Explained with ayahs 15–17
قوم سبا کا تفصیلی تذکرہ۔
قوم سبایمن میں رہتی تھی۔ تبع بھی ان میں سے ہی تھے۔ بلقیس بھی انہی میں سے تھیں۔ یہ بڑی نعمتوں اور راحتوں میں تھے۔ چین آرام سے زندگی گذار رہے تھے۔ اللہ کے رسول ان کے پاس آئے انہیں شکر کرنے کی تلقین کی۔ رب کی وحدانیت کی طرف بلایا اس کی عبادت کا طریقہ سمجھایا۔ کچھ زمانے تک وہ یونہی رہے لیکن پھر جبکہ انہوں نے سرتابی اور روگردانی کی احکام اللہ بےپرواہی سے ٹال دیئے تو ان پر زور کا سیلاب آیا اور تمام ملک، باغات اور کھیتیاں وغیرہ تاخت و تاراج ہوگئیں۔ جس کی تفصیلی یہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے سوال ہوا کہ سبا کسی عورت کا نام ہے۔ یا مرد کا یا جگہ کا ؟ تو آپ نے فرمایا یہ ایک مرد تھا جس…
Read the full tafseer →سورة سَبـَا 25
سلسلۂ بیان کو سمجھنے کے لیے رکوع اول کے مضمون کو نگاہ میں رکھنا ضروری ہے۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ کفار عرب آخرت کی آمد کو بعید از عقل سمجھتے تھے۔ اور جو رسول اس عقیدے کو پیش کر رہا تھا اس کے متعلق کھلم کھلا یہ کہہ رہے تھے کہ ایسی عجیب باتیں کرنے والا آدمی یا تو مجنون ہوسکتا ہے، یا پھر وہ جان بوجھ کر افترا پردازی کر رہا ہے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے پہلے چند عقلی دلائل ارشاد فرمائے جن کی تشریح ہم حواشی نمبر 7۔ 8۔ 12 میں کرچکے ہیں۔ اس کے بعد رکوع دوم میں حضرت داؤد و سلیمان (علیہما السلام) کا قصہ اور پھر سبا کا قصہ ایک تاریخی دلیل کے طور پر بیان کیا گیا ہے جس سے مقصود یہ…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
سبا (کے لوگوں) کے لئے (خود) ان کے وطن (کی مجموعی حالت) میں (وجوب اطاعت خداوندی کی) نشانیاں موجود تھیں (ان میں سے ایک نشانی) دو قطاریں تھیں باغ کی (ان کی سڑک کے) داہنے اور بائیں (یعنی ان کے تمام علاقہ میں دو طرفہ متصل باغات چلے گئے تھے کہ جس میں آمدنی بھی وافر پھل بھی اس قدر کہ ختم کئے ختم نہ ہوں، سایہ بھی رونق بھی۔ ہم نے انبیاء (علیہم السلام) و ناصحین کی معرفت ان کو حکم دیا کہ) اپنے رب کا (دیا ہوا) رزق کھاؤ اور (کھا کر) اس کا شکر کرو (یعنی اطاعت کرو کہ دو قسم کی نعمتیں مقتضی اطاعت ہیں، ایک دنیوی کہ رہنے کو) عمدہ شہر اور (ایک اخروی کہ در صورت ایمان و اطاعت کے اگر کچھ کوتاہی ہوجائے…
Read the full tafseer →لقد کان لسبا فی مکسنھم ایۃ جنتان من یمین و شمال کلو امن رزق ربکم واکشرو لہ بلدۃ طیبۃ و رب غفور (15)
’ سبا ‘ کا ذکر سورة نمل کی آیت 22 کے تحت گزر چکا ہے۔ جو علاقہ اب یمن کہلاتا ہے وہی پہلے سبا کا علاقہ تھا۔ یہ نہایت زرخیز و شاداب خطہ تھا۔ اس کی اصل شاہراہ کے دونوں جانب نہایت شاداب باغوں کا سلسلہ تھا جو پورے علاقہ پر پھیلا ہوتا تھا لیکن اس کے باشندوں نے اللہ تالیٰ کے اس فضل کی قدر نہیں کی، جس کی پاداش میں اللہ نے ان پر ایک سیلاب بھیجا جس سے پورا ملک تباہ ہو کر رہ گیا۔ اوپر حضرت دائو و حضرت سلیمان علیما السلام کا کردار شکرگزار بندوں کے کردار کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔ اب یہ ناشکروں کا کردار اور…
Read the full tafseer →15۔ 1 سبا وہی قوم تھی جس کی ملکہ سبا مشہور ہے جو حضرت سلیمان علیہ والسلام کے زمانے میں مسلمان ہوگئی تھی قوم ہی کے نام پر ملک کا نام بھی سبا تھا آج کل یمن کے نام سے یہ علاقہ معروف ہے یہ بڑا خوش حال ملک تھا یہ ملک بری وبحری تجارت میں بھی ممتاز تھا اور زراعت وباغبانی میں بھی نمایاں اور یہ دونوں ہی چیزیں کسی ملک اور قوم کی خوش حالی کا باعث ہوتی ہیں اسی مال ودولت کی فراوانی کو یہاں قدرت الہٰی کی نشانی سے تعبیر کیا گیا ہے۔
15۔ 2 کہتے ہیں کہ شہر کے دونوں طرف پہاڑ تھے جن سے چشموں اور نالوں کا پانی بہہ بہہ کر شہر میں آتا تھا ان کے حکمرانوں نے پہاڑوں کے درمیان پشتے تعمیر کرادیئے اور ان کے ساتھ باغات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
10: قوم سبا یمن میں آباد تھی اور کسی زمانے میں وہ اپنے تہذیب و تمدن میں ممتاز حیثیت رکھتی تھی، جیسا کہ قرآن کریم نے بتایا ہے، ان کی زمینیں بڑی زرخیز تھیں، ان کی سڑکوں کے دونوں طرف پھل دار باغات کے سلسلے دور تک چلے گئے تھے، خوشحالی بھی میسر تھی، اور سیاسی استحکام بھی ؛ لیکن رفتہ رفتہ یہ لوگ اپنی عیاشیوں میں ایسے مگن ہوئے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے احکام کو بھول بیٹھے اور شرک کو اپنا مذہب بنالیا، اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس کئی پیغمبر بھیجے، حافظ ابن کثیر کے بیان کے مطابق ان کے پاس یکے بعد دیگرے تیرہ پیغمبر بھیجے گئے، جنہوں نے اس قوم کو ہر طرح سمجھانے اور راہ راست پر لانے کی کوشش کی، مگر یہ نہ مانے،…
Read the full tafseer →لقد کان لسبا۔۔۔۔۔ ورب غفور (15)
سبا اس قوم کا نام ہے جو جنوب یمن میں رہتی تھی۔ ان کی زمین تروتازہ تھی۔ اس کا ایک حصہ آج بھی اسی حالت میں موجود ہے۔ یہ اس قدر ترقی یافتہ تھے کہ مشرق اور جنوب سے آنے والی بارشوں کے پانی کا انہوں نے ذخیرہ بنا لیا تھا۔ ایک ایسا ڈیم بنایا تھا جس کے دونوں جانب قدرتی پہاڑ تھے۔ پہاڑوں کے درمیان تنگ جگہ پر انہوں نے ڈیم بنا لیا تھا ، جس میں سے چشمے اور نہریں نکلتی تھیں۔ ان کا پانی وہ حسب ضرورت بند کرتے تھے اور کھولتے تھے۔ انہوں نے پانی کی بہت ہی بڑی مقدار کو جمع کرلیا تھا اور ذخیرے پر انہیں کنڑول حاصل تھا۔ چناچہ یہ ان کے لئے ایک وسیع ذریعہ آبپاشی تھا۔ اسے یہ لوگ سد مارب…
Read the full tafseer →4 یعنی باغوں کے دو طویل سلسلے داہنے اور بائیں میلوں تک چلے گئے تھے۔ اگر سمجھتے تو خدا کی رحمت وقدرت کی یہ ہی نشانی ایمان لانے اور شکر گزار بننے کے لئے کافی تھی۔
5 گویا وہ نشانی زبان حال سے کہہ رہی تھی کہ اپنے رب کی دی ہوئی نعمتوں سے بہرہ اندوز ہو اور اس منعم حقیقی کا شکر ادا کرو۔ کفر و عصیان اختیار کر کے ناشکرے مت بنو۔ یا جیسا کہ بعض سلف کا قول ہے انبیاء کی زبانی اللہ تعالیٰ نے یہ ہدایت فرمائی ہوگی۔ کہتے ہیں تیرہ نبی اس قوم کی طرف بھیجے گئے۔ اگر یہ صحیح ہے تو حضرت مسیح سے پہلے آئے ہوں گے اور ان کے وارث بعد کو بھی اس قوم کی بربادی کے وقت تک سمجھاتے رہے ہوں گے۔ واللہ علم۔
6 مصنف " ارض القرآن…
Read the full tafseer →آیت 15 { لَقَدْ کَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْکَنِہِمْ اٰیَۃٌ} ”اسی طرح قوم سبا کے لیے بھی ان کے مسکن میں ایک نشانی موجود تھی“۔
قوم سبا 800 قبل مسیح علیہ السلام کے لگ بھگ یمن کے علاقے میں آباد تھی۔ انہوں نے اپنے پہاڑی علاقوں میں بہت سے بند تعمیر کر رکھے تھے جن میں سب سے بڑے بند کا نام ”سد ِمآرب“ تھا۔ ان بندوں سے انہوں نے چھوٹی بڑی نہریں نکال کر میدانی علاقوں کو سیراب کرنے کا ایک مربوط و موثر نظام بنا رکھا تھا۔ آب پاشی کے اس نظام کے باعث ان کے ہاں باغات کی کثرت تھی۔ باغات کے دو بڑے سلسلے تو سینکڑوں میلوں تک پھیلے ہوئے تھے۔ بہر حال یہ اپنے وقت کی بڑی خوشحال اور طاقتور قوم تھی ‘ مگر آہستہ آہستہ یہ لوگ…
Read the full tafseer →24 یہاں نشانی سے مراد تاریخی شہادت ہے اور وہ یہ ہے کہ جب تک کوئی قوم اللہ کی فرمانبردار اور شکر گزار بن کر رہتی ہے وہ پھلتی پھولتی اور ترقی کی منازل طے کرتی جاتی ہے اور جب وہ اللہ کی نافرمانی اور ناشکری کرنے لگے تو بتدریج زوال آنا شروع ہوجاتا ہے اور اگر وہ اپنا رویہ نہ بدلے تو اسے صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے یہی حال قوم سبا کا ہوا تھا۔
25 قوم سبا کی علاقہ عرب کا جنوب مغربی علاقہ تھا۔ اور یہی علاقہ آج کل یمن کا علاقہ کہلاتا ہے۔ سبا دراصل سبا ایک شخص کا نام تھا جس کے دس بیٹے تھے۔ بعد میں یہی دس قیبلے بن گئے انہی میں سے چار بیٹے اپنے خاندان سمیت شام کی طرف منتقل ہوگئے تھے۔ اس قوم کے عروج وزوال…
Read the full tafseer →23۔ یعنی علاقہ میں دو طرفہ باغات کا سلسلہ متصل چلا گیا تھا۔ بعض مؤرخین نے کہا ہے کہ ان باغوں کی وسعت 300 میل مربع کی تھی۔ اور یہ سارا رقبہ خوشبودار درختوں اور طرح طرح کے لذیذ میووں اور پھلوں سے بھرا ہوا تھا۔ (آیت) سبا ]‘۔ یہ ملک سبا وہی ہے جو عرب کے جنوب میں اب علاقہ یمن کہلاتا ہے۔ نہایت سرسبز، شاداب، زرخیز خطہ تھا۔ (آیت) ” ایۃ “۔ یعنی اللہ کے کمال قدرت وصناعی کانشان۔ علامۃ دالۃ علی وجود الصانع المختار وانہ قادر علی ما یشآء من الامور العجیبہ (بیضاوی)
24۔ گویا اتنی دنیوی نعمتوں کا اجتماع تھا، اور مطالبہ صرف ادائے حقوق کا تھا۔ (آیت) ” طیبۃ “۔ سے اشارہ ہوسکتا ہے کہ شہر کی لطیف آب وہوا کی جانب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
آیت نمبر 15 تا 21
ترجمہ : قوم سبا کے لئے (سبا) منصرف اور غیر منصرف (دونوں ہیں) سبا ایک قبیلہ کا نام ہے ان کے عربی جد اعلیٰ کے نام پر رکھا گیا ہے یمن میں ان کی بستیوں میں خدا کی قدرت کی نشانی تھی ان کے دائیں بائیں دورویہ باغ تھے یعنی ان کی وادی کے دائیں بائیں جانب جنتان، آیۃ سے بدل ہے، ان سے کہا گیا اپنے رب کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور ملک سبا میں تم کو دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کرو یہ عمدہ شہر ہے یعنی اس میں نہ زمین شور ہے اور نہ مچھر نہ مکھی، اور نہ پسو اور نہ بچھو اور نہ سانپ اور (اگر) اس شہر سے ایسا مسافر گذرتا کہ اس کے کپڑوں میں جوئیں ہوتیں تو وہ شہر کی پاکیزہ ہوا کی وجہ سے مرجاتیں اور بخشنے…
Read the full tafseer →لقد کان لسبا فی مسکنھم ایۃ (قوم) سبا کیلئے ان کے مقام سکونت میں (ہماری قدرت کاملہ کی) نشانی موجود
تھی (جس کا شکر ادا کرنا ان پر واجب تھا) ۔
بغوی نے بروایت ابو سبرہ نخعی بحوالۂ فردہ بن سلیک غطفی بیان کیا ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! مجھے سبا کے متعلق بتائیے کہ کیا وہ کوئی مرد تھا ‘ یا عورت ‘ یا کسی مقام کا نام تھا ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : وہ ایک عربی مرد تھا جس کے دس بیٹے ہوئے ‘ چھ دائیں طرف (یعنی یمن) کو چلے گئے اور چار بائیں طرف (یعنی شام) کو۔ جو چھ یمن کو گئے تھے ‘ ان کے نام یہ تھے : کندہ اشعر ‘ ازد ‘ مدحج ‘ انمار ‘ حِمْیَرْ ۔ ایک شخص نے کہا : انمار کون ؟ فرمایا : جن میں سے خثعم…
Read the full tafseer →شان نزول : لَقَدْ كَانَ لِسَـبَاٍ (الخ)
ابن ابی حاتم نے علی بن رباح سے روایت کیا ہے بیان کرتے ہیں کہ مجھے فلاں شخص نے بیان کیا کہ مروہ بن مسیک غطفانی رسول اکرم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ سبا قوم کو زمانہ جاہلیت میں عزت حاصل تھی اور مجھے اس بات کا خوف ہے کہ وہ اسلام سے پھرجائے گی تو کیا میں اس قوم سے لڑائی کروں آپ نے فرمایا میرے اوپر ان لوگوں کے بارے میں کوئی حکم نازل نہیں ہوا۔ چناچہ اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی یعنی سبا کے لیے ان کے وطن میں نشانیاں موجود تھیں۔
Read the full tafseer →لَقَدْ كَانَ لِسَـبَاٍ فِيْ مَسْكَنِهِمْ اٰيَةٌ : اللہ تعالیٰ نے داؤد اور سلیمان ؑ کے ذکر کے بعد، جو انابت و رجوع والے شکر گزار بندے تھے، قوم سبا کا ذکر فرمایا، جنھیں اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی نعمتیں دیں، مگر انھوں نے ان نعمتوں کی ناشکری کی، انابت کے بجائے اعراض اور سرکشی اختیار کی، اپنے رسولوں کو اور آخرت کو جھٹلا دیا، جس کے نتیجے میں ان پر عذاب آیا اور ساری خوش حالی ختم ہوگئی۔ اس میں قریش کے لیے بھی نصیحت تھی، جنھیں بیت اللہ کی وجہ سے ہر طرح کی نعمت و راحت میسر تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول کو جھٹلایا تو قوم سبا کی طرح ان کی وہ خوش حالی اور امن و سکون ختم ہوگیا، جیسا کہ فرمایا :…
Read the full tafseer →آیت : لقد کان لسبا فی مسکنھم ایۃ نا فع اور دوسرے علماء نے سباء کو منصرف اور تنوین کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ یہ ایک قبیلہ کا نام ہے۔ اصل میں یہ ایک آدمی کا نام تھا۔ نبی کریم ﷺ سے یہ اسی طرح واقع ہوا ہے۔ امام ترمذی نے روایت کی ابو کریب اور عبد بن حمید، ابو اسامہ سے وہ حسن بن حکم نخعی سے وہ ابو سبرہ نخعی سے وہ حضرت فر وہ بن مسیک مرادی ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! کیا میں اپنی قوم کے ان لوگوں کے ساتھ جنگ نہ کروں جو پیچھے بیٹھے رہے، اپنی قوم کے ان لوگوں کو ساتھ لے کر جو ان میں سے آتے ہیں (2) ؟ (جامع تر مذی، کتاب التفسیر، سورة سباء جلد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
قوم سباء کے باغات
1۔ احمد وعبد بن حمید وابن المنذر نے اپنی تاریخ میں والترمذی وحسنہ وابن المنذر والحاکم وصححہ وابن مردوہ فروہ بن مسیک المرادی ؓ سے روایت کیا کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا میں نے عرض کیا یارسول اللہ کیا میں لڑوں اس شخص کے ساتھ جو اس سے منہ پھیرے ہوئے ہے میری قوم میں سے یعنی اسلام سے ان کو ساتھ ملا کہ جو اسلام قبول کرچکے ہیں یعنی آپ نے مجھے اجازت دی اور امیر مقرر فرمایا جب میں آپ کے پاس ہو کر نکلا تو آپ نے مجھے واپس بلوایا میں آپ کے پاس لوٹ آیا تو آپ نے فرمایا اپنی قوم کو دعوت دو ان میں سے جو اسلام قبول کرے۔ اس سے یہ شہادت قبول کرے اور جو اسلام قبول نہ کرے اس کے بارے میں جلدی نہ کر…
Read the full tafseer →لَقَدْ كَانَ [بیشک ہوچکی ] لِسَـبَاٍ [(قوم) سبا کے لئے ] فِيْ مَسْكَنِهِمْ [ان کے رہنے کی جگہ (یعنی بستی) میں ] اٰيَةٌ ۚ [ایک نشانی ] جَنَّتٰنِ [دو باغات تھے ] عَنْ يَّمِيْنٍ وَّ شِمَالٍ ڛ [داہنے اور بائیں سے ] كُلُوْا [تم لوگ کھاؤ] مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ [اپنے رب کے رزق میں سے ] وَاشْكُرُوْا لَهٗ ۭ [اور شکر کرو اس کا ] بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ [(تمھارا شہر) ایک پاکیزہ شہر ہے ] وَّرَبٌّ غَفُوْرٌ [اور (تمھارا رب) بےانتہا بخشنے والا رب ہے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
قوم سباء پر اللہ تعالیٰ کے انعامات، پھر ناشکری کی وجہ سے نعمتوں کا مسلوب ہونا
سبا ایک قوم تھی جو اپنے جد اعلیٰ سبا بن یشجب کی طرف منسوب تھی، یہ لوگ یعرب بن قحطان کی اولاد سے تھے اور یمن میں رہتے تھے، اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان کو بہت نوازا تھا، دائیں بائیں باغوں کی قطاریں چلی گئی تھیں، انہیں میں رہتے سہتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کی نعمتیں استعمال کرتے تھے، ان کے علاقہ کا نام مارب تھا جو شہر صنعاء سے (جو اب بھی موجود ہے) تین دن کی مسافت پر تھا، ان کو حکم دیا گیا تھا کہ اپنے رب کے رزق میں سے کھاؤ اور اس کا شکر بھی کیا کرو۔ روح المعانی میں مجمع البیان سے نقل کیا ہے کہ ان لوگوں کی تیرہ بستیاں تھیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
قصہء قوم سبا
قال اللہ تعالی۔ لقد کان لسبا فی مسکنہم ایۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وربک علی کل شیء حفیظ۔
(ربط) گزشتہ آیات میں منیبین اور شاکرین کا قصہ ذکر فرمایا جو بندے اللہ کی نعمتوں کا شکر کرتے ہیں اب اس کے بالمقابل غیر منیبین اور غیر شاکرین کا ایک قصہ ذکر کرتے ہیں جو خدا کے ناسپاس اور ناشکرے تھے تاکہ لوگ اس سے نصیحت اور عبرت پکڑیں یعنی اہل سبا کا قصہ عبرت بیان کرتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ ناسپاسی اور ناشکری اور عدم انابت الی اللہ کا کیا انجام ہوتا ہے بعض عدم انابت کا وبال دنیا ہی میں ظاہر ہوجاتا ہے۔ اہل سبا کا قصہ بھی آیات قیامت میں سے ہے کہ حق جل شانہ نے ان کو جو سرسبز و شاداب باغات عطا کئے تھے وہ نمونہ…
Read the full tafseer →16:۔ لقد کان الخ : یہ تخویف دنیوی ہے۔ ملک سبا وہی علاقہ ہے جسے اب یمن کہا جاتا ہے یمن کا سب سے پہلا بادشاہ سبا بن یشجب بن یعرب بن قحطان تھا یہ ملک اسی کے نام سے موسوم ہوا۔ سبا کے دس بیٹے تھے جن سے اس کی نسل پھیلی۔ سبا سے یہاں سبا کی اولاد اور اس کا قبیلہ مراد (مدارک، روح) ۔ شکر گذار بندوں کے ذکر کے بعد سرکش اور ناشکر گذار لوگوں کا ذکر کیا گیا تاکہ مشرکین قریش اس سے عبرت حاصل کریں۔ جس طرح قوم سبا کو سرکشی اور ناشکری کی وجہ سے تمام نعمتوں سے محروم کردیا گیا اسی طرح مشرکین قریش پر اللہ کا عتاب آسکتا ہے۔ آیۃ۔ اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت کی نشانی اور اس کی وحدانیت کی دلیل۔ ایۃ دلالۃ علی وحدانیتنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
گزشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے اثبات ، کفر کے رد ، وقوع قیامت اور نبوت و رسالت کے سلسلے میں کئی دلائل ذکر کئے۔ پھر اللہ کی طرف انابت رکھنے والے دو انبیاء حضرات دائود اور سلیمان (علیہما السلام) کا ذکر فرمایا۔ ان دو انبیاء کے واقعات میں قدرت کے نمونے بتلائے تاکہ لوگ رسالت اور قیامت کا انکار نہ کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان انبیاء کو خصوصی معجزات عطا فرمائے تھے۔ ان کی سلطنت بےمثال تھی جس میں عجیب و غریب قسم کا نظام تھا ، اللہ نے حضرت دائود (علیہ السلام) کے ہاتھ پر لوہے کو نرم کردیا تھا اور آپ اس سے بغیر مشقت کے زرہیں بناتے تھے ، آپ کو نہایت عمدہ آواز سے نوازا تھا۔ چناچہ جب آپ اپنی پرسوز آواز…
Read the full tafseer →لَقَدْ كَانَ لِسَـبَاٍ فِيْ مَسْكَنِہِمْ اٰيَۃٌ 0 ۚ جَنَّتٰنِ عَنْ يَّمِيْنٍ وَّشِمَالٍ 0ۥۭ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَاشْكُرُوْا لَہٗ 0 ۭ بَلْدَۃٌ طَيِّبَۃٌ وَّرَبٌّ غَفُوْرٌ 15
سبأ
قال عزّ وجلّ : وَجِئْتُكَ مِنْ سَبَإٍ بِنَبَإٍ يَقِينٍ [ النمل/ 22] ، سَبَأ اسم بلد تفرق أهله، ولهذا يقال : ذهبوا أيادي سبأ أي : تفرّقوا تفرّق أهل هذا المکان من کلّ جانب، وسَبَأْتُ الخمر : اشتریتها، والسَّابِيَاءُ : جِلْدٌ فيه الولد
( س ب ء ) سبا ایک شہر کا نام ہے جو پرانے زمانے میں ( سیل العرم ) سے تباہ ہوگیا تھا قرآن میں ہے : ۔ وَجِئْتُكَ مِنْ سَبَإٍ بِنَبَإٍ يَقِينٍ [ النمل/ 22] اور میں سبا سے تیرے…
Read the full tafseer →ترکیب : آیۃ اسم کان و جنتان بدل منھا او خبر مبتداء محذوف و قری بالنصب علی المدح، والمراد جماعتان من البساتین بلدۃ ای ھذہ بلدۃ و رب اے و ربکم رب غفور و قد یقرء بلدۃ وربا بالا لف شاذا علی انہ مفعول اشکروا، العرم جمع عرمۃ و ھو مایمسک الماء من بناء وغیرہ ای وقت حاجۃ (بند) خلط فی الصراح خمط نوعے ازاراک کہ میوہ دارد۔ والتقدیر اکل اکل خمط فحذف المضاف ای الاکل الثانی لان الخمط شجر والا کل ثمرۃ واقیم المضاف الیہ مقامہ ای خمط فی کونہ بدلا من الاکل الاول اوعطف بیان للاکل الاول و یقرء بالاضافۃ ھو ظاہر باعد و بعد علی السوال و یقرء بعد علی لفظ الماضی ممزق مصدر او مکان صدق بالتخفیف والتشدید ابلیس فاعلہ وظنہ…
Read the full tafseer →لَقَدْ کَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْکَنِھِمْ اٰیَۃٌ ج جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّشِمَالٍ 5 ط کُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّکُمْ وَاشْکُرُوْا لَـہٗ ط بَلْدَۃٌ طَیِّبَۃٌ وَّرَبٌّ غَفُوْرٌ۔ (السباء : 15)
(اہلِ سبا کے لیے ان کے اپنے ہی مسکن میں ایک بہت بڑی نشانی موجود تھی، دو باغ دائیں اور بائیں، کھائو اپنے رب کا دیا ہوا رزق اور اس کا شکر بجا لائو، ملک عمدہ اور شاداب اور پروردگار بخشنے والا۔ )
کفرانِ نعمت کا انجام تاریخِ سبا کے حوالے سے
اس سورة میں اصل زور اس بات پر دیا گیا ہے کہ شکر وہ صفت ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی بندگی کی طرف لے جاتی ہے اور وہ اپنے مقصد زندگی سے منحرف نہیں ہوتا۔ اور کفر دل و دماغ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت سلیمان (علیہ السلام) بےپناہ وسائل کے حامل، زبردست حکمران اور انتہائی ترقی یافتہ مملکت کے سربراہ ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے تھے یہاں تک کہ موت کے وقت بھی اپنے رب کے شکر میں مشغول تھے ان کے بعد ایک نافرمان ترقی یافتہ قوم کا ذکر۔
قوم سبا کا علاقہ موجودہ یمن کی سرزمین تھی۔ سبا ایک شخص کا نام تھا جس کے دس بیٹے تھے۔ اس سے دس قبیلے معرض وجود میں آئے۔ اس قوم کے عروج وزوال کا دور صدیوں پر محیط ہے۔ ایک وقت تھا کہ اقتدار اور اختیار اور تہذیب و تمدن کے حوالے سے اس قوم کا طوطی بولتا تھا اور روم اور یونان کی تہذیبیں ان کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی تھیں۔ اس…
Read the full tafseer →قوم سبا کا حال :
15: لَقَدْ کَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْکَنِھِمْ (سبا کیلئے ان کے وطن میں نشانیاں موجود تھیں) ۔
فائدہ : سبا اگر خاندان کا نام مان لیں تو منصرف ہے اور قبیلہ کا نام ہو تو غیر منصرف ہے۔ ابو عمرو اسی کے قائل ہیں۔
قراءت : حمزہ و حفص نے مَسْکَنِھِمْ پڑھا مَسْکِنِھِمْ علی اور خلف نے پڑھا۔ رہائش کی جگہ کو کہتے ہیں۔ اس سے مراد ان کا وہ شہر ہے جو علاقہ یمن میں واقع تھا اور اس میں رہتے تھے نمبر 2۔ ان میں سے ہر ہر شخص کی رہائش مراد ہے۔ دیگر تمام قراء نے مساکنہم پڑھا ہے۔ ٰایَۃٌ (نشانیاں) جَنَّتٰنِ (دو باغ) ۔
نحو : ایۃٌ یہ کان کا اسم ہے اور جنتان اس کا بدل ہے۔ نمبر 2۔ مبتدأ محذوف کی خبر ہے۔…
Read the full tafseer →تفسیر 15۔ ، لقد کان لسبا فی مسکنھم ایۃ، (قوم ) سبا کے لیے ان کے مقام سکونت میں (ہماری قدرت کاملہ کی ) نشانی موجود تھی (جس کا شکر اداکرنا ان پر واجب تھا) ۔
قوم سباکون تھی
فردہ سلیک غطفی نے بیان کیا ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا : یارسول اللہ ! مجھے سبا کے متعلق بتایئے کہ کیا وہ کوئی مرد تھا، یا عورت یا کسی مقام کا نام تھا ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : وہ ایک عربی مرد تھا جس کے دس بیٹے ہوئے ، چھ دائیں طرف (یعنی یمن) کو چلے گئے اور چار بائیں طرف (یعنی شام) کو ۔ جو چھ یمن کو گئے تھے، ان کے نام یہ تھے : کندہ ، اشعر، ازد، مدحج ، انمار، حمیر۔ ایک شخص نے کہا : انما رکون ؟ فرمایا : جن میں سے خشعم اور بجیلہ ہیں (وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
15‘ 16۔ قوم سبابلقیس کی قوم کا نام ہے اس قوم کے بارشاہ جو تبع کہلاتے تھے وہ اپنے وطن کو خوب آباد کر گئے تھے جس سے سبا کے لوگ بڑی نعمت اور عیش و آرام میں تے کیونکہ اس ملک زراعت اور میوے بہت تھے بہت مزے سے گزارہ ہوتا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنے رسول بیجھے کہ ان کو ہدایت کریں کہ خدا کا دیا ہوا رزق کھائیں اور اس کی بندگی کرکے اس کا شکر کریں جب ان لوگوں نے نافرمانی کی ان کو اس طرح عذاب کیا گیا ان پر پانی کا نالہ بھیج دیا گیا جس کے سبب سے وہ قوم برباد ہو کر جدا جدا شہروں میں چلی گئی انصار کے قبیلے اس اور خزرج بھی اسی بربادی کے وقت یمن سے نکا کر مدینہ میں آباد ہوئے تھے وہ عذاب کا پانی سرخ تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
آیت 15-21
” سبا “ ایک معروف قبیلہ تھا جو یمن کے قریب ترین علاقوں میں آباد تھا۔ وہ ایک شہر میں آباد تھے جسے ” مارب “ کہا جاتا تھا۔ تمام بندوں پر عموماً اور عربوں پر خصوصاً اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم اور اس کی بےپایاں نعمتیں ہیں کہ اس نے قرآن مجید میں ان ہلاک شدہ قوموں کے بارے میں خبر دی ہے جن پر عذاب نازل کیا گیا، جو ان کے پڑوس میں آباد تھیں، جہاں ان کے آثار کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے اور لوگ ان کے واقعات کو ایک دوسرے سے نقل کرتے چلے آرہے ہیں ات کہ اس طرح ان کے واقعات کے ذریعے سیق رآن کی تصدیق ہوا اور یہ چیز نصیحت کے قریب تر ہو۔
(لقد کان لسبا فی مسکنھم) ” سبا کے لئے تھی ان کے مسکنوں میں “ یعنی ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–54
اسلام میں مصوری کی ممانعت
قول باری ہے (یعملون لہ مایشآء من محاریب وتماثیل۔ سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں بنوانا منظور ہوتیں مثلاً بڑی عمارتیں اور مجسمے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں تصاویر اور مجسمے بنانے کی اباحت تھی لیکن حضور ﷺ کی شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ آپ سے مروی ہے (لا یدخل الملائکۃ بیتا فیہ صورۃ۔ جس کھر میں کوئی تصویر ہوا اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے) نیز ارشاد ہے (من صورصورۃ کلف یوم القیمۃ ان یحیھا ولا فالنار ۔ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی ہوا سے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں زندگی پیدا کردے ورنہ جہنم میں جائے) ۔
نیز ارشاد ہے (لعن اللہ المصورین۔…
Read the full tafseer →42 قوم سبا کی داستان عبرت کا حوالہ : سو ارشاد فرمایا گیا " بلاشبہ قوم سبا کیلئے ان کے اپنے وطن میں ایک بڑی نشانی تھی "۔ نشانی اس پر کہ کس طرح انہوں نے اتنا عرصہ عروج پایا اور پھر کس طرح اس قدر زوال سے ہمکنار ہوئے۔ قدرت نے ان کو کس طرح نوازا۔ پھر ان کی ناشکری کی بنا پر کس طرح ان کی گرفت فرمائی۔ سو یہ حضرت داؤد و سلیمان جیسے شکر گزاروں کے مقابلے میں منکرین و کافرین کا نمونہ پیش فرمایا جا رہا ہے تاکہ پتہ چل سکے کہ جس طرح شکر وانابت سے انسان کا اپنا ہی فائدہ ہے کہ اس سے اللہ پاک کی بخشی ہوئی نعمتوں میں اضافہ و دوام نصیب ہوتا ہے۔ اسی طرح کفر و انکار کا وبال و نقصان بھی خود اسے ہی پہنچتا ہے۔ ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
اہل سبا کی ناشکری اور اس کی سزا
تشریح : ابن کثیر نے فرمایا کہ ” سبا یمن کے بادشاہوں اور اس ملک کے باشندوں کا لقب ہے۔ قوم سبا اور ملکہ بلقیس کا واقعہ جو سورة النحل میں گزر چکا ہے وہ بھی اسی قوم میں سے تھی “۔ یہ بڑے خوش حال اور فارغ البال تھے مگر ناشکری اور نافرمان قوم تھی انبیاء ان کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے مگر یہ نہ سدھرے یہ لوگ ہر طرح سے پُر آسائش زندگیاں گزار رہے تھے کیونکہ ان کا علاقہ یمن کا ایک حصہ تھا۔ اور یہ لوگ کافی ترقی یافتہ اور محنتی تھے۔ نقشہ پر دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ یمن کا اکثر حصہ کوہستانی ہے کوئی دریا نہیں بہتا بس بارش کے پانی سے جو ندی نالے بہتے انہی سے کہیں کہیں کھیتی باڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–21
رکوع نمبر 2: آیات 10 تا 21:
اسرار و معارف : داود (علیہ السلام) کو ہم نے بہت زیادہ نعمتیں عطا کیں۔ یہاں تک کہ پہاڑوں اور پرندوں تک کو حکم دی ا کہ ان کے ساتھ میری تسبیح کرو۔ مفسرین کے مطابق پہاڑ اور پرندے داود (علیہ السلام) کے ساتھ اس طرح ذکر کرتے تھے کہ عام سننے والا بھی سنتا تھا اور یہ اس تسبیح کے علاوہ تھی جو ہر شے کرتی ہے یعنی اگر کسی کے ساتھ بہت سے افراد اللہ کا ذکر کرنے لگ جائیں تو یہ اللہ کا بہت بڑا انعام ہے جو اس کے خاص بندوں کو نصیب ہوتا ہے نیز ان کے لیے بطور معجزہ لوہے کو نرم کردیا کہ لوہے کی زرہیں بنا کر تیار کریں اور حکم دیا کہ زرہ کی کڑیاں خوبصورت انداز میں جوڑیں۔ سب سے پہلے سامان…
Read the full tafseer →ف 14 اب ایک قوم کا نام تھا جو یمن میں آباد تھی۔ تبابعہ ( ملوک یمن) اور بلقیس بھی اسی قوم سے تھا جس جگہ یہ قبیلہ آباد تھا اس کا موجود نام مآدب ( سد باب) ہے وہ یمن کے دارالحکومت صنعا سے تین مراحل تقریباً 60 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ بعض روایات میں ہے جسے ترمذی (رح) نے حسن غریب کہا ہے۔ کہ ” سبا ( جس پر اس قبیلے کا نام سبا مشہورہوا) کے دس لڑکے تھے یعنی اسکی نسل کے دس آدمی ایسے تھے جن کے نام پر یمن کے دس مشہور قبیلے ہوئے۔ جن میں سے سدباب کی تباہی کے بعد) چھ یمن میں آباد ہوئے اور چار شام میں “ تفاسیر میں انکے نام بھی مذکور ہیں۔ اور ان میں سے ایک قبیلہ اغیان ہے جن میں سے انصار ؓ ( اوس اور خزرج) یثرب…
Read the full tafseer →(34:15) لسبا۔ اس سے مراد قوم سبا ہے۔ اس قوم کا ملک بھی سبا کے نام سے مشہور تھا۔ اور یہ وہی علاقہ ہے جو عرب کے جنوب میں اب اس وقت علاقہ یمن کہلاتا ہے۔ کنتن عن یمین و شمال (وہاں تھے) دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ ملک بھر میں صرف دو باغ تھے ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف۔ بلکہ مقصد یہ ہے کہ دائیں بائیں جدھر بھی نگاہ اٹھتی تھی باغات ہی باغات تھے۔ جنتن ایۃ کا بدل ہے ایۃ سے مراد یہی باغات ہی ہیں۔
کلوا۔۔ لہ۔ اس سے قبل کلام مقدرہ ہے۔ ای قال لہم نبی ہم کلوا۔ بلدۃ طیبۃ ورب غفور۔ جملہ مستانفہ ہے اور موجب شکر کی تصریح کے لئے ہے یعنی یہ تمہارا ملک عمدہ خوبصورت۔ باغ وبہاراں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
لغات القرآن : آیت نمبر 15 تا 21
مسکن : رہنے کی جگہ (آبادی)
جنتن : دو باغ (دو رویہ باغ)
یمین : داہنے
شمال : بائیں
طیبۃ : پاکیزہ ۔ صاف ستھری
سیل : سیلاب
العرم : بند۔ ڈیم
اکل : پھل
خمط : کڑوا۔ کسیلا
اثل : جھاؤ
سدر : بیری
قرا : بستیاں
ظاھرۃ : نظر آنے والی۔ کھلی ہوئی
بعد : دور کردے۔ درازے کردے
احادیث : باتیں
صبار : بہت صبر کرنے والا
صدق : سچ کر دکھایا
سلطن : طاقتور ۔ زور دار
تشریح نمبر 15 تا 21
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ” سبا “ عرب کے ایک شخص کا نام تھا جس کی نسل سے عرب میں کندہ ، ازد، اشعرمین، مذحج، عاملہ، جذام، لخم ، غسان اور انمار (جس کی دو شاخیں ہیں (خشم اور بخیلہ ) قبیلے تھے۔ ( ترمذی)
قوم سبا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
قوم کی نافرمانی کا انجام۔
(ف 1) اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں فرمایا کہ قوم سبا کے لیے ان کی بستی میں یہ نشانی اللہ کی قدرت کی تھی کہ وہ دو باغ دائیں اور بائیں طرف رکھتے تھے یہ باغ ایسے سرسبز تھے اور ابن قدر کثرت سے ان میں میوے کی پیداوار تھی کہ کوئی عورت ٹوکرا سر کے اوپر رکھ کردرختوں کے نیچے سے گزرتی تو خود بخود ٹوکرا میوے سے بھرجاتا ہے اور ہم نے حکم دیا تھا کہ کہ اپنے پروردگار کی دی ہوئی روزی کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو تمہارے لیے دنیا میں رہنے کو عمدہ شہر ہے اور آخرت میں گناہ بخشنے والا پروردگار ہے جب ان لوگوں نے اللہ کی نصیحت کو نہ مانا اور بت پرستی نہ چھوڑی تو ان پر یہ آفت آئی کہ قوم سبا کے…
Read the full tafseer →[14] ملک سبا جو اب یمن کہلاتا ہے۔ نہایت سرسبز، شاداب اور زرخیز خطہ تھا۔
[15] یعنی دو طرفہ باغات کا سلسلہ متصل چلا گیا تھا۔
Read the full tafseer →سبا والوں کی سرکشی
1: قوم سبا کی گردوپیش کی بستیاں بالکل قریب قریب واقع تھیں راستے متعین اور پرامن تھے ۔ جب چاہتے ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں کی جانب آسانی سے منتقل ہوجاتے ۔ پھر جب انہوں نے سنا کہ دوسرے لوگوں کے ہاں شہر بہت زیادہ فاصلہ پر ہوتے ہیں ۔ اور وہ بہت بڑی مسافت طے کرکے ایک دوسرے کے پاس پہنچے ہیں ۔ تو وہ بھی اس بات پر الجھ گئے اور اللہ سے دعا کی ۔ کہ ہماری آبادیاں بھی دور دور واقع ہوں ۔ اور ہم بھی جدا جدا رہیں ۔ اور باقاعدہ سفر کرے ایک دوسرے کے پاس پہنچیں ہوسکتا ہے یہ مطالبہ اسی قسم کا ہو جو بنی اسرائیل کا تھا یعنی وہ جب ایک طرح کی زنگدی سے اکتا گئے تو ترکاریوں کو من وسلویٰ پر ترجیح دینے…
Read the full tafseer →(15) بلاشبہ اہل سبا کیلئے خود ان کے وطن مآرب میں بڑی بڑی نشانیاں موجود تھیں۔ وہ نشانیاں باغوں کی دورویہ قطاریں تھیں جو دائیں اور بائیں جانب مسلسل چلی گئی تھیں ان سے کہا گیا اپنے پروردگار کی عطا کردہ روزی کھائو اور اس کا شکر بجا لائو تمہارے رہنے کیلئے عمدہ اور پاکیزہ شہر ہے اور تقصیرات کو معاف کرنیوالا پروردگار بخشش والا ہے۔
یشحب ابن یعرب بن قحطان کے ایک لڑکے کا نام سبا تھا اسی کے نام پر صنعاء اور یمن کے مابین یہ آبادی بس گئی تھی۔ یہ آبادی دو پہاڑوں کے مابین تھی جہاں سیلاب کے زمانے میں برسات کا اور کبھی عمان کی جانب سے پانی آ جایا کرتا تھا۔ چناچہ کسی بادشاہ نے یا ملکۂ سبا نے ایک بند بندھوا…
Read the full tafseer →ف 8۔ یعنی ان کے تمام علاقہ میں دو طرفہ متصل باغات چلے گئے تھے۔
Read the full tafseer →اہل سبا اور ان کی خوشحالی کا ذکر کہ اللہ نے ان پر کتنے احسان کیے تھے
15 ۔ سبا کیا ہے ؟ سبا قحطانی نسل کی ایک مشہور شاخ ہے۔ سبا اپنے قبیلے کا جد اعلیٰ تھا اور اس کا نام عمر یا عبدالشمس بتایا جاتا ہے اور کہا گیا ہے کہ سبا اسی کا لقب تھا۔ تورات کا بیان ہے کہ اس کا نام ہی سبا تھا۔ یہ شخص بہت ہی بہادر اور صاحب ہمت تھا اور اس نے زبردست فتوحات کے ذریعہ حکومت سبا کی بنیاد ڈالی۔ سبا کا زمانہ عروج محققین کے نزدیک تقریبا 1100 ق م سمجھا جاتا ہے اس لئے کہ تقریباً 1000 ق م میں اس کی حکومت و طاقت اور عروج کا ذکر دائود (علیہ السلام) کی زبور میں موجود ہے۔ وہ فرماتے ہیں :
” اے خدا بادشاہ کو اپنی عدالتیں عطا کر…
Read the full tafseer →Commentary
In previous verses, warning was given to those who denied prophethood and the Day of Judgment and failed to realize that the power of Allah Ta’ ala was most perfect. Reference was then made to miracles shown at the hands of past prophets and mention was made of the events relating to Sayyidna Dawud and Sayyidna Sulayman (علیہما السلام) .
Now the text mentions the limitless blessings bestowed on the people of Saba' who were later punished because of their ungratefulness.
The people of Saba' and the particular blessings of Allah upon them
Ibn Kathir has said that Saba' is the title…
Read the full tafseer →25 To understand the continuity of the subject-matter one should keep in view the theme as expressed in vv.1-9. There it has been pointed out that the pagans of Arabia regarded the coming of the Hereafter as irrational, and declared openly that the Messenger who was presenting this doctrine was either a mad man or deliberately was fabricating falsehood. In reply to this, Allah first gave some rational arguments, which we have elaborated in E.N.'s 7, 8 and 12 above. Then in vv . 10-21 the story of the Prophets David and Solomon and of Saba has been related as an historical argument, which is…
Read the full tafseer →