Explained with ayahs 24–27
اللہ عزوجل کی صفات۔
اللہ تعالیٰ اس بات کو ثابت کر رہا ہے کہ صرف وہی خالق و رازق ہے اور صرف وہی الوہیت والا ہے۔ جیسے ان لوگوں کو اس کا اقرار ہے کہ آسمان سے بارشیں برسانے والا اور زمینوں سے اناج اگانے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے ایسے ہی انہیں یہ بھی مان لینا چاہئے کہ عبادت کے لائق بھی فقط وہی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ جب ہم تم میں اتنا بڑا اختلاف ہے تو لامحالہ ایک ہدایت پر اور دوسرا ضلالت پر ہے نہیں ہوسکتا کہ دونوں فریق ہدایت پر ہوں یا دونوں ضلالت پر ہوں۔ ہم موحد ہیں اور توحید کے دلائل کھلم کھلا ہیں اور واضح ہم بیان کرچکے ہیں اور تم شرک پر ہو جس کی کوئی دلیل تمہارے پاس نہیں۔ پس یقینا ہم ہدایت پر اور…
Read the full tafseer →سورة سَبـَا 42
سوال اور جواب کے درمیان ایک لطیف خلا ہے۔ مخاطب مشرکین تھے جو صرف یہی نہیں کہ اللہ کی ہستی کے منکر نہ تھے بلکہ یہ بھی جانتے تھے کہ رزق کی کنجیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ مگر اس کے باوجود وہ دوسروں کو خدائی میں شریک ٹھہراتے تھے۔ اب جو ان کے سامنے یہ سوال پیش کیا گیا کہ بتاؤ کون تمہیں آسمان و زمین سے رزق دیتا ہے، تو وہ مشکل میں پڑگئے۔ اللہ کے سوا کسی کا نام لیتے ہیں تو خود اپنے اور اپنی قوم کے عقیدے کے خلاف بات کہتے ہیں۔ ہٹ دھرمی کی بنا پر ایسی بات کہہ بھی دیں تو ڈرتے ہیں کہ خود اپنی قوم کے لوگ ہی اس کی تردید کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اور اگر تسلیم کرلیتے ہیں کہ اللہ ہی رزق دینے والا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
بحث و مناظرہ میں مخاطب کے نفسیات کی رعایت اور اشتعال انگیزی سے پرہیز
(آیت) وانا او ایاکم لعلی ھدی او فی ضلال مبین، یہ مشرکین و کفار کے ساتھ خطاب ہے۔ دلائل واضحہ سے اللہ تعالیٰ کا خالق ومالک ہونا اور قادر و مطلق ہونا واضح کردیا گیا، بتوں اور غیر اللہ کی بےبسی اور کمزوری کا مشاہدہ کرا دیا گیا، ان سب باتوں کے بعد موقع اس کا تھا کہ مشرکین کو خطاب کر کے کہا جاتا کہ تم جاہل اور گمراہ ہو کہ خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں اور شیاطین کی پرستش کرتے ہو۔ مگر قرآن حکیم نے اس جگہ جو حکیمانہ عنوان اختیار فرمایا وہ دعوت و تبلیغ اور مخالفین اسلام اور اہل باطل سے بحث و مناظرہ کرنے والوں کے لئے ایک اہم ہدایت نامہ…
Read the full tafseer →قل من یرزکم من السموات والارض قلل اللہ وانا اوایکم لعلی ھدی اوفی ضل مبین) 24)
یعنی ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین سے کون تم کو روزی دیتا ہے ؟ کون آسمانوں سے پانی برساتا سورج چمکاتا اور موسمی تغیرات پیدا کرتا ہے اور کون زمین سے بیجوں کو اگاتا، سبزوں کو نشوونما دیتا اور فصلوں کو بار آور کرتا ہے ؟
’ قل اللہ ‘۔ فرمایا کہ ان کو بتا دو کہ یہ سب کچھ اللہ ہی کرتا ہے اور آسمانوں اور زمین کی یہ سازگاری اس بات کا نہایت واضح ثبوت ہے کہ ان دونوں کے اندر ایک ہی خدائے قادر و قیو کا ارادہ کارفرما ہے۔
یہاں سوال کرنے کے بعد اس کا جواب بھی خود ہی دے دیا ہے۔ یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ اس جواب سے مخاطب کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
24۔ 1 ظاہر بات ہے گمراہی پر وہی ہوگا جو ایسی چیزوں کو معبود سمجھتا ہے جن کا آسمان و زمین سے روزی پہنچانے میں کوئی حصہ نہیں ہے، نہ وہ بارش برسا سکتے ہیں، نہ کچھ اگاہ سکتے ہیں۔ اس لئے حق پر یقین اہل توحید ہی ہیں، نہ کہ دونوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–32
16: آیت نمبر : 22۔ 23 میں مشرکین کے مختلف عقیدوں کی تردید کی گئی ہے، ان میں سے بعض مشرکین تو وہ تھے کہ وہ اپنے تراشے ہوئے بتوں ہی کو اپنا خدا مانتے تھے، اور انہی کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہ براہ راست ہماری حاجتیں پوری کرتے ہیں، ان کی تردید کے لئے آیت 22 میں فرمایا گیا ہے کہ : وہ آسمانوں اور زمین میں ذرہ برابر کسی چیز کے مالک نہیں ہیں، نہ ان کو آسمان و زمین کے معاملات میں (اللہ کے ساتھ) کوئی شرکت حاصل ہے، اور بعض مشرکین کا یہ عقیدہ تھا کہ یہ بت اللہ تعالیٰ کے کاموں میں اس کے مددگار ہیں، ان کی تردید کے لئے اسی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ : اور نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے، اور بعض…
Read the full tafseer →قل من یرزقکم۔۔۔۔۔ اوفی ضلٰل مبین (24) ” “۔
رزق ہر انسان کی زندگی کا واقعی اور زندہ مسئلہ ہے ۔ رزق نتیجہ ہے آسمانوں سے بارشوں ، سورج کی روشنی اور نور کا۔ یہ باتیں تو اس وقت قرآن کے مخاطب جانتے تھے۔ اس کے بعد رزق کے بارے میں بہت ہی انکشافات ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ زمین کے رزق کیا ہیں۔ نباتات ، حیوانات ، چشمے ، نہریں ، معدنیات اور خزانے۔ سابقہ ادوار کے لوگ بھی ان سے واقف تھے ، بعد کے لوگوں نے مزید انکشافات کیے۔
قل من یرزکم ۔۔۔۔۔ قل اللہ (34: 24) ” کون ہے جو آسمانوں اور زمین میں سے تمہیں رزق دیتا ہے ، کہواللہ “۔ اس لیے کہ وہ اس جواب میں شک نہ کرسکتے تھے اور نہ اس کے سوا کسی اور جواب کا دعویٰ…
Read the full tafseer →8 یعنی آسمان و زمین سے روزی کے سامان بہم پہنچانا صرف اللہ کے قبضہ میں ہے اس کا اقرار مشرکین بھی کرتے تھے لہذا آپ بتلا دیں کہ یہ تم کو بھی مسلم ہے پھر الوہیت میں دوسرے شریک کہاں سے ہوگئے۔
9 یعنی دونوں فرقے تو سچ نہیں کہتے (ورنہ اجتماع نقیضین لازم آجائے) یقینا دونوں میں ایک سچا اور ایک جھوٹا ہے تو لازم ہے کہ سوچو اور غور کر کے سچی بات قبول کرو۔ اس میں ان کا جواب ہے جو بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ میاں ! دونوں فرقے ہمیشہ سے چلے آئے ہیں کیا ضروری ہے جھگڑنا۔ تو بتلا دیا کہ ایک یقینا خطا کار اور گمراہ ہے۔ باقی تعیین نہ کرنے میں حکیمانہ حسن خطاب ہے یعنی لوہم اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے۔ بہرحال ایک تو یقینا…
Read the full tafseer →آیت 24 { قُلْ مَنْ یَّرْزُقُکُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ } ”آپ ﷺ ان سے پوچھئے کہ کون ہے جو تمہیں رزق بہم پہنچاتا ہے آسمانوں اور زمین سے ؟“
{ قُلِ اللّٰہُ وَاِنَّآ اَوْ اِیَّاکُمْ لَعَلٰی ہُدًی اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ } ”آپ ﷺ کہیے کہ اللہ ! اور یقینا ہم یا تم لوگ یا تو ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی میں !“
یعنی ہمارے اور تمہارے عقائد و نظریات میں بعد المشرقین ہے۔ ان متضاد عقائد میں سے صرف ایک عقیدہ ہی درست ہوسکتا ہے۔ چناچہ منطق اور عقل کا فیصلہ یہی ہے کہ ہم دونوں میں سے ایک گروہ ہدایت پر ہے اور دوسرا کھلی گمراہی میں پڑا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →39 یعنی یہ بات تو فریقین (یعنی رسول اللہ اور قریش مکہ) میں مسلم تھی کہ رزق دینے والا اللّٰہ ہی ہے اب انسانوں کے لئے لازم تو یہی ہے کہ عبادت اسی کی جانی چاہئے جو کھانے کو دیتا ہے اور دیتا رہتا ہے۔ پھر آخر دوسرے معبودوں کو جن کا رزق کی پیدا یا تقسیم میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ کسی خوش میں پوجا جائے، بنیاد تو دونوں کی ایک ہے کہ رازق اللہ ہے اور آگے اس کی دو راہیں بن گئیں۔ ایک ہم ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ گن اسی کا گانا چاہئے جو کھانے کو دیتا ہے اور ایک تم ہو کہ رزق دینے والے کو چھوڑ کر دوسروں کے گن گا رہے ہو۔ یا اللہ کی عبادت میں بلا وجہ شرک کر رہے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ ہم دونوں فریقوں میں سے ایک ہی حق پر…
Read the full tafseer →41۔ (اسی مسئلہ توحیدوشرک میں) یعنی یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ قائلین توحید ومنکرین توحید دونوں حق پر ہوں۔ اس طریق خطاب میں تعلیم ہے مجادلہ کے ساتھ لب و لہجہ میں ملاطفت کی۔ (آیت) ” من السموت والارض “۔ آسمان سے مثلا پانی برسا کر، زمین سے مثلا نباتات نکال کر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–30
آیت نمبر 22 تا 30
ترجمہ : اے محمد ! کفار مکہ سے کہہ دیجئے کہ جن چیزوں کے بارے میں تمہیں خدا کے سوا (خدائی) کا گمان ہے یعنی جن کو تم اللہ کے علاوہ معبود سمجھتے ہو ان کو پکارو تاکہ وہ تمہارے گمان کے مطابق تم کو نفع پہنچائیں اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا وہ ذرہ برابر خیر و شر کا اختیار نہیں رکھتے، نہ آسمان میں اور نہ زمین میں اور نہ ان کی ان دونون (کے پیدا کرنے) میں شرکت ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کا ان معبودوں میں سے کوئی مددگار ہے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے کسی کی سفارش کام نہیں آتی یہ ان کے اس قول کو رد کرنے کے لئے فرمایا کہ ان کے معبود اس کے سامنے سفارش کریں گے بجز ان کے کہ جن کے لئے اجازت…
Read the full tafseer →قل من یرزقکم من السموت والارض . آپ ان سے سوال کیجئے کہ آسمانوں سے (بصورت بارش) اور زمین سے (بصورت سبزہ) کون رزق عطا فرماتا ہے۔ یہ استفہام تقریری ہے ‘ یعنی بصورت سوال مخاطب کو آمادہ کرنا مقصود ہے کہ وہ اللہ کے رازق ‘ لاشریک ہونے کا اقرار کرے۔ اس جملہ میں آیت لا یملکون کے مضمون کی تاکید ہے اور اس جملہ کا تعلق قُلِ ادْعُوْاسے ہے۔
قل اللہ . آپ (اس سوال کے جواب میں خود ہی) کہہ دیجئے کہ صرف اللہ ہی تم کو رزق عطا فرماتا ہے (کیونکہ اس سوال کا جواب سوائے اس کے اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا) ۔
آیت میں ایماء ہے اس امر کی طرف کہ اگر وہ اقرار مجرم بن جانے کے خوف سے جواب دینے میں تامل کریں اور خاموش رہیں تو آپ…
Read the full tafseer →اور آپ ان کفار مکہ سے یہ و پوچھیے کہ اچھا یہ تو بتاؤ کہ پانی برسا کر اور نباتات نکال کر کون تمہیں رزق دیتا ہے کہ اللہ ہی تمہیں رزق دیتا ہے ار رزق خداوندی کے بارے میں ہم یا تم ضرور راہ راست یا گمراہی پر ہیں یا یہ مطلب کہ مسلمانوں کی جماعت ہدایت پر ہے یا مکہ والو تم یا یہ کہ ہم تم کھلی گمراہی پر ہیں۔
Read the full tafseer →قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : پچھلی آیت میں بیان کرنے کے بعد کہ مشرکین کے بنائے ہوئے شرکاء کائنات میں ایک ذرے کے مالک نہیں، بلکہ سب کا مالک ایک اللہ تعالیٰ ہے، اب نبی ﷺ کو حکم دیا کہ ان سے اس بات کا اقرار کروائیں کہ کائنات میں ہر ایک کو رزق بھی وہ اکیلا ہی دے رہا ہے۔ چناچہ فرمایا، ان سے کہو آسمان سے بارش برسا کر، سورج، چاند اور ستاروں سے گرمی، توانائی اور روشنی بہم پہنچا کر اور تمہارے فائدے کے لیے ہر چیز مسخر کر کے زمین سے تمہارے لیے اور تمہارے چوپاؤں کے لیے خوراک اور زندگی کی ہر ضرورت کون مہیا کرتا ہے ؟ یہ سب دل سے مانتے ہیں کہ وہ اللہ ہی ہے، اس لیے اس کا انکار نہیں…
Read the full tafseer →آیت : قل من یرزقکم من السموت والارض جب اس امر کا ذکر کیا کہ ان کے معبود ذرہ برابر اس چیز کے مالک نہیں جس پر رب قادر ہے اس امر کو موکد بیان کیا فرمایا : اے محمد ﷺ مشرکوں سے کہو : آیت : من یرزقکم من السموت ولارض یعنی آسمان سے بارش، سورج چاند ستاروں اور ان سے جو رزق اور منافع حاصل ہوتے ہیں انہیں کون پیدا فرماتا ہے ولارض اور وہ رزق جو زمین سے یعنی پانی اور نباتات سے نکلتے ہیں ان کے لیے ممکن نہیں کہ وہ یہ کہیں : یہ ہمارے معبودوں کا فعل ہے، تو وہ کہتے ہیں : ہم نہیں جانتے، تو فرما دیجئے : اللہ تعالیٰ یہ سب کچھ کرتا ہے وہ تمہارے دلوں میں چھپی ہوئی باتوں کو جانتا ہے۔ اگر وہ کہیں : اللہ تعالیٰ ہمیں رزق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ فزع عن قلوبہم یعنی جب ان کے دل گھبراہٹ سے خالی کردئیے گئے۔
کلام الٰہی سن کر سجدہ میں گرنا
2۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب جبار نے محمد ﷺ کی طرف وحی کا ارادہ کیا تو فرشتوں میں سے ایک قاصد کو بلایا تاکہ اس کو پیغام دے کر بھیجیں۔ فرشتوں نے کہا جبار کی آواز کو سنا کہ وہ وحی کے ساتھ کلام فرما رہے ہیں۔ پھر جب ان کے دلوں سے حجاب اٹھا تو ان سے پوچھا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا تو انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حق فرمایا اور وہ جانتے تھے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ حق ہی فرماتے ہیں ابن عباس نے فرمایا کہ وحی کی آواز…
Read the full tafseer →قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] مَنْ يَّرْزُقُكُمْ [کون رزق دیتا ہے تم لوگوں کو ] مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ [آسمانوں اور زمین سے ] قُلِ [آپ ﷺ کہہ دیجئے ] اللّٰهُ ۙ [(وہ) اللہ ہی ہے ] وَاِنَّآ [اور بیشک ہم لوگ ] اَوْ اِيَّاكُمْ [یا تم لوگ ] لَعَلٰى هُدًى [ضرور ہدایت پر ہیں ] اَوْ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ [یا کسی کھلی گمراہی میں ہیں ] ۔
Read the full tafseer →قیامت کے دن صحیح فیصلے ہوں گے، اللہ تعالیٰ عزیز و حکیم ہے
ان آیات میں بھی توحید کا اثبات ہے، اول تو یہ فرمایا کہ تم یہ بتادو کہ آسمانوں سے اور زمین سے تمہیں کون روزی دیتا ہے، آسمان سے پانی برستا ہے اور زمین سے درخت نکلتے ہیں اور کھیتیاں پیدا ہوتی ہیں بتاؤ یہ کس کی قدرت کا مظاہرہ ہے، اور ان چیزوں کو کس نے پیدا کیا، جو اب ان کے نزدیک بھی متعین ہے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مشیت و ارادہ سے ہوتا ہے، اگر وہ جواب نہ دیں یا دیر سے جواب دیں تو آپ ہی فرما دیجیے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی مشیت اور قدرت سے ہے۔
(وَاِنَّآ اَوْاِیَّاکُمْ لَعَلٰی ھُدًی اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ) (اور بیشک ہم یا تم ضرور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
اثبات توحید وتوبیخ وتجہیل مشرکین
قال اللہ تعالیٰ قل ادعوا الذین زعمتم من دون اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ بل ھو اللہ العزیز الحکیم۔
(ربط) شروع سورت میں تحمید اور دلائل توحید کا ذکر فرمایا اور پھر داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) پر اپنے انعامات کا اور ان کی شکر گذاری کا ذکر کیا اور بعد ازاں اہل سبا کا قصہ ذکر کیا کہ خدا تعالیٰ نے ان کو بڑی نعمتیں عطا کی تھیں مگر کفر اور شرک اور کفران نعمت کی وجہ سے ان کی عزت و راحت مبدل بہ ذلت و مصیبت ہوگئی۔ پس جب شاکرین اور کافرین کا حال بیان ہوچکا تو اب ان آیات میں مشرکین کی توبیخ اور تجہیل فرماتے ہیں کہ کیسے نادان ہیں کہ جن بتوں میں ذرہ برابر قدرت نہیں ان کو خدا اور…
Read the full tafseer →26:۔ قل من یرزقکم الخ : یہ توحید پر دوسری عقلی دلیل ہے (علی سبیل الاعتراف من الخصم) ۔ مشرکین سے پوچھیں کہ آسمان سے مینہ برسا کر اور زمین پر نباتات اگا کر تمہاری روزی کا سامان کون کرتا ہے اس سوال کا جواب چونکہ ایک ہی ہے جس سے مشرکین کو بھی انکار نہیں اس لیےحضور ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ ہی جواب دے دیں کہ اللہ ہی سب کا رازق ہے اس لیے ساری کائنات میں وہی متصرف و مکتار ہے اور وہی سب کا حاجت روا اور کارساز ہے اور مشرکین کے مزعومہ آلہہ اور کارساز کائنات میں تصرف کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے۔ امر ﷺ ان یقول تبکیتا للمشرکین بحملہم علی الاقرار بان الہتہم لا یملکون مثقال ذرۃ فی السموات ولا فی الارض وان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
ربط آیات
ابتدائے سورة میں اللہ نے توحید کے دلائل بیان فرمائے ، پھر درمیان میں شکر گزاروں اور ناشکر گزاروں کا حال ذکر کیا اس کے بعد شرک اور مشرکوں کا رد کیا ان کے تدبیر اور تصرف میں غلط عقائد کی نفی کی اور ساتھ ساتھ جبری اور قہری سفارش کے مزعومہ نظریات کی تردید کی۔ فرمایا بعض لوگ فرشتوں کو اپنا کارساز اور سفارشی سمجھتے ہیں حالانکہ وہ تو خود خدا تعالیٰ کے سامنے خوفزدہ رہتے ہیں اور اللہ کے حضور ہمیشہ عاجزی کا اظہار کرتے ہیں جب اللہ تعالیٰ کوئی فیصلہ صادر فرماتا ہے تو فرشتے پر پھیلا دیتے ہیں۔ ان پر مدہوشی طاری ہوجاتی ہے۔ پھر جب ان کی دہشت کسی حد تک دور ہوتی ہے تو نیچے طبقے والے فرشتے اوپر والوں…
Read the full tafseer →قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ 0 ۭ قُلِ اللہُ 0 ۙ وَاِنَّآ اَوْ اِيَّاكُمْ لَعَلٰى ہُدًى اَوْ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ 24
رزق
الرِّزْقُ يقال للعطاء الجاري تارة، دنیويّا کان أم أخرويّا، وللنّصيب تارة، ولما يصل إلى الجوف ويتغذّى به تارة «2» ، يقال : أعطی السّلطان رِزْقَ الجند، ورُزِقْتُ علما، قال : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] ، أي : من المال والجاه والعلم،
( ر ز ق) الرزق
وہ عطیہ جو جاری ہو خواہ دنیوی ہو یا اخروی اور رزق بمعنی نصیبہ بھی آجاتا ہے ۔ اور کبھی اس چیز کو بھی رزق کہاجاتا ہے جو پیٹ میں پہنچ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–30
ترکیب : زعتمم ای زعتموھم الہۃ وھما مفعولا زعم حذف الاول لطول الموصول بصلۃ والثانی لقیام صفتہ مقامہ، قالوا قال القول الحق، لمن اذن یتعلق بالشفاعۃ فزع مالم یسم فاعلہ عن قلوبہم قائم مقام الفاعل۔ او ایاکم معطوف علی اسم ان و اما الخبر فیجب ان یکون 1 ؎ مکرا کقولک ان زید او عمرا قائم۔
تفسیر : شکر اور ناشکری کے نتائج بیان فرما کر عرب خصوصاً اہل مکہ کی ناشکری کا رد کرتا ہے۔ انسان کے لیے اس سے زیادہ اور کیا ناشکری ہے کہ وہ اپنے معبود حقیقی اور منعم کے ساتھ اوروں کو بھی شریک کرے، فقال قل ادعوا الذین زعمتم کہ بت پرستوں سے کہو کہ جن کو تم اس کا شریک سمجھتے ہو، ان کو پکارو، دیکھیں وہ تمہاری کہاں تک مدد…
Read the full tafseer →قُلْ مَنْ یَّرْزُقُـکُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط قُلِ اللّٰہُ لا وَاِنَّـآ اَوْاِیَّاکُمْ لَعَلٰی ھُدًی اَوْفِیْ ضَلٰـلٍ مُّبِیْنٍ ۔ (السباء : 24)
(اے نبی ان سے پوچھئے تم کو آسمانوں اور زمین میں کون رزق دیتا ہے، کہئے، اللہ ! اور ہم میں اور تم میں سے کوئی ایک ہی ہدایت پر ہے، یا کھلی گمراہی میں۔ )
قول و عمل کے تضاد سے استدلال
ہم اس سے پہلے قرآن کریم میں متعدد مواقع پر اس حقیقت سے آگاہ ہوچکے ہیں کہ مشرکین اپنی تمام تر گمراہیوں کے باوجود اللہ تعالیٰ کو کائنات کا خالق مانتے تھے۔ اور رزق چونکہ صفت خلق ہی کا ایک ظہور ہے اس لیے وہ رازق بھی اللہ تعالیٰ ہی کو تسلیم کرتے تھے۔ البتہ اس میں کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
فہم القرآن
ربط کلام : مشرک کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ جن بزرگوں کو اللہ تعالیٰ نے کچھ اختیار دے رکھے ہیں وہ ان کے رزق کے بارے میں بھی اختیار رکھتے ہیں۔
مشرک کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ جب تک کسی بت یا قبر پر نذرانہ پیش نہ کیا جائے اس وقت تک ہمارے رزق میں اضافہ نہیں ہوسکتا۔ اس لیے مشرک سمجھتا ہے کہ دنیا میں جو کچھ اسے مل رہا ہے وہ ان بزرگوں کی طفیل ملتا ہے۔ اسی بناء پر بت پرست بتوں کے سامنے، فوت شدگان کے سامنے جھکنے والے مزارات پر اور حضرت خضر کو حاجت روا سمجھنے والے دریاؤں اور سمندروں میں نذرانے ڈالتے ہیں۔ یہاں تک کہ کلمہ پڑھنے والوں کی ایک اچھی خاصی تعداد یہ عقیدہ رکھتی ہے کہ اگر ہم نے پیر عبدالقادر…
Read the full tafseer →بارِ دیگر :
24: قُلْ (کہہ دیجئے) اس میں آپ کو حکم دیا کہ بار دیگر انہیں فرما دیں۔ مَنْ یَّرْزُقُکُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (کہ کون تم کو آسمان و زمین سے روزی دیتا ہے) ۔
کفار کی گمراہی پر تعریض :
قُل 1 اللّٰہِ (آپ کہہ دیجئے اللہ تعالیٰ ) پھر آپ کو حکم دیا کہ جواب اور اقرار بھی ان کی طرف سے خود اس طرح دیں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں رزق دیتا ہے اور یہ اس بات کو ظاہر کرنے کیلئے کہ اس بات کا اعتراف و اقرار وہ اپنے دلوں سے کرنے والے ہیں۔ ہاں بسا اوقات اس کو زبان پر نہ لائیں گے۔ کیونکہ انہوں نے منہ سے اللہ تعالیٰ کی رزاقیت کو مان لیا تو ان کو لازماً یہ کہا جائے گا پھر تم اس کی عبادت کیوں نہیں کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
تفسیر 24۔ ، قل من یرزقکم من فی السموات والارض ، آسمانوں سے بصورت بارش اور زمین سے بصورت سبزہ کون رزق عطافرماتا ہے۔ ، قل اللہ، وہ یہی کہیں گے کہ اللہ ہی رزق دینے والا ہے۔ ، وانا اوایا کم لعلی ھدی اوفی ضلال مبین، یہ شک کے طریق پر نہیں ہے بلکہ یہ بطور انصاف کے ہے ۔ جیسا کہ کہنے والا دوسرے کو کہتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے اور اس کو معلوم ہے کہ یہ شخص سچا ہے اور اس کا دوست جھوٹا ہے۔ معنی یہ ہوگا کہ نہیں تم ایک امر پر متحد بلکہ تم میں سے ایک فریق ہدایت یافتہ ہے اور دوسراگمراہ ہے۔ پس جس نے نبی کریم ﷺ کی اتباع کی وہ ہدایت پر رہا اور جس نے مخالفت کی وہ گمراہی میں پڑارہا۔ ان کی تکذیب کو ذکر کیا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–32
24 تا 30۔ اوپر گزرا کہ اہل مکہ کی سرکشی کے سبب سے مکہ میں سخت قحط پڑا اور اس قحط کی بلا کے دفع کرنے میں اہل مکہ کے بت کچھ کام نہ آئے آخر اللہ تعالیٰ نے ہی جب اپنے فضل سے مینہ بر سایا تو وہ قحط کی بلادفع ہوگئی اسی واسطے ان مشرکوں کے قائل کرنے کے لیے فرمایا اے سرول اللہ کے تم ان بت پرستوں سے یہ تو پوچھ کر آسمان سے مینہ برسا کر اور زمین میں ہر طرح کی پیدا وار کی تاثیر پیدا کرکے تم لوگوں کے رزق کا سامان کون کرتا ہے مکہ کے فحط کے تجربہ کے بعد اس سوال کا جواب یہی ہوسکتا ہے کہ یہ کام اللہ کا ہے اس جواب کے بعد ان مشرکوں سے یہ بھی کہہ دیا جاوے کہ مکہ کے قحط کے تجریہ سے یہ سمجھ لو کہ ہم میں اور تم میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
آیت 22
(قل) اے رسول ! جو لوگ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی کو کوئی نفع نقصان نہیں دے سکتی انہیں خود ساختہ معبودوں کا عجز اور ان کی عبادت کا بطلان واضح کرتے ہوئے کہہ دیجیے : (ادعوا الذین زعمتم من دون اللہ) یعنی جنہیں تم اللہ تعالیٰ کا شریک سمجھتے ہو، اگر تمہارا پکارنا کوئی فائدہ دے سکتا ہے، تو انہیں پکار دیکھو۔ ان کی بےبسی اور تمہاری پکار کا جواب دینے پر عدم قدرت کے اسباب ہر لحاظ سے بہت زیادہ اور واضح ہیں۔
بلاشبہ وہ کسی ادنی سی چیز کے بھی مالک نہیں ہیں۔ (لایملکون مثقال ذرۃ فی السموت ولا فی الارض) ” وہ زمین و آسمان میں ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں “ یعنی وہ مستقل طور پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–54
اسلام میں مصوری کی ممانعت
قول باری ہے (یعملون لہ مایشآء من محاریب وتماثیل۔ سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں بنوانا منظور ہوتیں مثلاً بڑی عمارتیں اور مجسمے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں تصاویر اور مجسمے بنانے کی اباحت تھی لیکن حضور ﷺ کی شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ آپ سے مروی ہے (لا یدخل الملائکۃ بیتا فیہ صورۃ۔ جس کھر میں کوئی تصویر ہوا اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے) نیز ارشاد ہے (من صورصورۃ کلف یوم القیمۃ ان یحیھا ولا فالنار ۔ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی ہوا سے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں زندگی پیدا کردے ورنہ جہنم میں جائے) ۔
نیز ارشاد ہے (لعن اللہ المصورین۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
59 مشرکانہ تصور شفاعت کی نفی و تردید : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی سفارش کسی کو کچھ کام نہ دے سکے گی بجز اس کے جس کو اللہ خود اجازت دے "۔ یعنی اس کی بارگاہ اقدس میں سفارش کا بھی کسی کو یارا نہیں جب تک کہ اس کی طرف سے اذن نہ مل جائے۔ کیونکہ وہی وحدہ لاشریک جانتا ہے کہ کون سفارش کے قابل ہے اور کس کا جرم قابل معافی ہے کہ وہی علام الغیوب سب ظاہر اور پوشیدہ باتوں کو جاننے والا اور ایک برابر جاننے والا ہے۔ سو اس سے اس مشرکانہ تصور شفاعت کی نفی و تردید فرما دی گئی جو مشرک قوموں کے اندر پایا جاتا تھا۔ پہلے بھی موجود تھا اور آج بھی ہے۔ سو ایسے مشرک لوگوں کا اپنے مزعومہ شفعاء کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
اللہ تعالیٰ مدد گاروں سے بےنیاز ہے
تشریح : ان آیات میں اللہ کی وحدانیت، بڑائی، عظمت، علیم (علم رکھنے والا) ، غالب اور حکمت والا ہونا مثالوں سے بتایا گیا ہے بلکہ ثابت کیا گیا ہے۔ کوئی اسے کسی نام سے بھی پکارے مگر اس کے ” وجود “ سے ہرگز کوئی شخص بھی انکار نہیں کرسکتا کیونکہ آسمانوں اور زمین پوری کائنات کا ذرہ ذرہ صرف اسی کے قوانین کے تحت چل رہا ہے۔ انسان جیسے جیسے علم میں ترقی کرتا چلا جا رہا ہے اللہ کے وجود کا زیادہ پکا یقین کرنے لگا ہے۔ کہہ سکتے ہیں کہ سائنسی ترقی انسان کو روحانیت کی طرف تیزی سے لا رہی ہے۔ یہی تعلیم نبی اکرم ﷺ نے بھی دی ” لا الہ الا اللہ “ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–30
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 22 تا 30:
اسرار و معارف :
آپ اپنے مخاطبین سے بھی فرما دیجیے کہ اپنے مشرکانہ عقاید میں اللہ کے علاوہ جن بتوں سے تم نے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں ان کی بھی کوئی حیثیت نہیں کہ اگر پہلی امتوں پر آنے والے عذاب کو کوئی نہیں ٹال سکا تو تمہارے معبودان باطلہ بھی تمہیں کوئی مدد نہ پہنچا سکیں گے اس لیے کہ کائنات میں وہ کسی ذرہ بھر شئے کے مالک نہیں نہ ان کی ذات باری کی ملکیت میں کسی طرح کی کوئی شراکت ہے اور نہ ہی ان میں یہ استعداد ہے کہ کسی کی مدد کرسکیں گے اگر تمہارا یہ عقیدہ ہے کہ ان کی شراکت تو نہیں لیکن یہ اللہ کریم کے نزدیک سفارش کرسکتے ہیں تو ان میں سفارش کرنے کی بھی استعداد نہیں…
Read the full tafseer →ف 4 ہر عقلمند آدمی سمجھ سکتا ہے کہ ہدایت پر وہی ہوگا جو اللہ تعالیٰ کو زمین و آسمان کا خالق ماننے کے بعد اس کی عبادت بھی کرتا ہے۔ اور وہ شخص یقیناکھلی گمراہی میں ہوگا جو اللہ تعالیٰ کو زمین و آسمان کا خالق تو مانتا ہے مگر عبادت دوسروں کی کرتا ہے۔ اسی چیز کو آیت میں صراحتاً کہنے کی بجائے کنایۃً بیان کیا گیا ہے کیونکہ یہ انداز کلام مخاطب کو زیادہ اپیل کرنیوالا ہے۔ ( کبیر) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” اس میں ان کا جواب ہے جو اس زمانے میں بعض لوگ کہتے ہیں دونوں فرقے ہمیشہ سے چلے آئے ہیں کیا ضرور ہے جھگڑنا ( موضح)
Read the full tafseer →(34:24) قل۔ ای قل یا محمد ﷺ للمشرکین۔ من السموت (آسمان سے پانی برسا کر) والارض (زمین سے نباتات اگاکر) ۔ قل اللہ۔ تو خدائے تعالیٰ نے فرمایا کہ :۔ اے نبی کریم ﷺ ان کو بتا دیجئے کہ زمین و آسمان سے رزق کی بہمر سانی اللہ ہی ۔
وانا وا ایاکم لعلی ھدی او صراط مستقیم۔ اس کا عطف ما قبل پر ہے۔ اور یہ قل اللہ والے جواب کا حصہ ہے۔ یعنی اور یہ بھی ان سے کہہ دیجئے یا ہم یا تم دونوں میں سے ایک ہدایت پر ہے یا ہم اور تم دونوں میں سے ایک گمراہی پر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
لغات القرآن : آیت نمبر 24 تا 30
یرزق : وہ دیتا ہے
انا : بیشک ہم
ایاکم : تم ہی
لا تسئلون : تم سوال نہ کیے جاؤ گے
اجرمنا : ہم نے گناہ کیا
یفتح : وہ کھولتا ہے
الحقتم : تم نے ملا دیا
کلا : ہرگز نہیں
کافۃ : تمام۔ سب
متی : کب ؟
میعا : مقرر
لا تستاخرون : تم پیچھے نہ ہٹو گے
لا تستقدمون : تم آگے نہ بڑھو گے
تشریح : آیت نمبر 24 تا 30
کفار مکہ اللہ کا نام لیتے ، اس کی ہستی کو مانتے ، اس کے اختیا اور قدرت کے قائل تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ رزق کی تمام کنجیاں اس کے دست قدرت میں ہیں لیکن ان کا گمان یہ تھا کہ اللہ نے ساری دنیا اور اس کے نظام کو پیدا کر کے ا اس کو چلانے کا اختیار ان کے بتوں اور کاہنوں کو دے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اے محبوب تم ان بت پرستوں سے یہ پوچھو کہ آسمان سے مینہ برسا کر اور زمین میں ہر طرح کی پیداوار کی تاثیر پیدا کرکے تم لوگوں کے رزق کا سامان کون کرتا ہے اور جب مکہ میں قحط پڑا تو تم نے بتوں سے اس قحط کے رفع کی بہت ہی التجا کی ، آخرکار ہمارے محبوب ﷺ سے دعا کراکر اس قحط کو رفع کیا، اس کے بعد ان مشرکوں سے یہ بھی کہہ دیاجائے کہ مکہ کے قحط کے تجربہ سے یہ سمجھ لو کہ ہم میں اور تم میں کون حق پر ہے پھر فرمایا کہ ان سے کہہ دیاجائے جو نصیحت تم کو کی جاتی ہے اگر تم لوگ اس کو نہ مانو گے تو ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ ہمیں تمہیں سب کو اللہ کے روبروکھڑا ہوناپڑے گا۔ اس دن حق ناحق سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
[23] مطلب یہ ہے کہ ہم تو تم کو ایک معقول بات سمجھاتے ہیں اور تم سے اس کا کوئی جواب دیتے بن نہیں پڑتا۔ پھر تم خود ہی سمجھ لو کہ ہم میں اور تم میں کون فریق راہ راست پر ہے۔ اس طریق خطاب میں تعلیم ہے مجادلہ کے ساتھ لب و لہجے میں نرمی کی جس سے مخالف کو اپنے نفس میں غور کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
حقیقت ثانیہ
حضور کو مخاطب فرمایا ہے اور کہا ہے ۔ کہ ان لوگوں سے پوچھئے جو ماسوا میں الجھے ہوئے ہیں ۔ اور شرافت انسانی سے قطع نظر کرکے کائنات کے حقیر مظاہر کے سامنے جھکتے ہیں ۔ کہ تمہیں آسمانوں اور زمین سے کوئی روزی عطا کرتا ہے ؟ یعنی یہ ابروباد کا انتظام کس کے ہاتھ میں ہے ۔ کون پانی سے لدی ہوئی ہوائیں بھیجتا ہے اور کون مردہ کھیتوں کو ہرا بھرا اور شاداب بنادیتا ہے ؟ کون انگوریاں ۔ غلہ اور چارہ پیدا کرتا ہے ؟ فرمایا : کہ اس سوال کا جواب سوائے اسکے کیا ہوسکتا ہے کہ یہ اللہ کا اختیار میں ہے ۔ گیا یہ جواب اتنا سچا اور وقیت پر مبنی ہے ۔ کہ کوئی شخص اس سے اختلاف نہیں کرے گا اس کے بعد فرمایا : کہ اس…
Read the full tafseer →(24) اے پیغمبر آپ دلائل توحید کے سلسلے میں ان منکرین سے فرما دیجئے کہ تم کو آسمانوں سے اور زمین سے کون روزی دیتا ہے اور کون تمہاری رزق رسانی فرماتا ہے آپ ہی فرمایئے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہے یقینا ہم یا تم ضرور راہ راست پر ہیں یا صریح گمراہی میں ہیں۔ یعنی آسمان سے پانی برسانا اور زمین سے نباتات اگا کر تمہارے لئے روزی مہیا کرنا یہ کس کا کام ہے۔ یہ بات چونکہ ایسی ہے کہ دل سب کے اس کو مانتے ہیں کہ یہ کام سوائے باری تعالیٰ کے اور کون کرسکتا ہے اس لئے رسول کو حکم دیا کہ آپ کہہ دیجئے وہ اللہ تعالیٰ ہے آگے ایک بات اور غور طلب فرمائی کہ ذرا سوچو کہ ہم تم میں ایک نہ ایک تو حق پر ہے اور ایک نہ ایک ضرور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
ف 5۔ اور دلائل سے ثابت ہے کہ یہ اذن صرف حق مومنین میں ہوگا۔
6۔ پس جب ملائکہ مقربین کی یہ حالت ہو تو اصنام و شیاطین تو کس شمار میں ہیں کہ ایک میں قابلیت نہیں دوسرے میں مقبولیت نہیں۔
Read the full tafseer →تفسیر : ان سے پوچھو کہ تم کو آسمانوں اور زمین میں رزق دینے والا کون ہے ؟
24 ۔ قرآن کریم کی معجزانہ بلاغت کا کون اندازہ لگا سکتا ہے بات اتنے میں مکمل تھی کہ تم کو کون رزق دیتا ہے ؟ لیکن یہ فرما کر کہ آسمانوں اور زمین میں سے تم کو کون روزی دیتا ہے ؟ سائنس کے ان سارے ضابطوں کی طرف اشارہ کردیا جو ایک مدت مدید کے بعد واضح ہوئے اور ابھی نہ معلوم کتنے ہیں جن کو سائنس معلوم نہیں کرسکی اور کس کس چیز کا سائنس اقرار کرے گی ہمیں افسوس ہے کہ علماء کرام سائنس دانوں کے خلاف کیوں زہر اگلتے ہیں حالانکہ علماء کا حق تھا کہ وہ ان کی توجہ اس طرح مبذول کراتے کہ تم دنیا کی تلاش میں ایسے گم ہوئے کہ اس دنیا کا نظام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
Consideration of the psychology of the addressee in debates and avoidance of any approach that may provoke violent attitude
In verse 24: وَإِنَّا أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَىٰ هُدًى أَوْ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ (And We or you are either on the right path or in open error - 34:24), this address is beamed at polytheists and disbelievers. In their case, what was needed was already done. That Allah Ta’ ala was the creator, the master, and all-powerful in the absolute sense was proved decisively and explicitly. That idols and everything else other than Allah was weak and helpless was demonstrated clearly.…
Read the full tafseer →42 There is a subtle gap between the question and the answer. The addressees were the mushriks who not only did not disbelieve in the existence of Allah but also knew and believed that the keys of the provisions are in His hand. But in spite of this they held others also as Allah's associates in His work. Now when they were confronted with the question: `Who gives you sustenance from the heavens and the earth?" they were put in a tight comer. If they mentioned another beside Allah they would say a thing contrary to their own and their people's creed. If they showed stubbornness and said such…
Read the full tafseer →