Explained with ayahs 22–23
وحدہ لاشریک
بیان ہو رہا ہے کہ اللہ اکیلا ہے، واحد ہے، احد ہے، فرد ہے، صمد ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ بےنظیر، لاشریک اور بےمثیل ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، ساتھی نہیں، مشیر نہیں، وزیر نہیں، مددگار و پیشی بان نہیں۔ پھر ضد کرنے والا اور خلاف کہنے والا کہاں ؟ جن جن کو پکارا کرتے و پکار کر دیکھ لو معلوم ہوجائے گا کہ ایک ذرے کے بھی مختار نہیں۔ محض بےبس اور بالکل محتاج و عاجز ہیں، نہ زمینیوں میں ان کی کچھ چلے نہ آسمانوں میں جیسے اور آیت میں ہے کہ وہ ایک کھجور کے چھلکے کے سی مالک نہیں اور یہی نہیں کہ انہیں خود اختیاری حکومت نہ ہو نہ سہی شرکت کے طور پر ہی ہو نہیں شرکت کے طور پر بھی نہیں۔ نہ اللہ…
Read the full tafseer →سورة سَبـَا 40
یعنی کسی کا خود مالک ہونا، یا ملکیت میں شریک ہونا، یا مددگار خدا ہونا تو درکنار، ساری کائنات میں کوئی ایسی ہستی تک نہیں پائی جاتی جو اللہ تعالیٰ کے حضور کسی کے حق میں بطور خود سفارش کرسکے۔ تم لوگ اس غلط فہمی میں پڑے ہوئے ہو کہ کچھ خدا کے پیارے ایسے ہیں، یا خدا کی خدائی میں کچھ بندے ایسے زور آور ہیں کہ وہ اڑ بیٹھیں تو خدا کو ان کی سفارش ماننی ہی پڑے گی۔ حالانکہ وہاں حال یہ ہے کہ اجازت لیے بغیر کوئی زبان کھولنے کی جرأت نہیں کرسکتا۔ جس کو اجازت ملے گی صرف وہی کچھ عرض کرسکے گا۔ اور جس کے حق میں سفارش کرنے کی اجازت ملے گی اسی کے حق میں عرض معروض کی جاسکے گی۔ (اسلامی عقیدہ شفاعت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
خلاصہ تفسیر
آپ (ان لوگوں سے) فرمائیے کہ جن (معبودوں) کو تم خدا کے سوا (دخیل خدائی) سمجھ رہے ہو، ان کو (اپنی حاجتوں کے لئے) پکارو (تو سہی معلوم ہوجائے گا کہ کتنی قدرت اور اختیار رکھتے ہیں ان کی حالت واقعیہ تو یہ ہے کہ) وہ ذرہ برابر (کسی چیز کا) اختیار نہیں رکھتے نہ آسمانوں کی (کائنات) میں اور نہ زمین (کی کائنات) میں اور نہ ان کی ان دونوں (کے پیدا کرنے) میں کوئی شرکت ہے اور نہ ان میں سے کوئی اللہ کا (کسی کام میں) مددگار ہے، اور خدا کے سامنے (کسی کی) سفارش کسی کے لئے کام نہیں آتی (بلکہ سفارش ہی نہیں ہو سکتی) مگر اس کے لئے جس کی نسبت وہ (کسی سفارش کرنے والے کو) اجازت دے دے، (کفار و مشرکین میں کچھ…
Read the full tafseer →ولاتنفع الشفاعۃ عندہ الا لمن اذن لہ ط حتی اذا فزع عن قلوبھم قالوا ماذا قال ربکم قالو الحق وھو العلی الکبیر (23)
حق و اختیار کی نفی کے بعد یہ ان کے مزعومہ تصور شفاعت کی بھی نفی کردی۔ فرمایا کہ اگر ان کی شفاعت کی امید پر نچنت بیٹھے ہو تو یاد رکھو کہ خدا کے حضور میں کسی کی شفاعت کسی کے لئے نافع نہیں ہوگی مگر اس کے لئے جس کے لئے خدا اجازت دے یعنی اول تو خدا کے اذن کے بدون کوئی کسی کی شفاعت کی جرأت ہی نہیں کرے گا، پھر اجازت کے بعد بھی وہ شفاعت صرف اسی کے لئے کرے گا جس کے لئے اس کو اجازت مرحمت ہوئی ہوگی۔ کسی ایسے کے بارے میں وہ زبان نہیں کھول سکے گا جس کے لئے اس کو اجازت نہ ملی ہو۔ دوسرے مقامات…
Read the full tafseer →23۔ 1 ' جن کے لئے اجازت ہوجائے ' کا مطلب ہے انبیاء اور ملائکہ وغیرہ یعنی یہی سفارش کرسکیں گے، کوئی اور نہیں۔ اس لئے کہ کسی اور کی سفارش فائدے مند ہوگی، نہ انھیں اجازت ہی ہوگی۔ دوسرا مطلب ہے۔ مستحقین شفاعت۔ یعنی انبیاء (علیہم السلام) و ملائکہ اور صالحین صرف انھیں کے حق میں سفارش کرسکیں گے جو مستحقین شفاعت ہوں گے کیونکہ اللہ کی طرف سے انھیں کے حق میں سفارش کرنے کی اجازت ہوگی، کسی اور کے لئے نہیں (فتح القدیر) مطلب یہ ہوا کہ انبیاء (علیہم السلام) ملائکہ اور صالحین کے علاوہ وہاں کوئی سفارش نہیں کرسکے گا اور یہ حضرات بھی سفارش اہل ایمان گناہ گاروں کے لیے ہی کرسکیں گے کافر و مشرک اور اللہ کے باغیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–32
16: آیت نمبر : 22۔ 23 میں مشرکین کے مختلف عقیدوں کی تردید کی گئی ہے، ان میں سے بعض مشرکین تو وہ تھے کہ وہ اپنے تراشے ہوئے بتوں ہی کو اپنا خدا مانتے تھے، اور انہی کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہ براہ راست ہماری حاجتیں پوری کرتے ہیں، ان کی تردید کے لئے آیت 22 میں فرمایا گیا ہے کہ : وہ آسمانوں اور زمین میں ذرہ برابر کسی چیز کے مالک نہیں ہیں، نہ ان کو آسمان و زمین کے معاملات میں (اللہ کے ساتھ) کوئی شرکت حاصل ہے، اور بعض مشرکین کا یہ عقیدہ تھا کہ یہ بت اللہ تعالیٰ کے کاموں میں اس کے مددگار ہیں، ان کی تردید کے لئے اسی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ : اور نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے، اور بعض…
Read the full tafseer →ولا تنفع ۔۔۔۔۔۔ اذن لہ ” “۔ اللہ کے ہاں شفاعت وہی لوگ کرسکیں گے جن کو اللہ کی جانب سے اجازت ہوگی۔ اللہ کسی ایسے شخص کے لیے اجازت نہیں دیا کرتا جو مومن نہ ہو اور سفارش کا مستحق نہ ہو۔ وہ لوگ جو شرک کرتے ہیں وہ اس کے مستحق نہیں رہتے۔ نہ ملائکہ کو اس کی اجازت ہے اور نہ ان کے علاوہ اور لوگوں کو جن کو شفاعت کی اجازت ہوگی۔ جن حالات میں شفاعت کرنے والے کی شفاعت کریں گے باوجود اجازت کے ، وہ کس قدر خوفناک ہوں گے ، کس قدر دہشت ناک ہوں گے ؟
حتی اذا فزع ۔۔۔۔۔ العلی الکبیر (23) ” “۔
یہ اس دن کا منظر ہے جو نہایت ہی خوفناک ہوگا۔ لوگ قیامت کے دن کھڑے ہوں گے۔ سفارش کرنے والے اور جن کی سفارش ہو رہی ہوگی سب کے…
Read the full tafseer →6 یعنی یہ مسکین کیا کام آتے جنہیں آسمان و زمین میں نہ ایک ذرہ کا مستقل اختیار ہے (بلکہ بتوں کو تو غیر مستقل بھی نہیں) نہ آسمان و زمین میں ان کی کچھ شرکت نہ خدا کو کسی کام میں مدد کی ضرورت، جو یہ اس کے معین و مددگار بن کر ہی کچھ حقوق جتلاتے۔ اس کی بارگاہ تو وہ ہے جہاں بڑے بڑے مقربین کی یہ بھی طاقت نہیں کہ بدون اذن و رضا کے کسی کی نسبت ایک حرف سفارش ہی زبان سے نکال سکیں۔ انبیاء و اولیاء اور ملائکۃ اللہ کی شفاعت بھی صرف انہی کے حق میں نافع ہوگی جن کے لیے ادھر سے سفارش کا حکم مل جائے۔
7 یہ فرشتوں کا حال فرمایا جو ہمہ وقت اس بارگاہ کے حاضر باش ہیں۔ جب اوپر سے اللہ کا حکم اترتا ہے ایسی آواز آتی ہے…
Read the full tafseer →آیت 23 { وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَہٗ } ”اور نہ نفع دے گی اس کے ہاں کوئی سفارش مگر اسی کے حق میں جس کے لیے اس نے اجازت دی ہو۔“
{ حَتّٰٓی اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِہِمْ } ”یہاں تک کہ جب گھبراہٹ دور کردی جاتی ہے ان کے دلوں سے“
یہ فرشتوں کا حال بیان ہوا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ان کو کوئی حکم بھیجتا ہے تو اس کی عظمت اور جلالت کی وجہ سے ان پر دہشت کی سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ پھر جب ان سے اس دہشت کا اثر زائل کردیا جاتا ہے تو :
{ قَالُوْا مَاذَالا قَالَ رَبُّکُمْ } ”وہ پوچھتے ہیں تمہارے ربّ نے کیا فرمایا تھا ؟“
{ قَالُوا الْحَقَّ وَہُوَ الْعَلِیُّ الْکَبِیْرُ } ”وہ…
Read the full tafseer →37 اکثر مشرکوں کا اپنے معبودوں کے متلعق یہ عقیدہ بھی پایا جاتا ہے کہ وہ بڑے خدا یعنی اللہ کے ہاں ان کی سفارش کرتے ہیں اگرچہ کام بنانے والا اللہ ہی ہوتا ہے۔ ہمارے یہ معبود یا بزرگ اللہ کے ہاں ہماری سفارش کرکے ہمارے کام اللہ سے کروانے کا سبب ہوتے ہیں لہذا اللہ تعالیٰ نے سفارش کے متعلق بھی اپنا ضابطہ بیان فرما دیا۔ اور یہ ضابطہ پہلے قرآن میں متعدد بار گزر چکا ہے۔ مختصراً یہ کہ (1) اللہ کے ہاں سفارش وہی شخص کرسکے گا، جس کو اللہ کی طرف سے اجازت ملے گی۔ یہ کیا معلوم کہ جسے تم نے سفارشی سمجھ رکھا ہے۔ اسے اجازت بھی ملتی ہے یا نہیں، (2) اس شخص کے حق میں سفارش کی جاسکے گی، جس کے متعلق اللہ چاہے اور…
Read the full tafseer →38۔ اور یہ معبودان باطل خود تو کسی کی کی حاجت روائی کیا کرتے ان میں سے کسی میں اتنا بھی تو نہیں کہ اللہ کے سامنے بلااذن کوئی سفارش ہی پیش کرسکے۔ ہاں اللہ ہی کسی کی سفارش کرانا چاہے تو اس کیلئے انہیں حکم دے دے۔ مستقل شافع ہونے کا عقیدہ بھی دنیا میں شرک کا ایک بڑا سبب رہا ہے۔ یہاں تردید خصوصیت کے ساتھ ملائکہ پرستی کی ہورہی ہے۔
39۔ یہ فرشتوں کی عام حالت کا بیان ہے۔” جب کوئی حکم حضرت حق سے سنتے ہیں تو ان کے مجمع میں ہلچل پڑجاتی ہے، حواس باختہ ہوجاتے ہیں۔ اپنی فہم، اپنے حفظ کسی چیز پر اعتماد نہیں باقی رہ جاتا گھبرا گھبرا کر ایک دوسرے سے پوچھ پاچھ شروع کردیتے ہیں، اور ایک دوسرے کی تسکین وتقویت قلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–30
آیت نمبر 22 تا 30
ترجمہ : اے محمد ! کفار مکہ سے کہہ دیجئے کہ جن چیزوں کے بارے میں تمہیں خدا کے سوا (خدائی) کا گمان ہے یعنی جن کو تم اللہ کے علاوہ معبود سمجھتے ہو ان کو پکارو تاکہ وہ تمہارے گمان کے مطابق تم کو نفع پہنچائیں اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا وہ ذرہ برابر خیر و شر کا اختیار نہیں رکھتے، نہ آسمان میں اور نہ زمین میں اور نہ ان کی ان دونون (کے پیدا کرنے) میں شرکت ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کا ان معبودوں میں سے کوئی مددگار ہے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے کسی کی سفارش کام نہیں آتی یہ ان کے اس قول کو رد کرنے کے لئے فرمایا کہ ان کے معبود اس کے سامنے سفارش کریں گے بجز ان کے کہ جن کے لئے اجازت…
Read the full tafseer →ولا تنفع الشفاعۃ عندہ الا لمن اذن لہ . اور اللہ کے سامنے (کسی کی) سفارش کسی کیلئے کام نہیں آئے گی ‘
ہاں اس کیلئے (کام آئے گی) جس کیلئے (سفارش کرنے کی سفارش کرنے والے کو) اللہ اجازت دے گا۔ یعنی شفیع کو اجازت دے گا ‘ یا جس کیلئے شفاعت کئے جانے کی اجازت دے گا۔ لہٗکے دونوں معنی ہوسکتے ہیں ‘ شفیع کی طرف بھی ضمیر راجع ہوسکتی ہے اور جس کی سفارش کی جائے اس کی طرف بھی۔ کافر (ہار کر) آخر درجہ پر کہتے تھے کہ ہم مانتے ہیں کہ ملائکہ اور بت خود کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے اور یہ اللہ کے شریک نہیں ہیں ‘ لیکن ہم ان کی پوجا تو اس لئے کرتے ہیں کہ خدا کی بارگاہ میں یہ ہماری شفاعت کریں گے۔ اس کی تردید میں آیت…
Read the full tafseer →اور قیامت کے دن فرشتے کسی کی سفارش نہیں کرسکیں گے البتہ جس کو اللہ تعالیٰ اجازت دے گا۔
اب اللہ تعالیٰ فرشتوں کے ضعف و کمزوری کو بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم کے پاس وحی بھیجنے کے لیے جبریل امین سے کلام کیا اور فرشتوں نے اس چیز کو سنا تو سب اللہ تعالیٰ کے کلام کی ہیبت و جلال سے بےہوش ہو کر گر گئے اور اسی حالت پر رہے یہاں تک کہ جبریل امین اترے اور ان کے دلوں سے خوف و گھبراہٹ دور ہوا تو اپنا سر اوپر اٹھا کر جبریل امین اور دوسرے فرشتوں سے کہنے لگے کہ تمہارے پروردگار نے کیا حکم دیا تو جبریل امین اور ان کے ساتھ والے فرشتے کہنے لگے کہ قرآن حکیم نازل کیا ہے اور وہ بڑا عالی شان اور سب…
Read the full tafseer →وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ : مشرکین کہتے تھے کہ ہم اپنے معبودوں کو اس لیے پکارتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے سفارش کر کے ہماری حاجت روائی اور مشکل کشائی کروا دیتے ہیں۔ (دیکھیے یونس : 18۔ زمر : 3) یہ اس کا رد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی کی سفارش کام نہیں آتی، ہاں، جسے وہ خود اجازت دے اور جس کے حق میں اجازت دے۔”لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ“ (جس کے لیے وہ اجازت دے) میں یہ دونوں باتیں شامل ہیں۔ ظاہر ہے مشرک کو تو شفاعت کرنے کی جرأت ہی نہ ہوگی، اجازت تو دور کی بات ہے اور نہ ہی کسی کو مشرک کے حق میں سفارش کی اجازت ہوگی، کیونکہ اس پر اللہ تعالیٰ نے جنت حرام کردی ہے۔ (دیکھیے…
Read the full tafseer →آیت : ولا تنفع الشفا عۃ یعنی فرشتوں اور دوسرے افراد کی شفاعت نفع نہیں دیتی عندہ اللہ تعالیٰ کے ہاں۔ الا لمن اذن لہ عام قراءت اذن ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ ان کی شفاعت کوئی نفع نہ دے گی جن کا اللہ تعالیٰ نے پہلے ذکر کردیا ہے۔ ابو عمرو، حمزہ اور کسائی نے اذن ہمزہ کیساتھ قراءت کی ہے یہ فعل مجہول ہے۔ آذن اللہ تعالیٰ کی ذات ہے من کے متعلق تیرے لیے جائز ہے کہ تو اسے شفاعت کرنے والوں کی طرف لوٹا دے اور یہ بھی جائز ہے کہ تو اسے ان کی طرف لوٹا دے جن کی شفاعت کی جا رہی ہے۔
آیت : حتی اذا فذع عن قلو بھم حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : خوف ان کے دلوں سے نکل چکا ہو۔ قطرب نے کہا : ان میں جو خوف ہے اس کو نکال دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ فزع عن قلوبہم یعنی جب ان کے دل گھبراہٹ سے خالی کردئیے گئے۔
کلام الٰہی سن کر سجدہ میں گرنا
2۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب جبار نے محمد ﷺ کی طرف وحی کا ارادہ کیا تو فرشتوں میں سے ایک قاصد کو بلایا تاکہ اس کو پیغام دے کر بھیجیں۔ فرشتوں نے کہا جبار کی آواز کو سنا کہ وہ وحی کے ساتھ کلام فرما رہے ہیں۔ پھر جب ان کے دلوں سے حجاب اٹھا تو ان سے پوچھا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا تو انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حق فرمایا اور وہ جانتے تھے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ حق ہی فرماتے ہیں ابن عباس نے فرمایا کہ وحی کی آواز…
Read the full tafseer →وَلَا تَنْفَعُ [اور نفع نہیں دیتی ] الشَّفَاعَةُ [شفاعت ] عِنْدَهٗٓ [اس کے پاس ] اِلَّا لِمَنْ [سوائے اس کے لئے ] اَذِنَ [اس نے اجازت دی ] لَهٗ ۭ [جس کے لئے ] حَتّىٰٓ اِذَا [یہاں تک کہ جب ] فُزِّعَ [دہشت دور کردی جائے گی ] عَنْ قُلُوْبِهِمْ [ان کے دلوں سے ] قَالُوْا [تو کہیں گے ] مَاذَا ۙ قَالَ [کیا کہا ] رَبُّكُمْ ۭ [تمہارے رب نے ] قَالُوا [وہ لوگ کہیں گے ] الْحَقَّ ۚ [(اس نے کہا) حق ہی ] وَهُوَ الْعَلِيُّ [اور وہ ہی بلند ہے ] الْكَبِيْرُ [بڑا ہے ] ۔
نوٹ۔ 1: آیت 23 میں حکم ربانی کے نزول کے وقت جو فرشتوں کا مدہوش ہوجانا پھر آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ گچھ کرنے کا ذکر ہے، اس کا بیان بخاری میں…
Read the full tafseer →(حَتّٰٓی اِذَافُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِھِمْ ) اس میں فرشتوں کی گھبراہٹ، خوف اور خشیت کا تذکرہ فرمایا، مطلب یہ ہے کہ یہ فرشتے جنہیں معبود تجویز کرکے ان کی شفاعت کی امید لیے بیٹھے ہو ان کا اپنا خود یہ حال ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی کام کا حکم ہوتا ہے تو ہیبت کے مارے گھبرا اٹھتے ہیں شدت ہیبت کی وجہ سے ان کی حالت دگرگوں ہوجاتی ہے جب فرمان عالی پورا ہوجاتا ہے اور ہیبت کی کیفیت دور ہوجاتی ہے تو آپس میں دریافت کرتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا حکم فرمایا۔ پھر بعض بعض سے کہتے ہیں کہ تمہارے رب نے حق ہی فرمایا۔
جہاں ہیبت کا یہ عالم ہے وہاں شفاعت کی کیا مجال ہوسکتی ہے، ملائکہ مقربین گھبراتے ہیں اور خوف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
اثبات توحید وتوبیخ وتجہیل مشرکین
قال اللہ تعالیٰ قل ادعوا الذین زعمتم من دون اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ بل ھو اللہ العزیز الحکیم۔
(ربط) شروع سورت میں تحمید اور دلائل توحید کا ذکر فرمایا اور پھر داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) پر اپنے انعامات کا اور ان کی شکر گذاری کا ذکر کیا اور بعد ازاں اہل سبا کا قصہ ذکر کیا کہ خدا تعالیٰ نے ان کو بڑی نعمتیں عطا کی تھیں مگر کفر اور شرک اور کفران نعمت کی وجہ سے ان کی عزت و راحت مبدل بہ ذلت و مصیبت ہوگئی۔ پس جب شاکرین اور کافرین کا حال بیان ہوچکا تو اب ان آیات میں مشرکین کی توبیخ اور تجہیل فرماتے ہیں کہ کیسے نادان ہیں کہ جن بتوں میں ذرہ برابر قدرت نہیں ان کو خدا اور…
Read the full tafseer →24:۔ ولا تنفع الشفاعۃ الخ : اس میں نفی شفاعت قہری کا بیان ہے اور فرشتوں کے شفیع مستقل ہونے کا رد ہے باقی رہا سفارش کا معاملہ تو یہ مزعومہ سفارشی تمہاری سفارش بھی نہیں کرسکتے۔ کیونکہ سفارش اللہ کی طرف سے اجازت پر موقوف ہے اور مشرک کے حق میں کسی نبی، ولی یا فرشتے کو سفارش کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔ قال تعالیٰ فی ابطال قرلھم ولا تنفع الشفاعۃ عندہ الا لمن اذن لہ فلا فائدۃ لعبادتکم غیر اللہ فان اللہ لا یاذن فی الشفاعۃ لمن یعبد غیرہ (کبیر) ۔ الا لمن اذن لہ : اس سے مراد مشفوع لہ ہے یعنی صرف اس شخص کے حق میں سفارش نافع ہوگی جس کی سفارش کرنے کی اجازت دی جائے گی مراد مومن ہے جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے الا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
اس سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے جو مضمون ذکر کیا تھا اس کو لوٹیا جارہا ہے۔ وہاں پر اللہ تعالیٰ نے توحید کے عقلی اور نقلی دلائل بیان کیے تھے اور شرک کا رد فرمایا تھا۔ درمیان میں اپنے شکر گزار بندوں حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) کا حال ذکر کیا۔ پھر قوم سبا کا ذکر ہوا کہ اللہ نے ان کو آسودہ زندگی اور ہر قسم کے انعامات سے نوازا تھا مگر انہوں نے ان نعمتوں کی ناشکری کی ، غرور وتکبر میں مبتلا ہوئے تو اللہ نے ان پر تباہ کن سیلاب بھیج کر ان کے باغات کو اکھیڑ دیا ، کھیتیاں ویران ہوگئیں ، مکانات زمین بوس ہوگئے اور اس طرح وہ سزا کے مستحق ٹھہرے۔ اللہ نے فرمایا کہ اس کے ناشکر گزاروں کو…
Read the full tafseer →وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَہٗ 0 ۭ حَتّٰٓي اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا 0 ۙ قَالَ رَبُّكُمْ 0 ۭ قَالُوا الْحَقَّ 0 ۚ وَہُوَالْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ 23
نفع
النَّفْعُ : ما يُسْتَعَانُ به في الوُصُولِ إلى الخَيْرَاتِ ، وما يُتَوَصَّلُ به إلى الخَيْرِ فهو خَيْرٌ ، فَالنَّفْعُ خَيْرٌ ، وضِدُّهُ الضُّرُّ. قال تعالی: وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً [ الفرقان/ 3]
( نع ) النفع
ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے خیرات تک رسائی کے لئے استعانت حاصل کی جائے یا وسیلہ بنایا جائے پس نفع خیر کا نام ہے اور اس کی ضد ضر ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–30
ترکیب : زعتمم ای زعتموھم الہۃ وھما مفعولا زعم حذف الاول لطول الموصول بصلۃ والثانی لقیام صفتہ مقامہ، قالوا قال القول الحق، لمن اذن یتعلق بالشفاعۃ فزع مالم یسم فاعلہ عن قلوبہم قائم مقام الفاعل۔ او ایاکم معطوف علی اسم ان و اما الخبر فیجب ان یکون 1 ؎ مکرا کقولک ان زید او عمرا قائم۔
تفسیر : شکر اور ناشکری کے نتائج بیان فرما کر عرب خصوصاً اہل مکہ کی ناشکری کا رد کرتا ہے۔ انسان کے لیے اس سے زیادہ اور کیا ناشکری ہے کہ وہ اپنے معبود حقیقی اور منعم کے ساتھ اوروں کو بھی شریک کرے، فقال قل ادعوا الذین زعمتم کہ بت پرستوں سے کہو کہ جن کو تم اس کا شریک سمجھتے ہو، ان کو پکارو، دیکھیں وہ تمہاری کہاں تک مدد…
Read the full tafseer →وَلاَ تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ عِنْدَہٗٓ اِلاَّ لِمَنْ اَذِنَ لَـہٗ ط حَتّٰـٓی اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا لا قَالَ رَبُّـکُمْ ط قَالُوا الْحَقَّ ج وَھُوَالْعَلِیُّ الْـکَبِیْرُ ۔ (السباء : 23)
(اور اس کے ہاں شفاعت کسی کے لیے نافع نہیں ہوسکتی بجز اس شخص کے جس کے لیے اللہ اجازت دے دے یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہوجائے گی تو وہ پوچھیں گے کہ تمہارے رب نے کیا حکم فرمایا، وہ جواب دیں گے کہ بالکل حق ارشاد ہوا اور وہ بزرگ و برتر ہے۔ )
غلط تصورشفاعت کی نفی
سلسلہ ٔ بیان کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ کائنات میں کسی چیز کا مالک ہونا اور کسی اختیار میں شریک ہونا اور کائنات کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
فہم القرآن
ربط کلام : شیطان کا سب سے بڑا حربہ یہ ہے کہ وہ انسان سے شرک کروائے، مشرک کا گمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ بزرگوں کو اپنی اپنی خدائی میں شریک کر رکھا ہے جس کی تردید کی گئی ہے۔
اے پیغمبر ﷺ ! ان لوگوں خو بتلائیں جو اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہیں کہ وہ انہیں اپنی مدد کے لیے بلائیں۔ انہیں معلوم ہوجائے گا کہ وہ زمین و آسمان میں ایک ذرہ کے برابر بھی کسی چیز کے مالک نہیں اور نہ ہی ان میں کسی چیز میں حصہ دار ہیں اور نہ ہی ان میں کوئی اللہ تعالیٰ کا معاون اور مددگار تھا اور ہے اور نہ ہوگا۔ جب اللہ تعالیٰ کی خدائی میں رائی کے دانے کے برابر بھی حصہ دار نہیں تو وہ…
Read the full tafseer →ماذونِ شفاعت والوں کا حال :
23: وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ عِنْدَہٗ اِلَّا لِمَنْ (اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سفارش کسی کیلئے کام نہیں آتی) مگر اَذِنَ لَہٗ (اس کے لئے جس کے لئے وہ اجازت دے دے) یعنی اللہ تعالیٰ اجازت دے دے کہ فلاں شفیع شفاعت کرسکتا ہے۔ لہؔ یہ لام اجلیہ ہے جیسا کہتے ہیں اذن لزیدٍ لعمروِ زیدکو عمرو کے حق میں اجازت دے دی گئی ای لاجل عمرو۔ یہ کفار کے قول ھولاء شفعاؤنا عند اللہ ] یونس : 18[ کی تردید ہے۔
قراءت : اُذِن لہ کوفی قراء نے عاصم کے علاوہ پڑھا : حَتّٰی اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِہِمْ (یہاں تک کہ ان کے دلوں سے جب گھبراہٹ دور ہوجاتی ہے) جیسا شفاعت کرنے والے اور مشفوع لہ کے دلوں…
Read the full tafseer →تفسیر 23۔ ، ولا تنفع الشفاعۃ عندہ الا لمن اذن لہ، اللہ تعالیٰ جس کو شفاعت کرنے کی اجازت دیدیں گے یہ ان کی تکذیب کی بناء پر کیا کیونکہ کافر لوگ یہی کہتے تھے کہ یہ ہمارے شفیع ہیں جو اللہ کے ہاں شفاعت کریں گے اور یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ جس کو اللہ رب العزت اجازت دے گا وہی سفارش کرسکے گا۔ ابوعمرو ، حمزہ کسائی نے ، اذن، ہمزہ کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ، حتی اذا فزع عن قلوبھم، ابن عامر یعقوب نے فاء کے فتحہ کے ساتھ اور زا کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے ۔ یعنی ان سے خوف کو دور کردے گا اور ان کے دلوں سے ڈر بھی نکال دے گا۔ جو حضرات اس صفت کے ساتھ متصف ہیں اس کے متعلق آئمہ مفسرین کے مختلف اقوال ہیں ۔ بعض نے کہا…
Read the full tafseer →23۔ مکہ کے مشرکوں نے ملت ابراہیمی ( علیہ السلام) کو بدل کر جس طرح اور باتیں اپنے دل سے ٹھہرائی تھیں اسی طرح یہ بھی ایک بات انہوں نے ٹھہرالی تھی کہ بتوں کی پرستش کرتے تھے اور آنحضرت ﷺ جب ان کو بت پرستی سے منع کرتے اور آخرت کے عذاب سے ڈراتے تو کہتے تھے کہ اول تو ہم مر کر جینے کے نہیں اور اگر جئے اور حساب و کتاب اور عذاب کا موقع پیش آیا تو وہ فرشتے اور نیک لوگ جن کی مورتوں کی ہم پرستش کرتے ہیں اللہ کی درگاہ میں ضرور ہماری شفاعت کر کے ہم کو عذاب سے نجات دلوادیں گے چناچہ سورة یونس کی آیت ویقولون ھؤلاء شفعاؤنا عنداللہ کی تفسیر میں یہ ذکر گزر چکا ہے قوم نوح کے زمانہ سے نیک لوگوں کی مورتوں کا پوجنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
آیت 22
(قل) اے رسول ! جو لوگ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی کو کوئی نفع نقصان نہیں دے سکتی انہیں خود ساختہ معبودوں کا عجز اور ان کی عبادت کا بطلان واضح کرتے ہوئے کہہ دیجیے : (ادعوا الذین زعمتم من دون اللہ) یعنی جنہیں تم اللہ تعالیٰ کا شریک سمجھتے ہو، اگر تمہارا پکارنا کوئی فائدہ دے سکتا ہے، تو انہیں پکار دیکھو۔ ان کی بےبسی اور تمہاری پکار کا جواب دینے پر عدم قدرت کے اسباب ہر لحاظ سے بہت زیادہ اور واضح ہیں۔
بلاشبہ وہ کسی ادنی سی چیز کے بھی مالک نہیں ہیں۔ (لایملکون مثقال ذرۃ فی السموت ولا فی الارض) ” وہ زمین و آسمان میں ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں “ یعنی وہ مستقل طور پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–54
اسلام میں مصوری کی ممانعت
قول باری ہے (یعملون لہ مایشآء من محاریب وتماثیل۔ سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں بنوانا منظور ہوتیں مثلاً بڑی عمارتیں اور مجسمے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں تصاویر اور مجسمے بنانے کی اباحت تھی لیکن حضور ﷺ کی شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ آپ سے مروی ہے (لا یدخل الملائکۃ بیتا فیہ صورۃ۔ جس کھر میں کوئی تصویر ہوا اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے) نیز ارشاد ہے (من صورصورۃ کلف یوم القیمۃ ان یحیھا ولا فالنار ۔ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی ہوا سے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں زندگی پیدا کردے ورنہ جہنم میں جائے) ۔
نیز ارشاد ہے (لعن اللہ المصورین۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
59 مشرکانہ تصور شفاعت کی نفی و تردید : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی سفارش کسی کو کچھ کام نہ دے سکے گی بجز اس کے جس کو اللہ خود اجازت دے "۔ یعنی اس کی بارگاہ اقدس میں سفارش کا بھی کسی کو یارا نہیں جب تک کہ اس کی طرف سے اذن نہ مل جائے۔ کیونکہ وہی وحدہ لاشریک جانتا ہے کہ کون سفارش کے قابل ہے اور کس کا جرم قابل معافی ہے کہ وہی علام الغیوب سب ظاہر اور پوشیدہ باتوں کو جاننے والا اور ایک برابر جاننے والا ہے۔ سو اس سے اس مشرکانہ تصور شفاعت کی نفی و تردید فرما دی گئی جو مشرک قوموں کے اندر پایا جاتا تھا۔ پہلے بھی موجود تھا اور آج بھی ہے۔ سو ایسے مشرک لوگوں کا اپنے مزعومہ شفعاء کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
اللہ تعالیٰ مدد گاروں سے بےنیاز ہے
تشریح : ان آیات میں اللہ کی وحدانیت، بڑائی، عظمت، علیم (علم رکھنے والا) ، غالب اور حکمت والا ہونا مثالوں سے بتایا گیا ہے بلکہ ثابت کیا گیا ہے۔ کوئی اسے کسی نام سے بھی پکارے مگر اس کے ” وجود “ سے ہرگز کوئی شخص بھی انکار نہیں کرسکتا کیونکہ آسمانوں اور زمین پوری کائنات کا ذرہ ذرہ صرف اسی کے قوانین کے تحت چل رہا ہے۔ انسان جیسے جیسے علم میں ترقی کرتا چلا جا رہا ہے اللہ کے وجود کا زیادہ پکا یقین کرنے لگا ہے۔ کہہ سکتے ہیں کہ سائنسی ترقی انسان کو روحانیت کی طرف تیزی سے لا رہی ہے۔ یہی تعلیم نبی اکرم ﷺ نے بھی دی ” لا الہ الا اللہ “ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–30
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 22 تا 30:
اسرار و معارف :
آپ اپنے مخاطبین سے بھی فرما دیجیے کہ اپنے مشرکانہ عقاید میں اللہ کے علاوہ جن بتوں سے تم نے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں ان کی بھی کوئی حیثیت نہیں کہ اگر پہلی امتوں پر آنے والے عذاب کو کوئی نہیں ٹال سکا تو تمہارے معبودان باطلہ بھی تمہیں کوئی مدد نہ پہنچا سکیں گے اس لیے کہ کائنات میں وہ کسی ذرہ بھر شئے کے مالک نہیں نہ ان کی ذات باری کی ملکیت میں کسی طرح کی کوئی شراکت ہے اور نہ ہی ان میں یہ استعداد ہے کہ کسی کی مدد کرسکیں گے اگر تمہارا یہ عقیدہ ہے کہ ان کی شراکت تو نہیں لیکن یہ اللہ کریم کے نزدیک سفارش کرسکتے ہیں تو ان میں سفارش کرنے کی بھی استعداد نہیں…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی اللہ تعالیٰ کے حضور وہی سفارش فائدہ دے سکتی ہے جو کسی ایسے نبی ﷺ یا فرشتے یا نیک بندے کی طرف سے ہو جسے اللہ تعالیٰ اجازت دے اور وہ کسی ایسے شخص کے حق میں ہو جس کے لئے سفارش کرنے کی اجازت اللہ تعالیٰ دے ( بقرہ : 255، النجم : 261) اور یہ ظاہر ہے کہ کوئی نبی ﷺ ہو یا فرشتہ وہ اہل ایمان کے حق میں سفارش کرے گا اور کرسکے گا، نہ کہ کافروں اور مشرکوں کے حق میں صحیحین میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ تمام مخلوق کے حق میں شفاعت کرنے کے لئے مقام محمود پر کھڑے ہونگے تو آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہونگے کچھ دیر اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو سجدہ میں پڑا رہنے دیگا آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کی تعریف و ستائش کرتے…
Read the full tafseer →(34:23) فزع۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب تفزیع (تفعیل) مصدر۔ جس کے معنی ڈرانا بھی ہے اور خوف دور کرنا بھی۔ (لغات اضداد میں سے ہے) ۔
تفعیل کے خواص میں سے ایک خاصیت سلب مادہ بھی ہے یعنی کسی چیز سے ماخذ کو دور کرنا۔ لہٰذا تفزیع ڈر کے دور کرنے کے معنی میں بھی ہوسکتا ہے ۔ اور یہاں آیۃ ہذا میں انہی معنی میں استعمال ہوا ہے فزع بمعنی خوف۔ گھبراہٹ ۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے اذ دخلوا علی داود ففزع منہم (38:22) جب وہ اچانک دائود (علیہ السلام پر داخل ہوئے تو آپ ان سے گھبرا گئے۔
عن قلوبہم۔ میں ضمیر ہم جمع مذکر غائب ملائکہ کے لئے ہے۔ قالو ما ذا قال ربکم۔ ای قال بعضہم لبعض۔
قالوا الحق۔ مخاطبین جواب میں کہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
لغات القرآن : آیت نمبر 22 تا 23
ادعوا : پکارو۔ بلاؤ
زعمتم : تم نے گمان کیا۔ تم نے سمجھا
ظھیر : مددگار
فزع : گھبراہٹ دور کردی گئی
الحق : سچ
تشریح : آیات نمبر 22 تا 23
اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا واقعہ اور اللہ کو ماننے اور اس کا شکر ادا کرنے والوں کا حال سنا کر بتایا ہے کہ جو لوگ صبر و شکر سے کام لیتے ہیں ان کو دنیا میں کیا صلہ اور بدلہ ملتا ہے اور آخرت میں ان کا کتنا عظیم مقام ہوگا ۔ اس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتے۔ اس کے بر خلاف قوم سبا کے واقعات زندگی کو سامنے رکھ کر فرمایا کہ جب وہ قوم جو ایک ہزار سال تک دنیا پر حکومت کرتی رہی تھی اس نے اللہ کے…
Read the full tafseer →توحید اور مشرکین کا ذکر۔
(ف 2) نبی ﷺ جب مشرکین مکہ کو بت پرستی سے منع کرتے اور آخرت کے عذاب سے ڈراتے تو کہتے تھے کہ اول تو ہم مرکرجینے کے نہیں اور اگر جئے اور حساب کتاب اور عذاب کا موقع پیش آیا تو جن مورتوں کی ہم پوجا کرتے ہیں اللہ کی درگاہ میں ضرور ہماری سفارش کرکے ہم کو عذاب سے نجادلوائیں گے فرمایا کہ جن مورتوں کو یہ لوگ پوجتے ہیں نہ خدا کی خدائی میں ان کو کچھ اختیار ہے کہ اپنے اختیار سے بچاسکتے ہیں۔
حضور کی شفاعت۔
صحیح بخاری، مسلم، ترمذی، اور ابن ماجہ، میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی جو روایتیں ہیں کہ شفاعت دوطرح کی ہوگی، ایک محشر کے میدان میں گرمی اور پسینے سے تمام اہل محشر گھبرا کر جب اس…
Read the full tafseer →[22] مشرکین فرشتوں کو اللہ کی چہیتی بیٹیاں کہتے تھے اور ان کے بارے میں گمان رکھتے تھے کہ (معاذ اللہ) وہ اپنے باپ سے جو بات چاہیں منوا سکتی ہیں۔ لیکن ان فرشتوں کا حال یہ ہے کہ جب اوپر سے اللہ کا حکم آتا تو وہ مارے ہیبت کے تھرا اٹھتے ہیں۔ جب یہ حالت رفع ہوتی ہے اور کچھ تسکین ہوتی ہے تو ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ کیا حکم ہوا۔ اوپر والے فرشتے نیچے والوں کو درجہ بدرجہ بتلاتے ہیں کہ بجاحکم صادر ہوا ہے۔ پھر جس اللہ کی عظمت کی یہ کیفیت ہو کہ مقربین کا مارے ہیبت کے یہ حال ہوجائے تو وہ کون لوگ ہیں جن کی سفارش پر مشرکین تکیہ کئے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
حقیقت ثانیہ
حضور کو مخاطب فرمایا ہے اور کہا ہے ۔ کہ ان لوگوں سے پوچھئے جو ماسوا میں الجھے ہوئے ہیں ۔ اور شرافت انسانی سے قطع نظر کرکے کائنات کے حقیر مظاہر کے سامنے جھکتے ہیں ۔ کہ تمہیں آسمانوں اور زمین سے کوئی روزی عطا کرتا ہے ؟ یعنی یہ ابروباد کا انتظام کس کے ہاتھ میں ہے ۔ کون پانی سے لدی ہوئی ہوائیں بھیجتا ہے اور کون مردہ کھیتوں کو ہرا بھرا اور شاداب بنادیتا ہے ؟ کون انگوریاں ۔ غلہ اور چارہ پیدا کرتا ہے ؟ فرمایا : کہ اس سوال کا جواب سوائے اسکے کیا ہوسکتا ہے کہ یہ اللہ کا اختیار میں ہے ۔ گیا یہ جواب اتنا سچا اور وقیت پر مبنی ہے ۔ کہ کوئی شخص اس سے اختلاف نہیں کرے گا اس کے بعد فرمایا : کہ اس…
Read the full tafseer →(23) اور اللہ تعالیٰ کے سامنے کسی کیلئے سفارش کام نہیں آتی مگر ہاں اس کے کام آسکتی ہے۔ جس کی نسبت اللہ تعالیٰ سفارش کی اجازت دے دے یعنی شفیع کو منظوری مل جائے کہ فلاں جماعت کیلئے سفارش کرسکتے ہو اور اجازت سے پہلے پہلے اہل محشر اور شافع اور مشفوع باہم ایک گھبراہٹ اور پریشانی میں انتظار کرتے ہوں گے یہاں تک کہ جب ان کی گھبراہٹ ان کے قلوب سے دور ہوجائے گی تو آپس میں کہیں گے تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا اور کیا حکم دیا تو کہیں گے اللہ تعالیٰ نے حق فرمایا یعنی شفاعت کی اجازت دے دی گئی اور وہی سب سے عالیشان اور بڑا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اللہ کے یہاں سفارش عوام جانتے ہیں اولیاء سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
ف 5۔ اور دلائل سے ثابت ہے کہ یہ اذن صرف حق مومنین میں ہوگا۔
6۔ پس جب ملائکہ مقربین کی یہ حالت ہو تو اصنام و شیاطین تو کس شمار میں ہیں کہ ایک میں قابلیت نہیں دوسرے میں مقبولیت نہیں۔
Read the full tafseer →۔ اس وقت کے مشرک بھی کہتے تھے اور آج کے مشرک بھی بادل نخواستہ مان لیتے ہیں کہ چلو مان لیا کہ یہ لوگ زمین و آسمان کی کسی چیز میں شرکت نہیں رکھتے لیکن سفارش کرنے کے لئے آخر کسی چیز میں شریک ہونا ضروری بھی کب ہے ؟ اگر وہ ان چیزوں میں خدا کے شریک نہیں ہیں تو اتنا تو ہے کہ یہ لوگ اللہ کے پیارے ہیں اور وہ اپنے اس پیار کے تعلق کے باعث ہماری سفارش تو کریں گے اور ان شفاعت کے باعث ہم نجات پاجائیں گے کیا تم کو معلوم نہیں ہے کہ لکڑی کے ساتھ لوہا بھی ترنے لگتا ہے بلا شبہ لکڑی کے ساتھ لوہا بھی تیرتا ہے لیکن آخر اس لکڑی اور لوہے میں سے مکلف کون ہے ؟ اگر نہیں تو اس جگہ بات مکلف کی ہے آپ غیر مکلف کے ساتھ غیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
Consideration of the psychology of the addressee in debates and avoidance of any approach that may provoke violent attitude
In verse 24: وَإِنَّا أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَىٰ هُدًى أَوْ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ (And We or you are either on the right path or in open error - 34:24), this address is beamed at polytheists and disbelievers. In their case, what was needed was already done. That Allah Ta’ ala was the creator, the master, and all-powerful in the absolute sense was proved decisively and explicitly. That idols and everything else other than Allah was weak and helpless was demonstrated clearly.…
Read the full tafseer →40 That is, "Not to speak of owning something, or being a partner in the ownership of something, or being a helper of Allah in any way, there exists no one in the universe, who of his own accord may intercede for someone before Allah. You are involved in the misunderstanding that there arc' some beloved ones of God, or some such powerful personalities, who can force and press God to accept their intercession, whereas the fact is that no one will dare utter a word of recommendation there without Allah's permission. Only such a one will be able to make his submissions, who is permitted by Allah…
Read the full tafseer →