Saba 34:25

Saba · from ayah 25

34:25

قُلْ لَّا تُسْـَٔلُوْنَ عَمَّاۤ اَجْرَمْنَا وَلَا نُسْـَٔلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ۟قُلْ لَّا تُسۡــئَلُوۡنَ عَمَّاۤ اَجۡرَمۡنَا وَلَا نُسۡـئَـلُ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ

کہہ دو کہ نہ ہمارے گناہوں کی تم سے پرسش ہوگی اور نہ تمہارے اعمال کی ہم سے پرسش ہوگی

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "You will not be asked about what we committed, and we will not be asked about what you do."

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 3 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Saba

All translations of 34:25

ان سے کہو، "جو قصور ہم نے کیا ہو اس کی کوئی باز پرس تم سے نہ ہو گی اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس کی کوئی جواب طلبی ہم سے نہیں کی جائے گی"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہہ دو کہ نہ ہمارے گناہوں کی تم سے پرسش ہوگی اور نہ تمہارے اعمال کی ہم سے پرسش ہوگی

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہہ دیجیئے! کہ ہمارے کئے ہوئے گناہوں کی بابت تم سے کوئی سوال نہ کیا جائے گا نہ تمہارے اعمال کی بازپرس ہم سے کی جائے گی

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہو کہ : ہم نے جو جرم کیا ہو، اس کے بارے میں تم سے نہیں پوچھا جائے گا، اور تم جو عمل کرتے ہو، اس کے بارے میں ہم سے سوال نہیں ہوگا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ ہم نے تمہارے گمان میں اگر کوئی جرم کیا تو اس کی تم سے پوچھ نہیں، نہ تمہارے کوتکوں کا ہم سے سوال

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیجئے: تم سے اس جرم کی باز پرس نہ ہوگی جو (تمہارے گمان میں) ہم سے سرزد ہوا اور نہ ہم سے اس کا پوچھا جائے گا جو تم کرتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے نہ تم سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا جو ہم نے جرم کیا اور نہ ہم سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا جو تم کرتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہئے کہ ہم اگر جرم کریں تو اس کی باز پرس تم سے نہیں ہوگی اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس کی ہم سے بازپرس نہیں ہوگی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ دو ، نہ ہم نے جو جرم کیے ان کی بابت تم سے پرسش ہونی ہے اور نہ تمہارے اعمال سے متعلق ہم سے سوال ہوگا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(ان سے) کہو کہ نہ تم سے کوئی باز پرس ہوگی ان جرائم کے بارے میں (جو بقول تمہارے) ہم کر رہے ہیں اور نہ ہم سے کوئی باز پرس ہوگی تمہارے ان کاموں کے بارے میں جو تم لوگ کر رہے ہو

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجیے کہ نہ تم سے ہمارے جرائم کی بابت سوال ہوگا اور نہ ہم سے تمہارے اعمال کا سوال ہوگا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

آپ ﷺ کہیے کہ تم سے نہیں پوچھا جائے گا ہمارے جرائم کے بارے میں } اور نہ ہی ہم سے پوچھا جائے گا تمہارے اعمال کے بارے میں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہہ دو کہ جو گناہ ہم کریں گے اس کا سوال تم سے نہیں ہوگا اور جو تم کروگے اس کا اس کا ہم سے نہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

Tell them: “You will not be called to account about the guilt we committed, nor will we be called to account for what you did.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :You will not be asked about the sins we committed, and we will not be asked about what you do.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :You will not be asked about the sins we committed, and we will not be asked about what you do.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "You will not be asked about our sins, nor shall we be asked of what you do."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say: Ye will not be asked of what we committed, nor shall we be asked of what ye do.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "You will not be asked about what we committed, and we will not be asked about what you do."

— Saheeh International

Say, "You will not be questioned about our sins nor shall we about your deeds".

— Muhammad Sarwar

Say: You will not be questioned as to what we are guilty of, nor shall we be questioned as to what you do.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: ye will not be questioned about that which we have committed, nor shall we be questioned about that which ye work.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "Ye shall not be questioned as to our sins, nor shall we be questioned as to what ye do."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 34:25

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 24–27

اللہ عزوجل کی صفات۔ اللہ تعالیٰ اس بات کو ثابت کر رہا ہے کہ صرف وہی خالق و رازق ہے اور صرف وہی الوہیت والا ہے۔ جیسے ان لوگوں کو اس کا اقرار ہے کہ آسمان سے بارشیں برسانے والا اور زمینوں سے اناج اگانے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے ایسے ہی انہیں یہ بھی مان لینا چاہئے کہ عبادت کے لائق بھی فقط وہی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ جب ہم تم میں اتنا بڑا اختلاف ہے تو لامحالہ ایک ہدایت پر اور دوسرا ضلالت پر ہے نہیں ہوسکتا کہ دونوں فریق ہدایت پر ہوں یا دونوں ضلالت پر ہوں۔ ہم موحد ہیں اور توحید کے دلائل کھلم کھلا ہیں اور واضح ہم بیان کرچکے ہیں اور تم شرک پر ہو جس کی کوئی دلیل تمہارے پاس نہیں۔ پس یقینا ہم ہدایت پر اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة سَبـَا 44 اوپر کی بات سامعین کو پہلے ہی سوچنے پر مجبور کرچکی تھی۔ اس پر مزید ایک فقرہ یہ فرما دیا گیا تاکہ وہ اور زیادہ تفکر سے کام لیں۔ اس سے ان کو یہ احساس دلایا گیا کہ ہدایت اور گمراہی کے اس معاملے کا ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرنا ہم میں سے ہر ایک کے اپنے مفاد کا تقاضا ہے۔ فرض کرو کہ ہم گمراہ ہیں تو اپنی اس گمراہی کا خمیازہ ہم ہی بھگتیں گے، تم پر اس کی کوئی پکڑ نہ ہوگی۔ اس لیے یہ ہمارے اپنے مفاد کا تقاضا ہے کہ کوئی عقیدہ اختیار کرنے سے پہلے خوب سوچ لیں کہ کہیں ہم غلط راہ پر تو نہیں جا رہے ہیں۔ اسی طرح تم کو بھی ہماری کسی غرض کے لیے نہیں بلکہ خود اپنی ہی خیر خواہی کی خاطر ایک عقیدے پر جمنے سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 24–27

بحث و مناظرہ میں مخاطب کے نفسیات کی رعایت اور اشتعال انگیزی سے پرہیز (آیت) وانا او ایاکم لعلی ھدی او فی ضلال مبین، یہ مشرکین و کفار کے ساتھ خطاب ہے۔ دلائل واضحہ سے اللہ تعالیٰ کا خالق ومالک ہونا اور قادر و مطلق ہونا واضح کردیا گیا، بتوں اور غیر اللہ کی بےبسی اور کمزوری کا مشاہدہ کرا دیا گیا، ان سب باتوں کے بعد موقع اس کا تھا کہ مشرکین کو خطاب کر کے کہا جاتا کہ تم جاہل اور گمراہ ہو کہ خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں اور شیاطین کی پرستش کرتے ہو۔ مگر قرآن حکیم نے اس جگہ جو حکیمانہ عنوان اختیار فرمایا وہ دعوت و تبلیغ اور مخالفین اسلام اور اہل باطل سے بحث و مناظرہ کرنے والوں کے لئے ایک اہم ہدایت نامہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قل لا تسئلون عما اجرمنا ولا تسئل عما تعلمون (25) یہی وہی قطع حجت کا مضمون، جو اوپر والی آیت میں ہے، دوسرے الفاظ میں ہے۔ فرمایا کہ اگر تمہارے نزدیک ہم تمہارے معبودوں اور تمہارے آبائی رسوم کی مخالفت کے مجرم ہیں تو عند اللہ اس جرم کی مسوئلیت ہمارے ہی اوپر ہے، تمہارے اوپر نہیں ہے۔ اسی طرح تم جو کچھ کر رہے ہو اس کی پرسش ہم سے نہیں ہونی ہے، تمہی سے ہونی ہے۔ ہمارے اوپر حق کو پہنچا دینے کی ذمہ داری تھی، یہ فرض ہم نے ادا کردیا۔ اب مزید بحث وجدال سے کچھ حاصل نہیں۔ تم اپنی راہ چلو، ہم اپنی راہ چلتے ہیں۔ کل کو اللہ تعالیٰ کے حضور فیصلہ ہوجائے گا کہ کون حق پر ہے اور کون باطل پر۔ یہی مضون سورة شوریٰ کی آیت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 24–25

24۔ 1 ظاہر بات ہے گمراہی پر وہی ہوگا جو ایسی چیزوں کو معبود سمجھتا ہے جن کا آسمان و زمین سے روزی پہنچانے میں کوئی حصہ نہیں ہے، نہ وہ بارش برسا سکتے ہیں، نہ کچھ اگاہ سکتے ہیں۔ اس لئے حق پر یقین اہل توحید ہی ہیں، نہ کہ دونوں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 23–32

16: آیت نمبر : 22۔ 23 میں مشرکین کے مختلف عقیدوں کی تردید کی گئی ہے، ان میں سے بعض مشرکین تو وہ تھے کہ وہ اپنے تراشے ہوئے بتوں ہی کو اپنا خدا مانتے تھے، اور انہی کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہ براہ راست ہماری حاجتیں پوری کرتے ہیں، ان کی تردید کے لئے آیت 22 میں فرمایا گیا ہے کہ : وہ آسمانوں اور زمین میں ذرہ برابر کسی چیز کے مالک نہیں ہیں، نہ ان کو آسمان و زمین کے معاملات میں (اللہ کے ساتھ) کوئی شرکت حاصل ہے، اور بعض مشرکین کا یہ عقیدہ تھا کہ یہ بت اللہ تعالیٰ کے کاموں میں اس کے مددگار ہیں، ان کی تردید کے لئے اسی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ : اور نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے، اور بعض…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قل لا تسئلون ۔۔۔۔۔ تعملون (25) مشرکین رسول اللہ ؐ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں پر یہ الزام لگاتے تھے کہ یہ لوگ غلط کار ، صابی اور مجرم ہیں اور انہوں نے اپنا حقیقی دین چھوڑ دیا ہے جو ان کے آباء و اجداد کا دین تھا۔ اہل باطل اہل حق کو ہمیشہ گمراہ کہتے چلے آئے ہیں۔ یہ ان کی طوطا چشمی اور غرور ہوتا ہے اور اس کا جواب یہی ہے۔ قل لا تسئلون ۔۔۔۔ عما تعملون (34: 25) ” کہہ دو ، جو قصور ہم نے کیا ہو اس کی کوئی باز پرس تم سے نہ ہوگی اور جو کچھ تم کر رہے ہو۔ اس کی کوئی جواب طلبی ہم سے نہ ہوگی “۔ ہر شخص اپنے عمل کا ذمہ دار ہوگا۔ اور ہر شخص کو اپنے اعمال ہی کی جزاء ملے گی۔ لہٰذا یہ ہر شخص کا اپنا کام ہے کہ وہ خوب سوچ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 25–26

1 یعنی ہر ایک کو اپنی عاقبت کی فکر کرنی چاہیے۔ کوئی شخص دوسرے کے قصور اور غلطی کا جواب دہ نہ ہوگا اگر اتنی صاف باتیں سننے کے بعد بھی تم اپنی حالت میں غور کرنے کے لیے تیار نہیں تو یاد رکھو ہم حجت تمام کرچکے۔ اور کلمہ حق پہنچا چکے۔ اب تم اپنے اعمال کے خود جواب دہ ہو گے ہم پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ نہ ایسی حالت میں ہمارا تمہارا کوئی واسطہ۔ خدا کے یہاں حاضر ہونے کے لیے ہر ایک اپنی اپنی فکر کر رکھے۔ وہ سب کو اکٹھا کر کے ٹھیک ٹھیک انصاف کا فیصلہ کر دے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 25 { قُلْ لَّا تُسْئَلُوْنَ عَمَّآ اَجْرَمْنَا } ”آپ ﷺ کہیے کہ تم سے نہیں پوچھا جائے گا ہمارے جرائم کے بارے میں“ تم سمجھتے ہو کہ ہم نے نیا دین گھڑ لیا ہے ‘ ہم نے تمہارے معبودوں کو جھٹلایا ہے اور ہم نے تمہارے خاندانوں میں پھوٹ ڈال دی ہے اور یوں ہم بہت سنگین جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ لیکن اس حوالے سے تم لوگ خاطر جمع رکھو ‘ ہمارے ان جرائم کے بارے میں تم سے پوچھ گچھ نہیں ہوگی۔ اپنے ان ”جرائم“ کا حساب ہم خود ہی دیں گے۔ یہاں پر مخالف فریق کو گمراہ کہنے کے بجائے دونوں میں سے کسی ایک فریق کی گمراہی کی بات کر کے اور ان کے الزام کے مطابق جرائم کو خود اپنی طرف منسوب کر کے ”حکمت ِتبلیغ“ کا بہت اہم…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

40 اس سے اگلا سوال یہ ہے کہ عقل و فلم ہم سب کو یکساں دیا گیا ہے۔ تم اگر ایک مسلمہ کلیہ سے غلط نتیجہ اخذ کرکے اس پر اپنی زندگی کی راہ استوار کرتے ہو تو اس کے جواب دہ ہم تو نہیں ہوسکتے اور اگر بالفرض ہم غلط نتیجہ نکال کر اس پر عمل پیرا ہوگئے ہیں تو ہمارے متعلق تم سے سوال نہیں ہوگا۔ ہر ایک اپنے اپنے اعمال کا خود جواب دہ اور ذمہ دار ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

42۔ یہ منکرین کے لیے آخری جواب ہے کہ خیر اور کسی طرح نہیں مانتے ہو، نہ مانو ہم مجرم وخطاکار ہیں تو تم سے سوال نہ ہوگا۔ اور تمہاری بابت ہم سے سوال نہ ہوگا آیت میں ہر شخص کی ذاتی مسؤلیت وذمہ داری کی بھی تعلیم آگئی ،

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 22–30

آیت نمبر 22 تا 30 ترجمہ : اے محمد ! کفار مکہ سے کہہ دیجئے کہ جن چیزوں کے بارے میں تمہیں خدا کے سوا (خدائی) کا گمان ہے یعنی جن کو تم اللہ کے علاوہ معبود سمجھتے ہو ان کو پکارو تاکہ وہ تمہارے گمان کے مطابق تم کو نفع پہنچائیں اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا وہ ذرہ برابر خیر و شر کا اختیار نہیں رکھتے، نہ آسمان میں اور نہ زمین میں اور نہ ان کی ان دونون (کے پیدا کرنے) میں شرکت ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کا ان معبودوں میں سے کوئی مددگار ہے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے کسی کی سفارش کام نہیں آتی یہ ان کے اس قول کو رد کرنے کے لئے فرمایا کہ ان کے معبود اس کے سامنے سفارش کریں گے بجز ان کے کہ جن کے لئے اجازت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل لا تسئلون عما اجر منا ولا نسئل عما تعملون آپ کہہ دیجئے کہ (اگر ہم نے کوئی جرم کیا ہوگا تو) ہمارے جرائم کی تم سے بازپرس نہیں ہوگی اور نہ تمہارے اعمال کی ہم سے بازپرس ہوگی۔ یعنی میں جو تم کو توحید کے ماننے اور شرک چھوڑ دینے کا حکم دے رہا ہوں ‘ یہ محض تمہاری خیرخواہی کے پیش نظر ہے ورنہ کسی کو دوسرے کے عمل سے ضرر نہیں پہنچے گا ‘ نہ مجھے نہ تمہیں۔ اس کلام میں توحید کے ماننے کی ترغیب ہے۔ اجرمناکے لفظ میں ارتکاب جرم کی اپنی طرف نسبت کی اور تعملونکے لفظ میں (جرم کی نسبت مخاطب کی طرف نہیں کہ بلکہ) عمل کی نسبت مخاطبوں کی طرف کی۔ یہ تقاضائے تہذیب کا مظاہرہ اور خیرخواہی کا اظہار ہے جو ہر قسم کے تعصب…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور آپ ان سے فرما دیجیے کہ تم سے ہمارے جرائم کے بارے میں پوچھ گچھ نہ ہوگی اور ہم سے تمہارے جرائم کے بارے میں باز پرس نہیں ہوگی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ لَّا تُسْـَٔــلُوْنَ عَمَّآ اَجْرَمْنَا۔۔ : یہ بھی بحث و مناظرہ میں حکمت و شائستگی برتنے کی تعلیم ہے، یعنی باوجود یہ کہ مسلمان حق پر ہیں اور ان کے اعمال نیک ہیں، مگر انھیں چاہیے کہ مخاطب کو یوں کہہ کر غور و فکر کی دعوت دیں کہ اپنے صغیرہ گناہوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے لیے جرم کا لفظ استعمال کریں اور ان کے کفرو شرک اور کبیرہ گناہوں کے لیے لفظ ”عمل“ استعمال کریں کہ تم سے اس کے بارے میں سوال نہیں ہوگا جو ہم نے جرم کیے اور ہم سے اس کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا جو عمل تم کر رہے ہو۔ اپنے لیے ماضی کا لفظ ”اَجْرَمْنَا“ استعمال کرنے کا حکم دیا اور ان کے لیے مضارع کا لفظ ”تَعْمَلُوْنَ“ استعمال…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت : قل لا تسلون عما اجر منا یعنی جو ہم نے جرم کیے ہیں آیت : و لا تسل عما تعملوں اور جو تم کرتے رہے ان کے بارے میں ہم سے سوال نہیں کیا جائے گا۔ جس امر کی طرف میں تمہیں دعوت دوں گا اس میں تمہارے بارے میں بھلائی کا ارادہ کرتا ہوں نہ کے مجھے تمہارے کفر کا ضرر پہنچے گا، یہ اسی طرح ہے جس طرح فرمایا : آیت : لکم دینکم ولی دین (الکافرون) اللہ تعالیٰ سب کو بدلہ دینے والا ہے۔ یہ آیت ایک دوسرے معاملہ کو ترک کرنے اور صلح پر دال ہے۔ یہ آیت آیت سیف کے ساتھ منسوخ ہے۔ ایک ول یہ کیا گیا : یہ آیت آیت سیف سے پہلے نازل ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 23–27

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ فزع عن قلوبہم یعنی جب ان کے دل گھبراہٹ سے خالی کردئیے گئے۔ کلام الٰہی سن کر سجدہ میں گرنا 2۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب جبار نے محمد ﷺ کی طرف وحی کا ارادہ کیا تو فرشتوں میں سے ایک قاصد کو بلایا تاکہ اس کو پیغام دے کر بھیجیں۔ فرشتوں نے کہا جبار کی آواز کو سنا کہ وہ وحی کے ساتھ کلام فرما رہے ہیں۔ پھر جب ان کے دلوں سے حجاب اٹھا تو ان سے پوچھا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا تو انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حق فرمایا اور وہ جانتے تھے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ حق ہی فرماتے ہیں ابن عباس نے فرمایا کہ وحی کی آواز…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] لَّا تُسْـَٔــلُوْنَ [تم لوگوں سے نہیں پوچھا جائے گا ] عَمَّآ [اس کے بارے میں جو ] اَجْرَمْنَا [ہم نے جرم کیا ] وَلَا نُسْـَٔــلُ [اور ہم سے نہیں پوچھا جائے گا ] عَمَّا [اس کے بارے میں جو ] تَعْمَلُوْنَ [تم لوگ کرتے ہو ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(قُلْ لَّا تُسْءَلُوْنَ عَمَّآ اَجْرَمْنَا وَلَا نُسْءَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ) (آپ فرما دیجیے ہم نے جو جرم کیے تم سے ان کا سوال نہ ہوگا اور جو تم کام کرتے ہو ہم سے ان کی پرسش نہ ہوگی) ہر فریق کا الگ الگ معاملہ ہے، اہل توحید بخشے جائیں گے اور کفر و شرک والے عذاب میں داخل ہوں گے، گو تمہارے اعمال کے بارے میں ہم سے سوال نہ ہوگا لیکن کسی عوض کا مطالبہ کیے بغیر تمہاری خیر خواہی کے لیے تمہیں حق کی دعوت دے رہے ہیں اب تم خود اپنی فکر کرلو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 22–27

اثبات توحید وتوبیخ وتجہیل مشرکین قال اللہ تعالیٰ قل ادعوا الذین زعمتم من دون اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ بل ھو اللہ العزیز الحکیم۔ (ربط) شروع سورت میں تحمید اور دلائل توحید کا ذکر فرمایا اور پھر داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) پر اپنے انعامات کا اور ان کی شکر گذاری کا ذکر کیا اور بعد ازاں اہل سبا کا قصہ ذکر کیا کہ خدا تعالیٰ نے ان کو بڑی نعمتیں عطا کی تھیں مگر کفر اور شرک اور کفران نعمت کی وجہ سے ان کی عزت و راحت مبدل بہ ذلت و مصیبت ہوگئی۔ پس جب شاکرین اور کافرین کا حال بیان ہوچکا تو اب ان آیات میں مشرکین کی توبیخ اور تجہیل فرماتے ہیں کہ کیسے نادان ہیں کہ جن بتوں میں ذرہ برابر قدرت نہیں ان کو خدا اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

28:۔ لاتسئلون الخ : یہ دوسرا طریق تبلیغ ہے ہر شخص اپنے اپنے اعمال کا جوابدہ ہوگا۔ تمہارے کفر و شرک کا مجھے کوئی نقصان نہیں میں جو تمہیں توحید کی دعوت دیتا ہوں تو اس سے صرف تمہاری بھلائی اور بہتری مقصود ہے ای انما اقصد بما ادعوکم الیہ الخیر لکم، لا انہ ینالنی ضرر کفرکم (قرطبی ج 14 ص 299) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 24–30

ربط آیات ابتدائے سورة میں اللہ نے توحید کے دلائل بیان فرمائے ، پھر درمیان میں شکر گزاروں اور ناشکر گزاروں کا حال ذکر کیا اس کے بعد شرک اور مشرکوں کا رد کیا ان کے تدبیر اور تصرف میں غلط عقائد کی نفی کی اور ساتھ ساتھ جبری اور قہری سفارش کے مزعومہ نظریات کی تردید کی۔ فرمایا بعض لوگ فرشتوں کو اپنا کارساز اور سفارشی سمجھتے ہیں حالانکہ وہ تو خود خدا تعالیٰ کے سامنے خوفزدہ رہتے ہیں اور اللہ کے حضور ہمیشہ عاجزی کا اظہار کرتے ہیں جب اللہ تعالیٰ کوئی فیصلہ صادر فرماتا ہے تو فرشتے پر پھیلا دیتے ہیں۔ ان پر مدہوشی طاری ہوجاتی ہے۔ پھر جب ان کی دہشت کسی حد تک دور ہوتی ہے تو نیچے طبقے والے فرشتے اوپر والوں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ لَّا تُسْـَٔــلُوْنَ عَمَّآ اَجْرَمْنَا وَلَا نُسْـَٔــلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۝ 25 سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س ء ل ) السؤال ( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب اصل مٰن تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 22–30

ترکیب : زعتمم ای زعتموھم الہۃ وھما مفعولا زعم حذف الاول لطول الموصول بصلۃ والثانی لقیام صفتہ مقامہ، قالوا قال القول الحق، لمن اذن یتعلق بالشفاعۃ فزع مالم یسم فاعلہ عن قلوبہم قائم مقام الفاعل۔ او ایاکم معطوف علی اسم ان و اما الخبر فیجب ان یکون 1 ؎ مکرا کقولک ان زید او عمرا قائم۔ تفسیر : شکر اور ناشکری کے نتائج بیان فرما کر عرب خصوصاً اہل مکہ کی ناشکری کا رد کرتا ہے۔ انسان کے لیے اس سے زیادہ اور کیا ناشکری ہے کہ وہ اپنے معبود حقیقی اور منعم کے ساتھ اوروں کو بھی شریک کرے، فقال قل ادعوا الذین زعمتم کہ بت پرستوں سے کہو کہ جن کو تم اس کا شریک سمجھتے ہو، ان کو پکارو، دیکھیں وہ تمہاری کہاں تک مدد…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلْ لاَّ تُسْئَلُوْنَ عَمَّـآ اَجْرَمْنَا وَلاَ نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ۔ (السباء : 25) (کہہ دیجیے، جو جرم ہم نے کیے ہیں تم سے ان کی بابت نہیں پوچھا جائے گا، اور جو کچھ تم کررہے ہو اس کی بابت ہم سے سوال نہیں کیا جائے گا۔ ) احساسِ فکرمندی کی انگیخت گزشتہ آیت میں فکرمندی کے جس پہلو کو ابھارا گیا تھا کہ اپنے طرزعمل کے اعتبار سے ہم اور تم دو گروہ ہیں جن میں سے ایک ہی حق پر ہے۔ اسی احساس کو مزید اجاگر کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے کہ ہم دونوں گروہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کے لیے پیش کیے جائیں گے۔ اور ہم میں سے ہر ایک کو جواب اپنے طرزعمل کا دینا ہوگا۔ اس لیے بجائے اس کے کہ ہم دوسروں پر تنقید…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 24–27

فہم القرآن ربط کلام : مشرک کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ جن بزرگوں کو اللہ تعالیٰ نے کچھ اختیار دے رکھے ہیں وہ ان کے رزق کے بارے میں بھی اختیار رکھتے ہیں۔ مشرک کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ جب تک کسی بت یا قبر پر نذرانہ پیش نہ کیا جائے اس وقت تک ہمارے رزق میں اضافہ نہیں ہوسکتا۔ اس لیے مشرک سمجھتا ہے کہ دنیا میں جو کچھ اسے مل رہا ہے وہ ان بزرگوں کی طفیل ملتا ہے۔ اسی بناء پر بت پرست بتوں کے سامنے، فوت شدگان کے سامنے جھکنے والے مزارات پر اور حضرت خضر کو حاجت روا سمجھنے والے دریاؤں اور سمندروں میں نذرانے ڈالتے ہیں۔ یہاں تک کہ کلمہ پڑھنے والوں کی ایک اچھی خاصی تعداد یہ عقیدہ رکھتی ہے کہ اگر ہم نے پیر عبدالقادر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

25: قُلْ لَّا تُسْئَلُوْنَ عَمَّآ اَجْرَمْنَا وَلَا نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ (آپ فرما دیجئے تم سے ہمارے گناہوں کی بازپرس نہ ہوگی اور ہم سے تمہارے گناہوں کی باز پرس نہ ہوگی) یہ بات پہلی سے بڑھ کرمخاطب کو انصاف کی طرف دعوت دے رہی ہے وہ اس طرح کہ جرائم کی اسنادمخا طبین کی طرف کی گئی (حالانکہ آپ اس پر مامور ومشکور ہیں) اور تعملون میں عمل کی نسبت مخاطبین کی طرف کی گئی۔ (تقاضائے تہذیب و خیر خواہی یہی ہے) حالانکہ ان کو اس سے روکا اور منع کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 24–26

تفسیر 24۔ ، قل من یرزقکم من فی السموات والارض ، آسمانوں سے بصورت بارش اور زمین سے بصورت سبزہ کون رزق عطافرماتا ہے۔ ، قل اللہ، وہ یہی کہیں گے کہ اللہ ہی رزق دینے والا ہے۔ ، وانا اوایا کم لعلی ھدی اوفی ضلال مبین، یہ شک کے طریق پر نہیں ہے بلکہ یہ بطور انصاف کے ہے ۔ جیسا کہ کہنے والا دوسرے کو کہتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے اور اس کو معلوم ہے کہ یہ شخص سچا ہے اور اس کا دوست جھوٹا ہے۔ معنی یہ ہوگا کہ نہیں تم ایک امر پر متحد بلکہ تم میں سے ایک فریق ہدایت یافتہ ہے اور دوسراگمراہ ہے۔ پس جس نے نبی کریم ﷺ کی اتباع کی وہ ہدایت پر رہا اور جس نے مخالفت کی وہ گمراہی میں پڑارہا۔ ان کی تکذیب کو ذکر کیا اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 24–32

24 تا 30۔ اوپر گزرا کہ اہل مکہ کی سرکشی کے سبب سے مکہ میں سخت قحط پڑا اور اس قحط کی بلا کے دفع کرنے میں اہل مکہ کے بت کچھ کام نہ آئے آخر اللہ تعالیٰ نے ہی جب اپنے فضل سے مینہ بر سایا تو وہ قحط کی بلادفع ہوگئی اسی واسطے ان مشرکوں کے قائل کرنے کے لیے فرمایا اے سرول اللہ کے تم ان بت پرستوں سے یہ تو پوچھ کر آسمان سے مینہ برسا کر اور زمین میں ہر طرح کی پیدا وار کی تاثیر پیدا کرکے تم لوگوں کے رزق کا سامان کون کرتا ہے مکہ کے فحط کے تجربہ کے بعد اس سوال کا جواب یہی ہوسکتا ہے کہ یہ کام اللہ کا ہے اس جواب کے بعد ان مشرکوں سے یہ بھی کہہ دیا جاوے کہ مکہ کے قحط کے تجریہ سے یہ سمجھ لو کہ ہم میں اور تم میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 22–26

آیت 22 (قل) اے رسول ! جو لوگ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی کو کوئی نفع نقصان نہیں دے سکتی انہیں خود ساختہ معبودوں کا عجز اور ان کی عبادت کا بطلان واضح کرتے ہوئے کہہ دیجیے : (ادعوا الذین زعمتم من دون اللہ) یعنی جنہیں تم اللہ تعالیٰ کا شریک سمجھتے ہو، اگر تمہارا پکارنا کوئی فائدہ دے سکتا ہے، تو انہیں پکار دیکھو۔ ان کی بےبسی اور تمہاری پکار کا جواب دینے پر عدم قدرت کے اسباب ہر لحاظ سے بہت زیادہ اور واضح ہیں۔ بلاشبہ وہ کسی ادنی سی چیز کے بھی مالک نہیں ہیں۔ (لایملکون مثقال ذرۃ فی السموت ولا فی الارض) ” وہ زمین و آسمان میں ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں “ یعنی وہ مستقل طور پر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–54

اسلام میں مصوری کی ممانعت قول باری ہے (یعملون لہ مایشآء من محاریب وتماثیل۔ سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں بنوانا منظور ہوتیں مثلاً بڑی عمارتیں اور مجسمے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں تصاویر اور مجسمے بنانے کی اباحت تھی لیکن حضور ﷺ کی شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ آپ سے مروی ہے (لا یدخل الملائکۃ بیتا فیہ صورۃ۔ جس کھر میں کوئی تصویر ہوا اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے) نیز ارشاد ہے (من صورصورۃ کلف یوم القیمۃ ان یحیھا ولا فالنار ۔ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی ہوا سے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں زندگی پیدا کردے ورنہ جہنم میں جائے) ۔ نیز ارشاد ہے (لعن اللہ المصورین۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

64 اللہ تعالیٰ کے یہاں مسؤلیت کی تذکیر و یاددہانی : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ " ہر کسی سے اس کے کئے کرائے کے بارے میں پوچھ ہوگی "۔ پس تم ہم پر اعتراض کرنے کی بجائے خود اپنی فکر کرو اور حسن ادا ملاحظہ ہو کہ اجرام کی نسبت اپنی طرف فرمائی جاتی ہے اور عمل کی نسبت مخالف کی طرف۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی میں یہ عظیم الشان درس دیا گیا ہے کہ انسان کو دوسروں کے پیچھے پڑنے کی بجائے خود اپنی فکر کرنی چاہیئے کہ ہر کسی نے اپنے کئے کرائے کا حساب خود دینا اور اس کا بدلہ پانا ہے۔ اور ہر کسی سے اس کے اپنے کیے کرائے کے بارے میں ہی پوچھ ہوگی۔ ہر کوئی اپنے ہی بارے میں مسؤل اور ذمہ دار و جوابدہ ہے نہ کہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–27

اللہ تعالیٰ مدد گاروں سے بےنیاز ہے تشریح : ان آیات میں اللہ کی وحدانیت، بڑائی، عظمت، علیم (علم رکھنے والا) ، غالب اور حکمت والا ہونا مثالوں سے بتایا گیا ہے بلکہ ثابت کیا گیا ہے۔ کوئی اسے کسی نام سے بھی پکارے مگر اس کے ” وجود “ سے ہرگز کوئی شخص بھی انکار نہیں کرسکتا کیونکہ آسمانوں اور زمین پوری کائنات کا ذرہ ذرہ صرف اسی کے قوانین کے تحت چل رہا ہے۔ انسان جیسے جیسے علم میں ترقی کرتا چلا جا رہا ہے اللہ کے وجود کا زیادہ پکا یقین کرنے لگا ہے۔ کہہ سکتے ہیں کہ سائنسی ترقی انسان کو روحانیت کی طرف تیزی سے لا رہی ہے۔ یہی تعلیم نبی اکرم ﷺ نے بھی دی ” لا الہ الا اللہ “ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پھر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 22–30

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 22 تا 30: اسرار و معارف : آپ اپنے مخاطبین سے بھی فرما دیجیے کہ اپنے مشرکانہ عقاید میں اللہ کے علاوہ جن بتوں سے تم نے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں ان کی بھی کوئی حیثیت نہیں کہ اگر پہلی امتوں پر آنے والے عذاب کو کوئی نہیں ٹال سکا تو تمہارے معبودان باطلہ بھی تمہیں کوئی مدد نہ پہنچا سکیں گے اس لیے کہ کائنات میں وہ کسی ذرہ بھر شئے کے مالک نہیں نہ ان کی ذات باری کی ملکیت میں کسی طرح کی کوئی شراکت ہے اور نہ ہی ان میں یہ استعداد ہے کہ کسی کی مدد کرسکیں گے اگر تمہارا یہ عقیدہ ہے کہ ان کی شراکت تو نہیں لیکن یہ اللہ کریم کے نزدیک سفارش کرسکتے ہیں تو ان میں سفارش کرنے کی بھی استعداد نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 یہ بھی بحث و مناظرہ ہیں حکمت اور شائستگی برتنے کی تعلیم ہے یعنی باوجودیکہ مسلمان حق پر ہیں اور ان کے اعمال نیک ہیں لیکن انہیں چاہیے کہ مخاطب کو یوں کہہ کر غور و فکر کی دعوت کریں مطلب یہ ہے کہ اگر توحید کی دعوت قبول نہ کرو گے تو ہم سے تمہارا کوئی تعلق نہیں۔ دیکھئے سورة یونس : 41(ابن کثیر کبیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(34:25) اجرمنا۔ ماضی جمع متکلم۔ اجرام (افعال) سے ہم نے جرم کیا۔ ہم نے گناہ کیا ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 24–30

لغات القرآن : آیت نمبر 24 تا 30 یرزق : وہ دیتا ہے انا : بیشک ہم ایاکم : تم ہی لا تسئلون : تم سوال نہ کیے جاؤ گے اجرمنا : ہم نے گناہ کیا یفتح : وہ کھولتا ہے الحقتم : تم نے ملا دیا کلا : ہرگز نہیں کافۃ : تمام۔ سب متی : کب ؟ میعا : مقرر لا تستاخرون : تم پیچھے نہ ہٹو گے لا تستقدمون : تم آگے نہ بڑھو گے تشریح : آیت نمبر 24 تا 30 کفار مکہ اللہ کا نام لیتے ، اس کی ہستی کو مانتے ، اس کے اختیا اور قدرت کے قائل تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ رزق کی تمام کنجیاں اس کے دست قدرت میں ہیں لیکن ان کا گمان یہ تھا کہ اللہ نے ساری دنیا اور اس کے نظام کو پیدا کر کے ا اس کو چلانے کا اختیار ان کے بتوں اور کاہنوں کو دے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 24–30

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اے محبوب تم ان بت پرستوں سے یہ پوچھو کہ آسمان سے مینہ برسا کر اور زمین میں ہر طرح کی پیداوار کی تاثیر پیدا کرکے تم لوگوں کے رزق کا سامان کون کرتا ہے اور جب مکہ میں قحط پڑا تو تم نے بتوں سے اس قحط کے رفع کی بہت ہی التجا کی ، آخرکار ہمارے محبوب ﷺ سے دعا کراکر اس قحط کو رفع کیا، اس کے بعد ان مشرکوں سے یہ بھی کہہ دیاجائے کہ مکہ کے قحط کے تجربہ سے یہ سمجھ لو کہ ہم میں اور تم میں کون حق پر ہے پھر فرمایا کہ ان سے کہہ دیاجائے جو نصیحت تم کو کی جاتی ہے اگر تم لوگ اس کو نہ مانو گے تو ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ ہمیں تمہیں سب کو اللہ کے روبروکھڑا ہوناپڑے گا۔ اس دن حق ناحق سب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 24–27

[23] مطلب یہ ہے کہ ہم تو تم کو ایک معقول بات سمجھاتے ہیں اور تم سے اس کا کوئی جواب دیتے بن نہیں پڑتا۔ پھر تم خود ہی سمجھ لو کہ ہم میں اور تم میں کون فریق راہ راست پر ہے۔ اس طریق خطاب میں تعلیم ہے مجادلہ کے ساتھ لب و لہجے میں نرمی کی جس سے مخالف کو اپنے نفس میں غور کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 23–27

حقیقت ثانیہ حضور کو مخاطب فرمایا ہے اور کہا ہے ۔ کہ ان لوگوں سے پوچھئے جو ماسوا میں الجھے ہوئے ہیں ۔ اور شرافت انسانی سے قطع نظر کرکے کائنات کے حقیر مظاہر کے سامنے جھکتے ہیں ۔ کہ تمہیں آسمانوں اور زمین سے کوئی روزی عطا کرتا ہے ؟ یعنی یہ ابروباد کا انتظام کس کے ہاتھ میں ہے ۔ کون پانی سے لدی ہوئی ہوائیں بھیجتا ہے اور کون مردہ کھیتوں کو ہرا بھرا اور شاداب بنادیتا ہے ؟ کون انگوریاں ۔ غلہ اور چارہ پیدا کرتا ہے ؟ فرمایا : کہ اس سوال کا جواب سوائے اسکے کیا ہوسکتا ہے کہ یہ اللہ کا اختیار میں ہے ۔ گیا یہ جواب اتنا سچا اور وقیت پر مبنی ہے ۔ کہ کوئی شخص اس سے اختلاف نہیں کرے گا اس کے بعد فرمایا : کہ اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(25) اے پیغمبر آپ فرما دیجئے تم سے ہمارے جرائم کی پرستش نہیں کی جائے گی اور تم جو کرتے ہو اس کی ہم سے بازپرس نہیں کی جائے گی۔ اس کلام میں بھی نہایت نرمی برتی ہے کہ اپنے افعال کو اجرمنا سے تعبیر کیا ہے اور مخالف کے اعمال کو عماتعملون فرمایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم میں سے اور ہم میں سے ہر ایک فریق اپنے اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے اور قیامت کے منکر یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ کسی سے بازپرس نہ ہوگی اور پر سسش اعمال کا کوئی دن نہ ہوگا اس لئے آگے فرمایا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 23–25

ف 5۔ اور دلائل سے ثابت ہے کہ یہ اذن صرف حق مومنین میں ہوگا۔ 6۔ پس جب ملائکہ مقربین کی یہ حالت ہو تو اصنام و شیاطین تو کس شمار میں ہیں کہ ایک میں قابلیت نہیں دوسرے میں مقبولیت نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ ہمارے گناہوں سے تم کو اور تمہارے اعمال سے ہم کو نہیں پوچھا جائے گا 25 ۔ اسلام کی راہ کتنی صاف اور ستھری ہے ذرا غور کرو کہ یہ حکم دینے والا کون ہے ؟ اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی تو ہے پھر حق کو ماننے والے اور حق سے انکار کرنے والے سب ہی اس کے بندے اور اس کی مخلوق ہیں اگر وہ اپنی مخلوق کو کوئی بات بزور بازو منوانا چاہے تو وہ سب زور آوروں سے زیادہ زور آور ہے اور اس کو منواتے کوئی دیر بھی نہیں لگتی لیکن وہ کسی کو بزور منوانے کے لئے تیار نہیں بلکہ ہر ایک انسان کی تفہیم کرانے کی اس نے حکمت اپنائی ہے اور اسی حکمت کے تحت اس نے انبیاء کرام اور رسل عظام کا سلسلہ جاری کیا تھا اور اسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 25–28

Commentary That Allah is One and that His power is absolute was the subject in previous verses. In the present verse, it is being said that the Holy Prophet ﷺ “ was sent as the Messenger of Allah to all peoples of the world who are there now or will come in the future. The word: كَافَّةً (Kaaffah) in: كَافَّةً لِلنَاس Kaaffatal-lin-naas: for all peoples) is used in the sense of making something universal and inclusive of all without the exclusion of anyone from it. The grammatical arrangement of the text required saying: لِلنَاس (lin-naasi kaaffatan: for the people as a whole) because the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

44 The about question had already made the listeners to think seriously, This additional sentence was meant to make them think even more seriously, as if to say, `It is in our own interest individually that we should consider and decide the question of guidance and misguidance rightly. For if we are misguided, we shall ourselves bear the consequences of our error; you will not be held answerable for it. Therefore, it is in our own interest that we should consider seriously, before adopting a creed, that we are not following a wrong way. Likewise, you also should think seriously for your own…

Read the full tafseer →