Explained with ayahs 15–17
قوم سبا کا تفصیلی تذکرہ۔
قوم سبایمن میں رہتی تھی۔ تبع بھی ان میں سے ہی تھے۔ بلقیس بھی انہی میں سے تھیں۔ یہ بڑی نعمتوں اور راحتوں میں تھے۔ چین آرام سے زندگی گذار رہے تھے۔ اللہ کے رسول ان کے پاس آئے انہیں شکر کرنے کی تلقین کی۔ رب کی وحدانیت کی طرف بلایا اس کی عبادت کا طریقہ سمجھایا۔ کچھ زمانے تک وہ یونہی رہے لیکن پھر جبکہ انہوں نے سرتابی اور روگردانی کی احکام اللہ بےپرواہی سے ٹال دیئے تو ان پر زور کا سیلاب آیا اور تمام ملک، باغات اور کھیتیاں وغیرہ تاخت و تاراج ہوگئیں۔ جس کی تفصیلی یہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے سوال ہوا کہ سبا کسی عورت کا نام ہے۔ یا مرد کا یا جگہ کا ؟ تو آپ نے فرمایا یہ ایک مرد تھا جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
سورة سَبـَا 28
یعنی بندگی و شکر گزاری کے بجائے انہوں نے نافرمانی و نمک حرامی کی روش اختیار کرلی۔
سورة سَبـَا 29
اصل میں لفظ سَیْلُ الْعَرِم استعمال کیا گیا ہے۔ عَرِم جنوبی عرب کی زبان کے لفظ عرمن سے ماخوذ ہے جس کے معنی " بند " کے ہیں۔ یمن کے کھنڈروں میں جو قدیم کتبات موجودہ زمانے میں دستیاب ہوئے ہیں ان میں یہ لفظ اس معنی میں بکثرت استعمال ہوا ہے۔ مثلاً 542 ء یا 543 ء کا ایک کتبہ جو یمن کے حبشی گورنر ابرہہ نے سدّ مارب کی مرمت کرانے کے بعد نصب کرایا تھا اس میں وہ اس لفظ کو بار بار بند کے معنی میں استعمال کرتا ہے۔ لہٰذا سیل العَرِم سے مراد وہ سیلاب ہے جو کسی بند کے ٹوٹنے سے آئے۔
سورة سَبـَا…
Read the full tafseer →سیل عرم اور سدمآرب
(آیت) فارسلنا علیہم سیل العرم، لفظ عرم کے عربی لغت کے اعتبار سے کئی معنی معروف ہیں اور علماء تفسیر نے ہر معنی کے اعتبار سے اس آیت کی تفسیر فرمائی ہے، مگر ان میں سیاق قرآن کے مناسب وہ معنی ہیں جو قاموس اور صحاح جوہری وغیرہ کتب لغت میں ہیں کہ عرم کے معنی سد یعنی بند کے ہیں جو پانی روکنے کے لئے بنایا جاتا ہے جو آج کل ڈیم کے نام سے معروف ہے، حضرت ابن عباس نے بھی عرم کے معنی سد یعنی بند کے بیان فرمائے ہیں۔ (قرطبی)
واقعہ اس بند (ڈیم) کا حسب بیان ابن کثیر یہ ہے کہ ملک یمن میں اس کے دارالحکومت صنعاء سے تین منزل کے فاصلہ پر ایک شہر مآرب تھا، جس میں قوم سبا آباد تھی۔ دو پہاڑوں کے…
Read the full tafseer →فاعرضوا فارسلنا علیھم سیل العرم وبدلتھم بجتیھم جنتین ذواتی اکل خمط و امثل وشئی من سدر قلیل (16)
’ عرم ‘ کے معنی بعض اہل لغت نے زور داربارش کے لکھے ہیں اور بعض نے اس کو عرمۃ کی جمع بتایا ہے، جو تہ بہ تہ اکٹھا کیے ہوئے پتھروں کے لئے آتا ہے۔ پھر یہیں سے یہ اس سد یا بند کے لئے بھی استعمال ہونے لگا جو کسی وادی کے درمیان پانی کو روکنے کے لئے بنایا جائے۔ اقرب الموراد میں ہے مسدیعترض بعہ والوادی (وہ بند جو وادی کے بیچ میں بنایا جائے) جس طرح ہمارے منگلا اور تربیلا ڈیم ہیں۔ تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی طرح کا ایک کئی میل لمبا چوڑا ڈیم اہل سبا کا بھی تھا جو ان کو سیلاب کے خطرات سے محفوط بھی کئے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
1 6 ۔ 1 یعنی انہوں نے پہاڑوں کے درمیان پشتے اور بند تعمیر کرکے پانی کی جو رکاوٹ کی تھی اور اسے زراعت وباغبانی کے کام میں لاتے تھے ہم نے تندو تیز سیلاب کے ذریعے سے ان بندوں اور پشتوں کو توڑ ڈالا اور شاداب اور پھل دار باغوں کو ایسے باغوں سے بدل دیا جن میں صرف قدرتی جھاڑ جھنکاڑ ہوتے ہیں جن میں اول تو کوئی پھل لگتا ہی نہیں اور کسی میں لگتا بھی ہے تو سخت کڑوا کسیلا اور بدمزہ جنہیں کوئی کھا ہی نہیں سکتا البتہ کچھ بیری کے درخت تھے جن میں بھی کانٹے زیادہ اور بیر کم تھے۔ عرم، عرمۃ کی جمع ہے پشتہ یا بند یعنی ایسا زور کا پانی بھیجا جس نے اس بند میں شگاف ڈال دیا اور پانی شہر میں بھی آگیا جس سے ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
10: قوم سبا یمن میں آباد تھی اور کسی زمانے میں وہ اپنے تہذیب و تمدن میں ممتاز حیثیت رکھتی تھی، جیسا کہ قرآن کریم نے بتایا ہے، ان کی زمینیں بڑی زرخیز تھیں، ان کی سڑکوں کے دونوں طرف پھل دار باغات کے سلسلے دور تک چلے گئے تھے، خوشحالی بھی میسر تھی، اور سیاسی استحکام بھی ؛ لیکن رفتہ رفتہ یہ لوگ اپنی عیاشیوں میں ایسے مگن ہوئے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے احکام کو بھول بیٹھے اور شرک کو اپنا مذہب بنالیا، اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس کئی پیغمبر بھیجے، حافظ ابن کثیر کے بیان کے مطابق ان کے پاس یکے بعد دیگرے تیرہ پیغمبر بھیجے گئے، جنہوں نے اس قوم کو ہر طرح سمجھانے اور راہ راست پر لانے کی کوشش کی، مگر یہ نہ مانے،…
Read the full tafseer →فاعرضوا فارسلنا ۔۔۔۔۔ من سدر قلیل (16) ” “۔ انہوں نے اللہ کے شکر بجالانے سے منہ موڑ لیا۔ نیک کام کرنا چھوڑ دیا۔ اللہ کے انعامات میں غلط تصرفات کرنا شروع کر دئیے۔ لہٰذا اللہ نے ان سے وہ خوشحالی چھین لی جس میں وہ زندگی بسر کررہے تھے۔ ان پر اس قدر شدید سیلاب بھیجا جو راستے میں آنے والے پتھروں کو بھی بہا کرلے جا رہا تھا۔ العرم کے معنی پتھر ہیں۔ یوں یہ ڈیم ٹوٹ گیا۔ پانی نے سیلاب کی شکل اختیار کرلی۔ یہ گاؤں اور باغات تباہ ہوگئے۔ اور ازسرنو پانیوں کے ذخیرہ کرنے کا انتظام ان سے نہ ہوسکا۔ اس لیے خوشحالی کی جگہ خشک سالی نے لی۔ زمین خشک ہوکر جل گئی اور سرسبز باغات بیرویوں کی جھاڑیون میں بدل گئے اور…
Read the full tafseer →7 یعنی نصیحتوں کو خاطر میں نہ لائے اور منعم حقیقی کی شکر گزاری سے منہ موڑے رہے تب ہم نے پانی کا عذاب بھیج دیا۔ وہ بند ٹوٹا تمام باغات اور زمینیں غرقاب ہوگئیں۔ اور ان اعلیٰ درجہ کے نفیس میووں اور پھلوں کی جگہ نکمے درخت اور جھاڑ جھنکاڑ رہ گئے جہاں انگور چھوارے اور قسم قسم کی نعمتیں پیدا ہوتی تھیں اب وہاں پیلو، جھاؤ، کسیلے اور بدمزہ پھل والے درختوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ جن میں بہترین چیز تھوڑی سی جھڑ بیریوں کو سمجھ لو۔ یہ واقعہ حضرت مسیح اور نبی کریم ﷺ کے درمیانی عہد کا ہے محققین آثار قدیمہ کو ابرہتہ الاشرم کے زمانہ کا ایک بہت بڑا کتبہ سد عرم کی بقیہ دیوار پر ملا ہے اس میں بھی اس بند کے ٹوٹنے کا…
Read the full tafseer →آیت 16 { فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ } ”تو انہوں نے اعراض کیا ‘ چناچہ ہم نے بھیج دیا ان پر سیلاب بہت زور کا“
اس قوم نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور اعراض و سرکشی کی روش اختیار کی تو ان پر اللہ کا عذاب اس انداز سے آیا کہ ایک عظیم سیلاب نے ان کے بند کو توڑ دیا جس سے ان کی بستیاں تباہ ہوگئیں اور ان کے باغات کے سلسلے بھی برباد ہوگئے۔
{ وَبَدَّلْنٰـہُمْ بِجَنَّتَیْہِمْ جَنَّـتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُکُلٍ خَمْطٍ وَّاَثْلٍ وَّشَیْئٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ } ”اور ہم نے بدل دیے ان کے دو باغوں کی جگہ دو اور باغ ‘ جن میں کڑوے کسیلے پھل ‘ جھائو کے درخت اور کچھ تھوڑی سی بیریاں…
Read the full tafseer →27 پھر جب یہ قوم اپنی خوشحالی میں ہی مست ہو کر رہ گئی اور دنیا کے مال و دولت اور اس کی دلفریبیوں میں مستغرق ہو کر اپنے منعم حقیقی کو یکسر بھلا دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف انبیاء مبعوث فرمائے۔ کہتے ہیں وقتاً فوقتاً ان کی طرف تیرہ انبیاء مبعوث ہوئے تھے۔ لیکن ہر بدمست قوم کی طرف انہوں نے بھی یہی سمجھا کہ ان کی اس معاشی ترقی اور زرعی ترقی کا اصل سبب تو ہمارا اپنا نظام آب پاشی یا ہماری اپنی ذہانت اور محنت ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے انعامات کا کیا دخل ہے۔ تو انہوں نے انبیاء کی دعوت کو رد کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں سنبھلنے کی کافی مہلت دی لیکن انہوں نے اس سے کچھ بھی فائدہ نہ اٹھایا۔ تو آخر ان پر…
Read the full tafseer →25۔ یعنی کفر وشرک اور کثرت معاصی میں پڑگئے اور ناصحین کی کچھ نہ سنی۔
26۔ سد مارب، ایک مشہور تاریخی بند ہے جو پہاڑوں کے پانی کے ذخیرہ کے لئے بنایا گیا ہے مارب ملک سبا کا دارالسلطنت تھا، موجودہ شہر صنعاء سے کوئی 60 میل مشرق میں اور سطح سمندر سے کوئی 3900 فٹ بلند .... قوم سبا ایک بڑی متمدن قوم تھی۔ اس کا یہ کئی میل کالانبا چوڑا بند سبا کے انجینئروں کی فنکاری کا اعلی نمونہ تھا۔ یہ عظیم الشان بند ظہور اسلام سے کچھ قبل ٹوٹا ہے، تخمینا 542 ء میں۔ اس کی تباہ کاریوں کے آثار صدیوں بعد تک قائم رہے۔ چناچہ ایک سیاح نے 848 ء میں معائنہ کئے۔ طول میں یہ بند 150 فٹ اور عرض میں 50 فٹ تھا۔
27۔ یعنی وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
آیت نمبر 15 تا 21
ترجمہ : قوم سبا کے لئے (سبا) منصرف اور غیر منصرف (دونوں ہیں) سبا ایک قبیلہ کا نام ہے ان کے عربی جد اعلیٰ کے نام پر رکھا گیا ہے یمن میں ان کی بستیوں میں خدا کی قدرت کی نشانی تھی ان کے دائیں بائیں دورویہ باغ تھے یعنی ان کی وادی کے دائیں بائیں جانب جنتان، آیۃ سے بدل ہے، ان سے کہا گیا اپنے رب کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور ملک سبا میں تم کو دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کرو یہ عمدہ شہر ہے یعنی اس میں نہ زمین شور ہے اور نہ مچھر نہ مکھی، اور نہ پسو اور نہ بچھو اور نہ سانپ اور (اگر) اس شہر سے ایسا مسافر گذرتا کہ اس کے کپڑوں میں جوئیں ہوتیں تو وہ شہر کی پاکیزہ ہوا کی وجہ سے مرجاتیں اور بخشنے…
Read the full tafseer →فاعرضوا فارسلنا علیھم سیل العرم پھر انہوں نے روگردانی کی تو ہم نے ان پر عرم کا سیلا چھوڑ دیا۔ یعنی انہوں
نے پیغمبروں کی تکذیب کی اور کہنے لگے : ہم تو اس کو خدا کی عطا کردہ نعمت کو نہیں جانتا (یہ تو ہماری زمین کی پیداوار اور ہمارے لگائے ہوئے باغوں کے پھل ہیں ‘ مترجم) تم اپنے رب سے کہہ دو کہ اگر وہ اس نعمت کو روک سکتا ہے تو روک لے۔ اس ناشکری کا نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ نے (بند توڑ کر) ایک عظیم الشان سیلاب جس کو سیل عرم کہا جاتا ہے ‘ ان پر چھوڑ دیا۔
الْعَرِمِ امر صعب ‘ سخت مصیبت۔ عَرِمَ الرَّجُلُ وہ شخص سخت بدخلق ہوگیا ‘ یا سیل العرم سے مراد ہے سخت بارش کا سیلاب۔ بعض اقوال میں آیا ہے کہ اللہ نے سرخ…
Read the full tafseer →مگر ان لوگوں نے ایمان لانے اور انبیاء کرام کی بات ماننے سے انکار کیا اور اس طرح شکر خداوندی نہیں اد ا کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر بند کا پانی چھوڑ دیا کہ اس پانی سے تمام باغات مکانات اور ہر قسم کی نعمتوں کو ہلاک کردیا۔ ارم یمن میں ایک وادی کا نام ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ ایک ود رویہ بند تھا جس سے پانی روکتے تھے اور اوپر نیدے اس بند میں پانی کے آمد و رفت کے سات دروازے تھے اللہ تعالیٰ نے اس پانی سے انہیں ہلاک کردیا اور ان تباہ شدہ باغوں کے بدلے ایسے باغ دے دیے جن میں یہ چیزیں رہ گئیں بد مزہ پھل اور جنگلی بیر، جس میں کانٹے زیادہ اور پھل کم تھے۔
Read the full tafseer →فَاَعْرَضُوْا : یعنی انھوں نے انابت و رجوع کے بجائے اعراض اور سرکشی کو اور بندگی اور شکرگزاری کے بجائے کفر اور ناشکری کو اختیار کیا اور پیغمبروں اور نیکی کا حکم کرنے والوں کی نصیحتوں سے منہ موڑ لیا۔
فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ سَيْلَ الْعَرِمِ : ”الْعَرِمِ“ ”عَرِمَۃٌ“ کی جمع ہے، تہ بہ تہ پتھر، مراد پتھروں کا بنا ہوا بند ہے۔ یعنی ان کی سرکشی اور اعراض کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان پر بند کا سیلاب بھیجا۔ زور دار مسلسل بارشوں سے اتنا پانی جمع ہوا کہ اس کے سامنے بند ٹھہر نہ سکا اور ٹوٹ پھوٹ گیا۔ پانی کی شدت اتنی تھی کہ باقی بند بھی ٹوٹتے چلے گئے اور سارا قابل کاشت علاقہ زیر آب آگیا۔ پانی کے ریلے سے…
Read the full tafseer →انہوں نے مسلمان ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے امر اور اس کے رسولوں کی اتباع سے اعراض کیا۔ سدی اور وہب نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اہل سبا کی طرف تیرہ رسول بھیجے تو اہل سبا نے ان کو جھٹلایا۔ قشیری نے کہا : ان کا ایک رئیس تھا جسے حمار کا لقب دیا جاتا۔ یہ لوگ حضرت عیسیعلیہ السلام اور حضرت محمد ﷺ کے درمیان فترت کے دور میں تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا ایک بیٹا تھا وہ مرگیا اس نے اپنا سر آسمان کی طرف بلند کیا اور تھو کا اور کفر کیا۔ اسی وجہ سے کہا جاتا ہے اکفر من حمار حمار سے زیادہ کافر۔ جوہری نے کہا : ان کا قول اکفر من حمار وہ قوم عاد کا ایک آدمی تھا اس کے بچے مر گئے تو اس نے عظیم کفر کیا۔ اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
قوم سباء کے باغات
1۔ احمد وعبد بن حمید وابن المنذر نے اپنی تاریخ میں والترمذی وحسنہ وابن المنذر والحاکم وصححہ وابن مردوہ فروہ بن مسیک المرادی ؓ سے روایت کیا کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا میں نے عرض کیا یارسول اللہ کیا میں لڑوں اس شخص کے ساتھ جو اس سے منہ پھیرے ہوئے ہے میری قوم میں سے یعنی اسلام سے ان کو ساتھ ملا کہ جو اسلام قبول کرچکے ہیں یعنی آپ نے مجھے اجازت دی اور امیر مقرر فرمایا جب میں آپ کے پاس ہو کر نکلا تو آپ نے مجھے واپس بلوایا میں آپ کے پاس لوٹ آیا تو آپ نے فرمایا اپنی قوم کو دعوت دو ان میں سے جو اسلام قبول کرے۔ اس سے یہ شہادت قبول کرے اور جو اسلام قبول نہ کرے اس کے بارے میں جلدی نہ کر…
Read the full tafseer →فَاَعْرَضُوْا [پھر ان لوگوں نے اعراض کیا ] فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ [تو ہم نے بھیجا ان پر ] سَيْلَ الْعَرِمِ [شدت کا سیلاب ] وَبَدَّلْنٰهُمْ [ہم نے بدلے میں دیا ان کو ] بِجَنَّتَيْهِمْ [ان کے دو باغات کے بدلے ] جَنَّتَيْنِ [دو ایسے باغات جو ] ذَوَاتَىْ اُكُلٍ خَمْطٍ [کڑوے پھل والے تھے ] وَّاَثْلٍ [اور جھاؤ کے درخت والے ] وَّشَيْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِيْلٍ [اور تھوڑی سی چیزوالے بیری میں سے ] ۔
ع ر م (س۔ ک) عرامۃ شوخ ہونا۔ شدید ہونا۔
عرم صفت ہے۔ شوخ۔ شدید۔ زیر مطالعہ آیت۔ 16 ۔
خ م ط (س) خمطا کسی چیز کی بو یعنی مہلک میں تغیر آجانا۔
خمط کھٹی یا کڑوی چیز۔ زیر مطالعہ آیت۔ 16 ۔
ء ث ل (ک) اثالۃ زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
قوم سباء پر اللہ تعالیٰ کے انعامات، پھر ناشکری کی وجہ سے نعمتوں کا مسلوب ہونا
سبا ایک قوم تھی جو اپنے جد اعلیٰ سبا بن یشجب کی طرف منسوب تھی، یہ لوگ یعرب بن قحطان کی اولاد سے تھے اور یمن میں رہتے تھے، اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان کو بہت نوازا تھا، دائیں بائیں باغوں کی قطاریں چلی گئی تھیں، انہیں میں رہتے سہتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کی نعمتیں استعمال کرتے تھے، ان کے علاقہ کا نام مارب تھا جو شہر صنعاء سے (جو اب بھی موجود ہے) تین دن کی مسافت پر تھا، ان کو حکم دیا گیا تھا کہ اپنے رب کے رزق میں سے کھاؤ اور اس کا شکر بھی کیا کرو۔ روح المعانی میں مجمع البیان سے نقل کیا ہے کہ ان لوگوں کی تیرہ بستیاں تھیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
قصہء قوم سبا
قال اللہ تعالی۔ لقد کان لسبا فی مسکنہم ایۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وربک علی کل شیء حفیظ۔
(ربط) گزشتہ آیات میں منیبین اور شاکرین کا قصہ ذکر فرمایا جو بندے اللہ کی نعمتوں کا شکر کرتے ہیں اب اس کے بالمقابل غیر منیبین اور غیر شاکرین کا ایک قصہ ذکر کرتے ہیں جو خدا کے ناسپاس اور ناشکرے تھے تاکہ لوگ اس سے نصیحت اور عبرت پکڑیں یعنی اہل سبا کا قصہ عبرت بیان کرتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ ناسپاسی اور ناشکری اور عدم انابت الی اللہ کا کیا انجام ہوتا ہے بعض عدم انابت کا وبال دنیا ہی میں ظاہر ہوجاتا ہے۔ اہل سبا کا قصہ بھی آیات قیامت میں سے ہے کہ حق جل شانہ نے ان کو جو سرسبز و شاداب باغات عطا کئے تھے وہ نمونہ…
Read the full tafseer →17:۔ فاعرضوا الخ : قوم سبا نے اللہ کے شکر سے اعراض کیا اور عیش و عشرت اور مال و دولت کے نشہ میں مخمور خدا کا احسان ہی بھول گئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ناسپاسی اور کفران کی سزا یہ دی کہ ان پر ایک نہایت ہی زبردست سیلاب بھیجا جو ان کے باغوں، کھیتوں اور مکانوں کو تباہ و برباد کرکے بہا لے گیا۔ اور خوشبو دار اور لذیذ میوہ دار درختوں کے طویل و عریض باغات کا نام و نشان مٹ گیا اور جنگلی خود رو جھاڑ، بد مزہ پھل، جھاؤ کے درخت اور کچھ بیری کے درخت باقی رہ گئے۔ اس صورت میں یہ موصوف صفت ہوں گے امام ابو عبیدہ کے نزدیک خمطٍ ہر بد مزہ اور خار دار جھاڑ کو کہتے ہیں۔ اس صورت میں خمط، اکل سے سے بدل ہوگا۔ کذا فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
گزشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے اثبات ، کفر کے رد ، وقوع قیامت اور نبوت و رسالت کے سلسلے میں کئی دلائل ذکر کئے۔ پھر اللہ کی طرف انابت رکھنے والے دو انبیاء حضرات دائود اور سلیمان (علیہما السلام) کا ذکر فرمایا۔ ان دو انبیاء کے واقعات میں قدرت کے نمونے بتلائے تاکہ لوگ رسالت اور قیامت کا انکار نہ کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان انبیاء کو خصوصی معجزات عطا فرمائے تھے۔ ان کی سلطنت بےمثال تھی جس میں عجیب و غریب قسم کا نظام تھا ، اللہ نے حضرت دائود (علیہ السلام) کے ہاتھ پر لوہے کو نرم کردیا تھا اور آپ اس سے بغیر مشقت کے زرہیں بناتے تھے ، آپ کو نہایت عمدہ آواز سے نوازا تھا۔ چناچہ جب آپ اپنی پرسوز آواز…
Read the full tafseer →فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَيْہِمْ سَيْلَ الْعَرِمِ وَبَدَّلْنٰہُمْ بِجَنَّتَيْہِمْ جَنَّتَيْنِ ذَوَاتَىْ اُكُلٍ خَمْطٍ وَّاَثْلٍ وَّشَيْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِيْلٍ 16
اعرض
وإذا قيل : أَعْرَضَ عنّي، فمعناه : ولّى مُبدیا عَرْضَهُ. قال : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] ، فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ
( ع ر ض ) العرض
اعرض عنی اس نے مجھ سے روگردانی کی اعراض کیا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] تو وہ ان سے منہ پھیرے ۔ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ [ النساء/ 63] تم ان سے اعراض بر تو اور نصیحت کرتے رہو ۔
رسل ( ارسال)
والْإِرْسَالُ يقال في الإنسان، وفي الأشياء المحبوبة،…
Read the full tafseer →جب ان کا یہ حال ہوا تو فارسلنا علیہم سیل 2 ؎ العرم ان پر ہم نے بند کا پانی چھوڑا اور بند کو توڑ کر سخت رو آئی جس سے سینکڑوں ڈوب گئے اور باغ جن میں انگور اور طرح طرح کے میوے تھے برباد ہوگئے۔ و بدلناھم بجنتیہم جنتین ذواتی اکل خمط واثل وشیء من سدر قلیل اور ان کے ان دورویہ باغوں کے بدلہ میں ہم نے ان کو اور دو رویہ کڑوے بےمزہ اور جھاؤ اور کچھ بیریوں کے درخت دیے، یعنی ایسے نکمے درخت اگے اور ان پیڑوں کو باغ تہکم اور مشاکلت کے طریق پر فرمایا۔ جیسا ہمارے محاورے میں کہتے ہیں، پلاؤ قورمے کی دعوت کے بدلے جوتیوں اور لکڑیوں کی دعوت کی۔ اثل جھائو ‘ بعض کہتے ہیں۔ فراش، سدر بیری اور اس کی دو قسم ہیں، ایک بیری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
فَاَعْرضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ وَبَدَّلْنٰـہُمْ بِجَنَّـتَیْھِمْ جَنَّـتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُکُلٍ خَمْطٍ وَّاَثْلٍ وَّشَیْ ئٍ مِّن سِدْرٍ قَلِیْلٍ ۔ ذٰلِکَ جَزَیْنٰـھُمْ بِمَا کَفَرُوْا ط وَھَلْ نُجٰزِیْٓ اِلاَّ الْـکَفُوْرَ ۔ (السباء : 16، 17)
(پس انھوں نے اعراض کیا اور سرتابی کی، تو ہم نے ان پر بند کا سیلاب بھیج دیا اور ان کے باغوں کو دو ایسے باغوں سے بدل دیا جن میں کڑوے کسیلے پھل اور جھائو کے درخت اور بیری کی کچھ جھاڑیاں رہ گئیں۔ یہ ہم نے ان کو ان کی ناشکری کا بدلہ دیا، اور ناشکرے انسان کے سوا ہم ایسا بدلہ کسی اور کو نہیں دیتے۔ )
مشکل الفاظ کی تشریح : عَرِم کے معنی اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت سلیمان (علیہ السلام) بےپناہ وسائل کے حامل، زبردست حکمران اور انتہائی ترقی یافتہ مملکت کے سربراہ ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے تھے یہاں تک کہ موت کے وقت بھی اپنے رب کے شکر میں مشغول تھے ان کے بعد ایک نافرمان ترقی یافتہ قوم کا ذکر۔
قوم سبا کا علاقہ موجودہ یمن کی سرزمین تھی۔ سبا ایک شخص کا نام تھا جس کے دس بیٹے تھے۔ اس سے دس قبیلے معرض وجود میں آئے۔ اس قوم کے عروج وزوال کا دور صدیوں پر محیط ہے۔ ایک وقت تھا کہ اقتدار اور اختیار اور تہذیب و تمدن کے حوالے سے اس قوم کا طوطی بولتا تھا اور روم اور یونان کی تہذیبیں ان کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی تھیں۔ اس…
Read the full tafseer →اعراض کا نتیجہ :
16: فَاَعْرَضُوْا (انہوں نے سرتابی کی) یعنی انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت سے منہ موڑ لیا اور ان کو جھٹلایا اور کہنے لگے ہم اللہ تعالیٰ کی کوئی نعمت نہیں جانتے جو اس نے ہم پر کی ہو۔ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ (ہم نے ان پر بند کا سیلاب چھوڑ دیا) سیل عرم سے مراد سخت بارش یاعرم وادی کا نام ہے۔ یا اس سے مراد وہ چوہا ہے جس نے اس بند کے نیچے سوراخ کیا۔ کہتے ہیں کہ جب انہوں نے سرکشی کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر چوہوں کو مسلط کردیا جس نے بند کے نچلی جانب سوراخ کر کے ان کو ڈبو دیا۔ وَبَدَّلْنٰھُمْ بِجَنَّتَیْھِمْ (اور ہم نے ان دو باغوں کے بدلے میں دو اور باغ دے دیئے) جنتیؔ…
Read the full tafseer →16، فاعرضوا، وہب بن منبہ نے بیان کیا کہ اللہ نے قوم سبا کی ہدایت کے لیے تیرہ پیغمبر بھیجے اور ہر پیغمبر نے ان کو اللہ کی نعمتیں یا ددلائیں اور ان نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی نصیحت کی اور اللہ کے فرمانبردار ہونے کی دعوت دی لیکن انہوں نے اس دعوت کی روگردانی کی۔ ، فار سلنا علھم سیل العرم، عرم جمع عرمہ کی ہے وہ جگہ جہاں پانی جمع ہوتا ہے ۔ ابن العربی نے کہا کہ عرم بند کو کہتے ہیں جس کے گردپانی روکنے باڑنہ ہو۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر سرخ پانی چھوڑدیا تھا۔
عرم کی وضاحت اور مختلف تفسیریں
بعض نے عرم کا ترجمہ وادی کیا ہے ۔ یہ لفظ، عرامۃ م، سے مشتق ہے۔ ، عرامۃ ، کا معنی ہے شدت ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
15‘ 16۔ قوم سبابلقیس کی قوم کا نام ہے اس قوم کے بارشاہ جو تبع کہلاتے تھے وہ اپنے وطن کو خوب آباد کر گئے تھے جس سے سبا کے لوگ بڑی نعمت اور عیش و آرام میں تے کیونکہ اس ملک زراعت اور میوے بہت تھے بہت مزے سے گزارہ ہوتا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنے رسول بیجھے کہ ان کو ہدایت کریں کہ خدا کا دیا ہوا رزق کھائیں اور اس کی بندگی کرکے اس کا شکر کریں جب ان لوگوں نے نافرمانی کی ان کو اس طرح عذاب کیا گیا ان پر پانی کا نالہ بھیج دیا گیا جس کے سبب سے وہ قوم برباد ہو کر جدا جدا شہروں میں چلی گئی انصار کے قبیلے اس اور خزرج بھی اسی بربادی کے وقت یمن سے نکا کر مدینہ میں آباد ہوئے تھے وہ عذاب کا پانی سرخ تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
آیت 15-21
” سبا “ ایک معروف قبیلہ تھا جو یمن کے قریب ترین علاقوں میں آباد تھا۔ وہ ایک شہر میں آباد تھے جسے ” مارب “ کہا جاتا تھا۔ تمام بندوں پر عموماً اور عربوں پر خصوصاً اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم اور اس کی بےپایاں نعمتیں ہیں کہ اس نے قرآن مجید میں ان ہلاک شدہ قوموں کے بارے میں خبر دی ہے جن پر عذاب نازل کیا گیا، جو ان کے پڑوس میں آباد تھیں، جہاں ان کے آثار کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے اور لوگ ان کے واقعات کو ایک دوسرے سے نقل کرتے چلے آرہے ہیں ات کہ اس طرح ان کے واقعات کے ذریعے سیق رآن کی تصدیق ہوا اور یہ چیز نصیحت کے قریب تر ہو۔
(لقد کان لسبا فی مسکنھم) ” سبا کے لئے تھی ان کے مسکنوں میں “ یعنی ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–54
اسلام میں مصوری کی ممانعت
قول باری ہے (یعملون لہ مایشآء من محاریب وتماثیل۔ سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں بنوانا منظور ہوتیں مثلاً بڑی عمارتیں اور مجسمے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں تصاویر اور مجسمے بنانے کی اباحت تھی لیکن حضور ﷺ کی شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ آپ سے مروی ہے (لا یدخل الملائکۃ بیتا فیہ صورۃ۔ جس کھر میں کوئی تصویر ہوا اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے) نیز ارشاد ہے (من صورصورۃ کلف یوم القیمۃ ان یحیھا ولا فالنار ۔ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی ہوا سے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں زندگی پیدا کردے ورنہ جہنم میں جائے) ۔
نیز ارشاد ہے (لعن اللہ المصورین۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
46 بدبخت قوم کی ناشکری کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ اس ناشکری اور بدبخت قوم نے شکر کی بجائے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی بےقدری اور نا شکری کا ارتکاب ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر بھی ان لوگوں نے سرتابی ہی سے کام لیا اور اپنے خالق ومالک کی بخشی ہوئی نعمتوں کی بےقدری اور نا شکری کا ارتکاب کیا "۔ سو انہوں نے اپنے رب وحدہ لاشریک کی عبادت و بندگی کی بجائے انہوں ٖ نے شرک کو اپنایا۔ اس کی نعمتوں پر شکر کرنے کی بجائے کفر و ناشکری سے کام لیا۔ اور وہب کی روایت کے مطابق ان لوگوں نے ان تیرہ انبیائے کرام کی تکذیب کی جو ان کی طرف بھیجے گئے تھے۔ (حاشیہ جامع البیان : ج 2 ص 178) ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
اہل سبا کی ناشکری اور اس کی سزا
تشریح : ابن کثیر نے فرمایا کہ ” سبا یمن کے بادشاہوں اور اس ملک کے باشندوں کا لقب ہے۔ قوم سبا اور ملکہ بلقیس کا واقعہ جو سورة النحل میں گزر چکا ہے وہ بھی اسی قوم میں سے تھی “۔ یہ بڑے خوش حال اور فارغ البال تھے مگر ناشکری اور نافرمان قوم تھی انبیاء ان کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے مگر یہ نہ سدھرے یہ لوگ ہر طرح سے پُر آسائش زندگیاں گزار رہے تھے کیونکہ ان کا علاقہ یمن کا ایک حصہ تھا۔ اور یہ لوگ کافی ترقی یافتہ اور محنتی تھے۔ نقشہ پر دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ یمن کا اکثر حصہ کوہستانی ہے کوئی دریا نہیں بہتا بس بارش کے پانی سے جو ندی نالے بہتے انہی سے کہیں کہیں کھیتی باڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–21
رکوع نمبر 2: آیات 10 تا 21:
اسرار و معارف : داود (علیہ السلام) کو ہم نے بہت زیادہ نعمتیں عطا کیں۔ یہاں تک کہ پہاڑوں اور پرندوں تک کو حکم دی ا کہ ان کے ساتھ میری تسبیح کرو۔ مفسرین کے مطابق پہاڑ اور پرندے داود (علیہ السلام) کے ساتھ اس طرح ذکر کرتے تھے کہ عام سننے والا بھی سنتا تھا اور یہ اس تسبیح کے علاوہ تھی جو ہر شے کرتی ہے یعنی اگر کسی کے ساتھ بہت سے افراد اللہ کا ذکر کرنے لگ جائیں تو یہ اللہ کا بہت بڑا انعام ہے جو اس کے خاص بندوں کو نصیب ہوتا ہے نیز ان کے لیے بطور معجزہ لوہے کو نرم کردیا کہ لوہے کی زرہیں بنا کر تیار کریں اور حکم دیا کہ زرہ کی کڑیاں خوبصورت انداز میں جوڑیں۔ سب سے پہلے سامان…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی بلند وادیوں سے آنے والے پانی کو روک کر مآرب کے پہاڑوں کے درمیان جو بند انہوں نے باندھا تھا اور جس سے وہ اپنے باغوں کو سال بھر سیراب کرتے تھے اسے توڑ کر ہم نے زور کا سیلاب بھیجا جس نے ان کے باغ اور مکان سیلاب بھیجا جس نے ان کے باغ اور مکان سب تباہ کر ڈالے۔ مؤرخین نے لکھا ہے کہ یہ ” سدمآب “ بلق کے پہاڑوں کے درمیان تقریباً 800 ق م باندھا گیا تھا جو ایک سو پچاس فٹ لمبی اور پچاس فٹ چوڑی دیوار ہے تقریباً پانچویں صدی عیسوی کے وسط میں یہ بند ٹوٹ گیا جس سے ملک کا تمام نظام آبپاشی تباہ و برباد ہوگیا۔ اس بند کی دیوار کا کچھ حصہ تا حال باقی ہے۔ پوری تفصیلات ” ارض القرآن “ میں دیکھی جاسکتی…
Read the full tafseer →(34:16) فاعرضوا۔ ماضی جمع مذکر غائب اعراض (افعال) مصدر انہوں نے منہ پھیرلیا۔تعقیب کا ہے پھر انہوں نے منہ پھیرلیا۔ یعنی سرتابی کی۔ فارسلنا۔ میںعطف سببی کے لئے ہے۔ سو ہم نے ان پر (سیل العرم) بھیج دیا۔
سیل العرم۔ مضاف مضاف الیہ۔ سیل۔ سیلاب۔ عرم۔ تیز رو، زور دار، سخت۔ یہ عرامۃ والعرامۃ سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے العرامۃ کے معنی مزاج کی تندی اور درشتی کے ہیں۔ لہٰذا جملہ کے معنی ہوں گے ! سو ہم نے ان پر سخت سیلاب بھیجا۔
بعض نے العرم کے معنی بند کے کئے ہیں کہ یہ سیلاب بند کے ٹوٹنے کی وجہ سے آیا تھا ۔ بعض نے العرم سے جنگلی چوہا مراد لیا ہے کہ یہ سیلاب چوہے کے بند میں شگاف کرنے اور نتیجۃ بند ٹوٹنے سے آیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
لغات القرآن : آیت نمبر 15 تا 21
مسکن : رہنے کی جگہ (آبادی)
جنتن : دو باغ (دو رویہ باغ)
یمین : داہنے
شمال : بائیں
طیبۃ : پاکیزہ ۔ صاف ستھری
سیل : سیلاب
العرم : بند۔ ڈیم
اکل : پھل
خمط : کڑوا۔ کسیلا
اثل : جھاؤ
سدر : بیری
قرا : بستیاں
ظاھرۃ : نظر آنے والی۔ کھلی ہوئی
بعد : دور کردے۔ درازے کردے
احادیث : باتیں
صبار : بہت صبر کرنے والا
صدق : سچ کر دکھایا
سلطن : طاقتور ۔ زور دار
تشریح نمبر 15 تا 21
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ” سبا “ عرب کے ایک شخص کا نام تھا جس کی نسل سے عرب میں کندہ ، ازد، اشعرمین، مذحج، عاملہ، جذام، لخم ، غسان اور انمار (جس کی دو شاخیں ہیں (خشم اور بخیلہ ) قبیلے تھے۔ ( ترمذی)
قوم سبا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
قوم کی نافرمانی کا انجام۔
(ف 1) اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں فرمایا کہ قوم سبا کے لیے ان کی بستی میں یہ نشانی اللہ کی قدرت کی تھی کہ وہ دو باغ دائیں اور بائیں طرف رکھتے تھے یہ باغ ایسے سرسبز تھے اور ابن قدر کثرت سے ان میں میوے کی پیداوار تھی کہ کوئی عورت ٹوکرا سر کے اوپر رکھ کردرختوں کے نیچے سے گزرتی تو خود بخود ٹوکرا میوے سے بھرجاتا ہے اور ہم نے حکم دیا تھا کہ کہ اپنے پروردگار کی دی ہوئی روزی کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو تمہارے لیے دنیا میں رہنے کو عمدہ شہر ہے اور آخرت میں گناہ بخشنے والا پروردگار ہے جب ان لوگوں نے اللہ کی نصیحت کو نہ مانا اور بت پرستی نہ چھوڑی تو ان پر یہ آفت آئی کہ قوم سبا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
[16] قوم سبا ایک متمدن قوم تھی۔ اس نے پہاڑوں سے نکلنے والے پانی کے ذخیرہ کے لئے ایک بہت بڑا بند تعمیر کیا تھا جو انجینئرنگ کا اعلیٰ نمونہ تھا۔ جب اہل سبا نے اللہ کی نافرمانی کی اور اس کی نعمتوں کا کفران کیا تو اللہ کے حکم سے وہ بند ٹوٹ گیا اور تمام باغات اور زمینیں غرقاب ہوگئیں۔ یہ بند ظہور اسلام سے کچھ قبل ٹوٹا تھا اور اس کی تباہ کاریوں کے آثار صدیوں تک قائم رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
ف 2: فرمایا ۔ ان میں سے چند مومنوں کے سوا سب لوگوں نے شیطان کی پیروی کی اور اس کے مزعوبات کو سچا ثابت کرکے دکھایا یعنی یہ بات جو اس نے کہی تھی ۔ کہ میں نجدان لوگوں کو گمراہ کرکے رہونگا ۔ فبعزتک لاغریتھم وہ پوری ہوئی ۔ اور یہ لوگ اس کے چنگل میں گرفتار ہوگئے ۔
یعنی ان لوگوں کی مگر اہ یمحض اس قانون ازلی کے مطابق ہے کہ دنیا میں ہمیشہ دو گروہ موجود رہیں گے ایک وہ جو عقبیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے ۔ اور دوسرا وہ جو مادیت پرست ہے ان دو قسم کے خیالات کا بقاء دنیا کے تکوینی مقاصد کے لئے ضروری ہے ۔
Read the full tafseer →(16) پھر انہوں نے اعراض اور بےپروائی کا شیوہ اختیار کیا اور پھر انہوں گ نے منہ پھیرلیا تو ہم نے ان پر بند توڑ کر زور کا سیلاب اور پانی کی تیز رو کو بھیج دیا اور ہم نے ان کے دورویہ باغوں کے بدلے میں اور دو باغ ان کو دے دیئے جن میں بدمزہ پھل اور جھائو اور کچھ قدرے قلیل بیری کے درخت تھے۔
مطلب یہ ہے کہ پانی کا بند ٹوٹ گیا اور پانی کی رو آگئی اور وہ دورویہ باغ بہہ گئے۔ آبادی تباہ ہوگئی اور تمام زمین ایسی ہوگئی جیسے دریا کے قریب بیلا۔ کچھ جھائو، جوانسا، بدمزہ پھلوں کے درخت کچھ جنگلی بیری کے بیر۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جب چاہا اللہ نے عذاب بھیجے گھونس پیدا ہوئی اس پانی کے بند میں اس کی جڑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
ف 1۔ یعنی جو سیلاب بند سے رکا رہتا تھا بند ٹوٹ کر اس سیلاب کا پانی چڑھ آیا جس سے ان کے دو رویہ باغات سب غارت ہوگئے۔
Read the full tafseer →اہل سبا کی روگردانی کا ذکر اور تندوتیز سیلاب کی کارستانیوں کا بیان
16 ۔ اہل سبا ایک عرصہ تک تو اس جنت ارضی کو اللہ رب العزت کی عظیم الشان آیت ونعمت ہی سمجھتے رہے لیکن تمول خوش حالی نے آہستہ آہستہ ان میں بھی وہی اخلاق رویہ پیدا کردیئے جو ان کی پیش روگزشتہ متکبر اور مغرور قوموں میں پائے جاتے تھے اور یہ یہاں تک بڑھے کہ انہوں نے دین حق کو بھی خیر باد کہہ دیا اور کفر وشرک کی زندگی اختیار کرلی اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف یکے بعد دیگرے تیرہ نبی ورسول بھیجے مگر انہوں نے مطلق توجہ نہ دی اور اپنی موجود خوش عیشی کو دائمی وراثت سمجھ کر شرک وکفر کی بدمستیوں میں مبتلا رہے۔ (البدایہ والنہایہ ج 2) آخر تاریخ نے…
Read the full tafseer →The 'flood of the dam' (sayl al-'arim) and the Dam of Ma'arib (the sadd of Ma` arib)
The word: عرم (` arim) in: فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ سَيْلَ الْعَرِمِ (So We sent to them the flood of the dam - 16) carries several recognized meanings in terms of Arabic lexical usage and the scholars of tafsir have explained this verse in terms of every such meaning. But, the meaning more in consonance with the context of the Qur'an is the one that appears in the Arabic lexicons like Qamus, Sihah of Jawhari and others, that is, 'arim' means a dam that is made to block water. Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ has…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
28 That is, "They adopted the way of disobedience and ingratitude instead of obedience and gratefulness."
29 The word 'arim as used in sayl al- arim in the Text is derived from the South Arabic word ariman, which stands for a "dam". In the ancient inscriptions that have been unearthed in the ruins of the Yaman, this word has been commonly used in this meaning. For example, in an inscription dated 542 or 543 A.D., which Abraha, the Abyssinian governor of the Yaman, had got installed after the repairs to the great dam of Maa`rib, this word has been used repeatedly in the meaning of a dam.…
Read the full tafseer →