Saba 34:20

Saba · from ayah 20

34:20

وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْهِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۟وَلَقَدۡ صَدَّقَ عَلَيۡهِمۡ اِبۡلِيۡسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوۡهُ اِلَّا فَرِيۡقًا مِّنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ

اور شیطان نے ان کے بارے میں اپنا خیال سچ کر دکھایا کہ مومنوں کی ایک جماعت کے سوا وہ اس کے پیچھے چل پڑے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And Iblees had already confirmed through them his assumption, so they followed him, except for a party of believers.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 2 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Saba

All translations of 34:20

اُن کے معاملہ میں ابلیس نے اپنا گمان صحیح پایا اور انہوں نے اُسی کی پیروی کی، بجز ایک تھوڑے سے گروہ کے جو مومن تھا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور شیطان نے ان کے بارے میں اپنا خیال سچ کر دکھایا کہ مومنوں کی ایک جماعت کے سوا وہ اس کے پیچھے چل پڑے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور شیطان نے ان کے بارے میں اپنا گمان سچا کر دکھایا یہ لوگ سب کے سب اس کے تابعدار بن گئے سوائے مومنوں کی ایک جماعت کے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور واقعی ان لوگوں کے بارے میں ابلیس نے اپنا خیال درست پایا چنانچہ یہ اسی کے پیچھے چل پڑے، سوائے اس گروہ کے جو مومن تھا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک ابلیس نے انہیں اپنا گمان سچ کر دکھایا تو وہ اس کے پیچھے ہولیے مگر ایک گروہ کہ مسلمان تھا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک ابلیس نے ان کے بارے میں اپنا خیال سچ کر دکھایا تو ان لوگوں نے اس کی پیروی کی بجز ایک گروہ کے جو (صحیح) مومنین کا تھا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ یقینا ابلیس نے ان پر اپنا گمان سچا کر دکھایا تو مومنوں کے ایک گروہ کے سوا وہ سب اس کے پیچھے چل پڑے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ان لوگوں کے متعلق ابلیس نے اپنا گمان درست پایا۔ چناچہ مومنوں کے گروہ کے سوا سب نے اسی کی پیروی کی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ابلیس نے ان کے اوپر اپنا گمان سچ کر دکھایا۔ سو انہوں نے اس کی پیروی کی۔ صرف اہل ایمان کا ایک گروہ اس سے بچ سکا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور واقعی ابلیس نے سچ کر دکھایا ان لوگوں کے بارے میں اپنا گمان سو یہ سب اس کے پیچھے چل پڑے بجز ایمان والوں کے ایک گروہ کے

— مولانا اسحاق مدنی

اور واقعی ابلیس نے اپنا گمان ان لوگوں کے بارے میں صحیح پایا۔ چناچہ یہ لوگ اسی کی راہ پر ہولئے بجز ایمان والوں کے گروہ کے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یقینا ابلیس نے ان کے بارے میں اپنا گمان سچ کر دکھایا } سو ان سب نے اس (ابلیس) کی پیروی کی سوائے مومنین کی ایک جماعت کے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور شیطان نے ان کے بارے میں اپنا خیال سچ کر دکھایا کہ مومنوں کی ایک جماعت کے سوا باقی سب اس کے پیچھے چل پڑے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Iblis found his estimate of them to be true, and they followed him, except a party of the believers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Iblis (Satan)has found his assessment true about them. So they followed him, except a group of the believers.

— Muhammad Taqi Usmani

Iblis (Satan)has found his assessment true about them. So they followed him, except a group of the believers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And indeed Iblis did prove true his thought about them, and they followed him, all except a group of true believers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And Satan indeed found his calculation true concerning them, for they follow him, all save a group of true believers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And Iblees had already confirmed through them his assumption, so they followed him, except for a party of believers.

— Saheeh International

Iblis (satan) made his judgment about them to come true. They all followed them except a believing group among them.

— Muhammad Sarwar

And certainly the Shaitan found true his conjecture concerning them, so they follow him, except a party of the believers.

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly Iblis found his conjecture true concerning them; and they followed him all save a party of the believers.

— Abdul Majid Daryabadi

And on them did Satan prove true his idea, and they followed him, all but a party that believed.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 34:20

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 20–21

ابلیس اور اس کا عزم۔ سبا کے قصے کے بیان کے بعد شیطان کے اور مریدوں کا عام طور پر ذکر فرماتا ہے کہ وہ ہدایت کے بدلے ضلالت بھلائی کے بدلے برائی لے لیتے ہیں۔ ابلیس نے راندہ درگاہ ہو کر جو کہا تھا کہ میں ان کی اولاد کو ہر طرح برباد کرنے کی کوشش کروں گا اور تھوڑی سی جماعت کے سوا باقی سب لوگوں کو تیری سیدھی راہ سے بھٹکا دوں گا۔ اس نے یہ کر دکھایا اور اولاد آدم کو اپنے پنجے میں پھانس لیا۔ جب حضرت آدم و حوا اپنی خطا کی وجہ سے جنت سے اتار دیئے گئے اور ابلیس لعین بھی ان کے ساتھ اترا اس وقت وہ بہت خوش تھا اور جی میں اترا رہا تھا کہ جب انہیں میں نے بہکا لیا تو ان کی اولاد کو تباہ کردینا تو میرے بائیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة سَبـَا 35 تاریخ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ قدیم زمانے سے قوم سبا میں ایک عنصر موجود تھا جو دوسرے معبودوں کو ماننے کے بجائے خدائے واحد کو مانتا تھا۔ موجودہ زمانے کی اثری تحقیقات کے سلسلے میں یمن کے کھنڈروں سے جو کتبات ملے ہیں ان میں سے بعض اس قلیل عنصر کی نشان دہی کرتے ہیں۔ 650 قبل مسیح کے لگ بھگ زمانے کے بعض کتبات بتاتے ہیں کہ مملکت سبا کے متعدد مقامات پر ایسی عبادت گاہیں بنی ہوئی تھیں جو ذسموی یا ذو سماوی (یعنی رب السماء) کی عبادت کے لیے مخصوص تھیں۔ بعض مقامات پر اس معبود کا نام ملکن ذسموی (وہ بادشاہ جو آسمانوں کا مالک ہے) لکھا گیا ہے۔ یہ عنصر مسلسل صدیوں تک یمن میں موجود رہا۔ چناچہ 378…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 20–21

خلاصہ تفسیر اور واقعی ابلیس نے اپنا گمان ان لوگوں کے بارے میں (یعنی بنی آدم کے بارے میں) صحیح پایا (یعنی اس کو جو یہ گمان تھا کہ میں آدم کی اکثر ذریت کو گمراہ کر دوں گا، کیونکہ یہ مٹی سے اور میں آگ سے پیدا ہوا ہوں (درمنثور) اس کا یہ گمان صحیح نکلا) کہ یہ سب اسی راہ پر ہو لئے مگر ایمان والوں کا گروہ (کہ ان میں ایمان کامل والے تو بالکل محفوظ رہے، اور ضعیف الایمان گو گناہوں میں مبتلا ہوگئے، مگر شرک و کفر سے وہ بھی محفوظ رہے) اور ابلیس کا ان لوگوں پر (جو) تسلط (بطور اغوا کے ہے وہ) بجز اس کے اور کسی وجہ سے نہیں کہ ہم کو (ظاہری طور پر) ان لوگوں کو جو آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ان لوگوں سے (الگ کر کے)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ولقدصدق علیھم ابلیس ظنہ فاتبعوہ الافریقا من المومنین (20) یہ ابلیس کے اس گمان کی طرف اشارہ ہے جس کا اظہار اس نے اللہ تعالیٰ کے سامنے اس وقت کیا تھا جب آدم ؑ کو سجدہ کرنے کا اس کو حکم دیا گیا اور اس نے اس کی تعمیل سے انکار کیا۔ اس وقت اس نے یہ کہا تھا کہ میں اولادِ آدمی پر اس طرح گھیرے ڈالوں گا کہ ان کی اکثریت تیری جگہ میری پیروی کرے گی قلن تجد اکثرھم شکرین (الاعراف : 17) اور تو ان میں سے اکثر کو اپنا شکر گزار نہیں پائے گا)۔ یہاں اس کا حوالہ دینے سے مقصود اس کے انجام کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ جب انہوں نے اپنے بارے میں ابلیس کے گمان کی سچا ثابت کردیا تو لازماً ان کے سامنے اس کا انجام بھی آیا اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 19–21

19۔ 1 یعنی جس طرح لوگ سفر کی صعوبتوں، خطرات اور موسم کی شدتوں کا تذکرہ کرتے ہیں ہمارے سفر بھی اسی طرح دور دور کردے مسلسل آبادیوں کے بجائے درمیان میں سنسان و ویران جنگلات اور صحراؤں سے ہمیں گزرنا پڑے گرمیوں میں دھوب کی شدت اور سردیوں میں بیخ بستہ ہوائیں ہمیں پریشان کریں اور راستے میں بھوک اور پیاس اور موسم کی سختیوں سے بچنے کے لیے زاد راہ کا بھی انتظام کرنا پڑے ان کی یہ دعا اسی طرح کی ہے جیسے بنی اسرائیل نے من وسلویٰ اور دیگر سہولتوں کے مقابلے میں دالوں اور سبزیوں وغیرہ کا مطالبہ کیا تھا یا پھر زبان حال سے ان کی یہ دعا تھی۔ 19۔ 2 یعنی انھیں اس طرح ناپید کیا کہ ان کی ہلاکت کا قصہ زبان زد خلائق…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

14: یعنی ابلیس نے حضرت آدم ؑ کی پیدائش کے وقت جو خیال ظاہر کیا تھا کہ میں آدم ؑ کی اولاد کو بہکاؤں گا، ان سرکش لوگوں کے حق میں وہ واقعی درست نکلا کہ انہوں نے اس کی بات مان لی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 20–21

ولقد صدق علیھم۔۔۔۔۔۔۔ کل شئ حفیظ (20 – 21) یہ قوم ، اس راستے پر چل کر اس کا یہ انجام کیوں ہوا ؟ اس لیے کہ ابلیس نے اپنی منصوبہ بندی کو درست پایا اور وہ ان کو گمراہ کرنے میں کامیاب رہا۔ ہاں اہل ایمان کو وہ گمراہ نہ کرسکا ، مومنین کے گروہ کو وہ گمراہ نہ کرسکا “۔ کیونکہ ہر گمراہ سوسائٹی میں لوگوں کی ایک قلیل تعداد ایسی رہ جاتی ہے جو گمراہ ہونے سے انکار کردیتی ہے اور یہ قلیل گروہ مومنین اس بات کا گواہ ہوتا ہے کہ سچائی اپنی جگی قائم ہوتی ہے۔ صرف اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی سچائی کا طالب ہو۔ اگر کوئی طالب ہو تو سچائی مل جاتی ہے۔ بدترین حالات میں بھی سچائی قائم رہتی ہے۔ جہاں تک ابلیس کا تعلق ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 پہلے دن ابلیس نے تخمینہ کر کے کہا تھا (لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا) 17 ۔ الاسراء :62) اور (ثُمَّ لَاٰتِيَنَّهُمْ مِّنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ اَيْمَانِهِمْ وَعَنْ شَمَاۗىِٕلِهِمْ ۭ وَلَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِيْنَ ) 7 ۔ الاعراف :17)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 20 { وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْہِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّہٗ } ”اور یقینا ابلیس نے ان کے بارے میں اپنا گمان سچ کر دکھایا“ { فَاتَّبَعُوْہُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ } ”سو ان سب نے اس ابلیس کی پیروی کی ‘ سوائے مومنین کی ایک جماعت کے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

33 جب اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کرکے فرشتوں کو سجدہ کا حکم دیا تو ابلیس نے سجدہ سے انکار کردیا تھا اور جب آدم و ابلیس کی آپس میں ٹھن گئی تو ابلیس آدم کو چکمہ دینے پر اور اللہ کی نافرمانی پر اکسانے میں کامیابی ہوگیا تو اس وقت ہی اس نے یہ خیال ظاہر کردیا تھا اور اللہ تعالیٰ کو برملا کہہ دیا تھا کہ میں اولاد آدم کے اکثر حصہ کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہوجاؤں گا۔ تھوڑے ہی تیرے ایسے بندے ہوں گے جو تیرے شکرگزار بن کر رہیں گے۔ قوم سبا کے حالات سے بھی یہی نتیجہ سامنے آتا ہے اور دوسرا اقوام کے حالات سے بھی کہ ابلیس فی الواقعہ ایسا گمان کرنے میں سچا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

33۔ (کہ میں بنی آدم میں سے بہتوں کو محض سبز باغ دکھا کے گمراہ کرڈالوں گا، اور اپنے پیچھے لگا لوں گا) ومنشاظنہ رؤیۃ انھما کھم فی الشھوات (روح) اے ظنہ انہ یغویھم (کبیر) 34۔ (کہ بس وہ فریق محفوظ رہا) من یہاں بیانیہ ہے، اس ترکیب کے لحاظ سے لفظ فریق گویا مومنین کی تشریح و توضیح ہی کررہا ہے، یہ مراد نہیں کہ مومنین میں سے ایک فریق محفوظ رہا، اور دوسرا شیطان کی راہ پر پڑلیا۔ اور تقدیر کلام یوں ہوگی۔ اے الافریقا ھم ال مومن ون لم یتبعوہ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 15–21

آیت نمبر 15 تا 21 ترجمہ : قوم سبا کے لئے (سبا) منصرف اور غیر منصرف (دونوں ہیں) سبا ایک قبیلہ کا نام ہے ان کے عربی جد اعلیٰ کے نام پر رکھا گیا ہے یمن میں ان کی بستیوں میں خدا کی قدرت کی نشانی تھی ان کے دائیں بائیں دورویہ باغ تھے یعنی ان کی وادی کے دائیں بائیں جانب جنتان، آیۃ سے بدل ہے، ان سے کہا گیا اپنے رب کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور ملک سبا میں تم کو دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کرو یہ عمدہ شہر ہے یعنی اس میں نہ زمین شور ہے اور نہ مچھر نہ مکھی، اور نہ پسو اور نہ بچھو اور نہ سانپ اور (اگر) اس شہر سے ایسا مسافر گذرتا کہ اس کے کپڑوں میں جوئیں ہوتیں تو وہ شہر کی پاکیزہ ہوا کی وجہ سے مرجاتیں اور بخشنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد صدق علیھم ابلیس ظنہ فاتبعوہ الا فریقا من المؤمنین . اور واقعی ابلیس نے ان لوگوں کے بارے میں اپنا گمان صحیح پایا کہ یہ سب سوائے مؤمنوں کے ایک گروہ کے ‘ اس کی راہ پر ہو لئے۔ بعض اہل تفسیر نے علیہم کی ضمیر اہل سبا کی طرف راجع کی ہے (ہم نے ترجمہ میں اسی قول کو اختیار کیا) یعنی اہل سبا میں سے جو کافر تھے ‘ ان کے متعلق شیطان کا گمان صحیح نکلا۔ مجاہد نے کہا : عام انسانوں کی طرف ضمیر راجع ہے۔ ابلیس نے اللہ کے سامنے اپنا یہ گمان ظاہر کیا تھا کہ فبغرتک لاغوینھم اجمعین تیری عزت کی قسم ! میں ان سب کو گمراہ کروں گا۔ یہ بھی ابلیس نے کہا تھا : ولا تجد اکثرھم شاکرین تو ان میں سے اکثر کو شکرگذار نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور واقعتا ابلیس نے ان لوگوں کے بارے میں اپنا گمان بالکل صحیح پایا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ سب کفر اختیار کر کے اسی کے راستہ پر چلے سواوئے ایمان والوں کی جماعت کے یا یہ کہ سب نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں شیطان کی راہ اختیار کی مگر مسلمانو کی ایک جماعت نے جن کی تعداد ستر ہزار ہے جو کہ جنت میں بغیر حساب و عذاب کے داخل ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ اِبْلِيْسُ ظَنَّهٗ۔۔ : یعنی ابلیس نے آدم ؑ کو سجدے سے انکار کے بعد جس گمان کا اظہار کیا تھا کہ تو ان کے اکثر کو شکر کرنے والے نہیں پائے گا۔ (دیکھیے اعراف : 17) اس ظالم نے قوم سبا کو گمراہ کر کے ان کے بارے میں اپنے اس گمان کو سچا کر دکھایا، چناچہ وہ سب اس کے پیچھے لگ گئے، صرف مومنوں کا ایک گروہ اس سے محفوظ رہا۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ سبا میں بھی ہمیشہ کچھ لوگ ایسے موجود رہے جو اللہ واحد کی عبادت پر قائم رہے اور شیطان ان پر اپنا تسلّط قائم نہ کرسکا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت : ولقد صدق علیھم ابلیس ظنہ اس میں چار قرائتیں ہیں۔ ابو جعفر، شیبہ، نافع، ابو عمر و، ابن کثیر اور ابن عامر، مجاہد سے بھی یہی مروی ہے انہوں نے یہ قراءت کی ہے آیت : ولقد صدق علیھم تخفیف کے ساتھ قراءت کی۔ ابلیس رفع کے ساتھ ظنا ظنہ اذ صدق فی ظنہ اسے مصدر یا ظرف کے طریقہ پر نصب دی۔ ابو علی نے کہا : ظنہ یہ منصوب ہے کیوں کہ یہ مفعول بہ ہے، یعنی شیطان جو گمان کیا اس کو سچ کر دکھایاجب اس نے کہا : آیت : لاقعدن لھم صراطک المستقیم (الا عراف) جب اس نے کہا : آیت : لا غو ینھم اجمعین (الحجر) یہ صدق فی الحدیث ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، یحییٰ بن وثاب، اعمش، عاصم، حمزہ اور کسائی نے صدق تشدید کے ساتھ اور ظنہ نصب…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 20–21

1۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولقد صدق علیہم ابلیس ظنہ (اور واقعی ابلیس نے ان لوگوں کے بارے میں اپنا گمان صحیح پایا) یعنی ابلیس نے کہا کہ آدم (علیہ السلام) خشک مٹی اور گارے سے اور سڑے ہوئے کیچڑ سے کمزور پیدا کیا گیا جبکہ مجھے آگ سے پیدا کیا گیا اور آگ ہر چیز کو جلا دیتی ہے آیت ” لاحتنکن ذریتہ الا قلیلا “ (یعنی میں اس کی نسل کو قابو میں کرلوں گا) فرمایا کہ ابلیس نے ان پر اپنے کو سچ کردیا لوگوں نے اس کی اتباع کی مگر مومنوں کی ایک جماعت نے اس کی پیروی نہیں کی فرمایا یہی لوگ مومن ہیں۔ 2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولقد…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ [اور بیشک سچ کر دکھایا ان پر ] اِبْلِيْسُ [ابلیس نے ] ظَنَّهٗ [اپنے گمان کو ] فَاتَّبَعُوْهُ [تو انھوں نے پیروی کی اس کی ] اِلَّا فَرِيْقًا [سوائے ایک ایسے فریق کے جو ] مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ [ایمان لانے والوں سے تھا ] ۔ نوٹ۔ 3: آیت۔ 20 میں اشارہ ابلیس کے اس گمان کی طرف ہے جس کا اظہار اس نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کے وقت کیا تھا۔ اس وقت اس نے یہ کہا تھا کہ میں اولاد آدم پر اس طرح گھیرے ڈالوں گا کہ ان کی اکثریت تیری جگہ میری پیروی کرے گی اور تو ان میں سے اکثر کو اپنا شکر گزار نہیں پائے گا (الاعراف۔ 17) یہ ان اس کا حوالہ دینے سے مقصود اس کے انجام…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْھِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّہٗ ) (الآیتین) (اور یہ بات واقعی ہے ان کے بارے میں ابلیس نے اپنا گمان صحیح پالیا، سو اسی کے اتباع میں لگ گئے سوائے اہل ایمان کی تھوڑی سی جماعت کے، اور ابلیس کا ان لوگوں پر جو کچھ زور تھا صرف اس لیے تھا کہ ہم یہ جان لیں کہ آخرت پر ایمان لانے والا کون ہے جو ان لوگوں سے علیحدہ ہے جو اس کی طرف سے شک میں ہے اور آپ کا رب ہر چیز پر نگران ہے) ابلیس نے ملعون قرار دئیے جانے کے بعد جو اللہ تعالیٰ کے دربار میں یوں عرض کیا تھا کہ میں بنی آدم کو بہکاؤں گا، ورغلاؤں گا اور ان میں سے اکثر کو گمراہ کرکے چھوڑوں گا۔ (لَاُغْوِیَنَّھُمْ اَجْمَعِیْنَ ) اور ان میں سے اکثر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 15–21

قصہء قوم سبا قال اللہ تعالی۔ لقد کان لسبا فی مسکنہم ایۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وربک علی کل شیء حفیظ۔ (ربط) گزشتہ آیات میں منیبین اور شاکرین کا قصہ ذکر فرمایا جو بندے اللہ کی نعمتوں کا شکر کرتے ہیں اب اس کے بالمقابل غیر منیبین اور غیر شاکرین کا ایک قصہ ذکر کرتے ہیں جو خدا کے ناسپاس اور ناشکرے تھے تاکہ لوگ اس سے نصیحت اور عبرت پکڑیں یعنی اہل سبا کا قصہ عبرت بیان کرتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ ناسپاسی اور ناشکری اور عدم انابت الی اللہ کا کیا انجام ہوتا ہے بعض عدم انابت کا وبال دنیا ہی میں ظاہر ہوجاتا ہے۔ اہل سبا کا قصہ بھی آیات قیامت میں سے ہے کہ حق جل شانہ نے ان کو جو سرسبز و شاداب باغات عطا کئے تھے وہ نمونہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

21:۔ ولقد صدق الخ : ابلیس کا گمان ان کے بارے میں صحیح نکلا۔ ابلیس نے کہا تھا۔ ولا تجد اکثرہم شاکرین (اعراف رکوع 2) ۔ اے اللہ ! تو اولاد آدم میں سے بہتوں کو شکر گذار نہیں پائے گا۔ میں ان کو سبز باغ دکھا کر اپنے پیچھے لگا لوں گا۔ چناچہ اہل سبا ابلیس کے ورغلانے میں آگئے اور اس کے پیچھے لگ گئے۔ البتہ مومنوں کی ایک جماعت نے ابلیس کی پیروی نہ کی اور حق پر ثابت قدم رہے۔ من المومنین میں من بیانیہ ہے ای الا فریقا منہم المومنون لم یتبعوہ علی ان من بیانیۃ (روح ج 22 ص 134) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 18–21

ربط آیات اس رکوع میں اللہ نے قوم سبا کا ذکر فرمایا ہے۔ گزشتہ آیات میں پہلے اس قوم پر کئے جانے والے انعامات کا ذکر کیا اور فرمایا کہ ہم نے ان کو شہروں کی پرامن زندگی اور ہر طرح کی خوشحالی عطا فرمائی تھی مگر انہوں نے خدا تعالیٰ کی ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے سے اعراض کیا تو اللہ نے تاریخی ڈیم میں سے تباہ کن سیلاب بھیج کر ان کے باغات اور شہری آبادیاں تباہ و برباد کردیں اور ان کی زمین سے زرخیزی کی صلاحیت ہی ختم کردی۔ اب پھلدار درختوں کی بجائے وہاں جنگلی جھاڑ بوٹ اگتا تھا جو یا تو بےپھل ہوتا تھا یا اس کا پھل کڑوا کسیلا تھا۔ البتہ بہت کم مقدار میں بعض جگہ جنگلی بیر ہوجاتے تھے۔ اب آج کے درس میں اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْہِمْ اِبْلِيْسُ ظَنَّہٗ فَاتَّبَعُوْہُ اِلَّا فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ۝ 20 صدق الصِّدْقُ والکذب أصلهما في القول، ماضیا کان أو مستقبلا، وعدا کان أو غيره، ولا يکونان بالقصد الأوّل إلّا في القول، ولا يکونان في القول إلّا في الخبر دون غيره من أصناف الکلام، ولذلک قال : وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ص دق) الصدق ۔ یہ ایک الکذب کی ضد ہے اصل میں یہ دونوں قول کے متعلق استعمال ہوتے ہیں خواہ اس کا تعلق زمانہ ماضی کے ساتھ ہو یا مستقبل کے ۔ وعدہ کے قبیل سے ہو یا وعدہ کے قبیل سے نہ ہو ۔ الغرض بالذات یہ قول ہی کے متعلق استعمال ہوتے ہیں پھر قول میں بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ولقد مصدق علیہم ابلیس ظنہ الخ کہ شیطان کو جو ان کی نسبت ظن تھا کہ میں بہکائوں گا تو میرے بہکانے میں آجاویں گے تو اس نے اپنے گمان کے مطابق پایا الافریقا من المؤمنین مگر ایمانداروں کی جماعت اس کے داؤ میں نہ آئی۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْھِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّہٗ فَاتَّبَعُوْہُ اِلاَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (السباء : 20) (اور ابلیس نے ان کے اوپر اپنا گمان سچ کر دکھایا، پس انھوں نے اس کی پیروی کی، بجز ایک تھوڑے سے گروہ کے جو مومن تھا۔ ) ناشکری شیطان کی امیدوں کو پورا کرنا ہے یہ دنیا انسان کے لیے دارالامتحان ہے۔ کبھی وہ خوشحالیاں دے کر آزماتا ہے کہ انسان شکر کرتا ہے یا نہیں۔ اور کبھی مصیبتوں میں مبتلا کرکے امتحان لیتا ہے کہ وہ صبر کرتا ہے یا بےصبر ہوجاتا ہے۔ ابلیس نے اس امتحان کے شروع ہونے سے پہلے ہی اندازہ کرلیا تھا کہ یہی وہ راستہ ہے جس میں انسانوں کو راہ راست سے ہٹانے کی کوشش کرسکتا ہوں۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 20–21

فہم القرآن ربط کلام : جو مصیبت پر صبر نہیں کرتا اور اپنے رب کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ شیطان کی بات کو سچ کر دکھاتا ہے۔ ہمیشہ ان لوگوں کی اکثریت رہی ہے۔ ابلیس غیب کا علم نہیں جانتا تھا لیکن وہ سمجھتا تھا کہ جن عناصر پر حضرت آدم (علیہ السلام) کو تخلیق کیا گیا ہے وہ باہم متصادم ہیں جس بنا پر آدم (علیہ السلام) اور اس کی اولاد کو گمراہ کرنا آسان ہوگا۔ اس کے علاوہ ابلیس جِنّات کو بھی دیکھ چکا تھا کہ ان کی اکثریت گمراہ ہوچکی ہے۔ ابلیس کے اسی گمان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ابلیس نے اپنے گمان کو سچ کر دکھایا کہ مومنوں کی جماعت کے علاوہ باقی سب لوگ اس کی پیروی کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

شیطان کی وسوسہ اندازی کا جادو : 20: وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْھِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّہٗ (واقعی ابلیس نے اپنا گمان ان لوگوں کے متعلق صحیح پایا) صدق کو تشدید کے ساتھ کوفی نے پڑھا ہے یعنی ان پر اپنا گمان ثابت کردیا۔ نمبر 2۔ اپنے کو ان کے متعلق سچا پایا۔ صَدَقَ تخفیف کے ساتھ دیگر قراء نے پڑھا۔ مطلب یہ ہوا اس نے اپنے گمان میں سچ کہا فَاتَّبَعُوْہٗ (پس انہوں نے اس کی اتباع ) ۔ : علیہم اور اتبعوہ کی ضمیر اہل سبا کی طرف یا بنی آدم کی طرف لوٹتی ہے۔ اور شیطان نے اپنے بقول مؤمنوں کی تعداد تھوڑی بتلائی۔ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ (مگر ایک جماعت ایمان والوں کی) جماعت اس لئے کہا کیونکہ کفار کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 20۔ ، ولقد صدق علیھم ابلیس ظنہ، اہل کوفہ نے (صدق) تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابلیس نے ان لوگوں کے بارے میں اپناگمان صحیح پایا۔ ، فبعزتک لا غوینھم اجمعین، اس نے ان کے گمان کو سچا جانا ۔ دوسرے قراء نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی اہل سبا میں سے جو کافر تھے ، ان کے متعلق شیطان کا گمان صحیح نکلا۔ مجاہد کا قول ہے کہ اس ضمیر کا مرجع عام انسانوں کی طرف راجع ہے، ابلیس نے اللہ کے سامنے اپنا یہ گمان ظاہر کیا تھا کہ، فبعزتک لاغوینھم اجمعن، تیری عزت کی قسم میں ان سب کو گمراہ کروں گا، یہ بھی ابلیس نے کہا تھا۔ ، ولا تجد اکثرھم شاکرین ، تو ان میں سے اکثر کو شکرگزار نہیں پائے گا۔ چناچہ میں نے اپنا گمان سچ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 18–20

18 تا 20۔ ان آیتوں میں قوم سبا کی باقی کی حالت کا ذکر ہے کہ یہ لوگ یمن سے ملک شام کو اکثر جایا کرتے تھے اس راستہ میں گاؤں ایسے پاس پاس تھے کہ مسافر کو کھانا پینا اور سفر کا سامان لادنے کی حاجت نہیں ہوتی تھی جس جگہ کا ارادہ کیا بےتکلیف وہاں چل دیا جہاں ٹھہرا پانی اور میوہ تیار پایا ایک گاؤں میں دوپہر کو سوتا دوسرے گاؤں میں رات کو جارہتا لیکن جب وہ لوگ بہت نعمت کے سبب سے اترا گئے تو انہوں نے اس نعمت کی قدرنہ کی اور شکر کے بدے ناشکری کی اور کہنے لگے اے رب ہمارے دوری کردے ہمارے سفروں میں غرض انہوں نے ایسے جنگل اور بیا بان کو سند کیا جن کے طے کرنے میں سواری اور کھانے پینے کی ضرورت ہو اور گرم ہوا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 15–21

آیت 15-21 ” سبا “ ایک معروف قبیلہ تھا جو یمن کے قریب ترین علاقوں میں آباد تھا۔ وہ ایک شہر میں آباد تھے جسے ” مارب “ کہا جاتا تھا۔ تمام بندوں پر عموماً اور عربوں پر خصوصاً اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم اور اس کی بےپایاں نعمتیں ہیں کہ اس نے قرآن مجید میں ان ہلاک شدہ قوموں کے بارے میں خبر دی ہے جن پر عذاب نازل کیا گیا، جو ان کے پڑوس میں آباد تھیں، جہاں ان کے آثار کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے اور لوگ ان کے واقعات کو ایک دوسرے سے نقل کرتے چلے آرہے ہیں ات کہ اس طرح ان کے واقعات کے ذریعے سیق رآن کی تصدیق ہوا اور یہ چیز نصیحت کے قریب تر ہو۔ (لقد کان لسبا فی مسکنھم) ” سبا کے لئے تھی ان کے مسکنوں میں “ یعنی ان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–54

اسلام میں مصوری کی ممانعت قول باری ہے (یعملون لہ مایشآء من محاریب وتماثیل۔ سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں بنوانا منظور ہوتیں مثلاً بڑی عمارتیں اور مجسمے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں تصاویر اور مجسمے بنانے کی اباحت تھی لیکن حضور ﷺ کی شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ آپ سے مروی ہے (لا یدخل الملائکۃ بیتا فیہ صورۃ۔ جس کھر میں کوئی تصویر ہوا اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے) نیز ارشاد ہے (من صورصورۃ کلف یوم القیمۃ ان یحیھا ولا فالنار ۔ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی ہوا سے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں زندگی پیدا کردے ورنہ جہنم میں جائے) ۔ نیز ارشاد ہے (لعن اللہ المصورین۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 20–21

53 ناشکروں کو ان کے ہولناک انجام کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا " اور بلاشبہ سچ کر دکھایا ابلیس نے لوگوں کے بارے میں اپنا گمان "۔ یعنی { علیہم } کی ضمیر کا مرجع جملہ نبی آدم ہیں نہ کہ صرف قوم سبا۔ جیسا کہ متبادر ہے۔ اس لئے جمہور اہل علم اور مفسرین کرام نے بھی یہی مراد لیا ہے۔ کیونکہ ابلیس کا وہ گمان صرف قوم سبا کے لئے نہیں تھا بلکہ جملہ نبی آدم کے لئے تھا ۔ کَلام السَّلَف دَالٌّ عَلٰی اَنَّ ضَمِیْرَ عَلَیْہِمْ لِبَنِیْ اٰدَمَ لا لاہْلِ سَبَا خَاصَّۃً ۔ (جامع البیان وغیرہ) ۔ سو ابلیس نے بنی آدم کے بارے میں اپنا گمان سچا کر دکھایا اور ان کی اکثریت کو گمراہ کرکے چھوڑا جسکی ایک واضح…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 20–21

شیطان کی کاروائی تشریح : ان آیات میں نیکی اور بدی، ایمان اور کفر کا مقابلہ کیا گیا ہے۔ نیکی کا تعلق انسان کی روح کے ساتھ ہے جبکہ بدی کا تعلق انسان کے نفس کے ساتھ ہے شیطان نفس کو بہکاتا ہے۔ اس لیے کہ اس نے اعلان کیا تھا جب اس پر لعنت بھیجی گئی تھی۔ اعلان یہ کیا تھا کہ ” میں آدم اور اس کی اولاد میں سے بہت سوں کو سیدھے راستے سے بہلا کر اور پھسلا کرہٹا دوں گا “۔ تو وہ ہر وقت اپنی کوشش میں لگا رہتا ہے کمزور ایمان والے لوگ اس کی راہ پر چل نکلتے ہیں اور دنیا و آخرت میں ذلیل ہوجاتے ہیں جبکہ مضبوط ایمان والے لوگ ہرگز اس کی راہ پر نہیں چلتے۔ ان کی نگاہ اللہ اور آخرت پر ہوتی ہے۔ شیطان کو یہ طاقت کہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–21

رکوع نمبر 2: آیات 10 تا 21: اسرار و معارف : داود (علیہ السلام) کو ہم نے بہت زیادہ نعمتیں عطا کیں۔ یہاں تک کہ پہاڑوں اور پرندوں تک کو حکم دی ا کہ ان کے ساتھ میری تسبیح کرو۔ مفسرین کے مطابق پہاڑ اور پرندے داود (علیہ السلام) کے ساتھ اس طرح ذکر کرتے تھے کہ عام سننے والا بھی سنتا تھا اور یہ اس تسبیح کے علاوہ تھی جو ہر شے کرتی ہے یعنی اگر کسی کے ساتھ بہت سے افراد اللہ کا ذکر کرنے لگ جائیں تو یہ اللہ کا بہت بڑا انعام ہے جو اس کے خاص بندوں کو نصیب ہوتا ہے نیز ان کے لیے بطور معجزہ لوہے کو نرم کردیا کہ لوہے کی زرہیں بنا کر تیار کریں اور حکم دیا کہ زرہ کی کڑیاں خوبصورت انداز میں جوڑیں۔ سب سے پہلے سامان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 یعنی ابلیس نے آدم ( علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت یہ جو گمان کیا تھا کہ ان کی اولاد میں سے اکثر لوگ نا شکرے ہونگے۔ سبا والوں کے معاملے میں اس کا گمان سچ ثابت ہوا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(34:20) صدق علیہم ظنہ۔ اس نے ان کے خلاف اپنا گمان سچ کر دکھایا۔ شیطان کے ظن سے مراد اس کی وہ لاف زنی ہے جو اس نے اللہ رب العزت کے حضور اولاد آدم کے خلاف کی تھی۔ مثلاً اس نے کہا تھا فبعزتک لاغوینہم اجمعین (38:82) تیری عزت کی قسم میں ضرور ان سب کو گمراہ کروں گا۔ اور ولا تجد اکثرہم شکرین (7:17) اور آپ ان میں سے اکثر کو اپنا شکر گذار نہ پائیں گے۔ فاتبعوہ الا فریقا من المؤمنین۔ فاتبعوا میں ضمیر فاعل جمع مذکر غائب بنی آدم کی طرف راجع ہے اور من المؤمنین میں من بیانیہ ہے گویا لفظ فریق من المؤمنین کی تشریح و توضیح کر رہا ہے ای الا فریقا ہم المؤمنون لم یتبعوہ۔ ترجمہ ہوگا۔ ابلیس نے نبی نوع انسان کے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 15–21

لغات القرآن : آیت نمبر 15 تا 21 مسکن : رہنے کی جگہ (آبادی) جنتن : دو باغ (دو رویہ باغ) یمین : داہنے شمال : بائیں طیبۃ : پاکیزہ ۔ صاف ستھری سیل : سیلاب العرم : بند۔ ڈیم اکل : پھل خمط : کڑوا۔ کسیلا اثل : جھاؤ سدر : بیری قرا : بستیاں ظاھرۃ : نظر آنے والی۔ کھلی ہوئی بعد : دور کردے۔ درازے کردے احادیث : باتیں صبار : بہت صبر کرنے والا صدق : سچ کر دکھایا سلطن : طاقتور ۔ زور دار تشریح نمبر 15 تا 21 نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ” سبا “ عرب کے ایک شخص کا نام تھا جس کی نسل سے عرب میں کندہ ، ازد، اشعرمین، مذحج، عاملہ، جذام، لخم ، غسان اور انمار (جس کی دو شاخیں ہیں (خشم اور بخیلہ ) قبیلے تھے۔ ( ترمذی) قوم سبا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 20–21

شیطانی وسوسہ کا انجام۔ (ف 1) اس آیت میں فرمایا ہے کہ شیطان کا وسوسہ انسان کے پیچھے لگانا اس لیے ہے کہ اللہ کے علم ازلی میں یہ بات قرار پاچکی ہے کہ خواہش نفسانی اور اس خواہش نفسانی کا ابھارنے والاشیطان دنیا میں انسان کے ساتھ پیدا ہوگا، تو کچھ انسان شیطان کے بہکادے میں آن کر اپنی عمر برے کاموں میں گزاردیویں گے اور کچھ انسان اللہ کے رسول کی نصیحت مان کر شیطان کے بہکاوے میں نہ آئیں گے بلکہ شیطان کے وسوسہ سے ان کو اور یہ فائدہ ہوگا، کہ جب شیطان ان کے دل میں کسی برے کام کا وسوسہ ڈالے گا اور وہ خوف عقبی سے اس وسوسہ کو ٹال دیں گے اور اس وسوسہ کے موافق براکام کرنے کی جرات نہ کریں گے تو اس برے خیال کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[20] یعنی اس کا یہ گمان کہ میں بنی آدم میں سے زیادہ کو گمراہ کر ڈالوں گا۔ (ملاحظہ ہو سورة اعراف آیت 17 صفحہ 336 اور سورة بنی اسرائیل آیت 62 صفحہ 652)

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 16–20

ف 2: فرمایا ۔ ان میں سے چند مومنوں کے سوا سب لوگوں نے شیطان کی پیروی کی اور اس کے مزعوبات کو سچا ثابت کرکے دکھایا یعنی یہ بات جو اس نے کہی تھی ۔ کہ میں نجدان لوگوں کو گمراہ کرکے رہونگا ۔ فبعزتک لاغریتھم وہ پوری ہوئی ۔ اور یہ لوگ اس کے چنگل میں گرفتار ہوگئے ۔ یعنی ان لوگوں کی مگر اہ یمحض اس قانون ازلی کے مطابق ہے کہ دنیا میں ہمیشہ دو گروہ موجود رہیں گے ایک وہ جو عقبیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے ۔ اور دوسرا وہ جو مادیت پرست ہے ان دو قسم کے خیالات کا بقاء دنیا کے تکوینی مقاصد کے لئے ضروری ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(20) اور بلاشبہ شیطان نے بنی آدم کے بارے میں جو رائے اور جو گمان قائم کیا تھا صحیح اور سچا پایا کہ ایمان والوں کی ایک تھوڑی سی جماعت اور فریق کے سوا سب شیطان کے پیچھے ہو لئے اور اس کی پیروی کرنے لگے۔ یعنی شیطان نے جس گمان کا اظہار کیا تھا کہ ولا تجداکثرھم شکرین کہ آپ ان انسانوں میں سے اکثر کو شکرگزار نہ پائیں گے تو اس لعین نے جیسا خیال قائم کیا تھا اور جس گمان کا اظہار کیا تھا وہی ہوا کہ سوائے اہل ایمان کی ایک تھوڑی سی جماعت کے سب ہی اس کی اتباع کرنے لگے اور ظاہر ہے کہ اہل ایمان کی تعداد خواہ کتنی ہو دین حق کے منکروں کے مقابلے میں کم ہی ہیں۔ کامل اہل ایمان تو شیطان سے بالکل محفوظ رہے اور فاسق…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اہل سبا کے سارے شیاطین نے اپنا خیال سچ کردکھایا 20 ۔ اہل سبا بھی ان لوگوں میں سے تھے جن کے متعلق شیطان نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ غور کرو کہ شیطان کا وعدہ کیا تھا ؟ شیطان کا وعدہ تھا کہ { فبعزتک لا غوینھم اجمعین } (82:38) { ولا تجداکثرھم شاکرین } (17:7) ” مجھے تیری عزت کی قسم میں ان سب کو گمراہ کرنے کی کوشش کروں گا اور تو اکثران میں سے شکر گزار نہیں پائے گا “۔ شاید اس وقت اس کو یقین نہ ہوگا کہ میں اپنے دعویٰ میں پورا اتروں گا لیکن جب اہل سبا اور ان جیسے دوسرے لوگوں نے اس کی انگیخت پر ضلالت وگمراہی پر چلنا شروع کردیا اور ناشکری کی گویا انتہا کردی تو اب اس کا وہ وعدہ بلا شبہ درست ہوگیا۔ اہل سبا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 20–22

Commentary These verses are meant to prove the falsity of three different types of idol-worshippers. The first group among them, and the most absurd of all, was of the people who believed that these idols, made of stones are the partners of Allah and His associates in all His powers. The beginning part of the verse 22 refutes their presumption by saying, "They do not possess (anything) even to the measure of a particle...". The second group of them used to believe that these idols are the helpers of Allah in managing affairs of the universe. The last part of Verse 22 deals with this group by…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

35 History shows that in ancient times there lived among the Sabaeans a small group of the people, who believed in one God, apart from all other gods. The inscriptions that have been discovered in the ruins of Yaman as a result of modern archaeological research point to the existence of this small element. Some inscriptions of the period about 650 B.C. indicate that at several places in the kingdom of Saba there existed such houses of worship as were exclusively meant for the worship of dhu-samavi or dhu-samavi (i.e. Rabb as-Sama': Lord of the heavens). In some places this Deity has been…

Read the full tafseer →