Explained with ayahs 18–19
ان پر جو نعمتیں تھیں ان کا ذکر ہو رہا ہے کہ قریب قریب آبادیاں تھیں۔ کسی مسافر کو اپنے سفر میں توشہ یا پانی ساتھ لے جانے کی ضرورت نہ تھی۔ ہر ہر منزل پر پختہ مزے دار تازے میوے خوشگوار میٹھا پانی موجود ہر رات کو کسی بستی میں گذار لیں اور راحت و آرام امن وامان سے جائیں آئیں کہتے ہیں کہ یہ بستیاں صنعا کے قرب و جوار میں تھیں، باعد کی دوسری قرأت بعدہ۔ اس راحت و آرام سے وہ پھول گئے اور جس طرح بنو اسرائیل نے من سلویٰ کے بدلے لہسن پیاز وغیرہ طلب کیا تھا انہوں نے بھی دور دراز کے سفر طے کرنے کی چاہت کی تاکہ درمیان میں جنگل بھی آئیں غیر آباد جگہیں بھی آئیں کھانے پینے کا لطف بھی آئے۔ قوم موسیٰ کی اس طلب نے…
Read the full tafseer →سورة سَبـَا 31
" برکت والی بستیوں " سے مراد شام و فلسطین کا علاقہ ہے جسے قرآن مجید میں عموماً اسی لقب سے یاد کیا گیا ہے (مثال کے طور پر ملاحظہ ہو الاعراف، آیت 137۔ بنی اسرائیل، آیت 1۔ الانبیاء، آیات 71 و 81)
نمایاں بستیوں سے رماد ہیں ایسی بستیاں جو شاہراہ عام پر واقع ہوں، گوشوں میں چھپی ہوئی نہ ہوں، اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ وہ بستیاں بہت زیادہ فاصلے پر نہ تھیں بلکہ متصل تھیں۔ ایک بستی کے آثار ختم ہونے کے بعد دوسری بستی کے آثار نظر آنے لگتے تھے۔
سفر کی مسافتوں کو ایک اندازے پر رکھنے سے مراد یہ ہے کہ یمن سے شام تک کا پورا سفر مسلسل آباد علاقے میں طے ہوتا تھا جس کی ہر منزل سے دوسری منزل تک…
Read the full tafseer →اور رکھی تھیں ہم نے ان میں اور ان بستیوں میں جہاں ہم نے برکت رکھی ہے ایسی بستیاں جو راہ پر نظر آتی تھیں اور منزلیں مقرر کردیں ہم نے ان میں آنے جانے کی پھرو ان میں راتوں کو اور دنوں کو امن سے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
وجعلنا بیھم وبین القری التی برکتا فیھا قری ظھرۃ وقدرنا فیھا البر سیروا فیھا لیالی وایا ما امنین
’ القری التی برکنا فیھا ‘ سے ملک شام وغیرہ کی طرف اشارہ ہے جن کے ساتھ اہل سبا کے تجارتی تعلقات تھے۔ یہ ملک بہت زرخیز تھے اس وجہ سے اس کی صفت ’ برکنا فیھا ‘ آئی ہے۔ زرخیز مال سے تجارتی تعلقات بجائے خود آمدنی اور رفاہیت کا ذریعہ ہوتے ہیں۔
قری ظھرۃ سے مراد وہ شہر اور قصبات ہیں جو اس شاہرہ پر واقع تھے جس کے دونوں جانب باغوں کی قطاریں تھیں۔ یعنی ان بستیوں کے علاوہ جو اندروںِ ملک واقع تھیں موزوں فاصلوں سے اس شاہراہ پر بھی بستیاں آباد تھیں جو ان کے لئے منزلوں کا کام دیتی تھیں۔ وہ ان میں بےخوف و خطرٹھہرتے،…
Read the full tafseer →18۔ 1 برکت والی بستیوں سے مراد شام کی بستیاں ہیں یعنی ہم نے ملک سبا (یمن) اور شام کے درمیاں لب سڑک بستیاں آباد کی ہوئی تھیں بعض نے ظاھرۃ کے معنی متواصلۃ ایک دوسرے سے پیوست اور مسلسل کے لیے ہیں مفسریں نے ان بستیوں کی تعداد 4 ہزار سات سو بتلائی ہے یہ ان کی تجارتی شاہراہ تھی جو مسلسل آباد تھی جس کی وجہ سے ایک تو ان کے کھانے پینے اور آرام کرنے کے لیے زاد راہ ساتھ لینے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی دوسرے ویرانی کی وجہ سے لوٹ مار اور قتل و غارت کا جو اندیشہ ہوتا ہے وہ نہیں ہوتا تھا
18۔ 2 یعنی ایک آبادی سے دوسری آبادی کا فاصلہ متعین اور معلوم تھا، اور اس کے حساب سے وہ بہ آسانی اپنا سفر طے کرلیتے تھے۔ مثلا…
Read the full tafseer →11: اس سے مراد شام اور فلسطین کے علاقے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان علاقوں کو ظاہری حسن اور شادابی سے بھی نوازا ہے اور انبیاء کرام کی سر زمین ہونے کا بھی شرف عطا فرمایا ہے۔
12: یہ اللہ تعالیٰ کے ایک اور انعام کا ذکر ہے جو سبا کی قوم پر فرمایا گیا تھا۔ یہ لوگ تجارتی مقاصد کے لیے یمن سے شام کا سفر کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی سہولت کے لیے یہ انتظام فرمایا تھا کہ یمن سے لے کر شام تک کے پورے علاقے میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر بستیاں بسائی تھیں جو سفر کے دوران تھوڑے تھوڑے وقفے سے نظر آتی رہتی تھیں۔ اس کا ایک فائدہ تو یہ تھا کہ سفر کو آسان مرحلوں میں تقسیم کیا جاسکتا تھا، اور مسافر جہاں چاہے،…
Read the full tafseer →وجعلنا بینھم ۔۔۔۔۔ وایاما امنین (18) ” “۔ یہ راستہ ایسا تھا کہ مسافر اور قافلے صبح نکلتے اور اندھیرا ہونے سے پہلے دوسرے شہر تک پہنچ جاتے۔ لہٰذا ان شہروں کے درمیان محدود فاصلے کا سفر ہوتا اور یہ راستہ مسافروں کے لیے نہایت ہی امن وامان کا اور محفوظ ہوتا تھا۔ روز کے سفر کے بعد مسافر آرام کرسکتے تھے اور ان کو جگہ جگہ سروسز کی سہولیات مل جاتی تھیں۔
Read the full tafseer →9 برکت والی بستیاں ملک شام کی ہیں یعنی ان کے ملک سے شام تک راستے مامون تھے۔ سڑک کے کنارے کنارے دیہات کا سلسلہ ایسے اندازے اور تناسب سے چلا گیا تھا کہ مسافر کو ہر منزل پر کھانا، پانی اور آرام کرنے کا موقع ملتا تھا۔ آبادیوں کے قریب ہونے اور جلد جلد نظر آنے سے مسافر کا جی نہیں گھبراتا تھا، نہ چوروں ڈاکوؤں کا خوف تھا۔ سفر کیا تھا ایک طرح کی سیر تھی۔ مصنف ارض القرآن لکھتا ہے۔ " سبا " کی دولت و ثروت کی اساس صرف تجارت تھی۔ یمن ایک طرف سواحل ہندوستان کے مقابل واقع ہے۔ اور دوسری طرف سواحل افریقہ کے۔ سونا، بیش قیمت پتھر، مسالہ، خوشبوئیں، ہاتھی دانت، یہ چیزیں حبش اور ہندوستان سے ٹھیک یمن آکر اترتی تھیں،…
Read the full tafseer →آیت 18{ وَجَعَلْنَا بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ الْقُرَی الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْہَا قُرًی ظَاہِرَۃً } ”ہم نے ان کے علاقے اور ان بستیوں کے درمیان جنہیں ہم نے برکت عطا کر رکھی تھی واضح نظر آنے والی بستیاں قائم کردی تھیں“
یہاں پر ”بابرکت بستیوں“ سے ارض فلسطین مرا د ہے۔ اس ضمن میں سورة بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں مذکور بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ کے الفاظ بھی مدنظر رہنے چاہئیں۔ آیت زیر مطالعہ میں دراصل اس زمانے کی ایک اہم شاہراہ کا ذکر ہوا ہے جس پر یورپ اور ایشیا کے مابین ہونے والی تجارت کے حوالے سے قوم سبا کی اجارہ داری تھی۔ جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر ہوچکا ہے ‘ یہ اپنے زمانے کی ایک بہت خوشحال اور طاقتور قوم تھی۔…
Read the full tafseer →29 ان کی ترقی اور خوشحالی کی دوسری وجہ ان کا تجارتی نظام تھا۔ ایسی سرزمین جسے ہم نے برکت دے رکھی ہے کے الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ ان دنوں یہ چار ماہ سفر تھا اور اس تجارتی شاہراہ کو اللہ تعالیٰ نے امام مبین کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے اسی تجارتی شاہراہ پر قریش کے تجارتی قافلے مکہ سے شام تک سفر کرتے تھے۔ یہ تجارتی شاہراہ اس لحاظ سے تھی کہ برلب سڑک اور نزدیک نزدیک آبادیاں موجود تھیں۔ جہاں مسافروں کو کھانا پانی مل سکتا تھا ایک بستی پر انسان پہنچ جائے تو اگلی بستی سامنے نظر آنے لگتی تھی (اور یہ قریً ظَاھِرَۃً کا مطلب ہے) اس شاہراہ کی بڑی خوبی یہ تھی کہ کوئی شخص جس وقت بھی آرام کرنا چاہتا تو وہ…
Read the full tafseer →29۔ یعنی رات دن جب چاہو، بآرام و اطمینان سفر کرسکتے ہو، نہ رہزن کا کوئی خطرہ، نہ کسی بےسروسامانی کا اندیشہ، راہ میں قدم قدم پر آبادیاں، اور ہر جگہ کھانے پینے کا سامان بفراغت۔ گویا راستہ بھر حفاظت کے لئے پولیس کی چوکیاں اور کھانے پینے کے لئے ہوٹل، (آیت) ” القری التی برکنا فیھا “۔ مراد ملک شام کے مقامات ہیں۔ وھی قری الشام (بیضاوی) والقری التی بورک فیھا بلاد الشام باجماع من المسرین (بحر۔ ون ابن عطیہ) (آیت) ” قری ظاہرۃ “۔ ایسے شہر جو عام شاہراہ سے بآسانی نظر آجائیں۔ یعنی لب سڑک آبادیاں۔ (آیت) ” قدرنا فیھا السیر “۔ یہ اہل سبا ایک بڑی تاجر قوم تھی۔ بحری تجارت ہمیشہ بیشمار دولت کا سبب بن جاتی ہے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
آیت نمبر 15 تا 21
ترجمہ : قوم سبا کے لئے (سبا) منصرف اور غیر منصرف (دونوں ہیں) سبا ایک قبیلہ کا نام ہے ان کے عربی جد اعلیٰ کے نام پر رکھا گیا ہے یمن میں ان کی بستیوں میں خدا کی قدرت کی نشانی تھی ان کے دائیں بائیں دورویہ باغ تھے یعنی ان کی وادی کے دائیں بائیں جانب جنتان، آیۃ سے بدل ہے، ان سے کہا گیا اپنے رب کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور ملک سبا میں تم کو دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کرو یہ عمدہ شہر ہے یعنی اس میں نہ زمین شور ہے اور نہ مچھر نہ مکھی، اور نہ پسو اور نہ بچھو اور نہ سانپ اور (اگر) اس شہر سے ایسا مسافر گذرتا کہ اس کے کپڑوں میں جوئیں ہوتیں تو وہ شہر کی پاکیزہ ہوا کی وجہ سے مرجاتیں اور بخشنے…
Read the full tafseer →وجعلنا بینھم وبین القری التی برکنا فیھا قری ظاہرہ وقدرنا فیھا السری سیروا فیھا
لیالی وایامًا امنین . اور ہم نے ان کے اور ان بستیوں کے درمیان جن کے اندر ہم نے برکت (پھول پھل کی کثرت اور دریاؤں کی بہتات) کر رکھی تھی ‘ بہت سے گاؤں آباد کر رکھے تھے جو نظر آتے تھے اور ہم نے ان دیہات کے درمیان ان کے چلنے کا ایک خاص انداز رکھا تھا اور کہہ دیا تھا کہ بےخوف و خطر امن کے ساتھ چلو۔ وَجَعَلْنَا کا عطف بَدَّلْنَا پر اگرچہ واقع میں تبدیل مؤخر تھی ‘ واؤ اس جگہ صرف عطف ذکری کیلئے ہے ‘ ترتیب کیلئے نہیں ہے۔
بَیْنَھُمْ اہل سبا کے درمیان۔ بَیْنَ الْقُرَی الَّتِیْ بَارَکْنَا فِیْھَا یعنی ملک شام کی بستیاں جہاں…
Read the full tafseer →اور ہم نے اہل سبا اور اردن و فلسطین والوں کے درمیان جہاں ہم نے پانی اور درختوں سے برکت کر رکھی ہے بہت سے گاؤں آباد کر رکھے تھے جو سڑک پر سے ہی نظر آتے تھے اور ہم نے ان بستیوں کے درمیان رات گزارنے اور آرام کرنے کا ایک خاص انداز رکھا تھا۔
کہ بھوک و پیاس اور رہزنوں سے مطمئن ہو کر ان میں سفر کرو اس کے بعد پھر انبیاء کرام نے ان سے فرامیا کہ اب بھی اپنے پروردگار کی نعمتوں کا شکر ادا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ جس طرح اس نے تم سے پہلی نعمت چھین لی یہ بھی چھین لے۔
Read the full tafseer →وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْقُرَى الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا۔۔ : برکت والی بستیوں سے مراد شام کا علاقہ ہے۔ قرآن مجید میں اکثر برکت والی زمین شام کی سر زمین کو کہا گیا ہے۔ دیکھیے سورة اعراف (137) ، بنی اسرائیل (1) اور سورة انبیاء (71 اور 81) یعنی یمن سے شام تک سڑک کے کنارے مسلسل بستیاں تھیں، جو پہاڑیوں یا اونچی جگہوں پر بنائی گئی تھیں اور ایک دوسری سے اتنی قریب تھیں کہ ایک بستی سے دوسری بستی نظر آتی تھی اور ایسے اندازے اور تناسب سے آباد تھیں کہ مسافر کو ہر منزل پر کھانا، پانی اور آرام کا موقع ملتا تھا۔ آبادیوں کے قریب ہونے اور نظر آتے رہنے کی وجہ سے نہ مسافروں کا دل گھبراتا تھا، نہ…
Read the full tafseer →وجعلنا بینھم و بین القری التی برکنا فیھا قری ظاھرۃ حضرت حسن بصری (رح) نے کہا : یعنی یمن اور شام کے درمیان بستیاں جنکے درمیان برکت رکھ دی گئی جیسے شام، اردن اور فلسطین (1) (تفسیر الحسن البصری، جلد 4 صفحہ 322 ) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : برکت جن بستیوں میں رکھی گئی تھی وہ چار ہزار سات سو دیہات تھے۔ ان کے درختوں، پھلوں اور پانی میں برکت رکھ دی گئی تھی۔ یہ بھی احتمال موجود ہے کہ کثرت تعداد کے ساتھ ہم نے ان میں برکت رکھی ہو۔ قری ظاھرۃ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد مدینہ اور شام کا درمیانی علاقہ ہے۔ قتادہ نے کہا : ظاہرۃ کا معنی ہے وہ راستہ پر متصل تھیں۔ وہ صبح چلتے اور ایک بستی میں قیلو لہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
قوم سباء کے باغات
1۔ احمد وعبد بن حمید وابن المنذر نے اپنی تاریخ میں والترمذی وحسنہ وابن المنذر والحاکم وصححہ وابن مردوہ فروہ بن مسیک المرادی ؓ سے روایت کیا کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا میں نے عرض کیا یارسول اللہ کیا میں لڑوں اس شخص کے ساتھ جو اس سے منہ پھیرے ہوئے ہے میری قوم میں سے یعنی اسلام سے ان کو ساتھ ملا کہ جو اسلام قبول کرچکے ہیں یعنی آپ نے مجھے اجازت دی اور امیر مقرر فرمایا جب میں آپ کے پاس ہو کر نکلا تو آپ نے مجھے واپس بلوایا میں آپ کے پاس لوٹ آیا تو آپ نے فرمایا اپنی قوم کو دعوت دو ان میں سے جو اسلام قبول کرے۔ اس سے یہ شہادت قبول کرے اور جو اسلام قبول نہ کرے اس کے بارے میں جلدی نہ کر…
Read the full tafseer →وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ [اور ہم نے بنائیں ان کے درمیان ] وَبَيْنَ الْقُرَى الَّتِيْ [اور ان بستیوں کے درمیان ] بٰرَكْنَا فِيْهَا [ہم نے برکت دی جن میں ] قُرًى ظَاهِرَةً [کچھ نظر آنے والی بستیاں ] وَّقَدَّرْنَا فِيْهَا [اور ہم نے مقررکیں ان میں (منزلیں)] السَّيْرَ [سفر کرنے کے لئے ] سِيْرُوْا فِيْهَا [تم لوگ کرو ان میں ] لَيَالِيَ [راتوں کے وقت ] وَاَيَّامًا [اور دنوں کے وقت ] اٰمِنِيْنَ [امن میں ہونے والے ہوتے ہوئے ] ۔
نوٹ۔ 1: برکت والی بستیوں سے مراد شام اور فلسطین کا علاقہ ہے جن کے ساتھ اہل سبا کے تجارتی تعلقات تھے، نمایاں بستیوں سے مراد وہ بستیاں ہیں جو تجارتی شاہراہ پر آباد تھیں اور ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
قوم سباء پر اللہ تعالیٰ کے انعامات، پھر ناشکری کی وجہ سے نعمتوں کا مسلوب ہونا
سبا ایک قوم تھی جو اپنے جد اعلیٰ سبا بن یشجب کی طرف منسوب تھی، یہ لوگ یعرب بن قحطان کی اولاد سے تھے اور یمن میں رہتے تھے، اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان کو بہت نوازا تھا، دائیں بائیں باغوں کی قطاریں چلی گئی تھیں، انہیں میں رہتے سہتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کی نعمتیں استعمال کرتے تھے، ان کے علاقہ کا نام مارب تھا جو شہر صنعاء سے (جو اب بھی موجود ہے) تین دن کی مسافت پر تھا، ان کو حکم دیا گیا تھا کہ اپنے رب کے رزق میں سے کھاؤ اور اس کا شکر بھی کیا کرو۔ روح المعانی میں مجمع البیان سے نقل کیا ہے کہ ان لوگوں کی تیرہ بستیاں تھیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
قصہء قوم سبا
قال اللہ تعالی۔ لقد کان لسبا فی مسکنہم ایۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وربک علی کل شیء حفیظ۔
(ربط) گزشتہ آیات میں منیبین اور شاکرین کا قصہ ذکر فرمایا جو بندے اللہ کی نعمتوں کا شکر کرتے ہیں اب اس کے بالمقابل غیر منیبین اور غیر شاکرین کا ایک قصہ ذکر کرتے ہیں جو خدا کے ناسپاس اور ناشکرے تھے تاکہ لوگ اس سے نصیحت اور عبرت پکڑیں یعنی اہل سبا کا قصہ عبرت بیان کرتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ ناسپاسی اور ناشکری اور عدم انابت الی اللہ کا کیا انجام ہوتا ہے بعض عدم انابت کا وبال دنیا ہی میں ظاہر ہوجاتا ہے۔ اہل سبا کا قصہ بھی آیات قیامت میں سے ہے کہ حق جل شانہ نے ان کو جو سرسبز و شاداب باغات عطا کئے تھے وہ نمونہ…
Read the full tafseer →19:۔ وجعلنا الخ : یہ لقد کان لسبا فی مسکنہم الخ کا اعادہ ہے بوجہ بعد عہد یعنی انعام دیگر کا ذکر ہے۔ یہ بھی اہل سبا پر اللہ تعالیٰ کا ایک انعام تھا۔ القری التی بارکنا فیہا سے ملک شام کے شہر مراد ہیں۔ یہ سرزمین سر سبز و شاداب اور ہر قسم کے پھلوں اور دیگر نعمتوں سے مالا مال تھی۔ والمراد بالقری التی بورک فیہا قری الشام وذلک بکثرۃ اشجارھا واثمارھا والتوسعۃ علی اھلہا (روح ج 22 ص 129) اور قری ظاھرۃ وہ بستیاں جو برلب سڑک واقع تھیں۔ قال قتادۃ معنی ظاھرۃ متصلۃ علی الطریق۔ (قرطبی ج 14 ص 289) ۔ قدرنا فیہا السیر : راستے پر واقع ان بستیوں کا باہمی فاصلہ ایسا مناسب کہ ایک بستی سے چل کر جلدی ہی دوسری آبادی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
ربط آیات
اس رکوع میں اللہ نے قوم سبا کا ذکر فرمایا ہے۔ گزشتہ آیات میں پہلے اس قوم پر کئے جانے والے انعامات کا ذکر کیا اور فرمایا کہ ہم نے ان کو شہروں کی پرامن زندگی اور ہر طرح کی خوشحالی عطا فرمائی تھی مگر انہوں نے خدا تعالیٰ کی ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے سے اعراض کیا تو اللہ نے تاریخی ڈیم میں سے تباہ کن سیلاب بھیج کر ان کے باغات اور شہری آبادیاں تباہ و برباد کردیں اور ان کی زمین سے زرخیزی کی صلاحیت ہی ختم کردی۔ اب پھلدار درختوں کی بجائے وہاں جنگلی جھاڑ بوٹ اگتا تھا جو یا تو بےپھل ہوتا تھا یا اس کا پھل کڑوا کسیلا تھا۔ البتہ بہت کم مقدار میں بعض جگہ جنگلی بیر ہوجاتے تھے۔ اب آج کے درس میں اللہ…
Read the full tafseer →وَجَعَلْنَا بَيْنَہُمْ وَبَيْنَ الْقُرَى الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْہَا قُرًى ظَاہِرَۃً وَّقَدَّرْنَا فِيْہَا السَّيْرَ 0 ۭ سِيْرُوْا فِيْہَا لَيَالِيَ وَاَيَّامًا اٰمِنِيْنَ 18
جعل
جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها،
( ج ع ل ) جعل
یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔
بين
بَيْن موضوع للخلالة بين الشيئين ووسطهما . قال تعالی: وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] ، يقال : بَانَ كذا أي : انفصل وظهر ما کان مستترا منه، ولمّا اعتبر فيه معنی الانفصال والظهور استعمل في كلّ واحد منفردا، فقیل للبئر البعیدة القعر :…
Read the full tafseer →فقال وجعلنا بینہم و بین القری التی بارکنا فیہا قری ظاھرۃ کہ ہم نے ان کے وطن سے لے کر ان بستیوں تک کہ جن میں میوئوں اور باغوں کی وجہ سے برکت دے رکھی تھی، درمیان میں ظاہر بستیاں آباد کردی تھیں یعنی یہاں سے لے کر وہاں تک درمیان میں آباد گائوں تھے جو ایک گائوں سے دوسرا گائوں دکھائی دیتا تھا۔ آس پاس اور کثرت آبادی کی وجہ سے۔
اکثر مفسرین القری التی بارکنا فیہا سے مراد شام کی بستیاں لیتے ہیں کہ یمن سے شام تک جو وہ تجارت کے لیے جاتے تھے تو رستہ میں قریب قریب گائوں پڑتے تھے، مگر عرب کا نقشہ اور جغرافیہ سامنے رکھنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بیچ میں ریگستان کے جنگل اور خشک پہاڑ بھی منزلوں تک ہیں، جہاں…
Read the full tafseer →وَجَعَلْنَا بَیْنَھُمْ وَبَیْنَ الْقُرَی الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْھَا قُرًی ظَاہِرَۃً وَّ قَدَّرْنَا فِیْھَا السَّیْرَ ط سِیْرُوْا فِیْھَا لَیَالِیَ وَاَیَّامًا اٰمِنِیْنَ ۔ (السباء : 18)
(اور ہم نے ان کے درمیان اور ان بستیوں کے درمیان جن کو ہم نے برکت دی تھی نمایاں بستیاں آباد کی تھیں اور ان بستیوں کے درمیان سفر کی منزلیں ٹھہرا دی تھیں، چلو پھرو ان بستیوں میں رات دن بےخوف و خطر۔ )
اہلِ سبا پر انعاماتِ الٰہی کی مزید تفصیل
جس طرح اللہ تعالیٰ نے ملک سبا کو اندرونی طور پر زرخیز اور شاداب بنایا تھا اور جس کی وجہ سے اہل ملک دولت و ثروت میں کھیلتے تھے اور ان کی شاہراہِ عام کے دونوں طرف باغات کا ایسا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : قوم سبا کا تمدّن۔
قوم سبا اپنے دور میں نظام آبپاشی اور زراعت میں ہی خود کفیل اور انتہائی ترقی یافتہ نہ تھی بلکہ تہذیب و تمدّن کے اعتبار سے بھی اپنی مثال آپ اور باکمال تھی۔ اس کے اکثر شہر اور بستیاں شاہراؤں پر واقع تھے جس سے سفر آسان، محفوظ اور مسافروں کو کھانے پینے اور قیام میں کوئی دقت پیش نہیں آیا کرتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تعمیر و ترقی کی ایسی صلاحیتیں عطا فرمائیں تھیں جنہیں بروئے کار لاتے ہوئے انہوں نے ٹھیک منصوبہ بندی کے ساتھ تعمیراتی کام کیے اور شہروں کے بہترین نقشے بنائے جس سے عوام کو ہر قسم کی سہولت میسرتھی۔ لوگ پُر سکون اور عیش کی زندگی بسر کررہے تھے۔ چاہیے…
Read the full tafseer →قوم سبا کی آبادیاں :
18: وَجَعَلْنَا بَیْنَھُمْ (اور ہم نے آباد کردیے) قوم سبا کے درمیان۔ وَبَیْنَ الْقُرَی الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْھَا (اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دی تھی) وہاں کے رہنے والوں کو نعمتوں اور پانیوں میں وسعت عنایت کر کے۔ ان بستیوں سے مراد شام کی بستیاں ہیں۔
قُریً ظَاھِرَۃً (گائوں جو نظر آتے تھے) جو متصل تھے جن کو ایک دوسرے سے دیکھا جاسکتا تھا اس لئے کہ بہت قریب تھے دیکھنے والوں کو نظر آتے تھے۔ اور راستہ چلنے والوں کو بھی نظر آتے تھے۔ ان راستوں سے کچھ دور نہ تھے کہ ان پر مخفی رہیں۔ ان بستیوں کی تعداد چار ہزار سات سو تھی۔ سبا سے شام تک گائوں متصل تھے۔
وَّ قَدَّرْنَا…
Read the full tafseer →18، وجعلنا بینھم وبین القری التی بارکنا فیھا، یعنی ملک شام کی بستیاں جہاں بکثرت دریا اور درخت تھے اور وہاں کے باشندوں کو وسعت رزق حاصل تھی ۔ ، قری ظاھرۃ، یعنی وہ بستیاں قریب قریب تھیں ۔ ایک دوسرے کے سامنے پہلی کے بعد دوسری نذرآجاتی تھی ۔ ان بستیوں میں چلنے کا ایک خاص انداز ہم نے مقرر کردیا تھا۔ رات ایک ہی بستی میں گزری اور دوپہر کو دوسری بستی میں پہنچ گئے ، کھانے پینے کی چیزیں ساتھ لینے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ یہ بستیاں سبا سے شام تک تھیں۔
بعض اقوال میں آیا ہے کہ یہ دیہات چارہزار سات سومیل مسلسل متصل تھے (وقدد نافیھا السیر) ہم نے ان بستیوں کے درمیان کی مسافت کو متعین کردیا ان کی مقدارصبح سے شام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
18 تا 20۔ ان آیتوں میں قوم سبا کی باقی کی حالت کا ذکر ہے کہ یہ لوگ یمن سے ملک شام کو اکثر جایا کرتے تھے اس راستہ میں گاؤں ایسے پاس پاس تھے کہ مسافر کو کھانا پینا اور سفر کا سامان لادنے کی حاجت نہیں ہوتی تھی جس جگہ کا ارادہ کیا بےتکلیف وہاں چل دیا جہاں ٹھہرا پانی اور میوہ تیار پایا ایک گاؤں میں دوپہر کو سوتا دوسرے گاؤں میں رات کو جارہتا لیکن جب وہ لوگ بہت نعمت کے سبب سے اترا گئے تو انہوں نے اس نعمت کی قدرنہ کی اور شکر کے بدے ناشکری کی اور کہنے لگے اے رب ہمارے دوری کردے ہمارے سفروں میں غرض انہوں نے ایسے جنگل اور بیا بان کو سند کیا جن کے طے کرنے میں سواری اور کھانے پینے کی ضرورت ہو اور گرم ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
آیت 15-21
” سبا “ ایک معروف قبیلہ تھا جو یمن کے قریب ترین علاقوں میں آباد تھا۔ وہ ایک شہر میں آباد تھے جسے ” مارب “ کہا جاتا تھا۔ تمام بندوں پر عموماً اور عربوں پر خصوصاً اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم اور اس کی بےپایاں نعمتیں ہیں کہ اس نے قرآن مجید میں ان ہلاک شدہ قوموں کے بارے میں خبر دی ہے جن پر عذاب نازل کیا گیا، جو ان کے پڑوس میں آباد تھیں، جہاں ان کے آثار کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے اور لوگ ان کے واقعات کو ایک دوسرے سے نقل کرتے چلے آرہے ہیں ات کہ اس طرح ان کے واقعات کے ذریعے سیق رآن کی تصدیق ہوا اور یہ چیز نصیحت کے قریب تر ہو۔
(لقد کان لسبا فی مسکنھم) ” سبا کے لئے تھی ان کے مسکنوں میں “ یعنی ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–54
اسلام میں مصوری کی ممانعت
قول باری ہے (یعملون لہ مایشآء من محاریب وتماثیل۔ سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں بنوانا منظور ہوتیں مثلاً بڑی عمارتیں اور مجسمے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں تصاویر اور مجسمے بنانے کی اباحت تھی لیکن حضور ﷺ کی شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ آپ سے مروی ہے (لا یدخل الملائکۃ بیتا فیہ صورۃ۔ جس کھر میں کوئی تصویر ہوا اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے) نیز ارشاد ہے (من صورصورۃ کلف یوم القیمۃ ان یحیھا ولا فالنار ۔ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی ہوا سے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں زندگی پیدا کردے ورنہ جہنم میں جائے) ۔
نیز ارشاد ہے (لعن اللہ المصورین۔…
Read the full tafseer →48 " قُرٰی مبارکہ " سے مقصود و مراد ؟ : مراد ہیں شام کی وہ بستیاں جن کو قرآن پاک میں کئی جگہ مبارک اور مقدس وغیرہ الفاظ سے ذکر فرمایا گیا ہے کہ ان کو اللہ پاک نے ظاہری و باطنی طرح طرح کی نعمتوں اور برکتوں سے مالا مال فرمایا تھا۔ مگر واضح رہے کہ ایسے مواقع پر شام سے مراد آج کا وہ شام نہیں ہوتا جسے آج کل " سوریا " یا " سیریا " کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بلکہ اس مراد ازمنہ سابقہ کا وہ شام ہے جو موجودہ سوریا، فلسطین اور اردن وغیرہ کے سب ہی علاقوں کو شامل تھا۔ سو اہل سبا کے شام وغیرہ کے ان لوگوں سے تجارتی تعلقات تھے اور ایسے زرخیز علاقوں سے ان لوگوں کے تجارتی تعلقات ان کیلئے مزید رفاہیت کا باعث تھے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
اہل سبا کی ناشکری اور اس کی سزا
تشریح : ابن کثیر نے فرمایا کہ ” سبا یمن کے بادشاہوں اور اس ملک کے باشندوں کا لقب ہے۔ قوم سبا اور ملکہ بلقیس کا واقعہ جو سورة النحل میں گزر چکا ہے وہ بھی اسی قوم میں سے تھی “۔ یہ بڑے خوش حال اور فارغ البال تھے مگر ناشکری اور نافرمان قوم تھی انبیاء ان کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے مگر یہ نہ سدھرے یہ لوگ ہر طرح سے پُر آسائش زندگیاں گزار رہے تھے کیونکہ ان کا علاقہ یمن کا ایک حصہ تھا۔ اور یہ لوگ کافی ترقی یافتہ اور محنتی تھے۔ نقشہ پر دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ یمن کا اکثر حصہ کوہستانی ہے کوئی دریا نہیں بہتا بس بارش کے پانی سے جو ندی نالے بہتے انہی سے کہیں کہیں کھیتی باڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–21
رکوع نمبر 2: آیات 10 تا 21:
اسرار و معارف : داود (علیہ السلام) کو ہم نے بہت زیادہ نعمتیں عطا کیں۔ یہاں تک کہ پہاڑوں اور پرندوں تک کو حکم دی ا کہ ان کے ساتھ میری تسبیح کرو۔ مفسرین کے مطابق پہاڑ اور پرندے داود (علیہ السلام) کے ساتھ اس طرح ذکر کرتے تھے کہ عام سننے والا بھی سنتا تھا اور یہ اس تسبیح کے علاوہ تھی جو ہر شے کرتی ہے یعنی اگر کسی کے ساتھ بہت سے افراد اللہ کا ذکر کرنے لگ جائیں تو یہ اللہ کا بہت بڑا انعام ہے جو اس کے خاص بندوں کو نصیب ہوتا ہے نیز ان کے لیے بطور معجزہ لوہے کو نرم کردیا کہ لوہے کی زرہیں بنا کر تیار کریں اور حکم دیا کہ زرہ کی کڑیاں خوبصورت انداز میں جوڑیں۔ سب سے پہلے سامان…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی جب یہ لوگ تجارت کی غرض سے اپنے وطن یمن سے ملک شام کا سفر کرتے تھے تو بےخوف و خطر اور آرام و سکون سے کرتے۔ ہر تھوڑے تھوڑے فاصلے پر گائوں آباد تھے اس لئے زاد راہ اور پانی کا ذخیرہ رکھنے کی بھی ضرورت نہ پڑتی۔ رات کو یا دن کو جس گائوں میں بھی پہنچ جاتے وہاں کھانے پینے کے لئے سب کچھ مل جاتا۔
Read the full tafseer →(34:18) جعلنا۔ جعل (باب فتح) سے ماضی کا صیغہ جمع متکلم۔ ہم نے کیا۔ ہم نے ٹھہرایا۔ ہم نے مقرر کردیا۔ یہاں آیۃ ہذا میں بمعنی ہم نے آباد کردیا تھا۔ آباد کر رکھا تھا۔ بینہم۔ ان کے درمیان۔ ضمیر ہم جمع مذکر غائب کا مرجع اہل سبا ہیں مراد سبا کے علاقہ کے درمیان اور ملک شام کے درمیان۔
القری۔ جمع القریۃ واحد ۔ بستیاں ۔ شہر۔ ام القری مکہ شریف کو کہتے ہیں التی برکنا فیھا۔ جن میں ہم نے برکت دے رکھی تھی۔ ان سے مراد شام اور فلسطین کے قصبے اور شہر ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے بابرکت بنادیا تھا۔ کہ یہاں متعدد انبیا کا ظہورہوا ۔
قری ظاہرۃ۔ قری قریۃ کی جمع ہے بستیاں۔ موصوف ہے ظاہرۃ صفت، مراد اس سے وہ شہر اور بستیاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
لغات القرآن : آیت نمبر 15 تا 21
مسکن : رہنے کی جگہ (آبادی)
جنتن : دو باغ (دو رویہ باغ)
یمین : داہنے
شمال : بائیں
طیبۃ : پاکیزہ ۔ صاف ستھری
سیل : سیلاب
العرم : بند۔ ڈیم
اکل : پھل
خمط : کڑوا۔ کسیلا
اثل : جھاؤ
سدر : بیری
قرا : بستیاں
ظاھرۃ : نظر آنے والی۔ کھلی ہوئی
بعد : دور کردے۔ درازے کردے
احادیث : باتیں
صبار : بہت صبر کرنے والا
صدق : سچ کر دکھایا
سلطن : طاقتور ۔ زور دار
تشریح نمبر 15 تا 21
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ” سبا “ عرب کے ایک شخص کا نام تھا جس کی نسل سے عرب میں کندہ ، ازد، اشعرمین، مذحج، عاملہ، جذام، لخم ، غسان اور انمار (جس کی دو شاخیں ہیں (خشم اور بخیلہ ) قبیلے تھے۔ ( ترمذی)
قوم سبا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
قوم کی نافرمانی کا انجام۔
(ف 1) اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں فرمایا کہ قوم سبا کے لیے ان کی بستی میں یہ نشانی اللہ کی قدرت کی تھی کہ وہ دو باغ دائیں اور بائیں طرف رکھتے تھے یہ باغ ایسے سرسبز تھے اور ابن قدر کثرت سے ان میں میوے کی پیداوار تھی کہ کوئی عورت ٹوکرا سر کے اوپر رکھ کردرختوں کے نیچے سے گزرتی تو خود بخود ٹوکرا میوے سے بھرجاتا ہے اور ہم نے حکم دیا تھا کہ کہ اپنے پروردگار کی دی ہوئی روزی کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو تمہارے لیے دنیا میں رہنے کو عمدہ شہر ہے اور آخرت میں گناہ بخشنے والا پروردگار ہے جب ان لوگوں نے اللہ کی نصیحت کو نہ مانا اور بت پرستی نہ چھوڑی تو ان پر یہ آفت آئی کہ قوم سبا کے…
Read the full tafseer →[17] مراد سر زمین شام و فلسطین ہے۔
[18] یعنی ان کے ملک سے لے کر شام تک سڑک کے کنارے کنارے دیہات کا سلسلہ ایسے اندازے اور تناسب سے چلا گیا تھا کہ مسافر کو ہر منزل پر کھانا پانی اور آرام کا موقع ملتا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
ف 2: فرمایا ۔ ان میں سے چند مومنوں کے سوا سب لوگوں نے شیطان کی پیروی کی اور اس کے مزعوبات کو سچا ثابت کرکے دکھایا یعنی یہ بات جو اس نے کہی تھی ۔ کہ میں نجدان لوگوں کو گمراہ کرکے رہونگا ۔ فبعزتک لاغریتھم وہ پوری ہوئی ۔ اور یہ لوگ اس کے چنگل میں گرفتار ہوگئے ۔
یعنی ان لوگوں کی مگر اہ یمحض اس قانون ازلی کے مطابق ہے کہ دنیا میں ہمیشہ دو گروہ موجود رہیں گے ایک وہ جو عقبیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے ۔ اور دوسرا وہ جو مادیت پرست ہے ان دو قسم کے خیالات کا بقاء دنیا کے تکوینی مقاصد کے لئے ضروری ہے ۔
Read the full tafseer →(18) اور ہم نے اہل سبا کے اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت رکھی ہے بہت سی بستیاں ایسی آباد کر رکھی تھیں جو راستے میں سے نظر آتی تھیں اور ہم نے سفر کی رعایت سے ان بستیوں کے درمیان ایک خاص اندازے اور مناسبت سے فاصلہ رکھا تھا کہ تم لوگ ان بستیوں میں راتوں کو اور دنوں میں جب چاہے امن کے ساتھ بےخوف و خطر سفر کرو اور چلو۔ حضرت حق تعالیٰ نے ایک اور احسان کی ناسپاسی کی جانب اس آیت میں ذکر فرمایا۔
مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم نے اہل سبا کو ان کے ملک میں ہر طرح آسودگی اور مرفہ الحالی عطا فرمائی تھی اسی طرح ان لوگوں کیلئے سفر اور تجارت کی بڑی سہولتیں عطا کی تھیں۔ یمن سے لے کر شام تک ایک شارع عام اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
ف 1۔ یعنی جو سیلاب بند سے رکا رہتا تھا بند ٹوٹ کر اس سیلاب کا پانی چڑھ آیا جس سے ان کے دو رویہ باغات سب غارت ہوگئے۔
Read the full tafseer →اہل سبا کو ان کے گزشتہ ایام کی یاد دلائی جارہی ہے
18 ۔ گزشتہ آیات میں اہل سبا کی جس خوش حالی کا ذکر کیا گیا تھا ان کی ہلاکت کے بعد اس کو دہرایا جارہا ہے کہ وہ وقت کیسا وقت تھا جب یہ لوگ آرام کی زندگی بسر کر رہے تھے اس وقت اس علاقہ کی چہل پہل کا یہ حال تھا کہ یمن سے لے کر شام تک بلکہ فلسطین تک سارا راستہ آباد تھا جگہ جگہ پررونق بستیاں آباد تھیں ، ایک شہر سے نکلتے تو دوسرے شہر کے اونچے مکانوں کی منڈیریں نظر آنے لگتیں ، ابھی ایک شہر کی چہل پہل ختم نہ ہوتی کہ دوسرے شہر کی دلچسپیاں مسافروں کی توجہ کا مرکز بن جاتیں یہ اس لئے کہ سفر کی منزلیں انہوں نے مقرر کردی تھیں تاکہ کوئی شب باشی کے لئے ٹھہرنا…
Read the full tafseer →In verse 18, it was said: وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْقُرَى الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَقَدَّرْنَا فِيهَا السَّيْرَ سِيرُوا (And We had made towns to be seen between them and between the towns in which We had placed Our blessings, and had measured the journey between them: "Travel along them at nights and days peacefully. - 18" ) This verse mentions yet another blessing Allah Ta’ ala had bestowed on the people of Saba'. Then it goes on to refer to the ungratefulness of those people who acted ignorantly and chose to ask for a reversal of this blessing by praying…
Read the full tafseer →31 "Blessed habitations": the lands of Syria and Palestine, which have been generally mentioned in the Qur'an by this title, as for instance, in AI-A'raf: 137, Bani Isra`il: 1, Al-Anbiya`: 71, 81. "Conspicuous habitations": habitations situated on the highway and not inside the country. It may also mean that the habitations were not very far apart but contiguous so that as the outlying areas of one habitation came to an end those of the other started coming into view.
"Set...distances" implies that from the Yaman to the borders of Syria the whole journey passed through inhabited lands, and…
Read the full tafseer →