Explained with ayahs 22–23
وحدہ لاشریک
بیان ہو رہا ہے کہ اللہ اکیلا ہے، واحد ہے، احد ہے، فرد ہے، صمد ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ بےنظیر، لاشریک اور بےمثیل ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، ساتھی نہیں، مشیر نہیں، وزیر نہیں، مددگار و پیشی بان نہیں۔ پھر ضد کرنے والا اور خلاف کہنے والا کہاں ؟ جن جن کو پکارا کرتے و پکار کر دیکھ لو معلوم ہوجائے گا کہ ایک ذرے کے بھی مختار نہیں۔ محض بےبس اور بالکل محتاج و عاجز ہیں، نہ زمینیوں میں ان کی کچھ چلے نہ آسمانوں میں جیسے اور آیت میں ہے کہ وہ ایک کھجور کے چھلکے کے سی مالک نہیں اور یہی نہیں کہ انہیں خود اختیاری حکومت نہ ہو نہ سہی شرکت کے طور پر ہی ہو نہیں شرکت کے طور پر بھی نہیں۔ نہ اللہ…
Read the full tafseer →سورة سَبـَا 38
پچھلے دو رکوعوں میں آخرت کے متعلق مشرکین کے غلط تصورات پر کلام فرمایا گیا تھا۔ اب تقریر کا رخ تردید شرک کے مضمون کی طرف پھر رہا ہے۔
سورة سَبـَا 39
یعنی اللہ تو یوں اشخاص اور اقوام اور سلطنتوں کی قسمتیں بناتا اور بگاڑتا ہے، جیسا کہ ابھی تم داؤد و سلیمان (علیہما السلام) اور قوم سبا کے ذکر میں سن چکے ہو۔ اب ذرا اپنے ان بناوٹی معبودوں کو پکار کر دیکھ لو، کیا ان میں بھی یہ طاقت ہے کہ کسی کے اقبال کو ادبار سے، یا ادبار کو اقال سے بدل سکیں ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
خلاصہ تفسیر
آپ (ان لوگوں سے) فرمائیے کہ جن (معبودوں) کو تم خدا کے سوا (دخیل خدائی) سمجھ رہے ہو، ان کو (اپنی حاجتوں کے لئے) پکارو (تو سہی معلوم ہوجائے گا کہ کتنی قدرت اور اختیار رکھتے ہیں ان کی حالت واقعیہ تو یہ ہے کہ) وہ ذرہ برابر (کسی چیز کا) اختیار نہیں رکھتے نہ آسمانوں کی (کائنات) میں اور نہ زمین (کی کائنات) میں اور نہ ان کی ان دونوں (کے پیدا کرنے) میں کوئی شرکت ہے اور نہ ان میں سے کوئی اللہ کا (کسی کام میں) مددگار ہے، اور خدا کے سامنے (کسی کی) سفارش کسی کے لئے کام نہیں آتی (بلکہ سفارش ہی نہیں ہو سکتی) مگر اس کے لئے جس کی نسبت وہ (کسی سفارش کرنے والے کو) اجازت دے دے، (کفار و مشرکین میں کچھ…
Read the full tafseer →4۔ آگے کا مضمون۔ آیات 22۔ 27
اوپر کی آیات میں یہ حقیقت واضح فرمائی کہ تمام رحمت و نقمت اللہ ہی کیا ختیار میں ہے اس وجہ سے شکر گزاری اور بندگی کا حقیقی سزوار وہی ہے۔ اب آگے مشرکین کو چیلنج کیا ہے کہ تم اپنے جن معبودوں کو خدا کا شریک بنائے بیٹھے اور ان کی سفارش کی امید پر خدا کی پکڑے سے بےفکر ہو، ان کے حق میں کوئی دلیل اپنے پاس رکھتے ہو تو اس کو پیش کرو۔ ساتھ ہی پیغمبر ﷺ کی زبان سے یہ اعلان کرایا ہے کہ اگر تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے، محض جد اور مکابرت کی وجہ سے اپنی بات پر اڑے ہوئے ہو، تو تمہارے ساتھ بحث میں ہم اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے بلکہ معاملہ اللہ کے حوالہ کرتے ہیں۔ وہ بہترین فیصلہ…
Read the full tafseer →22۔ 1 یعنی معبود ہونے کا۔ یہاں زعمتم کے دو مفعول محذوف ہیں زعمتموہم الھۃ یعنی جن جن کو تم معبود گمان کرتے ہو۔
22۔ 2 یعنی انھیں نہ خیر پر کوئی اختیار ہے نہ شرپر، کسی کو فائدہ پہنچانے کی قدرت ہے، نہ نقصان سے بچانے کی، آسمان و زمین کا ذکر نہ عموم کے لئے ہے، کیونکہ تمام خارجی موجودات کے لئے یہی ظرف ہیں۔
22۔ 3 نہ پیدائش میں نہ ملکیت میں اور نہ تصرف میں۔
22۔ 4 جو کسی معاملے میں بھی اللہ کی مدد کرتا ہو، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی بلا شرکت غیرے تمام اختیارات کا مالک ہے اور کسی کے تعاون کے بغیر ہی سارے کام کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
15: یعنی شیطان کو ہم نے کوئی ایسی طاقت نہیں دی تھی کہ وہ انسانوں پر زبردستی مسلط ہو کر ان کو نافرمانی پر مجبور کردے، البتہ اسے صرف بہکانے کی صلاحیت دی تھی، جس سے دل میں گناہ کی خواہش ضرور پیدا ہوجاتی ہے، مگر کوئی شخص گناہ اور نافرمانی پر مجبور نہیں ہوتا، اور اگر کوئی شخص عقل اور شریعت کے مطالبے پر ڈٹ جائے تو شیطان کچھ بھی نہیں کرسکتا اور یہ صلاحیت بھی اس کو اس لئے دی گئی ہے کہ اس کے ذریعے انسانوں کی آزمائش بھی مقصود تھی کہ کون ہے جو آخرت کی زندگی کو پیش نظر رکھ کر شیطان کی بات رد کردیتا ہے اور کون اسے مان لیتا ہے۔
Read the full tafseer →درس نمبر 192 ایک نظر میں
یہ ایک مختصر سبق ہے جس کا موضوع توحید اور شرک ہے ، لیکن اس سبق میں انسان کے عقل و خرد کو پوری کائنات کی سیر کرالی جاتی ہے۔ ظاہری کائنات ہو یا مخفی ہو ، حاضرہویا غائب ہو ، زمین سے ہو یا افلاک سے ہو ، دنیا سے متعلق ہو یا آخرت سے ۔ اس سفر میں انسان پر اس قدر خوف طاری کردیا جاتا ہے کہ اس کا وجود کا نپنے لگتا ہے اور اللہ کا جلال اس پر اس قدر طاری ہوتا ہے کہ انسان مدہوش ہوجاتا ہے ۔ انسان کے سامنے اس کا نسب ، اس کا رزق اور جزاد سزا کے مناظر رکھے جاتے ہیں ۔ اس سبق میں نہایت ہی زور دار الفاظ میں لفظ قل قل قل کے ساتھ انسان کو جھنجھوڑا جاتا ہے ۔ ہر فقرے میں ایک لاجواب دلیل سامنے…
Read the full tafseer →5 یہاں سے مشرکین مکہ کو خطاب ہے جن کی تنبیہ کے لیے " سبا " کا قصہ سنایا تھا۔ یعنی اللہ کے سوا جن چیزوں پر تم کو خدائی کا گمان ہے ذرا کسی آڑے وقت میں ان کو پکارو تو سہی دیکھیں وہ کیا کام کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 22 { قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ } ”اے نبی ﷺ ! ان مشرکین سے کہیے کہ تم بلائو ان کو جنہیں تم نے معبود گمان کیا ہے اللہ کے سوا۔“
جن دیویوں اور دیوتائوں کو تم اپنے اولیاء اور مدد گار سمجھتے ہو انہیں پکار کر دیکھ لو کہ تمہیں کیا جواب دیتے ہیں !
{ لَا یَمْلِکُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَلَا فِی الْاَرْضِ } ”وہ ذرّہ برابر بھی اختیار نہیں رکھتے ‘ نہ آسمانوں میں اور نہ ہی زمین میں“
{ وَمَا لَہُمْ فِیْہِمَا مِنْ شِرْکٍ وَّمَا لَہٗ مِنْہُمْ مِّنْ ظَہِیْرٍ } ”اور نہ ان دونوں زمین اور آسمان میں ان کا کوئی حصہ ہے ‘ اور نہ ہی ان میں سے کوئی اس کا مدد گار…
Read the full tafseer →36 یعنی ان کفار مکہ سے کہئے کہ میرا پروردگار وہ ہے جو کائنات کی ہر چیز کا خالق ہے جو اس کا شکر ادا کرتا ہے اسے وہ نعمتوں سے نوازتا ہے۔ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان اللہ کے شاکر بندے تھے تو اللہ نے انھیں بیشمار نعمتوں سے نوازا تھا۔ اور قوم سبا نے اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے انھیں صفحہ ہستی سے مٹا دیا تھا۔ اب تم بتلاؤ کہ جن معبودوں کو تم پکارتے ہو ان میں سے کوئی ایسا کام کرسکتا ہے ؟ اگر تمہیں کچھ شک ہے تو انھیں پکار کے دیکھ لو کہ کیا وہ آڑے وقت کسی کے کام آسکتے ہیں ؟ اس بات کو اس پہلو سے بھی سمجھو کہ کائنات میں کسی بھی چیز پر ان کا کچھ اختیار ہے ؟ نہ انہوں نے کسی چیز کو بنایا…
Read the full tafseer →36۔ (اور انہیں خود علم ہوجائے گا کہ وہ کتنی قدرت تمہاری حاجت روائی کی رکھتے ہیں)
37۔ (ایجاد و تخلیق عالم سے لے کر روزانہ کے تصرفات تک کسی چیز میں بھی) (آیت) ” مثقال “ سے مراد وہ اقل ترین مقدار ہے جس سے کم ذہن میں بھی نہ آئے۔ شرک کی جتنی قسمیں عام طور پر پھیلی ہوئی ہیں سب کی تردید آیت میں آگئی۔ نہ کوئی کسی چیز کا مستقلا مالک ہے، نہ کوئی حق تعالیٰ کی صفت مالکیت میں شریک ہے، اور نہ کسی کو حق تعالیٰ نے اپنے اختیارات نیابۃ منسوب کردیئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–30
آیت نمبر 22 تا 30
ترجمہ : اے محمد ! کفار مکہ سے کہہ دیجئے کہ جن چیزوں کے بارے میں تمہیں خدا کے سوا (خدائی) کا گمان ہے یعنی جن کو تم اللہ کے علاوہ معبود سمجھتے ہو ان کو پکارو تاکہ وہ تمہارے گمان کے مطابق تم کو نفع پہنچائیں اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا وہ ذرہ برابر خیر و شر کا اختیار نہیں رکھتے، نہ آسمان میں اور نہ زمین میں اور نہ ان کی ان دونون (کے پیدا کرنے) میں شرکت ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کا ان معبودوں میں سے کوئی مددگار ہے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے کسی کی سفارش کام نہیں آتی یہ ان کے اس قول کو رد کرنے کے لئے فرمایا کہ ان کے معبود اس کے سامنے سفارش کریں گے بجز ان کے کہ جن کے لئے اجازت…
Read the full tafseer →قل . اے محمد ﷺ ! آپ (کفار مکہ سے) کہہ دیجئے۔
ادعوا الذین زعمتم من دون اللہ لا یملکون مثقال ذرۃ فی السموت ولا فی الارض وما
لھم فیھما من شرک وما لہ منھم من ظھیر . کہ جن کو تم سوائے خدا کے (اپنے معبود اور کارساز) سمجھ رہے ہو ‘ ان کو پکار کر دیکھو ‘ وہ ذرہ برابر اختیار نہیں رکھتے آسمانوں میں نہ زمین میں اور نہ ان دونوں (کے پیدا کرنے اور انتظام قائم رکھنے) میں ان کی کوئی شرکت ہے اور نہ ان میں سے کوئی (کسی کام میں) اللہ کا مددگار ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حصول منفعت یا دفع مصیبت کیلئے تم ان کو پکار کر دیکھو ‘ اگر (ان کی الوہیت و حکمرانی کے متعلق) تمہارا قول صحیح ہے تو وہ تمہاری مدد کریں گے (یہ قیاس…
Read the full tafseer →آپ کفار مکہ بنی ملیح والوں سے فرما دیجیے جن جھوٹے معبودوں کی تم اللہ کے علاوہ پوجا کر رہے ہو ان کو بلاؤ۔ یہ لوگ جنوں کی پوجا کیا کرتے تھے اور ان کو فرشتے سمجھتے تھے۔
وہ تمہیں ذرا برابر بھی نفع پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتے نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہ ان فرشتوں کو آسمان و زمین کے پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی شرکت ہے اور نہ ان فرشتوں میں سے آسمان و زمین کے پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ کا کوئی مددگار ہے۔
Read the full tafseer →قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ۔۔ : سورت کی ابتدا اس بات سے ہوئی کہ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے اس کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے اور دنیا اور آخرت میں حمد کا سزا وار بھی وہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ذکر فرمایا کہ کفار آخرت کا انکار کرتے ہیں، جب کہ وہ ضرور آئے گی۔ اس کے بعد آخرت پر ایمان رکھنے والوں اور اس کے منکروں کی اور ان کے اچھے اور برے انجام کی مثال کے طور پر داؤد و سلیمان ؑ کا اور قوم سبا کا ذکر فرمایا۔ آخرت کے بیان کے بعد یہاں سے پھر اسی توحید کا بیان شروع ہوتا ہے جس سے سورت کا آغاز ہوا تھا۔
لَا يَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ تو جسے چاہتا ہے داؤد و سلیمان ؑ کی طرح نواز…
Read the full tafseer →آیت : قل الد عو الذین زعمتم من دون اللہ یہ ہی وہ چیز ہے جس کا ذکر گزر چکا ہے یعنی حضرت داود (علیہ السلام) ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور سبا کے قصہ میں میری قدعت کے آثار گزر چکے ہیں۔ اے محمد ﷺ ! آپ ان مشرکوں سے کہیں : کیا تم جن کو شریک بناتے ہوا نہیں بھی ان چیزوں پر قدرت حاصل ہے۔ یہ خطاب تو بیخ کے لیے ہے۔ اس میں کلام مضمر ہے۔ آیت : قل ادعوا الذین زعمتم انھم آلھۃ لکم من دون اللہ یعنی انہیں بلائو جنہیں تم معبود گمان کرتے ہوا للہ کے سوا تاکہ تمہیں نفع دیں اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے بارے میں جو فیصلہ کیا ہوا ہے اس سے تم کو بچا سکیں وہ تو اس کے مالک نہیں۔
آیت : لا یملکون مثقال ذرتہ فی السموت ولا…
Read the full tafseer →1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومالہم فیہما من شرک یعنی آسمان و زمین میں اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں اور جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی آیت ومالہ منہم ان کا کسی چیز میں کوئی مددگار نہیں ” من ظہیر “ ان کا کوئی مددگار نہیں۔
2۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیتومالہ منہم من ظہیر یعنی ان کا فرشتوں میں سے کوئی مدد کرنے والا نہیں۔
Read the full tafseer →قُلِ [آپ ﷺ کہیے ] ادْعُوا [تم لوگ پکارو ] الَّذِيْنَ [ان لوگوں کو جن پر ] زَعَمْتُمْ [تم لوگوں نے زعم کیا ] مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۚ [اللہ کے علاوہ ] لَا يَمْلِكُوْنَ [وہ لوگ مالک نہیں ہیں ] مِثْقَالَ ذَرَّةٍ [کسی ذرہ کے ہم وزن (چیز) کے ] فِي السَّمٰوٰتِ [آسمانوں میں ] وَلَا فِي الْاَرْضِ [اور نہ ہی زمین میں ] وَمَا لَهُمْ [اور نہیں ہے ان لوگوں کے لئے ] فِيْهِمَا [ان دونوں (جگہوں) میں ] مِنْ شِرْكٍ [کوئی بھی شراکت ] وَّمَا لَهٗ [اور نہیں ہے اس (اللہ تعالیٰ ) کے لئے ] مِنْهُمْ [ان لوگوں میں سے ] مِّنْ ظَهِيْرٍ [کوئی بھی مدد کرنے (ہاتھ بٹانے) والا ]
Read the full tafseer →مشرکین نے جن کو شریک قرار دیا ہے نہ انہیں کچھ اختیار ہے نہ آسمان و زمین میں ان کا کوئی ساجھا
ان دونوں آیتوں میں مشرکین کی تردید فرمائی ہے، ارشاد فرمایا کہ اللہ کے سوا تم نے جنہیں معبود بنا رکھا ہے اور یہ سمجھ رہے ہو کہ وہ خدائی میں دخیل ہیں ذرا انہیں اپنی کسی حاجت کے لیے پکارو تو سہی تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ وہ ذرا برابر بھی کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں، اور یہ بھی سمجھ لو کہ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں تمہارے تجویز کیے ہوئے معبودوں کی کوئی شرکت نہیں ہے اور ان میں سے کوئی بھی اللہ تعالیٰ جل شانہٗ کا مددگار نہیں ہے، نہ ایجاد عالم میں ان کا کوئی دخل ہے نہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
اثبات توحید وتوبیخ وتجہیل مشرکین
قال اللہ تعالیٰ قل ادعوا الذین زعمتم من دون اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ بل ھو اللہ العزیز الحکیم۔
(ربط) شروع سورت میں تحمید اور دلائل توحید کا ذکر فرمایا اور پھر داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) پر اپنے انعامات کا اور ان کی شکر گذاری کا ذکر کیا اور بعد ازاں اہل سبا کا قصہ ذکر کیا کہ خدا تعالیٰ نے ان کو بڑی نعمتیں عطا کی تھیں مگر کفر اور شرک اور کفران نعمت کی وجہ سے ان کی عزت و راحت مبدل بہ ذلت و مصیبت ہوگئی۔ پس جب شاکرین اور کافرین کا حال بیان ہوچکا تو اب ان آیات میں مشرکین کی توبیخ اور تجہیل فرماتے ہیں کہ کیسے نادان ہیں کہ جن بتوں میں ذرہ برابر قدرت نہیں ان کو خدا اور…
Read the full tafseer →23:۔ قل ادعوا الخ : امر برائے توبیخ ہے یہ چوتھے شبہ کا جواب ہے۔ مشرکین فرشتوں کو بھی عند اللہ شفیع غالب سمجھتے تھے۔ اور اسی لیے ان کی عبادت و تعظیم بجا لاتے۔ تاکہ وہ خوش ہو کر خدا کے یہاں ان کی سفارش کریں۔ و رابعہا قول من قال انا نعبد الاصنام التیھی صور الملائکۃ لیشفعوا لنار الخ (کبیر ج 7 ص 15) ۔ فرمایا جن کو تم اپنے کارساز اور سفارشی سمجھتے ہو انہیں حاجات میں پکار تو دیکھو ان میں سے کوئی بھی تمہارے کام نہیں آئے گا اور وہ تمہارے کام آ بھی کس طرح سکتے ہیں۔ کیونکہ وہ خود عاجز اور بےبس ہیں اور زمین و آسمان میں ایک ذرے کا اختیار بھی نہیں رکھتے۔ نہ زمین و آسمان کے پیدا کرنے میں ان کا کوئی حصہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
اس سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے جو مضمون ذکر کیا تھا اس کو لوٹیا جارہا ہے۔ وہاں پر اللہ تعالیٰ نے توحید کے عقلی اور نقلی دلائل بیان کیے تھے اور شرک کا رد فرمایا تھا۔ درمیان میں اپنے شکر گزار بندوں حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) کا حال ذکر کیا۔ پھر قوم سبا کا ذکر ہوا کہ اللہ نے ان کو آسودہ زندگی اور ہر قسم کے انعامات سے نوازا تھا مگر انہوں نے ان نعمتوں کی ناشکری کی ، غرور وتکبر میں مبتلا ہوئے تو اللہ نے ان پر تباہ کن سیلاب بھیج کر ان کے باغات کو اکھیڑ دیا ، کھیتیاں ویران ہوگئیں ، مکانات زمین بوس ہوگئے اور اس طرح وہ سزا کے مستحق ٹھہرے۔ اللہ نے فرمایا کہ اس کے ناشکر گزاروں کو…
Read the full tafseer →قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ 0 ۚ لَا يَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ وَمَا لَہُمْ فِيْہِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّمَا لَہٗ مِنْہُمْ مِّنْ ظَہِيْرٍ 22
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
دعا
الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–30
ترکیب : زعتمم ای زعتموھم الہۃ وھما مفعولا زعم حذف الاول لطول الموصول بصلۃ والثانی لقیام صفتہ مقامہ، قالوا قال القول الحق، لمن اذن یتعلق بالشفاعۃ فزع مالم یسم فاعلہ عن قلوبہم قائم مقام الفاعل۔ او ایاکم معطوف علی اسم ان و اما الخبر فیجب ان یکون 1 ؎ مکرا کقولک ان زید او عمرا قائم۔
تفسیر : شکر اور ناشکری کے نتائج بیان فرما کر عرب خصوصاً اہل مکہ کی ناشکری کا رد کرتا ہے۔ انسان کے لیے اس سے زیادہ اور کیا ناشکری ہے کہ وہ اپنے معبود حقیقی اور منعم کے ساتھ اوروں کو بھی شریک کرے، فقال قل ادعوا الذین زعمتم کہ بت پرستوں سے کہو کہ جن کو تم اس کا شریک سمجھتے ہو، ان کو پکارو، دیکھیں وہ تمہاری کہاں تک مدد…
Read the full tafseer →قُلِ ادْعُوالَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ ج لاَ یَمْلِکُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَلاَ فِی الْاَرْضِ وَمَا لَھُمْ فِیْہِمَا مِنْ شِرْکٍ وَّمَا لَـہٗ مِنْھُمْ مِّنْ ظَہِیْرٍ ۔ (السباء : 22)
(اے پیغمبر آپ کہئے تم ان کو پکارو جن کو تم اللہ کے سوا اپنے معبود گمان کرتے ہو، وہ نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں کسی ذرہ برابر چیز کے مالک ہیں، اور نہ ان دونوں میں ان کا کوئی ساجھا ہے اور نہ ان میں سے کوئی اس کا مددگار ہے۔ )
شرک پر کاری ضرب
گزشتہ آیات میں آخرت سے متعلق مشرکین کے غلط تصورات پر تنقید کی گئی ہے۔ آخرت کے انکار کا دارومدار جن تصورات پر تھا ان میں سے بنیادی تصور یہ تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
فہم القرآن
ربط کلام : شیطان کا سب سے بڑا حربہ یہ ہے کہ وہ انسان سے شرک کروائے، مشرک کا گمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ بزرگوں کو اپنی اپنی خدائی میں شریک کر رکھا ہے جس کی تردید کی گئی ہے۔
اے پیغمبر ﷺ ! ان لوگوں خو بتلائیں جو اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہیں کہ وہ انہیں اپنی مدد کے لیے بلائیں۔ انہیں معلوم ہوجائے گا کہ وہ زمین و آسمان میں ایک ذرہ کے برابر بھی کسی چیز کے مالک نہیں اور نہ ہی ان میں کسی چیز میں حصہ دار ہیں اور نہ ہی ان میں کوئی اللہ تعالیٰ کا معاون اور مددگار تھا اور ہے اور نہ ہوگا۔ جب اللہ تعالیٰ کی خدائی میں رائی کے دانے کے برابر بھی حصہ دار نہیں تو وہ…
Read the full tafseer →تمہارے معبود پکارنے کے لائق ہی نہیں :
22: قُلِ (کہہ دیجئے) آپ اپنی قوم کے مشرکین کو کہہ دیں۔ ادْعُوْا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ (تم ان کو پکارو جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا معبود سمجھ رہے ہو) یعنی تم نے ان کو اللہ تعالیٰ کے سوا معبود گمان کیا۔ اس میں مفعول اول وہ ضمیر ہے جو موصول کی طرف راجع ہے۔ اور وہ ضمیر یہاں اسی طرح محذوف ہے جیسا کہ اس ارشاد میں أھذا الذی بعث اللہ ] الفرقان : 4 [ یہ حذف بطور استخفاف ہے۔ اس لئے کہ موصول اپنے صلہ کے ساتھ ملک کر طویل ہوگیا اور دوسرا مفعول آلہۃ ہے اس کو حذف کیا گیا کیونکہ وہ موصوف ہے اور اس کی صفت من دون اللّٰہ ہے۔ اور موصوف کا حذف جائز ہے…
Read the full tafseer →22، قل ، اے محمد ! کفار مکہ کو کہہ دیجئے، ادھوا الذین زعمتم ، کہ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود بھی ہے۔ ، من دون اللہ ، تم اللہ کے سوا ان کو پکارکردیکھوتا کہ وہ تمہارے سے اس جوع کی تکلیف کو دور کردے۔ پھر ان کے وصف کو بیان کرتے ہوئے فرمایا، لا یملکون مثقال ذرۃ فی السموات ولا الارض، نہ خیر کے مالک اور نہ ہی شر کے مالک ، ومالھم، اور نہیں ہے ان معبودوں کے پاس، فیھما، زمین و آسمان میں ، من شرک ، ان کا کوئی شریک ، ومالہ ، اور نہیں ہے اللہ کے سوا، منھم من ظھیر، کوئی مددگار۔
Read the full tafseer →22۔ اوپر ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمانبرداری بندوں داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) پر طرح طرح کے احسانات کئے اور نافرمانی کے سبب سے قوم سبا کو اجاڑ دیا ‘ صحیح بخاری وغیرہ کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ قریش نے جب اللہ کے رسول سے بہت مخالفت شروع کیا تو آپ ﷺ نے قریش کے حق میں بددعاء کی اور آپ ﷺ کی بددعاء کے اثر سے مکہ میں سخت قحط پڑا۔ اس قحط کے زمانہ میں مشرکین مکہ نے اپنے بتوں سے مینہ برسنے کی بہت کچھ التجاء کی لیکن ایک بوند پانی کی نہیں پڑی آخر اللہ کے رسول ﷺ سے ابوسفیان نے مینہ برسنے کی دعاء کی التجا کی اور آپ کی دعاء سے منیہ برسا۔ اسی طرح کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
آیت 22
(قل) اے رسول ! جو لوگ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی کو کوئی نفع نقصان نہیں دے سکتی انہیں خود ساختہ معبودوں کا عجز اور ان کی عبادت کا بطلان واضح کرتے ہوئے کہہ دیجیے : (ادعوا الذین زعمتم من دون اللہ) یعنی جنہیں تم اللہ تعالیٰ کا شریک سمجھتے ہو، اگر تمہارا پکارنا کوئی فائدہ دے سکتا ہے، تو انہیں پکار دیکھو۔ ان کی بےبسی اور تمہاری پکار کا جواب دینے پر عدم قدرت کے اسباب ہر لحاظ سے بہت زیادہ اور واضح ہیں۔
بلاشبہ وہ کسی ادنی سی چیز کے بھی مالک نہیں ہیں۔ (لایملکون مثقال ذرۃ فی السموت ولا فی الارض) ” وہ زمین و آسمان میں ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں “ یعنی وہ مستقل طور پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–54
اسلام میں مصوری کی ممانعت
قول باری ہے (یعملون لہ مایشآء من محاریب وتماثیل۔ سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں بنوانا منظور ہوتیں مثلاً بڑی عمارتیں اور مجسمے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں تصاویر اور مجسمے بنانے کی اباحت تھی لیکن حضور ﷺ کی شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ آپ سے مروی ہے (لا یدخل الملائکۃ بیتا فیہ صورۃ۔ جس کھر میں کوئی تصویر ہوا اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے) نیز ارشاد ہے (من صورصورۃ کلف یوم القیمۃ ان یحیھا ولا فالنار ۔ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی ہوا سے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں زندگی پیدا کردے ورنہ جہنم میں جائے) ۔
نیز ارشاد ہے (لعن اللہ المصورین۔…
Read the full tafseer →57 مشرکوں کو کھلا چیلنج : سو مشرکوں کو صاف وصریح طور پر اور کھلا چیلنج دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ بلا لو تم ان سب کو جن کا تم لوگ گھمنڈ رکھتے ہو اللہ کے سوا ۔ { مِنْ دُوْنِ اللّٰہ } ۔ " اللہ کے سوا " عام ہے خواہ وہ کوئی بت ہو یا انسان یا فرشتہ جس کی بھی پرستش کی جاتی ہو۔ وہ سب اس میں داخل ہے اور ۔ { مِنْ دُوْن اللّٰہ } ۔ کا عموم ان سب کو شامل ہے ۔ " اَیْ الاٰلِہَۃُ الَّتِیْ عُبِدَتْ مِنْ دُوْنِہٖ " ۔ (ابن کثیر : ج 3 ص 536) ۔ " مِنَ الاصنام والْمَلٓئِکَۃِ " ۔ (کشاف : ج 3 ص 287) ۔ " مِنَ الْمَلٓئِکَۃِ وَالاَصْنَامِ " ۔ (جامع البیان : ج 2 ص 180) مگر اس سب کے باوجود اہل بدعت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
اللہ تعالیٰ مدد گاروں سے بےنیاز ہے
تشریح : ان آیات میں اللہ کی وحدانیت، بڑائی، عظمت، علیم (علم رکھنے والا) ، غالب اور حکمت والا ہونا مثالوں سے بتایا گیا ہے بلکہ ثابت کیا گیا ہے۔ کوئی اسے کسی نام سے بھی پکارے مگر اس کے ” وجود “ سے ہرگز کوئی شخص بھی انکار نہیں کرسکتا کیونکہ آسمانوں اور زمین پوری کائنات کا ذرہ ذرہ صرف اسی کے قوانین کے تحت چل رہا ہے۔ انسان جیسے جیسے علم میں ترقی کرتا چلا جا رہا ہے اللہ کے وجود کا زیادہ پکا یقین کرنے لگا ہے۔ کہہ سکتے ہیں کہ سائنسی ترقی انسان کو روحانیت کی طرف تیزی سے لا رہی ہے۔ یہی تعلیم نبی اکرم ﷺ نے بھی دی ” لا الہ الا اللہ “ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–30
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 22 تا 30:
اسرار و معارف :
آپ اپنے مخاطبین سے بھی فرما دیجیے کہ اپنے مشرکانہ عقاید میں اللہ کے علاوہ جن بتوں سے تم نے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں ان کی بھی کوئی حیثیت نہیں کہ اگر پہلی امتوں پر آنے والے عذاب کو کوئی نہیں ٹال سکا تو تمہارے معبودان باطلہ بھی تمہیں کوئی مدد نہ پہنچا سکیں گے اس لیے کہ کائنات میں وہ کسی ذرہ بھر شئے کے مالک نہیں نہ ان کی ذات باری کی ملکیت میں کسی طرح کی کوئی شراکت ہے اور نہ ہی ان میں یہ استعداد ہے کہ کسی کی مدد کرسکیں گے اگر تمہارا یہ عقیدہ ہے کہ ان کی شراکت تو نہیں لیکن یہ اللہ کریم کے نزدیک سفارش کرسکتے ہیں تو ان میں سفارش کرنے کی بھی استعداد نہیں…
Read the full tafseer →ف 1 اگر وہ مدد نہ کرتا تو خدا یہ آسمان اور زمین نہ بنا سکتا اور نہ ان کا انتظام کرسکتا۔ ( العیاذ باللہ)
Read the full tafseer →(34:22) قل۔ ای قل یا محمد ﷺ ۔ ادعوا۔ دعوۃ (باب نصر) سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم بلائو ۔ (مخاطبین مشرکین مکہ تھے) ۔
ادعوا الذین زعمتم من دون اللہ۔ ای ادعوا الذین زعمتموہم الھۃ من دون اللہ۔ ہم ضمیر جمع مذکر راجع الی الموصول ہے۔ زعمتم کا مفعول اول ہے الھۃ مفعول ثانی۔ مفعول اول کو تخفیف کے لئے حذف کردیا گیا۔ کہ صلہ اور موصول بمنزلہ اسم واحد کے ہیں۔ مفعول ثانی الھۃ کو اس لئے حذف کردیا کہ اس کی صفت (من دون اللہ) اپنے موصوف الھۃ کے قائمقام ہے۔ ترجمہ ہوگا : (اے پیغمبر) کہہ دیجئے (مشرکین مکہ یا اپنی قوم کے مشرکوں سے) بلائو ان کو جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا تم معبود خیال کرتے ہو۔
مثقال ذرۃ۔ ذرہ برا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
لغات القرآن : آیت نمبر 22 تا 23
ادعوا : پکارو۔ بلاؤ
زعمتم : تم نے گمان کیا۔ تم نے سمجھا
ظھیر : مددگار
فزع : گھبراہٹ دور کردی گئی
الحق : سچ
تشریح : آیات نمبر 22 تا 23
اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا واقعہ اور اللہ کو ماننے اور اس کا شکر ادا کرنے والوں کا حال سنا کر بتایا ہے کہ جو لوگ صبر و شکر سے کام لیتے ہیں ان کو دنیا میں کیا صلہ اور بدلہ ملتا ہے اور آخرت میں ان کا کتنا عظیم مقام ہوگا ۔ اس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتے۔ اس کے بر خلاف قوم سبا کے واقعات زندگی کو سامنے رکھ کر فرمایا کہ جب وہ قوم جو ایک ہزار سال تک دنیا پر حکومت کرتی رہی تھی اس نے اللہ کے…
Read the full tafseer →(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ مشرکین مکہ نے جب اللہ کے رسول سے بہت مخالفت شروع کی تو اس مخالفت کے اثر سے مکہ میں سخت قحط پڑا اس قحط کے زمانہ میں مشرکین مکہ نے اپنے بتوں سے مینہ برسنے کی بہت کچھ التجا کی لین ایک بوند پانی کی نہیں پڑی ، آخرا للہ کے رسول سے ابوسفیا نے مینہ برسنے کی دعا کی التجا کی، اور آپ کی دعا سے مینہ برسایا اسی طرح کی بتوں کی بےاختیاری جتلانے کے لیے داود (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) اور قوم سبا کے قصے سنائے فرمایا، اے محبوب ﷺ ان مشرکوں سے کہہ دو کہ اللہ کی قدرت کے مقابلہ میں ان جھوٹے معبودوں کا کوئی اختیار اس لیے نہیں چل سکتا کہ آسمان اور زمین میں نہ ایک ذرہ کے یہ مالک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
[21] مشرکین مکہ کی تنبیہہ کے لئے پچھلے دو رکوع میں تاریخ سے دو مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ پہلی مثال داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کی ہے جنہیں اللہ نے عظیم بادشاہی، علم و حکمت اور بیشمار نعمتوں سے نوازا تھا مگر وہ ان نعمتوں کو پاکر سرکشی اور نافرمانی میں مبتلا نہیں ہوئے بلکہ برابر اپنے رب کے شکرگزار اور فرماں بردار بنے رہے۔ اس کا صلہ اللہ نے انھیں یہ دیا کہ ان کے لئے نعمتوں میں برابر اضافہ ہوتا رہا۔ دوسری مثال اہل سبا کی ہے۔ ان کو بھی اللہ نے ایک نہایت آباد اور زرخیز ملک کی حکومت دی تھی لیکن وہ اس کو پاکر سرکشی اور نافرمانی میں مبتلا ہوگئے۔ بالآخر اللہ نے ان پر سیلاب کا عذاب بھیج کر اس طرح ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
ف 1: مشرکین سے خطاب ہے کہ تم جن لوگوں کو خدا سمجھتے ہو وہ کائنات میں ایک ذرہ پر بھی اقتدار نہیں رکھتے ۔ اور نہ زمین اور آسمان کی تخلیق میں ان کا کچھ حصہ ہے اور نہ یہ درست ہے ۔ کہ کسی کام میں اللہ کے شریک وسہیم ہیں ۔ پھر تمہاری عقلوں کو کیا ہوگیا ہے ۔ کہ تم ان لوگوں کو اپنا معبود سمجھتے ہو
Read the full tafseer →(22) اے پیغمبر آپ دین حق کے ان منکروں سے فرما دیجئے کہ جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا اپنا معبود سمجھتے ہوں ان مفروضہ معبودوں کو پکارو وہ نہ آسمانوں میں ذرہ برابر کوئی اختیار رکھتے ہیں اور نہ زمین میں اور نہ آسمان و زمین کے پیدا کرنے میں ان مزعومہ اور مفروضہ معبودوں کی کوئی شرکت اور ساجھا ہے اور نہ ان معبودان باطلہ میں سے کوئی اللہ تعالیٰ کا مددگار ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن معبودوں کو تم خدا کے سوا اس کی خدائی اور اس کی قدرت میں دخیل سمجھتے ہو اور ان کو معبود بنائے بیٹھے ہو ان کو اپنی حاجت روائی کیلئے پکار دیکھو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ ان کے اختیار کی کیا حقیقت ہے۔ ان معبودان باطلہ کی کیفیت یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →ف 4۔ یعنی نہ ایجاد عالم میں ان کا کوئی دخل ہے اور نہ بعد موجود ہوجانے کے ان کا استقلالا اختیار ہے، اور نہ نیابة اختیار ہے۔
Read the full tafseer →مشرکین مکہ سے کہا جارہا ہے کہ جن کو تم حاجت روا سمجھتے ہو بھلا پکار کر دیکھو
22 ۔ جس طرح ہر نبی ورسول نے آکر اپنی قوم کو پہلا سبق جو دیا وہ توحید ہی کا تھا کیونکہ ہر قوم نے سب سے پہلے شرک ہی کا ارتکاب کیا اور پھر ان میں آہستہ آہستہ تمام امراض پیدا ہوگئے جو اس ام الامراض سے پیدا ہوتے ہیں اور یہی بیماری مکہ والوں کو بھی لاحق تھی کہ باوجود اللہ کو ماننے اور ہرچیز کا خالق ومالک سمجھنے کے پھر غیروں کو اپنے حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے تھے اور اپنے قوی بزرگوں کے بت بنا کر ان کی یادگار قائم کرتے تھے گویا بالکل یہی صورت مکہ والوں کی تھی جو اس وقت ہماری اکثریت اور سواد اعظم کی ہے اگر کوئی فرق ہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
Commentary
These verses are meant to prove the falsity of three different types of idol-worshippers. The first group among them, and the most absurd of all, was of the people who believed that these idols, made of stones are the partners of Allah and His associates in all His powers. The beginning part of the verse 22 refutes their presumption by saying, "They do not possess (anything) even to the measure of a particle...". The second group of them used to believe that these idols are the helpers of Allah in managing affairs of the universe. The last part of Verse 22 deals with this group by…
Read the full tafseer →38 Until now the mushriks' wrong notions about the Hereafter have been dealt with. From here the discourse turns to the refutation of shirk itself.
39 That is, "Allah makes and un-makes the destinies of individuals and nations and kingdoms in ways as you have seen from the stories of the Prophets David and Solomon and the people of Saba. Now, you may invoke, if you so like, these self-made gods of yours to see whether they also possess the power to change someone's good fortune into misfortune and misfortune into good fortune. "
Read the full tafseer →