حضرت سلیمان ؑ کی وفات۔
حضرت سلیمان ؑ کی موت کی کیفیت بیان ہو رہی ہے اور یہ بھی کہ جو جنات ان کے فرمان کے تحت کام کاج میں مصروف تھے ان پر ان کی موت کیسے نامعلوم رہی وہ انتقال کے بعد بھی لکڑی کے ٹیکے پر کھڑے ہی رہے اور یہ انہیں زندہ سمجھتے ہوئے سر جھکائے اپنے سخت سخت کاموں میں مشغول رہے۔ مجاہد وغیرہ فرماتے ہی تقریباً سال بھر اسی طرح گزر گیا۔ جس لکڑی کے سہارے آپ کھڑے تھے جب اسے دیمک چاٹ گئی اور وہ کھوکھلی ہوگئی تو آپ گرپڑے۔ اب جنات اور انسانوں کو آپ کی موت کا پتہ چلا۔ تب تو نہ صرف انسانوں بلکہ خود جنات کو بھی یقین ہوگیا کہ ان میں سے کوئی بھی غیب داں نہیں۔ ایک مرفوع منکر اور غریب حدیث میں ہے کہ…
Read the full tafseer →سورة سَبـَا 23
اصل لفظ ہیں تَبَیَّنَتِ الجِنُّ۔۔ اس فقرے کا ایک ترجمہ تو وہ ہے جو ہم نے اوپر متن میں کیا ہے۔ اور دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جنوں کا حال کھل گیا یا منکشف ہوگیا۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ خود جنوں کو پتہ چل گیا کہ غیب دانی کے متعلق ان کا زعم غلط ہے۔ دوسری صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ عام لوگ جو جنوں کو غیب داں سمجھتے تھے ان پر یہ راز فاش ہوگیا کہ وہ علم غیب نہیں رکھتے۔
سورة سَبـَا 24
موجودہ زمانے کے بعض مفسرین نے اس کی یہ تاویل کی ہے کہ حضرت سلیمان کا بیٹا رَجُبعام چونکہ نالائق اور عیش پسند تھا اور خوشامدی مصاحبوں میں گھرا ہوا تھا، اس لیے اپنے جلیل القدر والد کی وفات کے…
Read the full tafseer →فلما قضینا علیہ الموت الآیة، آیت میں لفظ منساة عصاء اور لاٹھی کے معنی میں ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ حبشی زبان کا لفظ ہے، بمعنی عصاء اور بعض نے فرمایا کہ عربی لفظ ہے۔ نساء کے معنی ہٹانے اور موخر کرنے کے ہیں، لاٹھی کے ذریعے انسان مضر چیزوں کو ہٹاتا ہے، اس لئے اس کو منساة کہا گیا، یعنی ہٹانے کا آلہ۔ اس آیت میں حضرت سلیمان ؑ کی موت کا واقعہ عجیبہ بیان فرما کر بہت سی عبرتوں اور ہدایتوں کا دروازہ کھول دیا۔
حضرت سلیمان ؑ کی موت کا عجیب واقعہ
اس واقعہ میں بہت سی ہدایات ہیں، مثلاً یہ کہ حضرت سلیمان ؑ جن کو ایسی بےمثل حکومت و سلطنت حاصل تھی کہ صرف ساری دنیا پر ہی نہیں بلکہ جنات اور طیور اور ہوا پر…
Read the full tafseer →فلما قضینا علیہ الموت مادلھم علی موتہ الا دابۃ الارض تاکل منساتہ فلما خرتیینت الجن ان لو کانو یعلمون الغیب با لبعثوا فی العذاب المھین (14)
اوپر کی آیات سے ان لوگوں کی پوری پوری تردید ہوگئی جو اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ حضرت سلیمان ؑ کی ساری کارفرمائیاں نعوذ باللہ جنات کی رہیں احسان تھیں۔ اب آخر میں یہ اشارہ بھی فرمایا دیا کہ جنات کے پاس غیب کے جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ وہ اس سے اسی طرح بیخبر ہیں جس طرح دوسری مخلوقات بیخبر ہیں۔ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنے کے لئے حضرت سلیمان ؑ کی وفات کے واقعہ کا حوالہ دیا ہے کہ جس وقت حضرت سلیمان ؑ کی وفات ہوئی وہ انے مسخر جنوں کے کام کی نگرانی کر رہے تھے…
Read the full tafseer →14۔ 1 حضرت سلیمان ؑ کے زمانے میں جنات کے بارے میں مشہور ہوگیا تھا کہ یہ غائب کی باتیں جانتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان ؑ کی موت کے ذریعے سے اس عقیدے کے فساد کو واضح کردیا۔
Read the full tafseer →9: حضرت سلیمان ؑ نے بیت المقدس کی تعمیر پر جنات کو مقرر کیا ہوا تھا یہ جنات طبعی طور پر سرکش تھے اور صرف حضرت سلیمان ؑ کی نگرانی میں کام کرتے تھے، اور اندیشہ تھا کہ حضرت سلیمان ؑ کی وفات کے بعد وہ کام کرنا چھوڑ دیں گے، اس لئے جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے یہ تدبیر اختیار کی کہ جنات کی نگاہوں کے سامنے ایک عصا کے سہارے اپنی عبادت گاہ میں کھڑے ہوگئے، جو شفاف شیشے کی بنی ہوئی تھی، تاکہ جنات انہیں دیکھتے رہیں، اسی حالت میں ان کی وفات ہوگئی، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے جسم کو عصا کے سہارے کھڑا رکھا، اور جنات یہ سمجھتے رہے کہ وہ زندہ ہیں، یہاں تک کہ انہوں نے تعمیر کا کام مکمل کرلیا، پھر…
Read the full tafseer →فلما قضینا علیہ ۔۔۔۔۔ فی العذاب المھین (13)
روایت میں آتا ہے کہ جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی موت کا وقت آگیا تو وہ عصا پر تکیہ کیے ہوئے تھے۔ جن اپنی اپنی ڈیوٹیاں سر انجام دے رہے تھے اور ان کے ذمہ بہت سے شدید فرائض تھے جو ان کو کرتے تھے۔ جنوں کو ایک عرصہ تک معلوم نہ ہوا کہ حضرت سلیمان فوت ہوگئے ہیں یہاں تک کہ گھن نے ان کے عصا کو چاٹ لیا۔ یہ کیڑا جہاں ہوتا ہے۔ چھت کے شہتیروں ، دروازوں ، ستونوں کو بری طرح کھا جاتا ہے۔ پورٹ سعید کے علاقے میں لوگ گھر بناتے ہیں اور اس گھن کے ڈر سے اس میں ایک لکڑی بھی نہیں لگاتے کہ یہ کیڑا ہر قسم کی لکڑی کو چاٹ جاتا ہے۔ جب اس نے عصا کو چاٹ لیا تو وہ حضرت سلیمان…
Read the full tafseer →3 حضرت سلیمان (علیہ السلام) جنوں کے ہاتھوں مسجد بیت المقدس کی تجدید کرا رہے تھے جب معلوم کیا کہ میری موت آپہنچی جنوں کو نقشہ بتا کر آپ ایک شیشہ کے مکان میں دربند کر کے عبادت الٰہی میں مشغول ہوگئے جیسا کہ آپ کی عادت تھی کہ مہینوں خلوت میں رہ کر عبادت کیا کرتے تھے۔ اسی حالت میں فرشتہ نے روح قبض کرلی اور آپ کی نعش مبارک لکڑی کے سہارے کھڑی رہی۔ کسی کو آپ کی وفات کا احساس نہ ہوسکا۔ وفات کے بعد مدت تک جن بدستور تعمیر کرتے رہے۔ جب تعمیر پوری ہوگئی جس عصا پر ٹیک لگا رہے تھے گھن کے کھانے سے گرا، تب سب کو وفات کا حال معلوم ہوا۔ اس سے جنات کو خود اپنی غیب دانی کی حقیت کھلی گئی اور ان کے معتقد انسانوں کو…
Read the full tafseer →آیت 14 { فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْہِ الْمَوْتَ } ”پھر جب ہم نے اس علیہ السلام پر موت طاری کردی“
{ مَا دَلَّہُمْ عَلٰی مَوْتِہٖٓ اِلَّا دَآبَّۃُ الْاَرْضِ } ”تو کسی نے ان جنات کو اس کی موت سے آگاہ نہ کیا مگر زمین کے کیڑے نے“
{ تَاْکُلُ مِنْسَاَتَہٗ } ”جو اس علیہ السلام کے عصا کو کھاتا تھا۔“
حضرت سلیمان علیہ السلام ِجنات ّکی نگرانی کے لیے اپنے عصا کے سہارے کھڑے تھے کہ آپ علیہ السلام کی روح قبض ہوگئی مگر آپ علیہ السلام کا جسد مبارک اسی طرح کھڑا رہا۔ یہاں تک کہ دیمک نے آپ علیہ السلام کی لاٹھی کو کھا کر کھوکھلا کردیا۔ اس دوران جنات آپ علیہ السلام کی موت سے بیخبر کام میں مصروف رہے۔ وہ یہی سمجھتے…
Read the full tafseer →23 جس وقت حضرت سلیمان کی وفات کا وقت قریب آگیا اور آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اشارہ ہوگیا کہ اب دنیا سے رخصت ہونے والے ہیں۔ اس وقت آپ نے جنوں کو بیت المقدس کی تعمیر پر لگایا ہوا تھا جسے ہیکل سلیمانی کہتے ہیں۔ اس وقت تعمیر کا ابھی خاصا کام باقی تھا۔ آپ نے باقی کام کا پورا نقشہ جنوں کے سربراہ کے حوالہ کردیا اور پوری طرح مکمل کام سمجھا دیا تھا۔ پھر اپنے عبادت خانے میں آکر عبادت میں کھڑے ہوگئے۔ اور اپنی لاٹھی سے ٹیک لگا لی۔ آپ کا یہ عبادت خانہ ایسا تھا جس میں شیشے کی کھڑکیاں تھیں اور باہر سے دیکھنے والا حضرت سلیمان کو عبادت میں مصروف دیکھ سکتا تھا۔ آپ عبادت میں کھڑے ہوئے تو اسی حالت میں فرشتے نے…
Read the full tafseer →21۔ (اور ان کا انتقال ہوگیا) سلیمان (علیہ السلام) بھی بایں شان و شوکت بہرحال ایک دن وفات پاگئے آیت میں ضمنا یہ تعلیم آگئی کہ سلیمان جب ہوا پر اڑ کر اور جنات پر حکومت کرکے بھی موت سے نہ بچ سکے سو کسی دوسرے بشرکا کیا ذکر۔ تنبیھا للخلق علی ان الموت لا بدمنہ ولو نجامنہ لکان سلیمان اولی بالنجاۃ منہ (کبیر)
22۔ آثار روایت میں آتا ہے کہ جب سلیمان (علیہ السلام) کو اپنی موت کا قرب محسوس ہوا تو آپ تخت پر عصا کی ٹیک لگا کر بیٹھ گئے اور اسی ہیئت میں انفکاک روح ہوگیا۔ اور ایک طویل مدت تک اسی وضع پر بیٹھے رہے، جنات آپ کو بیٹھا ہوا دیکھ کر آپ کو زندہ سمجھے اور قریب آنے کی کسی کو ہمت نہ ہوئی۔ بدستور اپنے اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
آیت نمبر 10 تا 14
ترجمہ : اور ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے بڑی نعمت عطاء کی یعنی نبوت اور کتاب، اور ہم نے کہا اے پہاڑ اور اے پرندو تم داؤد کے ساتھ تسبیح دہراؤ، طیرَ منصوب ہے جبال کے محل پر عطف ہونے کی وجہ سے، اور ہم نے داؤد کے ساتھ تسبیح پڑھنے کا حکم دیا، اور ہم نے ان کے لئے لوہا نرم کردیا چناچہ (حضرت) داؤد (علیہ السلام) کے ہاتھ میں لوہا گوندھے ہوئے آٹے کے مانند ہوگیا اور ہم نے حکم دیا کہ لوہے کی لمبی (مکمل) زرہ بناؤ کہ ان کو پہننے والا زمین میں گھسیٹے اور بنانے میں یکسانیت کا خیال رکھو زرہ سازکو ” سراد “ کہتے ہیں یعنی ایسی زرہ بناؤ کہ اس کے حلقے مساوی ہوں، اے آل داؤد تم داؤد کی معیت میں نیک کام…
Read the full tafseer →فلما قضینا علیہ الموت . پھر جب ہم نے ان کیلئے موت کا حکم جاری کردیا۔ بغوی نے اس سے لکھا ہے : اہل علم
کا بیان ہے کہ حضرت سلیمان مسجد بیت المقدس کے اندر مہینہ دو مہینہ ‘ سال دو سال یا اس سے کم و بیش مدت تک گوشہ نشین ہوجاتے تھے ‘ وہیں آپ کا کھانا پانی پہنچا دیا جاتا تھا۔ ایک بار حسب معمول بیت المقدس کے اندر تھے کہ آپ کی وفات ہوگئی ‘ جس کے قصہ کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ روزانہ صبح کے وقت بیت المقدس کی محراب میں ایک بوٹی نمودار ہوتی تھی ‘ آپ اس سے اس کا نام دریافت کرتے تھے ‘ وہ اپنا نام بتا دیتی تھی ‘ آپ اس سے اس کے خواص دریافت کرتے تھے تو وہ اپنے فائدے بیان کردیتی تھی۔ آپ اس کو کٹوا لیتے تھے ‘ پھر…
Read the full tafseer →(14۔ 15) اور جب ہم نے سلیمان کی روح قبض کی تو وہ سال بھر تک اپنے عصا کا سہارا لیے ہوئے اپنی محرام میں کھڑے رہے کسی بات سے ان کے مرنے کا پتہ نہ چلا مگر گھن کے کیڑے نے کہ وہ سلیمان کے عصا کو کھاتا تھا۔ سو جب گر پڑے تب انسان کو معلوم ہوا کہ جنات غیب نہیں جانتے کیونکہ اگر وہ غیب جانتے تو کاموں کی اس سختی میں نہ گرفتار رہتے اور اس واقعہ سے پہلے انسانوں کو یہ گمان تھا کہ جنات کو غیب کی خبر ہے مگر اب حقیقت واضح ہوگئی ہے اور ایسی تقریبا یمن کی طرف تیرہ بستیاں تھیں جن میں اللہ تعالیٰ نے تیرہ انبیاء کرام کو بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ اپنے پروردگار کا دیا ہوا رزق یعنی پھل اور تمام قسم کی نعمتیں کھاؤ اور…
Read the full tafseer →فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ۔۔ : ”دَاۗبَّةُ الْاَرْضِ“ دیمک۔ ”تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ“ ”تَبَیَّنَ یَتَبَیَّنُ“ (تفعّل) کا معنی واضح طور پر جان لینا بھی ہے اور کسی چیز کا واضح ہوجانا اور کھل کر سامنے آجانا بھی ہے، جیسا کہ شاعر نے کہا ہے
إِذَا اشْتَبَکَتْ دُمُوْعٌ فِيْ خُدُوْدٍ
تَبَیَّنَ مَنْ بَکٰی مِمَّنْ تَبَاکٰی
”جب رخساروں میں آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی تو وہ لوگ صاف ظاہر ہوگئے جو رو رہے تھے، ان لوگوں سے جو رونے کی نمائش کر رہے تھے۔“
3 اللہ تعالیٰ نے سلیمان ؑ کو عطا کردہ عظیم سلطنت، علمی کمالات اور ہوا اور جنوں کی تسخیر وغیرہ کے بیان کے بعد ان کی موت کا تذکرہ فرمایا ہے، یہ بتانے کے لیے…
Read the full tafseer →آیت : فلما قضینا علیہ الموتجب ہم نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر موت کا فیصلہ کردیا یہاں تک کہ موت ایسا امر ہوگیا جس سے فراغت ہوچکی ہوتی ہے اور اسی سے موت واقع ہوجاتی ہے۔
آیت : ما دلھم علی مو تہ الا دا بۃ الارض تا کل منسا تہ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ عصا پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ منساۃ حبشہ کی زبان میں عصا کو کہتے ہیں ؛ یہ سدی کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : یہ یمن کی لغت میں ہے ؛ قشیری نے اسے ذکر کیا۔ آپ اس طرح فوت ہوگئے اور آپ اسی طرح رہے کہ آپ کا حال مخفی رہا یہاں تک کہ مردہ کی حیثیت زمین پر گر گئے کیوں کہ عصا ٹوٹ گیا تھا کیونکہ دیمک اسے کھا گئی تھی۔ اس طرح آپ کی موت کا علم ہوا۔ دیمک آپ کی موت…
Read the full tafseer →1۔ ابن حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ سلیمان (علیہ السلام) بیت المقدس میں مہینہ دو مہینہ سال دو سال یا اس سے کم وبیش مدت تک تنہائی میں عبادت کرتے اور اپنا کھانا اور پینا ساتھ رکھتے جس دفعہ آپ کا وصال ہوا اس دفعہ آ نے کھانا اپنی خلوت گاہ میں جمع کیا اور اس کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ جب وہ صبح کرتے تو بیت المقدس میں ایک درخت اگتا آپ اس سے اس کا نام دریافت کرتے تھے وہ اپنا نام بتادیتا تھا پھر اس سے پوچھتے کہ کس مقصد کے لیے تجھے لگایا گیا وہ کہتا مجھے فلاں فلاں کام کے لیے اگایا گیا آپ اس درخت کے بارے میں حکم دیتے تو اس درخت کو کاٹ دیا جاتا۔ اگر اسے گاڑنے کے لیے اگایا جاتا تو آپ اسے گاڑدیتے اگر اسے…
Read the full tafseer →فَلَمَّا [پھر جب ] قَضَيْنَا [ہم نے فیصلہ کیا ] عَلَيْهِ الْمَوْتَ [ان (علیہ السلام) پر موت کا ] مَا دَلَّهُمْ [تو رہنمائی نہیں کی ان کی ] عَلٰي مَوْتِهٖٓ [ان کی موت پر ] اِلَّا دَاۗبَّةُ الْاَرْضِ [مگر زمین کے کیڑے نے ] تَاْكُلُ [وہ کھاتا تھا ] مِنْسَاَتَهٗ ۚ [ان (علیہ السلام) کی لاٹھی کو ] فَلَمَّا خَرَّ [پھر جب وہ گرپڑے ] تَبَيَّنَتِ [تو معلوم کیا ] الْجِنُّ [جنوں نے ] اَنْ لَّوْ [کہ اگر ] كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ [وہ جانتے ہوتے ] الْغَيْبَ [غیب کو ] مَا لَبِثُوْا [تو وہ نہ ٹھہرتے ] فِي الْعَذَابِ الْمُهِيْنِ [ذلیل کرنے والے اس عذاب میں ] ۔
Read the full tafseer →جنات غیب نہیں جانتے، وہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی وفات سے بیخبر رہے
جیسا کہ پہلے معلوم ہوا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جنات سے بڑے بڑے کام لیتے تھے، ان میں سخت کام بھی ہوتے تھے اور ان میں سے بعض شیاطین کو بیڑیوں میں جکڑ کر بھی ڈالتے تھے، کما ذکر اللّٰہ فی سورة ص (وَالشَّیٰطِیْنَ کُلَّ بَنَّآءٍ وَّغَوَّاصٍ وَّاٰخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِیْ الْاَصْفَادِ ) جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی وفات کا وقت قریب ہوا تو وہ ایک لاٹھی لے کر اپنی ٹھوڑی سے لگ کر تخت پر بیٹھ گئے، اسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے ان کی موت آنے کا فیصلہ فرما دیا لہٰذا ان کو موت آگئی، جنات یہ سمجھ کر کہ آپ بیٹھے ہیں اور ہمیں دیکھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
قصہء دواؤد وسلیمان علیہما الصلاۃ والسلام
قال اللہ تعالی۔ ولقد اتینا داود منا فضلا۔۔۔ الی۔۔۔ ما لبثوا فی العذاب المھین۔
(ربط) گزشتہ آیات میں آسمان و زمین کی پیدائش کا ذکر کر کے فرمایا۔ ان فی ذلک لایۃ لکل عبد منیب یعنی آسمان و زمین کی پیدا میں خدا کی قدرت کی نشانی ہے ہر عبد منیب کے لئے یعنی ہر اس بندہ کے لئے جو خدا کی طرف متوجہ اور ملتفت ہو اب ان آیات میں میں دو خاص عبد منیب کا قصہ ذکر کرتے ہیں جو خدا کی طرف خاص طور پر متوجہ اور ملتفت ہو اب ان آیات میں دو خاص عبد منیب اللہ کے وہ خاص بندے تھے جن پر اللہ نے ظاہری اور باطنی نعمتیں مکمل فرمائیں اور نبوت کے ساتھ ان کو بےمثال سلطنت بھی عطا کی مگر…
Read the full tafseer →15:۔ فلما قضینا الخ : ای اوقعنا علی سلیمان الموت حاکمین بہ علیہ (روح ج 22 ص 121) ۔ یعنی جب ہم نے اپنے فیصلے کے مطابق سلیمان (علیہ السلام) پر موت واقع کردی۔ ما دلہم : ضمیر مفعول جنوں کی طرف عائد ہے جیسا کہ مشہور ہے فاضمیر فی دلہم عائد علی الجن الذین یعملون لہ (بحر ج 7 ص 266) ۔ یا اس سے جن اور آل داود اور دوسرے لوگ بھی مراد ہیں (ما دلہم) ای الجن وال داود (مدارک) اور دابۃ الارض سے دیمک مراد ہے جو ایک قسم کا کیڑا ہے اور لکڑی کو کھاتا ہے۔ حضرت داود (علیہ السلام) نے مسجد بیت المقدس کی تعمیر کا کام شروع کیا۔ لیکن اس کی تکمیل سے پہلے ہی ان کی وفات ہوگئی۔ اور وفات سے پہلے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو…
Read the full tafseer →گزشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ کے دو منیب بندوں حضرت دائود (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ذکر ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں باپ بیٹے کو بڑی نعمتیں عطا فرمائی تھیں۔ دنیا میں خلافت ، حکومت اور عزت عطا فرمائی اور نبوت و رسالت سے بھی سرفراز فرمایا۔ اللہ نے دائود (علیہ السلام) کے ہاتھ پر لوہے کو نرم کردیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خوش الحانی عطا فرمائی تھی حتی کہ جب آپ اللہ کی حمد وثناء بیان کرتے تو پہاڑ اور پرندے بھی آپ کے ہمنوا ہوجاتے۔ آپ اللہ کے بڑے ہی عبادت گزار اور شکر گزار بندے تھے۔ اللہ نے سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوائوں ، پرندوں اور جنات کو مسخر کردیا تھا۔ جیسا کہ گزشتہ درس…
Read the full tafseer →فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْہِ الْمَوْتَ مَا دَلَّہُمْ عَلٰي مَوْتِہٖٓ اِلَّا دَاۗبَّۃُ الْاَرْضِ تَاْكُلُ مِنْسَاَتَہٗ 0 ۚ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوْا فِي الْعَذَابِ الْمُہِيْنِ 14ۭ
قضی
الْقَضَاءُ : فصل الأمر قولا کان ذلک أو فعلا، وكلّ واحد منهما علی وجهين : إلهيّ ، وبشريّ. فمن القول الإلهيّ قوله تعالی:
وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] أي : أمر بذلک،
( ق ض ی ) القضاء
کے معنی قولا یا عملا کیس کام کا فیصلہ کردینے کے ہیں اور قضاء قولی وعملی میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں قضا الہیٰ اور قضاء بشری چناچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
ترکیب : داؤد مفعول اول فضلا مفعول ثانی لاتینا یاجبال تفسیر للفضل والطیر بالنصب لانہ معطوف علی محل جبال و فیہ وجوہ اخریٰ ، وبالرفع عطفا علی لفظہا ای جعلنا الجبال والطیور منقادین لامرہ فی نفاذ مشتیہ فیھما، ان اعمل ای امر ناہ ان اعمل وان مفرۃ و مصدریۃ۔ الریح بالنصب اے سخرنا الریح و بالرفع علی الابتداء غدوھا الغدو مصدر و لیس بزمان اے سیرہا من الغد بمعنی الصباح ای الزوال شھر والجملۃ فی موضع الحال من الریح، من یعمل من فی موضع نصب، منساتہ والمنساء العصی علی مفعالۃ کمیضاۃ من نسات البعیر اذ طردتہ لانھا تطردبھا۔
تفسیر … داؤد ( علیہ السلام) کا تذکرہ : پہلے فرمایا تھا، ان فی ذلک لآیۃ لکل عبد منیب اب اس…
Read the full tafseer →فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْہِ الْمَوْتَ مَا دَلَّھُمْ عَلٰی مَوْتِہٖٓ اِلاَّ دَآبَّۃٌ الْاَرْضِ تَاْکُلُ مِنْسَاَ تَہٗ ج فَلَمَّا خَرَّتَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا فِی الْعَذَابِ الْمُھِیْنِ ۔ (السباء : 14)
(پس جب ہم نے اس پر موت کا فیصلہ نافذ کیا تو جنوں کو اس کی موت پر آگاہ نہیں کیا، مگر زمین کے کیڑے نے، جو سلیمان کے عصا کو کھاتا تھا، پس جب وہ گرپڑا تو جنوں پر یہ بات واضح ہوگئی کہ اگر وہ غیب کے جاننے والے ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں مبتلا نہ رہتے۔ )
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی موت سے غلط عقائد کی تردید
مشرکینِ مکہ میں عقیدے کی جو خرابیاں پیدا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی موت۔
دنیا میں جو شخص آیا ہے اسے بالآخر یہاں سے جانا ہے۔ بیشک وہ بادشاہ ہو یا فقیر، نیک ہو یا بد یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے محبوب پیغمبر بھی دنیا سے کوچ کر گئے مفسرین نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی موت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) نے اپنی زندگی کے آخری دور میں مسجد اقصیٰ کی تعمیر شروع کروائی جسے یہودی ہیکل سلیمانی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ مسجد اقصیٰ کی تعمیرجاری تھی کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو بذریعہ وحی بتلایا گیا کہ آپ کی موت کا وقت قریب آپہنچا ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) حجرے میں جا کر اللہ تعالیٰ کی عبادت…
Read the full tafseer →موتِ سلیمانی :
14: فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْہِ الْمَوْتَ (پھر جب ہم نے سلیمان (علیہ السلام) پر موت کا حکم جاری کردیا) ۔ ہٗ کی ضمیر کا مرجع سلیمان (علیہ السلام) ہیں مَادَلَّھُمْ (تو کسی نے ان کی موت کا پتہ نہ بتایا) جنات کو نمبر 2۔ آل دائودعلیہ السلام کو عَلٰی مَوْتِہٖٓ اِلَّا دَآبَّۃُ الْاَرْضِ (مگر گھن کے کیڑے نے) دیمک اس چھوٹے سے جانور کو سرفۃ کہتے ہیں اور الارض یہ اس کیڑے کا فعل ہے کہ یہ لکڑی کو کھا کر مٹی بنا دیتی ہے اسی لئے اس کی طرف اضافت کی گئی کہا جاتا ہے ارضت الخشبۃ ارضًا جبکہ اس کو دیمک چاٹ جائے۔ تَاْکُلُ مِنْسَاَتَہٗ (کہ وہ سلیمان کا عصا کھاتا تھا) المنساۃ، عصا، لاٹھی اس کو منسأ…
Read the full tafseer →حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی موت کا واقعہ
14، فلما قضینا علیہ الموت ، پھر جب ہم نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی موت کا فیصلہ کرلیا ۔ بغوی نے اس سے لکھا ہے، اہل علم کا بیان ہے کہ حضرت سلیمان مسجد بیت المقدس کے اندر مہینہ دو مہینہ ، سال دو سال یا اس سے کم وبیش مدت تک گوشہ نشین ہوجاتے تھے، وہیں آپ کا کھانا پانی پہنچا دیا جاتا تھا ۔ ایک بار حسب معمول بیت المقدس کے اندر تھے کہ آپ کی وفات ہوگئی جس کے قصہ کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ روز انہ صبح کے وقت بیت المقدس کی محراب میں ایک بوٹی نمودار ہوتی تھی آپ اس سے اس کا نام دریافت کرتے تھے، وہ اپنا نام بتادیتی تھی، آپ اس سے اس کے خواص دریافت کرتے تھے تو وہ…
Read the full tafseer →14۔ اس آیت میں سلیمان (علیہ السلام) کی وفات کا حاصل ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے زمانہ میں جنات اور انسان ملے رہتے تھے اس ملنے جلنے میں جنات نے اکثر لوگوں کے دل میں یہ بات جمارکھی تھی کہ جنات کو غیب کی خبریں معلوم ہوتی رہتیں ہیں اس خیال کے غلط ٹھہرانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) کے دنیا سے اٹھنے کی یہ صورت نکاح کہ ایک سال کے قریب وفات کے بعد بھی سلیمان (علیہ السلام) اپنے عبادت خانہ میں اپنا عصاٹیکے ہوئے کھڑے رہے اور جنات سلیمان (علیہ السلام) کو زندہ سمجھ کر اپنے کاموں میں لگے رہے پھر جب گھن کا کڑسا اس عصا کو کھا گیا تو وہ عصا اور سلیمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
آیت 12
اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت داؤد پر اپنا فضل و کرم بیان کرنے کے بعد ان کے فرزند حضرت سلیمان پر اپنے فضل و کرم کا ذکر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو آپ کے لئے مسخر کردیا جو آپ کے حکم پر چلتی تھی سلیمان پر اپنے فضل و کرم کا ذکر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو آپ کے لئے مسخر کردیا جو آپ کے حکم پر چلتی تھی جو آپ کو اور آپ کی افواج کو اٹھائے پھرتی تھی اور بہت دور کی مسافتیں بہت کم مدت میں طے کرتی تھی۔ دو ماہ کی مسافت ایک دن میں طے کرلیتی تھی۔ فرمایا : (غدوھا شھر) ” اس کی صبح کی منزل ایک مہینے کی ہوتی تھی۔ “ دن کی ابتدا سے لے کر زوال تک (ورواحھا شھر) ” اور اس کی شام کی منزل ایک مہینے کی ہوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–54
اسلام میں مصوری کی ممانعت
قول باری ہے (یعملون لہ مایشآء من محاریب وتماثیل۔ سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں بنوانا منظور ہوتیں مثلاً بڑی عمارتیں اور مجسمے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں تصاویر اور مجسمے بنانے کی اباحت تھی لیکن حضور ﷺ کی شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ آپ سے مروی ہے (لا یدخل الملائکۃ بیتا فیہ صورۃ۔ جس کھر میں کوئی تصویر ہوا اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے) نیز ارشاد ہے (من صورصورۃ کلف یوم القیمۃ ان یحیھا ولا فالنار ۔ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی ہوا سے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں زندگی پیدا کردے ورنہ جہنم میں جائے) ۔
نیز ارشاد ہے (لعن اللہ المصورین۔…
Read the full tafseer →41 حضرت سلیمن (علیہ السلام) کی وفات کا قصہ اور ایک عبرت انگیز درس : روایات کے مطابق جب حضرت سلیمٰن (علیہ السلام) کی موت کا وقت قریب آیا تو آپ نے یہ چاہا کہ کسی طرح جنوں کو آپ کی موت کا علم نہ ہونے پائے تاکہ تعمیر بیت المقدس وغیرہ کے جن عظیم الشان کاموں میں ان کو لگایا گیا تھا ان کی تکمیل ہوجائے۔ اور جن سرکشی کر کے آپ (علیہ السلام) کے بعد ان کو چھوڑ نہ دیں۔ اس کے لئے آپ ایک لاٹھی کے سہارے اپنے عبادت خانے میں کھڑے ہوگئے اور اسی دوران آپ (علیہ السلام) کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔ شیشے کے اس مکان میں جہاں آپ (علیہ السلام) تشریف فرما تھے، باہر سے دیکھنے سے یونہی معلوم ہوتا تھا کہ آپ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
سیدناداؤد (علیہ السلام) اور سیدناسلیمان (علیہ السلام) پر اللہ کی مہربانیاں
تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے تو اللہ کے فضل و کرم کا ذکر کیا گیا ہے کہ جو بھی اللہ کی تسبیح و تقدیس میں زندگی کا زیادہ حصہ گزارتا ہے تو وہ اللہ کا مقرب ترین بندہ بن جاتا ہے۔ عام لوگوں میں سے اللہ ان کو خاص بنا دیتا ہے یعنی ایسے بندوں میں سے بعض کو اللہ تعالیٰ اپنے نبی رسول اور پیغمبر کی حیثیت سے منتخب کرلیتا ہے۔ جیسا کہ سیدناداؤد (علیہ السلام) کو اللہ نے چن لیا، ان کو نبوت بھی دی اور حکومت بھی دی اور پھر بڑی بڑی نعمتوں سے ان کو نوازا۔ سب سے پہلے تو ان کو خوبصورت جسم اور خوبصورت آواز دی۔ آپ جب اپنی پر سوز آواز میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–21
رکوع نمبر 2: آیات 10 تا 21:
اسرار و معارف : داود (علیہ السلام) کو ہم نے بہت زیادہ نعمتیں عطا کیں۔ یہاں تک کہ پہاڑوں اور پرندوں تک کو حکم دی ا کہ ان کے ساتھ میری تسبیح کرو۔ مفسرین کے مطابق پہاڑ اور پرندے داود (علیہ السلام) کے ساتھ اس طرح ذکر کرتے تھے کہ عام سننے والا بھی سنتا تھا اور یہ اس تسبیح کے علاوہ تھی جو ہر شے کرتی ہے یعنی اگر کسی کے ساتھ بہت سے افراد اللہ کا ذکر کرنے لگ جائیں تو یہ اللہ کا بہت بڑا انعام ہے جو اس کے خاص بندوں کو نصیب ہوتا ہے نیز ان کے لیے بطور معجزہ لوہے کو نرم کردیا کہ لوہے کی زرہیں بنا کر تیار کریں اور حکم دیا کہ زرہ کی کڑیاں خوبصورت انداز میں جوڑیں۔ سب سے پہلے سامان…
Read the full tafseer →ف 12 یا ( لوگوں پر) جنوں کا حال کھل گیا۔ ممکن ہے یہ جن اپنے آپ کو غیب دان سمجھتے ہوں یا لوگوں کا ان کے بارے میں عقیدہ ہو کہ وہ غیب کا علم رکھتے ہیں۔ یہ دونوں احتمال صحت کے ساتھ ثابت ہیں۔ ( قرطبی) ۔13 کہتے ہیں کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) پر موت ایسی حالت میں طاری ہوئی جب وہ ایک لاٹھی کے سہارے کھڑے تھے۔ ایک لمبی مدت گزرنے کے بعد اس لاٹھی کو گھن لگ گیا اور وہ اندر سے کھوکھلی ہو کر ٹوٹ گئی تو ان کا جسم زمین پر آرہا، اس وقت جنوں کو معلوم ہوا کہ ان کا انتقال ہوگیا ہے۔ آیت کا یہی مطلب حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے مفسرین (رح) نے بیان کیا ہے۔ اس بارے میں ایک مرفوع بھی آئی ہے مگر اس کی سند صحیح نہیں ہے۔…
Read the full tafseer →(34:14) قضینا علیہ۔ قضی علی کسی کے خلاف فیصلہ کرنا۔ قضینا علیہ الموت ہم نے اس کے خلاف موت کا فیصلہ کرلیا۔ یعنی (جب ) ہم نے اس پر موت کا حکم جاری کردیا۔ ما دلہم علی موتہ (کسی چیز نے ) ان کو پتہ نہ بتایا اس کی موت کا۔ دلالۃ مصدر نیز ملاحظہ ہو (34:7) ۔ مندرجہ بالا۔
دابۃ الارض۔ زمین پر چلنے والا۔ پائوں پر چلنے والا، یا رینگ کر چلنے والا جانور، مراد یہاں دیمک ہے۔ منساتہ۔ منساۃ۔ اسم آلہ۔ نسی مصدر سے باب فتح۔ بروزن (مفعلۃ) آواز دینا۔ ہنکانا۔ مضاف ہ ضمیر واحد مذکر غائب مضاف الیہ۔ اس کا ڈنڈا۔ اس کی لاٹھی اشارہ حضرت سلیمان کی طرف ہے) ۔
خر۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ وہ گرپڑا۔ خر مصدر۔ جس کے معنی کسی چیز کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
لغات القرآن : آیت نمبر 10 تا 14
اوبی : چلو ۔ پڑھو
النا : ہم نے نرم کردیا تھا
الحدید : لوہا
سبغت : کشادہ زرہیں
قدر : اندازہ کر
قدور (قدر) : دیگیں۔ پتیلے
راسیت : ایک جگہ جمنے والیاں
قضینا : ہم نے فیصلہ کردیا
ما دل : نہیں بتایا
دابۃ الارض : زمین کا جانور ۔ زمین کا کیڑا
منساۃ : عصا۔ لاٹھی
خر : وہ گر پڑا
تبینت : واضح ہوگئی ۔ کھل گئی
ما لبثوا : لگے نہ رہتے
المھین : ذلت والا
تشریح ُ : آیت نمبر 10 تا 14
زیر مطالعہ آیات سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ کائنات میں ہر طرف پھیلی ہوئی نشانیوں سے وہی عبرت و نصیحت حاصل کرتے ہیں جو ” عب منیب “ یعنی اللہ کے بندے جو ہر حال میں اللہ کی طرف جھکنے والے اس کی…
Read the full tafseer →(ف 1) حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بارگاہ الٰہی میں دعا کی تھی کہ ان کا وفات کا حال جنات پر ظاہر نہ ہو، تاکہ انسانوں کو معلوم ہوجائے کہ جن غیب نہیں جانتے، پھر آپ محراب میں داخل ہوئے اور حسب عادت نماز کے لیے اپنے عصا پر تکیہ لگا کر کھڑے ہوگئے جنات حساب دسور اپنی خدموتوں میں مشغول رہے، اور یہ سمجھتے رہے کہ حضرت زندہ ہیں اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا عرصہ دراز تک اسی حالت پر رہنا ان کے لیے کچھ حیرت کا باعث نہیں ہوا، اور آپ کی نماز بہت دراز ہوتی ہے حتی کہ آپ کی وفات کے پورے ایک سال بعد تک جنات آپ کی وفات پر مطلع نہ ہوئے اور اپنی خدمتوں میں مشغول رہے یہاں تک کہ بحکم الٰہی گھن کے کیڑے نے آپ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
[13] ضروری نہیں کہ وہ تصویریں انسان یا حیوان کی ہوں کیونکہ سلیمان (علیہ السلام) شریعت موسوی کے پیرو تھے اور اس شریعت میں جاندار کی تصویریں بنانا اسی طرح حرام تھا جس طرح شریعت محمدی میں ہے۔
Read the full tafseer →حضرت سلیمان کو تعمیر کے ساتھ خاص شغف تھا ۔ انہوں نے اپنے زمانے میں کئی محلات اور شاندار معاہد بنوائے ۔ اور عمر کے آخری حصے میں ارادہ تھا کہ اللہ کے لئے بہت بڑا ہیکل تعمیر کیا جائے ۔ جیسا کہ بائبل میں مذکور ہے اس کا آغاز ہوگیا تھا اور مدد لگ رہی تھی کہ آپ کا انتقال ہوگیا ۔ اور وہ ہیکل اختتام تک نہ پہنچ سکا ۔ اس وقت کی سیاسی حالت یہ تھی ۔ کہ تمام فلسفی حضرت سلیمان کے مخالف تھے ۔ اور مسلم جنات بھی جو مزدوروں اور صناعوں کی حیثیت سے کام کررہے تھے محض ان کی روحانی قوتوں کی وجہ سے مجبور تھے ۔ وہ دل سے ان کے ساتھ نہیں تھے آپ کی وفات کے بعدوزراء نے یہ مناسب سمجھا کہ آپ کی لاش کشیش محل میں اس طرح…
Read the full tafseer →(14) پھر جب ہم نے سلیمان پر موت کا حکم جاری کردیا تو سلیمان (علیہ السلام) کی موت پر جنات کو کسی نے بھی آگاہ نہ کیا اور کسی نے جنات کو سلیمان (علیہ السلام) کا مرنا نہ جتایا مگر ایک گھن کے کیڑے نے جو سلیمان کے سہارے کی لکڑی کو کھا رہا تھا پھر جب سلیمان (علیہ السلام) گرپڑے۔ تب جنات کو اپنے دعوے غیب دانی کی حقیقت معلوم ہوئی اور یہ بات ظاہر ہوئی کہ اگر وہ جنات غیب کی باتیں جانتے ہوتے تو وہ اس ذلت آمیز مصیبت اور تکلیف میں مبتلا نہ رہتے۔
یعنی حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے یہ دعا کی تھی کہ بیت المقدس کی تعمیر پوری ہوجائے چناچہ تعمیر پوری ہونے سے پہلے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی وفات کا وقت قریب…
Read the full tafseer →ف 6۔ سلیمان (علیہ السلام) موت کے قریب عصا کو دونوں ہاتھ سے پکڑ کر اس کو زیر زنخ لگا کر تخت پر بیٹھ گئے، اور اسی حالت میں روح قبض ہوگئی، اور اسی طرح سال بھر تک بیٹھے رہے، جنات آپ کو بیٹھا دیکھ کر زندہ سمجھتے رہے اور زندہ سمجھ کر بدستور کام کرتے رہے۔
7۔ مراد اعمال شاقہ ہیں جن میں بوجہ محکومیت کے ذلت بھی اور مشقت کی وجہ سے مصیبت بھی ہے۔
Read the full tafseer →اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کے لئے کوئی نہیں آیا خواہ وہ کون ہو اور کوئی ہو
14 ۔ دائود (علیہ السلام) نے حکومت کی جتنا عرصہ اللہ نے ان کو دیا اور ان کے بعد آپ کے بیٹے سلیمان (علیہ السلام) نے بھی حکومت کی جتنا عرصہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو ملا تھا اور جتنی عمر ملی تھی اور ملک کے انتظام وانصرام میں آپ نے کوئی کوتاہی نہ کی بلکہ ہر کام مثالی طور پر کیا جس کی یادگاریں آج تک چلی آرہی ہیں لیکن آخر کار اس دنیا میں ہمیشگی کس کو ہے ؟ کسی کو بھی نہیں اور سب نے اپنی اپنی باری جانا ہے خواہ وہ کوئی ہے اور خواہ وہ کون ہے آخر کار جب آپ کے جانے کا وقت آیا تو اپنا جانشین مقرر کردیا اور حکومت کے سارے کارندوں…
Read the full tafseer →The word: مِنسَأ (minsa'ah, translated in the text as 'scepter' ) in verse 14 beginning with: فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ (So, when We decided (that) death (should come) upon him, - 14) appears in the sense of staff or pole (as of purpose or authority). Some early commentators have said that it is a word taken from the Ethiopian language and denotes staff. Others have said that it is an Arabic word from: نَسَاء (nasa) which means move back, drive away, postpone. Since a staff or stick is used to remove things undesirable or harmful, therefore, it was called: مِنسأۃ : 'minsa'ah,'…
Read the full tafseer →23 Another meaning of the sentence can be: "The true state and condition of the jinns became clear and exposed. " According to the first meaning, it will mean: "The jinns realized that their claim to havc the knowledge of the unseen was wrong. " According to the second, it will mean: "The people who thought that the jinns possessed the knowledge of the unseen, came to know that they had no such knowledge. "
24 Some modern commentators havc interpreted it as follows: As the Prophet Solomon's son, Rehoboam, was unworthy and given to luxurious living and surrounded by flatterers, he could not…
Read the full tafseer →