Saba 34:21

Saba · from ayah 21

34:21

وَمَا كَانَ لَهٗ عَلَیْهِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِیْ شَكٍّ ؕ— وَرَبُّكَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ ۟۠وَمَا كَانَ لَهٗ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ اِلَّا لِنَعۡلَمَ مَنۡ يُّـؤۡمِنُ بِالۡاٰخِرَةِ مِمَّنۡ هُوَ مِنۡهَا فِىۡ شَكٍّ ؕ وَ رَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ حَفِيۡظٌ

اور اس کا ان پر کچھ زور نہ تھا مگر (ہمارا) مقصود یہ تھا کہ جو لوگ آخرت میں شک رکھتے ہیں ان سے ان لوگوں کو جو اس پر ایمان رکھتے تھے متمیز کردیں۔ اور تمہارا پروردگار ہر چیز پر نگہبان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And he had over them no authority except [it was decreed] that We might make evident who believes in the Hereafter from who is thereof in doubt. And your Lord, over all things, is Guardian.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 2 of surah · Ruku 8 of juzع

Read the whole surah · Surah Saba

All translations of 34:21

ابلیس کو اُن پر کوئی اقتدار حاصل نہ تھا مگر جو کچھ ہوا وہ اس لیے ہوا کہ ہم یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ کون آخرت کا ماننے والا ہے اور کون اس کی طرف سے شک میں پڑا ہوا ہے تیرا رب ہر چیز پر نگران ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اس کا ان پر کچھ زور نہ تھا مگر (ہمارا) مقصود یہ تھا کہ جو لوگ آخرت میں شک رکھتے ہیں ان سے ان لوگوں کو جو اس پر ایمان رکھتے تھے متمیز کردیں۔ اور تمہارا پروردگار ہر چیز پر نگہبان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

شیطان کا ان پر کوئی زور (اور دباؤ) نہ تھا مگر اس لئے کہ ہم ان لوگوں کو جو آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ﻇاہر کردیں ان لوگوں میں سے جو اس سے شک میں ہیں۔ اور آپ کا رب (ہر) ہر چیز پر نگہبان ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ابلیس کو ان پر کوئی تسلط نہیں تھا، البتہ ہم (نے اس کو بہکانے کی صلاحیت اس لیے دی تھی کہ) ہم یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ کون ہے جو آخرت پر ایمان لاتا ہے اور کون ہے جو اس کے بارے میں شک میں پڑا ہوا ہے۔ اور تمہارا پروردگار ہر چیز پر نگران ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور شیطان کا ان پر کچھ قابو نہ تھا مگر اس لیے کہ ہم دکھادیں کہ کون آخرت پر ایمان لاتا اور کون اس سے شک میں ہے، اور تمہارا رب ہر چیز پر نگہبان ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور شیطان کا ان پر کچھ زور نہ تھا مگر یہ اس لئے (ہوا) کہ ہم ان لوگوں کو جو آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ان لوگوں سے ممتاز کر دیں جو اس کے بارے میں شک میں ہیں، اور آپ کا رب ہر چیز پر نگہبان ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اس کا ان پر کوئی غلبہ نہ تھا مگر تاکہ ہم جان لیں کون ہے جو آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس سے (الگ) جو اس کے بارے میں شک میں ہے اور تیرا رب ہر چیز پر پوری طرح نگران ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

حالانکہ ابلیس کا ان پر کچھ زور نہیں تھا (اور یہ سب کچھ اس لئے ہوا) تاکہ ہم معلوم کرلیں کہ کون آخرت پر ایمان لاتا ہے اور کون اس بارے میں شک میں پڑا رہتا ہے اور آپ کا پروردگار ہر چیز پر نگران ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اس کو ان کے اوپر کوئی اختیار حاصل نہ تھا۔ بس یہ ہم ممیز کردیں انلوگوں کو جو آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ان لوگوں سے جو اس کی بابت شک میں ہیں اور تمہارا رب ہر چیز کا نگران ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اس کا ان پر کوئی زور نہیں تھا مگر (اغواء اور وسوسہ اندازی کا اور وہ بھی اس لئے کہ) تاکہ ہم دیکھیں کہ کون ایمان رکھتا ہے آخرت پر اور کون اس کے بارے میں شک میں پڑا ہے اور تیرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور اس کا جو تسلط ان لوگوں پر ہے وہ تو بس اسی لئے ہی ہے کہ ہم معلوم کرلیں ان لوگوں کو جو آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ان لوگوں سے الگ جو اس کی طرف سے شک میں ہیں اور آپ کا پروردگار ہر چیز کا نگراں ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اس کو ان پر کوئی اختیار حاصل نہیں تھا مگر یہ کہ ہم دیکھ لیں کہ کون ہے جو آخرت پر یقین رکھتا ہے } ان لوگوں سے جو اس سے متعلق شک میں ہیں۔ اور آپ کا پروردگار ہرچیز پر نگران ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اس کا ان پر کوئی زور نہ تھا مگر ہمارا مقصودیہ تھا کہ جو لوگ آخرت کے متعلق شک رکھتے ہیں ان سے ان لوگوں کو جو اس پر ایمان رکھتے ہیں ان سے جدا کرلیں اور تمہارا رب ہر چـیز پر نگہبان ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Iblis had no authority over them and whatever happened was in order that We might know him who believes in the Hereafter as distinct from him who is in doubt about it. Your Lord is watchful over everything.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He did not have any power over them, but for the reason that We should recognize the one who believes in the Hereafter as distinct from the one who is in doubt about it; and your Lord is Watchful over every thing.

— Muhammad Taqi Usmani

He did not have any power over them, but for the reason that We should recognize the one who believes in the Hereafter as distinct from the one who is in doubt about it; and your Lord is Watchful over every thing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And he had no authority over them, -- except that We might test him who believes in the Hereafter, from him who is in doubt about it. And your Lord is Watchful over everything.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And he had no warrant whatsoever against them, save that We would know him who believeth in the Hereafter from him who is in doubt thereof; and thy Lord (O Muhammad) taketh note of all things.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And he had over them no authority except [it was decreed] that We might make evident who believes in the Hereafter from who is thereof in doubt. And your Lord, over all things, is Guardian.

— Saheeh International

He did not have any authority over them except to the extent that would allow Us to know who had faith in the life to come and who had doubts about it. Your Lord is a Guard over all things.

— Muhammad Sarwar

And he has no authority over them, but that We may distinguish him who believes in the hereafter from him who is in doubt concerning it; and your Lord is the Preserver of all things

— Muhammad Habib Shakir

And he hath no authority over them except that We would know him who believeth in the Hereafter from him who is in doubt thereof. And thy Lord is over everything a Warden.

— Abdul Majid Daryabadi

But he had no authority over them,- except that We might test the man who believes in the Hereafter from him who is in doubt concerning it: and thy Lord doth watch over all things.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 34:21

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 20–21

ابلیس اور اس کا عزم۔ سبا کے قصے کے بیان کے بعد شیطان کے اور مریدوں کا عام طور پر ذکر فرماتا ہے کہ وہ ہدایت کے بدلے ضلالت بھلائی کے بدلے برائی لے لیتے ہیں۔ ابلیس نے راندہ درگاہ ہو کر جو کہا تھا کہ میں ان کی اولاد کو ہر طرح برباد کرنے کی کوشش کروں گا اور تھوڑی سی جماعت کے سوا باقی سب لوگوں کو تیری سیدھی راہ سے بھٹکا دوں گا۔ اس نے یہ کر دکھایا اور اولاد آدم کو اپنے پنجے میں پھانس لیا۔ جب حضرت آدم و حوا اپنی خطا کی وجہ سے جنت سے اتار دیئے گئے اور ابلیس لعین بھی ان کے ساتھ اترا اس وقت وہ بہت خوش تھا اور جی میں اترا رہا تھا کہ جب انہیں میں نے بہکا لیا تو ان کی اولاد کو تباہ کردینا تو میرے بائیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة سَبـَا 36 یعنی ابلیس کو یہ طاقت حاصل نہ تھی کہ ان کا ارادہ تو خدا کی فرمانبرداری کرنے کا ہو مگر وہ زبردستی ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں نافرمانی کی راہ پر کھینچ لے گیا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بھی قدرت اس کو دی تھی کہ وہ انہیں بہکائے اور ایسے تمام لوگوں کو اپنے پیچھے لگا لے جو خود اس کی پیروی کرنا چاہیں۔ اور اس اغوا کے مواقع ابلیس کو اس لیے عطا کیے گئے تاکہ آخرت کے ماننے والوں اور اس کی آمد میں شک رکھنے والوں کا فرق کھل جائے۔ دوسرے الفاظ میں یہ ارشاد ربانی اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ عقیدہ آخرت کے سوا کوئی دوسری چیز ایسی نہیں ہے جو اس دنیا میں انسان کو راہ راست پر قائم رکھنے کی ضامن ہو سکتی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 20–21

خلاصہ تفسیر اور واقعی ابلیس نے اپنا گمان ان لوگوں کے بارے میں (یعنی بنی آدم کے بارے میں) صحیح پایا (یعنی اس کو جو یہ گمان تھا کہ میں آدم کی اکثر ذریت کو گمراہ کر دوں گا، کیونکہ یہ مٹی سے اور میں آگ سے پیدا ہوا ہوں (درمنثور) اس کا یہ گمان صحیح نکلا) کہ یہ سب اسی راہ پر ہو لئے مگر ایمان والوں کا گروہ (کہ ان میں ایمان کامل والے تو بالکل محفوظ رہے، اور ضعیف الایمان گو گناہوں میں مبتلا ہوگئے، مگر شرک و کفر سے وہ بھی محفوظ رہے) اور ابلیس کا ان لوگوں پر (جو) تسلط (بطور اغوا کے ہے وہ) بجز اس کے اور کسی وجہ سے نہیں کہ ہم کو (ظاہری طور پر) ان لوگوں کو جو آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ان لوگوں سے (الگ کر کے)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وما کان لہ علیھم من سلطن الالنعلم من یومن بالاخرۃ ممن ھو منھا فی شلف وربک علی کل شئی حفیظ (21) یہ ایک دفع دخل مقدر یعنی برسر موقع ایک شبہ کا اذالہ کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ مبتلا رہے کہ شیطان کو لوگوں پر کوئی اختیار حاصل ہے کہ وہ جس کو چاہے گمراہ کردے۔ فرمایا کہ شیطان کو اس طرح کا کوئی اختیار اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر نہیں دیا ہے۔ اس کو صرف اس بات کی مہلت ملی ہے کہ وہ لوگوں کو بدی کے راستہ کی دعوت دے سکتا ہے اور یہ مہلت اس کو اسے لئے دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کا امتحان کرنا چاہتا ہے کہ کون آخرت پر ایسا مضبوط ایمان رکھتا ہے کہ شیطان کی ترغیبات کے باوجود دبائو حق پر استوار رہتا ہے اور کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 19–21

19۔ 1 یعنی جس طرح لوگ سفر کی صعوبتوں، خطرات اور موسم کی شدتوں کا تذکرہ کرتے ہیں ہمارے سفر بھی اسی طرح دور دور کردے مسلسل آبادیوں کے بجائے درمیان میں سنسان و ویران جنگلات اور صحراؤں سے ہمیں گزرنا پڑے گرمیوں میں دھوب کی شدت اور سردیوں میں بیخ بستہ ہوائیں ہمیں پریشان کریں اور راستے میں بھوک اور پیاس اور موسم کی سختیوں سے بچنے کے لیے زاد راہ کا بھی انتظام کرنا پڑے ان کی یہ دعا اسی طرح کی ہے جیسے بنی اسرائیل نے من وسلویٰ اور دیگر سہولتوں کے مقابلے میں دالوں اور سبزیوں وغیرہ کا مطالبہ کیا تھا یا پھر زبان حال سے ان کی یہ دعا تھی۔ 19۔ 2 یعنی انھیں اس طرح ناپید کیا کہ ان کی ہلاکت کا قصہ زبان زد خلائق…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 21–22

15: یعنی شیطان کو ہم نے کوئی ایسی طاقت نہیں دی تھی کہ وہ انسانوں پر زبردستی مسلط ہو کر ان کو نافرمانی پر مجبور کردے، البتہ اسے صرف بہکانے کی صلاحیت دی تھی، جس سے دل میں گناہ کی خواہش ضرور پیدا ہوجاتی ہے، مگر کوئی شخص گناہ اور نافرمانی پر مجبور نہیں ہوتا، اور اگر کوئی شخص عقل اور شریعت کے مطالبے پر ڈٹ جائے تو شیطان کچھ بھی نہیں کرسکتا اور یہ صلاحیت بھی اس کو اس لئے دی گئی ہے کہ اس کے ذریعے انسانوں کی آزمائش بھی مقصود تھی کہ کون ہے جو آخرت کی زندگی کو پیش نظر رکھ کر شیطان کی بات رد کردیتا ہے اور کون اسے مان لیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 20–21

ولقد صدق علیھم۔۔۔۔۔۔۔ کل شئ حفیظ (20 – 21) یہ قوم ، اس راستے پر چل کر اس کا یہ انجام کیوں ہوا ؟ اس لیے کہ ابلیس نے اپنی منصوبہ بندی کو درست پایا اور وہ ان کو گمراہ کرنے میں کامیاب رہا۔ ہاں اہل ایمان کو وہ گمراہ نہ کرسکا ، مومنین کے گروہ کو وہ گمراہ نہ کرسکا “۔ کیونکہ ہر گمراہ سوسائٹی میں لوگوں کی ایک قلیل تعداد ایسی رہ جاتی ہے جو گمراہ ہونے سے انکار کردیتی ہے اور یہ قلیل گروہ مومنین اس بات کا گواہ ہوتا ہے کہ سچائی اپنی جگی قائم ہوتی ہے۔ صرف اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی سچائی کا طالب ہو۔ اگر کوئی طالب ہو تو سچائی مل جاتی ہے۔ بدترین حالات میں بھی سچائی قائم رہتی ہے۔ جہاں تک ابلیس کا تعلق ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی شیطان کو یہ قدرت نہ تھی کہ لاٹھی لے کر ان کو زبردستی راہ حق سے روک دیتا۔ ہاں بہکاتا پھسلاتا ہے اور اتنی قدرت بھی اس لیے دی گئی کہ بندوں کا امتحان و ابتلاء منظور تھا۔ دیکھیں کون آخرت پر یقین کر کے خدا کو یاد رکھتا ہے اور کون دنیا میں پھنس کر انجام سے غافل ہوجاتا ہے اور بیوقوف بن کر شک یا دھوکہ میں پڑجاتا ہے۔ اللہ کی حکمت کا مقتضاء یہی یہ تھا کہ دنیا میں انسان کے لیے دونوں طرف جانے کے راستے کشادہ رکھیں۔ جیسا کہ پہلے کئی جگہ اس کی تقریر ہوچکی ہے ایسا نہیں کہ (معاذ اللہ) خدا کو خبر نہ ہو۔ بیخبر ی میں شیطان کسی بندے کو اچک لے جائے۔ خوب سمجھ لو کہ ہر چیز اللہ کی نگاہ میں ہے اور تمام احوال و…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 21 { وَمَا کَانَ لَہٗ عَلَیْہِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ } ”اور اس کو ان پر کوئی اختیار حاصل نہیں تھا“ ابلیس کا انسانوں پر کوئی زور نہیں چلتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو صرف مہلت دے رکھی ہے۔ اس مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ انسانوں کو حیلے بہانے سے ورغلاتا اور انہیں سبز باغ دکھاتا ہے۔ اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں کرسکتا اور اسے یہ مہلت بھی انسانوں کی آزمائش کے لیے دی گئی ہے۔ { اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَۃِ } ”مگر یہ کہ ہم دیکھ لیں کہ کون ہے جو آخرت پر یقین رکھتا ہے“ تاکہ آخرت پر ایمان رکھنے والے لوگوں کی پہچان ہوجائے اور انہیں ہم چھانٹ کر الگ کرلیں : { مِمَّنْ ہُوَ مِنْہَا فِیْ شَکٍّ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

34 ابلیس کے پاس کوئی ایسی طاقت نہیں کہ وہ زبردستی لوگوں کو اللہ کی راہ سے اپنی راہ پر ڈال دے۔ وہ صرف یہی اختیار رکھتا ہے کہ انسان کے دل میں وسوسہ ڈال سکے۔ اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں کرسکتا اور شیطان کے انسان کو گمراہ کرنے کے سب سے زیادہ موثر تین طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ انسان کو شرک کی نئی سے نئی راہیں بڑے خوبصورت انداز میں پیش کردیتا ہے۔ اور دوسرے اسے عقیدہ آخرت کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا کردیتا ہے۔ یا عقیدہ آخرت میں ایسے جزوی عقائد شامل کردیتا ہے کہ عقیدہ آخرت کے اصل مقصد ہی فوت ہوجائے اور عقیدہ آخرت کا صحیح مفہوم ہی وہ چیز ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی سیدھی راہ پر قائم رکھ سکتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

35۔ (چنانچہ ہر ایک کے ایمان وعدم ایمان کی بھی اس کو خبر ہے) (آیت) ’ ’ لنعلم “۔ یعنی ہم ظاہری طور پر بھی معلوم کرلیں۔ ان واقعات تکوینی سے مقصود ابتلاء وامتحان ہی تھا کہ مومن و کافر متعین ہوجائیں۔ (آیت) ” لنعلم “۔ ل تلیل کا ہے۔ یعنی شیطان کے مسلط کرنے کی غایت تکوینی ہی یہ ہے کہ مخلص و منافق کا امتیاز ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 15–21

آیت نمبر 15 تا 21 ترجمہ : قوم سبا کے لئے (سبا) منصرف اور غیر منصرف (دونوں ہیں) سبا ایک قبیلہ کا نام ہے ان کے عربی جد اعلیٰ کے نام پر رکھا گیا ہے یمن میں ان کی بستیوں میں خدا کی قدرت کی نشانی تھی ان کے دائیں بائیں دورویہ باغ تھے یعنی ان کی وادی کے دائیں بائیں جانب جنتان، آیۃ سے بدل ہے، ان سے کہا گیا اپنے رب کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور ملک سبا میں تم کو دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کرو یہ عمدہ شہر ہے یعنی اس میں نہ زمین شور ہے اور نہ مچھر نہ مکھی، اور نہ پسو اور نہ بچھو اور نہ سانپ اور (اگر) اس شہر سے ایسا مسافر گذرتا کہ اس کے کپڑوں میں جوئیں ہوتیں تو وہ شہر کی پاکیزہ ہوا کی وجہ سے مرجاتیں اور بخشنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما کان لہ علیھم من سلطن الا لنعلم من یومن بالاخرۃ ممن ھو منھا فی شک اور ان لوگوں پر ابلیس کا جو تسلط (بطور اغواء) تھا ‘ وہ بجز اس کے اور کسی وجہ سے نہیں تھا کہ ہم کو (ظاہری طور پر) ان لوگوں کو جو آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ‘ ان لوگوں سے الگ کرنا ہے جو اس کی طرف سے شک میں پڑے ہیں۔ یعنی ابلیس کو کوئی قدرت نہ تھی کہ وہ ان کو بہکا سکتا اور دلوں میں جھوٹی آرزوئیں اور امیدیں پیدا کرتا۔ مگر جب ہم نے اس کو مسلط کردیا اور اس سے کہ دیا : وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْھُمْ بِصَوْتِکَ وَاَجْلِبْ عَلَیْھِمْ بِخَیْلِکَ وَرَجِلِکَ وَشَارِکْھُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلاَدِ وَعِدْھُمْ تو اس میں قدرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

ار ابلیس کا جو انسانوں پر تسلط ہے سب اسی کی راہ پر ہو رہے ہیں سوائے اس کے اور کسی وجہ سے نہیں کہ ہمیں ظاہری طور پر نمایاں کر کے ان لوگوں کی جماعت کو جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں ان لوگوں سے ممتاز کر کے معلوم کرنا ہے جو قیام قیامت کے بارے میں شک میں ہیں اور کیونکہ اے نبی کریم آپ کا پروردگار ان کے اعمال سے پوری طرح باخبر ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَا كَانَ لَهٗ عَلَيْهِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ : یعنی ابلیس کو یہ طاقت حاصل نہ تھی کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کرنا چاہے اسے زبردستی ڈنڈے کے زور سے نافرمانی کی راہ پر کھینچ کرلے جائے۔ اسے صرف یہ اختیار تھا کہ انسان کے دل میں وسوسہ ڈال سکے، اسے سبز باغ دکھا کر دھوکے میں مبتلا کرے اور اس کے سامنے گناہوں کو خوش نما کر کے پیش کرے۔ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يُّؤْمِنُ بالْاٰخِرَةِ : یعنی ابلیس کو یہ اختیار دینے میں اللہ تعالیٰ کی حکمت یہ تھی کہ معلوم ہوجائے کہ کون آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور کون ہے جسے اس میں شک ہے اور سب دیکھ لیں کہ رحمٰن کی بات ماننے والا کون ہے اور شیطان کی پیروی کرنے والا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت : وما کان لہ علیھم من سلطن ابلیس نے انہیں کفر پر مجبور نہیں کیا، اس کی طرف سے صرف دعوت اور تزیین تھی۔ سلطان کا قوت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : اس سے مراد حجت ہے، یعنی اس کے پاس کوئی ایسی حجت نہیں تھی جو ان سے مطالبہ کرے کہ وہ اس کی اتباع کریں انہوں اس کی پیروی شہوت، تقلید اور خواہش نفس کی بناء پر کی، صحبت اور دلیل کی بناء پر نہ کی۔ آیت : الا لنعلم من یو من بالا خرۃ اس سے مراد علم شہادت جس کے ساتھ ثواب اور عقاب واقع ہوتا ہے، جہاں تک علم غیب کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔ فراء کا مذہب ہے کہ معنی ہو کہ ہم اسے تمہارے پاس جانیں، جس طرح فرمایا : آیت : این شرکاءی (النحل : 27) تمہارے قول…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 20–21

1۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولقد صدق علیہم ابلیس ظنہ (اور واقعی ابلیس نے ان لوگوں کے بارے میں اپنا گمان صحیح پایا) یعنی ابلیس نے کہا کہ آدم (علیہ السلام) خشک مٹی اور گارے سے اور سڑے ہوئے کیچڑ سے کمزور پیدا کیا گیا جبکہ مجھے آگ سے پیدا کیا گیا اور آگ ہر چیز کو جلا دیتی ہے آیت ” لاحتنکن ذریتہ الا قلیلا “ (یعنی میں اس کی نسل کو قابو میں کرلوں گا) فرمایا کہ ابلیس نے ان پر اپنے کو سچ کردیا لوگوں نے اس کی اتباع کی مگر مومنوں کی ایک جماعت نے اس کی پیروی نہیں کی فرمایا یہی لوگ مومن ہیں۔ 2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولقد…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمَا كَانَ لَهٗ [اور نہیں تھا اس کے لئے ] عَلَيْهِمْ [ان پر ] مِّنْ سُلْطٰنٍ [کوئی بھی اختیار ] اِلَّا لِنَعْلَمَ [سوائے اس کے کہ ہم جان لیں ] مَنْ [اس کو جو ] يُّؤْمِنُ [ایمان لاتا ہے ] بِالْاٰخِرَةِ [آخرت پر ] مِمَّنْ هُوَ [ان میں سے جو کہ وہی ] مِنْهَا [اس (آخرت) سے ] فِيْ شَكٍّ ۭ [شک میں ہے ] وَرَبُّكَ [اور آپ ﷺ کا رب ] عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [ہر چیز پر ] حَفِيْظٌ [نگران ہے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَرَبُّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ) (اور آپ کا رب ہر چیز پر نگران ہے) اسے سب کے حال کی خبر ہے وہ ہر ایک کو ایمان اور عدم ایمان کی صفت کے اعتبار سے جزا اور سزا دے گا۔ (قولہ تعالیٰ : سیل العرم ای الصعب من عرم الرجل المثلث الراء فھو عارم و عرم اذا شرس خلقہ وصعب وفی معانہ ما جاء فی روایۃ عن ابن عباس من تفسیرہ بالشدید، وقیل : العرم المطر الشدید قال ابن جبیر العرم المسناۃ بلسان الحبشۃ، وقولہ تعالیٰ : خمط ای حامض اومر، وعن ابن عباس الخمط الأراک ویقال لثمرہ مطلقا او اذا اسود و بلغ البربر، وقیل شجرۃ الغضا ولا اعلم ھل لہ ثمرام لا، وقال ابو عبیدۃ کل شجرۃ مرۃ ذات شوک، وقولہ تعالیٰ : واثلٍ ھو ضرب من…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 15–21

قصہء قوم سبا قال اللہ تعالی۔ لقد کان لسبا فی مسکنہم ایۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وربک علی کل شیء حفیظ۔ (ربط) گزشتہ آیات میں منیبین اور شاکرین کا قصہ ذکر فرمایا جو بندے اللہ کی نعمتوں کا شکر کرتے ہیں اب اس کے بالمقابل غیر منیبین اور غیر شاکرین کا ایک قصہ ذکر کرتے ہیں جو خدا کے ناسپاس اور ناشکرے تھے تاکہ لوگ اس سے نصیحت اور عبرت پکڑیں یعنی اہل سبا کا قصہ عبرت بیان کرتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ ناسپاسی اور ناشکری اور عدم انابت الی اللہ کا کیا انجام ہوتا ہے بعض عدم انابت کا وبال دنیا ہی میں ظاہر ہوجاتا ہے۔ اہل سبا کا قصہ بھی آیات قیامت میں سے ہے کہ حق جل شانہ نے ان کو جو سرسبز و شاداب باغات عطا کئے تھے وہ نمونہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

22:۔ و ماکان الخ : بنی آدم کو گمراہ کرنے پر شیطان کو مسلط کرنے کی تکوینی مصلحت امتحان و ابتلا ہے تاکہ یہ حقیقت واضح اور آشکار ہوجائے کہ مخلص مومن کون ہے اور منافق اور مذبذب کون ہے۔ یعنی مومن و منافق متعین ہوجائیں اور ان میں امتیاز ہوجائے ویسے اللہ تالیی تو سب کو جانتا ہی ہے اسے تو معلوم ہی ہے کہ مومن کون ہے یعنی لنری و نمیر المومن من الکافر واراد علم الوقوع و الظہور اذ کان معلوما عندہ لانہ عالم الغیب (خازن ومعالم ج 5 ص 238) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 18–21

ربط آیات اس رکوع میں اللہ نے قوم سبا کا ذکر فرمایا ہے۔ گزشتہ آیات میں پہلے اس قوم پر کئے جانے والے انعامات کا ذکر کیا اور فرمایا کہ ہم نے ان کو شہروں کی پرامن زندگی اور ہر طرح کی خوشحالی عطا فرمائی تھی مگر انہوں نے خدا تعالیٰ کی ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے سے اعراض کیا تو اللہ نے تاریخی ڈیم میں سے تباہ کن سیلاب بھیج کر ان کے باغات اور شہری آبادیاں تباہ و برباد کردیں اور ان کی زمین سے زرخیزی کی صلاحیت ہی ختم کردی۔ اب پھلدار درختوں کی بجائے وہاں جنگلی جھاڑ بوٹ اگتا تھا جو یا تو بےپھل ہوتا تھا یا اس کا پھل کڑوا کسیلا تھا۔ البتہ بہت کم مقدار میں بعض جگہ جنگلی بیر ہوجاتے تھے۔ اب آج کے درس میں اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا كَانَ لَہٗ عَلَيْہِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَۃِ مِمَّنْ ہُوَمِنْہَا فِيْ شَكٍّ۝ 0 ۭ وَرَبُّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَفِيْظٌ۝ 21ۧ سلط السَّلَاطَةُ : التّمكّن من القهر، يقال : سَلَّطْتُهُ فَتَسَلَّطَ ، قال تعالی: وَلَوْ شاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ [ النساء/ 90] ، وقال تعالی: وَلكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلى مَنْ يَشاءُ [ الحشر/ 6] ، ومنه سمّي السُّلْطَانُ ، والسُّلْطَانُ يقال في السَّلَاطَةِ ، نحو : وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوماً فَقَدْ جَعَلْنا لِوَلِيِّهِ سُلْطاناً [ الإسراء/ 33] ، ( س ل ط ) السلاطۃ اس کے معنی غلبہ حاصل کرنے کے ہیں اور سلطتہ فتسلط کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

وما کان لہ علیہم من سلطان اور شیطان کی ان پر کچھ زبردستی نہ تھی، اس کو صرف امتحان کے لیے چھوڑا گیا کہ کون آخرت پر ایمان لاکر ثابت رہتا ہے اور کون شک کرتا ہے اور اللہ ہر چیز کا محافظ ہے۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَا کَانَ لَـہٗ عَلَیْھِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلاَّ لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَۃِ مِمَّنْ ھُوَمِنْھَا فِیْ شَکٍّ ط وَرَبُّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ حَفِیْظٌ۔ (السباء : 21) (اور ابلیس کو ان پر کوئی اقتدار حاصل نہ تھا مگر یہ کہ ہم ممیز کردیں ان لوگوں کو جو آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، ان لوگوں سے جو اس کی بابت شک میں ہیں، اور آپ کا رب ہر چیز پر نگران ہے۔ ) ایک شبہ کا ازالہ اس آیت کریمہ میں برسرموقع ایک شبہ کا ازالہ فرمایا گیا ہے۔ شبہ یہ ہوسکتا تھا کہ شیطان نے جس اعتماد کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے اولادِآدم کو گمراہ کرنے کی بات کی اور کامیابی کی امید کا اظہار بھی کیا، اس سے تو ایسا لگتا ہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 20–21

فہم القرآن ربط کلام : جو مصیبت پر صبر نہیں کرتا اور اپنے رب کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ شیطان کی بات کو سچ کر دکھاتا ہے۔ ہمیشہ ان لوگوں کی اکثریت رہی ہے۔ ابلیس غیب کا علم نہیں جانتا تھا لیکن وہ سمجھتا تھا کہ جن عناصر پر حضرت آدم (علیہ السلام) کو تخلیق کیا گیا ہے وہ باہم متصادم ہیں جس بنا پر آدم (علیہ السلام) اور اس کی اولاد کو گمراہ کرنا آسان ہوگا۔ اس کے علاوہ ابلیس جِنّات کو بھی دیکھ چکا تھا کہ ان کی اکثریت گمراہ ہوچکی ہے۔ ابلیس کے اسی گمان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ابلیس نے اپنے گمان کو سچ کر دکھایا کہ مومنوں کی جماعت کے علاوہ باقی سب لوگ اس کی پیروی کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

21: وَمَا کان لَہٗ عَلَیْھِمْ (حالانکہ ابلیس کا ان پر کچھ زور نہیں) جن کے متعلق اس کا گمان درست ثابت ہوا۔ مِّنْ سُلْطٰنٍ سلطان تسلط کو کہتے ہیں اور وسوسہ اندازی سے ان پر غلبہ پانے کو۔ اِلَّا لِنَعْلَمَ (مگر ہم نے معلوم کرنا ہے) اس چیز کو موجود کر کے جس کو ہم معدوم ہونے کی حالت میں پہلے سے جانتے ہیں تغیر معلوم پر ہے نہ کہ علم پر مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَۃِ مِمَّنْ ھُوَ مِنْھَا فِیْ شَکٍّ (جو کہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں ان لوگوں میں سے جو کہ آخرت کے متعلق شک میں پڑے ہیں) وَرَبُّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ حَفِیْظٌ ( اور آپ کا رب ہر شئی پر نگہبان ہے) محافظ ہے فعیل اور مفاعل ایک دوسرے کے معنی دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

21، وما کان لہ علیھم من سلطان ، ان لوگوں پر جن پر ابلیس کا تسلط ہے وہ محض ، الا لنعلم من یؤمن بالا خرۃ ممن ھو منھا فی شک، مگر یہ کہ ہم جان لیں یعنی الگ الگ چھانٹ دیں مؤمن کو کافر سے جدا کردیں ۔ مراد اس علم کا وقوع اور ظہور ہونا اور یہ سب کچھ اس کو کچھ اس کو اپنے علم غیب سے معلوم ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

21۔ دنیا کے پیدا ہونے سے اور دنیا میں نیک وبد کے پیدن ہونے سے اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں کوئی نئی بات نہیں پیدا ہوتی دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اور نیک وبد کے پیدا ہونے سے پہلے جو کچھ دنیا کے پیدا ہونے کے وقت سے اب تک ہوا اور جو کچھ قیامت تک ہوگا وہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے لیکن اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے لیکن اللہ عتالیٰ کی درگاہ میں انصاف ہے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس علم ازلی پر جزا اور سزا کی بنیادذ نہیں رکھی ہے بلکہ دنیا میں اللہ کے اس علم ازلی کے موافق جو ظہور قیامت تک ہوگا اسی کے موافق قیامت کے دن جزا اور سزا ہوگی اسی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے کہ شیطان کا وسوسہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 15–21

آیت 15-21 ” سبا “ ایک معروف قبیلہ تھا جو یمن کے قریب ترین علاقوں میں آباد تھا۔ وہ ایک شہر میں آباد تھے جسے ” مارب “ کہا جاتا تھا۔ تمام بندوں پر عموماً اور عربوں پر خصوصاً اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم اور اس کی بےپایاں نعمتیں ہیں کہ اس نے قرآن مجید میں ان ہلاک شدہ قوموں کے بارے میں خبر دی ہے جن پر عذاب نازل کیا گیا، جو ان کے پڑوس میں آباد تھیں، جہاں ان کے آثار کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے اور لوگ ان کے واقعات کو ایک دوسرے سے نقل کرتے چلے آرہے ہیں ات کہ اس طرح ان کے واقعات کے ذریعے سیق رآن کی تصدیق ہوا اور یہ چیز نصیحت کے قریب تر ہو۔ (لقد کان لسبا فی مسکنھم) ” سبا کے لئے تھی ان کے مسکنوں میں “ یعنی ان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–54

اسلام میں مصوری کی ممانعت قول باری ہے (یعملون لہ مایشآء من محاریب وتماثیل۔ سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں بنوانا منظور ہوتیں مثلاً بڑی عمارتیں اور مجسمے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں تصاویر اور مجسمے بنانے کی اباحت تھی لیکن حضور ﷺ کی شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ آپ سے مروی ہے (لا یدخل الملائکۃ بیتا فیہ صورۃ۔ جس کھر میں کوئی تصویر ہوا اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے) نیز ارشاد ہے (من صورصورۃ کلف یوم القیمۃ ان یحیھا ولا فالنار ۔ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی ہوا سے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں زندگی پیدا کردے ورنہ جہنم میں جائے) ۔ نیز ارشاد ہے (لعن اللہ المصورین۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 20–21

53 ناشکروں کو ان کے ہولناک انجام کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا " اور بلاشبہ سچ کر دکھایا ابلیس نے لوگوں کے بارے میں اپنا گمان "۔ یعنی { علیہم } کی ضمیر کا مرجع جملہ نبی آدم ہیں نہ کہ صرف قوم سبا۔ جیسا کہ متبادر ہے۔ اس لئے جمہور اہل علم اور مفسرین کرام نے بھی یہی مراد لیا ہے۔ کیونکہ ابلیس کا وہ گمان صرف قوم سبا کے لئے نہیں تھا بلکہ جملہ نبی آدم کے لئے تھا ۔ کَلام السَّلَف دَالٌّ عَلٰی اَنَّ ضَمِیْرَ عَلَیْہِمْ لِبَنِیْ اٰدَمَ لا لاہْلِ سَبَا خَاصَّۃً ۔ (جامع البیان وغیرہ) ۔ سو ابلیس نے بنی آدم کے بارے میں اپنا گمان سچا کر دکھایا اور ان کی اکثریت کو گمراہ کرکے چھوڑا جسکی ایک واضح…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 20–21

شیطان کی کاروائی تشریح : ان آیات میں نیکی اور بدی، ایمان اور کفر کا مقابلہ کیا گیا ہے۔ نیکی کا تعلق انسان کی روح کے ساتھ ہے جبکہ بدی کا تعلق انسان کے نفس کے ساتھ ہے شیطان نفس کو بہکاتا ہے۔ اس لیے کہ اس نے اعلان کیا تھا جب اس پر لعنت بھیجی گئی تھی۔ اعلان یہ کیا تھا کہ ” میں آدم اور اس کی اولاد میں سے بہت سوں کو سیدھے راستے سے بہلا کر اور پھسلا کرہٹا دوں گا “۔ تو وہ ہر وقت اپنی کوشش میں لگا رہتا ہے کمزور ایمان والے لوگ اس کی راہ پر چل نکلتے ہیں اور دنیا و آخرت میں ذلیل ہوجاتے ہیں جبکہ مضبوط ایمان والے لوگ ہرگز اس کی راہ پر نہیں چلتے۔ ان کی نگاہ اللہ اور آخرت پر ہوتی ہے۔ شیطان کو یہ طاقت کہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–21

رکوع نمبر 2: آیات 10 تا 21: اسرار و معارف : داود (علیہ السلام) کو ہم نے بہت زیادہ نعمتیں عطا کیں۔ یہاں تک کہ پہاڑوں اور پرندوں تک کو حکم دی ا کہ ان کے ساتھ میری تسبیح کرو۔ مفسرین کے مطابق پہاڑ اور پرندے داود (علیہ السلام) کے ساتھ اس طرح ذکر کرتے تھے کہ عام سننے والا بھی سنتا تھا اور یہ اس تسبیح کے علاوہ تھی جو ہر شے کرتی ہے یعنی اگر کسی کے ساتھ بہت سے افراد اللہ کا ذکر کرنے لگ جائیں تو یہ اللہ کا بہت بڑا انعام ہے جو اس کے خاص بندوں کو نصیب ہوتا ہے نیز ان کے لیے بطور معجزہ لوہے کو نرم کردیا کہ لوہے کی زرہیں بنا کر تیار کریں اور حکم دیا کہ زرہ کی کڑیاں خوبصورت انداز میں جوڑیں۔ سب سے پہلے سامان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 معلوم ہوا کہ آخرت میں شک کرنا کفر ہے اور سباوالوں کی نا شکری اور سرکشی کا سبب یہ تھا کہ انہیں آخرت پر یقین نہ تھا۔ قرآن نے متعدد مقامات پر اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ عقیدہ آخرت ہی ایسی چیز ہے جو دنیا میں انسان کو راہ راست کا پابند رکھ سکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(34:21) ما کان لہ علیہم۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب ابلیس کے لئے ہے اور ہم ضمیر جمع مذکر غائب بنی آدم کے لئے ہے۔ الا۔ استثناء منقطع۔ مفرغ ہے ” لیکن “ کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ لنعلم لام تعلیل کا ہے نعلم مضارع منصوب (بوجہ عمل لام) جمع متکلم ہے نعلم بمعنی نظھر۔ (ہم ظاہر کردیں۔ نمیز (ہم تمیز کردیں) اور نری (ہم دیکھیں) کے معنی میں مستعمل ہوتا ہے۔ اور یہاں سب معنی ہی مراد ہوسکتے ہیں۔ جہاں تک علم کا تعلق ہے خدا ہر ایک چیز کے متعلق ابتدا سے اخیر تک اس کا علم رکھتا ہے لیکن انسان کے کسی فعل پر جزا وسزا مرتب کرنے کے لئے اس کا استحقاق تبھی متعین ہوگا۔ جب وہ عالم واقع میں ظہور پذیر ہوگا اس ابتلا و…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 15–21

لغات القرآن : آیت نمبر 15 تا 21 مسکن : رہنے کی جگہ (آبادی) جنتن : دو باغ (دو رویہ باغ) یمین : داہنے شمال : بائیں طیبۃ : پاکیزہ ۔ صاف ستھری سیل : سیلاب العرم : بند۔ ڈیم اکل : پھل خمط : کڑوا۔ کسیلا اثل : جھاؤ سدر : بیری قرا : بستیاں ظاھرۃ : نظر آنے والی۔ کھلی ہوئی بعد : دور کردے۔ درازے کردے احادیث : باتیں صبار : بہت صبر کرنے والا صدق : سچ کر دکھایا سلطن : طاقتور ۔ زور دار تشریح نمبر 15 تا 21 نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ” سبا “ عرب کے ایک شخص کا نام تھا جس کی نسل سے عرب میں کندہ ، ازد، اشعرمین، مذحج، عاملہ، جذام، لخم ، غسان اور انمار (جس کی دو شاخیں ہیں (خشم اور بخیلہ ) قبیلے تھے۔ ( ترمذی) قوم سبا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 20–21

شیطانی وسوسہ کا انجام۔ (ف 1) اس آیت میں فرمایا ہے کہ شیطان کا وسوسہ انسان کے پیچھے لگانا اس لیے ہے کہ اللہ کے علم ازلی میں یہ بات قرار پاچکی ہے کہ خواہش نفسانی اور اس خواہش نفسانی کا ابھارنے والاشیطان دنیا میں انسان کے ساتھ پیدا ہوگا، تو کچھ انسان شیطان کے بہکادے میں آن کر اپنی عمر برے کاموں میں گزاردیویں گے اور کچھ انسان اللہ کے رسول کی نصیحت مان کر شیطان کے بہکاوے میں نہ آئیں گے بلکہ شیطان کے وسوسہ سے ان کو اور یہ فائدہ ہوگا، کہ جب شیطان ان کے دل میں کسی برے کام کا وسوسہ ڈالے گا اور وہ خوف عقبی سے اس وسوسہ کو ٹال دیں گے اور اس وسوسہ کے موافق براکام کرنے کی جرات نہ کریں گے تو اس برے خیال کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 21–22

[21] مشرکین مکہ کی تنبیہہ کے لئے پچھلے دو رکوع میں تاریخ سے دو مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ پہلی مثال داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کی ہے جنہیں اللہ نے عظیم بادشاہی، علم و حکمت اور بیشمار نعمتوں سے نوازا تھا مگر وہ ان نعمتوں کو پاکر سرکشی اور نافرمانی میں مبتلا نہیں ہوئے بلکہ برابر اپنے رب کے شکرگزار اور فرماں بردار بنے رہے۔ اس کا صلہ اللہ نے انھیں یہ دیا کہ ان کے لئے نعمتوں میں برابر اضافہ ہوتا رہا۔ دوسری مثال اہل سبا کی ہے۔ ان کو بھی اللہ نے ایک نہایت آباد اور زرخیز ملک کی حکومت دی تھی لیکن وہ اس کو پاکر سرکشی اور نافرمانی میں مبتلا ہوگئے۔ بالآخر اللہ نے ان پر سیلاب کا عذاب بھیج کر اس طرح ان کو…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 21–22

ف 1: مشرکین سے خطاب ہے کہ تم جن لوگوں کو خدا سمجھتے ہو وہ کائنات میں ایک ذرہ پر بھی اقتدار نہیں رکھتے ۔ اور نہ زمین اور آسمان کی تخلیق میں ان کا کچھ حصہ ہے اور نہ یہ درست ہے ۔ کہ کسی کام میں اللہ کے شریک وسہیم ہیں ۔ پھر تمہاری عقلوں کو کیا ہوگیا ہے ۔ کہ تم ان لوگوں کو اپنا معبود سمجھتے ہو

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(21) اور لوگوں پر شیطان کا قابو سوائے اتنی بات کے اور کسی وجہ سے نہیں ہوا کہ جو شخص آخرت پر ایمان لاتا ہے ہم اس کو اس شخص سے نمایاں اور متمیز کردیں جو آخرت کے متعلق شک اور شبہے میں پڑا ہوا ہے اور آپ کا پروردگار ہر چیز پر نگہبان اور نگراں ہے۔ یعنی شیطان کو جو اغوا کے سلسلے میں برائے نام قابو دے دیا ہے اس کا منشا صرف اس قدر ہے کہ برے اور اچھے علیحدہ علیحدہ ہوجائیں اور قیامت کے منکر قیامت پر ایمان رکھنے والوں سے متمیز ہوجائیں۔ حضرت حسن بصری ؓ نے فرمایا خدا کی قسم شیطان نے کسی کو تلوار یا لکڑی اور کوڑے سے نہیں مارا بلکہ اس کا کام فریفتہ کرنا اور دلوں میں آرزوئیں ڈالنا ہے چونکہ لوگ اتنی ہی بات میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ یعنی ابتلاء و امتحان مقصود ہے تاکہ مومن و کافر متعین ہوجاویں کہ بعض کو ثواب اور بعض کو عذاب دینا مقتضائے حکمت ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اہل سبا سے ایمان رکھنے والوں اور نہ رکھنے والوں کو اللہ نے الگ الگ کردیا 21 ۔ فرمایا غور کرو کہ شیطان کے ہاتھ میں کوئی ڈنڈا تو نہ تھا کہ وہ بزرور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہانک کر اپنی طرف لے گیا اور نہ ہی اس کے اس کوئی ایسا لشکر تھا جس نے ان کی راہ روک لی اور ان سے جنگ کرکے ان کو اور ان کے رب کو شکست دے کر بزور اسیر کرکے لے گئے ، ہرگز نہیں فرمایا ہم نے ایسا غلبہ تو شیطان کو دیا ہی نہیں معاملہ یہ ہے کہ یہ جو ابلیس وآدم کا سوانگ ہم نے رچایا ہے محض اس لئے ہے کہ ہم ظاہر کردیں کہ کون شخص ہے جو آخرت پر یقین رکھتا ہے اور اپنے اندر کے شیطان قوت بہیمیہ پر قابو پاکر اپنی قوت ملکیہ سے کام لیتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 20–22

Commentary These verses are meant to prove the falsity of three different types of idol-worshippers. The first group among them, and the most absurd of all, was of the people who believed that these idols, made of stones are the partners of Allah and His associates in all His powers. The beginning part of the verse 22 refutes their presumption by saying, "They do not possess (anything) even to the measure of a particle...". The second group of them used to believe that these idols are the helpers of Allah in managing affairs of the universe. The last part of Verse 22 deals with this group by…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

36 That is, `Iblis did not have the power to have forcibly misled these people to the way of God's disobedience although they had wanted to adopt His obedience. Allah had only given him the power that he may seduce and mislead them and make aII such people his followers, who may like to follow him of their own accord. And Iblis was provided these opportunities for seduction so that the believers of the Hereafter were distinguished from those who entertained doubts about its coming. " In other words, this Divine statement makes the truth explicit that nothing in this world other than belief in…

Read the full tafseer →