Explained with ayahs 18–19
ان پر جو نعمتیں تھیں ان کا ذکر ہو رہا ہے کہ قریب قریب آبادیاں تھیں۔ کسی مسافر کو اپنے سفر میں توشہ یا پانی ساتھ لے جانے کی ضرورت نہ تھی۔ ہر ہر منزل پر پختہ مزے دار تازے میوے خوشگوار میٹھا پانی موجود ہر رات کو کسی بستی میں گذار لیں اور راحت و آرام امن وامان سے جائیں آئیں کہتے ہیں کہ یہ بستیاں صنعا کے قرب و جوار میں تھیں، باعد کی دوسری قرأت بعدہ۔ اس راحت و آرام سے وہ پھول گئے اور جس طرح بنو اسرائیل نے من سلویٰ کے بدلے لہسن پیاز وغیرہ طلب کیا تھا انہوں نے بھی دور دراز کے سفر طے کرنے کی چاہت کی تاکہ درمیان میں جنگل بھی آئیں غیر آباد جگہیں بھی آئیں کھانے پینے کا لطف بھی آئے۔ قوم موسیٰ کی اس طلب نے…
Read the full tafseer →سورة سَبـَا 32
ضروری نہیں ہے کہ انہوں نے زبان ہی سے یہ دعا کی ہو۔ دراصل جو شخص بھی خدا کی دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ گویا زبان حال سے یہ کہتا ہے کہ خدایا، میں ان نعمتوں کا مستحق نہیں ہوں۔ اور اسی طرح جو قوم اللہ کے فضل سے غلط فائدہ اٹھاتی ہے وہ گویا اپنے رب سے یہ دعا کرتی ہے کہ اے پروردگار، یہ نعمتیں ہم سے سلب کرلے کیونکہ ہم ان کے قابل نہیں ہیں۔
علاوہ بریں آیت (رَبَّنَا بٰعِدْ بَيْنَ اَسْفَارِنَا) (خدایا ہمارے سفر دور دراز کردے) کے الفاظ سے کچھ یہ بات بھی مترشح ہوتی ہے کہ شاید سبا کی قوم کو اپنی آبادی کی کثرت کھلنے لگی تھی اور دوسری نادان قوموں کی طرح اس نے بھی اپنی بڑھتی ہوئی آبادی…
Read the full tafseer →(آیت) فقا لواربنا بعد بین اسفارنا وظلموا انفسھم فجعلنہم احادیث ومزقنہم کل ممزق، ”یعنی ان ظالموں نے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کی کہ سفر کی تکلیف ہی نہ رہے ناقدری اور ناشکری کر کے خود یہ دعا مانگی کہ ہمارے سفر میں بعد پیدا کر دے، قریب قریب کے گاؤں نہ رہیں، جنگل بیابان آئے، جس میں کچھ محنت مشقت بھی اٹھانی پڑے۔ ان کی مثال وہی ہے جو بنی اسرائیل کی تھی کہ بےمحنت بہترین رزق من وسلویٰ ان کو ملتا تھا، اس سے اکتا کر اللہ سے یہ مانگا کہ اس کے بجائے ہمیں سبزی ترکاری دے دیجئے، حق تعالیٰ نے ان کی ناشکری اور نعمت کی بےقدری پر وہ سزا جاری فرمائی جو اوپر سیل عرم کے عنوان سے مذکور ہوئی ہے۔ اسی کا آخری نتیجہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
وجعلنا بیھم وبین القری التی برکتا فیھا قری ظھرۃ وقدرنا فیھا البر سیروا فیھا لیالی وایا ما امنین
’ القری التی برکنا فیھا ‘ سے ملک شام وغیرہ کی طرف اشارہ ہے جن کے ساتھ اہل سبا کے تجارتی تعلقات تھے۔ یہ ملک بہت زرخیز تھے اس وجہ سے اس کی صفت ’ برکنا فیھا ‘ آئی ہے۔ زرخیز مال سے تجارتی تعلقات بجائے خود آمدنی اور رفاہیت کا ذریعہ ہوتے ہیں۔
قری ظھرۃ سے مراد وہ شہر اور قصبات ہیں جو اس شاہرہ پر واقع تھے جس کے دونوں جانب باغوں کی قطاریں تھیں۔ یعنی ان بستیوں کے علاوہ جو اندروںِ ملک واقع تھیں موزوں فاصلوں سے اس شاہراہ پر بھی بستیاں آباد تھیں جو ان کے لئے منزلوں کا کام دیتی تھیں۔ وہ ان میں بےخوف و خطرٹھہرتے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
19۔ 1 یعنی جس طرح لوگ سفر کی صعوبتوں، خطرات اور موسم کی شدتوں کا تذکرہ کرتے ہیں ہمارے سفر بھی اسی طرح دور دور کردے مسلسل آبادیوں کے بجائے درمیان میں سنسان و ویران جنگلات اور صحراؤں سے ہمیں گزرنا پڑے گرمیوں میں دھوب کی شدت اور سردیوں میں بیخ بستہ ہوائیں ہمیں پریشان کریں اور راستے میں بھوک اور پیاس اور موسم کی سختیوں سے بچنے کے لیے زاد راہ کا بھی انتظام کرنا پڑے ان کی یہ دعا اسی طرح کی ہے جیسے بنی اسرائیل نے من وسلویٰ اور دیگر سہولتوں کے مقابلے میں دالوں اور سبزیوں وغیرہ کا مطالبہ کیا تھا یا پھر زبان حال سے ان کی یہ دعا تھی۔
19۔ 2 یعنی انھیں اس طرح ناپید کیا کہ ان کی ہلاکت کا قصہ زبان زد خلائق…
Read the full tafseer →13: یہ اللہ تعالیٰ کے ایک اور انعام کا ذکر ہے جو سبا کی قوم پر فرمایا گیا تھا، یہ لوگ تجارتی مقاصد کے لئے یمن سے شام کا سفر کیا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی سہولت کے لئے یہ انتظام فرمایا تھا کہ یمن سے لے کر شام تک کے پورے علاقے میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر بستیاں بسائی تھیں، جو سفر کے دوران تھوڑے تھوڑے وقفے سے نظر آتی رہتی تھیں، اس کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ سفر کو آسان مرحلوں میں تقسیم کیا جاسکتا تھا اور مسافر جہاں چاہے کھانے پینے اور سونے کے لئے ٹھہر سکتا تھا، اور دوسرا فائدہ یہ تھا کہ اس طرح بستیوں کے تسلسل کی وجہ سے نہ چوری ڈاکے کا خطرہ تھا، نہ راستہ بھٹک جانے کا، نہ کھانے پینے کے سامان کے…
Read the full tafseer →فقالوا ربنا بعد ۔۔۔۔۔ لکل صبار شکور (19) “۔ انہوں نے خود مطالبہ کیا کہ اے اللہ ہمیں طویل المسافت سفر دے۔ ایسا سفر جو سالوں میں کیا جاسکے کیونکہ ان تھوڑے تھوڑے مختصر سفروں سے ہم تنگ آگئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انکے دماغ اور انکے نفوس فساد پذیر ہوگئے تھے
وظلموا انفسھم (34: 19) ” “۔ انہوں نے یہ دعا کرکے اپنے اوپر ظلم کیا۔ اللہ نے بھی ان کی دعا قبول کرلی۔ یہ دعا دراصل سرکشی کی دعا تھی اور اللہ نے اسے بطور سزا قبول کرلیا۔
فجعلنھم احادیث ومزقنھم کل ممزق (34: 19) ”
“۔ وہ خود خواہش کے مطابق اس ملک سے نکال دئیے گئے ، تتر بتر ہوگئے اور پورے جزیرۃ العرب میں پھیل گئے۔ ان کی تاریخ افسانہ بن گئی۔ صرف قصے رہ…
Read the full tafseer →10 زبان حال سے کہا ہوگا اور ممکن ہے زبان قال سے کہنے لگے ہوں کہ اے اللہ ! اس طرح سفر کا لطف نہیں آتا۔ منزلیں دور ہوں، آس پاس آبادیاں نہ ملیں، بھوک پیاس ستائے، تب سفر کا مزہ ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " آرام میں مستی آئی لگے تکلیف مانگنے کہ جیسے اور ملکوں کی خبر سنتے ہیں سفروں میں پانی نہیں ملتا، آبادی نہیں ملتی۔ ویسا ہم کو بھی ہو۔ یہ بڑی ناشکری ہوئی۔ جیسے بنی اسرائیل نے من وسلویٰ سے اکتا کر لہسن و پیاز کی طلب کی تھی۔
1 یعنی ہم نے شیرازہ بکھیر دیا اور ان کو پارہ پارہ کر ڈالا۔ اکثر خاندان ادھر ادھر منتشر ہوگئے کوئی ایک طرف کوئی دوسری طرف نکل گیا۔ آبادیوں کے نام و نشان حرف غلط کی طرف مٹ گئے۔…
Read the full tafseer →آیت 19 { فَقَالُوْا رَبَّـنَا بٰعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا } ”تو انہوں نے کہا : اے ہمارے پروردگار ! ہمارے سفروں کے درمیان دوری پیدا کر دے“
ان کی یہ خواہش یا دعا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور مہربانیوں کی ناقدری کی عبرت انگیز مثال ہے۔ گویا وہ سفر کے مذکورہ مثالی انتظامات سے اکتا چکے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ وہ ُ پر امن اور پر سکون سفر کرتے کرتے تن آسانی اور سہل انگاری کا شکار ہوجائیں گے۔ انہیں زعم تھا کہ وہ بہادر اور مہم جو قسم کے لوگ ہیں اور ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ چناچہ انہوں نے دعا کی کہ ان کے سفر لمبے ہوجائیں تاکہ سفر کے دوران انہیں مشکلات و خطرات کا سامنا ہو ‘ جن کا وہ…
Read the full tafseer →30 جب انسان مال و دولت کے نشہ میں مست ہوجاتا ہے اور اسے ہر طرف سے فرسودگی اور آسانیاں ہی میسر ہونے لگتی ہیں تو بعض دفعہ وہ اسی مستی میں بعض انہونی باتیں بھی بکنے لگتا ہے کہ لوگ جو سفر سے متعلق ایسی اور ایسی مشکلات بیان کرتے ہیں کہ اتنے دن کچھ کھانے کو ملا نہ پینے کو، یا ہم فلاں مقام پر جاکر راستہ بھول گئے تو ہمیں کوئی آرم زاد نظر نہ آتا تھا جس سے راستہ ہی پوچھ سکیں وغیرہ وعیرہ چناچہ وہ آرزو کرنے لگے کہ ہمارا بھی کوئی سفر تو ایسا بھی ہونا چاہئے ممکن ہے ان لوگوں نے یہ بات زبان قال سے نہ کہی ہو زبان حال سے کہی ہو۔ یعنی دل میں ایسے خیالات آنے لگے ہوں۔
31 جب ان لوگوں کی زرعی معیشت تباہ ہوگئی تو…
Read the full tafseer →30۔ یعنی نعمتوں کے حقوق تو کیا دا کرتے، ان کی ظاہری قدر بھی نہ کی، اور الٹی تمنا یہ کرنے لگے کہ سفر کی منزلیں دور دور ہوتیں، تو کچھ مزہ بھی آتا، یہ کیا کہ وطن ومسافرت میں کچھ فرق ہی نہیں ...... یہ (Adventure) کی حرص تمدن جدید کا بھی ایک عام مرض ہے اور فرنگیوں میں قابل فخر عادت بھی سمجھی جاتی ہے۔ (آیت) ” قالوا ...... اسفارنا “۔ ضرور نہیں کہ زبان سے بھی یہی انہوں نے کہا ہو۔ دل کی اندر کی تمنا بھی مراد ہوسکتی ہے۔
31۔ کچھ ہلاک ہوگئے، اور جو بچے رہے، ان کے بھی سامان تنعم چھن گئے، بحیثیت مجموعی سب کی حالت قابل عبرت رہ گئی۔ (آیت) ” ظلموا انفسھم “۔ یعنی طرح طرح کی نافرمانیاں کیں۔
32۔ (پندو و عبرت کی)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
آیت نمبر 15 تا 21
ترجمہ : قوم سبا کے لئے (سبا) منصرف اور غیر منصرف (دونوں ہیں) سبا ایک قبیلہ کا نام ہے ان کے عربی جد اعلیٰ کے نام پر رکھا گیا ہے یمن میں ان کی بستیوں میں خدا کی قدرت کی نشانی تھی ان کے دائیں بائیں دورویہ باغ تھے یعنی ان کی وادی کے دائیں بائیں جانب جنتان، آیۃ سے بدل ہے، ان سے کہا گیا اپنے رب کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور ملک سبا میں تم کو دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کرو یہ عمدہ شہر ہے یعنی اس میں نہ زمین شور ہے اور نہ مچھر نہ مکھی، اور نہ پسو اور نہ بچھو اور نہ سانپ اور (اگر) اس شہر سے ایسا مسافر گذرتا کہ اس کے کپڑوں میں جوئیں ہوتیں تو وہ شہر کی پاکیزہ ہوا کی وجہ سے مرجاتیں اور بخشنے…
Read the full tafseer →فقالوا ربنا بعدبین اسفارنا . کہنے لگے : اے ہمارے رب ! ہمارے سفروں کی دوری بڑھا دے۔ یعنی یمن اور شام
کے درمیان بیابان اور چٹیل میدان بنا دے تاکہ ہم زاد راہ ساتھ لے کر اونٹوں پر سوار ہو کر سفر کو جائیں اور (مشقت سفر کے بعد جو مال خرید کر لائیں اس میں) ہم کو تجارتی فائدہ ہو اور ہم دوسروں پر فخر کرسکیں (کہ بڑی بڑی مشقتیں اور صعوبتیں اٹھا کر ملک شام تک ہو آئے ہیں) اللہ نے ان کی یہ دعا بہت جلد قبول فرما لی۔
وظلموا انفسھم . اور انہوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔ یعنی اترانے اور سرکشی کرنے کی وجہ سے خود انہوں نے اپنی
جانوں پر ظلم کیا۔
وجعلنھم احادیث سو ہم نے ان کو افسانہ بنا دیا۔ لوگ تعجب کے ساتھ ان کے…
Read the full tafseer →مگر وہ کہنے لگے کہ اے ہمارے پروردگار ہمارے سفر کی مسافت میں فاصلہ اور درازی کردے غرض کہ انہوں نے کفر و شرک اور ناشکری کر کے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا ہم نے ان کو بعد والوں کے لیے افسانہ بنا دیا اور ہم نے ان کو بلکل شہروں میں بکھیر دیا اور ان کا پوری طرح خاتمہ ہی کردیا۔ اس واقعہ میں اطاعت خداوندی پر ثابت قدم رہنے والے اور انعامات خداوندی پر شکر کرنے والے کے لیے بڑی نشانیاں اور عبرت کی چیزیں ہیں۔
Read the full tafseer →فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَيْنَ اَسْفَارِنَا۔۔ : اس کی تفسیر تین طرح سے کی گئی ہے، ایک یہ کہ انھیں یہ نعمتیں راس نہ آئیں، وہ امن و عافیت کی قدر کرنا بھول گئے اور کبرو غرور میں آکر کہنے لگے کہ یہ بھی کوئی سفر ہے کہ ہر تھوڑی مسافت کے بعد بستی پائی جاتی ہے۔ مزا تو جب آتا کہ دور دراز علاقوں، چٹیل میدانوں، دشوار گزار جنگلوں اور پرخطر وادیوں سے گزر ہوتا۔ شاہ عبدالقادر ؓ لکھتے ہیں : ”آرام میں مستی یہ آئی، لگے تکلیف مانگنے کہ جیسے اور ملکوں کی خبر سنتے ہیں کہ سفروں میں پانی نہیں ملتا، آبادی نہیں ملتی، ویسا ہم کو بھی ہو، یہ بڑی ناشکری ہوئی۔“ (موضح) ان کی یہ دعا اسی طرح کی ہے جیسے بنی اسرائیل نے من…
Read the full tafseer →فقالوا ربنا بعد بین اسفا رنا جب انہوں نے تکبر کیا، سر کشی کی، راحت پر اکتا گئے اور امن و عافیت پر صبر نہ کیا تو انہوں نے لمبے سفر اور معیشت میں مشقت کی آرزو کی جس طرح بنی اسرائیل کا قول ہے : آیت : فادع لنا ربک یخرج لنا مما تنبت الا رض من بقلھا (البقرہ : 61) جس طرح نظر بن حارث نے کہا : آیت : اللھمان کان ھذا ھوالحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء (الانفال : 32) اللہ تعالیٰ نے اس کی دعا قبول کرلی۔ اسے انتقام کے طور پر غزوہ بدر کے موقع پر تلوار سے قتل کردیا گیا۔ اسی طرح یہ لوگ دنیا میں بکھر گئے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان اور شام کے درمیان کے کئی جگلات وسیع بنا دیئے جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
قوم سباء کے باغات
1۔ احمد وعبد بن حمید وابن المنذر نے اپنی تاریخ میں والترمذی وحسنہ وابن المنذر والحاکم وصححہ وابن مردوہ فروہ بن مسیک المرادی ؓ سے روایت کیا کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا میں نے عرض کیا یارسول اللہ کیا میں لڑوں اس شخص کے ساتھ جو اس سے منہ پھیرے ہوئے ہے میری قوم میں سے یعنی اسلام سے ان کو ساتھ ملا کہ جو اسلام قبول کرچکے ہیں یعنی آپ نے مجھے اجازت دی اور امیر مقرر فرمایا جب میں آپ کے پاس ہو کر نکلا تو آپ نے مجھے واپس بلوایا میں آپ کے پاس لوٹ آیا تو آپ نے فرمایا اپنی قوم کو دعوت دو ان میں سے جو اسلام قبول کرے۔ اس سے یہ شہادت قبول کرے اور جو اسلام قبول نہ کرے اس کے بارے میں جلدی نہ کر…
Read the full tafseer →فَقَالُوْا رَبَّنَا [پھر ان لوگوں نے کہا اے ہمارے رب ] بٰعِدْ [تو دور کردے (فاصلے)] بَيْنَ اَسْفَارِنَا [ہمارے سفروں کے درمیان ] وَظَلَمُوْٓا اَنْفُسَهُمْ [اور انھوں نے ظلم کیا اپنی جانوں پر ] فَجَعَلْنٰهُمْ [تو ہم نے بنادیا ان کو ] اَحَادِيْثَ [افسانے ] وَمَزَّقْنٰهُمْ [اور ہم نے بکھیر دیا ان کو ] كُلَّ مُمَــزَّقٍ ۭ [بالکل ریزہ ریزہ کئے ہوئے ] اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [بیشک اس میں ] لَاٰيٰتٍ [یقینا نشانیاں ہیں ] لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ [ہر ثابت قدم رہنے والے شکر کرنے والے کے لئے ] ۔
Read the full tafseer →(فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْبَیْنَ اَسْفَارِنَا) (سو ان لوگوں نے کہا کہ اے ہمارے رب دوری کردیجیے ہمارے سفروں کے درمیان) جب انسانوں کو مال مل جاتا ہے اور نعمتیں بہت ہوجاتی ہیں تو اترانے لگتے ہیں، بغاوت پر اتر آتے ہیں اور نعمتوں کی ناقدری کرنی شروع کردیتے ہیں۔ یہی حال اہل سباء کا ہوا، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا جو حکم ہوا تھا اس پر تو عمل نہ کیا اور ایسی سمجھ الٹی، اور عقل کے پیچھے لٹھ لے کر پڑے کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے یوں بددعا کی کہ یہ جو ہمارے علاقہ میں آسانیاں ہیں، قریب قریب آبادیاں ہیں اور طرح طرح کی نعمتیں موجود ہیں اور سب کا حال برابر ہے ہمیں یہ منظور نہیں، ہماری تجارت گاہیں دور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
قصہء قوم سبا
قال اللہ تعالی۔ لقد کان لسبا فی مسکنہم ایۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وربک علی کل شیء حفیظ۔
(ربط) گزشتہ آیات میں منیبین اور شاکرین کا قصہ ذکر فرمایا جو بندے اللہ کی نعمتوں کا شکر کرتے ہیں اب اس کے بالمقابل غیر منیبین اور غیر شاکرین کا ایک قصہ ذکر کرتے ہیں جو خدا کے ناسپاس اور ناشکرے تھے تاکہ لوگ اس سے نصیحت اور عبرت پکڑیں یعنی اہل سبا کا قصہ عبرت بیان کرتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ ناسپاسی اور ناشکری اور عدم انابت الی اللہ کا کیا انجام ہوتا ہے بعض عدم انابت کا وبال دنیا ہی میں ظاہر ہوجاتا ہے۔ اہل سبا کا قصہ بھی آیات قیامت میں سے ہے کہ حق جل شانہ نے ان کو جو سرسبز و شاداب باغات عطا کئے تھے وہ نمونہ…
Read the full tafseer →20:۔ فقالوا الخ : یہ فاعرضوا فارسلنا علیہم الخ کا اعادہ ہے بوجہ بعد عہد یعنی انعام ثانی کی ناشکری کی سزا کا ذکر ہے۔ انہیں چاہیے تھا کہ وہ اللہ کے ان انعامات و احسانات کا شکر کرتے مگر انہوں نے اس کے بجائے نا شکری کی اور اللہ کی ان نعمتوں کی قدر نہ پہچانی اور کہنے لگے اللہ ! ہمارے پروردگار ! ہمارے سفر دراز کر ردے یعنی بستیوں کے درمیان فاصلہ زیادہ ہوتا کہ ایک بستی سے دوسری بستی تک دیر سے اور مشقت اٹھا کر پہنچیں ایسے آرام و راحت کے سفر میں سیر کا کوئی مزہ نہیں آتا۔ نیز جس قدر مشقت و محنت اٹھا کر سامان تجارت لایا جائے گا اسی قدر اس کی قیمت بھی زیادہ ہوگی۔ انہوں نے یہ مطالبہ کر کے اپنی جانوں پر ظلم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
ربط آیات
اس رکوع میں اللہ نے قوم سبا کا ذکر فرمایا ہے۔ گزشتہ آیات میں پہلے اس قوم پر کئے جانے والے انعامات کا ذکر کیا اور فرمایا کہ ہم نے ان کو شہروں کی پرامن زندگی اور ہر طرح کی خوشحالی عطا فرمائی تھی مگر انہوں نے خدا تعالیٰ کی ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے سے اعراض کیا تو اللہ نے تاریخی ڈیم میں سے تباہ کن سیلاب بھیج کر ان کے باغات اور شہری آبادیاں تباہ و برباد کردیں اور ان کی زمین سے زرخیزی کی صلاحیت ہی ختم کردی۔ اب پھلدار درختوں کی بجائے وہاں جنگلی جھاڑ بوٹ اگتا تھا جو یا تو بےپھل ہوتا تھا یا اس کا پھل کڑوا کسیلا تھا۔ البتہ بہت کم مقدار میں بعض جگہ جنگلی بیر ہوجاتے تھے۔ اب آج کے درس میں اللہ…
Read the full tafseer →فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَيْنَ اَسْفَارِنَا وَظَلَمُوْٓا اَنْفُسَہُمْ فَجَعَلْنٰہُمْ اَحَادِيْثَ وَمَزَّقْنٰہُمْ كُلَّ مُمَــزَّقٍ 0 ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ 19
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15]
( ر ب ب ) الرب ( ن )
کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے…
Read the full tafseer →فقالوا ربنا باعدبین اسفارنا و ظلموا انفسہم تو کہنے لگے اے رب ! ہمارے سفروں میں درازی کردے۔ سفر کا مزہ نہیں ملتا، سفر میں دھوپ ‘ پیاس ‘ منزلوں ‘ بیابان ‘ دشمن اور درندے کا خوف نہ ہو تو کیا لطف سفر ہے اور طرح طرح کی بدکاری بھی شروع کی، فجعلناھم احادیث و فرقناھم کل ممزق 1 ؎ پھر ہم نے ان کو غارت کردیا کہ صرف ان کے تذکرے افسانے اور قصے کہانیاں ہی لوگوں کے زبان پر باقی رہ گئیں اور ان کو پریشان کردیا۔ ان فی ذلک لایات لکل صبار شکور اس میں صبر کرنے والوں شکر کرنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں اور عبرت ہے۔
1 ؎ مزق جامہ پارہ کردن مزقناھم کل ممزق محاورہ ہے کہ ہم نے تباہ و پریشان کرنے والوں کو تباہ و برباد…
Read the full tafseer →فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْبَیْنَ اَسْفَارِنَا وَظَلَمُوْٓا اَنْفُسَہُمْ فَجَعَلْنٰـھُمْ اَحَادِیْثَ وَمَزَّقْنٰـھُمْ کُلَّ مُمَزَّقٍ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّـکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوْرٍ ۔ (السباء : 19)
(مگر انھوں نے کہا، اے ہمارے رب ! ہمارے سفروں میں دوری پیدا کردے، اور انھوں نے اپنے اوپر ظلم کیا، تو ہم نے ان کو افسانہ بنادیا، اور انھیں بالکل تتربتر کر ڈالا، یقینا اس کے اندر نشانیاں ہیں ہر صبر کرنے والے، شکر کرنے والے کے لیے۔ )
اہلِ سبا کا اپنے آپ پر ظلم اور اس کا انجام
ان کے طوراطوار سے ظاہر ہونے لگا کہ جیسے وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کررہے ہیں کہ وہ ان نعمتوں کے سزاوار نہیں ہیں، بلکہ وہ تو…
Read the full tafseer →امام رازی نے لکھا ہے کہ جس طرح بنی اسرائیل نے من وسلویٰ کے بارے میں اکتاہٹ کا اظہار کیا اور پیاز وغیرہ کا مطالبہ کیا تھا اسی طرح ہی قوم سبانے یہ مطالبہ کیا تھا یا پھر وہ تکبر کے طور پر کہنے لگے کہ ہمارے با غات تباہ نہیں ہوسکتے اور ہمارے سفر مشکل نہیں بن سکتے۔ اس تکبر کے نتیجے میں ہی ان کا سب کچھ تباہ کردیا گیا۔ (اللہ اعلم)
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے قوم سبا کو بہت سی برکات سے نوازا تھا۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے قوم سبا کو سفر وحضر میں ہر قسم کی سہولت عنایت فرمائی تھی۔
3۔ قوم سبا نے شکر کی بجائے کفر کا راستہ اختیار کیا جس بناء پر انہیں تہس نہس کردیا گیا۔
تفسیر بالقرآن
نشانات عبرت سے سبق سیکھنے والے لوگ…
Read the full tafseer →نعمت پر اترانا :
19: فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدِبَیْنَ اَسْفَارِنَا (پس وہ کہنے لگے اے ہمارے پروردگار ہمارے سفروں میں درازی کردے) کہنے لگے کاش ! فاصلہ دور ہوتا تاکہ ہم اپنی تیز رفتار اونٹنیوں پر سفر کرتے اور تجارات میں خوب نفع کماتے اور اسباب و دواب پر فخر کرتے نعمت سے اترانے لگے اور عافیت سے اکتاگئے مشقت و تھکاوٹ کو طلب کیا۔
قراءت : مکی اور ابو عمرو نے بَعِّدْ پڑھا ہے۔
وَظَلَمُوْا ( اور انہوں نے ظلم کیا) یہ بات کہہ کر اَنْفُسَھُمْ فَجَعَلْنٰھُمْ اَحَادِیْثَ (اپنے اوپر پس ہم نے ان کو افسانہ بنادیا) جو لوگ بیان کرتے ہیں اور ان کے حالات سن کر تعجب کرتے ہیں۔ وَمَزَّقْنٰھُمْ کُلَّ مُمَزَّقٍ (اور…
Read the full tafseer →19، فقالواربنا باعد بین اسفارنا، کہنے لگے : اے ہمارے رب ! ہمارے سفروں کی دوری بڑھا دے۔ یعنی یمن اور شام کے درمیان بیابان اور چنیل میدان بنادے تاکہ زادراہ ساتھ لے کر اونٹوں پر سوار ہوکر سفر کو جائیں اور (مشقت سفر کے بعد جو مال خرید کرلائیں اس میں) ہم کو تجارتی فائدہ ہو اور ہم دوسروں پر فخر کرسکیں (کہ بڑی بڑی مشقتیں اور صعوبتیں اٹھا کر ملک شام تک ہو آئے ہیں) اللہ نے ان کی یہ دعا بہت جلد قبول فرمالی۔
مجاہد کا قول ہے کہ انہوں نے اس نعمت کو عیاشی میں بدل دیا اور شکر کرنے سے سرکش ہوگئے ۔ ابن کثیر ابو عمرونے تشدید کے ساتھ پڑھا اور دوسرے قراء نے باعدالف کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ دعا اور سوال کی وجہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
18 تا 20۔ ان آیتوں میں قوم سبا کی باقی کی حالت کا ذکر ہے کہ یہ لوگ یمن سے ملک شام کو اکثر جایا کرتے تھے اس راستہ میں گاؤں ایسے پاس پاس تھے کہ مسافر کو کھانا پینا اور سفر کا سامان لادنے کی حاجت نہیں ہوتی تھی جس جگہ کا ارادہ کیا بےتکلیف وہاں چل دیا جہاں ٹھہرا پانی اور میوہ تیار پایا ایک گاؤں میں دوپہر کو سوتا دوسرے گاؤں میں رات کو جارہتا لیکن جب وہ لوگ بہت نعمت کے سبب سے اترا گئے تو انہوں نے اس نعمت کی قدرنہ کی اور شکر کے بدے ناشکری کی اور کہنے لگے اے رب ہمارے دوری کردے ہمارے سفروں میں غرض انہوں نے ایسے جنگل اور بیا بان کو سند کیا جن کے طے کرنے میں سواری اور کھانے پینے کی ضرورت ہو اور گرم ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
آیت 15-21
” سبا “ ایک معروف قبیلہ تھا جو یمن کے قریب ترین علاقوں میں آباد تھا۔ وہ ایک شہر میں آباد تھے جسے ” مارب “ کہا جاتا تھا۔ تمام بندوں پر عموماً اور عربوں پر خصوصاً اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم اور اس کی بےپایاں نعمتیں ہیں کہ اس نے قرآن مجید میں ان ہلاک شدہ قوموں کے بارے میں خبر دی ہے جن پر عذاب نازل کیا گیا، جو ان کے پڑوس میں آباد تھیں، جہاں ان کے آثار کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے اور لوگ ان کے واقعات کو ایک دوسرے سے نقل کرتے چلے آرہے ہیں ات کہ اس طرح ان کے واقعات کے ذریعے سیق رآن کی تصدیق ہوا اور یہ چیز نصیحت کے قریب تر ہو۔
(لقد کان لسبا فی مسکنھم) ” سبا کے لئے تھی ان کے مسکنوں میں “ یعنی ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–54
اسلام میں مصوری کی ممانعت
قول باری ہے (یعملون لہ مایشآء من محاریب وتماثیل۔ سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں بنوانا منظور ہوتیں مثلاً بڑی عمارتیں اور مجسمے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں تصاویر اور مجسمے بنانے کی اباحت تھی لیکن حضور ﷺ کی شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ آپ سے مروی ہے (لا یدخل الملائکۃ بیتا فیہ صورۃ۔ جس کھر میں کوئی تصویر ہوا اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے) نیز ارشاد ہے (من صورصورۃ کلف یوم القیمۃ ان یحیھا ولا فالنار ۔ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی ہوا سے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں زندگی پیدا کردے ورنہ جہنم میں جائے) ۔
نیز ارشاد ہے (لعن اللہ المصورین۔…
Read the full tafseer →51 ناشکروں کی بےانصافی اور ناشکری کا ذکر ۔ والعیاذ باللہ -: سو ارشاد فرمایا گیا " مگر ان لوگوں نے کہا اے ہمارے رب دوری ڈال دے ہمارے سفروں کے درمیان "۔ ضروری نہیں کہ یہ بات انہوں نے اپنی زبان قال سے کہی ہو، بلکہ وہ اپنی زبان حال سے ایسا کہہ رہے تھے۔ یعنی جب وہ لوگ اللہ پاک کی ان نعمتوں میں مست ہوگئے اور اترانے لگے تو گویا اپنی زبان حال سے انہوں نے یہ کہہ دیا کہ اے اللہ ! اپنی یہ نعمتیں ہم سے اٹھا لے کہ ہم ان کے اہل نہیں رہے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہوں نے اپنی زبان قال سے اور صراحت کے ساتھ بھی اس طرح کہا ہو جس طرح کہ بنی اسرائیل نے من وسلویٰ کی بجائے تھوم پیاز اور کھیرے ککڑی وغیرہ کی درخواست…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
اہل سبا کی ناشکری اور اس کی سزا
تشریح : ابن کثیر نے فرمایا کہ ” سبا یمن کے بادشاہوں اور اس ملک کے باشندوں کا لقب ہے۔ قوم سبا اور ملکہ بلقیس کا واقعہ جو سورة النحل میں گزر چکا ہے وہ بھی اسی قوم میں سے تھی “۔ یہ بڑے خوش حال اور فارغ البال تھے مگر ناشکری اور نافرمان قوم تھی انبیاء ان کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے مگر یہ نہ سدھرے یہ لوگ ہر طرح سے پُر آسائش زندگیاں گزار رہے تھے کیونکہ ان کا علاقہ یمن کا ایک حصہ تھا۔ اور یہ لوگ کافی ترقی یافتہ اور محنتی تھے۔ نقشہ پر دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ یمن کا اکثر حصہ کوہستانی ہے کوئی دریا نہیں بہتا بس بارش کے پانی سے جو ندی نالے بہتے انہی سے کہیں کہیں کھیتی باڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–21
رکوع نمبر 2: آیات 10 تا 21:
اسرار و معارف : داود (علیہ السلام) کو ہم نے بہت زیادہ نعمتیں عطا کیں۔ یہاں تک کہ پہاڑوں اور پرندوں تک کو حکم دی ا کہ ان کے ساتھ میری تسبیح کرو۔ مفسرین کے مطابق پہاڑ اور پرندے داود (علیہ السلام) کے ساتھ اس طرح ذکر کرتے تھے کہ عام سننے والا بھی سنتا تھا اور یہ اس تسبیح کے علاوہ تھی جو ہر شے کرتی ہے یعنی اگر کسی کے ساتھ بہت سے افراد اللہ کا ذکر کرنے لگ جائیں تو یہ اللہ کا بہت بڑا انعام ہے جو اس کے خاص بندوں کو نصیب ہوتا ہے نیز ان کے لیے بطور معجزہ لوہے کو نرم کردیا کہ لوہے کی زرہیں بنا کر تیار کریں اور حکم دیا کہ زرہ کی کڑیاں خوبصورت انداز میں جوڑیں۔ سب سے پہلے سامان…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی نا شکری کر کے گویا زبان حال سے یہ کہنے لگے ( کذافی الفتح) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ” آرام میں مستی آئی لگے تکلیف مانگنے کہ جیسے اور ملکوں کی خبر سنتے ہیں سفروں میں پانی نہیں ملتا آبادی نہیں ملتی ویسا ہم کو بھی ہو۔ ( کذا فی ابن الکثیر)7 یعنی انہیں مختلف علاقوں میں اس طرح بکھیر دیا کہ ان کی پراگندگی ضرب المثل بن گئی۔ آج بھی اگر اہل عرب کسی قبیلے کی پراگندگی کا ذکر کرتے ہیں تو کہتے ہیں ” تفرقو ایدی سبا “ وہ اس طرح بکھر گئے جیسے سبا کا قبیلہ “۔ ( شوکانی)8 کہ جب ایک آباد و شاداب بستی خدا کی نافرمانی پر اتر آتی ہے تو اسے کیونکر تباہ و برباد کردیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →(33:19) فقالوا۔ ای لما طالت علیہم مدۃ النعمۃ بطروا وملوا و اثروا الذی ھو ادنی علی الذی ھو خیر کما فعل بنو اسرائیل وطلب البصل والثوم مکان المن والسلوی۔ یعنی جب عیش و عشرت کی مدت طویل ہوگئی تو وہ بہک گئے اور (اس آسائش و آرام کی زندگی سے) اکتا گئے تو ادنی چیز کو اعلیٰ چیز پر ترجیح دینے لگے۔ جیسا کہ بنی اسرائیل نے کیا تھا من اور سلویٰ کے بجائے پیازولہسن کی طلب پر مصر ہوگئے۔
جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی تو وہ کہنے لگے۔ ربنا بعد بین اسفارنا۔ اے ہمارے پروردگار ہماری مسافتوں کے درمیان فاصلوں کو لمبا کر دے۔ یعنی ایک پڑائو دوسرے پڑائو سے کافی دور ہو ان کے درمیان وسیع و عریض صحراہوں غیر آباد ویرانے ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
لغات القرآن : آیت نمبر 15 تا 21
مسکن : رہنے کی جگہ (آبادی)
جنتن : دو باغ (دو رویہ باغ)
یمین : داہنے
شمال : بائیں
طیبۃ : پاکیزہ ۔ صاف ستھری
سیل : سیلاب
العرم : بند۔ ڈیم
اکل : پھل
خمط : کڑوا۔ کسیلا
اثل : جھاؤ
سدر : بیری
قرا : بستیاں
ظاھرۃ : نظر آنے والی۔ کھلی ہوئی
بعد : دور کردے۔ درازے کردے
احادیث : باتیں
صبار : بہت صبر کرنے والا
صدق : سچ کر دکھایا
سلطن : طاقتور ۔ زور دار
تشریح نمبر 15 تا 21
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ” سبا “ عرب کے ایک شخص کا نام تھا جس کی نسل سے عرب میں کندہ ، ازد، اشعرمین، مذحج، عاملہ، جذام، لخم ، غسان اور انمار (جس کی دو شاخیں ہیں (خشم اور بخیلہ ) قبیلے تھے۔ ( ترمذی)
قوم سبا…
Read the full tafseer →قوم سبا کی نافرمانی ۔
(ف 1) ان آیتوں میں قوم سبا کی باقی کی حالت کا ذکر ہے کہ یہ لوگ یمن سے ملک شام کو اکثر جایا کرتے تھے اس راستہ میں گاؤں ایسے پاس پاس تھے کہ مسافر کو کھانا پینا اور سفر کا سامان لادنے کی حاجت نہیں ہوتی تھی کہ جس جگہ کا ارادہ کیا بےتکلف وہاں چل دیا جہاں ٹھہرا پانی اور میوہ تیار پایا، چلنے والا ایک مقام سے صبح چلے تو وہ دوپہر کو ایک آبادی میں پہنچ جائے، اور جب دوپہر کو چلے تو شام کو ایک شہر میں پہنچ جائے، اور ہم نے ان سے کہا نہ راتوں میں کوئی کھٹکا نہ دنوں میں کوئی تکلیف نہ دشمن کا اندیشہ نہ بھوک پیاس کا غم، جب ان لوگوں میں نعمت اور مالداری کے سبب سے حسد پیوا ہوا کہا کہ ہمارے…
Read the full tafseer →[19] زبان حال سے اور ممکن ہے کہ زبان قال سے بھی کہا ہو کہ اے اللہ اس طرح سفر کا لطف نہیں آتا۔ منزلیں دور ہوں، آس پاس آبادیاں نہ ملیں اور بھوک پیاس ستائے تب سفر کا مزہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
ف 2: فرمایا ۔ ان میں سے چند مومنوں کے سوا سب لوگوں نے شیطان کی پیروی کی اور اس کے مزعوبات کو سچا ثابت کرکے دکھایا یعنی یہ بات جو اس نے کہی تھی ۔ کہ میں نجدان لوگوں کو گمراہ کرکے رہونگا ۔ فبعزتک لاغریتھم وہ پوری ہوئی ۔ اور یہ لوگ اس کے چنگل میں گرفتار ہوگئے ۔
یعنی ان لوگوں کی مگر اہ یمحض اس قانون ازلی کے مطابق ہے کہ دنیا میں ہمیشہ دو گروہ موجود رہیں گے ایک وہ جو عقبیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے ۔ اور دوسرا وہ جو مادیت پرست ہے ان دو قسم کے خیالات کا بقاء دنیا کے تکوینی مقاصد کے لئے ضروری ہے ۔
Read the full tafseer →(19) پھر اس سہولت اور سفر کی آسانی پر انہوں نے یوں کہا کہ اے ہمارے پروردگار ہمارے سفروں میں درازی اور بعد کر دے اور فاصلہ کر دے اور انہوں گنے اپنی جانوں پر ظلم کیا پھر ہم نے ان کو افسانہ اور قصۂ پارینہ کردیا اور ان کو ٹکڑے ٹکڑے اور تتر بتر کردیا بیشک اس واقعۂ تمزیق میں ہر صبر کرنے والے اور شکر بجا لانے والے کیلئے بڑی عبرت آموز نشانیاں ہیں۔ اس خواہش کی بنا بھی شاید حسد ہوگی کہ اس سفر میں فقیر اور رئیس یکساں کیوں فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر کچھ بستیاں ان بستیوں میں سے اجڑ جائیں اور قیام و طعام کی اور امن وامان کی یہ سہولتیں ختم ہوجائیں تو پھر یہ سفر رؤسا اور امرأ کے ڈھب کا رہ جائے جن کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
ف 1۔ یعنی جو سیلاب بند سے رکا رہتا تھا بند ٹوٹ کر اس سیلاب کا پانی چڑھ آیا جس سے ان کے دو رویہ باغات سب غارت ہوگئے۔
Read the full tafseer →اہل سبا نے خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہوئے کہا اے رب ! ہماری مسافتوں کو دور کر
19 ۔ انسان کو جب عقل ماری جاتی ہے تو وہ عجیب طرح کی حرکتیں کرنے لگتا ہے کسی کو اپنی خوشحالی پسند نہ ہو اور وہ اپنے رب سے بدحالی مانگنا شروع کردے ایسا ممکن نہیں نظر آتا لیکن بلا شبہ جب آدمی اللہ تعالیٰ کے انعامات سے وافر حصہ پالیتا ہے اور پھر وہ یہ بھی سمجھتا کہ یہ میرے اللہ کا مجھ پر احسان ہے اور میں اس قابل نہیں تھا بلکہ وہ اترانے لگتا ہے اور اپنی خوشحالی پر پھولا نہیں سماتا تو وہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ جو کچھ مجھے ملا ہے یہ کسی نے عطا نہیں کیا بلکہ میری عقل و دانائی اور میری اسکیموں کے نتیجہ میں مجھے ملا ہے اور یہ…
Read the full tafseer →Verse 19 opens with the statement: فَقَالُوا رَبَّنَا بَاعِدْ بَيْنَ أَسْفَارِنَا وَظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ فَجَعَلْنَاهُمْ أَحَادِيثَ وَمَزَّقْنَاهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ (Then they said," Our Lord, make (the phases of) our journeys more distant." And they wronged themselves, therefore We turned them into stories and tore them into pieces - 34:19). It means that so unjust were these people that they would go to the extent of dismissing the very blessing of Allah placed there to eliminate the hardships of travel, rather went deeper into their lack of recognition and straight ungratefulness by…
Read the full tafseer →32 They may not have prayed thus in so many words. As a matter of fact, whoever is ungrateful to Allah for His blessings, oils Allah, as if to say that he is not worthy of those blessings. Likewise, the nation which abuses the bounties of AIlah, in fact, prays to Him, as if to say, "Our Lord, withdraw Your blessings from us: we are not worthy of these ." Moreover, the words in the Text also seem to suggest that the Sabaeans perhaps regarded their large population as a calamity for themselves, and they also wanted like the other foolish people that their population should fall.
33 That is,…
Read the full tafseer →