیا گیا ہے کہ جو بھی اللہ کی تسبیح و تقدیس میں زندگی کا زیادہ حصہ گزارتا ہے تو وہ اللہ کا مقرب ترین بندہ بن جاتا ہے۔ عام لوگوں میں سے اللہ ان کو خاص بنا دیتا ہے یعنی ایسے بندوں میں سے بعض کو اللہ تعالیٰ اپنے نبی رسول اور پیغمبر کی حیثیت سے منتخب کرلیتا ہے۔ جیسا کہ سیدناداؤد (علیہ السلام) کو اللہ نے چن لیا، ان کو نبوت بھی دی اور حکومت بھی دی اور پھر بڑی بڑی نعمتوں سے ان کو نوازا۔ سب سے پہلے تو ان کو خوبصورت جسم اور خوبصورت آواز دی۔ آپ جب اپنی پر سوز آواز میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–21

رکوع نمبر 2: آیات 10 تا 21: اسرار و معارف : داود (علیہ السلام) کو ہم نے بہت زیادہ نعمتیں عطا کیں۔ یہاں تک کہ پہاڑوں اور پرندوں تک کو حکم دی ا کہ ان کے ساتھ میری تسبیح کرو۔ مفسرین کے مطابق پہاڑ اور پرندے داود (علیہ السلام) کے ساتھ اس طرح ذکر کرتے تھے کہ عام سننے والا بھی سنتا تھا اور یہ اس تسبیح کے علاوہ تھی جو ہر شے کرتی ہے یعنی اگر کسی کے ساتھ بہت سے افراد اللہ کا ذکر کرنے لگ جائیں تو یہ اللہ کا بہت بڑا انعام ہے جو اس کے خاص بندوں کو نصیب ہوتا ہے نیز ان کے لیے بطور معجزہ لوہے کو نرم کردیا کہ لوہے کی زرہیں بنا کر تیار کریں اور حکم دیا کہ زرہ کی کڑیاں خوبصورت انداز میں جوڑیں۔ سب سے پہلے سامان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 یہ تصویریں بےجان چیزوں کی تھیں اور اگر جاندار چیزوں (انسانوں اور حیوانوں کی ہوں یا ا انبیاء صلحا کی تصویریں ہوں جیسا کہ بعض مفسرین (رح) نے بیان کیا ہے تو کہا جائیگا کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کی شریعت میں جاندار چیزوں کی تصویریں بنانا جائز تھا لیکن شریعت محمدیہ میں حرام قرار دے دیا گیا ہے جیسا کہ بہت سی احادیث میں مصورین کے لیے وعید مذکور ہے اور تصویر بنانیوالوں کو شرار الخلق “ (بدترین مخلوق) قرار دیا ہے۔ ( شوکانی) واضح رہے کہ فوٹو بھی تصویر کے حکم میں ہے اور فوٹو اتارنا اور اتروانا بھی حرام ہے۔ 10 یعنی ایسی دیگیں جو بھاری ہونے کی وجہ سے ایک ہی جگہ رکھی رہتی تھیں۔11 شکر یہ ہے کہ اللہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(34:13) محاریب محراب کی جمع۔ یہاں مراد مضبوط محل، قلعے ، اونچی اونچی عبادت گاہیں۔ تماثیل۔ تمثال کی جمع۔ مورتیں۔ تصویریں۔ شریعت سلیمانی میں مجسمہ تراشی اور مصوری حرام نہ تھیں۔ جفان۔ جفنۃ واحد۔ لگن، بڑا پیالہ۔ برتن جس میں شراب بنائی جائے کالجواب۔ کاف تشبیہ کا ہے۔ جواب جابیۃ کی جمع ہے۔ بڑا حوض۔ تالاب۔ قدور راسیت۔ موصوف وصفت۔ قدور۔ قدر کی جمع۔ ہانڈیاں۔ دیگیں۔ راسیت رسو سے اسم فاعل کا صیگہ جمع مؤنث راسیۃ کی جمع۔ رسو کے معنی کسی چیز پر قائم رہنا اور استوار ہونا کے ہیں راسیت ایک جگہ دھری رہنے والی۔ ہر وقت چولھوں پر قائم رہنے والی (دیگیں) ۔ ال داود۔ ای یا ال داود۔ اے دائود کی آل۔ اے دائود کے گھر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 10–14

لغات القرآن : آیت نمبر 10 تا 14 اوبی : چلو ۔ پڑھو النا : ہم نے نرم کردیا تھا الحدید : لوہا سبغت : کشادہ زرہیں قدر : اندازہ کر قدور (قدر) : دیگیں۔ پتیلے راسیت : ایک جگہ جمنے والیاں قضینا : ہم نے فیصلہ کردیا ما دل : نہیں بتایا دابۃ الارض : زمین کا جانور ۔ زمین کا کیڑا منساۃ : عصا۔ لاٹھی خر : وہ گر پڑا تبینت : واضح ہوگئی ۔ کھل گئی ما لبثوا : لگے نہ رہتے المھین : ذلت والا تشریح ُ : آیت نمبر 10 تا 14 زیر مطالعہ آیات سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ کائنات میں ہر طرف پھیلی ہوئی نشانیوں سے وہی عبرت و نصیحت حاصل کرتے ہیں جو ” عب منیب “ یعنی اللہ کے بندے جو ہر حال میں اللہ کی طرف جھکنے والے اس کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 2) سلیمان (علیہ السلام) کے حکم سے اونچے اونچے محل اور تصویریں اور مسجدیں بنیں، انہیں میں سے بیت المقدس بھی ہے اور ایسے بڑے بڑے لگن آپ نے تیار کرائے تھے جن میں ایک ہزار آدمی ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے ، اور دیگیں ایسی بڑی بڑی بنوائی تھی جن پر بغیر سیڑھی کے چڑھنا ہی ناممکن تھا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے داؤد کے گھروالوں، جو نعمتیں اللہ نے تم کو عطا فرمائیں ہیں ان کا شکرادا کرو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 13–14

[13] ضروری نہیں کہ وہ تصویریں انسان یا حیوان کی ہوں کیونکہ سلیمان (علیہ السلام) شریعت موسوی کے پیرو تھے اور اس شریعت میں جاندار کی تصویریں بنانا اسی طرح حرام تھا جس طرح شریعت محمدی میں ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی شان وشوکت 2: حضرت داؤد کی ساری عمر مخالفین سے جہاد کرتے گزری ۔ انہوں نے اپنے وقت کے بڑے بڑے جیابرہ کو شکست دی ہے ۔ اور آئندہ شروفساد کو بالکل ختم کردینے کے لئے پوری حربی قوت کا استعمال فرمایا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ذکر میں اسلحہ سازی کی خصوصیت کے ساتھ بیان فرمایا ہے ۔ اور اس کو واعملو صالحا سے تعبیر کیا ہے ۔ تاکہ معلوم ہوجائے ۔ کہ دشمنوں کو کچلنے کے لئے اسلحہ بنانا عمل خیر ہے اور مدنیت صحیحہ کی بہترین خدمت ہے ۔ حضرت سلیمان کا زمانہ امن کا زمانہ تھا ۔ اس لئے ان کے ذکر میں سامان شان و شوکت کی تفصیلات ہیں ۔ ارشاد ہے ۔ کہ جن ان کے مسخر تھے ۔ اور قصر شاہی اور معاہد…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(13) وہ جنات سلیمان (علیہ السلام) کیلئے جو چیزیں وہ چاہتا تھا بنایا کرتے تھے۔ بڑی بڑی اونچی عمارتیں اور تصویریں اور بڑے بڑے لگن جیسے حوض اور بڑی بڑی دیگیں جو بھاری ہونے کی وجہ سے چولھوں پر جمی رہتی تھیں۔ اے دائود کے خاندان والو ! تم سب ان نعمتوں کا شکر ادا کیا کرو اور شکریئے میں نیک کام کیا کرو اور میرے بندوں میں بہت کم بندے شکرگزار ہوتے ہیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جناب سے جو کام لیا کرتے تھے ان کی کچھ تفصیل سورة انبیاء میں گزر چکی ہے۔ کچھ یہاں بیان فرمائی۔ ان سے قلعے اور مساجد تعمیر کراتے تھے بیت المقدس کی تعمیر میں ان کا بہت بڑا حصہ تھا اور دوسری بڑی بڑی عمارتیں بھی وہ بناتے تھے۔ محاریب…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 12–13

ف 4۔ یعنی وہ ہوا سلیمان (علیہ السلام) کو اتنی اتنی دور پہنچاتی۔ 5۔ حاصل یہ کہ جو جی ایمان و اطاعت اختیار کرے گا وہ عذاب سعیر سے محفوظ رہے گا جیسا کہ ایمان کا مقتضا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ قوی ہیکل لوگ سلیمان (علیہ السلام) کے لئے وہ سب کچھ بناتے جن کی اس کو ضرورت ہوتی 13 ۔ سلیمان (علیہ السلام) کے ملک میں اس وقت جو جو چیزیں تیار ہوتی تھیں ان کا مختصر ساذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ان میں بڑے بڑے قلعے (محاریب وتماثیل) اور بہت بڑے بڑے لگن جیسے حوض ہوتے ہیں (جفان کالجواب) اور بہت بھاری بھاری دیگیں جو ایک ہی جگہ پر پڑی رہتی تھیں۔ (قدور رسیت) ادھر ادھر نہ ہوتی تھیں اور نہ ہی ان کو کرنے کی ضرورت تھی جن میں لشکروں کے لئے کھانا تیار ہوتا تھا۔ ان دو تین چیزوں کا ذکر کرکے پوری حکومت کے نظام کی طرف اشارہ کردیا گیا کہ وہ کتنا مضبوط اور کتنا زیادہ تھا اور کس طرح اس کا انتظام چلانے کے لئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In verse 13: يَعْمَلُونَ لَهُ مَا يَشَاءُ مِن مَّحَارِ‌يبَ وَتَمَاثِيلَ وَجِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَقُدُورٍ‌ رَّ‌اسِيَاتٍ (They used to make for him whatever he wished of castles, images, basins as (large as) tanks and big cook-wares fixed in their places), there is a somewhat detailed description of the jobs Sayyidna Sulayman (علیہ السلام) assigned to the Jinns. The word: مَحَاریب (maharib, translated above as 'castles' ) is the plural form of: مِحرَاب (mihrab) and is used to identify the noblest part of the house. When kings and men of authority make a state operation chamber, sort of power…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

20 The word tamathil in the Text is the plural of timthal, which in Arabic is used for every such thing as is made to resemble a natural thing, whether it is a human being, an animal, a tree, a flower, a river, or some inanimate object. Timthal is the name of every artificial thing which may have been made to resemble something made by God. " (Lisan al- Arab). "Timthal is every such picture which may have been made to resemble the likeness of something else, whether living or dead." (The Commentary, Al-Kashshaf). On this basis the statement of the Qur'an does not necessarily imply that the…

Read the full tafseer →