Saba 34:17

Saba · from ayah 17

34:17

ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِمَا كَفَرُوْا ؕ— وَهَلْ نُجٰزِیْۤ اِلَّا الْكَفُوْرَ ۟ذٰ لِكَ جَزَيۡنٰهُمۡ بِمَا كَفَرُوۡا ؕ وَهَلۡ نُـجٰزِىۡۤ اِلَّا الۡـكَفُوۡرَ

یہ ہم نے ان کی ناشکری کی ان کو سزا دی۔ اور ہم سزا ناشکرے ہی کو دیا کرتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

[By] that We repaid them because they disbelieved. And do We [thus] repay except the ungrateful?

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 2 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Saba

All translations of 34:17

یہ تھا ان کے کفر کا بدلہ جو ہم نے ان کو دیا، اور ناشکرے انسان کے سوا ایسا بدلہ ہم اور کسی کو نہیں دیتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ ہم نے ان کی ناشکری کی ان کو سزا دی۔ اور ہم سزا ناشکرے ہی کو دیا کرتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے ان کی ناشکری کا یہ بدلہ انہیں دیا۔ ہم (ایسی) سخت سزا بڑے بڑے ناشکروں ہی کو دیتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ سزا ہم نے ان کو اس لیے دی کہ انہوں نے ناشکری کی روش اختیار کی تھی، اور ایسی سزا ہم کسی اور کو نہیں، بڑے بڑے ناشکروں ہی کو دیا کرتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہم نے انہیں یہ بدلہ دیا ان کی ناشکری کی سزا، اور ہم کسے سزا دیتے ہیں اسی کو جو نا شکرا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ ہم نے انہیں ان کے کفر و ناشکری کا بدلہ دیا، اور ہم بڑے ناشکرگزار کے سوا (کسی کو ایسی) سزا نہیں دیتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ ہم نے انھیں اس کا بدلہ دیا جو انھوں نے ناشکری کی اور ہم یہ بدلہ نہیں دیتے مگر اسی کو جو بہت ناشکرا ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نے یہ سزا انھیں ان کی ناشکری کی وجہ سے دی تھی اور ہم ناشکروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ ہم نے ان کی ناشکری کا بدلہ اور ہم برا بدلہ ناسپاسوں ہی کو دیا کرتے ہیں !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ بدلہ دیا تھا ہم نے ان کو ان کے کفر کا اور ایسا بدلہ ہم نہیں دیتے مگر ایسے ہی بڑے ناشکرے انسان کو

— مولانا اسحاق مدنی

انہیں ہم نے یہ سزا ان کی ناسپاسی کے سبب دی اور ہم ایسی سزا بڑے ناسپاس ہی کو دیا کرتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ بدلہ دیا ہم نے ان کو ان کے کفر انِ نعمت کی وجہ سے } اور ہم ایسا برا بدلہ نہیں دیتے مگر نا شکرے لوگوں کو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ ہم نے ان کو ناشکری کی سزا دی اور ہم ناشکرے ہی کو سزا دیا کرتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Thus did We retribute them for their ingratitude. And none do We retribute in this manner except the utterly ungrateful.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Thus We punished them because of their ungratefulness. We do not give (such a) punishment but to the ungrateful.

— Muhammad Taqi Usmani

Thus We punished them because of their ungratefulness. We do not give (such a) punishment but to the ungrateful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Like this We requited them because they were ungrateful disbelievers. And never do We requite in such a way except those who are ungrateful (disbelievers).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

This We awarded them because of their ingratitude. Punish We ever any save the ingrates?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[By] that We repaid them because they disbelieved. And do We [thus] repay except the ungrateful?

— Saheeh International

This was how We recompensed them for their ungratefulness and thus do We recompense the ungrateful ones.

— Muhammad Sarwar

This We requited them with because they disbelieved; and We do not punish any but the ungrateful.

— Muhammad Habib Shakir

In this wise We requited them for they were ungrateful. And We requite not thus any save the ungrateful infidels.

— Abdul Majid Daryabadi

That was the Requital We gave them because they ungratefully rejected Faith: and never do We give (such) requital except to such as are ungrateful rejecters.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 34:17

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 15–17

قوم سبا کا تفصیلی تذکرہ۔ قوم سبایمن میں رہتی تھی۔ تبع بھی ان میں سے ہی تھے۔ بلقیس بھی انہی میں سے تھیں۔ یہ بڑی نعمتوں اور راحتوں میں تھے۔ چین آرام سے زندگی گذار رہے تھے۔ اللہ کے رسول ان کے پاس آئے انہیں شکر کرنے کی تلقین کی۔ رب کی وحدانیت کی طرف بلایا اس کی عبادت کا طریقہ سمجھایا۔ کچھ زمانے تک وہ یونہی رہے لیکن پھر جبکہ انہوں نے سرتابی اور روگردانی کی احکام اللہ بےپرواہی سے ٹال دیئے تو ان پر زور کا سیلاب آیا اور تمام ملک، باغات اور کھیتیاں وغیرہ تاخت و تاراج ہوگئیں۔ جس کی تفصیلی یہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے سوال ہوا کہ سبا کسی عورت کا نام ہے۔ یا مرد کا یا جگہ کا ؟ تو آپ نے فرمایا یہ ایک مرد تھا جس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 16–17

سورة سَبـَا 28 یعنی بندگی و شکر گزاری کے بجائے انہوں نے نافرمانی و نمک حرامی کی روش اختیار کرلی۔ سورة سَبـَا 29 اصل میں لفظ سَیْلُ الْعَرِم استعمال کیا گیا ہے۔ عَرِم جنوبی عرب کی زبان کے لفظ عرمن سے ماخوذ ہے جس کے معنی " بند " کے ہیں۔ یمن کے کھنڈروں میں جو قدیم کتبات موجودہ زمانے میں دستیاب ہوئے ہیں ان میں یہ لفظ اس معنی میں بکثرت استعمال ہوا ہے۔ مثلاً 542 ء یا 543 ء کا ایک کتبہ جو یمن کے حبشی گورنر ابرہہ نے سدّ مارب کی مرمت کرانے کے بعد نصب کرایا تھا اس میں وہ اس لفظ کو بار بار بند کے معنی میں استعمال کرتا ہے۔ لہٰذا سیل العَرِم سے مراد وہ سیلاب ہے جو کسی بند کے ٹوٹنے سے آئے۔ سورة سَبـَا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) ذلک جزیناھم بما کفروا، یعنی یہ سزا ہم نے ان کو اس لئے دی کہ انہوں نے کفر کیا۔ کفر کے معنی ناشکری کے بھی آتے ہیں اور دین حق سے انکار کے بھی آتے ہیں۔ یہاں دونوں معنی ہو سکتے ہیں، کیونکہ انہوں نے ناشکری بھی کی اور جو تیرہ انبیاء ان کی طرف بھیجے گئے تھے ان کی تکذیب بھی کی۔ فائدہ اس واقعہ میں جو یہ بیان ہوا ہے کہ سبا کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے تیرہ پیغمبر بھیجے تھے، اور اس کے ساتھ یہ بھی اوپر گزر گیا ہے کہ اس قوم اور سیل عرم کا واقعہ حضرت عیسیٰ ؑ کے بعد آنحضرت محمد ﷺ کی بعثت سے پہلے درمیانی زمانے میں تھا جس کو زمانہ فترت کہا جاتا ہے۔ اور جمہور علماء کے نزدیک اس زمانے میں کوئی نبی و پیغمبر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ذلک جزینھم بما کفروا وھل نجزی الا الکفور (17) ’ مجازات ‘ کے معنی بدلہ دینے کے ہیں۔ بدالہ برابر بھی ہوتا ہے اور اچھا بھی۔ اس وجہ سے اس کے صحیح مفہوم کا تعین موقع ومحل سے ہوتا ہے۔ یہاں موقع برے بدلہ کا ہے اس وجہ سے یہاں یہ لفظ اسی معنی میں لیاجائے گا۔ فرمایا کہ ہم نے ان کو یہ سزا ان کے کفران نعمت کی پاداش میں دی اور اس قسم کی سزائیں ہم ناشکروں کے سوا کسی اور کو نہیں دئیے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 16–17

1 6 ۔ 1 یعنی انہوں نے پہاڑوں کے درمیان پشتے اور بند تعمیر کرکے پانی کی جو رکاوٹ کی تھی اور اسے زراعت وباغبانی کے کام میں لاتے تھے ہم نے تندو تیز سیلاب کے ذریعے سے ان بندوں اور پشتوں کو توڑ ڈالا اور شاداب اور پھل دار باغوں کو ایسے باغوں سے بدل دیا جن میں صرف قدرتی جھاڑ جھنکاڑ ہوتے ہیں جن میں اول تو کوئی پھل لگتا ہی نہیں اور کسی میں لگتا بھی ہے تو سخت کڑوا کسیلا اور بدمزہ جنہیں کوئی کھا ہی نہیں سکتا البتہ کچھ بیری کے درخت تھے جن میں بھی کانٹے زیادہ اور بیر کم تھے۔ عرم، عرمۃ کی جمع ہے پشتہ یا بند یعنی ایسا زور کا پانی بھیجا جس نے اس بند میں شگاف ڈال دیا اور پانی شہر میں بھی آگیا جس سے ان کے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 15–17

10: قوم سبا یمن میں آباد تھی اور کسی زمانے میں وہ اپنے تہذیب و تمدن میں ممتاز حیثیت رکھتی تھی، جیسا کہ قرآن کریم نے بتایا ہے، ان کی زمینیں بڑی زرخیز تھیں، ان کی سڑکوں کے دونوں طرف پھل دار باغات کے سلسلے دور تک چلے گئے تھے، خوشحالی بھی میسر تھی، اور سیاسی استحکام بھی ؛ لیکن رفتہ رفتہ یہ لوگ اپنی عیاشیوں میں ایسے مگن ہوئے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے احکام کو بھول بیٹھے اور شرک کو اپنا مذہب بنالیا، اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس کئی پیغمبر بھیجے، حافظ ابن کثیر کے بیان کے مطابق ان کے پاس یکے بعد دیگرے تیرہ پیغمبر بھیجے گئے، جنہوں نے اس قوم کو ہر طرح سمجھانے اور راہ راست پر لانے کی کوشش کی، مگر یہ نہ مانے،…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ذلک جزینھم۔۔۔۔۔۔ الا الکفور (17) یعنی کفران نعمت کی وجہ سے ان کو یہ سزا دی گئی۔ لیکن ابھی تک یہ لوگ اپنی بستیوں ہی میں رہ رہے تھے اگرچہ اس سیلاب کی وجہ سے ان کے رزق کے ذرائع محدود ہوگئے تھے۔ خوشحالی اور سہولیات کے بدلے بدحالی اور مشکلات معیشت نے جگہ لے لی تھی۔ لیکن ابھی تک ان کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے زمین کے اندر بکھیر نہ دیا گیا تھا۔ اور ان کی بستیوں اور برکت والی بستیوں مکہ مکرمہ اور بیت المقدس کے درمیان مواصلات کا سلسلہ باقی تھا۔ علاقہ سبا کے شمال میں یمن کا علاقہ بھی آباد تھا اور یمن مکہ اور مدینہ کے ذریعہ شام اور بیت المقدس سے جڑا ہوا تھا۔ یہ راہ مامون اور جاری تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 ایسی سخت سزا بڑے ناشکروں کو دی جاتی ہے۔ کفر سے بڑھ کر کیا ناشکری ہوگی۔ سورة " نمل " میں گزر چکا (وَجَدْتُّهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُوْنَ للشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيْلِ فَهُمْ لَا يَهْتَدُوْنَ ) 27 ۔ النمل :24) بظاہر اس قسم کا شرک اس قوم میں بلقیس کے بعد بھی باقی رہا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 17 { ذٰلِکَ جَزَیْنٰہُمْ بِمَا کَفَرُوْا } ”یہ بدلہ دیا ہم نے ان کو ان کے کفر انِ نعمت کی وجہ سے۔“ { وَہَلْ نُجٰزِیْٓ اِلَّا الْکَفُوْرَ } ”اور ہم ایسا برا بدلہ نہیں دیتے مگر نا شکرے لوگوں کو۔“ چند سال پہلے میرا ذہن پاکستان کی تاریخ کے حوالے سے ان آیات کی طرف منتقل ہوا کہ ہمیں بھی اللہ تعالیٰ نے دائیں اور بائیں کے دو خوبصورت باغات سے نوازا تھا۔ ایک باغ کا نام مغربی پاکستان تھا اور دوسرے کا مشرقی پاکستان۔ ہمارے لیے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے دونوں باغات میں آزادی اور امن وامان کا ماحول فراہم کیا گیا تھا۔ دونوں جگہوں پر کسی نہ کسی حد تک بَلْدَۃٌ طَیِّبَۃٌ وَّرَبٌّ غَفُوْرٌکی عملی تصویر نظر…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

28 یعنی یہ سزا کچھ قوم سبا سے ہی مختص نہ تھی بلکہ جو قوم بھی اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کے بعد اپنے محسن حقیقی کو بھول جاتی ہے اور اس کا شکر ادا کرنے کے بجائے سرتابی کی راہ اختیار کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ وہ اس قوم کو ایسے ہی انجام سے دوچار کردیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

28۔ ورنہ درگزر معمولی خطاؤں پر اور کثرت سے تو ہوتی ہی رہتی ہے) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” فاعرضوا فارسلنا “۔ الخ اور (آیت) ” ذلک جزینھم “۔ الخ دونوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ طاعت کو دنیوی نعمت کے حصول اور معصیت کو اس کے زوال میں دخل ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 15–21

آیت نمبر 15 تا 21 ترجمہ : قوم سبا کے لئے (سبا) منصرف اور غیر منصرف (دونوں ہیں) سبا ایک قبیلہ کا نام ہے ان کے عربی جد اعلیٰ کے نام پر رکھا گیا ہے یمن میں ان کی بستیوں میں خدا کی قدرت کی نشانی تھی ان کے دائیں بائیں دورویہ باغ تھے یعنی ان کی وادی کے دائیں بائیں جانب جنتان، آیۃ سے بدل ہے، ان سے کہا گیا اپنے رب کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور ملک سبا میں تم کو دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کرو یہ عمدہ شہر ہے یعنی اس میں نہ زمین شور ہے اور نہ مچھر نہ مکھی، اور نہ پسو اور نہ بچھو اور نہ سانپ اور (اگر) اس شہر سے ایسا مسافر گذرتا کہ اس کے کپڑوں میں جوئیں ہوتیں تو وہ شہر کی پاکیزہ ہوا کی وجہ سے مرجاتیں اور بخشنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ہم نے یہ سزا ان کو ناشکری (یا پیغمبروں کا انکار) کرنے کی وجہ سے دی اور ہم (ایسی) سزا بڑے نا سپاس ہی کو دیا کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور ہم نے ان کو یہ سزا ان کی ناشکری کی وجہ سے دی کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کی نعمتوں کی ناشکری کی اور ہم ایسی سزا بڑے ناشکر گزار ہی کو دیا کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ذٰلِكَ جَزَيْنٰهُمْ بِمَا كَفَرُوْا۔۔ : ”الْكَفُوْرَ“ مبالغے کا صیغہ ہے، بہت کفر کرنے والا، بہت ناشکرا۔ یعنی ہم نے انھیں اس کا بدلا دیا جو انھوں نے ناشکری کی اور ایسی سخت سزا ہم اسی کو دیتے ہیں جو بہت ناشکرا ہو، یعنی کافر و مشرک ہو، کیونکہ بڑی ناشکری اور بڑا ظلم شرک ہی ہے۔ تھوڑی بہت ناشکری والے سے ہمارا معاملہ درگزر کا ہوتا ہے۔ ”وَهَلْ نُجٰزِيْٓ اِلَّا الْكَفُوْرَ“ کے الفاظ سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہاں کچھ الفاظ جو آگے قوسین میں ہیں، محذوف ہیں، یعنی ہم نے انھیں یہ جزا اس کے بدلے میں دی جو انھوں نے ناشکری کی (اور ناشکری میں حد سے بڑھ گئے) اور ہم ایسے بڑے ناشکرے ہی کو یہ سخت بدلا دیا کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

یہ تبدیلی ان کے کفر کا بدلہ تھا۔ ذالک محل نصب میں ہے یعنی جذینا ھم ذالک بکفر ھم عام قراءت یجازی یاء مضموم اور زا مفتوحہ کے ساتھ ہے۔ الکفور نائب فاعل ہونے کی حیثیت سے مر فوع ہے۔ یعقوب، حفص، حمزہ اور کسائی نے نون مضموم اور راء مکسور کے ساتھ اور الکور کو نصب کے ساتھ قراءت کی ہے۔ ابو عبیدہ اور حاتم نے کہا : کیونکہ اس سے پہلے جزینا ھم ہے جو زوا نہیں کہا گیا۔ نحاس نے کہا : اس سے امر بڑا وسیع ہے اس میں معنی واضح ہے۔ اگر کوئی کہنے والا کہے : خلق اللہ تعالیٰ آدم (علیہ السلام) من طین اور دوسرا کہے : خلق آدم من طین دونوں کا معنی تو ایک ہی ہے۔ مسئلہ نمبر 1 :۔ اس آیت میں ایک سوال ہے اس سورت میں اس سے سخت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 15–19

قوم سباء کے باغات 1۔ احمد وعبد بن حمید وابن المنذر نے اپنی تاریخ میں والترمذی وحسنہ وابن المنذر والحاکم وصححہ وابن مردوہ فروہ بن مسیک المرادی ؓ سے روایت کیا کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا میں نے عرض کیا یارسول اللہ کیا میں لڑوں اس شخص کے ساتھ جو اس سے منہ پھیرے ہوئے ہے میری قوم میں سے یعنی اسلام سے ان کو ساتھ ملا کہ جو اسلام قبول کرچکے ہیں یعنی آپ نے مجھے اجازت دی اور امیر مقرر فرمایا جب میں آپ کے پاس ہو کر نکلا تو آپ نے مجھے واپس بلوایا میں آپ کے پاس لوٹ آیا تو آپ نے فرمایا اپنی قوم کو دعوت دو ان میں سے جو اسلام قبول کرے۔ اس سے یہ شہادت قبول کرے اور جو اسلام قبول نہ کرے اس کے بارے میں جلدی نہ کر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

ذٰلِكَ جَزَيْنٰهُمْ [یہ ہم نے بدلہ دیا ان کو ] بِمَا كَفَرُوْا ۭ [اس کے سبب سے جو انھوں نے نا شکری کی ] وَهَلْ نُجٰزِيْٓ [ اور ہم سزا نہیں دیتے ] اِلَّا الْكَفُوْرَ [مگر بہت ہی نا شکرے کو ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 15–18

قوم سباء پر اللہ تعالیٰ کے انعامات، پھر ناشکری کی وجہ سے نعمتوں کا مسلوب ہونا سبا ایک قوم تھی جو اپنے جد اعلیٰ سبا بن یشجب کی طرف منسوب تھی، یہ لوگ یعرب بن قحطان کی اولاد سے تھے اور یمن میں رہتے تھے، اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان کو بہت نوازا تھا، دائیں بائیں باغوں کی قطاریں چلی گئی تھیں، انہیں میں رہتے سہتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کی نعمتیں استعمال کرتے تھے، ان کے علاقہ کا نام مارب تھا جو شہر صنعاء سے (جو اب بھی موجود ہے) تین دن کی مسافت پر تھا، ان کو حکم دیا گیا تھا کہ اپنے رب کے رزق میں سے کھاؤ اور اس کا شکر بھی کیا کرو۔ روح المعانی میں مجمع البیان سے نقل کیا ہے کہ ان لوگوں کی تیرہ بستیاں تھیں اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 15–21

قصہء قوم سبا قال اللہ تعالی۔ لقد کان لسبا فی مسکنہم ایۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وربک علی کل شیء حفیظ۔ (ربط) گزشتہ آیات میں منیبین اور شاکرین کا قصہ ذکر فرمایا جو بندے اللہ کی نعمتوں کا شکر کرتے ہیں اب اس کے بالمقابل غیر منیبین اور غیر شاکرین کا ایک قصہ ذکر کرتے ہیں جو خدا کے ناسپاس اور ناشکرے تھے تاکہ لوگ اس سے نصیحت اور عبرت پکڑیں یعنی اہل سبا کا قصہ عبرت بیان کرتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ ناسپاسی اور ناشکری اور عدم انابت الی اللہ کا کیا انجام ہوتا ہے بعض عدم انابت کا وبال دنیا ہی میں ظاہر ہوجاتا ہے۔ اہل سبا کا قصہ بھی آیات قیامت میں سے ہے کہ حق جل شانہ نے ان کو جو سرسبز و شاداب باغات عطا کئے تھے وہ نمونہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

18:۔ ذلک جزیناھم الخ : یہ ہم نے ان کو ناشکری اور کفران نعمت کی سزا دی اور ہم ایسی سزا ناسپاس اور احسان فراموش لوگوں ہی کو دیا کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–17

گزشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے اثبات ، کفر کے رد ، وقوع قیامت اور نبوت و رسالت کے سلسلے میں کئی دلائل ذکر کئے۔ پھر اللہ کی طرف انابت رکھنے والے دو انبیاء حضرات دائود اور سلیمان (علیہما السلام) کا ذکر فرمایا۔ ان دو انبیاء کے واقعات میں قدرت کے نمونے بتلائے تاکہ لوگ رسالت اور قیامت کا انکار نہ کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان انبیاء کو خصوصی معجزات عطا فرمائے تھے۔ ان کی سلطنت بےمثال تھی جس میں عجیب و غریب قسم کا نظام تھا ، اللہ نے حضرت دائود (علیہ السلام) کے ہاتھ پر لوہے کو نرم کردیا تھا اور آپ اس سے بغیر مشقت کے زرہیں بناتے تھے ، آپ کو نہایت عمدہ آواز سے نوازا تھا۔ چناچہ جب آپ اپنی پرسوز آواز…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ذٰلِكَ جَزَيْنٰہُمْ بِمَا كَفَرُوْا۝ 0 ۭ وَہَلْ نُجٰزِيْٓ اِلَّا الْكَفُوْرَ۝ 17 جزا الجَزَاء : الغناء والکفاية، وقال تعالی: لا يَجْزِي والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَيْئاً [ لقمان/ 33] ، والجَزَاء : ما فيه الکفاية من المقابلة، إن خيرا فخیر، وإن شرا فشر . يقال : جَزَيْتُهُ كذا وبکذا . قال اللہ تعالی: وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، ( ج ز ی ) الجزاء ( ض ) کافی ہونا ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا } ( سورة البقرة 48 - 123) کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا ۔ کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے اور نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ذلک جزیناھم بما کفروا ہم نے یہ سزا ان کو ان کے کفر اور ناشکری کے بدلہ میں دی، وھل نجازی الا الکفور اور ہم کافروں اور ناشکروں ہی کو ایسی سزا دیا کرتے ہیں۔ اس بات کا تجربہ ہوگیا ہے کہ جب خدا تعالیٰ کی کسی نعمت کی ناشکری کی گئی وہ نعمت اس سے چھین لی گئی، خواہ جلدی ‘ خواہ دیر میں، تاریخ کھول کر دیکھ جاؤ کہ اس ناشکری اور بدکاری کے سبب دنیا میں کتنے خاندان برباد ہوئے، حال میں شاہان دہلی اور ان کے عیاش امراء کو دیکھ لو کہ کیا انجام ہوا ؟ جن محلوں میں رقص اور زنا کاری اور شراب خوری کی محفلیں ہوتی تھیں، ان کو اکھیڑ کر بنیادوں سمیت گرادیا گیا اور ان کی نحوست سے اور بھی برباد ہوگئے۔ ان کے ننگ و ناموس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 16–17

فَاَعْرضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ وَبَدَّلْنٰـہُمْ بِجَنَّـتَیْھِمْ جَنَّـتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُکُلٍ خَمْطٍ وَّاَثْلٍ وَّشَیْ ئٍ مِّن سِدْرٍ قَلِیْلٍ ۔ ذٰلِکَ جَزَیْنٰـھُمْ بِمَا کَفَرُوْا ط وَھَلْ نُجٰزِیْٓ اِلاَّ الْـکَفُوْرَ ۔ (السباء : 16، 17) (پس انھوں نے اعراض کیا اور سرتابی کی، تو ہم نے ان پر بند کا سیلاب بھیج دیا اور ان کے باغوں کو دو ایسے باغوں سے بدل دیا جن میں کڑوے کسیلے پھل اور جھائو کے درخت اور بیری کی کچھ جھاڑیاں رہ گئیں۔ یہ ہم نے ان کو ان کی ناشکری کا بدلہ دیا، اور ناشکرے انسان کے سوا ہم ایسا بدلہ کسی اور کو نہیں دیتے۔ ) مشکل الفاظ کی تشریح : عَرِم کے معنی اہل…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 15–17

فہم القرآن ربط کلام : حضرت سلیمان (علیہ السلام) بےپناہ وسائل کے حامل، زبردست حکمران اور انتہائی ترقی یافتہ مملکت کے سربراہ ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے تھے یہاں تک کہ موت کے وقت بھی اپنے رب کے شکر میں مشغول تھے ان کے بعد ایک نافرمان ترقی یافتہ قوم کا ذکر۔ قوم سبا کا علاقہ موجودہ یمن کی سرزمین تھی۔ سبا ایک شخص کا نام تھا جس کے دس بیٹے تھے۔ اس سے دس قبیلے معرض وجود میں آئے۔ اس قوم کے عروج وزوال کا دور صدیوں پر محیط ہے۔ ایک وقت تھا کہ اقتدار اور اختیار اور تہذیب و تمدن کے حوالے سے اس قوم کا طوطی بولتا تھا اور روم اور یونان کی تہذیبیں ان کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی تھیں۔ اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

17: ذٰلِکَ جَزَیْنٰھُمْ بِمَا کَفَرُوْا (ان کو یہ سزا ہم نے ناسپاسی کی وجہ سے دی) یعنی ان کو یہ سزا ان کی ناشکری کی دی۔ نحو : ذلک دوسرا مفعول ہے۔ جو مقدم لایا گیا۔ وَھَلْ نُجٰزِیْ اِلَّا الْکَفُوْرَ (اور ایسی سزا بڑے ناشکرے کو دیا کرتے ہیں) ۔ قراءت : کوفی قراء ابوبکر کے علاوہ نے یہ پڑھا۔ دیگر قراء نے ھل یُجَازٰی الا الکفور پڑھا۔ مطلب یہ ہوا اس جیسی سزا اس کو دی جاتی ہے جو نعمت کی ناشکری کرے اور بالکل قدر نہ کرے۔ نمبر 2: یا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے والے کو یہ سزا دی جاتی ہے۔ نمبر 3: یا یجازی بمعنی یعاقب ہے کیونکہ جزاءؔ کا لفـظ اگرچہ عام ہے اور معاقبت اور ثواب ہر دو معنی میں آتا ہے۔ لیکن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 17۔ ، ذلک جزیناھم بما کفروا، اسی طرح ہم نے کے کفر کا بدلہ ان کو دیا۔ ، وھل نجازی الا الکفور، حمزہ ، کسائی ، حفص ، یعقوب، ھل نجازی ، نمون کے ساتھ اور زاء کے کسرہ کے ساتھ ۔ ، الکفور، منصوب ہے۔ ، ذلک جزیناھم، کی وجہ سے اور دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ اور زا کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ، الکفور، کو مرفوع پڑھا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا ہم اس کو بدلہ دیں جیسا کافروں کو دیتے ہیں ۔ مجاہد کا قول ہے وہ بدلہ دے گا یعنی سزادے گا۔ جیسا کہ عقوبت میں لفظ یجازی بولا جاتا ہے اور ثواب کے موقع پر یجزی بولا جاتا ہے ۔ مقاتل کا بیان ہے کہ کیا اس کے برے اعمال کی پوچھ ہوگی جب کہ اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی ہوگی۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 15–17

15‘ 16۔ قوم سبابلقیس کی قوم کا نام ہے اس قوم کے بارشاہ جو تبع کہلاتے تھے وہ اپنے وطن کو خوب آباد کر گئے تھے جس سے سبا کے لوگ بڑی نعمت اور عیش و آرام میں تے کیونکہ اس ملک زراعت اور میوے بہت تھے بہت مزے سے گزارہ ہوتا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنے رسول بیجھے کہ ان کو ہدایت کریں کہ خدا کا دیا ہوا رزق کھائیں اور اس کی بندگی کرکے اس کا شکر کریں جب ان لوگوں نے نافرمانی کی ان کو اس طرح عذاب کیا گیا ان پر پانی کا نالہ بھیج دیا گیا جس کے سبب سے وہ قوم برباد ہو کر جدا جدا شہروں میں چلی گئی انصار کے قبیلے اس اور خزرج بھی اسی بربادی کے وقت یمن سے نکا کر مدینہ میں آباد ہوئے تھے وہ عذاب کا پانی سرخ تھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 15–21

آیت 15-21 ” سبا “ ایک معروف قبیلہ تھا جو یمن کے قریب ترین علاقوں میں آباد تھا۔ وہ ایک شہر میں آباد تھے جسے ” مارب “ کہا جاتا تھا۔ تمام بندوں پر عموماً اور عربوں پر خصوصاً اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم اور اس کی بےپایاں نعمتیں ہیں کہ اس نے قرآن مجید میں ان ہلاک شدہ قوموں کے بارے میں خبر دی ہے جن پر عذاب نازل کیا گیا، جو ان کے پڑوس میں آباد تھیں، جہاں ان کے آثار کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے اور لوگ ان کے واقعات کو ایک دوسرے سے نقل کرتے چلے آرہے ہیں ات کہ اس طرح ان کے واقعات کے ذریعے سیق رآن کی تصدیق ہوا اور یہ چیز نصیحت کے قریب تر ہو۔ (لقد کان لسبا فی مسکنھم) ” سبا کے لئے تھی ان کے مسکنوں میں “ یعنی ان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–54

اسلام میں مصوری کی ممانعت قول باری ہے (یعملون لہ مایشآء من محاریب وتماثیل۔ سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں بنوانا منظور ہوتیں مثلاً بڑی عمارتیں اور مجسمے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں تصاویر اور مجسمے بنانے کی اباحت تھی لیکن حضور ﷺ کی شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ آپ سے مروی ہے (لا یدخل الملائکۃ بیتا فیہ صورۃ۔ جس کھر میں کوئی تصویر ہوا اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے) نیز ارشاد ہے (من صورصورۃ کلف یوم القیمۃ ان یحیھا ولا فالنار ۔ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی ہوا سے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں زندگی پیدا کردے ورنہ جہنم میں جائے) ۔ نیز ارشاد ہے (لعن اللہ المصورین۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 16–17

46 بدبخت قوم کی ناشکری کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ اس ناشکری اور بدبخت قوم نے شکر کی بجائے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی بےقدری اور نا شکری کا ارتکاب ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر بھی ان لوگوں نے سرتابی ہی سے کام لیا اور اپنے خالق ومالک کی بخشی ہوئی نعمتوں کی بےقدری اور نا شکری کا ارتکاب کیا "۔ سو انہوں نے اپنے رب وحدہ لاشریک کی عبادت و بندگی کی بجائے انہوں ٖ نے شرک کو اپنایا۔ اس کی نعمتوں پر شکر کرنے کی بجائے کفر و ناشکری سے کام لیا۔ اور وہب کی روایت کے مطابق ان لوگوں نے ان تیرہ انبیائے کرام کی تکذیب کی جو ان کی طرف بھیجے گئے تھے۔ (حاشیہ جامع البیان : ج 2 ص 178) ۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–19

اہل سبا کی ناشکری اور اس کی سزا تشریح : ابن کثیر نے فرمایا کہ ” سبا یمن کے بادشاہوں اور اس ملک کے باشندوں کا لقب ہے۔ قوم سبا اور ملکہ بلقیس کا واقعہ جو سورة النحل میں گزر چکا ہے وہ بھی اسی قوم میں سے تھی “۔ یہ بڑے خوش حال اور فارغ البال تھے مگر ناشکری اور نافرمان قوم تھی انبیاء ان کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے مگر یہ نہ سدھرے یہ لوگ ہر طرح سے پُر آسائش زندگیاں گزار رہے تھے کیونکہ ان کا علاقہ یمن کا ایک حصہ تھا۔ اور یہ لوگ کافی ترقی یافتہ اور محنتی تھے۔ نقشہ پر دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ یمن کا اکثر حصہ کوہستانی ہے کوئی دریا نہیں بہتا بس بارش کے پانی سے جو ندی نالے بہتے انہی سے کہیں کہیں کھیتی باڑی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–21

رکوع نمبر 2: آیات 10 تا 21: اسرار و معارف : داود (علیہ السلام) کو ہم نے بہت زیادہ نعمتیں عطا کیں۔ یہاں تک کہ پہاڑوں اور پرندوں تک کو حکم دی ا کہ ان کے ساتھ میری تسبیح کرو۔ مفسرین کے مطابق پہاڑ اور پرندے داود (علیہ السلام) کے ساتھ اس طرح ذکر کرتے تھے کہ عام سننے والا بھی سنتا تھا اور یہ اس تسبیح کے علاوہ تھی جو ہر شے کرتی ہے یعنی اگر کسی کے ساتھ بہت سے افراد اللہ کا ذکر کرنے لگ جائیں تو یہ اللہ کا بہت بڑا انعام ہے جو اس کے خاص بندوں کو نصیب ہوتا ہے نیز ان کے لیے بطور معجزہ لوہے کو نرم کردیا کہ لوہے کی زرہیں بنا کر تیار کریں اور حکم دیا کہ زرہ کی کڑیاں خوبصورت انداز میں جوڑیں۔ سب سے پہلے سامان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 یعنی اسی سخت سزا صرف انہی لوگوں کو دی جاتی ہے جو ناشکری پر اترآتے ہیں اور سڑک سے بڑھ کرنا شکری کیا ہوسکتی ہے۔ سورة نمل میں گزر چکا ہے کہ یہ لوگ سورج کی پوجا کرتے تھے۔ ( ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(34:17) ذلک۔ یہ تبدیلی۔ جزینہم۔ جزینا ماضی جمع متکلم ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب جزاء (باب ضرب) مصدر۔ ہم نے ان کو بدلہ دیا۔ ہم نے ان کو سزا دی۔ بما میں با سببیہ ہے۔ ما موصولہ۔ بہ سبب ان کی ناشکری کے۔ ان کے کفر کے۔ ھل۔ کیا۔ یہاں ھل نافیہ ہے۔ نہیں کے معنی ہیں۔ الکفور۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ بوجہ مفعول ہونے کے منصوب ہے۔ کافر، ناشکرا۔ ناسپاس۔ احسان فراموش۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 15–21

لغات القرآن : آیت نمبر 15 تا 21 مسکن : رہنے کی جگہ (آبادی) جنتن : دو باغ (دو رویہ باغ) یمین : داہنے شمال : بائیں طیبۃ : پاکیزہ ۔ صاف ستھری سیل : سیلاب العرم : بند۔ ڈیم اکل : پھل خمط : کڑوا۔ کسیلا اثل : جھاؤ سدر : بیری قرا : بستیاں ظاھرۃ : نظر آنے والی۔ کھلی ہوئی بعد : دور کردے۔ درازے کردے احادیث : باتیں صبار : بہت صبر کرنے والا صدق : سچ کر دکھایا سلطن : طاقتور ۔ زور دار تشریح نمبر 15 تا 21 نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ” سبا “ عرب کے ایک شخص کا نام تھا جس کی نسل سے عرب میں کندہ ، ازد، اشعرمین، مذحج، عاملہ، جذام، لخم ، غسان اور انمار (جس کی دو شاخیں ہیں (خشم اور بخیلہ ) قبیلے تھے۔ ( ترمذی) قوم سبا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 15–18

قوم کی نافرمانی کا انجام۔ (ف 1) اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں فرمایا کہ قوم سبا کے لیے ان کی بستی میں یہ نشانی اللہ کی قدرت کی تھی کہ وہ دو باغ دائیں اور بائیں طرف رکھتے تھے یہ باغ ایسے سرسبز تھے اور ابن قدر کثرت سے ان میں میوے کی پیداوار تھی کہ کوئی عورت ٹوکرا سر کے اوپر رکھ کردرختوں کے نیچے سے گزرتی تو خود بخود ٹوکرا میوے سے بھرجاتا ہے اور ہم نے حکم دیا تھا کہ کہ اپنے پروردگار کی دی ہوئی روزی کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو تمہارے لیے دنیا میں رہنے کو عمدہ شہر ہے اور آخرت میں گناہ بخشنے والا پروردگار ہے جب ان لوگوں نے اللہ کی نصیحت کو نہ مانا اور بت پرستی نہ چھوڑی تو ان پر یہ آفت آئی کہ قوم سبا کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 16–17

[16] قوم سبا ایک متمدن قوم تھی۔ اس نے پہاڑوں سے نکلنے والے پانی کے ذخیرہ کے لئے ایک بہت بڑا بند تعمیر کیا تھا جو انجینئرنگ کا اعلیٰ نمونہ تھا۔ جب اہل سبا نے اللہ کی نافرمانی کی اور اس کی نعمتوں کا کفران کیا تو اللہ کے حکم سے وہ بند ٹوٹ گیا اور تمام باغات اور زمینیں غرقاب ہوگئیں۔ یہ بند ظہور اسلام سے کچھ قبل ٹوٹا تھا اور اس کی تباہ کاریوں کے آثار صدیوں تک قائم رہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 16–20

ف 2: فرمایا ۔ ان میں سے چند مومنوں کے سوا سب لوگوں نے شیطان کی پیروی کی اور اس کے مزعوبات کو سچا ثابت کرکے دکھایا یعنی یہ بات جو اس نے کہی تھی ۔ کہ میں نجدان لوگوں کو گمراہ کرکے رہونگا ۔ فبعزتک لاغریتھم وہ پوری ہوئی ۔ اور یہ لوگ اس کے چنگل میں گرفتار ہوگئے ۔ یعنی ان لوگوں کی مگر اہ یمحض اس قانون ازلی کے مطابق ہے کہ دنیا میں ہمیشہ دو گروہ موجود رہیں گے ایک وہ جو عقبیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے ۔ اور دوسرا وہ جو مادیت پرست ہے ان دو قسم کے خیالات کا بقاء دنیا کے تکوینی مقاصد کے لئے ضروری ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(17) ہم نے ان کو یہ سزا ان کی اس ناشکری اور ناسپاسی کے سبب دی جس کے وہ مرتکب ہوتے تھے اور ہم ایسی سزا صرف اسی کو دیا کرتے ہیں جو بڑا ناسپاس ہو۔ ضحاک کہتے ہیں کہ یہ لوگ فترت کے زمانے میں تھے یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور جناب سیدالمرسلین ﷺ کے درمیان کا زمانہ، اگر یہ دور ہو تو شاید حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے وصی ان کو سمجھانے آتے ہوں گے۔ بہرحال ! پیام خداوندی ان کو کسی نہ کسی ذریعے سے پہنچا ہوگا اور نافرمانی کے باعث یہ تباہی آئی ہوگی۔ بند ٹوٹنے کا سبب گھونس ہوں یا چوہے ہوں، ظاہری طور پر کوئی سبب ہوا ہو لیکن یہ واقعہ ہے کہ مآرب ویران کیا گیا اور ان کی نافرمانی اور ناسپاسی کے باعث ویران ہوا۔…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 16–19

ف 1۔ یعنی جو سیلاب بند سے رکا رہتا تھا بند ٹوٹ کر اس سیلاب کا پانی چڑھ آیا جس سے ان کے دو رویہ باغات سب غارت ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے کفر کی سزا دی اس طرح جس طرح وہ سزا دیا کرتا ہے 17 ۔ ایک طرف تو ان کے انعامات کا ذکر تھا اور ان کی اس حالت کا جب خوشحالی سے وقت گزار رہے تھے اور باغوں اور میووں میں سرمست تھے کہ انہوں نے ان انعامات الٰہی کا شکر ادا کرنے کی بجائے ٹھنڈے دودھ کو پھونکیں لگانا شروع کردیں اور ایسے مفرور ہوئے کہ یہ انعامات کرنے والا ان کو کبھی بھول کر بھی یاد نہ آیا۔ ایک مدت تک ان سے درگزر کی گئی اور قانون الٰہی کے مطابق ان کو ڈھیل دی گئی لیکن انہوں نے اس ڈھیل سے بھی کوئی فائدہ نہ اٹھایا اور ہم چوما دیگر نیست کی ڈینگیں مارتے ہی رہے پھر اللہ تعالیٰ کو اپنی سنت کے مطابق عذاب میں گھیر دیا اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The next verse: ذَٰلِكَ جَزَيْنَاهُم بِمَا كَفَرُ‌وا (Thus We punished them because of their ungratefulness.- 34:17) means that they were punished because they committed kufr. Kufr has two meanings. It could mean ungratefulness and it could mean the denial of the true faith. At this place, both meanings can be applied because they did both. They were ungrateful and they rejected the thirteen prophets sent to them. Special Note There are two things here that are likely to raise a question. It has been said earlier that Allah Ta’ ala had sent thirteen prophets to the people of Saba'. Then, it…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 16–17

28 That is, "They adopted the way of disobedience and ingratitude instead of obedience and gratefulness." 29 The word 'arim as used in sayl al- arim in the Text is derived from the South Arabic word ariman, which stands for a "dam". In the ancient inscriptions that have been unearthed in the ruins of the Yaman, this word has been commonly used in this meaning. For example, in an inscription dated 542 or 543 A.D., which Abraha, the Abyssinian governor of the Yaman, had got installed after the repairs to the great dam of Maa`rib, this word has been used repeatedly in the meaning of a dam.…

Read the full tafseer →